Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 37 · Chapter 1

Book of the Prophets

Hadith 13747–13786

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13747

Majma al-Zawaid #13747

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جَعَلَهُ طِينًا، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ حَمَأً مَسْنُونًا خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ صَلْصَالًا كَالْفَخَّارِ - قَالَ: فَكَانَ إِبْلِيسُ يَمُرُّ بِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِيمٍ - ثُمَّ نَفَخَ اللَّهُ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ جَرَى فِيهِ الرُّوحُ بَصَرُهُ وَخَيَاشِيمُهُ فَعَطَسَ فَلَقَّاهُ أَنَّهُ حَمِدَ رَبَّهُ فَقَالَ الرَّبُّ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ. ثُمَّ قَالَ: يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ فَقُلْ لَهُمْ وَانْظُرْ مَا يَقُولُونَ. فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَجَاءَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: مَاذَا قَالُوا لَكَ؟ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالُوا لَهُ - قَالَ: يَا رَبِّ، لَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: يَا آدَمُ، هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَا ذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: اخْتَرْ يَدِي يَا آدَمُ. قَالَ: أَخْتَارُ يَمِينَ رَبِّي، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ، فَبَسَطَ اللَّهُ كَفَّهُ، فَإِذَا كُلُّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ a lengthy account of the creation of Adam عليه السلام. The narration describes his formation through stages, the passing of Iblis, the breathing of the spirit and the first movement in his sight and nostrils, his sneezing and praising of his Lord, his greeting to a group, and the choice of the Hand and the vision of his progeny, after which the narrator indicated the remainder of the report. > **"Indeed Allah created Adam from dust, then made him clay, then left him until he became altered black mud, then He created him and fashioned him, then left him until he became ringing clay like pottery. Iblis would pass by him and say: thou hast surely been created for a great matter. Then Allah breathed into him of His spirit, and the first thing the spirit reached was his sight and his nostrils, so he sneezed, and he was inspired to praise his Lord, so the Lord said: May thy Lord have mercy upon thee. Then He said: O Adam, go to that company and greet them and see what they say. So he came and greeted them, and they said: upon thee be peace and the mercy of Allah. Then he returned to his Lord, Who asked, though knowing better, what they said. He said: My Lord, when I greeted them they said: upon thee be peace and the mercy of Allah. He said: O Adam, this is thy greeting and the greeting of thy progeny. He said: My Lord, what is my progeny? He said: Choose one of My Hands, O Adam. He said: I choose the Right of my Lord, and both Hands of my Lord are right. So Allah spread His palm, and all that would ever be of his progeny was in the palm of the Most Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر انہیں گیلی مٹی بنایا ، پھر انہیں چھوڑ دیا ، یہاں تک کہ وہ متغیر ہو کر سیاہی مائل ہو جانے والی مٹی بن گئے اور ان کی تخلیق کی ، پھر ان کی شکل بنائی ، پھر انہیں چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب وہ بجنے والی ٹھیکری کی طرح بن گئے ، نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : ابلیس کا ان کے پاس سے گزر ہوا ، اس نے یہ کہا : تمہیں کسی بڑے معاملے کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی ، تو وہ روح جس چیز میں سب سے پہلے جاری ہوئی وہ ان کی بصارت تھی اور ان کے نتھنوں میں جاری ہوئی ، تو انہیں چھینک آ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بات القاء کی کہ وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کریں ، تو انہوں نے اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ، تو پروردگار نے فرمایا : تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے ! پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم ( فرشتوں کے ) اس گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو ، اور پھر یہ دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ آئے انہیں سلام کیا ، ان فرشتوں نے کہا : وعلیک السلام ورحمة الله ، حضرت آدم علیہ السلام واپس اپنے پروردگار کے پاس آئے ، تو پروردگار نے دریافت کیا : انہوں نے تمہیں کیا کہا ؟ حالانکہ پروردگار ان فرشتوں کے اُن سے کہے ہوئے جواب کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا تھا ، حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! جب میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے کہا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ، تو پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری ذریت کا سلام کرنے کا مخصوص طریقہ ہے ، حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میری ذریت سے مراد کیا ہے ؟ پروردگار نے فرمایا : اے آدم ! دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرو ، تو انہوں نے کہا : میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو اختیار کرتا ہوں ، ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا ، تو ان کی ذریت میں جس نے بھی پیدا ہونا ہے ، وہ رحمان کی ہتھیلی میں آ گیا ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13748

Majma al-Zawaid #13748

وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَفَعَهُ - قَالَ: "" «لَمَّا أَخْرَجَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ، زَوَّدَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَعَلَّمَهُ صَنْعَةَ كُلِّ شَيْءٍ، فَثِمَارُكُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، غَيْرَ أَنَّ هَذِهِ تَغَيَّرُ وَتِلْكَ لَا تَتَغَيَّرُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reports in marfu form from the Prophet ﷺ concerning what Adam عليه السلام received when he was brought out of Paradise, including sustenance and knowledge of crafts, and the relation of worldly fruits to those of Paradise. > **"When Allah brought Adam out of Paradise, He provisioned him from the fruits of Paradise and taught him the craft of everything. So these fruits of yours are from the fruits of Paradise, except that these perish while those do not perish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا ، تو انہیں زاد راہ کے طور پر جنت کے پھل دیے اور انہیں یہ تعلیم دی کہ انہوں نے ہر کام کیسے کرنا ہے ؟ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) تو تمہارے پھل جنت کے پھلوں کا حصہ ہیں ، البتہ یہ متغیر ( یعنی خراب ) ہو جاتے ہیں ، اور وہ متغیر نہیں ہوتے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13749

Majma al-Zawaid #13749

وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ: "" «لَوْ أَنَّ بُكَاءَ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبُكَاءَ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ يُعْدَلُ بِبُكَاءِ آدَمَ مَا عَدَلَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Buraydah رضي الله عنه reports in marfu form from the Prophet ﷺ a comparison between the weeping of Dawud عليه السلام and all the people of the earth on one side and the weeping of Adam عليه السلام on the other. > **"If the weeping of Dawud and the weeping of all the people of the earth were weighed against the weeping of Adam, it would not equal it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ اگر حضرت داؤد کا رونا اور تمام اہل زمین کا رونا اکٹھا ہو جائے ، اور اسے حضرت آدم علیہ السلام کے رونے کے مقابلے میں رکھا جائے تو بھی وہ اُس کے برابر نہیں ہو سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13750

Majma al-Zawaid #13750

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آدَمُ أَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ كَانَ نَبِيًّا رَسُولًا كَلَّمَهُ اللَّهُ قَبْلًا قَالَ لَهُ: {يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ} [البقرة: 35، الأعراف: 19]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that he asked the Messenger ﷺ whether Adam عليه السلام was a prophet, and the Prophet ﷺ affirmed his prophethood and messengership and that Allah spoke to him directly with the command to dwell in Paradise with his wife. > **"Yes, he was a prophet and a messenger; Allah spoke to him directly. He said to him: O Adam, dwell thou and thy wife in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلام کیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تھا : ’’ اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی ، جنت میں رہائش اختیار کرو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13751

