Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 4

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13509–13548

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13509

Majma al-Zawaid #13509

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يَشْكُو قَسْوَةَ قَلْبِهِ، قَالَ: "" أَتُحِبُّ أَنْ يَلِينَ قَلْبُكَ وَتُدْرَكَ حَاجَتُكَ؟ ارْحَمِ الْيَتِيمَ، وَامْسَحْ رَأْسَهُ، وَأَطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِكَ، يَلِنْ قَلْبُكَ وَتُدْرِكْ حَاجَتَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ: مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (radiya Allahu anhu) reports that a man came to the Prophet ﷺ complaining of hardness of his heart, and the Prophet ﷺ asked whether he would love his heart to soften and his need to be fulfilled, then enjoined mercy to the orphan, stroking his head, and feeding him from his food, promising a softened heart and a fulfilled need. > **"Would you love that your heart soften and your need be fulfilled? Show mercy to the orphan, stroke his head, and feed him from your food; your heart will soften and you will attain your need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے اور تم اپنے مقصد کو حاصل کر لو ؟ تو تم یتیم پر رحم کرو ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو ، اسے اپنے کھانے میں سے کھانا کھلاؤ ، تمہارا دل نرم ہو جائے گا اور تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی بقیہ ہے جو مدلس ہے ۔

13510

Majma al-Zawaid #13510

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَ: "" كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ "". فَقَالَتْ: لَا أُرَانِي إِلَّا لِمَا بِي مَيِّتَةٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَدِدْتُ أَنَّكِ لَمْ تَخْرُجِي مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكْفُلِي يَتِيمًا، أَوْ تُجَهِّزِي غَازِيًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports that the Prophet ﷺ visited a woman of Khatham and asked how she found herself. When she replied that she deemed herself near death on account of her ailment, the Prophet ﷺ expressed his wish that she not leave this world until she had sponsored an orphan or equipped a warrior. > **"How do you find yourself? I would love that you not depart this world until you sponsor an orphan or equip a warrior."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں اپنا آپ کیسا محسوس ہوتا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں اپنے بارے میں یہی سمجھتی ہوں کہ میں مرنے والی ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری یہ خواہش ہے کہ تم دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کسی یتیم کی کفالت کرو ، یا کسی غازی کو سامان فراہم کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد اعمیٰ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13511

Majma al-Zawaid #13511

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - وَالسَّاعِي عَلَى الْيَتِيمِ وَالْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالصَّائِمِ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (radiya Allahu anha) reports that the Messenger of Allah ﷺ likened himself and the sponsor of the orphan in Paradise to two fingers, joining his index and middle fingers, and likened one who strives for the orphan, the widow, and the destitute to a warrior in the path of Allah and to one fasting and standing in prayer without pause. > **"I and the sponsor of the orphan shall be in Paradise like these two, and one who strives for the orphan, the widow, and the destitute is like a warrior in the path of Allah and like one fasting and standing who never pauses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص ، جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر مزید فرمایا : ) ’’ یتیم ، یا بیوہ ، یا غریب کی دیکھ بھال کرنے والا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ایسے شخص کی مانند ہے ، جو روزہ بھی رکھتا ہو ، نوافل بھی پڑھتا ہو اور ان کے درمیان کوئی وقفہ نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13512

Majma al-Zawaid #13512

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا قَعَدَ يَتِيمٌ مَعَ قَوْمٍ عَلَى قَصْعَتِهِمْ فَيَقْرَبُ قَصْعَتَهُمْ شَيْطَانٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ وَاصِلٍ، وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning an orphan who sits with people at their bowl and eats with them, and how Satan keeps away from their bowl on that account. > **"No orphan sits with people at their bowl except that Satan keeps away from their bowl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی کوئی یتیم شخص کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اُن کے پیالے میں سے کھاتا ہے ، تو شیطان ان کے پیالے کے قریب نہیں آتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن واصل ہے اور وہ حسن بن دینار ہے اور وہ اپنے خراب حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے اور یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13513

Majma al-Zawaid #13513

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَحَبَّ الْبُيُوتِ إِلَى اللَّهِ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُكْرَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، وَقَدْ كَانَ مِمَّنْ يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ described the most beloved house to Allah as one in which an orphan is honoured. > **"Indeed the most beloved house to Allah is a house in which an orphan is honoured."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب گھر وہ ہے ، جس گھر میں یتیم کی عزت افزائی کی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے اور یہ ان افراد میں سے ہے جو غلطی کر جاتے ہیں ۔

13514

Majma al-Zawaid #13514

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِ يَتِيمٍ، لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ، كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» "". وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever strokes the head of an orphan seeking only Allah thereby, and the good deeds recorded for every hair his hand passes over, and concerning whoever treats well an orphan girl or boy in his care, and his closeness to him in Paradise like two fingers, separating his index and middle fingers in illustration. > **"Whoever strokes the head of an orphan, stroking it only for Allah, shall have good deeds for every hair his hand passes over, and whoever treats well an orphan girl or boy in his care, he and I shall be in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہاتھ پھیرے ، تو اس کا ہاتھ جس بھی بال پر سے گزرتا ہے ، ہر ایک بال کے عوض میں اسے نیکیاں ملتی ہیں اور جو شخص کسی یتیم بچی یا یتیم بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرے جو اس کے زیر پرورش ہو ، تو وہ اور میں جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی الگ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی تھی ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13515

