Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 7

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13629–13668

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13629

Majma al-Zawaid #13629

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا».

EnglishUnverified translation

In a version transmitted from the same narrator concerning Salman رضي الله عنه, the Messenger ﷺ is reported to have forbidden his followers to assume hardship for a guest in matters beyond their means. > **"The Messenger ﷺ forbade us to burden ourselves for the guest with what we do not possess."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم مہمان کے لئے اُس چیز کے حوالے سے تکلف کریں ، جو ہمارے پاس نہ ہو ۔‘‘

13630

Majma al-Zawaid #13630

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ جَابِرٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرُ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ، وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَكَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ يَحْتَقِرَ مَا قُرِّبَ إِلَيْهِ "". وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى أَبُو طَالِبٍ الْقَاصُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Ubayd ibn Umayr reports that Jabir رضي الله عنه entered his house with a group of the companions of the Prophet ﷺ, that bread and vinegar were set before them, that Jabir bade them eat while praising vinegar and citing the Messenger ﷺ on the ruin of despising provision, whether by the host toward what his house contains or by the guests toward what is presented, with the variant wording that mere contempt for what is brought suffices as evil for a man. > **"What an excellent condiment is vinegar. It is ruin for a man that visitors from among his brothers enter upon him and he despises what is in his house to set before them, and ruin for the people that they despise what is set before them. It suffices a man as evil that he despise what is brought near to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ چند صحابہ کرام کے ہمراہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، انہوں نے اُن کے سامنے روٹی اور سرکہ پیش کیا ، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ کھاؤ ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سرکہ اچھا سالن ہے ، یہ چیز آدمی کے لئے ہلاکت کا باعث ہے کہ اُس کے ہاں اس کے کچھ بھائی آئیں اور وہ گھر میں موجود چیز کو اُن کے سامنے پیش کرنے کو حقیر سمجھے ، اور ان لوگوں کے لئے بھی یہ بات ہلاکت کا باعث ہے کہ وہ اس چیز کو حقیر سمجھیں ، جو اُن کے سامنے پیش کی گئی ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ آدمی کے برا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اُس چیز کو حقیر سمجھے جو اُس کے سامنے پیش کی گئی ہو ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی ابوطالب قصہ گو ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13631

Majma al-Zawaid #13631

وَعَنْ أَبِي عَوَانَةَ أَنَّهُ قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ، فَبَلَغَنِي عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ وَضَّاحًا دَعَانَا عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ، قَالَ: فَلَقِيتُ رَقَبَةَ بْنَ مَصْقَلَةَ، فَشَكَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَكْفِيكَ. فَلَقِيَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، دَعَاكَ أَخٌ مِنْ إِخْوَانِنَا فَأَكْرَمَكَ ثُمَّ تَقُولُ: عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ؟! أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكَ إِلَّا شَرِسَ الطَّبِيعَةِ، دَائِمَ الْقُطُوُبِ، سَرِيعَ الْمَلَلِ، مُسْتَخِفًّا بِحَقِّ الزَّوْرِ، كَأَنَّكَ تُسْعَطُ الْخَرْدَلَ إِذَا سُئِلْتَ الْحِكْمَةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Awanah reports that he prepared food and invited Sulayman al-Amash, that word reached him of the guest's disparagement of the meal as a bare bone and sour pomegranate, that he complained to Raqabah ibn Masqalah, and that Raqabah confronted the guest with sharp reproof of his harsh temperament, perpetual gloom, quick boredom, disregard for the right of visitation, and constriction when asked for wisdom. > **"O Abu Muhammad, a brother of ours invited you and honoured you, yet you say it was over a bare bone and sour pomegranate. By Allah, I know you only as harsh in nature, ever frowning, quick to weary, careless of the right of visitation, as though mustard were blown into your nose when wisdom is sought from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعوانہ بیان کرتے ہیں : میں نے کھانا تیار کیا ، میں نے سلیمان اعمش کو بلایا ، اُن کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے یہ فرمایا : وضاح نے ہمیں گری ہوئی ( یعنی بغیر گوشت والی ) ہڈی اور کچے انار کے لیے بلایا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات رقبہ بن مصلقہ سے ہوئی ، میں نے ان کے سامنے اس بارے میں شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہاری جگہ کفایت کر لوں گا ، پھر ان کی سلیمان اعمش سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے کہا : اے ابومحمد ! ہمارے ایک بھائی نے تمہاری دعوت کی اور تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے یہ کہہ دیا : کہ گری ہوئی ہڈی اور ایک کچے انار پر دعوت ہوئی ہے ، اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں تو مجھے یہی پتہ ہے کہ تم بری طبیعت کے مالک ہو ، تمہارا مزاج ہمیشہ خراب رہتا ہے ، جلدی اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ، ملاقات کے حق کی تخفیف کرتے ہو ، تم گویا ایسے ہو کہ جب تم سے حکمت کی بات پوچھی جائے تو تم ناک میں رائی کا دانہ ڈال لیتے ہو ۔

13632

Majma al-Zawaid #13632

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا، فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ، وَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْ عَنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ instructed a man who eats food or drinks a beverage offered by his Muslim brother to partake without questioning its source. > **"When one of you enters upon his Muslim brother and he feeds him food, let him eat from his food and not ask about it. If he gives him drink to drink, let him drink from his drink and not ask about it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص ، اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ دوسرا شخص اُسے کھانا کھلائے ، تو پہلے شخص کو اس کھانے میں سے کھا لینا چاہیے ، اور اس کھانے کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے ، اور جب وہ دوسرا شخص اسے مشروب پلائے ، تو اس مشروب کو بھی پی لینا چاہیے اور اس کے بارے میں دریافت نہیں کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13633

Majma al-Zawaid #13633

عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ أَشْكَرَ النَّاسِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ» ".

