Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 5

Book of Signs of Prophethood

Hadith 13979–14018

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13979

Majma al-Zawaid #13979

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ: الْوِتْرُ وَالْنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى».

EnglishUnverified translation

In a narration from Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, also: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Three are obligations upon me and voluntary for you: witr, sacrifice, and Duha prayer. > **"Three are obligations upon me and voluntary for you: witr, sacrifice, and Duha prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تین چیزیں ہیں ، جو میرے لئے فرض ہیں اور تمہارے لئے نفل ہیں ، وتر ، قربانی اور چاشت کی نماز ۔‘‘

13980

Majma al-Zawaid #13980

وَفِي رِوَايَةٍ: «أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَالْوِتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ»، رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادٍ: " «ثَلَاثٌ هُنَّ فَرَائِضُ» "، أَبُو خَبَّابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي بَقِيَّةِ أَسَانِيدِهَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration: I have been commanded with two rakʿas of Duha and witr, and they have not been prescribed as obligation upon you. > **"I have been commanded with two rakʿas of Duha and witr, and they have not been prescribed as obligation upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مجھے چاشت کی دو رکعات ادا کرنے کا ، اور وتر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور تم پر یہ لازم قرار نہیں دیے گئے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایات اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، اور ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تین چیزیں ہیں ، جو مجھ پر فرض ہیں .......‘‘۔ ان کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، جو امام احمد کے نقل کردہ ہیں ، وہ صحیح کے رجال ہیں اور ان کی بقیہ اسانید میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13981

Majma al-Zawaid #13981

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرِيضَةٌ وَهُمْ لَكُمْ سُنَّةٌ: الْوِتْرُ وَالسِّوَاكُ وَقِيَامُ اللَّيْلِ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha, رضي الله عنها, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: Three are obligatory upon me and sunnah for you: witr, siwak, and standing in night prayer. > **"Three are obligatory upon me and sunnah for you: witr, siwak, and standing in night prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں ، اور وہ تمہارے لئے سنت ہیں ، وتر ، مسواک کرنا اور رات کو نوافل ادا کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن صنعانی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

13982

Majma al-Zawaid #13982

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا؟ قَالَ: "" قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ فَشَغَلَنِي، عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَقْضِيهُمَا إِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: "" لَا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِمَعْنَاهُ خَالِيًا عَنْ قَوْلِهَا: أَفَنِقْضِيهُمَا إِذَا فَاتَتْنَا؟، قَالَ: "" لَا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, رضي الله عنها, said: The Messenger of Allah ﷺ prayed ʿAsr, then entered my house and prayed two rakʿas. I said: O Messenger of Allah, you have prayed a prayer you did not used to pray. He said: Wealth came to me and distracted me from two rakʿas I used to pray after Zuhr, so I prayed them now. I said: O Messenger of Allah, shall we make them up when we miss them. He said: No. > **"Wealth came to me and distracted me from two rakʿas I used to pray after Zuhr, so I prayed them now."** > **"No."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے ، آپ نے دو رکعت ادا کیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جو آپ پہلے ادا نہیں کرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پاس کچھ مال آیا ہوا تھا ( اس کو تقسیم کرنے کی وجہ سے ) مصروفیت کے باعث ، میں یہ دو رکعات ادا نہیں کر سکا ، جنہیں میں ظہر کے بعد ادا کرتا تھا ، تو میں نے اب وہ دونوں ادا کی ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہماری یہ رہ جائیں ، تو کیا ہم بھی ان کی قضاء کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں !‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس مضمون کی ایک روایت مذکور ہے ، جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ اگر یہ دونوں رہ جائیں ، تو کیا ہم بھی اس کی قضاء کریں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں !‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13983

Majma al-Zawaid #13983

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ {نَافِلَةً لَكَ} [الإسراء: 79] قَالَ: «إِنَّمَا كَانَتِ النَّافِلَةُ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: فِي قَوْلِهِ: {وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ} [الإسراء: 79] وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً وَلَكُمْ فَضِيلَةً، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama, رضي الله عنه, concerning His saying, as extra devotion for you, Israʾ 79, said: The extra devotion was peculiar to the Messenger of Allah ﷺ. In another wording concerning, And in the night stand in tahajjud as extra devotion for you: it was supererogatory for the Prophet ﷺ and a merit for you. > **"And in the night stand in tahajjud as extra devotion for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تمہارے لئے نفل ہے .......‘‘۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ خاص طور پر نبی اکرم ﷺ کے لئے نفل تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ رات کے وقت تم تہجد پڑھو ! یہ تمہارے لئے نفل ہو گا ۔‘‘ انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” کہ یہ نماز نبی اکرم ﷺ کے لئے نفل تھی ، اور تمہارے لئے فضیلت ہے ۔‘‘ امام احمد کی بعض اسانید اور دیگر حضرات کی بعض اسانید ’’ حسن ‘‘ ہیں ۔

13984

Majma al-Zawaid #13984

وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: «سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ [وَأَنَا شَاهِدَةٌ] عَنْ [وَصْلِ] صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لَهَا: أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، كَانَ عَمَلُهُ لَهُ نَافِلَةً»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿadha reported: A woman asked ʿAʾisha, رضي الله عنها, while I was present, about the continuous fasting of the Messenger of Allah ﷺ, so ʿAʾisha said to her: Do you act like his act. His past and future sins have been forgiven, and his deed was supererogatory for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذہ ( نامی خاتون ) بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : میں اس وقت وہاں موجود تھی ، اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کے صوم وصال کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُس سے فرمایا : کیا تم نبی اکرم ﷺ کے عمل کی طرح عمل کرنا چاہتی ہو ؟ اُن کے تو گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت ہو چکی ہے ، اور ان کا عمل ان کے لئے نفل ہوتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔

13985

Majma al-Zawaid #13985

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ قَالَ: " كُلُوا ". وَلَمْ يَأْكُلْ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, said: When food from other than his household was brought to the Messenger of Allah ﷺ, he would ask about it; if it was said it was a gift, he ate, and if it was said it was charity, he said: Eat, and he did not eat. > **"Eat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس جب آپ کے گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تھا تو آپ ﷺ اس کے بارے میں دریافت کر لیتے ، اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ تحفہ ہے ، تو آپ اسے کھا لیتے تھے اور اگر یہ کہا جاتا : کہ یہ صدقہ ہے ، تو آپ ﷺ فرماتے تھے : ( تم لوگ ) کھا لو ! اور آپ ﷺ خود اسے نہیں کھاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13986

