Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 6

Book of Signs of Prophethood

Hadith 14019–14058

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14019

Majma al-Zawaid #14019

وَعَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: «رُأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ. قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي "". فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَكِ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ قَدْ مُلِأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ.، قَالَ عَوْفٌ: لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid al-Farisi said: I saw the Prophet ﷺ in a dream in the time of Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, while Yazid wrote copies of the mushaf. I said to Ibn ʿAbbas: I saw the Messenger of Allah ﷺ in a dream. Ibn ʿAbbas said: The Prophet ﷺ used to say: Satan cannot take my form, so whoever sees me in a dream has truly seen me. Then he said: Can you describe to us this man whom you saw. He said: Yes. I saw a man of medium stature, his body and flesh wheatish toward whiteness, handsome of smile, as though kohl upon his eyes, beautiful in the roundness of his face, his beard filling from here to here until it nearly filled his chest. Ibn ʿAbbas said: Had you seen him awake, you could not describe him beyond this. > **"Satan cannot take my form, so whoever sees me in a dream has truly seen me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید فارسی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا راوی کہتے ہیں : وہ قرآن مجید لکھا کرتے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک شیطان اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ میری شکل و صورت اختیار کر سکے ، تو جس نے مجھے خواب میں دیکھا ، اُس نے مجھے ہی دیکھا ‘‘۔ ( پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان صاحب کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کرو جنہیں تم نے خواب میں دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ایک ایسے صاحب کو دیکھا ہے ، جو درمیانہ قد کے مالک تھے ، اور ان کا گوشت گندمی تھا ، لیکن سفیدی کی طرف مائل تھا اور وہ خوبصورت شکل و صورت کے مالک تھے ، ان کی آنکھوں میں یوں لگتا تھا ، جیسے سرمہ ڈالا گیا ہو ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا اور اُن کی داڑھی نے یہاں سے لے کر یہاں تک کے حصے کو بھرا ہوا تھا ، یوں جیسے پورا سینہ بھرا ہوا ہو ، عوف کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اس کے علاوہ انہوں نے اور کیا حلیہ بیان کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر تم نے نبی اکرم ﷺ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ہوتا تو تم اس سے زیادہ آپ ﷺ کا حلیہ بیان نہیں کر سکتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14020

Majma al-Zawaid #14020

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صِفْهُ لَنَا. قَالَ: كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا، فَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ، أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ، ضَخْمَ الْهَامَةِ، أَغَرَّ أَبْلَجَ أَهْدَبَ الْأَشْفَارِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ، كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُمِّي وَأَبِي». قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ طَوِيلٌ وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَالْآخَرُ مِنْ رِوَايَةِ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، عَنْ عَلِيٍّ وَأَظُنُّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Yusuf ibn Mazin reported that a man asked ʿAli, رضي الله عنه: O Commander of the Believers, describe for us the Messenger of Allah ﷺ. He said: He was not tall to excess, above the medium when he came with people he overlooked them, intensely white and luminous, large of head, fair and bright, long of eyelashes, thick of hands and feet, when he walked he lifted firmly as though descending a slope, sweat upon his face like pearls; I never saw before him nor after him his like, may my father and mother be ransom for him ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن مازن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اے امیرالمومنین ! آپ ہمارے سامنے اللہ کے رسول ﷺ کا حلیہ بیان کیجئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ نبی اکرم ﷺ بہت زیادہ لمبے تڑنگے نہیں تھے ، آپ درمیانہ قد سے ذرا بڑے تھے ، جب لوگوں کے ساتھ آتے تھے ، تو ان سے نمایاں محسوس ہوتے تھے ، سفید رنگ کے مالک تھے ، چمکدار رنگ کے مالک تھے ، آپ کا سر بڑا تھا ، آپ کی رنگت روشن اور چمکدار تھی ، پلکیں لمبی تھیں ، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں پُر گوشت تھے ، جب آپ چلتے تھے تو پاؤں جما کر رکھتے تھے اور تیزی سے چلتے تھے ، یوں جیسے بلندی سے نیچے کی طرف آ رہے ہوں اور آپ کے چہرے پر پسینہ یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے موتی ہوں ، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کی نقل کردہ حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ، لیکن اس روایت میں کچھ اضافہ ہے ۔ یہ روایت عبداللہ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند یوسف بن مازن کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ ہے ، جبکہ میرا یہ خیال ہے کہ یوسف بن مازن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

14021

Majma al-Zawaid #14021

وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ: حَسَنَ الشَّعْرِ رَجِلَهُ.

EnglishUnverified translation

In a further addition: fine straight hair, handsome of hair.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ آپ ﷺ کے بال خوبصورت تھے اور بالکل سیدھے تھے ۔‘‘

14022

Majma al-Zawaid #14022

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: ضَخْمَ الْعَيْنَيْنِ.

EnglishUnverified translation

In a narration of it: large of eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ آپ ﷺ کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں ۔‘‘

14023

Majma al-Zawaid #14023

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْمَرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ was wheatish in complexion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گندمی رنگت کے مالک تھے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14024

Majma al-Zawaid #14024

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُنْصِتُ: وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha, رضي الله عنها, illustrated with this verse while Abu Bakr, رضي الله عنه, listened: And white one by whose face the clouds seek rain, guardian of orphans, protector of widows. Abu Bakr said: That is the Messenger of Allah ﷺ. > **"That is the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے یہ شعر مثال کے طور پر پڑھا ، اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت تھا : ’’ وہ گورے رنگ کے مالک فرد ، جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جاتی ہے ، وہ یتیموں کے رکھوالے ہیں اور بیواؤں کی دیکھ بھال کرنے والے ہیں ۔‘‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسے تو اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14025

Majma al-Zawaid #14025

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ: «انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْتُ هَذَا الْوَادِي، فَإِذَا رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا عَنْزٌ وَاحِدَةٌ، وَإِذَا الْمُشْتَرِي يَقُولُ لِلْبَائِعِ: أَحْسِنْ مُبَايَعَتِي. قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا الْهَاشِمِيُّ الَّذِي أَضَلَّ النَّاسَ أَهُوَ هُوَ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْجِسْمِ، عَظِيمُ الْجَبْهَةِ، دَقِيقُ الْأَنْفِ، دَقِيقُ الْحَاجِبَيْنِ، وَإِذَا مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى سُرَّتِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ شَعْرٌ أَسْوَدُ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَالَّذِي مِنَ الْعَدَوِيَّةِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

A man of al-ʿAdawiyyah said: My grandfather told me: I set out to Madinah and alighted in this valley, and there were two men with a single goat between them, and the buyer said to the seller: Deal with me fairly. I said to myself: Is this the Hashimi who misled people. I looked, and there was a man handsome of body, great of forehead, fine of nose, fine of eyebrows, and from the pit of his chest to his navel like a black thread of black hair. Then he mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ’’ میں مدینہ منورہ گیا ، میں نے وہاں ایک جگہ پڑاؤ کیا ، وہاں دو آدمی موجود تھے ، جن کے درمیان ایک بکری کا بچہ تھا اور خریدار شخص ، فروخت کرنے والے سے کہہ رہا تھا : تم میرے ساتھ اچھے طریقے سے سودا کرنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا یہ وہی ہاشمی شخص ہے ، جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہوا ہے ، کیا یہ وہی ہے ؟ جب میں نے بغور جائزہ لیا ، تو وہ ایک ایسے شخص تھے ، جن کا جسم خوبصورت تھا ، پیشانی بڑی تھی ، ناک پتلی تھی ، بھنویں پتلی تھیں ، ان کے سینے سے لے کر ناف تک سیاہ بالوں کی ایک لکیر سی تھی ،........ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14026

