وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ كَالْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِي نَفَرٌ فِي قَرْيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَكُنْتُ حَدَّثْتُهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ وَشِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُغِيثَهُمْ بِهِ فَعَلْتَ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ - أَرَاهُ عَلِيًّا - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا فِي حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: "" لَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ ""، قُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْطَى الرَّجُلَ وَقَالَ: "" اعْدِلْ عَلَيْهِمْ وَأَغِثْهُمْ بِهَا ""، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ وَدَنَا إِلَى الْجِدَارِ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، قُلْتُ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، أَلَا تَقْضِينِي حَقِّي؟ فَوَاللَّهِ مَا عُلِمْتُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا مُطْلٌ، وَلَقَدْ كَانَ بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَسْمَعُ وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ، فَقَالَ: "" يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ اتِّبَاعِهِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ، فَأَعْطِهِ حَقَّهُ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ ""، قَالَ زَيْدٌ: فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَأَعْطَانِي حَقِّي وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ؟ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ، قَالَ: وَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا [مَنْ أَنْتَ]، قُلْتُ: أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ، قَالَ: الْحَبْرُ؟ قُلْتُ: الْحَبْرُ، قَالَ: فَمَا دَعَاكَ إِلَى أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فَعَلْتَ، وَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ؟ قُلْتُ: يَا عُمَرُ، لَمْ يَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ: يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، وَقَدِ اخْتَبَرْتُهُمَا، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي - فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا - صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ؟ قُلْتُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ زَيْدٌ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، رَحِمَ اللَّهُ زَيْدًا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Salam (radiya Allahu anhu) reports that when Allah willed the guidance of Zayd ibn Sana, Zayd declared he had recognized every mark of prophethood in the face of Muhammad ﷺ upon looking at him except two yet untested: that his forbearance outran his anger, and that severity of provocation only increased his forbearance. He kept company to test this. One day the Messenger of Allah ﷺ emerged from the apartments with Ali ibn Abi Talib (radiya Allahu anhu), when a bedouin-like rider complained that his people of Banu Fulan had embraced Islam on promise of ample provision, yet drought and famine had struck, and he feared they would leave Islam from greed as they had entered it from greed, asking relief be sent. The man beside the Prophet ﷺ, thought to be Ali, answered nothing remained. Zayd then proposed selling specified dates from a named orchard for a specified term, and the Prophet ﷺ corrected him to specify dates and term without naming the orchard of Banu Fulan. Zayd agreed, paid eighty mithqal of gold from his purse, and the Prophet ﷺ gave it to the man bidding him deal justly and relieve them. Two or three days before maturity, the Prophet ﷺ came with Abu Bakr, Umar, Uthman (radiya Allahu anhum) and others, prayed over a funeral, and approached a wall to sit, when Zayd seized his shirt and cloak with a harsh face, demanded his right, and charged the Banu Abd al-Muttalib with delay, citing experience of their company. Umar's eyes spun like a revolving orb as he glared and threatened the enemy of Allah for such speech and conduct, swearing he would strike off his head but for restraint. The Prophet ﷺ looked on calmly and replied that both needed different counsel: Umar should bid him excellent payment and bid Zayd excellent exaction, then take him, pay his right, and add twenty sa of dates for having frightened him. Umar did so, and when Zayd asked the reason for the addition, Umar cited the Prophet's ﷺ command. Asked whether Umar knew him, Zayd named himself, Umar recognized the learned scholar, and asked what moved him to such conduct. Zayd explained his two untested signs were now verified, testified his contentment with Allah as Lord, Islam as religion, and Muhammad as prophet, and dedicated half his abundant wealth as charity to the nation of Muhammad ﷺ, amended to part of them at Umar's remark that he could not encompass them. Both returned, Zayd testified there is no god but Allah and Muhammad is His servant and messenger, believed, pledged allegiance, witnessed many campaigns, and fell facing the enemy at Tabuk. > **"O Umar, he and I needed other than this: bid me excellent payment and bid him excellent exaction. Take him, O Umar, pay him his right, and add twenty sa of dates in place of having frightened him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا ، تو زید بن سعنہ نے کہا : نبوت کی علامات سے متعلق جو بھی چیز ہے ، وہ مجھے حضرت محمد ﷺ کے چہرے میں پتہ چل گئی ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تھا ، البتہ دو چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان کے حوالے سے میں انہیں آزما لیتا ہوں ، ایک یہ کہ اُن کی بردباری ، ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی اور ان کے خلاف جتنی شدت کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، وہ اتنے ہی زیادہ بردبار ہوں گے ، تو میں ان کے ساتھ رہنے لگا ، تاکہ ان کے ساتھ گھل مل کے سختی کے مقابلے میں ، اُن کی بردباری کا جائزہ لوں ، زید بن سعنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ حجروں سے تشریف لائے ، آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ایک شخص سواری پر سوار ہو کے آپ کے پاس آیا ، وہ بدوی لگ رہا تھا ، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! بنوفلاں کے علاقے میں ، میرے ساتھی کچھ لوگ ہیں ، وہ اسلام قبول کر چکے ہیں ، وہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے ، تو ان کے پاس بہت سا رزق آئے گا ، لیکن انہیں تو قحط سالی اور مصیبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور بارش ہو نہیں رہی ہیں ، یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لالچ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوئے تھے ، اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے نکل جائیں گے ، تو اگر آپ مناسب سمجھیں کہ ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں ، جس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی مدد کر دیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف دیکھا ، میرا خیال ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کوئی بھی چیز باقی نہیں ہے ، زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا ، میں نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ متعین مدت کے بعد بنو فلاں کے باغ میں لگنے والی متعین کھجوروں کے عوض میں میرے ساتھ سودا کر لیں ، اور اس کی مدت اتنی اتنی ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اے یہودی ! میں تمہارے ساتھ کھجوروں کا سودا کروں گا ، جو متعین ہوں گی اور اس کی مدت متعین ہو گی ، جو فلاں مدت ہو گی ، لیکن تم اس میں کسی مخصوص باغ کو متعین نہیں کر سکتے ، میں نے کہا : ٹھیک ہے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ یہ سودا طے کیا ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا اور اس میں سے متعین کھجوروں کے عوض میں متعین مدت کے معاہدے کے ساتھ سونے کے اسّی مثقال نبی اکرم ﷺ کو دیدیے ، نبی اکرم ﷺ نے وہ مثقال ان صاحب کو دیے اور فرمایا : تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کرو ۔ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اس متعین مدت کے ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو ایک دن نبی اکرم ﷺ باہر نکلے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ دیگر اصحاب تھے ، آپ نے نماز جنازہ ادا کی ، پھر آپ ایک دیوار کی طرف بڑھ گئے ، تاکہ اس کے پاس بیٹھ جائیں ، میں آپ کے پاس آیا ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان اور آپ کی چادر کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ میرا حق مجھے کیوں نہیں ادا کر رہے ہیں ؟ آپ لوگوں ، بنو عبدالمطلب کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کی آنکھیں اُبل رہی تھیں ، انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا : اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کو یہ بات کہہ رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں اور ان کے ساتھ یہ کر رہے ہو ، جو میں دیکھ رہا ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کے ضائع ہونے سے میں بچ رہا ہوں تو میں نے اپنی تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، نبی اکرم ﷺ سکون اور نرمی کے ساتھ میری طرف دیکھتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں اور یہ ، ہم اس کے علاوہ صورت حال کے بارے میں زیادہ محتاج ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ تم مجھ سے یہ کہو : کہ آپ اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ، اور تم اس کو یہ کہو : کہ یہ اچھے طریقے سے وصولی کرے ، اور اے عمر ! تم اسے لے جاؤ اسے اس کا حق دے دو ، اور اسے کھجوروں کے بیس صاع زیادہ دینا ، جو اُس چیز کا بدلہ ہوں گے ، جو تم نے اسے دھمکی دی ہے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے ، انہوں نے میرا حق مجھے ادا کیا اور کھجوروں کے مزید بیس صاع مجھے دیے ، تو میں نے کہا : اے عمر ! یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے ؟ انہوں بتایا کہ اللہ کے رسول نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں دھمکی دی تھی ، اس کی جگہ میں تمہیں مزید ادائیگی کروں ، تو حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمر ! کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ! تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں زید بن سعنہ ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ! یہودیوں کا بڑا عالم ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا ؟ اور جو بات کہی تھی ، اس طرح کی بات کیوں کی ؟ تو میں نے کہا : اے عمر ! نبوت کی علامات سے متعلق ہر چیز ، میں اللہ کے رسول کے چہرے میں پہچان چکا تھا ، جب میں نے انہیں دیکھا تھا ، لیکن دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں ، جن کے بارے میں ، میں اُن کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتا تھا ، وہ یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی ، اور ان کے سامنے جتنی زیادہ سختی کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، اُن کی بردباری اتنی ہی زیادہ ہو گی ، تو اب میں نے ان دونوں چیزوں کو آزما لیا ہے ، اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اے عمر ! کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں ، اور میں آب کو اس بات پر بھی گواہ بنا رہا ہوں کہ میرا نصف مال حضرت محمد ﷺ کی امت کے لئے صدقہ ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اس ( مال ) کا کچھ حصہ کر لو ، تم اس کی گنجائش نہیں رکھو گے ، میں نے کہا : یا پھر اس کا کچھ حصہ ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئے اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے ، پھر وہ غزوہ تبوک کے موقع پر دشمن کی طرف رخ کر کے پیٹھ پھیرے بغیر شہید ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت زید رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