Majma al-Zawaid #13986

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَصْعَةٍ فَوَجَدَ فِيهَا رِيحَ ثَوْمٍ فَلَمْ يَذُقْهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَذُقْهَا، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ، قَالَ: "" إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثَوْمٍ ""، قَالَ: تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَمْ تَأْكُلْ؟ قَالَ: "" إِنِّي يَأْتِينِي الْمَلَكُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura, رضي الله عنه, reported that when food was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he ate from it, he would send its remainder to Abu Ayyub, رضي الله عنه, and Abu Ayyub would place his fingers where he saw the fingers of the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ was brought a bowl in which he found the smell of garlic, so he did not taste it and sent it to Abu Ayyub. He looked and saw no trace of the fingers of the Prophet ﷺ, so he did not taste it, then came to him and said: O Messenger of Allah, I did not see the trace of your fingers in it. He said: I found in it the smell of garlic. He said: Do you send me what you do not eat. He said: An angel comes to me. > **"I found in it the smell of garlic."** > **"An angel comes to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس جب کھانا آتا تھا ، تو آپ کھا لیتے تھے اور جو بچ جاتا تھا ، وہ آپ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیتے تھے ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنی انگلیاں وہاں رکھتے تھے ، جہاں انہیں نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کے نشان نظر آتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پیالہ لایا گیا ، آپ نے اس میں لہسن کی بو محسوس کی ، تو اسے چکھا بھی نہیں ، اور وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، انہوں نے دیکھا کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کی انگلیوں کا نشان نظر نہیں آ رہا ، تو انہوں نے بھی اسے نہیں چکھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی انگلیوں کا نشان اس کھانے میں نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس میں سے لہسن کی بو محسوس ہوئی تھی ، تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ آپ نے مجھے بھجوا دیا ، جو آپ نے خود نہیں کھایا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس فرشتہ آتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13987

Majma al-Zawaid #13987

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ «أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرٌ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ! قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، فَقَالَ: إِذَنِ اجْلِسْ، وَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ مِنْ كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدِ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَا بِهِ، فَقَالَا: إِنَّكَ قَادِمُ الْمَدِينَةِ، وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَائْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ، فَإِنْ أَبَى إِلَّا الْفِدَاءَ فَافْتَدِهِ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ قَدْ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ، فَقَالَ: "" تَعْرِفُهُ؟ ""، فَقَالَ: أَعْرِفُ نَسَبَهُ، فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ، فَقَالَ: "" هُوَ ذَا فَائْتِ بِهِ أَبَاهُ ""، قُلْتُ: الْفِدَاءُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلَ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ آلِ إِسْمَاعِيلَ ""، [ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كِتْفِي] ثُمَّ قَالَ: "" لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا ""، قُلْتُ: وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ رَأَيْتَهُمْ هَهُنَا، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هُنَا وَمَرَّةً إِلَى هُنَا ""، فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، رَأَيْتُهُمُ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعِمْرَانُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn al-Dabbi reported that he came to Basra while ʿAbd Allah ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, was governor, and there was a man standing in the shade of the palace saying: Allah and His Messenger have spoken truth, Allah and His Messenger have spoken truth, adding nothing to that. I approached him and said: You have often said, Allah and His Messenger have spoken truth. He said: By Allah, if you wish I shall inform you. I said: Yes. He said: Then sit. He said: I came to the Prophet ﷺ in Madinah from such and such place, while two elders of the tribe had a son who had gone and joined him, so they said: You are going to Madinah, and a son of ours has joined this man, so go to him and seek him from him, and if he refuses except for ransom, then ransom him. I came to Madinah and entered upon the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, two elders of the tribe have commanded me to seek a son of theirs with you. He said: Do you know him. He said: I know his lineage. He called the boy and he came, then said: Here he is, so take him to his father. I said: The ransom, O Prophet of Allah. He said: It is not proper for us, the household of Muhammad, to eat the price of anyone from the children of Ismail. Then he struck my shoulder and said: I fear for Quraysh nothing except itself. I said: Why, O Prophet of Allah. He said: If your life is prolonged you will see them here, until you see people among them like sheep between two watering troughs, once here and once there. So now I see people seeking permission from Ibn ʿAbbas, whom I saw this year seeking permission from Muʿawiyah, and I remembered the saying of the Prophet ﷺ. > **"Do you know him."** > **"Here he is, so take him to his father."** > **"It is not proper for us, the household of Muhammad, to eat the price of anyone from the children of Ismail."** > **"I fear for Quraysh nothing except itself."** > **"If your life is prolonged you will see them here, until you see people among them like sheep between two watering troughs, once here and once there."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بن حصین ضبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بصرہ آئے ، وہاں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے ، وہاں محل کے سائے میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، اور یہ کہہ رہا تھا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ، وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس گیا ، میں نے کہا : تم بکثرت یہ بات کہہ رہے ہو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کو اس بارے میں بتا دیتا ہوں ، میں نے کہا : ٹھیک ہے ، اس نے کہا : پھر آپ بیٹھ جائیں ، اس نے بتایا : ’’ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں فلاں فلاں جگہ سے آیا تھا ، ہمارے قبیلے کے دو بوڑھوں کا لڑکا گیا اور نبی اکرم ﷺ سے جا ملا تھا ، ان دونوں نے کہا : تم مدینہ منورہ جاؤ ! ہمارا بیٹا ان صاحب سے جا کے مل گیا ہے ، تم ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان سے اس لڑکے کا مطالبہ کرو ، اگر وہ فدیہ لینا چاہیں ، تو تم انہیں فدیہ بھی دے دینا ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے قبیلے کے دو بوڑھے افراد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں ان کے بیٹے کو آپ کے ہاں تلاش کروں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ راوی نے کہا : میں اس کا نسب پہچانتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکے کو بلوایا اور وہ آ گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ہے وہ لڑکا ، تم اسے اس کے باپ کے پاس لے جاؤ ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کا فدیہ کیا ہو گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمارے لئے یعنی آل محمد کے لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اولاد اسماعیل میں سے کسی کی قیمت کھائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کے اپنے حوالے سے ہی اندیشہ ہے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تم اُن ( قریش ) کو دیکھو گے کہ وہ یہاں ( حکمران ) ہوں گے اور تم دوسرے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اُن کے درمیان یوں ہوں گے ، جیسے کوئی بکری ، دو حوضوں کے درمیان ہوتی ہے ، کبھی وہ اِدھر جاتی ہے ، کبھی اُدھر جاتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، اور پھر میں نے اُنہی لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آ گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور عمران نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13988