Majma al-Zawaid #13515

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Malik al-Qushayri (radiya Allahu anhu) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning whoever joins an orphan of two Muslim parents to his food and drink until Allah enriches him, and what becomes binding for him. > **"Whoever joins an orphan of two Muslim parents to his food and drink until Allah enriches him, Paradise becomes binding for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دو مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ، یہاں تک اللہ تعالیٰ اس بچے کو بے نیاز کر دے ، تو اُس شخص کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13516

Majma al-Zawaid #13516

وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَالِكٍ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ فِي طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ. وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ لَمْ يَبَرَّهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالسِّيَاقُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Zurarah ibn Awfa reports from a man of his people called Abu Malik, or Ibn Malik, who heard the Prophet ﷺ speak concerning whoever joins an orphan among Muslims to his food and drink until he becomes independent of him, concerning whoever reaches his parents or one of them and fails to honour them and then enters the Fire far removed by Allah, and concerning any Muslim who frees a Muslim slave and what it becomes as ransom for him from the Fire. > **"Whoever joins an orphan among Muslims to his food and drink until he becomes independent of him, Paradise becomes binding for him without exception. Whoever reaches his parents or one of them and then fails to honour them and enters the Fire, may Allah remove him far, and any Muslim who frees a Muslim slave, it shall be his ransom from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زرارہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد ، حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت ابن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دو مسلمان ( ماں باپ ) کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ( اور اس وقت تک شریک رکھے ) یہاں تک کہ وہ ( بچہ ) اُس سے بے نیاز ہو جائے ، تو اس شخص کے لئے جنت لازمی طور پر واجب ہو جاتی ہے ، اور جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور پھر جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور جو مسلمان شخص ، کسی مسلمان گردن کو آزاد کر دے ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کا سیاق ان کا نقل کردہ ہے ، امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

13517

Majma al-Zawaid #13517

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ أَبِي؟ قَالَ: اسْتُشْهِدَ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ "". فَبَكَيْتُ، فَأَخَذَنِي فَمَسَحَ رَأْسِي، وَحَمَلَنِي مَعَهُ وَقَالَ: "" أَمَا تَرْضَى أَنْ أَكُونَ أَنَا أَبُوكَ وَتَكُونَ عَائِشَةُ أُمَّكَ؟». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Bashir ibn Aqrabah al-Juhani (radiya Allahu anhu) reports that he met the Messenger of Allah ﷺ on the day of Uhud and asked what had become of his father. When the Prophet ﷺ informed him that he had been martyred and invoked mercy upon him, the boy wept, so the Prophet ﷺ drew him close, stroked his head, mounted him with himself, and asked whether he would be pleased with him as a father and Aishah as a mother. > **"Your father has been martyred, may the mercy of Allah be upon him. Would you not be pleased that I be your father and Aishah your mother?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشیر بن عقربہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : میرے والد کا کیا بنا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اُس نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو ، تو میں رونے لگا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے پکڑا ، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں تمہارا باپ ہوؤں اور عائشہ تمہاری ماں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔

13518

Majma al-Zawaid #13518

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، غُلَامٌ يَتِيمٌ وَأُخْتٌ لَهُ يَتِيمَةٌ وَأُمٌّ لَهُ أَرْمَلَةٌ، أَطْعِمْنَا أَطْعَمَكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَكَ حَتَّى نَرْضَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَحْسَنَ مَا قُلْتَ يَا غُلَامُ، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِنَا فَائْتِنَا بِمَا وَجَدْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ طَعَامٍ. فَأَتَى بِلَالٌ بِوَاحِدَةٍ وَعِشْرِينَ تَمْرَةً، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ إِلَى فِيهِ، وَنَحْنُ نَرَى أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا غُلَامُ سَبْعًا لَكَ، وَسَبْعًا لِأُمِّكَ، وَسَبْعًا لِأُخْتِكَ، فَتَعَشَّى بِتَمْرَةٍ وَتَغَدَّى بِأُخْرَى "". فَلَمَّا انْصَرَفَ الْغُلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: جَبَرَ اللَّهُ يُتْمَكَ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ بِالْغُلَامِ يَا مُعَاذُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَحْمَةً لِلْغُلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتِيمًا إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ دَرَجَةً، وَأَعْطَاهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةً، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَيِّئَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِي الْإِسْنَادِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Awfa (radiya Allahu anhu) reports that while they sat with the Messenger of Allah ﷺ, a boy came and pleaded, offering his father and mother as ransom, that he was an orphan with an orphan sister and a widowed mother, asking for food from what he had until they were pleased. The Messenger of Allah ﷺ praised his words, sent him to his household for whatever food was found, and Bilal (radiya Allahu anhu) brought twenty-one dates placed in the palm of the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ gestured with his palms toward his mouth, and those present perceived him invoking blessing, then allotted seven for the boy, seven for his mother, and seven for his sister, instructing him to sup with one date and breakfast with another. When the boy departed, Muadh ibn Jabal (radiya Allahu anhu) rose to him, placed his hand upon his head, prayed that Allah mend his orphanhood and make him a successor to his father, and when asked, explained that he had acted out of mercy. The Prophet ﷺ then swore by Him in Whose Hand is the soul of Muhammad concerning whoever takes charge of an orphan among the Muslims, and the rank, good deed, and expiation recorded for every hair. > **"How excellent is what you have said, O boy. By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, no one among the Muslims takes charge of an orphan except that Allah records for him a rank for every hair, grants him a good deed for every hair, and expiates from him an evil deed for every hair."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک بچہ آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایک یتیم بچہ ہے اور اس کی ایک یتیم بہن ہے اور اس کی بیوہ ماں ہے ، تو آپ ہمیں کھانے کے لئے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پاس سے کھانے کے لئے دے ( آپ ہمیں اتنا دیں ) کہ ہم راضی ہو جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم نے کتنی اچھی بات کی ہے ، تم ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور تمہیں ان کے پاس جو بھی کھانے کی چیز ملتی ہے وہ ہمارے پاس لے آؤ ، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اکیس کھجوریں لے کے آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی ہتھیلی پر رکھ دیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اپنے منہ کے طرف اشارہ کیا ، ہم یہ بات دیکھ رہے تھے کہ آپ اس کے لئے برکت کی دعا کر رہے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا : اے لڑکے ! سات تمہاری ہیں ، سات تمہاری ماں کے لئے ، سات تمہاری بہن کے لئے ہیں ، تم ایک کھجور رات کے وقت کھا لیا کرنا ، ایک صبح کھا لیا کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لڑکا نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اُٹھ کر واپس گیا ، تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور بولے : اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی پر مہربانی کرے اور تمہارے باپ کی جگہ تمہیں اچھا سرپرست عطا کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے معاذ ا تم نے اس لڑکے ساتھ جو کیا ہے ، وہ میں نے دیکھ لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس لڑکے پر رحمت کی وجہ سے ( میں نے ) کیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، مسلمانوں میں سے جو بھی شخص کسی یتیم کا نگران بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر ایک بال کے عوض میں ایک درجہ نوٹ کر لیتا ہے ، اور اسے ہر ایک بال کے عوض میں ، ایک نیکی عطا کرتا ہے اور ہر ایک بال کے عوض میں اُس کی ایک برائی کو ختم کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ رایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ، پھر یہ بات بیان کی ہے : راوی نے اس کو ایک طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

