Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 8

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13669–13708

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13669

Majma al-Zawaid #13669

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ promised removal from the Fire and entry into Paradise to one whom death overtakes while testifying that none is worthy of worship but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger ﷺ, and while dealing with people as he loves to be dealt with. > **"Whoever is pleased to be removed from the Fire and admitted into Paradise, let death come to him while he testifies that none is worthy of worship but Allah and that Muhammad is His servant and His Messenger, and while he deals with people as he loves to be dealt with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اُسے جہنم سے بچا لیا جائے ، اور وہ جنت میں داخل ہو جائے ، تو جب اُس کی موت اس کے پاس آئے ، تو اس کا یہ حال ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہو ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13670

Majma al-Zawaid #13670

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يُرْحَمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ - أَيِ الْعَوْفِيُّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, meaning al-Khudri رضي الله عنه, reports from the Prophet ﷺ that mercy withheld from people returns as mercy withheld. > **"Whoever does not show mercy to people will not be shown mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا ، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ یعنی عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13671

Majma al-Zawaid #13671

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَرَاحَمُوا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا رَحِيمٌ. قَالَ: "" إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ النَّاسِ رَحْمَةُ الْعَامَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari رضي الله عنه reports that he heard the Prophet ﷺ condition faith upon mutual mercy, and when the people claimed mercy for themselves, the Prophet ﷺ explained that what is meant is not private compassion for a companion but mercy toward people generally. > **"You will not believe until you show mercy to one another. It is not the mercy of one of you to his companion, but mercy to people, mercy to the generality."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ اُس وقت تک مومن نہیں ہو گے ، جب تک ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہم سب رحم کرنے والے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد ، تم میں سے کسی ایک کا اپنے ساتھیوں پر رحم کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد لوگوں پر رحمت کرنا ، سب پر ( یا عمومی طور پر ) رحمت کرنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13672

Majma al-Zawaid #13672

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «ارْحَمْ مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمُكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ promise heavenly mercy in return for earthly mercy. > **"Show mercy to those on earth, and the One in heaven will show mercy to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم اُس پر رحم کرو ، جو زمین میں ہے ، وہ تم پر رحم کرے گا ، جو آسمان میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13673

Majma al-Zawaid #13673

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَضَعُ اللَّهُ رَحْمَتَهُ إِلَّا عَلَى رَحِيمٍ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا يَرْحَمُ. قَالَ: "" لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، يَرْحَمُ النَّاسَ كَافَّةً» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ swore that Allah places His mercy only upon the merciful, and when the people claimed mercy for themselves, he clarified that what is intended is mercy to all people, not merely to one's companion. > **"By the One in whose Hand is my soul, Allah places His mercy only upon the merciful. It is not the mercy of one of you to his companion; it is mercy to all people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو صرف رحم کرنے والے پر رکھتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سب رحم کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد تم میں سے کسی ایک کا اپنے ساتھی پر رحمت کرنا نہیں ہے ، بلکہ سب لوگوں پر رحم کرنا مراد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گی ہے البتہ ابن اسحٰق نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ مدلس ہے ۔

13674

Majma al-Zawaid #13674

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ارْحَمْ مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمُكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، فَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ promised heavenly mercy in return for earthly mercy. > **"Show mercy to those on earth, and the One in heaven will show mercy to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُس پر رحم کرو ، جو زمین میں ہے ، وہ تم پر رحم کرے گا ، جو آسمان میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

13675

Majma al-Zawaid #13675

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that the unmerciful are left without mercy. > **"Whoever does not show mercy will not be shown mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو رحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گی ہے ، اور بزار کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13676

Majma al-Zawaid #13676

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that the unmerciful are left without mercy. > **"Whoever does not show mercy will not be shown mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو رحم نہیں کرتا ، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13677

Majma al-Zawaid #13677

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ لَمْ يَرْحَمِ النَّاسَ لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ deny divine mercy to one who withholds mercy from people. > **"Whoever does not show mercy to people, Allah will not show mercy to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13678