Majma al-Zawaid #13988

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنَامُ مُسْتَلْقِيًا حَتَّى يَنْفُخَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ»، قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ: مُسْتَلْقِيًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: يَنَامُ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah, meaning Ibn Masʿud, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ would sleep lying on his back until he snored, then rise and pray without performing wudu.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ چت لیٹ کر سو رہے تھے ، آپ خراٹے لینے لگے ، پھر آپ اُٹھے اور آپ نے نماز ادا کر لی ، اور دوبارہ وضو نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ’’ چت لیٹ کر .......‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” آپ سجدے کی حالت میں سو گئے .......‘‘۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13989

Majma al-Zawaid #13989

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: «رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

A man said: I saw the Prophet of Allah ﷺ sleep until he snored, then pray without performing wudu.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سو گئے ، یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے ، پھر آپ ﷺ نے نماز ادا کی ، اور آپ نے دوبارہ وضو نہیں کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13990

Majma al-Zawaid #13990

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿAmr, رضي الله عنهما, reported that the Messenger of Allah ﷺ would not shake hands with women at the pledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بیعت لیتے ہوئے خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13991

Majma al-Zawaid #13991

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Asmaʾ bint Yazid, رضي الله عنها, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I do not shake hands with women. > **"I do not shake hands with women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں “۔ یہ روایت امام احمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13992

Majma al-Zawaid #13992

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَا تُخْلِفُنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ - أَوْ قَالَ: - لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, رضي الله عنه, and Abu Hurayrah, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, I take with You a covenant which You will not break, for I am only a man; whichever of the believers I harm or revile, or he said, curse, or flog, then make it for him purification, prayer, and nearness by which You bring him near to You on the Day of Resurrection. > **"O Allah, I take with You a covenant which You will not break, for I am only a man; whichever of the believers I harm or revile or curse or flog, then make it for him purification, prayer, and nearness by which You bring him near to You on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں یہ عہد لیتا ہوں ، جس کی تو خلاف ورزی نہیں کرے گا ، میں ایک انسان ہوں میں ، جس بھی مؤمن شخص کو اذیت پہنچاؤں ، یا اُسے برا کہہ دوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جس پر میں لعنت کروں ، یا اسے کوڑے لگاؤں ، تو تو اس چیز کو اس شخص کے لئے پاکیزگی ، رحمت اور قربت کا ذریعہ بنا دینا ، جس کی وجہ سے تو قیامت کے دن اُسے اپنی بارگاہ کا قرب نصیب کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13993

Majma al-Zawaid #13993

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَجُلًا وَقَالَ لَهَا: " احْتَفِظِي بِهِ "، فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " يَا حَفْصَةُ، مَا فَعَلَ الرَّجُلُ؟ "، قَالَتْ: غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ "، فَقَالَتْ بِيَدِهَا: هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ؟ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ قَبْلُ [لِي] كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " ضَعِي يَدَكِ، فَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ entrusted a man to Hafsa bint ʿUmar, رضي الله عنهما, and said to her: Guard him. Hafsa was heedless and the man left. The Messenger of Allah ﷺ entered and said: O Hafsa, what did the man do. She said: I was heedless of him, O Messenger of Allah, and he left. The Messenger of Allah ﷺ said: May Allah sever your hand. She gestured with her hand thus. Then the Messenger of Allah ﷺ entered and said: What is the matter with you, O Hafsa. She said: O Messenger of Allah, you said such and such about me before. He said: Lower your hand, for I asked my Lord, blessed and exalted, that whomever of my Ummah I supplicate against, He make it forgiveness for him. > **"Guard him."** > **"O Hafsa, what did the man do."** > **"May Allah sever your hand."** > **"What is the matter with you, O Hafsa."** > **"Lower your hand, for I asked my Lord, blessed and exalted, that whomever of my Ummah I supplicate against, He make it forgiveness for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کو ایک شخص دیا اور ان سے فرمایا : تم اس کا خیال رکھنا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اس سے غافل ہوئیں اور وہ شخص چلا گیا ، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : اے حفصہ ! اس شخص کا کیا حال ہے ؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے غافل ہوئی تو وہ چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ کاٹ دے ، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ( یا اپنے ہاتھ اوپر کر لیے ) ، پھر بعد میں نبی اکرم ﷺ گھر میں تشریف لائے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے حفصہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے پہلے میرے بارے میں یہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اپنا ہاتھ نیچے کر لو ! میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے ، کہ اپنی امت کے جس بھی فرد کے خلاف ، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں ، تو اُس دعا کو اس شخص کے لئے مغفرت کا باعث بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13994

Majma al-Zawaid #13994

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى غَمُّوهُ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَأَرْهَقُوهُ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَنِ الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ، قَالَ: "" اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ ""، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْقَوْمُ، قَالَ: "" كَلَّا -[وَاللَّهِ]- يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، إِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ، قُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً»، قُلْتُ: لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾisha, رضي الله عنها, said: Delegations of the Arabs crowded upon the Messenger of Allah ﷺ until they distressed him, and the Muhajirun stood to relieve him, until he stood at the threshold of ʿAʾisha and they pressed him, so he pulled his cloak from their hands and leapt over the threshold and entered, saying: O Allah, curse them. ʿAʾisha said: O Messenger of Allah, the people are ruined. He said: No, by Allah, O daughter of Abu Bakr, I have stipulated upon my Lord a condition that has no breach. I said: I am only a man, I am constrained by what constrains men, so whichever of the believers a hasty word of mine reaches, make it expiation for him. > **"O Allah, curse them."** > **"No, by Allah, O daughter of Abu Bakr, I have stipulated upon my Lord a condition that has no breach. I said: I am only a man, I am constrained by what constrains men, so whichever of the believers a hasty word of mine reaches, make it expiation for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عربوں کے وفود بکثرت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، یہاں تک کہ آپ پریشانی کا شکار ہو گئے ، مہاجرین اُٹھ کر آپ کے پاس آئے اور ان لوگوں کو آپ سے پرے کیا ، یہاں تک کہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چوکھٹ کے پاس کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے اپنی چادر چھڑوائی اور جلدی سے چوکھٹ پار کر کے اندر داخل ہو گئے ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان پر لعنت کر ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں ! اللہ کی قسم ! اے ابوبکر کی بیٹی ! میں نے ، اپنے پروردگار کے ساتھ یہ شرط طے کی ہے ، جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی ، میں نے یہ کہا ہے : کہ میں ایک انسان ہوں ، میں اُسی طرح تنگی کا شکار ہو جاتا ہوں ، جس طرح کوئی انسان تنگی کا شکار ہوتا ہے ، تو مؤمنین میں سے جس کی طرف سے جلدبازی میں کوئی چیز چلی جائے تو اُس چیز کو اُس شخص کے لئے کفارہ بنا دینا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، تاہم وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ، البتہ محمد بن جعفر بن زبیر نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