Majma al-Zawaid #13751

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ الْمَلَائِكَةِ؟ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَفْضَلُ النَّبِيِّينَ آدَمُ، وَأَفْضَلُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَأَفْضَلُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَأَفْضَلُ اللَّيَالِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَأَفْضَلُ النِّسَاءِ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ offered to inform of the most excellent in several categories, naming Jibril among angels, Adam among prophets, Friday among days, Ramadan among months, Laylat al-Qadr among nights, and Maryam bint Imran among women. > **"Shall I not inform you of the most excellent of the angels? Jibril. And the most excellent of the prophets is Adam, and the most excellent of days is Friday, and the most excellent of months is the month of Ramadan, and the most excellent of nights is Laylat al-Qadr, and the most excellent of women is Maryam bint Imran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والے فرشتے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ جبرائیل ہے ، اور سب سے زیادہ فضیلت والے نبی ، حضرت آدم علیہ السلام ہیں ، سب سے زیادہ فضیلت والا دن ، جمعہ کا دن ہے ، سب سے زیادہ فضیلت والا مہینہ ، رمضان کا مہینہ ہے ، سب سے زیادہ فضیلت والی رات ، شب قدر ہے ، اور سب سے زیادہ فضیلت والی خاتون ، مریم بنت عمران ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رافع بن ہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13752

Majma al-Zawaid #13752

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ "". قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Qatadah al-Sulami رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ say that Allah created Adam عليه السلام, after which the narrator mentioned the remainder of the report. > **"Allah created Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا .......‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13753

Majma al-Zawaid #13753

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: "" إِنَّ آدَمَ لَمَّا طَوْطَى عَنْ كَلَامِ الْمَلَائِكَةِ، وَكَانَ يَسْتَأْنِسُ لِكَلَامِهِمْ، بَكَى عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مِائَةَ سَنَةٍ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ، مَا يُحْزِنُكَ؟ قَالَ: كَيْفَ لَا أَحْزَنُ وَقَدْ أَهْبَطْتَنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَلَا أَدْرِي أَعُودُ إِلَيْهَا أَمْ لَا؟ فَقَالَ اللَّهُ: يَا آدَمُ قُلِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. وَالثَّانِيَةُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، سُبْحَانَكَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. وَالثَّالِثَةُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، رَبِّ عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. فَهَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ} [البقرة: 37] قَالَ: وَهِيَ لِوَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ. وَقَالَ آدَمُ لِابْنٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: هِبَةُ اللَّهِ - وَيُسَمِّيهِ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَأَهْلُ الْإِنْجِيلِ شِيثٌ -: تَعَبَّدْ لِرَبِّكَ وَسَلْهُ: يَرُدُّنِي إِلَى الْجَنَّةِ أَمْ لَا؟ فَتَعَبَّدَ وَسَأَلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي أَرُدُّهُ إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: أَيْ رَبِّ إِنِّي لَمْ آمَنْ أَبِي، أَحْسَبُ أَنَّ أَبِي سَيَسْأَلُنِي الْعَلَامَةَ. فَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ سِوَارًا مِنْ أَسْوِرَةِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: أَبْشِرْ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَادُّكَ إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: فَمَا سَأَلْتَهُ الْعَلَامَةَ؟ فَأَخْرَجَ السِّوَارَ فَعَرَفَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَبَكَى حَتَّى سَالَ مِنْ عَيْنَيْهِ نَهْرٌ مِنْ دُمُوعٍ، وَآثَارُهُ تُعْرَفُ بِالْهِنْدِ، وَذُكِرَ أَنَّ كَنْزَ الذَّهَبِ بِالْهِنْدِ مِمَّا يَنْبُتُ مِنْ ذَلِكَ السِّوَارِ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَطْعِمْ لِي رَبَّكَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ. فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ مَاتَ آدَمُ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَى رَبِّي أَنْ يُطْعِمَهُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ. قَالَ: فَإِنَّ رَبَّهُ قَضَى أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى يُعَادَ إِلَيْهَا، وَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَارْجِعْ فَوَارِهِ. فَأَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَغَسَّلَهُ وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ: هَكَذَا فَاصْنَعُوا بِمَوْتَاكُمْ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah رضي الله عنه reports as an athar concerning Adam عليه السلام after he was cut off from the speech of the angels. He wept at the gate of Paradise for a hundred years, asked why he should not grieve after being sent down without knowing return, was taught three supplications, learned that these were the words by which Allah relented upon him and which would remain for his children, and later instructed his son Hibatullah, known among the people of the Torah and Gospel as Shith, to worship and ask whether he would return to Paradise, whereupon revelation, a sign of a bracelet of Paradise, recognition, prostration, tears, and traces in Hind are described. > **"O Allah, there is no god but Thee alone, without partner. Glory be to Thee, O Allah, and praise be to Thee. My Lord, I have done evil and wronged myself, so forgive me, for Thou art the Most Merciful of the merciful. O Allah, there is no god but Thee alone, without partner. Glory be to Thee, my Lord, I have wronged myself, so forgive me, for Thou art the Most Merciful of the merciful. O Allah, there is no god but Thee, glory be to Thee and praise be to Thee, without partner. My Lord, I have done evil and wronged myself, so forgive me, for Thou art the Oft-Relenting, the Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا کلام سننے سے روک دیا گیا ، تو وہ پہلے فرشتوں کے کلام سے انسیت حاصل کرتے تھے ، وہ جنت کے دروازے پر ایک سو سال تک روتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : اے آدم ! تم کس بات پر غمگین ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں کیوں غمگین نہ ہوؤں ؟ جبکہ تو نے مجھے جنت سے نیچے اتار دیا ہے ، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا میں اس کی طرف واپس جا پاؤں گا یا نہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم یہ پڑھو : ’’ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو اکیلا ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ! بے شک تو سب سے زیادہ مغفرت کرنے والا ہے ۔‘‘ دوسرا یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تو یکتا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ تیسرا یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، اے میرے پروردگار ! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ، تو میری مغفرت کر دے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ تو یہ وہ کلمات ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر یہ آیت نازل کی : ’’ تو آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھ لیے ، تو پروردگار نے اس کی توبہ قبول کی ، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ تو پروردگار نے فرمایا : یہ ( کلمات ) اس کے بعد اس کی اولاد کے لئے بھی ہوں گے ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے جن کا نام ’’ ہبۃ اللہ ‘‘ تھا ، اور اہل تورات اور اہل انجیل انہیں ’’ شیث ‘‘ کہتے ہیں ، ان سے یہ فرمایا : تم اپنے پرودگار کی عبادت کرو اور اس سے یہ سوال کرو کہ کیا وہ مجھے جنت کی طرف لوٹائے گا یا نہیں ؟ تو انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے یہ سوال کیا ، تو پروردگار نے ان کی طرف یہ وحی کی : میں اس کو جنت کی طرف لوٹا دوں گا ، تو انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے والد مجھ سے اس بارے میں کوئی نشانی پوچھ سکتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جنت کے کنگنوں میں سے کنگن بھیجے ، جب حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے کہا : آپ کے لئے خوشخبری ہے ، اس ( پروردگار ) نے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ وہ آپ کو جنت کی طرف لوٹا دے گا ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے کہا : تم نے اس سے ( یعنی پروردگار سے ) کوئی نشانی نہیں مانگی ؟ تو حضرت شیث علیہ السلام نے کنگن نکال کے دکھائے ، حضرت آدم علیہ السلام اسے پہچان گئنے اور روتے ہوئے سجدے میں چلے گے ، یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو گئی ، جس کے نشان اب بھی ہندوستان میں معروف ہیں ، یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ ہندوستان میں جو سونے کے خزانے ہیں ، وہ اس کنگن سے پیدا ہوئے ہیں ، پھر حضرت آدم علیہ السلام نے کہا : تم میرے لئے اپنے پروردگار سے جنت کے پھل مانگو ، جب حضرت شیث علیہ السلام ان کے پاس سے نکلے تو حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ حضرت شیث علیہ السلام نے جواب دیا : میرے والد نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اپنے پروردگار سے یہ درخواست کروں کہ وہ انہیں جنت کے پھل کھلائے ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : ان کے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اس جنت میں سے کچھ بھی اس وقت تک نہیں کھا پائیں گے ، جب تک وہ دوبارہ اس کی طرف نہیں چلے جاتے اور اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ، آپ واپس جائیں اور انہیں دفن کریں ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے ، انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی اور ان کی نماز جنازہ پڑھی ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ لوگ اپنے مرحومین کے ساتھ اس طرح کیا کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