EnglishUnverified translation

Al-Ashath ibn Qays رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ identified those most thankful toward people as those most thankful toward Allah the Blessed and Exalted. > **"The most thankful of people to Allah the Blessed and Exalted are the most thankful of them to people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر ادا کرنے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کا سب سے زیادہ شکرگزار ہوتا ہو ۔‘‘

13634

Majma al-Zawaid #13634

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another version of the report of al-Ashath ibn Qays رضي الله عنه, the Messenger ﷺ negated divine gratitude from one lacking gratitude toward people. > **"Whoever does not thank people has not thanked Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا ، جو لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

13635

Majma al-Zawaid #13635

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثِيرًا مَا يَقُولُ لِي: "" يَا عَائِشَةَ، مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ؟ "". فَأَقُولُ: وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهَا كَثِيرَةٌ؟ فَيَقُولُ لِي: "" فِي الشُّكْرِ "". فَأَقُولُ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ الشَّاعِرُ: ارْفَعْ صَنِيعَكَ لَا يُجَرْ بِكَ ضَعْفُهُ يَوْمًا فَتُدْرِكُهُ الْعَوَاقِبُ قَدْ نَمَا يَجْزِيكَ أَوْ يُثْنِي عَلَيْكَ وَإِنَّ مَنْ أَثْنَى عَلَيْكَ بِمَا فَعَلْتَ كَمَنْ جَزَى إِنَّ الْكَرِيمَ إِذَا أَرَدْتَ وِصَالَهُ لَمْ تُلْفِ رَثًّا حَبْلُهُ وَاهِي الْقُوَى قَالَ: فَيَقُولُ: "" يَا عَائِشَةُ، إِذَا حَشَرَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ اصْطَنَعَ إِلَيْهِ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِهِ مَعْرُوفًا: هَلْ شَكَرْتَهُ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، عَلِمْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْكَ فَشَكَرْتُكَ عَلَيْهِ. فَيَقُولُ: لَمْ تَشْكُرْنِي إِنْ لَمْ تَشْكُرْ مَنْ أَجْرَيْتُ ذَلِكَ عَلَى يَدَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger ﷺ often asked her about her verses on gratitude, that upon his specification she recited lines on raising one's beneficence so its weakness does not recoil, on requital and praise as equivalent, and on the bond of the noble never proving frayed and weak, and that he then described the questioning on the Day of Gathering of a servant favoured through another servant and the divine rejection of gratitude directed only upward while bypassing the intermediary. > **"O Aishah, what has become of your verses? Concerning gratitude. O Aishah, when Allah gathers creation on the Day of Resurrection, He will say to a servant of His to whom another servant of His extended a favour: Did you thank him? He will say: My Lord, I knew that was from You, so I thanked You for it. Then He will say: You have not thanked Me if you did not thank the one upon whose hands I caused it to flow. Raise your beneficence lest its weakness recoil upon you one day, and consequences overtake it grown full. He will requite you or praise you, and whoever praises you for what you did is as one who requited. When you seek the bond of the noble, you will not find its rope worn and feeble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اکثر مجھ سے یہ دریافت کیا کرتے تھے : تمہارے آس پاس کے گھر والوں کا کیا حال ہے ؟ میں عرض کرتی تھی : یا رسول اللہ ! آپ آس پاس کے کون سے گھر مراد لے رہے ہیں ؟ کیونکہ ایسے گھر تو بہت سے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شکرگزار ہونے کے حوالے سے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، شاعر نے کہا ہے : ’’ اپنے کمزور کو اس طرح بلند کرو کہ اس کی کمزوری کسی دن تمہارا نقصان نہ کرے ، اور عواقب اس تک یوں پہنچیں کہ وہ نمو پا چکے ہوں ، وہ تمہیں بدلہ دے گا یا تمہاری تعریف کرے گا ، اور تمہارے کسی کام پر جس نے تمہاری تعریف کر دی تو گویا اس نے تمہیں بدلہ دیدیا ، جب تم کسی معزز شخص سے تعلق قائم کرنے کا ارادہ کرتے ہو ، تو تم ایسے ردی سامان کو ضائع نہیں کرتے ، جس کی رسی کمزور دھاگوں والی ہو ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو زندہ کرے گا ، تو وہ اپنے ایک بندے سے دریافت کرے گا ، جس کے ساتھ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے نے کوئی بھلائی کی ہو گی ، کہ کیا تم اس کے شکرگزار ہوئے تھے ؟ تو وہ شخص جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میں یہ بات جانتا تھا کہ یہ بھلائی تیری طرف سے ہے ، تو میں نے اس کے حوالے سے تیرا شکر ادا کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے میرا شکر ادا نہیں کیا ، جبکہ تم اس شخص کے شکرگزار نہیں ہوئے ، جس کے ذریعے میں نے وہ بھلائی عطا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد ذاکر بن شیبہ عسقلانی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13636

