Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 5

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13549–13588

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13549

Majma al-Zawaid #13549

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: "" إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Mu'awiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ to which of his two neighbours he should present a gift. The Prophet ﷺ instructed him to give to the nearer of the two by way of his door. > **"Give to the nearer of the two by his door."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ، میں اُن میں سے کے تحفہ بھیجوں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان میں سے جس کا دروازہ تمہارے زیادہ قریب ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13550

Majma al-Zawaid #13550

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلِيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ» ".

EnglishUnverified translation

A man among the Companions of the Prophet ﷺ reported from the Prophet ﷺ that whoever believed in Allah and the Last Day should be mindful of Allah and honour his neighbour, whoever believed in Allah and the Last Day should be mindful of Allah and honour his guest, and whoever believed in Allah and the Last Day should speak what is true or remain silent. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him fear Allah and honour his neighbour; whoever believes in Allah and the Last Day, let him fear Allah and honour his guest; and whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak truth or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صحابی نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اُسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے پڑوسی کا احترام کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے حق بات کہنی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے ۔‘‘

13551

Majma al-Zawaid #13551

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» "" - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ» "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, reported three times over, whoever believed in Allah and the Last Day should honour his guest, and, again repeated three times, whoever believed in Allah and the Last Day should treat his neighbour well. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him treat his neighbour well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ۔‘‘ یہ کلمات تین مرتبہ ہیں ۔’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ کلمات بھی تین مرتبہ ہیں ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، پہلی روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13552

Majma al-Zawaid #13552

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah, may Allah be pleased with her, reported from the Prophet ﷺ that whoever believed in Allah and the Last Day should not harm his neighbour, whoever believed in Allah and the Last Day should speak good or keep silent, and whoever believed in Allah and the Last Day should honour his guest. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not harm his neighbour; whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or keep silent; and whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے یا پھر خاموش رہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13553

Majma al-Zawaid #13553

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْفَظْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الضِّيَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever believed in Allah and the Last Day should honour his guest, whoever believed in Allah and the Last Day should safeguard his neighbour, and whoever believed in Allah and the Last Day should speak good or remain silent. > **"Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest; whoever believes in Allah and the Last Day, let him safeguard his neighbour; and whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ اپنے پڑوسی کی حفاظت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ بھلائی کی بات کرے ، یا پھر خاموش رہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں بقیہ احادیث ضیافت سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

13554

Majma al-Zawaid #13554

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا آمَنَ بِي مَنْ بَاتَ شَبْعَانًا وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَعْلَمُ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that one who spent the night satiated while his neighbour beside him went hungry, knowing of it, had not truly believed in him. > **"He has not believed in me who spends the night full while his neighbour beside him is hungry and he knows of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا ، جو سیر ہونے کے عالم میں رات گزارے اور اُس کے پہلو میں اُس کا پڑوسی بھوکا ہو ، اور وہ شخص یہ بات جانتا بھی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کی سند حسن ہے ۔

13555

Majma al-Zawaid #13555

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ بِنَخْلِ ابْنَ الزُّبَيْرِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported while in the palm grove of Ibn al-Zubayr that the Messenger of Allah ﷺ said that the one who ate his fill while his neighbour went hungry was not a true believer. > **"He is not a believer who eats his fill while his neighbour is hungry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے باغ میں موجود تھے ، وہاں انھوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ شخص مومن نہیں ہے ، جو سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13556

