Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 38 · Chapter 1

Book of Signs of Prophethood

Hadith 13819–13858

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13819

Majma al-Zawaid #13819

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ} [الشعراء: 219] قَالَ: مِنْ صُلْبِ نَبِيٍّ إِلَى نَبِيٍّ حَتَّى صِرْتَ نَبِيًّا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) explained the verse about turning among those who prostrate as describing the Prophet's ﷺ passage through the loins of prophets, from one prophet to another, until he himself became a prophet. > **"From the loins of a prophet to a prophet, until you became a prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور سجدہ کرنے والوں میں تمہارا منتقل ہونا ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک نبی کی پشت سے ، دوسرے نبی کی طرف منتقل ہوتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نبی بن گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13820

Majma al-Zawaid #13820

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، صَحَّحَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali (radiya Allahu anhu) reports that the Prophet ﷺ affirmed that his lineage came through lawful marriage at every stage from Adam until his father and mother bore him, with no link of fornication. > **"I came through marriage and did not come through fornication, from Adam until my father and mother bore me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری پیدائش نکاح کے نتیجے میں ہوئی ہے ، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک میں کسی زنا کے نتیجے میں ( اگلی پشت میں منتقل ) نہیں ہوا ، یہاں تک کہ میرے ماں باپ کے ہاں میری پیدائش ہو گئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہے ، امام حاکم نے اس کی نقل کردہ حدیث کو مستدرک میں صحیح قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13821

Majma al-Zawaid #13821

وَعَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا وَلَّدَنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ، وَمَا وَلَّدَنِي إِلَّا نِكَاحٌ كَنِكَاحِ الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، وَلَمْ أَعْرِفِ الْمَدِينِيَّ وَلَا شَيْخَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that nothing of the fornication of the days of ignorance entered his birth, and that he was born only through marriage resembling the marriage of Islam. > **"Nothing of the fornication of Jahiliyya produced me; nothing produced me except marriage, like the marriage of Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ز مانہ جاہلیت کے زنا سے متعلق کوئی چیز میری پیدائش میں حصہ نہیں بنی ، میں صرف نکاح کے نتیجے میں پیدا ہوا ہوں ، جو اسلام کے نکاح کی مانند ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مدینی کے حوالے سے حویرث سے نقل کی ہے ، اور میں نہ مدینی سے واقف ہوں اور نہ اس کے استاد سے واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13822

Majma al-Zawaid #13822

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا قِسْمًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {أَصْحَابُ الْيَمِينِ} [الواقعة: 27] {وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ} [الواقعة: 41] فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ - وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ - وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ} [الواقعة: 8 - 10] فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهَا قَبِيلَةً فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {شُعُوبًا وَقَبَائِلَ} [الحجرات: 13] فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَغسان بْنُ رِبْعِيٍّ (*) وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ described Allah dividing creation into two portions and placing him in the better one, then into houses, tribes, and families, always in the best, until he became the most God-fearing of the children of Adam and the noblest before Allah, without boast, purified with his household. > **"Allah divided creation into two portions and placed me in the better portion; then He made them houses and placed me in the best house, then tribes and families, and placed me in the best house. I am the most God-fearing of the children of Adam and the noblest of them before Allah, and this is no boast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان دونوں میں سے زیادہ بہتر حصے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ دائیں طرف والے لوگ ‘‘ ’’ اور بائیں طرف والے لوگ ‘‘ تو میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے ہوں اور میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں حصوں کو مختلف گھروں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھر میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ دائیں طرف والے لوگ ، دائیں طرف والے لوگ کیا ہیں اور بائیں طرف والے لوگ ، بائیں طرف والے لوگ کیا ہیں ، اور سبقت والے لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ۔‘‘ تو میں سبقت لے جانے والے بہتر افراد میں سے ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف گھروں کو مختلف قبائل کی شکل میں تقسیم کیا تو اس نے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ گروہ اور قبیلے .......‘‘۔ تو میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی سے دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور ایک راوی عبایہ بن ربعی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

13823

Majma al-Zawaid #13823

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِنَّا لَقُعُودٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ النَّتَنِ. فَانْطَلَقَتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ: "" مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَسَكَنَهَا، وَأَسْكَنَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، [وَخَلَقَ الْأَرْضَ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَأَسْكَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ] وَخَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ، وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَلِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَلِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ». وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports sitting in the courtyard of the Messenger of Allah ﷺ when a remark likening Muhammad ﷺ among Banu Hashim to sweet basil amid filth reached him. The Prophet ﷺ came with anger visible on his face and recounted the divine selections from heavens, earth, mankind, Arabs, Mudar, Quraysh, and Banu Hashim, culminating in himself, passing from best to best. > **"Allah created the heavens seven and chose the highest; He created mankind and chose the children of Adam, then the Arabs, then Mudar, then Quraysh, then Banu Hashim, then chose me from Banu Hashim. I am from the best to the best. Whoever loves the Arabs loves them through love of me, and whoever hates the Arabs hates them through hatred of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک خاتون وہاں سے گزری ، حاضرین میں سے کسی نے کہا : یہ حضرت محمد ﷺ کی صاحبزادی ہیں ، تو حاضرین میں سے ایک شخص بولا : بنو ہاشم میں حضرت محمد ﷺ کی مثال اس طرح ہے ، جس طرح ریحانہ ( نامی پھول ) گندگی کے درمیان میں موجود ہو ، وہ خاتون گئیں اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ ﷺ کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان اقوال کا کیا معاملہ ہے ؟ جو کچھ لوگوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچے ہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور ان میں سے سب سے اوپر والے کو اختیار کیا ، پھر اس نے ان آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا ، وہاں رہائش دی ، اس نے سات زمینیں پیدا کیں اور اس نے سب سے اوپر والی ( زمین ) کو منتخب کر کے ان میں جس مخلوق کو چاہا ، وہاں رہنے دیا ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا اور تمام مخلوق میں اولاد آدم کو منتخب کیا اور اولاد آدم میں عربوں کو منتخب کیا ، اور عربوں میں مضر قبیلے کے لوگوں کو منتخب کیا اور مضر میں قریش کو منتخب کیا اور قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا ، تو میں بہترین لوگوں سے بہترین لوگوں کی طرف سے منتقل ہوتا رہا ، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا ، وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ، ان کے ساتھ بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی حماد بن واقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13824

Majma al-Zawaid #13824

وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «أَتَى نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: إِنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ مَثَلَ نَخْلَةٌ نَبَتَتْ فِي الْكِبَا - قَالَ حُسَيْنٌ: الْكِبَا: الْكُنَاسَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟ "". قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "". قَالَ: فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا "" إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، فَأَنَا خَيْرُهُمْ بَيْتًا وَخَيْرُهُمْ نَفْسًا». - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdul Muttalib ibn Rabia ibn al-Harith reports that some Ansar complained that a man among his people likened Muhammad ﷺ to a palm tree growing in dung. The Prophet ﷺ asked the people who he was, affirmed his lineage as Muhammad ibn Abdullah ibn Abdul Muttalib, and declared that Allah placed him in the better of two divisions, then the best tribe, then the best house. > **"Allah created His creation, then divided them into two groups and placed me in the better group; then made them tribes and placed me in the best tribe; then made them houses and placed me in the best house. So I am the best of them in house and the best of them in person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : ہم نے آپ کی قوم کے افراد کو باتیں کرتے ہوئے سنا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ کہا : حضرت محمد ﷺ کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے جو کوڑے میں اگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، راوی کہتے ہیں : ہم نے اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو اپنا نسب اس طرح بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ خبردار ! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اس نے اس مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان دونوں حصوں میں سے بہتر حصے میں رکھا ، پھر اس نے اس کو مختلف قبائل میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، پھر اس نے ان کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا ، تو مجھے ان میں سب سے بہتر گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے ، اُن سب میں بہتر ہوں ، اور ذاتی اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13825

Majma al-Zawaid #13825

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي مَزْبَلَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ، إِنْ صَحَّ عَنْهُ، فَإِنَّ فِيهِ ابْنَ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ a comparison of himself and his household to a palm tree growing in a dung heap. > **"My likeness and the likeness of my household is like a palm tree growing in a dung heap."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری اور میرے اہل بیت کی مثال ، کھجور کے اُس درخت کی مانند ہے جو کوڑے کی جگہ میں اُگ جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ منکر ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ، تو یہ مستند طور پر ان سے منقول ہو گا ، کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13826

Majma al-Zawaid #13826

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثَلُ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَهَذَا الظَّنُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr (radiya Allahu anhuma) reports a demeaning comparison uttered by Quraysh concerning the Prophet ﷺ. > **"The likeness of Muhammad is the likeness of a palm tree in a filthy hollow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے کہا : حضرت محمد ﷺ کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے ، جو گندی جگہ میں ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں یہی گمان ہے ۔

