Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 3

Book of Signs of Prophethood

Hadith 13899–13938

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13899

Majma al-Zawaid #13899

«وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ [مِنْ الْأَعْرَابِ] فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي، حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا فَقُلْتُ لَهَا: هَبِي لِي يَوْمًا، قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ فَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ ""، فَقُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" كُلُوا ""، وَلَمْ يَأْكُلْ، فَقُلْتُ: هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي: هِبِي لِي يَوْمًا، قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ ""، فَقُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ ""، وَقُمْتُ خَلْفَهُ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ ""، فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ: "" لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salman (radiya Allahu anhu) reports his origin among the notables of Persia, then his wanderings borne up and down by lands until Bedouins enslaved and sold him and a woman bought him. Hearing mention of the Prophet ﷺ while life was dear, he asked his mistress for a day off and was granted it. He gathered firewood, sold it, prepared food, and placed it before the Prophet ﷺ. Asked what it was, he said charity, so the Prophet ﷺ bade his Companions eat but did not eat himself, and Salman counted this among the signs. After Allah's appointed stay, he again took leave, gathered and sold firewood for more, prepared food, and set it before the Prophet ﷺ amid his Companions. Asked what it was, he said a gift, so the Prophet ﷺ set his hand to it and bade his Companions take in Allah's name. Salman stood behind him, the cloak was lowered, and the Seal of Prophethood appeared. He testified the speaker was Allah's messenger, and when asked the reason, told of the man who had informed him. Asked whether that man would enter Paradise for telling him he was a prophet, the Prophet ﷺ twice answered that none enters Paradise but a Muslim soul. > **"Eat. Take in the name of Allah. What is this? And what is that? None shall enter Paradise but a Muslim soul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا تعلق فارس کے خوشحال لوگوں سے تھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ’’ میں مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جو دیہاتی تھے انہوں نے مجھے غلام بنا لیا اور مجھے فروخت کر دیا ، یہاں تک کہ ایک عورت نے مجھے خرید لیا ، میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو زندگی ٹھیک جا رہی تھی ، ایک دن میں نے اپنی مالکن سے کہا : آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا اور وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ کھا لو ، نبی اکرم ﷺ نے خود اسے نہیں کھایا ، تو میں نے سوچا : یہ ان کی مخصوص علامات میں سے ایک ہے ۔ پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا : آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں زیادہ قیمت میں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا ، اسے لے کر آیا ، نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، وہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھا ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی یہ تحفہ ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا ، آپ نے چادر ہٹائی تو مہر نبوت نظر آ گئی ، میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کس وجہ سے ؟ تو میں نے آپ کو اس شخص کے بارے میں بتایا ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا ؟ جس نے مجھے یہ بتایا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان جان داخل ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں ، تو کیا وہ جنت میں ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13900

Majma al-Zawaid #13900

«وَعَنْ سَلْمَانَ أَيْضًا قَالَ: خَرَجْتُ أَبْتَغِي الدِّينَ، فَوَقَعْتُ فِي الرُّهْبَانِ بَقَايَا أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ} [الأنعام: 20] فَكَانُوا يَقُولُونَ: هَذَا زَمَانُ نَبِيٍّ قَدْ أَطَلَّ، يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ، لَهُ عَلَامَاتٌ، مِنْ ذَلِكَ: شَامَةٌ مُدَوَّرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ. فَلَحِقْتُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ وَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ مَا قَالُوا كُلَّهُ، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ سَلْمَانَ فِي مَنَاقِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Salman (radiya Allahu anhu) reports in another narration going forth seeking religion and falling among the monks, remnants of the People of the Book, of whom Allah said they know him as they know their sons. They told him the time of a prophet had dawned, emerging from Arab land with distinguishing marks, among them a round mole between his shoulders, the Seal of Prophethood. He reached Arab land, the Prophet ﷺ emerged, he saw all they had described including the Seal, and testified there is no god but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah, after which the narrator related the full narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دین کی تلاش میں نکلا ، میں اہل کتاب کے باقی رہ جانے والے کچھ راہبوں کے پاس پہنچا ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ لوگ اس نبی کو یوں پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔‘‘ تو راہبوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ اس نبی کی بعثت کا زمانہ آ گیا ہے ، جن کا ظہور عرب کی سرزمین پر ہو گا ، ان کی مخصوص نشانیاں ہیں ، جن میں سے ایک نشانی مہر نبوت ہے ، جو ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک بڑے سے تل کی طرح ہو گی ، تو میں عرب کی سرزمین پر آیا ، نبی اکرم ﷺ کا ظہور ہوا ، میں نے تمام چیزیں دیکھ لیں ، جو انہوں نے بیان کی تھیں اور میں نے مہر نبوت بھی دیکھ لی ، تو میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی بقیہ احادیث ان کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔

13901

Majma al-Zawaid #13901

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: يَا يَهُودِيُّ، إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ: لَأَسْأَلَنَّهُ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مِمَّ يُخْلَقُ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: "" يَا يَهُودِيُّ، مِنْ كُلٍّ يُخْلَقُ، مِنْ نُطْفَةِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَةِ الْمَرْأَةِ، فَأَمَّا نُطْفَةُ الرَّجُلِ فَنُطْفَةٌ غَلِيظَةٌ مِنْهَا الْعَظْمُ وَالْعَصَبُ، وَأَمَّا نُطْفَةُ الْمَرْأَةِ فَنُطْفَةٌ رَقِيقَةٌ مِنْهَا اللَّحْمُ وَالدَّمُ "". فَقَامَ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ: هَكَذَا كَانَ يَقُولُ مَنْ قَبْلَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمَاعَةِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud (radiya Allahu anhu), reports a Jew passing the Prophet ﷺ while he addressed his Companions. Quraysh told the Jew the man claimed prophethood, so he vowed to ask what none but a prophet knows. He sat and asked from what man is created. The Prophet ﷺ answered that man is created from both, the fluid of the man and the fluid of the woman: the man's fluid thick, from it bone and sinew; the woman's fluid thin, from it flesh and blood. The Jew rose declaring those before him had said the same. > **"O Jew, he is created from both, from the fluid of the man and the fluid of the woman. The fluid of the man is thick, from it are bone and sinew, and the fluid of the woman is thin, from it are flesh and blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی ، نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، قریش نے کہا : اے یہودی ! ان صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں ، تو اس یہودی نے کہا : میں ان سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کروں گا ، جس کا علم صرف کسی نبی کو ہو سکتا ہے ، پھر وہ شخص آیا اور بیٹھ گیا ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ! انسان کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے یہودی ! ہر شخص کو مرد کے نطفے اور عورت کے نطفے سے پیدا کیا جاتا ہے ، جہاں تک مرد کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ گاڑھا نطفہ ہوتا ہے ، اس کے ذریعے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں ، جہاں تک عورت کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ پتلا ہوتا ہے ، اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔‘‘ تو یہودی کھڑا ہو گیا اور بولا : آپ سے پہلے کے ( انبیاء ) بھی اسی طرح بیان کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی عامر بن مدرک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور راویوں کی جماعت میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13902

Majma al-Zawaid #13902

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَقْبَلَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا: (اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ) قَالَ: " هَاتُوا "، [قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ؟ قَالَ: " تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ "] قَالُوا: خَبِّرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذَكِّرُ؟ قَالَ: " يَلْتَقِي الْمَاآنِ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ أَنَّثَتْ "، قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَ: " كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ بَعْضُهُمْ: يَعْنِي الْإِبِلَ - فَحَرَّمَ لُحُومَهَا "، قَالُوا: صَدَقْتَ، قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: " مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، بِيَدِهِ، أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ؟ قَالَ: " صَوْتُهُ "، قَالُوا: صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ، إِنَّمَا نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا [بِهَا فَ] أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَنْ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ، فَأَخْبِرْنَا عَنْ صَاحِبِكَ؟ قَالَ: " جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ "، قَالُوا: جِبْرِيلُ! ذَلِكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْعَذَابِ وَالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَهُوَ عَدُوُّنَا، لَوْ قُلْتَ: مِيكَائِيلُ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [البقرة: 97] الْآيَةَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Jews coming to the Messenger of Allah ﷺ asking about five things, promising recognition and obedience if he informed them. He took upon them the covenant Israil took upon his sons, Allah witness to their words, and bade them ask. They asked the mark of a prophet, and he said his eyes sleep while his heart does not. They asked how the woman produces female or male offspring, and he said the two fluids meet: if the man's fluid overcomes the woman's she bears male, if the woman's overcomes the man's she bears female. They asked what Israil forbade himself, and he said he suffered sciatica and found nothing congenial but the milk of such-and-such, some saying camels, so he forbade their meat. They confirmed his truth. They asked what thunder is, and he said a angel among Allah's angels entrusted with clouds, in his hand a striker of fire driving the clouds where Allah commands. Asked about the sound heard, he said it was his voice. They confirmed his truth, leaving one matter: no prophet lacks a bringer of tidings, so who was his companion. He answered Jibril (alayhi al-salam). They objected that Jibril descends with punishment, war, and fighting and was their enemy, whereas had he named Mika'il of mercy, growth, and rain it would have sufficed. Thereupon Allah revealed the verse concerning enmity to Jibril. > **"Bring them. His eyes sleep while his heart does not. If the man's fluid overcomes the woman's fluid she bears male, and if the woman's fluid overcomes the man's fluid she bears female. Thunder is a angel of Allah entrusted with the clouds, in his hand a striker of fire driving them where Allah commands; that sound is his voice. My ally is Jibril."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ یہودی ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اے ابوالقاسم ! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں ، اگر آپ نے ہمیں ان چیزوں کے بارے میں بتا دیا ، تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ آپ نبی ہیں ، اور ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے وہ عہد لیا ، جو حضرت اسرائیل ( یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام ) نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہا تھا : کہ جو ہم کہہ رہے ہیں ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ گواہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ سوال پیش کرو ! انہوں نے کہا : آپ ہمیں نبی کی علامت کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ہے ، انہوں نے کہا : آپ ہمیں یہ بتائیے کہ مؤنث کیسے پیدا ہوتی ہے ؟ اور مذکر کیسے پیدا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دونوں کا نطفہ ملتا ہے ، جب مرد کا نطفہ عورت کے نطفے پر غالب آ جائے ، تو بیٹا ہوتا ہے اور جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالب آ جائے تو بیٹی ہوتی ہے ۔‘‘ ان لوگوں نے کہا : آپ ہمیں یہ بتائیے کہ حضرت اسرائیل علیہ السلام ( یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) اپنے لئے کیا چیز حرام قرار دی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہیں عرق النساء کی شکایت ہو گئی تھی ، تو اس کے لئے انہیں صرف فلاں فلاں چیز کا دودھ موافق ہوا ، راوی کہتے ہیں : یعنی اونٹنیوں کا دودھ ، تو انہوں نے ان کا گوشت حرام قرار دے دیا ، ان لوگوں نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ، پھر انہوں نے کہا : آپ ہمیں گرج چمک کے بارے میں بتائیے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ، جو بادل پر مقرر ہے ، اس کے ہاتھ میں آگ کا بنا ہوا کوڑا ہوتا ہے ، جس کے ذریعے وہ بادل کو ڈانٹتا ہے ، اور اس کے ذریعے اسے وہاں لے کر جاتا ہے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہو ، انہوں نے کہا : پھر وہ آواز کیا ہوتی ہے ؟ جو ہم سنتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اس فرشتے کی آواز ہوتی ہے ، تو انہوں نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ، اب ایک چیز باقی رہ گئی ہے ، ہم آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں گے ، اگر آپ نے ہمیں اس کے بارے میں بھی بتا دیا ، ہر نبی کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا فرشتہ ہوتا ہے ، جو اس کے پاس اطلاعات لے کر آتا ہے ، تو آپ ہمیں اپنے متعلقہ فرشتے کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل ہے ، ان لوگوں نے کہا : جبرائیل ، وہ تو عذاب ، جنگ اور لڑائی لے کر نازل ہوتا ہے ، وہ تو ہمارا دشمن ہے ، اگر آپ میکائیل کہہ دیتے ، جو رحمت ، نباتات اور بارش لے کر نازل ہوتا ہے ، تو ٹھیک ہونا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم یہ فرما دو ! کہ جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو .......‘‘۔

13903

Majma al-Zawaid #13903

وَفِي رِوَايَةٍ: كُلَّمَا أَخْبَرَهُمْ بِشَيْءٍ فَصَدَّقُوهُ قَالَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ "، وَقَالَ فِيهَا: " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟ "، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَقَالَ أَيْضًا: " فَإِنَّ وَلِيِّي جِبْرِيلُ وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ»، قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording, each time the Prophet ﷺ informed the Jews of something and they confirmed it, he said O Allah bear witness. He adjured them by Allah who sent the Torah to Musa whether they knew the unlettered prophet whose eyes sleep while his heart does not, and they answered affirmatively. He added that his ally was Jibril, and Allah never sent a prophet but was his ally. > **"O Allah, bear witness. I adjure you by Allah who sent the Torah to Musa: do you know that this unlettered prophet's eyes sleep while his heart does not? My ally is Jibril, and Allah never sent a prophet but He was his ally."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب بھی نبی اکرم ﷺ انہیں جس کسی چیز کے بارے میں بتاتے ، تو وہ لوگ آپ کی تصدیق کر دیتے ، تو نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ۔‘‘ اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ ﷺ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی تھی ، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ امی نبی ، اُن کی آنکھیں سو جاتی ہیں ، لیکن دل نہیں سوتا ہے ، انہوں نے کہا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! اور اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میرا ساتھی جبرائیل ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، اس کا متعلقہ فرشتہ جبرائیل ہی ہوتا تھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

13904

Majma al-Zawaid #13904

وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: «كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: "" يَا فُلَانُ ""، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ ""، قَالَ: لَا، قَالَ: "" أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟ ""، قَالَ: نَعَمْ وَالْإِنْجِيلَ، قَالَ: "" وَالْقُرْآنَ؟ ""، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ نَاشَدَهُ: "" هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ؟ ""، قَالَ: أَجِدُ مِثْلَكَ وَمِثْلَ هَيْأَتِكَ وَمِثْلَ مُخْرَجِكَ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنَّا، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَحَيَّرْنَا أَنْ يَكُونَ أَنْتَ هُوَ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ، قَالَ: "" وَلِمَ ذَاكَ؟ ""، قَالَ: إِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، وَمَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ، قَالَ: "" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَنَا هُوَ وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي إِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ.

EnglishUnverified translation

Al-Falatan ibn Asim (radiya Allahu anhu) reports sitting with the Prophet ﷺ when his gaze fixed on a man in the mosque and he called him by name. The man answered at service, and none contended his speech but said O Messenger of Allah. The Prophet ﷺ asked whether he testified he was Allah's messenger, and he said no. Asked whether he read the Torah, he said yes, and the Gospel too; asked about the Quran, he swore by his soul he could read it if he willed. The Prophet ﷺ then adjured him whether he found him in the Torah and Gospel. He answered he found one like him in likeness, form, and place of emergence, and they had hoped he would be from them, but when he emerged they doubted whether he was the one, then concluded he was not. Asked why, he said that prophet would have seventy thousand of his nation entering Paradise without reckoning or punishment, while this one had only a small company. The Prophet ﷺ swore by his soul that he was indeed he, and they were his nation, exceeding seventy thousand and seventy thousand. > **"Do you testify that I am the Messenger of Allah? Do you read the Torah? And the Gospel? And the Quran? Do you find me in the Torah and the Gospel? By Him in whose hand is my soul, I am indeed he, and they are indeed my nation; they are more than seventy thousand and seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران آپ نے نگاہ اُٹھا کر مسجد میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے فلاں ! اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے تورات پڑھی ہوئی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اور انجیل بھی پڑھی ہوئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور قرآن ؟ اس نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں ، تو اُسے بھی پڑھ سکتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُسے واسطہ دے کر دریافت کیا : تم نے تورات اور انجیل میں میرا ذکر پایا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے آپ کی مثل اور آپ کی ہیئت کی مثل چیز پائی ہے ، لیکن ہم لوگوں کو یہ امید تھی کہ وہ نبی ہمارے خاندان میں سے ہوں گے ، جب آپ کا ظہور ہوا ، تو ہم حیران ہو گئے کہ آپ وہ نبی کیسے ہو سکتے ہیں ؟ جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو آپ وہ فرد نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : کیونکہ اس نبی کے ساتھ ، تو اُس کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہونے تھے ، جو جنت میں کسی حساب اور عذاب کے بغیر داخل ہوتے ، اور آپ کے ساتھ تو تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ ’’ نبی ‘‘ میں ہی ہوں ، اور وہ میری ہی امت کے لوگ ہوں گے ، اور وہ ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ( جو کسی حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جو دو طریقوں میں سے ایک طریق کے ہیں ۔

13905

Majma al-Zawaid #13905

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، «أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ الْيَهُودِ: إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَوَافَاهُ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقُمْتُ مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: "" ادْنُ ""، فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ: "" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ""، فَقُلْتُ: انْعَتْ رَبَّنَا، فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ - اللَّهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} [الإخلاص: 1 - 4] ""، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فَوْقَ نَخْلَةٍ لِي أَجُدُّهَا فَسَمِعْتُ رَجَّةً فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ [فَ] قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ، فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَتْ أُمِّي: لِلَّهِ أَنْتَ، لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ بِذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ؟ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ يُوسُفَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ.

