وَعَنْ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: «قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا، فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ: "" مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ؟ "". فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَهَذَا الْأَشَجُّ؟ "". فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ بِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ، فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ، ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا: هَهُنَا يَا أَشَجُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ: "" هَهُنَا يَا أَشُجُّ "". فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ وَسَأَلَهُمْ عَنْ بِلَادِهِمْ وَسَمَّى لَهُمْ قَرْيَةً، قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءَ قُرَانَا مِنَّا. فَقَالَ: "" إِنِّي وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِّحَ لِي فِيهَا "". قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، أَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ أَشْعَارًا وَأَبْشَارًا، أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ، إِذَا أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا "". قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ: "" وَكَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ؟ "". قَالُوا: خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا، وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا، وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَا كِتَابَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَرِحَ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَنْ يُعَلِّمُنَا وَعَلَّمَنَا، فَمِنَّا مَنْ عُلِّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَنَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: "" هَلْ مَعَكُمْ مَنْ أَزْوَادِكُمْ؟ "". فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رَوَاحِلَهُمْ، فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَتَخَصَّرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعِهِ لَكُمْ "". قَالَ: فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ، فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ، وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ، حَتَّى صَارَ أَعْظَمُ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ. قَالَ: فَقَالَ الْأَشَجُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ، وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هُيِّجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ عَلَى سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ "". فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ، وَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ. فَقَالَ: "" يَا أَشَجُّ، إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ - وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا - شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ "". وَفَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهُمَا - يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا "" حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ (ضَرَبَ) سَاقَهُ بِالسَّيْفِ "". وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَضَلٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ، قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شَرَابٍ لَهُمْ، فِي بَيْتٍ مِنَ الشِّعْرِ تَمَثَّلَ بِهِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ الْحَارِثُ: لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي فَأُغَطِّي الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Shihab ibn Abbad reports that he heard members of the delegation of Abd al-Qays describe their arrival to the Messenger ﷺ, the joy of the people at their coming, the welcome and supplication of the Prophet ﷺ, his inquiry after their chief, their indication of al-Mundhir ibn Aidh, his recognition of him as al-Ashajj by the scar from a donkey's hoof, the delay of al-Ashajj to secure the mounts and baggage before changing from travel clothes into fine garments, the Prophet ﷺ drawing in his outstretched leg and seating him at his right with kindness, his detailed knowledge of their villages of al-Safa, al-Mushakkar and other settlements of Hajar, his address to the Ansar to honour their likeness in Islam, the delegation's praise the next morning of soft bedding, wholesome food and instruction in the Book and the Sunnah, the Prophet's ﷺ delight, his distribution of the men among teachers until they learned the salutations, the Opening of the Book, chapters and practices, his request for their provisions, their heaps of dates, his questions distinguishing Tadud, Sarfan and Barni and his commendation of Barni, their subsequent cultivation of it, and the ruling on vessels and drinks given after al-Ashajj complained of their heavy unhealthy land, together with the warning illustrated by al-Harith of Bani Udal whose leg had been struck with a sword in intoxication. > **"Who is your chief and your leader? Is this al-Ashajj? Here, O Ashajj. I have trodden your lands and they were laid open to me. O company of the Ansar, honour your brothers, for they resemble you in Islam in hair and skin, submitting willingly without compulsion or rancour when others refused submission until they were slain. How did you find the honour and hospitality of your brothers toward you? Do you have any of your provisions with you? Do you call this Tadud? Do you call this Sarfan? Do you call this Barni? It is among the best and most beneficial of your dates. Do not drink from the gourd, the varnished jar, or the hollowed stump, but let each of you drink from a waterskin whose mouth is tied. O Ashajj, if I permit you this much, you will drink that much, until when one of you becomes intoxicated by his drink he rises against his cousin and cuts his leg with the sword."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