13754

Majma al-Zawaid #13754

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ آدَمَ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفَّنُوهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَدَفَنُوهُ، وَقَالُوا: هَذِهِ سُنَّتُكُمْ يَا بَنِي آدَمَ فِي مَوْتَاكُمْ» ".

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described how the angels washed Adam عليه السلام with water and lote leaves, shrouded him, made a lahd for him, buried him, and declared this the practice for the dead of his descendants. > **"The angels washed Adam with water and lote leaves, and shrouded him, and made a lahd for him, and buried him, and they said: This is your practice, O children of Adam, for your dead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، ان کے لئے لحد بنائی اور انہیں دفن کیا اور یہ کہا : اے اولاد آدم ! تمہارے مرحومین کے بارے میں تمہارا یہ مخصوص طریقہ ہو گا ۔‘‘

13755

Majma al-Zawaid #13755

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «لَمَّا تُوُفِّيَ آدَمُ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمَاءِ وِتْرًا وَلَحَدَتْ لَهُ وَقَالَتْ: هَذِهِ سُنَّةُ آدَمَ وَوَلَدِهِ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَكَذَلِكَ رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ فِي السَّنَدِ الْآخَرِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

A variant report states that when Adam عليه السلام died the angels washed him with water an odd number of times, made a lahd for him, and declared it the practice of Adam and his children. > **"When Adam died, the angels washed him with water an odd number of times and made a lahd for him, and they said: This is the practice of Adam and his children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ، تو فرشتوں نے پانی کے ذریعے انہیں طاق تعداد میں غسل دیا ، ان کے لئے لحد تیار کی اور یہ کہا : یہ حضرت آدم اور ان کی اولاد کے لئے طریقہ ہے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی حسین بن ابوسری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، دوسری سند میں موجود روح بن اسلم نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13756

Majma al-Zawaid #13756

وَعَنْ عُتَيٍّ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا: هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. فَقَالَ: "" إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ لِبَنِيهِ: أَيْ بَنِيَّ، إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ. فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ مَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ، وَمَعَهُمُ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ، فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ؟ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ قَالُوا: أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ. قَالُوا لَهُمْ: ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ أَبُوكُمْ. فَجَاءُوا، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ، فَقَالَ: إِلَيْكِ عَنِّي، فَإِنَّمَا أُتِيتُ مِنْ قِبَلِكَ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى. فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ، وَحَفَرُوا لَهُ وَلَحَدُوا لَهُ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Utayy reports that he saw an elder speaking in Madinah, identified as Ubayy ibn Kab رضي الله عنه, who related that when death approached Adam عليه السلام he expressed desire for the fruits of Paradise, his sons went seeking them, met angels carrying shrouds, perfume, axes, spades and baskets, were questioned and told to return because their father had been decreed, returned to find Hawwa recognizing the angels and clinging to Adam, heard Adam bid her leave him to the angels of his Lord, and then the angels seized, washed, shrouded, perfumed, dug, made a lahd, prayed over him, placed him in the grave with bricks, heaped earth, and declared the practice. > **"O sons of Adam, what do you seek and where are you going? Return, for your father has been decreed. Withdraw from me, for I have been afflicted through thee; leave me to the angels of my Lord, blessed and exalted. O sons of Adam, this is your practice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتی بیان کرتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے یہ بتایا : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے صاحبزادوں سے فرمایا : میرے بیٹو ! مجھے جنت کے پھلوں کی خواہش ہو رہی ہے ، تو وہ لوگ ان کے لئے وہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ، ان کا سامنا فرشتوں سے ہوا ، جن کے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کا کفن تھا اور انہیں لگانے والی خوشبو تھی ، ان فرشتوں کے ساتھ پھاؤڑے ، بیلچے اور کدالیں تھیں ، انہوں نے کہا : اے اولاد آدم ! تم کہاں جا رہے ہو ؟ کیا تلاش کر رہے ہو ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم کیا چاہتے ہو ؟ اور تم کہاں جا رہے ہو ؟ تو نہوں نے بتایا : ہمارے والد بیمار ہیں ، انہیں جنت کے پھلوں کی طلب ہو رہی ہے ، تو ان فرشتوں نے ان بیٹوں سے کہا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ! کیونکہ تمہارے والد کا آخری وقت آ گیا ہے ، وہ لوگ واپس آئے ، جب سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان فرشتوں کو دیکھا تو انہیں پہچان لیا ، وہ حضرت آدم علیہ السلام نام سے لپٹ گئیں ، حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم مجھ سے الگ ہو جاؤ ! کیونکہ تم سے پہلے میری وفات کا وقت آ گیا ہے ، تم میرے اور میرے پروردگار کے فرشتوں کے درمیان جگہ چھوڑ دو ! فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی ، انہیں غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی ان کے لئے قبر کھودی ، ان کے لئے لحد تیار کی ، ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر وہ فرشتے ان کی قبر میں اترے اور انہیں قبر میں رکھا اور ان پر اینٹیں لگائیں ، پھر وہ قبر سے باہر آئے اور ان پر مٹی ڈالی اور پھر یہ بات بیان کی : اے اولاد آدم ! یہ تمہارے لئے مخصوص طریقہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13757