Majma al-Zawaid #13636

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Malih reports from Usamah رضي الله عنه, from the Prophet ﷺ, the negation of gratitude to Allah from one who is ungrateful to people. > **"Whoever does not thank people has not thanked Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ وہ شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا ، جو لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13637

Majma al-Zawaid #13637

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَشْكَرُ النَّاسِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ نُعَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Zayd رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ declared the most grateful toward people to be the most grateful toward Allah the Mighty and Majestic. > **"The most grateful of people to Allah the Mighty and Majestic are the most grateful of them to people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر وہ شخص ادا کرتا ہے ، جو لوگوں کا زیادہ شکرگزار ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن نعیم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

13638

Majma al-Zawaid #13638

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَشْكُرْ لِلنَّاسِ لَمْ يَشْكُرْ لِلَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ denied divine thanks to one who withholds thanks from people. > **"Whoever does not give thanks to people has not given thanks to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ، اُس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13639

Majma al-Zawaid #13639

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ denied thanks to Allah the Mighty and Majestic from one unthankful to people. > **"Whoever does not thank people has not thanked Allah the Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہ ہوا ، اُس نے اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13640

Majma al-Zawaid #13640

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنِ اصْطَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَجَازُوهُ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ، عَنْ مُجَازَاتِهِ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ شَكَرْتُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَهُوَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ بِلَفْظِ: "" حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ "" بَدَلَ: "" حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ شَكَرْتُمْ "". دُونَ مَا بَعْدَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ commanded requital for every favour, continued supplication until gratitude is recognised when requital is beyond ability, and named Allah as Appreciative who loves the grateful, with the variant wording measuring supplication until the benefactor sees himself recompensed. > **"Whoever extends a favour to you, requite him. If you are unable to requite him, supplicate for him until he knows that you have thanked him, for Allah is Appreciative and loves the thankful, until you consider that you have recompensed him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے ، تو اس کو بدلہ دو ! اگر تم اس کو بدلہ دینے سے عاجز ہو ، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ وہ یہ جان جائے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ شکر کو قبول کرنے والا ہے ، اور وہ شکریہ ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام ابوداؤد اور امام نسائی نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ یہاں تک کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے اُسے بدلہ دے دیا ہے ‘‘ یہ ان الفاظ کی جگہ ہیں :” یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ تم نے شکریہ ادا کر دیا ہے ‘‘ اور اس روایت میں اس کے بعد والے الفاظ نہیں ہیں ۔

13641

Majma al-Zawaid #13641

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أُتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ، فَإِنَّ مَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يُعْطَ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger ﷺ commanded requital for a favour, remembrance of it when requital is impossible as sufficient thanks, and warned that feigning satiety with what one was never given resembles wearing two garments of falsehood. > **"Whoever receives a favour, let him requite it. Whoever cannot, let him mention it, for whoever mentions it has thanked for it. Whoever feigns satiety with what he was not given is like the wearer of two garments of falsehood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے ، اُسے اس کا بدلہ دینا چاہیے ، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، تو اس کا ذکر کرنا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اس کا ذکر کر دے گا ، وہ اُس کا شکریہ ادا کر دے گا ، اور جو شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرے ، جو اسے نہ دی گئی ہو ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گی ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13642

Majma al-Zawaid #13642

وَعَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيَذْكُرْهُ، فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Talhah, meaning Ibn Ubaydillah رضي الله عنه, reports that the Messenger ﷺ commanded mention of a received favour, equated its mention with thanks, and equated its concealment with ingratitude. > **"Whoever is granted a favour, let him mention it. Whoever mentions it has thanked for it, and whoever conceals it has been ungrateful for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے ، اُسے اس کا ذکر کرنا چاہیے ، جو شخص اس کا ذکر کر دے گا ، وہ اس کا شکریہ ادا کر دے گا ، اور جو شخص اسے چھپائے گا ، وہ اُس کی ناشکری کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13643

Majma al-Zawaid #13643

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوَا لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn Umayr رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ commanded requital for a favour and supplication when means for requital are lacking. > **"Whoever brings a favour to you, requite him. If you find no means, then supplicate for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے ، تم لوگ اسے بدلہ دو ! اگر تم اس کی گنجائش نہیں پاتے ہو ، تو اس کے لئے دعا کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13644

Majma al-Zawaid #13644

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا. فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ regarded the supplication for divine reward with good as the fullest expression of praise. > **"When a man says: May Allah reward you with good, he has excelled in praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص یہ کہہ دے : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، تو اُس نے بھرپور تعریف کر دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13645

Majma al-Zawaid #13645

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِشِسْعٍ فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that while the Messenger ﷺ walked in intense heat the strap of his sandal broke, that a man brought a strap and fitted it to his sandal, and that the Messenger ﷺ cautioned him against deeming small the act of having supplied the Messenger ﷺ, if its weight were known. > **"If you knew what you placed upon the Messenger ﷺ, what you placed upon the Messenger ﷺ would not seem small to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ شدید گرمی کے دوران پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران آپ ﷺ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا ، ایک شخص تسمہ لے کر آیا اور وہ تسمہ اس نے آپ کے جوتے میں لگا دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے اللہ کے رسول کو جو چیز فراہم کی ہے ، اگر تمہیں ( اس کے اجر و ثواب کا ) پتہ چل جائے ، تو تم اُس کو کم شمار نہ کرو ، جو تم نے اللہ کے رسول کو فراہم کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13646

