Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 37 · Chapter 2

Book of the Prophets

Hadith 13787–13818

32 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13787

Majma al-Zawaid #13787

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمْرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ عَجَّلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ his hope that if his life be prolonged he would meet Isa ibn Maryam عليه السلام, and his instruction that if death hastens him, whoever among his followers meets him should convey his greeting of peace. > **"Indeed I hope, if my life be prolonged, to meet Isa ibn Maryam. If death hastens me, then whoever of you meets him, let him convey my greeting of peace to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ اگر میری زندگی طویل ہوئی ، تو میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کر لوں گا ، اور اگر مجھے جلدی موت آ گئی ، تو تم میں سے جو شخص اُن سے ملے ، تو وہ میری طرف سے انہیں سلام کہہ دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13788

Majma al-Zawaid #13788

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُولٌ، إِلَّا أَنَّهُ خَلِيفَتِي فِي أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي، أَلَا إِنَّهُ يَقْتُلُ الدَّجَّالَ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، أَلَا فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said there is no prophet or messenger between him and Isa ibn Maryam عليه السلام except that he is his successor over his ummah after him, that he will kill the Dajjal, break the cross, abolish the jizyah, cause war to lay down its burdens, and that whoever reaches him should convey peace. Part of this is noted to be in the Sahih. > **"Verily Isa ibn Maryam, there is no prophet or messenger between me and him, except that he is my successor over my ummah after me. Verily he will kill the Dajjal, and break the cross, and abolish the jizyah, and war shall lay down its burdens. Whoever of you reaches him, let him convey peace to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار ! حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام وہ ہیں ، کہ اُن کے اور میرے درمیان نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی کوئی رسول ہے ، البتہ میرے بعد وہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے ، خبردار ! وہ دجال کو قتل کر دیں گے ، صلیب کو توڑ دیں گے ، جزیہ کو ختم کر دیں گے اور اس وقت جنگ ختم ہو جائے گی ، خبردار ! تم میں سے جو ان کا زمانہ پائے ، تو وہ انہیں سلام کہہ دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13789

Majma al-Zawaid #13789

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَمْكُثُ فِي النَّاسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said Isa ibn Maryam عليه السلام will descend and remain among people for forty years. > **"Isa ibn Maryam will descend and remain among people for forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابویرہرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے اور لوگوں کے درمیان چالیس سال رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13790

Majma al-Zawaid #13790

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aws ibn Aws رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that Isa ibn Maryam عليه السلام will descend at the white minaret to the east of Damascus. > **"Isa ibn Maryam will descend at the white minaret to the east of Damascus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی حصے میں موجود سفید منارے پر نزول کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13791

Majma al-Zawaid #13791

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ. فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: حَسْبُكَ أَنْ تَقُولَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّا كُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ خَارِجٌ، فَإِنْ كَانَ خَارِجًا فَقَدْ كَانَ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports as an athar that a man said before al-Mughirah ibn Shubah رضي الله عنه that blessings be upon Muhammad, the Seal of the Prophets with no prophet after him, whereupon al-Mughirah replied that saying Seal of the Prophets sufficed, for they used to relate that Isa ibn Maryam عليه السلام would emerge, and if he emerges then he was both before him and after him. > **"It suffices thee to say: the Seal of the Prophets. We used to relate that Isa ibn Maryam will emerge. If he emerges, then he was indeed before him and after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات کہی : اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ پر درود نازل کرے ، جو انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ظہور کریں گے اور اگر وہ ظہور کریں گے تو وہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے بھی ہو جائیں گے ، اور بعد میں بھی ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13792

Majma al-Zawaid #13792

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: يُدْفَنُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبَيْهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَيَكُونُ قَبْرُهُ رَابِعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَدْ ذَكَرَ الْمِزِّيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذَا فِي تَرْجَمَتِهِ، وَعَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ وَقَالَ: حَسَنٌ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْأَطْرَافِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam رضي الله عنه reports as an athar that Isa ibn Maryam عليه السلام will be buried with the Messenger ﷺ and his two companions رضي الله عنهما, so that his grave will be the fourth. > **"Isa ibn Maryam will be buried with the Messenger of Allah and his two companions, so his grave will be the fourth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں ساتھیوں ( یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کے درمیان دفن کیا جائے گا ، تو چوتھی قبر ان کی ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ضحاک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوداؤد نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام مزی نے یہ روایت ان کے حالات میں نقل کی ہے ، اور اس کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے اور وہ یہ کہتے ہیں : یہ حسن ہے ، تاہم ’’ اطراف ‘‘ میں مجھے یہ روایت نہیں ملی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13793

Majma al-Zawaid #13793

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ مَكَثَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرْبَعِينَ سَنَةً» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ فَاطِمَةَ.

EnglishUnverified translation

Fatimah, daughter of the Messenger ﷺ, رضي الله عنها reports that the Messenger ﷺ told her that Isa ibn Maryam عليه السلام remained among Banu Israil for forty years. > **"Indeed Isa ibn Maryam remained among Banu Israil for forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ بے شک عیسیٰ بن مریم ، بنی اسرائیل میں چالیس سال رہے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حسین بن علی بن اسود کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، اور یحیی بن جعدہ نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

13794

Majma al-Zawaid #13794

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ، وَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ. قَالَ: كَمْ عُمْرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ. فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمْرِهِ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ قَالَ: قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجْلِي أَرْبَعُونَ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ قَدْ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ. قَالَ: فَجَحَدَ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ وَقَالَ: كَمْ عُمْرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ سَنَةً، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said thrice that the first to deny was Adam عليه السلام. When Allah created him He wiped his back and brought forth his progeny and presented them, he saw among them a shining man, asked who he was, was told he was his son Dawud, asked his age, was told sixty, asked increase, was told only by giving from his own age, gave forty years, Allah wrote a document with angels as witnesses, and when seizure of his soul was intended he claimed forty remained, was reminded he had given them to Dawud, denied, so Allah produced the document and proof, completing a hundred for Dawud and a thousand for Adam. > **"The first to deny was Adam. When Allah created him He wiped his back and brought forth his progeny and presented them to him. He saw among them a man shining and said: My Lord, who is this? He said: This is thy son Dawud. He said: How long is his age? He said: Sixty. He said: My Lord, increase his age. He said: No, unless thou increasest him from thy age. So he gave him forty years from his age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے پہلے اپنی بات کا انکار حضرت آدم علیہ السلام نے کیا تھا ، یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اور یہ فرمایا : کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت کو نکال دیا اور ان کی ذریت کو ان کے سامنے پیش کیا ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جو چمک رہا تھا ( یا خوبصورت تھا ) تو دریافت کیا : اے میرے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ پروردگار نے بتایا : یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے ، حضرت آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : اس کی عمر کتنی ہو گی ؟ پروردگار نے فرمایا : ساٹھ سال ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے ! پروردگار نے فرمایا : جی نہیں ! البتہ اگر تم اپنی عمر میں سے ( کچھ سال ) اس کو دے دیتے ہو ، تو یہ ہو سکتا ہے ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے ، اُن کی عمر میں چالیس سال زیادہ کروا دیے ، اللہ تعالیٰ نے اس پر تحریر نوٹ کر لی اور اس پر فرشتوں کو گواہ بنا دیا ، جب حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا ، تو انہوں نے کہا : میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں ، ان سے کہا گیا : وہ تو آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت داؤد علیہ السلام کو دیدیے تھے ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر نکلوائی اور اس کے ثبوت نکلوائے ، یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی عمر سو سال کی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر بھی پورے ایک ہزار سال ہوئی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جب قرض کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی .......‘‘۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں :” ان کی عمر کتنی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ساٹھ سال .......‘‘۔ باقی روایت حسب سابق مفہوم کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13795

