Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 6

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13589–13628

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13589

Majma al-Zawaid #13589

وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ حِبَّانَ الْعِجْلِيِّ، «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ حِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَعَلَّكَ تَسْأَلُ عَنْ حَلِيفِ لَخْمٍ وَتَمِيمٍ؟ ". قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً» ". وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Furat ibn Hibban al-Ijli, may Allah be pleased with him, reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ concerning the pre-Islamic alliance. The Messenger of Allah ﷺ asked whether he was perhaps inquiring about the alliance of Lakhm and Tamim. When he confirmed it, the Messenger of Allah ﷺ replied that Islam only increased it in strength. > **"Are you asking about the alliance of Lakhm and Tamim? Islam only increases it in strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے زمانہ جاہلیت کے حلیف ہونے کے معاہدے کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شاید تم مجھ سے لخم اور تمیم کے حلیف ہونے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو ، انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام اُس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔‘‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13590

Majma al-Zawaid #13590

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً، فَكَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّةً أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّةً أَتَى الْمَسْجِدَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Qays, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ frequently visited the Ansar, both in particular and in general. When he visited in particular, he would come to the man in his house, and when he visited in general, he would come to the mosque. > **"The Messenger of Allah often visited the Ansar, in particular and in general: in particular to the man in his house, and in general at the mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اکثر انصار سے ملنے کے لئے جایا کرتے تھے ، خاص طور پر بھی اور عمومی طور پر بھی ، جب آپ بطور خاص کسی شخص سے ملنے کے لیے جاتے تھے ، تو آپ اس شخص کے گھر تشریف لے جاتے تھے ، اور جب عمومی طور پر ملنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ ﷺ مسجد میں آ جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13591

Majma al-Zawaid #13591

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ أَتَى أَخَاهُ يَزُورُهُ فِي اللَّهِ إِلَّا نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ طِبْتَ وَطَابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ. وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِ عَرْشِهِ: عَبْدِي زَارَنِي فِيَّ وَعَلَيَّ قِرَاهُ. فَلَمْ يَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that no Muslim servant who visited his brother for the sake of Allah was left without a caller from heaven proclaiming that he was blessed and Paradise was made pleasant for him. Rather Allah declared in the dominion of His Throne that His servant had visited Him for His sake and that his entertainment lay upon Him, and He was not content with any reward for him short of Paradise. > **"No Muslim visits his brother for the sake of Allah but that a caller from heaven proclaims: you are blessed and Paradise is made pleasant for you. My servant has visited Me for My sake, and his entertainment is upon Me; I am not content with any reward for him short of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی مسلمان بندہ ، اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جاتا ہے ، اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس سے ملنے جاتا ہے ، تو آسمان میں سے ایک منادی اُسے پکار کر کہتا ہے : تم پاکیزہ ہوئے اور جنت تمہارے لئے پاکیزہ ہو گئی ، اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش کی بادشاہی میں یہ ارشاد فرماتا ہے : ’’ میرا بندہ ، میری ذات کے لئے مجھ سے ملنے گیا ہے ، اس کی مہمان نوازی میرے ذمہ ہے ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13592

Majma al-Zawaid #13592

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا رَزِينٍ، إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا زَارَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ كَمَا وَصَلَهُ فِيكَ فَصِلْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحِصْنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Razin al-Uqayli, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when a Muslim visited his Muslim brother, seventy thousand angels accompanied him, invoking blessings upon him and praying that Allah join him even as he had joined his brother for His sake. > **"O Abu Razin, when a Muslim visits his Muslim brother, seventy thousand angels accompany him, invoking blessings upon him, saying: O Allah, even as he has joined him for Your sake, so join him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابورزین ! جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی زیارت کے لئے جاتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے اُس کے ساتھ چلتے ہیں ، اور وہ اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! جس طرح اس نے تیری ذات کے لیے اُس سے تعلق رکھا ہے ، اُسی طرح تو بھی اس سے تعلق رکھ !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصن ہے اور وہ متروک ہے ۔

13593

Majma al-Zawaid #13593

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟ ". قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ فِي الْجَنَّةِ» ". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ هُوَ وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ asked whether he should inform them of their men destined for Paradise. When they replied affirmatively, he said that the Prophet was in Paradise, the truthful defender of faith was in Paradise, and the man who visited his brother in a distant quarter of the town, visiting him for none but Allah, was in Paradise. > **"Shall I not inform you of your men in Paradise? The Prophet is in Paradise, the truthful one is in Paradise, and the man who visits his brother in a distant quarter of the town, visiting him for none but Allah, is in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے اُن افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو جنت میں جائیں گے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبی جنت میں ہو گا ، صدیق جنت میں ہو گا اور وہ شخص جنت میں ہو گا ، جو شہر کے کنارے پر اپنے بھائی سے ملنے کے لیے جاتا ہے ، اور وہ صرف اللہ تعالی کے لیے اُس سے ملنے کے لیے جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب النکاح میں ، عورت پر شوہر کے حق سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، وہ روایت بھی اور اس کے بقیہ طرق بھی گزر چکے ہیں ۔

