Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 2

Book of Signs of Prophethood

Hadith 13859–13898

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13859

Majma al-Zawaid #13859

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا مَعَهُ شَيْطَانٌ "". قُلْنَا: وَأَنْتَ؟ قَالَ: "" وَأَنَا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usama ibn Sharik (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare that every one of them had a devil with him. Asked whether this included himself, he affirmed it, adding that Allah aided him so his companion submitted. > **"There is none among you but that a devil is with him. Yes, even me, except that Allah aided me against him so he submitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، ہم نے عرض کی : آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13860

Majma al-Zawaid #13860

وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ شَيْطَانٌ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sharik ibn Tariq (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that every one of them had a devil. Asked whether this included himself, he affirmed it, adding that Allah aided him so his companion submitted. > **"There is none among you but that he has a devil. Not even me, except that Allah aided me against him so he submitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ہے ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13861

Majma al-Zawaid #13861

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِخَدِيجَةَ: "" أَيْ خَدِيجَةُ، وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ أَبَدًا، وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ الْعُزَّى أَبَدًا». قَالَ: تَقُولُ خَدِيجَةُ: خَلِّ الْعُزَّى. قَالَ: وَكَانَ صَنَمُهُمِ الَّذِي يَعْبُدُونَ ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Urwa ibn al-Zubayr reports from a neighbor of Khadija bint Khuwaylid (radiya Allahu anha) hearing the Prophet ﷺ say to Khadija that by Allah he would never worship al-Lat and by Allah he would never worship al-Uzza. Khadija replied bidding him leave al-Uzza, those being the idols they worshipped and then reclined before. > **"O Khadija, by Allah I will never worship al-Lat, and by Allah I will never worship al-Uzza."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : مجھے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے پڑوسی نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اے خدیجہ ! اللہ کی قسم ! میں ’’ لات ‘‘ کی کبھی عبادت نہیں کروں گا ، اللہ کی قسم ! میں عزیٰ کی کبھی عبادت نہیں کروں گا “۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ عزیٰ کو چھوڑ دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ ان لوگوں کے بت تھے ، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور پھر لیٹ جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13862

Majma al-Zawaid #13862

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَسْتُ مِنْ دَدٍ، وَلَا دَدٌ مِنِّي». قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ: لَسْتُ مِنَ الْبَاطِلِ، وَلَا الْبَاطِلُ مِنِّي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَلَكِنْ ذَكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ مُنْكَرَاتِ حَدِيثِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: قَدْ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that he was not of frivolity nor frivolity of him. Abu Muhammad Yahya ibn Muhammad ibn Qays explains the meaning as having nothing to do with falsehood and falsehood having nothing to do with him. > **"I am not of dad, nor is dad of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں باطل سے متعلق نہیں ہوں اور نہ ہی باطل مجھ سے متعلق ہے ۔‘‘ ابومحمد یحیی بن محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ میرا باطل سے کوئی واسطہ نہیں ہے ، اور باطل کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن محمد بن قیس ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، لوگوں نے یہ حدیث اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : اس حوالے سے دیگر حضرات نے اس کی متابعت کی ہے ۔

13863

Majma al-Zawaid #13863

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَسْتُ مِنْ دَدٍ، وَلَا دَدٌ مِنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْأَزْهَرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiya (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ the same declaration of having nothing to do with frivolity and its having nothing to do with him. > **"I am not of dad, nor is dad of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں باطل سے متعلق نہیں ہوں اور باطل مجھ سے متعلق نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے محمد بن احمد بن نصر ترمذی کے حوالے سے ، محمد بن عبدالوہاب ازہری سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13864

Majma al-Zawaid #13864

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا هَمَمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْمَلُونَ بِهِ غَيْرَ مَرَّتَيْنِ، كُلُّ ذَلِكَ يَحُولُ اللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَا أُرِيدُ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ مَا هَمَمْتُ بَعْدَهَا بِشَيْءٍ حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare that he never inclined toward the deeds of Jahiliyya except twice, each time Allah intervening between him and what he intended, after which he never inclined again until Allah honored him with His message. > **"I never inclined toward anything the people of Jahiliyya used to do except twice, and each time Allah intervened between me and what I intended; then I never inclined toward anything again until Allah honored me with His message."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ زمانہ جاہلیت میں لوگ جو اعمال کیا کرتے تھے ، میں نے اُن میں سے کسی بھی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، البتہ دو مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ہر مربتہ اللہ تعالیٰ میرے اور میرے ارادے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ، پھر اس کے بعد میں نے اس حوالے سے کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے حوالے سے مجھے عزت عطا کی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13865

Majma al-Zawaid #13865

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَلْ أَتَيْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا حَرَامًا؟ قَالَ: "" لَا، وَقَدْ كُنْتُ مِنْهُ عَلَى مِيعَادَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي، وَأَمَّا الْآخَرُ فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَائِرُ قَوْمِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ: عَنْ عَمَّارٍ «أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَلْ أَتَيْتَ مِنَ النِّسَاءِ حَرَامًا؟».

EnglishUnverified translation

Ammar ibn Yasir (radiya Allahu anhu) reports people asking the Messenger of Allah ﷺ whether he ever committed anything forbidden in Jahiliyya. He answered no, though he twice stood at its appointing, once overcome by his eyes in sleep and once barred by people of his nation. In the Awsat wording the question concerned forbidden dealings with women. > **"No. I twice stood at its appointing: once my eyes overcame me, and once the people of my nation intervened between me and it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا آپ نے زمانہ جاہلیت میں کبھی کسی حرام فعل کا ارتکاب کیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! میں اس حوالے سے دو مرتبہ اس نوعیت کی صورت حال سے دوچار ہوا ، ایک مرتبہ میری آنکھ لگ گئی ، اور دوسری مرتبہ میرے اور اس ارادے کے درمیان میری قوم رکاوٹ بن گئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ، انہوں نے ’’ اوسط ‘‘ میں یہ بات نقل کی ہے : یہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خواتین کے حوالے سے بھی حرام کام کا ارتکاب کیا ؟

13866

Majma al-Zawaid #13866

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ، قَالَ: فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقَالَ: كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِإِسْلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ؟ قَالَ: فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يَشْهَدَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَلَا يُحْتَمَلُ هَذَا مِنْ مِثْلِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ يَشْهَدُ تِلْكَ الْمَشَاهِدَ لِلْإِنْكَارِ وَهَذَا يَتَّجِهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ used to attend the gatherings of the idolaters with them, until he heard two angels behind him conferring about standing behind him while questioning his recent contact with idols. After that he never returned to attending their gatherings with them. > **"Come with us that we may stand behind the Messenger of Allah. How can we stand behind him when his recent covenant is touching idols?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مشرکین کے ساتھ ان کی جنگوں میں شریک ہوتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی ، ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا ، تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اللہ کے رسول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ، تو دوسرے نے کہا : ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ؟ جبکہ انہوں نے تھوڑی دیر پہلے بتوں کو ہاتھ لگایا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ دوبارہ کبھی مشرکین کے ساتھ اُن کی جنگ میں شریک نہیں ہوئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور اس طرح کی صورت حال میں اس بات کا احتمال نہیں ہوتا ، صرف یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان جنگوں میں ساتھ رہا ہو ، کیونکہ اس نے اس بات کا انکار کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13867

Majma al-Zawaid #13867

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: «طُفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَمَسِسْتُ بَعْضَ الْأَصْنَامِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَمَسَّهَا». قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهَذَا يُفَسِّرُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ أَنَّ شُهُودَهُ لِلْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Haritha (radiya Allahu anhu) reports circumambulating with the Messenger of Allah ﷺ one day when he touched one of the idols, whereupon the Messenger of Allah ﷺ bade him not touch them, after which the narrator related the full narration. > **"Do not touch them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، میں نے کسی بت کو چھو لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم اس کو نہ چھوؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں یہ چیز اس بات کی وضاحت کر دیتی ہے جو اس سے پہلے گزری ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا وہاں موجود ہونا ان لوگوں کے خلاف انکار کرنے کے لئے تھا ۔

13868

Majma al-Zawaid #13868

عَنْ جَعْدَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَى رَجُلًا سَمِينًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُومِئُ إِلَى بَطْنِهِ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: "" لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ "". قَالَ: وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ فَقَالُوا: هَذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَكَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَمْ تُرَعْ، لَمْ تُرَعْ، وَلَوْ أَدَرْتَ ذَلِكَ؟ لَمْ يُسَلِّطْكَ اللَّهُ عَلَيَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jada (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ, upon seeing a corpulent man, gesturing with his hand toward the man's belly and remarking that had it been elsewhere it would have been better for him. He adds that a man was brought to the Messenger of Allah ﷺ accused of intending to kill him, and the Prophet ﷺ reassured him repeatedly not to fear, for even had he brandished his weapon Allah would not have empowered him over him. > **"Had this been elsewhere than this, it would have been better for you. Fear not, fear not; even had you wielded it, Allah would not have empowered you over me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ نے ایک موٹے تازے شخص کو ملاحظہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا : ’’ اگر یہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور ہوتا تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، لوگوں نے کہا : اس شخص نے یہ ارادہ کیا ہے کہ یہ آپ کو قتل کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم ڈرو نہیں ، تم ڈرو نہیں ، اگر تم اس ( تلوار ) کے ساتھ گھوم رہے ہوتے ، تو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں مجھ پر مسلط نہیں کرنا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف اسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13869

Majma al-Zawaid #13869

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ عَطُوفٍ تَتْبَعُهَا مُهْرَةٌ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "" غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ "" قَالَ: فَمَتَى يُمْطِرُ الْغَيْثُ؟ قَالَ: "" غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ "" قَالَ فَمَا فِي بَطْنِ فَرَسِي؟ قَالَ: "" غَيْبٌ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ "" قَالَ: فَأَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا. قَالَ: "" هَا "". فَأَخَذَهُ فَسَلَّهُ ثُمَّ هَزَّهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ الَّذِي أَرَدْتَ "". ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا أَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ: ائْتِهِ قَاتِلَهُ، ثُمَّ أَخُذُ بِسَيْفِي فَاقْتُلُهُ ثُمَّ غَمَدَ السَّيْفَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn al-Akwa (radiya Allahu anhu) reports being with the Prophet ﷺ in a red tent when a man arrived on an affectionate horse followed by a filly, asking who he was, when the Hour would be, when rain would fall, and what was in his mare's belly, each answered as unseen known only to Allah. The man then asked for his sword, took it, drew and brandished it, whereupon the Messenger of Allah ﷺ told him he could never accomplish what he intended, afterward explaining that the comer had planned to approach, question, then seize the sword and kill him, before sheathing the blade. > **"Unseen, and none knows the unseen but Allah. Here it is. You will never be able to do what you intended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سرخ خیمے میں موجود تھے ، اسی دوران ایک شخص ایک گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، جس کے پیچھے گھوڑے کا بچہ بھی تھا ، اس نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے کہا : قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : بادل بارش کب نازل کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے کہا : آپ اپنی یہ تلوار مجھے دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لو ! اس نے وہ تلوار لی ، اُسے لہرایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم اس کام کی استطاعت نہیں رکھ سکو گے ، جس کا تم نے ارادہ کیا ہے ، پھر آپ نے بتایا : یہ شخص آیا ، اس نے سوچا کہ میں ان کے پاس جا کر ان سے سوال کروں گا اور پھر اپنی تلوار پکڑ کر انہیں قتل کر دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13870

Majma al-Zawaid #13870

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ قَالَ: «قَالَتْ بِنْتُ الْحَكَمِ: قُلْتُ لِجَدِّي: مَا رَأَيْتُ يَوْمًا أَعْجَزَ وَلَا أَسْوَأَ رَأْيًا فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا بَنِي أُمَيَّةَ. قَالَ: لَا تَلُومِينَا يَا بُنَيَّةُ، إِنِّي لَا أُحَدِّثُكِ إِلَّا مَا رَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ هَاتَيْنِ. قُلْنَا: وَاللَّهِ مَا نَزَالُ نَسْمَعُ قُرَيْشًا تُعْلِي هَذَا الصَّابِئَ فِي مَسْجِدِنَا، تَوَاعَدُوا لَهُ حَتَّى تَأْخُذَهُ، فَتَوَاعَدْنَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَمِعْنَا أَصْوَاتًا ظَنَنَّا أَنَّهُ مَا بَقِيَ بِتِهَامَةَ خَيْلٌ إِلَّا تَفَتَّتْ عَلَيْنَا، فَمَا عَقَلْنَا حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، ثُمَّ تَوَاعَدْنَا لَيْلَةً أُخْرَى، فَلَمَّا جَاءَ نَهَضْنَا إِلَيْهِ فَرَأَيْتُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ الْتَقَتَا أَحَدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَحَالَتَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَوَاللَّهِ مَا نَفَعَنَا ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ بِنْتِ الْحَكَمِ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Habtar reports from the daughter of al-Hakam, from her grandfather, that she reproached Banu Umayya for helplessness and ill judgment toward the Messenger of Allah ﷺ. He answered describing their appointment against him in their mosque, hearing sounds like all the horses of Tihama breaking upon them until sense failed and the Prophet ﷺ finished prayer and returned home, then a second night's advance when the two hills met and barred them from him, all to no avail. > **"Do not blame us, O my daughter. I tell you only what I saw with these two eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں : حکم کی صاحبزادی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے دادا سے کہا : اے بنوامیہ ! میں نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی ، جو اللہ کے رسول کے بارے میں آپ لوگوں سے زیادہ عاجز ہو اور زیادہ بری رائے رکھتی ہو ، تو انہوں نے کہا : اے بیٹی ! تم ہمیں ملامت نہ کرو ، میں تمہیں صرف وہ چیز بیان کروں گا ، جو میں نے اپنی ان دو آنکھوں کے ذریعے دیکھی ہے ، ہم نے یہ سوچا اللہ کی قسم ہمیں قریش کے بارے میں مسلسل یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ وہ لوگ ہماری مسجد کے حوالے سے اس بے دین شخص سے مغلوب ہو رہے ہیں ، تو ہم نے اس بارے میں یہ طے کیا کہ آپس میں مل کر کچھ کرتے ہیں ، ہم نے اس بارے میں کچھ طے کر لیا ، جب ہم نے آپ کو دیکھا ، تو ہم نے کچھ آوازیں سنیں ، جن سے ہمیں یہ گمان ہوا کہ تہامہ میں کوئی گھوڑا باقی نہیں بچا ہو گا ، مگر یہ کہ وہ ہماری سمت آ رہا ہو گا ، تو ہمیں بات سمجھ ہی نہیں آئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی نماز مکمل کر لی ، اور آپ اپنے گھر واپس چلے گئے ، پھر ہم نے اگلی رات کے بارے میں ارادہ کیا ، جب آپ تشریف لائے ، تو ہم آپ کی طرف بڑھے ، میں نے صفا اور مروہ پہاڑ کو دیکھا ، وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے ہیں ، اور ہمارے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اس چیز ( یعنی اس صورتحال ) نے ہمیں نفع نہیں دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، صرف حکم کی صاحبزادی کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