13995

Majma al-Zawaid #13995

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: " إِنِّي أَتَغَيَّظُ عَلَيْكُمْ وَأَعْذُرُكُمْ، ثُمَّ أَدْعُو اللَّهَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ: اللَّهُمَّ مَا لَعَنْتُهُمْ أَوْ سَبَبْتُهُمْ أَوْ تَغَيَّظْتُ عَلَيْهِمْ، فَاجْعَلْهُ لَهُمْ بَرَكَةً وَرَحْمَةً وَمَغْفِرَةً وَصَلَاةً، فَإِنَّهُمْ أَهْلِي وَأَنَا لَهُمْ نَاصِحٌ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samura ibn Jundub, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ would say to us: I become angry with you and I excuse you, then I supplicate to Allah between me and Him: O Allah, whomever I have cursed or reviled or been angry with, make it for them blessing, mercy, forgiveness, and prayer, for they are my family and I am a sincere adviser to them. > **"I become angry with you and I excuse you, then I supplicate to Allah between me and Him: O Allah, whomever I have cursed or reviled or been angry with, make it for them blessing, mercy, forgiveness, and prayer, for they are my family and I am a sincere adviser to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : ’’ میں تم پر غصے ہوتا ہوں ، پھر میں تم لوگوں سے معذرت بھی کر لیتا ہوں ، پھر میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اس کے درمیان معاملے کے حوالے سے دعا کرتا ہوں ، کہ اے اللہ ! جس پر میں نے لعنت کی ہو ، یا جس کو برا کہا ہو ، یا جس پر غصے کا اظہار کیا ہو ، تو اُس چیز کو ان کے لئے برکت ، رحمت ، مغفرت اور فضل کا باعث بنا دے ، کیونکہ یہ لوگ میرے اہل ہیں اور میں ان کا خیرخواہ ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13996

Majma al-Zawaid #13996

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «اللَّهُمَّ مَنْ لَعَنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً لَهُ إِلَيْكَ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ حَالِ أَبِي السَّوَّارِ فِي مَنَاقِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah, رضي الله عنه, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: O Allah, whomever I cursed in Jahiliyyah and he then entered Islam, make that nearness for him to You. > **"O Allah, whomever I cursed in Jahiliyyah and he then entered Islam, make that nearness for him to You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ، جس پر لعنت کی ہو اور پھر وہ مسلمان ہو گیا ہو ، تو تُو اس چیز کو اس شخص کے لئے اپنی بارگاہ میں مقرب ہونے کا باعث بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوسوار رضی اللہ عنہ کی حالت کے بارے میں حدیث اُن کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

13997

Majma al-Zawaid #13997

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَأَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، فَمَنْ لَعَنْتُهُ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl ʿAmir ibn Wathila, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, I am only a man, I become angry as men become angry and I am pleased as men are pleased, so whomever of my Ummah I have cursed, make it for him purification and mercy. > **"O Allah, I am only a man, I become angry as men become angry and I am pleased as men are pleased, so whomever of my Ummah I have cursed, make it for him purification and mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! بے شک میں ایک انسان ہوں ، میں اُسی طرح غصے میں آ جاتا ہوں ، جس طرح ایک انسان غصے میں آ جاتا ہے ، اور میں بھی اُسی طرح راضی ہو جاتا ہوں ، جس طرح کوئی انسان راضی ہوتا ہے ، تو اپنی امت کے جس فرد پر میں نے لعنت کی ہو ، تو اُس ( لعنت ) کو اُس شخص کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13998

Majma al-Zawaid #13998

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَثَيَمٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، أَخْبِرْنِي عَنِ النَّفَرِ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ: مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً ""؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿUthman ibn Khuthaym said: I entered upon Abu al-Tufayl ʿAmir ibn Wathila, رضي الله عنه, and found him in good spirits, so I said: O Abu al-Tufayl, inform me about the people whom the Messenger of Allah ﷺ cursed. He was about to inform me, when his wife Sawda said: Stop, O Abu al-Tufayl, has it not reached you that the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, I am only a man, so whichever servant among the believers I supplicate against, make it for him purification and mercy. > **"O Allah, I am only a man, so whichever servant among the believers I supplicate against, make it for him purification and mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے مزاج کو خوشگوار پایا ، تو میں نے کہا : اے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ! آپ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتائیے جن پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت کی تھی ، وہ مجھے اُن کے بارے میں بتانے ہی والے تھے کہ اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے ابوطفیل ! رک جائیے ! کیا آپ کو یہ بات پتہ نہیں چلی ہے ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں ایک انسان ہوں ، مؤمنین میں سے جس شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ، تو تُو اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور ان کی سند حسن ہے ۔

13999

Majma al-Zawaid #13999

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السُّوقِ إِذِ امْرَأَةٌ أَخَذَتْ بِعِنَانِ دَابَّتِهِ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَوْجِي لَا يَقْرَبُنِي فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَمَرَّ زَوْجُهَا فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا لَكَ وَلَهَا؟ جَاءَتْ تَشْكُو مِنْكَ حَقًّا، تَشْكُو مِنْكَ أَنَّكَ لَا تَقْرَبُهَا ""، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ إِنِّ عَهْدِي بِهَا لِهَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَبَكَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَتْ: كَذِبٌ فَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِهِ وَرَأْسِهَا فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَدْنِ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ""، قَالَ جَابِرٌ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ ثُمَّ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسُّوقِ فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ تَحْمِلُ أَدَمًا فَلَمَّا رَأَتْهُ طَرَحَتِ الْأَدَمَ وَأَقْبَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خُلِقَ مِنْ بَشَرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ إِلَّا أَنْتَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, رضي الله عنه, said: While we were with the Messenger of Allah ﷺ in the market, a woman seized the bridle of his mount while he was upon a donkey and said: O Messenger of Allah, my husband does not approach me, so separate me from him. Her husband passed, so the Prophet ﷺ called him and said: What is the matter with you and her. She came complaining of you truthfully, complaining that you do not approach her. He said: O Messenger of Allah, by the One who honoured you, my last intimacy with her was this night. The woman wept and said: He lies, separate me from him, for he is among the most hateful of Allah's creation to me. The Messenger of Allah ﷺ smiled, then took his head and her head and joined them and said: O Allah, bring each one of them close to his companion. Jabir said: We remained as long as Allah willed, then the Messenger of Allah ﷺ passed through the market and there was a woman carrying leather; when she saw him she threw the leather and came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, by the One who sent you with truth, no human is more beloved to me than him except you. > **"What is the matter with you and her. She came complaining of you truthfully, complaining that you do not approach her."** > **"O Allah, bring each one of them close to his companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بازار میں موجود تھے ، اسی دوران ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے جانور کی لگام پکڑ لی ، نبی اکرم ﷺ اس وقت ایک گدھے پر سوار تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا ہے ، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کروا دیں ، پھر اس عورت کا شوہر گزرا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تمہارا اس عورت کے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟ وہ تمہاری شکایت کرنے کے لئے آئی تھی اور وہ شکایت کر رہی تھی کہ تم اس کے قریب نہیں جاتے ہو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، میں نے گزشتہ رات اس عورت کے ساتھ قربت کی ہے ، وہ عورت رونے لگی اور بولی : یہ غلط کہہ رہا ہے ، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کروا دیں ، یہ میرے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ فرد ہے ، تو نبی اکرم ﷺ یہ مسکرا دیے ، پھر آپ نے اس مرد کے سر اور اس عورت کے سر کو پکڑ کر انہیں ساتھ ملایا اور یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! ان میں سے ہر ایک کو ، دوسرے کے قریب کر دے ۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کچھ عرصہ گزرا ، پھر نبی اکرم ﷺ کا گزر اس بازار سے ہوا ، تو وہاں وہ عورت موجود تھی ، اس نے چمڑا اُٹھایا ہوا تھا ، جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو اس نے چمڑا ایک طرف رکھا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب اس شخص ( یعنی میرے شوہر ) سے زیادہ کوئی بھی فرد ، میرے نزدیک زیادہ محبوب نہیں ہے ، البتہ آپ ﷺ کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف یوسف بن محمد بن منکدر کا معاملہ مختلف ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