13827

Majma al-Zawaid #13827

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ ابْنٌ لِصَفِيَّةَ، عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ عَلَيْهِ وَصَاحَتْ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا: "" يَا عَمَّةُ، مَا يُبْكِيكِ؟ "". قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي. قَالَ: "" يَا عَمَّةُ، مَنْ تُوَفِّيَ لَهُ وَلَدٌ فِي الْإِسْلَامِ فَصَبَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ "". فَسَكَتَتْ. ثُمَّ خَرَجَتْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَقْبَلَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا صَفِيَّةُ، قَدْ سَمِعْتُ صُرَاخَكَ، إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. فَبَكَتْ فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُكْرِمُهَا وَيُحِبُّهَا فَقَالَ: "" يَا عَمَّةُ، أَتَبْكِينَ وَقَدْ قُلْتُ لَكِ مَا قُلْتُ؟ "". قَالَتْ: لَيْسَ ذَاكَ أَبْكَانِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَقْبَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ "". فَهَجَّرَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ؟ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي، فَإِنَّهَا مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "". فَقَالَ عُمَرُ: فَتَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْهُ سَبَبٌ وَنَسَبٌ. ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَرْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَإِذَا هُمْ يَتَفَاخَرُونَ وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْتُ: مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالُوا: إِنَّ الشَّجَرَةَ لِتَنْبُتَ فِي الْكِبَا. وَقَالَ: فَمَرَرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ "". فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟ "". قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" انْسُبُونِي "". قَالُوا: أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ: "" أَجَلْ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْتَذِلُونَ أَصْلِي؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَفْضَلُهُمْ أَصْلًا وَخَيْرُهُمْ مَوْضِعًا "". قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ قَالَتْ: قُومُوا فَخُذُوا السِّلَاحَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أُغْضِبَ. قَالَ: فَأَخَذُوا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى مِنْهُمْ إِلَّا الْحَدَقَ، حَتَّى أَحَاطُوا بِالنَّاسِ فَجَعَلُوهُمْ فِي مِثْلِ الْحَرَّةِ، حَتَّى تَضَايَقَتْ بِهِمْ أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ وَالسِّكَكِ، ثُمَّ قَامُوا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَأْمُرُنَا بِأَحَدٍ إِلَّا أَبَرْنَا عِتْرَتَهُ. فَلَمَّا رَأَى النَّفَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ذَلِكَ، قَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرُوا وَتَنَصَّلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" النَّاسُ دِثَارٌ وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ "". فَأَثْنَى عَلَيْهِمْ وَقَالَ خَيْرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that when a son of Safiyya, paternal aunt of the Messenger of Allah ﷺ, died, she wept and wailed. The Prophet ﷺ consoled her with the reward of a house in Paradise for one who loses a child in Islam and endures patiently. She fell silent, but Umar ibn al-Khattab (radiya Allahu anhu) met her and said her kinship to the Messenger would not avail her before Allah, so she wept again. The Prophet ﷺ, who honored and loved her, called Bilal (radiya Allahu anhu) to summon prayer, ascended the minbar, praised Allah, and then addressed later boasting by Quraysh about Jahiliyya, his own lineage, and the devotion of the Ansar who armed themselves around him until the Quraysh apologized. > **"What is the matter with people who claim my kinship will not benefit? Every tie and lineage is cut off on the Day of Resurrection except my tie and my lineage, for they remain joined in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی ہیں ، ان کا بیٹا فوت ہو گیا ، وہ اس پر رونے لگیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں ، تو نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ انہوں نے کہا : میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! جس کا اسلام میں بچہ فوت ہو جائے اور وہ صبر سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ تو وہ خاتون خاموش ہو گئیں ، پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے ہاں سے نکلیں ، ان کا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا ، تو انہوں نے کہا : اے صفیہ ! میں نے آپ کے رونے کی آواز سنی تھی ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی رشتہ داری آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں دے پائے گی ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے رونے کی آواز سنی ، تو نبی اکرم ﷺ ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور ان سے محبت بھی رکھتے تھے ، آپ نے فرمایا : اے پھوپھی جان ! میں نے آپ کو ایک بات بتائی ہے اور اس کے باوجود آپ رو رہی ہیں ؟ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وجہ سے نہیں رو رہی ہوں ، عمر بن خطاب کا مجھ سے سامنا ہوا ، تو اس نے کہا : اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی رشتہ داری ، اللہ کی بارگاہ میں ، آپ کے کسی کام نہیں آئے گی ، راوی کہتے ہیں ، تو آپ غصے میں آ گئے ، آپ نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کرو ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے جمع ہونے کا اعلان کیا ، نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا ، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں ملا رہے گا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم کلثوم کے ساتھ شادی کی تھی ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس دن یہ بات سنی تھی ، تو میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میرا بھی رشتہ قائم ہو جائے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے نکلا ، تو میرا گزر قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا ، وہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے اور زمانہ جاہلیت کے امور کا ذکر کر رہے تھے ، تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ہم میں سے ہیں ، انہوں نے کہا : بعض اوقات درخت کسی کوڑے میں بھی اگ جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! لوگوں کو جمع ہونے کے لئے کہو ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرا نسب بیان کرو ! لوگوں نے عرض کی : آپ حضرت محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! میں محمد بن عبداللہ ہوں ، اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ میری اصل کو ہلکا قرار دیتے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں اصل کے اعتبار سے ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ، اور مقام کے اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب انصار نے اس بارے میں سنا ، تو انہوں نے کہا : تم لوگ اٹھو اور ہتھیار اٹھا لو ! کیونکہ اللہ کے رسول کو غصہ دلایا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے ، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، ان کا ہجوم بہت زیادہ تھا ، انہوں نے لوگوں کو گھیر لیا اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مسجد کے دروازے اور گلیاں ان سے بھر گئے ، پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں جس شخص کے بارے میں حکم دیں گے ، ہم اس کی نسل فنا کر دیں گے ، جب قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئے اور آپ کے سامنے معذرت پیش کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی تعریف کی اور ان لوگوں کے بارے میں بھلائی کی بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13828

Majma al-Zawaid #13828

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ بَعَثَ جِبْرِيلَ فَقَسَّمَ النَّاسَ قِسْمَيْنِ، فَقَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمًا وَقَسَّمَ الْعَجَمَ قِسْمًا، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي الْعَرَبِ، ثُمَّ قَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمَيْنِ، فَقَسَّمَ الْيَمَنَ قِسْمًا وَقَسَّمَ مُضَرَ قِسْمًا وَقُرَيْشًا قِسْمًا، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي قُرَيْشٍ، ثُمَّ أَخْرَجَنِي مِنْ خَيْرِ مَنْ أَنَا مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ described Allah sending Jibril at creation to divide mankind into Arabs and non-Arabs, with Allah's choice in the Arabs, then dividing Arabs into Yemen, Mudar, and Quraysh, with Allah's choice in Quraysh, from whose best stock he was brought forth. > **"Allah sent Jibril and divided mankind into two portions, the Arabs and the non-Arabs, and Allah's choice was in the Arabs; then He divided the Arabs and Allah's choice was in Quraysh; then He brought me forth from the best of those to whom I belong."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ، تو اس نے جبرائیل کو بھیجا ، اس نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، اس نے عربوں کو ایک قسم بنایا اور عجمیوں کو ایک قسم بنایا ، اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری ( یا منتخب ہونا ) عربوں میں ہے ، پھر اس نے عربوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، یمن کو ایک قسم بنایا اور مضر کو ایک قسم بنایا ، اور قریش کو ایک قسم بنایا ، تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری قریش میں ہے ، پھر اس نے مجھے بہتر ( خاندان ) میں سے نکالا ، جس سے میرا تعلق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13829

Majma al-Zawaid #13829

وَعَنْ عَائِشَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: "" قَلَبْتُ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَفْضَلَ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أَرَ بَيْتًا أَفْضَلَ مِنْ بَيْتِ بَنِي هَاشِمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha (radiya Allahu anha) reports from the Prophet ﷺ that Jibril (alayhi al-salam) said he had turned over the easts and wests of the earth and had seen no man more excellent than Muhammad ﷺ and no house more excellent than the house of Banu Hashim. > **"I turned over the easts of the earth and its wests, and I saw no man more excellent than Muhammad, nor any house more excellent than the house of Banu Hashim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا : ’’ میں نے زمین کے مشرقی حصے اور مغربی حصے کھنگال لیے ، لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا ، جو حضرت محمد ﷺ سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، اور نہ ہی کوئی ایسا گھرانہ نظر آیا ، جو بنو ہاشم کے گھرانے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13830

Majma al-Zawaid #13830

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَمْدَحَكَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَاتِ، لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ "". فَأَنْشَأَ يَقُولُ: مِنْ قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي ... مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَا بَشَرٌ ... أَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَدْ ... أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ ... إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ حَتَّى احْتَوَى بَيْتَكَ الْمُهَيْمِنُ مِنْ ... خِنْدَفَ عَلْيَاءَ تَحْتَهَا النُّطُقُ وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ ... الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ فَنَحْنُ فِي ذَلِكَ الضِّيَاءِ وَفِي ... النُّورِ وَسُبْلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Aws (radiya Allahu anhu) reports being with the Prophet ﷺ when Abbas ibn Abdul Muttalib (radiya Allahu anhu) asked leave to praise him. The Prophet ﷺ invited him with a supplication that Allah never still his mouth, whereupon Abbas recited verses tracing his purity through shades and repositories, through the Flood in the ship of Nuh, passed from loins to wombs through successive generations, through Khindif, until his birth lit the earth and horizon, in whose light they advance on guidance. > **"Even before it you were pure in the shades and in the repository where leaves cover; then you descended to earth, conveyed from loins to wombs whenever one generation passed and another appeared, until eminence sheltered your house of Khindif. When you were born the earth shone and the horizon lit with your light, and in that radiance we traverse the paths of guidance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کی تعریف بیان کرنا چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پیش کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند نہ کرے ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنا شروع کیے : ’’ اس سے پہلے آپ سایوں میں پاکیزہ رہے ، اور ودیعت کے طور والی جگہ پر رہے ، جہاں پتوں کے ذریعے جسم کو چھپایا جاتا ، پھر آپ شہروں کی طرف اترے ، آپ اس وقت نہ بشر تھے ، نہ گوشت کا ٹکڑا تھے ، نہ جما ہوا خون تھے ، بلکہ نطفہ تھے ( اور اس حالت میں ) آپ ( حضرت نوح علیہ السلام کی ) کشتی پر سوار ہوئے ، جبکہ غرق ہونے نے ’’ نسر ‘‘ ( نام کے قوم نوح کے بت ) اور اس کے ماننے والوں کے منہ میں لگام ڈال دی تھی ، آپ ( اپنے اجداد میں سے مردوں کی ) پشتوں سے ( خواتین کے ) رحموں میں منتقل ہوتے رہے ، جب ایک عالم ( یعنی پشت ) گزر جاتی ، تو دوسرا طبقہ سامنے آ جاتا ، یہاں تک کہ آپ کے شرف نے ’’ خندف ‘‘ کے خاندان کے بلند مقام میں جگہ بنائی ، جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے نور کی وجہ سے زمین روشن ہو گئی اور افق چمک اُٹھا ، تو اس نور اور ضیاء کی روشنی میں ہم ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13831

Majma al-Zawaid #13831

وَعَنْ مَيْمُونٍ قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: مَا كَانَ اسْمُ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبٍ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهَذَا مِمَّا لَا يَحْتَاجُ إِلَى إِسْنَادٍ.