Majma al-Zawaid #13757

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ إِدْرِيسَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ صَدِيقًا لِمَلَكِ الْمَوْتِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَصَعِدَ بِإِدْرِيسَ فَأَرَاهُ النَّارَ، فَفَزِعَ مِنْهَا وَكَادَ يُغْشَى عَلَيْهِ، فَالْتَفَّ عَلَيْهِ مَلَكُ الْمَوْتِ بِجَنَاحِهِ، فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ: أَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَهَا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ. ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ حَتَّى أَرَاهُ الْجَنَّةَ فَدَخَلَهَا، فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ: انْطَلِقْ قَدْ رَأَيْتَهَا. قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ: حَيْثُ جِئْتُ. قَالَ إِدْرِيسُ: لَا وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْهَا بَعْدَ أَنْ دَخَلْتُهَا. فَقِيلَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ: أَلَيْسَ أَنْتَ أَدْخَلْتَهُ إِيَّاهَا؟ وَأَنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ دَخَلَهَا أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports that the Messenger ﷺ described Idris عليه السلام as a friend of the Angel of Death who asked to be shown Paradise and the Fire, was taken up, saw the Fire in terror nearing unconsciousness while sheltered by the wing, then was shown Paradise and entered it, refused to leave, whereupon it was said to the Angel of Death that he himself had admitted him and that none who enters it shall leave. > **"Hast thou not seen it? Nay, I have never seen anything like today. Where to? To where thou camest. No, by Allah, I shall not leave it after having entered it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت ادریس علیہ السلام ملک الموت کے دوست تھے ، انہوں نے ملک الموت سے یہ فرمائش کی : وہ انہیں جنت اور جہنم دکھائیں ، تو ملک الموت حضرت ادریس علیہ السلام کو ساتھ لے کر گئے اور انہیں جہنم دکھائی تو وہ اس سے گھبرا گئے اور قریب تھا کہ وہ بے ہوش ہو جاتے ، ملک الموت نے اپنے پَر ان پر ڈالے اور ملک الموت نے کہا : کیا آپ نے اسے دیکھا نہیں ہے ؟ تو انہوں نے کہا : دیکھا ہے ، میں نے آج کی طرح کی ( خوف زدہ کرنے والی کوئی چیز ) کبھی نہیں دیکھی ، پھر ملک الموت انہیں ساتھ لے کر گئے ، یہاں تک کہ انہیں جنت دکھائی ، وہ جنت میں داخل ہو گئے ، پھر ملک الموت نے کہا : اب چلئے ! آپ نے یہ دیکھ لی ہے ، انہوں نے کہا : کہاں ؟ ملک الموت نے کہا : جہاں سے آپ آئے ہیں ، حضرت اور ادریس علیہ السلام نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں اس میں داخل ہونے کے بعد اس میں سے کبھی نہیں نکلوں گا ، تو ملک الموت سے کہا گیا : کیا تم نے ہی انہیں اس میں داخل کروایا ہے ، جو اس میں داخل ہو جائے ، اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس سے نکل جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن خالد مصیصی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13758

Majma al-Zawaid #13758

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَوْ رَحِمَ اللَّهُ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ أَحَدًا لَرَحِمَ أُمَّ الصَّبِيِّ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَانَ نُوحٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَثَ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا يَدْعُوهُمْ، حَتَّى كَانَ آخِرَ زَمَانِهِ، وَغَرَسَ شَجَرَةً فَعَظُمَتْ وَذَهَبَتْ كُلَّ مَذْهَبٍ، ثُمَّ قَطَعَهَا وَجَعَلَ يَعْمَلُهَا سَفِينَةً، وَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ، فَيَقُولُ: أَعْمَلُهَا سَفِينَةً. فَيَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ: يَعْمَلُ سَفِينَةً فِي الْبَرِّ، وَكَيْفَ تَجْرِي؟ قَالَ: سَوْفَ تَعْلَمُونَ. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا وَفَارَ التَّنُّورُ وَكَثُرَ الْمَاءُ فِي السِّكَكِ، خَشِيَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ وَكَانَتْ تُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَخَرَجَتْ إِلَى الْجَبَلِ حَتَّى بَلَغَتْ ثُلُثَهُ، فَلَمَّا بَلَغَهَا الْمَاءُ خَرَجَتْ حَتَّى بَلَغَتْ ثُلُثَيِ الْجَبَلِ، فَلَمَّا بَلَغَهَا الْمَاءُ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْجَبَلِ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءُ فِيهَا، رَفَعَتْهُ بِيَدَيْهَا حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا الْمَاءُ، فَلَوْ رَحِمَ اللَّهُ مِنْهُمْ أَحَدًا رَحِمَ أُمِّ الصَّبِيِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها, wife of the Prophet ﷺ, reports that the Messenger ﷺ said that had Allah shown mercy to anyone of the people of Nuh عليه السلام He would have shown it to the mother of the child, then explained the long calling of a thousand years less fifty, the planting and growth of a tree, the construction of the ark amid mockery about running upon land, the gushing of the oven and abundance of water in the streets, and the mother climbing a third, then two thirds, then the top of the mountain with her beloved child until the water overwhelmed them both. > **"If Allah had shown mercy to anyone of the people of Nuh, He would have shown mercy to the mother of the child. Nuh remained among his people a thousand years less fifty, calling them, until at the end of his time he planted a tree which grew great and spread in every direction, then he cut it and began making it into an ark. They would pass by him and ask him, and he would say: I am making it into an ark. So they mocked him and said: He makes an ark on dry land, and how will it run? He said: Ye shall soon know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے کسی پر رحم کرنا ہوتا ، تو وہ بچے کی ماں پر رحم کر دیتا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ( وضاحت کرتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : ’’ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ایک ہزار سال سے پانچ سال کم تک مقیم رہے ، وہ ان لوگوں کو دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ اپنے آخری زمانے میں انہوں نے ایک درخت بویا ، وہ بڑا ہو گیا ، جب وہ بڑا ہو گیا ، تو انہوں نے اسے کاٹ دیا اور اس کے ذریعے کشتی تیار کرنا شروع کی ، لوگ ان کے پاس سے گزرتے تھے اور ان سے دریافت کرتے تھے ، تو وہ یہ فرماتے تھے کہ میں کشتی تیار کر رہا ہوں ، تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے اور یہ کہتے تھے : آپ خشکی میں کشتی تیار کر رہے ہیں ؟ یہ چلے گی کیسے ؟ تو حضرت نوح علیہ السلام کہتے تھے : تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا ، جب حضرت نوح علیہ السلام اسے بنا کر فارغ ہوئے اور تنور میں سے پانی پھوٹ پڑا ، اور گلیوں میں پانی زیادہ ہو گیا ، تو ایک بچے کی ماں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، وہ عورت اس بچے سے شدید محبت کرتی تھی ، وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف گئی ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے ایک تہائی حصے تک پہنچ گئی ، جب پانی وہاں تک پہنچ گیا ، تو وہ وہاں سے نکلی اور پہاڑ کے دو تہائی حصے تک پہنچ گئی ، جب پانی وہاں تک پہنچ گیا تو وہ اس بچے کو لے کر نکلی یہاں تک کہ پہاڑ کے اوپر تک پہنچ گئی ، جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا ، تو اس نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے بچے کو بلند کر دیا ، یہاں تک کہ پانی اُن دونوں کو بہا کر لے گیا ، اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے کسی پر رحم کرنا ہوتا ، تو اُس بچے کی ماں پر رحم کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13759