EnglishUnverified translation

Hamza ibn Yusuf ibn Abdullah ibn Salam reports that his grandfather Abdullah ibn Salam told the rabbis he would renew a covenant at the mosque of Ibrahim and Ismail, then set out to the Messenger of Allah ﷺ at Makka, meeting him after the pilgrims had departed, finding him at Mina with people around him, and standing with them. When the Prophet ﷺ saw him he asked whether he was Abdullah ibn Salam, and upon confirmation bade him draw near. He adjured him by Allah whether he found him in the Torah as Allah's messenger. Ibn Salam asked him to describe their Lord, whereupon Jibril came and stood before the Prophet ﷺ with the chapter of Sincerity: He is Allah, One, the Eternal, who neither begets nor is born, with none like Him. The Prophet ﷺ recited it, Ibn Salam testified there is no god but Allah and he was His messenger, then returned to Madina concealing his Islam. When the Prophet ﷺ emigrated, Ibn Salam was atop his palm tree cutting dates, heard a commotion, asked its cause, was told the Messenger of Allah ﷺ had arrived, threw himself from the tree, hastened until he reached him, greeted him, and returned. His mother reproached him that he would not have thrown himself so even for Musa ibn Imran (alayhi al-salam). He swore his joy at the Prophet's ﷺ advent exceeded his joy at Musa's commissioning. > **"Are you Abdullah ibn Salam? Draw near. I adjure you by Allah, O Abdullah ibn Salam: do you find me in the Torah as the Messenger of Allah? He is Allah, One; Allah, the Eternal; He neither begets nor is born; and none is like Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : ان کے دادا حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا : میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد سے ہو کے آیا ہوں ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ مکہ میں تھے ، ان کی نبی اکرم ﷺ سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی ، جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو منیٰ میں پایا ، آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے ، وہ کہتے ہیں : میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا تو دریافت کیا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، میں قریب ہو گیا تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن سلام ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم نے تورات میں یہ نہیں پایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ تو میں نے کہا : آپ ہمارے پروردگار کے بارے میں ہمارے سامنے بیان کیجئے ! تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم ﷺ کے آگے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے یہ کہا : آپ یہ پڑھیں : ’’ تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا اور کوئی اس کا کفو نہیں ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھیں ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ واپس مدینہ منورہ چلے گئے ، انہوں نے یہودیوں سے اپنا اسلام چھپائے رکھا ، جب نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کی اور آپ مدینہ منورہ آ گئے ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا تھا اور اس سے کھجوریں اتار رہا تھا ، اسی دوران میں نے شور و غل کی آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول ﷺ تشریف لے آئے ہیں ، تو میں نے کھجور کے درخت سے چھلانگ لگا دی ، پھر میں نکلا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا : اگر اُن کی جگہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے اس وجہ سے کھجور کے درخت سے چھلانگ نہیں لگانی تھی ، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول ﷺ کی آمد پر ، اس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ بن یوسف نامی راوی نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

13906

Majma al-Zawaid #13906

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ، قَالَ: فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ لِتُخْبِرَنَا وَنُخْبِرَكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ رَجُلٌ حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنَّا الْقَرَارَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports the first report reaching them about the Messenger of Allah ﷺ concerned a woman with a familiar spirit. It came to her in a bird's form and perched on their trunk, and she invited it down to exchange tidings. It told her a man had emerged at Makka forbidding adultery and depriving them of settled rest. > **"A man has emerged at Makka forbidding us adultery and depriving us of settled rest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ہمارے پاس جو سب سے پہلی اطلاع آئی تھی ، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک عورت جس کا ایک تابع ( یعنی جنّ یا مؤکل ) تھا ، وہ پرندے کی شکل میں اس کے پاس آیا ، اور ان کے کھجور کے درخت پر بیٹھ گیا ، اس عورت نے کہا : کیا تم نیچے نہیں آؤ گے ؟ تاکہ ہم تمہیں خبر دیں اور تم ہمیں خبر دو ، تو اس نے کہا : ’’ مکہ میں ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جنہوں نے ہم پر زنا کو حرام قرار دے دیا ہے ، اور انہوں نے ہمیں کسی ایک جگہ ٹھہرنے سے روک دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13907

Majma al-Zawaid #13907

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «حَدَّثَنِي شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ عِيسَى قَالَ: كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً، فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا: يَا آلَ ذَرِيحْ قَوْلٌ فَصِيحْ رَجُلٌ يَصِيحْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reports from an aged man who reached Jahiliyya, met during the Rhodes campaign, called Ibn Isa. He was driving a cow for his household when he heard from its belly a call to the house of Dharih, an eloquent saying, a man crying that there is no god but Allah. They came to Makka and found the Prophet ﷺ had emerged there. > **"O house of Dharih, an eloquent saying, a man crying that there is no god but Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک بزرگ ، جنہوں نے زمانہ جاہلیت پایا تھا ، انہوں نے ہمیں بتایا ، ہم اس وقت جنگ روڈس میں موجود تھے ، اُن صاحب کا نام حضرت ابن عبس رضی اللہ عنہ تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گھر والوں کی گائے لے کر جا رہا تھا ، اسی دوران میں نے اس کے پیٹ سے آواز سنی : اے ذریع کی آل ! یہ فصیح قول ہے ، وہ شخص جو بلند آواز میں پکار کر یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ مکہ آئے ، تو ہم نے وہاں نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ کا ظہور ہو چکا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13908

Majma al-Zawaid #13908

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «كُنَّا حَوْلَ صَنَمٍ لَنَا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَهْرٍ وَقَدْ نَحَرْنَا جَزُورًا، إِذْ صَاحَ صَائِحٌ مِنْ جَوْفِهِ: اسْمَعُوا الْعَجَبَ، ذَهَبَ الشِّرْكُ وَالرِّجْزُ، وَرُمِيَ بِالشُّهُبِ، لِنَبِيٍّ بِمَكَّةَ اسْمُهُ أَحْمَدُ، وَمُهَاجَرُهُ إِلَى يَثْرِبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim (radiya Allahu anhu) reports standing about their idol a month before the Prophet's ﷺ commissioning, having sacrificed a camel, when a crier called from its belly bidding them hear the wonder: polytheism and defilement gone, the heavens pelted with flames, for a prophet at Makka named Ahmad whose migration would be to Yathrib. > **"Hear the wonder: polytheism and defilement are gone, the heavens are pelted with flames, for a prophet at Makka named Ahmad, whose migration is to Yathrib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے ایک ماہ پہلے ہم اپنے بت کے اردگرد موجود تھے ، ہم نے ایک اونٹ قربان کیا تھا ، اسی دوران بت کے پیٹ میں سے کسی پکارنے والے نے یہ کہا : حیران کن بات سن لو ، شرک اور بت ختم ہو گئے ، انہیں شہاب مارے جا رہے ہیں ، مکہ میں آنے والے ایک نبی کی وجہ سے ، جن کا نام احمد ہے ، اور ان کی ہجرت کی جگہ یثرب ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13909

