Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 4

Book of Signs of Prophethood

Hadith 13939–13978

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13939

Majma al-Zawaid #13939

«وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ، وَبَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ الْفِيلِ عِشْرُونَ سَنَةً، قَالَ: سَمُّوهُ الْفِجَارَ لِأَنَّهُمْ [فَجَرُوا]، وَأَحَلُّوا أَشْيَاءَ كَانُوا يُحَرِّمُونَهَا، وَكَانَ بَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَمَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسُ سِنِينَ، فَبُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ»، قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ الْمَوْلُودَ فَقَطْ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Makhrama (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ was born in the Year of the Elephant, with twenty years between the Elephant and the Fijar, so named for their violating what they had held sacred; fifteen years between the Fijar and the building of the Kaba; and five years between the building and the Prophet's ﷺ commission, with commission at forty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے اور جنگ فجار اور عام الفیل کے درمیان میں سال کا فرق ہے ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے جنگ فجار کا نام اس لیے دیا ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے زیادتی کی تھی اور ان چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا ، جسے وہ حرام قرار دیتے تھے ، جنگ فجار اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا وقفہ ہے ، اور خانہ کعبہ کی تعمیر اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے ، تو نبی اکرم ﷺ کی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف آپ ﷺ کی پیدائش والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مہران سماک ہے اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13940

Majma al-Zawaid #13940

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً مُهْدَاةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ declared he was but commissioned as a gifted mercy. > **"I was but commissioned as a gifted mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے تحفے کے طور پر دی جانے والی رحمت کے طور پر مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13941

Majma al-Zawaid #13941

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: " «يَأْتِينِي جِبْرِيلُ عَلَى صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ» "، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ دِحْيَةُ رَجُلًا جَمِيلًا أَبْيَضَ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ would say Jibril came to him in the form of Dihya al-Kalbi. Anas added Dihya was a handsome, fair man. > **"Jibril comes to me in the form of Dihya al-Kalbi."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے : جبرائیل میرے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں آتا ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ ایک گورے چٹے خوبصورت شخص تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13942

Majma al-Zawaid #13942

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ، قَالَ: ادْعُ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ. قَالَ: فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صُعِقَ، فَأَتَاهُ فَتَغَشَّاهُ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْبُزَاقَ، عَنْ شِدْقَيْهِ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Prophet ﷺ asked Jibril (alayhi al-salam) to show himself in his form. Jibril bade him supplicate his Lord, he did, and a darkness rose from the east, swelling and spreading. When the Prophet ﷺ saw it he swooned, Jibril came, covered him, and wiped the spittle from his cheeks.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے یہ فرمائش کی کہ آپ ان کی اصل شکل دیکھنا چاہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے ، پھر مشرق کی طرف سے سیاہی نمودار ہونا شروع ہوئی ، حضرت جبرائیل علیہ السلام بلند ہونے لگے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا ، تو آپ بے ہوش ہو گئے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا اور آپ کی باچھوں سے لعاب صاف کرنے لگے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

13943

Majma al-Zawaid #13943

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مُنْهَبِطًا قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، عَلَيْهِ ثِيَابُ سُنْدُسٍ مُعَلَّقًا بِهِ اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Aisha (radiya Allahu anha) reports the Messenger of Allah ﷺ said he saw Jibril descending, filling what lay between heaven and earth, wearing garments of sundus with pearl and ruby suspended upon him. > **"I saw Jibril descending, filling what is between the heaven and the earth, upon him garments of sundus with pearl and ruby suspended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ میں نے جبرائیل کو نیچے کی طرف آتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیانی حصے کو بھرا ہوا تھا ، اور اُن پر سندس کا لباس تھا ، جس کے ساتھ موتی اور یاقوت لٹکے ہوئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13944

Majma al-Zawaid #13944

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا [وَمَسْجِدًا]، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ [مِنْ أُمَّتِي] لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was granted five: commission to red and black, the earth made pure and a mosque, spoils permitted him as to none before, aid through awe a month's journey, and intercession, which every prophet had already asked while he had stored his and made it for whoever of his nation died associating nothing with Allah. > **"I was granted five: I was commissioned to the red and the black; the earth was made for me pure and a mosque; spoils were permitted me, never permitted those before me; I was aided through awe a month's journey; and I was granted intercession, which I stored and made for whoever of my nation dies associating nothing with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، مجھے ہر سرخ اور سیاہ ( یعنی سفید فام اور سیاہ فام ) کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز کی جگہ قرار دیا گیا ہے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو مجھ سے پہلے لوگوں کے لئے حلال نہیں تھا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ، ہر نبی نے اپنی شفاعت کے بارے میں دعا مانگ لی تھی اور میں نے اپنی شفاعت ( کی دعا ) کو سنبھال کے رکھ لیا ہے ، اور یہ میں اُس ( یعنی ہر اس فرد ) کے لئے رکھوں گا ، میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ’’ متصل ‘‘ اور ’’ مرسل ‘‘ ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13945

Majma al-Zawaid #13945

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَلَا أَقُولَنَّ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي، فَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا».