Majma al-Zawaid #13759

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ - قَالَ سُرَيْجٌ: شَيْطَانٌ - فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّهُ. قَالَ يُونُسُ: وَلَمْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، قَالَ: أَبَتِ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرَهُ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ: (أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا). فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهَا أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ، وَفِيهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reports that he asked Ibn Abbas رضي الله عنهما about the claim that the Prophet ﷺ ran between al-Safa and al-Marwah as a practice, which Ibn Abbas confirmed, then related the command of rites to Ibrahim عليه السلام, the encounter with Satan at the place of running and the race, the journey with Jibril to Jamrat al-Aqabah and the throwing of seven pebbles until he departed, the same at the middle jamrah, the laying down for sacrifice, the white shirt of Ismail, his request for it as a shroud, the attempt to remove it, and the call from behind announcing fulfillment of the vision and the appearance of a white horned ram with large eyes. > **"O Ibrahim, thou hast indeed fulfilled the vision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے : کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے ، اور یہ چیز سنت ہے ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ان لوگوں نے ٹھیک کہا ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک حج کا حکم دیا گیا ، تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا ، اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کا مقابلہ کیا ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ، پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے ، تو وہاں شیطان ان کے سامنے آیا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں ، تو وہ چلا گیا ، پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس ان کے سامنے آیا ، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں ، راوی کہتے ہیں : وہاں انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ( تاکہ انہیں قربان کریں ) حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر سفید قمیص موجود تھی ، انہوں نے کہا : اے میرے ابا جان ! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ، جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں ، تو آپ اسے اتروا لیں ، تاکہ آپ اس میں مجھے کفن دے سکیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے پکار کر یہ کہا گیا : ’’ اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ ثابت دکھایا ہے ۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہاں مڑ کے دیکھا ، تو وہاں سفید رنگ کا خوبصورت آنکھوں والا دنبہ موجود تھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حج سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعاصم غنوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے ان صحابی کے حوالے سے ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے ، اور اس میں یہ بات ذکر ہے : جن کو ذبح کیا گیا تھا وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13760

Majma al-Zawaid #13760

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports that the Messenger ﷺ affirmed that Allah took Ibrahim عليه السلام as a Khalil. > **"Indeed Allah took Ibrahim as a Khalil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13761

Majma al-Zawaid #13761

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا: "" «إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ خَلِيلَانِ دُونَ سَائِرِهِمْ "". قَالَ: "" فَخَلِيلٌ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيلُ اللَّهِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ used to say that on the Day of Resurrection the prophets would be in pairs of mutual close friends apart from the rest, and that among them on that day would be the Khalil of Allah, Ibrahim عليه السلام. > **"Indeed the prophets on the Day of Resurrection, every two of them will be mutual close friends apart from the rest. And a close friend among them on that day is the Khalil of Allah, Ibrahim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’ قیامت کے دن تمام انبیاء یوں ہوں گے کہ ان میں سے دو افراد ایک دوسرے کے خلیل ہوں گے ، باقی نہیں ہوں گے ، تو نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اُس دن اُن میں سے اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13762

Majma al-Zawaid #13762

وَعَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَمَّا عُرِجَ بِإِبْرَاهِيمَ رَأَى رَجُلًا يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَأُهْلِكَ، ثُمَّ رَأَى رَجُلًا عَلَى مَعْصِيَةٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنَّهُ عَبْدِي، وَإِنَّ مَصِيرَهُ مِنِّي خِصَالٌ ثَلَاثٌ: إِمَّا أَنْ يَتُوبَ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ يَسْتَغْفِرَنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَخْرُجَ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ يَعْبُدُنِي، يَا إِبْرَاهِيمُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مِنْ أَسْمَائِي أَنِّي أَنَا الصَّبُورُ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللَّهْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that when Ibrahim عليه السلام was taken up he saw a man sinning with a woman and prayed against him so he perished, then saw another man in disobedience and prayed against him, whereupon Allah revealed that he was His servant whose return involved three possibilities of repentance, forgiveness, or righteous offspring from his loins, and reminded Ibrahim that among His Names is al-Sabur. > **"He is My servant, and his return to Me involves three traits: either he repents and I relent upon him, or he seeks My forgiveness and I forgive him, or there emerges from his loins one who worships Me. O Ibrahim, knowest thou not that among My Names is that I am al-Sabur?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معراج کروائی گئی ، تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کر رہا تھا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ، پھر انہوں نے ایک اور شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : یہ میرا بندہ ہے ، اور اس نے لوٹ کے میری طرف آنا ہے ، تین صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ یہ توبہ کر لے گا اور میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا ، یا یہ ہے کہ یہ مجھ سے مغفرت طلب کرے گا ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا ، یا یہ ہے کہ اس کی پشت میں سے وہ لوگ نکلیں گے ، جو میری عبادت کریں گے ، اے ابراہیم ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے اسماء میں سے ، ایک اسم یہ ہے کہ میں ’’ صبور ‘‘ ہوں ( یعنی برداشت کرنے والا ہوں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13763

Majma al-Zawaid #13763

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرَّةٍ لَا صَدْعَ فِيهِ وَلَا وَهَنٍ، أَعَدَّهُ اللَّهُ لِخَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - نُزُلًا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described a palace of pearl in Paradise without crack or weakness, prepared by Allah as hospitality for His Khalil Ibrahim عليه السلام. > **"Indeed in Paradise there is a palace of pearl wherein is neither crack nor weakness, which Allah has prepared as hospitality for His Khalil Ibrahim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ایک محل ہے ، جس میں کوئی دراڑ اور کوئی کمزوری نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے وہ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کے لئے تیار کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13764

Majma al-Zawaid #13764

وَعَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُرِيتُ الْأَنْبِيَاءَ، فَأَنَا شَبِيهُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he was shown the prophets and that he most resembled Ibrahim عليه السلام. > **"The prophets were shown to me, and I am the most resembling of Ibrahim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے انبیاء دکھائے گئے ، تو میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13765

Majma al-Zawaid #13765

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى مِنَ الْخَلَائِقِ إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ that the first of creation to be clothed, meaning on the Day of Resurrection, would be Ibrahim عليه السلام. > **"Indeed the first of creation to be clothed is Ibrahim, meaning on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یعنی قیامت کے دن ( لباس پہنایا جائے گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

13766

Majma al-Zawaid #13766

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا أُلْقِيَ إِبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ، وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said that when Ibrahim عليه السلام was cast into the fire he affirmed the Oneness of Allah in heaven and his own solitary worship on earth. > **"O Allah, Thou art One in heaven, and I am one on earth worshipping Thee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا ، تو انہوں نے کہا : ’’ اے اللہ ! بے شک تو آسمان میں ایک ہے ، اور میں زمین میں ایک فرد ہوں ، جو تیری عبادت کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13767

Majma al-Zawaid #13767

وَعَنِ الْعَبَّاسِ عَنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ دَاوُدُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَسْأَلُكَ بِحَقِّ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ فَقَالَ: أَمَّا إِبْرَاهِيمُ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَأَمَّا إِسْحَاقُ فَبَذَلَ نَفْسَهُ لِيُذْبَحَ، فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ، وَأَمَّا يَعْقُوبُ، فَغَابَ عَنْهُ يُوسُفُ وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that Dawud عليه السلام asked by the right of his fathers Ibrahim, Ishaq and Yaqub, and was answered that Ibrahim was cast into fire and patient for His sake, Ishaq offered himself for slaughter and patient for His sake, and Yaqub lost Yusuf, trials which had not befallen the asker. > **"As for Ibrahim, he was cast into the fire and was patient for My sake, and that is a trial which did not reach thee. As for Ishaq, he offered himself to be slaughtered and was patient for My sake, and that is a trial which did not reach thee. As for Yaqub, Yusuf was absent from him, and that is a trial which did not reach thee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت داؤد نے کہا : میں تجھ سے اپنے آباؤ اجداد کے حق کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں ( وہ آباؤ اجداد ) حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں ، تو پروردگار نے فرمایا : جہاں تک ابراہیم کا تعلق ہے ، تو اسے میں نے آگ میں ڈال دیا ، تو اس نے میری وجہ سے صبر سے کام لیا اور اس آزمائش کا تمہیں سامنا نہیں کرنا پڑا ، اور جہاں تک اسحاق کا تعلق ہے ، تو اس نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ، تاکہ اسے ذبح کر دیا جائے ، تو اس نے میری خاطر صبر سے کام لیا ، تو تمہیں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے ، تو یوسف اس سے دور ہو گیا تھا ، یہ ایسی آزمائش ہے ، جو تمہیں لاحق نہیں ہوئی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے ابوسعید کی علی بن زید سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اور علی بن زید نامی راوی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ۔