Majma al-Zawaid #13909

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «خَرَجْتُ حَاجًّا فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَوْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ وَأَنَا بِمَكَّةَ نُورًا سَاطِعًا مِنَ الْكَعْبَةِ حَتَّى وَصَلَ إِلَى جِبَالِ يَثْرِبَ أَشْعَرَ جُهَيْنَةَ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِي النُّورِ وَهُوَ يَقُولُ: انْقَشَعَتِ الظَّلْمَاءُ وَسَطَعَ الضِّيَاءُ وَبُعِثَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ ثُمَّ أَضَاءَ إِضَاءَةً أُخْرَى حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى قُصُورِ الْحِيرَةِ وَأَبْيَضِ الْمَدَائِنِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِي النُّورِ وَهُوَ يَقُولُ: ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَكُسِرَتِ الْأَصْنَامُ وَوُصِلَتِ الْأَرْحَامُ فَانْتَبَهْتُ فَزِعًا وَقُلْتُ لِقَوْمِي: وَاللَّهِ لَيَحْدُثَنَّ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَثٌ. وَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ، أَنَا النَّبِيُّ الْمُرْسَلُ إِلَى الْعِبَادِ كَافَّةً، أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَآمُرُهُمْ بِحَقْنِ الدِّمَاءِ، وَصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَفْضِ الْأَصْنَامِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، فَمَنْ أَجَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ عَصَى فَلَهُ النَّارُ، فَآمِنْ بِاللَّهِ يَا عَمْرُو يُؤَمِّنُكَ اللَّهُ مِنْ هَوْلِ جَهَنَّمَ ""، قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَآمَنْتُ بِكُلِّ مَا جِئْتَ بِهِ مِنْ حَلَالٍ وَحَرَامٍ، وَأَنْ أُرْغِمَ ذَلِكَ كَثِيرًا مِنَ الْأَقْوَامِ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ أَبْيَاتًا، قُلْتُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ وَكَانَ لَنَا صَنَمٌ، وَكَانَ أَبِي سَادِنًا لَهُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَكَسَرْتُهُ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَقُولُ: شَهِدْتُ بِأَنَّ اللَّهَ حَقٌّ ... وَإِنَّنِي لِآلِهَةِ الْأَحْجَارِ أَوَّلُ تَارِكٍ وَشَمَّرْتُ عَنْ سَاقِي الْإِزَارَ مُهَاجِرًا ... إِلَيْكَ أَحُوزُ الْفَوْزَ بَعْدَ الدَّكَادِكِ لِأَصْحَبَ خَيْرَ النَّاسِ نَفْسًا وَوَالِدًا ... رَسُولَ مَلِيكِ النَّاسِ فَوْقَ الْحَبَائِكِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَرْحَبًا [بِكَ] يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ ""، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، ابْعَثْنِي إِلَى قَوْمِي لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُؤَمِّرَنِي عَلَيْهِمْ كَمَا مَنَّ بِكَ عَلَيَّ، فَبَعَثَنِي عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "" عَلَيْكَ بِالرِّفْقِ وَالْقَوْلِ السَّدِيدِ، وَلَا تَكُنْ فَظًّا وَلَا مُتَكَبِّرًا وَلَا حَسُودًا ""، فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ: يَا بَنِي رِفَاعَةَ، يَا مَعَاشِرَ جُهَيْنَةَ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَأُحَذِّرُكُمُ النَّارَ، وَآمُرُكُمْ بِحَقْنِ الدِّمَاءِ وَصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَفْضِ الْأَصْنَامِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرٌ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، فَمَنْ أَجَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ عَصَى فَلَهُ النَّارُ. يَا مَعْشَرَ جُهَيْنَةَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَكُمْ خِيَارَ مَنْ أَنْتُمْ مِنْهُ، وَبَغَّضَ إِلَيْكُمْ فِي جَاهِلِيَّتِكُمْ مَا حَبَّبَ إِلَى غَيْرِكُمْ، مِنْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ، وَيَخْلُفُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ عَلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ، وَالْغَزَاةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَأَجِيبُوا هَذَا النَّبِيَّ الْمُرْسَلَ مِنْ بَنِي لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ، تَنَالُوا شَرَفَ الدُّنْيَا وَكَرَامَةَ الْآخِرَةِ، وَسَارِعُوا فِي ذَلِكَ يَكُنْ لَكُمْ فَضِيلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ، فَأَجَابُوهُ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا قَالَ: يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ - أَمَرَّ اللَّهُ عَيْشَكَ - تَأْمُرُنَا أَنْ نَرْفُضَ آلِهَتَنَا، وَنُفَرِّقَ جَمَاعَتَنَا، وَنُخَالِفَ دِينَ آبَائِنَا إِلَى مَا يَدْعُو إِلَيْهِ هَذَا الْقُرَشِيُّ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ؟ لَا، وَلَا حُبًّا وَلَا كَرَامَةَ، ثُمَّ أَنْشَأَ الْخَبِيثُ يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ مُرَّةَ قَدْ أَتَى بِمَقَالَةٍ لَيْسَتْ مَقَالَةَ مَنْ يُرِيدُ صَلَاحَا إِنِّي لَأَحْسَبُ قَوْلَهُ وَفِعَالَهُ يَوْمًا وَإِنْ طَالَ الزَّمَانُ رِيَاحَا أَيُسَفَّهُ الْأَشْيَاخُ مِمَّنْ قَدْ مَضَى؟ مَنْ رَامَ ذَاكَ فَلَا أَصَابَ فَلَاحَا. فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: الْكَاذِبُ مِنِّي وَمِنْكَ أَمَرَّ اللَّهُ فَمَهُ، وَأَبْكَمَ لِسَانَهُ، وَأَكْمَهَ عَيْنَيْهِ، وَأَسْقَطَ أَسْنَانَهُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَوَاللَّهِ مَا مَاتَ حَتَّى سَقَطَ فُوهُ، وَكَانَ لَا يَجِدُ طَعْمَ الطَّعَامِ، وَعُمِيَ وَخُرِسَ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ بِهِمْ وَحَبَاهُمْ وَكَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا هَذِهِ نُسْخَتُهُ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابٌ صَادِقٌ وَحَقٌّ نَاطِقٌ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ لِجُهَيْنَةَ بْنِ زَيْدَانَ، لَكُمْ بُطُونُ الْأَرْضِ وَسُهُولُهَا وَتِلَاعُ الْأَوْدِيَةِ وَظُهُورُهَا، تَرْعَوْنَ نَبَاتَهُ وَتَشْرَبُونَ صَافِيَهِ عَلَى أَنْ تُقِرُّوا بِالْخَمْسِ، وَتُصَلُّوا صَلَاةَ الْخَمْسِ، وَفِي السِّعَةِ وَالصُّرَيْمَةِ شَاتَانِ إِذَا اجْتَمَعَتَا، وَإِنْ تَفَرَّقَتَا فَشَاةٌ شَاةٌ، لَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ "". وَشَهِدَ عَلَى نَبِيِّنَا وَمَنْ حَضَرَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِكِتَابِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَظْهَرَ دِينَهُ وَبَيَّنَ بُرْهَانَ الْقُرْآنِ لِعَامِرِ كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ يَجْعَلُنَا مَعًا وَأَخْلَافُنَا فِي كُلِّ بَادٍ وَحَاضِرِ إِلَى خَيْرِ مَنْ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا وَأَفْضَلِهَا عِنْدَ اعْتِكَارِ الضَّرَائِرِ أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا تَقَطَّعَتْ بُطُونُ الْأَعَادِي بِالظِّبَاءِ الْخَوَاطِرِ فَنَحْنُ قَبِيلٌ قَدْ بَنَى الْمَجْدُ حَوْلَنَا إِذَا اجْتُلِيَتْ فِي الْحَرْبِ هَامُ الْأَكَابِرِ بَنُو الْحَرْبِ نَفْرِيهَا بِأَيْدٍ طَوِيلَةٍ وَبِيضٍ تَلَأْلَأُ فِي أَكُفِّ الْمَغَاوِرِ وَمِنْ حَوْلِهِ الْأَنْصَارُ يَحْمُوا أَمِيرَهُمْ بِسُمْرِ الْعَوَالِي وَالسُّيُوفِ الْبَوَاتِرِ إِذَا الْحَرْبُ دَارَتْ عِنْدَ كُلِّ عَظِيمَةٍ وَدَارَتْ رَحَاهَا لِلُّيُوثِ الْهَوَاصِرِ تَبَلَّجَ مِنْهُ اللَّوْنُ وَازْدَانَ وَجْهُهُ كَمِثْلِ ضِيَاءِ الْبَدْرِ بَيْنَ الزَّوَاهِرِ. وَذَكَرَ يَاسِرُ بْنُ سُوَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَّهَهُ فِي خَيْلٍ أَوْ سَرِيَّةِ وَامْرَأَتُهُ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لَهُ مَوْلُودًا فَحَمَلَتْهُ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وُلِدَ هَذَا الْمَوْلُودُ وَأَبَوْهُ فِي الْخَيْلِ، فَسَمِّهِ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ رِجَالَهُمْ، وَأَقِلَّ أَيَّامَهُمْ، وَلَا تُحْوِجَهُمْ، وَلَا تُرِ أَحَدًا مِنْهُمْ خَصَاصَةً ""، فَقَالَ: "" سَمِّيهِ مُسْرِعًا فَقَدْ أَسْرَعَ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Murra al-Juhani (radiya Allahu anhu) reports departing for pilgrimage with his people in Jahiliyya and seeing in sleep at Makka a radiant light from the Kaba reaching the mountains of Yathrib and kindling Juhayna, with a voice in the light proclaiming the darkness dispelled, the radiance risen, and the Seal of the Prophets commissioned. A further illumination showed the palaces of Hira and the white of Mada'in, with a voice proclaiming Islam manifest, idols broken, and kinship joined. He awoke alarmed, told his people an event would befall Quraysh, and narrated the vision. Then the Prophet ﷺ addressed him by name as the messenger sent to all servants, summoning to Islam, sparing blood, joining kin, worshipping Allah, abandoning idols, pilgrimage to the House, and fasting Ramadan among twelve months, with Paradise for obedience and Fire for refusal, bidding Amr believe to be secured from Hell's terror. Amr testified there is no god but Allah and he was His messenger, believed all he brought of lawful and unlawful though many peoples would resent it, then recited verses breaking first with stone gods, girding his waist as an emigrant to the best of men in soul and father, the messenger of the King above the saddles. The Prophet ﷺ welcomed him, and at his request to be sent to his people in hope Allah would set him over them as He had favoured him through the Prophet ﷺ, dispatched him with charge to gentleness, upright speech, and avoidance of harshness, arrogance, and envy. He came to his people addressing Banu Rifaa and Juhayna as messenger of Allah's messenger, summoning to Paradise, warning of the Fire, commanding sparing of blood, joining kin, worship of Allah, abandonment of idols, pilgrimage, and fasting Ramadan among twelve months, reminding them Allah had made them the best of their stock and spared them in Jahiliyya the sister-marrying, stepmother-marrying, and sacred-month raiding others loved, urging them to answer the dispatched prophet from Banu Luayy ibn Ghalib for this world's honour and the next. They answered except one man who cursed his livelihood and refused to abandon gods, sunder unity, or oppose fathers for a Tihami Qurashi, versifying that Ibn Murra's words sought no good and would prove wind, reviling the forefather sheikhs. Amr retorted the liar among them would have his mouth embittered, tongue muted, eyes blinded, teeth fallen; and indeed the man died with fallen mouth, tasteless food, blind and dumb. Amr with his followers came to the Prophet ﷺ, who welcomed, gifted, and wrote them a document in Allah's name upon His messenger's tongue, a true speaking writ for Amr ibn Murra al-Juhani and Juhayna ibn Zaydan: valleys, plains, and heights to pasture and drink pure upon affirming the fifth, praying the five, and paying two sheep when flocks joined in plenty and one each when parted, with no charity on the scavenger-fed. Qays ibn Shammas wrote it with witness of their Prophet ﷺ and present Muslims. Amr versified Allah's manifest religion and Quranic proof, a writ from the Merciful joining them in desert and town to the best walker on earth, obeying Allah's messenger as enemy bellies were cut by trenchant blades, a tribe round whom glory was built, warriors with long hands and flashing swords, the Ansar guarding their commander with spears and cutting swords, his face brightening like light's radiance. Yasir ibn Suwayd added the Prophet ﷺ once dispatched him with cavalry while his wife was pregnant; she bore a son, brought him asking a name while the father was out, the Prophet ﷺ passed his hand over him, supplicated increase of their men, fewness of their days, freedom from need and want, and named him Musri for hastening into Islam. > **"O Amr ibn Murra, I am the prophet sent to all servants. I summon them to Islam, command sparing of blood, joining of kin, worship of Allah, abandonment of idols, pilgrimage to the House, and fasting the month of Ramadan among twelve months. Whoever answers has Paradise, and whoever disobeys has the Fire. Believe in Allah, O Amr, and Allah will secure you from the terror of Hell. Welcome, O Amr ibn Murra. Hold to gentleness and upright speech, and be not harsh, nor arrogant, nor envious. In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate: this is a writ from Allah upon the tongue of His messenger, a true and speaking writ for Amr ibn Murra al-Juhani and Juhayna ibn Zaydan. O Allah, increase their men, lessen their days, leave them unneeding, and let none of them see want. Name him Musri, for he hastened into Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ حج کرنے کے لئے نکلا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ میں موجود ہوں ، اور خانہ کعبہ میں سے ایک نور چمک رہا ہے ، یہاں تک کہ وہ یثرب کے پہاڑوں تک پہنچ گیا ، جو اشعر جہینہ نامی پہاڑ ہے ، پھر میں نے اس نور میں ایک آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : ’’ تاریکیاں چھٹ گئی ہیں اور روشنی چمک رہی ہے ، اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے مبعوث ہو گئے ہیں ۔‘‘ پھر ایک اور روشنی ہوئی ، یہاں تک کہ میں نے ’’ حیرہ ‘‘ کے محلات اور ’’ مدائن ‘‘ کی سفیدی دیکھ لی اور میں نے اس نور میں ایک آواز سنی ، جو یہ کہہ رہا تھا : ’’ اسلام غالب آ گیا ، بت توڑ دیے گئے اور صلہ رحمی کر لی گئی ۔‘‘ میں پریشانی کے عالم میں بیدار ہوا ، میں نے اپنی قوم سے کہا : قریش کے قبیلے میں کوئی نئی صورت حال سامنے آئی ہے ، پھر میں نے انہیں اس خواب کے بارے میں بتایا جو میں نے دیکھا تھا ، جب ہم اپنے علاقے میں پہنچے تو ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ایک صاحب جن کا نام احمد ہے ، وہ مبعوث ہو گئے ہیں ، میں ان کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، جو میں نے خواب دیکھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے عمرو بن مرہ ! میں وہ نبی ہوں ، جسے تمام بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے ، میں ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں انہیں قتل و غارت گری سے بچنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہوں ، اللہ کی عبادت کرنے اور بتوں کو پرے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور بیت اللہ کا حج کرنے اور سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیتا ہوں ، جو شخص اس بات کو مان لے گا ، اُسے جنت ملے گی اور جو شخص نافرمانی کرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ، تو اے عمرو ! تم اللہ پر ایمان لے آؤ ، وہ تمہیں جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور میں ہر اس چیز پر ایمان رکھتا ہوں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، جس کا تعلق حلال اور حرام سے ہے ، اگرچہ یہ بات لوگوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ لگے ، پھر میں نے آپ کو وہ اشعار سنائے ، جو میں نے اُس وقت کہے تھے ، جب میں نے اس بارے میں سنا تھا ، ہمارا ایک بت ہوتا تھا ، میرے والد اس کے نگران تھے ، میں اُٹھا اور میں نے اسے توڑ دیا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے ، اور میں بت معبودوں کو چھوڑنے والا پہلا فرد ہوں ، میں نے اپنی پنڈلی سے تہبند ہٹا کے تیاری شروع کر دی ہے ، تاکہ میں آپ کی طرف ہجرت کروں اور یہ ہجرت ویرانوں کو طے کر کے کروں ، تاکہ میں ان صاحب کا ساتھی بن جاؤں ، جو اپنے وجود اور اپنے والد کے حوالے سے ، سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اور آسمانوں کے اوپر موجود لوگوں کے بادشاہ ( یعنی خدا ) کے رسول ہیں “ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمرو بن مرہ ! تمہیں خوش آمدید ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے میری قوم کی طرف بھیجئے ، تاکہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے اُن لوگوں پر احسان کرے ، جس طرح اس نے آپ کے ذریعے مجھ پر احسان کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے ان لوگوں کی طرف بھیجا ، آپ نے فرمایا : تم نے نرمی سے کام لینا ہے ، اور اچھی بات کہنی ہے ، تم نے سختی کا مظاہرہ نہیں کرنا ، تکبر نہیں کرنا ، حسد نہیں کرنا ، میں اپنی قوم کے پاس آیا ، میں نے کہا : ’’ اے بنو رفاعہ ! اے جہینہ قبیلے کے لوگو ! میں اللہ کے رسول ﷺ کے قاصد کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں ، میں تمہیں جنت کی طرف دعوت دیتا ہوں اور تمہیں جہنم سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ جانوں کی حفاظت کی جائے ، صلہ رحمی کی جائے ، اللہ کی بندگی کی جائے ، بتوں کو پرے کر دیا جائے ، بیت اللہ کا حج کیا جائے ، رمضان کے مہینے کے روزے رکھے جائیں ، جو بارہ مہینوں میں ایک مہینہ ہے ، جو شخص اس بات کو مان لے گا اسے جنت ملے گی اور جو شخص نافرمانی کرے گا ، اسے جہنم ملے گی ، اے جہنیہ قبیلے کے گروہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہتر صورت حال میں رکھا ہے ، اور زمانہ جاہلیت میں دوسرے لوگوں کے نزدیک جو چیز پسندیدہ ہوتی تھی ، وہ تم لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ رکھی ہے ، جیسے وہ لوگ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کر لیتے تھے ، یا کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیتا تھا ، یا حرمت والے مہینے میں جنگ کر لیتا تھا ( تو تم لوگوں کے اندر یہ چیزیں نہیں پائی جاتی ہیں ) تو تم لوگ بنو لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے اس ’’ مرسل ، نبی ‘‘ کی بات کو قبول کرو ، تاکہ تم دنیا کا شرف اور آخرت کی عزت کو حاصل کرو ، اور تم اس بارے میں جلدی کرو ، تمہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فضیلت حاصل ہو گی ۔‘‘ اُن لوگوں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی بات مان لی ، صرف ایک شخص نے نہیں مانی ، اس نے کہا : اے عمرو بن مرہ ! اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کو ناگوار کر دے ، تم ہمیں یہ حکم دے رہے ہو کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ اور اپنے اجتماع کے اندر علیحدگی اختیار کر لیں اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کی مخالفت کریں اور اس چیز کی طرف جائیں ، جس کی دعوت اہل تہامہ سے تعلق رکھنے والا وہ قریشی شخص دے رہا ہے ، جی نہیں ! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ، پھر اس خبیث نے یہ اشعار کہے : ’’ ابن مرہ ایک ایسی بات لے کر آیا ہے ، جو کسی ایسے شخص کی بات نہیں ہو سکتی جو بہتری کا ارادہ رکھتا ہو ، میں اس کے قول اور فعل کو بے حیثیت ہی سمجھتا ہوں اگرچہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے ، کیا وہ گزرے ہوئے مشائخ کو بیوقوف قرار دیتا ہے ، جو اس بات کا قصد کرے تو وہ کبھی فلاح تک نہیں پہنچ سکتا ۔‘‘ تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اور مجھ میں سے جو شخص جھوٹا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے منہ کو کڑوا کر دے ، اُس کی زبان کو گونگا کر دے ، اُس کی آنکھوں کو نابینا کر دے اور اس کے دانت گرا دے ۔ حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس شخص کے مرنے سے پہلے اس کا منہ گر گیا ( یعنی زبان کا ذائقہ خراب ہو گیا ) اسے کسی کھانے کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا ، وہ نابینا بھی ہو گیا ، گونگا بھی ہو گیا ، پھر حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا ، آپ نے انہیں تحائف دیئے ، اور آپ نے ان کے لئے ایک تحریر لکھوائی ، جس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کی طرف سے ، اُس کے نبی کی زبانی ایک تحریر ہے ، جو سچی تحریر ہے ، اور سچی بات ہے ، یہ عمرو بن مرہ جہنی کے لئے ہے ، جو جہینہ بن زیدان سے تعلق رکھتے ہیں ، تم لوگوں کو زمین کا ہموار حصہ اور اس کے ٹیلے اور ان کی پشتیں ملتی ہیں ، تم وہاں نباتات اگاؤ گے اور صاف پانی پیو گے ، اس شرط پر کہ تم پانچ چیزیں برقرار رکھو گے ( یا تم خمس ادا کرو گے ) تم لوگ پانچ نمازیں پڑھنا اگر سعہ اور صریمہ اکٹھی ہو جائیں ، تو اس میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور اگر یہ الگ الگ ہوں ، تو ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور چادروں والوں پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی ۔‘‘ تو حضرت قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی لکھی ہوئی اس تحریر پر ، ہمارے نبی ﷺ اور وہاں موجود مسلمان گواہ بنے تھے ، اسی لئے حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کر دیا ہے ، اور آباد کرنے والے کے لیے قرآن کی ، اپنی برہان کو بیان کر دیا ہے ، جو رحمن کی طرف سے آنے والی کتاب ہے ، اس نے ہم سب کو اکٹھا کر دیا ہے ، جبکہ ہمارے اخلاف ( یہاں مراد حلیف ہیں ) ہر دیہاتی اور شہری میں ہیں ، اور ہم اس ہستی کی طرف آ گئے ہیں ، جو زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر ہیں ، اور مختلف پریشان کن مسائل درپیش آنے کے وقت سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کی ، اس وقت جب درندوں کے پیٹ ہرنوں کے ذریعے کاٹ دیے گئے ، تو ہم ایک ایسا قبیلہ ہیں کہ بزرگی ہمارے اردگرد تیار کی گی ہے ، جب جنگ کے دوران بڑوں بڑوں کے سر کاٹ دیے جاتے ہیں ، ہم جنگ آزما ہیں ، ہم لمبے ہاتھوں اور غارتگری کرنے والوں کے ہاتھوں میں موجود خودوں کے ذریعے اس کو بھڑکاتے ہیں ، اور ان کے اردگرد انصار ہیں ، جو تیز نیزوں اور کاٹ دینے والی تلواروں کے ذریعے اپنے امیر کی رکھوالی کرتے ہیں ، جب جنگ ہر بڑی چیز کے قریب گھومتی ہے ، تو اس کی چکی کو توڑ پھوڑ کرنے والے شیر گھماتے ہیں ، ان سے رنگ روشن ہوتا ہے ، اور ان کا چہرہ آراستہ ہوتا ہے ، جیسے ستاروں کے درمیان میں چودھویں کا چاند ہوتا ہے ۔‘‘ یاسر بن سوید نے یہ بات ذکر کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے انہیں کسی جنگی مہم پر روانہ کیا ، ان کی بیوی حاملہ تھی ، اس نے بچے کو جنم دیا ، اس بچے کی والدہ اُسے اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں یہ بچہ پیدا ہوا ہے ، اس کے والد جنگ میں گئے ہوئے ہیں ، تو آپ ﷺ اس کا نام رکھ دیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کو لیا ، آپ نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! ان کے افراد کو زیادہ کر دے ، ان کی تنگی کو کم کر دے اور تو انہیں محتاج نہ کرنا ، اور تو ان کی طرف سے کسی کو لالچ نہ دکھانا ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کا نام ’’ مسرع ‘‘ رکھو ! کیونکہ یہ اسلام کی طرف تیزی سے آیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