13871

Majma al-Zawaid #13871

وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «كُنْتُ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا سَاجِدًا أَنْ أَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ. فَخَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ أَبِي جَهْلٍ، فَخَرَجَ غَضْبَانَ حَتَّى جَاءَ الْمَسْجِدَ فَعَجَّلَ أَنْ يَدْخُلَ مِنَ الْبَابِ، فَاقْتَحَمَ الْحَائِطَ، فَقُلْتُ: هَذَا يَوْمُ شَرٍّ. فَاتَّزَرْتُ ثُمَّ تَبِعْتُهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ} [العلق: 1 - 2] فَلَمَّا بَلَغَ شَأْنَ أَبِي جَهْلٍ {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى - أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى} [العلق: 6 - 7] قَالَ إِنْسَانٌ لِأَبِي جَهْلٍ: يَا أَبَا الْحَكَمِ هَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ: أَلَا تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ وَاللَّهِ لَقَدْ سُدَّ أُفُقُ السَّمَاءِ عَلَيَّ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ سَجَدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abbas ibn Abdul Muttalib (radiya Allahu anhu) reports being in the mosque when Abu Jahl vowed that if he saw Muhammad ﷺ prostrating he would tread upon his neck. Abbas warned the Prophet ﷺ, who went out angry to the mosque, hastened at the gate, and entered reciting the opening of the chapter of the Clot. When he reached the passage on man's transgression, a man alerted Abu Jahl that Muhammad was present, but Abu Jahl protested that the horizon of heaven had been closed before him. The Messenger of Allah ﷺ completed the chapter and prostrated. > **"Allah has made it binding upon me that if I see Muhammad prostrating I will tread upon his neck. Do you not see what I see? By Allah, the horizon of the heaven has been closed before me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد میں موجود تھا ، اسی دوران ابوجہل آیا اور بولا : اللہ تعالیٰ کے نام پر میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اگر میں نے حضرت محمد ﷺ کو سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو ابوجہل کی بات کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ غصے کے عالم میں نکلے ، آپ مسجد تشریف لے گئے ، آپ جلدی سے دروازے سے داخل ہونے لگے ، اسی دوران آپ دیوار سے ٹکرا گئے ، میں نے کہا : یہ برا دن ہے ، میں نے بھی لباس سنبھالا اور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے گیا ، نبی اکرم ﷺ یہ سورت پڑھتے ہوئے اندر داخل ہوئے : ’’ اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو ، جس نے پیدا کیا ہے ، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے ۔‘‘ جب آپ اس مقام پر پہنچے ، جو ابوجہل کے معاملے کے متعلق تھا : ’’ بیشک انسان سرکشی کرتا ہے ، اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے ‘‘ تو کسی شخص نے ابوجہل سے کہا : اے ابوالحکم ! یہ محمد ( ﷺ ) موجود ہیں ، تو اس نے کہا : کیا تم وہ نہیں دیکھ رہے ہو ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! میرے سامنے آسمان کے افق کو بھر دیا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ سورت کے آخری حصے تک پہنچے تو آپ سجدے میں چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفردہ ہے اور وہ راوی متروک ہے ۔

13872

Majma al-Zawaid #13872

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاتَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَإِسَافَ وَنَائِلَةَ، لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَبْكِي، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: هَذَا الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَيَقْتُلُوكَ، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ، قَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ أَدْلِي وُضُوءًا ""، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمُ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: هَذَا هُوَ، وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ، فَقَالَ: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ ""، ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةً إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَغَازِي فِي تَبْلِيغِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports the chiefs of Quraysh gathering in al-Hijr, swearing by al-Lat, al-Uzza, Manat, Isaf, and Naila to rise as one man against Muhammad ﷺ when seen and not leave him until killing him, each knowing his share of his blood. His daughter Fatima (radiya Allahu anha) came weeping to warn him. He asked for ablution water, performed wudu, entered the mosque, and when they saw him their gazes fell, chins sank to chests, and they sat hamstrung, none raising eyes or rising. He stood over their heads, took a handful of dust, pronounced disgrace upon the faces, pelted them, and every pebble-struck man among them was later killed as a disbeliever at Badr. > **"O my daughter, bring me water for wudu. Disgraced be the faces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حطیم میں اکٹھے ہوئے ، تو انہوں نے لات اور عزیٰ ، منات ، اساف اور نائلہ کے نام پر قسم اٹھا کر یہ طے کیا کہ اگر ہم نے حضرت محمد ( ﷺ ) کو دیکھا ، تو ہم اُٹھ کر ان کے پاس جائیں گے ، یوں جیسے مل کر کسی کی طرف جایا جاتا ہے ، اور ہم ان سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گے ، جب تک انہیں قتل نہیں کر دیتے ، نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور بولیں : قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے ، کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے تاکہ ان میں سے ہر ایک شخص کا آپ کے قتل میں حصہ ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم مجھے وضو کا پانی لا کے دو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا ، پھر آپ مسجد میں ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا ، تو انہوں نے کہا : یہ تو وہی ہیں ، نی نگاہیں جھکا لیں ، اُن کی ٹھوڑیاں لٹک کر سینے کے ساتھ لگ گئیں ، اور وہ سر جھکا کر بیٹھے رہے ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کی طرف نہیں دیکھا ، ان میں سے کوئی شخص اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف نہیں آیا ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے سر کے پاس آ کے کھڑے ہوئے ، آپ نے مٹھی بھر مٹی لی اور پھر فرمایا : یہ چہرے رسوا ہو جائیں ، پھر آپ نے کنکریاں ان پر ماریں ، تو وہ کنکریاں اُن میں سے ہر ایک شخص کو لگیں اور وہ جس بھی شخص کو لگیں ، وہ غزوہ بدر کے دن کافر ہونے کے طور پر مارا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغازی میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے تبلیغ کرنے اور اس حوالے سے صبر کرنے کے بارے میں ہیں ۔

13873

Majma al-Zawaid #13873

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ أَبُو جَهْلٍ: لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَّنَهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ فَعَلَ، لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports Abu Jahl vowing to tread upon the neck of Muhammad ﷺ if he saw him praying at the Kaba. The Prophet ﷺ answered that had he done so the angels would have seized him openly, that had the Jews wished for death they would have died and seen their seats in the Fire, and had those who came to invoke curses against the Messenger of Allah ﷺ proceeded, they would have returned finding neither family nor property. > **"Had he done so, the angels would have seized him openly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا : اگر میں نے محمد ( ﷺ ) کو خانہ کعبہ کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ، تو میں ان کے پاس جاؤں گا اور ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے ایسا کیا ، تو فرشتے کھلے عام اسے پکڑ لیں گے اور اگر یہودی موت کی آرزو کریں ، تو وہ اُسی وقت مر جائیں گے ، اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیں گے ، اور جو نبی اکرم ﷺ سے مباہلہ کرنے کے لئے نکلے تھے ، اگر وہ مباہلہ کر لیتے ، تو جب انہوں نے واپس جانا تھا ، تو انہیں اپنے اہل خانہ اور مال میں سے کچھ بھی نہیں ملنا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13874

Majma al-Zawaid #13874

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِمَ تَنْتَهِرَنِي يَا مُحَمَّدُ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي، قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ، لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ، قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ، رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ذَكْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْ ذَكْوَانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports Abu Jahl passing and asking whether he had not forbidden him, whereupon the Prophet ﷺ rebuked him. Abu Jahl boasted of the multitude of his assembly, so Jibril (alayhi al-salam) bade him summon his company. Ibn Abbas swore that had he summoned them, the stern angels would have seized him with punishment. > **"Let him call his assembly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا : کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے جھڑکا ، تو اُس نے کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! آپ مجھے کیوں جھڑک رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم : آپ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے ہوں گے ، جس کے ساتھ بیٹھنے والے لوگ مجھ سے زیادہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اُسے چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی لوگوں کو بلا لے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ شخص اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ذکوان کے حوالے سے عکرمہ سے نقل کی ہے ، اور میں ذکوان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13875

Majma al-Zawaid #13875

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "" قَبُحَتِ الْوُجُوهُ ""، فَخُرِسُوا، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ، وَلَقَدْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَعْتَذِرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَمْسِكْ عَنَّا، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا أُمْسِكُ عَنْكُمْ، أَوْ أَقْتُلُكُمْ ""، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ: أَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُ يَقْتُلُكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Talha ibn Ubaydullah (radiya Allahu anhu) reports a group of idolaters around the Kaba including Abu Jahl when the Messenger of Allah ﷺ approached, stood over them, and pronounced disgrace upon the faces. They fell mute, none uttering a word, even Abu Jahl excusing himself and pleading restraint, while the Messenger of Allah ﷺ answered that he would not restrain from them, indeed Allah would slay them. > **"Disgraced be the faces. I will not restrain from you. Allah will slay you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد خانہ کعبہ کے اردگرد موجود تھے ، ان میں ابوجہل تھا ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، آپ نے فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، تو وہ سب لوگ گونگے ہو گئے ، ان میں سے کوئی بھی کوئی بات نہیں کر رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ابوجہل کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے معذرت پیش کرنے لگا اور بولا : ہم سے رک جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے نہیں رکوں گا ، بلکہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، تو ابوجہل نے کہا : آپ اس بات پر قدرت رکھ پائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو قتل کروائے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13876

Majma al-Zawaid #13876

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي، فَجَعَلَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَّ النَّارِ، فَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَخَذْتُهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura (radiya Allahu anhu) reports that the Prophet ﷺ said Satan confronted him casting the evil of fire upon him, and but for the supplication of his brother Sulayman (alayhi al-salam) he would have seized him. > **"Satan confronted me casting the evil of fire upon me, and but for the supplication of my brother Sulayman I would have seized him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک شیطان میرے پاس آیا اور مجھ پر آگ کے شرارے ڈالنے لگا ، اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا ، تو میں نے اُسے پکڑ لینا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13877

Majma al-Zawaid #13877

وَعَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا شَيْطَانٌ خَلْفَ الْبَابِ، فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيَّ، فَلَوْلَا دَعْوَةُ الْعَبْدِ الصَّالِحِ، لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا يَرَاهُ النَّاسُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ that upon entering the house he found a devil behind the door and throttled him until feeling the cold of his tongue upon his hands. But for the supplication of the righteous servant, the devil would have remained tied in the morning for people to see. > **"I entered the house and found a devil behind the door, so I throttled him until I felt the cold of his tongue upon my hands; but for the supplication of the righteous servant he would have remained tied for people to see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں گھر میں داخل ہوا ، تو وہاں ایک شیطان دروازے کے پیچھے موجود تھا ، میں نے اس کا گلہ دبانا شروع کیا ، یہاں تک کہ اس کی زبان کی ٹھنڈک مجھے اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی ، اگر ایک نیک بندے کی دعا کا خیال نہ ہوتا ، تو اس نے صبح بندھے ہوئے ہونا تھا اور لوگ اُسے دیکھ لیتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13878

Majma al-Zawaid #13878

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ سَاجِدًا بِمَكَّةَ، فَجَاءَ إِبْلِيسُ أَنْ يَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ فَنَفَخَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَفْخَةً بِجَنَاحِهِ، فَمَا اسْتَوَتْ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ الْأُرْدُنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports that while the Messenger of Allah ﷺ was prostrating in Makka, Iblis came to tread upon his neck, so Jibril (alayhi al-salam) struck him a blow with his wing and his feet did not settle upon the earth until he reached Jordan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ میں سجدے کی حالت میں تھے ، اسی دوران شیطان آیا اور اس نے آپ ﷺ کی گردن پر پاؤں دیا ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے پھونک ماری ، انہوں نے اپنے پروں کے ذریعے اسے پھونک ماری تھی ، تو وہ زمین پر اپنے پاؤں نہیں جما پایا ، یہاں تک کہ اردن پہنچ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13879

Majma al-Zawaid #13879

عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مَوْلَاهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ «كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَذَكَرَ اخْتِلَافَهُمْ فِي وَضْعِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا، قَالُوا: أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَتَاكُمُ الْأَمِينُ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ فِي شَأْنِ الْكَعْبَةِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reports from his freedman, among those who built the Kaba in Jahiliyya, recalling their dispute over placing the Black Stone. They agreed to arbitrate through the first man to emerge from the pass, whereupon the Prophet ﷺ came and they exclaimed that the Trustworthy had come to them, after which the narrator related the full narration. > **"Appoint an arbiter among you. The Trustworthy has come to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد نے اپنے مالک کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ان کے مالک نے انہیں یہ بات بتائی ہے : جب وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ، تو حجر اسود رکھنے کے حوالے سے ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ، تو انہوں نے کہا : تم اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو ، انہوں نے کہا : اس راستے سے جو شخص سب سے پہلے آئے گا ( وہ ہمارا ثالث ہو گا ) راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، تو انہوں نے کہا :’’ امین ‘‘ فرد تمہارے پاس آ گئے ہیں ........ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس سے پہلے خانہ کعبہ سے متعلق روایت گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13880

Majma al-Zawaid #13880

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ «فِي بِنَاءِ الْكَعْبَةِ قَالَ: لَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ دَخَلَ قَالُوا: قَدْ جَاءَ الْأَمِينُ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الضَّرِيرِ وَخَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib (radiya Allahu anhu) reports concerning the building of the Kaba that when they saw the Prophet ﷺ enter they exclaimed that the Trustworthy had come. > **"The Trustworthy has come."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بیان کرتے ہیں : جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو اندر آتے ہوئے دیکھا ، تو بولے :” امین ‘‘ فرد تشریف لے آئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حفص بن عمر ضریر اور خالد بن عرعرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

13881

Majma al-Zawaid #13881

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «مَرَّ [بِنَا] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَجْتَنِي ثَمَرَ الْأَرَاكِ فَقَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ ; فَإِنِّي كُنْتُ أَجْتَنِيهِ وَأَنَا أَرْعَى الْغَنَمَ ""، قَالُوا: رَعَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ رَعَاهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Awf (radiya Allahu anhu) reports the Prophet ﷺ passing while they gathered arak fruit, bidding them take the black thereof since he used to gather it while herding sheep. Asked whether he had herded, he affirmed that no prophet was commissioned but had herded sheep. > **"Take the black thereof, for I used to gather it while herding sheep. Yes, there was no prophet but that he herded them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے ، اس وقت ہم پیلو کے پھل کو چن رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سیاہ رنگ کے چننا ، میں بھی انہیں چنا کرتا تھا ، جب میں بکریاں چرایا کرتا تھا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابوسلمہ ہے ، اس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

13882

Majma al-Zawaid #13882

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَرْعَى الدَّوَابَّ».