Majma al-Zawaid #13556

وَعَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ قَالَ: «بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَى الْقَصْرَ قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ. فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زِنْدَهُ، وَأَوْرَى نَارَهُ، وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْهَمٍ، وَقِيلَ لِسَعْدٍ: إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: ذَاكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ. فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا قَالَهُ، فَقَالَ: نُؤَدِّي عَنْكَ الَّذِي تَقُولُهُ وَتَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِهِ. وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ يَعْرِضُ عَلَيْهِ أَنْ يَزُورَهُ، فَأَبَى، فَخَرَجَ عَلَى عُمَرَ، فَهَجَّرَ إِلَيْهِ، فَسَارَ ذَهَابُهُ وَرُجُوعُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ: لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ لَرَأَيْنَا أَنَّكَ لَمْ تُؤَدِّ عْنَا. قَالَ: بَلَى أَرْسَلَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَعْتَذِرُ وَيَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا قَالَ. قَالَ: فَهَلْ زَوَّدَكَ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّدَنِي أَنْتَ؟ قَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آمُرَ لَكَ، فَيَكُونُ لَكَ الْبَارِدُ وَيَكُونُ عَلَيَّ الْحَارُّ، وَحَوْلِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ وَقَدْ قَتَلَهُمُ الْجُوعُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِبَعْضِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Abayah ibn Rifa'ah reported that it reached Umar, may Allah be pleased with him, that Sa'd, after building the palace, had remarked that the faint sound had been cut off. Umar sent Muhammad ibn Maslamah to him. When he arrived, he produced his fire-drill, kindled his fire, and purchased firewood for a dirham. Sa'd was told that a man had done such and such, and he recognized him as Muhammad ibn Maslamah. He came out to him and swore by Allah that he had not said the remark. Muhammad replied that he would convey on his behalf what he stated and carry out what he had been commanded to do, then turned to the door and set it alight, declined an invitation to be hosted, and set out back to Umar, hastening to him, his going and return taking nineteen nights. Umar remarked that but for his good opinion of him he would have thought he had not discharged the mission. He answered that Sa'd sent greeting, offered excuse, and swore by Allah he had not uttered the words. Umar asked whether Sa'd had provisioned him, and he said no. Umar asked what had kept him from provisioning himself on his behalf, and he replied that he had disliked commanding provisions for him such that the cool comfort would be his while the burden of heat fell upon himself, when around him were the people of Madinah whom hunger had struck, adding that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that a man should not eat his fill to the exclusion of his neighbour. > **"A man does not eat his fill to the exclusion of his neighbour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک گھر بنایا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ہلکی آواز منقطع ہو گئی ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا ، جب وہ آئے تو انہوں نے اپنی لکڑی کو نکالا اور اس کو جلایا ، اور ایک درہم کے عوض میں لکڑیاں خرید لیں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ان صاحب نے ایسا ایسا کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ محمد بن مسلمہ ہے ، پھر وہ نکل کر ان کے پاس آئے اور انہوں نے اللہ کے نام پر حلف اٹھایا کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ہے ، تو انہوں نے یہ کہا : کہ ہم آپ کی طرف سے اُس چیز کو ادا کر دیں گے ، جو آپ کہہ رہے ہیں اور وہ کام کر لیں گے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ، انہوں نے دروازے کو جلا دیا ، پھر وہ ایک بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ انہیں زاد سفر دیں ، انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لئے نکلے وہ ان کے پاس جلدی چلے گئے ، ان کا جانا اور واپس آنا ، اُنیس دن میں ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اگر آپ کے بارے میں اچھا گمان نہ ہوتا ، تو ہم یہ سمجھتے کہ آپ نے ہماری طرف سے ادائیگی نہیں کی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اور معذرت پیش کی ہے ، اور اللہ کے نام پر یہ حلف اٹھایا ہے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا انہوں نے تمہیں کوئی چیز زاد سفر کے طور پر دی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے کہا : تمہیں کس چیز نے اس بات سے منع کیا کہ تم مجھے کوئی چیز زاد سفر کے طور پر دیتے ، تو انہوں نے کہا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں آپ کے لئے کوئی چیز دینے کا حکم دوں اور ٹھنڈک آپ کو مل جائے اور گرمی میرے ذمہ ہو جائے ، میرے اردگرد بہت سے اہل مدینہ ہیں ، جنہیں بھوک مار رہی ہے ، اور میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر خود سیر نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، تاہم عبایہ بن رفاعہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

13557

Majma al-Zawaid #13557

وَعَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا أُعْطِيكُمْ وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ يُلَوَّى بُطُونَهُمُ مِنَ الْجُوعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah honour his face, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that he would not give to them while neglecting the People of Suffah whose bellies were curled with hunger. > **"I shall not give to you while neglecting the People of Suffah with their bellies curled up from hunger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( ایسی صورت میں ) میں تمہیں نہیں دوں گا ، کہ میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں ، جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے لپٹے ہوئے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13558

Majma al-Zawaid #13558

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِي. فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِي. فَقَالَ: "" أَمَا لَكَ جَارٌ لَهُ فَضْلُ ثَوْبَيْنِ؟ "". قَالَ: بَلَى، غَيْرُ وَاحِدٍ. قَالَ: "" فَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ الطَّائِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Prophet ﷺ asking for clothing. The Prophet ﷺ turned away from him, the man repeated his plea for clothing, and the Prophet ﷺ asked whether he had no neighbour possessing two spare garments. When the man replied that he had, more than one, the Prophet ﷺ declared that Allah would not gather him and such a neighbour together in Paradise. > **"Have you no neighbour with two spare garments? Allah will not gather you and him together in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے پہننے کے لئے کچھ دیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ، اس نے پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے پہننے کے لئے کچھ دیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارا کوئی ایسا پڑوسی نہیں ہے ؟ جس کے پاس اضافی دو کپڑے ہوں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ہے ! ایک سے زیادہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اور اُس کو جنت میں جمع نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منذر بن زیاد طائی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13559

Majma al-Zawaid #13559

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حَقُّ الْجَارِ أَرْبَعُونَ دَارًا هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَمِينًا وَشِمَالًا وَقُدَّامَ وَخَلْفَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ جَامِعٍ الْعَطَّارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فِي بَابِ أَذَى الْجَارِ. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَارِ السُّوءِ وَإِمَامِ السُّوءِ وَزَوْجَةِ السُّوءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the right of neighbourhood extended to forty houses, thus and thus and thus and thus, to the right and to the left, before and behind, as indicated by gesture. > **"The right of the neighbour extends to forty houses: thus and thus and thus and thus, to the right and to the left, before and behind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوس کا حق ، چالیس گھروں تک ہوتا ہے ، اس طرح ، اور اس طرح ، اور اس طرح ، اور اس طرح ( فاید اگلے الفاظ راوی کے ہیں : ) یعنی دائیں طرف ، بائیں طرف ، آگے کی طرف اور پیچھے کی طرف ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد محمد بن جامع عطار کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ، پڑوسی کو اذیت دینے سے متعلق باب میں ہے ۔