13594

Majma al-Zawaid #13594

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ ; فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ تَابِعِيٌّ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to her to prepare the sitting place for them, for an angel was descending to the earth who had never descended to it before. > **"Prepare the sitting place for us, for an angel is descending to the earth who has never descended to it before."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ تم ہمارے لئے بیٹھنے کی جگہ تیار کرو ! کیونکہ ایک فرشتہ زمین کی طرف نازل ہونے لگا ہے ، جو پہلے کبھی زمین کی طرف نازل نہیں ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13595

Majma al-Zawaid #13595

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَاخِي بَيْنَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَتَطُولُ عَلَى أَحَدِهِمَا اللَّيْلَةُ حَتَّى يَلْقَى أَخَاهُ، فَيَلْقَاهُ بِوُدٍّ وَلُطْفٍ فَيَقُولُ: كَيْفَ كُنْتَ بَعْدِي؟ وَأَمَّا الْعَامَّةُ، فَلَمْ يَكُنْ يَأْتِي عَلَى أَحَدِهِمَا ثَلَاثٌ لَا يَعْلَمُ عِلْمَ أَخِيهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to join two of his Companions together in brotherhood, and the night would grow long upon one of them until he met his brother, greeting him with affection and kindness and asking how he had fared after him. As for people in general now, three days might pass over one of them without knowing the condition of his brother. > **"How have you been after me?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب میں سے کسی ایک کو دوسرے کا بھائی قرار دے دیتے تھے ، تو ان میں سے کسی ایک کے لئے رات طویل ہو جاتی تھی ، اور پھر وہ محبت اور مہربانی کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملتا تھا ، اور یہ دریافت کرتا تھا ۔ میرے بعد تم کیسے رہے ؟ لیکن اب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ دو افراد میں سے کسی ایک پر تین دن گزر جاتے ہیں ، اور اُسے اپنے بھائی کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13596

Majma al-Zawaid #13596

وَعَنْ أُمِّ نُجَيْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقًا فِي قَعْبَةٍ، فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Nujayd, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to visit them among Banu Amr ibn Awf, and she would prepare barley drink in a large cup, giving him to drink from it when he came. > **"The Messenger of Allah would visit us among Banu Amr ibn Awf, and I would prepare barley drink for him in a cup and give him to drink when he came."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام نجید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس بنو عمرو بن عوف کے محلے میں تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے برتن میں ستو تیار کیے ، جب آپ ﷺ تشریف لائے تو وہ میں نے آپ کو پینے کے لئے پیش کیے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

13597

Majma al-Zawaid #13597

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَلْقَى إِلَيَّ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، فَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ, who tossed toward him a cushion stuffed with palm fibre. He did not sit upon it, and it remained between him and the Prophet ﷺ. > **"He tossed me a cushion stuffed with palm fibre, and I did not sit upon it; it remained between me and him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے چمڑے سے بنا ہوا تکیہ رکھا ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : میں اس پر نہیں بیٹھا اور وہ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان ہی پڑا رہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13598

Majma al-Zawaid #13598

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَيُلْقِي لَهُ وِسَادَةً إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that Umar visited Salman al-Farisi, may Allah be pleased with them both, who tossed a cushion to him. Umar asked what this was, and Salman replied that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that no Muslim visited by his Muslim brother, who then offered him a cushion out of honour and esteem, was left without Allah forgiving him. > **"No Muslim is visited by his Muslim brother, who offers him a cushion out of honour and esteem, but that Allah forgives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان کے لئے تکیہ رکھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے ابوعبد اللہ ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ شخص اُس کے احترام اور تعظیم کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13599

Majma al-Zawaid #13599

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ سَلْمَانُ عَلَى عُمَرَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ، قَالَ: فَأَلْقَاهَا إِلَيَّ ثُمَّ قَالَ: "" يَا سَلْمَانُ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي إِلَيْهِ وِسَادَةً إِكْرَامًا لَهُ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that Salman visited Umar while the latter was reclining upon a cushion. Umar tossed it toward him, and Salman said that there was no Muslim who visited his Muslim brother and was offered a cushion out of honour but that Allah forgave him. > **"O Salman, no Muslim visits his Muslim brother, who offers him a cushion out of honour, but that Allah forgives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے وہ تکیہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے آگے کر دیا ، تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اکبر ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابوعبد اللہ ! آپ ہمیں بات بیان کریں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، تو آپ نے وہ تکیہ میری طرف آگے کر دیا اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ اے سلمان ! جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ اس کی عزت افزائی کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھ دے ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی مغفرت کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13600