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was granted five no prophet before him received, without boast: commission to red and black, aid through awe a month's journey, spoils permitted him alone before, the earth made mosque and purification, and intercession deferred for his nation, for whoever died associating nothing with Allah. > **"I was granted five no prophet before me received, and I say it without boast: I was commissioned to the red and the black; I was aided through awe a month's journey; spoils were permitted me, never permitted any before me; the earth was made for me mosque and purification; and I was granted intercession, which I deferred for my nation, for whoever dies associating nothing with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، مجھے ہر سفید فام اور ہر سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال قرار نہیں دیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے ، جسے میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دیا ، اور یہ ہر اس فرد کے لئے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘

13946

Majma al-Zawaid #13946

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «حَتَّى إِنَّ الْعَدُوَّ لَيَخَافُنِي مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهُ فَادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

In another wording, none of red or black entering his nation but would be among them of intercession. In other wordings, even the enemy feared him a month's or two months' journey, and he was told to ask and be given, so he stored his supplication as intercession for his nation. > **"There is none of red or black who enters my nation but shall be among them. Even the enemy fears me a month's or two months' journey. Ask and you shall be given, so I stored my supplication as intercession for my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو بھی سفید فام یا سیام نام شخص ، میری امت میں داخل ہو گا ، وہ اُن میں شمار ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ یہاں تک کہ دشمن ایک ماہ یا دو ماہ ( یہ شک راوی کو ہے ) کے فاصلے سے میرا خوف محسوس کرتا ہے ، اور مجھ سے یہ کہا گیا : تم مانگو تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اپنی دعا کو اپنی اُمت کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ۔‘‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

13947

Majma al-Zawaid #13947

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ... يُصَلِّي حَتَّى يَبْلُغَ مِحْرَابَهُ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، يَكُونُ بَيْنَ يَدَيَّ أَيِ الْمُشْرِكِينَ، فَيَقْذِفُ اللَّهُ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِهِمْ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى خَاصَّةِ قَوْمِهِ، وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَكَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَعْزِلُونَ الْخُمْسَ فَتَجِيءُ النَّارُ فَتَأْكُلُهُ، وَأُمِرْتُ أَنَا أَنْ أُقَسِّمَهَا فِي فُقَرَاءِ أُمَّتِي، وَلَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ شَفَاعَةً، وَأَخَّرْتُ أَنَا شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was granted five no prophet before him among prophets received: the earth made purification and mosque, whereas no prophet before would pray until reaching his sanctuary; aid through awe a month's journey, cast by Allah into the hearts of the polytheists ahead of him; every prophet commissioned to his own people while he was commissioned to jinn and men; and the remainder of the five in the full narration. > **"I was granted five no one before me among the prophets received: the earth was made for me purification and mosque; I was aided through awe a month's journey ahead of me; every prophet was commissioned to his own people, while I was commissioned to jinn and men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے دیگر انبیاء کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز بنا دیا گیا ، یہ چیز پہلے انبیاء کرام کے لئے نہیں تھی ، وہ اس وقت نماز ادا کر سکتے تھے ، جب وہ محراب میں ( یعنی نماز کے مخصوص مقام پر ) پہنچ جاتے تھے ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مشرکین ایک ماہ کے فاصلے پر ہوتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیتا ہے ، اور ہر نبی کو اُس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے تمام جنات اور انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، پہلے انبیاء خمس کو الگ کر لیتے تھے ، آگ آتی تھی اور اسے کھا لیتی تھی ، اور مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں اُس کو اپنی امت کے غریب لوگوں میں تقسیم کر دوں ، اور ہر نبی کو شفاعت عطا کی گئی ، اور میں نے اپنی شفاعت اپنی امت کے لئے مؤخر کر لی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13948

Majma al-Zawaid #13948

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ». وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ ذَهَبَتَا عَنِّي، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ وَبَقِيَّتُهَا فِي الْخَصَائِصِ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was granted five no prophet before him received: aid through awe, comprehensive speech, and permitted spoils. He mentioned two further traits which escaped the narrator, and the full narration was related. > **"I was granted five no prophet before me received: I was aided through awe; I was granted comprehensive speech; spoils were permitted me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرے استاد نے دو اور خصوصیات کا بھی ذکر کیا تھا ، جو مجھے بھول گئی ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے تیمم کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، اور بقیہ روایات ’’ خصائص ‘‘ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

13949

Majma al-Zawaid #13949

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نُصِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالرُّعْبِ عَلَى عَدُوِّهِ مَسِيرَةَ شَهْرَيْنِ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ was aided through awe against his enemy a two months' journey.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی دو ماہ کے فاصلے سے دشمن پر رعب کے ذریعے مدد کی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13950

Majma al-Zawaid #13950

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا»، وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا» ""، قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّيَمُّمِ مِنْ نَحْوِ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ his grant of five no one before him received: the earth made purification and mosque, spoils permitted him as to no prophet before, aid through awe a month's journey against his enemy, commission to every red and black, and intercession attaining whoever of his nation associated nothing with Allah. In another wording, whoever died associating nothing with Allah. > **"I was granted five no one before me received: the earth was made for me purification and mosque; spoils were permitted me, never permitted a prophet before me; I was aided through awe a month's journey against my enemy; I was commissioned to every red and black; and I was granted intercession, attaining whoever of my nation associates nothing with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، میرے لئے تمام زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہیں ہوا ، اور ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میرے دشمن کے خلاف میری مدد کی گئی ، اور مجھے ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور یہ میری اُمت کے ہر اس فرد کو نصیب ہو گی ، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث تیمم سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ، جو اس نوعیت کی ہیں ۔

13951

Majma al-Zawaid #13951

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ: جُعِلَتِ الْأَرْضُ لِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ، وَأُحِلَّتْ لِأُمَّتِي الْغَنَائِمُ».

