وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي، بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ، هَذَا الْكِتَابَ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَوْصُوا بِهِ، وَلَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَبِشْرٍ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ أَنْتُمْ وَأَقْرَبَهُ مِنِّي رَحِمًا وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ، وَإِنِّي أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ إِلَّا مُعْتَمِرًا أَوْ حَاجًّا، وَإِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ أَوْ سَلِمْتُ، وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُحَصَّرَيْنِ. أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَابْنَا عَوْنٍ، وَبَايَعَا عَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِكْرِمَةَ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَهُ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّ بَعْضَنَا مِنْ بَعْضٍ أَبَدًا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ "".» قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: هُوَ خَطُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
EnglishUnverified translation
Salamah ibn Budayl ibn Warqa reported that his father Budayl ibn Warqa handed him this letter, telling him that it was the letter of the Prophet ﷺ, that they should treasure its counsel, and that they would remain in good so long as it endured among them. The letter opened in the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate, from Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ, to Budayl ibn Warqa and Bishr and the chiefs of Banu Amr, praising Allah beside Whom there is no deity, declaring that he had not deemed their affair sinful nor set anything against them, that they were the dearest of Tihamah to him and nearest in kinship, with those allies who followed them, that he had secured for their emigrant what he had secured for himself, even if he emigrated in his own land without residing in Makkah except as a pilgrim performing lesser or greater pilgrimage, that he had not neglected them nor surrendered them, that they were neither to fear from his side nor to be besieged, and further announcing that Alqamah ibn Ulathah and the two sons of Awf had embraced Islam and pledged allegiance on behalf of those of Ikrimah who followed them, securing for his followers among them what he secured for himself, and that they were of one another forever, in inviolable and violable territory. Abu Muhammad added that his father heard their elders say that it was in the handwriting of Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him. > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Budayl ibn Warqa and the chiefs of Banu Amr: I praise Allah, beside Whom there is no deity, unto you. I have not deemed your affair sinful nor set anything against you. You are the dearest of Tihamah to me and nearest in kinship. I have secured for your emigrant what I secured for myself. You are neither to fear from my side nor to be besieged. We are of one another forever, in inviolable and violable territory."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سلمہ بن بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : میرے والد بدیل بن ورقاء نے یہ مکتوب میرے حوالے کیا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ نبی اکرم ﷺ کا مکتوب ہے ، تو تم اس کے ذریعے تلقین کو قبول کرو ، اور جب تک یہ تمہارے درمیان رہے گا ، تم مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بنو عمرو کے رؤساء کے نام مکتوب ہے ، میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، امابعد ! میں تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیتا ، اور نہ ہی تمہارے پہلو میں رکھتا ہوں ، اہل تہامہ میں میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم ہو ، اور رشتہ داری کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریبی ہو ، اور وہ لوگ ہیں جو مطیبین سے تعلق رکھتے ہیں ، اور تمہاری پیروی کرتے ہیں ، تم میں سے جو شخص ہجرت کر لیتا ہے ، میں نے اس کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ اُس شخص نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی ہو ، اور مکہ میں رہائش اختیار نہ کی ہو ، البتہ عمرہ کرنے والے اور حج کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے تمہارے معاملے کو ضائع نہیں کیا ، یا سپرد نہیں کیا ، تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا ، یا محصور نہیں ہونا ، امابعد ! علقمہ بن علاثہ اور عون کے دونوں بیٹوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، ان دونوں نے بیعت کر لی ہے ، اور ہجرت کی ہے ، ان لوگوں کی طرف سے جو عکرمہ میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں ، اور اس نے تم میں سے اپنے پیروکاروں کے لئے وہ چیز لی ہے ، جو اپنی ذات کے لیے لی ہے ، ہم حل میں اور حرم میں ، ہمیشہ ایک دوسرے کا حصہ رہیں گے ۔‘‘ ابومحمد کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ روایت بیان کی ہے : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : یہ مکتوب حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا تحریر کیا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