Majma al-Zawaid #13600

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ». رَجُلٌ كَانَ مَكْفُوفَ الْبَصَرِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to go with him to Banu Waqif to visit al-Basir, a man whose sight had been taken away. > **"Come with us to Banu Waqif to visit al-Basir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر کو دیکھ آئیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ایک ایسے شخص تھے ، جس کی بینائی ختم ہو چکی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مستمر عروقی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13601

Majma al-Zawaid #13601

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ: لَمْ يَرْوِهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَعْفِيُّ، وَأَحْسَبُهُ أَخْطَأَ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to go with him to Banu Waqif to visit al-Basir. > **"Come with us to Banu Waqif to visit al-Basir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر سے مل آئیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن عبدالرحمان مسروقی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ، تاہم امام بزار نے یہ بات بیان کی ہے : کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صرف حسین بن علی جعفی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اُس نے اس میں غلطی کی ہے ۔

13602

Majma al-Zawaid #13602

وَعَنْ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ تَجَالَسُونَ؟ قَالُوا: لَا نَتْرُكُ ذَاكَ. قَالَ: فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ فَيَمْشِي عَلَى رِجْلَيْهِ إِلَى آخِرِ الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ. قَالَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Awf reported that Abdullah, meaning Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, asked his companions when they came to him whether they sat together. They replied that they did not abandon that. He asked whether they visited one another, and they replied affirmatively, explaining that a man among them would miss his brother and walk on foot to the farthest end of Kufah until he met him. Abdullah told them they would remain in good so long as they did so. > **"Do you sit together? Do you visit one another? So long as you do so, you shall remain in good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عوف بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد جب ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہم اس کو ترک نہیں کرتے ہیں ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے جاتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اے ابوعبدالرحمن ! بعض اوقات ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کو غیر موجود پاتا ہے ، تو پیدل چل کر کوفہ کے آخری کنارے تک جا کر اُس سے ملاقات کرتا ہے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ جب تک ایسا کرتے رہو گے ، تم مسلسل بھلائی پر رہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔

13603

Majma al-Zawaid #13603

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُبَيْطٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، فَرَمَى إِلَيْهِ بِوِسَادَةٍ كَانَتْ تَحْتَهُ وَقَالَ: مَنْ لَمْ يُكْرِمْ جَلِيسَهُ فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَدَ وَلَا مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Habib ibn Ibrahim ibn-subayt reported that he entered upon Abdullah ibn al-Harith ibn Jaz al-Zubaydi, may Allah be pleased with him, who tossed toward him the cushion beneath him, declaring that whoever did not honour his companion belonged neither to Ahmad nor to Ibrahim, peace be upon them both. > **"Whoever does not honour his companion is neither of Ahmad nor of Ibrahim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابراہیم بن سبیط کے بارے میں یہ بات منقول ہے : کہ وہ حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے نیچے موجود تکیہ نکال کر ان کی طرف رکھا اور بولے : جو شخص اپنے ہم نشین کا احترام نہیں کرتا ، اُس کا نہ تو حضرت احمد ﷺ سے کوئی تعلق ہے ، اور نہ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی تعلق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13604

Majma al-Zawaid #13604

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: لَا يُعْلَمُ فِيهِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to him to visit at intervals, and love would increase. > **"O Abu Hurayrah, visit at intervals; love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! وقفے سے ملا کرو ، محبت زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس بارے میں کوئی صحیح حدیث معلوم نہیں ہے ۔

13605

Majma al-Zawaid #13605

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to visit at intervals, and love would increase. > **"Visit at intervals; love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وقفے سے ملا کرو ! محبت زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

13606

Majma al-Zawaid #13606

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ سَلَمَةَ الْفِهْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" «زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Habib ibn Salamah al-Fihri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to visit at intervals, and love would increase. > **"Visit at intervals; love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وقفے سے ملا کرو ! محبت زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13607

Majma al-Zawaid #13607

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to visit at intervals, and love would increase. > **"Visit at intervals; love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وقفے سے ملو ! محبت زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13608

Majma al-Zawaid #13608

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «زُرْ غِبًّا، تَزْدَدْ حُبًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to visit at intervals, and love would increase. > **"Visit at intervals; love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وقفے سے ملو ! محبت زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13609

Majma al-Zawaid #13609

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that there was no good in one who offered no hospitality to the guest. > **"There is no good in one who shows no hospitality."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس شخص میں بھلائی نہیں ہے ، جو مہمان نوازی نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

13610

Majma al-Zawaid #13610

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَيُّمَا ضَيْفٍ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا، فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said that whenever a guest alighted among a people and woke deprived, he was entitled to take the measure of his due entertainment without blame upon him. > **"Whenever a guest alights among a people and wakes deprived, he may take the measure of his entertainment, and there is no blame upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی مہمان کسی قوم کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے ، اور پھر وہ محروم ہونے کے عالم میں صبح کرے ، تو اُسے یہ حق ہو گا کہ وہ اپنی مہمان نوازی کے حساب سے وصولی کر لے ، اُس پر کوئی حرج نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13611