Majma al-Zawaid #13646

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ قَالَ لِي فِرْعَوْنُ: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ. قُلْتُ: وَفِيكَ. وَفِرْعَوْنُ قَدْ مَاتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما states his principle of answering a blessing with its like even if uttered by Pharaoh, though Pharaoh has passed away. > **"If Pharaoh were to say to me: May Allah bless you, I would say: And upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اگر فرعون مجھ سے یہ کہے : اللہ تعالیٰ آپ کو برکت نصیب کرے ، تو میں یہ کہوں گا : تمہیں بھی کرے ، اگرچہ فرعون مر چکا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13647

Majma al-Zawaid #13647

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اسْتِتْمَامُ الْمَعْرُوفِ أَفْضَلُ مِنَ ابْتِدَائِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ placed the completion of a favour above its initiation in merit. > **"The completion of a favour is better than its beginning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بھلائی کو مکمل کرنا ، اُس کے آغاز سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن قیس ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13648

Majma al-Zawaid #13648

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ، وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ، وَتَرْكُهَا كُفْرٌ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ، وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ. وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَاوِيهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ linked ingratitude for little to ingratitude for much, ingratitude to people to ingratitude to Allah, proclamation of divine blessing to thanks and its abandonment to denial, and unity to mercy with division as punishment. > **"Whoever does not thank for little will not thank for much. Whoever does not thank people will not thank Allah. Speaking of the blessing of Allah is thanks, and abandoning it is denial. Unity is mercy, and division is punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تھوڑی چیز کا شکر ادا نہیں کرتا ، وہ زیادہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ، اور جو شخص لوگوں کا شکرگزار نہیں ہوتا ، وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بیان کرنا شکر ہے ، اور اس ( بیان کرنے کے ) عمل کو ترک کرنا ، ناشکری ہے ، اور مل جل کے رہنا رحمت ہے ، اور الگ الگ ہونا عذاب ہے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور ابوعبد الرحمان ، جس نے اسے امام شعبی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13649

Majma al-Zawaid #13649

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَائِلٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا، أَوْ وَحَشَ بِهَا. قَالَ: وَجَاءَ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقَالَ لِجَارِيَةٍ: "" اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عِمَارَةَ بْنِ زَاذَانَ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that when one beggar disdained the single date ordered for him by the Prophet ﷺ while another received a single date with glorification of Allah at receiving a date from the Messenger ﷺ, the Prophet ﷺ directed his maidservant to fetch the forty dirhams kept with Umm Salamah رضي الله عنها for the grateful man. > **"Glory be to Allah, a date from the Messenger ﷺ. Go to Umm Salamah and give him the forty dirhams that are with her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مانگنے والا نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، اُس شخص نے وہ کھجور نہیں لی ، اور اس حوالے سے وحشت کا اظہار کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور مانگنے والا آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اُسے ایک کھجور دینے کا حکم دیا ، اُس نے کہا : سبحان اللہ ! اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے ایک کھجور ملی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کنیز سے کہا : تم اُم سلمہ کے پاس جاؤ ! اور اُس سے کہو : کہ اپنے پاس موجود 40 درہم اس فقیر کو دیدے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمارہ بن زاذان کا معاملہ مختلف ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13650

Majma al-Zawaid #13650

عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ: "" يَا فُلَانُ، كَيْفَ أَنْتَ؟ "". فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللَّهَ. فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ "". فَلَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "" كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ؟ "". قَالَ: بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ. فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ: "" جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ "". وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي؟ فَقَالَ لَهُ: "" إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ: بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ. فَأَقُولُ: جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ: بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ، فَشَكَكْتَ، فَسَكَتُّ عَنْكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُؤَمِّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ would greet a man by asking after him, that the man first answered with praise of Allah and received a prayer for continued well-being, but that when on another day he answered conditionally upon his own thanks, the Prophet ﷺ fell silent, and upon being questioned explained that hesitation had met with silence. > **"O So-and-so, how are you? May Allah keep you well. I used to ask you and you would say: Well, I praise Allah, so I would say: May Allah keep you well. Today you said: Well, if I give thanks, so you doubted, and I remained silent toward you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، نبی ﷺ نے دریافت کیا : اے فلاں ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا : ٹھیک ہوں ، میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک ہی رکھے ، پھر ایک دن اس شخص کی نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : اگر میں شکر کروں ، تو ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کچھ نہیں کہا ، اُس نے عرض کی ! اے اللہ کے نبی ! پہلے آپ نے مجھ سے حال پوچھا تھا ، تو آپ نے یہ فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ! اور آج آپ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا ، نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : پہلے جب میں نے تم سے پوچھا تھا ، تو تم نے یہ کہا تھا : ٹھیک ہوں ، اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، تو میں نے یہ کہہ دیا تھا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ! اور آج تم نے یہ کہا ہے : اگر میں شکر کروں ، تو ٹھیک ہے ، تو تم نے شک کا اظہار کیا ، تو میں بھی خاموش رہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مؤمل بن اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13651