13768

Majma al-Zawaid #13768

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ: مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: "" يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ذَبِيحُ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports from the Prophet ﷺ in answer to who are the most noble of people that he named Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq, Dhabihullah عليه السلام. > **"Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq, Dhabihullah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا : لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ حضرت یوسف علیہ السلام ، جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں ، جو حضرت اسحاق ذبیح اللہ علیہ السلام کے صاحبزادے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، بقیہ نامی راوی مدلس ہے ، اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

13769

Majma al-Zawaid #13769

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: فَاخَرَ أَسْمَاءُ بْنُ خَارِجَةَ رَجُلًا فَقَالَ: أَنَا ابْنُ الْأَشْيَاخِ الْكِرَامِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ذَاكَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ذَبِيحِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوُقُوفًا بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّ مَشَايِخَ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ahwas reports as a mawquf athar that Asma ibn Kharijah boasted to a man that he was the son of noble elders, whereupon Abdullah رضي الله عنه replied that such description belonged to Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq Dhabihullah ibn Ibrahim Khalilullah عليهم السلام. > **"That is Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq Dhabihullah ibn Ibrahim Khalilullah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص بیان کرتے ہیں : اسماء بن خارجہ نے ایک شخص کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا : میں معزز بزرگوں کا بیٹا ہوں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ وہ تو حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں تاہم امام طبرانی کے مشائخ سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13770

Majma al-Zawaid #13770

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ السَّيِّدُ؟ قَالَ: "" يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ "". قَالُوا: فَمَا فِي أُمَّتِكَ سَيِّدٌ؟ قَالَ: "" بَلَى، رَجُلٌ أُعْطِيَ مَالًا حَلَالًا وَرُزِقَ سَمَاحَةً، فَأَدْنَى الْفَقِيرَ، وَقَلَّتْ شَكَاتُهُ فِي النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that it was asked who is the sayyid, and the Prophet ﷺ named Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq ibn Ibrahim عليهم السلام, then when asked about a sayyid in his ummah described a man given lawful wealth and generosity, who draws the poor near and against whom complaints among people are few. > **"Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq ibn Ibrahim. Yea, a man who is given lawful wealth and granted generosity, so he draws the poor near, and his complaints among people are few."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گی : یا رسول اللہ ! سردار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم ( علیہم السلام ) ۔‘‘ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کی امت میں سردار کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو اور نرمی عطا کی گی ہو ، وہ غریب کو قریب رکھے اور لوگوں کو اس سے شکایات کم ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ متروک ہے ۔

13771

Majma al-Zawaid #13771

عَنِ الْعَبَّاسِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الذَّبِيحُ إِسْحَاقُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas, meaning Ibn Abd al-Muttalib رضي الله عنه, reports from the Prophet ﷺ that the one to be sacrificed was Ishaq عليه السلام. > **"The sacrificed one was Ishaq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنہیں ذبح کیا گیا ، وہ حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13772

Majma al-Zawaid #13772

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَغْفِرَ لِنِصْفِ أُمَّتِي أَوْ شَفَاعَتِي، فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي، وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أَعَمَّ لِأُمَّتِي، وَلَوْلَا سَبْقُ الَّذِي دَعَا إِلَيْهِ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، لَعَجَّلْتُ دَعْوَتِي، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا فَرَّجَ عَنْ إِسْحَاقَ كَرْبَ الذَّبْحِ قِيلَ لَهُ: يَا إِسْحَاقُ، سَلْ تُعْطَهُ. قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَتَعَجَّلَنَّهَا قَبْلَ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ، اللَّهُمَّ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا قَدْ أَحْسَنَ، فَاغْفِرْ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said Allah gave him choice between forgiveness for half his ummah or his intercession, so he chose intercession hoping it more general, and would have hastened his supplication were it not for the precedence of the righteous servant. When Allah relieved Ishaq عليه السلام from the distress of slaughter, he was told to ask and be given, so he hastened before the assaults of Satan to ask forgiveness for whoever dies associating nothing with Allah and having done good. > **"Indeed Allah gave me choice between forgiving half my ummah or my intercession, so I chose my intercession, and I hope it will be more general for my ummah. Were it not for the precedence of that to which the righteous servant prayed, I would have hastened my supplication. O Allah, whoever dies associating nothing with Thee, having done good, forgive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اختیار دیا کہ وہ میری نصف امت کی مغفرت کر دے ، یا مجھے شفاعت نصیب کر دے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ، اور مجھے یہ امید ہے کہ یہ میری امت کے لئے عمومی ہو گی ، اگر یہ چیز پہلے سے نہ ہو چکی ہوتی ، جس کی طرف ایک نیک بندے نے دعا کی تھی ، تو میں نے اپنی دعا جلدی کر لینی تھی ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح ہونے کی تکلیف سے نجات عطا کی ، تو اُن سے کہا گیا : اے اسحاق ! تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں شیطان کے حملے سے پہلے ، اس بارے میں جلدی کر لیتا ہوں : ’’ اے اللہ ! جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو تیرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اُس نے اچھائی کی ہو گی ، تو اُس کی مغفرت کر دینا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور امام طبرانی کے استاد سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13773

Majma al-Zawaid #13773

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَيْ حُسْنِ النَّاسِ، فِي الْوَجْهِ وَالْبَيَاضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ، غَطَّى وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَتَنَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports as a mawquf athar that Yusuf and his mother عليهما السلام were given two thirds of the beauty of people in face, fairness and other traits, such that when a woman came to him he would cover his face fearing she would be tempted. > **"Yusuf and his mother were given two thirds of the beauty of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کی والدہ کو ، چہرے اور سفید رنگت اور دیگر چیزوں کے حوالے سے ، لوگوں کے حسن کا دو تہائی حصہ دیا گیا تھا ، حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس جب کوئی خاتون آتی تھی ، تو وہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ خاتون آزمائش کا شکار نہ ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13774

Majma al-Zawaid #13774

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ أَيْضًا فَقَالَ: " أُعْطِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ. وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ وَهِمَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

A further version from al-Tabarani states that Yusuf and his mother were given a third of beauty, which the author notes is apparently a slip, and Allah knows best. > **"Yusuf and his mother were given a third of beauty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کی والدہ کو ایک تہائی حسن عطا کیا گیا تھا ۔‘‘ بظاہر یہ لگتا ہے ، یہ وہم ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13775