13910

Majma al-Zawaid #13910

وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كَانَ إِسْلَامُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ أَنَّهُ كَانَ بِعُمْرَةٍ فِي لَقَاحٍ لَهُ نِصْفَ النَّهَارِ، إِذْ طَلَعَتْ لَهُ نَعَامَةٌ بَيْضَاءُ مِثْلَ الْقُطْنِ عَلَيْهَا رَاكِبٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ مِثْلَ الْقُطْنِ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ السَّمَاءَ كَفَتْ أَحْرَاسَهَا، وَأَنَّ الْحَرْبَ جُرِّعَتْ أَنْفَاسُهَا، وَأَنَّ الْخَيْلَ وُضِعَتْ أَحْلَاسُهَا، وَأَنَّ الَّذِي نَزَلَ بِالْبِرِّ وَالْهُدَى لَفِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ لَيْلَةِ الثُّلَاثَاءَ صَاحِبُ النَّاقَةِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَرْعُوبًا قَدْ رَاعَنِي مَا رَأَيْتُ وَسَمِعْتُ، حَتَّى جِئْتُ وَثَنًا لَنَا كَانَ يُدْعَى: الضِّمَادَ، وَكُنَّا نَعْبُدُهُ وَيُكَلِّمُ مِنْ جَوْفِهِ فَكَنَسْتُ مَا حَوْلَهُ وَتَمَسَّحْتُ بِهِ وَقَبَّلْتُهُ، فَإِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ جَوْفِهِ: يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: قُلْ لِلْقَبَائِلِ مِنْ سُلَيْمٍ كُلِّهَا هَلَكَ الصِّمَادُ وَفَازَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِنَّ الَّذِي جَاءَ بِالنُّبُوَّةِ وَالْهُدَى بَعْدَ ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ قُرَيْشٍ مُهْتَدِ هَلَكَ الصِّمَادُ وَكَانَ يُعْبَدُ مَرَّةً قَبْلَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدِ قَالَ: فَخَرَجْتُ مَرْعُوبًا حَتَّى جِئْتُ قَوْمِي، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ وَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ، فَخَرَجْتُ فِي ثَلَاثِمِائَةِ رَاكِبٍ مِنْ قَوْمِي مِنْ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ، كَيْفَ كَانَ إِسْلَامُكُ؟ ""، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ: "" صَدَقْتَ ""، فَسُرَّ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَسْلَمْتُ أَنَا وَقَوْمِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقَالَ: كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abbas ibn Mirdas al-Sulami (radiya Allahu anhu) reports his Islam beginning at noon among his milch camels at Umra, when a white ostrich like cotton appeared bearing a rider in garments white as cotton, addressing him by name, asking whether he had not seen heaven withholding its guards, war drained of breath, horses unsaddled, and the bringer of righteousness and guidance appearing Monday night, master of the she-camel. Terrified by what he saw and heard, he went to their idol called al-Dimad, which they worshipped and which spoke from its belly. After sweeping about it, wiping it, and kissing it, a crier from within called him by name with verses bidding him tell all the clans of Sulaym that al-Samad had perished while the people of the mosque triumphed, that the bringer of prophethood and guidance after the son of Maryam was a guided Qurashi, perished the once-worshipped idol before prayer upon Muhammad. Terrified, he told his people the whole account, then led three hundred riders of Banu Haritha to the Prophet ﷺ. Entering the mosque, the Prophet ﷺ smiled and asked how his Islam came about. Upon hearing the account he confirmed its truth and rejoiced, and Abbas with his people embraced Islam. > **"O Abbas ibn Mirdas, have you not seen that heaven has withheld its guards, war has been drained of breath, horses have been unsaddled, and the bringer of righteousness and guidance has come on Monday night, master of the she-camel? Tell all the clans of Sulaym: al-Samad has perished and the people of the mosque have triumphed; the bringer of prophethood and guidance after the son of Maryam is a guided Qurashi; perished is al-Samad, once worshipped before prayer upon Muhammad. O Abbas ibn Mirdas, how did your Islam come about? You have spoken truly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یہ ہے کہ وہ دوپہر کے وقت ’’ غمرہ ‘‘ کے مقام پر اپنی اونٹنیوں میں موجود تھے ، اسی دوران سفید رنگ کا ایک شتر مرغ ان کے سامنے آیا ، جو روئی کی طرح تھا ، اس پر ایک شخص سوار تھا ، جس پر روئی کی طرح کے سفید کپڑے تھے ، اس نے کہا : اے عباس بن مرداس ! کیا تم نے دیکھا نہیں ہے ؟ کہ آسمان نے اپنے محافظوں کو پیچھے کر دیا ہے ، اور جنگ نے سانسیں لینا شروع کر دی ہیں ، اور گھوڑوں پر زمینیں رکھ دی گئی ہیں ، اور وہ دین نازل ہو گیا ہے ، جو نیکی اور ہدایت کے ہمراہ ہے ، وہ پیر کے دن اور منگل کی رات میں ہوا ہے ، جو اونٹنی والے شخص ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں پریشانی کے عالم میں وہاں سے نکلا ، میں نے جو چیز سنی تھی اور جو چیز دیکھی تھی اس نے مجھے خوف زدہ کر دیا تھا ، یہاں تک کہ میں اپنے بت کے پاس آیا ، جس کا نام ” ضماد ‘‘ تھا ، ہم اس کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے پیٹ میں سے آواز آیا کرتی تھی ، میں نے اس کے اردگرد جھاڑو دیا ، اس پر ہاتھ پھیرا ، اس کو بوسہ دیا ، اسی دوران اس کے پیٹ میں سے کسی نے چیخ کر کہا : ’’ اے عباس بن مرداس ! تم سلیم ( بڑے قبیلے ) کے تمام ( چھوٹے ) قبیلوں سے کہہ دو ، ضماد ہلاکت کا شکار ہو گئے اور مسجد والے کامیاب ہو گئے ، قریش سے تعلق رکھنے والے وہ صاحب جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے بعد نبوت اور ہدایت لے کر آئے ہیں ، وہ ہی ہدایت یافتہ ہیں ، ضماد ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجنے سے پہلے تک ، اس ( ضماد ) ایک عرصہ تک عبادت کی جاتی رہی ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے پریشانی کے عالم میں نکلا ، یہاں تک کہ میں اپنی قوم کے پاس آیا اور میں نے انہیں سارا واقعہ سنایا ، انہیں پوری بات کے بارے میں بتایا ، پھر میں اپنی قوم بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے تین سو افراد کے ساتھ سوار ہو کر نکلا ، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ ﷺ مسکرائے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عباس بن مرداس ! تمہارا اسلام کیسے ہوا ؟ میں نے آپ کو پورا واقعہ سنایا ، تو آپ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا ہے ، نبی اکرم ﷺ اس حوالے سے خوش ہوئے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اور میری قوم نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور سعید بن منصور نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : مالک اس سے راضی تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13911

Majma al-Zawaid #13911

وَعَنْ مَازِنِ بْنِ الْغَضُوبَةِ قَالَ: «كُنْتُ أَسْدُنُ صَنَمًا يُقَالُ لَهُ: بَاحِرٌ بِسَمَائِلَ قَرْيَةٍ بِعُمَانَ، فَعَبَرْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عُنَيْزَةٌ - وَهِيَ الذَّبِيحَةُ - فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ: يَا مَازِنُ اسْمَعْ تُسَرْ ظَهَرَ خَيْرٌ وَبَطَنَ شَرْ بُعِثَ نَبِيٌّ مِنْ مُضَرْ بِدِينِ اللَّهِ الْأَكْبَرْ فَدَعْ نَحِيتًا مِنْ حَجَرْ تَسْلَمْ مِنْ حَرِّ سَقَرْ قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ وَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ، ثُمَّ عَبَرْتُ بَعْدَ أَيَّامٍ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ: أَقْبِلْ إِلَيَّ أَقْبِلْ تَسْمَعْ مَا لَا تَجْهَلْ هَذَا نَبِيٌّ مُرْسَلْ جَاءَ بِحَقٍّ مُنْزَلْ آمِنْ بِهِ كَيْ تَعْدِلْ عَنْ حَرِّ نَارٍ تُشْعَلْ وَقُودُهَا بِالْجَنْدَلْ فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ يُرَادُ بِي، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْحِجَازِ فَقُلْنَا: مَا الْخَبَرُ وَرَاءَكَ؟ قَالَ: ظَهَرَ رَجُلٌ [يُقَالُ لَهُ أَحْمَدُ] يَقُولُ لِمَنْ أَتَاهُ: "" أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ ""، فَقُلْتُ: هَذَا نَبَأُ مَا قَدْ سَمِعْتُ، فَسِرْتُ إِلَى الصَّنَمِ فَكَسَرْتُهُ [أَجْذَاذًا] وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرَحَ لِي الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمْتُ وَقُلْتُ: كَسَرْتُ نَاجِزًا َجُذَاذًا وَكَانَ لَنَا ... رَبًّا نَطِيفُ بِهِ عُمْيًا بِضَلَالِ بِالْهَاشِمِيِّ هُدِينَا مِنْ ضَلَالَتِهِ ... وَلَمْ يَكُنْ دِينُهُ مِنِّي عَلَى بَالِ يَا رَاكِبًا بَلِّغَنْ عَمْرًا وَإِخْوَتَهُ ... أَنِّي لَمَنْ قَالَ: رَبِي نَاجِزٌ قَالِ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ الصَّلْتِ وَإِخْوَتَهُ بَنِي خُطَامَةَ، قَالَ مَازِنٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرُؤٌ مُولَعٌ بِالطَّرَبِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالْهَلُوكِ - قَالَ ابْنُ الْكَلْبِي: وَالْهَلُوكُ الْفَاجِرَةُ مِنَ النِّسَاءِ - وَأَلَحَّتْ عَلَيْنَا السُّنُونَ، فَأَذْهَبَتِ الْأَمْوَالَ وَأَهْزَلَتِ الذَّرَارِيَ، وَلَيْسَ لِي وَلَدٌ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ عَنِّي مَا أَجِدُ، وَيَأْتِيَنِي بِالْحَيَاءِ وَيَهَبُ لِي وَلَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ أَبْدِلْهُ بِالطَّرَبِ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ، وَبِالْحَرَامِ الْحَلَالَ، وَبِالْعُهْرِ عِفَّةَ الْفَرْجِ، وَبِالْخَمْرِ رَيًّا لَا إِثْمَ فِيهِ، وَآتِهِمْ بِالْحَيَا، وَهَبَ لَهُ وَلَدًا ""، قَالَ مَازِنٌ: فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ وَوَهَبَ اللَّهُ لِي حَبَارَ بْنَ مَازِنٍ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ: إِلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ خَبَّتْ مَطِيَّتِي ... تَجُوبُ الْفَيَافِي مِنْ عُمَانَ إِلَى الْعَرْجِ لِتَشْفَعَ لِي يَا خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَى ... فَيَغْفِرَ لِي رَبِّي فَأَرْجِعَ بِالْفَلْجِ إِلَى مَعْشَرٍ خَالَفْتُ فِي اللَّهِ دِينَهُمْ ... فَلَا رَأْيُهُمْ رَأْيِي وَلَا شَرْحُهُمْ شَرْحِي وَكُنْتُ امْرَءًا بِالْعُهْرِ وَالْخَمْرِ مُولَعًا ... حَيَاتِيَ حَتَّى آذَنَ الْجِسْمُ بِالنَّهْجِ فَبَدَّلَنِي بِالْخَمْرِ خَوْفًا وَخَشْيَةً ... وَبِالْعُهْرِ إِحْصَانًا فَحَصَّنَ لِي فَرْجِي [فَأَصْبَحْتُ هَمِّي مِنَ الْجِهَادِ وَنِيَّتِي ... فَلِلَّهِ مَا صَوْمِي وِلِلَّهِ مَا حَجِّي]. فَلَمَّا أَتَيْتُ قَوْمِي أَنَّبُونِي وَشَتَمُونِي، وَأَمَرُوا شَاعِرَهُمْ فَهَجَانِي، فَقُلْتُ: إِنْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ [فَ] إِنَّمَا أَهْجُو نَفْسِي فَاعْتَزَلْتُهُمْ إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ وَقُلْتُ: بُغْضُكُمْ عِنْدَنَا مُرَمَّدًا فِيهِ ... وَبُغْضُنَا عِنْدَكُمْ يَا قَوْمَنَا لَبَنُ لَا نَفْطُنُ الدَّهْرَ إِنْ بَانَتْ مَعَايِبُكُمْ ... وَكُلُّكُمْ حِينَ يَبْدُو عَيْبُنَا فَطِنُ شَاعِرُنَا مُعْجَمٌ عَنْكُمْ وَشَاعِرُكُمْ ... فِي حَرْبِنَا مُولَعٌ فِي شَتْمِنَا لَسِنُ مَا فِي الْقُلُوبِ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا وَغَرٌ ... وَفِي صُدُورِكُمُ الْبَغْضَاءُ وَالْإِحَنُ. فَأَتَتْنِي مِنْهُمْ أَزْفَلَةٌ عَظِيمَةٌ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَمِّنَا عِبْنَا عَلَيْكَ أَمْرًا وَكَرِهْنَاهُ لَكَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَشَأْنَكَ وَدِينَكَ، فَارْجِعْ فَقُمْ بِأُمُورِنَا، وَكُنْتُ الْقَيِّمَ بِأُمُورِهِمْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ هَدَاهُمُ اللَّهُ بَعْدُ إِلَى الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، مِنْ طَرِيقِ هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Mazin ibn al-Ghaduba reports keeping the idol Bahir at Sama'il village in Oman. Passing one day with a small sacrificial goat, he heard a voice from the idol bidding Mazin hear and rejoice: good manifest and evil buried, a prophet commissioned from Mudar with Allah's greatest religion, so abandon carved stone to be saved from Saqar's heat. Alarmed at the wonder, he passed days later and heard it bid him approach and hear what he could not ignore: a dispatched prophet with revealed truth, so believe to turn from kindled fire fuelled with stones. Judging good intended for him, a Hijazi traveller then reported a man called Ahmad summoning comers to answer Allah's caller. Recognizing the tidings, Mazin smashed the idol to fragments, mounted, reached the Messenger of Allah ﷺ, who explained Islam, and he embraced it with verses declaring Bahir broken to pieces after blind circumambulation in error, guidance through the Hashimi unsuspected, and a message to Amr and his Khuthama brothers that whoever called Bahir his lord lied. He confessed fondness for revelry, wine, and dissolute women, with years consuming wealth, emaciating offspring, and leaving him childless, asking supplication to remove his affliction, grant modesty, and bestow a son. The Prophet ﷺ supplicated Allah to replace revelry with Quran recitation, the unlawful with the lawful, debauchery with chastity, wine with blameless quenching, to send rain, and grant a son. Mazin affirms Allah removed his affliction and granted him Habbar ibn Mazin, whom he praised in verses of his long ride from Oman seeking intercession, opposing his people's religion, and exchanging wine and debauchery for fear, chastity, struggle, fasting, and pilgrimage. Returning to his people, they reproached and reviled him and set their poet to lampoon him; he answered that answering them meant lampooning himself, withdrew to the seashore with verses on mutual rancour, until a great company came asking him to resume their affairs as their custodian, which he did, and Allah later guided them to Islam. > **"O Allah, replace for him revelry with recitation of the Quran, the unlawful with the lawful, debauchery with chastity of private parts, and wine with quenching free of sin; send them rain and grant him a son."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عمان کی ایک بستی سمائل میں ’’ باحر ‘‘ نامی بت کا نگران تھا ، ایک دن ہم وہاں آئے ، اس کے پاس ایک ذبیحہ موجود تھا ، اسی دوران میں نے بت میں سے آواز سنی جو کہہ رہا تھا : ’’ اے مازن تم سنو ! تمہیں خوشی ہو گی ، بھلائی ظاہر ہو گئی اور شر چھپ گیا ، مضر ( قبیلے ) سے تعلق رکھنے والے نبی مبعوث ہو گئے ہیں ( وہ ) سب سے بڑے اللہ کے دین کے ہمراہ ( مبعوث ہوئے ہیں ) تم پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو ، تم جہنم کی گرمی سے بچ جاؤ گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں پریشان ہو گیا ، میں نے کہا : یہ بڑی حیران کن بات ہے ، پھر اس کے کچھ دن بعد میں آیا ، تو میں نے بت میں سے آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : ’’ آؤ میری طرف آؤ ، وہ سن لو ، جس سے تم ناواقف نہیں ہو ، یہ نبی مرسل ہیں ، جو نازل شدہ حق لے کر آئے ہیں ، ان پر ایمان لے آؤ تاکہ تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ کی تپش سے پھیر دیا جائے ، جس کا ایندھن جندل ( یعنی زمین ) میں ہے ۔‘‘ تو میں نے کہا : یہ تو بڑی حیران کن بات ہے ، اور یہ ایک بھلائی ہے ، جو میرے بارے میں مراد لی جا رہی ہے ، ابھی ہم وہاں اسی حالت میں تھے کہ ایک شخص حجاز سے ہمارے پاس آیا ، ہم نے کہا : تمہارے پیچھے کیا خیر خبر ہے ؟ اس نے کہا : ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جن کا نام ’’ احمد ‘‘ ہے ، جو اُن کے پاس جاتا ہے ، وہ اس سے یہ کہتے ہیں : اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات کو قبول کرو ، میں نے کہا : یہ تو وہ خبر ہے کہ جس کے بارے میں میں سن چکا ہوں ، پھر میں اپنے بت کی طرف گیا ، اور میں نے اسے ٹکڑوں میں توڑ دیا ، پھر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لئے شرح صدر عطا کیا ، اور میں نے اسلام قبول کیا ، پھر میں نے یہ اشعار کہے : ’’ میں نے بت کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ، اس کو جو ہمارا معبود ہوا کرتا تھا ، گمراہی کے اندھے پن کی وجہ سے طواف کیا کرتے تھے ، اور اس گمراہی سے نجات ، ہمیں ایک ہاشمی کے ذریعے ملی جن کے دین کو میں پہلے کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ، اے سوار ! تم عمرو اور اس کے بھائیوں تک یہ پیغام پہنچا دو کہ میں اس شخص کو ناپسند کرنے والا ہوں ، جو یہ کہے : کہ بت میرا معبود ہے ۔ ان کی مراد عمرو بن صلت اور بنو خطامہ سے تعلق رکھنے والے اس کے بھائی تھے ۔ حضرت مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو موسیقی کا دلدادہ ہے ، شراب پیتا ہے ، زنا کرتا ہے اور ہم پر قحط سالی کے سال گزرے ہیں ، جس نے اموال ختم کر دیے ہیں ، غلاموں اور کنیزوں کو کمزور کر دیا ہے ، میری کوئی اولا دبھی نہیں ہے ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ مجھے جس صورت حال کا سامنا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے ، مجھے حیاء نصیب کر دے اور مجھے اولاد نصیب کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! اس کی گائیگی کی جگہ اسے قرآن کی قرأت عطا کر دے ، حرام کی جگہ حلال عطا کر دے ، زنا کی جگہ شرمگاہ کی عفت عطا کر دے ، شراب کو چھڑوا کر اسے ایسی چیز کے ذریعے سیراب کر دے جس میں کوئی گناہ نہ ہو اور اسے حیاء نصیب کر دے اور اسے اولاد نصیب کر دے ۔‘‘ حضرت مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جو چیزیں مجھے محسوس ہوتی تھیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیں ، اس نے مجھے حیاء عطا کر دی ، میں نے قرآن کے ایک بڑے حصے کا علم حاصل کر لیا اور اسی دوران عمان میں قحط سالی ختم ہو گئی ، میں حج کرنے کے لئے گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حیان بن مازن ( یعنی بیٹا عطا کر دیا ) پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ یا رسول اللہ ! میری سواری آپ کی طرف تیزی سے چلتی ہوئی گئی ہے ، اس نے عمان سے عرج تک بڑے بڑے صحراؤں کو عبور کیا ہے ، تاکہ آپ میری شفاعت کریں ، اے وہ فرد جو ان سب سے بہتر ہیں ، جو کنکریوں پر چلتے ہیں ، اور میرا پروردگار میری مغفرت کر دے ، اور میں کامیابی کے ہمراہ لوٹ جاؤں ، اس گروہ کی طرف کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا عقیدہ ان کے دین سے مختلف ہے ، تو جو ان کی رائے ہے وہ میری نہیں ہے ، اور جو ان کا طبقہ ہے وہ میرا نہیں ہے ، میں ایک ایسا شخص تھا جو زنا اور شراب نوشی کا ، زندگی بھر دلدادہ رہا ، یہاں تک کہ جسم بوسیدہ ہو گیا ، تو اس ( اللہ تعالیٰ ) نے مجھے شراب کی جگہ خوف اور خشیت عطا کر دیے اور زناکاری کی جگہ پاکدامنی عطا کر کے میری شرمگاہ کو محفوظ کر دیا ، تو اب میری تمام تر توجہ کا مرکز اور میری نیت جہاد ہے ، اور میرا روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور میرا حج اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔‘‘ جب میں اپنی قوم کے پاس آیا ، تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا اور انہوں نے اپنے شاعر سے کہا ، تو اس نے میری ہجو بیان کی ، میں نے سوچا : اگر میں نے ان لوگوں کو جواب دیا ، تو اس طرح تو میں اپنے آپ کی ہجو بیان کروں گا ، تو میں ان لوگوں سے الگ ہو کے سمندر کے ساحل کی طرف آ گیا اور میں نے کہا : ’’ ہمارے نزدیک تم سے بغض رکھنا ہلاکت ہے ، اور اے ہماری قوم ہم سے بغض رکھنا تمہارے نزدیک ، دودھ ہے ( یا کمزوری ہے ) تمہارے عیوب ظاہر ہوئے تو ایک عرصے تک ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں چل سکا اور جب ہمارا عیب ظاہر ہوتا تو تم سب فوراً سمجھ جاتے تھے ، ہمارا شاعر گونگا تھا اور ہمارے ساتھ جنگ کے دوران تمہارا شاعر ہمیں برا کہنے میں بڑھ چڑھ کر زبان دراز تھا ، تم لوگ یہ بات جان لو کہ دلوں میں تمہارے خلاف اشتعال نہیں ہے ، لیکن تمہارے دلوں میں بغض اور دشمنی ہے ۔‘‘ اس کے بعد اُن لوگوں میں سے بہت سے لوگ میرے پاس آئے اور بولے : اے چچازاد ! ہم نے تم پر اعتراض کیا تھا اور تمہارے لئے اس چیز کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا ، اگر تم نہیں مانتے تو ٹھیک ہے ، تم اپنے دین پر گامزن رہو ، تم واپس آؤ اور ہمارے معاملات کی دیکھ بھال کرو ، تو میں ان کے معاملات کا نگران بن گیا ، پھر میں ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف ہدایت نصیب کر دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ہشام بن محمد بن سائب کلبی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں متروک ہیں ۔