Majma al-Zawaid #13795

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports that when the Messenger ﷺ mentioned Dawud عليه السلام he would describe him as the most worshipful of mankind. > **"He was the most worshipful of mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے : ’’ وہ سب سے زیادہ عبادت گزار بشر تھے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس بارے میں ایک طویل حدیث ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13796

Majma al-Zawaid #13796

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتِ الْأَبْوَابُ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ: مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ؟ وَاللَّهِ لَيُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ. فَجَاءَ دَاوُدُ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي الْحُجَّابُ. قَالَ لَهُ دَاوُدُ: أَنْتَ إِذًا وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ، مَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ. فَزَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ نَفْسُهُ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ: أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ. فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ، قَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اقْبِضِي جَنَاحًا "". فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ، وَصَلَّتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَخِيَّةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described the intense protective jealousy of Dawud the Prophet عليه السلام, whose doors were locked upon his exit until his return, the appearance of a man amid the house on one occasion to the alarm of his wife, the questioning of the stranger who feared neither kings nor veils, the recognition of the Angel of Death and welcome of Allah's command, the wrapping at the place of seizure until sunrise, and the shading by birds at the bidding of Sulayman until the earth darkened, whereupon a wing was withheld, with the Prophet ﷺ demonstrating the gesture and mention of prayer upon him that day. > **"Dawud the Prophet had intense jealousy. When he went out the doors were locked and none entered upon his family until he returned. Who art thou? I am he whom kings do not awe and from whom no veil withholds. Then thou art, by Allah, the Angel of Death. Welcome to the command of Allah. Shade Dawud. Withhold a wing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت داؤد نبی علیہ السلام کے مزاج میں سختی زیادہ تھی ، جب وہ گھر سے نکلتے تھے تو دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور پھر ان کے واپس آنے تک کوئی ان کی اہلیہ کے پاس نہیں آ سکتا تھا ، ایک دن وہ تشریف لے گئے ، دروازے بند کر دیے گئے ، ان کی اہلیہ آئیں اور انہوں نے صحن میں جھانکا ، تو صحن کے درمیان ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، انہوں نے گھر میں موجود خادمہ سے دریافت کیا : یہ شخص گھر میں کہاں سے آ گیا ہے ؟ جبکہ دروازے بند ہیں ، اللہ کی قسم ! یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ضرور شرمندہ ہو گا ، جب حضرت داؤد علیہ السلام آئے ، تو وہ شخص گھر کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا ، حضرت داؤد علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں وہ ہوں کہ میں نہ بادشاہوں سے ڈرتا ہوں ، اور نہ ہی کوئی رکاوٹ میرے لئے رکاوٹ بن سکتی ہے ، حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا : پھر تو تم اللہ کی قسم ! ملک الموت ہو گے ، اللہ کے حکم کو خوش آمدید ہے ، پھر حضرت داؤد نے اسی جگہ پر چادر اوڑھی ، جہاں ان کی جان قبض ہونی تھی ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، جب اُن پر سورج طلوع ہوا ، تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا : تم حضرت داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دو ! تو پرندوں نے حضرت داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دیا ، اور وہ اتنے پرندے تھے کہ پوری زمین پر سایہ ہو گیا ، تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا : تم اپنے پر سمیٹ لو ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں کر کے دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا تھا ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو بند کر لیا ( اور ارشاد فرمایا : ) اُس دن پرندوں نے بھی ان کے لیے دعائے رحمت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13797

Majma al-Zawaid #13797

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" «لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ رُوحَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ، فَمَا فُتِنُوا وَلَا بَدَّلُوا، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى سُنَنِهِ وَهَدْيِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ told his companions that Allah seized the soul of Dawud عليه السلام from among his companions yet they were neither tempted nor altered, and that the companions of the Messiah عليه السلام remained upon his practice and guidance for two hundred years. > **"Allah indeed seized the soul of Dawud from among his companions, yet they were neither tempted nor altered. And the companions of the Messiah remained upon his practice and guidance for two hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی روح کو اُن کے اصحاب کے درمیان قبض کیا تھا ، تو نہ وہ لوگ آزمائش کا شکار ہوئے ، اور نہ انہوں نے کوئی تبدیلی کی ، اور حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھی دو سو سال تک اُن کے طریقے اور ہدایت پر عمل پیرا رہے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

13798

Majma al-Zawaid #13798

عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَوَّلُ مَنْ صُنِعَتْ لَهُ النُّورَةُ وَدَخَلَ الْحَمَّامَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، فَلَمَّا دَخَلَهُ وَوَجَدَ حَرَّهُ وَغَمَّهُ قَالَ: أَوَّهْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، أَوَّهْ أَوَّهْ، قَبْلَ أَنْ لَا يَنْفَعُ أَوَّهْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَوْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that the first for whom depilatory paste was prepared and who entered the bathhouse was Sulayman ibn Dawud عليه السلام, who upon feeling its heat and distress lamented the punishment of Allah before lamentation would no longer benefit. > **"The first for whom the depilatory was prepared and who entered the bathhouse was Sulayman ibn Dawud. When he entered it and felt its heat and distress, he said: Alas for the punishment of Allah, alas, alas, before alas avails not."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخصیت کے لئے سب سے پہلے ’’ نورہ ‘‘ ( یعنی بال صفا پاؤڈر ) تیار کیا گیا اور جو سب سے پہلے حمام میں داخل ہوئے وہ حضرت سلیمان علیہ السلام تھے جب وہ اس میں داخل ہوئے اور انہیں اس کی گرمی اور مشکل محسوس ہوئی ، تو انہوں نے کہا : اُوہ ، یہ تو اللہ کے عذاب میں سے ہے ، اُوہ ، اُوہ ، اس سے پہلے کہ یہ نفع نہ دے ، اُوہ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبدالرحمن اودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13799

Majma al-Zawaid #13799

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيَقُولُ لَهَا: مَا اسْمُكِ؟ فَتَقُولُ: كَذَا. فَيَقُولُ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: لِكَذَا فَإِنْ كَانَتْ لِغَرْسٍ غَرَسَ، وَإِنْ كَانَتْ لِدَاءٍ كَتَبَ، فَبَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يُصَلِّي إِذَا شَجَرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: مَا اسْمُكِ؟ قَالَتْ: الْخَرْنُوبُ. قَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: لِخَرَابِ هَذَا الْبَيْتِ. قَالَ سُلَيْمَانُ: اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ. قَالَ: فَنَحَتَهَا عَصًا يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا، فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَ [ت فَخَرَّ] فَحَزَرُوا أَكْلَهَا - وَالْجِنُّ تَعْمَلُ - الْأَرَضَةَ فَوَجَدُوهُ حَوْلًا، فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ» "". وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا، فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا، وَفِيهِ عَطَاءٌ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that Sulayman the Prophet عليه السلام, when standing in his prayer place, would see a tree growing before him, ask its name and purpose, plant it if for planting and record it if for remedy, until one day a tree named al-Khar nub declared itself for the ruin of that House, whereupon Sulayman prayed that his death be hidden from the jinn so men would know they know not the unseen, carved a staff to lean upon, which termites consumed until he fell, the extent of eating estimated over a year while the jinn labored, thus making clear to men that had they known the unseen they would not have remained in humiliating punishment. Ibn Abbas would recite it thus, and the jinn thanked the termite by bringing it water wherever it was. > **"What is thy name? Al-Khar nub. For what art thou? For the ruin of this House. O Allah, conceal my death from the jinn until men know that the jinn know not the unseen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے ، تو اپنے آگے کسی درخت کو اگتے ہوئے دیکھتے ، تو اس سے دریافت کرتے : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ ہے ، وہ دریافت کرتے : تم کس مقصد کے لئے ہو ؟ وہ بتا دیتا : اس لئے ہوں ، اگر وہ بونے کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے بو دیا جاتا تھا اور اگر وہ بیماری کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے نوٹ کر لیا جاتا تھا ، ایک دن اسی طرح وہ نماز ادا کرنے لگے ، تو ان کے سامنے ایک درخت موجود تھا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ تو اس نے کہا : خرنوب ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کس لئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اس گھر کو بے آباد کرنے کے لئے ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی : اے اللہ ! میری موت کو جنات سے پوشیدہ رکھنا ، تاکہ انسانوں کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصا رکھا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا لی ، زمین اس عصا کو کھاتی رہی ، یہاں تک کہ چھ ( ماہ ) گزرنے کے بعد وہ عصا گر گیا ، تو حضرت سلیمان علیہ السلام بھی گر گئے ، اس دوران جنات کام کرتے رہے ، اور یہ صورت حال ایک سال تک رہی تھی ، تو انسانوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ جنات کو غیب کو علم ہوتا ، تو وہ رسوا کرنے والے عذاب میں مبتلاء نہ رہتے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح پڑھا کرتے تھے :’’ پھر جنات نے زمین کا شکریہ ادا کیا اور وہ اُن کے پاس پانی لے کے آتی تھی ، خواہ وہ جہاں بھی ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ان دونوں کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13800