14000

Majma al-Zawaid #14000

عَنْ حُذَيْفَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ أَصَابَتْهُ وَأَصَابَتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ».

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, رضي الله عنه, reported that when the Prophet ﷺ supplicated for a man, it reached him, his child, and his grandchild.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کے لئے دعا کرتے تھے ، تو وہ دعا اسے بھی نصیب ہوتی تھی ، اس کی اولاد کو بھی نصیب ہوتی تھی ، اور اس کی اولاد کی اولاد کو بھی نصیب ہوتی تھی ۔

14001

Majma al-Zawaid #14001

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَيْضًا: «أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنٍ لِحُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

In a narration from Hudhayfah, رضي الله عنه, also: The prayer of the Messenger of Allah ﷺ reaches a man, his child, and his grandchild.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی دعا آدمی تک ، اس کی اولاد تک اور اس کی اولاد کی اولاد تک پہنچتی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں ان کے صاحبزادے سے واقف نہیں ہوں ۔

14002

Majma al-Zawaid #14002

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فَأَرَادَ الْقِيَامَ، فَقَامَ غُلَامٌ فَتَنَاوَلَ نَعْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَرَدْتَ رِضَا رَبِّكَ؟ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ ""، فَكَانَ لِذَلِكَ الْغُلَامِ نَحْوٌ فِي الْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ was sitting in a circle and intended to rise, so a boy stood and handed him his sandals. The Messenger of Allah ﷺ said: Did you seek the pleasure of your Lord. May Allah be pleased with you. That boy then attained distinction in Madinah until he was martyred. > **"Did you seek the pleasure of your Lord. May Allah be pleased with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک حلقے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا ، تو ایک لڑکا کھڑا ہوا ، اس نے آپ کے جوتے آپ کے سامنے رکھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی رضا کا ارادہ کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : تو مدینہ منورہ میں اس لڑکے کو بعد میں نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ، یہاں تک کہ وہ بعد میں شہید بھی ہوا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیفہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

14003

Majma al-Zawaid #14003

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِغُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: "" نَاوِلْنِي نَعْلِي ""، فَقَالَ الْغُلَامُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي اتْرُكْنِي حَتَّى أَجْعَلَهَا أَنَا فِي رِجْلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ هَذَا يَتَرَضَّاكَ فَارْضَ عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ one day said to a boy of the Ansar: Hand me my sandals. The boy said: O Prophet of Allah, may my father and mother be ransom for you, leave me until I place them upon your feet myself. The Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, this servant of Yours seeks Your pleasure, so be pleased with him. > **"Hand me my sandals."** > **"O Allah, this servant of Yours seeks Your pleasure, so be pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے سے کہا : میرا جوتا مجھے پکڑا دو ! اس لڑکے نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہ آپ کے پاؤں میں پہنا دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تیرا یہ بندہ تیری رضا کا طلب گار ہے ، تو اس سے راضی ہو جا ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

14004

Majma al-Zawaid #14004

وَعَنْ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ «سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَرْحَمُهُ اللَّهُ "". فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ، فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا. وَقَدْ تَقَدَّمَ سَمَاعُهُ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Dahr al-Aslami, رضي الله عنه, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say on his march to Khaybar to ʿAmir ibn al-Akwaʿ, رضي الله عنه, the hadith, until he said: The Messenger of Allah ﷺ said: May Allah have mercy on him. ʿUmar, رضي الله عنه, said: It is assured, by Allah, O Messenger of Allah, if only you had let us benefit by him. He was then killed as a martyr on the day of Khaybar. > **"May Allah have mercy on him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت دہر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو خیبر کی طرف سفر کے دوران ، حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم اس شخص کے لئے شہادت ) واجب ہو گئی ہے ، اگر آپ ہمیں اس سے نفع لینے دیتے ( یعنی اس کی زندگی کی دعا کرتے ) تو مناسب تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ۔ اس سے پہلے یہ روایت غزوہ خیبر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14005

Majma al-Zawaid #14005

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي: غُفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَصَاحِبُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ said: I have been favoured over the prophets with six, which none before me was given: my past and future sins were forgiven, spoils were made lawful for me though not lawful for anyone before me, my Ummah was made the best of nations, the earth was made for me a mosque and purification, I was given al-Kawthar, I was aided by dread, and by the One in Whose Hand is my soul, your companion is the bearer of the banner of praise on the Day of Resurrection, beneath it Adam and those below him. > **"I have been favoured over the prophets with six, which none before me was given: my past and future sins were forgiven, spoils were made lawful for me though not lawful for anyone before me, my Ummah was made the best of nations, the earth was made for me a mosque and purification, I was given al-Kawthar, I was aided by dread, and by the One in Whose Hand is my soul, your companion is the bearer of the banner of praise on the Day of Resurrection, beneath it Adam and those below him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے دیگر انبیاء کرام پر چھ حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، یہ چیزیں مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، میرے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی گئی ہے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا ، میری امت کو تمام امتوں سے بہتر بنایا گیا ، میرے لئے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ، مجھے کوثر عطا کیا گیا ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تمہارے آقا قیامت کے دن ’’ لواء الحمد ‘‘ والے فرد ہوں گے ، جس ( جھنڈے ) کے نیچے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