13519

Majma al-Zawaid #13519

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَفْتَحُ بَابَ الْجَنَّةِ، إِلَّا أَنَّهُ تَأْتِي امْرَأَةٌ تُبَادِرُنِي، فَأَقُولُ لَهَا: مَا لَكِ؟ وَمَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا امْرَأَةٌ قَعَدْتُ عَلَى أَيْتَامٍ لِي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَجْلَانَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ described himself as the first to open the gate of Paradise, yet a woman would hasten ahead of him, and when he asked her condition and identity she would reply that she was one who had remained seated over her orphans. > **"I am the first to open the gate of Paradise, except that a woman will hasten ahead of me, so I shall say to her: what is your matter and who are you? And she shall say: I am a woman who remained seated over my orphans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت کا دروازہ کھولنے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، پھر ایک عورت آئے گی اور وہ مجھ سے آگے نکل جائے گی ، میں اُس سے کہوں گا : تمہیں کیا معاملہ ہے ؟ اور تم کون ہو ؟ تو وہ کہے گی : میں وہ عورت ہوں ، جو اپنے یتیم بچوں کی خاطر بیوہ بیٹھی رہی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عجلان ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13520

Majma al-Zawaid #13520

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ ذَا قَرَابَةٍ أَوْ لَا قَرَابَةَ لَهُ، فَأَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» "". وَضَمَّ أَصْبُعَيْهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever sponsors an orphan, whether kindred or not, and his closeness to him in Paradise like two fingers, joining his fingers in illustration. > **"Whoever sponsors an orphan, whether kindred or not, he and I shall be in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی یتیم کا کفیل بن جائے ، خواہ وہ ( یتیم ) اُس کا رشتے دار ہو ، یا رشتے دار نہ ہو ، تو میں اور وہ شخص جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے دو انگلیاں ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

13521

Majma al-Zawaid #13521

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ عَنْهُ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Adi ibn Hatim (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever joins to himself an orphan of his own or of another until Allah enriches him, and what becomes binding for him. > **"Whoever joins to himself an orphan of his own or of another until Allah enriches him independently, Paradise becomes binding for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا کسی اور یتیم کو ساتھ ملا لیتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس یتیم کو بے نیاز کر دے ، تو اس شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔

13522

Majma al-Zawaid #13522

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ آوَى يَتِيمًا أَوْ يَتِيمَيْنِ، ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» "". وَحَوَّلَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever shelters one or two orphans and then bears with patience seeking reward, and his closeness to him in Paradise like two fingers, turning his index and middle fingers in illustration. > **"Whoever shelters an orphan or two orphans, then bears with patience and seeks reward, he and I shall be in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایک یا دو یتیموں کو پناہ دیتا ہے ، پھر وہ صبر سے کام لیتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے ، تو میں اور وہ جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو موڑ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13523

Majma al-Zawaid #13523

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ likened himself and the sponsor of the orphan in Paradise to two fingers. > **"I and the sponsor of the orphan shall be in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا ، جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔

13524

Majma al-Zawaid #13524

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمِلَ عَمَلًا لَا يُغْفَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever sponsors an orphan of his own or of another, and what becomes binding for him, except if he has done a deed that is not forgiven. > **"Whoever sponsors an orphan of his own or of another, Paradise becomes binding for him, unless he has done a deed that is not forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا غیر ( خاندان کے ) یتیم کی کفالت کرتا ہے ، اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ، البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہے ، جب اس نے کوئی ایسا کام کیا ہو ، جس کی مغفرت نہ ہو سکتی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے اور وہ متروک ہے ۔