EnglishUnverified translation

Abu Umama (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was favoured with four: the earth made mosque and purification for his nation, his dispatch to all mankind, aid through awe a month's journey ahead of him, and spoils permitted his nation. > **"I was favoured with four: the earth was made for my nation mosque and purification; I was dispatched to all mankind; I was aided through awe a month's journey ahead of me; and spoils were permitted my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے چار چیزوں کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، میری امت کے لئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ، ایک ماہ کے فاصلے سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، جو میرے آگے چلتا ہے ، اور میری اُمت کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ۔‘‘

13952

Majma al-Zawaid #13952

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَبْيَضَ وَأَسْوَدَ» ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording, wherever prayer overtook a man of his nation, there were his mosque and his purification. In another wording, commission to every white and black. > **"Wherever prayer overtakes a man of my nation, there are his mosque and his purification. I was commissioned to every white and black."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میری امت کا کوئی فرد ، جہاں بھی نماز کا وقت پائے گا ، وہیں اُس کے لئے نماز کی جگہ ہو گی ، اور وہیں اُس کے لئے طہارت کا ذریعہ ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ مجھے ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا .......‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

13953

Majma al-Zawaid #13953

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرَ وَالْأَسْوَدَ، وَإِنَّمَا كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَرْيَتِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الْمَغْنَمَ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was granted five no prophet before him received: commission to all mankind, red and black, whereas every prophet before was commissioned to his village; aid through awe with his enemy terrified a month's journey; granted spoil; the earth made mosque and purification; and intercession deferred for his nation. > **"I was granted five no prophet before me received: I was commissioned to all mankind, red and black; I was aided through awe, my enemy terrified a month's journey; I was granted spoil; the earth was made for me mosque and purification; and I was granted intercession, which I deferred for my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے تمام لوگوں ، ہر سفید فام اور سیاہ فام کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ دوسرے ہر نبی کو اس کی مخصوص بستی کی طرف مبعوث کیا گیا ، اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، ایک ماہ کے فاصلے سے میرا دشمن مجھ سے مرعوب ہو جاتا ہے ، اور مجھے مال غنیمت عطا کیا گیا ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، اور وہ میں نے اپنی امت کے لئے مؤخر کر دی ( یا سنبھال کے رکھ لی ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی کہیلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13954

Majma al-Zawaid #13954

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَمْسٍ: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَدَخَرْتُ شَفَاعَتِي لِأُمَّتِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا أَمَامِي وَشَهْرًا خَلْفِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Saib ibn Yazid (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said he was favoured over the prophets with five: commission to all mankind, his intercession stored for his nation, aid through awe a month ahead and a month behind, the earth made mosque and purification, and spoils permitted him as to none before him. > **"I was favoured over the prophets with five: I was commissioned to all mankind; I stored my intercession for my nation; I was aided through awe a month ahead of me and a month behind me; the earth was made for me mosque and purification; and spoils were permitted me, never permitted any before me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے دیگر انبیاء پر پانچ حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میں نے شفاعت اپنی امت کے لئے سنبھال کے رکھ لی ہے ، اور آگے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے اور پیچھے کی طرف سے ایک ماہ کے فاصلے پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور میرے لئے زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13955

Majma al-Zawaid #13955

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَمَّا أُوحِيَ إِلَيَّ - أَوْ نُبِّئْتُ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا جَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ»، "، رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha (radiya Allahu anha) reports the Messenger of Allah ﷺ said that when revelation first came to him, or commission, or a like word, no stone or tree he passed but said peace upon him, O Messenger of Allah. > **"When revelation came to me, no stone or tree I passed but said: peace upon you, O Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب میری طرف وحی کی گئی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب مجھے نبی بنایا گیا ( راوی کو شک ہے ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) تو ” میں “ جس بھی پتھر ، یا درخت کے پاس سے گزرتا تھا ، تو وہ مجھے کہتا تھا : یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13956

Majma al-Zawaid #13956

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ عَلَى حَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالتَّابِعِيُّ أَبُو عِمَارَةَ الْحَيَوَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali (radiya Allahu anhu) reports going out with the Prophet ﷺ, and no stone or tree he passed but greeted him with peace.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا ، آپ ﷺ جس بھی درخت ، یا پتھر کے پاس سے گزرتے تھے ، وہ آپ ﷺ کو سلام کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں تابعی ابوعمارہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13957