Majma al-Zawaid #14026

«وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيَّ - وَكَانَ وَصَّافًا - عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَشْتَهِي أَنْ يَصِفَ لِي مِنْهَا شَيْئًا أَتَعَلَّقُ بِهِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخْمًا مُفَخَّمًا، يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَأَطْوَلَ مِنَ الْمَرْبُوعِ، وَأَقْصَرَ مِنَ الْمُشَذَّبِ عَظِيمَ الْهَامَةِ، رَجِلَ الشَّعْرِ، إِذَا تَفَرَّقَتْ عَقِيصَتُهُ فَرَقَ فَلَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، إِذَا هُوَ وَفْرُهُ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ، وَاسِعَ الْجَبِينِ، أَزَجَّ الْحَوَاجِبِ، سَوَابِغَ مِنْ غَيْرِ قَرْنٍ بَيْنَهُمَا عِرْقٌ يُدِرُّهُ الْغَضَبُ، أَقْنَى الْعِرْنِينِ، لَهُ نُورٌ يَعْلُوهُ، يَحْسَبُهُ مَنْ لَمْ يَتَأَمَّلْهُ أَشَمَّ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ، ضَلِيعَ الْفَمِ، أَشْنَبَ، مُفَلَّجَ الْأَسْنَانَ، دَقِيقَ الْمَسْرَبَةِ، كَأَنَّ عُنُقَهُ جِيدَ دِمْنَةٍ فِي صَفَاءِ الْفِضَّةِ، مُعْتَدِلَ الْخَلْقِ بَادِنَ مُتَمَاسِكَ، سَوَاءٌ الْبَطْنُ وَالصَّدْرُ، عَرِيضَ الصَّدْرِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، أَنْوَرَ الْمُتَجَرَّدَ، مَوْصُولَ مَا بَيْنَ اللَّبَّةِ وَالسُّرَّةِ بِشَعْرٍ يَجْرِي كَالْخَطِّ، عَارِيَ الثَّدْيَيْنِ وَالْبَطْنِ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ، أَشَعَرَ الذِّرَاعَيْنِ وَالْمَنْكِبَيْنِ وَأَعَالِيَ الصَّدْرِ طَوِيلَ الزَّنْدَيْنِ، رَحْبَ الرَّاحَةِ، سَبْطَ الْقَصَبِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، سَائِرَ الْأَطْرَافِ، خُمْصَانَ الْأَخْمَصَيْنِ، مَسِيحَ الْقَدَمَيْنِ يَنْبُو عَنْهُمَا الْمَاءُ، إِذَا زَالَ زَالَ قُلَعًا، وَتَخَطَّى تَكَفِيًّا، وَيَمْشِي هَوْنًا، ذَرِيعَ الْمِشْيَةِ إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا، خَافِضَ الطَّرْفِ، نَظَرُهُ إِلَى الْأَرْضِ أَطْوَلُ مِنْ نَظَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، جُلُّ نَظَرِهِ الْمُلَاحَظَةُ، يَسُوقُ أَصْحَابَهُ، يَبْدُرُ مَنْ لَقِيَ بِالسَّلَامِ. قُلْتُ: صِفْ لِي مَنْطِقَهُ. قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَاصِلَ الْأَحْزَانِ، دَائِمَ الْفِكْرَةِ، لَيْسَتْ لَهُ رَاحَةٌ، لَا يَتَكَلَّمُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ، طَوِيلَ الصَّمْتِ يَفْتَتِحُ الْكَلَامَ وَيَخْتِمُهُ بِأَشْدَاقِهِ، وَيَتَكَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، فَصْلٌ لَا فُصُولٌ وَلَا تَقْصِيرٌ، دَمِثٌ لَيْسَ بِالْجَافِي وَلَا الْمُهِينِ، يُعَظِّمُ النِّعْمَةَ وَإِنْ دَقَّتْ لَا يَذُمُّ مِنْهَا شَيْءٌ، لَا يَذُمُّ ذَوَاقًا وَلَا يَمْدَحُهُ، وَلَا تُغْضِبُهُ الدُّنْيَا وَلَا مَا كَانَ لَهَا، فَإِذَا نُوزِعَ الْحَقَّ لَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ، وَلَمْ يَقُمْ لِغَضَبِهِ شَيْءٌ حَتَّى يَنْتَصِرَ لَهُ، لَا يَغْضَبُ لِنَفْسِهِ، وَلَا يَنْتَصِرُ لَهَا، إِذَا أَشَارَ أَشَارَ بِكَفِّهِ كُلِّهَا، وَإِذَا تَعَجَّبَ قَلَبَهَا، وَإِذَا تَحَدَّثَ اتَّصَلَ بِهَا فَيَضْرِبُ بِبَاطِنِ رَاحَةِ الْيُمْنَى بَاطِنَ إِبْهَامِهِ الْيُسْرَى، وَإِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، وَإِذَا ضَحِكَ غَضَّ طَرْفَهُ، جُلُّ ضَحِكِهِ التَّبَسُّمُ، وَيَفْتُرُ عَنْ مِثْلِ حَبِّ الْغَمَامِ. فَكَتَمَهَا الْحُسَيْنُ زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُهُ وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاهُ عَنْ مُدْخَلِهِ وَمَجْلِسِهِ وَمُخْرَجِهِ وَشَكْلِهِ، فَلَمْ يَدَعْ مِنْهُ شَيْئًا. قَالَ الْحُسَيْنُ: سَأَلْتُ أَبِي عَنْ دُخُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَانَ دُخُولُهُ لِنَفْسِهِ مَأْذُونٌ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَكَانَ إِذَا أَوَى إِلَى مَنْزِلِهِ جَزَّأَ نَفْسَهُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ: جُزْءٌ لِلَّهِ وَجُزْءٌ لِأَهْلِهِ وَجُزْءٌ لِنَفْسِهِ. ثُمَّ جَزَّأَ نَفْسَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَرُدُّ ذَلِكَ عَلَى الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ، فَلَا يَدَّخِرُ عَنْهُمْ شَيْئًا، فَكَانَ مِنْ سِيرَتِهِ فِي جُزْءِ الْأُمَّةِ إِيثَارُ أَهْلِ الْفَضْلِ بِإِذْنِهِ، وَقَسْمُهُ عَلَى قَدْرِ فَضْلِهِمْ فِي الدِّينِ، فَمِنْهُمْ ذُو الْحَاجَةِ وَمِنْهُمْ ذُو الْحَاجَتَيْنِ وَمِنْهُمْ ذُو الْحَوَائِجِ، فَيَتَشَاغَلُ بِهِمْ فِيمَا يُصْلِحُهُمْ وَيُلَائِمُهُمْ وَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ، وَيَقُولُ: "" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، وَأَبْلِغُوا فِي حَاجَةٍ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا وَأَبْلِغُونِي حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغِي حَاجَتَهُ فَإِنَّهُ مَنْ أَبْلَغَ سُلْطَانًا حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا إِيَّاهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ قَدَمَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". لَا يُذْكَرُ عِنْدَهُ إِلَّا ذَاكَ، وَلَا يَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ غَيْرَهُ، يَدْخُلُونَ رُوَّادًا وَلَا يَتَفَرَّقُونَ إِلَّا عَنْ ذَوَاقٍ وَيَخْرُجُونَ أَذِلَّةً. قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ مُخْرَجِهِ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخَزِّنُ لِسَانَهُ إِلَّا مِمَّا يَنْفَعُهُمْ وَيُؤَلِّفُهُمْ وَلَا يُفَرِّقُهُمْ أَوْ قَالَ: وَلَا يُنَفِّرُهُمْ، فَيُكْرِمُ كَرِيمَ كُلِّ قَوْمٍ وَيُوَلِّيهِ عَلَيْهِمْ، وَيَحْذَرُ النَّاسَ وَيَحْتَرِسُ مِنْهُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَطْوِيَ عَنْ أَحَدٍ سِرَّهُ وَلَا خُلُقَهُ، يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَهُ، وَيَسْأَلُ النَّاسَ عَمَّا فِي النَّاسِ، وَيُحَسِّنُ الْحَسَنَ وَيُقَوِّيهِ، وَيُقَبِّحُ الْقُبْحَ وَيُوهِنُهُ، مُعْتَدِلُ الْأَمْرِ غَيْرُ مُخْتَلِفٍ، لَا يَغْفُلُ مَخَافَةَ أَنْ يَغْفُلُوا أَوْ يَمِيلُوا، لِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ عَتَادٌ، لَا يُقَصِّرُ عَنِ الْحَقِّ وَلَا يَجُوزُهُ، الَّذِينَ يَلُونَهُ مِنَ النَّاسِ خِيَارُهُمْ، أَفْضَلُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ نَصِيحَةً، وَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَحْسَنُهُمْ مُوَاسَاةً وَمُؤَازَرَةً. فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجْلِسُ وَلَا يَقُومُ إِلَّا عَلَى ذِكْرٍ، وَلَا يُوَطِّنُ الْأَمَاكِنَ وَيَنْهَى عَنْ إِيطَانِهَا، وَإِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْمٍ جَلَسَ حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْمَجْلِسُ وَيَأْمُرُ بِذَلِكَ، وَيُعْطِي كُلَّ جُلَسَائِهِ بِنَصِيبِهِ، لَا يَحْسَبُ جَلِيسُهُ أَنَّ أَحَدًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنْهُ، مَنْ جَالَسَهُ أَوْ قَاوَمَهُ فِي حَاجَةٍ صَابَرَهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُتَصَرِّفَ وَمَنْ سَأَلَهُ حَاجَةً لَمْ يَرُدَّهُ إِلَّا بِهَا أَوْ بِمَيْسُورٍ مِنَ الْقَوْلِ، قَدْ وَسِعَ النَّاسَ مِنْهُ بَسْطَةٌ وَخِلْقَةٌ، فَصَارَ لَهُمْ أَبًا وَصَارُوا عِنْدَهُ فِي الْحَقِّ سَوَاءً، مَجْلِسُهُ مَجْلِسُ حِلْمٍ وَحَيَاءٍ وَصَبْرٍ وَأَمَانَةٍ، لَا تُرْفَعُ فِيهِ الْأَصْوَاتُ، وَلَا تُؤْبَنُ فِيهِ الْحُرَمُ وَلَا تُنْثَى فَلَتَاتُهُ، مُتَعَادِلِينَ مُتَوَاصِينَ فِيهِ بِالتَّقْوَى مُتَوَاضِعِينَ، يُوَقِّرُونَ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمُونَ الصَّغِيرَ وَيُؤْثِرُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَيَحْفَظُونَ الْغَرِيبَ. قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ سِيرَتُهُ فِي جُلَسَائِهِ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَائِمَ الْبِشْرِ، سَهْلَ الْخُلُقِ، لَيِّنَ الْجَانِبِ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا فَاحِشٍ وَلَا عَيَّابٍ وَلَا مَزَّاحٍ، يَتَغَافَلُ عَمًّا لَا يَشْتَهِي وَلَا يُؤْنَسُ مِنْهُ وَلَا يُخَيِّبُ فِيهِ، قَدْ تَرَكَ نَفْسَهُ مِنْ ثَلَاثٍ: الْمِرَاءُ وَالْإِكْبَارُ وَمِمَّا لَا يَعْنِيهِ، وَتَرَكَ نَفْسَهُ مِنْ ثَلَاثٍ: كَانَ لَا يَذُمُّ أَحَدًا وَلَا يُعَيِّرُهُ وَلَا يَطْلُبُ عَوْرَتَهُ، وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا فِيمَا رَجَا ثَوَابَهُ، إِذَا تَكَلَّمَ أَطْرَقَ جُلَسَاؤُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، وَإِذَا سَكَتَ تَكَلَّمُوا، وَلَا يَتَنَازَعُونَ عِنْدَهُ، مَنْ تَكَلَّمَ أَنْصَتُوا لَهُ حَتَّى يَفْرُغَ، حَدِيثُهُمْ عِنْدَهُ حَدِيثُ أَوَّلِيَّتِهِمْ، يَضْحَكُ مِمَّا يَضْحَكُونَ مِنْهُ، وَيَتَعَجَّبُ مِمَّا يَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ، وَيَصْبِرُ لِلْغَرِيبِ عَلَى الْهَفْوَةِ فِي مَنْطِقِهِ وَمَسْأَلَتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَصْحَابُهُ لَيَسْتَجْلِبُوهُمْ وَيَقُولُ: "" إِذَا رَأَيْتُمْ طَالِبَ الْحَاجَةِ فَأَرْشِدُوهُ "". وَلَا يَقْبَلُ الثَّنَاءَ إِلَّا مِنْ مُكَافِئٍ، وَلَا يَقْطَعُ عَلَى أَحَدٍ حَدِيثَهُ حَتَّى يَجُوزَهُ فَيَقْطَعَهُ بِنَهْيٍ أَوْ قِيَامٍ. قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ سُكُوتُهُ؟ قَالَ: كَانَ سُكُوتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَرْبَعٍ: عَلَى الْحِلْمِ وَالْحَذَرِ وَالتَّقْدِيرِ وَالتَّفَكُّرِ، فَأَمَّا تَقْدِيرُهُ فَفِي تَسْوِيَتِهِ النَّظَرَ وَالِاسْتِمَاعَ بَيْنَ النَّاسِ، وَأَمَّا تَذَكُّرُهُ - أَوْ قَالَ: تَفَكُّرُهُ - فَفِيمَا يَبْقَى وَيَفْنَى، وَجُمِعَ لَهُ الْحِلْمُ فِي الصَّبْرِ فَكَانِ لَا يُوصِبُهُ وَلَا يَسْتَفِزُّهُ، وَجُمِعَ لَهُ الْحَذَرُ فِي أَرْبَعٍ: أَخْذُهُ بِالْحُسْنَى لِيَقْتَدُوا بِهِ، وَتَرْكُهُ الْقَبِيحَ لِيَنْتَهُوا عَنْهُ، وَإِجْهَادُهُ الرَّأْيَ فِيمَا يُصْلِحُ أُمَّتَهُ، وَالْقِيَامُ فِيمَا يَجْمَعُ لَهُمُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ». قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَبُو هَالَةَ كَانَ زَوْجَ خَدِيجَةَ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْمُهُ النَّبَّاشُ مِنْ بَنِي أُسَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَوْصِلِيُّ قَالَ: أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ زُرَارَةَ مِنْ بَنِي نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ يَقُولُ: قَوْلُهُ: فَخْمًا: الْفَخَامَةُ نُبْلُهُ وَامْتِلَاؤُهُ مَعَ الْجَمَالِ وَالْمَهَابَةِ. وَالْمَرْبُوعُ: الَّذِي بَيْنَ الطَّوِيلِ وَالْقَصِيرِ. وَالْمُشَذَّبُ: الْمُفْرِطُ فِي الطُّولِ وَكَذَلِكَ هُوَ فِي كُلِّ شَيْءٍ قَالَ جَرِيرٌ: أَلْوَى بِهَا شَذْبُ الْعُرُوقِ مُشَذَّبٌ فَكَأَنَّمَا وُكِيبُ عَلَى طِرْبَالِ وَقَوْلُهُ: رَجِلَ الشَّعْرِ: الَّذِي لَيْسَ بِالسَّبْطِ الَّذِي لَا تَكَسُّرَ فِيهِ. وَالْقَطَطُ: الشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ يَقُولُ: فِيهِ جُعُودَةٌ بَيْنَ هَذَيْنِ. وَالْعَقِيصَةُ: الشَّعْرُ الْمَعْقُوصُ وَهُوَ نَحْوٌ مِنَ الْمَضْفُورِ، وَمِنْهُ قَوْلُ عُمَرَ: مَنْ عَقَصَ أَوْ ضَفَّرَ فَعَلَيْهِ الْحَلْقُ. وَقَوْلُهُ: أَزَجَّ الْحَاجِبَيْنِ سَوَابِغُ: الزَّجَجُ فِي الْحَوَاجِبِ أَنْ يَكُونَ فِيهَا تَقَوُّسٌ مَعَ طُولٍ فِي أَطْرَافِهَا وَهُوَ السُّبُوغُ، قَالَ جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ: إِذَا مَا الْغَانِيَاتِ بَرَزْنَ يَوْمًا ... وَزَجَّجْنَ الْحَوَاجِبَ وَالْعُيُونَا قَوْلُهُ: فِي غَيْرِ قَرْنٍ: فَالْقَرْنُ الْتِقَاءُ الْحَاجِبَيْنِ حَتَّى يَتَّصِلَا فَلَيْسَ هُوَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّ بَيْنَهُمَا فُرْجَةً، يُقَالُ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ: أَبْلَجُ، وَذَكَرَ الْأَصْمَعِيُّ أَنَّ الْعَرَبَ تَسْتَحِبُّ هَذَا. وَقَوْلُهُ: بَيْنَهُمَا عِرْقٌ يُدِرُّهُ الْغَضَبُ، يَقُولُ: إِذَا غَضِبَ دَرَّ الْعِرْقُ الَّذِي بَيْنَ الْحَاجِبَيْنِ. وَدُرُورُهُ: غِلَظُهُ وَنُتُوؤُهُ وَامْتِلَاؤُهُ. وَقَوْلُهُ: أَقْنَى الْعِرْنِينِ: يَعْنِي الْأَنْفَ، وَالْقَنَا أَنْ يَكُونَ فِيهِ دِقَّةٌ مَعَ ارْتِفَاعٍ فِي قَصَبَتِهِ يُقَالُ مِنْهُ: رَجُلٌ أَقَنُّ وَامْرَأَةٌ قَنْوَاءُ. وَالْأَشَمُّ: أَنْ يَكُونَ الْأَنْفُ دَقِيقًا لَا قَنَا فِيهِ. وَقَوْلُهُ: كَثَّ اللِّحْيَةِ، الْكُثُوثَةُ: أَنْ تَكُونَ اللِّحْيَةُ غَيْرَ رَقِيقَةٍ وَلَا طَوِيلَةٍ وَلَكِنَّ فِيهَا كَثَاثَةً مِنْ غَيْرِ عِظَمٍ وَلَا طُولٍ. وَقَوْلُهُ: ضَلِيعَ الْفَمِ: أَحْسَبُهُ يَعْنِي: حِدَّةَ الشَّفَتَيْنِ. وَقَوْلُهُ: أَشْنَبَ الْأَشْنَبُ هُوَ الَّذِي فِي أَسْنَانِهِ رِقَّةٌ وَتَحْدِيدٌ، يُقَالُ مِنْهُ: رَجُلٌ أَشْنَبُ وَامْرَأَةٌ شَنْبَاءُ وَمِنْهُ قَوْلُ ذِي الرُّمَّةِ: لَمْيَاءُ فِي شَفَتَيْهَا حِدَّةْ لَعَسٌ ... وَفِي اللِّثَاتِ وَفِي أَنْيَابِهَا شَنَبُ وَالْمُفَلَّجُ: هُوَ الَّذِي فِي أَسْنَانِهِ تَفَرُّقٌ. وَالْمَسْرَبَةُ: الشَّعْرُ الَّذِي بَيْنَ اللَّبَّةِ إِلَى السُّرَّةِ. شَعْرٌ يَجْرِي كَالْخَطِّ: قَالَ الْأَعْشَى: الْآنَ لَمَّا ابْيَضَّ مَسْرُبَتِي ... وَعَضَضْتُ مِنْ نَابِي عَلَى جَذَمِي وَقَوْلُهُ: جِيدُ دِمْنَةٍ: الْجِيدُ: الْعُنُقُ، وَالدِّمْنَةُ: الصُّورَةُ. وَقَوْلُهُ: ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ: قَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ الْعِظَامُ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ عَظِيمُ الْأَلْوَاحِ، وَبَعْضُهُمْ يَجْعَلُ الْكَرَادِيسَ رُؤُوسَ الْعِظَامِ وَالْكَرَادِيسَ فِي غَيْرِ هَذَا الْكَتَائِبَ. الزَّنْدَانِ: الْعَظْمَانِ اللَّذَانِ فِي السَّاعِدَيْنِ الْمُتَّصِلَانِ بِالْكَفَّيْنِ، وَصَفَهُ بِطُولِ الذِّرَاعَيْنِ. سِبْطَ الْقَصَبِ: الْقَصَبُ كُلُّ عَظْمٍ ذِي مُخٍّ مِثْلَ السَّاقَيْنِ وَالْعَضُدَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ، وَسُبُوطُهُمَا: امْتِدَادُهُمَا، يَصِفُهُ بِطُولِ الْعِظَامِ، قَالَ ذُو الرُّمَّةِ: جَوَاعِلُ فِي الْبَرَى قَصَبًا خِدَالًا أَرَادَ بِالْبَرَى: الْأَسْوِرَةُ وَالْخَلَاخِلُ وَقَوْلُهُ: شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ: يُرِيدُ أَنَّ فِيهِمَا بَعْضَ الْغِلَظِ. وَالْأَخْمَصُ مِنَ الْقَدَمِ فِي بَاطِنِهَا مَا بَيْنَ صَدْرِهَا وَعَقِبِهَا وَهُوَ الَّذِي لَا يَلْصِقُ بِالْأَرْضِ مِنَ الْقَدَمَيْنِ فِي الْوَطْءِ، قَالَ الْأَعْشَى يَصِفُ امْرَأَةً بِإِبْطَاءٍ فِي الْمَشْيِ: كَأَنَّ أَخْمَصَهَا بِالشَّوْكِ مُنْتَعِلٌ وَقَوْلُهُ: خُمْصَانَ: يَعْنِي أَنَّ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ مِنْ قَدَمَيْهِ فِيهِ تَجَافٍ عَنِ الْأَرْضِ وَارْتِفَاعٌ، وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنْ خُمُوصَةِ الْبَطْنِ، وَهِيَ ضَمْرُهُ، يُقَالُ مِنْهُ: رَجُلٌ خُمْصَانٌ وَامْرَأَةٌ خُمْصَانَةٌ. وَقَوْلُهُ: مَسِيحَ الْقَدَمَيْنِ: يَعْنِي أَنَّهُمَا مَلْسَانِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي ظُهُورِهِمَا تَكَسُّرٌ وَلِهَذَا قَالَ: يَنْبُو عَنْهُمَا الْمَاءُ: يَعْنِي أَنَّهُ لَا ثَبَاتَ لِلْمَاءِ عَلَيْهِمَا. وَقَوْلُهُ: إِذَا خَطَا تَكَفَّأَ: يَعْنِي التَّمَايُلَ، أَخَذَهُ مِنْ تَكَفُّؤِ السُّفُنِ. وَقَوْلُهُ: ذَرِيعَ الْمِشْيَةِ: يَعْنِي وَاسِعَ الْخُطَا. كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ فِي صَبَبٍ: أَرَاهُ يُرِيدُ أَنَّهُ مُقْبِلٌ عَلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ، غَاضٌّ بَصَرَهُ لَا يَرْفَعُهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَكَذَلِكَ يَكُونُ الْمُنْحَطُّ، ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ: خَافِضُ الطَّرْفِ نَظَرُهُ إِلَى الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ نَظَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ. وَقَوْلُهُ: إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا: يُرِيدُ أَنَّهُ لَا يَلْوِي عُنُقَهُ دُونَ جَسَدِهِ فَإِنَّ فِي هَذَا بَعْضَ الْخِفَّةِ وَالطَّيْشِ. وَقَوْلُهُ: دَمِثَ: هُوَ اللَّيِّنُ السَّهْلُ، وَمِنْهُ قِيلَ لِلرَّمْلِ: دَمِثٌ، وَمِنْهُ حَدِيثُهُ أَنَّهُ أَرَادَ يَبُولُ فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ. وَقَوْلُهُ: إِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ: وَالْإِشَاحَةُ: الْحَدُّ، وَقَدْ يَكُونُ الْحَذَرَ. وَقَوْلُهُ: يَفْتَرُّ، عَنْ حَبٍّ مِثْلِ حَبِّ الْغَمَامِ: أَرَادَ الْبَرَدَ شَبَّهَ بِهِ بَيَاضَ أَسْنَانِهِ، قَالَ جَرِيرٌ: يَجْرِي السِّوَاكُ عَلَى أَغَرَّ كَأَنَّهُ ... بَرَدٌ تَحَدَّرَ مِنْ مُتُونِ غَمَامِ وَقَوْلُهُ: يَدْخُلُونَ رُوَّادًا: الرُّوَّادُ: الطَّالِبُونَ، وَاحِدُهُمْ رَائِدٌ، وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ: الرَّائِدُ لَا يَكْذِبُ أَهْلَهُ. وَقَوْلُهُ: لِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ عَتَادٌ: يَعْنِي عُدَّةً وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ. وَقَوْلُهُ: لَا يُوَطِّنُ الْأَمَاكِنَ: أَيْ لَا يَجْعَلُ لِنَفْسِهِ مَوْضِعًا يُعْرَفُ، إِنَّمَا يَجْلِسُ حَيْثُ يُمْكِنُهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي تَكُونُ فِيهِ حَاجَتُهُ ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ: يَجْلِسُ حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْمَجْلِسُ، وَمِنْهُ حَدِيثُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُوَطَّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطَّنُ الْبَعِيرُ». وَقَوْلُهُ: فِي مَجْلِسِهِ لَا تُؤْبَنُ فِيهِ الْحُرَمُ: يَقُولُ: لَا تُوصَفُ فِيهِ النِّسَاءُ، مِنْهُ حَدِيثُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ نَهَى عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ». قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «كَانَ رِجَالٌ فِي الْمَسْجِدِ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَعِنْدَ بَيْتِ اللَّهِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ؟! فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ أَوْ تُرُوزِئَتْ فِيهِ الْأَمْوَالُ». وَقَوْلُهُ: لَا تُنْثَى فَلَتَاتُهُ: الْفَلَتَاتُ: السَّقَطَاتُ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا. يُقَالُ: نَثَوْتُ أَنْثُو وَالِاسْمُ مِنْهُ النَّثَا، وَهَذِهِ الْهَاءُ الَّتِي فِي فَلَتَاتِهِ رَاجِعَةٌ عَلَى الْمَجْلِسِ، أَلَا تَرَى أَنَّ صَدْرَ الْكَلَامِ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ مَجْلِسِهِ، وَقَالَ أَيْضًا: أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِمَجْلِسِهِ فَلَتَاتٌ يَحْتَاجُ أَحَدٌ أَنْ يَحْكِيَهَا، فَلَتَاتُهُ: يُرِيدُ فَلَتَاتَ الْمَجْلِسِ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn ʿAli, رضي الله عنهما, said: I asked my maternal uncle Hind ibn Abi Hala al-Tamimi, رضي الله عنه, who was descriptive, about the description of the Messenger of Allah ﷺ, desiring that he describe something I could hold to. He said: The Messenger of Allah ﷺ was dignified and honoured, his face shone like the moon on the night of fullness, taller than the medium and shorter than the lanky, great of head, wavy of hair, parting it when parted, his hair not passing the lobes of his ears when full, radiant of colour, wide of forehead, arched of eyebrows, full without junction, with a vein between them stirred by anger, aquiline of nose with light upon it, full of beard, smooth of cheeks, wide of mouth, bright of teeth with gaps, fine line of hair upon the chest, his neck like a silver ewer in purity, proportioned of build, fleshy yet firm, belly and chest level, broad of chest, wide between shoulders, large of joints, luminous of bare skin, connected by hair from throat to navel like a line, bare of chest and belly besides that, hairy of forearms, shoulders, and upper chest, long of forearms, wide of palm, full of hands and feet, even of limbs, hollow of soles, smooth of feet so water runs off them, when he moved he moved vigorously, stepping humbly, walking gently, far-reaching in stride as though descending a slope, turning wholly when he turned, lowering his gaze, his look to the earth longer than to the sky, mostly observing, leading his Companions, greeting first whom he met. I said: Describe his speech to me. He said: The Messenger of Allah ﷺ was ever sorrowful, ever reflective, never at rest, long of silence, beginning and ending speech with full mouth, فصل of speech, neither excess nor shortcoming, soft yet not weak, honouring blessing though small, never blaming food, neither praising nor dispraising, angered for truth beyond resistance, gesturing with his whole hand, turning his whole palm in wonder, joining thumb to forefinger in speech, striking left palm with right thumb in anger, turning away and excusing when addressed with dislike, never speaking except in hope of reward, gathering his Companions and dividing among them, visiting, mild of nature, neither harsh nor rough, neither clamorous nor obscene, nor fault-finding nor miserly, turning from what he disliked, despairing of it, his Companions silent before him, speaking when he was silent, never disputing before him, laughing at what they laughed at, wondering at what they wondered at, answering the stranger though harsh, forbearing the lapse of the Bedouin, saying: Bring me one in need, never accepting praise except for good, never interrupting, exceeding in silence over speech, his silence upon four: forbearance, caution, estimation, and reflection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے ماموں حضرت ہند بن ابوبالہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کا حلیہ مبارک تفصیل سے بیان کرتے تھے ، میری یہ خواہش تھی کہ وہ میرے سامنے آپ ﷺ کا حلیہ بیان کریں ، تاکہ میں اس کو محفوظ کر لوں ۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ باوقار اور قابل تعظیم شخصیت کے مالک تھے ، آپ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا تھا ، جس طرح چودہویں کا چاند ہو ، آپ درمیانے قد سے ذرا لمبے تھے اور طویل القامت ہونے سے کچھ کم تھے ، آپ کے بال بالکل سیدھے تھے ، اگر آپ دونوں طرف کے بال الگ الگ کرتے ، تو خود بخود مانگ بن جاتی تھی ، لیکن آپ کے بال کانوں کی لو سے آگے نہیں جاتے تھے ، اس وقت جب آپ نے بال بڑھائے ہوئے ہوتے تھے ، آپ کی رنگت چمکدار تھی ، پیشانی کشادہ تھی ، ابرو باریک تھے اور الگ تھے ، ملے ہوئے نہیں تھے ، دونوں ابروؤں کے درمیان ایک رگ تھی ، جو غصے کے وقت نمایاں ہو جاتی تھی ، آپ کی ناک بلندی مائل تھی ، اس پر نور تھا جو غالب رہتا تھا ، جو شخص توجہ نہیں دیتا تھا ، وہ اسے بلند گمان کرتا تھا ، آپ کی داڑھی مبارک گھنی تھی ، آپ کے رخسار سیدھے تھے ، منہ گول تھا ، دانت کشادہ تھے ، سینے سے لے کر پیٹ کے بالوں کی باریک سی لکیر تھی ، آپ کی گردن اتنی خوبصورت تھی کہ چاندی کی بنی ہوئی محسوس ہوتی تھی ، آپ درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، آپ کی جسامت بھاری لیکن موزوں تھی ، آپ کا پیٹ اور سینہ برابر تھے ، آپ کا سینہ چوڑا تھا ، دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا ، آپ کے جوڑ مضبوط تھے ، جس وقت آپ کے اوپری جسم پر لباس نہیں ہوتا تھا ، اس وقت سب سے زیادہ چمکدار محسوس ہوتے تھے ، آپ کے سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی باریک سی لکیر تھی ، اس کے علاوہ آپ کے سینے اور پیٹ پر بال نہیں تھے ، آپ کی دونوں کلائیوں پر ، دونوں کندھوں پر اور سینے کے اوپر والے حصے پر بال تھے ، آپ کی کلائیاں چوڑی تھیں ، ہتھیلی کشادہ تھی ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں پُر گوشت تھے ، آپ کے اعضاء چوڑے تھے ، پاؤں کے تلوے اوپر کی طرف اٹھے ہوئے تھے اور ان کے نیچے سے پانی گزر سکتا تھا ، جب آپ چلتے تھے ، تو آگے کی طرف ذرا جھک کے چلتے تھے اور ذرا تیز رفتار سے چلتے تھے ، جب آپ چلتے تھے ، تو یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے بلندی سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں ، جب آپ کسی کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے تھے ، اب نگاہ جھکا کے رکھتے تھے ، آسمان کی طرف دیکھنے کی بہ نسبت آپ زمین کی طرف زیادہ دیکھتے تھے ، آپ کی نظر زیادہ تر ملاحظہ کے لئے ہوتی تھی ۔ آپ اپنے اصحاب کو آگے چلنے کے لئے کہتے تھے ، اور جس شخص سے ملاقات ہوتی تھی ، اُسے سلام میں پہل کرتے تھے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : آپ نبی اکرم ﷺ کی گفتگو کے بارے میں مجھے بتائیے ، تو حضرت ہند بن ابوہالہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ اکثر غمگین رہتے تھے ، آپ ہمیشہ سوچ و بچار کرتے رہتے تھے ، آپ کو آرام نہیں تھا ، آپ غیر ضروری طور پر گفتگو نہیں کرتے تھے ، اور زیادہ تر خاموش رہتے تھے ، آپ کا کلام واضح ہوتا تھا اور آپ اسے بھرپور طریقے سے ختم کرتے تھے ، آپ جامع کلمات کے ہمراہ گفتگو کرتے تھے ، آپ کے الفاظ واضح ہوتے تھے ، نہ وہ فضول ہوتے تھے اور نہ ہی کم ہوتے تھے ، آپ نرم مزاج والے تھے ، نہ تو دوسروں سے لاتعلق رہتے تھے ، اور نہ ہی کسی کی بے عزتی کیا کرتے تھے ، نعمت کی تعظیم کرتے تھے ، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو ، کھانے کی کسی چیز کی نہ مذمت کرتے تھے ، اور نہ تعریف کرتے تھے ، دنیا یا اُس کی چیزوں کی وجہ سے ، آپ غصے میں نہیں آتے تھے ، لیکن جب حق کی خلاف ورزی ہوتی تھی ، تو کوئی آپ کو نہیں پہچان سکتا تھا ، اور کوئی چیز آپ کے غصے کو نہیں روک سکتی تھی ، آپ اپنی ذات کے لئے غصہ نہیں کرتے تھے ، اور اپنی ذات کے لئے بدلہ نہیں لیتے تھے ، جب آپ اشارہ کرتے تھے ، تو پوری ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے ، اور جب حیرانگی کا اظہار کرتے تھے ، تو ہتھیلی کو پلٹ لیتے تھے ، گفتگو کرتے ہوئے ہتھیلیوں کو ملا لیتے تھے اور بائیں ہاتھ کا انگوٹھا دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھتے تھے ، جب آپ غصے میں ہوتے تھے ، تو منہ پھیر لیتے تھے اور رُخ موڑ لیتے تھے ، جب مسکراتے تھے ، تو نگاہ جھکا لیتے تھے ، آپ کا ہنسنا صرف مسکراہٹ کی شکل میں ہوتا تھا ، اور مسکراتے ہوئے آپ کے دانت یوں لگتے تھے ، جیسے وہ اولے ہیں ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک طویل عرصے تک اس روایت کو ( حضرت امام ) حسین رضی اللہ عنہ سے چھپا کے رکھا ، پھر جب میں نے انہیں یہ روایت بیان کی ، تو مجھے پتہ چلا کہ وہ مجھ سے پہلے حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہا سے اس کے بارے میں دریافت کر چکے تھے ، انہوں نے حضرت ہند رضی اللہ عنہا سے وہی سوال کیا تھا ، جو میں نے ان سے کیا تھا ، اور پھر میں نے یہ بات بھی پائی کہ ( حضرت امام ) حسین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے گھر میں ہونے اور تشریف فرما ہونے اور نبی اکرم ﷺ کے باہر تشریف لے جانے اور آپ کے معمولات کے بارے میں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی سوال کیا تھا ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ سب باتیں بیان کر دیں ۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے اپنے والد سے نبی اکرم ﷺ کے گھر کے معاملات کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : جب نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف فرما ہوتے تھے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی گھر میں آنے کی اجازت تھی ، جب نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لاتے تھے ، تو آپ گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے ، ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص تھا ، ایک حصہ آپ کے اہل خانہ کے لئے مخصوص تھا ، اور ایک حصہ آپ کی اپنی ذات کے لئے مخصوص تھا ، پھر اُس حصے کو آپ لوگوں کے ساتھ میل جول میں تقسیم کر دیتے تھے ، اور یہ وقت ہر خاص و عام کو نصیب ہوتا تھا ، آپ وقت کے اس حصے میں سے اپنے لیے کچھ بچا کے نہیں رکھتے تھے ، جو وقت لوگوں کے لئے مخصوص تھا ، اس میں وقت کی تقسیم کے حوالے سے دینی فضیلت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ترجیحی رویہ اختیار کیا جاتا تھا اور آپ اُس وقت کو دین میں ، ان لوگوں کی فضیلت کے حساب سے تقسیم کرتے تھے ، آپ کے ملاقاتیوں میں سے کسی کو ایک کام ہوتا تھا ، کسی کو دو کام ہوتے تھے ، کچھ کو زیادہ کام بھی ہوتے تھے ، آپ لوگوں کے کام کرتے تھے اور ان کی بہتری کی کوشش کرتے تھے ، جو ان کے لئے زیادہ موزوں ہو ، آپ انہیں بتاتے تھے کہ ان کے لیے کیا مناسب ہے ؟ آپ ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ موجود افراد ، غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ، اور جو شخص اپنی حاجت خود نہیں پہنچا سکتا ، اس کی حاجت تم لوگ مجھ تک پہنچا دو ! کیونکہ جو شخص کسی ایسے فرد کی حاجت ، حکمران تک پہنچائے ، جو خود اپنی حاجت نہ پہنچا سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس ( پہنچانے والے شخص ) کے دونوں قدم ، قیامت کے دن ، جمے ہوئے رکھے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کے سامنے اسی نوعیت کے امور کا ذکر ہوتا تھا ، اور آپ کسی سے اس کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں کرتے تھے ، لوگ علم کے حصول کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور پھر علم کے ساتھ ، کھانا بھی کھا کر واپس جاتے تھے ، وہ ایسی حالت میں واپس جاتے تھے کہ انہیں آگاہی حاصل ہو چکی ہوتی تھی ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کے باہر کے معاملات کے بارے میں دریافت کیا : کہ گھر سے باہر آپ کا طرز عمل کیا ہوتا تھا ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : ’’ نبی اکرم ﷺ اپنی زبان غیر ضروری معاملات میں استعمال نہیں کرتے تھے ، آپ لوگوں کے درمیان الفت قائم کرتے تھے ، ان کے درمیان انتشار پیدا نہیں کرتے تھے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) انہیں متنفر نہیں کرتے تھے ، ہر قوم کے معزز فرد کی عزت افزائی کرتے تھے اور اسے اُس کی قوم کا امیر مقرر کر دیتے تھے ، آپ لوگوں کو مختلف کاموں سے بچنے کی تلقین کرتے تھے ، اور ان کی دیکھ بھال کرتے تھے ، لیکن آپ کی طرف سے یہ چیز سامنے نہیں آتی تھی کہ آپ نے ناگواری کا اظہار کیا ہو ، غیر موجود افراد کا حال چال دریافت کرتے تھے ، لوگوں کے باہمی معاملات کے بارے میں تحقیق کرتے تھے ، اچھائی کو اچھائی قرار دیتے تھے اور اس کو قوت دیتے تھے ، اور برائی کو برائی قرار دیتے تھے ، اور اس کو کمزور کہتے تھے ، معاملات میں اعتدال رکھتے تھے ، اختلاف نہیں رکھتے تھے ، آپ غفلت سے بچے رہتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں لوگ غفلت کا شکار ہو کر ادھر اُدھر نہ ہو جائیں ، ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ، حق کے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تھے ، جو لوگ آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، وہ بھی حق سے روگردانی نہیں کرتے تھے ، ان میں سے جو سب سے بہتر ہوتا تھا ، وہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والا ہوتا تھا اور جو سب سے زیادہ خیرخواہ ہوتا تھا آپ کے نزدیک اس کی قدر و منزلت زیادہ ہوتی تھی ، جس کا لوگوں کے ساتھ طرز سلوک سب سے زیادہ اچھا ہو ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کی محفل کے بارے میں دریافت کیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : آپ جب بھی محفل میں تشریف فرما ہوتے تھے ، یا محفل سے اُٹھتے تھے ، تو آپ ذکر کرتے تھے ، آپ بیٹھنے کے لئے جگہ کو مخصوص نہیں کرتے تھے اور بیٹھنے کے لیے جگہ مخصوص کرنے سے منع بھی کرتے تھے ، جب آپ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لاتے تھے ، تو جو محفل کی آخری حد ہوتی تھی ، وہیں تشریف فرما ہو جایا کرتے تھے ، اور اسی بات کا حکم دیتے تھے ، آپ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے تمام شرکاء کو ان کا حصہ دیتے تھے ، آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا کوئی فرد یہ نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی دوسرا شخص آپ کے نزدیک اُس سے زیادہ معزز ہے ۔ جب کوئی شخص کسی کام کے سلسلے میں آپ کے ساتھ بیٹھتا ، یا آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا ، تو آپ اُس کے ساتھ مصروف رہتے ، یہاں تک کہ وہ خود واپس جاتا ، جب کوئی شخص آپ سے کچھ مانگتا تھا ، تو آپ وہ چیز دے کر اُسے واپس کرتے تھے ، یا زبانی طور پر ( ہمدردی کا ) اظہار کر دیتے تھے ، لوگوں کے لئے آپ کی مہربانی اور خوش اخلاقی کشادہ تھی ، جیسے اولاد کے لئے باپ ہوتا ہے ، لیکن حق کے حوالے سے سب لوگ آپ کے نزدیک برابر کی حیثیت رکھتے تھے ، آپ کی محفل ، بردباری ، حیاء ، صبر اور امانت والی محفل ہوتی تھی ، جس میں آوازیں بلند نہیں ہوتی تھیں ، اس محفل میں کسی کی حرمت پامال نہیں ہوتی تھی ، کسی کی برائی پھیلائی نہیں جاتی تھی ، سب لوگ یکساں حیثیت رکھتے تھے ، لیکن تقویٰ کے اعتبار سے باہمی طور پر ایک دوسرے کے مقابلے میں فضیلت کے مالک ہوتے تھے ، سب لوگ تواضع اختیار کرتے تھے ، بڑوں کا احترام کرتے تھے ، چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے ، حاجت مندوں کے لیے ایثار کرتے تھے اور غریب الوطن شخص کا خیال رکھتے تھے ۔ میں نے اُن سے نبی اکرم ﷺ کے اپنے ہمنشین افراد کے ساتھ طرز سلوک کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ رہتے تھے ، آپ کے اخلاق نرم تھے ، آپ کا طرز عمل نرم تھا ، اور آپ برے اخلاق کے مالک یا سخت مزاج نہیں تھے ، آپ چیخ کر نہیں بولتے تھے ، بدزبانی نہیں کرتے تھے ، عیب بیان نہیں کرتے تھے ، آپ مزاح نہیں کرتے تھے ، غیر ضروری چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ سے توقع رکھنے والا شخص مایوس نہیں ہوتا تھا ، اور اس توقع کے حوالے سے خسارے کا شکار نہیں ہوتا تھا ۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے حوالے سے تین چیزیں ترک کر دی ہوئی تھیں ، غیر ضروری بحث ، زیادہ کلام کرنا اور غیر ضروری باتیں کرنا ، اور آپ نے لوگوں کے حوالے سے تین چیزیں ترک کر دی تھیں ، آپ کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے ، کسی کو عار نہیں دلاتے تھے ، اور کسی کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہیں کرتے تھے ، آپ صرف وہ گفتگو کرتے تھے ، جس کے حوالے سے ثواب کی امید ہو ، جب آپ گفتگو کرتے تھے ، تو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ یوں ہو جاتے تھے ، جیسے اُن کے سروں پر پرندے موجود ہیں ، جب آپ خاموش ہوتے تھے ، پھر وہ لوگ کلام کرتے تھے ، وہ لوگ آپ کی موجودگی میں آپس میں بحث نہیں کرتے تھے ، جب کوئی شخص بات کرتا تھا ، تو اس کی بات پوری ہونے تک باقی لوگ خاموش رہتے تھے ، آپ کی موجودگی میں لوگ پہلے زمانے کے بارے میں بات چیت کیا کرتے تھے ، جس بات پر لوگ ہنستے تھے اُس پر آپ بھی ہنس دیتے تھے ، جس بات پر پر لوگ حیرانگی کا اظہار کرتے تھے ، اس پر آپ بھی حیرانگی کا اظہار کرتے تھے ، کوئی اجنبی شخص گفتگو کے دوران ، یا کوئی چیز پوچھتے ہوئے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتا ، تو آپ اس پر صبر سے کام لیتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب ایسے لوگوں کو ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : ’’ جب تم کسی طالب حاجت کو دیکھو ، تو اس کی رہنمائی کرو ‘‘ آپ ﷺ صرف بدلہ دینے ( یعنی شکریہ ادا کرنے والے ) کی طرف سے تعریف کو قبول کرتے تھے ، آپ کسی کی بات درمیان میں نہیں کاٹتے تھے ، جبکہ وہ شخص کسی ممنوع چیز کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ، اگر وہ کوئی غلط بات کہتا تھا ، تو آپ اُسے روک کر ، یا محفل سے اُٹھ کر اس کی بات کاٹ دیتے تھے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کی خاموشی کیسی ہوتی تھی ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ کی خاموشی چار صورتوں میں ہوتی تھی ، بردباری ، احتیاط ، تخمینہ اور غور و فکر ۔ جہاں تک تخمینہ کا تعلق ہے ، تو وہ لوگوں کے معاملات کے بارے میں باتیں سننے اور ان کا جائزہ لینے کے حوالے سے ہوتا تھا ، جہاں تک آپ کے غور و فکر کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ ان امور کے بارے میں ہوتا تھا کہ جو کچھ فنا ہو چکا ہے اور جو باقی رہ گیا ہے ، آپ کے لئے صبر میں بردباری کو جمع کر دیا گیا تھا ، تو کوئی چیز آپ کو غضبناک نہیں کر سکتی تھی ، اور کوئی آپ کو خوفزدہ نہیں کر سکتا تھا ۔ آپ کے لئے چار چیزوں میں احتیاط کو جمع کر دیا گیا تھا ، آپ اچھی چیز کو اختیار کرتے تھے ، تاکہ اس حوالے سے آپ کی پیروی کی جائے ، آپ بری چیز کو ترک کر دیتے تھے ، تاکہ اس حوالے سے باز رہا جائے ، آپ ان امور کے بارے میں بھرپور کوشش کرتے تھے ، جو آپ کی امت کے لیے بہتر ہوں اور آپ وہ کام سرانجام دینے کی کوشش کرتے تھے ، جس میں لوگوں کے لئے دنیا اور آخرت کو جمع کر دیا جائے ۔‘‘ ابوعبید کہتے ہیں ابوہالہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے ، ان کا نام نباش تھا اور ان کا تعلق بنواسید بن عمرو بن تمیم سے تھا ۔ عمر بن ابوبکر موصلی بیان کرتے ہیں : یہ ابوہالہ مالک بن زراہ ہیں ، جن کا تعلق بنو نباش بن زرارہ سے ہے ۔ علی بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : میں نے ابوعبید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ان کے لفظ ’’ قحم ‘‘ سے مراد خوبصورتی اور ہیبت کے ہمراہ آپ کا نمایاں ہونا ہے ۔ ’’ مربوع ‘‘ سے مراد وہ فرد جو لمبے اور کوتاہ قامت ہونے کے درمیان ہو ۔ ’’ مشذب ‘‘ جو زیادہ لمبا ہو ، ہر چیز میں یہ اسی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ، جیسے جریر نے کہا ہے : «اَلْوَى بِهَا شَذْبُ الْعُرُوقِ مُشَذَّبٌ فَكَأَنَّمَا وَكِيبُ عَلَى طِرْبَالِ» ’’ رجل الشعر ، جس کے بال اس طرح سے بالکل ہی سیدھے نہ ہوں ، کہ ان میں ذرا سا بھی گھنگھریالہ پن نہ ہو ۔’’ قطط ‘‘ وہ ہوتا ہے ، جس کے بال انتہائی گھنگھریالے ہوں ، تو وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں ، کہ آپ کے بالوں میں گھنگھریالہ پن ان دونوں کے درمیان تھا ۔ ” عقیقہ “ کا مطلب بندھے ہوئے بال ہے ، یہ گوندھی ہوئی چٹیا کی مانند ہوتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس نوعیت کا ہے : جو شخص بال باندھ لے یا چوٹی بنا لے تو اس پر سر منڈوانا لازم ہو گا ۔ ’’ ازج الحاجبین سوابغ ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ بھنویں قوس نما ہوں ، اور ان کے اطراف میں کچھ طول ہو اس کو ’’ سبوغ “ کہتے ہیں ، جیسے جمیل بن معمر نے کہا ہے : «إِذَا مَا الْغَانِيَاتِ بَرَزْنَ يَوْمًا وَزَجَّجْنَ الْحَوَاجِبَ وَالْعُيُونَا» ’’ غیر قرن ‘‘۔ میں قرن سے مراد یہ ہے کہ بھنویں ملنے کی جگہ پر ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہوں ، تو وہ ایسی نہیں تھیں ، بلکہ ان کے درمیان کشادگی تھی ، جب کوئی شخص اس طرح کا ہو تو اس کو ’’ ابلج ‘‘ کہتے ہیں ، اصمعی نے یہ بات بیان کی ہے : عرب اس چیز کو پسند کرتے ہیں ۔ ان کا یہ کہنا : «بَيْنَهُمَا عِرْقُ يُدِرُّهُ الْغَضَبُ» : اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ غصے کے عالم میں ہوتے تھے تو دونوں ابروؤں کے درمیان موجود وہ رگ نمایاں ہو جاتی تھی ۔ اس کے ’’ درور ‘‘ سے مراد اس کا ابھرنا اور نمایاں ہونا ہے ۔ ’’ اقنی العرنین ‘‘ ( میں ’’ عرنین ‘‘ ) سے مراد ناک ہے ، لفظ ’’ قنا “ کا مطلب یہ ہے کہ اس کا بانسہ اونچا ہو اور ناک باریک ہو ، اسی سے متعلق یہ کلمات ہیں : «رَجُلٌ آقَنُ وَامْرَأَةٌ قَنْواء» ’’ اشم ‘‘ سے مراد ایسی ناک ہے ، جو پتلی ہو لیکن اس میں ” قنا “ نہ ہو ۔ ’’ «كث اللحية» "" سے مراد ’’ کثوثہ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ داڑھی میں ہلکا پن یا طوالت نہ ہو ، لیکن لمبی یا بڑی نہ ہونے کے باوجود اس میں بھاری پن ہو ۔ ’’ ضليع الفم “ سے مراد ، میرے خیال میں ہونٹوں کا پتلا ہونا ہے ۔ ’’ اشنب ‘‘ سے مراد وہ شخص جس کے دانت متناسب اور باریک ہوں ، اسی سے متعلق یہ کہا جاتا ہے : «رَجُلٌ أَشْنَبُ وَامْرَأَةٌ شَنْبَاءُ» اسی سے متعلق ’’ ذی رمہ ‘‘ کا یہ قول ہے : «لَمْيَاءُ فِي شَفَتَيْهَا حِدَّةُ لَعَسٌ وَفِي اللَّثَاتِ وَفِي أَنْيَا بِهَا شَنَبُ» ’’ متفلج “ سے مراد وہ شخص ہے جس کا دانتوں کے درمیان میں کشادگی ہو ۔ ’’ مسربہ ‘‘ سے مراد وہ بال ہیں جو گردن سے لے کر ناف تک کے درمیان میں ہوں ، ایسے بال جو لکیر کی طرح ہوں ۔ اعشی نے کہا ہے : «الْاٰنَّ لَمَّا ابْيَضَّ مَسْرُ بَتِي وَعَضَضْتُ مِنْ نَابِیْ عَلَى جَذَمی» ’’ جید دمنہ ‘‘ سے مراد "" جید ‘‘ کا مطلب گردن ہے ” دمنہ ‘‘ کا مطلب صورت ہے ۔ ’’ ضخم الکرادیس ‘‘ میں ، بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ کرادیس سے مراد ہڈیاں ہیں ، اور مراد یہ ہے کہ آپ کے اعضاء چوڑے تھے ، بعض کے نزدیک ’’ کرادیس ‘‘ سے مراد ہڈیوں کے جوڑ ہیں ، ویسے لفظ ’’ کرادیس ‘‘ فوجی دستوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ’’ زندان ‘‘ سے مراد وہ ہڈی ہے جو کلائی اور تھیلی کے ملنے کے مقام پر ہوتی ہے ، تو یہاں مراد یہ ہے کہ آپ کی کلائیں چوڑی تھیں ۔ ’’ سبط القصب ‘‘ میں ’’ قصب ‘‘ سے مراد ہر وہ ہڈی ہے ، جس میں گودا موجود ہوتا ہے ، جیسے دونوں پنڈلیاں ، دونوں بازو اور دونوں کلائیاں ۔ ’’ سبوطهما ‘‘ سے مراد ان کا لمبا ہونا ہے ، انہوں نے ان الفاظ کے ذریعے ہڈی کے لمبے ہونے کی صفت بیان کی ہے ۔ ’’ ذورمہ ‘‘ کہتا ہے : «جَوَاعِلُ فِي الْبَرَى قَصَبًا خِدَالًا» یہاں ” بری ‘‘ سے مراد ، کنگن اور پازیبیں ہیں ۔ ’’ ششن الکفين والقدمین ‘‘ سے مراد ، ان میں کچھ بھاری پن ہے ۔ ’’ اخمص ‘‘ کے پاؤں میں ہونے سے مراد ، اس کا پاؤں کے زیریں حصے میں ہونا ہے ، جو حصہ پاؤں کے اگلے اور پچھلے حصے کے درمیان ہوتا ہے ، اور یہ ( پاؤں کا درمیان والا ) وہ حصہ ہوتا ہے ، جو زمین پر پاؤں رکھتے ہوئے ، زمین کے ساتھ نہیں لگتا ہے ۔ اعشی نے عورت کی چال کی تعریف کرتے ہوئے یہ شعر کہا ہے : «كَأَنَّ اخْمَصَهَا بِالشَّوْكِ مُنْتَعِلْ» ’’ خمصان ‘‘ کے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاؤں کا وہ حصہ زمین سے الگ رہتا تھا ، اور بلند ہوتا تھا ، یہ ’’ خموصۃ البطن ‘‘ سے ماخوذ ہے ، جس سے مراد اس کو پتلا کرنا ہے ، اسی سے یہ لفظ متعلق ہیں : «رَجُلٌ خُمْصَانٌ وَامْرَأَةٌ خُمْصَانَة» . ’’ مسیح القدمین ‘‘ سے مراد ، وہ دونوں مستوی تھے ، اور اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے بالائی حصے میں ناہمواری نہیں تھی ، اسی لیے انہوں نے یہ کہا : «يَنْبُو عَنْهُمَا الْمَاءُ» ( یعنی پانی اُن پر ٹھہرتا نہیں تھا ) ۔ ان کا یہ کہنا : «إذا خَطَا الْمَاءُ» ۔ یعنی ادھر ادھر مائل ہونا ، یہ لفظ ’’ «تَكَفُّوِ السُّفُنِ» ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔ ان کا یہ کہنا : «ذَرِیعَ الْمِشْيَةِ» ۔ یعنی بڑے قدم اٹھانا ۔ ان کا یہ کہنا : «كَأَنَّمَا يَنْحَط في صَبَبِ» - میرے خیال میں ان کی مراد یہ ہے : آپ سامنے کی طرف رخ رکھتے تھے ، اپنی نگاہ جھکا کر رکھتے تھے ، اس کو آسمان کی طرف بلند نہیں کرتے تھے ، اسی طرح آپ ’’ مخط ‘‘ ہونگے ۔ پھر انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا : آپ نگاہ جھکا کر رکھتے تھے ، آسمان کی طرف نگاہ رکھنے کی بہ نسبت آپ کی نگاہ زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی ۔ ان کا یہ کہنا : «إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا» ۔ ان کی مراد یہ ہے کہ آپ ایسے نہیں کرتے تھے کہ جسم کو موڑے بغیر ، صرف گردن موڑ لیں ، کیونکہ اس طرح کرنے میں کچھ خفت اور طیش پایا جاتا ہے ۔ ان کا یہ کہنا : دَمِث ۔ اس سے مراد نرم اور آسان ہونا ہے ، اسی لیے ریت کو ’’ دمث ‘‘ کہا جاتا ہے ، وہ حدیث بھی اسی مفہوم سے تعلق رکھتی ہے جس میں راوی نے یہ بات بیان کی ہے : جب آپ پیشاب کرنے کا ارادہ کرتے تو ’’ دمث ‘‘ ( یعنی نرم زمین ) کی طرف تشریف لے جاتے تھے ۔ ان کا یہ کہنا : «إِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَ اشَاحَ» - اس میں ’’ اشاحۃ ‘‘ سے مراد حد ہے ، اور کبھی یہ بچاؤ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ان کا یہ کہنا : «يَفْتَرُّ عَنْ حَبٍّ مِثْلِ حَبِّ الْغَمَام» - اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے آپ کے دانتوں کی سفیدی کو اولوں سے تشبیہہ دی ہے ، جریر نے کہا ہے : «يَجْرِي السَّوَاكُ عَلَى أَغَرَ كَأَنَّهُ» «بَرَدؐ تَحَدَّرَ مِنْ مُتُونِ غَمَامِ» ان کا یہ کہنا : «يَدْخُلُونَ رُؤَادًا» - اس میں ’’ رواد ‘‘ سے مراد طلبگار ہیں ، اس کی واحد ’’ رائد ‘‘ ہوتی ہے ، اس لیے عرب کہتے ہیں : «الرَّائِدُ لَا يَكْذِبُ أَهْلَہَ» - یعنی طالب اپنے گھر والوں سے جھوٹ نہیں بولتا ۔ ان کا یہ کہنا : «لِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ عَتَادٌ» یعنی تیاری ، جو آپ نے اس صورتحال کے لیے کی ہوتی تھی ۔ یہ کہنا : «لَا يُوطِنُ الْأَمَاكِن» ۔ یعنی آپ اپنے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں کرتے تھے ، صورتحال کے مطابق جس جگہ آپ بیٹھ سکتے ، وہاں تشریف فرما ہو جاتے ، پھر انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا : آپ وہاں تشریف فرما ہو جاتے تھے جہاں محفل ختم ہو رہی ہوتی تھی ، یہ مفہوم اس حدیث میں بیان ہوا ہے : «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُوَطَّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطَّنُ الْبَعِيرُ» ’’ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی مسجد میں اپنے بیٹھنے کے لیے کسی جگہ کو یوں مخصوص کر لے جس طرح اونٹ اپنی جگہ مخصوص کر لیتا ہے ۔‘‘ ان کا یہ کہنا : «في مَجْلِسِهِ لَا تُؤْبَنُ فِيهِ الْحُرَمَ» - یعنی اس محفل میں عورتوں کی صفات پر تبصرے نہیں ہوتے تھے ، یہی مفہوم اس حدیث میں بیان ہوا ہے : «أَنَّهُ نَهَى عَنِ الشَّعْرِ إِذَا أَبِنَتْ فِيْهِ النِّسَاءُ» ’’ نبی اکرم ﷺ نے ایسی شاعری سے منع کیا ہے جس میں عورتوں کی صفات بیان کی گئی ہوں “۔ ابوعبید نے اپنی سند کے ساتھ ، امام شعبی کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ کچھ لوگ مسجد میں ایک دوسرے کو اشعار سنا رہے تھے ، اسی دوران حضرت عبداللہ بن زبیر تشریف لے آئے ، انہوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ کے حرم میں اور اللہ کے گھر کے پاس تم لوگ شعر و شاعری کر رہے ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب بولے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اے ابن زبیر ! نبی اکرم ﷺ نے اس شاعری سے منع کیا ہے ، جس میں عورتوں کی صفات بیان کی جائیں ، یا جس کے ذریعے ( کسی امیر آدمی کی بیجا تعریف کر کے ) مال بٹورنے کی کوشش کی جائے ۔‘‘ ان کا یہ کہنا : «لا تُنْثَی فَلَتَاتُه» - اس میں ’’ فلتات ‘‘ سے مراد فضول گفتگو ہے ، کہ وہ نہیں کی جاتی تھی ، کہا جاتا ہے : «نَثَوْتْ اَنْثْو» اور اس سے ’’ اسم ‘‘- «النَّثَا» - آتا ہے ۔ اور لفظ - «فَلَتَاتِہ» ۔ اس میں موجود ضمیر لفظ ” مجلس ‘‘ کی طرف لوٹ رہی ہے ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ کلام کے آغاز میں انہوں نے آپ کی مجلس کے بارے میں سوال کیا تھا ، اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے : «أَنَّهُ لَمْ يَكُن لِمَجْلِسِهِ فَلَتَاتُ يَحْتَاجُ أَحَدٌ أَن یَّحْكِيَهَا» - اس سے مراد مجلس کی فضول گفتگو ہے ، کہ ( وہ ہوتی ہی نہیں تھی ) کہ کوئی اس کو ایک دوسرے کے حوالے سے بیان کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