EnglishUnverified translation

Maymun reports asking Zayd ibn Arqam (radiya Allahu anhu) about the name of the mother of the Messenger of Allah ﷺ, who answered that she was Amina bint Wahb (radiya Allahu anha). > **"Amina bint Wahb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میمون بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : نبی اکرم ﷺ کی والدہ کا نام کیا تھا ؟ انہوں نے بتایا : سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور یہ ایسی بات ہے جس میں سند کی ضرورت نہیں ہے ۔

13832

Majma al-Zawaid #13832

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَمَّا بَلَغَ مَعْدُ بْنُ عَدْنَانَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، وَقَعُوا فِي عَسْكَرِ مُوسَى فَانْتَهَبُوهُ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَبِّ، هَؤُلَاءِ وَلَدُ مَعْدٍ قَدْ أَغَارُوا عَلَى عَسْكَرِي، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: يَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ، لَا تَدْعُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّ مِنْهُمُ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ النَّذِيرَ الْبَشِيرَ يَجِيءُ، وَمِنْهُمُ الْأُمَّةُ الْمَرْحُومَةُ، أُمَّةُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ يَرْضَوْنَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ وَيَرْضَى اللَّهُ عَنْهُمْ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ، فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، نَبِيُّهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمُتَوَاضِعُ فِي هَيْئَتِهِ الْمُجْتَمِعُ لَهُ اللُّبُّ فِي سُكُوتِهِ، يَنْطِقُ بِالْحِكْمَةِ وَيَسْتَعْمِلُ الْحِلْمَ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ خَيْرِ جِيلٍ مِنْ أَمَّتِهِ قُرَيْشًا، ثُمَّ أَخْرَجْتُهُ مِنْ هَاشِمٍ صَفْوَةً مِنْ قُرَيْشٍ، فَهُمْ خَيْرٌ مِنْ خَيْرٍ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُ، وَهُوَ وَأُمَّتُهُ إِلَى خَيْرٍ يَصِيرُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حسن بْنُ فَرْقَدٍ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama al-Bahili (radiya Allahu anhu) reports hearing the Messenger of Allah ﷺ recount that when the descendants of Maadd ibn Adnan reached forty men they raided the camp of Musa (alayhi al-salam) and plundered it, so Musa supplicated against them. Allah revealed that Musa should not supplicate against them, for from them would come the unlettered prophet, the warner and bearer of glad tidings, and the oft-shown-mercy nation of Muhammad, content with little provision and accepted by Allah for little deed, admitted to Paradise for saying there is no god but Allah, led by Muhammad ibn Abdullah ibn Abdul Muttalib, humble in bearing, gathered in intellect in his silence, speaking wisdom and practicing forbearance, drawn from the best generation of Quraysh and the elite of Hashim, ever moving from good to good. > **"Musa ibn Imran, do not supplicate against them, for from them is the unlettered prophet, the warner and bearer of glad tidings, and from them is the oft-shown-mercy nation, the nation of Muhammad, who are content with little provision and Allah is content with little deed from them, so Allah admits them to Paradise for saying there is no god but Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب معد بن عدنان کی اولاد چالیس افراد تک پہنچ گئی ، تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور ان کا سامان لوٹ لیا ، تو حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے ان لوگوں کے خلاف دعا کی اور یہ کہا : اے میرے پروردگار ! یہ لوگ معد کی اولاد ہیں ، جنہوں نے میرے لشکر پر حملہ کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : ’’ اے موسیٰ بن عمران ! تم ان کے خلاف دعا نہ کرو ، کیونکہ ان لوگوں میں سے اُمی نبی پیدا ہوں گے ، جو ڈرانے والے اور خوشخبری سنانے والے ہوں گے ، اور انہی لوگوں میں ایک امت پیدا ہو گی ، جس پر رحم کیا گیا ہو گا ، اور وہ حضرت محمد ﷺ کی امت ہے وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھوڑا سا رزق ملنے پر بھی راضی ہوں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تھوڑا سا عمل ظاہر ہونے پر راضی ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ، ان لوگوں کے نبی حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں گے ، جو ظاہری ہیئت کے اعتبار سے تواضع اختیار کرنے والے ہوں گے ، اور ان کی خاموشی میں ان کے لئے عقل مندی کو اکٹھا کیا گیا ہو گا ، وہ حکمت کے مطابق بات چیت کریں گے ، بردباری سے پیش آئیں گے ، میں انہیں ان کی امت کے سب سے بہترین خاندان قریش میں پیدا کروں گا ، اور پھر میں انہیں قریش کے منتخب خاندان بنو ہاشم میں پیدا کروں گا ، تو وہ ایک بھلائی سے دوسری بھلائی کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے ، اور ان کی امت بھی بھلائی کی طرف منتقل ہوتی رہے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13833

Majma al-Zawaid #13833

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ، أَنَا أَعْرَبُ الْعَرَبْ، وُلِدْتُ فِي بَنِي قُرَيْشٍ، نَشَأْتُ فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَأَنَّى يَأْتِينِي اللَّحْنُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِمْ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared himself the Prophet without lie, the son of Abdul Muttalib, the most eloquent of the Arabs, born among Quraysh and raised among Banu Sad ibn Bakr, so whence could incorrect speech come to him. > **"I am the Prophet, no lie; I am the son of Abdul Muttalib; I am the most eloquent of the Arabs. I was born among Quraysh and raised among Banu Sad ibn Bakr, so whence could solecism come to me?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نبی ہوں ، یہ بات جھوٹ نہیں ہے ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ، میں عربوں میں سب سے زیادہ فصیح اللسان ہوں ، میری پیدائش بنو قریش میں ہوئی تھی ، اور میری نشوونما بنو سعد بن بکر میں ہوئی ، تو میرے اندر لحن کہاں سے آ سکتا ہے ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13834

Majma al-Zawaid #13834

وَعَنِ الْجَفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «جَاءَ قَوْمٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَنْتَ مِنَّا. وَادَّعَوْهُ فَقَالَ: " لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا، نَحْنُ وَلَدُ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ».

EnglishUnverified translation

Al-Jafshish al-Kindi (radiya Allahu anhu) reports that people of Kinda came to the Messenger of Allah ﷺ claiming he was of them. He replied that his people do not trace lineage through the mother nor disown the father, and affirmed descent from al-Nadr ibn Kinana. > **"We do not follow our mother in lineage nor disown our father; we are the children of al-Nadr ibn Kinana."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جفشیش کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو انہوں نے عرض کی : آپ ہم سے ہیں ، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے نسبت کا دعویٰ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ہم ماں کی طرف خود کو منسوب نہیں کرتے ہیں ، اور اپنے باپ کی نفی نہیں کرتے ہیں ، ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں ۔‘‘

13835

Majma al-Zawaid #13835

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الْجَفْشِيشِ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Jafshish (radiya Allahu anhu) reports addressing the Prophet ﷺ with a narration to the same effect as the preceding report on lineage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت جفشیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث روایت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13836

Majma al-Zawaid #13836

وَعَنْ سِيَابَةَ بْنِ عَاصِمٍ السُّلَمِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: "" أَنَا ابْنُ الْعَوَاتِكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Siyaba ibn Asim al-Sulami (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ said on the day of Hunayn that he was the son of the Awatik women. > **"I am the son of the Awatik."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سیابہ بن عاصم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں ’’ عاتکہ ‘‘ نامی خواتین کا بیٹا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13837