Majma al-Zawaid #13957

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ: اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً، أَتَتَّبِعُونِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا، فَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ أُورِدْكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا هِيَ أَعْشَبُ مِنْ هَذِهِ وَحِيَاضًا أَرْوَى مِنْ هَذِهِ فَاتَّبِعُونِي، قَالَ: فَقَامَتْ طَائِفَةٌ قَالَتْ: صَدَقَ وَاللَّهِ، لَنَتَّبِعَنَّهُ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ was visited in sleep-vision by two angels, one sitting at his feet and one at his head. The one at his feet bade the one at his head strike a parable of him and his nation. He answered their likeness was travellers reaching the head of a waterless desert with provisions enough neither to cross nor return, when a man came in fine garments saying he would lead them to sweet water and lush pasture if they followed. One party said he spoke truthfully and followed to safety, another lay down in place. They proposed striking the parable and interpreting it in turn, concluding the leader was their Prophet ﷺ and the parties those who obeyed or disobeyed him. > **"Strike a parable of him and his nation: travellers at the head of a waterless desert, then a guide offering sweet water and lush pasture. Whoever follows him is saved, and whoever stays perishes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپ کے پاس آئے ، ان میں سے ایک آپ کی پائینتی بیٹھ گیا اور دوسرا آپ کے سرہانے بیٹھ گیا ، جو فرشتہ آپ کی پائینتی بیٹھا ہوا تھا ، اس نے سرہانے موجود فرشتے سے کہا : تم ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو ! تو اس نے کہا : ان کی اور ان کی امت کی مثال سفر کرنے والے لوگوں کی مانند ہے جو کسی ویرانے میں ایک جگہ پر پہنچتے ہیں ، ان کے پاس زاد سفر نہیں ہوتا ، جس کی مدد سے وہ اس ویرانے کو پار کر سکیں ، اور نہ ہی وہ اس جگہ سے واپس جا سکتے ہیں ، ابھی وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک شخص آتا ہے ، جس نے یمنی چادر کا حلہ پہنا ہوا ہوتا ہے ، وہ یہ کہتا ہے : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور دیدہ زیب حوضوں میں لے جاؤں ؟ تو کیا تم لوگ میری پیروی کر لو گے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : جی ہاں ! وہ اُن کو ساتھ لے کر سرسبز و شاداب باغات میں اور دیدہ زیب حوضوں میں جاتا ہے ، وہ لوگ وہاں کھاتے پیتے ہیں ، موٹے ہو جاتے ہیں ، پھر وہ شخص ان سے کہتا ہے : جب میں نے تمہارے ساتھ ملاقات کی تھی ، تو تمہاری ایک مخصوص حالت تھی ، اور تم نے میرے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور حوضوں میں لے جاؤں گا ، اور پھر تم لوگ پیروی کر لو گے ، تو وہ لوگ کہتے ہیں : ٹھیک ہے ، تو وہ شخص کہتا ہے : آگے ایسے باغات ہیں ، جو ان سے زیادہ سرسبز و شاداب ہیں ، اور ایسے حوض ہیں ، جو ان سے زیادہ اچھے ہیں ، تو تم لوگ میری پیروی کرو ! تو ایک گروہ یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، ہم ان کی پیروی کریں گے ، اور ایک گروہ کہتا ہے : ہم اسی پر راضی ہیں ، اور ہم یہیں رہیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13958

Majma al-Zawaid #13958

وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجَرْشِيِّ «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: لِتَنَمْ عَيْنُكَ، وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ، وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ: فَنَامَتْ عَيْنِي، وَسَمِعَتْ أُذُنِي، وَعَقَلَ قَلْبِي، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: سَيِّدٌ بَنَى دَارًا، وَصَنَعَ مَأْدُبَةً، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَنَلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ وَالسَّيِّدُ هُوَ اللَّهُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ»، قَالَ: وَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

EnglishUnverified translation

Rabia al-Jarshi (radiya Allahu anhu) reports the Prophet of Allah ﷺ was visited and told to let his eye sleep, his ear hear, and his heart retain. He said his eye slept, his ear heard, and his heart retained. He was told a master built a house, prepared a feast, and sent a caller: whoever answered entered the house, ate of the feast, and earned the master's pleasure, and whoever refused neither entered nor attained. The interpretation followed in the full narration. > **"Let your eye sleep, your ear hear, and your heart retain. A master built a house, prepared a feast, and sent a caller; whoever answers the caller enters the house, eats of the feast, and the master is pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا گیا : آپ کی آنکھیں سو رہی ہیں ، لیکن آپ کے کان سن رہے ہیں ، اور آپ کا دل سمجھ رہا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری آنکھیں سو رہی ہیں ، میرے کان سن رہے ہیں ، اور میرا دل سمجھ رہا ہے ، اور آپ ﷺ سے یہ کہا گیا : ایک سردار نے ایک گھر بنایا اور ایک دسترخوان تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا ، تو جس شخص نے دعوت دینے والے کی بات کو قبول کیا ، وہ گھر میں آ جائے گا اور دسترخوان سے کھائے گا ، اور سردار اس سے راضی ہو جائے گا ، اور جس شخص نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، وہ گھر میں نہیں آئے گا اور دسترخوان سے کچھ حاصل نہیں کر پائے گا ، اور سردار اس پر ناراض ہو جائے گا ، تو سردار ، اللہ تعالیٰ ہے ، اور دعوت دینے والے ، حضرت محمد ﷺ ہیں اور دسترخوان جنت ہے .......‘ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

