Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 7

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14059–14098

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14059

Majma al-Zawaid #14059

عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ: «دَخَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً. ثُمَّ نَدِمَتْ قَالَتْ: أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" أَحْسَنْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn al-Jazzar said: A group of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ entered upon Umm Salama, رضي الله عنها, and said: O Mother of the Believers, tell us of the private conduct of the Messenger of Allah ﷺ. She said: His private and public conduct were alike. Then she regretted it and said: I have disclosed the secret of the Messenger of Allah ﷺ. She said: When he entered, I informed him, and he said: You did well. > **"You did well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن جزار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : اے ام المومنین ! آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے پوشیدہ معاملات کے بارے میں بتائیے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے پوشیدہ اور اعلانیہ معاملے ایک جیسے ہوتے ہیں ، پھر وہ ندامت کا شکار ہو گئیں ، انہوں نے سوچا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دیا ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ کہا ہے : یہ یحیی کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14060

Majma al-Zawaid #14060

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَنَبِيُّ الْمَلَاحِمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ سُوءُ حِفْظٍ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa, رضي الله عنه, said: While I was walking on a road of Madina, the Messenger of Allah ﷺ came, and I heard him say: I am Muhammad and Ahmad and the Prophet of mercy and the Prophet of repentance and the Gatherer and the Follower and the Prophet of fierce battles. > **"I am Muhammad and Ahmad and the Prophet of mercy and the Prophet of repentance and the Gatherer and the Follower and the Prophet of fierce battles."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے راستے پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، اسی دوران میں نے نبي اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں محمد ہوں ، احمد ہوں اور نبی رحمت ہوں ، اور نبی توبہ ہوں ، اور حاشر ہوں ، اور مقفی ہوں ، اور نبی ملاحم ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس میں حافظے کی خرابی پائی جاتی ہے ۔

14061

Majma al-Zawaid #14061

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا مُحَمَّدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي أَحْشُرُ النَّاسَ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَانَ لِوَاءُ الْحَمْدِ مَعِي وَكُنْتُ إِمَامَ الْمُرْسَلِينَ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ قِيلَ فِيهِ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbd Allah, رضي الله عنهما, said: The Messenger of Allah ﷺ said: I am Ahmad and I am Muhammad and I am the Gatherer before whom the people are gathered, and I am the Effacer through whom Allah effaces disbelief. When the Day of Resurrection comes, the banner of praise will be with me, and I will be the leader of the messengers and the owner of their intercession. > **"I am Ahmad and I am Muhammad and I am the Gatherer before whom the people are gathered, and I am the Effacer through whom Allah effaces disbelief. When the Day of Resurrection comes, the banner of praise will be with me, and I will be the leader of the messengers and the owner of their intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں احمد ہوں ، اور میں محمد ہوں ، اور میں وہ حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر ، میرے قدموں میں کیا جائے گا ، اور میں مٹانے والا ہوں اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا ، جب قیامت کا دن آئے گا ، تو ’’ لواء الحمد ‘‘ میرے پاس ہو گا اور میں ’’ مرسلین ‘‘ کا پیشوا ہوؤں گا اور ان کا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے ، اس کے بارے میں کہا گیا ہے : وہ قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14062

Majma al-Zawaid #14062

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنَا أَحْمَدُ وَمُحَمَّدٌ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَالْخَاتَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported from the Prophet ﷺ: I am Ahmad and Muhammad and the Gatherer and the Follower and the Seal. > **"I am Ahmad and Muhammad and the Gatherer and the Follower and the Seal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں احمد ہوں ، اور محمد ہوں ، اور حاشر ہوں ، اور مقفی ہوں اور خاتم ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

14063

Majma al-Zawaid #14063

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «جَلَسَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بَعْدَ مُصَابِ أَهْلِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ بِيَسِيرٍ، وَكَانَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ شَيْطَانًا مِنْ شَيَاطِينَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ مِمَّنْ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ وَيَلْقَوْنَ مِنْهُ عَنَاءَ أَذَاهُمْ بِمَكَّةَ، وَكَانَ ابْنُ وَهْبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي أُسَارَى أَصْحَابِ بَدْرٍ. قَالَ: فَذَكَرُوا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ بِمُصَابِهِمْ فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ فِي الْعَيْشِ خَيْرًا بَعْدَهُمْ. فَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ: صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَيْسَ عِنْدِي قَضَاؤُهُ، وَعِيَالِي أَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ بَعْدِي لَرَكِبْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَإِنَّ لِي فِيهِمْ عِلَّةً ابْنِي عِنْدَهُمْ أَسِيرًا فِي أَيْدِيهِمْ. قَالَ: فَاغْتَنَمَهَا صَفْوَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ دَيْنُكَ أَنَا أَقْضِيهِ عَنْكَ، وَعِيَالُكَ مَعَ عِيَالِي أُسَوِّيهِمْ مَا بَقُوا لَا نَسَعُهُمْ بِعَجْزٍ عَنْهُمْ. قَالَ عُمَيْرٌ: اكْتُمْ عَنِّي شَأْنِي وَشَأْنَكَ. قَالَ: أَفْعَلُ، ثُمَّ أَمَرَ عُمَيْرٌ بِسَيْفِهِ فَشُحِذَ وَسُمَّ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ. فَبَيْنَمَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِالْمَدِينَةِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتَذَاكَرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ وَمَا أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِهِ وَمَا أَرَاهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ، إِذْ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ وَهْبٍ قَدْ أَنَاخَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَقَالَ: هَذَا الْكَلْبُ وَاللَّهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ، مَا جَاءَ إِلَّا لِشَرٍّ، هَذَا الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَرَّزَنَا لِلْقَوْمِ يَوْمَ بَدْرٍ. ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ جَاءَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ قَالَ: "" فَأَدْخِلْهُ "". فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى أَخَذَ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فِي عُنُقِهِ فَلَبَّهُ بِهَا، وَقَالَ عُمَرُ لِرِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ: ادْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْلِسُوا عِنْدَهُ، وَاحْذَرُوا هَذَا الْكَلْبَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ غَيْرُ مَأْمُونٍ. ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَعُمَرُ آخِذٌ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فَقَالَ: "" أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، ادْنُ يَا عُمَيْرُ "". فَدَنَا فَقَالَ: أَنْعِمُوا صَبَاحًا. وَكَانَتْ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِتَحِيَّةٍ خَيْرٍ مِنْ تَحِيَّتِكَ يَا عُمَيْرُ، السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ إِنْ كُنْتُ لَحَدِيثَ عَهْدٍ بِهَا. قَالَ: "" فَمَا جَاءَ بِكَ؟ "". قَالَ: جِئْتُ لِهَذَا الْأَسِيرِ الَّذِي فِي أَيْدِيكُمْ فَأَحْسَبُهُ قَالَ: "" فَمَا بَالَ السَّيْفِ فِي عُنُقِكَ؟ "". قَالَ: قَبَّحَهَا اللَّهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا شَيْئًا؟ قَالَ: "" اصْدُقْنِي مَا الَّذِي جِئْتَ لَهُ؟ "". قَالَ: مَا جِئْتُ إِلَّا لِهَذَا. قَالَ: "" بَلَى قَعَدْتَ أَنْتَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَتَذَاكَرْتُمَا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتَ: لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ وَعِيَالِي لَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْتُلَ مُحَمَّدًا. فَتَحَمَّلَ صَفْوَانُ لَكَ بِدَيْنِكَ وَعِيَالِكَ عَلَى أَنْ تَقْتُلَنِي، وَاللَّهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ "". قَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَدْ كُنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُكَذِّبُكَ بِمَا كُنْتَ تَأْتِينَا بِهِ مِنْ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَمَا يَنْزِلُ عَلَيْكَ مِنَ الْوَحْيِ، وَهَذَا أَمْرٌ لَمْ يَحْضُرْهُ إِلَّا أَنَا وَصَفْوَانُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا أَنْبَأَكَ بِهِ إِلَّا اللَّهُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَسَاقَنِي هَذَا الْمَسَاقَ. ثُمَّ شَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَقِّهُوا أَخَاكُمْ فِي دِينِهِ وَأَقْرِئُوهُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أَسِيرَهُ "". ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جَاهِدًا عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللَّهِ، شَدِيدَ الْأَذَى لِمَنْ كَانَ عَلَى دِينِ اللَّهِ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَقْدَمُ مَكَّةَ فَأَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الْإِسْلَامِ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ وَلَا أُؤْذِيهِمْ كَمَا كُنْتُ أُؤْذِي أَصْحَابَكَ فِي دِينِهِمْ. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَ بِمَكَّةَ. وَكَانَ صَفْوَانُ حِينَ خَرَجَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَبْشِرُوا بِوَقْعَةٍ تُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ. وَكَانَ صَفْوَانُ يَسْأَلُ عَنْهُ الرُّكْبَانَ، حَتَّى قَدِمَ رَاكِبٌ فَأَخْبَرَهُ بِإِسْلَامِهِ فَحَلَفَ أَنْ لَا يُكَلِّمَهُ أَبَدًا وَلَا يَنْفَعَهُ بِنَفْعٍ أَبَدًا. فَلَمَّا قَدِمَ عُمَيْرٌ مَكَّةَ أَقَامَ بِهَا يَدْعُو إِلَى الْإِسْلَامِ، وَيُؤْذِي مَنْ خَالَفَهُ أَذًى شَدِيدًا، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ نَاسٌ كَثِيرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Jaʿfar ibn al-Zubayr said: ʿUmayr ibn Wahb al-Jumahi and Safwan ibn Umayya sat in al-Hijr a little after the calamity of the people of Badr from Quraysh. ʿUmayr ibn Wahb was a devil among the devils of Quraysh, among those who harmed the Messenger of Allah ﷺ and his Companions, who met hardship from his harm at Makkah, and the son of Wahb ibn ʿUmayr was among the captives of Badr. He said: They mentioned the people of the well by their calamity, and one said: By Allah, there is no good in life after them. ʿUmayr ibn Wahb said: You spoke truly; by Allah, were it not for a debt upon me which I cannot repay, and my dependants whom I fear will be lost after me, I would ride to Muhammad and kill him, for I have a pretext among them, my son a captive in their hands. Safwan seized upon it and said: Your debt is upon me, I will repay it for you, and your dependants are with my dependants, I will treat them equally as long as they remain, never failing them. ʿUmayr said: Conceal my affair and yours. He said: I will. Then ʿUmayr ordered his sword to be sharpened and poisoned, then set out for Madina. Meanwhile ʿUmar, رضي الله عنه, was at Madina among a group of Muslims recalling the day of Badr and what Allah had honored them with and shown them of their enemy, when he saw ʿUmayr ibn Wahb halting at the door of the mosque with his sword slung. He said: This dog, by Allah, ʿUmayr ibn Wahb, has come only for evil; it is he who stirred trouble between us and incited the people against us on the day of Badr. Then ʿUmar entered upon the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, this is ʿUmayr ibn Wahb come with sword slung. He said: Admit him. ʿUmar came and seized the strap of his sword at his neck and gripped him with it, and ʿUmar said to some Ansari men with him: Enter upon the Messenger of Allah ﷺ and sit with him, and beware of this dog, for he is not trustworthy. Then he entered with him upon the Messenger of Allah ﷺ, ʿUmar holding his sword strap, and he said: Release him, O ʿUmar; come near, O ʿUmayr. He came near and said: Good morning. That was the greeting of the people of ignorance among themselves. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has honored us with a greeting better than yours, O ʿUmayr: peace, the greeting of the people of Paradise. He said: By Allah, O Muhammad, my acquaintance with it is recent. He said: What has brought you. He said: I came for this captive in your hands. He said: Then why is the sword upon your neck. He said: May Allah render such swords ugly; did they avail us anything. He said: Tell me truthfully, for what did you come. He said: I came only for this. He said: Rather, you and Safwan ibn Umayya sat in al-Hijr and recalled the people of the well from Quraysh, and you said: Were it not for a debt upon me and my dependants, I would go out and kill Muhammad. So Safwan undertook your debt and dependants on condition that you kill me, but Allah stands between you and that. ʿUmayr said: I testify that you are the Messenger of Allah. We used to deny you, O Messenger of Allah, in what you brought of tidings of heaven and what descended upon you of revelation, and this is a matter attended by none but I and Safwan. By Allah, I know none informed you of it but Allah. Praise be to Allah who guided me to Islam and drove me upon this course. Then he bore the true testimony. The Messenger of Allah ﷺ said: Instruct your brother in his religion, teach him the Qurʾan, and release his captive for him. Then he said: O Messenger of Allah, I strove to extinguish the light of Allah and severely harmed those upon the religion of Allah, and I wish you would permit me to go to Makkah and call them to Allah and Islam, perhaps Allah will guide them, and I will not harm them as I harmed your Companions in their religion. The Messenger of Allah ﷺ permitted him, and he joined Makkah. When ʿUmayr ibn Wahb set out, Safwan said to Quraysh: Rejoice in an event that will make you forget the event of Badr. Safwan asked the riders about him until a rider came and informed him of his Islam, so he swore never to speak to him nor ever benefit him. When ʿUmayr reached Makkah, he remained calling to Islam and severely harming whoever opposed him, and many people embraced Islam at his hands. > **"Admit him."** > **"Release him, O ʿUmar; come near, O ʿUmayr."** > **"Allah has honored us with a greeting better than yours, O ʿUmayr: peace, the greeting of the people of Paradise."** > **"What has brought you."** > **"Then why is the sword upon your neck."** > **"Tell me truthfully, for what did you come."** > **"Rather, you and Safwan ibn Umayya sat in al-Hijr and recalled the people of the well from Quraysh, and you said: Were it not for a debt upon me and my dependants, I would go out and kill Muhammad. So Safwan undertook your debt and dependants on condition that you kill me, but Allah stands between you and that."** > **"Instruct your brother in his religion, teach him the Qurʾan, and release his captive for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جعفر بن زبیر بیان کرتے ہیں ۔ عمیر بن وہب جمحی اور صفوان بن امیہ ، قریش کو بدر میں ہونے والے نقصان کے بعد حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ، عمیر بن وہب قریش کے شیاطین میں سے ایک تھا ، یہ اُن افراد میں سے تھا ، جو اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ایذاء دیا کرتے تھے اور جب وہ لوگ مکہ میں موجود تھے تو اس شخص کی طرف سے ان حضرات کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ، وہب بن عمیر کا بیٹا ، بدر کے قیدیوں میں شامل تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے بدر میں مرنے والے مشرکین کا ذکر کیا اور پھر یہ کہا : اللہ کی قسم ! ان کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، تو عمیر بن وہب نے کہا : تم ٹھیک کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا ، جس کی ادائیگی کا میرے پاس بندوبست نہیں ہے ، اور مجھے اپنے اہل و عیال کے خرچ کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں سوار ہو کر حضرت محمد ( ﷺ ) کے پاس جاتا ، یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیتا ، اُن لوگوں میں میری ایک مجبوری بھی ہے ، اور وہ یہ کہ میرا بیٹا ان کے پاس قید ہے ، راوی بیان کرتے ہیں تو صفوان بن امیہ نے اس معاملے کو غنیمت سمجھا اور اس نے کہا : تمہارا قرض ادا کرنا میرے ذمہ ہے ، اور میں وہ تمہاری طرف سے ادا کر دوں گا ، اور تمہارے عیال ، میرے عیال کے ساتھ رہیں گے ، میں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کروں گا ، جب تک وہ باقی رہیں گے ، ہم ان کے حوالے سے کسی عاجزی کا اظہار نہیں کریں گے ، عمیر نے کہا : پھر تم نے میرے اور اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھنا ہے ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ، پھر عمیر نے اپنی تلوار کے بارے میں حکم دیا ، اس کی دھار کو تیز کیا گیا ، اور اُسے زہر میں ڈبو دیا گیا ، پھر وہ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کچھ مسلمانوں کے درمیان موجود تھے ، وہ لوگ غزوہ بدر کا ذکر کر رہے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت سے نوازا ، اور کس طرح ان کے دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن وہب کو دیکھا کہ وہ مسجد کے دروازے پر اپنے جانور کو باندھ رہا تھا ، اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، انہوں نے کہا : یہ کتا ، یہ اللہ کا دشمن ، عمیر بن وہب ، یہ ضرور کسی بری نیت سے ہی آیا ہو گا ، یہی وہ شخص ہے ، جس نے ہمارے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ، اور غزوہ بدر کے دن ہمارا شمار کر کے دشمن کو بتایا تھا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عمیر بن وہب آیا ہے ، اس نے تلوار لٹکائی ہوئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اندر لے آؤ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ گئے ، انہوں نے عمیر کی گردن میں موجود تلوار کو پکڑا ، اور اُسے گردن سے دبوچ کر لے آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود انصار سے تعلق رکھنے والے افراد سے کہا : تم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھ جاؤ ، اور اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا کہ یہ کتا آپ ﷺ پر حملہ آور ہو ، کیونکہ اس سے اندیشہ ہے ، پھر وہ اُسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلوار کے دستے کو پکڑا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمر ! اسے چھوڑ دو ! اے عمیر ! تم آگے آ جاؤ ! وہ قریب آیا ، اس نے کہا : تم لوگ صبح کے وقت نعمتیں حاصل کرو ، یہ زمانہ جاہلیت میں ، آپس میں سلام کرنے کا مخصوص طریقہ تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے سلام کے طریقے سے بہتر طریقے کے حوالے سے عزت دی ہے ، اے عمیر ! السلام علیکم کہنا ، اہل جنت کے سلام کا طریقہ ہے ، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اے حضرت محمد ( ﷺ ) میرا تو واسطہ اسی سے ہی پڑا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کس لئے آئے ہو ؟ اُس نے کہا : میں اُس قیدی کے سلسلے میں آیا ہوں ، جو آپ لوگوں کے پاس موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جو تمہاری گردن میں تلوار ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ ان تلواروں کا بیڑہ غرق کرے ، کیا یہ ہمارے کسی کام آ سکی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم مجھے سچ بتاؤ کہ تم کس لئے آئے ہو ؟ اس نے کہا : میں صرف اسی کام کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اور صفوان بن امیہ ’’ حطیم ‘‘ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اور تم دونوں قریش سے تعلق رکھنے والے ، بدر میں مارے جانے والے افراد کا ذکر کر رہے تھے ، تو تم نے یہ کہا : کہ اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا اور مجھے اپنے بال بچوں کا خیال نہ ہوتا ، تو میں نکل کر جاتا اور حضرت محمد ( ﷺ ) کو قتل کر دیتا ، تو صفوان نے تمہارا قرض اور تمہارے بال بچوں کا خرچ اپنے ذمہ لے لیا ، اس شرط پر کہ تم مجھے قتل کر دو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور اس معاملے کے درمیان رکاوٹ ہے ، عمیر نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، یا رسول اللہ ! پہلے آپ آسمان کی خبروں کے حوالے سے ، جو کچھ ہمارے پاس لے کر آتے تھے ، ہم ان کے حوالے سے آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ پر جو وحی نازل ہوتی تھی ، اس کی بھی تکذیب کرتے تھے ، لیکن اس معاملے میں ، تو صرف میں اور صفوان موجود تھے ، اللہ کی قسم ! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ نے ہی بتایا ہو گا ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے اسلام کی ہدایت نصیب کی اور مجھے یہاں تک لے آیا ، پھر اس نے سچی گواہی دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ اپنے بھائی کو اس کا دین سکھاؤ ! اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو !‘‘۔ پھر عمیر نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں اللہ کے نور کو بجھانے کے لئے بھرپور کوشش کیا کرتا تھا ، اور جو لوگ اللہ کے دین پر گامزن تھے ، انہیں شدید تکلیف دیا کرتا تھا ، اب میری یہ خواہش ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں ، میں مکہ جاتا ہوں اور ان لوگوں کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی طرف اور اسلام کی طرف دعوت دوں گا ، ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیدے ، ورنہ میں انہیں بھی اسی طرح اذیت پہنچاؤں گا ، جس طرح میں آپ ﷺ کے ساتھیوں کو ان کے دین کے حوالے سے اذیت پہنچایا کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے اجازت دیدی ، تو وہ مکہ چلا گیا ۔ جب عمیر بن وہب مکہ سے روانہ ہوا تھا ، تو صفوان نے قریش سے کہا تھا : تم لوگ ایک اطلاع کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرو ، جو عنقریب تمہارے پاس آنے والی ہے ، اور وہ اطلاع تمہیں بدر کا نقصان بھلا دے گی ، صفوان ، عمیر بن وہب کے بارے میں سواروں سے دریافت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک سوار آیا اور اس نے عمیر کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں صفوان کو بتایا تو صفوان نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ اُس کے ساتھ کبھی کلام نہیں کرے گا اور اسے کبھی کوئی نفع نہیں پہنچائے گا ، جب عمیر مکہ آیا ، تو وہاں مقیم رہ کر اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور جو شخص اس کی مخالفت کرتا تھا ، وہ اسے اذیت پہنچاتا تھا ، پھر عمیر کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