13560

Majma al-Zawaid #13560

عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «ثَلَاثَةٌ مِنَ الْعَوَاقِرِ: إِمَامٌ إِنْ أَحْسَنْتَ لَمْ يَشْكُرْ وَإِنْ أَسَأْتَ لَمْ يَغْفِرْ، وَجَارُ السُّوءِ إِنْ رَأَى خَيْرًا دَفَنَهُ وَإِنْ شَرًّا أَذَاعَهُ، وَامْرَأَةٌ إِنْ حَضَرَتْ آذَتْكَ وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا خَانَتْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that three were among the ruinous afflictions: a ruler who, if one did good, showed no gratitude, and if one did ill, did not forgive; an evil neighbour who, if he saw good, buried it, and if he saw evil, broadcast it; and a wife who harmed her husband when present and betrayed him when he was absent from her. > **"Three are among the ruinous: a ruler who shows no thanks if you do good and grants no pardon if you do ill; an evil neighbour who buries good when he sees it and broadcasts evil when he sees it; and a wife who harms you when present and betrays you when absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں بربادی میں سے ہیں ، ایسا حکمران کہ اگر تم اچھائی کرو ، تو وہ شکرگزار نہ ہو ، اور اگر تم برائی کرو ، تو وہ معاف نہ کرے ، ایسا برا پڑوسی جو بھلائی دیکھے ، تو اُسے دفن کر دے اور اگر برائی دیکھے ، تو اُسے پھیلا دے اور ایسی بیوی کہ جب تم موجود ہو ، تو وہ تمہیں اذیت پہنچائے ، اور جب تم اس سے دور ہو ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عصام بن یزید ہے ، این ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے ، اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔

13561

Majma al-Zawaid #13561

عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا؟ "" قَالُوا: حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ "". قَالَ: فَقَالَ: "" مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ؟ "" قَالُوا: حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ. قَالَ: "" لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ asked his Companions what they said concerning adultery. They replied that it was forbidden, made unlawful by Allah and His Messenger, unlawful until the Day of Resurrection. The Messenger of Allah ﷺ then told them that for a man to commit adultery with ten women was lighter upon him than to commit adultery with the wife of his neighbour. He then asked what they said concerning theft. They replied that Allah and His Messenger had forbidden it, so it was unlawful. He declared that for a man to steal from ten houses was lighter upon him than to steal from his neighbour. > **"For a man to commit adultery with ten women is lighter upon him than to commit adultery with the wife of his neighbour. For a man to steal from ten houses is lighter upon him than to steal from his neighbour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : زنا کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرام ہے ، جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ قیامت کے دن تک حرام رہے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی دس عورتوں کے ساتھ زنا کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : چوری کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ حرام ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی دس گھروں میں چوری کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے گھر میں چوری کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13562

Majma al-Zawaid #13562

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ، فَذَكَرَ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصِيَامِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا. قَالَ: "" هِيَ فِي النَّارِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ، فَذَكَرَ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَلَاتِهَا وَأَنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي بِلِسَانِهَا جِيرَانَهَا. قَالَ: "" هِيَ فِي الْجَنَّةِ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that a man mentioned a certain woman, describing her abundant prayer, charity, and fasting, except that she harmed her neighbours with her tongue. The Prophet ﷺ said she was in the Fire. The man then mentioned another woman, describing her scant fasting and prayer, noting that she gave pieces of dried curd in charity and did not harm her neighbours with her tongue. The Prophet ﷺ said she was in Paradise. > **"She is in the Fire. She is in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں عورت ، راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے اُس عورت کی نماز ، صدقہ کرنے اور روزہ رکھنے میں کثرت کا ذکر کیا ، اور یہ بتایا : تاہم وہ اپنی زبان کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جہنم میں جائے گی ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں عورت کا یہ معاملہ ہے ، اس نے یہ بتایا کہ اُس عورت کا روزہ صدقہ کرنا اور نماز کم ہیں ، تاہم وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کر دیتی ہے ، اور اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان کے ذریعے اذیت نہیں دیتی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جنت میں جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13563

Majma al-Zawaid #13563

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ "". قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: "" شَرُّهُ». قُلْتُ: لِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ swore thrice by Allah that such a one did not believe. When asked whom he meant, he said it was the neighbour from whose injurious conduct his neighbour was not safe. When asked what his injurious conduct meant, he said it was his evil. > **"By Allah, he does not believe; by Allah, he does not believe; by Allah, he does not believe: the neighbour from whose injurious conduct his neighbour is not safe. His injurious conduct is his evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا پڑوسی ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق سے محفوظ نہ ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اس کے بوائق سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا شر ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح میں یہ حدیث مذکور ہے : ’’ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13564

Majma al-Zawaid #13564

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ بِالْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَهُوَ صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ.