Majma al-Zawaid #13611

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِقِرَى الضَّيْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to command hospitality toward the guest. > **"Entertain the guest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مہمان نوازی کا حکم دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

13612

Majma al-Zawaid #13612

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لِلضَّيْفِ عَلَى مَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثٌ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَعَلَى الضَّيْفِ أَنْ يَرْتَحِلَ لَا يُؤْثِمُ أَهْلَ مَنْزِلِهِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that the guest held a right of three days against the one with whom he alighted, whatever exceeded that being charity, while the guest was obliged to depart without bringing sin upon the household of his host. > **"The guest holds a right of three days against the one with whom he alights; whatever exceeds that is charity. The guest must depart without bringing sin upon the household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مہمان کا میزبان پر حق تین دن تک ہوتا ہے ، جو اس سے زیادہ ہو ، تو وہ صدقہ ہو گا ، تاہم مہمان پر یہ لازم ہے کہ وہ روانہ ہو جائے ، اور میزبان کے گھر والوں کو گناہگار نہ کرے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13613

Majma al-Zawaid #13613

وَعَنِ التَّلِبِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ حَقٌّ لَازِمٌ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Talib, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that hospitality for three days was a binding right, and whatever came beyond that was charity. > **"Hospitality for three days is a binding right; whatever is beyond that is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تین دن تک مہمان نوازی لازم حق ہے ، جو اس کے بعد ہو ، وہ صدقہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13614

Majma al-Zawaid #13614

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ "". قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ، وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ thrice bound faith in Allah and the Last Day to generous treatment of the guest, and when his companions asked him to define that honour he fixed its duration and named what exceeds it as charity. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Honouring the guest is three days, and whatever extends beyond that is charity upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مہمان کی عزت افزائی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین دن تک ( مہمان نوازی کرنا ) اگر مہمان اس کے بعد بھی رہے ، تو یہ اس پر صدقہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اسے مختصر روایت کے طور پر بھی مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ، ایک روایت کو امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13615

Majma al-Zawaid #13615

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, transmits from the Prophet ﷺ a measure for hospitality, a ruling for what surpasses it, and a general principle encompassing every act of kindness. > **"Hospitality is three days, and whatever exceeds it is charity, and every act of kindness is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مہمان نوازی ، تین دن تک ہوتی ہے ، جو اس سے زیادہ ہو ، وہ صدقہ ہوتا ہے ، اور ہر بھلائی صدقہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13616

Majma al-Zawaid #13616

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ defined the limit of hospitality and described the provision offered after that limit as charity. > **"Hospitality is three days, and whatever exceeds it is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مہمان نوازی ، تین دن تک ہوتی ہے ، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘

13617

Majma al-Zawaid #13617

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ set a three-day limit for hospitality and judged anything beyond it to be charity. > **"Hospitality is three days, and whatever exceeds it is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے ، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13618

Majma al-Zawaid #13618

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ طَارِقٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَمَعْرُوفٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashjai reports from his father Tariq رضي الله عنه that the Prophet ﷺ limited hospitality to three days and characterised anything above that as an act of recognised goodness. > **"Hospitality is three days, and whatever is beyond that is an act of kindness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی اپنے والد حضرت طارق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مہمان نوازی تین دن تک ہو گی ، جو اس سے زیادہ ہو وہ بھلائی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13619

Majma al-Zawaid #13619

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khalid رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ joined honour for the guest, restraint of the tongue except for good speech, and the three-day measure of hospitality whose excess is charity, all to faith in Allah and the Last Day. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent. Hospitality is three days, and whatever exceeds it is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے ، ورنہ خاموش رہنا چاہیے ، اور مہمان نوازی ، تین دن تک ہو گی ، جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13620

Majma al-Zawaid #13620

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي بَعْضِ رِجَالِهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ made avoidance of harm to the neighbour, honour toward the guest, and speech confined to good or silence into marks of belief in Allah and the Last Day. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not harm his neighbour. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے ، یا پھر خاموش رہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے بعض رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے ان کی توثیق کی گی ہے ۔

13621

Majma al-Zawaid #13621

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ tied honouring the guest and restricting speech to good or silence to faith in Allah and the Last Day. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے ، یا پھر خاموش رہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13622

Majma al-Zawaid #13622

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ. وَيَأْتِي فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ الصَّمْتِ حَدِيثُ عَائِشَةَ وَغَيْرِهَا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger ﷺ made honouring the guest, speaking good or keeping silence, and honouring the neighbour into requirements of faith in Allah and the Last Day. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his neighbour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، یا پھر خاموش رہنا چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام احمد نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ کتاب الزہد میں ، خاموش رہنے سے متعلق باب میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کی نقل کردہ احادیث آگے آئیں گی ۔

