Majma al-Zawaid #13709
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَانَ وَصْلَةٌ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ، أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ النَّسَائِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ.
EnglishUnverified translation
Aishah, radiya Allahu anha, reports that the Messenger of Allah ﷺ promised divine aid upon the Bridge when feet slip to one who conveys his Muslim brother's case to an authority for benefit or relief of hardship. > **"Whoever serves as a link for his Muslim brother to one in authority for attaining goodness or easing hardship, Allah will aid him in crossing the Bridge when feet slip."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے معاملے کو متعلقہ حاکم تک پہنچاتا ہے ، جس میں ( اس بھائی ) کو کوئی بہتری مل رہی ہو ، یا کوئی مشکل آسان ہو رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ پل صراط سے گزرتے وقت جب لوگوں کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے ، اس شخص کی مدد کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام نسائی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