14027

Majma al-Zawaid #14027

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ احْمَرَّ وَجْهُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, رضي الله عنها, said: When the Messenger of Allah ﷺ became angry, his face turned red.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب غصے میں آتے تھے ، تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14028

Majma al-Zawaid #14028

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, رضي الله عنه, said: When the Messenger of Allah ﷺ became angry, his cheeks turned red.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب غصے میں آتے تھے ، تو آپ ﷺ کی کنپٹیاں سرخ ہو جاتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم ابویحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14029

Majma al-Zawaid #14029

«وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فَابْتَعْتُ حُلَّةَ ذِي يَزَنَ فَأَهْدَيْتُهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ فَقَالَ: "" لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ "". فَرَدَّهَا، فَبِعْتُهَا فَاشْتَرَاهَا، فَلَبِسَهَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهِيَ عَلَيْهِ، فَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا فِي شَيْءٍ أَحْسَنَ مِنْهُ فِيهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا مَكَثْتُ أَنْ قُلْتُ: وَمَا يَنْظُرُ الْحُكَّامُ فِي الْفَصْلِ بَعْدَ مَا ... بَدَا وَاضِحٌ مِنْ غُرَّةٍ وَحُجُولِ إِذَا قَايَسُوهُ الْمَجْدَ أَرْبَى عَلَيْهِمُ ... كَمُسْتَفْرِغِ مَاءِ الذِّنَابِ سَجِيلِ فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَسَّمَ ثُمَّ دَخَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلَ مِنْ هَذِهِ فِي الْهَدِيَّةِ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam, رضي الله عنه, said: I went to Yaman and bought the cloak of Dhu Yazan, then gifted it to the Prophet ﷺ during the truce between him and Quraysh, but he said: I do not accept the gift of a polytheist, so he returned it. I sold it, then he bought it and wore it, then went out to his Companions wearing it; I never saw anything upon anything more beautiful than him in it ﷺ. Soon I said: How can judges look for فصل after what has appeared clear of splendour and adornment; when they compare glory to him, he exceeds them like one drawing abundant well water over scanty. The Messenger of Allah ﷺ heard them, smiled, then entered. > **"I do not accept the gift of a polytheist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یمن گیا ، وہاں میں نے ذی یزن کا حلہ خریدا ، اور وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، یہ اس مدت کی بات ہے ، جب آپ ﷺ کے اور قریش کے درمیان صلح کا معاملہ چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، وہ آپ نے واپس کر دیا ، میں نے اسے فروخت کیا ، نبی اکرم ﷺ نے وہ حلہ خرید کے اسے پہنا ، پھر آپ نکل کر اپنے اصحاب کے پاس آئے ، تو وہ حلہ آپ ﷺ کے جسم پر تھا ، میں نے اُس حلے میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ خوبصورت اور کوئی چیز نہیں دیکھی ، اور میں نے اس وقت یہ اشعار کہے : ’’ ثالث لوگ فیصلہ کرنے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ جبکہ جو چیز ظاہر ہوئی ہے ، وہ چمک اور سجاوٹ کے حوالے سے واضح ہے ، جب وہ بزرگی کے حوالے سے ان کا موازنہ کرتے ہیں ، تو ان ( یعنی نبی کے مخالفین ) کے خلاف ( نبی کے حق میں دلائل ) زیادہ ہونے کا فیصلہ دے دیتے ہیں ، جس طرح چھوٹے ڈول کے مقابلے میں بڑے ڈول سے پانی حاصل کرنے والا شخص ہوتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ اشعار سنے ، تو آپ ﷺ مسکرا دیے ، پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے یہ روایت طویل روایت کے طور پر ، ہدیہ دینے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

14030

Majma al-Zawaid #14030

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رِضَى اللَّهُ عَنْهُ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنُ أُرَيْقِطٍ يَدُلُّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ فَمَرَّ بِأُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ فَقَالَ لَهَا: " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ لَبَنٍ؟ ". قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّ الْغَنَمَ عَازِبَةٌ. قَالَ: " فَمَا هَذِهِ الشَّاةُ الَّتِي أَرَاهَا فِي كِفَاءِ الْبَيْتِ؟ ". قَالَتْ: شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ. قَالَ: " أَتَأْذَنِينَ فِي حِلَابِهَا؟ ". قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا ضَرَبَهَا مِنْ فَحْلٍ قَطُّ وَشَأْنَكَ بِهَا. فَمَسَحَ ظَهْرَهَا وَضَرْعَهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ، فَحَلَبَ فِيهِ، فَمَلَأَهُ فَسَقَى أَصْحَابَهُ بِهِ عَلَلًا بَعْدَ نَهْلٍ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ أُخْرَى فَغَادَرَهُ عِنْدَهَا وَارْتَحَلَ، فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا عِنْدَ الْمَسَاءِ قَالَ لَهَا: يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَا هَذَا اللَّبَنُ وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ وَالْغَنَمُ عَازِبٌ؟ قَالَتْ: لَا. وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ ظَاهِرُ الْوَضَاءِ مَلِيحُ الْوَجْهِ، فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ لَا تَشْنَاهُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، لَمْ تَعْبَهْ ثَجْلَةٌ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ، كَأَنَّ عُنُقَهُ إِبْرِيقُ فِضَّةٍ، إِذَا نَظَرْتَهُ عَلَاهُ الْبَهَاءُ، وَإِذَا صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، كَلَامُهُ كَخَرَزِ النَّظْمِ، أَزْيَنُ أَصْحَابِهِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ وَجْهًا، مَحْشُودٌ غَيْرُ مُفَنَّدٍ، لَهُ أَصْحَابٌ يَحُفُّونَ بِهِ، إِذَا أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا نَهَى انْتَهَوْا عِنْدَ نَهْيِهِ. فَقَالَ: هَذَا صَاحِبُ قُرَيْشٍ وَلَوْ رَأَيْتُهُ لَاتَّبَعْتُهُ، وَلَأُجْهِدَنَّ أَنْ أَفْعَلَ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بِمَكَّةَ أَيْنَ تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَمِعُوا هَاتِفًا يَهْتِفُ عَلَى أَبِي قَبِيسٍ: جَزَى اللَّهُ خَيْرًا وَالْجَزَاءُ بِكَفِّهِ رَفِيقَيْنِ قَالَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ هُمَا نَزَلَا بِالْبِرِّ وَارْتَحَلَا بِهِ فَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ رَحْلِهَا أَبَرَّ وَأَوْفَى ذِمَّةً مِنْ مُحَمَّدِ وَأَكْسَى لِبَرْدِ الْحَالِ قَبْلَ ابْتِدَائِهِ وَأَعْطَى بِرَأْسِ السَّانِحِ الْمُتَجَرِّدِ لِيَهُنْ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَلَتِهِمْ وَمَقْعَدَهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ وَنَسَبَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ إِلَى الْكَذِبِ وَقَالَ الْحَاكِمُ: صَدُوقٌ فَالْعَجَبُ مِنْهُ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ أَيْضًا. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ الطَّرِيقِ فِي الْمَغَازِي فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sulayman ibn Salit reported from his father from his grandfather: When the Messenger of Allah ﷺ set out on the Hijrah with Abu Bakr, رضي الله عنه, ʿAmir ibn Fuhayra, freedman of Abu Bakr, and Ibn Urayqit guiding them, he passed by Umm Maʿbad al-Khuzaʿiyyah, رضي الله عنها, who did not know him. He said to her: O Umm Maʿbad, have you any milk. She said: By Allah, the sheep are far away. He said: What is this sheep I see in the corner of the tent. She said: A sheep left behind by weakness. He said: Do you permit milking it. She said: By Allah, no ram has ever touched it, yet do with it as you will. He wiped its back and udder, called for a vessel sufficing a group, milked therein and filled it, gave his Companions to drink repeatedly, then milked again and left it with her, and departed. When her husband came in the evening he said: O Umm Maʿbad, what is this milk when there is no milch animal at home and the sheep are away. She said: By Allah, a man of radiant fairness and handsome face passed us, long of eyelashes, intense black and white of eyes, resonant of voice, a branch between two branches, neither disfigured by tallness nor despised by shortness, no paunch, no gauntness, his neck as a silver ewer, when you looked at him majesty overcame, when silent dignity covered him, his speech like ordered beads, most beautiful of his Companions in aspect, finest of face, surrounded yet not importuned, with Companions crowding about him, hastening to his command when he commanded, stopping at his prohibition when he forbade. He said: This is the companion of Quraysh; had I seen him I would have followed him. > **"O Umm Maʿbad, have you any milk."** > **"What is this sheep I see in the corner of the tent."** > **"Do you permit milking it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلیمان بن سلیط ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کے لئے نکلے ، تو آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، اور ابن اریقط نامی شخص تھا ، جو راستے کے بارے میں ان حضرات کو بتا رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ کا گزر سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا ، وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کو پہچانتی نہیں تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے ام معبد ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! بکریاں گئی ہوئی ہیں ( یا ان میں دودھ نہیں ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ جسے میں گھر کے کونے میں دیکھ رہا ہوں ، اس خاتون نے بتایا : یہ ایک ایسی بکری ہے جو کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ اجازت دو گی کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس خاتون نے کہا : اللہ کی قسم بھی کی بکرے نے اس کے ساتھ قربت نہیں کی ہے ، ویسے آپ اس کے ساتھ جو مرضی کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا ، اور پھر آپ نے ایک برتن منگوایا ، جسے زیادہ لوگ استعمال کر سکتے ہوں ، آپ نے اس میں دودھ دوہ لیا اور اس کو بھر دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب کو اسے پلایا ، پھر آپ نے دوبارہ اس میں دودھ دوہ لیا اور وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر آپ روانہ ہو گئے ، جب اس عورت کا شوہر شام کے وقت آیا ، تو اس نے خاتون سے کہا : اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ گھر میں تو دودھ دوہنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے ، اور بکریاں باہر گئی ہوئی تھیں ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! معاملہ یہ ہے کہ ایک صاحب ہمارے پاس سے گزرے تھے ، جو وجیہہ و شکیل شخصیت کے مالک تھے ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا ، ان کی پلکوں کے بال لمبے تھے ، ان کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھی ، ان کی آواز با رعب تھی ، وہ درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، وہ نہ تو لمبے تڑنگے محسوس ہوتے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کی وجہ سے آنکھ اُنہیں معیوب قرار دیتی تھی ، انہیں موٹاپا لاحق نہیں تھا ، اور نہ ہی وہ بالکل کمزور تھے ، ان کی گردن چاندی کی بنی ہوئی محسوس ہوتی تھی ، جب وہ دیکھتے تھے تو اُن پر نمایاں ہونا ظاہر ہوتا تھا ، اور جب خاموش ہوتے تھے ، تو ان پر وقار ہوتا تھا ، ان کی گفتگو موتیوں کی لڑی کی طرح تھی ، دیکھنے کے اعتبار سے وہ اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ خوبصورت تھے ، اُن کا چہرہ سب سے زیادہ حسین تھا ، ان پر رشک کیا جا سکتا تھا ، اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ان میں خرابی ہو ، ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے ، جو انہیں گھیرے ہوئے تھے ، جب وہ ان ساتھیوں کو کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھی لپک کر اس کی طرف جاتے ، اور جب وہ اُن ساتھیوں کو کسی چیز سے منع کرتے ، تو ان کے منع کرنے پر ، وہ ساتھی باز آ جاتے اس خاتون کے شوہر نے کہا : یہ تو قریش کے متعلقہ فرد ہیں ، اگر میں انہیں دیکھ لیتا ، تو ان کی پیروی کر لیتا ، اب میں پوری کوشش کروں گا کہ میں ایسا کر لوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مکہ میں لوگوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ نبی اکرم ﷺ کون سی سمت کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں نے جبل ابوقبیس پر کسی ہاتف کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اور جزاء دینا ، اس کے ہاتھ میں ہے ، ان دو ساتھیوں کو ، جنہوں نے ام معبد کے خیمے میں پڑاؤ کیا تھا ، وہ دونوں نیکی کے ہمراہ وہاں ٹھہرے تھے اور پھر وہ دونوں وہاں سے روانہ ہو گئے ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جو حضرت محمد ﷺ کا ساتھی بن گیا ، کسی اونٹنی کے پالان پر کوئی ایسا شخص سوار نہیں ہوا ، جو ان سے زیادہ نیکی کرنے والا ہو اور ( ان سے زیادہ ) عہد کو پورا کرنے والا ہو ، انہوں نے آغاز سے پہلے حال کی چادر کو پہنایا ، اس شخص کے سر پر وہ چادر ڈالی ، جسے اس کی ضرورت تھی بنو کعب کو اپنی خاتون کی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہے ، جس خاتون کی رہائش گاہ ایمان والوں کے لئے محفوظ جگہ بنی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدینی ہے ، امام بخاری اور دیگر حضرات نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ، امام حاکم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، تو اس حوالے سے حیرت ہوتی ہے ، اس روایت کی سند میں اور بھی مجہول راوی ہیں ۔ اس سے پہلے یہ حدیث ” مغازی ‘‘ سے متعلق باب میں ، مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے جو دوسری سند کے ساتھ منقول ہے ۔

14031

Majma al-Zawaid #14031

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, said: When the Messenger of Allah ﷺ spoke, light was seen issuing from between his front teeth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کلام کرتے تھے ، تو یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے آپ کے سامنے والے دو دانتوں کے درمیان سے نور نکل رہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14032