14064

Majma al-Zawaid #14064

وَرُوَى عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَهُ مُرْسَلًا وَقَالَ فِيهِ: «فَفَرِحَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ هَدَاهُ اللَّهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَخِنْزِيرٌ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ حِينَ اطَّلَعَ، وَهُوَ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيَّ». وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Similar to it was reported from ʿUrwa ibn al-Zubayr as a mursal report, in which: The Muslims rejoiced when Allah guided him, and ʿUmar ibn al-Khattab, رضي الله عنه, said: A pig was more beloved to me than him when he appeared, and today he is more beloved to me than some of my own children.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت ’’ مرسل ‘‘ حدیث کے طور پر منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو مسلمان اس بات پر خوش ہو گئے ، جب اللہ تعالیٰ نے اُسے ہدایت نصیب کی اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : کہ جب یہ آیا تھا ، تو اس وقت خنزیر میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب تھا ، اور اب یہ میرے نزدیک میری اپنی اولاد سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

14065

Majma al-Zawaid #14065

وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ - قَالَ: «كَانَ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ شَهِدَ أُحُدًا كَافِرًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَكَانَ فِي الْقَتْلَى، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَفَهُ، فَوَضَعَ سَيْفَهُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ اللَّيْلُ وَأَصَابَهُ الْبَرْدُ لَحِقَ بِمَكَّةَ فَبَرَأَ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي. فَقَالَ صَفْوَانُ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَنَا رَجْلٌ جَوَادٌ لَا أُلْحَقُ، آتِيهِ فَأَغْتَرُّهُ ثُمَّ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ أَلْحَقُ بِالْجَبَلِ وَلَا يَلْحَقُنِي أَحَدٌ. فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: فَعِيَالُكَ وَدَيْنُكَ عَلَيَّ. فَخَرَجَ فَشَحَذَ سَيْفَهُ وَسَمَّهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يُرِيدُ إِلَّا قَتْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَهَالَهُ ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنِّي رَأَيْتُ وَهْبًا قَدِمَ فَرَابَنِي قُدُومُهُ، وَهُوَ رَجُلٌ غَادِرٌ فَأَطِيفُوا بِنَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَطَافَ الْمُسْلِمُونَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ وَهْبٌ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَنْعِمْ صَبَاحًا يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: "" قَدْ أَبْدَلَنَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا "". فَقَالَ: عَهْدِي بِكَ تُحَدَّثُ بِهَا وَأَنْتَ مُعْجَبٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَقْدَمَكَ؟ "". قَالَ: جِئْتُ أَفْدِي أَسَارَاكُمْ. قَالَ: "" مَا بَالُ السَّيْفِ؟ "". قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ حَمَلْنَاهَا يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ نَفْلَحْ وَلَمْ نَنْجَحْ. قَالَ: "" فَمَا شَيْءٌ قُلْتَ لِصَفْوَانَ وَأَنْتُمَا فِي الْحِجْرِ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنِي لَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَقْتُلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي؟ "". فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرَ فَقَالَ وَهْبٌ: هَاهْ كَيْفَ قُلْتَ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ. قَالَ وَهْبٌ: قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَنُكَذِّبُكَ، فَأَرَاكَ تُخْبِرُ خَبَرَ أَهْلِ السَّمَاءِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي عِمَامَتَكَ. فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِمَامَتَهُ ثُمَّ رَجَعَ رَاجِعًا إِلَى مَكَّةَ. فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ قَدِمَ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ إِلَيَّ مِنَ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿImran al-Jawni, not knowing it except from Anas, رضي الله عنه, said: Wahb ibn ʿUmayr had attended Uhud as a disbeliever and was wounded and lay among the slain. A man of the Ansar passed him and recognized him, placed his sword in his belly until it came out of his back, then left him. When night came and cold seized him, he joined Makkah and recovered. He and Safwan ibn Umayya gathered in al-Hijr, and he said to Safwan ibn Umayya: Were it not for my dependants and a debt upon me, I would wish to be the one to kill Muhammad myself. Safwan said: Then how would you do it. He said: I am a swift rider none can overtake; I would come to him and deceive him, then strike him with the sword, then reach the mountain where none could overtake me. Safwan said to him: Then your dependants and your debt are upon me. He went out, sharpened his sword and poisoned it, then set out for Madina intending only the killing of Muhammad ﷺ. When he reached Madina, ʿUmar ibn al-Khattab, رضي الله عنه, saw him, and it alarmed him and weighed upon him, and he said to the Companions of the Messenger of Allah ﷺ: I have seen Wahb come, and his coming makes me suspicious; he is a treacherous man, so surround your Prophet ﷺ. The Muslims surrounded the Prophet ﷺ. Wahb came and stood before the Prophet ﷺ and said: Good morning, O Muhammad. He said: Allah has replaced it for us with better. He said: My acquaintance with you is that you spoke it while impressed. The Prophet ﷺ said to him: What has brought you. He said: I came to ransom your captives. He said: What about the sword. He said: We carried such on the day of Badr, but they brought us neither success nor triumph. He said: Then what is the thing you said to Safwan while you were in al-Hijr: Were it not for my dependants and my debt, I would be the one to kill Muhammad myself. The Prophet ﷺ informed him of the report, so Wahb said: What, how did you say. He repeated it to him. Wahb said: You used to inform us of reports of the people of the earth and we denied you, and now I see you inform the reports of the people of heaven. I testify that there is no god but Allah and that you are the Messenger of Allah. He said: O Messenger of Allah, give me your turban. The Prophet ﷺ gave him his turban, then he returned toward Makkah. ʿUmar said: He came when he was more hateful to me than a pig, then he returned while he is more beloved to me than my own child. > **"Allah has replaced it for us with better."** > **"What has brought you."** > **"What about the sword."** > **"Then what is the thing you said to Safwan while you were in al-Hijr: Were it not for my dependants and my debt, I would be the one to kill Muhammad myself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عمران جونی بیان کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہب بن عمیر ، غزوہ اُحد میں کافر ہونے کے طور پر شریک ہوا تھا ، اُسے زخم لاحق ہوئے ، وہ مقتولین میں پڑا ہوا تھا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ، اس نے اسے پہچان لیا ، اس نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور وہ اس کی پشت سے پار ہو گئی ، پھر اس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ، جب رات آئی اور اسے ٹھنڈک لاحق ہوئی ، تو وہ وہاں سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور پھر بعد میں تندرست ہو گیا ، ایک مرتبہ وہ اور صفوان بن امیہ ’’ حطیم ‘‘ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اُس نے صفوان بن امیہ سے کہا : اگر میرے بال بچوں کا مسئلہ نہ ہوتا اور میرے ذمہ لازم قرض کا مسئلہ نہ ہوتا ، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں وہ فرد بنتا ، جو بذات خود حضرت محمد ( ﷺ ) کو قتل کر دیتا ، صفوان نے کہا : تم نے یہ کیسے کرنا تھا ؟ اس نے کہا : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو شہسوار ہے ، جس تک پہنچا نہیں جا سکتا ، میں اُن کے پاس جاتا اور دھوکے سے اُن پر تلوار کا وار کر دیتا ، پھر میں پہاڑ پر چلا جاتا ، کوئی شخص مجھ تک نہیں پہنچ سکتا تھا ، تو صفوان نے کہا : پھر تمہارے بال بچے اور تمہارا قرض میرے ذمہ ہے ۔ وہب بن عمیر وہاں سے نکلا ، اُس نے اپنی تلوار کو تیار کیا ، اُس کو زہر میں ڈبویا اور پھر مدینہ منورہ کی طرف نکل کھڑا ہوا ، اُس کا ارادہ حضرت محمد ﷺ کو شہید کرنے کا تھا ، جب وہ مدینہ منورہ آیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا ، وہ اس کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور یہ بات ان پر گراں گزری ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے کہا : میں نے وہب کو دیکھا ہے کہ وہ آیا ہے ، تو اس کا آنا مجھے شک میں مبتلا کر رہا ہے ، وہ عہد شکن شخص ہے ، تو تم لوگ اپنے نبی کے گرد گھیرا بنا لو ، مسلمانوں نے نبی اکرم ﷺ کے گرد گھیرا بنا لیا ، جب وہب آیا ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہرا ، اُس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! صبح کے وقت نعمتیں نصیب ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے میں زیادہ بہتر سلام عطا کر دیا ہے ، اس نے کہا : آپ کے ساتھ میرا جب آخری سامنا ہوا تھا ، تو آپ اُس وقت میری ہی طرح سلام کیا کرتے تھے ، اور آپ پر حیرانگی ہوتی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ اس نے کہا : میں آپ کے قیدیوں کا فدیہ دینے کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تلوار کس لئے ہے ؟ اس نے کہا : یہ تلواریں تو ہم نے غزوہ بدر کے دن بھی اُٹھائی ہوئی تھیں ، لیکن نہ ہم کامیاب ہوئے اور نہ ہی ہمیں کامیابی نصیب ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو وہ کیا بات تھی ؟ جو تم نے صفوان سے کہی تھی ، جب تم دونوں ’’ حطیم ‘‘ میں موجود تھے کہ اگر میرے بال بچوں کا اور میرے قرض کا معاملہ نہ ہوتا ، تو میں بذات خود حضرت محمد ( ﷺ ) کو قتل کر دیتا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے ساری بات بتائی ، تو وہب نے کہا : ارے یہ آپ کیسے بیان کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس کے سامنے بات دہرا دی ، تو اس نے کہا : پہلے آپ ہمیں اہل زمین کی خبریں دیا کرتے تھے ، تو ہم آپ کی بات کو جھٹلاتے تھے ، اور آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ اہل آسمان کے بارے خبریں دے رہے ہیں ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا عمامہ مجھے دیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا عمامہ اُسے دیا اور پھر وہ مکہ واپس چلا گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب وہ آیا تھا ، تو وہ میرے نزدیک خنزیر سے زیادہ ناپسندیدہ تھا ، جب وہ واپس گیا تو وہ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14066