13525

Majma al-Zawaid #13525

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ إِلَّا أُدْخِلُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ، إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ، وَمَنْ أُخِذَتْ كَرِيمَتَاهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ "". قِيلَ: وَمَا كَرِيمَتَاهُ؟ قَالَ: "" عَيْنَاهُ "". قَالَ: "" وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ عَلَّمَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ أَدَبَهُنَّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ: أَوِ اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: "" أَوِ اثْنَتَيْنِ» "". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا مِنْ كَرَائِمِ الْحَدِيثِ وَغُرَرِهِ. قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَنَشُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Prophet ﷺ spoke concerning any Muslim who takes an orphan among Muslims to his food and drink and his certain entry into Paradise short of an unforgivable sin, concerning one deprived of his two beloved things who bears with patience seeking reward and whose recompense is none but Paradise, explaining the two as his two eyes when asked, and concerning one who maintains three daughters, teaches and marries them, and disciplines them well. When a bedouin asked about two, the Prophet ﷺ affirmed the same. Ibn Abbas remarked that this belongs among the choicest and most precious narrations. > **"There is no Muslim who takes an orphan among Muslims to his food and drink except that he shall enter Paradise without exception, unless he commits a sin that is not forgiven. Whoever is deprived of his two beloved ones and bears with patience seeking reward shall have no reward but Paradise, meaning his two eyes. Whoever maintains three daughters, teaches them, marries them, and disciplines them well, Allah shall admit him into Paradise, and likewise two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جو بھی مسلمان شخص کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں ساتھ شامل کر لیتا ہے ، تو وہ لازمی طور پر جنت میں داخل ہو گا ، البتہ ایسی صورت میں حکم مختلف ہے ، جب اس نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ، ہو جس کی مغفرت نہ ہو سکتی ہو ، اور جس شخص کی دو پسندیدہ چیزیں لے لی جائیں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے ، اس کے لئے جنت کے علاوہ اور کوئی ثواب نہیں ہے ، عرض کی گی : اس کی دو پسندیدہ چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی دونوں آنکھیں ، نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : جو شخص تین بیٹیوں کی کفالت کرتا ہے اور ان پر خرچ کرتا ہے اور ان کی شادی کروا دیتا ہے اور ان کی اچھی تربیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا ، دیہاتیوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : اگر دو ( بیٹیاں ) ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ بہترین اور لاجواب احادیث میں سے ایک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنش بن قیس رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13526

Majma al-Zawaid #13526

وَعَنْ بِنْتٍ لِمُرَّةَ، عَنْ أَبِيهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ إِذَا اتَّقَى مَعِي فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» ". يَعْنِي الْمُسَبِّحَةَ وَالْوُسْطَى. وَقَالَ فِي طَرِيقٍ أُخْرَى: عَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتٌ لِمُرَّةَ الْفِهْرِيِّ عَنْ أَبِيهَا، وَبِنْتٍ لِمُرَّةَ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Murrah reports from her father that the Prophet ﷺ spoke concerning the sponsor of an orphan of his own or of another, when joined with piety, and his closeness to him in Paradise like two fingers, meaning the index and the middle, with a further chain through Umm Said, daughter of Murrah al-Fihri, from her father to the same effect. > **"The sponsor of an orphan of his own or of another, when he is God-fearing, shall be with me in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ اپنے ( خاندان کے ) یا کسی اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص ، جنت میں میرے ساتھ ان دو ( انگلیوں ) کی مانند ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : حضرت مرہ فہری رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام سعید رضی اللہ عنہا اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں ، حضرت مرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13527

Majma al-Zawaid #13527

وَعَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُمَحِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ مِنَ النَّاسِ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Said bint Amr ibn Murrah al-Jumahiyyah (radiya Allahu anha) reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning whoever sponsors an orphan of his own or of any other people, and his closeness to him in Paradise like two fingers. > **"Whoever sponsors an orphan of his own or of others among people, he and I shall be in Paradise like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سعید بنت عمرو بن مرہ جمحیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا لوگوں میں سے کسی اور کے یتیم کی کفالت کرتا ہے ، تو میں اور وہ شخص جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13528

Majma al-Zawaid #13528

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّا أَضْرِبُ يَتِيمِي؟ قَالَ: "" «مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَافٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ on what account he might strike his orphan ward, and the Prophet ﷺ permitted it on the same account for which he would strike his own child, provided he did not augment his own wealth through the orphan's wealth nor accumulate wealth from it. > **"Strike him for whatever you would strike your own child, without augmenting your wealth through his wealth nor accumulating wealth from his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس وجہ سے اپنے زیر پرورش یتیم کی پٹائی کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کام کی وجہ سے ، جس کی وجہ سے تم اپنی اولاد کی پٹائی کرتے ، جبکہ تم اپنے مال کو اس کے مال کے ذریعے زیادہ کرنے والے نہ ہو ، یا اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو جمع کرنے والے نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13529

Majma al-Zawaid #13529

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «كُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ» ". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الزُّهْدِ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abza (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ enjoined being toward the orphan as a merciful father, in a fuller narration found in the book of renunciation. > **"Be to the orphan like a merciful father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم یتیم کے لئے مہربان باپ کی مانند ہو جاؤ !“۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب الزہد میں مذکور ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