Majma al-Zawaid #13678

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ فَلَنْ يَرْحَمُهُ اللَّهُ» ". وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Haydah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ denied divine mercy to one who withholds mercy from people. > **"Whoever does not show mercy to people, Allah will never show mercy to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مسلمانوں پر رحم نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرے گا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابوعبیدہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13679

Majma al-Zawaid #13679

وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَرْحَمِ الْمُسْلِمِينَ فَلَنْ يَرْحَمَهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي التَّوْبَةِ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ashath ibn Qays رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ denied divine mercy to one who withholds mercy from Muslims. > **"Whoever does not show mercy to Muslims, Allah will never show mercy to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اشعث بن قیس بلی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مسلمانوں پر رحم نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث ، توبہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔

13680

Majma al-Zawaid #13680

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad al-Saidi رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that the station of a believer among the faithful resembles the head to the body, sharing pain as the body shares the pain of the head. > **"The believer among the people of faith is like the head to the body: the believer feels pain for the people of faith just as the body feels pain for what afflicts the head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل ایمان میں ، مومن کی مثال یوں ہے جیسے جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے ، اہل ایمان کے حوالے سے مومن یوں تکلیف محسوس کرتا ہے ، جس طرح جسم سر کی تکلیف کی وجہ سے ، تکلیف محسوس کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13681

Majma al-Zawaid #13681

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ - صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْزِلَةُ الْمُؤْمِنِ مِنَ الْمُؤْمِنِ مَنْزِلَةُ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، مَتَى مَا اشْتَكَى الْجَسَدُ اشْتَكَى لَهُ الرَّأْسُ، وَمَتَى مَا اشْتَكَى الرَّأْسُ اشْتَكَى سَائِرُ الْجَسَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Bashir ibn Sad رضي الله عنه, a companion of the Messenger ﷺ, reports that the Messenger ﷺ likened the standing of believer to believer to that of head to body, in mutual participation of complaint between part and whole. > **"The standing of a believer to a believer is that of the head to the body: whenever the body complains, the head complains for it, and whenever the head complains, the rest of the body complains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مومن کے لئے دوسرے مومن کی مثال یوں ہے ، جیسے جسم کے لئے سر کی حیثیت ہوتی ہے ، جب جسم تکلیف کا شکار ہوتا ہے ، تو سر کو بھی اس کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے ، اور جب سر تکلیف کا شکار ہوتا ہے ، تو پورے جسم کو بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ مدینی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13682

Majma al-Zawaid #13682

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه and Abu Said رضي الله عنه report from the Prophet ﷺ that believers strengthen one another like the parts of a building. > **"The believer to the believer is like a building, one part of which strengthens another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی مانند ہے ، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13683

Majma al-Zawaid #13683

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ defined his mission as the completion of righteous character. > **"I was sent only to perfect righteous character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اس لئے مبعوث کیا گیا ، تاکہ میں نیک اخلاق کی تکمیل کروں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13684

Majma al-Zawaid #13684

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِتَمَامِ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَمَالِ مَحَاسِنِ الْأَفْعَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ described his sending as bearing the completion of noble morals and the perfection of beautiful deeds. > **"Allah sent me with the completion of noble morals and the perfection of beautiful deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل اور بہترین افعال کے کمال کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13685

Majma al-Zawaid #13685

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَكَارِمُ الْأَخْلَاقِ مِنْ أَعْمَالِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ تَقَدَّمَ فِي الضِّيَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ count noble morals among the deeds of Paradise. > **"Noble morals are among the deeds of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمدہ اخلاق ، جنت کے اعمال میں سے ہیں ۔‘‘ اس روایت کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اس حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے مہمان نوازی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

13686

Majma al-Zawaid #13686

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described Allah as Beautiful who loves beauty, loves lofty morals, and dislikes the base and petty. > **"Allah is Beautiful and loves beauty. He loves lofty morals and dislikes the base and petty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، اور وہ بلند اخلاق کو پسند کرتا ہے ، اور وہ برے اخلاق کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13687