Majma al-Zawaid #14066

وَعَنْ أَبَانَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سَلْمَانَ قَالَ: «كَانَ إِسْلَامُ قُبَاثِ بْنِ أَشْيَمَ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ وَغَيْرِهِمْ أَتَوْهُ فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَرَجَ يَدْعُو إِلَى غَيْرِ دِينِنَا. فَقَامَ قُبَاثُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ: "" اجْلِسْ يَا قُبَاثُ "". فَأَوْجَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنْتَ الْقَائِلُ: "" لَوْ خَرَجَتْ نِسَاءُ قُرَيْشٍ بِأَجْمَعِهَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ "". فَقَالَ قُبَاثُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَحَرَّكَ بِهِ لِسَانِي وَلَا تَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ وَلَا سَمِعَهُ مِنِّي أَحَدٌ، وَمَا هُوَ إِلَّا شَيْءٌ هَجَسَ فِي نَفْسِي، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ الْحَقُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ الْعَبَّاسِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ. وَقِصَّةُ ذِي الْجَوْشَنِ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ. وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي قِصَّةِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الَّذِي كَانَ فِي عِيرِ خَدِيجَةَ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ. وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ فِي مَنَاقِبِهِ. وَغَيْرُ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Aban ibn Salman, from his father Salman, رضي الله عنه, said: The Islam of Qubath ibn Ashyam al-Laythi came about when men of the Arabs and others came to him and said: Muhammad ibn ʿAbd al-Muttalib has come out calling to other than our religion. Qubath rose until he came to the Messenger of Allah ﷺ. When he entered upon him, he said to him: Sit, O Qubath. He fell silent in displeasure. The Messenger of Allah ﷺ said to him: You are the one who said: If all the women of Quraysh went out, they would turn back Muhammad and his Companions. Qubath said: By Him who sent you with the truth, my tongue did not move with it, my lips did not murmur it, none heard it from me; it was only something that occurred inwardly to myself. I testify that there is no god but Allah alone without partner, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, and that what you brought is the truth. > **"Sit, O Qubath."** > **"You are the one who said: If all the women of Quraysh went out, they would turn back Muhammad and his Companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابان بن سلمان اپنے والد حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت قباث بن اشیم لیثی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یہ ہے کہ عربوں اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ان کے پاس آئے اور بولے : حضرت محمد بن عبدالمطلب ﷺ نکلے ہیں اور وہ ہمارے دین کے علاوہ ، دین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، تو قباث اُٹھے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے قباث ! بیٹھ جاؤ ! تو وہ غصے کے عالم میں خاموش رہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم نے ہی یہ بات کہی ہے کہ اگر قریش کی ساری عورتیں نکل آئیں تو وہ محمد ( ﷺ ) اور اُن کے ساتھیوں کو واپس کر دیں گی ، قباث نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس بارے میں میری زبان نے حرکت نہیں کی ، میرے ہونٹوں نے یہ لفظ ادا نہیں کیے ، اور یہ بات کسی نے مجھ سے نہیں سنی ، یہ تو صرف ایک ایسی بات ہے جو میں نے دل میں سوچی تھی ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ جو لے کر آئے ہیں ، وہ حق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، اور ’’ غزوہ فتح ‘‘ سے متعلق باب میں ذوالجوشن کا واقعہ گزر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ہے ، جو حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے ، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں شامل تھے ، یہ مخلوقات کے عجائب سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اور دیگر روایات بھی آئیں گی ۔

14067

Majma al-Zawaid #14067

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ رَفَعَ لِيَ الدُّنْيَا فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى كَفِّي هَذِهِ جَلِيَّانِ جَلَاهُ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا جَلَاهُ لِلنَّبِيِّينَ مِنْ قَبْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيِّ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, Mighty and Majestic, has raised the world for me, so I look at it and at what will occur in it until the Day of Resurrection, as if I look at this palm of mine; a clarity which Allah granted His Prophet ﷺ as He granted it to the prophets before him. > **"Allah, Mighty and Majestic, has raised the world for me, so I look at it and at what will occur in it until the Day of Resurrection, as if I look at this palm of mine; a clarity which Allah granted His Prophet as He granted it to the prophets before him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا کو بلند کیا ، تو میں نے اس کی طرف دیکھ لیا اور قیامت تک جو کچھ اس میں ہو گا ، وہ بھی دیکھ لیا ، یوں جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، یہ وہ ظاہر کرنا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے ظاہر کیا ، جس طرح اُس نے اس چیز کو اس سے پہلے کے انبیاء کے لئے ظاہر کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ سعید بن سنان رہادی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

14068

Majma al-Zawaid #14068

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ كِسْرَى إِلَى عَامِلِهِ عَلَى أَرْضِ الْيَمَنِ وَمَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: بَاذَامُ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ خَرَجَ رَجُلٌ قِبَلَكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْ لَهُ فَلْيَكُفَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِ مَنْ يَقْتُلُهُ أَوْ يَقْتُلُ قَوْمَهُ. قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ بَاذَامَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ شَيْءٌ فَعَلْتُهُ مِنْ قِبَلِي كَفَفْتُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي "". فَأَقَامَ الرَّسُولُ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ رَبِّي قَتَلَ كِسْرَى وَلَا كِسْرَى بَعْدَ الْيَوْمِ، وَقَتَلَ قَيْصَرَ وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ الْيَوْمِ "". قَالَ: فَكَتَبَ قَوْلَهُ فِي السَّاعَةِ الَّتِي حَدَّثَهُ وَالْيَوْمِ الَّذِي حَدَّثَهُ وَالشَّهْرِ الَّذِي حَدَّثَهُ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَاذَامَ فَإِذَا كِسْرَى قَدْ مَاتَ وَإِذَا قَيْصَرُ قَدْ قُتِلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَعِنْدَ أَحْمَدَ طَرَفٌ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakra, رضي الله عنه, said: When the Messenger of Allah ﷺ was sent, Kisra sent to his governor over Yemen and those under him of the Arabs, called Badham, that it reached me that a man has appeared in your direction claiming he is a prophet, so tell him to desist or I shall send to him one who will kill him or kill his people. He said: The messenger of Badham came to the Prophet ﷺ and said this to him. The Messenger of Allah ﷺ said: Had it been something I did of my own, I would have desisted, but Allah, Mighty and Majestic, sent me. The messenger stayed with him, and the Messenger of Allah ﷺ said to him: My Lord has killed Kisra, and there shall be no Kisra after today, and He has killed Qaysar, and there shall be no Qaysar after today. He said: He wrote down the saying in the hour and day and month in which he was told, then returned to Badham, and Kisra had died and Qaysar had been killed. > **"Had it been something I did of my own, I would have desisted, but Allah, Mighty and Majestic, sent me."** > **"My Lord has killed Kisra, and there shall be no Kisra after today, and He has killed Qaysar, and there shall be no Qaysar after today."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا گیا ، تو کسریٰ نے یمن اور اس کے آس پاس کے عرب علاقوں میں ، اپنے مقرر کردہ گورنر کی طرف پیغام بھیجا ، اس گورنر کا نام ” باذام ‘‘ تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تمہاری طرف ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جو یہ کہتے ہیں : کہ وہ نبی ہیں ، تو تم ان سے کہو کہ یا تو وہ اس بات سے باز آ جائیں یا پھر میں ان کی طرف ایسے افراد کو بھیجوں گا ، جو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، راوی بیان کرتے ہیں :” باذام ‘‘ کا قاصد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ سے اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر یہ کوئی ایسی چیز ہوتی ، جو میں اپنی طرف سے کر رہا ہوتا ، تو میں نے اس سے باز آ جانا تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے ، وہ قاصد کچھ عرصہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مقیم رہا ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے کسریٰ کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی کسریٰ نہیں رہے گا اور قیصر کو قتل کروا دیا ہے ، اور آج کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اُس نے وہ وقت نوٹ کر لیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اور وہ دن نوٹ کر لیا ، جس دن میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، اور وہ مہینہ نوٹ کر لیا ، جس میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بادام کی طرف واپس گیا تو کسریٰ مر چکا تھا اور قیصر قتل ہو چکا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ کثیر بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام احمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