Majma al-Zawaid #13800

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّوبَ كَانَ فِي بَلَائِهِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَانِ مِنْ إِخْوَانِهِ، كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ إِلَيْهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذَنَبَهُ أَحَدٌ. قَالَ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ فَيَكْشِفُ اللَّهُ عَنْهُ. فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ، لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ أَيُّوبُ: مَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلَّا فِي حَقٍّ. قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، وَأُوحِيَ إِلَى أَيُّوبَ فِي مَكَانِهِ أَنِ {ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ} [ص: 42] فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ يَنْتَظِرُوا، وَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى؟ وَوَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ بِهِ مُذْ كَانَ صَحِيحًا مِنْكَ. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ. وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرُ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرُ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ فَرَّغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described the trial of Allah's Prophet Ayyub عليه السلام for eighteen years, abandonment by near and far except two close brethren who visited morning and evening, the suspicion of an unparalleled sin voiced by one and conveyed to him, his reply that he knew not but that Allah knew he would pass two disputants mentioning Allah and return home to expiate for them lest Allah be mentioned except in truth, his going out for his need aided by his wife, the delay, the revelation to strike with his foot for a cool bath and drink, her astonished address upon seeing him restored at his best, his affirmation of identity, and the two threshing floors of wheat and barley filled to overflow with gold and silver from two clouds. > **"Indeed Allah's Prophet Ayyub remained in his trial for eighteen years. His kin and strangers abandoned him except two men of his brethren. Strike with thy foot; this is a cool bath and drink. I am he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک آزمائش کا شکار رہے تھے ، قریب اور دور کے سب لوگوں نے انہیں ایک طرف کر دیا تھا ، صرف ان کے دو دوست ایسے تھے ، جو ان کے قریبی ساتھی تھے ، وہ صبح و شام ان کے پاس آیا کرتے تھے ، ایک دن اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی قسم ! حضرت ایوب علیہ السلام نے ضرور کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہو گا ، جو گناہ کسی اور نے نہیں کیا ہو گا ، دوسرے شخص نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : اٹھارہ سال ہو گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں کیا اور ان کی بیماری کو ختم نہیں کیا ، جب وہ دونوں افراد حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئے ، تو اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، اس نے حضرت ایوب علیہ السلام کے سامنے بھی یہ بات ذکر کر دی ، تو حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ جو وہ کہہ رہا ہے ، اس میں کتنی حقیقت ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا ، وہ دونوں جھگڑا کر رہے تھے اور وہ دونوں اللہ کا ذکر کر رہے تھے ، تو میں اپنے گھر واپس آ گیا اور میں نے ان دونوں کی طرف سے اُس بات کا کفارہ دیا تھا ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان میں سے کوئی ایک ہی اللہ کا ذکر کر رہا ہو گا ، جو حق کے ہمراہ ہو گا ( تو دوسرا اپنی بات میں جھوٹا ہو گا ) ۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : حضرت ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، جب وہ قضائے حاجت کر کے فارغ ہوتے تھے ، تو ان کی اہلیہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ان کی جگہ تک لے آتی تھیں ، ایک دن اس اہلیہ کو ان کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، اس جگہ پر حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف یہ وحی نازل ہوئی کہ آپ اپنا پاؤں ماریں ، یہاں سے ٹھنڈا پانی نکلے گا ، جو پینے کے لائق بھی ہو گا ، اس خاتون کو ان کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، پھر اس نے دیکھا کہ حضرت ایوب علیہ السلام اس کی طرف آ رہے تھے اور ان کی آزمائش اللہ تعالیٰ نے ختم کر دی تھی ، اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت حالت میں تھے ، جب اُس خاتون نے انہیں دیکھا ، تو کہا : اے شخص ! اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں برکت رکھے ، کیا تم نے آزمائش کا شکار اللہ کے نبی کو دیکھا ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب وہ صحیح ہوتے تھے ، تو وہ اس وقت جس طرح کے تھے ، میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو تم سے زیادہ اُن سے مشابہت رکھتا ہو ، تو حضرت ایوب علیہ السلام نے کہا : وہ میں ہی ہوں ، حضرت ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے ، ایک گودام گندم کا تھا اور ایک جَو کا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ، جب ان میں سے ایک بادل گندم کے گودام کے پاس آیا ، تو اس نے اس پر سونے کی بارش کی ، یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور دوسرے نے جَو کے گودام پر چاندی کی بارش کی ، یہاں تک کہ وہ بھر گیا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13801

Majma al-Zawaid #13801

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاكَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا تَذْكُرُونَ بَيْنَكُمْ؟ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" فَمَنْ فَضَّلْتُمْ؟ "". فَقُلْنَا: فَضَّلْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ خَيْرًا مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" أَلَمْ تَسْمَعُوا كَيْفَ نَعَتَهُ فِي الْقُرْآنِ {يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا} [مريم: 12] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {حَيًّا} [مريم: 15] {مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ} [آل عمران: 39] لَمْ يَعْمَلْ سَيِّئَةً وَلَمْ يَهِمَّ بِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that he sat in a circle in the mosque discussing the virtues of the prophets and who was most excellent, mentioning Nuh and his long worship, Ibrahim the Khalil of the Most Merciful, Musa the one spoken to by Allah, Isa ibn Maryam, and the Messenger ﷺ, until the Messenger ﷺ came out and asked what they discussed, was told and asked whom they preferred, was told they had preferred him as sent to all mankind, forgiven past and future, and Seal of the Prophets, whereupon he declared none should be better than Yahya ibn Zakariyya, citing his description in the Quran from the command to take the Book with force through Hayya and as confirmer of a Word from Allah, a chief, chaste and prophet righteous, who never did evil nor intended it. > **"What are you discussing among yourselves? Whom have you preferred? None should be better than Yahya ibn Zakariyya. Hast thou not heard how He described him in the Quran: O Yahya, take the Book with force, and We gave him wisdom as a child. He never did an evil deed nor intended it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں ایک حلقے میں موجود تھا ، ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طویل عرصہ تک عبادت کی ، ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کا ذکر کیا ، ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کی : ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنے پروردگار کی عبادت کی ، ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، اور یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کا بھی ذکر کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم نے کسے افضل قرار دیا ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو افضل قرار دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا ہے ، اور آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ، اور آپ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یحیی بن زکریا سے زیادہ بہتر ہو ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے سنا نہیں ہے ؟ کہ قرآن میں ان کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں : ’’ اے یحیی ! تم کتاب کو قوت کے ساتھ حاصل کر لو ، اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم ( یعنی نبوت ) عطا کر دیا تھا .......‘‘۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے :” زندہ ‘‘ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کلمے کی تصدیق کرنے والا تھا ، سردار تھا اور عورتوں سے بچنے والا تھا ، اور ( ہمارے ) خاص لوگوں میں سے نبی تھا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ) ’’ انہوں نے کبھی کوئی برا کام نہیں کیا تھا ، اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13802