Majma al-Zawaid #13651

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ: "" أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟ "". فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ stood among seated people, thrice offered to distinguish their best from their worst amid their silence until one man assented, then defined the best as those whose good is hoped for and whose evil is secure, and the worst as the opposite. > **"Shall I inform you of the best of you as distinct from the worst of you? The best of you are those whose good is hoped for and whose evil is safe. The worst of you are those whose good is not hoped for and whose evil is not safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں کے مقابلے میں ، تمہارے بہتر لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگ خاموش رہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سب سے بہتر وہ ہے ، جس سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ سمجھا جائے ، اور تم میں سب سے برا وہ ہے ، جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے ، اور اس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ نہ سمجھا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13652

Majma al-Zawaid #13652

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" إِنَّ شِرَارَكُمُ الَّذِي يَنْزِلُ وَحْدَهُ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ "". قَالَ: "" أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ؟ "". قَالُوا: بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" مَنْ يُبْغِضُ النَّاسَ وَيُبْغِضُونَهُ "". قَالَ: "" أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ؟ "". قَالُوا: "" بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" الَّذِينَ لَا يُقِيلُونَ عَثْرَةً، وَلَا يَقْبَلُونَ مَعْذِرَةً، وَلَا يَغْفِرُونَ ذَنْبًا "". قَالَ: "" أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَنْبَسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ repeatedly asked permission to disclose successive grades of the worst: those who alight alone, flog their slaves and withhold assistance; those who hate people and are hated; those who overlook no slip, accept no excuse and forgive no sin; and finally those whose good is not hoped for and whose evil is not safe. > **"Shall I not inform you of your worst? Your worst are those who alight alone, flog their slaves, and withhold assistance. Shall I not inform you of worse than that? Those who hate people and whom people hate. Shall I not inform you of worse than that? Those who overlook no slip, accept no excuse, and forgive no sin. Shall I not inform you of worse than that? Those whose good is not hoped for and whose evil is not safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ، تمہارے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے برے لوگ وہ ہیں جو اکیلے پڑاؤ کرتے ہیں ، اپنے غلام کو کوڑے مارتے ہیں اور مہمان کو منع کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ، جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اُس سے بغض رکھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لغزش کو چھوڑتے نہیں ہیں ، معذرت کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور گناہ کو بخشتے نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے بھی زیادہ برے فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے ، اور اُس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ نہ سمجھا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبس بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13653

Majma al-Zawaid #13653

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" شِرَارُكُمْ مَنْ يُتَّقَى شَرُّهُ وَلَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَخِيَارُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُتَّقَى شَرُّهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ offered to name the worst, and upon assent defined the worst as those whose evil is guarded against without hope of good, and the best as those whose good is hoped for without need to guard against evil. > **"Shall I not inform you of your worst? Your worst are those whose evil is feared and whose good is not hoped for. Your best are those whose good is hoped for and whose evil is not feared."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بدترین لوگ وہ ہیں ، جن کے شر سے بچنے کی کوشش کی جائے ، اور جن سے بھلائی کی توقع نہ رکھی جائے ، اور تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور ان کے شر سے بچنے کی ضرورت نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

13654

Majma al-Zawaid #13654

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمَعْرُوفَ لَا يَصْلُحُ إِلَّا لِذِي حَسَبٍ أَوْ دِينٍ أَوْ لِذِي حِلْمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ restricted the apt placement of kindness to persons of lineage, religion, or forbearance. > **"Kindness is fitting only toward one of lineage, religion, or forbearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بھلائی کرنا ، صرف کسی حسب والے ، یا دیندار ، یا بردبار شخص کے ساتھ مناسب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔

13655

Majma al-Zawaid #13655

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُدْخِلْ بَيْتَكَ إِلَّا تَقِيًّا، وَلَا تُولِ مَعْرُوفَكَ إِلَّا مُؤْمِنًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ أَعْرِفُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger ﷺ commanded restriction of one's house to the God-fearing and restriction of one's beneficence to the believer. > **"Admit none into your house except the God-fearing, and bestow your kindness only upon a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے گھر میں صرف کسی پرہیزگار کو آنے دو ، اور اپنی بھلائی ، کسی مومن کے ساتھ ہی کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13656

Majma al-Zawaid #13656

وَعَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا قَالَ: "" «لَا تَصْلُحُ الصَّنِيعَةُ إِلَّا عِنْدَ ذِي حَسَبٍ أَوْ دِينٍ، كَمَا لَا تَصْلُحُ الرِّيَاضَةُ إِلَّا فِي النَّجِيبِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports in elevated form that the Messenger ﷺ likened fitting beneficence toward the noble or religious to training only a pedigreed mount. > **"Beneficence is fitting only toward one of lineage or religion, just as training is fitting only for a pedigreed mount."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بھلائی صرف کسی حسب والے یا دیندار کے ساتھ کرنا مناسب ہے ، جیسے کسی اچھی نسل ہی کے گھوڑے کی تربیت کرنا مناسب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13657