Majma al-Zawaid #13687

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكُرَمَاءَ، وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ "". وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described Allah the Mighty and Majestic as Generous who loves the generous and loves high matters while disliking the petty, with the variant wording naming high morals. > **"Allah the Mighty and Majestic is Generous and loves the generous. He loves high matters and dislikes the petty. He loves high morals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کریم ہے ، وہ کریم لوگوں کو پسند کرتا ہے ، اور وہ اُمور میں بلند کو پسند کرتا ہے ، اور کمتر کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ بلند اخلاق کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ معجم کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13688

Majma al-Zawaid #13688

وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ وَأَشْرَافَهَا، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Ali رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ declared Allah's love for high and noble matters and His dislike for the petty. > **"Allah loves high and noble matters and dislikes the petty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اُمور میں بلند اور معزز کو پسند کرتا ہے ، اور اُن ( امور ) میں کمتر کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے جسے امام احمد ، یحیی بن معین ، امام بخاری اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13689

Majma al-Zawaid #13689

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ. فَقَالَ: " يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ»

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, radiya Allahu anhu, reports that he afterwards met the Messenger of Allah ﷺ and took hold of his hand, asking him to inform him of the most excellent deeds. The Prophet ﷺ enjoined upon him maintaining relations, giving, and turning away. > **"O Uqbah, join whoever cuts you off, give to whoever deprives you, and turn away from whoever wrongs you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے فضیلت والے اعمال کے بارے میں بتائیے ! تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عقبہ ! جو شخص تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس سے تعلق رکھو ، جو شخص تمہیں محروم کرے ، تم اسے دو ، اور جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اُس سے درگزر کرو ۔‘‘

13690

Majma al-Zawaid #13690

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

This is an alternate wording of the same report, conveying the final injunction with the term pardon rather than turning away, without additional chain detail in the matn itself. > **"And pardon whoever wronged you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اُسے معاف کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13691

Majma al-Zawaid #13691

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَكْرَمِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَنْ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, radiya Allahu anhu, reports that the Prophet ﷺ addressed him and offered to guide him to the noblest character in this world and the next, which he then defined through three acts of generosity toward those who withhold and wrong. > **"Shall I not guide you to the noblest morals of this world and the Hereafter? That you join whoever cuts you off, give to whoever deprives you, and pardon whoever wrongs you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ کیا میں دنیا اور آخرت کے سب سے زیادہ معزز اخلاق کے بارے میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ وہ یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ تعلق رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اُسے دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اسے معاف کر دو ، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13692

Majma al-Zawaid #13692

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى خَيْرِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ مَنْ وَصَلَ مَنْ قَطَعَهُ، وَعَفَا عَمَّنْ ظَلَمَهُ، وَأَعْطَى مَنْ حَرَمَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ مُرْسَلًا وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ offered to guide his Companions to the best character of this world and the Hereafter, describing it through kindness toward the estranged, the oppressive, and the withholding. > **"Shall I not guide you to the best morals of this world and the Hereafter? One who joins whoever cuts him off, pardons whoever wrongs him, and gives to whoever deprives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہاری رہنمائی دنیا اور آخرت کے بہتر اخلاق کی طرف نہ کروں ؟ وہ شخص کہ جو اس فرد کے ساتھ تعلق رکھے ، جو اس کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، اور اس سے درگزر کرے ، جو اس کے ساتھ زیادتی کرے ، اور اُسے دے ، جو اسے محروم رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ انہوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13693

Majma al-Zawaid #13693

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ: أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصْفَحُ عَمَّنْ شَتَمَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Anas, radiya Allahu anhu, reports from the Messenger of Allah ﷺ a definition of the most excellent of excellences, expressed through maintaining ties, giving, and overlooking insult. > **"The best of excellences: that you join whoever cuts you off, give to whoever deprives you, and overlook whoever reviles you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ تعلق رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اس شخص سے درگزر کرو ، جو تمہیں برا کہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13694