Majma al-Zawaid #13775

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُعْطِيَ يُوسُفُ شَطْرَ الْحُسْنِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports as an athar that Yusuf عليه السلام was given half of beauty. > **"Yusuf was given half of beauty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن عطا کیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13776

Majma al-Zawaid #13776

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ ; لِمَا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ جَلَّ وَعَزَّ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَى بِهِ أَنْ قَالَ: يَا مُوسَى، إِنَّهُ لَمْ يَتَصَنَّعْ لِي الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا، وَلَمْ يَتَقَرَّبْ إِلَيَّ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَعَبَّدِ الْمُتَعَبِّدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَتِي. قَالَ مُوسَى: يَا رَبَّ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ، وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ؟ قَالَ: أَمَّا الزُّهَّادُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنِّي أَبَحْتَهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ مِنْهَا حَيْثُ شَاءُوا، وَأَمَّا الْوَرِعُونَ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ عَبْدٌ إِلَّا نَاقَشْتُهُ وَحَاسَبْتُهُ إِلَّا الْوَرِعُونَ، فَإِنِّي أَسَتَحْيِيهِمْ وَأُجِلُّهُمْ وَأُكْرِمُهُمْ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خَشْيَتِي، فَأُولَئِكَ لَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ said Allah conversed privately with Musa عليه السلام in a hundred and forty thousand words over three days, after which Musa found human speech repugnant for what his ears had received of the speech of the Lord. Among that discourse was that none contrive for Him like renunciation of the world, none draw near like restraint from the forbidden, and none worship like weeping from fear of Him. Musa then asked what was prepared and recompensed for them, and was told of Paradise freely dwelt for renunciants, admission without reckoning through shyness and honor for the Godfearing, and the Highest Companionship unshared for those who weep from fear. > **"O Musa, none who contrive for Me have contrived with the like of renunciation of the world, and none who draw near to Me have drawn near with the like of restraint from what I have forbidden them, and none who worship have worshipped with the like of weeping from fear of Me. As for the renunciants of the world, I have permitted them My Paradise to dwell therein wherever they will. As for those restrained from what I forbade them, when the Day of Resurrection comes there shall remain no servant but I shall scrutinize and reckon him except the restrained, for I shall be shy of them and honor them and admit them to Paradise without reckoning. As for those who weep from fear of Me, theirs is the Highest Companionship, unshared therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، وہ تین دن میں ، ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات پر مشتمل تھا ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انسانوں کا کلام سنا ، تو انہیں اس پر غصہ آیا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام پہنچ چکا تھا ، پروردگار نے ان کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، اُس میں یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ’’ میری خاطر کام کرنے والوں نے ، دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی مانند کوئی کام نہیں کیا ہو گا ، اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے پرہیزگاری کی طرح کی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کیا ہو گا ، جو ان چیزوں سے پرہیز ہو ، جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہیں ، اور عبادت گزاروں نے میرے خوف کی وجہ سے رونے جیسی کسی چیز کے ذریعے عبادت نہیں کی ہو گی ۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے تمام مخلوق کے پروردگار ! اے قیامت کے دن مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے ان کے لئے کیا تیار کیا ہے ؟ اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ’’ جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے ، تو میں نے ان کے لئے جنت کو مباح قرار دے دیا ہے ، وہ اس میں جہاں چاہیں گے رہائش اختیار کریں گے جہاں تک پرہیزگار لوگوں کا تعلق ہے ، جو اُس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے ، تو جب قیامت کا دن ہو گا ، تو ہر بندے سے میں حساب لوں گا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ مجھے اُن سے حیاء آئے گی ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور میں انہیں حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے ، تو ان لوگوں کے لئے رفیق اعلیٰ ہو گا ، اس بارے میں دوسرے لوگ اُن کے شراکت دار نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

13777

Majma al-Zawaid #13777

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى، كَانَ يُبْصِرُ دَبِيبَ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ مِنْ مَسِيرَةِ عَشَرَةِ فَرَاسِخَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said that when Allah spoke to Musa عليه السلام he could see the creeping of ants upon rock on a dark night from a distance of ten farsakhs. > **"When Allah spoke to Musa, he could see the creeping of ants upon rock on a dark night from a distance of ten farsakhs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا ، تو وہ دس فرسخ کے فاصلے سے تاریک رات میں چٹان پر چلتی ہوئی چیونٹیوں کو بھی دیکھ سکتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13778

Majma al-Zawaid #13778

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا سُئِلْتَ: أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ فَقُلْ: خَيْرَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا وَأَبَرَّهُمَا، وَإِنْ سُئِلْتَ: أَيُّ الْمَرْأَتَيْنِ تَزَوَّجَ؟ فَقُلِ: الصُّغْرَى مِنْهُمَا وَهِيَ الَّتِي جَاءَتْ فَقَالَتْ: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ، إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ. قَالَ: مَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ؟ قَالَتْ: أَخَذَ حَجَرًا ثَقِيلًا فَأَلْقَاهُ عَنِ الْبِئْرِ. قَالَ: وَمَا الَّذِي رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ؟ قَالَتْ: قَالَ: امْشِي خَلْفِي وَلَا تَمْشِي أَمَامِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي سُورَةِ الْقَصَصِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ instructed him that if asked which of the two terms Musa عليه السلام fulfilled he should say the better, most complete and most dutiful of them, and if asked which of the two women he married he should say the younger, who came saying hire him for he is strong and trustworthy, having seen his strength in lifting a heavy stone from the well and his trustworthiness in bidding her walk behind rather than before him. > **"The better of them and the most complete and the most dutiful. The younger of them, she who came and said: O my father, hire him; indeed the best thou canst hire is the strong, the trustworthy. Walk behind me and do not walk before me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم سے یہ سوال کیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی پوری کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں زیادہ بہتر تھی اور زیادہ مکمل تھی اور زیادہ نیکی والی تھی ، اور اگر تم سے یہ سوال کیا جائے : کہ دونوں خواتین میں سے کس کے ساتھ انہوں نے شادی کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں سے چھوٹی تھیں ، یہ وہی خاتون ہیں ، جو آئی تھیں اور انہوں نے یہ کہا تھا : اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں ، کیونکہ یہ بہتر ملازم ثابت ہوں گے ، یہ طاقتور اور امین ہیں ، تو حضرت شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا تھا : تم نے اس کی قوت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس خاتون نے بتایا : انہوں نے ایک وزنی پتھر پکڑ کر اسے کنویں سے ہٹا دیا تھا ، حضرت شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے اس کی امانت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس نے بتایا : انہوں نے یہ کہا کہ تم میرے پیچھے چلتی ہوئی آؤ ! تم میرے آگے نہ چلنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران جونی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث سورہ قصص سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

13779

Majma al-Zawaid #13779

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: "" أَوْفَاهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ was asked which of the two terms Musa عليه السلام fulfilled and answered the more complete of them. > **"The more complete of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی مکمل کی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو زیادہ تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13780

Majma al-Zawaid #13780

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى فِي هَذَا الْوَادِي مُحْرِمًا بَيْنَ قَطَوَانِيَّتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said it was as if he looked upon Musa عليه السلام in that valley in ihram between two Qatawani cloaks. > **"As if I look upon Musa in this valley, in ihram between two Qatawani cloaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں گویا اس وقت بھی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ دو قطوانی چادروں میں احرام باندھے ہوئے اس وادی میں موجود ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13781