13959

Majma al-Zawaid #13959

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «اسْتَبَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطَّةً فَقَالَ: "" كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهَا هَلَكْتَ ""، قَالَ: فَكُنْتُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَقَّ أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمُ الزُّطُّ - قَالَ [عَفَّانٌ] أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ، قَالَ: فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَجَعَلُوا يَأْتُونَ فَيَخِيلُونَ [أَوْ يَمِيلُونَ] حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ [لِي]، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ، قَالَ: "" إِنِّي أَجِدُنِي ثَقِيلًا "" - أَوْ كَمَا قَالَ -[فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِي، أَوْ كَمَا قَالَ] قَالَ: ثُمَّ إِنَّ هَنِينًا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ - أَوْ كَمَا قَالَ - وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُرْعِبْتُ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى - قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا - أَوْ كَمَا قَالُوا - قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اضْرِبُوا لَهُمْ مَثَلًا وَنُئَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُأَوِّلُونَ أَنْتُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ بَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَتْبَعْهُ، عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا - أَوْ كَمَا قَالَ الْآخَرُونَ - أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ، وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ، وَهُوَ الدَّاعِي، فَمَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ: - أَوْ كَمَا قَالُوا - وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُذِّبَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ؟ ""، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا خَفِيَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا قَالُوا ""، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ - أَوْ قَالَ - هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ»، قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ وَرِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ، وَذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ فِي الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ outran him until they reached such-and-such place, where the Prophet ﷺ drew a line and bade him remain amid it and never leave, for leaving meant ruin. He stayed while the Prophet ﷺ went far off into the distance, then figures crowded about him and barred his way, filling him with intense terror, and he sat. At daybreak's splitting they departed. The Prophet ﷺ then returned heavy and pained from what had mounted him, said he felt heavy, and laid his head in Abdullah's lap. Then men in long white garments came while the Prophet ﷺ slumbered, terrifying Abdullah worse than before. They proposed striking him a parable, differing who strikes and who interprets, then likened him to a master who built a fortress and sent men food: whoever did not come to his food, or follow him, would be severely punished. The master was the Lord of the worlds, the building Islam, the food Paradise, and he the caller: whoever followed him was in Paradise, whoever did not was punished. The Prophet ﷺ then asked what Ibn Umm Abd had seen; Abdullah told it, and the Prophet ﷺ said nothing they said was hidden from him: they were a company of angels. > **"Remain between these lines; do not leave them, for if you leave them you will perish. I feel heavy. What did you see, O son of Umm Abd? Nothing they said was hidden from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا راوی کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے زمین پر ایک لکیر لگا دی ، اور فرمایا : تم نے اس سے پیچھے رہنا ہے ، تم نے اس سے آگے نہیں نکلنا ، اگر تم اس سے آگے نکلے ، تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے اندر رہا ، نبی اکرم ﷺ اتنی دور تشریف لے گئے ، جتنی دور کوئی کنکری پھینکنے پر جاتی ہے ، یا شاید اس سے کچھ زیادہ دور چلے گئے ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کچھ افراد کو دیکھا ۔ یہاں عفان نامی راوی کو شک ہے ۔ ان کے جسم پر کوئی کپڑے نہیں تھے اور ان کی شرمگاہ بھی مجھے دکھائی نہیں دے رہی تھی ، وہ طویل القامت لوگ تھے اور ان کا گوشت نہیں تھا ، وہ لوگ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے تلاوت کرنے لگے ، پھر وہ میرے پاس آتے تھے اور میرے اردگرد گھومتے تھے میرے سامنے آتے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گیا ، لیکن میں بیٹھا رہا ، جیسے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو وہ لوگ جانے لگے ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ بوجھل اور تکلیف کا شکار تھے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : قریب تھا کہ آپ تکلیف کا شکار ہو جاتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کے پاس رہے تھے ، آپ نے فرمایا : مجھے بوجھل پن محسوس ہو رہا ہے ، یا جس طرح بھی آپ ﷺ نے فرمایا ، پھر آپ نے اپنا سر مبارک میری گود میں رکھا ، یا جس طرح بھی راوی نے بیان کیا ، پھر انہوں نے کہا : کچھ لوگ آئے تھے ، جن کے جسم پر لباس پر سفید کپڑے تھے اور وہ طویل القامت تھے یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ سو چکے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں پہلی مرتبہ جتنا پریشان ہوا تھا ، اس سے زیادہ پریشان ہو گیا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ان کو بھلائی عطا کی گئی ہے ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : کہ ان کی دونوں آنکھیں سوتی ہیں ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ان کی آنکھ سوتی ہے ، پھر اس نے دوسرے سے کہا : آؤ ہم ان کے لئے مثال بیان کرتے ہیں ، یا جس طرح بھی اس نے کہا : پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ان کے لئے مثال بیان کرو ، ہم اس کی وضاحت کریں گے ، یا یہ ہے کہ ہم مثال بیان کرتے ہیں ، اور تم اس کی وضاحت کر دینا ، پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ’’ ان کی مثال اس طرح ہے ، جیسے ایک سردار ایک قلعہ بناتا ہے ، اور پھر وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتا ہے ، تو جو شخص اس کھانے میں نہیں آتا ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : وہ اس کی پیروی نہیں کرتا ، اُسے زبردست عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : تو دوسروں نے کہا : جہاں تک سردار کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جہاں تک عمارت کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد اسلام ہے ، اور کھانے سے مراد ، جنت ہے ، اور یہ صاحب ، دعوت دینے والے ہیں ، جو شخص ان کی پیروی کر لے گا ، وہ جنت میں جائے گا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : اور جو ان کی پیروی نہیں کرے گا ، اُسے عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : پھر نبی اکرم ﷺ بیدار ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! تم نے کیا دیکھا ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے یہ یہ چیز دیکھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہوں نے جو جو باتیں کی تھیں ، وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں رہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ فرشتوں کا گروہ تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ فرشتے تھے ، یا جو بھی اللہ کو منظور تھا ( وہ آپ نے فرمایا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بقالی کا معاملہ مختلف ہے ، عجلی نے اس کا ذکر ثقہ تابعین میں کیا ہے ، اور ابن حبان اور دیگر حضرات نے اس کا ذکر صحابہ کرام میں کیا ہے ۔