13623

Majma al-Zawaid #13623

وَعَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، «عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ قَوْمٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضٍ لَهُ فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، هَلُمِّي لِأَصْحَابِنَا وَلَوْ كِسَرًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَكَارِمُ الْأَخْلَاقِ مِنْ أَعْمَالِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd al-Tawil reports that when visitors came to visit Anas رضي الله عنه during his illness, Anas called for whatever food was present, even mere morsels, and cited what he had heard from the Messenger ﷺ concerning noble character and Paradise. > **"Noble traits of character are among the deeds of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید طویل ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : اُن کی بیماری کے دوران کچھ لوگ ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے فرمایا : اے لڑکی ! ہمارے ساتھیوں کے لئے کچھ لے آؤ ، خواہ روٹی کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اچھے اخلاق جنت کے اعمال میں سے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13624

Majma al-Zawaid #13624

وَعَنْ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: «قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا، فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ: "" مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ؟ "". فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَهَذَا الْأَشَجُّ؟ "". فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ بِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ، فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ، ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا: هَهُنَا يَا أَشَجُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ: "" هَهُنَا يَا أَشُجُّ "". فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ وَسَأَلَهُمْ عَنْ بِلَادِهِمْ وَسَمَّى لَهُمْ قَرْيَةً، قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءَ قُرَانَا مِنَّا. فَقَالَ: "" إِنِّي وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِّحَ لِي فِيهَا "". قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ، أَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ أَشْعَارًا وَأَبْشَارًا، أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ، إِذَا أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا "". قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ: "" وَكَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ؟ "". قَالُوا: خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا، وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا، وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَا كِتَابَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَرِحَ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَنْ يُعَلِّمُنَا وَعَلَّمَنَا، فَمِنَّا مَنْ عُلِّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَنَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: "" هَلْ مَعَكُمْ مَنْ أَزْوَادِكُمْ؟ "". فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رَوَاحِلَهُمْ، فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَتَخَصَّرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: "" تُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعِهِ لَكُمْ "". قَالَ: فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ، فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ، وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ، حَتَّى صَارَ أَعْظَمُ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ. قَالَ: فَقَالَ الْأَشَجُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ، وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هُيِّجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ عَلَى سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ "". فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ، وَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ. فَقَالَ: "" يَا أَشَجُّ، إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ - وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا - شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ "". وَفَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهُمَا - يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا "" حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ (ضَرَبَ) سَاقَهُ بِالسَّيْفِ "". وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَضَلٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ، قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شَرَابٍ لَهُمْ، فِي بَيْتٍ مِنَ الشِّعْرِ تَمَثَّلَ بِهِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ الْحَارِثُ: لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي فَأُغَطِّي الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shihab ibn Abbad reports that he heard members of the delegation of Abd al-Qays describe their arrival to the Messenger ﷺ, the joy of the people at their coming, the welcome and supplication of the Prophet ﷺ, his inquiry after their chief, their indication of al-Mundhir ibn Aidh, his recognition of him as al-Ashajj by the scar from a donkey's hoof, the delay of al-Ashajj to secure the mounts and baggage before changing from travel clothes into fine garments, the Prophet ﷺ drawing in his outstretched leg and seating him at his right with kindness, his detailed knowledge of their villages of al-Safa, al-Mushakkar and other settlements of Hajar, his address to the Ansar to honour their likeness in Islam, the delegation's praise the next morning of soft bedding, wholesome food and instruction in the Book and the Sunnah, the Prophet's ﷺ delight, his distribution of the men among teachers until they learned the salutations, the Opening of the Book, chapters and practices, his request for their provisions, their heaps of dates, his questions distinguishing Tadud, Sarfan and Barni and his commendation of Barni, their subsequent cultivation of it, and the ruling on vessels and drinks given after al-Ashajj complained of their heavy unhealthy land, together with the warning illustrated by al-Harith of Bani Udal whose leg had been struck with a sword in intoxication. > **"Who is your chief and your leader? Is this al-Ashajj? Here, O Ashajj. I have trodden your lands and they were laid open to me. O company of the Ansar, honour your brothers, for they resemble you in Islam in hair and skin, submitting willingly without compulsion or rancour when others refused submission until they were slain. How did you find the honour and hospitality of your brothers toward you? Do you have any of your provisions with you? Do you call this Tadud? Do you call this Sarfan? Do you call this Barni? It is among the best and most beneficial of your dates. Do not drink from the gourd, the varnished jar, or the hollowed stump, but let each of you drink from a waterskin whose mouth is tied. O Ashajj, if I permit you this much, you will drink that much, until when one of you becomes intoxicated by his drink he rises against his cousin and cuts his leg with the sword."