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ said Musa (alayhi al-salam) was commissioned while herding livestock. > **"Musa was commissioned while herding livestock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ، تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا ، تو میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں ’’ جیاد ‘‘ کے مقام پر چراتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے خرید و فروخت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جو اس باب میں ہے ، جس میں ان جانوروں کا ذکر ہے جن کو رکھنا چاہیے ۔

13883

Majma al-Zawaid #13883

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ - قَالَ: كَانَ لَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، [قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَسِيرٍ، فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ]. قَالَ سَلَمَةُ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا، عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعٌ فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي، فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ أَوْثَانِ شِرْكٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنًا بَعْدَ الْمَوْتِ، فَقَالُوا لَهُ: وَيْحَكَ يَا فُلَانُ، تَرَى هَذَا كَائِنًا أَنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ، وُدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدَّارِ يَحْمُونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطَيِّنُونَهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ يَنْجُو مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا، قَالَ: وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ، قَالُوا: وَمَتَى نَرَاهُ؟ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمْرَهُ يُدْرِكْهُ، قَالَ سَلَمَةُ: فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا، فَقُلْنَا لَهُ: وَيْلَكَ يَا فُلَانُ، أَلَيْسَ قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَيْسَ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn Salama ibn Waqsh (radiya Allahu anhu), a veteran of Badr, reports a Jewish neighbor among Banu Abdul Ashhal coming shortly before the commissioning of the Prophet ﷺ, standing at their assembly while Salama, the youngest present wrapped in a cloak in his family courtyard, listened as he spoke of resurrection, reckoning, balance, Paradise, and Fire to idolaters who denied rising after death. Asked for its sign, he pointed toward Makka and Yemen announcing a prophet to be commissioned from those lands, and told them that if the youngest boy lived out his life he would meet him. Soon Allah commissioned His Prophet ﷺ among them, they believed, while the Jew denied from defiance and envy, and when reminded of his words he admitted them yet insisted this was not he. > **"A prophet to be commissioned from these lands. If this boy lives out his life, he will meet him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : بنو عبداشہل میں ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک مرتبہ وہ نکل کر ہمارے پاس آیا اور عبداشہل کے لوگوں کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان دنوں ان سب میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، میرے جسم پر ایک چادر تھی ، جسے لپیٹ کر میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا ، اس یہودی نے دوبارہ زندہ کیسے جانے ، قیامت ، حساب ، میزان ، جنت اور جہنم کا ذکر کیا ، تو بت پرستوں اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے ، جو اس بات کے قائل نہیں تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ بھی زندہ کیا جا سکتا ہے ، تو انہوں نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، اے فلاں شخص ! تم یہ سمجھتے ہو کہ ایسا ہو گا ؟ اور لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ایک گھر میں منتقل کیا جائے ، جس میں جنت ہو گی ، یا جہنم ہو گی ، اور لوگوں کو اس وقت ان کے اعمال کے حساب سے بدلہ دیا جائے گا ؟ اس یہودی نے کہا : جی ہاں ! جس ذات کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے ، اس وقت آدمی یہ خواہش کرے گا کہ جہنم کی آگ کے بدلے میں اُسے وہ سب سے بڑا تنور دے دیا جائے ، جسے وہ لوگ سلگایا کرتے تھے ، پھر وہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں ، اور جب وہ اس میں داخل ہو جائیں ، تو اُسی ( تنور ) میں رچ بس جائیں ، لیکن اس آگ سے نجات پا لیں ، راوی کہتے ہیں : کسی شخص نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ! اس کی نشانی کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ایک نبی ہیں ، جو ان علاقوں میں مبعوث ہوں گے ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا ، لوگوں نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ کب ظاہر ہوں گے ؟ اس نے میری طرف دیکھا ، میں اُن لوگوں میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، اس نے کہا : اگر یہ لڑکا اپنی طبعی عمر تک زندہ رہا ، تو یہ اُن کا زمانہ پا لے گا ۔ حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ ہو کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! رات اور دن گزرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کر دیا اور اب وہ ہمارے درمیان زندہ ( موجود ) تھے ، ہم آپ پر ایمان لائے اور اس یہودی نے سرکشی اور حسد کی وجہ سے آپ کا انکار کیا ، ہم نے اس سے کہا : اے فلاں ! تمہارا ستیاناس ہو ، کیا تم نے ہمیں اس بارے میں ایک بات نہیں کی تھی ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! لیکن وہ یہ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

13884

Majma al-Zawaid #13884

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَيْضًا: أَنَّ يَهُودِيًّا كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَقَالَ لَنَا وَنَحْنُ فِي الْمَجْلِسِ: قَدْ أَطَلَّ هَذَا النَّبِيُّ الْقُرَشِيُّ الْحَرَمِيُّ، ثُمَّ الْتَفَتَ فِي الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: إِنْ يُدْرِكْهُ أَحَدٌ يُدْرِكْهُ هَذَا الْفَتَى، وَأَشَارَ إِلَيَّ، فَقَضَى اللَّهُ أَنْ جَاءَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: هَذَا النَّبِيُّ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَإِنَّهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنِ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَدَعُ الْيَهُودِيَّةَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

In his narration from Umm Salama (radiya Allahu anha), a Jew among Banu Abdul Ashhal told their assembly that the time of the Qurashi Harami prophet had dawned, looked about, pointed to the youth, and said whoever lived would meet him through that lad. When Allah decreed the Prophet ﷺ come to Madina, the narrator recognized him, the Jew swore it was indeed he, yet when asked why he withheld from Islam he vowed never to abandon Judaism. > **"The Qurashi Harami prophet has dawned. If any meets him, this youth will meet him. By Allah, it is indeed he, but by Allah I will never abandon Judaism."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے : ’’ بنو عبداشہل میں ایک یہودی تھا ، ہم ایک محفل میں موجود تھے ، اس نے ہم سے کہا : قریش سے تعلق رکھنے والے اور حرم سے تعلق رکھنے والے ، اُس نبی کا زمانہ آ گیا ہے ، پھر وہ اس محفل کی طرف متوجہ ہوا اور بولا : اگر کسی نے ان کا زمانہ پا لیا ، تو یہ نوجوان اُن کا زمانہ پا لے گا ، اس نے میری طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ، پھر اللہ کے حکم کے تحت نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو میں نے کہا : یہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ہیں ، تو اُس یہودی نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی ہیں ، میں نے کہا : پھر تم اسلام کیوں نہیں قبول کر لیتے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں یہودیت نہیں چھوڑوں گا ۔‘‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

13885

Majma al-Zawaid #13885

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فِي إِحْدَى رِحْلَتَيِ الْإِيلَافِ، فَنَزَلْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَآنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الدُّيِّوُرِ فَنَسَّبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى بَعْضِكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، مَا لَمْ يَكُنْ عَوْرَةً، فَفَتَحَ إِحْدَى مَنْخَرَيَّ فَنَظَرَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْآخَرِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ فِي إِحْدَى يَدَيْكَ مُلْكًا، وَفِي الْأُخْرَى نُبُوَّةً، وَإِنَّا لِنَجِدُ ذَلِكَ فِي بَنِي زُهْرَةَ فَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ سَاعَةٍ؟ قُلْتُ: وَمَا السَّاعَةُ؟ قَالَ: زَوْجَةٌ، قُلْتُ: أَمَّا الْيَوْمُ فَلَا، قَالَ: فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ فِي بَنِي زُهْرَةَ، فَرَجَعَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَتَزَوَّجَ هَالَةَ بِنْتَ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ، وَزَوْجَ ابْنِهِ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَبَحَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى أَبِيهِ، فَوَلَدَتْ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَخَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْهُمَا ثُوَيِّبَةُ مَوْلَاةُ أَبِي لَهَبٍ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abbas ibn Abdul Muttalib (radiya Allahu anhu) reports Abdul Muttalib recounting a Yemen journey during the two caravan seasons, lodging with a Jew, when a cloister man asked his lineage, examined him apart from nakedness, and testified to kingship in one hand and prophethood in the other, yet their books placed it through Banu Zuhra. Asked whether he had a wife, he had none, so the man bade him marry into Zuhra on return. > **"I bear witness that in one of your hands is kingship and in the other is prophethood. When you return, marry into Banu Zuhra."** He married Hala bint Wuhayb ibn Abd Manaf ibn Zuhra, who bore Hamza, and wed his son Abdullah to Amina bint Wahb, whom Quraysh said outstripped his father, and she bore the Messenger of Allah ﷺ. Hamza (radiya Allahu anhu), older than the Prophet ﷺ, was also his foster brother through Thuwayba, freedwoman of Abu Lahab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جناب عبدالمطلب نے یہ بات بیان کی ہے : میں اپنے سالانہ دو سفروں میں سے ایک سفر میں یمن کی طرف گیا ، میں ایک یہودی شخص کے ہاں ٹھہرا ، وہاں کے ایک عبادت خانے کے ایک شخص نے مجھے دیکھا ، اُس نے مجھ سے میرا نسب دریافت کیا ، میں نے اس کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، اس نے کہا : کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں تمہارے جسم کا جائزہ لوں ؟ میں نے کہا : ٹھیک ہے ، جبکہ شرمگاہ کے علاوہ ہو ، اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کھول کے دیکھا ، پھر دوسرے میں دیکھا اور پھر بولا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے ، اور دوسرے میں نبوت ہے ، لیکن ہم تو یہ چیز پاتے ہیں کہ اس کا تعلق بنو زہرہ سے بھی ہو گا ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ساتھ ہے ؟ میں نے کہا : ساتھ سے مراد کیا ہے ؟ اس نے کہا : بیوی ، میں نے کہا : اب تو کوئی نہیں ہے ، اس نے کہا : جب تم واپس جاؤ گے ، تو تم بنو زہرہ میں شادی کر لینا ، جناب عبدالمطلب واپس آئے ، تو انہوں نے ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ سے شادی کی ، تو ان کے ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ، انہوں نے اپنے صاحبزادے ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کی شادی سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی ، تو قریش نے کہا : عبداللہ نے اپنے والد کا مقابلہ کیا ہے ، سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نبی اکرم ﷺ کو جنم دیا ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کے رضائی بھائی بھی تھے ، کیونکہ ابولہب کی کنیز ثویبہ نے اُن دونوں کو دودھ پلایا تھا ، اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عمر ، نبی اکرم ﷺ سے زیادہ تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13886

Majma al-Zawaid #13886

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِإِدْخَالِ رَجُلٍ الْجَنَّةَ، فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودٍ، وَإِذَا بِيَهُودِيٍّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَكُوا، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ؟ ""، قَالَ الْمَرِيضُ: إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا، ثُمَّ جَاءَ الْيَهُودِيُّ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لُوا أَخَاكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (radiya Allahu anhu) reports Allah sending His Prophet ﷺ to bring a man into Paradise: entering the synagogue he found Jews with a Jew reciting the Torah over them, who stopped upon reaching the description of the Prophet ﷺ, while a sick man lay aside. Asked why they stopped, the sick man explained they had reached a prophet's description, then crawled, took the Torah, read until the description of the Prophet ﷺ and his nation, testified that it matched him and his nation, bore witness that none deserved worship but Allah and that he was His messenger, then died. The Prophet ﷺ bade them tend their brother. > **"Why did you stop? Tend your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا ، تاکہ ایک شخص کو جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم ﷺ ان کے عبادت خانے میں داخل ہوئے ، وہاں یہودی لوگ موجود تھے اور ایک یہودی شخص ان کے سامنے تورات پڑھ رہا تھا ، جب وہ نبی اکرم ﷺ کے حلیہ کے مقام پر پہنچے ، تو اُس کو پڑھنے سے رک گئے ، اس عبادت خانے کے کونے میں ایک بیمار شخص موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا ہوا ؟ تم رک کیوں گئے ؟ بیمار نے کہا : یہ لوگ اب نبی کی صفت کے مقام پر پہنچے ہیں ، اس لئے رک گئے ہیں ، پھر وہ ( بیمار ) یہودی شخص آیا ، وہ گھٹنوں کے بل جھکا ، اس نے تورات لی اسے پڑھا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے حلیہ اور آپ کی امت کی صفت کو پڑھا اور بولا : یہ صفت آپ کی ہے ، اور آپ کی امت کی ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ( یعنی اس کے کفن دفن کا انتظام کرو ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13887

