Majma al-Zawaid #13747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جَعَلَهُ طِينًا، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ حَمَأً مَسْنُونًا خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ صَلْصَالًا كَالْفَخَّارِ - قَالَ: فَكَانَ إِبْلِيسُ يَمُرُّ بِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِيمٍ - ثُمَّ نَفَخَ اللَّهُ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ جَرَى فِيهِ الرُّوحُ بَصَرُهُ وَخَيَاشِيمُهُ فَعَطَسَ فَلَقَّاهُ أَنَّهُ حَمِدَ رَبَّهُ فَقَالَ الرَّبُّ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ. ثُمَّ قَالَ: يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ فَقُلْ لَهُمْ وَانْظُرْ مَا يَقُولُونَ. فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَجَاءَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: مَاذَا قَالُوا لَكَ؟ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالُوا لَهُ - قَالَ: يَا رَبِّ، لَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: يَا آدَمُ، هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَا ذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: اخْتَرْ يَدِي يَا آدَمُ. قَالَ: أَخْتَارُ يَمِينَ رَبِّي، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ، فَبَسَطَ اللَّهُ كَفَّهُ، فَإِذَا كُلُّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ a lengthy account of the creation of Adam عليه السلام. The narration describes his formation through stages, the passing of Iblis, the breathing of the spirit and the first movement in his sight and nostrils, his sneezing and praising of his Lord, his greeting to a group, and the choice of the Hand and the vision of his progeny, after which the narrator indicated the remainder of the report. > **"Indeed Allah created Adam from dust, then made him clay, then left him until he became altered black mud, then He created him and fashioned him, then left him until he became ringing clay like pottery. Iblis would pass by him and say: thou hast surely been created for a great matter. Then Allah breathed into him of His spirit, and the first thing the spirit reached was his sight and his nostrils, so he sneezed, and he was inspired to praise his Lord, so the Lord said: May thy Lord have mercy upon thee. Then He said: O Adam, go to that company and greet them and see what they say. So he came and greeted them, and they said: upon thee be peace and the mercy of Allah. Then he returned to his Lord, Who asked, though knowing better, what they said. He said: My Lord, when I greeted them they said: upon thee be peace and the mercy of Allah. He said: O Adam, this is thy greeting and the greeting of thy progeny. He said: My Lord, what is my progeny? He said: Choose one of My Hands, O Adam. He said: I choose the Right of my Lord, and both Hands of my Lord are right. So Allah spread His palm, and all that would ever be of his progeny was in the palm of the Most Merciful."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر انہیں گیلی مٹی بنایا ، پھر انہیں چھوڑ دیا ، یہاں تک کہ وہ متغیر ہو کر سیاہی مائل ہو جانے والی مٹی بن گئے اور ان کی تخلیق کی ، پھر ان کی شکل بنائی ، پھر انہیں چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب وہ بجنے والی ٹھیکری کی طرح بن گئے ، نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : ابلیس کا ان کے پاس سے گزر ہوا ، اس نے یہ کہا : تمہیں کسی بڑے معاملے کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی ، تو وہ روح جس چیز میں سب سے پہلے جاری ہوئی وہ ان کی بصارت تھی اور ان کے نتھنوں میں جاری ہوئی ، تو انہیں چھینک آ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بات القاء کی کہ وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کریں ، تو انہوں نے اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ، تو پروردگار نے فرمایا : تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے ! پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم ( فرشتوں کے ) اس گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو ، اور پھر یہ دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ آئے انہیں سلام کیا ، ان فرشتوں نے کہا : وعلیک السلام ورحمة الله ، حضرت آدم علیہ السلام واپس اپنے پروردگار کے پاس آئے ، تو پروردگار نے دریافت کیا : انہوں نے تمہیں کیا کہا ؟ حالانکہ پروردگار ان فرشتوں کے اُن سے کہے ہوئے جواب کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا تھا ، حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! جب میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے کہا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ، تو پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری ذریت کا سلام کرنے کا مخصوص طریقہ ہے ، حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میری ذریت سے مراد کیا ہے ؟ پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرو ، تو انہوں نے کہا : میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو اختیار کرتا ہوں ، ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا ، تو ان کی ذریت میں جس نے بھی پیدا ہونا ہے ، وہ رحمان کی ہتھیلی میں آ گیا ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