Majma al-Zawaid #14032

وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ: «لَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي وَرَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ مُنْصَرِفِينَ قَالَتْ لِي أُمِّي وَخَالَتِي: يَا بُنَيَّ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الرَّجُلِ أَحْسَنَ مِنْهُ وَجْهًا، وَلَا أَنْقَى ثَوْبًا، وَلَا أَلْيَنَ كَلَامًا، وَرَأَيْنَا كَأَنَّ النُّورَ يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Qirsafa, رضي الله عنه, said: When we pledged the Messenger of Allah ﷺ, I, my mother, and my aunt, and returned from him, my mother and aunt said to me: O son, we never saw the like of this man, more handsome of face, cleaner of garment, softer of speech, and we saw as though light issued from his mouth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کر لی ، میں نے ، میری والدہ نے اور میری خالہ نے بیعت کی تھی ، اور ہم آپ کے پاس سے واپس آئے ، تو میری والدہ اور میری خالہ نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! ہم نے ان جیسا کوئی فرد نہیں دیکھا ، جو ان کے چہرے سے زیادہ خوبصورت ہو ، اور ان سے زیادہ صاف کپڑے پہنتا ہو ، ان سے زیادہ نرم کلام کرتا ہو ، ہم نے یہ دیکھا کہ جیسے ان کے منہ سے نور نکل رہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14033

Majma al-Zawaid #14033

وَعَنْ جُبَيْرٍ - يَعْنِي ابْنَ مُطْعِمٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «الْتَفَتَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ مِثْلَ شَقَّةِ الْقَمَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jubayr, meaning Ibn Mutʿim, رضي الله عنه, reported from the Prophet ﷺ: He turned to us with his face like a piece of the moon.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ چہرہ مبارک موڑ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے ، تو وہ چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14034

Majma al-Zawaid #14034

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتَهُ رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu ʿUbayda ibn Muhammad ibn ʿAmmar ibn Yasir said: I said to al-Rubayyiʿ bint Muʿawwidh ibn ʿAfraʾ, رضي الله عنها: Describe for me the Messenger of Allah ﷺ. She said: Had you seen him, you would have seen the sun rising.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بن محمد بن بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا : آپ میرے سامنے نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کریں ! تو انہوں نے فرمایا : ’’ اگر تم نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیتے ، تو یوں محسوس ہوتا جیسے سورج طلوع ہو رہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14035

Majma al-Zawaid #14035

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَمَا أَنْسَى بَيَاضَ وَجْهِهِ مَعَ شِدَّةِ سَوَادِ شَعْرِهِ، إِنَّ مِنَ الرِّجَالِ مَنْ هُوَ أَطْوَلُ مِنْهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ أَقْصَرُ مِنْهُ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ حَوْلَهُ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: مَنْ هَذَا؟ قَالَتْ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl, رضي الله عنه, said: I saw the Messenger of Allah ﷺ on the day of the conquest of Makkah, and I never forget the whiteness of his face with the intense blackness of his hair; among men some were taller than him and some shorter; he walked while they walked around him. I said to my mother: Who is this. She said: This is the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، میں آپ کے بالوں کی سیاہی کے ہمراہ آپ کے چہرے کی سفیدی نہیں بھولا ، لوگوں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے ، جو آپ سے طویل القامت تھے اور جو آپ سے کوتاہ قامت تھے آپ چل رہے تھے ، اور لوگ آپ کے اردگرد چل رہے ، میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14036

Majma al-Zawaid #14036

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: «مَا نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ إِلَّا ذَكَرْتُ الْقَرَاطِيسَ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Haniʾ, رضي الله عنها, said: I never looked at the belly of the Messenger of Allah ﷺ except that I recalled folded sheets, one upon another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ’’ میں نے جب بھی نبی اکرم ﷺ کے پیٹ کی طرف دیکھا ، تو مجھے یہی خیال آیا کہ جیسے قراطیس کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14037

Majma al-Zawaid #14037

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَتْ إِصْبَعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَظَاهِرَةً». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura, رضي الله عنه, said: The finger of the Prophet ﷺ was joined.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی انگلیاں متظاہرہ تھیں ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن حفص ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14038

Majma al-Zawaid #14038

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ إِصْبَعُهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ لَهَا فَضْلٌ فِي الطُّولِ عَلَى الْإِبْهَامِ. تَعْنِي: مِنَ الرِّجْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Maymuna bint Kardam, رضي الله عنها, said: I saw the Prophet ﷺ, and his toe next to the big toe had excess in length over the big toe, meaning of the foot.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، آپ کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی انگوٹھے سے ذرا بڑی تھی ، راوی کہتے ہیں : اس خاتون کی مراد یہ تھی کہ پاؤں کی انگلیاں ایسی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14039

Majma al-Zawaid #14039

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَصِفُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَجُلًا رَبْعَةً وَهُوَ إِلَى الطُّولِ أَقْرَبُ، شَدِيدَ الْبَيَاضِ، أَسْوَدَ اللِّحْيَةِ، حَسَنَ الشَّعْرِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يَطَأُ بِقَدَمَيْهِ جَمِيعًا لَيْسَ لَهُ أَخْمَصُ، يُقْبِلُ جَمِيعًا، وَيُدْبِرُ جَمِيعًا، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Saʿid ibn al-Musayyab heard Abu Hurayrah, رضي الله عنه, describing the Messenger of Allah ﷺ: He was a man of medium stature, closer to tallness, intense of whiteness, black of beard, fine of hair, long of eyelashes, wide between the shoulders, stepping with both feet together without hollow of sole, advancing wholly and retreating wholly; I never saw his like before him nor after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : ’’ نبی اکرم ﷺ درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، تاہم آپ طوالت کی طرف زیادہ قریب تھے ، آپ کا رنگ انتہائی سفید تھا اور داڑھی سیاہ تھی ، آپ کے بال خوبصورت تھے ، آنکھوں کی پلکیں لمبی تھیں ، کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا ، آپ دونوں پاؤں جما کر چلتے تھے ، آپ کا تلوا بالکل سیدھا تھا ، آپ مکمل طور پر سامنے آتے تھے اور مکمل طور پر مڑ جاتے تھے ، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ ﷺ جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14040

Majma al-Zawaid #14040

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةُ هَكَذَا: لَحْمٌ نَاشِزٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, رضي الله عنه, was asked about the seal of the Messenger of Allah ﷺ between his shoulders, so he gestured with his forefinger thus: flesh protruding between his shoulders ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے نبی اکرم ﷺ کی اس مہر نبوت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان تھی ، تو انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس طرح کچھ گوشت تھا ، جو دو کندھوں کے درمیان ابھرا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میسرہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14041

Majma al-Zawaid #14041

وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا زَيْدٍ، ادْنُ مِنِّي وَامْسَحْ ظَهْرِي "". وَكَشَفَ ظَهْرَهُ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ، وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ قَالَ: فَغَمَزْتُهَا فَقِيلَ: وَمَا الْخَاتَمُ؟ قَالَ: شَعْرٌ مُجْتَمِعٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «رَأَيْتُ الْخَاتَمَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَكَذَا بِظَهْرِهِ كَأَنَّهُ يَخْتِمُ». وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Zayd, meaning ʿAmr ibn Akhtab, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: O Abu Zayd, come near me and wipe my back. He uncovered his back, so I wiped his back, placing the seal between my fingers. It was said: What is the seal. He said: Clustered hair. In a narration: I saw the seal upon the back of the Messenger of Allah ﷺ upon his back as though a seal. > **"O Abu Zayd, come near me and wipe my back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوزید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے ابوزید ! میرے قریب ہو جاؤ ، اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا ، میں نے آپ کی پشت پر ہاتھ پھیرا ، تو میں نے مہر نبوت پر اپنی انگلیاں رکھیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان سے دریافت کیا گیا : مہر نبوت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کچھ بال تھے جو اکٹھے تھے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ میں نے نبی اکرم ﷺ کی پشت پر مہر نبوت دیکھی ، جو آپ کی پشت پر اس طرح تھی کہ جیسے وہاں مہر لگائی گئی ہو ۔‘‘ اس کی اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14042

Majma al-Zawaid #14042

«وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَانَ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَاطَبَهُ يَهُودِيٌّ فَسَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ أَنْ يُرَى الْخَاتَمُ فَسَوَّيْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ "". قُلْتُ: أَنَا قَالَ: "" تَحَوُّلْ إِلَيَّ "". فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي فَأَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِي وَصَدْرِي وَقَالَ: "" إِذَا أَتَانَا شَيْءٌ فَائْتِنِي "". فَأَتَيْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِجَذَعَةٍ وَكَانَ الْخَاتَمُ عَلَى طَرَفِ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ كَأَنَّهُ رُكْبَةُ عَنْزٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbbad ibn ʿAmr, رضي الله عنه, who served the Prophet ﷺ, reported that a Jew addressed him and his cloak fell from his shoulders, while the Messenger of Allah ﷺ disliked that the seal be seen, so I straightened it upon him. He said: Who did this. I said: I. He said: Come toward me. I sat before him, he placed his hand upon my head and passed it over my face and chest, and said: When anything comes to us, come to me. I came to him and he ordered for me a jadhaʿa, a young camel. The seal was upon the edge of his left shoulder like the knee of a goat. > **"Who did this."** > **"Come toward me."** > **"When anything comes to us, come to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ایک یہودی آپ ﷺ کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا ، اس دوران آپ کے کندھے سے چادر گر گئی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ آپ کی مہر نبوت دکھائی دے ، میں نے آپ کی چادر درست کی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ایسا کس نے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے سامنے آؤ ! تو میں آپ کے سامنے آ کے بیٹھ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور اسے میرے چہرے اور سینے تک پھیرا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی ، تو تم میرے پاس آنا ، جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے مجھے ایک جذعہ ( چار سال کا ہو کر پانچویں سال میں داخل ہونے والا اونٹ ) دینے کا حکم دیا ، وہ مہر آپ ﷺ کے بائیں کندھے کی طرف تھی ، یوں لگتا تھا ، جیسے وہ کسی بکری کے بچہ کا گھٹنا ہو ( یعنی وہ چند بال تھے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14043

Majma al-Zawaid #14043

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَلْفِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى مَوْضِعِ الْخَاتَمِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ أَلْقَى الرِّدَاءَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الْخَاتَمِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura, رضي الله عنه, said: I came to the Prophet ﷺ from behind to look at the place of the seal. When he looked at me, he cast aside the cloak and I looked at it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں پیچھے کی طرف سے ، نبی اکرم ﷺ کی طرف آیا ، تاکہ مہر نبوت کی جگہ کا جائزہ لوں ، جب آپ ﷺ نے میری طرف دیکھا تو ، آپ نے چادر ہٹا دی اور میں نے اس کی زیارت کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے مہر نبوت کے بارے میں ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14044

Majma al-Zawaid #14044

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعُ ضَفَائِرَ فِي رَأْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, رضي الله عنه, said: The Prophet ﷺ had four braids in his head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سر میں چار مینڈھیاں ہوتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14045

Majma al-Zawaid #14045

وَعَنْهُ قَالَ: «كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُمَّةٌ جَعْدَةٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From him, meaning Anas, رضي الله عنه: The Prophet ﷺ had a large curly jumma of hair.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ کے بال بڑے اور گھنگریالے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14046

Majma al-Zawaid #14046

«وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ لَهُ شَعَرَاتٍ مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ مَصْبُوغٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Fadala ibn ʿUbayd, رضي الله عنه, reported that he entered upon ʿAʾisha, رضي الله عنها, and she brought out for him some hairs of the Prophet ﷺ, and they were reddish and dyed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فضالہ بن عبید بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے کچھ بال نکال کر انہیں دکھائے ، تو وہ سرخ رنگ کے تھے اور اُن پر مہندی لگی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14047

Majma al-Zawaid #14047

«وَعَنْ جَهْضَمِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّجِيعِ فَرَأَيْتُ بِهِ شَيْخًا قَالُوا: هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: صِفْهُ لِي فَقَالَ: كَانَ حَسَنَ السَّبَلَةِ، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّي اللِّحْيَةَ السَّبَلَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jahdam ibn al-Dahhak said: I passed by al-Raji and saw an old man there. They said: This is al-ʿAddaʾ ibn Khalid ibn Hawdha. He said: I saw the Messenger of Allah ﷺ, so I said: Describe him to me. He said: He had a handsome sabala, and the Arabs used to call the beard sabala.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جہضم بن ضحاک بیان کرتے ہیں : میں ’’ رجیع ‘‘ کے مقام سے گزرا ، تو میں نے وہاں بزرگ کو دیکھا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے ، میں نے کہا : آپ ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کریں ، تو انہوں نے جواب دیا : وہ خوبصورت داڑھی کے مالک تھے ۔ راوی کہتے ہیں : عرب داڑھی کے لفظ ’’ سبلہ “ استعمال کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14048

Majma al-Zawaid #14048

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ: لَمْ يَلْتَفِتْ يُعْرَفُ فِي مَشْيِهِ أَنَّهُ غَيْرُ كَسِلٍ وَلَا وَهِنٍ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ التَّابِعِيَّ غَيْرُ مُسَمًّى وَقَدْ سَمَّاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ عِكْرِمَةُ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported that the Prophet ﷺ, when he walked, walked with gathered strength, and there was no laziness in him. In an addition: He did not turn aside, and it was known from his walking that he was neither lazy nor weak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب چلتے تھے ، تو چاق و چوبند ہو کر چلتے تھے ، آپ میں کسل مندی نہیں ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ آپ ﷺ ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ ﷺ کے چلنے سے یہ بات پتہ چل جاتی تھی کہ آپ ﷺ میں کسل مندی یا کمزوری نہیں ہے ۔‘‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام بزار نے اس کا نام بیان کیا ہے ، اور وہ عکرمہ ہے ، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔

14049

Majma al-Zawaid #14049

وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَشَى مَشَى مَشْيًا يَقْلَعُ الصَّخْرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿInaba, رضي الله عنه, said: When the Prophet ﷺ walked, he walked with a gait as if tearing rock.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعنبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب چلتے تھے تو یوں چلتے تھے کہ پتھر کو توڑ دیں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14050

Majma al-Zawaid #14050

وَعَنْ شَدَّادٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَإِذَا هِيَ أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيرِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ النَّصِيبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad, رضي الله عنه, said: I came to the Prophet ﷺ and took his hand, and it was softer than silk and colder than snow.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا ، تو وہ ریشم سے زیادہ نرم اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن ایوب نصیبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14051

Majma al-Zawaid #14051

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ مَا يَضْحَكُ إِلَّا حَتَّى تَرَى أَوْ تَبْدُوَ رَبَاعِيَّتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Burayda, رضي الله عنه, said: The Prophet ﷺ would most often only laugh until his front molars were seen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مسکراتے تھے ، تو آپ کے ’’ رباعیہ ‘‘ ( دانت ) نظر آ جایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14052

Majma al-Zawaid #14052

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَأْتِي أُمَّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَكَانَ ثَقِيلَ النَّوْمِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ used to visit Umm Sulaym, رضي الله عنها, and sleep upon her bedding, and his sleep was heavy. Then he mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں آتے تھے اور ان کے بچھونے پر سو جاتے تھے ، آپ کی نیند گہری ہوتی تھی ........ اس کے بعد راوی پوری حدیث نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14053

Majma al-Zawaid #14053

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرَّ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وُجِدَ مِنْهُ رَائِحَةُ الْمِسْكِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الطَّرِيقِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «كُنَّا نَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطِيبِ رَائِحَتِهِ إِذَا أَقْبَلَ إِلَيْنَا». وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, said: When the Messenger of Allah ﷺ passed through a road of the roads of Madina, the scent of musk was found from him, and it was said: The Messenger of Allah ﷺ passed through this road. In a wording: We recognized the Messenger of Allah ﷺ by the sweetness of his scent when he came toward us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گزرتے تھے ، تو اُس راستے سے مشک کی خوشبو آتی تھی ، لوگ یہ کہتے تھے : یہاں سے اللہ کے رسول ﷺ گزرے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ جب تشریف لاتے تھے ، تو آپ کی خوشبو کی پاکیزگی سے ہمیں پتہ چل جاتا تھا ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14054

Majma al-Zawaid #14054

«وَعَنْ مُعَاذٍ - يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ - قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ فَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ أَلْيَنَ مِنْ جِلْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا وَجَدْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh, meaning Ibn Jabal, رضي الله عنه, said: I was with the Prophet ﷺ on a journey and he seated me behind him. I never touched anything softer than the skin of the Messenger of Allah ﷺ, nor did I find any scent sweeter than the scent of the Messenger of Allah ﷺ. Then he mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہا تھا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوئی ، جو نبی اکرم ﷺ کی جلد سے زیادہ نرم ہو ، اور نہ ہی میں نے نبی اکرم ﷺ کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کوئی پائی ہے ........ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14055

Majma al-Zawaid #14055

«وَعَنْ أُمِّ عَاصِمٍ امْرَأَةِ فَرْقَدَ بْنِ عُتْبَةَ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مَا مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ لِتَكُونَ أَطْيَبَ مِنْ صَاحِبَتِهَا، وَمَا يَمَسُّ عُتْبَةُ الطِّيبَ إِلَّا أَنْ يَمَسَّ دُهْنًا، يَمْسَحُ لِحْيَتَهُ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، قَالُوا: مَا شَمَمْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ عُتْبَةَ، فَقُلْتُ لَهُ يَوْمًا: إِنَّا لَنَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ وَلَأَنْتَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا فَمِمَّ ذَاكَ؟ فَقَالَ: أَخَذَنِي الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَجَرَّدَ، فَتَجَرَّدْتُ وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَلْقَيْتُ ثَوْبِي عَلَى فَرْجِي، فَنَفَثَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى ظَهْرِي وَبَطْنِي، فَعَبِقَ بِي هَذَا الطِّيبُ مِنْ يَوْمَئِذٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي بَعْضِهَا: ثَلَاثُ نِسْوَةٍ وَقَالَ فِيهِ: «ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ فَبَصَقَ فِيهِمَا، فَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى بَطْنِي، وَالْأُخْرَى عَلَى ظَهْرِي». وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ عَاصِمٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAsim, wife of Farqad ibn ʿUtba, said: We were four wives with ʿUtba. Every one of us strove in perfume to be sweeter than her companion, while ʿUtba touched no perfume except oil with which he wiped his beard, yet his scent was sweeter than ours. When he went out to the people, they said: We never smelled a scent sweeter than the scent of ʿUtba. I said to him one day: We strive hard in perfume, yet you are sweeter-scented than us; from what is that. He said: A skin eruption seized me in the time of the Messenger of Allah ﷺ, so I complained of it to him. He ordered me to remove my outer garments, so I removed them and sat before him, placing my garment over my private part. He breathed into his hand, then placed his hand upon my back and my belly, and this fragrance has clung to me since that day. In a wording: Then he spread his hands and spat into them, rubbed one over the other, wiped one upon my belly and the other upon my back.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا ، جو حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں : وہ بیان کرتی ہیں : ’’ حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی ہم چار بیویاں تھیں ، ہم میں سے ہر خاتون یہ کوشش کرتی تھی کہ عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائے ، تاکہ اپنی سوکن کے مقابلے میں زیادہ خوشبو والی ہو ، اور حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کوئی خوشبو نہیں لگاتے تھے ، وہ صرف تیل لگاتے تھے ، وہ صرف اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر لیتے تھے ، لیکن ان کی خوشبو ہم سے زیادہ اچھی ہوتی تھی ، وہ جب نکل کر لوگوں کے پاس جاتے تھے ، تو لوگ یہ کہا کرتے تھے : ہم نے حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ، ایک دن میں نے ان سے کہا : ہم خوشبو لگانے میں بھرپور کوشش کرتی ہیں ، لیکن آپ کی خوشبو ہم سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، مجھے پھوڑے پھنسیاں نکل آئے ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اضافی لباس اتار دوں ، میں نے اضافی لباس اتار دیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنی شرمگاہ پر کپڑا ڈالا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک پر دم کیا ، اور پھر وہ ہاتھ میری پشت اور میرے پیٹ پر پھیرا ، تو اس دن سے یہ خوشبو میرے جسم سے پھوٹتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، ایک روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ان کی تین بیویاں تھیں .......‘‘۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ، آپ ﷺ نے اُن پر اپنا لعاب دہن ڈالا ، اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر پھیرا ، پھر ان میں سے ایک کے ذریعے میرے پیٹ پر مسح کیا ، اور دوسرے کے ذریعے میری پشت پر مسح کیا ۔‘‘ معجم اوسط کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔

14056

Majma al-Zawaid #14056

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي بِشَيْءٍ فَقَالَ: "" مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ إِذَا كَانَ غَدٌ فَتَعَالَ، فَجِئَ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ، وَآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنِّي أُجِيفُ نَاحِيَةَ الْبَابِ "". فَأَتَاهُ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ، فَجَعَلَ يَسْلِتُ الْعَرَقَ مِنْ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَتْ فَقَالَ: "" خُذْ وَمُرِ ابْنَتَكَ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَطَّيَّبَ أَنْ تَغْمِسَ هَذَا الْعُودَ فِي الْقَارُورَةِ وَتَطَّيَّبَ بِهِ "". قَالَ: فَكَانَتْ إِذَا تَطَيَّبَتْ شَمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ رَائِحَةَ الطِّيبِ فَسُمُّوا بِبَيْتِ الْمُطَّيِّبِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَلْبَسٌ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, reported that a man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have married off my daughter and I wish you would help me with something. He said: I have nothing with me, but tomorrow come with a wide-mouthed bottle and a stick from a tree, and the sign between me and you is that I close the side of the door. So he brought a wide-mouthed bottle and a stick, and the Prophet ﷺ began to wipe sweat from his forearms until it was full. He said: Take it, and tell your daughter that when she wishes to perfume herself, she should dip this stick into the bottle and perfume herself with it. He said: When she perfumed herself, the people of Madina smelled the scent of perfume, and they were named the house of the perfumed ones. > **"I have nothing with me, but tomorrow come with a wide-mouthed bottle and a stick from a tree, and the sign between me and you is that I close the side of the door."** > **"Take it, and tell your daughter that when she wishes to perfume herself, she should dip this stick into the bottle and perfume herself with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہوں ، میری یہ خواہش ہے کہ آپ اس حوالے سے میری کچھ مدد کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن کل تم آنا ، اور ایک شیشی لے کر آنا ، جس کا منہ بڑا ہو اور ساتھ درخت کی ٹہنی لے کر آنا ، میرے اور تمہارے درمیان نشانی یہ ہو گی کہ میں دروازے کے کونے کو بند کر دوں گا ، وہ شخص ایک شیشی لے کر آیا ، جس کا منہ بڑا تھا اور درخت کی ٹہنی لے کر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی کلائیوں سے پسینہ اُتار کر اس شیشی کو بھر دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ لے لو ! اور اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ جب اس نے خوشبو لگانی ہو تو یہ لکڑی اس شیشی میں ڈبوئے اور پھر اس کے ذریعے خوشبو لگا لے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون جب خوشبو لگاتی تھی ، تو اہل مدینہ اس خوشبو کو محسوس کرتے تھے اور ان کا گھر ’’ خوشبو والوں کا گھر ‘‘ مشہور ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حلبس کلبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14057

Majma al-Zawaid #14057

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ قَالَ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةً فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنَى، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلَانِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ قَالَ: "" عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ "". فَجِيءَ بِالرَّجُلَيْنِ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: "" أَمَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا؟ "". قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنَا لَا نُدْرِكُ الصَّلَاةَ قَالَ: "" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً "". فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ "". فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَدِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ فَزَاحَمْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا عَلَى صَدْرِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: "" تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn al-Aswad al-Suwaʾi, رضي الله عنه, said: I performed Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and prayed Fajr with him at Mina. When he finished his prayer, two men were behind the people who had not prayed with the people. He said: Bring me the two men. They were brought with their limbs trembling. He said: Did you not pray with us. They said: O Messenger of Allah, we were in our lodgings and thought we would not reach the prayer. He said: Do not do so; when you have prayed in your lodgings and then reach the prayer, pray, and it will be voluntary for you. One of them said: Seek forgiveness for me, O Messenger of Allah. He said: O Allah, forgive him. The people crowded upon the Messenger of Allah ﷺ, and I was that day among the strongest of men, so I pressed through until I took the hand of the Messenger of Allah ﷺ and placed it upon my chest, and I never saw anything cooler nor sweeter than the hand of the Messenger of Allah ﷺ. > **"Bring me the two men."** > **"Did you not pray with us."** > **"Do not do so; when you have prayed in your lodgings and then reach the prayer, pray, and it will be voluntary for you."** > **"O Allah, forgive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا ، میں نے آپ کی اقتداء میں ، منیٰ میں فجر کی نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو لوگوں کے پیچھے دو افراد موجود تھے ، جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت نہیں کی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کو میرے پاس لے کے آؤ ، ان دونوں کو لایا گیا ، تو ان کے اعضاء کانپ رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنی رہائشی جگہ پر تھے ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید ہم نماز تک نہیں پہنچ پائیں گے ( تو ہم نے اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لی ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو ، پھر تم باجماعت نماز کو پاؤ ، تو اس میں بھی شرکت کرو ، وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے گرد ہجوم کر دیا ، میں اُن دنوں سب سے زیادہ نوجوان اور سب سے زیادہ طاقتور تھا ، میں لوگوں کے درمیان میں سے نکلتا ہوا آیا اور میں نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا تو میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، جو نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک سے زیادہ ٹھنڈی اور زیادہ خوشبو والی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کو ان الفاظ تک نقل کیا ہے :” وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14058

Majma al-Zawaid #14058

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ «أَنَّ جَدَّتَهُ عُمَيْرَةَ بِنْتِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِيَ وَأَخَوَاتُهَا يُبَايِعْنَهُ وَهُنَّ خَمْسٌ، فَوَجَدْنَهُ يَأْكُلُ قَدِيدًا، فَمَضَغَ لَهُنَّ قَدِيدَةً، ثُمَّ نَاوَلَنِي الْقَدِيدَةَ فَمَضَغْتُهَا، كُلُّ وَاحِدَةٍ قِطْعَةٌ، فَلَقِينَ اللَّهَ وَمَا يُوجَدُ لِأَفْوَاهِهِنَّ خُلُوفٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jaʿfar ibn Mahmud ibn Maslama reported that his grandmother ʿUmayra bint Masʿud, رضي الله عنها, told him that she entered upon the Prophet ﷺ with her sisters to pledge allegiance, and they were five. They found him eating dried meat. He chewed a piece of dried meat for them, then handed me the piece, and each one chewed a portion, and they met Allah with no foulness ever found in their mouths.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعفر بن محمود بن مسلمہ بیان کرتے ہیں : اُن کی دادی سیدہ عمیرہ بنت مسعود رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے : ’’ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، وہ تھیں اور اُن کے ساتھ ان کی بہنیں تھیں ، ان خواتین نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، وہ پانچ خواتین تھیں ، وہ کہتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ قدید کھا رہے تھے ( اس سے مراد خشک گوشت ہے ) نبی اکرم ﷺ نے اُن خواتین کے لئے گوشت کا ایک ٹکڑا چبایا اور پھر وہ ٹکڑا مجھے دے دیا ، تو ان میں سے ہر ایک خاتون نے اس ٹکڑے کو چبایا ، تو وہ خواتین جب تک زندہ رہیں ، اُن کے منہ سے خوشبو آتی رہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