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہاب بن عباد بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبدالقیس قبیلے کے وفد کے بعض افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ’’ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو لوگ ہماری وجہ سے بہت خوش ہوئے ، جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے ہمارے لیے گنجائش پیدا کی ، ہم بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خوش آمدید کہا ، آپ نے ہمارے لئے دعا کی ، پھر آپ نے ہماری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : تمہارا سردار اور تمہارا قائد کون ہے ؟ تو ہم سب نے حضرت منذر بن عائد رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا یہ شخص جس پر زخم کا نشان ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب کا پہلے دن یہ نام رکھا گیا ، وہ ( نشان ) اُس ضرب کی وجہ سے تھا ، جو گدھے کا پاؤں لگنے سے ان کے چہرے پر لگی تھی ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب باقی لوگوں سے پیچھے رہ گئے تھے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریاں باندھیں ، اُن کا سامان اکٹھا کیا ، پھر اپنا تھیلا نکالا ، پھر سفر کے کپڑے اُتار کر عمدہ لباس پہنا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں کو پھیلایا ہوا تھا ، اور آپ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے ، جب اشج ان کے قریب آئے ، تو لوگوں نے ان کے لیے گنجائش پیدا کی اور یہ کہا : اشج ! آپ یہاں آ جائیں ، نبی اکرم ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، آپ نے اپنا پاؤں سمیٹ لیا اور فرمایا : اے اشج ! یہاں آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا ، ان کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا ، ان کے علاقوں کے بارے میں ان لوگوں سے دریافت کیا ، آپ نے ان کے علاقے کی ایک ایک بستی کا نام لے کر ان سے دریافت کیا ، جیسے صفا ، مشقر اور ہجر کی دوسری بستیاں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہماری بستیوں کے ناموں کے بارے میں ، ہم سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے علاقوں سے گزرا ، اور وہاں میرے لیے گنجائش پیدا کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ انصار کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اپنے بھائیوں کی عزت افزائی کرو ، یہ اسلام میں تمہاری مانند ہیں ، اور بیرونی و اندرونی لباس ( یعنی ظاہر و باطن ) کے حوالے سے ، تمہارے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ کسی زبردستی کے بغیر اسلام قبول کیا ہے ، جبکہ دوسرے لوگوں نے اس وقت تک اسلام کو قبول نہیں کیا ، جب تک ان کے ساتھ لڑائی نہیں کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے بھائیوں نے تمہاری عزت افزائی کیسی کی ؟ اور تمہاری مہمان نوازی کیسی کی ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : یہ بہترین بھائی تھے ، انہوں نے ہمیں نرم بچھونے دیے ، عمدہ کھانے کھلائے اور رات کے وقت اور صبح کے وقت ہمیں ہمارے پروردگار کی کتاب اور ہمارے نبی کی سنت کی تعلیم دی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی اور آپ اس حوالے سے خوش ہوئے ، پھر آپ ہم میں سے ایک شخص کی طرف متوجہ ہوتے اور اسے اس شخص کے سپرد کر دیتے ، جو ہمیں تعلیم دے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو ’’ التحیات ، سورہ فاتحہ ، ایک یا دو سورتوں اور چند سنتوں ‘‘ کا علم حاصل ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس زاد سفر ( میں دینے ) کے لیے کچھ ہے ؟ تو لوگ اس بات پر خوش ہوئے ، اور وہ تیزی سے اپنے رہائشی علاقوں کی طرف گئے ، ان میں سے ہر شخص اپنے ساتھ کچھ لے کے آیا ، کوئی کھجوروں کا ڈھیر لے آیا ، اور وہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود دسترخوان پر رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے اشارہ کر دیتے تھے ، آپ اس کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ، اور وہ ایک ذراع سے بڑی تھی اور دو ذراع سے چھوٹی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اسے ’’ تغموض ‘‘ کا نام دیتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے دوسرے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ’’ صرفان ‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ” برنی ‘‘ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم اس سفر سے واپس آئے ، تو ہم نے وہ کھجوریں زیادہ کاشت کرنی شروع کر دی تھیں ، اور ان میں ہماری رغبت بڑھ گئی تھی ، یہاں تک کہ ہمارے کھجوروں کے زیادہ تر درخت برنی کھجوروں کے ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ہماری زمین ایسی ہے ، جہاں کی آب و ہوا طبیعت کو موافق نہیں ہوتی ، ہم جب تک یہ مشروبات نہیں پیتے ہیں ، ہماری رنگت میں ہیجان رہتا ہے ، اور ہمارے پیٹ بڑھے رہتے ہیں ، نبی کریم نے فرمایا : تم لوگ دباء ، حلتم اور نقیر میں نہ پیو ، تم میں سے کوئی ایک شخص کسی ایسے مشکیزے میں سے پی سکتا ہے ، جس کے منہ کو بند کر دیا گیا ہو ، حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اتنی کے بارے میں ، ہمیں رخصت عطا کیجیے ! اُن صاحب نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ گزارش کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! اگر میں نے تمہیں اتنی کی اجازت دیدی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر اس طرح اشارہ کر کے یہ بات فرمائی ۔ تو تم اتنی پی لو گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ کھلے کر کے اور انہیں پھیلا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( یعنی تم اُس سے زیادہ پی لو گے ) یہاں تک کہ جب اُس کو پینے کی وجہ سے کوئی شخص نشے میں آئے گا ، تو وہ اُٹھ کر اپنے چچا زاد کی طرف بڑھے گا اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں بنو عضل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام حارث تھا ، ان کی ٹانگ اسی طرح شراب نوشی کے دوران کاٹ دی گئی تھی ، وہ شاعری کی ایک محفل میں موجود تھے ، انہوں نے کوئی شعر سنایا ، تو گھر کے افراد میں سے ایک صاحب اُٹھے اور انہوں نے ان کی ٹانگ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا ، تو حارث نامی صاحب نے کہا : جب میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی تو میں نے اپنا کپڑا لٹکا کر اپنی پنڈلی پر موجود ضرب کو ڈھانپ لیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے سامنے اس بات کو ظاہر کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13625