14006

Majma al-Zawaid #14006

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ. وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ وَلَمْ يَطْعَمْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ دَعْوَةً فَتَعَجَّلَهَا وَإِنِّي أَخَّرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ بَالِغَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been given five which no prophet before me was given: I was sent to the red and the black, while a prophet would be sent only to his people; I was aided by dread over a month's journey; spoils were granted to me though none before me consumed them; the earth was made for me purification and mosque; and every prophet was given a supplication which he hastened, while I deferred my supplication as intercession for my Ummah, and it will reach, if Allah wills, whoever dies not associating anything with Allah. > **"I have been given five which no prophet before me was given: I was sent to the red and the black, while a prophet would be sent only to his people; I was aided by dread over a month's journey; spoils were granted to me though none before me consumed them; the earth was made for me purification and mosque; and every prophet was given a supplication which he hastened, while I deferred my supplication as intercession for my Ummah, and it will reach, if Allah wills, whoever dies not associating anything with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ، مجھے تمام سفید فام اور سیاہ فام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ پہلے ہر نبی کو اُس کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا ، ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے مال غنیمت عطا کیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا ، میرے لئے تمام زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا اور مجھ سے پہلے ہر نبی کو ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا گیا ، اور اُس نبی نے وہ دعا کر لی ، لیکن میں نے اپنی مخصوص دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے مؤخر کر دیا ، اور اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ ہر اس شخص کو نصیب ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا ، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

14007

Majma al-Zawaid #14007

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِطُولِهِ فِي النِّكَاحِ. وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿAmr, رضي الله عنهما, reported from the Prophet ﷺ: I have been given the strength of forty in grip and intimacy. > **"I have been given the strength of forty in grip and intimacy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ گرفت اور صحبت کرنے کے حوالے سے ، مجھے چالیس افراد کی قوت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ طویل حدیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے ، اس میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14008

Majma al-Zawaid #14008

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِأَرْبَعٍ: السَّخَاءِ، وَالشَّجَاعَةِ، وَكَثْرَةِ الْجِمَاعِ، وَشِدَّةِ الْبَطْشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas, رضي الله عنه, said: I have been favoured over people with four: generosity, courage, abundant intimacy, and strength of grip. > **"I have been favoured over people with four: generosity, courage, abundant intimacy, and strength of grip."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ مجھے دوسرے لوگوں پر چار حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، سخاوت ، بہادری ، بکثرت صحبت کرنے کی صلاحیت اور مضبوطی سے پکڑنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

14009

Majma al-Zawaid #14009

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَصْلَتَيْنِ: كَانَ شَيْطَانِي كَافِرًا فَأَعَانَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَنَسِيتُ الْخَصْلَةَ الْأُخْرَى» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ صِرْمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ عِصْمَتِهِ مِنَ الْقَرِينِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been favoured over the prophets with two traits: my satan was a disbeliever, so Allah aided me against him until he submitted. The narrator said: I forgot the other trait. > **"I have been favoured over the prophets with two traits: my satan was a disbeliever, so Allah aided me against him until he submitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے دیگر انبیاء پر دو حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، میرا شیطان کافر تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی ، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔‘‘ حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں : دوسری بات میں بھول گیا ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن صرمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس موضوع کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ’’ قرین ‘‘ سے محفوظ تھے ۔

14010

Majma al-Zawaid #14010

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ بِهَذَا الدَّمِ فَأَهْرِيقَهُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ أَحَدٌ "". فَلَمَّا بَرَزْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَدْتُ إِلَى الدَّمِ فَحَسَوْتُهُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا صَنَعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ "". قَالَ: جَعَلْتُهُ فِي مَكَانٍ ظَنَنْتُ أَنَّهُ خَافٍ عَنِ النَّاسِ قَالَ: "" فَلَعَلَّكَ شَرِبْتَهُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" وَمَنْ أَمَرَكَ أَنْ تَشْرَبَ الدَّمَ؟ وَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ وَوَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُنَيْدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn al-Zubayr, رضي الله عنهما, reported that he came to the Prophet ﷺ while he was being cupped, and when he finished he said: O ʿAbd Allah, take this blood and pour it where no one sees it. When I went out of sight of the Messenger of Allah ﷺ, I took the blood and drank it. When I returned to the Prophet ﷺ, he said: What did you do, O ʿAbd Allah. He said: I placed it where I thought it hidden from people. He said: Perhaps you drank it. He said: Yes. He said: Who commanded you to drink blood. Woe to you from people and woe to people from you. > **"O ʿAbd Allah, take this blood and pour it where no one sees it."** > **"What did you do, O ʿAbd Allah."** > **"Perhaps you drank it."** > **"Who commanded you to drink blood. Woe to you from people and woe to people from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو آپ ﷺ پچھنے لگوا رہے تھے ، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ ! یہ خون لے جاؤ ، اور اسے ایسی جگہ پر بہانا جہاں کوئی اسے نہ دیکھ سکے ، راوی کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم ﷺ کی نگاہ سے اوجھل ہوا ، تو میں نے اس خون کو پی لیا ، جب میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! تم نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اس کو ایک ایسی جگہ پر رکھ دیا ہے کہ جہاں کے بارے میں مجھے یہ گمان ہے کہ وہ لوگوں سے پوشیدہ رہے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شاید تم نے اُسے پی لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کس نے اس بات کا حکم دیا تھا کہ تم خون کو پی لو ؟ تمہارے لئے لوگوں کے حوالے سے بربادی ہو گی اور لوگوں کے لئے تمہارے حوالے سے بربادی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف جنید بن قاسم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

14011

Majma al-Zawaid #14011

«وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خُذْ هَذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّيْرِ وَالنَّاسِ "". فَتَغَيَّبْتُ فَشَرِبْتُهُ ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ الضَّحِكِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Safina, رضي الله عنه, said: The Prophet ﷺ was cupped, then said: Take this blood and bury it away from beasts, birds, and people. I went aside and drank it, then mentioned that to him, and he laughed. > **"Take this blood and bury it away from beasts, birds, and people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ خون لو ! اور اسے اس جگہ دفن کرو کہ یہ جانوروں ، پرندوں اور لوگوں سے بچا رہے ، میں وہاں سے ہٹا اور میں نے اُسے پی لیا ، پھر بعد میں ، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو آپ ﷺ ہنس پڑے ۔ یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ صرف ہنسنے والے حصے کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