EnglishUnverified translation

Talq ibn Ali, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that he was not a believer whose neighbour was not safe from his injurious conduct. > **"He is not a believer whose neighbour is not safe from his injurious conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ شخص مومن نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ صدوق ہے ، اور بکثرت غلطیاں کرتا ہے ۔

13565

Majma al-Zawaid #13565

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا هُوَ بِمُؤْمِنٍ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that he was not a believer whose neighbour was not safe from his injurious conduct. > **"He is no believer whose neighbour is not safe from his injurious conduct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ وہ شخص مومن نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔

13566

Majma al-Zawaid #13566

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَزَلْتُ فِي مَحَلَّةِ بَنِي فُلَانٍ وَإِنَّ أَشَدَّهُمْ لِي أَذًى أَقْرَبُهُمْ لِي جِوَارًا. فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا يَأْتُونَ الْمَسْجِدَ فَيَقُومُونَ عَلَى بَابِهِ فَيَصِيحُونَ: أَلَا إِنَّ أَرْبَعِينَ دَارًا جَارٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ خَافَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Prophet ﷺ saying that he had settled in the quarter of a certain tribe and that the harshest harm came to him from the nearest in neighbourhood. The Messenger of Allah ﷺ therefore sent Abu Bakr, Umar, and Ali, may Allah be pleased with them, to stand at the door of the mosque and proclaim that forty houses constituted neighbourhood, and that one whose neighbour feared his injurious conduct would not enter Paradise. > **"Know that forty houses are neighbours, and one whose neighbour fears his injurious conduct shall not enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : یا رسول اللہ ! میں نے بنو فلاں کے محلے میں رہائش اختیار کی ، اُن لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا اُس شخص سے کرنا پڑا ، جو میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ اس محلے کی مسجد میں جائیں ، اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کریں : ’’ خبردار ! چالیس گھروں تک پڑوس ہوتا ہے ، اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اس کے بوائق ( یعنی شر ) سے خوفزدہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک ہے ۔

13567

Majma al-Zawaid #13567

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا تَطْرِفِينِيهِ؟ قَالَتْ: يَا جَارِيَةُ، هَاتِ تِلْكَ الْحَرِيرَةَ، فَطَلَبَتْهَا فَلَمْ تَجِدْهَا، فَقَالَتْ: وَيْحَكِ اطْلُبِيهَا فَإِنَّهَا تَعْدِلُ عِنْدِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا. فَطَلَبَتْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ قَمَّتْهَا فِي قُمَامَتِهَا، فَإِذَا فِيهَا: قَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَيِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ، وَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ، إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْفُحْشَ مِنَ الْبَذَاءِ وَالْبَذَاءُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, reported that a man came to Fatimah, may Allah be pleased with her, asking whether the Messenger of Allah ﷺ had left with her anything she treasured as a keepsake. She called for her slave girl to bring the folded document, which the girl sought but could not find, whereupon Fatimah told her to seek it diligently, for in her estimation it equalled Hasan and Husayn. The girl searched and found that she had swept it up among the sweepings. Within it was recorded that Muhammad ﷺ had said that among the believers was not one from whose injurious conduct his neighbour was not safe, that whoever believed in Allah and the Last Day should honour his guest, that whoever believed in Allah and the Last Day should not harm his neighbour, that whoever believed in Allah and the Last Day should speak good or remain silent, that Allah loved the modest, forbearing, and chaste who refrained from begging, and hated the obscene, foul-tongued beggar who importuned, and that modesty was of faith and faith led to Paradise, while obscenity sprang from foulness and foulness led to the Fire. > **"He is not among the believers whose neighbour is not safe from his injurious conduct. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honour his guest. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not harm his neighbour. Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak good or remain silent. Allah loves the modest, forbearing, chaste one, and hates the obscene, foul-tongued, importunate beggar. Modesty is of faith, and faith is in Paradise; obscenity is of foulness, and foulness is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی ! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے پاس کوئی ایسی چیز چھوڑی ہے ، جسے آپ خصوصی چیز قرار دیتی ہوں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کنیز ! تم وہ جریدہ لے کر آؤ ! اس کنیز نے اُسے تلاش کیا ، لیکن وہ اسے نہیں ملا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُسے تلاش کرو ! کیونکہ وہ میرے نزدیک حسن اور حسین کے برابر ہے ، اس کنیز نے اسے تلاش کیا ، تو پتہ چلا کہ اس نے جھاڑو دی تھی اور وہ اس کچرے کے درمیان موجود ہے ، اس تحریر میں یہ بات لکھی ہوئی تھی : حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ شخص مومنین میں سے نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کو اذیت نہیں پہنچانی چاہئے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، ورنہ خاموش رہنا چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ، بردبار ، پاکدامن ، مانگنے سے بچنے والے شخص سے محبت کرتا ہے ، اور وہ بدتمیزی کرنے والے بدزبان شخص اور لپٹ کر مانگنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، بے شک حیاء ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان جنت میں ہو گا ، اور فحش کلامی ( یا بدزبانی ) برائی کا حصہ ہے ، اور برائی ، جہنم میں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