Majma al-Zawaid #13887

«وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ كَانَ مَعَهُ بِغَزَّةَ - أَوْ قَالَ: بِإِيلِيَاءَ - فَلَمَّا قَفَلْنَا قَالَ: يَا أَبَا سُفْيَانَ أَيُّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كَرِيمُ الطَّرَفَيْنِ وَيَجْتَنِبُ الْمَظَالِمَ وَالْمَحَارِمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَشَرِيفٌ مُسِنٌّ، قَالَ: السِّنُّ وَالشَّرَفُ أَزْرَيَا بِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، مَا ازْدَادَ سِنًّا إِلَّا ازْدَادَ شَرَفًا، قَالَ: يَا أَبَا سُفْيَانَ، إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ يَقُولُهَا لِي مُنْذُ تَنَصَّرْتُ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى أُخْبِرَكَ، قُلْتُ: هَاتِ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَجِدُ فِي كُتُبِي نَبِيًّا يُبْعَثُ مِنْ حَرَمِنَا، فَكُنْتُ أَظُنُّ، بَلْ كُنْتُ لَا أَشُكُّ أَنِّي هُوَ، فَلَمَّا دَارَسْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ إِذَا هُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، فَنَظَرْتُ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَلَمَّا أَخْبَرَنِي بِنَسَبِهِ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ حِينَ جَاوَزَ الْأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرَبَاتِهِ وَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ أُرِيدُ الْيَمَنَ فِي تِجَارَةٍ، فَمَرَرْتُ بِأُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ فَقُلْتُ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ بِهِ: يَا أُمَيَّةُ، قَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ الَّذِي كُنْتَ تَنْتَظِرُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ حَقٌّ فَاتَّبِعْهُ، قُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ مِنَ اتِّبَاعِهِ؟ قَالَ: الِاسْتِحْيَاءُ مِنْ نَسَيَاتِ ثَقِيفٍ، إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُهُمْ أَنِّي هُوَ، ثُمَّ يَرَوْنِي تَابِعًا لِغُلَامٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ: كَأَنِّي بِكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ إِنْ خَالَفْتَهُ قَدْ رُبِطْتَ كَمَا يُرْبَطُ الْجَدْيُ، حَتَّى يُؤْتَى بِكَ إِلَيْهِ فَيَحْكُمَ فِيكَ مَا يُرِيدُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sufyan ibn Harb (radiya Allahu anhu) reports Umayya ibn Abi al-Salt accompanying him at Ghazza or Iliya, drawing him aside past Utba ibn Rabia to ask of his noble descent on both sides, avoidance of wrongs and prohibitions, and aged eminence, then confiding from his books that a prophet would be commissioned from their sanctuary whom he had assumed was himself, until learned men traced him to Banu Abd Manaf, among whom only Utba seemed fit, yet whose lineage and passing forty without revelation ruled him out. Later, after revelation came to the Messenger of Allah ﷺ, Abu Sufyan mockingly told Umayya the awaited prophet had emerged, and Umayya affirmed his truth and urged following him, withholding himself only from shame before the women of Thaqif after claiming the role, warning Abu Sufyan that opposing him would leave him tethered like a kid brought before him for judgment. > **"I found in my books a prophet to be commissioned from our sanctuary. He is indeed true, so follow him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُمیہ بن ابوصلت ان کے ساتھ ’’ غزہ ‘‘ میں یا ’’ ایلیاء ‘‘ میں موجود تھا ، جب ہم واپس آ رہے تھے تو اس نے کہا : اے ابوسفیان ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم اپنے ساتھیوں سے ذرا آگے بڑھ جائیں اور آپس میں بات چیت کریں ، میں نے کہا : ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے ایسا ہی کیا ، اس نے کہا : اے ابوسفیان ! ان میں سے کون عتبہ بن ربیعہ کے خاندان میں سے ہے ؟ میں نے کہا : یہ ( سب ) لوگ عتبہ کے خاندان ہی سے تعلق رکھتے ہیں ، اس نے کہا : وہ ماں باپ کی طرف سے معزز ہے ، اور ظلم کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب سے اجتناب کرتا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : وہ معزز عمر رسیدہ فرد ہے ، اس نے یہ کہا : عمر رسیدگی اور شرف اس کو حقیر کرتے ہیں ، میں نے اس سے کہا : تم غلط کہہ رہے ہو ، جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے ، آدمی کی عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، اس نے کہا : اے ابوسفیان ! یہ ایک بات ہے ، جو میں نے کسی سے سنی نہیں ہے ، جب سے میں نے عیسائیت اختیار کی ہے ، میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ، تم میرے بارے میں جلدبازی نہ کرو ، میں تمہیں بتاتا ہوں ، اس نے کہا : میں نے اپنی کتابوں میں ایک نبی کا ذکر پایا ہے ، جو ہمارے حرم میں مبعوث ہو گا ، تو میرا یہ گمان تھا ، بلکہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ نبی ’’ میں ‘‘ ہوؤں گا ، لیکن جب میں نے اہل علم سے مذاکرات کیے ، تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو عبدمناف سے ہو گا ، میں نے بنو عبدمناف کا جائزہ لیا ، تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا ، جو اس کام کے لئے عتبہ بن ربیعہ سے زیادہ موزوں ہو ، لیکن جب تم نے مجھے اس کے نسب کے بارے میں بتایا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ بھی نہیں ہے ، کیونکہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو چکی ہے ، اور اس پر وحی نازل نہیں ہوئی ، ابوسفیان کہتے ہیں : پھر ایک زمانہ گزر گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ کی طرف وحی نازل ہوئی ، میں قریش کے کچھ سواروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں یمن جانے کے لئے نکلا ، میرا گزر امیہ بن صلت کے پاس سے ہوا ، میں نے اس کا مذاق اڑانے کے طور پر اس سے کہا : اے امیہ ! وہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے تھے ، اس نے کہا : وہ حق ہیں ، تم ان کی پیروی کرو ، میں نے کہا : تم اُن کی پیروی کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے کہا : مجھے ثقیف قبیلے کی عورتوں سے حیاء آتی ہے ، وہ ایک زمانے سے مجھے پیشوا کے طور پر دیکھتی آ رہی ہیں ، اور پھر وہ مجھے دیکھیں گی کہ میں بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا پیروکار بن گیا ہوں ، پھر اُمیہ نے کہا : اے ابوسفیان ! تمہارے بارے میں یوں لگتا ہے کہ جیسے تم ان کی مخالفت کرو گے اور پھر تمہیں یوں باندھ دیا جائے گا ، جس طرح جدی کو باندھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ تمہیں ان کے پاس لے جایا جائے گا ، اور تمہارے بارے میں وہ جو چاہیں گے فیصلہ دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13888

Majma al-Zawaid #13888

وَعَنْ خَلِيفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ قَالَ: «سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ سَوَاةَ بْنِ جُشَمَ: كَيْفَ سَمَّاكَ أَبُوكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مُحَمَّدًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ أَبِي عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ: خَرَجْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، أَنَا أَحَدُهُمْ، وَسُفْيَانُ بْنُ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ الْعَنْبَرِ، وَيَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كَامِنِ بْنِ حُرْقُوصِ بْنِ مَازِنٍ، نُرِيدُ ابْنَ جَفْنَةَ الْغَسَّانِيَّ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ نَزَلْنَا عَلَى غَدِيرٍ عَلَيْهَا شَجَرَاتٍ لِدَيْرَانِيٍّ صَاحِبِ صَوْمَعَةٍ فَقُلْنَا: لَوِ اغْتَسَلْنَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَادَّهَنَّا وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا صَاحِبَنَا، فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا الدَّيْرَانِيُّ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ لُغَةٌ مَا هِيَ لُغَةُ أَهْلِ الْبَلَدِ، فَقُلْنَا: نَعَمْ، نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ مُضَرَ، قَالَ: مِنْ أَيِّ مُضَرَ؟ قُلْنَا: مِنْ خِنْدِفٍ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيُبْعَثُ مِنْكُمْ وَشِيكًا نَبِيٌّ فَسَارِعُوا وَجِدُّوا بِحَظِّكُمْ مِنْهُ تَرْشُدُوا، فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، فَقُلْنَا: مَا اسْمُهُ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ ابْنِ جَفْنَةَ وُلِدَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، قَالَ الْعَلَاءُ: قَالَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَدْرِي [مَنْ أَوَّلُ] مَنْ عَلِمَ بِكَ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ تُبْعَثَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: بَنُو تَمِيمٍ، وَقَصَّ عَلَيْهِ هَذِهِ الْقِصَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Khalifa ibn Abda ibn Jarwal reports asking Muhammad ibn Adi about being named Muhammad in Jahiliyya. He traced it to his father journeying fourth of four from Banu Tamim with Sufyan ibn Mujashi, Usama ibn Malik, and Yazid ibn Rabia toward Ibn Jafna al-Ghassani in Sham, lodging by a pool near a monk's cell, washing, oiling, and dressing before their host. The monk noted their foreign speech, learned they were of Mudar and Khindif, and urged them to hasten to their share in an imminent prophet from among them, the Seal of the Prophets named Muhammad, promising guidance. Upon returning from Ibn Jafna each was blessed with a son and named him Muhammad. Al-Ala adds that Qays ibn Asim asked the Prophet ﷺ whether he knew who among Arabs first knew of him before commissioning, and upon his denial told him it was Banu Tamim with this story. > **"A prophet will shortly be commissioned from among you, so hasten and strive for your share in him and you will be guided, for he is the Seal of the Prophets. His name is Muhammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلیفہ بن عبدہ بن جرول بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے دریافت کیا : آپ کے والد نے زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام ’’ محمد ‘‘ کیوں رکھا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے ، میں نے بھی اس کے بارے میں اپنے والد سے دریافت کیا تھا ، تو انہوں نے بتایا : مجھ سمیت بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد روانہ ہوئے ، میں اُن میں سے ایک تھا ، ایک سفیان بن مجاشع بن دارم تھا ، ایک اسامہ بن مالک تھا ، اور ایک یزید بن ربیعہ تھا ، ہم لوگ شام میں موجود ابن جفنہ غسانی کی طرف جا رہے تھے ، جب ہم شام آئے تو ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ کیا ، جس کے آس پاس درخت تھے اور پاس ہی ایک عبادت خانہ تھا ، ہم نے کہا : اگر ہم اس پانی کے ذریعے غسل کر لیں تیل لگائیں اور عمدہ لباس پہنیں ، تو پھر ہم اپنے متعلقہ فرد کے پاس جائیں گے ، اسی دوران اس عبادت خانے کے شخص نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور بولا : یہ زبان تو اس علاقے کی زبان نہیں ہے ، ہم نے کہا : جی ہاں ! ہم مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، اس نے دریافت کیا : مضر میں سے کس سے تعلق ہے ؟ ہم نے کہا : خندف سے ہے ، اس نے کہا : تم میں ایک نبی کو مبعوث کیا جائے گا ، تو تم لوگ جلدی کرنا اور ان سے اپنا حصہ حاصل کر لینا ، تم لوگ ہدایت پا جاؤ گے ، کیونکہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہوں گے ، ہم نے کہا : اُن کا نام کیا ہو گا ؟ اس نے جواب دیا : حضرت محمد ( ﷺ ) جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے واپس آئے ، تو ہم میں سے ہر ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ، تو ہر ایک نے اپنے بیٹے کا نام ’’ محمد ‘‘ رکھا ۔ علاء بیان کرتے ہیں : قیس بن عاصم نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں ، عربوں میں سے آپ کے بارے میں سب سے پہلے کسے علم تھا ؟ جو علم آپ کی بعثت سے بھی پہلے حاصل ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی نہیں ! اس نے کہا : بنو تمیم کو تھا ، پھر انہوں نے پورا واقعہ نبی اکرم ﷺ کو سنایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13889