Majma al-Zawaid #13694

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" تَحْلُمُ عَنْ مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ، وَتَعْفُو عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked his Companions whether he should guide them to what raises ranks, and upon their assent he listed forbearance, pardon, giving, and joining. > **"Shall I not guide you to what Allah raises ranks by? Show forbearance toward whoever acts ignorantly against you, pardon whoever wrongs you, give to whoever deprives you, and join whoever cuts you off."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ درجات بلند کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اُس شخص کے لئے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کو معاف کر دو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اس شخص کے ساتھ تعلق قائم رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

13695

Majma al-Zawaid #13695

وَعَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُشْرِفُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ الْبُنْيَانَ وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَنْ تَحْلُمَ عَلَى مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ، وَأَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُوَ عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah, radiya Allahu anhu, also reports that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform his Companions of what ennobles their edifice and raises ranks, and upon their assent he named forbearance, joining, giving, and pardoning. > **"Shall I not inform you of what Allah Almighty ennobles the edifice by and raises ranks by? That you show forbearance toward whoever acts ignorantly against you, join whoever cuts you off, give to whoever deprives you, and pardon whoever wrongs you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ان امور کے بارے میں اطلاع نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ بلند عمارت عطا کرتا ہے ، اور ان کے ذریعے درجات بلند کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ یہ ہیں کہ تم اس شخص کے سامنے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کے ساتھ تعلق اختیار کرو ، جو تمہارے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے ، اور تم اس شخص سے درگزر کرو ، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13696

Majma al-Zawaid #13696

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُشْرَفَ لَهُ الْبُنْيَانُ وَأَنْ تُرْفَعَ لَهُ الدَّرَجَاتُ، فَلْيَعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَهُ، وَيُعْطِ مَنْ حَرَمَهُ، وَيَصِلْ مَنْ قَطَعَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ linked desire for a lofty edifice and raised ranks to three deeds toward those who wrong, deprive, and sever. > **"Whoever delights that a lofty edifice be granted to him and ranks be raised for him, let him pardon whoever wronged him, give to whoever deprived him, and join whoever cut him off."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کو ( جنت میں ) بلند عمارت ملے اور اس کے درجات بلند ہوں ، تو وہ اس شخص سے درگزر کرے ، جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو ، اور اس شخص کو دے ، جس نے اسے محروم رکھا ہو ، اور اس شخص سے تعلق قائم رکھے ، جو اس سے لاتعلقی اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13697

Majma al-Zawaid #13697

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ "". قَالَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: "" تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ "". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ هَذَا، فَمَا لِي يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ mentioned three traits whose bearer receives an easy reckoning and entry into Paradise through mercy. When asked with reverent affection what they were, he named giving, joining, and pardoning, and when asked what reward follows such action, he promised Paradise. > **"You give to whoever deprived you, join whoever cut you off, and pardon whoever wronged you. Allah will admit you to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت کے وسیلے سے اسے جنت میں داخل کر دے گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ چیزیں کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اسے دو ، جو تمہیں محروم رکھے ، تم اس سے تعلق قائم کرو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص سے درگزر کرو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جب میں ایسا کر لوں گا ، تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13698