13960

Majma al-Zawaid #13960

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ لَا يُؤْمِنُ بِي، إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ»، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَرَأْتُ فَوَجَدْتُ {وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ} [هود: 17]

EnglishUnverified translation

Abu Musa (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said none of this nation, neither Jew nor Christian, heard of him without believing but would be among the Fire's folk. The narrator added the Prophet ﷺ said nothing but what stood in Allah's Book, reciting that the Fire was the appointment of whoever among the parties disbelieved in him. > **"None of this nation hears of me, neither Jew nor Christian, without believing in me, but he shall be among the people of the Fire. Whoever among the parties disbelieves in him, the Fire is his appointment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس اُمت کا ( جو بھی فرد ) یا جو یہودی ، یا جو عیسائی شخص ، میرے بارے میں سنتا ہے ، اور مجھ پر ایمان نہیں لاتا ، وہ اہل جہنم میں سے ہو گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا ، نبی اکرم ﷺ جو بات ارشاد فرماتے ہیں ، وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہوتی ہے ، میں نے قرآن پڑھا ، تو اس میں یہ آیت پائی : ’’ گروہوں میں سے جو شخص ان کا انکار کرے گا ، تو اُس کے ساتھ جہنم کا وعدہ ہے ۔‘‘

13961

Majma al-Zawaid #13961

وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي الرِّوَايَتَيْنِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالْبَزَّارُ أَيْضًا بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

In another wording, whoever did not believe in him would not enter Paradise. > **"Whoever does not believe in me shall not enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں : ’’ اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے ، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، دونوں روایات میں امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ ہیں ، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

13962

Majma al-Zawaid #13962

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ [وَمَاتَ] وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ» "، قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَلَفْظُهُ: " «لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ» "، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ swore by Him in whose hand was Muhammad's soul that none of this nation, neither Jew nor Christian, heard of him and died disbelieving his message but would be among the Fire's companions. > **"By Him in whose hand is the soul of Muhammad, none of this nation hears of me, neither Jew nor Christian, then dies disbelieving in what I was sent with, but he shall be among the companions of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، اس امت کا جو بھی فرد ، میرے بارے میں سنے ، یا جو یہودی یا عیسائی سنے ، اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اس چیز پر ایمان نہ لایا ہو ، جس کے ہمراہ مجھے مبعوث کیا گیا ہے ، تو وہ شخص اہل جہنم میں سے ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت مذکور ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اس اُمت سے تعلق رکھنے والا ، جو بھی یہودی ، یا عیسائی شخص میرے بارے میں سنے .......‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13963

Majma al-Zawaid #13963

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَضِبَ وَقَالَ: "" أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا وَغَيْرُهُ فِي الْعِلْمِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) bringing the Prophet ﷺ a book taken from some People of the Book and reading it to him. He grew angry and asked whether they wavered in it, swearing he had brought it white and pure: they must not ask them about anything lest they tell truth and be disbelieved or tell falsehood and be believed, and had Musa lived he could but follow him. > **"Are you wavering in it, O son of Khattab? By Him in whose hand is my soul, I have brought it to you white and pure. Do not ask them about anything, lest they tell you truth and you disbelieve it, or tell you falsehood and you believe it. By Him in whose hand is my soul, had Musa lived, he could but follow me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک تحریر لے کر آئے جو انہیں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے ملی تھی ، انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پڑھا ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابن خطاب ! کیا تم لوگ اس میں مشغولیت اختیار کر رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں واضح اور صاف چیز تمہارے پاس لے کے آیا ہوں ، تم لوگ اُن ( اہل کتاب ) سے جس چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، وہ تمہیں بتائیں گے ، تو ہو سکتا ہے کہ وہ حق ہو ، جس کا تم انکار کر دو ، یا وہ باطل ہو ، جس کی تم تصدیق کر دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے ، تو اُن کے لئے بھی میری پیروی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے یہ روایت اور اس کے علاوہ روایات ( جو اس موضوع سے متعلق ہیں ) وہ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

13964

Majma al-Zawaid #13964

عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَيَبْلُغُ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ»، وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، قَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجِهَادِ وَالْمَغَازِي.