13912

Majma al-Zawaid #13912

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: «بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مُؤَخِّرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَتَعْرِفُ هَذَا الْجَائِي؟ قَالَ: لَا، فَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: هَذَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ وَهُوَ [رَجُلٌ] مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، لَهُ فِيهِمْ شَرَفٌ وَمَوْضِعٌ، قَدْ أَتَاهُ رَئِيُّهُ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ، فَدَعَا بِهِ فَقَالَ: أَنْتَ سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي أَتَاكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ عَلَى مَا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ؟ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا اسْتَقْبَلَنِي بِهَذَا أَحَدٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا كُنَّا عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ مِمَّا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ، أَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بَيْنَا أَنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ أَتَانِي رَئِيِّي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: قُمْ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ فَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ، إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَجْسَاسِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَحْلَاسِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا خَيْرُ الْجِنِّ كَأَنْجَاسِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... وَاسْمُ بِعَيْنَيْكَ إِلَى رَاسِهَا قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ بِقَوْلِهِ رَأْسًا وَقُلْتُ: دَعْنِي أَنَمْ فَإِنِّي أَمْسَيْتُ نَاعِسًا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ التَّالِيَةُ، أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ: قُمْ وَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَطْلَابِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَقْتَابِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا صَادِقُ الْجِنِّ كَكَذَّابِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... لَيْسَ قُدَّامُهَا كَأَذْنَابِهَا قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ لِقَوْلِهِ رَأْسًا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ افْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ، ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَأَخْبَارِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بَأَكْوَارِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا مُؤْمِنُو الْجِنِّ كَكُفَّارِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... بَيْنَ رَوَابِيهَا وَأَحْجَارِهَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حُبُّ الْإِسْلَامِ وَرَغِبْتُ فِيهِ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ شَدَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَانْطَلَقْتُ مُتَوَجِّهًا إِلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لِي: فِي الْمَسْجِدِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَعَقَلْتُ رَاحِلَتِي، وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ حَوْلَهُ قُلْتُ: اسْمَعْ مَقَالَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ادْنُهْ، ادْنُهْ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: هَاتِ فَأَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ، فَقُلْتُ: أَتَانِي نَجِيِّي بَيْنَ هَدْءٍ وَرَقْدَةٍ ... وَلَمْ يَكُ فِيمَا قَدْ بَلَوْتُ بِكَاذِبٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ كُلُّهُنَّ يَقُولُ لِي ... أَتَاكَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ فَشَمَّرْتُ عَنْ ذَيْلِ الْإِزَارِ وَوَسَّطَتْ ... بِيَ الذِّعْلِبُ الْوَجْنَاءُ بَيْنَ السَّبَاسِبِ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ لَا رَبَّ غَيْرُهُ ... وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَائِبٍ وَأَنَّكَ أَوْلَى الْمُرْسَلِينَ وَسِيلَةً ... إِلَى اللَّهِ يَا ابْنَ الْأَكْرَمِينَ الْأَطَايِبِ فَمُرْنَا بِمَا يَأْتِيكَ يَا خَيْرَ مُرْسَلٍ ... وَإِنْ كَانَ فِيمَا جَاءَ شَيْبُ الذَّوَائِبِ وَكُنْ لِي شَفِيعًا يَوْمَ لَا ذُو شَفَاعَةٍ ... سِوَاكَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبِ قَالَ: فَفَرِحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ بِإِسْلَامِي فَرَحًا شَدِيدًا حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ: فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَيْهِ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Kab al-Qurazi reports Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) seated in the mosque when a man passed at the rear. Asked whether he knew the comer, Umar did not, and was told it was Sawad ibn Qarib of Yemen, honoured among them, whom his familiar spirit had told of the Prophet's ﷺ emergence. Umar summoned him, confirmed his identity and the tidings, and asked whether he still practised soothsaying. Sawad flared that none had confronted him so since embracing Islam, and Umar answered their former polytheism outweighed his soothsaying, pressing for the account. Sawad recalled lying between sleep and wakefulness when his familiar struck him with his foot bidding him rise, understand, and use reason, for a messenger from Luayy ibn Ghalib had been commissioned summoning to Allah and His worship, then versified wonder at the jinn saddling camels toward Makka seeking guidance, urging journey to the elite of Hashim. Sawad dismissed him to sleep, drowsy. The second night the visit was repeated with verses on the jinn's seeking and saddling, urging journey to the elite of Hashim, and again he paid no heed. The third night brought further verses on the jinn's tidings, the believers among them unlike their disbelievers, and journey to the elite of Hashim among its hills and stones. Love of Islam fell into his heart and he desired it. At dawn he saddled his mount for Makka, learned on the way the Prophet ﷺ had emigrated to Madina, came to the mosque, hobbled his mount, and found the Messenger of Allah ﷺ with people around him. Asking leave to speak, Abu Bakr (radiya Allahu anhu) drew him forward until he stood before the Prophet ﷺ, who bade him report his familiar's visits. Sawad recited verses of his nightly visitant over three nights announcing a messenger from Luayy ibn Ghalib, his own journey through wastes, his testimony that none but Allah is Lord and the Prophet ﷺ trusted over all unseen, foremost of messengers in means to Allah, asking command by what came even greying forelocks and intercession on a day no intercession but his avails Sawad ibn Qarib. The Prophet ﷺ and his Companions rejoiced intensely at his Islam, visible on their faces, and Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) sprang to him, embraced him, and said he had loved to hear this from him. > **"Rise, O Sawad ibn Qarib, understand and use reason. A messenger from Luayy ibn Ghalib has been commissioned, summoning to Allah and His worship. Bring them to me and tell me of your familiar's visits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران مسجد کے پچھلے حصے میں سے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا ، اس شخص نے کہا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ اس آنے والے شخص کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی نہیں ! یہ کون ہے ؟ تو اس نے بتایا : یہ سواد بن قارب ہیں ، یہ اہل یمن سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں ، جنہیں یمن میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے ، اور ان کے مؤکل نے انہیں : نبی اکرم ﷺ کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آؤ ، وہ انہیں بلا کے لائے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم سواد بن قارب ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، جس کے مؤکل نے اسے نبی اکرم ﷺ کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم پہلے جو کہانت کیا کرتے تھے ، کیا وہ اب بھی کر رہے ہو ؟ وہ شدید غصے میں آ گیا ، اس شخص نے کہا : اے امیرالمومنین ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے کبھی اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سبحان اللہ ! ہم جو شرک پر لوگ گامزن رہے ہیں ، یہ اس سے زیادہ بڑی چیز تھی ، جس پر تم اپنی کہانت کے حوالے سے گامزن رہے ہو ، پھر تم مجھے بتاؤ کہ تمہیں اس بارے میں پتہ چلا کہ نبی اکرم ﷺ کا ظہور ہونے والا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اے امیرالمومنین ! ایک رات میں سونے اور جاگنے کے درمیان کی کیفیت میں تھا ، اسی دوران میرا مؤکل میرے پاس آیا ، اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور بولا : اے سواد بن قارب ! تم اُٹھ جاؤ ، بات سمجھ لو اور یاد ر کھو ، اگر تم سمجھ سکتے ہو ، لؤی بن غالب میں سے ، ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیں گے ، پھر اس نے یہ اشعار پڑھے : ’’ مجھے جن اور اس کے جاسوسی کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر کپڑے ڈال لیے ہیں ، اور وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اور جنوں میں سے بہتر ، ان ( جنات ) کے نجس کی مانند نہیں ہیں ، تو تم بھی ہاشم سے تعلق رکھنے والے منتخب فرد کی طرف سفر کرو ، اور اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے ، اُن کے سر پر نشان لگاؤ ( یعنی ان کی زیارت کرو ) ۔‘‘ سواد بن قارب کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں کی ، میں نے کہا : چھوڑو بھی ، ابھی شام کے وقت میں اونگھ رہا تھا ، جب اگلی رات آئی ، تو پھر وہ میرے پاس آیا اس نے پھر مجھے پاؤں مارا اور کہا : اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ تم اُٹھو اور سمجھ لو اور یاد رکھو ، اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، پھر اس جنّ نے یہ اشعار پڑھے : ” مجھے جن اور اس کے تلاش کرنے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر پالان باندھ دیا ہے وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اور سچا جن جھوٹے کی مانند نہیں ہوتا ہے ، تو تم ہاشم ( کے خاندان ) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ اُس کا آگے والا حصہ ، اس کی دم ( یعنی پچھلے حصے ) کی مانند نہیں ہوتا ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں دی ، جب تیسری رات آئی تو پھر وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور اس نے کہا : اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ تم سمجھ لو اور یاد رکھو ، اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، پھر اس جنّ نے یہ اشعار پڑھے : ” مجھے جن اور اس کے خبر دینے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر متعلقہ چیزیں لاد دی ہیں ، اور وہ مکہ جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، مومن جن ، کافر جن کی مانند نہیں ہوتا ہے ، تو تم باشم ( کے خاندان ) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ ، جو وہاں کے زمین کے بلند حصوں اور پتھروں کے درمیان ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے دل میں اسلام کی محبت اور اس میں رغبت پیدا ہو گئی ، جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی سواری پر پالان باندھا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا ، راستے میں مجھے کسی جگہ پر یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ہیں ، تو میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا کہ وہ مسجد میں ہوں گے ، میں ، مسجد میں آیا ، میں نے اپنی سواری کو باندھا ، نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ، آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے ، میں نے کہا : یا رسول اللہ آپ میری بات سن لیجئے ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے قریب آنے دو ! میں قریب ہو گیا ، میں قریب ہوتا رہا ، یہاں تک کہ بالکل نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بتاؤ ! تمہارے مؤکل نے آ کر کیا کہا تھا ؟ تو میں نے یہ کہا : ’’ میرا مؤکل میرے پاس آیا ، جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان کی حالت میں تھا ، اس سے پہلے میں نے اسے جب بھی آزمایا ، تو وہ جھوٹا ثابت نہیں ہوا ، وہ تین راتوں تک میرے پاس آتا رہا ، اور ہر مرتبہ وہ مجھ سے یہی کہتا رہا : لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے رسول تمہارے پاس آ گئے ہیں ، تو میں نے سفر کی تیاری شروع کی اور ایک موٹی تازی اونٹنی ، جس کا منہ بڑا تھا ، وہ مجھے لے کر صحراؤں میں سے گزری ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ ہر غیر موجود کے حوالے سے محفوظ ہیں ، رسولوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلے کے طور پر ، ہونے کے اعتبار سے ، آپ سب سے زیادہ قریبی ( یا موزوں ) ہیں ، اے سب سے زیادہ معزز اور پاکیزہ لوگوں کے صاحبزادے ! جو ( دین ) آپ کے پاس آیا ہے ، آپ اُس کے حوالے سے ہمیں حکم دیں ، اسے سب رسولوں سے بہتر ! اگرچہ جو ( دین یا حکم ) آیا ہے ، اس میں بال سفید ہونے کا امکان کیوں نہ ہو ، اور آپ اس دن میری شفاعت کرنے والے بن جائیں ، جس دن آپ کے علاوہ اور کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہو گا ، جو سواد بن قارب کے کام آ سکے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو میرے اسلام قبول کرنے پر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے ، یہاں تک کہ ان کے چہروں سے یہ بات محسوس ہو رہی تھی ۔ ( جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کر دیا ، تو ) راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے ، انہوں نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور بولے : میں یہ چاہتا تھا کہ میں تمہاری زبانی یہ بات سنوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