14069

Majma al-Zawaid #14069

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي، وَهَذِهِ الشَّمَّاءُ بَنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجَرِةً بِخِمَارٍ أَسْوَدَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ وَوَجَدْتُهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي؟ قَالَ: "" هِيَ لَكَ "". ثُمَّ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّئٍ فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ وَمِنْهُمْ عُتْبَةُ بْنُ حِصْنٍ وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ فِينَا: جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمُ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةُ وَالنَّدَى إِذَا مَا الصَّبَا أَلْوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمُ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَ مَا أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ ثُمَّ سَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ فَسِرْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ، فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ. فَبَرَزَ لَهُ ابْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ بِمِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ وَكَانَتْ الْفُرْسُ إِذَا أَشْرَفَ فِيهَا رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا شَيْمَاءَ بِنْتَ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهَا شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّقْتُ بِهَا وَقُلْتُ: هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ فَقَالَ لِي: بِعْنِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقِيلَ لِي: لَوْ قُلْتَ: مِائَةَ أَلْفٍ، دَفَعَهَا إِلَيْكَ. فَقُلْتُ: لَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ». وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Aws, رضي الله عنه, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This white Hira has been raised for me, and this is al-Shammaʾ bint Buqayla al-Azdiyya upon a white mule wrapped in a black veil. I said: O Messenger of Allah, if we enter Hira and I find her in this condition, is she mine. He said: She is yours. Then the Arabs apostatized, but none of Tayyiʾ apostatized. We fought Qays upon Islam, among them ʿUtba ibn Hisn, and we fought Tulayha ibn Khuwaylid al-Faqʿasi. Khalid ibn al-Walid praised us, and among what he said of us were verses: May Allah reward Tayyiʾ in their abodes at the encounter of heroes with the best reward; they are the people of banners of liberality and bounty when the east wind overturns every tent; they struck Qays upon religion after they had answered a caller of darkness and blindness. Then Khalid ibn al-Walid marched toward Musaylima, and we marched with him. When we finished with Musaylima and his companions, we advanced toward Basra and met Hurmuz at Kazima in a great host, and none was more hostile to the Arabs than Hurmuz. Ibn al-Walid came forth to him and challenged to single combat; Hurmuz came forth, and Khalid, رضي الله عنه, killed him and wrote of it to Abu Bakr, رضي الله عنه, who granted him his spoils. The cap of Hurmuz reached one hundred thousand dirhams, for when a man rose to eminence among the Persians, they made his cap one hundred thousand dirhams. Then we traveled until we entered Hira, and the first to meet us there was Shaymaʾ bint Buqayla upon her white mule with a black veil, as the Messenger of Allah ﷺ had said. I clung to her and said: This one the Messenger of Allah ﷺ granted me. Khalid summoned me for proof upon her, so I brought it to him, and he surrendered her to me. Her brother ʿAbd al-Masih came down to us and said to me: Sell her to me. I said: By Allah, I shall not reduce her below one thousand by anything. He paid me one thousand dirhams. It was said to me: Had you said one hundred thousand, he would have paid you. I said: I did not think any wealth greater than one thousand existed. It reached me in other than this hadith that the two witnesses were Muhammad ibn Maslama and ʿAbd Allah ibn ʿUmar. > **"This white Hira has been raised for me, and this is al-Shammaʾ bint Buqayla al-Azdiyya upon a white mule wrapped in a black veil."** > **"She is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ حیرہ ، میرے سامنے بلند ہوا ، اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ، جو ایک سفید خچر پر سوار ہے ، اور اس نے سیاہ رنگ کی پٹی سر پر باندھی ہوئی ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم حیرہ میں داخل ہوئے اور میں نے اس خاتون کو ایسی حالت میں پایا ، تو وہ میری ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہاری ہو گی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے ، لیکن طائی قبیلے کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا ، ہم نے قیس کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کی ، ان میں ایک عتبہ بن حصن تھا ، ہم نے طلیحہ بن خویلد فقعسی سے جنگ کی ، ہم نے اس حوالے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور جو کچھ انہوں نے ہمارے بارے میں کہا تھا ، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کو جزائے خیر عطا کرے ، جنہوں نے جنگجو افراد کے میدان میں ، اپنے علاقے میں بھرپور لڑائی کی تھی ، وہ مہربانی کے جھنڈے اٹھانے والے تھے اور آوازیں نکالنے والے تھے ، جب بھی تیز ہوا ، ہر خیمے کو الٹ دیتی تھی ، انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ، اس کے بعد کہ جب اُن ( قیس قبیلے کے ) لوگوں نے ظلمت اور اندھے پن کی دعوت دینے والوں کی بات کو قبول کیا تھا ۔‘‘ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گئے ، جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ، تو ہم بصرہ کے کنارے کی طرف آئے ، وہاں ایک بڑے گروہ میں ہمارا سامنا کا ظمہ کے مقام پر ہرمز سے ہوا ، عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابوسکین نامی راوی کہتے ہیں : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لوگ کہتے ہیں : یہ ہرمز سے بڑا کافر ہے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے ، انہوں نے اسے مقابلے کی دعوت دی ، ہرمز ان کے سامنے آیا ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ، انہوں نے اس بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، تو ہرمز کا ساز و سامان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دیا ، ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ، ایرانیوں کا یہ معمول تھا ، جب کوئی شخص ان کا سردار بنتا تھا ، تو اُسے ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بنا دیتے تھے ۔ پھر ہم ’’ طف “ کے راستے پر چلتے ہوئے حیرہ کے مقام پر پہنچ گئے ، وہاں ہمارے سامنے سب سے پہلے شیماء بنت بقیلہ نامی خاتون آئی ، جو اپنے سفید خچر پر سوار تھی ، اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے بیان کیا تھا ، تو میں نے اس عورت کے بارے میں کہا : یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا ، میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی ، اُس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا ، اس نے مجھ سے کہا : تم اس کا میرے ساتھ سودا کر لو ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ایک ہزار سے کم نہیں کروں گا ، تو اس نے مجھے ایک ہزار دیدیے ، مجھ سے کہا گیا : اگر تم ایک لاکھ مانگتے تو اُس نے تمہیں وہ بھی دے دینے تھے ، میں نے کہا : مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ بھی مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ ایک روایت میں یہ بات نقل ہوئی ہے : وہ دو گواہ حضرت محمد بن مسلمہ بن اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14070

Majma al-Zawaid #14070

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ يَوْمٌ مِنَ السَّنَةِ تَجْتَمِعُ فِيهِ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ قَالَتْ: وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ: "" أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا "". قَالَتْ: فَجَعَلْنَا نَتَذَارَعُ بَيْنَنَا أَيُّنَا أَطْوَلُ يَدَيْنِ. قَالَتْ: وَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلُهُنَّ يَدًا، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ سَوْدَةُ عَلِمْنَا أَنَّهَا كَانَتْ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فِي الْخَيْرِ وَالصَّدَقَةِ. قَالَتْ: وَكَانَتْ زَيْنَبُ تَغْزِلُ الْغَزْلَ وَتُعْطِيهِ سَرَايَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخِيطُونَ بِهِ وَيَسْتَعِينُونَ بِهِ فِي مَغَازِيهِمْ. قَالَتْ: وَفِي ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ: "" كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha, رضي الله عنها, said: There was a day of the year in which the wives of the Prophet ﷺ gathered with him for a day until night. She said: On that day he said: The quickest of you to join me is the longest-handed among you. She said: We began to measure our arms among ourselves which of us was longest-handed. She said: Sawda was the longest-handed among them. When Sawda passed away, we knew she had been the longest-handed among them in good and charity. She said: Zaynab used to spin yarn and give it to the expeditions of the Prophet ﷺ, who sewed with it and sought help with it in their campaigns. She said: On that day he said: What will be the state of one of you when the dogs of Hawʾab bark upon her. > **"The quickest of you to join me is the longest-handed among you."** > **"What will be the state of one of you when the dogs of Hawʾab bark upon her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی تمام ازواج سال میں ایک دن پورا دن نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہا کرتی تھیں ، اسی طرح کے ایک دن میں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے سب سے زیادہ لیے ہاتھ والی ، مجھ سے سب سے پہلے آ کے ملے گی ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے اپنے ہاتھ ناپنا شروع کیے ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا ، لیکن جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ( متن میں اسی طرح مذر ہے ، تاہم لفظ یہ ہے : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ اُن کا ہاتھ بھلائی اور صدقہ کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ طویل تھا ( اور یہی نبی اکرم ﷺ کی مراد تھی ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سوت کاتا کرتی تھیں اور اس کا معاوضہ نبی اکرم ﷺ کی جنگی مہمات کو دیا کرتی تھیں ، وہ کپڑے سیتی تھیں ، اور اس کے ذریعے غزوات میں مدد فراہم کرتی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس دن نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تم میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا ؟ جب ’’ حواب “ کے کتے اُس پر بھونکیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14071

Majma al-Zawaid #14071

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «لَمَّا دَخَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنِّي أَهْدَيْتُ لِلنَّجَاشِيِّ مِسْكًا وَحُلَّةً، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا سَتُرَدُّ إِلَيَّ "". قَالَتْ: وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَى نِسَاءَهُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً وَأَعْطَانِي سَائِرَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأُمُّ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ لَا أَعْرِفُهَا. وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْهَدِيَّةِ فِي الْبَيْعِ مِنْ مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, رضي الله عنها, said: When the Messenger of Allah ﷺ took me in marriage, he said: O Umm Salama, I gifted musk and a robe to Najashi, and I do not see him but dead, nor my gift but that it shall be returned to me. She said: It was as the Messenger of Allah ﷺ said. He gave each of his wives an ounce and gave me the rest of the musk and the robe. > **"O Umm Salama, I gifted musk and a robe to Najashi, and I do not see him but dead, nor my gift but that it shall be returned to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب میری رخصتی کروائی ، تو آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! میں نے نجاشی کو مشک اور ایک حلہ تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، لیکن میرا خیال ہے ، وہ فوت ہو چکا ہے ، اور میں نے جو تحفہ بھیجا تھا ، اس کے بارے میں ، میرا یہ خیال ہے کہ وہ میرے پاس واپس آ جائے گا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر اسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے بیان کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ایک ایک اوقیہ دیگر ازواج کو دیا ، اور باقی سارا مشک اور حلہ مجھے دے دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موسیٰ بن عقبہ کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس واقعہ کے بارے میں اُم کلثوم کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے جو تحفہ دینے سے متعلق باب میں کتاب خرید و فروخت کے بیان میں ہے ، یہ امام احمد بن حنبل کی ’’ مسند ‘‘ کے حوالے سے اور دیگر حوالوں سے منقول ہے ۔

14072

Majma al-Zawaid #14072

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَهْلِكُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَنَا مَلِكُ الْأَمْلَاكِ، وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَنَا مَلِكُ الْأَمْلَاكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ said: Kisra shall perish, and there shall be no Kisra after him, for he says: I am king of kings. And Qaysar shall perish, and there shall be no Qaysar after him, for he says: I am king of kings. > **"Kisra shall perish, and there shall be no Kisra after him, for he says: I am king of kings. And Qaysar shall perish, and there shall be no Qaysar after him, for he says: I am king of kings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسریٰ بلاک ہو جائے گا ، تو اُس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ، کیونکہ وہ یہ کہتا تھا کہ میں ’’ شہنشاہ ‘‘ ہوں ، قیصر ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے : کہ میں ’’ شہنشاہ ‘‘ ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14073

Majma al-Zawaid #14073

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ بْنِ كَثِيرٍ التَّمَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ said: When Kisra perishes, there shall be no Kisra after him, and when Qaysar perishes, there shall be no Qaysar after him. By Him in Whose Hand is my soul, their treasures shall surely be spent in the path of Allah. > **"When Kisra perishes, there shall be no Kisra after him, and when Qaysar perishes, there shall be no Qaysar after him. By Him in Whose Hand is my soul, their treasures shall surely be spent in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ، جب قیصر ہلاک ہو جائے گا ، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اُن دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد کثیر تمار کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14074

Majma al-Zawaid #14074

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَظَلَّتْنَا سَحَابَةٌ نَحْنُ نَطْمَعُ فِيهَا فَقَالَ: "" إِنَّ الْمَلَكَ الَّذِي يَسُوقُهَا أَوْ يَسُوقُ هَذِهِ السَّحَابَةَ دَخَلَ عَلَيَّ فَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يَسُوقُهَا إِلَى وَادِي كَذَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, said: The Messenger of Allah ﷺ came out to us while a cloud shaded us which we hoped for rain, and he said: The angel who drives it, or who drives this cloud, entered upon me and greeted me, and informed me that he drives it to such-and-such valley. > **"The angel who drives this cloud entered upon me and greeted me, and informed me that he drives it to such-and-such valley."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت ہم پر بادل بنا ہوا تھا ، اور ہمیں اس سے توقع تھی ( کہ اس سے بارش ہو گی ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر لے جا رہا ہے ، ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو اس بادل کو ہانک کر لے جا رہا ہے ، وہ میرے پاس آیا ، اُس نے سلام کیا اور اس نے مجھے یہ بتایا کہ وہ اسے ہانک کر فلاں وادی کی طرف لے جائے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14075

Majma al-Zawaid #14075

وَعَنْ رَافِعٍ قَالَ: «كَانَ بِالرَّحَّالِ ابْنِ غَنْمُوَيْهِ مِنَ الْخُشُوعِ وَاللُّزُومِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْخَيْرِ فِيمَا يَرَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ عَجِيبٌ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَالرَّحَّالُ مَعَنَا جَالِسٌ مَعَ نَفَرٍ فَقَالَ: "" أَحَدُ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ فِي النَّارِ "". قَالَ رَافِعٌ: فَنَظَرْتُ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا أَبُو هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ وَأَبُو أَرْوَى الدَّوْسِيُّ وَالطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَرَحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ وَأَتَعَجَّبُ وَأَقُولُ: مَنْ هَذَا الشَّقِيُّ؟ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَعَتْ بَنُو حَنِيفَةَ، فَسَأَلْتُ: مَا فَعَلَ الرَّحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ؟ فَقَالُوا: افْتُتِنَ هُوَ الَّذِي شَهِدَ لِمُسَيْلِمَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَشْرَكَهُ فِي الْأَمْرِ بَعْدَهُ. فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُوَ حَقٌّ وَسَمِعَ الرَّحَّالَ وَهُوَ يَقُولُ: كَبْشَانِ انْتَطَحَا فَأَحَبُّهُمَا إِلَيْنَا كَبْشُنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ فِيهِ: الرَّحَّالُ بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهَكَذَا قَالَهُ الْوَاقِدِيُّ وَالْمَدَائِنِيُّ وَتَبِعَهُمَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ وَوَهِمَ فِي ذَلِكَ. وَالْأَكْثَرُونَ قَالُوا: إِنَّهُ بِالْجِيمِ الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ مَاكُولَا، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rafiʿ, رضي الله عنه, said: Rahhal ibn Ghanmuya showed such humility, devotion to recitation of the Qurʾan, and goodness in the sight of the Messenger of Allah ﷺ as was wondrous. The Messenger of Allah ﷺ came out to us one day while Rahhal sat with us among a group, and he said: One of this group is in the Fire. Rafiʿ said: I looked among the people, and there were Abu Hurayrah al-Dawsi, Abu Arwa al-Dawsi, al-Tufayl ibn ʿAmr al-Dawsi, and Rahhal ibn Ghanmuya. I kept looking in wonder, saying: Who is this wretched one. When the Messenger of Allah ﷺ passed away, Banu Hanifa apostatized. I asked: What became of Rahhal ibn Ghanmuya. They said: He was tempted; he is the one who testified for Musaylima against the Messenger of Allah ﷺ that he made him partner in the affair after him. I said: What the Messenger of Allah ﷺ said is true. Rahhal was heard saying: Two rams butted, and the dearer to us is our ram. > **"One of this group is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رحال بن غنمویہ ( نامی فرد ) میں ، بہت خشوع و خضوع پایا جاتا تھا ، وہ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرتا تھا ، وہ بھلائی کے کام باقاعدگی سے کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت رحال بھی ہمارے ساتھ کچھ دیگر افراد سمیت بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں میں سے ایک شخص جہنم میں جائے گا ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان لوگوں کا جائزہ لیا ، تو ان میں حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت ابوارویٰ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، رحال بن غنمویہ تھا ، میں اُن کا جائزہ لیتا رہا اور حیران ہوتا رہا ، میں نے سوچا کہ وہ بدنصیب کون ہو گا ؟ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو بنو حنیفہ مرتد ہو گئے میں نے دریافت کیا : رحال بن غنمویہ کا کیا بنا ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آزمائش کا شکار ہو گیا ، جو اُس نے نبی اکرم ﷺ کے خلاف مسیلمہ کے حق میں یہ گواہی دی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے بعد حکومت کا نگران مقرر کیا تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بات حق ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) انہوں نے رحال کو یہ کہتے ہوئے سنا : دو مینڈھے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ لڑا رہے ہیں ، تو ان دونوں میں سے ہمارے نزدیک ہمارا مینڈھا زیادہ محبوب ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت میں اس شخص کا نام ’’ رحال ‘‘ نقل کیا ہے ، واقدی اور مدائنی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، عبدالغنی بن سعید نے ان دونوں کی متابعت کی ہے ، لیکن انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اس کا نام ’’ ج “ کے ساتھ ہے ، امام دارقطنی اور ابن ماکولا نے یہی بات بیان کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14076