Majma al-Zawaid #13625

وَعَنْ نُمَيْرِ بْنِ خَرَشَةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ: «وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْجَحْفَةِ، فَاسْتَبْشَرَ النَّاسُ بِقُدُومِنَا، فَأَسْلَمْنَا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقُدُومِ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَحُضُّ إِخْوَانَهُمْ مِنَ النَّاسِ كُلَّ عَشِيَّةٍ عَلَيْهِمْ يُضَيِّفُونَهُمْ فَيَقُولُ: "" إِخْوَانُكُمْ ضِيفَانُكُمْ، كُلُّ امْرِئٍ بِقَدْرِ مَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ "". فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلَ وَالرَّجُلَيْنِ، وَكَانَ يَأْخُذُ الثَّلَاثَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِي، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Numayr ibn Kharashah al-Thaqafi رضي الله عنه reports that his delegation met the Messenger ﷺ at al-Juhfah, that the people rejoiced at their coming, that they embraced Islam, that the Prophet ﷺ ordered them onward to Madinah, and that each evening he urged the people to host them according to the capacity Allah had granted, whereupon men took one, two, and in the case of Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه three guests. > **"Your brothers are your guests, so let each man provide according to what Allah has bestowed upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نمیر بن خرشہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ہم لوگ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جحفہ کے مقام پر ، ہم آپ کے پاس پہنچ گئے ، لوگ ہماری آمد سے خوش ہوئے ، ہم نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کے ساتھ مدینہ منورہ جائیں ، نبی اکرم ﷺ لوگوں کو ترغیب دیتے رہے کہ وہ روزانہ شام کے وقت ان لوگوں کی مہمان نوازی کریں ، آپ ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ یہ تمہارے بھائی تمہارے مہمان بنے ہیں ، ہر شخص اُس کے مطابق خرچ کرے ، جو اللہ تعالیٰ نے اسے گنجائش عطا کی ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو کوئی شخص ایک شخص کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا ، کوئی دو کو ساتھ لے جاتا تھا ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تین افراد کو ساتھ لے کر گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید مستملی ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

13626

Majma al-Zawaid #13626

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ، وَمَنْ كَثُرَتْ هُمُومُهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ، وَمَنْ أَبْطَأَ عَنْهُ رِزْقَهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَمَنْ نَزَلَ مَعَ قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ قَوْمٍ فَلْيَجْلِسْ حَيْثُ أَمَرُوهُ ; فَإِنَّ الْقَوْمَ أَعْلَمُ بِعَوْرَةِ دَارِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَزَادَ فِيهِ: "" «وَإِنَّ مِنَ الذَّنْبِ الْمَسْخُوطِ بِهِ عَلَى صَاحِبِهِ الْحِقْدَ فِي الْحَسَدِ، وَالْكَسَلَ فِي الْعِبَادَةِ، وَالضَّنْكَ فِي الْمَعِيشَةِ» "". وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ، وَلَمْ يُذْكَرْ عَنْ أَحَدٍ تَضْعِيفُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger ﷺ enjoined abundant praise upon the recipient of blessing, seeking forgiveness upon the one burdened with cares, frequent utterance of the phrase of utter dependence upon Allah for delayed provision, abstention from voluntary fasting without hosts' permission for one staying among people, and sitting where householders direct, since they best know the private aspects of their home, with the added description of resentful malice in envy, laziness in worship, and constriction in livelihood as sin incurring displeasure against its bearer. > **"Whoever is clothed by Allah with a blessing, let him increase in praise of Allah. Whoever is weighed down by cares, let him seek forgiveness. Whoever finds his provision slow in reaching him, let him often say there is no power nor strength except through Allah. Whoever stays among people as guest, let him not fast except with their permission. Whoever enters the house of people, let him sit where they instruct him, for the people know best the private places of their house. Among the sin that brings displeasure upon its bearer are malice in envy, laziness in worship, and hardship in livelihood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کی ہوں ، اُسے بکثرت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنی چاہیے ، اور جس شخص کی پریشانی زیادہ ہو ، اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے ، جس شخص کا رزق اس کے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے ، اُسے کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا چاہیے ، اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان کے طور پر آئے ، وہ اُن کی اجازت کے بغیر ہرگز ( نفلی ) روزہ نہ رکھے اور جو شخص کسی قوم کے گھر میں داخل ہو ، اسے وہاں بیٹھ جانا چاہیے ، جہاں وہ لوگ اسے ہدایت کریں ، کیونکہ وہ لوگ اپنے گھر کے اندرونی معاملات کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں : ” بے شک گناہ میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جس گناہ کی وجہ سے ، کرنے والے فرد پر ناراضگی ہوتی ہے ، حسد میں کینہ ، عبادت میں کوتاہی اور معیشت میں تنگی ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے ، امام ذہبی نے اس کا ذکر ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ، اور انہوں نے یہ حدیث اس کے حالات کے ضمن میں نقل کی ہے ، انہوں نے کسی سے اس کی تضعیف روایت نہیں کی ہے ۔