Majma al-Zawaid #13889

«وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْمُطْعِمِ قَالَ: كُنْتُ أَكْرَهُ أَذَى قُرَيْشٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُوهُ خَرَجْتُ حَتَّى لَحِقْتُ بِدَيْرٍ مِنَ الدِّيَارَاتِ، فَذَهَبَ أَهْلُ الدَّيْرِ إِلَى رَأْسِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: أَقِيمُوا لَهُ حَقَّهُ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَأَوْهُ لَمْ يَذْهَبْ فَانْطَلَقُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: قُولُوا لَهُ: قَدْ أَقَمْنَا لَكَ بِحَقِّكَ الَّذِي يَنْبَغِي لَكَ، فَإِنْ كُنْتَ وَصِبًا فَقَدْ ذَهَبَ وَصَبُكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَاصِلًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَذْهَبَ إِلَى مَنْ تَصِلُ، وَإِنْ كُنْتَ تَاجِرًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى تِجَارَتِكَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ وَاصِلًا وَلَا تَاجِرًا وَمَا أَنَا بِنَصِبٍ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا فَاسْأَلُوهُ مَا شَأْنُهُ، قَالَ: فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنَّ فِي قَرْيَةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عَمِّي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَآذَاهُ قَوْمُهُ [وَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَقْتُلُوهُ] فَخَرَجْتُ لِئَلَّا أَشْهَدَ ذَلِكَ، فَذَهَبُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ قَوْلِي، قَالَ: هَلُمُّوا، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَصِي، قَالَ: تَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَتَعْرِفُ شِبْهَهُ لَوْ تَرَاهُ مُصَوَّرًا؟ قُلْتُ: عَهْدِي بِهِ مُنْذُ قَرِيبٍ، فَأَرَاهُ صُوَرًا مُغَطَّاةً يَكْشِفُ صُورَةً صُورَةً، ثُمَّ يَقُولُ: أَتَعْرِفُ؟ فَأَقُولُ: لَا، حَتَّى كَشَفَ صُورَةً مُغَطَّاةً، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الصُّورَةِ بِهِ كَأَنَّهُ طَوَّلَهُ وَجَسَّمَهُ وَبَعُدَ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ، قَالَ: فَتَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ؟ قُلْتُ: أَظُنُّهُمْ قَدْ فَرَغُوا مِنْهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا يَقْتُلُوهُ وَلَيَقْتُلَنَّ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ، وَإِنَّهُ لَنَبِيٌّ وَلِيُظْهِرَنَّهُ اللَّهُ، وَلَكِنْ قَدْ وَجَبَ حَقُّكَ عَلَيْنَا، فَامْكُثْ مَا بَدَا لَكَ وَادْعُ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَمَكَثْتُ [حِينًا] عِنْدَهُمْ، ثُمَّ قُلْتُ: لَوْ أُطِعْهُمْ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَامَتْ آلُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: قَدْ تَبَيَّنَ لَنَا أَمْرُكَ فَعَرَفْنَا شَأْنَكَ، فَهَلُمَّ أَمْوَالَ الصَّبِيَّةِ الَّتِي عِنْدَكَ الَّتِي اسْتَوْدَعَكَهَا أَبُوكَ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ هَذَا حَتَّى تُفَرِّقُوا بَيْنَ رَأْسِي وَجَسَدِي، وَلَكِنْ دَعُونِي أَذْهَبُ فَأَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ. فَقَالُوا: إِنَّ عَلَيْكَ عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي فِيمَا يَقُولُ: "" إِنِّي لَأَرَاكَ جَائِعًا، هَلُمُّوا طَعَامًا ""، قُلْتُ: إِنِّي لَا آكُلُ حَتَّى أُخْبِرَكَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ آكُلَ أَكَلْتُ. قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِمَا أَخَذُوا عَلَيَّ، قَالَ: "" فَأَوْفِ بِعَهْدِ اللَّهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِنَا وَلَا تَشْرَبَ مِنْ شَرَابِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ: إِنَّهُ وُثِّقَ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn al-Mutim (radiya Allahu anhu) reports hating the harm of Quraysh to the Prophet ﷺ and, fearing they would kill him, fleeing to a monastery where the inmates granted him three days' hospitality, then pressed him to depart whether ailing, visiting kin, or trading. Denying all, he confessed his cousin in the town of Ibrahim claimed prophethood, his people harmed him, and he left lest he witness murder. Brought to their chief, questioned whether he feared killing and would recognize his likeness in a portrait, he agreed from recent acquaintance, and the chief unveiled covered portraits one by one until one matched so closely in height, build, and broad shoulders that he recognized him. The chief swore they would never kill him, that he would slay whoever sought it, that he was indeed a prophet whom Allah would manifest, and granted him stay and requests. After a stay Jubayr returned to Makka as if obedient, found Quraysh demanding the orphan wealth entrusted with his father, refused surrender save at severing head from body but offered delivery, whereupon they bound him by covenant of Allah not to eat of Muhammad's food. Reaching Madina after the news had arrived, the Prophet ﷺ perceived his hunger and called for food, but Jubayr first disclosed the covenant, and the Prophet ﷺ bade him fulfill Allah's covenant by eating and drinking nothing of theirs. > **"By Allah they will not kill him; he will slay whoever seeks his killing. He is indeed a prophet and Allah will manifest him. Fulfill the covenant of Allah and do not eat of our food nor drink of our drink."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ قریش ، جو نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچایا کرتے تھے ، جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ عنقریب نبی اکرم ﷺ کو شہید کر دیں گے ، تو میں نکلا اور ایک عبادت خانے میں چلا گیا ، اس عبادت خانے کے لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا : اس کے لئے اس کے حق کا بندوست کرو ، جو تین دن تک ہو ، جب تین دن گزر گئے اور انہوں نے حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نہیں گئے ، تو وہ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا : تم اُس سے کہو کہ ہم نے تمہارا جو مناسب حق بنتا تھا ، اس کا بندوبست کر دیا تھا ، اگر تم پریشانی کا شکار تھے ، تو تمہاری پریشانی ختم ہو گئی ہے ، اگر تم نے کہیں پہنچنا تھا ، تو کیا وجہ ہے ؟ تم اپنی منزل کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ اگر تم تجارت کرنے والے فرد ہو ، تو تم اپنی تجارت کی طرف کب جاؤ گے ؟ تو حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہ تو میں کہیں جانا چاہ رہا تھا ، نہ ہی میں تاجر ہوں ، اور نہ ہی میں پریشانی کا شکار ہوں ، وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا : اس کا کوئی اہم معاملہ ہو گا ، تم لوگ اس سے پوچھو کہ اس کا معاملہ کیا ہے ؟ وہ لوگ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آباد کی ہوئی بستی ہیں میرا ایک چچازاد ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہے ، اس کی قوم کے لوگ اسے اذیت پہنچا رہے ہیں ، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، تو میں وہاں سے نکل آیا ، تاکہ میں اس موقع پر موجود نہ ہوؤں ، تو وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے میرے بیان کے بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا : اس کو میرے پاس لے کر آؤ ، میں اس کے پاس گیا ، میں نے اسے پورا واقعہ سنایا ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : اگر تم ان کی تصویر دیکھ لو ؟ تو کیا تم ان کی شباہت کو پہچان لو گے ؟ میں نے کہا : میں کچھ عرصہ پہلے اُن سے ملا تھا ، پھر اُس نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو کچھ تصویریں دکھائیں ، جو ڈھانپی ہوئی تھیں ، وہ ایک ایک تصویر کے آگے سے پردہ ہٹاتا گیا ، پھر دریافت کرتا گیا : کیا تم اسے جانتے ہو ؟ میں جواب دیتا تھا : جی نہیں ! یہاں تک کہ اس نے ایک ڈھانپی ہوئی تصویر کے آگے سے پردہ ہٹایا ، تو میں نے کہا : میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، جو اس نبی کے ساتھ ، اس تصویر سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، ان کی لمبائی ، ان کی جسامت ، کندھوں کی چوڑائی بالکل ویسی ہی ہے ، اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ انہیں شہید کریں گے ؟ میں نے کہا : ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اس حوالے سے فارغ ہو چکے ہوں گے ، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ لوگ اُس نبی کو شہید نہیں کر سکیں گے ، البتہ وہ نبی جس کو چاہیں گے اسے قتل کر دیں گے ، کیونکہ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں ضرور غالب کرے گا ، لیکن اب تمہارا حق ہم پر واجب ہو چکا ہے ، تمہیں جتنا عرصہ مناسب لگتا ہے ، یہاں ٹھہرے رہو اور جو چاہو طلب کر لو ۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن کے ہاں ایک عرصے تک ٹھہرا رہا ، پھر میں نے کہا : اب میں واپس چلتا ہوں ، میں مکہ آیا وہاں میں نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مدینہ منورہ کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیا تھا ، جب میں آیا تو قریش اُٹھ کر میرے پاس آئے ، انہوں نے کہا : تمہارا معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہے ، ہم نے تمہاری صورت حال کو جان لیا ہے ، تو تم بے دین افراد کے وہ اموال ہمیں دے دو ، جو تمہارے پاس موجود ہیں ، جو تمہارے والد نے تمہارے پاس رکھوائے تھے ، میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ، خواہ تم میرے سر اور جسم کو الگ کر دو ، البتہ تم لوگ مجھے موقع دو ، میں جاتا ہوں اور ان لوگوں کے اموال ان کے حوالے کر دیتا ہوں ، تو مشرکین نے کہا : تم پر اللہ کے نام کا عہد اور میثاق لازم ہے کہ تم نے اُن کے کھانے میں سے کچھ نہیں کھانا ، حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں اطلاع مل چکی تھی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے باتیں کیں ، اُن میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ میرے خیال میں تم بھوکے ہو ( آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھانا لے کر آؤ ! میں نے کہا : میں کھانا نہیں کھاؤں گا ، جب تک آپ کو بتاتا نہیں ہوں ، پھر آپ جو مناسب سمجھیں ، آپ کہیں گے تو میں کھا لوں گا ، پھر حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے وہ بات بتائی ، جو اُن لوگوں نے ان سے عہد لیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اللہ کے نام کے عہد اور میثاق کو پورا کرو ، اور ہمارے کھانے میں سے نہ کھاؤ ، اور ہمارے مشروب میں سے نہ پیو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قیق العید نے کتاب ’’ الامام ‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور یہ حدیث حسن ہے ۔

13890

Majma al-Zawaid #13890

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: خَرَجْتُ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كُنْتُ قَادِمًا الشَّامَ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ رَجُلٌ نَبِيءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ صُورَتَهُ إِذَا رَأَيْتَهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتًا فِيهِ [صُوَرٌ، فَلَمْ أَرَ] صُورَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَيْنَا، فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَاعَةُ مَا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى صُورَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِعَقِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الْقَائِمُ عَلَى عَقِبِهِ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ، إِلَّا هَذَا، فَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَهَذَا الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَإِذَا صِفَةُ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim (radiya Allahu anhu) reports trading to Sham in Jahiliyya when a man of the Scripture asked of a prophet among them and whether he would recognize his portrait. Led into a house of portraits he did not find it, until another of them took them home, where upon entry he saw the portrait of the Prophet ﷺ with a man holding his heel. Asked who stood at his heel, he was told every prophet had a prophet after him except this one, who would have no prophet after him, and this was the successor after him, whose description was that of Abu Bakr (radiya Allahu anhu). > **"There was no prophet but that a prophet came after him, except this one, for there is no prophet after him, and this is the successor after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں تجارت کرنے کے لئے شام کی طرف گیا ، جب میں شام کے قریب پہنچا ، تو اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا : کیا تمہارے ہاں کوئی نبی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اس نے کہا : کیا تم ان کی تصویر کو پہچان لو گے جب اسے دیکھو گے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا ، جہاں مختلف تصویریں موجود تھیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی تصویر نہیں دیکھی ، ابھی ہم وہاں اسی طرح موجود تھے کہ ان میں سے ایک اور شخص ہمارے پاس آیا اس نے کہا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے اس بارے میں بتایا ، تو وہ ہمیں لے کر اپنے گھر چلا گیا ، جیسے ہی میں اُس کے گھر میں داخل ہوا ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کی تصویر نظر آ گئی اور وہاں ایک شخص تھا ، جو نبی اکرم ﷺ کے پیچھے موجود تھا ( یا اُس نے نبی اکرم ﷺ کی ایڑی کو پکڑا ہوا تھا ) میں نے کہا : یہ صاحب کون ہیں ؟ جو ان کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں ؟ تو اس نے کہا : ہر نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا ہے ، لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، یہ شخص اُن کے بعد ہونے والا خلیفہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تصویر تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13891

Majma al-Zawaid #13891

وَعَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ: «جَلَبْتُ حَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ: لَأَلْقَيْنَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ، فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرٍ التَّوْرَاةَ يَقْرَأُهَا، يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ، عَلَى ابْنٍ لَهُ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ فِي الْمَوْتِ [وَأَجْمَلَهُ]، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ، هَلْ تَجِدُنِي فِي كِتَابِكَ [ذَا] صِفَتِي وَمُخْرَجِي؟! ""، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا، أَيْ: لَا، فَقَالَ ابْنُهُ: إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمُخْرَجَكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ ""، ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنْطَهُ وَالصَّلَاةَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو صَخْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sakhr al-Uqayli reports from a Bedouin who brought a milch animal to Madina in the Prophet's ﷺ lifetime, finished his sale, resolved to meet the man and hear him, and found him walking between Abu Bakr and Umar (radiya Allahu anhuma). Following behind, they came upon a Jew with the Torah spread, reciting to console himself over a dying son, handsome among youths. The Prophet ﷺ adjured him by Who sent down the Torah whether he found his description and emergence in his book, and the Jew signaled no with his head. His son swore by Who sent the Torah that they did find his description and emergence, bore witness that none deserved worship but Allah and that he was His messenger, then died. The Prophet ﷺ bade them remove the Jew from their brother, then undertook his shrouding, perfuming, and prayer. > **"I adjure you by Who sent down the Torah: do you find me in your book, with my description and my emergence? Remove the Jew from your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصخر عقیلی بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے مجھے بتایا کہ میں دودھ دوہ کر مدینہ منورہ لے کر گیا ، یہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کی بات ہے ، جب میں اس کو فروخت کر کے فارغ ہوا ، تو میں نے سوچا مجھے اُن صاحب سے ملنا چاہیے اور مجھے اُن کی بات سننی چاہیے تو میرا سامنا نبی اکرم ﷺ سے ہوا ، آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے ، میں ان حضرات کے پیچھے چل پڑا ، یہ حضرات یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس آئے ، جس نے تورات کو کھولا ہوا تھا اور اسے پڑھ رہا تھا اور وہ اپنے لڑکے کے سرہانے اُسے پڑھ رہا تھا ، جو ( لڑکا ) مرنے کے قریب تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، کیا تم اپنی کتاب میں میرا حلیہ اور میری بعثت کے بارے میں چیز پاتے ہو ؟ تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا : کہ جی نہیں ! تو اس کے بیٹے نے ( جو قریب المرگ تھا ) یہ کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، ہم اپنی کتابوں میں آپ کا حلیہ اور آپ کی بعثت کے بارے میں ذکر پاتے ہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ( پھر اُس لڑکے کا انتقال ہو گیا ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کو یہودیوں سے لے لو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے اُس کے کفن دفن کا انتظام کیا ، اسے خوشبو لگائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور ابوصخر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13892

Majma al-Zawaid #13892

وَعَنِ الْمِسْوَرِ قَالَ: «مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقَالَ: ارْفَعْ - أَوِ اكْشِفْ - ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَرْفَعُهُ عَنْ ظَهْرِهِ، قَالَ: فَنَضَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar (radiya Allahu anhu) reports a Jew passing while he stood behind the Prophet of Allah ﷺ as the Prophet ﷺ performed wudu, bidding him expose his back. As he moved toward him, the Prophet ﷺ splashed water in his face. > **"Lift his garment from his back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی میرے پاس سے گزرا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوا تھا اور نبی اکرم ﷺ وضو کر رہے تھے ، اس نے کہا : تم ان کی پشت سے کپڑا ہٹاؤ ، راوی کہتے ہیں : میں آپ کی پشت سے کپڑا ہٹانے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرے منہ پر پانی چھڑک دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13893

Majma al-Zawaid #13893

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ نَبِيٌّ هُوَ أَوْ غَيْرَ نَبِيٍّ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ: اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ: مُنْكَرٌ، قُلْتُ: مَا فِيهِ غَيْرُ أَيُّوبَ بْنِ جَابِرٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samura (radiya Allahu anhu) reports a Jurmuqani coming to the companions of the Prophet ﷺ asking where their master who claimed prophethood was, vowing to test whether he was a prophet or not. The Prophet ﷺ came, the Jurmuqani bade him recite or relate, he recited verses from the Book of Allah, and the Jurmuqani swore it was what Musa had brought. > **"Recite to me. By Allah, this is what Musa brought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جرمقانی ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے پاس آیا اور بولا : تمہارے وہ آقا کہاں ہیں ؟ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، میں ان سے سوال کروں گا اور پھر پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی ہیں ، یا نبی نہیں ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، تو جرمقانی نے کہا : آپ میرے سامنے تلاوت کیجئے ، یا میرے سامنے بیان کیجئے ! تو نبی اکرم ﷺ نے اُس کے سامنے اللہ کی کتاب کی کچھ آیات تلاوت کیں ، تو جرمقانی نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی چیز ہے ، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ روایت منکر ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس میں ایوب بن جابر کے علاوہ اور کوئی ( غیر مستند راوی ) نہیں ہے ، اور اُسے بھی امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13894