Majma al-Zawaid #14076

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: «كُنْتُ إِذَا قَدِمْتُ عَلَى أَبِي مَحْذُورَةَ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ، وَإِذَا قَدِمْتُ عَلَى الرَّجُلِ سَأَلَنِي عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَقُلْتُ: لِأَبِي مَحْذُورَةَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكَ سَأَلْتَنِي، عَنْ فُلَانٍ وَإِذَا قَدِمْتُ عَلَى فُلَانٍ سَأَلَنِي عَنْكَ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَفُلَانٌ فِي بَيْتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آخِرُكُمْ مَوْتًا فِي النَّارِ "". فَمَاتَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ مَاتَ أَبُو مَحْذُورَةَ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَوْسُ بْنُ خَالِدٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَفِيهِمَا كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aws ibn Khalid said: Whenever I came to Abu Mahdhura, رضي الله عنه, he asked me about a certain man, and whenever I came to that man, he asked me about Abu Mahdhura. I said to Abu Mahdhura: When I come to you, you ask me about so-and-so, and when I come to so-and-so, he asks me about you. He said: I, Abu Hurayrah, and so-and-so were in a house, and the Prophet ﷺ said: The last of you to die is in the Fire. Then Abu Hurayrah died, then Abu Mahdhura died, then the man died. > **"The last of you to die is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اوس بن خالد بیان کرتے ہیں : جب میں حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ، تو وہ مجھ سے ایک شخص کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، اور جب میں اس شخص کے پاس جاتا تھا ، تو وہ مجھ سے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، میں نے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا : جب میں آپ کے پاس آتا ہوں ، تو آپ مجھ سے فلاں صاحب کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور جب میں فلاں صاحب کے پاس جاتا ہوں ، تو وہ مجھ سے آپ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، تو حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور فلاں شخص ایک گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں سے جو آخر میں مرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو پہلے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، پھر حضرت ابومحذوره رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اور پھر اُس شخص کا انتقال ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اوس بن خالد نامی راوی کے حوالے سے علی بن زید کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14077

Majma al-Zawaid #14077

وَعَنْ أَبِي يُونُسَ قَالَ: «كُنْتُ تَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَإِذَا قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ سَأَلَنِي سَمُرَةُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُنَّا سَبْعَةً فِي بَيْتٍ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" آخِرُكُمْ مَوْتًا فِي النَّارِ "". فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنَا وَسَمُرَةَ. قُلْتُ: لَعَلَّهُ أَرَادَ نَارَ الدُّنْيَا فَإِنَّ سَمُرَةَ مَاتَ كَذَلِكَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Yunus said: I was a trader at Madina. When I came to Madina, Abu Hurayrah, رضي الله عنه, asked me about Samura ibn Jundub, and when I came to Basra, Samura asked me about Abu Hurayrah. Abu Hurayrah said: We were seven in a house, and the Messenger of Allah ﷺ entered upon us and said: The last of you to die is in the Fire. None remained but I and Samura. I say: Perhaps he meant the fire of this world, for Samura died thus by fire, and Allah knows best. > **"The last of you to die is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویونس بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں تاجر تھا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، جب میں بصرہ آیا ، تو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ہم سات افراد ایک گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے آخر میں مرنے والا ، آگ میں جائے گا ۔‘‘ ( پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) اب اُن افراد میں سے ، صرف میں اور حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید اس سے مراد دنیاوی آگ تھی ، کیونکہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال آگ کی وجہ سے ہی ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14078

Majma al-Zawaid #14078

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَتَخْرُجَنَّ الظَّعِينَةُ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى يَدْخُلَ الْحِيرَةَ لَا يَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْأَوْدِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura, رضي الله عنه, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A lone woman traveler shall surely go out from Madina until she enters Hira, fearing none but Allah, Mighty and Majestic. > **"A lone woman traveler shall surely go out from Madina until she enters Hira, fearing none but Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب کوئی عورت ’’ مدینہ ‘‘ سے نکلے گی ، اور ’’ حیرہ ‘‘ میں داخل ہو گی ، اُسے اس دوران اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی سے خوف نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف احمد بن یحییٰ اودی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14079

Majma al-Zawaid #14079

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ - فِيمَا يَعْلَمُ بَعْضُ الرُّوَاةِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجَّدَ بُيُوتُكُمْ كَمَا تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ "". قُلْنَا: وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قُلْنَا: يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْ يَوْمَئِذٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Juhayfa, رضي الله عنه, in what some narrators know, said: The Messenger of Allah ﷺ said: The world shall be opened for you until your houses are draped as the Kaba is draped. We said: While upon our religion. He said: Yes. We said: Shall we be better that day than today. He said: Rather, you today are better than on that day. > **"The world shall be opened for you until your houses are draped as the Kaba is draped."** > **"Yes."** > **"Rather, you today are better than on that day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بعض راویوں کے بیان کے مطابق ، حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب تمہارے لئے دنیا کو فتح کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تم اپنے گھروں پر یوں غلاف چڑھاؤ گے ، جس طرح خانہ کعبہ غلاف چڑھایا جاتا ہے ، ہم نے عرض کی : کیا ہم اپنے اس دین پر گامزن ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے عرض پر کی : اُس وقت ہم آج کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جی نہیں ! بلکہ آج تم اُس وقت کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14080

Majma al-Zawaid #14080

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يَكُونُ فِي أُمَّتِي رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْمَوْتِ» ". قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِيمَنْ تَكَلَّمَ بَعْدَ الْمَوْتِ فِي الْخِلَافَةِ فِي الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa, رضي الله عنه, said: I heard the Prophet ﷺ say: There shall be in my Ummah a man who speaks after death. I say: The hadith of al-Nuʿman ibn Bashir concerning one who spoke after death, in the caliphate chapter on the four caliphs, has preceded. > **"There shall be in my Ummah a man who speaks after death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت میں ایک شخص ہو گا ، جو مرنے کے بعد کلام کرے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو خلفاء اربعہ کی خلافت کے بارے میں ہے ، اور مرنے کے بعد کام کرنے والے شخص کے بارے میں ہے ۔

14081

Majma al-Zawaid #14081

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «عَدَا الذِّئْبِ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا، فَطَلَبَهَا الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ فَقَالَ: أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ؟ فَقَالَ: يَا عَجَبًا ذِئْبٌ مُقْعَى عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي بِكَلَامِ الْإِنْسِ! فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ! مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ. قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَى إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: "" أَخْبِرْهُمْ "". فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكَ نَعْلِهِ، وَيُخْبِرُ فَخِذُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ» "". قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, رضي الله عنه, said: A wolf attacked a sheep and seized it. The shepherd pursued it and recovered it from him. The wolf sat upon its tail and said: Do you not fear Allah, taking from me provision which Allah, Mighty and Majestic, drove to me. He said: How wondrous, a wolf sitting upon its tail speaking to me with human speech. The wolf said: Shall I inform you of more wondrous than that: Muhammad ﷺ at Yathrib informs people of tidings of what has passed. He said: The shepherd came driving his sheep until he entered Madina, gathered them in a corner of its corners, then came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him. The Messenger of Allah ﷺ ordered and it was announced: Prayer in congregation. Then he came out and said to the Bedouin: Inform them. He informed them, and the Messenger of Allah ﷺ said: He spoke truthfully. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the Hour shall not stand until beasts speak to men, the tip of a man's whip and the strap of his sandal speak to him, and his thigh informs him of what his household did after him. > **"Inform them."** > **"He spoke truthfully. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, the Hour shall not stand until beasts speak to men, the tip of a man's whip and the strap of his sandal speak to him, and his thigh informs him of what his household did after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کر کے اُسے پکڑ لیا ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، تو وہ بھیٹریا اپنی دم کے بل اقصاء کے طور پر بیٹھ گیا اور اس نے چرواہے سے کہا : کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تم نے مجھ سے وہ رزق چھین لیا ، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اُس شخص نے کہا : یہ کیسی حیران کن بات ہے ، ایک بھیڑیا جو اپنی دم کے بل اقعاء کے طور پر بیٹھا ہے ، وہ میرے ساتھ انسانوں کی طرح کلام کر رہا ہے ، تو اس بھیڑیے نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ؟ یثرب میں حضرت محمد ﷺ موجود ہیں ، جو لوگوں کو پہلے زمانے کی خبریں دیتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے آیا اور مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، اس نے مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر انہیں اکٹھا کیا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا ، اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں پھر آپ ﷺ تشریف لائے ، آپ نے اُس دیہاتی سے کہا : تم ان لوگوں کو اس بارے میں بتاؤ ، اس نے ان لوگوں کو بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس نے سچ کہا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک جانور انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے ، اور آدمی کے ساتھ اس کی چھڑی کا کونا اور اس کے جوتے کا تسمہ بھی کلام کریں گے ، اور اس کا زانوں اُسے بتائے گا کہ اُس کے بعد اس کی بیوی نے کیا کیا ؟‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

14082

Majma al-Zawaid #14082

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهِ فِي بَيْدَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ يَرْمِي بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration, from Abu Saʿid also, رضي الله عنه: While a man of Aslam was among his small flock driving them at the desert of Dhu al-Hulayfa, a wolf attacked him and seized a sheep from his flock. The man shouted at him, throwing stones until he rescued his sheep from him. Then he mentioned similar to it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ایک مرتبہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنی بکریوں میں موجود تھا ، وہ انہیں لے کر ذوالحلیفہ کے مقام میں جا رہا تھا ، اسی دوران ایک بھیڑیے نے اس پر حملہ کر دیا ، اس نے اس کی بکریوں میں سے ایک بکری کو حاصل کر لیا ، تو اس چرواہے نے اس بھیڑیے کو پتھر مارنے شروع کیے ، یہاں تک کہ اس سے بکری کو چھڑا لیا ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

14083

Majma al-Zawaid #14083

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ. قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَزْفَرَ وَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَانْتَزَعْتَهُ مِنِّي؟ فَقَالَ الرَّاعِي: بِاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ!! قَالَ الذِّئْبُ: أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ. وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَبَّرَهُ وَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا أَمَارَاتٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, said: A wolf came to a shepherd of sheep and took a sheep from them. The shepherd pursued him until he recovered it from him. He said: The wolf climbed a hill, sat, tucked its tail, and said: You set upon provision which Allah provided me and took it from me. The shepherd said: By Allah, never did I see like today a wolf speaking. The wolf said: More wondrous than this is a man among the date-palms between the two lava tracts informing you of what has passed and what shall be after you. The man was a Jew. He came to the Prophet ﷺ, informed him, and the Prophet ﷺ confirmed him and said: They are signs among signs before the Hour; a man shall soon go out and not return until his sandals and his whip inform him of what his household did after him. > **"They are signs among signs before the Hour; a man shall soon go out and not return until his sandals and his whip inform him of what his household did after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیا بکریوں کے چرواہے کے پاس آیا ، اور اس نے اُس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا ، اُس نے اپنی دم دونوں ٹانگوں کے درمیان کی اور بولا : تم ایک ایسے رزق کی طرف آئے ، جسے اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اور تم نے اس کو مجھ سے چھین لیا ، تو اس چرواہے نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی کہ ایک بھیڑیا بات چیت کر رہا ہے ، اُس بھیڑیے نے کہا : اس سے بھی زیادہ حیران کن وہ صاحب ہیں ، جو دو طرف پتھریلی زمین کے درمیان موجود کھجوروں کے درختوں کے درمیان رہتے ہیں ، اور وہ گزرے ہوئے زمانے کے بارے میں ، اور تمہارے بعد جو کچھ ہو گا ، اس کے بارے میں تمہیں بتاتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اور اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کی بات کی تصدیق کی اور آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ قیامت سے پہلے آنے والی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے ، عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص جائے گا اور جب وہ واپس آئے گا ، تو اُس کا جوتا ، یا اُس کا کوڑا بتائیں گے کہ اُس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا کیا ؟‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14084