13627

Majma al-Zawaid #13627

عَنْ شَقِيقٍ، أَوْ نَحْوِهِ - شَكَّ قَيْسٌ - «أَنَّ سَلْمَانَ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَدَعَا لَهُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى - أَوْ لَوْلَا أَنَّا نُهِينَا - أَنْ يَتَكَلَّفَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ، لَتَكَلَّفْنَا لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَلَمْ يَشُكَّ.

EnglishUnverified translation

Shaqiq, or another narrator with Qays expressing doubt over the precise link, reports that when a man visited Salman رضي الله عنه, Salman offered what was at hand and explained that but for the prohibition of the Messenger ﷺ against one companion imposing hardship upon another for his sake, he would have gone to elaborate lengths for him. > **"Were it not that the Messenger ﷺ forbade us, or were it not that we were forbidden that one of us burden himself for his companion, I would have burdened myself for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق یا ان کے علاوہ کوئی اور صاحب بیان کرتے ہیں : یہ شک قیس نامی راوی کو ہے : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک شخص آیا ، انہوں نے اس کے لئے وہ چیز منگوائی ، جو اُن کے گھر میں موجود تھی اور یہ فرمایا : اگر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں منع نہ کیا ہوتا ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اگر ہمیں اس بات سے منع نہ کیا گیا ہوتا کہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے لئے تکلف کرے ، تو میں نے تمہارے لئے تکلف کرنا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند روایت کے طور پر ابووائل سے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں شک کا اظہار نہیں کیا ۔

13628

Majma al-Zawaid #13628

وَعَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَقَالَ سَلْمَانُ: «لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ التَّكَلُّفِ لَتَكَلَّفْتُ لَكُمْ، ثُمَّ جَاءَ بِخُبْزٍ وَمِلْحٍ، فَقَالَ صَاحِبِي: لَوْ كَانَ فِي مِلْحِنَا صَعْتَرٌ، فَبَعَثَ سَلْمَانُ بِمَطْهَرَتِهِ فَرَهَنَهَا، ثُمَّ جَاءَ بِصَعْتَرٍ، فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبِي: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا. فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْ قَنَعْتَ بِمَا رَزَقَكَ لَمْ تَكُنْ مَطْهَرَتِي مَرْهُونَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shaqiq ibn Salamah reports that he and a companion visited Salman al-Farisi رضي الله عنه, that Salman disavowed elaborate preparation because of the prohibition of pretentious burden, brought bread and salt, pawned his ablution vessel at the companion's remark about wild thyme in order to fetch it, and after the meal gently rebuked the companion's claim of contentment by noting the pawned vessel. > **"Were it not that the Messenger ﷺ forbade pretentious burden, I would have burdened myself for you. If you had been content with what was provided for you, my ablution vessel would not be pawned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ نبی اکرم ﷺ نے تکلف سے منع کیا ہے ، تو میں نے تمہارے لئے تکلف کرنا تھا ، پھر وہ روٹی اور نمک لے کر آئے ، تو میرے ساتھی نے یہ کہا : اگر ہمارے نمک میں ’’ صعتر “ ہوتا تو مناسب تھا ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی طہارت کا برتن منگوا کر اسے رہن رکھوایا اور پھر اس کے ذریعے ’’ صعتر “ لے کر آئے ، جب ہم نے کھانا کھا لیا ، تو میرے ساتھی نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے ہمیں اس کے بارے میں قناعت عطا کی ، جو رزق اس نے ہمیں دیا ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اُس نے تمہیں جو رزق دیا تھا ، اگر تم نے اس پر قناعت کی ہوتی ، تو میرا طہارت کا برتن رہن نہیں رکھا جانا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