Majma al-Zawaid #13802

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ [بِخَطِيئَةٍ] لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: "" فَإِنَّهُ لَمْ يَهُمَّ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْهَا "". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said every one of the children of Adam has erred or intended a fault except Yahya ibn Zakariyya عليه السلام, with the addition that he neither intended it nor did it. > **"There is none of the children of Adam but has erred or intended a fault, except Yahya ibn Zakariyya. He neither intended it nor did it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اولاد آدم میں سے ہر ایک نے ، یا تو کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو گا ، یا غلطی کا ارادہ کیا ہو گا ، لیکن حضرت یحیی بن ذکریا علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ انہوں نے کبھی اس کا ارادہ نہیں کیا ، اور انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13803

Majma al-Zawaid #13803

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، مَا هَمَّ بِخَطِيئَةٍ "". أَحْسَبُهُ قَالَ: "" وَلَا عَمِلَهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said none should say he is better than Yahya ibn Zakariyya عليه السلام, who never intended a fault, with the narrator thinking the addition that he never did it. > **"It befits none to say: I am better than Yahya ibn Zakariyya. He never intended a fault, nor did it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے : میں حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام سے زیادہ بہتر ہوں ، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اور انہوں نے ( کبھی ) اس ( برائی ) پر عمل بھی نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13804

Majma al-Zawaid #13804

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَلْقَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِذَنْبٍ، وَقَدْ يُعَذِّبُهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ أَوْ يَرْحَمُهُ، إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا، فَإِنَّهُ كَانَ "" سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ "". وَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَذَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخَذَهَا وَقَالَ: "" ذَكَرُهُ مِثْلَ هَذِهِ الْقَذَاةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّعَيْنِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said every son of Adam will meet Allah on the Day of Resurrection with a sin for which He may punish or show mercy as He wills, except Yahya ibn Zakariyya عليه السلام, who was a chief, chaste and prophet righteous, whereupon the Prophet ﷺ stooped to a speck upon the earth, took it, and likened his member to it. > **"Every son of Adam will meet Allah on the Day of Resurrection with a sin, and He may punish him for it if He wills or show him mercy, except Yahya ibn Zakariyya, for he was a chief and chaste and a prophet of the righteous. His member was like this speck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ہر انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی گناہ کے ہمراہ حاضر ہو گا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہو گا ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اس گناہ کے حوالے سے اسے عذاب دیدے گا اور اگر چاہے گا ، تو اس پر رحم کر دے گا ، صرف حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ سردار تھے ، پاک دامن تھے اور نبی تھے ، اور نیک لوگوں میں سے تھے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے زمین پر پڑے ہوئے ایک تیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے پکڑایا اور پھر یہ فرمایا : اُن کی شرمگاہ اس تیلے کی مانند تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن سلیمان رعینی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13805

Majma al-Zawaid #13805

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said none should say he is better with Allah than Yunus ibn Matta عليه السلام. > **"It befits none to say: I am better with Allah than Yunus ibn Matta."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ۔

13806

Majma al-Zawaid #13806

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ "". فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: "" قُمْ فَصَلِّ "". قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ؟ قَالَ: "" خَيْرُ مَوْضُوعٍ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّوْمُ؟ قَالَ: "" فَرْضٌ مُجْزِئٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ "". قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "" آدَمُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "" ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِيرًا "". أَوْ قَالَ مَرَّةً: "" خَمْسَةَ عَشَرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آدَمُ نَبِيٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، مُكَلَّمٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "" آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هُوَ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ، وَالْكَلَامُ عَلَيْهِمَا فِي الْعِلْمِ فِي حُسْنِ السُّؤَالِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ in the mosque and sat, was asked whether he had prayed and bidden to rise and pray, then bidden to seek refuge from the evil of devils of men and jinn, asked about human devils, prayer, fasting, charity and its most excellent form, the first of the prophets, his prophethood and converse, the number of messengers, the prophethood of Adam, and the greatest verse revealed, to which the Prophet ﷺ answered affirmatively and instructively throughout, ending with Ayat al-Kursi. > **"O Abu Dharr, hast thou prayed? Rise and pray. O Abu Dharr, seek refuge with Allah from the evil of the devils of men and jinn. Yes. Prayer is the best placed; who wills may do less and who wills may do more. Fasting is an obligatory sufficiency, and with Allah is increase. Manifold multiples. The effort of one with little, or secrecy to a poor man. Adam. Yes, a prophet spoken to. Three hundred and a dozen-odd, a great multitude. Ayat al-Kursi: Allah, there is no god but He, the Living, the Sustainer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھو اور نماز ادا کرو ! راوی کہتے ہیں : میں اُٹھا اور میں نے نماز ادا کی ، پھر میں آ کر بیٹھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : نماز کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دی گئی بہتر چیز ہے ، جو شخص چاہے کم کر لے ، اور جو شخص چاہے وہ زیادہ کر لے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک ایسا فرض ہے ، جس کی جزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید ( انعام و اکرام بھی ) ملے گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک ایسی چیز ، جس کا کئی گنا اجر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسے شخص کا صدقہ کرنا ، جس کے پاس مال کم ہو اور وہ محنت کر کے ( کمائی کو صدقہ کرے ) یا پھر کسی غریب کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء میں کون سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! وہ ایسے نبی تھے ، جس کے ساتھ کلام کیا گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین سو دس سے زیادہ زیادہ ہے ، جو ایک بڑی تعداد ہے ( ایک مرتبہ راوی نے لفظ تین سو پندرہ نقل کیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ پر جو کچھ نازل ہوا ہے ، ان میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آیت الکرسی ، يعنى «الله لا اله الا هو الحي القيوم» ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے ، اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ، اور ان دونوں پر کلام بھی گزر چکا ہے ، جو کتاب العلم میں ، اچھے طریقے سے سوال کرنے سے متعلق باب میں ہے ۔

13807

Majma al-Zawaid #13807

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ؟ قَالَ: "" عَشَرَةُ قُرُونٍ "". قَالَ: كَمْ كَانَ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: "" عَشَرَةُ قُرُونٍ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: "" ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that a man asked the Messenger ﷺ whether Adam عليه السلام was a prophet, how many generations between him and Nuh عليه السلام, between Nuh and Ibrahim عليه السلام, and how many messengers there were, to which the Prophet ﷺ answered affirmatively, ten generations, ten generations, and three hundred and thirteen. > **"Yes. Ten generations. Ten generations. Three hundred and thirteen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : ان کے اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے دریافت کیا : حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسول کتنے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تین سو تیرہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف احمد بن خلید حلبی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13808

Majma al-Zawaid #13808

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَعَثَ اللَّهُ ثَمَانِيَةَ آلَافِ نَبِيٍّ، أَرْبَعَةُ آلَافٍ إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَأَرْبَعَةُ آلَافٍ إِلَى سَائِرِ النَّاسِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said Allah sent eight thousand prophets, four thousand to Banu Israil and four thousand to the rest of mankind. > **"Allah sent eight thousand prophets: four thousand to Banu Israil and four thousand to the rest of mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار انبیاء کو مبعوث کیا ہے ، جن میں سے چار ہزار بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے ، اور چار ہزار باقی سب لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