Majma al-Zawaid #14084

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بِنَحْوِهِ - يَعْنِي بِنَحْوِ حَدِيثٍ قَبْلَهُ - وَزَادَ فِيهِ: «وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا صَلَاةَ الْغَدَاةِ ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا الذِّئْبُ وَمَا الذِّئْبُ جَاءَكُمْ يَسْأَلُكُمْ أَنْ تُعْطُوهُ أَوْ تُشْرِكُوهُ فِي أَمْوَالِكُمْ "". فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِحَجَرٍ فَمَرَّ أَوْ وَلَّى وَلَهُ عُوَاءٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: وَهَذَا الَّذِي زَادَهُ جَرِيرٌ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْأَوْبَرِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, reported from the Prophet ﷺ similar to it, meaning similar to the preceding hadith, with addition: The Messenger of Allah ﷺ prayed one day the dawn prayer, then said: This is the wolf, and what is the wolf; he has come to you asking you to give him or to make him partner in your wealth. A man threw a stone at him, and he passed on, or turned away, howling. > **"This is the wolf, and what is the wolf; he has come to you asking you to give him or to make him partner in your wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں ، جو اس سے پہلے والی روایت کی مانند ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ بھیڑیا ہے ، اور یہ بھیڑیا تمہارے پاس اس لئے آیا ہے کہ وہ تم سے یہ درخواست کر رہا ہے کہ تم اسے کچھ دو ، یا تم اپنے اموال میں اسے شریک کرو ، تو ایک شخص نے اسے پتھر مارا ، تو وہ چلا گیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ مڑ گیا اور وہ آوازیں نکال رہا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ اضافہ جریر نامی راوی نے نقل کیا ہے ، اس کے علاوہ ہمیں کسی کا علم نہیں ہے کہ کسی نے اسے روایت کیا ہو ، اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف زیاد بن ابواوبر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14085

Majma al-Zawaid #14085

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ تُرِيدُ؟ "". قَالَ: إِلَى أَهْلِي. قَالَ: "" هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ؟ "". قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "". قَالَ: مَنْ شَاهِدٌ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: "" هَذِهِ الشَّجَرَةُ "". فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا، حَتَّى جَاءَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ وَقَالَ: إِنْ يَتْبَعُونِي آتِيكَ بِهِمْ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَيْكَ فَكُنْتُ مَعَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا وَالْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey when a Bedouin came. When he drew near, the Prophet ﷺ said to him: Where do you intend. He said: To my family. He said: Do you desire good. He said: What is it. He said: That you testify that there is no god but Allah alone without partner and that Muhammad is His servant and His Messenger. He said: Who witnesses to what you say. He said: This tree. The Messenger of Allah ﷺ called it while it stood at the bank of the valley, and it came tearing the earth until it stood before him. He called it to witness three times, and it testified that it is as he said. Then it returned to its place of growth. The Bedouin returned to his people and said: If they follow me, I shall bring them to you; otherwise I shall return to you and be with you. > **"Where do you intend."** > **"Do you desire good."** > **"That you testify that there is no god but Allah alone without partner and that Muhammad is His servant and His Messenger."** > **"This tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، اسی دوران ایک دیہاتی آیا جب وہ قریب آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اپنے اہل خانہ کی طرف ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم بھلائی میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ اس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اس دیہاتی نے کہا : آپ جو بات کہہ رہے ہیں ، اس پر کون گواہ ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ درخت ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُس درخت کو بلایا ، تو وہ وادی کے کنارے پر موجود تھا ، وہ وہاں سے زمین کو چیر کر چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی ، تو اس نے یہ گواہی دی کہ بات اُسی طرح ہے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ ارشاد فرما رہے ہیں ، پھر وہ واپس اپنے اُگنے کی جگہ کی طرف چلا گیا ، جب وہ دیہاتی اپنی قوم کی طرف واپس جانے لگا ، تو بولا : اگر ان لوگوں نے میری پیروی کی ، تو میں انہیں آپ کے پاس لے کر آؤں گا ، ورنہ میں آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور پھر آپ کے ساتھ رہوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔

14086

Majma al-Zawaid #14086

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي مَحْفِلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَدْ صَادَ ضَبًّا وَجَعَلَهُ فِي كُمِّهِ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَرَأَى جَمَاعَةً فَقَالَ: عَلَى مَنْ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ فَقَالُوا: عَلَى هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ النَّبِيُّ، فَشَقَّ النَّاسَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا اشْتَمَلَتِ النِّسَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَكْذَبَ مِنْكَ وَأَنْقَصَ، وَلَوْلَا أَنْ تُسَمِّيَنِي الْعَرَبُ عَجُولًا لَعَجَّلْتُ عَلَيْكَ فَقَتَلْتُكَ، فَسَرَرْتُ بِقَتْلِكَ النَّاسَ أَجْمَعِينَ. فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَقْتُلْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْحَلِيمَ كَادَ يَكُونُ نَبِيًّا "". ثُمَّ أَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا آمَنْتُ بِكَ. وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَعْرَابِيُّ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ، وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَمْ تُكَرِّمْ مَجْلِسِي؟ "". قَالَ: وَتُكَلِّمُنِي أَيْضًا - اسْتِخْفَافًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا آمَنْتُ بِكَ حَتَّى يُؤْمِنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ. فَأَخْرَجَ الضَّبَّ مِنْ كُمِّهِ، فَطَرَحَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: إِنْ آمَنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ آمَنْتُ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ضَبُّ "". فَكَلَّمَهُ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ تَعْبُدُ؟ "". قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ، وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ، وَفِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ، وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ، وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ. قَالَ: "" فَمَنْ أَنَا يَا ضَبُّ؟ "". قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ، وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ. فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، وَاللَّهِ لَقَدْ أَتَيْتُكَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ هُوَ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْكَ، وَوَاللَّهِ لَأَنْتَ السَّاعَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمِنْ وَلَدِي، فَقَدْ آمَنْتُ بِكَ شَعْرِي وَبَشَرِي وَدَاخِلِي وَخَارِجِي وَسِرِّي وَعَلَانِيَتِي. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ الدِّينَ الَّذِي يَعْلُو وَلَا يُعْلَى، لَا يَقْبَلُهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا بِصَلَاةٍ، وَلَا تُقْبَلُ الصَّلَاةُ إِلَّا بِقُرْآنٍ "". فَعَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (الْحَمْدُ) وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سَمِعْتُ فِي الْبَسِيطِ، وَلَا فِي الرَّجَزِ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَيْسَ بِشِعْرٍ، وَإِذَا قَرَأْتَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَإِذَا قَرَأْتَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] مَرَّتَيْنِ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَيِ الْقُرْآنِ، وَإِذَا قَرَأْتَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: نِعْمَ الْإِلَهُ فَإِنَّ إِلَهَنَا يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَيُعْطِي الْجَزِيلَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَعْطُوا الْأَعْرَابِيَّ "". فَأَعْطَوْهُ حَتَّى أَبْظَرُوهُ. فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَهُ نَاقَةً أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دُونَ الْبُخْتِيِّ وَفَوْقَ الْأَعْرَابِيِّ، وَهِيَ عُشَرَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ وَصَفْتَ مَا تُعْطِي وَأَصِفُ لَكَ مَا يُعْطِيكَ اللَّهُ تَعَالَى جَزَاءً "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" لَكَ نَاقَةٌ مِنْ دُرَّةٍ جَوْفَاءَ، قَوَائِمُهَا مِنْ زُمُرُّدٍ أَخْضَرَ، وَعُنُقُهَا مِنْ زَبَرْجَدٍ أَصْفَرَ، عَلَيْهَا هَوْدَجٌ، وَعَلَى الْهَوْدَجِ السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ، تَمُرُّ بِكَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ "". فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَقَّاهُ أَلْفُ أَعْرَابِيٍّ عَلَى أَلْفِ دَابَّةٍ بِأَلْفِ رُمْحٍ وَأَلْفِ سَيْفٍ. فَقَالَ لَهُمْ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُقَاتِلُ هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ. فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالُوا لَهُ: صَبَوْتَ؟ فَقَالَ لَهُمْ: مَا صَبَوْتُ. وَحَدَّثَهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالُوا بِأَجْمَعِهِمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَقَّاهُمْ فِي رِدَاءٍ، فَنَزَلُوا، عَنْ رِكَابِهِمْ يُقَبِّلُونَ مَا رَأَوْا مِنْهُ وَهُمْ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: مُرْنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" تَدْخُلُونَ تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ "". قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ آمَنَ مِنْهُمْ أَلْفٌ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيِّ قَالَ الْبَيْهَقِيُّ: وَالْحَمْلُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَيْهِ. قُلْتُ:، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, رضي الله عنه, with the hadith of the lizard: The Messenger of Allah ﷺ was in a gathering of his Companions when a Bedouin of Banu Sulaym came, having hunted a lizard and placed it in his sleeve. He went with it toward his lodging and saw a group. He said: For whom is this group. They said: For this one who claims he is the Prophet. He tore through the people, then came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Muhammad, no woman ever bore one of speech more lying and more deficient than you. Were it not that the Arabs would call me hasty, I would hasten upon you and kill you, delighting all people by your killing. ʿUmar said: O Messenger of Allah, let me kill him. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you not know that the forbearing is near to being a prophet. Then the Bedouin turned to the Messenger of Allah ﷺ and said: By al-Lat and al-ʿUzza, I shall not believe in you. The Messenger of Allah ﷺ had said to him: O Bedouin, what carried you to say what you said, speaking falsehood and not honoring my gathering. He said, belittling the Messenger of Allah ﷺ: And you speak to me too; by al-Lat and al-ʿUzza, I shall not believe in you until this lizard believes in you. He took the lizard from his sleeve and cast it before the Messenger of Allah ﷺ and said: If this lizard believes in you, I shall believe in you. The Messenger of Allah ﷺ said: O lizard. The lizard spoke to him in clear Arabic understood by all the people: At your service and felicity, O Messenger of the Lord of the worlds. The Messenger of Allah ﷺ said: Whom do you worship. He said: Him whose Throne is in heaven, whose dominion is in earth, whose path is in the sea, whose mercy is in Paradise, and whose punishment is in the Fire. He said: Who am I, O lizard. He said: You are the Messenger of the Lord of the worlds and the Seal of the Prophets; successful is whoever confirms you, and disappointed is whoever denies you. The Bedouin said: I testify that there is no god but Allah and that you are truly the Messenger of Allah. By Allah, I came to you when none upon the face of the earth was more hateful to me than you, and by Allah, at this hour you are dearer to me than myself and my child. I have believed in you with my hair and skin, my inward and outward, my secret and open. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Praise be to Allah who guided you to the religion which is supreme and not surpassed; Allah, Exalted, accepts it only with prayer, and prayer is accepted only with Qurʾan. The Messenger of Allah ﷺ taught him the Opening and Say: He is Allah, One. He said: O Messenger of Allah, I never heard in extended nor in rajaz verse better than this. The Messenger of Allah ﷺ said: This is the speech of the Lord of the worlds and not poetry. When you recite Say: He is Allah, One once, it is as if you recited a third of the Qurʾan; when you recite it twice, it is as if you recited two thirds; and when you recite it thrice, it is as if you recited the whole Qurʾan. The Bedouin said: What an excellent God, for our God accepts little and grants much. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Give the Bedouin. They gave him until they satisfied him. ʿAbd al-Rahman ibn ʿAwf, رضي الله عنه, said: O Messenger of Allah, I wish to give him a she-camel seeking nearness to Allah, Mighty and Majestic, below the Bukhti and above the common, ten months pregnant. The Messenger of Allah ﷺ said: You have described what you give, and I shall describe for you what Allah, Exalted, shall give you in recompense. He said: Yes. He said: Yours shall be a she-camel of hollow pearl, its legs of green emerald, its neck of yellow topaz, upon it a litter, and upon the litter silk and brocade; it shall pass with you over the Bridge like darting lightning. The Bedouin left the Messenger of Allah ﷺ and was met by one thousand Bedouins upon one thousand mounts with one thousand spears and one thousand swords. He said to them: Where do you intend. They said: To fight this one who lies and claims he is a prophet. The Bedouin said: I testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah ﷺ. They said to him: Have you apostatized. He said to them: I have not apostatized. He told them this hadith, and they all said: There is no god but Allah, Muhammad is the Messenger of Allah. That reached the Prophet ﷺ, so he met them in a cloak. They dismounted from their mounts, kissing what they saw of him, saying: There is no god but Allah, Muhammad is the Messenger of Allah. They said: Command us by your command, O Messenger of Allah. He said: You shall enter under the banner of Khalid ibn al-Walid. He said: None of the Arabs believed one thousand all together except Banu Sulaym. > **"Do you not know that the forbearing is near to being a prophet."** > **"O Bedouin, what carried you to say what you said, speaking falsehood and not honoring my gathering."** > **"O lizard."** > **"Whom do you worship."** > **"Who am I, O lizard."** > **"Praise be to Allah who guided you to the religion which is supreme and not surpassed; Allah, Exalted, accepts it only with prayer, and prayer is accepted only with Qurʾan."** > **"This is the speech of the Lord of the worlds and not poetry. When you recite Say: He is Allah, One once, it is as if you recited a third of the Qurʾan; when you recite it twice, it is as if you recited two thirds; and when you recite it thrice, it is as if you recited the whole Qurʾan."** > **"You have described what you give, and I shall describe for you what Allah, Exalted, shall give you in recompense."** > **"Yours shall be a she-camel of hollow pearl, its legs of green emerald, its neck of yellow topaz, upon it a litter, and upon the litter silk and brocade; it shall pass with you over the Bridge like darting lightning."** > **"Give the Bedouin."** > **"You shall enter under the banner of Khalid ibn al-Walid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گوہ کے بارے میں واقعہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کی محفل کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی شخص آیا ، جس نے ایک گوہ کو شکار کیا تھا ، اس نے وہ گوہ اپنی آستین میں رکھی ہوئی تھی ، اور وہ اسے لے کر اپنی رہائشی جگہ کی طرف جا رہا تھا ، اس نے درمیان میں ، اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ وہ صاحب ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، وہ شخص لوگوں کو چیرتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا اے حضرت محمد ( ﷺ ) خواتین نے کسی ایسے شخص پر اشتمال نہیں کیا ( یعنی کسی ایسے شخص کو جنم نہیں دیا ) جو آپ سے زیادہ جھوٹا اور آپ سے زیادہ ناقص ہو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ عرب مجھے جلدباز کہیں گے ، تو میں نے آپ کے بارے میں جلدبازی کرنی تھی اور آپ کو قتل کر دینا تھا اور آپ کو قتل کر کے لوگوں کو خوش کر دینا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ بردبار شخص نبی ہونے کے قریب ہوتا ہے ، پھر وہ دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا : لات اور عزیٰ کی قسم ہے ، میں آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اسے دیہاتی ! تم نے جو بات کہی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ تم نے غلط بات کی ہے ، اور تم نے میری محفل کا احترام بھی نہیں کیا ، اُس دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کی تخفیف کرتے ہوئے یہ کہا : آپ بھی میرے ساتھ اس طرح بات کر لیں ، لات اور عزیٰ کی قسم ہے ، میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا ، جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لائے گی ، پھر اس نے اپنی گوہ کو اپنی آستین میں سے نکالا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کو رکھ دیا اور بولا : اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئی ، تو میں بھی آپ پر ایمان لے آؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے گوہ ! تو گوہ نے آپ سے واضح عربی زبان میں کلام کیا ، جسے تمام حاضرین سمجھ رہے تھے ۔ اس نے کہا : اے تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کس کی عبادت کرتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جس کا عرش آسمان میں ہے ، اور جس کی بادشاہی زمین میں ہے ، اور جس کا بنایا ہوا راستہ سمندر میں ہے ، اور جنت میں جس کی رحمت ہے ، اور جہنم میں جس کا عذاب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے گوہ ! میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ تمام جہانوں کے پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ شخص رُسوا ہو گیا ، جس نے آپ کو جھٹلایا ۔ تو اُس دیہاتی نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، جب میں آپ کے پاس آیا تھا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت روئے زمین پر کوئی بھی میرے نزدیک آپ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اور اللہ کی قسم ! اس وقت میرا یہ عالم ہے کہ آپ میرے نزدیک میری جان اور میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں ، میرے بال ، میری جلد ، میرا اندرونی حصہ ، میرا بیرونی حصہ ، میرا پوشیدہ ، میرا علانیہ ، آپ پر ایمان لاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تمہیں اس دین کی ہدایت نصیب کی ، جو سربلند ہو گا ، سرنگوں نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ اسے صرف نماز کے ہمراہ قبول کرتا ہے ، اور نماز ، قرآن کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تعلیم دی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بسیط ، یا رجز میں کوئی ایسا کلام نہیں سنا ، جو اس سے زیادہ عمدہ ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کا کلام ہے ، یہ شاعری نہیں ہے ، جب تم سورت اخلاص ایک مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا ، اور جب تم سورت اخلاص دو مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے دو تہائی قرآن پڑھ لیا ، اور جب تم سورت اخلاص تین مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے پورا قرآن پڑھ لیا ۔‘‘ تو دیہاتی نے کہا : یہ تو بہت اچھا معبود ہے ، جو تھوڑی سی چیز کو قبول کر لیتا ہے ، اور زیادہ اجر و ثواب عطا کرتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دیہاتی کو کچھ دو ! تو لوگوں نے اسے دیا ، یہاں تک کہ بہت زیادہ دیا ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اسے ایک اونٹنی دوں ، اور میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں ، وہ اونٹنی بختی اونٹ سے کم ہو گی ، اور اعرابی اونٹ سے زیادہ ہو گی ، وہ دس ماہ کی حاملہ ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جو دینے لگے ہو ، تم نے اس کی صفت بیان کر دی ہے ، اب میں تمہارے سامنے اس کی صفت بیان کروں گا ، جو اس کی جزا میں تمہیں اللہ تعالیٰ عطا کرے گا ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ایسی اونٹنی ملے گی ، جو خول والے موتی سے بنی ہوئی ہو گی ، اس کے پاؤں سبز زبرجد سے بنے ہوئے ہوں گے ، اس کی گردن زرد زبرجد کی ہو گی ، اس پر ہودج موجود ہو گا ، اس کا ہودج ، سندس اور استبرق ہو گا ، اور وہ اونٹنی تمہیں لے کر پل صراط سے یوں گزرے گی ، جیسے بجلی چمکتی ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ دیہاتی ، نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گیا ، تو اس کی ملاقات ایک ہزار دیہاتیوں سے ہوئی ، جو ایک ہزار سواریوں پر سوار تھے ، اُن کے پاس ایک ہزار نیزے تھے اور ایک ہزار تلواریں تھیں ، اُس دیہاتی نے ان لوگوں سے کہا : تم لوگ کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم اُن صاحب سے جنگ کرنا چاہتے ہیں ، جو جھوٹ بولتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، تو اس دیہاتی نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، ان دیہاتیوں نے اس سے کہا : کیا تم بے دین ہو گئے ہو ؟ اس نے ان سے کہا : میں بے دین نہیں ہوا ہوں ، پھر اُس نے پورا واقعہ ان لوگوں کو سنایا ، تو ان سب لوگوں نے یہ کہا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، جب نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں اطلاع ملی ، تو آپ نے ان لوگوں سے ملاقات کی ، آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ، وہ لوگ اپنی سواریوں سے اُترے اور انہوں نے اس کو بوسہ دینا شروع کیا ، جو وہ آپ سے دیکھ رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، پھر انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں حکم دیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ خالد بن ولید کے جھنڈے کے نیچے داخل ہو جاؤ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عربوں میں کوئی ایسا قبیلہ نہیں ہے ، جس کے ایک ہزار افراد ، ایک ساتھ مسلمان ہوئے ہوں ، صرف بنو سلیم کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن علی بن ولید بصری کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام بیہقی کہتے ہیں : اس روایت کا سارا وزن اس راوی پر ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14087