Majma al-Zawaid #13837

وَعَنْ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ لِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ: تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سُنُونَ أَمْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَوْدَقَتِ الْعَظْمَ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةٌ الَّهُمَّ أَوْ مَهْمُومَةٌ إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامَهُ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ، فَحَيْهَلَا بِالْحَيَا وَالْخِصْبِ، أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عِظَامًا جَسَامًا أَبْيَضَ بَضًّا، أَوْطَفَ، أَهْدَبَ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ، فَلْيُخْلِصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ، فَلْيَشْنُوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلِيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ لِيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ، ثُمَّ لِيَدْعُ الرَّجُلُ وَلِيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ. فَأَصْبَحْتُ - عِلْمُ اللَّهِ - مَذْعُورَةً اقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي، وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ، وَفَشَتْ فِي شِعَابِ مَكَّةَ، فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ، مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيٌّ إِلَّا قَالَ: هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ. وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ، وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ، فَشَنُّوا وَمَسُّوا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ، مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهِلَّهُ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ، قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ أَيْفَعُ أَوْ كَرُبَ، فَرَفَعَ يَدَهُ وَقَالَ: اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ، وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ، أَنْتَ عَالِمٌ مُعَلِّمٌ غَيْرَ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرَ مُبَخَّلٍ، وَهَذِهِ عُبُدَاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بَعَذَرَاتِ حَرَمِكَ، يَشْتَكُونَ إِلَيْكَ سِنِيهِمْ، أَذْهَبْتَ الْخَلْفَ وَالظِّلْفَ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرَنَ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا. فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا، وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ، فَسَمِعَتْ شِيخَانُ قُرَيْشٍ وَجِلَّتُهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ، وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ. أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ: بِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا ... وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جَوْنِيٌّ لَهُ سُبُلٌ ... سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهُ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ... وَخَيْرِ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ... مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ruqayqa bint Abi Sayfi ibn Hashim, contemporary of Abdul Muttalib, reports successive drought years that dried udders and weakened bones. While distressed in sleep she heard a hoarse-voiced caller announcing the days of the awaited commissioned prophet, bidding Quraysh bring forth a distinguished, full-bodied, fair-skinned man of forbearance and right guidance with his children, with one man from each clan, washed, perfumed, having touched the Corner, ascending Abu Qubays where he would supplicate and they would say amen, so rain would fall as they wished. She awoke alarmed, related the vision, and it spread through the valleys of Makka until every Bat-ha dweller named Shaybat al-Hamd. The men of Quraysh gathered, performed the washings and rites, and climbed with Abdul Muttalib, accompanied by the Messenger of Allah ﷺ as a young boy. Abdul Muttalib raised his hand invoking Allah as mender of breach and remover of distress, all-knowing without being taught and besought without stint, complaining of years that destroyed livestock and crops, asking drenching, wholesome rain. Before they moved, the sky burst and the valley filled, and elders of Quraysh congratulated Abdul Muttalib as father of al-Batha, for which Ruqayqa composed verses praising Allah for watering the town through Shaybat al-Hamd, the auspicious harbinger of Mudar, through whom clouds are asked for rain, without peer among mankind. > **"O Allah, mender of breach and remover of distress, knowing without being taught and besought without stint, here are Your bondsmen and bondswomen in the courtyards of Your sanctuary complaining their years to You; You have taken away offspring and hoof. O Allah, send down upon us drenching, wholesome rain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی بن ہاشم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ حضرت عبدالمطلب کی والدہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : قریش پر کچھ سال مسلسل ایسے آئے کہ جنہوں نے تھنوں کو خشک کر دیا اور ہڈیوں کو کمزور کر دیا ، ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں لیٹی ہوئی تھی ، اسی دوران کسی پکارنے والے نے پکار کر یہ کہا : اے قریش کے گروہ ! یہ مبعوث ہونے والے نبی کا زمانہ تمہارے سامنے آنے لگا ہے ، یہ ان کی آمد کا وقت ہے ، تو حیاء اور خوشحالی کے لیے تیار ہو جاؤ ! خبردار ! تم لوگ اپنے میں سے ایک ایسے شخص کا جائزہ لو ، جو بھرپور جسم کا مالک ہو ، جس کا رنگ سفید ہو ، جلد خوبصورت ہو ، اس میں ایسی بردباری ہو ، جس کی وجہ سے وہ غصے پر قابو پاتا ہو ، اور ایسا طریقہ ہو کہ اس کی طرف رہنمائی کی جاتی ہو ، وہ اور ان کی اولاد الگ ہوں ، پھر قریش کی ہر شاخ سے تعلق رکھنے والے ایک ایک فرد کو اس کے ساتھ ہونا چاہیے ، وہ غسل کریں ، خوشبو لگائیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر وہ شخص دعا کرے اور باقی لوگ آمین کہیں ، تو تم لوگوں پر جتنی چاہو گے ، اتنی بارش ہو گی ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اللہ جانتا ہے ، جب اگلے دن صبح میں بیدار ہوئی ، تو میں پریشان تھی اور میری جلد پر کپکپی طاری تھی اور میری عقل ماؤف ہو رہی تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، تو بہت جلد یہ مکہ کی گلیوں میں پھیل گیا ، حرمت اور حرم کی قسم ہے ، ابطح کے ہر فرد نے یہی کہا : اس سے مراد شیبہ الحمد ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہو سکتے ہیں ، قریش کے افراد ان کے پاس آئے ، ہر قبیلے کا ایک فرد ان کے پاس آیا ، ان لوگوں نے غسل کیا ، خوشبو لگائی حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ گئے ، لوگوں نے ان کے اردگرد صفیں بنا لیں ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے ، تو جناب عبدالمطلب کے ساتھ نبی اکرم ﷺ تھے ، جو کم عمر لڑکے تھے ، تو جناب عبدالمطلب نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کہا : ’’ اے اللہ ! خلل کو بند کرنے والے ، پریشانی کو ختم کرنے والے ، تو علم رکھنے والا ہے ، جسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ، تو ایسی ذات ہے جس سے مانگا جاتا ہے ، اور تو بخل کرنے والا نہیں ہے ، یہ تیرے بندے ہیں اور یہ تیری کنیزیں ہیں ، جو تیرے حرم کے پڑوس میں رہتے ہیں ، وہ تیری بارگاہ میں پریشانی کا ذکر کر رہے ہیں ، اس قحط سالی کے حوالے سے ، جو انہیں لاحق ہے ، جس کے نتیجے میں جانور مرتے جا رہے ہیں ، اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش کر دے ، جو سیراب کرنے والی ہو ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ اسی دوران آسمان سے بارش شروع ہو گئی اور نشیبی حصے میں پانی بہنے لگے ، میں نے قریش کے کچھ لوگوں کو سنا ، جن میں عبداللہ بن جدعان اور حرب بن امیہ اور ہشام بن مغیرہ تھے ، وہ عبدالمطلب سے یہ کہ رہے تھے : اے ابوالبطحاء ! آپ کو مبارک باد ہو ، ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کی وجہ سے اہل بطحاء کو زندگی نصیب ہوئی ہے ، اس بارے میں سیدہ رقیقہ بنت ابوصیفی رضی اللہ عنہا نے یہ اشعار کہے تھے : ’’ اے شیبۃ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ، پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے لیکن پھر بھرپور بارش شروع ہو گئی پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے جس کی آمد بابرکت ہے ، اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے یہ بابرکت معاملے والے ہیں ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا ) سوچا جا سکتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13838

Majma al-Zawaid #13838

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «وُلِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِلْمِ فِي بَابِ التَّارِيخِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Prophet ﷺ was born on a Monday, with the remainder of the narration already treated under knowledge and chronology. > **"The Prophet was born on a Monday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دن پیدا ہوئے تھے ....... اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب العلم میں تاریخ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

13839

Majma al-Zawaid #13839

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي قَالَتْ: «شَهِدْتُ آمِنَةَ لَمَّا وَلَدَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ نَظَرَتْ إِلَى النُّجُومِ تَنْزِلُ تَدَلَّى حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: لَتَقَعَنَّ عَلَيَّ. فَلَمَّا وَلَدَتْ خَرَجَ لَهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهُ الْبَيْتُ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ وَالدَّارُ، فَمَا شَيْءٌ أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِلَّا نُورًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Abi al-As (radiya Allahu anhu) reports from his mother that she was present with Amina when she bore the Messenger of Allah ﷺ. When labor seized her, she saw stars descending low until fearing they would drop upon her, and when the birth occurred a light came forth that lit the house and dwelling so that whatever she looked at was light. > **"They will surely fall upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھے بتایا کہ میں اس وقت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو جنم دیا ، جب انہیں پیدائش کی تکلیف شروع ہوئی ، تو میں نے ستاروں کو دیکھا جیسے وہ نیچے آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ میرے اوپر نہ گر جائیں ، جب پیدائش ہو گئی تو ان کے جسم سے ایک نور نکلا ، جس کی وجہ سے وہ پورا گھر روشن ہو گیا ، جس میں ہم موجود تھے اور وہ پورا گھر اور آس پاس کا حصہ روشن ہو گیا ، میں جس چیز کی طرف دیکھتی تھی ، وہاں نور نظر آتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13840