13568

Majma al-Zawaid #13568

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو جَارَهُ، قَالَ: "" اطْرَحْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ "". فَطَرَحَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَيَلْعَنُونَهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ قَالَ: "" وَمَا لَقِيتَ مِنْهُمْ؟ "". قَالَ: يَلْعَنُونِي. قَالَ: "" لَعَنَكَ اللَّهُ قَبْلَ النَّاسِ "". فَقَالَ: إِنِّي لَا أَعُودُ. فَجَاءَ الَّذِي شَكَاهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ارْفَعْ مَتَاعَكَ فَقَدْ كُفِيتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «ضَعْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ، أَيْ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ» "". فَوَضَعَهُ، فَكَانَ كُلُّ مَنْ مَرَّ قَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: جَارِي يُؤْذِينِي. فَيَدْعُو عَلَيْهِ، فَجَاءَ جَارُهُ فَقَالَ: رُدَّ مَتَاعَكَ، فَلَا أُؤْذِيكَ أَبَدًا. وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْمَنْبَهِيُّ تَفَرَّدَ عَنْهُ شَرِيكٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Juhayfah, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ complaining of his neighbour. The Prophet ﷺ told him to lay his goods upon the road. He did so, and people passing by began to curse the offender. The offending neighbour then came to the Prophet ﷺ asking what he had suffered from people, and when questioned what he had met with, complained that they cursed him. The Prophet ﷺ replied that Allah had cursed him before the people did. The man vowed never to repeat his harm, whereupon the Prophet ﷺ told the complainant to lift his goods, for he had been sufficed against the harm. > **"Lay your goods upon the road. Allah cursed you before the people did. Lift your goods, for you have been sufficed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنا سامان راستے میں رکھ دو ! اس شخص نے سامان رکھ دیا ، لوگ وہاں سے گزرتے اور اس ( کے پڑوسی ) پر لعنت کرتے ( اس شخص کا پڑوسی ) شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے لوگوں کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں اُن کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ مجھ پر لعنت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تم پر لعنت کی ہے ۔‘‘ اس ( پڑوسی ) نے عرض کی : میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ، پھر وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، جس نے اس کی شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا سامان اٹھا لو ! کیونکہ تمہاری کفایت ہو گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنا سامان راستے پر رکھ دو ! ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) راستے کی پشت پر رکھ دو ! اس شخص نے اس ( سامان ) کو رکھ دیا ، تو ہر گزرنے والا شخص دریافت کرتا تھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ شخص جواب دیتا : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ، تو گزرنے والا شخص اس پڑوسی کے خلاف دعا کرتا ، اُس شخص کا پڑوسی آیا اور بولا : تم اپنا سامان واپس لے جاؤ ! میں تمہیں کبھی اذیت نہیں پہنچاؤں گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمر منبہی ہے ، شریک اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13569

Majma al-Zawaid #13569

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قَلِيلَ مِنْ أَذَى الْجَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that no harm done to the neighbour was to be deemed trifling. > **"No harm of the neighbour is trifling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوسی کو تھوڑی سی تکلیف بھی نہیں پہنچائی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13570

Majma al-Zawaid #13570

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنِ اطَّلَعَ مِنْ بَيْتِ جَارِهِ فَنَظَرَ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ أَوْ شَعْرِ امْرَأَتِهِ أَوْ شَيْءٍ مِنْ جَسَدِهَا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ النَّارَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever peered from the house of his neighbour and looked upon the private matters of his Muslim brother, or upon the hair of his wife, or upon anything of her body, it became due upon Allah to admit him into the Fire. > **"Whoever peers from his neighbour's house and looks upon the private matters of his Muslim brother, or the hair of his wife, or anything of her body, it is due upon Allah to admit him into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے پڑوسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے ، اور اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ چیز کی طرف نظر کرے ، یا اُس کی بیوی کے بال ، یا اس عورت کے جسم کا کوئی حصہ دیکھے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اُس شخص کو جہنم میں داخل کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عنبسہ ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

13571

Majma al-Zawaid #13571

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَقَالَ: "" لَا يَصْحَبُنَا الْيَوْمَ مَنْ آذَى جَارَهُ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا بُلْتُ فِي أَصْلِ حَائِطِ جَارِي. فَقَالَ: "" لَا تَصْحَبْنَا الْيَوْمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ set out for a military expedition and declared that none who had harmed his neighbour should accompany them that day. A man among the people confessed that he had urinated at the base of his neighbour's wall, and the Prophet ﷺ told him not to accompany them that day. > **"None who has harmed his neighbour shall accompany us today. Do not accompany us today."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک غزوہ میں شرکت کے لئے تشریف لے جانے لگے ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ رہے ، جس نے اپنے پڑوسی کو اذیت پہنچائی ہو ، حاضرین میں سے ایک شخص بولا : میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کی بنیاد کے پاس پیشاب کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم آج ہمارے ساتھ نہ رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13572

Majma al-Zawaid #13572

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَبِي عُشَّانَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the first two litigants on the Day of Resurrection would be two neighbours. > **"The first two litigants on the Day of Resurrection shall be two neighbours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے دو مقابل فریق ، دو پڑوسی ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13573