13913

Majma al-Zawaid #13913

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ: «عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا عَلَى جَبَلٍ مِنْ جِبَالِ السَّوَاةِ فَأَتَانِي آتٍ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ فِيهِ: أَتَيْتُ مَكَّةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ ظَهَرَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ». وَكِلَا الْإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording from the same narrator, Sawad ibn Qarib al-Azdi (radiya Allahu anhu) reports sleeping on a mountain of al-Sawa when a comer struck him with his foot, containing the same tidings: he came to Makka, found the Messenger of Allah ﷺ manifest, reported the account, and followed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت سواد بن قارب ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ’’ سواۃ ‘‘ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر سویا ہوا تھا ، اسی دوران کوئی میرے پاس آیا ، اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور اُس نے مجھے کہا : تم مکہ جاؤ ! کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ ظاہر ہو گئے ہیں ، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا اور آپ ﷺ کی پیروی کر لی ۔ ان دونوں روایات کی سند ضعیف ہے ۔

13914

Majma al-Zawaid #13914

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ يُعْجِبُنِي. فَقَالَ: حَدَّثَنِي خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: «خَرَجْتُ فِي بُغَاءَ إِبِلٍ لِي فَأَصَبْتُهَا بِالْأَبْرَقِ، أَبْرَقِ الْعَزَّافِ، فَعَقَلْتُهَا وَتَوَسَّدْتُ ذِرَاعَ بَعِيرٍ مِنْهَا، وَذَلِكَ حَدَثَانِ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قُلْتُ: أَعُوذُ بِكَبِيرِ هَذَا الْوَادِي، أَعُوذُ بِعَظِيمِ هَذَا الْوَادِي - قَالَ: وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ وَيَقُولُ: وَيْحَكَ عُذْ بِاللَّهِ ذِي الْجَلَالِ ... مُنَزِّلِ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ وَوَحِّدِ اللَّهَ وَلَا تُبَالِ ... مَا هَوْلُ ذِي الْجِنِّ مِنَ الْأَهْوَالِ إِذْ يُذْكَرُ اللَّهُ عَلَى الْأَمْيَالِ ... وَفِي سُهُولِ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ وَصَارَ كَيْدُ الْجِنِّ فِي سَفَالِ ... إِلَّا التُّقَى وَصَالِحَ الْأَعْمَالِ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا الدَّاعِي أَلَا مَا تُحِيلُ ... أَرُشْدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ؟ قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ذُو الْخَيْرَاتِ ... جَاءَ بِيَاسِينَ وَحَامِيمَاتِ وَسُوَرٍ بَعْدُ مُفَصَّلَاتٍ ... مُحَرِّمَاتٍ وَمُحَلِّلَاتِ يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ... وَيَزْجُرُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ قَدْ كُنَّ فِي الْأَيَّامِ مُنْكَرَاتِ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا مَالِكٌ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جِنِّ أَهْلِ نَجْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ كَانَ لِي مَنْ يَكْفِينِي إِبِلِي هَذِهِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُؤْمِنَ بِهِ: قَالَ: أَنَا أَكْفِيكَهَا حَتَّى أُؤَدِّيَهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَاعْتَقَلْتُ بَعِيرًا مِنْهَا ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَوَافَقْتُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَقْضُونَ صَلَاتَهُمْ ثُمَّ أَدْخُلُ، قَالَ: فَإِنِّي أُنِيخُ رَاحِلَتِي إِذْ خَرَجَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لِي: يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ادْخُلْ ""، فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "" مَا فَعَلَ الشَّيْخُ الَّذِي ضَمِنَ لَكَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِبِلَكَ؟ أَمَا إِنَّهُ قَدْ أَدَّاهَا سَالِمَةً ""، قَالَ: فَقُلْتُ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَجَلْ رَحِمَهُ اللَّهُ "". فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn al-Zubayr al-Asadi reports Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) asking Ibn Abbas for a pleasing narration. Ibn Abbas related from Khuraym ibn Fatik al-Asadi (radiya Allahu anhu) that he went seeking a stray camel and found it at Abraq al-Azzaf, hobbled it, pillowed his head on a camel's foreleg shortly after the Prophet's ﷺ emergence, and sought refuge in the chief of the valley as Jahiliyya folk did. A caller cried bidding him seek refuge in Allah of Majesty, Revealer of lawful and unlawful, affirm His oneness heedless of the jinn's terrors when Allah is remembered over miles, plains, and mountains, for the jinn's plotting had sunk low save for piety and righteous deeds. Khuraym challenged the caller whether he bore guidance or misguidance, and the voice answered this was Allah's messenger of blessings, come with Ya Sin, the Ha Mim chapters, and detailed chapters of prohibitions and permissions, commanding fasting and prayer and restraining men from vices once deemed repugnant. Asked his identity, he named himself Malik, dispatched by the Messenger of Allah ﷺ over the jinn of Najd. Khuraym wished for one to guard his camels so he might go and believe, Malik guaranteed their safe return, Khuraym secured one camel and reached Madina on a Friday during prayer. As he halted his mount, Abu Dharr (radiya Allahu anhu) emerged bidding him enter at the Prophet's ﷺ command. Entering, the Prophet ﷺ asked after the elder who had guaranteed his camels and confirmed they had arrived safely. Khuraym invoked mercy upon him, the Prophet ﷺ affirmed it, and Khuraym testified there is no god but Allah. > **"Woe to you, seek refuge in Allah of Majesty, Revealer of the lawful and unlawful. Affirm Allah's oneness and heed not the terror of the jinn. This is the Messenger of Allah of blessings, come with Ya Sin, the Ha Mims, and detailed chapters of prohibitions and permissions, commanding fasting and prayer and restraining men from vices. Enter. What became of the elder who guaranteed to deliver your camels? He has indeed delivered them safely. Yes, may Allah have mercy on him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن زبیر اسدی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : تم مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ ، جو مجھے پسند آئے ، تو انہوں نے بتایا : حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ’’ میں اپنے گمشدہ اونٹ کی تلاش میں نکلا ، میں ’’ ابرق ‘‘ کے مقام پر اس تک پہنچ گیا ، میں نے اسے باندھا ، اس اونٹ نے وہاں پاؤں بچھایا ، یہ نبی اکرم ﷺ کے ظہور کے زمانے کی بات ہے ، پھر میں نے بلند آواز میں کہا : میں اس وادی کے سب سے بڑے فرد کی پناہ لیتا ہوں ، میں اس وادی کے سب سے عظیم فرد کی پناہ لیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں اسی طرح کہا کرتے تھے تو اسی دوران کسی ہاتف غیبی نے یہ اشعار کہے : ’’ تمہارا ستیاناس ہو ، تم اللہ کی پناہ مانگو ، جو جلال والا ہے ، جو حرام اور حلال کا حکم نازل کرنے والا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرو ، اور اس بات کی پروا نہ کرو کہ جنات کی کیا ہولناکیاں ہوتی ہیں ، جب کوئی میلوں کے فاصلے پر اللہ کا ذکر کرے اور ہموار زمین اور پہاڑوں میں ذکر کرے ، تو جن کا فریب نیچے چلا جاتا ہے ، اور پرہیزگار شخص اور نیک عمل کا حکم مختلف ہے ( یعنی وہ نیچے نہیں جاتے ہیں ) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں تو میں نے کہا : ’’ اے پکارنے والے شخص ! تم کس چیز کی طرف جانے کا کہہ رہے ہو ؟ کیا تمہارے پاس ہدایت ہے یا گمراہی ہے ؟‘‘۔ اُس نے جواب دیا : ’’ یہ اللہ کے رسول ہیں ، جو بھلائی والے ہیں ، یہ سورہ ’’ یٰس ‘‘ اور ’’ حم ‘‘ سے شروع ہونے والی سورتیں لے کے آئے ہیں ، اور ان کے علاوہ مفصل سورتیں ہیں ، جو حرام قرار دینے والی ہیں ، اور حلال قرار دینے والی ہیں ، یہ رسول روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ، اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں ، جو پہلے زمانے میں بھی منکر سمجھی جاتی تھیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا : میں مالک بن مالک ہوں ، اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اہل مسجد کے جنات کی طرف بھیجا ہے ، میں نے کہا : اگر میرے لئے کوئی ایسا فرد ہوتا ، جو میرے اس اونٹ کے حوالے سے میری کفایت کرتا ، تو میں ان کے پاس چلا جاتا ، یہاں تک کہ ان پر ایمان لے آتا ، اس نے کہا : میں اس اونٹ کے حوالے سے تمہاری کفایت کروں گا ، یہاں تک کہ اسے تمہارے گھر والوں تک سالم پہنچا دوں گا ، اگر اللہ نے چاہا ، تو میں نے اس اونٹ کو کھولا اور پھر میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں جمعہ کے دن لوگوں کے پاس پہنچا ، وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے کہا : یہ لوگ نماز ادا کر لیں گے ، پھر میں اندر جاؤں گا ، ابھی میں وہیں تھا اور اپنی سواری کو باندھ رہا تھا ، اسی دوران حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نکل کر میرے پاس آئے اور بولے : اللہ کے رسول تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم اندر آ جاؤ ! میں اندر گیا ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ نے فرمایا : اس بزرگ کا کیا حال ہے ؟ جس نے تمہیں یہ ضمانت دی تھی کہ وہ تمہارا اونٹ پہنچا دے گا ، کیا اس نے صحیح پہنچا دیا ہے ؟ تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے یہ کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13915

Majma al-Zawaid #13915

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا أُخْبِرُكَ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ فِي طَلَبِ نَعَمٍ لِي، إِذَا أَنَا مِنْهَا عَلَى أَثَرٍ، إِذِ اجْتَنَّ اللَّيْلُ بِأَبْرَقِ الْعِرَاقِ فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَعُوذُ بِعَزِيزِ هَذَا الْوَادِي مِنْ سُفَهَاءِ قَوْمِهِ، فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ: وَيْحَكَ عُذْ بِاللَّهِ ذِي الْجَلَالِ ... وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَاءِ وَالْإِفْضَالِ وَاقْتِرْ آيَاتٍ مِنَ الْأَنْفَالِ ... وَوَحِّدِ اللَّهَ وَلَا تُبَالِ قَالَ: فَذُعِرْتُ ذُعْرًا شَدِيدًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ: يَا أَيُّهَا الْهَاتِفُ مَا تَقُولُ؟ ... أَرُشْدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ بَيِّنْ لَنَا هُدِيتَ مَا الْحَوِيلُ قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ذُو الْخَيْرَاتِ ... بِيَثْرِبَ يَدْعُو إِلَى النَّجَاةِ يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ... وَيَزَعُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ قَالَ: فَانْبَعَثَتْ رَاحِلَتِي فَقُلْتُ: أَرْشِدْنِي رُشْدًا هُدِيتَ ... لَا جُعْتَ وَلَا عُرِّيتَ وَلَا بَرِحْتَ سَعِيدًا مَا بَقِيتَ ... وَلَا تُؤْثِرَنَّ عَلَيَّ الْخَيْرَ الَّذِي أُتِيتَ. قَالَ: فَاتَّبَعَنِي وَهُوَ يَقُولُ:. سَلَّمَكَ اللَّهُ وَسَلَّمَ نَفْسَكَا ... وَبَلَغَ الْأَهْلَ وَأَدَّى رَحْلَكَا آمِنْ بِهِ أَفْلَحَ رَبِّي ... حَقَّكَا وَانْصُرْهُ أَعَزَّ رَبِّي نَصْرَكَا. قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ لِي أَبُو بَكْرٍ الصَّدِيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: ادْخُلْ رَحِمَكَ اللَّهُ، فَقَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكَ، فَقُلْتُ: لَا أُحْسِنُ الطَّهُورَ، فَعَلَّمَنِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ كَأَنَّهُ الْبَدْرُ وَهُوَ يَقُولُ: "" مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً يُخَفِّفُهَا وَيَعْقِلُهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ""، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأُنَكِّلَنَّ بِكَ، قَالَ: فَشَهِدَ شَيْخُ قُرَيْشٍ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ .... قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابُ أَخْبَارِ الذِّئْبِ وَالضَّبِّ وَالظَّبْيَةِ بِنُبُوَّتِهِ فِي الْمُعْجِزَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) reports Khuraym ibn Fatik telling Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) the beginning of his Islam. While circling after his livestock, night enveloped him at Abraq al-Iraq, and he cried at the top of his voice for refuge in the mighty one of the valley against its foolish folk. A caller answered bidding him seek refuge in Allah of Majesty, glory, blessing, and bounty, take verses of the Spoils, and affirm Allah's oneness heedless of else. Terrified, then composed, Khuraym challenged the caller to clarify guidance or misguidance and its means. The voice answered this was Allah's messenger of blessings at Yathrib summoning to salvation, commanding fasting and prayer and restraining men from vices. Khuraym's mount stirred, and he prayed for guidance, sustenance, clothing, lasting felicity, and a share of the good tidings. The caller followed invoking Allah's safeguarding of him, his soul, his family, and his mount, urging faith and support with promise of his Lord's prospering and strengthening. Khuraym entered Madina on a Friday, peered into the mosque, and Abu Bakr al-Siddiq (radiya Allahu anhu) emerged bidding him enter, saying news of his Islam had reached them. Confessing ignorance of purification, he was taught, entered, and saw the Prophet ﷺ on the minbar radiant as the full moon, declaring no Muslim perfects ablution then prays a light, mindful prayer but enters Paradise. Umar demanded proof on pain of exemplary punishment, whereupon Uthman ibn Affan (radiya Allahu anhu), elder of Quraysh, testified and his testimony was accepted. > **"No Muslim performs ablution excellently, then prays a prayer which he lightens and performs mindfully, but he shall enter Paradise. Believe in him, and my Lord will prosper your right; support him, and my Lord will strengthen your support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : اے امیرالمومنین ! کیا میں آپ کو یہ نہ بتاؤں کہ میں نے کیسے اسلام قبول کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں اپنے جانوروں کی تلاش میں گھوم پھر رہا تھا ، اسی دوران تاریک رات میں مجھے ایک نشان نظر آیا ، تو میں نے بلند آواز میں پکار کر کہا : میں اس وادی کے معزز شخص کی پناہ مانگتا ہوں ، اس کی قوم کے بے وقوف لوگوں کے حوالے سے ، تو اسی دوران کسی ہاتف نے پکار کر کہا : ’’ تمہارا ستیاناس ہو ، تم اللہ کی پناہ لو ، جو جلال والا ہے ، بزرگی والا ، نعمتیں دینے والا ، کرم کرنے والا ہے ، اور اضافی چیزوں کی نشانیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرو ، اور اس بارے میں کوئی پرواہ نہ کرو ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں بہت زیادہ ڈر گیا ، جب میری طبیعت سنبھلی تو میں نے کہا : اسے ہاتف ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا تمہارے پاس ہدایت ہے ، یا گمراہی ہے ، تم ہمارے سامنے یہ بات بیان کرو کہ اگر تمہیں ہدایت نصیب ہوئی ہے ، تو اس کا ذریعہ کیا ہے ؟‘‘۔ اُس نے جواب دیا : یہ اللہ کے رسول ہیں ، جو بھلائی والے ہیں ، وہ یثرب میں ہیں ، اور نجات کی طرف دعوت دیتے ہیں ، وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں ، اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میری اونٹنی کھڑی ہوئی ، تو میں نے کہا : ’’ تم اس ہدایت کے بارے میں میری رہنمائی کرو ، جو ہدایت تمہیں نصیب ہوئی ہے ، نہ تم بھوکے ہو ، نہ تمہیں لباس کی ضرورت ہے ، اور جب تک تم باقی رہو گے ، تم ہمیشہ سعادت مند رہو گے ، اور تم نے جو بھلائی کی ہے ، اس کے حوالے سے تم ترجیحی سلوک نہیں کرو گے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ یہ کہتا ہوا میرے پیچھے آ گیا : ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہارے نفس کو سلامت رکھے اور تمہیں گھر والوں تک پہنچا دے ، اور تمہاری سواری واپس کر دے ، تم اس پر ایمان لاؤ ، میرا پروردگار تمہارے حق کو کامیابی عطا کرے گا ، تم ان کی مدد کرو ، میرا پروردگار تمہیں مدد سے نوازے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر میں مدینہ منورہ آیا ، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ، میں نے مسجد میں جھانک کر دیکھا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باہر نکل کر میرے پاس آئے اور بولے : تم اندر آ جاؤ ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، ہمیں تمہارے اسلام قبول کرنے کے بارے میں اطلاع مل چکی ہے ، تو میں نے کہا : مجھے وضو کرنا نہیں آتا ، آپ مجھے تعلیم دیجئے پھر میں مسجد میں داخل ہوا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر موجود تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے چودھویں کا چاند ہو ، اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے : ’’ جو بھی مسلمان وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز ادا کرے ، یوں کہ وہ اسے مناسب طور پر سمجھ کر ادا کرے تو وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : یا تو تم اس بارے میں کوئی ثبوت پیش کرو ، ورنہ پھر میں تمہیں سزا دوں گا ، راوی کہتے ہیں : تو قریش سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں گواہی دی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گواہی کو تسلیم کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں .......۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بھیڑیے ، گوہ اور ہرنی جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی گواہی دی تھی ، ان کے بارے میں واقعات سے متعلق روایات ، معجزات کے بیان میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