Majma al-Zawaid #13840

«وَعَنْ حَلِيمَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ قَالَتْ: خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ، عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ قَدْ أَذْمَتْ فَزَاحَمْتُ بِالرَّكْبِ. قَالَتْ: وَخَرَجْنَا فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ لَنَا شَيْئًا، وَمَعِي زَوْجِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى. قَالَتْ: وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا، وَاللَّهِ إِنْ تَبِضَّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِنْ نَنَامُ لَيْلَتَنَا مَعَ بُكَائِهِ، مَا فِي ثَدْيِي مَا يُعْتِبُهُ، وَمَا فِي شَارِفِنَا مِنْ لَبَنٍ نَغْذُوهُ إِلَّا أَنَّا نَرْجُو. فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَمْ يَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَأْبَاهُ، وَإِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ رَضَاعِهِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ، وَكَانَ يَتِيمًا، فَكُنَّا نَقُولُ: مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ؟ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِلَّا أَخَذَتْ صَبِيًّا، غَيْرِي، وَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ آخُذْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي، فَقُلْتُ لِزَوْجِي: وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى ذَلِكَ فَلْآخُذَنَّهُ. قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَرَجَعْتُهُ إِلَى رَحْلِي، فَقَالَ زَوْجِي: قَدْ أَخْذَتِيهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ وَاللَّهِ، ذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ. فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا. فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي قَالَتْ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، قَالَتْ: فَشَرِبَ حَتَّى رُوِيَ وَشَرِبَ أَخُوهُ - تَعْنِي ابْنَهَا - حَتَّى رُوِيَ، وَقَامَ زَوْجِي إِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ فَحَلَبَتْ لَنَا مَا سَنَّنَنَا، فَشَرِبَ حَتَّى رُوِيَ، قَالَتْ: وَشَرِبْتُ حَتَّى رُوِيتُ، فَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ بِخَيْرٍ، شِبَاعًا رِوَاءً، وَقَدْ نَامَ صَبْيَانِنَا، قَالَتْ: يَقُولُ أَبُوهُ - يَعْنِي زَوْجَهَا -: وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ مَا أَرَاكِ إِلَّا أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا وَرُوِيَ. قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْنَا، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ قَدْ قَطَعَتْهُ حَتَّى مَا يَبْلُغُونَهَا، حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَقُولُونَ: وَيْحَكِ يَا بِنْتَ الْحَارِثِ، كُفِّي عَلَيْنَا، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا؟ فَأَقُولُ: بَلَى وَاللَّهِ وَهِيَ قُدَّامُنَا. حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ إِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونِ أَغْنَامَهُمْ إِذَا أَصْبَحُوا، وَيُسَرِّحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ غَنَمِي بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلًا، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ. قَالَتْ: فَشَرِبْنَا مَا شِئْنَا مِنْ لَبَنٍ وَمَا فِي الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلِبُ قَطْرَةً وَلَا يَجِدُهَا، فَيَقُولُونَ لِرُعَاتِهِمْ: وَيْلَكُمُ أَلَا تُسَرِّحُونَ حَيْثُ يُسَرِّحُ رَاعِي حَلِيمَةَ؟ فَيُسَرِّحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي يُسَرِّحُ فِيهِ رَاعِينَا، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ وَتَرُوحُ غَنَمِي حُفْلًا لَبَنًا. قَالَتْ: وَكَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ، فَبَلَغَ سِتًّا وَهُوَ غُلَامٌ جَفْرٌ. قَالَتْ: فَقَدِمْنَا عَلَى أُمَّهُ فَقُلْنَا لَهَا، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ رُدُّوا عَلَيْنَا ابْنِي فَلْنَرْجِعْ بِهِ فَإِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ. قَالَتْ: وَنَحْنُ أَضَنُّ بِشَأْنِهِ لِمَا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ قَالَتْ: فَلَمْ نَزَلْ بِهَا حَتَّى قَالَتْ: ارْجِعَا بِهِ. فَرَجَعْنَا بِهِ فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ. قَالَتْ: فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ، يَرْعَيَانِ بِهِمَا لَنَا إِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ، فَقَالَ لِي وَلِأَبِيهِ: أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلَانِ فَأَضْجَعَاهُ فَشَقَّا بَطْنَهُ، فَخَرَجْنَا نَحْوَهُ نَشْتَدُّ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ، ثُمَّ قُلْنَا: مَالَكَ أَيْ بُنَيَّ؟ قَالَ: "" أَتَانِي رَجُلَانِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بَيَاضٌ فَأَضْجَعَانِي ثُمَّ شَقَّا بَطْنِي، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا "". قَالَتْ: فَاحْتَمَلْنَاهُ فَرَجَعْنَا بِهِ، قَالَتْ: يَقُولُ أَبُوهُ: وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ، مَا أَرَى هَذَا الْغُلَامَ إِلَّا قَدْ أُصِيبَ، فَانْطَلِقِي فَلْنَرُدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ عَلَيْهِ. قَالَتْ: فَرَجِعْنَا بِهِ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: مَا رَدَّكُمَا بِهِ؟ وَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصِينَ عَلَيْهِ. قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ إِنَّا كَفَلْنَاهُ وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا فِيهِ. ثُمَّ تَخَوَّفْتُ الْأَحْدَاثَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَكُونُ فِي أَهْلِهِ، قَالَتْ: فَقَالَتْ أُمُّهُ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ بِكُمَا، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ. قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ، قَالَتْ: فَتَخَوَّفْتُمَا عَلَيْهِ؟ كَلَّا وَاللَّهِ، إِنَّ لِابْنِي هَذَا لَشَأْنًا، أَلَا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ؟ إِنِّي حَمَلْتُ بِهِ فَلَمْ أَرَ حَمْلًا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ وَلَا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنْ حِينِ وَضَعْتُهُ، أَضَاءَتْ لِي أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى، ثُمَّ وَضَعْتُهُ، فَمَا وَقَعَ كَمَا تَقَعُ الصِّبْيَانُ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالْأَرْضِ رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حَدَّى حَلِيمَةُ بِنْتُ أَبِي ذُؤَيْبٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Halima bint al-Harith al-Sadiyya (radiya Allahu anha), foster mother of the Messenger of Allah ﷺ, reports going with women of Banu Sad ibn Bakr to Makka seeking infants, on a weak white donkey amid a lean year, with her husband al-Harith ibn Abdul Uzza, an old she-camel yielding hardly a drop, and her own hungry infant keeping them wakeful for lack of milk. Every woman was offered the Messenger of Allah ﷺ but refused him because he was an orphan and they hoped for generosity from the child's father, until all her companions had taken a child but her. Unwilling to return empty, she resolved to take him, and her husband hoped Allah would place good in him. No sooner was he in her lap than her breast flowed, so he drank his fill and her son drank his fill, her husband found the old camel full at night and they all drank and slept sated while both boys slept. Her husband deemed the soul blessed. On departure her donkey outstripped the caravan, and at their dwellings, the most barren land of Allah, her flocks returned full-uddered with milk while others returned hungry, though shepherds pastured the same ravine. The child ﷺ grew in a day like a boy in a month and in a month like a boy in a year, until at six he was a sturdy lad. Fearing the plague of Makka yet treasuring his blessing, they returned him briefly to his mother Amina (radiya Allahu anha), then brought him back for two months. While playing behind the houses with his brother herding their lambs, his brother ran crying that two men had laid the Qurashi boy down and split his belly. They rushed to find him standing, pale, and he told of two men in white laying him down and splitting his belly, he knew not what they did. His foster father feared affliction and urged returning him to his family before some dreaded matter appeared. When Amina asked why, after their eagerness, they first pleaded fulfillment of trust and fear of events, until she pressed them and they told her. She reassured them that her son had a great affair, recounting her light pregnancy, the meteor-like light at delivery that lit the necks of camels at Busra, and his birth resting on his hands with head raised to heaven, and bade them return to their affair. > **"Two men in white garments came to me, laid me down, then split my belly, and by Allah I do not know what they did."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حلیمہ بنت حارث سعدیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی رضاعی ماں ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ’’ میں بنو بکر بن سعد کی کچھ خواتین کے ساتھ نکلی ، ہمارا مقصد مکہ میں دودھ پینے والے بچے کو حاصل کرنا تھا ، میں ایک گدھی پر سوار ہوئی ، جس کا رنگ سفید تھا اور وہ تھکی ہوئی تھی ، وہ دوسرے سواروں کے ساتھ نہیں چل پاتی تھی ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم قحط سالی کے زمانے میں نکلے تھے ، ہماری کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی ، میرے ساتھ میرے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی ، اللہ کی قسم ! اس کا دودھ تھوڑا تھوڑا کر کے اترتا تھا ، میرے ساتھ میرا بچہ بھی تھا ، رات کو جب ہم سوتے تھے ، تو وہ رو رہا ہوتا تھا کیونکہ میری چھاتی میں اتنا دودھ نہیں تھا ، جو اسے سیراب کر سکے اور ہماری اونٹنی کا بھی اتنا دودھ نہیں ہوتا تھا کہ ہم اسے غذا فراہم کر سکیں ، لیکن پھر بھی ہمیں امید تھی ، جب ہم مکہ آئے ، تو ہم میں سے ہر ایک خاتون کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں پیشکش کی گئی ، لیکن ہر خاتون نے انکار کر دیا کیونکہ ہم خواتین کو یہ امید ہوتی تھی کہ بچے کا باپ دودھ پلانے کے عوض میں اچھا معاوضہ دے گا اور نبی اکرم ﷺ یتیم تھے ، تو ہم یہ سوچتے تھے کہ اس کی والدہ کیا کر لیں گی ؟ یہاں تک کہ یہ صورت حال ہو گئی کہ ہماری ساتھی خواتین نے کوئی نہ کوئی بچہ حاصل کر لیا ، صرف مجھے کوئی بچہ نہیں ملا ، مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ میں ایسے ہی چلی جاؤں ، کہ میں نے کوئی بچہ نہ لیا ہو ، اور میری ساتھی خواتین نے بچے لے لیے ہوں ، تو میں نے اپنے شوہر سے کہا : اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی طرف جاتی ہوں اور بچے کو حاصل کر لیتی ہوں ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے گھر آئی اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو لے لیا ، جب میں آپ کو لے کر واپس اپنی رہائشی جگہ پر آئی ، تو میرے شوہر نے دریافت کیا : تم نے اسے لے لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم مجھے اس کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا ، تو میرے شوہر نے کہا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں بھلائی پیدا کر دے گا ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو اپنی گود میں لیا ، تو آپ میری چھاتی کی طرف آئے اور آپ نے جتنا چاہا دودھ پی لیا ، آپ نے اتنا دودھ پیا کہ آپ سیر ہو گئے ، پھر آپ کے بھائی نے یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے بھی دودھ پیا ، یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گیا ، رات کے وقت میرا شوہر اُٹھ کر ہماری اونٹنی کے پاس گیا ، تو وہ دودھ سے بھری ہوئی تھی ، اس نے ہمارے لئے اتنا دودھ دوہ لیا ، جس کے ذریعے ہمارا رات کا گزارا ہو سکتا تھا ، انہوں نے دودھ پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، میں نے دودھ پیا ، یہاں تک کہ میں بھی سیر ہو گئی ، تو وہ رات ہم نے ایسی حالت میں گزاری کہ ہم لوگ سیر تھے اور ہمارے بچے بھی سوتے رہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس بچے کے باپ نے یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا : اللہ کی قسم ! اے حلیمہ ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم نے ہمارے لئے ایک برکت والے وجود کو حاصل کیا ہے ، ہمارے بچے سو رہے ہیں اور وہ سیر بھی ہیں ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ، اللہ کی قسم ! میری گدھی تمام سواروں سے آگے نکل رہی تھی ، یہاں تک کہ وہ اتنی آگے چلی جاتی تھی کہ دوسرے لوگ اس تک نہیں پہنچ پاتے تھے ، یہاں تک کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اے حارث کی صاحبزادی ! تمہارا ستیاناس ہو ، اسے روک کے رکھو ، کیا یہ تمہاری وہی گدھی نہیں ہے ؟ جس پر سوار ہو کے تم آئی تھیں ، تو میں کہتی تھی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! لیکن وہ پھر بھی آگے آگے ہی رہی ، یہاں تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنی رہائشی جگہ پر آ گئے ، ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ خشک سالی والی تھی ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں حلیمہ کی جان ہے ، صبح کے وقت لوگ اپنی بکریاں بھیجا کرتے تھے اور میرا چرواہا میری بکریاں لے کر جایا کرتا تھا ، شام کو میری بکریاں آتی تھیں تو وہ صحت مند ہوتی تھیں اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے تھے اور لوگوں کی بکریاں بھوکی آتی تھیں ، ہلاکت کا شکار ہوتی تھیں ، ان کے تھنوں میں دودھ نہیں ہوتا تھا ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم جتنا چاہتے تھے اتنا دودھ پی سکتے تھے اور باقی لوگوں میں سے کسی ایک کے دودھ کا ایک قطرہ نہیں نکلتا تھا ، وہ انہیں میسر ہی نہیں ہوتا تھا ، وہ اپنے چرواہوں سے کہتے تھے : تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، تم وہاں جانور کیوں نہیں چراتے ہو ؟ جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے ، تو وہ لوگ اس گھاٹی میں آ جاتے تھے ، جہاں ہمارا چرواہا چرا رہا ہوتا تھا لیکن پھر بھی ان کی بکریاں بھوکی آتی تھیں ، ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا اور میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک دن میں اتنے بڑے ہو رہے تھے ، جتنا کوئی بچہ ایک مہینے میں بڑا ہوتا ہے ، اور آپ ایک مہینے میں اتنے بڑے محسوس ہوتے تھے ، جیسے کوئی بچہ ایک سال میں بڑا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ چھ ماہ کی عمر میں ، آپ ایک بڑے بچے لگتے تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ آپ کی والدہ کے پاس آئے ، ہم نے ان سے کہا : آپ اپنے بچے کو ہمارے پاس رہنے دیں ہم اسے واپس لے جاتے ہیں ، کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ مکہ کی وباء اسے نقصان پہنچائے گی ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی برکت دیکھی ہوئی تھی ، اس لئے ہم آپ کے حوالے سے حریص تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم مسلسل اس حوالے سے بات چیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی والدہ نے کہا : تم دونوں اسے ساتھ لے جاؤ ! تو ہم نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لے کے واپس آ گئے ، نبی اکرم ﷺ دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اور نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے اور وہ ہمارے جانوروں کو بھی چرا رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ کا رضاعی بھائی ہمارے پاس دوڑتا ہوا آیا ، اس نے مجھ سے اور اپنے والد سے کہا : آپ دونوں میرے قریشی بھائی کے پاس پہنچیں ، اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں ، ان دونوں نے اسے لٹا لیا ہے ، اس کے پیٹ کو چیر دیا ہے ، تو ہم لوگ دوڑتے ہوئے ان کی طرف گئے ، جب ہم ان کے پاس پہنچے ، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے تھے اور آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی ، میرے شوہر نے اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو گلے لگا لیا ، پھر ہم نے کہا : اے میرے بیٹے ! کیا ہوا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : دو آدمی میرے پاس آئے ، جن کے جسم پر سفید لباس تھے ان دونوں نے مجھے لٹا دیا ، پھر انہوں نے میرا سینہ چیر دیا ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں سمجھ آئی کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو ہم نے انہیں گود میں اٹھایا اور انہیں لے کر واپس آ گئے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے رضاعی باپ نے کہا : اللہ کی قسم ! اے حلیمہ ! اس لڑکے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ، تو تم چلو ! تاکہ ہم اسے اس کے گھر والوں کو لوٹا دیں ، اس سے پہلے کہ اس کے ساتھ وہ چیز پیش آئے جس کے حوالے سے ہمیں اندیشہ ہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم آپ کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی والدہ کے پاس آئے ، انہوں نے ہم سے دریافت کیا : تم لوگ اسے لے کر کیوں آ گئے ہو ؟ تم دونوں تو اسے اپنے ساتھ رکھنے پر حریص تھے ؟ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم نے اس کی کفالت کر دی ہے ، اور حق ادا کر دیا ہے ، جو ہمارے ذمہ اس کے حوالے سے لازم تھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا ، تو ہم نے سوچا کہ یہ اپنے گھر والوں میں ہی رہے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی والدہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ معاملہ نہیں ہے ، تم لوگ مجھے اصل بات بتاؤ ، جو تمہارے اور اس کے بارے میں ہے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! وہ مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتی رہیں ، یہاں تک کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی صورت حال کے بارے میں انہیں بتا دیا ، تو انہوں نے کہا : کیا تم دونوں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہو گا ، میرے بیٹے کی بڑی شان ہو گی ، کیا میں تم دونوں کو اس کے بارے میں بتاؤں ؟ جب مجھے اس کا حمل ہوا ، تو میں نے کوئی ایسا حمل نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ ہلکا اور اس سے زیادہ برکت والا ہو ، پھر میں نے نور کو دیکھا ، جو ایک ستارے کی طرح تھا اور وہ اس وقت نکلا ، جب میں نے اس کو جنم دیا تھا ، تو اس کی وجہ سے بصریٰ میں موجود اونوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہو گئیں ، پھر میں نے اس کو جنم دیا ، تو یہ اس طرح نہیں آیا ، جس طرح دوسرے بچے آتے ہیں ، اس نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ہوا تھا اور سر آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا اور یہ دعا کر رہا تھا ، بہرحال تم لوگ چلے جاؤ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ سیدہ حلیمہ بنت ابوذؤیب رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم رہے ۔‘‘ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