13530

Majma al-Zawaid #13530

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْيَتِيمُ يُمْسَحُ رَأْسُهُ هَكَذَا» ". وَوَصَفَ صَالِحٌ أَنَّهُ وَضَعَ كَفَّهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ مِمَّا يَلِي جَبْهَتَهُ، ثُمَّ أَصْعَدَهَا إِلَى وَسَطِ رَأْسِهِ، ثُمَّ أَحْدَرَهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَوْ إِلَى جَبْهَتِهِ. " وَمَنْ كَانَ لَهُ أَبٌ هَكَذَا ". وَوَصَفَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِذَا كَانَ الْغُلَامُ يَتِيمًا فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى قُدَّامَ - وَإِذَا كَانَ لَهُ أَبٌ فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى خَلْفٍ مِنْ مُقَدَّمِهِ» - ". وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَقَدْ ذَكَرُوا هَذَا مِنْ مَنَاكِيرِ حَدِيثِهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abdullah reports that the Messenger of Allah ﷺ described how the head of the orphan is to be stroked, and Salih demonstrated it by placing his palm upon the front of the head near the forehead, carrying it to the middle, then returning it to the front or the forehead, with a like manner for one who has a father. In another wording the Prophet ﷺ distinguished stroking forward for the orphaned boy and from front to back for one with a father. > **"The orphan is to have his head stroked thus, forward, and one who has a father is to have his head stroked thus, from the front backward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یتیم کے سر پر اس طرح ہاتھ پھیرا جائے گا “۔ اس کے بعد صالح نامی راوی نے یہ طریقہ کر کے دکھایا کہ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے والے حصے پر رکھی ، جو پیشانی کے قریب ہوتا ہے اور پھر وہ اُسے لے کر سر کے درمیانی حصے تک چلے گئے ، پھر وہ اسے سر کے اگلے حصے تک ، یا پیشانی تک واپس لے کے آئے ( نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) ’’ جس شخص کا باپ موجود ہو ، اُس شخص کے ساتھ اس طرح کیا جائے گا ۔‘‘ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے حصے پر پیشانی کے قریب والی جگہ پر رکھی اور پھر وہ اسے سر کے درمیانی حصے تک لے گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بچہ یتیم ہو ، تو تم اُس کے سر پر اس طرح آگے کی طرف ہاتھ پھیرو اور جب اس کا باپ موجود ہو ، تو تم اس کے سر پر اس طرح ، آگے سے پیچھے کی طرف ہاتھ پھیرو “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان ہے ، لوگوں نے اس روایت کا ذکر اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں کیا ہے ۔

13531

Majma al-Zawaid #13531

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لِلْمَمْلُوكِ عَلَى سَيِّدِهِ ثَلَاثُ خِصَالٍ: لَا يُعْجِلُهُ عَنْ صَلَاتِهِ، وَلَا يُقِيمُهُ عَنْ طَعَامِهِ، وَيُشْبِعُهُ كُلَّ الْإِشْبَاعِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْإِحْسَانُ إِلَى الْخَادِمِ فِي كِتَابِ الْعِتْقِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ concerning three claims of the slave upon his master: not to be hurried away from his prayer, not to be made to rise from his food, and to be fed to full satiety. > **"The slave has three claims upon his master: he is not hurried away from his prayer, he is not made to rise from his food, and he is fed to full satiety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ غلام کے اپنے آقا پر تین حق ہوتے ہیں ، یہ کہ نماز کے حوالے سے وہ اُسے جلدی کا شکار نہ کرے ، اور کھانا کھاتے ہوئے اسے نہ اُٹھائے اور اُسے مکمل طور پر سیر ہو کر کھانا کھلائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی عبدالصمد بن علی ہے جو ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب ’’ العتق ‘‘ میں خادم کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

13532

Majma al-Zawaid #13532

عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ الْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيُّ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Nafi ibn Abd al-Harith (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ counted among a man's felicity a righteous neighbour, a comfortable mount, and a spacious dwelling. > **"Among the felicity of a man are a righteous neighbour, a comfortable mount, and a spacious dwelling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کی سعادت مندی میں ، اچھا ہمسایہ ، عمدہ سواری اور کھلی رہائش گاہ شامل ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13533

Majma al-Zawaid #13533

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْفَعُ بِالْمُسْلِمِ الصَّالِحِ عَنْ مِائَةٍ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ جِيرَانِهِ الْبَلَاءَ» "". ثُمَّ قَرَأَ: {وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ} [البقرة: 251]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning Allah warding off tribulation from a hundred households among his neighbours on account of one righteous Muslim, then reciting that were Allah not to repel people by means of one another the earth would be corrupted. > **"Allah wards off tribulation from a hundred households among his neighbours on account of one righteous Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایک نیک آدمی کی وجہ سے ، اُس کے پڑوس میں موجود ایک سو گھرانوں سے آزمائش کو دور کر دیتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اگر اللہ تعالیٰ ، بعض لوگوں کے ذریعے بعض سے آزمائش کو پرے نہ کرے ، تو زمین میں خرابی آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے جو ضعیف ہے ۔

13534

Majma al-Zawaid #13534

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْتَمِسُوا الْجَارَ قَبْلَ الدَّارِ، وَالرَّفِيقَ قَبْلَ الطَّرِيقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ enjoined seeking the neighbour before the dwelling and the companion before the road. > **"Seek the neighbour before the house, and the companion before the road."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گھر سے پہلے پڑوسی تلاش کرو اور راستے سے پہلے رفیق سفر تلاش کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن محبر اور وہ متروک ہے ۔

13535

Majma al-Zawaid #13535

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَصَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالتَّحْدِيثِ، فَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (radiya Allahu anhu) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ enjoin the neighbour so insistently that he supposed he would grant him a share of inheritance. > **"He kept enjoining the neighbour until I supposed he would grant him a share of inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے ہوئے سنا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ اُسے وارث قرار دے دیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس میں بقیہ نامی راوی نے تحدیث کی صراحت کی ہے ، اور یہ حدیث حسن ہے ۔