شہاب بن عباد بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبدالقیس قبیلے کے وفد کے بعض افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ’’ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو لوگ ہماری وجہ سے بہت خوش ہوئے ، جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے ہمارے لیے گنجائش پیدا کی ، ہم بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خوش آمدید کہا ، آپ نے ہمارے لئے دعا کی ، پھر آپ نے ہماری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : تمہارا سردار اور تمہارا قائد کون ہے ؟ تو ہم سب نے حضرت منذر بن عائد رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا یہ شخص جس پر زخم کا نشان ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب کا پہلے دن یہ نام رکھا گیا ، وہ ( نشان ) اُس ضرب کی وجہ سے تھا ، جو گدھے کا پاؤں لگنے سے ان کے چہرے پر لگی تھی ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب باقی لوگوں سے پیچھے رہ گئے تھے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریاں باندھیں ، اُن کا سامان اکٹھا کیا ، پھر اپنا تھیلا نکالا ، پھر سفر کے کپڑے اُتار کر عمدہ لباس پہنا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں کو پھیلایا ہوا تھا ، اور آپ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے ، جب اشج ان کے قریب آئے ، تو لوگوں نے ان کے لیے گنجائش پیدا کی اور یہ کہا : اشج ! آپ یہاں آ جائیں ، نبی اکرم ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، آپ نے اپنا پاؤں سمیٹ لیا اور فرمایا : اے اشج ! یہاں آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا ، ان کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا ، ان کے علاقوں کے بارے میں ان لوگوں سے دریافت کیا ، آپ نے ان کے علاقے کی ایک ایک بستی کا نام لے کر ان سے دریافت کیا ، جیسے صفا ، مشقر اور ہجر کی دوسری بستیاں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہماری بستیوں کے ناموں کے بارے میں ، ہم سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے علاقوں سے گزرا ، اور وہاں میرے لیے گنجائش پیدا کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ انصار کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اپنے بھائیوں کی عزت افزائی کرو ، یہ اسلام میں تمہاری مانند ہیں ، اور بیرونی و اندرونی لباس ( یعنی ظاہر و باطن ) کے حوالے سے ، تمہارے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ کسی زبردستی کے بغیر اسلام قبول کیا ہے ، جبکہ دوسرے لوگوں نے اس وقت تک اسلام کو قبول نہیں کیا ، جب تک ان کے ساتھ لڑائی نہیں کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے بھائیوں نے تمہاری عزت افزائی کیسی کی ؟ اور تمہاری مہمان نوازی کیسی کی ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : یہ بہترین بھائی تھے ، انہوں نے ہمیں نرم بچھونے دیے ، عمدہ کھانے کھلائے اور رات کے وقت اور صبح کے وقت ہمیں ہمارے پروردگار کی کتاب اور ہمارے نبی کی سنت کی تعلیم دی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی اور آپ اس حوالے سے خوش ہوئے ، پھر آپ ہم میں سے ایک شخص کی طرف متوجہ ہوتے اور اسے اس شخص کے سپرد کر دیتے ، جو ہمیں تعلیم دے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو ’’ التحیات ، سورہ فاتحہ ، ایک یا دو سورتوں اور چند سنتوں ‘‘ کا علم حاصل ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس زاد سفر ( میں دینے ) کے لیے کچھ ہے ؟ تو لوگ اس بات پر خوش ہوئے ، اور وہ تیزی سے اپنے رہائشی علاقوں کی طرف گئے ، ان میں سے ہر شخص اپنے ساتھ کچھ لے کے آیا ، کوئی کھجوروں کا ڈھیر لے آیا ، اور وہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود دسترخوان پر رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے اشارہ کر دیتے تھے ، آپ اس کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ، اور وہ ایک ذراع سے بڑی تھی اور دو ذراع سے چھوٹی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اسے ’’ تغموض ‘‘ کا نام دیتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے دوسرے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ’’ صرفان ‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ” برنی ‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم اس سفر سے واپس آئے ، تو ہم نے وہ کھجوریں زیادہ کاشت کرنی شروع کر دی تھیں ، اور ان میں ہماری رغبت بڑھ گئی تھی ، یہاں تک کہ ہمارے کھجوروں کے زیادہ تر درخت برنی کھجوروں کے ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ہماری زمین ایسی ہے ، جہاں کی آب و ہوا طبیعت کو موافق نہیں ہوتی ، ہم جب تک یہ مشروبات نہیں پیتے ہیں ، ہماری رنگت میں ہیجان رہتا ہے ، اور ہمارے پیٹ بڑھے رہتے ہیں ، نبی کریم نے فرمایا : تم لوگ دباء ، حلتم اور نقیر میں نہ پیو ، تم میں سے کوئی ایک شخص کسی ایسے مشکیزے میں سے پی سکتا ہے ، جس کے منہ کو بند کر دیا گیا ہو ، حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اتنی کے بارے میں ، ہمیں رخصت عطا کیجیے ! اُن صاحب نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ گزارش کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! اگر میں نے تمہیں اتنی کی اجازت دیدی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر اس طرح اشارہ کر کے یہ بات فرمائی ۔ تو تم اتنی پی لو گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ کھلے کر کے اور انہیں پھیلا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( یعنی تم اُس سے زیادہ پی لو گے ) یہاں تک کہ جب اُس کو پینے کی وجہ سے کوئی شخص نشے میں آئے گا ، تو وہ اُٹھ کر اپنے چچا زاد کی طرف بڑھے گا اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں بنو عضل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام حارث تھا ، ان کی ٹانگ اسی طرح شراب نوشی کے دوران کاٹ دی گئی تھی ، وہ شاعری کی ایک محفل میں موجود تھے ، انہوں نے کوئی شعر سنایا ، تو گھر کے افراد میں سے ایک صاحب اُٹھے اور انہوں نے ان کی ٹانگ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا ، تو حارث نامی صاحب نے کہا : جب میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی تو میں نے اپنا کپڑا لٹکا کر اپنی پنڈلی پر موجود ضرب کو ڈھانپ لیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے سامنے اس بات کو ظاہر کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