Majma al-Zawaid #13657

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ خِيَارُهُمْ وَآخِرَهَا شِرَارُهُمْ، مُخْتَلِفِينَ مُتَفَرِّقِينَ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ described the early generations as best and the latter as worst in division and discord, and commanded the believer in Allah and the Last Day to meet death while dealing with people as he loves to be dealt with. > **"The first of this nation are its best and its last are its worst, differing and divided. Whoever believes in Allah and the Last Day, let death come to him while he deals with people as he loves to be dealt with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس اُمت کے ابتدائی حصے کے لوگ بہتر ہیں ، اور اس کے آخری حصے کے لوگ بدترین ہونگے ، جو آپس میں اختلاف رکھنے والے ہوں گے ، اور ایک دوسرے سے الگ ہونگے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، جب اُسے موت آئے تو اس کی یہ حالت ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہو ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن معروف ہے ، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13658

Majma al-Zawaid #13658

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ "". وَيَقُولُ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا "". وَكَانَ يَقُولُ: "" لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ، وَيُشْهِدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ repeatedly affirmed the brotherhood of Muslims without wrong or abandonment, swore that no two persons bound in affection separate except through a sin newly committed by one of them, and enumerated six recognised duties toward a brother. > **"The Muslim is the brother of the Muslim; he does not wrong him nor abandon him. By the One in whose Hand is my soul, no two persons love one another and then separate except through a sin that one of them commits. Toward a Muslim upon his brother are six acts of kindness: he responds with mercy when he sneezes, visits him when ill, advises him in absence, bears witness with him and greets him when he meets him, answers him when he invites him, and follows him when he dies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک مسلمان ، دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب بھی دو افراد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی اس گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کا ارتکاب ان دونوں میں سے کسی ایک نے کیا ہوتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایک مسلمان کا اپنے بھائی کے ذمہ حق ہے کہ وہ ( اُس کے ساتھ ) چھ قسم کی بھلائی کرے ، جب وہ چھینکے ، تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو ، تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ غیر موجود ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ، جب وہ موجود ہو ، تو جب اس سے ملاقات ہو ، تو اُسے سلام کرے ، جب وہ اس کو دعوت پر بلائے ، تو اسے قبول کرے اور جب وہ مر جائے ، تو اُس کے جنازے کے ساتھ جائے ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے مسلمان کو اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13659

Majma al-Zawaid #13659

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَهُنَا "". قَالَ حَمَّادٌ: وَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

A man of Bani Salit reports that he came upon the Prophet ﷺ amid a crowd and heard him affirm Muslim brotherhood without wrong or abandonment and locate God-consciousness in the heart, with Hammad adding that the Prophet ﷺ pointed with his hand to his chest. > **"The Muslim is the brother of the Muslim; he does not wrong him nor abandon him. God-consciousness is here."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو سلیط سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺ اس وقت کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے ، میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اُسے رُسوا نہیں کرتا اور تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔‘‘ حماد نامی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13660