13916

Majma al-Zawaid #13916

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْإِجْمَاعِ بِتَمَامِهِ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Said reports that Allah looked upon the hearts of His servants and found the heart of Muhammad ﷺ the best of them, so He chose him for Himself and commissioned him with His message. The complete wording has already preceded in the chapter on consensus.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر کی ، تو اس نے حضرت محمد ﷺ کے دل کو سب دلوں سے بہتر پایا ، تو اُس نے انہیں اپنی ذات کے لئے منتخب کیا ، اور آپ ﷺ کو اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ۔‘‘ یہ روایت اس سے پہلے اجماع سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13917

Majma al-Zawaid #13917

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ إِلَّا غَفَرْتَ لِي، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: وَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى عَرْشِكَ فَرَأَيْتُ فِيهِ مَكْتُوبًا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا آدَمُ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، وَلَوْلَا هُوَ مَا خَلَقْتُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said that when Adam (alayhi al-salam) committed his lapse, he raised his head to the Throne and begged forgiveness by the right of Muhammad. Allah asked who Muhammad was, and Adam answered that when created he raised his head to the Throne and saw inscribed there that there is no god but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah, so he knew none ranked higher with Him than one whose name stood with His. Allah then told him he was the last of the prophets from his progeny, his nation the last nation from his progeny, and but for him Adam would not have been created. > **"I ask You by the right of Muhammad to forgive me. Blessed is Your name; when You created me I raised my head to Your Throne and saw written there: there is no god but Allah, Muhammad is the Messenger of Allah. O Adam, he is the last of the prophets from your progeny, his nation the last nation from your progeny, and but for him I would not have created you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام سے وہ خطا سرزد ہوئی ، جو ان سے سرزد ہوئی تھی ، تو انہوں نے اپنا سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ ! میں تجھ سے حضرت محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت کر دے ! تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : محمد کے بارے میں تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ تو انہوں نے عرض کی : تیرا اسم برکت والا ہے ، جب تو نے مجھے پیدا کیا ، تو میں نے سر اٹھا کر تیرے عرش کی طرف دیکھا ، تو میں نے اس میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ پتہ چل گیا کہ تیرے نزدیک اُن سے زیادہ قدر و منزلت اور کسی کی نہیں ہو گی ، جن کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ رکھا ہے ، تو اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی کی : اے آدم ! وہ آخری نبی ہوں گے ، جو تمہاری ذریت سے تعلق رکھتے ہوں گے اور ان کی اُمت تمہاری ذریت میں سے آخری امت ہو گی ، اگر وہ نہ ہوتے ، تو میں نے تمہیں پیدا نہیں کرنا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13918

Majma al-Zawaid #13918

وَعَنْ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَكَانِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: "" حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟ ""، قَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: "" يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ، يَا فَاطِمَةُ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطِ أَحَدًا قَبْلَنَا وَلَا يُعْطِي أَحَدًا بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَنَا أَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ، وَأَنَا أَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ، وَأَنَا أَبُوكِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ali al-Hilali reports entering upon the Messenger of Allah ﷺ in the place where he passed away, with Fatima (radiya Allahu anha) at his head. She wept until her voice rose, and the Prophet ﷺ raised his glance to her asking what made her weep. She said she feared destitution after him. He assured her Allah had surveyed the earth and chosen her father to commission with His message, then surveyed it again and chosen her husband, commanding their marriage by revelation. He told her they were a Household granted seven traits given none before them nor after: he was the Seal of the Prophets, the noblest of prophets before Allah, the dearest of creation to Allah, and her father. The remainder of the narration stands complete in the chapter on the Household's merit. > **"My beloved Fatima, what makes you weep? Do you not know that Allah surveyed the earth and chose from it your father, commissioning him with His message, then surveyed the earth and chose from it your husband, commanding me to marry you to him? I am the Seal of the Prophets, the noblest of the prophets before Allah, the dearest of creation to Allah, and I am your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی اُس بیماری کے دوران آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس میں آپ کا وصال ہوا تھا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے سرہانے موجود تھیں ، وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے نگاہ اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میری محبوب ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف توجہ کی اور پھر اُس میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے زمین کی طرف توجہ کی اور اس میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کر لیا ، اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی : میں تمہاری شادی اُس کے ساتھ کروا دوں گا ، اے فاطمہ ! ہم اس گھرانے کے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں ، جو ہم سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں ، اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام انبیاء کرام سے زیادہ معزز ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہوں اور میں تمہارا باپ ہوں ......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر اہل بیت کے فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ، جس پر اس حدیث کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے ۔

13919

Majma al-Zawaid #13919

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: "" أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَاخْتَارَ مِنْهُمْ أَبَاكِ، فَبَعَثَهُ نَبِيًّا، ثُمَّ اطَّلَعَ الثَّانِيَةَ فَاخْتَارَ بَعْلَكِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ فَأَنْكَحْتُهُ وَاتَّخَذْتُهُ وَصِيًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ said to Fatima (radiya Allahu anha) that she knew Allah had surveyed the people of the earth and chosen her father, commissioning him a prophet, then surveyed a second time and chosen her husband, whereupon Allah revealed to him and he married her to him and took him as trustee. > **"Do you not know that Allah surveyed the people of the earth and chose from them your father, commissioning him a prophet, then surveyed a second time and chose your husband, and Allah revealed to me, so I married you to him and took him as trustee?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ کیا تم یہ نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف متوجہ ہو کر ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر لیا ، اور اسے نبی بنا کے مبعوث کیا ، پھر اس نے دوسری مرتبہ متوجہ ہو کر تمہارے شوہر کو منتخب کر لیا ، اور اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی ، تو میں نے تمہاری شادی اُس سے کروا دی اور میں نے اسے وصی بنایا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

13920

Majma al-Zawaid #13920

وَلَهُ فِي الصَّغِيرِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ» "". رَوَاهُ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدُهَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari (radiya Allahu anhu) also reports in the Smaller collection that the Messenger of Allah ﷺ declared their Prophet the best of the prophets. > **"Our Prophet is the best of the prophets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن صحابی کے حوالے سے معجم صغیر میں یہ روایت منقول ہے : حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہمارا نبی ، تمام انبیاء سے بہتر ہے ۔‘‘ یہ روایت انہوں نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔

13921

Majma al-Zawaid #13921

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَلْتُ رَبِّي مَسْأَلَةً فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ، قُلْتُ: يَا رَبِّ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي رُسُلٌ، مِنْهُمْ مَنْ سَخَّرْتَ لَهُ الرِّيَاحَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى، فَقَالَ: أَلَمْ أَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ ضَالًّا فَهَدَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ عَائِلًا فَأَغْنَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْتُ عَنْكَ وِزْرَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَبِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Messenger of Allah ﷺ said he asked his Lord a question he wished he had not asked. He asked how messengers before him had winds subjected or raised the dead, and his Lord answered recounting His favours: finding him an orphan and sheltering him, finding him astray and guiding him, finding him poor and enriching him, expanding his breast and removing his burden. He replied affirming them before his Lord. > **"My Lord, there were messengers before me, among them one for whom You subjected the winds and one who raised the dead. Did I not find you an orphan and shelter you? Did I not find you astray and guide you? Did I not find you poor and enrich you? Did I not expand your breast and remove your burden? Yes, my Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ، میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ دعا نہ مانگی ہوتی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھ سے پہلے کے رسولوں میں سے کسی کے لئے ہواؤں کو مسخر کیا گیا ، ان میں سے کوئی مردوں کو زندہ کر دیتا تھا ، تو پروردگار نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں یتیم پایا ، تو تمہیں پناہ دی ، اور میں نے تمہیں ’’ ضال ‘‘ پایا ، تو تمہاری رہنمائی کی ، کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں تنگ دست پایا ، تو تمہیں خوشحال کر دیا ، کیا میں نے تمہیں شرح صدر نصیب نہیں کیا ؟ اور تمہارا بوجھ تم سے اُٹھا نہیں لیا ؟ تو میں نے عرض کی : جی ہاں ! اے میرے پروردگار !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13922

Majma al-Zawaid #13922

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ ....

EnglishUnverified translation

Abu Said (radiya Allahu anhu) reports from the Messenger of Allah ﷺ that Jibril came and conveyed his Lord's and Jibril's Lord's question how his mention was raised. He answered Allah knew best, and the reply came that whenever He is mentioned, the Prophet ﷺ is mentioned with Him. > **"Jibril came to me and said: my Lord and your Lord says: how have I raised your mention? Allah knows best. When I am mentioned, you are mentioned with Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : میرے اور آپ کے پروردگار نے یہ فرمایا ہے : کہ میں نے آپ کے ذکر کو کیسے بلند کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ بہتر جانتا ہے ، تو ( حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ) ” جب میرا ذکر کیا جائے گا ، تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند .......۔

13923

Majma al-Zawaid #13923

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ، بِيَدَيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam (radiya Allahu anhu) reports the Messenger of Allah ﷺ declared himself master of Adam's children on Resurrection Day without boast, first over whom the earth splits, first intercessor and first granted intercession, with the Banner of Praise in his hand and Adam and those below under him. > **"I am the master of the children of Adam on the Day of Resurrection, without boast; the first over whom the earth splits; the first intercessor and the first granted intercession. In my hand is the Banner of Praise, beneath me Adam and those below him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ’’ میں ‘‘ تمام اولاد آدم کا سردار ہوؤں گا اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہتا ، اور وہ سب سے پہلا فرد ہوؤں گا جس کے لئے زمین کو شق کیا جائے گا ، اور سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، ہاتھ میں ’’ لواء حمد ‘‘ ہو گا ، اور حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب اُس کے نیچے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، ابن حبان نے اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13924

Majma al-Zawaid #13924

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ خَبَّابٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ his declaration that he was leader of the messengers without boast, Seal of the Prophets without boast, and first intercessor and granted intercession without boast. > **"I am the leader of the messengers, without boast; I am the Seal of the Prophets, without boast; I am the first intercessor and granted intercession, without boast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں رسولوں کا قائد ہوں ، اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں ، اور پہلا ایسا فرد ہوں ، جس کی شفاعت قبول ہو گی ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن عطاء بن خباب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13925

Majma al-Zawaid #13925

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: إِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: رَحِمَكَ اللَّهُ، الْمَلَائِكَةُ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam (radiya Allahu anhu) declared the noblest of Allah's creation before Allah on Resurrection Day was Abu al-Qasim ﷺ. Asked in compassion whether that included the angels, he repeated that the noblest of Allah's creation before Allah was Abu al-Qasim ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز حضرت ابوالقاسم ﷺ ہوں گے ، لوگوں نے کہا : اللہ آپ پر رحم کرے ، فرشتوں کا کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق میں سب سے زیادہ معزز حضرت ابوالقاسم ﷺ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن طلحہ پربوعی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13926

Majma al-Zawaid #13926

وَعَنْهُ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَقْرَبَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ عَلَى الْكُرْسِيِّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

From the same narrator, by Him in whose hand is his soul, the nearest of men on Resurrection Day will be Muhammad ﷺ, seated at His right upon the Kursi. Its chain contains an unnamed man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن سب سے زیادہ مقرب حضرت محمد ﷺ ہوں گے ، جو کرسی پر اس کے بائیں جانب بیٹھے ہوں گے ۔ اس روایت کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

13927

Majma al-Zawaid #13927

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَعَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ وَبِمَا فَضَّلَهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ: {وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ} [الأنبياء: 29]، وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا - لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 1 - 2] فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ} [إبراهيم: 4] وَقَالَ لِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا} [سبأ: 28] فَأَرْسَلَهُ اللَّهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ. [وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) held Allah favoured Muhammad over the people of heaven and earth. Asked by what, he cited Allah's warning to heaven's folk that whoever among them claimed divinity besides Him would be recompensed with Hell, contrasted with Allah's opening to Muhammad of manifest victory and forgiveness of past and future fault. Asked his superiority over the prophets, he cited the rule that every messenger was sent in his people's tongue, contrasted with Muhammad's commission to all mankind as bearer of glad tidings and warner, sent to jinn and men.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام آسمان والوں اور تمام زمین والوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ ایک شخص بولا : اے ابوعباس ! اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں اور زمین والوں پر حضرت محمد ﷺ کو کس حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اہل آسمان کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ’’ ان میں سے جو یہ کہے کہ میں اس کے علاوہ معبود ہوں ، تو اس کی جزا میں ہم اسے جہنم دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ’’ بے شک ہم نے تمہیں فتح مبین عطا کی ، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے ۔‘‘ انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی ، اُن سے کہا گیا : اے ابوعباس ! اُنہیں دیگر انبیاء پر کس طرح فضیلت حاصل ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’’ ہم نے جس بھی رسول کو مبعوث کیا ، اُسے اس کی قوم کی زبان کے ہمراہ مبعوث کیا “۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ’’ اور ہم نے تمہیں تمام انسانوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں اور جنات کی طرف بھیجا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

13928

Majma al-Zawaid #13928

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ قَرَأَ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79]»، قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: " «وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ» ". فَقَطْ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud (radiya Allahu anhu), reports the Messenger of Allah ﷺ said Allah took Ibrahim as intimate friend, and their companion was the intimate friend of Allah, with Muhammad ﷺ master of Adam's children on Resurrection Day. He then recited the verse that his Lord may raise him to a praised station. > **"Allah took Ibrahim as intimate friend, and your companion is the intimate friend of Allah. Muhammad is the master of the children of Adam on the Day of Resurrection. It may be that your Lord will raise you to a praised station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ، اور بے شک تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) اللہ کے خلیل ہیں ، اور حضرت محمد ﷺ قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار ہوں گے ۔‘‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے :” اور تمہارے آقا ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) اللہ کے خلیل ہیں ۔‘‘ اور یہ حدیث کے درمیان میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13929