Majma al-Zawaid #13894

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: «رَأَيْتُ التَّنُوخِيَّ رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحِمْصَ وَكَانَ جَارًا لِي، شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَاءَ أَوْ قَرُبَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ؟ قَالَ: بَلَى، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ، فَلَّمَا أَنْ جَاءَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبِطَارِقَتَهَا، ثُمَّ غَلَّقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ: نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ، وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: يَدْعُونِي أَنْ أَتْبَعَهُ عَلَى دِينِهِ، أَوْ أَنْ نُعْطِيَهُ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا، أَوْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنَ الْكُتُبِ لَتَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِي، فَهَلُمَّ نَتْبَعُهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ نُعْطِيهِ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا، فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ، وَقَالُوا: تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَذَرَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنَ الْحِجَازِ؟ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا [مِنْ عِنْدِهِ] أَفْسَدُوا عَلَيْهِ رِفَاقَهُمْ وَمُلْكَهُ، قَالَ: إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ، ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ، قَالَ: ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ عَرَبِيَّ اللِّسَانِ، أَبْعَثُهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ، فَجَاءَنِي، فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا، فَقَالَ: اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَمَا صَغَيْتَ مِنْ حَدِيثِهِ فَاحْفَظْ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ: انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ؟ وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي هَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ؟ وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يُرِيبُكَ؟ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَاحِبُكُمْ؟ قِيلَ: هَا هُوَ ذَا، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَ: "" مِمَّنْ أَنْتَ؟ ""، قُلْتُ: أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ، فَقَالَ: "" هَلْ لَكَ فِي الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ؟ ""، قُلْتُ: إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ، وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ، [فَضَحَكَ وَ] قَالَ: "" {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} [القصص: 56] يَا أَخَا تَنُوخَ، إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ [إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ، وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ، وَمُمَزِّقُ مُلْكَهُ، وَكَتَبْتُ] إِلَى النَّجَاشِيِّ فَخَرَقَهَا، وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقُ مُلْكِهِ، وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكُمْ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا، فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ ""، قُلْتُ: هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا [صَاحِبِي]، وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي، ثُمَّ أَنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمُ الَّذِي يَقْرَأُ لَكُمْ؟ قَالُوا: مُعَاوِيَةُ، فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي: يَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ، فَأَيْنَ النَّارُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ فَأَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ؟ ""، فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جُعَيْبَتِي فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي قَالَ: إِنَّ لَكَ حَقًّا وَأَنْتَ رَسُولٌ فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا، إِنَّا سَفْرٌ مُرَمِّلُونَ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ: أَنَا أُجَوِّزُهُ، فَفَتَحَ رَحْلَهُ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ، فَوَضَعَهَا فِي حِجْرِي، فَقُلْتُ: مَنْ صَاحِبُ الْحُلَّةِ؟ قِيلَ: عُثْمَانُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ؟ ""، فَقَالَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" [تَعَالَ] يَا أَخَا تَنُوخَ ""، فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي [إِلَيْهِ] حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ: "" هَهُنَا، امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ ""، فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضْرُوفِ الْكَتِفِ مِثْلَ الْحَجْمَةِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Abi Rashid reports meeting the Tanukhi man at Hims, the aged neighbour who had carried Heraclius's correspondence to the Messenger of Allah ﷺ. Asked about the two letters, he recalled the Prophet ﷺ arriving at Tabuk and sending Dihya al-Kalbi (radiya Allahu anhu) to Heraclius. Heraclius gathered the priests and patricians of Rome behind closed doors, warned them the man had encamped as they saw, that his message summoned them to follow his religion, pay tribute on their own land, or face war, and that their books foretold his taking what lay beneath Heraclius's feet. They snorted as one man, burst from their hoods, and refused to abandon Christianity or serve a bedouin from the Hijaz. Fearing they would leave and corrupt his companions and kingdom, Heraclius claimed he had only tested their firmness. He then summoned an Arab of Tujib over the Arab Christians and asked for a retentive Arabic-speaking man to bear his reply, and the Tanukhi was chosen. Heraclius charged him to remember three things from the Prophet ﷺ: whether he mentioned the letter sent to him, whether mention of night occurred upon reading the reply, and whether anything on his back aroused suspicion. The envoy reached Tabuk to find the Prophet ﷺ seated with his Companions in ihtiba posture by water. He handed the letter, which the Prophet ﷺ placed in his lap, asked his tribe, received the answer of Tanukh, and invited him to the Hanifiyya, the creed of Ibrahim. The envoy declined to leave his people's religion before returning to them, whereupon the Prophet ﷺ smiled and recited the verse that guidance belongs to Allah. He then foretold the tearing of Kisra and his kingdom for tearing his letter, the same for the Najashi, and the continued strength of the envoy's master for preserving it. The envoy noted this first sign on his sword sheath. When the letter was handed to Muawiya to read, it asked where Hell was if Paradise spanned heavens and earth. The Prophet ﷺ answered with the parable of night and day, which the envoy likewise recorded. After the reading the Prophet ﷺ acknowledged the envoy's right, excused the lack of hospitality on a provisionless journey, whereupon a man provided a yellowish suit placed in his lap, identified as Uthman (radiya Allahu anhu), and an Ansari youth undertook his lodging. As he left, the Prophet ﷺ recalled him, loosened his garment from his back, bade him fulfil what he was commanded, and the envoy saw the Seal between the shoulder blades like a cupping mark. > **"O brother of Tanukh, I wrote to Kisra and he tore it, so Allah will tear him and his kingdom; I wrote to the Najashi and he tore it, so Allah will tear him and his kingdom; I wrote to your master on a sheet and he kept it, so men will continue to find strength in him while good remains in life. Glory be to Allah, where is the night when the day comes? Here, carry out what you were commanded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابوراشد بیان کرتے ہیں :’’ حمص ‘‘ میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی ، جو ہرقل کے نبی اکرم ﷺ کی طرف قاصد تھے وہ صاحب میرے پڑوسی تھے اور ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص تھے ، میں نے کہا : کیا آپ مجھے ہرقل کے نبی اکرم ﷺ کی طرف بھیجے گئے مکتوب اور نبی اکرم ﷺ کے ہرقل کی طرف بھیجے گئے مکتوب کے بارے میں نہیں بتائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ تبوک تشریف لائے ، آپ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل کی طرف بھیجا ، جب نبی اکرم ﷺ کا مکتوب اس کے پاس آیا ، تو اس نے روم کے پادریوں اور سرداروں کو بلایا اور اپنے لئے اور ان کے لئے دروازہ بند کروا دیا ۔ پھر اس نے کہا : یہ شخص آیا ہے ، جس کو تم دیکھ رہے ہو ( یا وہ صاحب مبعوث ہوئے ہیں ، جن کے بارے میں تمہیں پتہ چلا ہے ) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے ، اور تین چیزوں کی دعوت دی ہے ، انہوں نے اس بات کی دعوت دی ہے کہ میں اُن کے دین کے حوالے سے ان کی پیروی کر لوں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہیں اور ان کو فدیہ ادا کرتے رہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کر لیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ جو کتابیں پڑھتے رہے ہو ، اس کے حوالے سے تم لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہے کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ ( یعنی میری سلطنت ) پر بھی قبضہ کر لیں گے ، تو یا تو ہم ان کے دین کی پیروی کر لیتے ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں فدیہ دے دیتے ہیں ، تو وہ سب لوگ ایک دم غصے میں آ گئے ، انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور بولے : کیا تم ہمیں اس بات کی دعوت دے رہے ہو کہ ہم عیسائیت کو چھوڑ دیں ؟ اور ہم حجاز سے آئے ہوئے ایک دیہاتی کے غلام بن جائیں ؟ جب ہرقل نے یہ محسوس کیا کہ وہ لوگ اُسے چھوڑ کے چلے جائیں گے اور اُن کا ساتھ خراب ہو جائے گا اور اس کی بادشاہی کو نقصان ہو گا ، تو اس نے کہا : میں نے یہ بات تم سے اس لئے کی تھی ، تاکہ تمہارے دین کے بارے میں تمہاری مضبوطی کو جان سکوں پھر اس نے عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ، جو عرب عیسائیوں کا حکمران تھا ، اس نے کہا : تم میرے پاس کسی ایسے شخص کو لے کر آؤ ! جو بات کو اچھی طرح یاد رکھتا ہو اور عربی زبان جانتا ہو ، تاکہ میں اس سے ان صاحب کی طرف اُن کے جوابی مکتوب کے ہمراہ بھیجوں ، تو اس شخص نے مجھے بلوایا ، ہرقل نے جوابی مکتوب میرے حوالے کیا ، اور بولا : میرا یہ مکتوب لے کر ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان کی کوئی بات بھولنا نہیں ، خاص طور پر تین چیزیں اُن کے حوالے سے یاد رکھنا ، تم اس بات کا جائزہ لینا کہ انہوں نے جو مکتوب بھیجا تھا ، اُس حوالے سے وہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور اس بات کا جائزہ لینا کہ جب وہ میرا مکتوب پڑھتے ہیں ، تو کیا ہوتا ہے ؟ کیا وہ رات کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور تم ان کی پشت کا جائزہ لینا کہ کیا وہاں کوئی ایسی چیز ہے جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں اُس کا مکتوب لے کر تبوک آ گیا ، نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان ’’ احتباء ‘‘ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، وہ لوگ ایک پانی کے پاس موجود تھے ، میں نے دریافت کیا : تمہارے آقا کہاں ہیں ؟ تو بتایا گیا : کہ وہ یہ ہیں ، میں چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنے پاس موجود مکتوب اُن کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا اور پھر دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے جواب دیا تنوخ سے تعلق رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم صحیح دین کو قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ جو تمہارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ، میں نے کہا : میں ایک قوم کا نمائندہ ہوں اور ایک قوم کے دین پر گامزن ہوں ، میں اس سے اس وقت تک رجوع نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کے پاس واپس نہیں چلا جاتا ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیئے ، آپ نے یہ آیت پڑھی : ’’ بے شک تم جسے چاہتے ہو ، اسے ہدایت نہیں دیتے ، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! میں نے کسریٰ کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے نجاشی کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے تمہارے حکمران کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے سنبھال کے رکھا ، تو وہ لوگ مسلسل ایسی حالت میں رہیں گے کہ انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، جب تک وہ رہے گا ، یہ لوگ بہتر رہیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا میرے حکمران نے مجھے جو تلقین کی تھی اُن میں سے ایک بات تو سامنے آ گئی ہے ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ مکتوب اپنے بائیں طرف موجود ایک شخص کی طرف بڑھایا ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ جو تمہارے لئے اس مکتوب کو پڑھیں گے ، تو لوگوں نے بتایا : یہ معاویہ ہیں ، میرے حکمران نے جو خط لکھا تھا ، اُس میں یہ بات مذکور تھی : آپ جنت کے بارے میں دعوت دیتے ہیں ، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے ، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گی ہے ، تو پھر جہنم کہاں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! جب دن آ جاتا ہے ، تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، جب وہ صاحب میرے مکتوب کو پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو انہوں نے کہا : تمہارا ایک حق ہے کہ تم ایک قاصد ہو ، اگر تم ہمارے پاس اہتمام کے طور پر کوئی چیز پاتے ، تو ہم نے وہ تمہیں کھلانی تھی ، لیکن ہم خود سفر کر رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا : میں اسے کوئی تحفہ دیتا ہوں ، پھر اس نے اپنے پالان کو کھولا اور ایک صفوری حلہ لے کر آیا اور وہ میری گود میں رکھ دیا ، میں نے دریافت کیا : یہ حلہ دینے والے صاحب کون ہیں ؟ تو بتایا گیا : یہ صاحب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون شخص اس کی مہمان نوازی کرے گا ؟ تو ایک انصاری نوجوان بولا : میں کروں گا ، وہ انصاری اُٹھ کھڑا ہوا ، اُس کے ساتھ میں بھی اُٹھ گیا ، جب میں اس محفل سے اٹھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! آگے آؤ ! میں آیا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھا ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس جگہ پر کھڑا ہو گیا ، جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی پشت پر بندھے ہوئے کپڑے کو کھولا اور فرمایا : اس حوالے سے جو تمہیں حکم دیا گیا تھا ، اُس کو بھی پورا کر لو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا ، تو آپ ﷺ کے کندھے کے مخصوص مقام پر مہر نبوت موجود تھی ، جو ایک بڑے بٹن کی مانند تھی ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ، اور عبداللہ بن احمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