Majma al-Zawaid #13573

عَنْ مُطَرَّفٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ: كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثًا، وَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ، فَلَقِيَتْهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثُكَ، وَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ، قَالَ: لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَبُوكَ قَدْ لَقِيتَنِي فَهَاتِ. قُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَكَ قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً "". قَالَ: فَمَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ عِنْدَكُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "". ثُمَّ تَلَا: {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ} [الصف: 4] قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ كَانَ لَهُ جَارُ سُوءٍ يُؤْذِيهِ فَصَبَرَ عَلَى أَذَاهُ، حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ذِكْرِ الْجَارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif ibn Abdullah reported that accounts of a narration from Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reached him, and he longed to meet him. When he met him he addressed him as Abu Dharr, explained that the narration had reached him, and asked him to relate it concerning Allah loving three and hating three. Abu Dharr replied that he did not consider himself one who would lie against the Messenger of Allah ﷺ. When asked who the three whom Allah loved were, he described first a man who campaigned in the path of Allah with patience and hope of reward, fighting until slain, whom they would find mentioned in the Book of Allah, then recited that Allah loved those who fought in His cause in ranks as though a compact structure. When asked who else, he described a man with an evil neighbour who harmed him, yet who bore the harm patiently until Allah sufficed him against that neighbour through life or death. > **"Allah loves three: a man who campaigns in the path of Allah, patient and hopeful of reward, and fights until he is slain; and a man with an evil neighbour who harms him, yet he bears his harm patiently until Allah suffices him against him through life or death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت مجھ تک پہنچی ، تو میری یہ خواہش ہوئی کہ میری ان سے ملاقات ہو جاتی ، جب میری اُن سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے کہا : اے حضرت ابوذر غفاری ! آپ کے حوالے سے ایک حدیث مجھ تک پہنچی ، تو میں سے ملاقات کا خواہشمند تھا ، انہوں نے فرمایا : اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے ، اب تمہاری مجھ سے ملاقات ہو گئی ہے ، تو تم پیش کرو ! میں نے کہا : ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے ، کہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے محبت کرتا ہے ، اور وہ تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ تین قسم کے لوگ کون ہیں ؟ جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک وہ شخص ہے جو صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ، وہ لڑائی کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ شہید ہو جاتا ہے ، اور یہ وہ شخص ہے جس کا ذکر تم اپنے پاس موجود اللہ کی کتاب میں پاتے ہو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت رکھتا ہے ، جو اُس کی راہ میں یوں صف بنا کر جنگ کرتے ہیں ، جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں ۔‘‘ میں نے دریافت کیا : اور کون ؟ تو انہوں نے فرمایا : ’’ وہ شخص جس کا پڑوسی برا ہو ، اور وہ پڑوسی اُسے اذیت دیتا ہو ، اور وہ شخص اُس پڑوسی کی دی ہوئی اذیت پر صبر سے کام لیتا رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ زندگی ، یا موت ، کسی بھی صورت میں ، اُس پڑوسی کے حوالے سے اس کی کفایت کر دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ روایت امام نسائی اور دیگر حضرات نے پڑوسی کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام طبرانی کی سند اور امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13574

Majma al-Zawaid #13574

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنِ مَسْعُودٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet ﷺ established brotherhood between al-Zubayr and Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with them both. > **"The Prophet established brotherhood between al-Zubayr and Ibn Mas'ud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔

13575

Majma al-Zawaid #13575

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ، آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَبَيْنَ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَبَيْنَ صَعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ established brotherhood among his Companions, joining Salman and Abu al-Darda, and joining Awf ibn Malik and Sa'b ibn Jaththamah, may Allah be pleased with them. > **"The Messenger of Allah established brotherhood among his Companions: between Salman and Abu al-Darda, and between Awf ibn Malik and Sa'b ibn Jaththamah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ، جبکہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13576

Majma al-Zawaid #13576

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، آخَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ حَمْزَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Harithah, may Allah be pleased with him, reported that he said to the Messenger of Allah ﷺ that he had joined him and Hamzah together in brotherhood. > **"O Messenger of Allah, you have joined me and Hamzah in brotherhood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھائی قرار دے دیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

13577

Majma al-Zawaid #13577

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَحَمْزَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ الْفَرَوِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ established brotherhood between Zayd ibn Harithah and Hamzah, may Allah be pleased with them both. > **"The Messenger of Allah established brotherhood between Zayd ibn Harithah and Hamzah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق فروی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13578

Majma al-Zawaid #13578

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَا حَمْزَةَ، آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that Zayd ibn Harithah, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, became the brother of Hamzah, for the Messenger of Allah ﷺ had established brotherhood between them. > **"Zayd ibn Harithah, freedman of the Messenger of Allah, became the brother of Hamzah; the Messenger of Allah had joined them in brotherhood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن حارثہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے غلام تھے ، وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے بھائی بنے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔

13579

Majma al-Zawaid #13579

وَفِي رِوَايَةٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ: «قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ: ابْنَةُ أَخِي، آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِيهَا.» وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported in another narration that Zayd ibn Harithah, may Allah be pleased with him, said concerning the daughter of Hamzah that she was the daughter of his brother, since the Messenger of Allah ﷺ had established brotherhood between him and her father. > **"She is the daughter of my brother; the Messenger of Allah joined me and her father in brotherhood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے فرمایا : حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے میری بھتیجی کے بارے میں یہ کہا : اللہ کے رسول نے میرے اور اس لڑکی کے باپ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13580

