وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «اسْتَبَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطَّةً فَقَالَ: "" كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا، فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهَا هَلَكْتَ ""، قَالَ: فَكُنْتُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَقَّ أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمُ الزُّطُّ - قَالَ [عَفَّانٌ] أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ، قَالَ: فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَجَعَلُوا يَأْتُونَ فَيَخِيلُونَ [أَوْ يَمِيلُونَ] حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ [لِي]، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا، قَالَ: فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ، قَالَ: "" إِنِّي أَجِدُنِي ثَقِيلًا "" - أَوْ كَمَا قَالَ -[فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِي، أَوْ كَمَا قَالَ] قَالَ: ثُمَّ إِنَّ هَنِينًا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ - أَوْ كَمَا قَالَ - وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَأُرْعِبْتُ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى - قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا - أَوْ كَمَا قَالُوا - قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اضْرِبُوا لَهُمْ مَثَلًا وَنُئَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُأَوِّلُونَ أَنْتُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ بَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَتْبَعْهُ، عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا - أَوْ كَمَا قَالَ الْآخَرُونَ - أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ، وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ، وَهُوَ الدَّاعِي، فَمَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ: - أَوْ كَمَا قَالُوا - وَمَنْ لَمْ يَتْبَعْهُ عُذِّبَ - أَوْ كَمَا قَالَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ؟ ""، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا خَفِيَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا قَالُوا ""، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ - أَوْ قَالَ - هُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ»، قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ وَرِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ، وَذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ فِي الصَّحَابَةِ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Masud (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ outran him until they reached such-and-such place, where the Prophet ﷺ drew a line and bade him remain amid it and never leave, for leaving meant ruin. He stayed while the Prophet ﷺ went far off into the distance, then figures crowded about him and barred his way, filling him with intense terror, and he sat. At daybreak's splitting they departed. The Prophet ﷺ then returned heavy and pained from what had mounted him, said he felt heavy, and laid his head in Abdullah's lap. Then men in long white garments came while the Prophet ﷺ slumbered, terrifying Abdullah worse than before. They proposed striking him a parable, differing who strikes and who interprets, then likened him to a master who built a fortress and sent men food: whoever did not come to his food, or follow him, would be severely punished. The master was the Lord of the worlds, the building Islam, the food Paradise, and he the caller: whoever followed him was in Paradise, whoever did not was punished. The Prophet ﷺ then asked what Ibn Umm Abd had seen; Abdullah told it, and the Prophet ﷺ said nothing they said was hidden from him: they were a company of angels. > **"Remain between these lines; do not leave them, for if you leave them you will perish. I feel heavy. What did you see, O son of Umm Abd? Nothing they said was hidden from me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا راوی کہتے ہیں : ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے زمین پر ایک لکیر لگا دی ، اور فرمایا : تم نے اس سے پیچھے رہنا ہے ، تم نے اس سے آگے نہیں نکلنا ، اگر تم اس سے آگے نکلے ، تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے اندر رہا ، نبی اکرم ﷺ اتنی دور تشریف لے گئے ، جتنی دور کوئی کنکری پھینکنے پر جاتی ہے ، یا شاید اس سے کچھ زیادہ دور چلے گئے ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کچھ افراد کو دیکھا ۔ یہاں عفان نامی راوی کو شک ہے ۔ ان کے جسم پر کوئی کپڑے نہیں تھے اور ان کی شرمگاہ بھی مجھے دکھائی نہیں دے رہی تھی ، وہ طویل القامت لوگ تھے اور ان کا گوشت نہیں تھا ، وہ لوگ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے تلاوت کرنے لگے ، پھر وہ میرے پاس آتے تھے اور میرے اردگرد گھومتے تھے میرے سامنے آتے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن سے بہت زیادہ خوف زدہ ہو گیا ، لیکن میں بیٹھا رہا ، جیسے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ، جب صبح صادق کا وقت ہوا ، تو وہ لوگ جانے لگے ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ بوجھل اور تکلیف کا شکار تھے ۔ راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : قریب تھا کہ آپ تکلیف کا شکار ہو جاتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کے پاس رہے تھے ، آپ نے فرمایا : مجھے بوجھل پن محسوس ہو رہا ہے ، یا جس طرح بھی آپ ﷺ نے فرمایا ، پھر آپ نے اپنا سر مبارک میری گود میں رکھا ، یا جس طرح بھی راوی نے بیان کیا ، پھر انہوں نے کہا : کچھ لوگ آئے تھے ، جن کے جسم پر لباس پر سفید کپڑے تھے اور وہ طویل القامت تھے یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ سو چکے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں پہلی مرتبہ جتنا پریشان ہوا تھا ، اس سے زیادہ پریشان ہو گیا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ان کو بھلائی عطا کی گئی ہے ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : کہ ان کی دونوں آنکھیں سوتی ہیں ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ان کی آنکھ سوتی ہے ، پھر اس نے دوسرے سے کہا : آؤ ہم ان کے لئے مثال بیان کرتے ہیں ، یا جس طرح بھی اس نے کہا : پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ان کے لئے مثال بیان کرو ، ہم اس کی وضاحت کریں گے ، یا یہ ہے کہ ہم مثال بیان کرتے ہیں ، اور تم اس کی وضاحت کر دینا ، پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ’’ ان کی مثال اس طرح ہے ، جیسے ایک سردار ایک قلعہ بناتا ہے ، اور پھر وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتا ہے ، تو جو شخص اس کھانے میں نہیں آتا ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : وہ اس کی پیروی نہیں کرتا ، اُسے زبردست عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : تو دوسروں نے کہا : جہاں تک سردار کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جہاں تک عمارت کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد اسلام ہے ، اور کھانے سے مراد ، جنت ہے ، اور یہ صاحب ، دعوت دینے والے ہیں ، جو شخص ان کی پیروی کر لے گا ، وہ جنت میں جائے گا ، یہاں عارم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : اور جو ان کی پیروی نہیں کرے گا ، اُسے عذاب دیا جائے گا ، یا جس طرح بھی انہوں نے کہا : پھر نبی اکرم ﷺ بیدار ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! تم نے کیا دیکھا ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے یہ یہ چیز دیکھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہوں نے جو جو باتیں کی تھیں ، وہ مجھ سے پوشیدہ نہیں رہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ فرشتوں کا گروہ تھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ فرشتے تھے ، یا جو بھی اللہ کو منظور تھا ( وہ آپ نے فرمایا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بقالی کا معاملہ مختلف ہے ، عجلی نے اس کا ذکر ثقہ تابعین میں کیا ہے ، اور ابن حبان اور دیگر حضرات نے اس کا ذکر صحابہ کرام میں کیا ہے ۔