Majma al-Zawaid #14087

، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ قَدْ صَادُوا ظَبْيَةً، فَشَدُّوهَا إِلَى عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَضَعْتُ وَلَدَيْنِ خَشْفَيْنِ فَاسْتَأْذِنْ لِي أَنْ أُرْضِعَهُمَا ثُمَّ أَعُودُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَلُّوا عَنْهَا حَتَّى تَأْتِيَ خَشْفَيْهَا فَتُرْضِعُهُمَا وَتَأْتِي إِلَيْكُمَا "". قَالُوا: وَمَنْ لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنَا "". فَأَطْلَقُوهَا فَذَهَبَتْ فَأَرْضَعَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِمْ فَأَوْثَقُوهَا. قَالَ: "" تَبِيعُوهَا "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ لَكَ، فَخَلُّوا عَنْهَا فَأَطْلَقُوهَا فَذَهَبَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ passed by a people who had hunted a gazelle and tied it to the pole of a tent. She said: O Messenger of Allah, I have given birth to two young fawns; permit me to suckle them, then I shall return. The Messenger of Allah ﷺ said: Let her go until she comes to her fawns and suckles them and comes back to you. They said: And who guarantees that for us, O Messenger of Allah. He said: I do. They released her; she went, suckled, then returned to them, and they tied her. He said: Will you sell her. They said: O Messenger of Allah, she is yours. They released her and she went away. > **"Let her go until she comes to her fawns and suckles them and comes back to you."** > **"I do."** > **"Will you sell her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے ایک ہرنی کو شکار کیا تھا اور اسے خیمے کی لکڑی کے ساتھ باندھا ہوا تھا ، اس ہرنی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بچوں کو جنم دیا ہے ، میرے دو چھوٹے بچے ہیں ، آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں انہیں دودھ پلا آؤں ، پھر میں واپس آ جاؤں گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! تاکہ یہ اپنے بچوں کے پاس جا کے انہیں دودھ پلا آئے ، پھر یہ تمہارے پاس آ جائے گی ، ان لوگوں نے عرض کی : يا رسول اللہ اس کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ، اُن لوگوں نے اسے چھوڑ دیا وہ چلی گئی ، اس نے دودھ پلایا ، پھر وہ ان لوگوں کے پاس واپس آ گئی ، اُن لوگوں نے پھر اسے باندھ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے فروخت کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی ہوئی ، پھر ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ چلی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14088

Majma al-Zawaid #14088

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّحْرَاءِ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِيهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْتَفَتَ فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا ظَبْيَةٌ مَوْثُوقَةٌ فَقَالَتْ: ادْنُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَنَا مِنْهَا فَقَالَ: "" حَاجَتُكِ؟ "". فَقَالَتْ: إِنَّ لِي خَشْفَيْنِ فِي هَذَا الْجَبَلِ، فَخَلِّنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُرْضِعُهُمَا ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَيْكَ. قَالَ: "" وَتَفْعَلِينَ؟ "". قَالَتْ: عَذَّبَنِي اللَّهُ عَذَابَ الْعَشَّارِ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ. فَأَطْلَقَهَا، فَذَهَبَتْ فَأَرْضَعَتْ خَشْفَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَتْ فَأَوْثَقَهَا، وَانْتَبَهَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ تُطْلِقُ هَذِهِ "". فَأَطْلَقَهَا فَخَرَجَتْ تَعْدُو وَهِيَ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, رضي الله عنها, said: The Messenger of Allah ﷺ was in the desert when a caller called to him: O Messenger of Allah. He turned but saw no one. Then he turned and there was a gazelle tied. She said: Come near me, O Messenger of Allah. He drew near her and said: What is your need. She said: I have two fawns in this mountain; free me until I go and suckle them, then I shall return to you. He said: And will you do so. She said: May Allah punish me with the punishment of the tax-collector if I do not. He released her; she went and suckled her fawns, then returned, and he tied her. The Bedouin awoke and said: Do you have a need, O Messenger of Allah. He said: Yes, that you free her. He freed her, and she went out running, saying: I testify that there is no god but Allah and that you are the Messenger of Allah. > **"What is your need."** > **"And will you do so."** > **"Yes, that you free her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ صحراء میں موجود تھے ، اسی دوران کسی نے آپ کو پکار کر کہا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے توجہ دی ، لیکن آپ کو کوئی نظر نہیں آیا ، پھر آپ نے توجہ دی تو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے قریب آ جائیں ، نبی اکرم ﷺ اس کے قریب گئے ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے دو بچے ہیں ، جو اس پہاڑ میں موجود ہیں ، آپ مجھے آزاد کر دیں ، تاکہ میں جا کے انہیں دودھ پلا آؤں ، پھر میں آپ کے پاس واپس آ جاؤں گی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم ایسا کرو گی ؟ اس نے عرض کی : اللہ تعالیٰ مجھے بھتہ وصول کرنے والے کے عذاب جیسا عذاب دے ، اگر میں ایسا نہ کروں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے کھول دیا ، وہ چلی گئی ، اس نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا ، پھر وہ واپس آ گئی ، نبی اکرم ﷺ نے اسے باندھ دیا ، اسی دوران دیہاتی آ گیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو کوئی کام ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم اسے چھوڑ دو ! اس دیہاتی نے اسے چھوڑ دیا ، تو وہ یہ کہتی ہوئی چل دی : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14089

Majma al-Zawaid #14089

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟ "". قَالَتْ: أَحْبَبْتُ - أَوْ أَرَدْتُ - إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ. قَالَ: فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَاحْتَجَمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported that a Jewish woman gifted a poisoned sheep to the Messenger of Allah ﷺ. He sent for her and said: What carried you to do what you did. She said: I wished, or intended, that if you are a prophet, Allah, Mighty and Majestic, will surely inform you of it, and if you are not a prophet, I shall relieve people of you. He said: When the Messenger of Allah ﷺ felt anything of that, he was cupped. He said: He once traveled, and when he entered ihram he felt something of that and was cupped. > **"What carried you to do what you did."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے زہر ملی ہوئی بکری ( کا گوشت ) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوا بھیجا اور آپ نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : میں یہ چاہتی تھی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں یہ پسند کرتی تھی کہ اگر آپ نبی ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب بھی اس کی تکلیف محسوس ہوتی تھی ، تو آپ پچھنے لگوا لیتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سفر کر رہے تھے ، آپ نے احرام باندھا ہوا تھا ، آپ کو تکلیف محسوس ہوئی ، تو آپ نے پچھنے لگوا لیے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن حباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14090

Majma al-Zawaid #14090

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ: «وَأَهْدَتِ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا لِيَأْكُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ "". فَامْتَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَامْتَنَعَ مَنْ مَعَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى أَنْ أَفْسَدْتِيهَا بَعْدَ أَنْ أَصْلَحْتِيهَا؟ "". قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّكَ سَتَعْلَمُ ذَلِكَ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ نَبِيٍّ أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, reported similar to it, with addition: A Jewish woman gifted a prepared sheep to the Messenger of Allah ﷺ. When he extended his hand to it to eat, the Messenger of Allah ﷺ said: A limb of it informs me that it is poisoned. The Messenger of Allah ﷺ held back, and those with him held back. He sent for the Jewess and said: What carried you to spoil it after you had prepared it well. She said: I wished to know that if you are a prophet, you will surely know it, and if you are not a prophet, I shall relieve people of you. > **"A limb of it informs me that it is poisoned."** > **"What carried you to spoil it after you had prepared it well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اس کی مانند روایت منقول ہے : تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ’’ ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم ﷺ کو بکری ( کا گوشت ) تحفے کے طور پر دیا ، جس میں زہر ملا ہوا تھا ، انہی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ کھانے کے لئے اس گوشت کی طرف بڑھایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں زہر ملایا ہوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھی اس سے رک گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا کہ تم نے اسے ٹھیک کرنے کے بعد اسے خراب کر دیا ؟ اس نے کہا : میں یہ چاہتی تھی کہ میں جان لوں کہ اگر آپ نبی ہیں ، تو آپ کو اس کا پتہ چل جائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے ، تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14091