13841

Majma al-Zawaid #13841

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بُهْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ: يَا أَخِي اذْهَبْ فَائْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا. فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبُهْمِ، فَأَقْبَلَ طَائِرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهُوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي، فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي إِلَى الْقَفَا، فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي، فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ. فَغَسَلَا بِهِ جَوْفِي، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِمَاءٍ بَرَدٍ. فَغَسَلَا بِهِ قَلْبِي، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِالسِّكِّينَةِ. فَدَارَهَا فِي قَلْبِي، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حُصَّهُ فَحَصَّهُ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ». - وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَاخْتِمْ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ - قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ، وَاجْعَلْ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ. فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ. فَانْطَلَقَا وَتَرَكَانِي قَدْ فَرِقْتُ فَرَقًا شَدِيدًا، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ، فَأَشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَكُونَ الْبَأْسُ بِي، فَقَالَتْ: أُعِيذُكَ بِاللَّهِ. فَرَحَّلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي - أَوْ فَحَمَلَتْنِي - عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي، حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَتْ: أَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي. فَحَدَّثْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ، قَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Utba ibn Abd (radiya Allahu anhu) reports a man asking the Messenger of Allah ﷺ about the beginning of his affair. He told of being with his foster kin of Banu Sad ibn Bakr with a foster brother among their lambs without provisions, sending the brother for food, when two white birds like eagles came, confirmed his identity, seized him, laid him on his back, split his belly, removed his heart, split it, extracted two black clots, washed his interior with ice water and his heart with cool water, filled it with tranquility, stitched it, and sealed it with the seal of prophethood. In another wording they weighed him against a thousand of his nation and he feared they would fall upon him, yet he outweighed them, indeed his whole nation. They left him terrified, he told his foster mother who feared harm and sought refuge for him with Allah, then carried him back to his mother, declaring her trust fulfilled. His mother was unalarmed, saying she had seen a light come forth from her that lit the palaces of Sham. > **"Stitch him and seal him with the seal of prophethood; if his nation were weighed against him, he would outweigh them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اس نے کہا : یا رسول اللہ آپ کے معاملے کا آغاز کیسے ہوا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میری دائی ماں کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا ، ایک مرتبہ میں اور ان کا بیٹا جانوروں میں موجود تھے ، ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا ، میں نے کہا : اے میرے بھائی ! تم جاؤ اور ہمارے لیے والدہ کے پاس سے کھانے کے لئے لے آؤ ، میرا بھائی چلا گیا اور میں جانوروں کے پاس ٹھہر گیا ، اسی دوران دو سفید رنگ کے پرندے آئے ، وہ دونوں باز لگ رہے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا یہ وہی ہیں ؟ دوسرے نے کہا : جی ہاں ! وہ دونوں لپک کر میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے پکڑا اور مجھے چت لٹا دیا ، انہوں نے میرا پیٹ چیر دیا ، پھر انہوں نے میرا دل نکالا پھر اسے چیر دیا پھر اس میں سے دو سیاہ رنگ کے گوشت کے لوتھڑے نکالے ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : میرے پاس ٹھنڈا پانی لے کر آؤ ، پھر ان دونوں نے اس پانی کے ذریعے میرے پیٹ کو دھویا ، پھر اس نے کہا : میرے پاس ٹھنڈا پانی لے کر آؤ ! انہوں نے اس کے ذریعے میرے دل کو دھویا ، پھر اس نے کہا : میرے پاس سکینت لے کے آؤ ! وہ انہوں نے میرے دل میں ڈال دی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان کو سی دو ! اس نے اُسے سی دیا اور اس پر مہر نبوت لگا دی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تم اس پر مہر نبوت لگا دو ! ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : انہیں ایک پلڑے میں رکھو اور ان کی امت کے ایک ہزار افراد کو دوسرے پلڑے میں رکھو ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جب میں نے اپنے اوپر ایک ہزار لوگوں کو دیکھا ، تو مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں اُن میں سے کوئی میرے اوپر نہ گر جائے ، اس نے کہا : اگر ان کی پوری امت کے ساتھ ان کا وزن کیا جائے ، تو یہ ان سب سے وزنی ہوں گے ، پھر وہ دونوں چلے گئے اور مجھے چھوڑ گئے ، میں اس بات سے خوف زدہ ہو گیا ، پھر میں اپنیہ والدہ کے پاس آیا اور انہیں اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، جس کا میں نے سامنا کیا تھا ، تو وہ بھی میرے حوالے سے پریشان ہو گئیں کہ مجھے کوئی چیز لاحق نہ ہو جائے ، تو انہوں نے کہا : میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں ، پھر انہوں نے اپنے اونٹ پر پالان رکھا اور مجھے اپنے ساتھ پالان پر سوار کروایا اور خود میرے پیچھے بیٹھ گئیں ، یہاں تک کہ ہم لوگ میری والدہ کے پاس پہنچ گئے ، تو سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اپنی امانت اور ذمہ کو ادا کر دیا ہے ، پھر انہوں نے میری والدہ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا تھا ، تو میری والدہ اس سے حوالے سے پریشان نہیں ہوئیں ، انہوں نے بتایا : کہ میں نے اپنے میں سے ایک نور نکلتے ہوئے دیکھا تھا ، جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے اس کا متن نقل نہیں کیا ہے ، امام احمد کی سند حسن ہے ۔

13842

Majma al-Zawaid #13842

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَ بَدْءُ أَوَّلِ أَمْرِكَ؟ قَالَ: "" دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ، وَبُشْرَى عِيسَى، وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَلَهُ شَوَاهِدُ تُقَوِّيهِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama (radiya Allahu anhu) reports asking the Messenger of Allah ﷺ about the beginning of his affair. He answered that he was the supplication of Ibrahim, the glad tidings of Isa, and the vision of his mother, who saw a light come forth from her that lit the palaces of Sham. > **"I am the supplication of Ibrahim, the glad tidings of Isa, and my mother saw a light come forth from her that lit the palaces of Sham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے معاملے کا آغاز کیسے ہوا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( میں ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری کا نتیجہ ہوں ، میری والدہ نے یہ چیز دیکھی کہ ان میں سے ایک نور نکلا اور اس نور کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے اس روایت کے شواہد موجود ہیں ، جو اس کو تقویت دیتے ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔

13843

Majma al-Zawaid #13843

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، «أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَوَّلُ مَا رَأَيْتَ مِنْ أَمْرِ النُّبُوَّةِ؟ فَاسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا وَقَالَ: "" لَقَدْ سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي لَفِي صَحْرَاءَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ، وَإِذَا بِكَلَامٍ فَوْقَ رَأْسِي، وَإِذَا بِرَجُلٍ يَقُولُ لِرَجُلٍ: أَهُوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَاسْتَقْبَلَانِي بِوُجُوهٍ لَمْ أَرَهَا لِخَلْقٍ قَطُّ، وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْهَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ، وَثِيَابٍ لَمْ أَرَهَا عَلَى أَحَدٍ قَطُّ، فَأَقْبَلَا إِلَيَّ يَمْشِيَانِ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِعَضُدِي، لَا أَجِدُ لِأَخْذِهِمَا مَسًّا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَضَجِعْهُ. فَأَضْجَعَانِي بِلَا قَصْرٍ وَلَا هَصْرٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: افْلِقْ صَدْرَهُ. فَهَوَى أَحَدُهُمَا إِلَى صَدْرِي فَفَلَقَهَا فِيمَا أَرَى بِلَا دَمٍ وَلَا وَجَعٍ، فَقَالَ لَهُ: أَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ. فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَهَيْئَةِ الْعَلَقَةِ، ثُمَّ نَبَذَهَا فَطَرَحَهَا، فَقَالَ لَهُ: أَدْخِلِ الرَّحْمَةَ وَالرَّأْفَةَ. فَإِذَا مِثْلُ الَّذِي أَخْرَجَ شَبِيهَ الْفِضَّةِ، ثُمَّ هَزَّ إِبْهَامَ رِجْلِي الْيُمْنَى فَقَالَ: اغْدُ وَاسْلَمْ. فَرَجَعْتُ بِهَا أَغْدُو بِهَا رِقَّةً عَلَى الصَّغِيرِ وَرَحْمَةً عَلَى الْكَبِيرِ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab (radiya Allahu anhu) reports that Abu Hurayra (radiya Allahu anhu), bold in asking what others did not ask, inquired about the first thing the Messenger of Allah ﷺ saw of prophethood. The Prophet ﷺ sat upright and recounted being in the desert at ten years and some months when voices above him asked whether he was the one, then two figures of countenance, presence, and dress never seen in creation approached, each took his upper arm without felt touch, laid him down gently, split his breast without blood or pain, removed something like a clot identified as rancor and envy, cast it away, inserted something like silver identified as mercy and compassion, shook his right big toe bidding him proceed in safety, whereupon he returned tender toward the young and merciful toward the old. > **"Lay him down; split his breast; remove rancor and envy; insert mercy and compassion. Proceed and be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنے کی جرأت رکھتے تھے جن کے بارے میں اُن کے علاوہ کوئی اور دریافت نہیں کرتا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبوت کے معاملے کے حوالے سے آپ نے سب سے پہلے جو چیز دیکھی تھی ، وہ کیا تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! تم نے ایک اہم سوال کیا ہے ، ایک مرتبہ میں صحراء میں موجود تھا ، میری عمر دس سال کچھ ماہ ہو گی ، اس دوران میں نے اپنے اوپر سے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، تو کوئی ایک فرد دوسرے سے کہہ رہا تھا : کہ کیا یہ وہی ہیں ؟ دوسرے نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دونوں سامنے سے میری طرف آئے ، میں نے اس طرح کی مخلوق کبھی نہیں دیکھی تھی ، اور وہ ارواح تھیں ، اس طرح کی مخلوق میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ، ان کے لباس اس طرح کے تھے کہ میں نے ایسا لباس کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھا تھا ، وہ دونوں چلتے ہوئے میرے پاس آئے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک نے میرے بازو کو پکڑ لیا ، لیکن مجھے ان میں سے کسی کے چھونے کا محسوس نہیں ہو رہا تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : تم انہیں لٹا دو ! ان دونوں نے مجھے سانس میں کوئی رکاوٹ پیدا کیے بغیر اور کسی عضو کو توڑے بغیر لٹا دیا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ان کے سینے کو چیر دو ! پھر ان میں سے ایک میرے سینے کی طرف جھکا ، اس نے اسے چیر دیا ، لیکن اس میں نہ کوئی خون نکلا ، نہ کوئی تکلیف محسوس ہوئی ، اس نے دوسرے سے کہا : تم کھوٹ اور حسد کو نکال دو ! تو اس نے ایک ایسی چیز نکالی جو جمے ہوئے خون کی مانند تھی ، اور پھر اسے ایک طرف رکھ دیا ، اس نے دوسرے سے کہا : اس میں رحمت اور مہربانی داخل کر دو ! تو وہ چاندی کی طرح کی کوئی چیز تھی ، جو لائی گئی ، پھر اس نے میرے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کو ہلایا اور بولا : تم اُٹھ جاؤ اور تم سلامت رہو ! تو میں جب وہاں سے واپس آیا ، تو میری یہ حالت تھی کہ میں چھوٹے پر مہربان تھا اور بڑے پر رحمت کرنے والا تھا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔

13844

Majma al-Zawaid #13844

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْرَجَ حَشْوَةً فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَغَسَلَهَا ثُمَّ كَبَسَهَا حِكْمَةً وَنُورًا وَحِكْمَةً وَعِلْمًا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports from the Messenger of Allah ﷺ that Jibril (alayhi al-salam) brought out the filling of the belly in a basin of gold, washed it, then packed it with wisdom, light, wisdom, and knowledge. > **"Jibril took out the contents in a basin of gold, washed them, then filled them with wisdom, light, and knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سونے کے طشت میں پیٹ میں سے کچھ ( یعنی قلب اطہر ) نکالا ، اسے دھویا اور پھر اُس میں حکمت اور نور بھر دیا ، اور حکمت اور علم بھر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13845

Majma al-Zawaid #13845

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٍ فِي طِينَتِهِ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ: أَنَا دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ، وَبُشْرَى عِيسَى، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ، وَكَذَلِكَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَرَيْنَ».

EnglishUnverified translation

Al-Irbad ibn Sariya (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that he was with Allah the Seal of the Prophets while Adam was still cast in his clay, and announced he would tell of its first signs: the supplication of Ibrahim, the glad tidings of Isa, and the vision of his mother, as the mothers of the prophets likewise see. > **"I am with Allah the Seal of the Prophets while Adam was still cast in his clay. I will tell you of its beginning: I am the supplication of Ibrahim, the glad tidings of Isa, and the vision of my mother which she saw, as the mothers of the prophets see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہوں ، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام اس وقت اپنی طینت میں گوندھے ہوئے تھے اور میں تمہیں اس بارے میں سب سے پہلی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ ہوں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بیان کی ہوئی خوشخبری ہوں ، اور ان خوابوں کا نتیجہ ہوں جو میرے والدہ نے دیکھے تھے ، انبیاء کرام کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی ہیں ۔‘‘

13846

Majma al-Zawaid #13846

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَإِنَّ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْهُ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورَ الشَّامِ».

EnglishUnverified translation

In another wording, the mother of the Messenger of Allah ﷺ beheld at his delivery a radiance extending to the palaces of Sham. > **"A light by which the palaces of Sham were lit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کی والدہ ماجدہ نے جب آپ کو جنم دیا ، تو انہوں نے ایک نور دیکھا ، جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے ۔‘‘

13847

Majma al-Zawaid #13847

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَبِشَارَةُ عِيسَى قَوْمَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: «سَأُحَدِّثُكُمْ تَأْوِيلَ ذَلِكَ: دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ، دَعَا: {وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ} [البقرة: 129]. وَبِشَارَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ قَوْلُهُ: {وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ} [الصف: 6]. وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ فِي مَنَامِهَا، أَنَّهَا وَضَعَتْ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ». وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سُوِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

In another wording the report adds the glad tidings given by Isa to his people, explaining its interpretation as the supplication of Ibrahim for a messenger from among them, the announcement of a messenger named Ahmad coming after him, and the vision of his mother in sleep of a light that lit the palaces of Sham. > **"I will tell you its interpretation: the supplication of Ibrahim, who prayed for a messenger from among them; the glad tidings of Isa ibn Maryam, who announced a messenger to come after him named Ahmad; and the vision of my mother, who saw in sleep that she placed a light by which the palaces of Sham were lit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اور ( میں ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس خوشخبری سے متعلق ایک فرد ہوں ، جو خوشخبری اُنہوں نے اپنی قوم کو دی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ میں تمہیں اس کے مفہوم کے بارے میں بتاتا ہوں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے مراد یہ دعا ہے : ’’ اے اللہ ! تو ان کے درمیان ایسے رسول کو مبعوث کرنا ، جو ان میں سے ہو ۔‘‘ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری سے مراد ان کا یہ کہنا ہے : ’’ میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنانے والا ہوں ، جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہو گا ‘‘ اور میری والدہ کے خواب سے مراد ، وہ خواب ہے ، جو انہوں نے سونے کے دوران دیکھا تھا کہ انہوں نے ایک نور کو جنم دیا ہے ، اور اس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔‘‘ امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سوید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

13848

Majma al-Zawaid #13848

«وَعَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: "" وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Maysara al-Fajr (radiya Allahu anhu) reports asking the Messenger of Allah ﷺ when he was inscribed as a prophet, and he answered that it was when Adam was between soul and body. > **"While Adam was between soul and body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت میسرہ فجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا نبی ہونا کب نوٹ کیا گیا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13849

Majma al-Zawaid #13849

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى جُعِلْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: "" وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Shaqiq reports from a man who asked the Messenger of Allah ﷺ when he was made a prophet, and he answered that it was when Adam was between soul and body. > **"While Adam was between soul and body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شقیق ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کب نبی بنایا گیا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13850