Majma al-Zawaid #13929

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خِيَارُ وَلَدِ آدَمَ خَمْسَةٌ: نُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَعِيسَى وَمُوسَى وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَيْرُهُمْ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) held the best of Adam's children were five: Nuh, Ibrahim, Isa, Musa, and Muhammad ﷺ, with the best among them Muhammad ﷺ, and invoked Allah's blessings and peace upon them all.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اولاد آدم میں ، منتخب لوگ پانچ ہیں ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ اور ان سب میں حضرت محمد ﷺ بہتر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات پر درود و سلام نازل کرے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13930

Majma al-Zawaid #13930

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ: "" إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ ""، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنْ يَكُنْ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلَ نَامُوسِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيٌّ فَسَأُعَزِّرُهُ وَأَنْصُرُهُ وَأُومِنُ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: وَأُعِينُهُ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the Prophet ﷺ told Khadija (radiya Allahu anha) he saw a light and heard a voice, fearing madness afflicted him. She answered Allah would never do that to him, son of Abdullah, then went to Waraqa ibn Nawfal and mentioned it. Waraqa replied if he spoke truly this was a visitation like that of Musa (alayhi al-salam), and if commissioned in his lifetime he would strengthen, support, and believe in him. > **"I see a light and hear a voice, and I fear madness is in me. Allah would never do that to you, O son of Abdullah. If he speaks truly, this is a visitation like the visitation of Musa; if he is commissioned while I live, I shall strengthen him, support him, and believe in him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میں نے ایک روشنی دیکھی اور میں نے ایک آواز سنی ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے جنون لاحق نہ ہو جائے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا ، اے حضرت عبداللہ کے صاحبزادے ! پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو ورقہ نے کہا : اگر تو وہ سچ کہہ رہے ہیں ، تو پھر یہ وہی ’’ ناموس ‘‘ ( یعنی فرشتہ ) ہے ، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے والے ’’ ناموس ‘‘ کی مانند ہے اگر انہیں ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) مبعوث کیا گیا اور میں اُس وقت زندہ ہوا ، تو میں اُن کی بھرپور تائید اور مدد کروں گا ، اور اُن پر ایمان لے آؤں گا ۔ یہ روایت امام احمد نے ’’ متصل ‘‘ اور ’’ مرسل ‘‘ طور پر نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :” میں اُن کی اعانت کروں گا ‘‘۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13931

Majma al-Zawaid #13931

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: " مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ حَتَّى أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: زِنْهُ بِرَجُلٍ، [فَوُزِنْتُ بِرَجُلٍ] فَرَجَحْتُهُ، قَالَ: فَزِنْهُ بِعَشَرَةٍ، فَوَزَنَنِي بِعَشَرَةٍ فَوَزَنْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِمِائَةٍ، فَوَزَنَنِي بِمِائَةٍ فَرَجَحْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِأَلْفٍ [فَوَزَنَنِي بِأَلْفٍ] فَرَجَحْتُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: لَوْ وَزَنْتَهُ بِأُمَّتِهِ لَرَجَحَهَا، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: شُقَّ بَطْنَهُ، فَشَقَّ بَطْنِي ثُمَّ أَخْرَجَ مِنْهُ مَغْمَزَ الشَّيْطَانِ وَعَلَقَ الدَّمِ فَطَرَحَهَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: اغْسِلْ بَطْنَهُ غَسْلَ الْإِنَاءِ، وَاغْسِلْ قَلْبَهُ غَسْلَ الْمُلَاءِ، ثُمَّ دَعَا بِالسِّكِّينَةِ كَأَنَّهَا رَهْرَهَةٌ بَيْضَاءُ، فَأُدْخِلَتْ قَلْبِي، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: خِطْ بَطْنَهُ. فَخَاطَ بَطْنِي وَجَعَلَا الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفِي، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَلَّيَا عَنِّي كَأَنَّمَا أُعَايِنُ الْأَمْرَ مُعَايَنَةً». وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ: " «فَجَعَلُوا يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ كِفَّةِ الْمِيزَانِ» "، قُلْتُ: لِأَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْإِسْرَاءِ غَيْرُ هَذَا، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَبِيرٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (radiya Allahu anhu) reports they asked the Messenger of Allah ﷺ how he knew he was a prophet. He answered he knew only when two angels came to him in a Makkan valley, one asking whether this was he, then bidding weigh him against one man, and he outweighed him; against ten, and he outweighed them; against a hundred, and he outweighed them; against a thousand, and he outweighed them. One told the other had he been weighed against his nation he would have outweighed it. Then one bade slit his belly, removed the Devil's touch and clotted blood and cast them away, bade wash his belly like a vessel and his heart like a cloth, summoned tranquillity like a white chick and placed it in his heart, bade stitch his belly, and set the Seal between his shoulders. No sooner had they turned than he beheld the matter as eye-witness. In one addition they scattered upon him from the scale's pan. > **"Is it he? Weigh him against one man; weigh him against ten; weigh him against a hundred; weigh him against a thousand. Had you weighed him against his nation he would have outweighed it. Slit his belly; wash his belly as a vessel is washed and his heart as a cloth is washed; stitch his belly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے پتہ نہیں تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بتائی گئی ، میرے پاس دو فرشتے آئے ، میں اُس وقت مکہ کے میدان میں کسی جگہ موجود تھا ، ان میں سے ایک نے کہا : کیا یہ وہی ہیں ؟ پھر اس نے کہا : ایک شخص کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب میرا ایک شخص کے ساتھ وزن کیا گیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، اس نے کہا : دس افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے دس افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا : ایک سو افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب انہوں نے ایک سو افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا : ایک ہزار افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے ایک ہزار افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اگر تم ان کا وزن ان کی پوری امت کے ساتھ کرو گے ، تو بھی یہ ان سے بھاری ہوں گے ، پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا : ان کا پیٹ چیر دو ! پھر اس نے میرا پیٹ چیر دیا ، اور اس میں سے شیطان کا حصہ نکال دیا اور گوشت کا لوتھڑا نکالا ، اور اسے ایک طرف رکھ دیا ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان کے پیٹ کو دھو دو ! جس طرح برتن کو دھویا جاتا ہے ، اور ان کے دل کو دھو دو ! جس طرح چادر کو دھویا جاتا ہے ، پھر اس نے سکینت منگوائی ، وہ سفید چمک دار چیز کی مانند تھی ، وہ میرے دل میں داخل کر دی گئی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان کے پیٹ کو سی دو ! تو اس نے میرے پیٹ کو سی دیا ، پھر میرے دونوں کندھوں کے درمیان انہوں نے مہر لگا دی ، اور پھر وہ میرے پاس سے چلے گئے ، اور یہ سب کچھ میں خود ملاحظہ کرتا رہا ۔ یہاں محمد بن معمر نے اپنی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ وہ لوگ ، میزان کے پلڑے سے میرے اوپر گرنے کے قریب تھے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں واقعہ معراج سے متعلق باب میں مذکور ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عبداللہ بن عثمان بن کبیر ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، عقیلی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور صحیح کے رجال ہیں ۔

13932

Majma al-Zawaid #13932

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَأَهْلُ الْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا [عَلَى أَهْلِهِ]، وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said (radiya Allahu anhu) reports the people of camels and people of sheep boasting before the Messenger of Allah ﷺ, whereupon he observed Musa was commissioned while herding sheep for his household, and he himself was commissioned while herding sheep for his household at Jiyad. > **"Musa was commissioned while herding sheep for his household, and I was commissioned while herding sheep for my household at Jiyad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں اونٹ والوں اور بکری والوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں ، فخر کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا ، تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا ، تو میں ’’ جیاد ‘‘ کے مقام پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

13933

Majma al-Zawaid #13933

«وَعَنْ وَرَقَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الَّذِي يَأْتِيكَ؟ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِينِي مِنَ السَّمَاءِ جَنَاحَاهُ لُؤْلُؤٌ وَبَاطِنُ قَدَمَيْهِ أَخْضَرُ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Waraqa al-Ansari (radiya Allahu anhu) reports asking Muhammad how the comer, meaning Jibril (alayhi al-salam), reached him. The Messenger of Allah ﷺ answered he came to him from heaven with wings of pearl and the insides of his feet green. > **"He comes to me from heaven, his two wings pearl and the insides of his feet green."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ورقہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ کے پاس جو فرشتہ آیا تھا ، وہ کیسے آپ کے پاس آیا تھا ؟ اُن کی مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ آسمان سے میرے پاس آیا تھا ؟ اُس کے دونوں پَر موتیوں سے بنے ہوئے تھے ، اور اس کے دونوں پاؤں کا اندرونی حصہ سبز تھا ۔‘‘

13934

Majma al-Zawaid #13934

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، أَسْمَعُ صَلْصَلَةً ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقْبَضُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (radiya Allahu anhu) reports asking the Prophet ﷺ whether he sensed revelation. He answered yes: he heard a ringing, then fell silent at it, and no revelation ever came but he supposed his soul seized. > **"Yes, I hear a ringing, then I fall silent at it. No revelation ever comes to me but I suppose my soul is seized."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو وحی محسوس ہوتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں آواز سنتا ہوں ، جیسے زنجیر کی آواز ہوتی ہے ، اور پھر جب وہ آواز آتی ہے ، تو میں خاموش ہو جاتا ہوں ، اور جب بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ، تو مجھے یوں لگتا ہے ، جیسے میری جان قبض ہو جائے گی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13935

Majma al-Zawaid #13935

«وَعَنْ خَدِيجَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَا ابْنَ عَمِّ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا جَاءَكَ الَّذِي يَأْتِيكَ أَنْ تُخْبِرَنِي [بِهِ]؟ فَقَالَ [لِي] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نَعَمْ يَا خَدِيجَةُ ""، قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا خَدِيجَةُ هَذَا صَاحِبِي الَّذِي يَأْتِينِي قَدْ جَاءَ ""، فَقُلْتُ لَهُ: قُمْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْمَنِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، فَقُلْتُ لَهُ: تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْسَرِ، فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، فَقُلْتُ لَهُ: تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ فِي حِجْرِي. فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ: تَرَاهُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَتَحَسَّرْتُ وَطَرَحْتُ خِمَارِي وَقُلْتُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: "" لَا ""، فَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ، وَاللَّهِ مَا هُوَ شَيْطَانٌ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَقُلْتُ لِوَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ذَلِكَ مِمَّا أَخْبَرَنِي [بِهِ] مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَرَقَةُ: حَقًّا يَا خَدِيجَةُ حَدِيثُكُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Khadija (radiya Allahu anha) reports asking the Messenger of Allah ﷺ, O son of her uncle, whether he could inform her when the comer arrived. He agreed. One day Jibril came while she was with him, and the Prophet ﷺ announced his companion's arrival. She bade him sit on her right thigh and asked whether he saw him; he said yes. She moved him to her left thigh and lap with the same question and answer each time. Then she uncovered, cast off her veil, and asked again; he answered no. She declared by Allah this was a noble angel, not a devil. She reported to Waraqa ibn Nawfal ibn Asad ibn Abd al-Uzza ibn Qusayy what Muhammad the Messenger of Allah ﷺ had told her, and Waraqa affirmed her report as true. > **"Yes, O Khadija. O Khadija, this companion of mine who comes to me has come. Yes. No. Can you inform me when the comer comes to you? Sit on my right thigh; sit on my left thigh; sit in my lap. Do you see him? This, by Allah, is a noble angel; by Allah, he is no devil. True is your report, O Khadija."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اے چچا زاد ! کیا آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ جو فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خدیجہ ! ٹھیک ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو میں اس وقت آپ کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خدیجہ ! یہ میرا ساتھی میرے پاس آ گیا ہے ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اُٹھیں اور آ کر میرے دائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے کہا : اب آپ منتقل ہو کر میرے بائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، آپ تشریف فرما ہوئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے آپ سے عرض کی : آپ منتقل ہو کر میری گود میں بیٹھ جائیں ، آپ بیٹھ گئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کلائیاں چڑھا لیں ، اور چادر اتار دی اور دریافت کیا : کیا اب آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ کوئی معزز فرشتہ ہے ، اللہ کی قسم ! یہ شیطان نہیں ہے ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ورقہ بن نوفل سے اس بارے میں بات چیت کی ، جو حضرت محمد ﷺ نے مجھے بتایا تھا ، تو ورقہ نے کہا : اے خدیجہ ! تمہاری بات ٹھیک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13936

Majma al-Zawaid #13936

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ؟ قَالَ: "" يَأْتِينِي صَلْصَلَةً كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَيَأْتِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ رَجُلٍ فَيُكَلِّمُنِي كَلَامًا، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn Hisham (radiya Allahu anhu) reports asking the Messenger of Allah ﷺ how revelation reached him. He answered it came as a ringing like a bell's ringing, and sometimes in a man's form speaking words, the easier upon him, then parting having retained it. > **"It comes to me as a ringing like the ringing of a bell, and at times it comes in a man's form and speaks to me, which is easier upon me; then it parts from me having retained it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا : آپ کے پاس ( وحی ) کیسے آتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کبھی میرے پاس وحی اس طرح آتی ہے ، جیسے گھنٹی کی آواز ہوتی ہے ، کبھی فرشتہ میرے پاس انسان کی شکل میں آ جاتا ہے ، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے ، اور یہ صورت میرے نزدیک زیادہ آسان ہوتی ہے ، جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے ، تو میں بات کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13937

Majma al-Zawaid #13937

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aisha (radiya Allahu anha) reports revelation would descend upon the Messenger of Allah ﷺ while he rode, and his mount would strike the ground with its chest.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعض اوقات نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی ، آپ ﷺ اُس وقت سواری پر سوار ہوتے تھے تو اُس ( سواری ) کی گردن ٹوٹنے کے قریب ہو جاتی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13938

Majma al-Zawaid #13938

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ أَخَذَتْهُ بُرَحَاءٌ شَدِيدَةٌ وَعَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا مِثْلَ الْجُمَانِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ بِقِطْعَةِ الْعُسُبِ أَوْ كِسَرِهِ، فَأَكْتُبُ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيَّ، فَمَا أَفْرُغُ حَتَّى تَكَادَ رِجْلِي تَنْكَسِرُ مِنْ ثِقَلِ الْقُرْآنِ، حَتَّى أَقُولَ: لَا أَمْشِي عَلَى رِجْلِي أَبَدًا، فَإِذَا فَرَغْتُ قَالَ: "" اقْرَأْهُ ""، فَأَقْرَأُهُ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقْطٌ أَقَامَهُ، ثُمَّ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit (radiya Allahu anhu) reports writing revelation for the Messenger of Allah ﷺ. When it descended, intense distress seized him and heavy sweat like pearls poured, then it was lifted. Zayd would enter with a palm-stalk piece or fragment and write as the Prophet ﷺ dictated, until before finishing his leg nearly broke under the Quran's weight and he thought he would never walk upon his leg again. When done, the Prophet ﷺ bade him recite it; he recited, and any omission was set right, then he carried it out to the people. > **"Recite it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ پر شدید کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور بہت زیادہ پسینہ آتا تھا ، جو موتیوں کی مانند ہوتا تھا ، پھر جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی تھی ، تو میں کوئی لکڑی یا ٹکڑا لے کر اُس پر وہ وحی تحریر کرتا تھا ، اور آپ وہ املاء کرواتے تھے ، ایک مرتبہ ایسی ہی کیفیت کے دوران ( آپ کا زانوں میری ٹانگ پر تھا ) تو قریب تھا کہ قرآن کے بوجھ کی وجہ سے میری ٹانگ ٹوٹ جائے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس ٹانگ پر کبھی نہیں چل سکوں گا ، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے پڑھو ! میں نے اُسے پڑھا ، اُس دوران جو غلطی ہوتی تھی ، آپ اُسے ٹھیک کروا دیتے تھے ، پھر میں اسے لے کر لوگوں کے پاس چلا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