Majma al-Zawaid #13698

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ؟ قَالَ: "" إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُفْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: "" فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, radiya Allahu anhu, reports that a man reviled Abu Bakr, radiya Allahu anhu, while the Prophet ﷺ sat by, marveling and smiling. When the abuse increased, Abu Bakr answered back in part, whereupon the Prophet ﷺ grew angry and rose. Abu Bakr followed and asked why his silence had met approval but his reply met anger. The Prophet ﷺ explained that an angel had been answering on his behalf until Shaytan intruded upon his reply, with whom he would not sit, and then addressed Abu Bakr with three certain truths about pardon bringing honor, giving for kinship bringing increase, and begging for increase bringing decrease. > **"There was an angel with you answering on your behalf, but when you answered back in part, Shaytan intervened, and I would not sit with Shaytan. O Abu Bakr, three are all true: no servant is wronged with an injustice and then overlooks it for Allah Almighty except that Allah strengthens his support through it, no man opens a door of giving intending kinship except that Allah increases him thereby in abundance, and no man opens a door of begging intending increase except that Allah increases him thereby in decrease."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا کہا ، نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ۔ نبی اکرم ﷺ حیران ہوئے اور مسکرانے لگے ، جب اس شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں زیادہ برا کہنا شروع کیا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کسی بات کا جواب دے دیا ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص مجھے برا کہہ رہا تھا ، آپ تشریف فرما رہے ، جب میں نے اس کی ایک بات کا جواب دیا ، تو آپ غصے میں آ گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا ، جب تم نے اس کی بات کا جواب دیدیا ، تو شیطان بیچ میں آ گیا ، تو میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوبکر ! تین چیزیں ہیں ، جو حق ہیں ، جس بھی بندے کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے ، اور وہ اسے اللہ کے سپرد کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی مدد کے ذریعے اس شخص کو عزت عطا کرتا ہے ، اور جو بھی شخص عطیہ دینے کا دروازہ کھولتا ہے اور اس کے ذریعے اس کا مقصد صلہ رحمی کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے مال میں اضافہ کر دیتا ہے ، اور جو بھی شخص مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے ، اس کا مقصد اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اُس کی قلت میں اضافہ کر دیتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت صرف ان الفاظ تک نقل کی ہے : ’’ میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کی روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13699

Majma al-Zawaid #13699

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُعْلِمُونِي بِهِ، قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ "". قَالَ: قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ. قَالَ: فَقَالَ: "" يَا سَائِبُ، انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاصْنَعْهَا فِي الْإِسْلَامِ: أَقْرِ الضَّيْفَ، وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saib ibn Abdillah, radiya Allahu anhu, reports that Uthman ibn Affan and Zuhayr brought him to the Prophet ﷺ and began praising him. The Prophet ﷺ said he already knew him as his companion in the pre-Islamic age. Saib affirmed what an excellent companion he had been. The Prophet ﷺ then commanded him to preserve his former noble conduct in Islam through hospitality, care for the orphan, and goodness to the neighbor. > **"O Saib, look to the morals you practiced in the pre-Islamic age and practice them in Islam: honor the guest, honor the orphan, and do good to your neighbor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ، مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جایا گیا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر رضی اللہ عنہ مجھے لے کے آئے اور میری تعریفیں نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیان کرنے لگے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤ ! یہ زمانہ جاہلیت میں ، میرا ساتھی رہا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ بہت اچھے ساتھی تھے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے سائب ! اپنے ان اخلاق کا جائزہ لو ! جو تم زمانہ جاہلیت میں اختیار کرتے تھے ، اور زمانہ اسلام میں بھی انہیں کرتے رہو ، تم مہمان نوازی کرو ، یتیم کا احترام کرو ، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13700

