وَعَنْ أَبِي عَوَانَةَ أَنَّهُ قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ، فَبَلَغَنِي عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ وَضَّاحًا دَعَانَا عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ، قَالَ: فَلَقِيتُ رَقَبَةَ بْنَ مَصْقَلَةَ، فَشَكَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَكْفِيكَ. فَلَقِيَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، دَعَاكَ أَخٌ مِنْ إِخْوَانِنَا فَأَكْرَمَكَ ثُمَّ تَقُولُ: عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ؟! أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكَ إِلَّا شَرِسَ الطَّبِيعَةِ، دَائِمَ الْقُطُوُبِ، سَرِيعَ الْمَلَلِ، مُسْتَخِفًّا بِحَقِّ الزَّوْرِ، كَأَنَّكَ تُسْعَطُ الْخَرْدَلَ إِذَا سُئِلْتَ الْحِكْمَةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Awanah reports that he prepared food and invited Sulayman al-Amash, that word reached him of the guest's disparagement of the meal as a bare bone and sour pomegranate, that he complained to Raqabah ibn Masqalah, and that Raqabah confronted the guest with sharp reproof of his harsh temperament, perpetual gloom, quick boredom, disregard for the right of visitation, and constriction when asked for wisdom. > **"O Abu Muhammad, a brother of ours invited you and honoured you, yet you say it was over a bare bone and sour pomegranate. By Allah, I know you only as harsh in nature, ever frowning, quick to weary, careless of the right of visitation, as though mustard were blown into your nose when wisdom is sought from you."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوعوانہ بیان کرتے ہیں : میں نے کھانا تیار کیا ، میں نے سلیمان اعمش کو بلایا ، اُن کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے یہ فرمایا : وضاح نے ہمیں گری ہوئی ( یعنی بغیر گوشت والی ) ہڈی اور کچے انار کے لیے بلایا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات رقبہ بن مصلقہ سے ہوئی ، میں نے ان کے سامنے اس بارے میں شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہاری جگہ کفایت کر لوں گا ، پھر ان کی سلیمان اعمش سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے کہا : اے ابومحمد ! ہمارے ایک بھائی نے تمہاری دعوت کی اور تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے یہ کہہ دیا : کہ گری ہوئی ہڈی اور ایک کچے انار پر دعوت ہوئی ہے ، اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں تو مجھے یہی پتہ ہے کہ تم بری طبیعت کے مالک ہو ، تمہارا مزاج ہمیشہ خراب رہتا ہے ، جلدی اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ، ملاقات کے حق کی تخفیف کرتے ہو ، تم گویا ایسے ہو کہ جب تم سے حکمت کی بات پوچھی جائے تو تم ناک میں رائی کا دانہ ڈال لیتے ہو ۔