13536

Majma al-Zawaid #13536

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْجِيرَانُ ثَلَاثَةٌ: جَارٌ لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ وَهُوَ أَدْنَى الْجِيرَانِ، وَجَارٌ لَهُ حَقَّانِ، وَجَارٌ لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ فَجَارٌ مُشْرِكٌ لَا رَحِمَ لَهُ، لَهُ حَقُّ الْجِوَارِ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ الْحَقَّانِ فَجَارٌ مُسْلِمٌ لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ: فَجَارٌ مُسْلِمٌ ذُو رَحِمٍ، لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ وَحَقُّ الرَّحِمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيِّ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ divided neighbours into three: one with a single right and the least among them, one with two rights, and one with three rights. The first is an idolatrous neighbour without kinship, due the right of neighbourhood; the second is a Muslim neighbour, due the right of Islam and the right of neighbourhood; and the third is a Muslim neighbour with kinship, due the right of Islam, the right of neighbourhood, and the right of kinship. > **"Neighbours are three: a neighbour with one right, a neighbour with two rights, and a neighbour with three rights. The Muslim neighbour with kinship is due the right of Islam, the right of neighbourhood, and the right of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں ، وہ پڑوی ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، اور یہ پڑوسیوں میں سب سے زیادہ کم تر ( حق والا ) ہوتا ہے ، ایک وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں ، اور ایک وہ پڑوسی ، جس کے تین حقوق ہوتے ہیں ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، تو وہ ایسا مشرک پڑوسی ہے ، جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہ ہو ، تو اس کے لئے پڑوسی کا حق ہوتا ہے ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جس کے دو حق ہوتے ہیں ، تو وہ مسلم پڑوسی ہے ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جسے تین حقوق حاصل ہوتے ہیں ، تو وہ ایسا مسلمان پڑوسی ہے ، جو رشتہ دار بھی ہو ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور رشتہ داری کا حق حاصل ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد حارثی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

13537

Majma al-Zawaid #13537

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لِلْجَارِ حَقٌّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Zayd (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ affirmed that the neighbour is due a right. > **"The neighbour is due a right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پڑوسی کو حق حاصل ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13538

Majma al-Zawaid #13538

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا بِهِ قَائِمٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً فَجَلَسْتُ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قَامَ بِكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ؟ قَالَ: "" أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of the Ansar reports that he set out with his family intending the Prophet ﷺ and found him standing with a man approaching him, so he sat aside supposing some need between them. The Messenger of Allah ﷺ remained standing so long that pity for him overcame the witness on account of the lengthy standing. When the man departed, the witness rose to him and remarked upon the other's keeping him standing, and the Prophet ﷺ asked whether he knew who he was. Upon his denial, the Prophet ﷺ identified him as Jibril, peace be upon him, who kept enjoining the neighbour until he supposed he would grant him inheritance, adding that had the witness greeted him he would have returned the greeting. > **"Do you know who this was? It was Jibril. He kept enjoining the neighbour until I supposed he would grant him a share of inheritance. Had you greeted him, he would have returned your greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ سے ملنے کے لئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نکلا ، آپ ایک جگہ کھڑے ہوئے تھے ، اور ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید انہیں کوئی ضروری کام ہے ، میں بیٹھ گیا ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ اتنی دیر کھڑے رہے کہ قیام کی طوالت کی وجہ سے مجھے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں الجھن ہونے لگی ، جب دوسرا شخص چلا گیا ، تو میں اُٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس شخص نے آپ کو اتنی دیر تک کھڑے رکھا کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے مجھے الجھن ہونے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ کون تھا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اور وہ پڑوسی کے بارے میں مسلسل مجھے تلقین کرتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دیدے گا ، اگر تم اُسے سلام کرتے ، تو اس نے تمہیں سلام کا جواب دینا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13539

Majma al-Zawaid #13539

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: «مَرَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّفَا وَاضِعًا خَدَّهُ عَلَى رَجُلٍ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا مُحَمَّدُ بْنَ مَسْلَمَةَ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ؟ "". فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِهَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا لَمْ تَفْعَلْهُ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَكَ عَنْ حَدِيثِكَ، فَمَنْ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ "". قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالَ: "" مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى كُنْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ يَأْمُرَنِي بِتَوْرِيثِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَيَّاشُ بْنُ مُوسَى السَّعْدِيُّ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَيَّاشُ بْنَ مُؤْنِسٍ، وَرَوَى عَنْهُ اثْنَانِ، فَإِنْ كَانَ هَذَا ابْنُ مُؤْنِسٍ فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Maslamah, may Allah be pleased with him, reported that he was passing by when he found the Messenger of Allah ﷺ upon al-Safa with his cheek placed close against a man, in intimate conversation. He had scarcely waited before the Messenger of Allah ﷺ called out to him, asking why he had not given greeting. Muhammad explained that he had seen the Prophet ﷺ engaged with that man in a manner he had shown to no one else, and he had disliked interrupting his conversation, then asked who the man was. The Prophet ﷺ informed him that it was Jibril, peace be upon him, and when asked what he had said, explained that he had kept enjoining the neighbour upon him until he began to expect that he would command him to grant the neighbour a share of inheritance. > **"O Muhammad ibn Maslamah, what kept you from giving greeting? It was Jibril. He kept enjoining the neighbour upon me until I expected he would command me to give him inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں گزر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ اُس وقت صفا پہاڑی پر موجود تھے ، آپ نے اپنا رخسار مبارک ایک صاحب پر رکھا ہوا تھا ( یعنی اُن کے بالکل قریب ہو کر اُن کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ) ذرا سی دیر میں نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے محمد بن مسلمہ ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اُن صاحب کے ساتھ ایسا کام کر رہے تھے ، جو آپ نے لوگوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں کیا ، تو میں نے آپ کی گفتگو کو درمیان میں منقطع کرنا مناسب نہیں سمجھا ، یا رسول اللہ ! وہ صاحب کون تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا کہہ رہے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں اس بات کا منتظر ہو گیا کہ وہ مجھے اُسے وارث قرار دینے کے بارے میں بھی کہیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن موسیٰ سعدی ہے ، ابن ابوحاتم نے عباد بن مؤنس کا ذکر کیا ہے ، اس سے دو افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اگر تو یہ ابن مؤنس ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال ثقہ ہوں گے ، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