Majma al-Zawaid #13580

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، وَعَسَلِ بْنِ كَعْبٍ، أَحَدُ بَنِي زِمَامٍ، أَنَّ جَدَّهُ مَازِنَ بْنَ خَيْثَمَةَ - يَعْنِي جَدَّ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ - بَعَثَهُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حِينَ نَزَلَ بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ وَقَالَ: حَتَّى أَسْلَمَ النَّاسُ وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآخَى بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Qays and Asal ibn Ka'b, of Banu Zimam, reported from his grandfather Mazin ibn Khaythamah that Mu'adh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, sent them forth when he had alighted between al-Sakun and al-Sakasik, until the people embraced Islam and came in delegations to the Messenger of Allah ﷺ, who established brotherhood between al-Sakun and al-Sakasik. > **"The Messenger of Allah established brotherhood between al-Sakun and al-Sakasik."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن قیس اور عسل بن کعب ، جن کا تعلق بنو مازن سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : اُن کے دادا مازن بن خیثمہ اور ہبیل بن کعب ، جن کا تعلق بنو مازن سے ہے ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو بھیجا ، جب انہوں نے سکون اور سکاسک کے درمیان پڑاؤ کیا ہوا تھا ، اور انہوں نے یہ بیان کیا : یہاں تک کہ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے سکون اور سکاسک کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13581

Majma al-Zawaid #13581

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوُهَا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ established brotherhood between Abu al-Darda and Salman, may Allah be pleased with them both. > **"The Messenger of Allah established brotherhood between Abu al-Darda and Salman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے آئیں گی ۔

13582

Majma al-Zawaid #13582

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبَيْنِ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ». قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمْ يُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ» "". وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ مُرْسَلُ الزُّهْرِيِّ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he had witnessed the alliance of al-Mutayyabin alongside his uncles while yet a youth, and that he would not wish to break it even for red camels. Al-Zuhri added that the Messenger of Allah ﷺ said that Islam encountered no alliance but that it strengthened it further, and that there was no formal alliance in Islam, while the Messenger of Allah ﷺ himself fostered affection between Quraysh and the Ansar. > **"I witnessed the alliance of al-Mutayyabin with my uncles when I was a youth; I would not love to break it even for red camels. Islam meets no alliance but that it strengthens it; and there is no alliance in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ ’’ مطیبین ‘‘ کے حلیف بننے کے معاہدے کے موقع پر موجود تھا ، میں اُن دونوں لڑکا تھا ، اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس معاہدے کو میں توڑ دوں ، اگرچہ مجھے اُس کے بدلے میں سرخ اونٹ مل رہے ہوں ۔‘‘ زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام حلیف ہونے کے جس معاہدے کو پائے گا ، اُس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ، البتہ اسلام میں حلیف ہونے کے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قریش اور انصار کے درمیان الفت قائم کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، زہری کی نقل کردہ ’’ مرسل ‘‘ روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

13583

Majma al-Zawaid #13583

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي نَقَضْتُ الْحِلْفَ الَّذِي فِي دَارِ النَّدْوَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْزُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet ﷺ said that it would not please him to possess red camels in exchange for breaking the alliance concluded in Dar al-Nadwah. > **"It would not please me to have red camels and to have broken the alliance concluded in Dar al-Nadwah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ، اور میں حلیف ہونے کے اُس معاہدے کو توڑ دوں ، جو ’’ دارالندوہ ‘‘ میں ہوا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مرزوق بن مرزبان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13584

Majma al-Zawaid #13584

وَعَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ فِي حِلْفِ يَوْمِ الْحُدَيْبِيَةَ خُزَاعَةَ، وَكَتَبَ إِلَيْهِمْ وَإِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ لَأَنْتُمْ وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ، وَقَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُخَوَّفِينَ "".» هَذَا أَوْ نَحْوُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Budayl ibn Warqa reported that the Messenger of Allah ﷺ included Khuza'ah in the alliance on the day of Hudaybiyah, and wrote to them, and to Budayl ibn Warqa and the chiefs of Banu Amr, conveying greeting, praising Allah beside Whom there is no deity, then stating that he had not deemed their affair sinful nor set anything against them, that the dearest of Tihamah to him were they and those of the allies who followed them, that he had secured for the emigrant among them what he had secured for himself, even if one emigrated in his own land without residing in Makkah, and that they need neither fear from his side nor cause fear, or words to that effect. > **"Peace be upon you; I praise Allah, beside Whom there is no deity, unto you. I have not deemed your affair sinful nor set anything against you. The dearest of Tihamah to me are you and those allies who follow you. I have secured for your emigrant what I secured for myself. You are neither to fear from my side nor to be made afraid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حدیبیہ کے دن ، حلیف ہونے کے معاہدے میں خزاعہ کو داخل کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کی طرف ، بدیل بن ورقاء کی طرف ، اور بنو عمرو کے رؤسا کی طرف یہ خط لکھا : ’’ تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، امابعد ! بے شک میں نے تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیا ہے ، اور نہ ہی میں نے تمہارے پہلو میں رکھا ہے ، تہامہ کے رہنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم لوگ ہو ، اور وہ لوگ ہیں ، جو تمہاری پیروی کریں ، جن کا تعلق مطیبین سے ہو ، میں نے ہجرت کرنے والے کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ وہ شخص مکہ میں رہائش اختیار کیے بغیر اپنی زمین سے ہجرت کرتا ہے ، تو تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا اور خوف کا شکار نہ کرنا ۔‘‘ یہ ، یا اس کی مانند کلمات تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13585