Majma al-Zawaid #13660

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: إِنَّهُ جَمَعَهُمْ مَرْسًا لَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَمَرْكَبُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ. قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَ غَدَاؤُنَا أَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَإِلَى أَهْلِ مَرْكَبِهِ وَقَالَ: دَعَوْتُمُونِي وَأَنَا صَائِمٌ، وَكَانَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ أُجِيبَكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سِتُّ خِصَالٍ وَاجِبَةٍ، فَمَنْ تَرَكَ خَصْلَةً مِنْهَا فَقَدْ تَرَكَ حَقًّا وَاجِبًا: إِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا لَقِيَهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ، وَإِذَا عَطَسَ أَنْ يُشَمِّتَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يُشَيِّعَ جِنَازَتَهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَهُ أَنْ يَنْصَحَهُ» "". قَالَ: وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَزَّاحٌ، وَكَانَ عَلَى نَفَقَاتِنَا رَجُلٌ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ لِلَّذِي يَلِي الطَّعَامَ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا. فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ جَعَلَ يَغْضَبُ وَيَشْتُمُهُ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ إِذَا أَنَا قُلْتُ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا، غَضِبَ وَشَتَمَنِي؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: كُنَّا نَقُولُ: مَنْ لَمْ يُصْلِحْهُ الْخَيْرُ أَصْلَحَهُ الشَّرُّ قُلْتُ لَهُ. فَلَمَّا جَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ ذَلِكَ الْمَزَّاحُ: جَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا وَغُرًّا. فَضَحِكَ الرَّجُلُ وَرَضِيَ وَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدَعُ بِطَالَتَكَ فَقَالَ الْمَزَّاحُ: جَزَى اللَّهُ أَبَا أَيُّوبَ خَيْرًا وَبِرًّا فَقَدْ قَالَ لِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ziyad ibn Anum reports from his father concerning a sea expedition in which the companions invited Abu Ayyub al-Ansari رضي الله عنه and his crew to luncheon, Abu Ayyub's acceptance despite his fast as a binding duty, his transmission of six obligatory rights of a Muslim toward his brother, and the ensuing incident in which a jesting man repeatedly blessed the man in charge of provisions until provoked to anger and insult, sought Abu Ayyub's judgment, was advised that whoever is not reformed by good is reformed by its opposite, reversed the formula to a curse that drew laughter and approval, and then blessed Abu Ayyub himself for the counsel. > **"A Muslim has six obligatory traits toward his Muslim brother, and whoever abandons one of them has abandoned an obligatory right: when he invites him, he answers him; when he meets him, he greets him; when he sneezes, he responds with mercy; when he falls ill, he visits him; when he dies, he accompanies his funeral; and when he seeks his counsel, he counsels him. Whoever is not reformed by good will be reformed by evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن زیاد بن انعم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک مرتبہ انہوں نے اپنی ایک سمندری مہم کے دوران اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بھی دعوت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب کھانا تیار ہو گیا ، تو ہم نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، تو انہوں نے فرمایا : جب تم لوگوں نے میری دعوت کی ، تو میں نے ( نفلی ) روزہ رکھا ہوا تھا ، لیکن میرے ذمہ یہ بات لازم تھی کہ میں تمہاری دعوت کو قبول کرتا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے لئے لازم حقوق ہیں ، جو شخص اُن میں سے کوئی ایک بھی چیز ترک کر دیتا ہے وہ ایک لازم حق کو ترک کر دیتا ہے ، جب وہ اُسے دعوت پر بلائے تو وہ جائے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ چھینکے تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے ، تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے ، اور جب وہ اس سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کی طبیعت میں مزاح کا عنصر پایا جاتا تھا اور ایک شخص تھا ، جو ہمارے خرچ کا نگران تھا ، تو مزاحیہ شخص نے کھانا پکانے والے شخص سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، اور بھلائی دے ، جب اُس نے زیادہ مرتبہ یہ جملہ دوسرے شخص سے کہا ، تو دوسرا شخص غصے میں آ گیا اور اس کو برا بھلا کہنے لگا ، مزاحیہ شخص نے کہا : اے حضرت ابوایوب ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ میں نے ایک شخص سے یہ کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، تو وہ غصے میں آ گیا اور مجھے برا کہنے لگا ، تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ جس کو بھلائی موافق نہ آئے ، اس کو برائی موافق آ جاتی ہے ، تو تم اس کے ساتھ الٹ کر کے دیکھو ، پھر جب دوسرا شخص آیا ، تو مزاحیہ شخص نے اس سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں برا بدلہ دے اور تنگدستی دے ، تو وہ شخص ہنس پڑا اور راضی ہو گیا ، اور وہ بولا : تم کسی بھی حالت میں اپنا مزاق نہیں چھوڑتے ہو ، تو اُس مزاحیہ شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے ، انہوں نے مجھ سے یہ بات کہی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن نامی راوی کو یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13661

Majma al-Zawaid #13661

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَإِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَهُ

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ assigned to the believer six traits owed to a fellow believer concerning greeting, response to sneezing, acceptance of invitation, visitation in illness, attendance at death, and counsel in absence. > **"A believer owes a believer six traits: he greets him when he meets him, responds with mercy when he sneezes, answers him when he invites him, visits him when he falls ill, attends him when he dies, and counsels him in his absence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مومن کے ، دوسرے مومن پر چھ حق ہیں ، جب وہ اس سے ملے ، تو اسے سلام کرے ، جب وہ چھینکے ، تو اسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ اس کی دعوت کرے ، تو دعوت قبول کرے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے ، تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اور جب وہ غیر موجود ہو تو اُس کی خیرخواہی کرے ۔‘‘

13662

Majma al-Zawaid #13662

وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَإِنْ دَعَاهُ وَلَوْ عَلَى كُرَاعٍ أَجَابَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a version of the rights of a Muslim, the Messenger ﷺ is reported to have enjoined acceptance of an invitation even when it is merely for a trotter. > **"If he invites him, even over a trotter, he answers him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب وہ اُس کی دعوت کرے ، تو اسے قبول کرے ، خواہ اُس نے ( جانور کے ) ایک پائے کی ہی دعوت کی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13663

Majma al-Zawaid #13663

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَهُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ - وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُحَقِّرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ» "". قُلْتُ: عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ بِاخْتِصَارٍ إِلَى أَبِي دَاوُدَ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ اللُّؤْلُؤِيِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa رضي الله عنه reports that he heard the Messenger ﷺ declare a Muslim's blood, honour and wealth inviolable to another Muslim, affirm brotherhood without wrong or abandonment, point to the heart as the seat of God-consciousness, and deem contempt for a Muslim brother sufficient evil for a man. > **"A Muslim is inviolable to a Muslim: his blood, his honour, and his wealth. The Muslim is the brother of the Muslim; he does not wrong him nor abandon him. God-consciousness is here, and he pointed with his hand to the heart. It suffices a man as evil that he despise his Muslim brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک مسلمان کا خون ( یعنی جان ) عزت اور مال ، دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہیں ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ہے ، وہ اس کو رسوا نہیں کرتا ہے ، تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دل کی طرف اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) ’’ آدمی کی برائی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کے اختصار کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، جو اس نسخے کے علاوہ ہے ، جو لؤلؤی نے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13664