13540

Majma al-Zawaid #13540

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ يُصَلِّيَانِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتُهُ مَعَكَ؟ قَالَ: "" وَهَلْ رَأَيْتَهُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا كَثِيرًا، هَذَا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that a man came while the Messenger of Allah ﷺ and Jibril were praying at the place where the funeral prayer is performed. The man asked the Messenger of Allah ﷺ who the man was whom he had seen with him. The Prophet ﷺ asked whether he had indeed seen him, and when he confirmed it, told him that he had seen an abundant good, for it was Jibril, who had kept enjoining the neighbour upon him until he thought that he would cause the neighbour to inherit. > **"You have seen abundant good. This was Jibril. He kept enjoining the neighbour upon me until I thought he would cause him to inherit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ، نبی اکرم ﷺ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام اُس وقت اُس جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ، جہاں نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے ؟ جسے میں آپ کے ساتھ دیکھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے بہت زیادہ بھلائی دیکھ لی ہے ، وہ جبرائیل تھے ، جو مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مبشر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13541

Majma al-Zawaid #13541

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that Jibril kept enjoining the neighbour upon him until he thought that he would cause the neighbour to inherit. > **"Jibril kept enjoining the neighbour upon me until I thought he would cause him to inherit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُس کو وارث قرار دیدیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13542

Majma al-Zawaid #13542

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Jibril kept enjoining the neighbour upon him until he thought that he would cause the neighbour to inherit. > **"Jibril kept enjoining the neighbour upon me until I thought he would cause him to inherit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُس کو وارث قرار دیدیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13543

Majma al-Zawaid #13543

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَقَدْ أَوْصَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Jibril, peace be upon him, had enjoined the neighbour upon him so emphatically that he thought he would surely cause the neighbour to inherit. > **"Jibril enjoined the neighbour upon me until I thought he would surely cause him to inherit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جبرائیل نے مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کی ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

13544

Majma al-Zawaid #13544

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: "" «أُوصِيكُمْ بِالْجَارِ» "". حَتَّى أَكْثَرَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يُوَرِّثُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ upon his camel al-Jad'a during the Farewell Pilgrimage repeatedly enjoining the neighbour, saying that he enjoined the neighbour upon them, and he repeated it so often that the narrator thought he would grant the neighbour inheritance. > **"I enjoin the neighbour upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا : حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ اپنی اونٹنی ’’ جدعاء ‘‘ پر سوار تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ میں تمہیں پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات اتنی زیادہ مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں نے یہ سوچا کہ آپ ﷺ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13545

Majma al-Zawaid #13545

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ جَارِي عَلَيَّ؟؟ قَالَ: "" «إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mu'awiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ what right his neighbour held over him. The Prophet ﷺ instructed him to visit the neighbour when ill, to accompany his funeral when he died, to lend to him when he sought a loan, to conceal his fault when he fell into need, to congratulate him when good befell him, to console him when calamity struck him, not to raise his building above his in a way that blocked the wind from him, and not to harm him with the aroma of his cooking pot unless he ladled out a portion for him from it. > **"If he falls ill, visit him; if he dies, accompany his funeral; if he seeks a loan, lend to him; if he is destitute, conceal his fault; if good befalls him, congratulate him; if calamity befalls him, console him; do not raise your building above his so as to block the wind from him; and do not harm him with the aroma of your pot unless you ladle out some of it for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ بیمار ہو جائے ، تو تم اُس کی عیادت کرو ، اگر وہ انتقال کر جائے تو تم جنازے کے ساتھ جاؤ ، اگر وہ تم سے قرض مانگے ، تو تم اُسے قرض دو ، اگر اس کی حالت خراب ہو ، تو تم اُس کی پردہ پوشی کرو ، اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو ، تو تم اُسے مبارکباد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت لاحق ہو ، تو تم اس سے تعزیت کرو ، تم اپنی تعمیر کو اس کی تعمیر سے بلند کر کے اس کی ہوا کو بند نہ کر دو ، اور تم اپنی ہنڈیا کی بو کے ذریعے اسے اذیت نہ پہنچاؤ ، البتہ اگر تم اپنے سالن ( یا اس ہنڈیا ) میں سے کچھ اُسے دے دو ، تو حکم مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13546

Majma al-Zawaid #13546

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا طَبَخَ أَحَدُكُمْ قِدْرًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَهَا، ثُمَّ لِيُنَاوِلْ جَارَهُ مِنْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of them cooked a pot, he should increase its broth and then pass a portion of it to his neighbour. > **"When one of you cooks a pot, let him increase its broth and then give some of it to his neighbour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص ہنڈیا پکائے ، تو اس میں شوربہ زیادہ کر لے اور پھر اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی دیدے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13547