Majma al-Zawaid #13585

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي، بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ، هَذَا الْكِتَابَ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَوْصُوا بِهِ، وَلَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَبِشْرٍ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ أَنْتُمْ وَأَقْرَبَهُ مِنِّي رَحِمًا وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ، وَإِنِّي أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ إِلَّا مُعْتَمِرًا أَوْ حَاجًّا، وَإِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ أَوْ سَلِمْتُ، وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُحَصَّرَيْنِ. أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَابْنَا عَوْنٍ، وَبَايَعَا عَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِكْرِمَةَ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَهُ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّ بَعْضَنَا مِنْ بَعْضٍ أَبَدًا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ "".» قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: هُوَ خَطُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Budayl ibn Warqa reported that his father Budayl ibn Warqa handed him this letter, telling him that it was the letter of the Prophet ﷺ, that they should treasure its counsel, and that they would remain in good so long as it endured among them. The letter opened in the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate, from Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ, to Budayl ibn Warqa and Bishr and the chiefs of Banu Amr, praising Allah beside Whom there is no deity, declaring that he had not deemed their affair sinful nor set anything against them, that they were the dearest of Tihamah to him and nearest in kinship, with those allies who followed them, that he had secured for their emigrant what he had secured for himself, even if he emigrated in his own land without residing in Makkah except as a pilgrim performing lesser or greater pilgrimage, that he had not neglected them nor surrendered them, that they were neither to fear from his side nor to be besieged, and further announcing that Alqamah ibn Ulathah and the two sons of Awf had embraced Islam and pledged allegiance on behalf of those of Ikrimah who followed them, securing for his followers among them what he secured for himself, and that they were of one another forever, in inviolable and violable territory. Abu Muhammad added that his father heard their elders say that it was in the handwriting of Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him. > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Budayl ibn Warqa and the chiefs of Banu Amr: I praise Allah, beside Whom there is no deity, unto you. I have not deemed your affair sinful nor set anything against you. You are the dearest of Tihamah to me and nearest in kinship. I have secured for your emigrant what I secured for myself. You are neither to fear from my side nor to be besieged. We are of one another forever, in inviolable and violable territory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلمہ بن بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : میرے والد بدیل بن ورقاء نے یہ مکتوب میرے حوالے کیا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ نبی اکرم ﷺ کا مکتوب ہے ، تو تم اس کے ذریعے تلقین کو قبول کرو ، اور جب تک یہ تمہارے درمیان رہے گا ، تم مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بنو عمرو کے رؤساء کے نام مکتوب ہے ، میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، امابعد ! میں تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیتا ، اور نہ ہی تمہارے پہلو میں رکھتا ہوں ، اہل تہامہ میں میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم ہو ، اور رشتہ داری کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریبی ہو ، اور وہ لوگ ہیں جو مطیبین سے تعلق رکھتے ہیں ، اور تمہاری پیروی کرتے ہیں ، تم میں سے جو شخص ہجرت کر لیتا ہے ، میں نے اس کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ اُس شخص نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی ہو ، اور مکہ میں رہائش اختیار نہ کی ہو ، البتہ عمرہ کرنے والے اور حج کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے تمہارے معاملے کو ضائع نہیں کیا ، یا سپرد نہیں کیا ، تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا ، یا محصور نہیں ہونا ، امابعد ! علقمہ بن علاثہ اور عون کے دونوں بیٹوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، ان دونوں نے بیعت کر لی ہے ، اور ہجرت کی ہے ، ان لوگوں کی طرف سے جو عکرمہ میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں ، اور اس نے تم میں سے اپنے پیروکاروں کے لئے وہ چیز لی ہے ، جو اپنی ذات کے لیے لی ہے ، ہم حل میں اور حرم میں ، ہمیشہ ایک دوسرے کا حصہ رہیں گے ۔‘‘ ابومحمد کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ روایت بیان کی ہے : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : یہ مکتوب حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا تحریر کیا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13586

Majma al-Zawaid #13586

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there was no formal alliance in Islam, and that whatever alliance had existed in the pre-Islamic age, Islam only increased it in strength and firmness. > **"There is no alliance in Islam; whatever alliance existed in the pre-Islamic age, Islam only increased it in strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام میں حلیف ہونے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ، اور جو معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی اور شدت میں اضافہ ہی کرے گا ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13587

Majma al-Zawaid #13587

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِلْفِ فَقَالَ: "" «مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Asim, may Allah be pleased with him, reported that he asked the Prophet ﷺ concerning alliance, and the Prophet ﷺ replied that whatever alliance had existed in the pre-Islamic age they should hold fast to, but that there was no new alliance in Islam. > **"Whatever alliance existed in the pre-Islamic age, hold fast to it; but there is no alliance in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے حلیف ہونے کا معاہدہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمانہ جاہلیت میں ایسا جو معاہدہ ہوا تھا ، تم لوگ اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ، لیکن اسلام میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ۔

13588

Majma al-Zawaid #13588

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، أَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمْ يَزِدْ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا شِدَّةً» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَدُّهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there was no formal alliance in Islam, and that whatever alliance had existed in the pre-Islamic age, Islam only increased it in strength. > **"There is no alliance in Islam; whatever alliance existed in the pre-Islamic age, Islam only increased it in strength."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام میں حلیف ہونے کا معاہدہ نہیں ہو گا ، حلیف ہونے کا جو بھی معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ابن ابوملیکہ کی دادی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