وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ، أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَظَمَ غَضَبَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ، مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَخَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مسكيْنُ بْنُ سِرَاجٍ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reports that a man asked the Prophet ﷺ which people and which deeds are most beloved to Allah. The Prophet ﷺ answered that the most beloved are the most beneficial, and named bringing joy, relieving distress, settling debt, and repelling hunger. He then declared walking with a brother for his need dearer than a month of retreat in his mosque at Madinah, and described the rewards of curbing rage, swallowing controllable anger, and accompanying a brother until his need is secured, culminating in firm footing on the day feet slip. > **"The most beloved of people to Allah Almighty are the most beneficial to people, and the most beloved of deeds to Allah are joy you bring to a Muslim, or distress you remove from him, or debt you settle for him, or hunger you repel from him. That I walk with a brother of mine for his need is dearer to me than that I observe retreat in this mosque of mine in Madinah for a month. Whoever restrains his rage, Allah will veil his faults, and whoever swallows his anger though able to vent it, Allah will fill his heart with ease on the Day of Resurrection, and whoever walks with his brother for his need until it is secured for him, Allah will make his foot firm on the day feet slip."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں کون زیادہ محبوب ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے ، جو لوگوں کے حق میں سب سے زیادہ نفع بخش ہو ، اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ خوشی ہے ، جسے تم کسی مسلمان پر داخل کرتے ہو ، یا کسی مسلمان سے تم کوئی تکلیف دہ چیز دور کر دیتے ہو ، یا تم اس کا قرض ادا کر دیتے ہو ، یا اس سے بھوک کو پرے کر دیتے ہو ، میں اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد میں ، یعنی مسجد نبوی میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں ، اور جو شخص اپنے غضب کو روک لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو پی لیتا ہے ، ایسی صورت میں جبکہ اگر وہ چاہے ، تو اسے دکھا سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو خوشحالی سے بھر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا وہ کام کروا دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کے پاؤں کو ثابت قدم رکھے گا ، جب لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن سراج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