13809

Majma al-Zawaid #13809

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَقَدْ سُرَّ فِي ظِلِّ سَرْحَةٍ سَبْعُونَ نَبِيًّا لَا سُرْفُ وَلَا عُرُدُ وَلَا تُعْبَلُ» " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said seventy prophets were sheltered in the shade of a sarhah tree, with obscure terms concerning provision and burdens. > **"Seventy prophets were sheltered in the shade of a sarhah tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سرحہ ( نامی درخت ) کے سائے میں ( یس بی آر ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اعمش کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو انہوں نے عبداللہ بن ذکوان سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13810

Majma al-Zawaid #13810

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ثَمَانِيَةِ آلَافِ نَبِيٍّ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وُثِّقِ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ was sent after eight thousand prophets, among them four thousand from Banu Israil. > **"The Prophet of Allah was sent after eight thousand prophets, among them four thousand from Banu Israil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی کو آٹھ ہزار انبیاء کرام کے بعد مبعوث کیا گیا ہے ، جن میں سے چار ہزار انبیاء کرام کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

13811

Majma al-Zawaid #13811

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا عَشَرَةً: نُوحٌ وَهُودٌ وَلُوطٌ وَصَالِحٌ وَشُعَيْبٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَإِسْمَاعِيلُ وَإِسْحَاقُ وَعِيسَى وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ اسْمَانِ، إِلَّا عِيسَى وَيَعْقُوبَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports as a mawquf athar that the prophets were from Banu Israil except ten: Nuh, Hud, Lut, Salih, Shuayb, Ibrahim, Ismail, Ishaq, Isa and Muhammad, peace upon them, and that every prophet has two names except Isa and Yaqub عليهما السلام. > **"The prophets are from Banu Israil except ten: Nuh, Hud, Lut, Salih, Shuayb, Ibrahim, Ismail, Ishaq, Isa and Muhammad. There is no prophet but has two names, except Isa and Yaqub."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ انبیاء کرام کا تعلق بنی اسرائیل سے رہا ہے ، البتہ دس حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ ، ہر ایک نبی کے دو نام تھے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13812

Majma al-Zawaid #13812

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said the prophets are alive in their graves, praying. > **"The prophets are alive in their graves, praying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

13813

Majma al-Zawaid #13813

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ، وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ، وَلَيَعْرِضَنَّ الْمَالَ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَأُجِيبَنَّهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ swear by Him in Whose Hand is the soul of Abu al-Qasim that Isa ibn Maryam عليه السلام will surely descend as a just leader and equitable judge, will break the cross, kill the swine, reconcile relations, remove hatred, have wealth offered yet none accept it, and that were he to stand upon his grave and call O Muhammad he would surely answer him. Part is noted to be in the Sahih in abridged form. > **"By Him in Whose Hand is the soul of Abu al-Qasim, Isa ibn Maryam shall surely descend as a just leader and an equitable judge. He shall surely break the cross, and kill the swine, and reconcile relations, and remove hatred, and wealth shall surely be offered yet none shall accept it. Then if he stood upon my grave and said: O Muhammad, I would surely answer him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منصف حکمران اور عدل کرنے والے قاضی کے طور پر نازل ہوں گے اور وہ صلیب توڑ دیں گے اور لوگوں کے درمیان صلح کروا دیں گے اور آپس کی دشمنی ختم ہو جائے گی ، اور مال پیش کیا جائے گا ، لیکن کوئی اُسے قبول ( یعنی وصول ) نہیں کرے گا اور اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر یہ کہیں : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! تو میں انہیں ضرور جواب دوں گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13814

Majma al-Zawaid #13814

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" كَانَ فِيمَنْ خَلَا مِنْ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ نَبِيٍّ، ثُمَّ كَانَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، ثُمَّ كُنْتُ أَنَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي تَرْجَمَتِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ say that among his brethren prophets who passed there were eight thousand prophets, then came Isa ibn Maryam عليه السلام, then himself. > **"Among my brethren of the prophets who passed there were eight thousand prophets, then came Isa ibn Maryam, then came I."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ انبیاء کرام میں سے مجھ سے پہلے جو بھائی گزرے ہیں ، ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ، اور پھر ’’ میں ‘‘ مبعوث ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ حدیث ان کے حالات میں نقل ہوئی ہے ۔

13815

Majma al-Zawaid #13815

«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ اللَّيَالِي أَحْمِلُ لَهُ الطَّهُورَ، إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا فَقَالَ: "" يَا أَنَسُ صَهٍ "". فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مَا يُنَجِّينِي مِمَّا خَوَّفْتَنِي مِنْهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ قَالَ أُخْتَهَا "". فَكَأَنَّ الرَّجُلَ لُقِّنَ مَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَارْزُقْنِي شَوْقَ الصَّادِقِينَ إِلَى مَا شَوَّقْتَهُمْ إِلَيْهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَنَسُ، ضَعِ الطَّهُورَ وَائْتِ هَذَا الْمُنَادِي، فَقُلْ لَهُ أَنْ يَدْعُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ "". فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ادْعُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ اللَّهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ. فَقَالَ: وَمَنْ أَرْسَلَكَ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُعْلِمَهُ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: وَمَا عَلَيْكَ رَحِمَكَ اللَّهُ بِمَا سَأَلْتُكَ؟ فَقَالَ: أَوَّلًا تُخْبِرُنِي مَنْ أَرْسَلَكَ؟ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: "" قُلْ لَهُ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". فَقَالَ لِي: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ، وَمَرْحَبًا بِرَسُولِهِ، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَهُ، أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ: الْخَضِرُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَضَّلَكَ عَلَى النَّبِيِّينَ كَمَا فَضَّلَ شَهْرَ رَمَضَانَ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ، وَفَضَّلَ أُمَّتَكَ عَلَى الْأُمَمِ كَمَا فَضَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى سَائِرِ الْأَيَّامِ. فَلَمَّا وَلَّيْتُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَرْحُومَةِ الْمُرْشَدَةِ الْمُتَابِ عَلَيْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَضَّاحُ بْنُ عَبَّادٍ الْكُوفِيُّ، تَكَلَّمَ فِيهِ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْمُنَادِي، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ بِشْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرٍ الْعَمِّيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that he went out with the Messenger ﷺ on one of the nights carrying purification water, when the Prophet ﷺ heard a caller and bade silence, supplicated for aid in what saves from what he was made to fear, remarked would he said its sister, whereupon the man was inspired to add longing of the truthful, then the Prophet ﷺ sent Anas to bid the caller pray for the Messenger's aid in his mission and for his ummah to accept in truth what their Prophet brought, an exchange over who sent him followed without prior permission, then identification as messenger of the Messenger of Allah, welcome, declaration that the caller was al-Khidr conveying peace and glad tidings of superiority over prophets as Ramadan over months and of his ummah over nations as Friday over days, and upon turning Anas heard him pray to be made of that merciful guided oft-relenting ummah. > **"O Anas, hush. Would he said its sister. O Anas, lay down the purification water and go to this caller, and tell him to pray for the Messenger of Allah that He aid him in that with which He sent him, and to pray for his ummah that they take in truth what their Prophet brought them. I am the messenger of the Messenger of Allah. Al-Khidr conveys peace to thee and says to thee: Allah has favored thee over the prophets as He favored the month of Ramadan over all other months, and He has favored thy ummah over nations as He favored Friday over all other days. O Allah, make me of this merciful, guided, oft-relented-upon ummah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا ، میں نے آپ ﷺ کے لئے طہارت کا پانی اٹھایا ہوا تھا ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے کسی پکارنے والے کو سنا ، تو فرمایا : اے انس ! خاموش ہو جاؤ ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو ایسے فرد کے ذریعے میری مدد کر دے ، جو مجھے اس خوف سے نجات دلا دے ، جو اندیشہ مجھے ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے انس ! طہارت کا پانی رکھو اور اس منادی کے پاس جاؤ ، اور اس سے کہو : وہ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے انہیں مبعوث کیا ہے ، اس حوالے سے ان کی مدد کرے اور تم ان کی امت کے لئے بھی دعا کرو کہ وہ امت اس چیز کو حاصل کر لے ، جو حق اُن کے نبی لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان صاحب کے پاس آیا ، میں نے کہا : آپ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس چیز کے ہمراہ مبحوث کیا ہے ، اس حوالے سے اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے ، اور آپ ان کی امت کے لئے بھی دعا کریں کہ اس امت کے نبی ، جو حق لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، وہ امت اسے قبول کر لے ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ تو مجھے یہ اچھا نہیں لگے گا کہ میں اُس کو اس بارے میں بتاؤں ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں اجازت نہیں لی تھی ، میں نے کہا : تمہیں کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! جو میں نے تمہیں کہا ہے ، تم وہ کرو ، اس نے کہا : تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا اور اس کی کہی ہوئی بات کے بارے میں آپ کو بتایا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس سے کہہ دو ! میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں ، تو اس نے مجھ سے کہا : اللہ کے رسول ﷺ کو خوش آمدید اور اُن کے قاصد کو خوش آمدید ، میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں اُن کے پاس جاؤں اور ان کی خدمت میں میں سلام پیش کروں ، بہرحال تم ان سے یہ کہہ دینا کہ حضرت خضر علیہ السلام آپ کو سلام کہہ رہے تھے ، اور وہ آپ کو یہ کہہ رہے تھے : کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر تمام انبیاء کرام پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے رمضان کے مہینے کو دیگر مہینوں پر عطا کی ہے ، اور اس نے آپ ﷺ کی امت کو دیگر امتوں پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے جمعہ کے دن کو دیگر تمام دنوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ جب میں اُن صاحب کے پاس سے واپس مڑا ، تو میں نے ان صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے اس امت میں شامل کر لے ، جس پر رحم کیا گیا ، جس کی رہنمائی کی گئی اور جس کی توبہ قبول کی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وضاح بن عباد کوفی ہے ، جس کے بارے میں ابوالحسین بن منادی نے کلام کیا ہے ، اور امام طبرانی کا استاد بشر بن علی بن بشرعمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13816