14012

Majma al-Zawaid #14012

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَاهُ مَالِكَ بْنَ سِنَانٍ لَمَّا أُصِيبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ مَصَّ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَازْدَرَدَهُ فَقِيلَ لَهُ: أَتَشْرَبُ الدَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ أَشْرَبُ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَلَطَ دَمِي بِدَمِهِ لَا تَمَسُّهُ النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَمْ أَرَ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ أُجْمِعَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, رضي الله عنه, reported that his father Malik ibn Sinan, رضي الله عنه, when the Messenger of Allah ﷺ was wounded in his face on the day of Uhud, sucked the blood of the Messenger of Allah ﷺ and swallowed it. It was said to him: Do you drink blood. He said: Yes, I drink the blood of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said: His blood has mixed with mine; the Fire shall not touch him. > **"His blood has mixed with mine; the Fire shall not touch him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُن کے والد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ کا معاملہ یہ تھا کہ جب غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر زخم آئے ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کا خون چوس لیتے تھے اور اسے نگل لیتے تھے ، اُن سے کہا گیا : آپ خون کو پی رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! میں اللہ کے رسول ﷺ کے خون کو پی رہا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا خون ، اس کے خون کے ساتھ مل گیا ہے ، اسے آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور میں نے اس کی سند میں کوئی ایسا راوی نہیں دیکھا ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہو ۔

14013

Majma al-Zawaid #14013

«وَعَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَقَالَ: "" يَا سَلْمَى ائْتِينِي بِغُسْلٍ "". فَجِئْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ، فَصَفَّيْتُهُ لَهُ، ثُمَّ جَثَا عَلَى مِرْفَقَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَأَنَا أَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ فَغَسَلَهَا، وَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى كُلِّ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ فِي الْإِنَاءِ كَأَنَّهُ الدُّرُّ يَلْمَعُ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِمَاءٍ فَغَسَلَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غَسْلِهِ قَالَ: "" يَا سَلْمَى أَهْرِيقِي مَا فِي الْإِنَاءِ فِي مَوْضِعٍ لَا يَتَخَطَّاهُ أَحَدٌ "". فَأَخَذْتُ الْإِنَاءَ فَشَرِبْتُ بَعْضَهُ ثُمَّ أَهْرَقْتُ الْبَاقِي عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ لِي: "" مَاذَا صَنَعْتِ بِمَا فِي الْإِنَاءِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَسَدْتُ الْأَرْضَ عَلَيْهِ فَشَرِبْتُ بَعْضَهُ، ثُمَّ أَهْرَقْتُ الْبَاقِي عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ: "" اذْهَبِي حَرَّمَ اللَّهُ بَدَنَكِ عَلَى النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Salma, wife of Abu Rafiʿ, رضي الله عنها, said: The Messenger of Allah ﷺ was sitting above his house and said: O Salma, bring me washing water. I brought him a vessel with lote leaves, clarified it for him, then he knelt upon a cushion stuffed with fibre while I poured over his head and he washed it, and I saw every drop falling from his head into the vessel as though shining pearls. Then I brought him water and he washed. When he finished washing he said: O Salma, pour what is in the vessel where none shall step over it. I took the vessel and drank some of it, then poured the rest upon the earth. He said to me: What did you do with what was in the vessel. I said: O Messenger of Allah, I envied the earth for it, so I drank some and poured the rest upon the earth. He said: Go, Allah has forbidden your body to the Fire. > **"O Salma, bring me washing water."** > **"O Salma, pour what is in the vessel where none shall step over it."** > **"What did you do with what was in the vessel."** > **"Go, Allah has forbidden your body to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے گھر کے اوپر والے حصے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : اے سلمیٰ ! میرے پاس پانی لے کر آؤ ، میں آپ کے پاس ایک برتن لے کر آئی ، جس میں بیری کے پتے موجود تھے ، وہ میں نے آپ کے لئے صاف کیے ، پھر نبی اکرم ﷺ ایک بچھونے پر گھٹنے کے بل بیٹھ گئے ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، میں آپ کے اوپر پانی انڈیلنے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے سر دھویا ، تو میں آپ کے سر سے ایک ایک قطرے کو برتن میں گرتے ہوئے دیکھ رہی تھی ، یوں لگتا تھا ، جیسے وہ موتی ہے ، جو چمک رہا ہے ، پھر وہ پانی لے کے آئیں اور آپ نے سر کو دھویا ، جب آپ سر کو دھو کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : ’’ اے سلمیٰ اس برتن میں موجود پانی کو ایسی جگہ بہا دو ، جہاں اس پر کوئی پاؤں نہ دے سکے ۔‘‘ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے وہ برتن لیا ، میں نے اس پانی میں سے کچھ پی لیا اور باقی زمین پر بہا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : برتن میں جو ( پانی ) موجود تھا ، تم نے اس کے ساتھ کیا کیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے حوالے سے مجھے زمین سے حسد محسوس ہوا ، تو میں نے اُس کا کچھ حصہ پی لیا اور باقی زمین پر بہا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسم کو جہنم پر حرام قرار دے دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معمر بن محمد ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

14014

Majma al-Zawaid #14014

وَعَنْ حَكِيمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَامَ فَطَلَبَهُ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَسَأَلَ فَقَالَ: "" أَيْنَ الْقَدَحُ؟ "". قَالُوا: شَرِبَتْهُ بَرَّةُ - خَادِمُ أُمِّ سَلَمَةَ الَّتِي قَدِمَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَحَكِيمَةَ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Hakima bint Umayma, رضي الله عنها, reported from her mother: The Prophet ﷺ had a wooden cup in which he urinated and placed beneath his bed. He rose and sought it but did not find it, so he asked: Where is the cup. They said: Barra, the servant of Umm Salama who came with her from Abyssinia, drank it. The Prophet ﷺ said: She has secured a strong barrier against the Fire. > **"Where is the cup."** > **"She has secured a strong barrier against the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حکیمہ بنت امیمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کا لکڑی سے بنا ہوا ایک پیالہ تھا ، جس میں آپ پیشاب کرتے تھے ، آپ وہ برتن اپنے پلنگ کے نیچے رکھتے تھے ، ایک دن آپ اٹھے آپ نے اسے تلاش کیا ، تو وہ آپ کو نہیں ملا ، آپ نے اس کے بارے میں دریافت کیا اور فرمایا : وہ پیالہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی وہ خادمہ جس کا نام برہ ہے ، اور جو حبشہ کی سرزمین سے ان کے ساتھ آئی تھی ، اُس نے اس کو پی لیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط رکاوٹ حاصل کر لی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ، اور سیدہ حکیمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