EnglishUnverified translation

Tamim al-Dari (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare this affair would reach wherever night and day reached, and Allah would leave no house of clay or hair but admit this religion through a mighty one's honour or a lowly one's humiliation: honour Allah granted Islam, humiliation He inflicted on disbelief. Tamim added he saw it in his household: those embracing Islam gained good, honour, and might, while disbelievers among them met humiliation, littleness, and tribute. > **"This affair shall reach wherever night and day reach, and Allah shall leave no house of clay or hair but Allah shall admit this religion into it, through a mighty one's honour or a lowly one's humiliation: honour Allah grants Islam, and humiliation Allah inflicts on disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ معاملہ ضرور وہاں تک پہنچے گا ، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کوئی بھی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا ، مگر یہ کہ اُس میں اس دین کو داخل کر دے گا ، خواہ کسی کو عزت حاصل ہو ، یا کسی کو ذلت حاصل ہو ، عزت والا وہ ہو گا ، جسے اللہ تعالیٰ اسلام کے ذریعے عزت عطا کرے ، اور ذلت والا وہ ہو گا ، جسے اللہ تعالیٰ کفر کے ذریعے ذلیل رکھے گا ۔‘‘ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خود اپنے خاندان میں یہ بات جان لی ، اُن میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوا ، اور جو کافر رہے تھے ، انہیں ذلت ، ہلکا پن اور جزیہ دینا نصیب ہوا ۔ یہ روایت امام احمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے یہ جہاد اور مغازی سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے ۔

13965

Majma al-Zawaid #13965

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ثَنَّى بِفَاطِمَةَ ثُمَّ تَلَقَّى أَزْوَاجَهُ، فَقَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى فَاطِمَةَ، فَتَلَقَّتْهُ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ تَلْثُمُ فَاهُ وَعَيْنَيْهِ وَتَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "" فَقَالَتْ: أَرَاكَ شَعِثًا نَصِبًا [قَدِ] اخْلَوْلَقَتْ ثِيَابُكَ، فَقَالَ لَهَا: "" لَا تَبْكِي فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ أَبَاكِ بِأَمْرٍ لَا يُبْقِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ بَيْتَ مَدَرٍ [وَلَا حَجَرٍ] وَلَا وَبَرٍ وَلَا شَعْرٍ، إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ بِهِ عِزًّا أَوْ ذُلًّا، حَتَّى يَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَ اللَّيْلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ مَعَ ضَعْفٍ كَثِيرٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Thalaba al-Khushani (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ, upon returning from travel, would begin at the mosque with two cycles, then visit Fatima (radiya Allahu anha), then greet his wives. Returning once, after praying in the mosque he came to Fatima, who met him at the door kissing his mouth and eyes and weeping. Asked what made her weep, she said she saw him dishevelled, weary, his garments worn. He bade her not weep, for Allah had commissioned her father with a matter leaving no house of clay, stone, hair, or wool upon earth's face but Allah would bring it honour or humiliation, until it reached where night reached. > **"What makes you weep? Do not weep, for Allah has commissioned your father with a matter that shall leave no house of clay, stone, hair, or wool upon the face of the earth but Allah shall bring it honour or humiliation, until it reaches where night reaches."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر سے تشریف لاتے تھے ، تو سب سے پہلے مسجد میں آ کر وہاں دو رکعت ادا کرتے تھے ، پھر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے تھے ، پھر اپنی ازواج سے ملاقات کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سفر سے تشریف لائے ، آپ نے دو رکعت ادا کیں ، پھر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، گھر کے دروازے پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ملاقات کی ، تو انہوں نے روتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے گال اور آنکھوں پر بوسہ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ تھکاوٹ کا شکار ہیں ، آپ کا لباس پرانا ہو رہا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو ایک ایسی چیز کے ہمراہ مبعوث کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر یا خیمہ ایسا نہیں رہنے دے گا ، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس ( گھر ) میں اس ( دین ) کے ذریعے عزت یا ذلت کو داخل کر دے گا ، یہاں تک کہ یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا ، جہاں تک رات پہنچتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ ہے ، اور وہ مقارب الحدیث ہے اگرچہ اس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

13966

Majma al-Zawaid #13966

عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَاللَّهُ يَهْدِي» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiya (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ his declaration that he was but a conveyer while Allah guided, with the remainder of the narration related in full. > **"I am but a conveyer, and Allah guides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک میں تبلیغ کرنے والا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ ہدایت دینے والا ہے .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ۔

13967

Majma al-Zawaid #13967

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ تَمَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama al-Bahili (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say in his sermon completing the Farewell Pilgrimage that there would be no prophet after him nor any nation after his, with the remainder of the narration related in full. > **"O men, there is no prophet after me, nor any nation after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہو گی ......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13968