Majma al-Zawaid #13816

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُحَدِّثُكُمْ، عَنِ الْخَضِرِ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يَمْشِي فِي سُوقِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَبْصَرَهُ رَجُلٌ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: تَصَدَّقْ عَلَيَّ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ. فَقَالَ الْخَضِرُ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ. فَقَالَ الْمِسْكِينُ: أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ لَمَا تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ، فَإِنِّي نَظَرْتُ السَّمَاحَةَ فِي وَجْهِكَ، وَرَجَوْتُ الْبَرَكَةَ عِنْدَكَ. فَقَالَ الْخَضِرُ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَنِي فَتَبِيعَنِي. فَقَالَ الْمِسْكِينُ: وَهَلْ يَسْتَقِيمُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمِ [الْحَقُ] أَقُولُ لَقَدْ سَأَلْتَنِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، أَمَا إِنِّي لَا أُخَيِّبُكَ بِوَجْهِ رَبِّي بِعْنِي. قَالَ: فَقَدَّمَهُ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَهُ بِأَرْبَعِمِائَةٍ دِرْهَمٍ، فَمَكَثَ عِنْدَ الْمُشْتَرِي زَمَانًا لَا يَسْتَعْمِلُهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي الْتِمَاسَ خَيْرٍ عِنْدِي، فَأَوْصِنِي بِعَمَلِ. قَالَ: أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ، إِنَّكَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ضَعِيفٌ. قَالَ: لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ. قَالَ: قُمْ فَانْقُلْ هَذِهِ الْحِجَارَةَ. وَكَانَ لَا يَنْقُلُهَا دُونَ سِتَّةِ نَفَرٍ فِي يَوْمٍ، فَخَلَّى الرَّجُلُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ نَقَلَ الْحِجَارَةَ فِي سَاعَةٍ، قَالَ: أَحْسَنْتَ وَأَجْمَلْتَ وَأَطَقْتَ مَا لَمْ أَرَكَ تُطِيقُهُ. قَالَ: ثُمَّ عَرَضَ لِلرَّجُلِ سَفَرٌ فَقَالَ: إِنِّي أَحْسَبُكَ أَمِينًا، فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي خِلَافَةً حَسَنَةً. قَالَ: وَأَوْصِنِي بِعَمَلٍ. قَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ. قَالَ: لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ. قَالَ: فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَيْتِي حَتَّى أَقَدُمَ عَلَيْكَ. قَالَ: فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِهِ. قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ تَشَيَّدَ بِنَاؤُهُ، فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ، مَا سَبِيلُكَ وَمَا أَمْرُكَ؟ قَالَ: سَأَلْتَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ، وَوَجْهُ اللَّهِ أَوْقَعَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ. فَقَالَ الْخَضِرُ: سَأُخْبِرُكَ مَنْ أَنَا، أَنَا الْخَضِرُ الَّذِي سَمِعْتَ بِهِ، سَأَلَنِي رَجُلٌ مِسْكِينٌ صَدَقَةً فَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيهِ، فَسَأَلَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَمْكَنْتُهُ مِنْ رَقَبَتِي فَبَاعَنِي، وَأُخْبِرُكَ أَنَّهُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ فَرَّدَ سَائِلَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ، وَقَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِلْدٌ وَلَا لَحْمَ لَهُ، عَظْمٌ يَتَقَعْقَعُ. فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، شَقَقْتُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أَعْلَمْ. قَالَ: لَا بَأْسَ، أَحْسَنْتَ وَاتَّقَيْتَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْكُمْ فِي أَهْلِي وَمَالِي بِمَا شِئْتَ، أَوِ اخْتَرْ، فَأُخَلِّي سَبِيلَكَ. قَالَ: أُحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِيلِي فَأَعْبُدُ رَبِّي. فَخَلَّى سَبِيلَهُ. فَقَالَ الْخَضِرُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْثَقَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ ثُمَّ نَجَّانِي مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ. وَيَأْتِي حَدِيثٌ آخَرُ فِي وَفَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ offered to relate about al-Khidr عليه السلام, then described his walking in the market of Banu Israil, the request of a contracted slave for charity, the declaration of belief and lack, the adjuration by the Face of Allah and hope in his generosity, the offer to be taken and sold rather than disappoint by the Face of the Lord, the sale for four hundred dirhams, the long sojourn unused, the request for work despite age and weakness, the transfer of stones in an hour requiring six men a day, the entrustment of family during travel, the making of bricks until return and the erected building, the adjuration as to his path and affair, the revelation of identity and lesson that whoever asked by the Face of Allah and rejects while able shall stand fleshless with rattling bones, the apology, pardon, offer of family and wealth or freedom, the choice of freedom for worship, and the praise of Allah Who bound and then saved. > **"Shall I not relate to you about al-Khidr? I believe in Allah; what Allah wills of a matter comes to be; I have nothing to give thee. I ask thee by the Face of Allah to give me charity, for I see generosity in thy face and hope for blessing with thee. I believe in Allah; I have nothing to give thee except that thou take me and sell me. Sell me by the Face of my Lord. Whoever is asked by the Face of Allah and rejects his asker while able shall stand on the Day of Resurrection as skin without flesh, bone rattling. Praise be to Allah Who bound me in servitude and then saved me therefrom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تم لوگوں کو حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ وہ بنی اسرائیل کے بازار میں چل رہے تھے ، ایک مکاتب غلام نے انہیں دیکھا ، تو کہا : تم مجھے صدقے کے طور پر کچھ دو ! اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو چاہے کہ وہ ہو ، تو ویسا ہی ہوتا ہے ، میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اس غریب نے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی چیز دے دیجئے کیونکہ مجھے آپ کے چہرے پر مہربانی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور مجھے آپ کے پاس سے برکت کی امید ہے ، تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دے دوں ، البتہ یہ ہے کہ تم مجھے پکڑ کر مجھے فروخت کر دو ، اس غریب نے کہا : کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : جی ہاں ! میں ٹھیک بات کہہ رہا ہوں ، تم نے مجھ سے ایک عظیم حوالے سے مانگا ہے ، اور میں تمہیں اپنے پروردگار کی ذات کے واسطے کے حوالے سے رُسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، تم مجھے فروخت کر دو ، اس شخص نے انہیں بازار میں رکھا اور انہیں چار سو درہم کے عوض میں فروخت کر دیا ، وہ ایک طویل عرصے تک خریدار کے پاس یوں رہے کہ خریدار نے انہیں کسی کام میں استعمال نہیں کیا ، حضرت خضر علیہ السلام نے اس ( خریدار ) سے کہا : تم نے مجھے اس لئے خریدا ہے ، تاکہ میرے پاس موجود بھلائی کو حاصل کرو ، تو تم مجھے کسی کام کے بارے میں تلقین کرو ، اس شخص نے کہا : مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، آپ ایک بوڑھے ، کمزور ، عمر رسیدہ شخص ہیں ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : مجھے پریشانی نہیں ہو گی ، اس نے کہا : اچھا پھر آپ اُٹھ کر یہ پتھر منتقل کر دیں ، وہ پتھر ایسے تھے کہ چھ افراد سے کم لوگ ایک دن میں اسے منتقل نہیں کر سکتے تھے ، وہ شخص کام کے سلسلے میں اٹھ کے چلا گیا ، جب وہ واپس آیا ، تو حضرت خضر علیہ السلام ایک گھڑی میں وہ پتھر منتقل کر چکے تھے ، تو اس نے کہا : تم نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے ، اور تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ میرا نہیں خیال تھا کہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہو گی ، پھر اس شخص کو کسی کام کے سلسلے میں جانے کا موقع آیا ، تو اس نے کہا : میں آپ کو ایک امین شخص سمجھتا ہوں ، آپ نے میری غیر موجودگی میں میرے گھر والوں کا اچھے طریقے سے خیال رکھنا ہے ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : تم مجھے کوئی کام بھی بتا دو ! اس نے کہا : مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : مجھے مشقت نہیں ہو گی ، اس نے کہا : اچھا جب تک میں اپنے گھر نہیں آتا ، آپ میرے گھر کے لئے اینٹیں تیار کر دیں ، پھر وہ شخص سفر پر چلا گیا ، جب وہ شخص واپس آیا تو حضرت خضر علیہ السلام نے عمارت بھی تعمیر کر لی ہوئی تھی ، اس نے کہا : میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ کا معاملہ کیا ہے ؟ اور صورت حال کیا ہے ؟ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : تم نے مجھے اللہ کے واسطے سے سوال کیا ہے ، اور اللہ کے واسطے نے ہی مجھے اس غلامی میں ڈالا تھا ، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں ؟ میں وہ ہوں کہ جس کے بارے میں تم نے سنا ہوا ہے ، ایک غریب نے مجھ سے صدقہ مانگا ، میرے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہیں تھا ، اس نے مجھ سے اللہ کی ذات کے واسطے سے مانگا تھا ، تو میں نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا اور اس نے مجھے فروخت کر دیا اور میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ مانگنے والے کو لوٹا دے ، حالانکہ وہ قدرت رکھتا ہو ، تو قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں کھڑا ہو گا ، کہ اس کی جلد ہو گی ، لیکن اس میں گوشت نہیں ہو گا ، اس کی ہڈیاں حرکت کر رہی ہوں گی ، اس شخص نے کہا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کو مشقت کا شکار کیا ، مجھے پتہ نہیں تھا ، حضرت خضر علیہ السلام نے کہا : کوئی حرج نہیں ہے ، تم نے اچھا کام کیا اور تم نے بچنے کی کوشش کی ، اس شخص نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ کے نبی ! آپ میرے اہل خانہ اور میرے مال کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں ، یا آپ یہ اختیار کریں کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ، تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا : مجھے پسند ہے کہ تم مجھے چھوڑ دو ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، تو اُس شخص نے انہیں چھوڑ دیا ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے غلامی میں پابند کیا تھا ، اور پھر مجھے غلامی سے نجات بھی دیدی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی وفات سے متعلق باب کے آخر میں بھی ، حضرت خضر علیہ السلام سے متعلق ایک روایت آئے گی ۔