14015

Majma al-Zawaid #14015

وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ إِلَى فَخَّارَةٍ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيهَا، فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا عَطْشَانَةٌ، فَشَرِبْتُ مَا فِيهَا، وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا أُمَّ أَيْمَنَ قُومِي فَأَهْرِيقِي مَا فِي تِلْكَ الْفَخَّارَةِ "". قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ شَرِبْتُ مَا فِيهَا. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: "" أَمَا إِنَّكِ لَا تَتَّجِعِينَ بَطْنَكِ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Ayman, رضي الله عنها, said: The Messenger of Allah ﷺ rose in the night to an earthen vessel in the side of the house and urinated in it. I rose in the night thirsty and drank what was in it without knowing. In the morning the Prophet ﷺ said: O Umm Ayman, rise and pour out what is in that vessel. She said: By Allah, I have drunk what was in it. The Messenger of Allah ﷺ laughed until his molars appeared, then said: You shall never suffer belly pain. > **"O Umm Ayman, rise and pour out what is in that vessel."** > **"You shall never suffer belly pain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت اُٹھ کر گھر کے کونے میں موجود برتن کی طرف گئے اور اس میں پیشاب کیا ، میں رات کے وقت اٹھی مجھے پیاس محسوس ہوئی ، میں نے اس برتن میں جو موجود تھا ، اُسے پی لیا ، مجھے پتہ نہیں تھا ، جب صبح ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام ایمن اُٹھو اور اس برتن میں جو موجود ہے ، اُسے بہا دو ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اس میں جو موجود تھا ، اُسے میں نے پی لیا ہے ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، پھر آپ نے فرمایا : اب تمہارے پیٹ میں کبھی درد نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14016

Majma al-Zawaid #14016

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مِرْدَاسٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِطَهُورٍ فَغَمَسَ يَدَهُ فَتَوَضَّأَ، فَتَتَبَّعْنَاهُ فَحَسَوْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَمَلَكُمْ عَلَى مَا فَعَلْتُمْ؟ "". قُلْنَا: حُبُّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ: "" فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ يُحِبَّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ، وَاصْدُقُوا إِذَا حُدِّثْتُمْ، وَأَحْسِنُوا جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn al-Harith ibn Abi Mirdas al-Sulami, رضي الله عنه, said: We were with the Prophet ﷺ when he called for purification water, dipped his hand and performed wudu, so we pursued it and drank it. The Prophet ﷺ said: What carried you to what you did. We said: Love of Allah and His Messenger. He said: If you love that Allah and His Messenger love you, then fulfil when entrusted, speak truthfully when you speak, and do good to the neighbour beside you. > **"What carried you to what you did."** > **"If you love that Allah and His Messenger love you, then fulfil when entrusted, speak truthfully when you speak, and do good to the neighbour beside you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ابومرداس سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، آپ نے اپنا دست مبارک اس میں ڈال کر اس سے وضو کیا ، ہم اس پانی کے پیچھے رہے ، اور اسے لے کر پیتے رہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے یہ جو کیا ہے ، تو ایسا کیوں کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی وجہ سے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم یہ بات پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول بھی تم سے محبت کریں ، تو تم امانت کو ادا کرو ، جب تمہیں امین بنایا گیا ہو اور جب تم بات کرو ، تو سچی کرو اور جو شخص تمہارے پڑوس میں ہو ، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

14017

Majma al-Zawaid #14017

عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَرَأَ وَكَتَبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَأَبُو عَقِيلٍ ضَعِيفٌ وَهَذَا مُعَارِضٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنَّ مَعْنَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَتَوَفَّ حَتَّى قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ وَكَتَبَ. يَعْنِي: أَنَّهُ كَانَ يَعْقِلُ فِي زَمَانِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ

EnglishUnverified translation

ʿAwn ibn ʿAbd Allah ibn ʿUtba reported from his father: The Prophet ﷺ did not die until he read and wrote, with a note that this hadith is munkar and opposed to the Book of Allah, and its meaning is thought to be that ʿAbd Allah ibn ʿUtba had read and written before the Prophet ﷺ passed, meaning he had attained understanding in his lifetime.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن عبداللہ بن عتبہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا ، جب تک آپ نے پڑھ نہیں لیا اور لکھ نہیں لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ، اور ابوعقیل نامی راوی ضعیف ہے ، اور یہ حدیث اللہ کی کتاب کی معارض ہے راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے اس کا مفہوم یہ ہے : کہ نبی اکرم ﷺ کے وصال سے پہلے ہی حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا ، یعنی نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں وہ سمجھ بوجھ کے مالک تھے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14018

Majma al-Zawaid #14018

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صِفَتِي أَحْمَدُ الْمُتَوَكِّلُ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، يَجْزِي بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئِ، مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهُ بِطِيبَةَ، وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ، يَأْتَزِرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ، وَيُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ، أَنَا جَلِيُّهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، يُصَفُّونَ لِلصَّلَاةِ كَمَا يُصَفُّونَ لِلْقِتَالِ، قُرْبَانُهُمُ الَّذِي يَتَقَرَّبُونَ بِهِ إِلَيَّ دِمَاؤُهُمْ رُهْبَانٌ بِاللَّيْلِ لُيُوثٌ بِالنَّهَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn Masʿud, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: My description is Ahmad the trusting, neither harsh nor severe; he requites good with good and does not return evil for evil; his birthplace Makkah and his migration Madinah; his Ummah the praising ones, girding to their mid-calves, washing their limbs; I am their light in their breasts; they line for prayer as they line for battle; their offering by which they seek nearness to Me is their blood; monks by night, lions by day. > **"My description is Ahmad the trusting, neither harsh nor severe; he requites good with good and does not return evil for evil; his birthplace Makkah and his migration Madinah; his Ummah the praising ones, girding to their mid-calves, washing their limbs; I am their light in their breasts; they line for prayer as they line for battle; their offering by which they seek nearness to Me is their blood; monks by night, lions by day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری صفت یہ ہے کہ میں احمد ہوں اور توکل کرنے والا ہوں ، نہ ہی بدمزاج ہوں اور نہ ہی سخت مزاج ہوں ، میں وہ ہوں ، جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیتا ہے ، اور برائی کا بدلہ نہیں دیتا ، جس کی پیدائش مکہ میں ہوئی اور جس کی ہجرت کا مقام مدینہ منورہ ہے ، اس کی امت کے لوگ حمد بیان کرنے والے ہوں گے ، جو نصف پنڈلیوں تک تہبند رکھیں گے ، اور اپنے اعضاء پر وضو کریں گے ، ان کے سینوں میں ، میں اُن کی روشنی ہوؤں گا ، وہ نماز کے لئے یوں صف بنائیں گے ، جس طرح وہ جنگ کے لئے صف بناتے ہیں ، ان کی وہ بات جس کے ذریعے وہ میرا قرب حاصل کریں گے ، وہ اُن کی جانیں ہیں ، وہ رات کے وقت عبادت گزار ہوں گے اور دن کے وقت شیر ( یعنی لڑاکے ) ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