Majma al-Zawaid #13968

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسُ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34]»، قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ: " «مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ» "، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ his declaration that he was granted the keys of all things except the five of the verse: with Allah alone is knowledge of the Hour, He sends down rain, knows what lies in wombs, no soul knows what it earns tomorrow, and no soul knows in what land it dies, for Allah is Knowing, Aware. > **"I was granted the keys of all things except the five: with Allah is knowledge of the Hour; He sends down the rain; He knows what is in the wombs; no soul knows what it shall earn tomorrow; and no soul knows in what land it shall die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ، البتہ پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ( جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہوتا ہے ، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم والا خبر والا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13969

Majma al-Zawaid #13969

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah, meaning Ibn Masʿud, رضي الله عنه, said: Your Prophet ﷺ was given the keys of all things except five: Verily Allah, with Him alone is knowledge of the Hour, He sends down rain, knows what is in the wombs, no soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in which land it will die; verily Allah is All-Knowing, All-Aware, Luqman 34. > **"Your Prophet was given the keys of all things except five: Verily Allah, with Him alone is knowledge of the Hour, He sends down rain, knows what is in the wombs, no soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in which land it will die; verily Allah is All-Knowing, All-Aware."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ تمہارے نبی ﷺ کو ہر چیز کی کنجیاں عطا کی گئیں ، صرف پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ( جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور جو رحموں میں ہے اسے جانتا ہے ، اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتی کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گی ؟ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا ، خبر رکھنے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13970

Majma al-Zawaid #13970

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ ""، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَعَلَّمَنَا [التَّشَهُّدَ]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashʿari, رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been given the openings and sealings of speech. We said: O Messenger of Allah, teach us from what Allah has taught you, so he taught us the tashahhud. > **"I have been given the openings and sealings of speech."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے افتتاحی اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو علم عطا کیا ہے ، اس میں سے ہمیں بھی تعلیم دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تشہد کے کلمات سکھائے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13971

Majma al-Zawaid #13971

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ». وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ left us, and no bird flapped its wings in the sky except that he mentioned to us some knowledge concerning it. In an addition the Prophet ﷺ said: Nothing remains that brings near to Paradise and distances from the Fire except that it has been explained to you. > **"Nothing remains that brings near to Paradise and distances from the Fire except that it has been explained to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا کہ آسمان میں جو پرندہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُس کے حوالے سے بھی علم ذکر کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی چیز جنت کے قریب کر سکتی ہے ، اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ، ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی ، مگر یہ کہ وہ تمہارے سامنے بیان کر دی گئی ہے ۔‘‘ طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن یزید مقری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام احمد کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

13972

Majma al-Zawaid #13972

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَامًا خَبَّرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughira ibn Shuʿba, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ stood among us in a station and informed us of what will occur in his Ummah until the Day of Resurrection; whoever retained it retained it, and whoever forgot it forgot it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ہمیں ان امور کے بارے میں بتایا ، جو قیامت تک آپ کی اُمت میں رونما ہونا تھے ، جس نے اسے محفوظ رکھنا تھا ، اس نے محفوظ کیا اور جس نے اسے بھولنا تھا ، وہ اسے بھول گیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمر بن ابراہیم بن محمد کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

13973

Majma al-Zawaid #13973

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا فِي السَّمَاءِ طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ left us, and there was no bird flying in the sky with its wings except that he mentioned to us some knowledge concerning it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا ، کہ آسمان میں جو بھی پرندہ اپنے پروں کے ذریعے اُڑتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے اُس کے بارے میں علم ذکر کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13974

Majma al-Zawaid #13974

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْفَ مَثَلٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿAs, رضي الله عنه, said: I retained from the Messenger of Allah ﷺ a thousand parables.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک ہزار باتیں ( یا مثالیں ) یاد رکھی ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13975

Majma al-Zawaid #13975

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ».

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, رضي الله عنه, said: The Messenger of Allah ﷺ would narrate to us for most of the night about Banu Israil, and he would not rise except for the major prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں رات کا زیادہ تر حصہ بنی اسرائیل کے بارے میں بتاتے رہے ، اس دوران آپ ﷺ صرف فرض نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھے تھے ۔

13976

Majma al-Zawaid #13976

وَفِي رِوَايَةٍ: يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ الْمَكْتُوبَةَ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration, meaning the prescribed obligatory prayer, that he would rise only for it during that long narration of the night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس سے مراد فرض نماز ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13977

Majma al-Zawaid #13977

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كُتِبَ عَلَيَّ الْنَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ».

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported from the Prophet ﷺ: Sacrifice has been prescribed upon me and has not been prescribed upon you. > **"Sacrifice has been prescribed upon me and has not been prescribed upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھ پر قربانی لازم قرار دی گئی ہے ، یہ تم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے ۔‘‘

13978

Majma al-Zawaid #13978

وَفِي رِوَايَةٍ: «أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا، وَأُمِرْتُ بِالضُّحَى وَلَمْ تُكْتَبْ».

EnglishUnverified translation

In a narration: I have been commanded with two rakʿas of Duha and you have not been commanded with them, and I have been commanded with sacrifice and it has not been made obligatory upon you. > **"I have been commanded with two rakʿas of Duha and you have not been commanded with them, and I have been commanded with sacrifice and it has not been made obligatory upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مجھے چاشت کی دو رکعات ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، تمہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا اور مجھے قربانی کا حکم دیا گیا ہے ، اور یہ تم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے ۔‘‘