13895

Majma al-Zawaid #13895

وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ إِلَى قَيْصَرَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطُ الرَّأْسِ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ: "" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ ""، قَالَ: فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً، وَقَالَ: لَا يُقْرَأُ هَذَا الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: لِمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ: "" صَاحِبَ الرُّومِ ""، وَلَمْ يَكْتُبْ: مَلِكَ الرُّومِ، فَقَالَ قَيْصَرُ: لَتَقْرَأَنَّهُ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِ، وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ، فَأَخْبَرُوهُ وَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ، فَقَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ: هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى، قَالَ لَهُ قَيْصَرُ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ: أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ذَهَبَ مُلْكِي، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَهُ، قَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ، مَا هُوَ؟ قَالَ: شَابٌّ، قَالَ: فَكَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يُفَضَّلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ، قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ، قَالَ: كَيْفَ صِدْقُهُ؟ قَالَ: مَا كَذَبَ قَطُّ، قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكُمْ إِلَيْهِ، هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ، هَلْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ، قَالَ: هَلْ يَنْكُبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ فِي أَصْحَابِهِ؟ قَالَ: قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ، قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ، قَالَ: ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ: أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي، قَالَ: وَأَمَّا الْأُسْقُفُ فَإِنَّهُ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيَسْأَلُنِي، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ، وَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، وَبَعَثُوا إِلَيْهِ: لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ، فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمِ هَذَا الْعَرَبِيُّ، فَقَالَ الْأُسْقُفُ: خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ، فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ، بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ: لِتَكْفِنِي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ، أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ - أَوْ قَالَ: لَأَفْعَلَنَّ بِكَ - فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَ صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ: "" اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ ""، فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ: أَحْصُوا هَذِهِ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالُوا: مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْيَأَ مِنْهُ، يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا، مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ، وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، قَالَ دِحْيَةُ: ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Dihya al-Kalbi (radiya Allahu anhu) reports being sent by the Messenger of Allah ﷺ with a letter to Caesar. At court stood Caesar's nephew, red-complexioned, blue-eyed, lank-haired. The superscription read from Muhammad the Messenger of Allah ﷺ to Heraclius, chief of Rome. The nephew snorted that it should not be read that day, since the writer named himself first and wrote chief rather than king of Rome. Caesar insisted it be read. Once the company left, Caesar admitted Dihya privately and summoned the bishop who managed their affairs, informed him, and had the letter read. The bishop declared this the awaited one whom Isa had announced, pledged his own belief and obedience when asked for counsel, while Caesar admitted he knew the truth but would lose his kingdom by acting on it. Caesar then summoned Abu Sufyan, then present, and questioned him about the man risen in his land: his youth, his unsurpassed lineage, his never having lied, the apostasy of none who joined him, the return of those who left him, and alternating victory and defeat in battle. To each answer Caesar replied that it was a sign of prophethood. He then charged Dihya to convey that he knew his master was a prophet but would not abandon his kingdom. As for the bishop, he used to address the people every Sunday, then absented himself for successive Sundays, conversing privately with Dihya, until the people threatened to enter and kill him unless he emerged, saying his state had changed since the Arab came. He entrusted Dihya with a letter testifying there is no god but Allah and Muhammad is His messenger, affirming his faith while warning his people would not follow, then went out and was killed. Dihya returned to the Prophet ﷺ while envoys of the Kisra-appointed governor of Sanaa were present with fifteen men sent to seize him. The Prophet ﷺ kept them fifteen nights, then told them to inform their master that his Lord had slain their lord that night. They asked the night be recorded and described the Prophet ﷺ as the most awe-inspiring king they had seen, walking unafraid among men without guards, with none raising voices before him. News then arrived that Kisra had been slain that very night. > **"Convey to your master that I know he is a prophet, but I will not abandon my kingdom. I bear witness that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah; I have believed in him, affirmed him, and followed him. Go to your master and tell him: my Lord slew his lord last night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک مکتوب دے کر قیصر کے پاس بھیجا ، جب میں اس کے پاس آیا ، اور میں نے اسے مکتوب دیا ، تو اس وقت اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، جو سرخ رنگت کا ، نیلی آنکھوں کا مالک تھا ، اس کے سر کے بال بالکل سیدھے تھے ، جب اس نے مکتوب پڑھنا شروع کیا ، تو اس میں یہ تحریر تھا :’’ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے ، روم کے متعلقہ فرد ، ہرقل کے نام ہے ‘‘ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا غصے میں آ گیا اور بولا : اس کو آج نہیں پڑھا جائے گا ، قیصر نے اس سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا : ایک بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کا ذکر کر کے آغاز کیا ہے ، دوسرا یہ کہ انہوں نے لکھا ہے روم کے متعلقہ فرد ، انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ روم کے بادشاہ ، تو قیصر نے کہا : تم اسے پڑھو ، جب اس نے اس مکتوب کو پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے ، اس نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک پادری کو بلوایا جو ان کے معاملے سے متعلقہ فرد تھا ، اس نے اس بارے میں اس پادری کو بتایا اور اسے وہ خط پڑھایا تو اس پادری نے اس سے کہا : یہ وہی صاحب ہیں جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی ، قیصر نے اس سے کہا : تم اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہو ؟ پادری نے اس سے کہا : جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں ان کی تصدیق کروں گا اور ان کی پیروی کروں گا ، قیصر نے اس سے کہا : لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی ، پھر ہم اس کے پاس سے اٹھ کے آ گئے ، قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیجا جو ان دنوں وہاں ہی تھے ۔ اس نے کہا : آپ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتائیے جو آپ کے علاقے میں مبعوث ہوئے ہیں وہ کون ہیں ، ابوسفیان نے بتایا وہ ایک نوجوان ہیں ، اس نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے درمیان ان کا حسب نسب کیسا ہے ، ابوسفیان نے بتایا کہ وہ حسب نسب کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ کوئی ان پر فضیلت نہیں رکھتا ، قیصر نے کہا : یہ نبوت کی ایک نشانی ہے ، اس نے دریافت کیا : ان کی سچائی کیسی ہے ، ابوسفیان نے کہا : انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ، قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا ہو ، کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آ جاتا ہے ؟ ابوسفیان نے کہا : جی نہیں ، تو قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر اس نے کہا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ ان کے ساتھیوں میں سے کوئی نکل کر تمہاری طرف آ جائے تو وہ لوگ ان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں ، ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ، تو قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا بھی ہوا ، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے لڑائی کی ہو ، تو ابوسفیان نے بتایا کہ ان کے مخالفین نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، کبھی انہوں نے اپنے مخالفین کو پسپا کر دیا ، اور کبھی ان کے مخالفین نے انہیں پسپا کر دیا ، قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلایا اور بولا : تم اپنے آقا تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم پہچان گئے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت نہیں چھوڑ سکتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ، تو اس کا یہ معاملہ تھا ، لوگ ہر ہفتے میں ایک دن اس کے پاس اکٹھے ہوتے تھے ، وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا ، انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ، جب ہفتے کا دن آیا تو وہ اس مرتبہ نکل کر ان کے پاس نہیں آیا اور اگلا ہفتہ آنے تک وہ اپنی جگہ پر موجود رہا ، میں اس کے پاس جاتا تھا ، وہ میرے ساتھ بات چیت کرتا تھا وہ میرے ساتھ سوال و جواب کرتا تھا ، جب اگلے ہفتے کا دن آیا اور لوگ انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے گا ، تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور ان کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہے ، ایسا چند مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ یا تو تم نکل کر ہمارے پاس آ جاؤ ! ورنہ ہم اندر تمہارے پاس آ کر تمہیں قتل کر دیں گے ، کیونکہ جب سے یہ عربی شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ، تو اس پادری نے مجھ سے کہا : تم یہ مکتوب لو اور اسے لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ کے رسول ہیں ، میں ان پر ایمان لاتا ہوں ، ان کی تصدیق کرتا ہوں ، ان کی پیروی کرتا ہوں ، لیکن یہ لوگ میری اس بات کی پیروی نہیں کریں گے ، تو تم جو صورت حال دیکھو گے ، اس کے بارے میں انہیں بتا دینا ، پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا اور ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا ۔ پھر حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آ گئے ، اس وقت صنعاء میں موجود کسریٰ کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، آپ نے ان لوگوں کو کسریٰ کی طرف بھیجا تھا اور اس نے صنعاء کے گورنر کو خط لکھا تھا ، جس میں اس سے یہ کہا تھا : کہ تم ان صاحب پر قابو پا لو ، جو تمہاری سرزمین پر مبعوث ہوئے ہیں ، اور مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے ہیں کہ یا تو میں ان کا دین قبول کر لوں ، یا جزیہ دے دوں ، ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، یا میں تمہیں یہ کروں گا ، تو صنعاء کے گورنر نے نبی اکرم ﷺ کی طرف پندرہ افراد بھیجے ، حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان افراد کو نبی اکرم ﷺ کے پاس پایا تھا ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے آقا کا مکتوب پڑھا ، تو آپ نے پندرہ دن انہیں ایسے ہی رہنے دیا ، جب پندرہ دن گزر گئے تو ایک رات آپ ان کے پاس آئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا : تم اپنے آقا ( یعنی صنعاء کے گورنر ) کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو کہ میرے پروردگار نے گزشتہ رات اس کے آقا ( یعنی کسریٰ ) کو قتل کر دیا ہے ، وہ لوگ گئے اور اس بارے میں اس گورنر کو بتایا ، تو اس نے کہا : تم لوگ اس رات کا حساب لگاؤ کہ وہ کون سی رات تھی ؟ اس نے یہ بھی کہا : کہ تم لوگ بتاؤ کہ تم نے ان کو کیسا پایا ؟ تو ان لوگوں نے بتایا : کہ ہم نے ان سے زیادہ ہیبت ناک ( یعنی بارعب ) کوئی بادشاہ نہیں دیکھا ، وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور انہیں کسی سے کوئی خوف نہیں ہوتا ، وہ عام کی حالت میں رہتے ہیں ، ان کی حفاظت نہیں کی جاتی ، لیکن ان کے پاس آواز بھی بلند نہیں کی جاتی ، حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آ گئی کہ اُس رات کسریٰ قتل ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13896

Majma al-Zawaid #13896

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أُخْرِجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمْ: أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي، فَقُلْتُ: لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي، فَخَرَجْتُ مَعَ تُرْجُمَانِهِ حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرَانِ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ فَقُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا وَأَشَدَّهُ عَيْشًا، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا وَلَا بِأَكْثَرِنَا مَالًا، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ، يَأْمُرُنَا بِأَشْيَاءَ لَا نَعْرِفُ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا، فَشَنِفْنَا لَهُ وَكَذَّبْنَاهُ وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا فَقَالُوا: نَحْنُ نُصَدِّقُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَّبِعُكَ وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقَاتَلْنَاهُ، فَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِيَ مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ حَتَّى جَاءَكُمْ حَتَّى يُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَدَقَ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا فِتْيَانٌ فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ، وَلَمْ يُشَارِرْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ، فَهُمْ لَمْ يَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا وَلَا أَشَدَّ قُوَّةً مِنَّا، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا أَنْكَرَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Alqama ibn Waqqas reports that Amr ibn al-As (radiya Allahu anhu) commanded a Muslim force that encamped at Alexandria. A chief of the enemy asked for a man to speak with him, and Amr declared none should go but himself. With the interpreter, two pulpits were set. Asked who they were, Amr answered that they were Arabs of thorn and acacia, neighbours of the House of Allah, the narrowest in land and hardest in life, eating carrion and blood, raiding one another in the worst existence men live. Then arose among them a man neither greatest in honour nor richest in wealth, claiming to be Allah's messenger, commanding unknown things and forbidding what they and their fathers practised. They repelled, denied, and rejected him until others believed, affirmed, followed him, and fought his fighters alongside him. He left to them, they fought him and were overcome, then he turned to the neighbouring Arabs and overcame them. Amr warned that if the Arabs behind him knew the ease of life his hearers enjoyed, all would come to share it. The chief laughed and affirmed that the Messenger of Allah ﷺ had spoken truly, for their own messengers had brought the like and they held to it until youths arose acting by caprice and abandoning the prophets' command. He counselled that so long as they held their Prophet's command none who fought them would but be beaten and none who opposed them but be overcome, whereas if they did as his people had done, abandoning their Prophet and following caprice, they would be left to themselves, for they were neither more numerous nor stronger. Amr remarked he had never spoken with a man of sounder mind. > **"Your messenger has spoken truly; our messengers brought the like of what your messenger brought. If you hold to your Prophet's command, none who fights you will fail to be beaten by you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا گیا ، میں ان لوگوں کا امیر تھا ، ہم نے اسکندریہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو دشمن کے ایک بڑے فرد نے یہ کہا : کسی شخص کو میرے پاس بھیجو تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات کرے ( حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) تو میں نے کہا : میرے علاوہ اور کوئی اس کی طرف نہیں جائے گا ، تو میں اس کے قاصد کے ہمراہ نکلا ، یہاں تک کہ ہمارے لئے دو منبر رکھے گئے ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہم عرب ہیں ، ہم کانٹوں اور پتوں میں رہنے والے لوگ ہیں ، ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں ، ہم روئے زمین پر سب سے زیادہ تنگی کا شکار لوگ تھے ، اور ہماری زندگی سب سے زیادہ مشکل تھی ، ہم مردار اور خون کھا لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جایا کرتے تھے ، ہم اس سب سے برے طریقے سے زندہ رہے تھے جس کے ساتھ لوگ رہ سکتے ہیں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا ، جو نہ تو معاشرتی طور پر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک تھے اور نہ ہی سب سے زیادہ مال دار تھے ، انہوں نے کہا : میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، انہوں نے ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیا ، جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ایسی چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا تھے ، اور ہمارے آباؤ اجداد ان پر عمل پیرا تھے ، تو ہم نے ان کی مخالفت کی ، ان کی تکذیب کی ، ان کی بات کو مسترد کیا ۔ یہاں تک کہ ہمارے علاوہ ایک اور قوم ان کے پاس آئی اور اس قوم کے لوگوں نے کہا : کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کی پیروی کرتے ہیں ، جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا ، ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، تو وہ صاحب ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، پھر ہم ان کے پیچھے گئے ، ہم نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، تو وہ ہم پر غالب آ گئے اور پھر انہوں نے عربوں کے دیگر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ ان پر بھی غالب آ گئے ، اگر میرے پیچھے موجود عرب لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی خوشحال زندگی گزار رہے ہو ، تو وہ سب لوگ تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم لوگ جس خوشحال زندگی کو بسر کر رہے ہو ، وہ اس میں تمہارے حصے دار بن جائیں گے ۔ تو دشمن کا امیر ہنس پڑا اور بولا : بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے سچ کہا ہے ، ہمارے پاس بھی رسول اسی کی مانند تعلیمات لے کے آئے تھے ، جو تمہارے رسول لے کے آئے ہیں ، اور ہمارے بڑے ان تعلیمات پر عمل پیرا رہے ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان کچھ لوگ آئے ، جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے حکم کو ترک کر دیا ، جب تک تم لوگ اپنے نبی کے حکم پر عمل پیرا رہو گے ، جو بھی تمہارے مقابلے میں آئے گا ، تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو بھی تمہارے سامنے آئے گا ، تم اس پر غلبہ پا لو گے اور جب تم لوگ اس طرح کے کام کرو گے ، جس طرح کے ہم نے کیے اور تم لوگ اپنے نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور اس کی مانند عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا جو اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرتے تھے ، تو پھر تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ تم تعداد میں ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اور قوت میں ہم سے زیادہ مضبوط نہیں ہو ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اُس سے زیادہ سمجھ دار کسی شخص سے بات نہیں کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ راوی ثقہ ہے ۔