Majma al-Zawaid #13547

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «كُنْتُ مَرَّةً فِي أَرْضٍ قَطَعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي سَلَمَةَ وَالزُّبَيْرِ مِنْ أَرْضِ النَّضِيرِ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَذَبَحَ شَاةً فَطُبِخَتْ، فَوَجَدْتُ رِيحَهَا فَدَخَلَنِي مِنْ رِيحِ اللَّحْمِ مَا لَمْ يَدْخُلْنِي مِنْ شَيْءٍ قَطُّ، وَأَنَا حَامِلٌ بِابْنَةٍ لِي تُدْعَى خَدِيجَةَ، فَلَمْ أَصْبِرْ، فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقْتَبِسُ مِنْهَا نَارًا لَعَلَّهَا تُطْعِمُنِي، وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ إِلَى النَّارِ، فَلَمَّا شَمَمْتُ رِيحَهُ وَرَأَيْتُهُ ازْدَدْتُ شَرَهًا، فَأَطْفَأْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ الثَّانِيَةَ أَقْتَبِسُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَعَدْتُ أَبْكِي وَأَدْعُو اللَّهَ، فَجَاءَ زَوْجُ الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ: أَدَخَلَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ؟ قَالَتْ: لَا إِلَّا الْعَرَبِيَّةُ دَخَلَتْ تَقْتَبِسُ نَارًا. قَالَ: فَلَا آكُلُ مِنْهَا أَبَدًا أَوْ تُرْسِلِي إِلَيْهَا مِنْهَا. فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِقُدْحَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ تِلْكَ الْأَكْلَةِ». قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: الْقُدْحَةُ: الْغَرْفَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reported that she was once upon land which the Prophet ﷺ had granted to Abu Salamah and al-Zubayr from the land of Banu al-Nadir. Al-Zubayr had gone out with the Messenger of Allah ﷺ, and they had a Jewish neighbour who slaughtered a sheep and cooked it. She caught its aroma, and the craving stirred by the smell of meat seized her as nothing else ever had, while she was pregnant with her daughter called Khadijah. Unable to restrain herself, she went to the man's wife to borrow fire, hoping thereby to be given food, though she had no need of fire. When she smelled it again and saw the meat, her craving intensified. She extinguished the fire she had taken, then returned a second time for the same purpose, then a third. When she saw her state, she sat down weeping and supplicating Allah. The Jewish woman's husband then came and asked whether anyone had visited, and his wife replied that only the Arab woman had come seeking fire. He vowed he would never eat of it unless she sent some of it to her, so she sent a ladleful, a bowlful, to Asma, and at that moment no food on earth was more beloved to her than that meal. > **"I shall never eat of it unless you send some of it to her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں ایک ایسی جگہ پر موجود تھی ، جو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی ، وہ نضیر قبیلے کی زمین تھی ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گئے ہوئے تھے ، ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، اس نے بکری ذبح کی اور اس کا گوشت پکایا ، مجھے اس کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو گوشت کی بو کی وجہ سے میری وہ حالت ہو گئی ، جو اور کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی ، میں اس وقت اپنی اس بیٹی کے حوالے سے حاملہ تھی ، جس کا نام خدیجہ ہے ، مجھ سے صبر نہیں ہوا ، میں گی اور اس شخص کی بیوی سے میں نے آگ مانگی ، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھانے کے لیے دیدے گی ، مجھے آگ کی ضرورت نہیں تھی ، جب میں نے گوشت کی بو دوبارہ سونگھی اور اسے دیکھا ، تو میری حالت اور زیادہ خراب ہو گئی ، میں نے اس آگ کو بجھایا اور دوسری مرتبہ اس سے آگ لینے کے لئے گئی ، چند مرتبہ ایسا ہوا ، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں بیٹھ کر رونے لگی ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگی ، جب اس عورت کا شوہر گھر آیا ، تو اس نے کہا : کیا تمہارے ہاں کوئی آیا تھا ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ ایک عربی عورت آئی تھی ، جو آگ لینے کے لئے آئی تھی ، تو اس شخص نے کہا : میں اس گوشت کو اُس وقت تک نہیں کھاؤں گا ، جب تک تم اس میں سے کچھ اُس عورت کو نہیں بھجواؤ گی ، تو اس عورت نے مجھے ایک پیالا بھیجا ، اُس وقت میرے نزدیک روئے زمین کی کوئی چیز اس کھانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھی ۔ ابن بکیر بیان کرتے ہیں : لفظ قدحہ کا مطلب سالن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

13548

Majma al-Zawaid #13548

وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَكُونُ لِي جَارَانِ أَحَدُهُمَا بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِي، وَالْآخَرُ شَاسِعٌ عَنْ بَابِي وَهُوَ أَقْرَبُ فِي الْجُدُرِ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ابْدَئِي بِالَّذِي بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِكِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah, Mother of the Believers, may Allah be pleased with her, reported that she asked the Messenger of Allah ﷺ about her two neighbours, one whose door faced her own door and another whose door lay farther from hers though his wall was nearer, asking with which she should begin. The Messenger of Allah ﷺ instructed her to begin with the one whose door faced her own door. > **"Begin with the one whose door faces your door."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ، ان دونوں میں سے ایک کا دروازہ میرے دروازے کے بالکل سامنے ہے ، اور دوسرے کا دروازہ میرے دروازے سے کچھ ہٹ کے ہے ، لیکن اُس کی دیوار زیادہ قریب ہے ، تو مجھے اُن دونوں میں سے کس سے آغاز کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُس سے آغاز کرو ! جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے بالکل سامنے ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ امام احمد کے اور معجم اوسط میں امام طبرانی کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہیں اور وہ متروک ہے ۔