13817

Majma al-Zawaid #13817

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْسٍ يُقَالُ لَهُ: خَالِدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ لِقَوْمِهِ: أَنَا أُطْفِئُ عَنْكُمْ نَارَ الْحَرَّتَيْنِ. فَقَالَ لَهُ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ -: وَاللَّهِ مَا قُلْتَ لَنَا يَا خَالِدُ قَطُّ إِلَّا حَقًّا، فَمَا شَأْنُكَ وَشَأْنُ نَارِ الْحَرَّتَيْنِ؟ تَزْعُمُ أَنَّكَ تُطْفِئُهَا؟ قَالَ: فَانْطَلَقَ مَعَهُ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى أَتَوْهَا وَهِيَ تَخْرُجُ مِنْ شَقِّ جَبَلٍ فِي حَرَّةٍ يُقَالُ لَهَا: حَرَّةُ أَشْجَعٍ، فَخَطَّ لَهُمْ خَالِدُ خُطَّةً فَأَجْلَسَهُمْ فِيهَا وَقَالَ: إِنْ أَبْطَأْتُ عَنْكُمْ فَلَا تَدْعُونِي بِاسْمِي. فَخَرَجَتْ كَأَنَّهَا خَيْلٌ شُقُرٌ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَاسْتَقْبَلَهَا خَالِدٌ [فَجَعَلَ] يَضْرِبُهَا بِعَصَاهُ وَيَقُولُ: بَدَا بَدَا كُلُّ مُنْتَهَى مَرَدَا زَعَمَ ابْنُ رَاعِيَةِ الْمِعْزَى أَنِّي لَا أَخْرُجُ مِنْهَا وَثِيَابِي تَنْدَى، حَتَّى دَخَلَ مَعَهَا الشِّقَّ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَقَالَ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ صَاحِبُكُمْ حَيًّا لَقَدْ خَرَجَ إِلَيْكُمْ بَعْدُ. فَقَالُوا: إِنَّهُ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَهُ بِاسْمِهِ. قَالَ: فَادْعُوهُ بِاسْمِهِ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ صَاحِبُكُمْ حَيًّا لَقَدْ خَرَجَ بَعْدُ. فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَهُ بِاسْمِهِ.، قَالَ: فَدَعُوهُ بِاسْمِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ آخِذًا بِرَأْسِهِ قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَدْعُونِي بِاسْمِي؟ فَقَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُونِي، فَادْفِنُونِي، فَإِذَا مَرَّتْ بِكُمُ الْحُمُرُ فِيهَا حِمَارٌ أَبْتَرُ فَانْبُشُونِي، فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونِي حَيًّا. قَالَ: فَمَرَّتْ بِهِمُ الْحُمُرُ فِيهَا حِمَارٌ أَبْتَرُ، فَقَالَ: انْبُشُوهُ، فَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَنْبُشَهُ. فَقَالَ عِمَارَةُ بْنُ زِيَادٍ: لَا تُحَدِّثُ مُضَرُ عَنَّا أَنَّا نَنْبُشُ مَوْتَانَا، وَاللَّهِ لَا تَنْبُشُوهُ أَبَدًا. قَالَ: وَقَدْ كَانَ خَالِدٌ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ فِي عُكْمِ امْرَأَتِهِ لَوْحَيْنِ، فَإِذَا أَشْكَلَ عَلَيْكُمْ أَمْرٌ فَانْظُرُوا فِيهِمَا فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ مَا تَسْأَلُونَ عَنْهُ، وَلَا تَمَسُّهُمَا حَائِضٌ. قَالَ: فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى امْرَأَتِهِ سَأَلُوهَا عَنْهُمَا، فَأَخْرَجَتْهُمَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَهَبَ مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ عِلْمٍ. قَالَ: وَقَالَ أَبُو يُونُسَ: قَالَ سِمَاكٌ: «إِنَّ ابْنَ خَالِدِ بْنِ سِنَانٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ قَالَ: يَأْتِي أَحْيَانًا بِالْمَنَاكِيرِ. قُلْتُ: وَهَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports as a mawquf athar that a man of Banu Abs called Khalid ibn Sinan told his people he would extinguish the fire of the two Harras, was challenged by Ammarah ibn Ziyad of his people, went with a company to where it issued from a mountain cleft in a Harrah called Harrat Ashja, drew a line and seated them with instruction not to call him by name if delayed, faced the eruption like reddish horses following one another striking with his staff and chanting his verses until he entered the cleft with it and delayed, was called by name despite prohibition and emerged holding his head declaring they had killed him, instructed burial and exhumation upon passage of donkeys including a dock-tailed one to be found alive, was denied exhumation by Ammarah lest Mudar speak of exhuming the dead, had told of two tablets in his wife's baggage for difficult matters untouched by a menstruating woman, which were handled in menstruation so their knowledge vanished, while his son came to the Prophet ﷺ who welcomed him as son of his brother. > **"I shall extinguish for you the fire of the two Harras. If I delay from you, do not call me by my name. Did I not forbid you to call me by my name? By Allah, you have killed me, so bury me. When the donkeys pass by you, among them a dock-tailed donkey, then exhume me, for you shall find me alive. Welcome to the son of my brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عبس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ، جس کا نام خالد بن سنان تھا ، اس نے اپنی قوم سے کہا : میں تم سے دو پتھریلے علاقوں کی گرمی بجھا دیتا ہوں ، تو اس کی قوم کے ایک فرد عمارہ بن زیاد نے اس سے کہا : اللہ کی قسم ! اے خالد ! تم نے ہمیں جو بھی بات کہی ہے ، وہ حق ہی ثابت ہوئی ہے ، اب تمہارا اور دو پتھریلے علاقوں کی آگ کا کیا معاملہ ہے ؟ تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم اسے بجھا دو گے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر عمارہ بن زیاد اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ اس کے ساتھ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں آئے ، تو وہ ایک پتھریلے علاقے میں پہاڑ کے کونے سے نکل رہی تھی ( یعنی لاوا بہہ رہا تھا ) اسے ” حرہ اشجع “ کہا جاتا تھا ، تو خالد نے ان لوگوں کے لئے ایک لکیر لگائی ، اور ان لوگوں کو اس لکیر میں بٹھا دیا اور یہ کہا : اگر مجھے تمہارے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے ، تو تم نے میرا نام لے کر مجھے نہیں بلانا ، وہ آگ ( یعنی لاوا ) یوں نکل رہی تھی جیسے سرخ رنگ کے گھوڑے ہوتے ہیں ، جو ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے ہوں ، پھر خالد نے اس آگ کی طرف رخ کیا اور اپنے عصا کے ذریعے اسے مارنے لگا اور یہ کہا : «بَدَا بَدَا كُلُّ مُنْتَهَى مَرَدَا زَعَمَ ابْنُ رَاعِيَةِ الْمِعْزَى أَنِّي لَا أَخْرُجُ مِنْهَا وَثِيَابِي تَنْدَى» یہاں تک کہ وہ اس آگ کے ہمراہ اس دراڑ میں داخل ہو گیا ، اسے ان لوگوں کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : تو عمارہ بن زیاد نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہوتا ، تو وہ اب تک نکل کر تمہارے پاس آ جاتا ، ان لوگوں نے کہا : اس نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم اس کا نام لے کر اُسے بلائیں ، عمارہ نے کہا : تم اسے اس کا نام لے کر بلاؤ ! اللہ کی قسم ! اگر وہ زندہ ہوتا ، تو وہ نکل کر آ چکا ہوتا ، تو کسی نے کہا : اس نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم اس کا نام لے کر اسے بلائیں ، راوی کہتے ہیں : پھر اُن لوگوں نے اس کا نام لے کر اسے بلایا ، تو وہ نکل کر اُن کے پاس آیا ، اس نے اپنے سر کو پکڑا ہوا تھا ، اس نے کہا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرا نام لے کر مجھے بلاؤ ، اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے قتل کر دیا ہے ، اب تم لوگ مجھے دفن کرو ، جب گدھے تمہارے پاس سے گزریں گے ، جن میں ایک ایسا گدھا ہو گا کہ جس کی دم کٹی ہوئی ہو گی ، تو تم میری قبر کو کھود دینا ، تم مجھے زندہ پا لو گے ، راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں کے پاس سے گدھے گزرے ، جن میں ایک دم کٹا گدھا موجود تھا ، تو کسی نے کہا : تم اس کی قبر کھود دو ! کیونکہ اس نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اس کی قبر کو کھو دیں ، تو عمارہ بن زیاد نے کہا : کہیں مضر قبیلے کے لوگ ہمارے بارے میں یہ باتیں نہ کریں کہ ہم اپنے مردوں کی قبریں کھود دیتے ہیں ، اللہ کی قسم ! تم اس کی قبر کو کبھی نہ کھودنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : خالد نے ان لوگوں کو یہ بتایا تھا کہ اس کی بیوی کے سامان میں دو ’’ الواح “ ہیں ، جب تم لوگوں کو کسی معاملے میں مشکل درپیش ہو ، تو تم اُن کو دیکھ لینا ، تم جس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہو گے ، تمہیں اس کا حل مل جائے گا ، لیکن کوئی حیض والی عورت اسے نہ چھوئے ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ اس کی بیوی کے پاس آئے اور انہوں نے اس خاتون سے وہ الواح مانگیں ، تو اس عورت نے وہ الواح نکال کر دیں ، تو وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی ، تو ان الواح میں جو علم تھا ، وہ ختم ہو گیا ۔ ابویونس کہتے ہیں : سماک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : خالد بن سنان کا بیٹا ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا : میرے بھتیجے کو خوش آمدید ! یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات منکر روایات نقل کر دیتا ہے ، میں کہتا ہوں : یہ ان ( منکر روایات ) میں سے ایک ہے ۔

13818

Majma al-Zawaid #13818

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «ذُكِرَ خَالِدُ بْنُ سِنَانٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ذَاكَ نَبِيٌّ ضَيَّعَهُ قَوْمُهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «جَاءَتْ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ سِنَانٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ لَهَا ثَوْبَهُ». وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ مَعَ وَرَعِهِ، وَابْنُ مَعِينٍ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُعَارِضٌ لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعِلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ». قَالَ الْبَزَّارُ: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that Khalid ibn Sinan was mentioned before the Prophet ﷺ, who said he was a prophet neglected by his people, while another version adds that his daughter came to the Prophet ﷺ who spread his garment for her. The report is noted to conflict with the Sahih statement of closest kinship to Isa ibn Maryam as paternal brethren with no prophet between them, and to have been related by al-Thawri from Salim from Said ibn Jubayr as mursal. > **"That is a prophet neglected by his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے خالد بن سنان کا ذکر کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ وہ نبی تھا ، اُس کی قوم نے اُسے ضائع کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ خالد بن سنان کی صاحبزادی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُس خاتون کے لئے اپنا کپڑا بچھا دیا تھا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن اس کے پرہیزگار ہونے کے باوجود امام احمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ یہ والی روایت اُس ’’ صحیح ‘‘ حدیث کے برخلاف ہے ، جس میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مذکور ہے : ’’ میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں ، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ، اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘ امام بزار کہتے ہیں : یہ روایت ثوری نے سالم کے حوالے سے سعید بن جبیر سے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ۔