Majma al-Zawaid #13700

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ فَلَا يَجْنِي مِنْ عَمَلِهِ: تَقْوًى تَحْجِزُهُ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ، أَوْ حِلْمٌ يَكُفُّ بِهِ سَفِيهًا، أَوْ خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ "". وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ كَانَ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَزَوَّجَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ خَفِيَّةٌ شَهِيَّةٌ فَأَدَّاهَا مَخَافَةَ اللَّهِ، أَوْ رَجُلٌ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ، أَوْ رَجُلٌ قَرَأَ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ، وَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, radiya Allahu anha, reports that the Prophet ﷺ stated that one lacking even one of three qualities will not profit from his deeds, namely restraining piety, restraining forbearance, and congenial character. She also reports that he stated that one possessing even one of three other qualities will be wed to maidens of Paradise, namely faithful return of a coveted hidden trust, pardon of a killer, and recitation of the chapter of Sincerity after every prayer. > **"Whoever lacks even one of three will gain nothing from his deeds: piety restraining him from disobedience to Allah, forbearance by which he restrains a fool, or character with which he lives among people. Whoever possesses even one of three, Allah will wed him among the wide-eyed maidens: one with a hidden coveted trust who discharges it from fear of Allah, or a man who pardons his killer, or a man who recites Qul Huwa Allahu Ahad after every prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص میں تین میں سے ایک چیز نہیں ہو گی ، تو وہ اپنے عمل کا تاوان نہیں دے گا ( یعنی اس کو سزا نہیں ملے گی ) ایسا تقویٰ جو اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک دے ، یا ایسی بردباری ، جو اسے بے وقوف کے سامنے ( غصے کا ) اظہار کرنے سے روک دے ، اور ایسے اخلاق ، جن کے ہمراہ وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص میں ، تین میں سے کوئی ایک چیز ہو گی ، اللہ تعالیٰ حورعین سے تعلق رکھنے والی حور کے ساتھ اُس کی شادی کر دے گا ، جس شخص کے پاس کوئی پوشیدہ دلچسپی والی امانت موجود ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اُسے واپس کر دے ، یا جو شخص قاتل ( سے بدلہ لینے ) کو معاف کر دے ، یا جو شخص ہر نماز کے بعد سورت اخلاص کی تلاوت کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، اسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13701

Majma al-Zawaid #13701

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ عَفَا عِنْدَ قُدْرَةٍ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْعُسْرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ connected pardon at the moment of power with divine pardon on the day of hardship. > **"Whoever pardons while having power, Allah will pardon him on the Day of Hardship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ تنگی کے دن اس سے درگزر کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13702

Majma al-Zawaid #13702

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ مَشَى إِلَى حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً إِلَى أَنْ يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ فَارَقَهُ، فَإِنْ قُضِيَتْ حَاجَتُهُ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَإِنْ هَلَكَ فَيَا مِنْ هَالِكٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described one who walks out for the need of his Muslim brother as earning a good deed for every step until his return, emerging sinless as a newborn if the need is fulfilled, and entering Paradise without reckoning if he perishes along the way. > **"Whoever walks to the need of his Muslim brother, Allah writes for him a good deed for every step he takes until he returns whence he parted. If his need is fulfilled, he emerges from his sins as on the day his mother bore him, and if he perishes along the way, such a perished one enters Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ہر ایک قدم ، جو اس نے اٹھایا ہو ، اس کے عوض میں ، اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرے گا ، جب تک وہ وہاں واپس نہیں آ جاتا ، جہاں وہ اس سے جدا ہو گا ، اور اگر دوسرے شخص کی حاجت پوری ہو جاتی ہے تو وہ شخص اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جائے گا ، جیسے اس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور اگر وہ اس دوران مارا جاتا ہے ، تو ایسے ہلاک ہونے والے کے کیا کہنے ؟ جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13703

Majma al-Zawaid #13703

وَعَنْ أَنَسٍ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا سَبْعِينَ حَسَنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, radiya Allahu anhu, also reports that the Messenger of Allah ﷺ promised a multiplied reward for every step taken in service of a Muslim brother's need. > **"Whoever walks for the need of his Muslim brother, Allah writes for him seventy good deeds for every step he takes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اُٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں ، اس کے لئے ستر نیکیاں نوٹ کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13704

Majma al-Zawaid #13704

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَلْطَفَ مُؤْمِنًا أَوْ خَفَّ فِي شَيْءٍ مِنْ حَوَائِجِهِ، صَغُرَ ذَلِكَ أَوْ كَبُرَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَخْدِمَهُ مِنْ خَدَمِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that kindness to a believer or exertion for any of his needs, small or great, makes it binding upon Allah to provide him service from the attendants of Paradise. > **"Whoever treats a believer gently or exerts himself in any of his needs, whether small or great, it is binding upon Allah to provide him service from the attendants of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی مومن کے ساتھ مہربانی کرے ، یا اس کے لئے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جائے ، خواہ وہ ضرورت چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ جنت کے خادموں میں سے اُسے خادم عطا کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13705