Majma al-Zawaid #13850

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: "" وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports being asked when the Messenger of Allah ﷺ was inscribed as a prophet. The reply placed it at a time when Adam was still between soul and body. > **"While Adam was between soul and body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گی : یا رسول اللہ ! آپ کو کب نبی نوٹ کیا گیا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13851

Majma al-Zawaid #13851

وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: «أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَلْقٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ: أَلَا تُعْطِينِي شَيْئًا أَتَعَلَّمُهُ وَأَحْمِلُهُ وَيَنْفَعُنِي وَلَا يَضُرُّكَ؟ فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ، اجْلِسْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ الرَّجُلُ لِيَعْلَمَ "". فَأَفْرَجُوا لَهُ حَتَّى جَلَسَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ مِنْ نُبُوَّتِكَ؟ قَالَ: "" أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ كَمَا أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ "". ثُمَّ تَلَا: "" {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا} [الأحزاب: 7] وَبُشْرَى الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَرَأَتْ أُمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِهَا أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْهَا سِرَاجٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: هَاهْ. وَأَدْنَى مِنْهُ رَأْسَهُ، وَكَانَ فِي سَمْعِهِ شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَوَرَاءَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Maryam (radiya Allahu anhu) reports a Bedouin approaching the Prophet ﷺ among many people, asking for something beneficial to learn that would not harm him. The people made room, the Prophet ﷺ bade them leave him since a man asks to learn, and the Bedouin asked what his prophethood was. He answered that Allah took his covenant as He took the covenant of the prophets, then recited the verse of the covenant taken from the prophets including himself, Nuh, Ibrahim, Musa, and Isa ibn Maryam, described himself as the glad tidings of the Messiah, and mentioned the dream of the mother of the Messenger of Allah ﷺ of a lamp emerging from between her legs that lit the palaces of Sham. The Bedouin drew near, hard of hearing, and the Prophet ﷺ added that there was more beyond that. > **"Allah took my covenant as He took the covenant of the prophets. I am the glad tidings of the Messiah Isa ibn Maryam, and the mother of the Messenger of Allah saw in sleep a lamp emerge from between her legs that lit the palaces of Sham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور آ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس ٹھہر گیا ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے ، اس نے کہا : کیا آپ لوگ مجھے یہ موقع نہیں دیں گے کہ میں ان سے علم حاصل کروں اور اس بات کو سیکھ لوں جو مجھے نفع دے گی ، اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، تو لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے تم بیٹھ جاؤ ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے موقع دو ! یہ شخص اس لئے سوال کرنا چاہتا ہے ، تاکہ اسے علم ہو جائے ، لوگوں نے اس کے لئے کشادگی پیدا کی ، یہاں تک کہ وہ بیٹھ گیا اس نے دریافت کیا : آپ کی نبوت کیا چیز ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میثاق لیا ، جس طرح اس نے انبیاء کرام سے میثاق لیا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور جب ہم نے انبیاء سے ان کا میثاق لیا ، تم سے اور نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے ، اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا .......‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) میں حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری ہوں ، اللہ کے رسول ﷺ کی والدہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ان کے درمیان سے ایک چراغ نکلا ، جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا ، تو اس دیہاتی نے کہا : ہاہ ، پھر اس نے اپنا سر نبی اکرم ﷺ کے قریب کیا ، یوں محسوس ہوا جیسے اس کی سماعت میں کچھ کمزوری تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے علاوہ بھی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13852

Majma al-Zawaid #13852

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مِنْ كَرَامَتِي عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ وُلِدْتُ مَخْتُونًا وَلَمْ يَرَ أَحَدٌ سَوْأَتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ الْفَزَارِيِّ وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ counted among his honor before his Lord that he was born circumcised and that no one saw his private parts. > **"Among my honor before my Lord is that I was born circumcised, and no one saw my nakedness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے مجھے جو عزت عطا کی ہے کہ اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ میں ختنہ شدہ پیدا ہوا تھا ، کسی نے میری شرمگاہ کو نہیں دیکھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن فزاری ہے ، اور اس پر اس حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے ۔

13853

Majma al-Zawaid #13853

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَتَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ طَهَّرَ قَلْبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ مُحَارِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakra (radiya Allahu anhu) reports that Jibril (alayhi al-salam) circumcised the Prophet ﷺ at the time he purified his heart.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ کے ختنے کیے تھے ، اس وقت جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دل کو دھویا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عیینہ اور ایک راوی سلمہ بن محارب ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13854

Majma al-Zawaid #13854

عَنْ كِنْدِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «حَجَجْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا رَجُلٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ يَقُولُ: رَبِّ رُدَّ عَلَيَّ رَاكِبِي مُحَمَّدًا ... رُدَّهُ لِي وَاصْطَنَعَ عِنْدِي يَدَا قُلْتُ: مَنْ هَذَا تَعْنِي؟ قَالَ: عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنُ هَاشِمٍ، ذَهَبَتْ إِبِلٌ لَهُ فَأَرْسَلَ ابْنَ ابْنِهِ فِي طِلْبَتِهَا، فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِ وَلَمْ يُرْسِلْهُ فِي حَاجَةٍ قَطُّ إِلَّا جَاءَ بِهَا. قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ بِالْإِبِلِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ حَزِنْتُ عَلَيْكَ كَالْمَرْأَةِ حُزْنًا لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Kundir ibn Sad reports from his father that during Hajj in Jahiliyya he saw a man circumambulating the House chanting verses beseeching his Lord to return his rider Muhammad to him and bestow a favor. Asked who he meant, he was told it was Abdul Muttalib ibn Hashim, whose camels had strayed, so he sent his grandson seeking them and the boy was delayed, though never before sent on a need but he fulfilled it. Soon the Prophet ﷺ arrived bringing the camels, and Abdul Muttalib addressed him with grief like a woman's, bidding him never leave him. > **"My Lord, return my rider Muhammad to me; return him to me and bestow a favor upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کندیر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں زمانہ جاہلیت میں حج کے لئے گیا ، تو وہاں ایک شخص بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہا تھا : ’’ اے میرے پروردگار ! میرے سوار ’’ محمد ‘‘ کو میرے پاس واپس لے آ ، تو اسے میرے پاس لے آ ! اور مجھ پر احسان کر دے ۔‘‘ میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ اور ان کی مراد کیا ہے ؟ تو کسی نے بتایا : یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ، ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا ، انہوں نے اپنے پوتے کو اس کی تلاش میں بھیجا ہے ، اسے آنے میں دیر ہو گئی ہے ، پہلے یہ اسے جس کام کے لئے بھیجتے تھے ، وہ اس کام کو پورا کر کے آ جاتا تھا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اور اونٹ بھی آ گیا ، تو جناب عبدالمطلب نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں تمہارے حوالے سے اس مرتبہ بہت پریشان ہو گیا تھا ، تم مجھ سے کبھی جدا نہ ہوا کرو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13855

Majma al-Zawaid #13855

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: «كَانَ أَبُو طَالِبٍ يَصْنَعُ الطَّعَامَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ لَمْ يُحْبَسْ حَتَّى يَأْخُذَ شَيْئًا فَيَضَعُهُ تَحْتَهُ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: إِنَّ ابْنَ أَخِي لَيُحِسُّ بِكَرَامَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ammar (radiya Allahu anhu) reports that Abu Talib would prepare food for the people of Makka, and when the Messenger of Allah ﷺ entered he would not be detained until taking something to place beneath himself, upon which Abu Talib observed a sense of honor in his nephew. > **"Indeed my nephew perceives dignity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بیان کرتے ہیں : جناب ابوطالب اہل مکہ کے لئے کھانا تیار کرتے تھے ، اور نبی اکرم ﷺ جب تشریف لائے ، تو پہلے نیچے کچھ رکھے بغیر تشریف فرما نہیں ہوئے ، تو جناب ابوطالب نے کہا : میرا بھتیجا ، کرامت ( یعنی بزرگی ) کا احساس رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

13856

Majma al-Zawaid #13856

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الشَّيَاطِينِ "". قَالُوا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that every one of them had a companion from the devils appointed over him. Asked whether this included himself, he affirmed it, adding that Allah aided him against his companion so he submitted. > **"There is none among you but that a companion from the devils has been appointed over him. Yes, even me, but Allah aided me against him so he submitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ شیاطین سے تعلق رکھنے والا ایک ’’ قرین ‘‘ مقرر کیا گیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی ہے ، اور وہ مسلمان ہو گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف قابوس بن ابوظبیان کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

13857

Majma al-Zawaid #13857

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا جُعِلَ مَعَهُ قَرِينٌ مِنَ الْجِنِّ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ؟ قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو حَمَّادٍ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughira ibn Shuba (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that everyone had a companion from the jinn placed with him. Asked whether this included himself, he affirmed it, adding that Allah aided him so his companion submitted and commanded him only with good. > **"There is no one but that a companion from the jinn has been placed with him. Not even me, except that Allah aided me against him so he submitted, and he commands me with nothing but good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر ایک کے ساتھ ، جنات سے تعلق رکھنے والا ایک ’’ قرین ‘‘ مقرر کیا گیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : آپ کے ساتھ بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی ، اور وہ مسلمان ہو گیا ، تو وہ مجھے صرف بھلائی کے بارے میں ہی کہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحماد مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13858

Majma al-Zawaid #13858

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِخَصْلَتَيْنِ: كَانَ شَيْطَانِي كَافِرًا فَأَعَانَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ، وَنَسِيتُ الْخَصْلَةَ الْأُخْرَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ صِرْمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ declared favor over the prophets by two traits: his devil was a disbeliever, but Allah aided him against him until he submitted. The narrator adds that he forgot the other trait. > **"I was favored over the prophets by two traits: my devil was a disbeliever, but Allah aided me against him until he submitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے دیگر انبیاء پر دو حوالوں سے فضیلت دی گئی ہے ، میرا شیطان کافر تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے خلاف میری مدد کی ، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گیا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : دوسری بات میں بھول چکا ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن صرمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