Majma al-Zawaid #13664

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: لَقِيَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى حِمَارٍ سَاقِطَةٌ أُذُنَاهُ رَثُّ السَّرْجِ وَالثِّيَابِ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَهُ: مِنْكَ وَإِلَيْكَ وَمِنْ بَعْضِ مَوَالِيكَ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَخُونُهُ وَلَا يَنْسَاهُ فِي مُصِيبَةٍ نَزَلَتْ بِهِ، وَإِنْ تَلِفَ خِيَارُ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي يُحِبُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا، وَإِنْ تَلِفَ شَرُّ الْفَرِيقَيْنِ يُبْغِضُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ubaydullah ibn Ziyad al-Hadrami reports that Malik ibn Dinar met Salim ibn Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab riding a donkey with drooping ears, worn saddle and clothes, that upon inquiry Malik traced himself to Salim's household and freedmen, and that Salim transmitted from his father from the Messenger ﷺ the brotherhood that neither abandons nor betrays nor forgets in calamity, and the observation that the ruin of the best of Arabs and freedmen through mutual love or of the worst through mutual hatred leaves no alternative. > **"The Muslim is the brother of the Muslim; he does not abandon him, nor betray him, nor forget him in a calamity that befalls him. If the best of Arabs and freedmen perish while loving one another, they find no escape from it, and if the worst of the two parties perish while hating one another, they find no escape from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن زیاد حضرمی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مالک بن دینار کی ملاقات سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے ہوئی ، جو اُس وقت ایک ایسے گدھے پر سوار تھے ، جس کے کان لٹکے ہوئے تھے ، اس کی زین کی حالت خراب تھی ، اُن صاحب کے کپڑے بھی خراب تھے ، سالم نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : آپ لوگوں سے اور آپ کے بعض موالی سے ہے ، تو انہوں نے بتایا : میرے والد نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُسے رسوائی کا شکار نہیں کرتا ، وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا ، وہ اسے لاحق ہونے والی کسی مصیبت میں اُس کے حال پر نہیں چھوڑتا ، اگر عربوں کے بہترین لوگ اور موالی خراب ہو جائیں اور وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ، تو اُن کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ، اور اگر ان دونوں فریقوں میں سے برے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ضائع ہو جائیں ، تو ان کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13665

Majma al-Zawaid #13665

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ وَرَفَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيُّ وَلَمْ يَسُقْ إِسْنَادَهُ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah رضي الله عنه states six duties of kindness owed by a Muslim to a Muslim: greeting upon meeting, answering invitation, responding to sneezing, attending death, counselling in absence, and loving for him what one loves for oneself. > **"A Muslim owes a Muslim six things with kindness: he greets him when he meets him, answers him when he invites him, responds with mercy when he sneezes, attends him when he dies, counsels him in absence, and loves for him what he loves for himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ایک مسلمان کے ، دوسرے مسلمان پر بھلائی کے حوالے سے چھ حق ہیں ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ اسے بلائے ، تو اسے جواب دے ، جب وہ چھینکے تو اسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اُس کی خیرخواہی کرے اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرے ، جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : کہ ابوجعفر فراء نے اسے ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، جبکہ ابواسحاق سبیعی نے اسے ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، لیکن انہوں نے ابواسحاق سبیعی تک اس کی سند نقل نہیں کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

13666

Majma al-Zawaid #13666

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَجُلٍ فَقَالَ: "" مَنْ يَعْرِفُهُ؟ "" فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَنَا قَالَ: "" مَا اسْمُهُ؟ "". قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ: "" اسْمُ أَبِيهِ؟ "". قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ: "" لَيْسَتْ هَذِهِ مَعْرِفَةٌ بِمَعْرِفَةٍ حَتَّى تَعْرِفَ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَقَبِيلَتَهُ، إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ وَإِنْ مَاتَ اتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that when the Prophet ﷺ asked about a man and one present claimed acquaintance yet knew neither his name nor his father's name, the Prophet ﷺ denied that this constituted knowledge until name, father's name and tribe are known, adding visitation in illness and following the funeral as its fruits. > **"Who knows him? What is his name? What is his father's name? This is not knowledge until you know his name, his father's name, and his tribe. If he falls ill, you visit him, and if he dies, you follow his funeral."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے فرمایا : کون اُس سے واقف ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اُس کا نام کیا ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اُس کے والد کا کیا نام ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ معرفت نہیں ہے ، جب تک تمہیں اُس کا نام ، اُس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام پتہ نہیں ہوتا ، اگر وہ بیمار ہو ، تو تم اس کی عیادت کرو ، اگر وہ فوت ہو جائے ، تو تم اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13667

Majma al-Zawaid #13667

عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَدِّهِ يَزِيدَ بْنِ أَسَدٍ: " «أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ» ".

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Abdullah al-Qasri reports from his father from his grandfather that the Prophet ﷺ instructed his grandfather Yazid ibn Asad رضي الله عنه to love for people what he loves for himself. > **"Love for people what you love for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن عبدالله قسری اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان کے دادا حضرت یزید بن اسد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔‘‘

13668

Majma al-Zawaid #13668

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَالِدٍ أَيْضًا قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَتُحِبُّ الْجَنَّةَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a version also transmitted through Khalid from his father from his grandfather, the Messenger ﷺ is reported to have asked whether he loved Paradise and, upon his assent, commanded love for one's brother of what one loves for oneself. > **"Do you love Paradise? Love for your brother what you love for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے میرے دادا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم جنت کو پسند کرتے ہو ؟ ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تو تم اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو ، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