Majma al-Zawaid #13705

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَغَاثَ مَلْهُوفًا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ حَسَنَةً، وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا لَهُ أَمْرَ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ، وَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِي الدَّرَجَاتِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا زِيَادُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ promised seventy-three good deeds to one who rescues the anguished, with one rectifying his worldly and otherworldly affairs and seventy-two elevating his ranks. > **"Whoever rescues one in anguish, Allah writes for him seventy-three good deeds, by one of which Allah rectifies for him his affairs of this world and the next, and seventy-two are in ranks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص پریشان حال کی مدد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے تہتر نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، جن میں سے ایک نیکی کے ذریعے ، وہ اس شخص کی دنیا اور آخرت کے معاملے کو ٹھیک کر دیتا ہے ، اور بہتر نیکیاں اُس شخص کے لئے درجات کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوحسان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13706

Majma al-Zawaid #13706

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِيَالِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described creation as the dependents of Allah and identified the most beloved among them as the most beneficial to those dependents. > **"Creation are the dependents of Allah, and the most beloved of them to Allah are the most beneficial to His dependents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے ، تو ان میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے ، جو اُس کے عیال کے لئے زیادہ نفع بخش ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13707

Majma al-Zawaid #13707

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْخَلْقُ كُلُّهُمْ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِيَالِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَيْرٌ، وَهُوَ أَبُو هَارُونَ الْقُرَشِيُّ، مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, radiya Allahu anhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the whole of creation as dependents of Allah and identified the most beloved as the most beneficial to them. > **"All creation are dependents of Allah, and the most beloved of creation to Allah are the most beneficial to His dependents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب بندہ وہ ہے ، جو اس کی عیال کے لیے زیادہ نفع بخش ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیر ہے ، اور وہ ابوہارون قرشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13708

Majma al-Zawaid #13708

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ، وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ، أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَظَمَ غَضَبَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ، مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَخَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مسكيْنُ بْنُ سِرَاجٍ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reports that a man asked the Prophet ﷺ which people and which deeds are most beloved to Allah. The Prophet ﷺ answered that the most beloved are the most beneficial, and named bringing joy, relieving distress, settling debt, and repelling hunger. He then declared walking with a brother for his need dearer than a month of retreat in his mosque at Madinah, and described the rewards of curbing rage, swallowing controllable anger, and accompanying a brother until his need is secured, culminating in firm footing on the day feet slip. > **"The most beloved of people to Allah Almighty are the most beneficial to people, and the most beloved of deeds to Allah are joy you bring to a Muslim, or distress you remove from him, or debt you settle for him, or hunger you repel from him. That I walk with a brother of mine for his need is dearer to me than that I observe retreat in this mosque of mine in Madinah for a month. Whoever restrains his rage, Allah will veil his faults, and whoever swallows his anger though able to vent it, Allah will fill his heart with ease on the Day of Resurrection, and whoever walks with his brother for his need until it is secured for him, Allah will make his foot firm on the day feet slip."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں کون زیادہ محبوب ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے ، جو لوگوں کے حق میں سب سے زیادہ نفع بخش ہو ، اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ خوشی ہے ، جسے تم کسی مسلمان پر داخل کرتے ہو ، یا کسی مسلمان سے تم کوئی تکلیف دہ چیز دور کر دیتے ہو ، یا تم اس کا قرض ادا کر دیتے ہو ، یا اس سے بھوک کو پرے کر دیتے ہو ، میں اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد میں ، یعنی مسجد نبوی میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں ، اور جو شخص اپنے غضب کو روک لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو پی لیتا ہے ، ایسی صورت میں جبکہ اگر وہ چاہے ، تو اسے دکھا سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو خوشحالی سے بھر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا وہ کام کروا دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کے پاؤں کو ثابت قدم رکھے گا ، جب لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن سراج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