13897

Majma al-Zawaid #13897

وَعَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ: «قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ نَصَارَى نَجْرَانَ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ، وَالْأَرْبَعَةُ وَالْعِشْرُونَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَيْهِمْ يَئُولُ أَمْرُهُمْ، الْعَاقِبُ: أَمِيرٌ لِلْقَوْمِ وَذُو رَأْيِهِمْ وَصَاحِبُ مَشُورَتِهِمْ وَالَّذِي لَا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ وَأَمْرِهِ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الْمَسِيحِ، وَالسَّيِّدُ: عَالِمُهُمْ وَصَاحِبُ رَحْلِهِمْ وَمُجْتَمَعِهِمْ، وَأَبُو حَارِثَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، أُسْقُفُهُمْ وَحَبْرُهُمْ وَإِمَامُهُمْ وَصَاحِبُ مُدَارَسَتِهِمْ، وَكَانَ أَبُو حَارِثَةَ قَدْ شَرُفَ فِيهِمْ حَتَّى حَسُنَ عِلْمُهُ فِي دِينِهِمْ، وَكَانَتْ مُلُوكُ النَّصْرَانِيَّةِ قَدْ سَرَقُوهُ وَقَتَلُوهُ وَبَنَوْا لَهُ الْكَنَائِسَ وَبَسَطُوا عَلَيْهِ الْكَرَامَاتِ لِمَا يَبْلُغُهُمْ مِنَ اجْتِهَادِهِ فِي دِينِهِمْ، فَلَمَّا وَجَّهُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نَجْرَانَ، جَلَسَ أَبُو حَارِثَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ مُوَجَّهًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِلَى جَنْبِهِ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ: كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ يُسَائِلُهُ إِذْ عَثَرَتْ بَغْلَةُ أَبِي حَارِثَةَ فَقَالَ كُرْزٌ: تَعِسَ الْأَبْعَدُ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ تَعِسْتَ، قَالَ: وَلِمَ يَا أَخِ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ، قَالَ لَهُ كُرْزٌ: مَا يَمْنَعُكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ هَذَا؟ قَالَ: مَا صَنَعَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ، شَرَّفُونَا وَأَكْرَمُونَا وَقَدْ أَبَوْا إِلَّا خِلَافَهُ، وَلَوْ قَدْ فَعَلْتُ نَزَعُوا مِنَّا كُلَّ مَا تَرَى، وَأَضْمَرَ عَلَيْهَا أَخُوهُ كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ، يَعْنِي: أَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kurz ibn Alqama reports the arrival of the Christian delegation of Najran before the Messenger of Allah ﷺ, twenty-four of their nobles, among whom three directed their affairs: al-Aqib, their commander, counsellor, and man of judgment named Abd al-Masih, whose view and command they never left; al-Sayyid, their scholar and organizer of their caravan and assembly; and Abu Haritha ibn Alqama of Bakr ibn Wail, their bishop, learned scholar, imam, and head of their study. Abu Haritha had risen so high in knowledge that Christian kings honoured him, accepted his word, built him churches, and lavished distinctions for his devotion. Setting out from Najran, Abu Haritha rode his mule with his brother Kurz beside him questioning him, until the mule stumbled and Kurz cried ruin upon the distant one, meaning the Messenger of Allah ﷺ. Abu Haritha retorted ruin upon Kurz himself, and when asked why, swore by Allah that this was the awaited prophet. Asked what withheld him knowing this, he answered that their people had honoured and exalted them and would accept nothing but opposition, and would strip away all they saw if he acted. His brother Kurz kept the matter to himself, meaning he later embraced Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران کے عیسائیوں کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وفد میں ان کے چوبیس سرکردہ افراد تھے ، اور ان چوبیس افراد میں سے تین افراد ایسے تھے ، جن کی طرف ان لوگوں کے معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا ، ان میں سے ایک ’’ عاقب ‘‘ نام کا شخص تھا ، جو ان لوگوں کا امیر تھا اور ان کا تجربہ کار آدمی اور مشورہ دینے والا فرد تھا ، وہ لوگ اس کی رائے اور اس کے حکم سے عدول نہیں کرتے تھے ، اس کا نام عبدالمسیح تھا ، ایک شخص کا نام ’’ سید ‘‘ تھا ، وہ ان کا عالم تھا اور ان کے امور کا نگران تھا ، ایک شخص ’’ ابوحارثہ بن علقمہ ‘‘ تھا ، جو بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا ، وہ ان کا پادری ان کا بڑا عالم اور ان کا پیشوا اور ان کے درس و تدریس کے امور کا نگران تھا ، ابوحارثہ کو ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل تھی ، ان لوگوں کے دین کے بارے میں وہ بھرپور عالم تھا ، عیسائیوں کے بادشاہ اسے عزت دیتے تھے ، اس کی بات کو قبول کرتے تھے ، ان لوگوں نے اس کے لئے عبادت خانے تعمیر کیے تھے ، اور دین میں اس کی بھرپور کوشش کی وجہ سے اسے بہت سے اعزاز و احترام سے نوازا تھا ۔ جب یہ لوگ نجران سے چل کے نبی اکرم ﷺ کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوئے ، تو ابوحارثہ نبی اکرم ﷺ کی طرف جانے کے لئے اپنے خچر پر بیٹھا ، اس کے پہلو میں اس کا بھائی تھا ، جس کا نام کرز بن علقمہ تھا ، وہ اس سے بات چیت کر رہا تھا ، اسی دوران ابوحارثہ کے خچر کو ٹھوکر لگی تو کرز نے کہا : دور کا شخص ، برباد ہو جائے ، اس کی مراد نبی اکرم ﷺ تھے ، تو ابوحارثہ نے کہا : بلکہ تم برباد ہو جاؤ ! کرز نے دریافت کیا : وہ کیوں اے بھائی جان ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے ، کرز نے اس سے دریافت کیا : جب تم یہ بات جانتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے رکاوٹ کیا ہے ؟ اس نے کہا : رکاوٹ یہ ہے کہ جو ان ( عیسائی ) لوگوں نے ہمارے ساتھ سلوک کیا ہوا ہے ، ان لوگوں نے ہمیں عزت دی ہے ، یہ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے کہ ہم اُن ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی پیروی کریں ، اگر میں ایسا کر لیتا ہوں ، تو وہ مجھ سے ہر وہ چیز لے لیں گے ، جو تم دیکھ رہے ہو ۔ تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ نے اس حوالے سے یہ بات پوشیدہ رکھی ، راوی کہتے ہیں : یعنی انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بریدہ بن سفیان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13898

Majma al-Zawaid #13898

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ كَالْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِي نَفَرٌ فِي قَرْيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَكُنْتُ حَدَّثْتُهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ وَشِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُغِيثَهُمْ بِهِ فَعَلْتَ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ - أَرَاهُ عَلِيًّا - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا فِي حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: "" لَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ ""، قُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْطَى الرَّجُلَ وَقَالَ: "" اعْدِلْ عَلَيْهِمْ وَأَغِثْهُمْ بِهَا ""، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ وَدَنَا إِلَى الْجِدَارِ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، قُلْتُ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، أَلَا تَقْضِينِي حَقِّي؟ فَوَاللَّهِ مَا عُلِمْتُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا مُطْلٌ، وَلَقَدْ كَانَ بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَسْمَعُ وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ، فَقَالَ: "" يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ اتِّبَاعِهِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ، فَأَعْطِهِ حَقَّهُ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ ""، قَالَ زَيْدٌ: فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَأَعْطَانِي حَقِّي وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ؟ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ، قَالَ: وَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا [مَنْ أَنْتَ]، قُلْتُ: أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ، قَالَ: الْحَبْرُ؟ قُلْتُ: الْحَبْرُ، قَالَ: فَمَا دَعَاكَ إِلَى أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فَعَلْتَ، وَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ؟ قُلْتُ: يَا عُمَرُ، لَمْ يَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، وَقَدِ اخْتَبَرْتُهُمَا، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي - فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا - صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ؟ قُلْتُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ زَيْدٌ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، رَحِمَ اللَّهُ زَيْدًا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam (radiya Allahu anhu) reports that when Allah willed the guidance of Zayd ibn Sana, Zayd declared he had recognized every mark of prophethood in the face of Muhammad ﷺ upon looking at him except two yet untested: that his forbearance outran his anger, and that severity of provocation only increased his forbearance. He kept company to test this. One day the Messenger of Allah ﷺ emerged from the apartments with Ali ibn Abi Talib (radiya Allahu anhu), when a bedouin-like rider complained that his people of Banu Fulan had embraced Islam on promise of ample provision, yet drought and famine had struck, and he feared they would leave Islam from greed as they had entered it from greed, asking relief be sent. The man beside the Prophet ﷺ, thought to be Ali, answered nothing remained. Zayd then proposed selling specified dates from a named orchard for a specified term, and the Prophet ﷺ corrected him to specify dates and term without naming the orchard of Banu Fulan. Zayd agreed, paid eighty mithqal of gold from his purse, and the Prophet ﷺ gave it to the man bidding him deal justly and relieve them. Two or three days before maturity, the Prophet ﷺ came with Abu Bakr, Umar, Uthman (radiya Allahu anhum) and others, prayed over a funeral, and approached a wall to sit, when Zayd seized his shirt and cloak with a harsh face, demanded his right, and charged the Banu Abd al-Muttalib with delay, citing experience of their company. Umar's eyes spun like a revolving orb as he glared and threatened the enemy of Allah for such speech and conduct, swearing he would strike off his head but for restraint. The Prophet ﷺ looked on calmly and replied that both needed different counsel: Umar should bid him excellent payment and bid Zayd excellent exaction, then take him, pay his right, and add twenty sa of dates for having frightened him. Umar did so, and when Zayd asked the reason for the addition, Umar cited the Prophet's ﷺ command. Asked whether Umar knew him, Zayd named himself, Umar recognized the learned scholar, and asked what moved him to such conduct. Zayd explained his two untested signs were now verified, testified his contentment with Allah as Lord, Islam as religion, and Muhammad as prophet, and dedicated half his abundant wealth as charity to the nation of Muhammad ﷺ, amended to part of them at Umar's remark that he could not encompass them. Both returned, Zayd testified there is no god but Allah and Muhammad is His servant and messenger, believed, pledged allegiance, witnessed many campaigns, and fell facing the enemy at Tabuk. > **"O Umar, he and I needed other than this: bid me excellent payment and bid him excellent exaction. Take him, O Umar, pay him his right, and add twenty sa of dates in place of having frightened him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا ، تو زید بن سعنہ نے کہا : نبوت کی علامات سے متعلق جو بھی چیز ہے ، وہ مجھے حضرت محمد ﷺ کے چہرے میں پتہ چل گئی ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تھا ، البتہ دو چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان کے حوالے سے میں انہیں آزما لیتا ہوں ، ایک یہ کہ اُن کی بردباری ، ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی اور ان کے خلاف جتنی شدت کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، وہ اتنے ہی زیادہ بردبار ہوں گے ، تو میں ان کے ساتھ رہنے لگا ، تاکہ ان کے ساتھ گھل مل کے سختی کے مقابلے میں ، اُن کی بردباری کا جائزہ لوں ، زید بن سعنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ حجروں سے تشریف لائے ، آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ایک شخص سواری پر سوار ہو کے آپ کے پاس آیا ، وہ بدوی لگ رہا تھا ، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! بنوفلاں کے علاقے میں ، میرے ساتھی کچھ لوگ ہیں ، وہ اسلام قبول کر چکے ہیں ، وہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے ، تو ان کے پاس بہت سا رزق آئے گا ، لیکن انہیں تو قحط سالی اور مصیبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور بارش ہو نہیں رہی ہیں ، یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لالچ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوئے تھے ، اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے نکل جائیں گے ، تو اگر آپ مناسب سمجھیں کہ ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں ، جس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی مدد کر دیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف دیکھا ، میرا خیال ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کوئی بھی چیز باقی نہیں ہے ، زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا ، میں نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ متعین مدت کے بعد بنو فلاں کے باغ میں لگنے والی متعین کھجوروں کے عوض میں میرے ساتھ سودا کر لیں ، اور اس کی مدت اتنی اتنی ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اے یہودی ! میں تمہارے ساتھ کھجوروں کا سودا کروں گا ، جو متعین ہوں گی اور اس کی مدت متعین ہو گی ، جو فلاں مدت ہو گی ، لیکن تم اس میں کسی مخصوص باغ کو متعین نہیں کر سکتے ، میں نے کہا : ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ یہ سودا طے کیا ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا اور اس میں سے متعین کھجوروں کے عوض میں متعین مدت کے معاہدے کے ساتھ سونے کے اسّی مثقال نبی اکرم ﷺ کو دیدیے ، نبی اکرم ﷺ نے وہ مثقال ان صاحب کو دیے اور فرمایا : تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کرو ۔ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اس متعین مدت کے ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو ایک دن نبی اکرم ﷺ باہر نکلے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ دیگر اصحاب تھے ، آپ نے نماز جنازہ ادا کی ، پھر آپ ایک دیوار کی طرف بڑھ گئے ، تاکہ اس کے پاس بیٹھ جائیں ، میں آپ کے پاس آیا ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان اور آپ کی چادر کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ میرا حق مجھے کیوں نہیں ادا کر رہے ہیں ؟ آپ لوگوں ، بنو عبدالمطلب کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کی آنکھیں اُبل رہی تھیں ، انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا : اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کو یہ بات کہہ رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں اور ان کے ساتھ یہ کر رہے ہو ، جو میں دیکھ رہا ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کے ضائع ہونے سے میں بچ رہا ہوں تو میں نے اپنی تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، نبی اکرم ﷺ سکون اور نرمی کے ساتھ میری طرف دیکھتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں اور یہ ، ہم اس کے علاوہ صورت حال کے بارے میں زیادہ محتاج ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ تم مجھ سے یہ کہو : کہ آپ اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ، اور تم اس کو یہ کہو : کہ یہ اچھے طریقے سے وصولی کرے ، اور اے عمر ! تم اسے لے جاؤ اسے اس کا حق دے دو ، اور اسے کھجوروں کے بیس صاع زیادہ دینا ، جو اُس چیز کا بدلہ ہوں گے ، جو تم نے اسے دھمکی دی ہے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے ، انہوں نے میرا حق مجھے ادا کیا اور کھجوروں کے مزید بیس صاع مجھے دیے ، تو میں نے کہا : اے عمر ! یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے ؟ انہوں بتایا کہ اللہ کے رسول نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں دھمکی دی تھی ، اس کی جگہ میں تمہیں مزید ادائیگی کروں ، تو حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمر ! کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ! تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں زید بن سعنہ ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! یہودیوں کا بڑا عالم ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا ؟ اور جو بات کہی تھی ، اس طرح کی بات کیوں کی ؟ تو میں نے کہا : اے عمر ! نبوت کی علامات سے متعلق ہر چیز ، میں اللہ کے رسول کے چہرے میں پہچان چکا تھا ، جب میں نے انہیں دیکھا تھا ، لیکن دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں ، جن کے بارے میں ، میں اُن کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتا تھا ، وہ یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی ، اور ان کے سامنے جتنی زیادہ سختی کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، اُن کی بردباری اتنی ہی زیادہ ہو گی ، تو اب میں نے ان دونوں چیزوں کو آزما لیا ہے ، اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اے عمر ! کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں ، اور میں آب کو اس بات پر بھی گواہ بنا رہا ہوں کہ میرا نصف مال حضرت محمد ﷺ کی امت کے لئے صدقہ ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اس ( مال ) کا کچھ حصہ کر لو ، تم اس کی گنجائش نہیں رکھو گے ، میں نے کہا : یا پھر اس کا کچھ حصہ ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئے اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے ، پھر وہ غزوہ تبوک کے موقع پر دشمن کی طرف رخ کر کے پیٹھ پھیرے بغیر شہید ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت زید رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