Majma al-Zawaid #13781

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ طُولُ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا، وَعَصَاهُ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا، وَوَثَبَتُهُ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا، فَضَرَبَ عَوْجُ بْنُ عَنَاقٍ فَمَا أَصَابَ مَنْهُ إِلَّا كَعْبَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports as an athar that the height of Musa عليه السلام was twelve cubits, his staff twelve cubits, his leap twelve cubits, and that he struck Uj ibn Anaq but reached only his ankle. > **"The height of Musa was twelve cubits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قد بارہ گز تھا اور ان کا عصاء بارہ گز لمبا تھا اور وہ بارہ گز اچھلے تھے اور انہوں نے عوج بن عناق پر ضرب لگائی تھی اور وہ ضرب اس کے ٹخنے پر لگی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13782

Majma al-Zawaid #13782

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الطُّورِ، كَلَّمَهُ بِغَيْرِ الْكَلَامِ الَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ يَوْمَ نَادَاهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا رَبِّ، هَذَا كَلَامُكَ الَّذِي كَلَّمْتَنِي بِهِ؟ قَالَ: يَا مُوسَى، إِنَّمَا كَلَّمْتُكَ بِقُوَّةِ عَشَرَةِ آلَافِ لِسَانٍ، وَلِي قُوَّةُ الْأَلْسُنِ كُلِّهَا وَأَقْوَى مِنْ ذَلِكَ. فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا: يَا مُوسَى، صِفْ لَنَا كَلَامَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: لَا تَسْتَطِيعُونَهُ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى أَصْوَاتِ الصَّوَاعِقِ الَّتِي تُقْبِلُ فِي أَجْلَى جَلَاوَةٍ سَمِعْتُمُوهُ؟ فَذَاكَ قَرِيبٌ مِنْهُ وَلَيْسَ بِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports as an athar that when Allah spoke to Musa عليه السلام on the day of al-Tur He spoke with speech other than that with which He spoke on the day He called him, that Musa asked whether this was His speech, was told he was spoken to with the force of ten thousand tongues while His is the force of all tongues and stronger, and that when Musa returned to Banu Israil and was asked to describe the speech of the Most Merciful he declared them unable and likened it only distantly to the sounds of thunderbolts heard in their clearest display. > **"O Musa, I spoke to thee but with the force of ten thousand tongues, and Mine is the force of all tongues and stronger than that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے طور کے دن ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا تو یہ اس کلام سے مختلف تھا ، جس کلام کو اس نے اُس دن کیا تھا ، جب انہیں پکارا تھا ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : اے میرے پروردگار ! یہ تیرا وہی کلام ہے ؟ جس کے ساتھ تو نے میرے ساتھ کلام کیا تھا ، تو اس نے فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے دس ہزار زبانوں کی قوت کے ہمراہ ، تمہارے ساتھ کلام کیا ہے ، اور مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ قوت حاصل ہے ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف واپس تشریف لائے ، تو بنی اسرائیل نے کہا : اے موسیٰ ! آپ رحمان کے کلام کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، کیا تم نے بجلی چمکنے کی آواز سنی ہے ؟ جب وہ آتی ہے ، جب بجلی زور سے چکی ہو ، کیا تم اسے سن پاتے ہو ؟ تو وہ آواز اس کے قریب تھی ، لیکن ویسی نہیں تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13783

Majma al-Zawaid #13783

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا، قَالَ: فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ، فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ، فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: يَا رَبِّ، عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي، وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَتَبْتُ بِهِ - قَالَ يُونُسُ: لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ - قَالَ لَهُ: اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ: لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى جِلْدٍ أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ. فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا بَعْدَ هَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ. قَالَ: فَالْآنَ. قَالَ: فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ - قَالَ يُونُسُ: فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، فَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً» - "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that the Angel of Death used to come to people openly, came to Musa عليه السلام who struck him and gouged his eye, returned to his Lord complaining while acknowledging his honor, was sent back to bid him place his hand upon a hide or ox skin with a year for every hair covered, conveyed this, was asked what comes after, answered death, heard that it be now, seized his soul after a scent, and thereafter, his eye having been restored, came to people in concealment. Part of this is noted to be in the Sahih. > **"The Angel of Death used to come to people openly. He came to Musa and he struck him and gouged his eye. Go to My servant and say to him: let him place his hand upon a hide or the skin of an ox, and for every hair covered by his hand there is a year. What is after this? Death. Then now."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پہلے ملک الموت علیہ السلام لوگوں کے پاس عیاں طور پر آ جایا کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں طمانچہ رسید کیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ، وہ پروردگار کے پاس آئے اور بولے : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے موسیٰ نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے ، اگر تو نے اسے عزت عطا نہ کی ہوئی ہوتی ، تو میں اسے سزا دیتا ، یہاں ایک راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، پروردگار نے ان سے فرمایا : تم میرے بندے کے پاس جاؤ ! اور اس سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی چمڑے پر رکھے ، یا کسی بیل کی کھال پر رکھے ، تو ہر ایک بال جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے گا ، اس کے بدلے میں اسے جائے گا ، ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے ( اور یہ بات بیان کی ) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : موت ہو گی ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : پھر ابھی ( تم میری روح قبض ) کر لو ! تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی ۔‘‘ یہاں یونس نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اُسے واپس کر دی تھی اور اس کے بعد وہ لوگوں کے پاس پوشیدہ طور پر آنے لگا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13784

Majma al-Zawaid #13784

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «رَأَيْتُ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ said he saw Musa عليه السلام at the red dune praying in his grave. > **"I saw Musa at the red dune, praying in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سرخ ٹیلے کے پاس ، اپنی قبر میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی صلہ بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

13785

Majma al-Zawaid #13785

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَقَدْ رَوَى عَنْ فَيَّاضٍ ثَلَاثَةٌ: مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّجَّارُ الرَّقِّيُّ، وَأَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ passed by Musa عليه السلام while he stood praying in his grave. > **"The Prophet passed by Musa while he stood praying in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام ( کی قبر ) کے پاس سے ہوا ، وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن محمد ہے اور راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، فیاض سے یہ روایت تین افراد نے نقل کی ہے : موسیٰ بن اسماعیل ۔ محمد عبداللہ نجار رقی ۔ اور ابویوسف صیدلانی ۔

13786

Majma al-Zawaid #13786

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ غَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا أَوَّلُ إِفَاقَةً، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَإِذَا بِرَجُلٍ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعَرْشِ، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ فَقَدْ أَفَاقَ قَبْلِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports from Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما or another companion of the Messenger ﷺ that the Messenger ﷺ said he would be the first to recover, would raise his head to find a man between him and the Throne, identified as Musa عليه السلام, and that if he had been upon the earth he would have recovered before him. > **"I am the first to recover, so I raise my head, and behold a man between me and the Throne. It is said: This is Musa. If he was upon the earth, he has surely recovered before me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( قیامت کے دن ) مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، تو ایک شخص میرے اور عرش کے درمیان ہو گا ، تو بتایا جائے گا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں ، اگر تو وہ زمین میں تھے ، تو انہیں مجھ سے پہلے ہوش آ گیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