وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، غُلَامٌ يَتِيمٌ وَأُخْتٌ لَهُ يَتِيمَةٌ وَأُمٌّ لَهُ أَرْمَلَةٌ، أَطْعِمْنَا أَطْعَمَكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَكَ حَتَّى نَرْضَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَحْسَنَ مَا قُلْتَ يَا غُلَامُ، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِنَا فَائْتِنَا بِمَا وَجَدْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ طَعَامٍ. فَأَتَى بِلَالٌ بِوَاحِدَةٍ وَعِشْرِينَ تَمْرَةً، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ إِلَى فِيهِ، وَنَحْنُ نَرَى أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا غُلَامُ سَبْعًا لَكَ، وَسَبْعًا لِأُمِّكَ، وَسَبْعًا لِأُخْتِكَ، فَتَعَشَّى بِتَمْرَةٍ وَتَغَدَّى بِأُخْرَى "". فَلَمَّا انْصَرَفَ الْغُلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: جَبَرَ اللَّهُ يُتْمَكَ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ بِالْغُلَامِ يَا مُعَاذُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَحْمَةً لِلْغُلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتِيمًا إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ دَرَجَةً، وَأَعْطَاهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةً، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَيِّئَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِي الْإِسْنَادِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Abi Awfa (radiya Allahu anhu) reports that while they sat with the Messenger of Allah ﷺ, a boy came and pleaded, offering his father and mother as ransom, that he was an orphan with an orphan sister and a widowed mother, asking for food from what he had until they were pleased. The Messenger of Allah ﷺ praised his words, sent him to his household for whatever food was found, and Bilal (radiya Allahu anhu) brought twenty-one dates placed in the palm of the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ gestured with his palms toward his mouth, and those present perceived him invoking blessing, then allotted seven for the boy, seven for his mother, and seven for his sister, instructing him to sup with one date and breakfast with another. When the boy departed, Muadh ibn Jabal (radiya Allahu anhu) rose to him, placed his hand upon his head, prayed that Allah mend his orphanhood and make him a successor to his father, and when asked, explained that he had acted out of mercy. The Prophet ﷺ then swore by Him in Whose Hand is the soul of Muhammad concerning whoever takes charge of an orphan among the Muslims, and the rank, good deed, and expiation recorded for every hair. > **"How excellent is what you have said, O boy. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, no one among the Muslims takes charge of an orphan except that Allah records for him a rank for every hair, grants him a good deed for every hair, and expiates from him an evil deed for every hair."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک بچہ آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایک یتیم بچہ ہے اور اس کی ایک یتیم بہن ہے اور اس کی بیوہ ماں ہے ، تو آپ ہمیں کھانے کے لئے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پاس سے کھانے کے لئے دے ( آپ ہمیں اتنا دیں ) کہ ہم راضی ہو جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم نے کتنی اچھی بات کی ہے ، تم ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور تمہیں ان کے پاس جو بھی کھانے کی چیز ملتی ہے وہ ہمارے پاس لے آؤ ، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اکیس کھجوریں لے کے آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی ہتھیلی پر رکھ دیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اپنے منہ کے طرف اشارہ کیا ، ہم یہ بات دیکھ رہے تھے کہ آپ اس کے لئے برکت کی دعا کر رہے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا : اے لڑکے ! سات تمہاری ہیں ، سات تمہاری ماں کے لئے ، سات تمہاری بہن کے لئے ہیں ، تم ایک کھجور رات کے وقت کھا لیا کرنا ، ایک صبح کھا لیا کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لڑکا نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اُٹھ کر واپس گیا ، تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور بولے : اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی پر مہربانی کرے اور تمہارے باپ کی جگہ تمہیں اچھا سرپرست عطا کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے معاذ ا تم نے اس لڑکے ساتھ جو کیا ہے ، وہ میں نے دیکھ لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس لڑکے پر رحمت کی وجہ سے ( میں نے ) کیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، مسلمانوں میں سے جو بھی شخص کسی یتیم کا نگران بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر ایک بال کے عوض میں ایک درجہ نوٹ کر لیتا ہے ، اور اسے ہر ایک بال کے عوض میں ، ایک نیکی عطا کرتا ہے اور ہر ایک بال کے عوض میں اُس کی ایک برائی کو ختم کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ رایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ، پھر یہ بات بیان کی ہے : راوی نے اس کو ایک طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