Majma al-Zawaid #14091

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً سَمِيطًا فَلَمَّا بَسَطَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمْسِكُوا فَإِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ "". فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَتِهَا: "" أَسَمَمْتِ طَعَامَكِ هَذَا؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟ "". قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ. فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ: "" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ "". قَالَ: فَأَكَلْنَا وَذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ فَلَمْ يَضُرَّ أَحَدًا مِنَّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, رضي الله عنه, reported that a Jewess gifted a prepared sheep to the Messenger of Allah ﷺ. When the people extended their hands, the Messenger of Allah ﷺ said: Withhold, for a limb of it informs me that it is poisoned. He sent to its owner: Did you poison this food of yours. She said: Yes. He said: What carried you to that. She said: I intended that if you are false, I would relieve people of you, and if you are truthful, I knew that Allah, Blessed and Exalted, will surely inform you of it. He extended his hand and said: Eat in the name of Allah. He said: We ate and mentioned the name of Allah, and it harmed none of us. > **"Withhold, for a limb of it informs me that it is poisoned."** > **"Did you poison this food of yours."** > **"What carried you to that."** > **"Eat in the name of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی عورت نے ، نبی اکرم ﷺ کو ، بکری کا زہر ملا ہوا گوشت تحفے کے طور پر دیا ، جب لوگوں نے اپنے ہاتھ بڑھائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! کیونکہ اس کے اعضاء میں سے ایک عضو نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اس میں زہر ملا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنے اس کھانے میں زہر ملایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو میں آپ سے لوگوں کو نجات دلوا دوں گی اور اگر آپ سچے ہوئے تو مجھے یہ پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے مطلع کر دے گا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : اللہ کا نام لے کے کھاؤ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے اُسے کھا لیا ، ہم نے اللہ کا نام بھی لے لیا ، تو اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14092

Majma al-Zawaid #14092

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ. فَقَالَ لَهَا: "" مَا هَذِهِ؟ "". قَالَتْ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: "" أَمْسِكُوا "". ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: "" هَلْ سَمَّمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟ "". فَقَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: "" هَذَا الْعَظْمُ لِسَاقِهَا "". وَهُوَ فِي يَدِهِ، قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" لِمَ؟ "". قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ. فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجَمُوا، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Malik, رضي الله عنه, reported that a Jewish woman gifted a roasted sheep at Khaybar to the Messenger of Allah ﷺ. He said to her: What is this. She said: This is a gift, being cautious not to say charity. He and his Companions ate, then he said to them: Withhold. Then he said to the woman: Did you poison this sheep. She said: Who informed you. He said: This bone of its leg, while it was in his hand. She said: Yes. He said: Why. She said: I said: If you are false, people shall be relieved of you, and if you are a prophet, it shall not harm you. The Prophet ﷺ was cupped and ordered his Companions, and they were cupped, but one of them died. Al-Zuhri said: The woman embraced Islam, though they claimed he killed her. > **"What is this."** > **"Withhold."** > **"Did you poison this sheep."** > **"This bone of its leg."** > **"Why."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودی عورت نے ، نبی اکرم ﷺ کو خیبر میں بکری کا گوشت تحفے کے طور بر دیا ، جو بھنا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہ تحفہ ہے ، اس نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب اُسے کھانے لگے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں سے فرمایا : تم لوگ رک جاؤ ! پھر آپ نے اس عورت سے دریافت کیا : کیا تم نے اس میں زہر ملایا ہے ؟ اس عورت نے پوچھا : آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ہڈی نے ، آپ نے بکری کی پنڈلی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی ، اس عورت نے کہا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیوں ( یعنی تم نے ایسا کیوں کیا ) ؟ اس نے کہا : میں نے سوچا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے ، تو آپ سے لوگوں کو نجات مل جائے گی ، اور اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے کندھے کے قریب پچھنے لگوائے ، آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ، انہوں نے بھی پچھنے لگوائے ، ان اصحاب میں سے ایک کا انتقال بھی ہو گیا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اسلام قبول کر لیا تھا ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو قتل کروا دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بکر بالسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14093

Majma al-Zawaid #14093

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةٌ مَسْمُومَةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَأَكَلَ مِنْهَا هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ بِشْرًا مَاتَ، فَلَمَّا مَاتَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَهُودِيَّةِ الَّتِي أَهْدَتْهَا لَهُ فَقَالَ: "" مَا أَطَعَمْتِينَا وَيْحَكِ؟ "". قَالَتْ: أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ. قَالَ: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟ "". قَالَتْ: سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ، فَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا عَلِمْتُ أَنَّهَا لَا تَضُرُّكَ، وَإِنْ كُنْتَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصُلِبَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَيَحْيَى هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ وَإِنْ كَانَ ابْنَ لَبِيبَةَ فَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn ʿAbd al-Rahman ibn Labiba, from his father, from his grandfather, said: A poisoned roasted sheep was gifted to the Messenger of Allah ﷺ. He and Bishr ibn al-Baraʾ ibn Maʿrur ate from it, and they fell severely ill. Then Bishr died. When he died, the Messenger of Allah ﷺ sent for the Jewess who had gifted it and said: Woe to you, what did you feed us. She said: I fed you poison. He said: What carried you to that. She said: I heard you mention prophethood; if you are a prophet, I knew it shall not harm you, and if otherwise, I wished to relieve people of you. Then the Messenger of Allah ﷺ ordered concerning her, and she was crucified. > **"Woe to you, what did you feed us."** > **"What carried you to that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو ایک بکری کا گوشت پیش کیا گیا ، جو بھنا ہوا تھا ، اور اس میں زہر ملادیا گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ اور حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کھا لیا ، یہ دونوں شدید بیمار ہو گئے ، حضرت بشر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا جب ان کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کو پیغام بھیج کر بلوایا ، جس نے وہ آپ کو تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، آپ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے ہمیں کیا کھلایا ہے ؟ اس نے کہا : کہ میں نے آپ کو زہر کھلایا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : میں نے آپ کو ایک بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ آپ نبی ہیں ، تو مجھے یہ علم تھا کہ یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اگر آپ نبی نہ ہوئے تو میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا ، تو اسے مصلوب کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یحیی نامی راوی اگر تو ابن ابولبیبہ ہے ، تو امام ذہبی نے اس کا ذکر ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ، اور اگر یہ ابن لبیبہ ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14094

Majma al-Zawaid #14094

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْكُلُ مِنْ هَدِيَّةٍ حَتَّى يَأْمُرَ صَاحِبَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا لِلشَّاةِ الَّتِي أُهْدِيَتْ لَهُ بِخَيْبَرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيِّ وَثَّقَهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ مِنْ مُرْسَلِ عُرْوَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ would not eat from a gift until he ordered its owner to eat from it, because of the sheep gifted to him at Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کوئی بھی تحفہ اس وقت تک نہیں کھاتے تھے ، جب تک آپ لانے والے فرد کو یہ ہدایت نہیں کرتے تھے کہ وہ خود بھی اُس میں سے کھا لے ، ایسا اس بکری کی وجہ سے ہوا ، جو خیبر میں آپ کو تحفے کے طور پر دی گئی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ مخرمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے اسماعیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے غزوہ خیبر سے متعلق باب میں عروہ کی نقل کردہ ’’ مرسل ‘‘ روایت گزر چکی ہے ۔

14095

Majma al-Zawaid #14095

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ الشَّمْسَ فَتَأَخَّرَتْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded the sun, and it receded an hour of the day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سورج کو حکم دیا ، تو وہ دن کی ایک گھڑی کے لئے رک گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14096

Majma al-Zawaid #14096

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَمِيسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ بِالصَّهْبَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ عَلِيًّا فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَنَامَ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ عَلِيًّا احْتَبَسَ بِنَفْسِهِ عَلَى نَبِيِّهِ فَرُدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ ". قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ، وَقَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ غَابَتْ فِي ذَلِكَ بِالصَّهْبَاءِ.

EnglishUnverified translation

Asmaʾ bint ʿUmays, رضي الله عنها, reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr at al-Sahbaʾ, then sent ʿAli, رضي الله عنه, for a need. He returned after the Prophet ﷺ had prayed ʿAsr. The Prophet ﷺ placed his head in the lap of ʿAli and slept, and ʿAli did not move him until the sun set. The Prophet ﷺ said: O Allah, Your servant ʿAli held himself back for Your Prophet, so return the sun for him. Asmaʾ said: The sun rose upon him until it stood upon the mountains and the earth. ʿAli rose, performed ablution, and prayed ʿAsr, then it set there at al-Sahbaʾ. > **"O Allah, Your servant ʿAli held himself back for Your Prophet, so return the sun for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ’’ صہباء ‘‘ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیا ، جب وہ واپس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر چکے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھا اور سو گئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں کی ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تیرا بندہ علی ، اس نے اپنے آپ کو اپنے نبی کے لئے روک کے رکھا ہوا تھا ، تو اس کے لئے سورج کو لوٹا دے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو سورج دوبارہ طلوع ہو گیا ، یہاں تک کہ وہ پہاڑوں اور زمین پر آ کے ٹھہر گیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے وضو کیا ، نماز ادا کی ، پھر اس کے بعد سورج صہباء میں غروب ہوا ۔

14097

Majma al-Zawaid #14097

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَكَادُ يُغْشَى عَلَيْهِ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَهُوَ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَلَّيْتَ الْعَصْرَ "". قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَعَا اللَّهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ. قَالَتْ: فَرَأَيْتُ الشَّمْسَ طَلَعَتْ بَعْدَمَا غَابَتْ حِينَ رُدَّتْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

In a narration from her also, she said: When revelation descended upon the Messenger of Allah ﷺ, he would almost be overcome. It descended one day while he was in the lap of ʿAli. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Have you prayed ʿAsr. He said: No, O Messenger of Allah. He supplicated Allah, and He returned the sun for him until he prayed ʿAsr. She said: I saw the sun rise after it had set, when it was returned, until he prayed ʿAsr. > **"Have you prayed ʿAsr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں ، جو اس عورت سے منقول ہے ، وہ یہ ہے : ’’ وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کی یہ کیفیت ہو جاتی تھی ، جیسے آپ پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی ، ایک دن آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، آپ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں ( سر رکھے ہوئے ) تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے عصر پڑھ لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ ! تو علی کے لئے سورج کو لوٹا دے ، تاکہ وہ عصر پڑھ لے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے سورج کو دیکھا کہ وہ غروب ہو جانے کے بعد پھر طلوع ہو گیا تھا ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز ادا کر لی ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، انہوں نے اسے ابراہیم بن حسن کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور فاطمہ بنت علی بن ابو طالب نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14098

Majma al-Zawaid #14098

عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ فَدَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا وَلَمْ أَزُلْ عَنْ مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ وَجْهِي وَرَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا نَدَرَتْ مِنْهُ حَدَقَتِي عَلَى خَدِّي وَافْتَرَقَ الْجَمْعُ، فَأَخَذْتُ حَدَقَتِي بِكَفِّي فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدِّهِمَا نَظَرًا "". فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدِّهِمَا نَظَرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ: عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ أُصِيبَتْ عَيْنُهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَسَالَتْ حَدَقَتُهُ عَلَى وَجْنَتِهِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَقْطَعُوهَا، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَا "". فَدَعَا بِهِ فَغَمَزَ حَدَقَتَهُ بِرَاحَتِهِ، فَكَانَ لَا يَدْرِي أَيُّ عَيْنَيْهِ أُصِيبَتْ». وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qatada ibn al-Nuʿman, رضي الله عنه, said: A bow was gifted to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ handed it to me on the day of Uhud. I shot with it before the Messenger of Allah ﷺ until its tip broke, and I did not leave my station facing the Messenger of Allah ﷺ, meeting arrows with my face. Whenever an arrow inclined toward the face of the Messenger of Allah ﷺ, I inclined my face and head to shield the face of the Messenger of Allah ﷺ, without shooting back. The last of them was an arrow by which my eyeball protruded onto my cheek, and the host dispersed. I took my eyeball in my palm and hastened with it in my palm to the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ saw it, his eyes filled with tears, and he said: O Allah, Qatada has shielded Your Prophet with his face, so make it his finest eye and sharpest in sight. And it became his finest eye and sharpest in sight. Al-Tabarani and Abu Yaʿla reported it, with wording: From Qatada ibn al-Nuʿman that his eye was struck on the day of Badr, his eyeball flowed onto his cheek, they wished to cut it off, they asked the Messenger of Allah ﷺ, and he said: No. He called for him and pressed his eyeball with his palm, and none knew which of his eyes had been struck. > **"O Allah, Qatada has shielded Your Prophet with his face, so make it his finest eye and sharpest in sight."** > **"No."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ، غزوہ احد کے موقع پر وہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے دیدی ، میں اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا ہو کر تیر اندازی کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس کے دونوں کنارے گھس گئے ، اور میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے جما رہا ، میں آنے والے تیروں کا خود سامنا کرتا تھا ، جب ان میں سے کوئی تیر دائیں بائیں ہوتا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ کی طرف جانے لگتا تھا ، تو میں چہرے اور سر کو اس طرح کر دیتا تھا ، تاکہ میں نبی اکرم ﷺ کے چہرے کو بچا لوں ، اس دوران میں تیر نہیں مار رہا تھا ، ان میں سے جو آخری تیر تھا ، وہ مجھے لگا اور میرا ڈھیلا نکل کر رخسار پر آ گیا ، میں نے اپنا ڈھیلا پکڑا اور اسے لے کر دوڑتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے اسے ملاحظہ کیا ، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : "" اے اللہ ! قتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے ، تو اس کی آنکھیں زیادہ بہتر کر دے ، اور اس کی نظر زیادہ تیز کر دے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اُن کی آنکھیں زیادہ خوبصورت تھیں ، اور ان کی نظر زیادہ تیز تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ حضرت قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ان کی آنکھ زخمی ہو گئی اور ان کا ڈھیلا نکل کر رخسار پر آ گیا ، لوگوں نے اسے کاٹنے کا ارادہ کیا ، لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! پھر آپ نے نہیں بلایا اور اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ڈھیلے کو واپس رکھا ، تو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان کی کون سی آنکھ زخمی ہوئی تھی ؟ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