Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 3

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13469–13508

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13469

Majma al-Zawaid #13469

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَتْ قُرَيْشًا أَزْمَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الرِّمَّةَ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَدٌ أَيْسَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، «فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ: "" يَا عَمِّ، إِنَّ أَخَاكَ أَبَا طَالِبٍ قَدْ عَلِمْتَ كَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَقَدْ أَصَابَ قُرَيْشًا مَا تَرَى، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَحْمِلَ عَنْهُ بَعْضَ عِيَالِهِ "". فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَا: يَا أَبَا طَالِبٍ، إِنَّ حَالَ قَوْمِكَ مَا قَدْ تَرَى، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، وَقَدْ جِئْنَا لِنَحْمِلَ عَنْكَ بَعْضَ عِيَالِكَ. فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: دَعَا لِي عَقِيلًا وَافْعَلَا مَا أَحْبَبْتُمَا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا، وَأَخَذَ الْعَبَّاسُ جَعْفَرًا، فَلَمْ يَزَالَا مَعَهُمَا حَتَّى اسْتَغْنَيَا. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: وَلَمْ يَزَلْ جَعْفَرٌ مَعَ الْعَبَّاسِ حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مُهَاجِرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that Quraysh were struck by a severe famine until they ate worn-out bones, and none among Quraysh were more comfortable than the Messenger of Allah ﷺ and Abbas ibn Abd al-Muttalib. The Messenger of Allah ﷺ therefore proposed to Abbas that they go to Abu Talib, whose dependents were many, and take over some of his household. Both went to him and asked to relieve him of some of his dependents, and Abu Talib told them to leave Aqil for him and do as they wished with the rest. So the Messenger of Allah ﷺ took Ali and Abbas took Jafar, and both boys remained with them until they became independent. Sulayman ibn Dawud added that Jafar remained with Abbas until he emigrated to the land of Abyssinia. > **"O uncle, your brother Abu Talib has many dependents, and Quraysh has been struck by what you see, so come with me to him so that we may take over some of his dependents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش کو شدید قحط سالی لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ ہڈی کے ساتھ لگے ہوئے ( چھچھڑے ) بھی کھانے لگے ، اس وقت قریش میں کوئی بھی نبی اکرم ﷺ اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوشحال نہیں تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ اے چچا جان ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بھائی جناب ابوطالب کے بال بچے زیادہ ہیں اور قریش کو جو صورت حال لاحق ہوئی ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، آپ ہمارے ساتھ ان کے پاس چلیں ، تاکہ ہم ان کے اہل خانہ میں سے کچھ کا ذمہ اپنے ذمے لے لیں ، تو یہ دونوں جناب ابوطالب کے پاس گئے ، اُن دونوں نے کہا : اے ابوطالب ! آپ کی قوم کو اس صورت حال کا سامنا ہے جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ بھی ان میں سے ایک ہیں ، ہم اس لئے آئے ہیں کہ تاکہ آپ کے اہل خانہ میں سے بعض کا ذمہ خود لے لیں ، تو جناب ابوطالب نے کہا : تم عقیل کو میرے لئے رہنے دو اور باقی جو تم دونوں پسند کرو ، تو کر لو ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لے لیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو لے لیا ، یہ دونوں مسلسل اسی طرح رہے ، یہاں تک کہ یہ دونوں بے نیاز ہو گئے ۔‘‘ سلیمان بن داؤد بیان کرتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے جانے تک مسلسل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13470

Majma al-Zawaid #13470

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْتِقَ هَذَا الْغُلَامَ. قَالَ: "" «أَعْطِهِ خَالَكِ الَّذِي فِي الْأَعْرَابِ يَرْعَى عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (radiya Allahu anhu) reports that Juwayriyah (radiya Allahu anha) told the Prophet ﷺ that she wished to free a certain slave boy, and the Prophet ﷺ instructed her instead to confer him upon a maternal uncle of hers among the bedouins who would put him to work, explaining that this would be greater for her reward. > **"Give him to your uncle among the bedouins, who will put him to pasture work, for that will be greater for your reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میں یہ چاہتی ہوں کہ میں یہ غلام آزاد کر دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم یہ اپنے اُس ماموں کو دیدو جو دیہات میں رہتا ہے ، یہ اُس کے کام کاج کر دے گا ، یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13471

Majma al-Zawaid #13471

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونِي، وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونِي، وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ، أَفَأُكَافِئُهُمْ؟ قَالَ: "" [لَا] إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا، وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مَلَكٌ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (radiya Allahu anhuma) reports that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and complained that he had relatives toward whom he maintained ties while they severed him, he pardoned while they wronged him, and he did good while they did evil, and he asked whether he should requite them in kind. The Prophet ﷺ forbade that course, warned of abandonment for all together, and enjoined excellence and continued kinship, giving glad tidings of a supporting angel from Allah remaining with him so long as he persisted. > **"No, for then you would all be abandoned together. Rather take to excellence and maintain ties with them, for there shall remain with you a supporting angel from Allah, Mighty and Majestic, so long as you remain upon that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں ، جن کے ساتھ میں اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، میں درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، میں اچھائی کرتا ہوں اور وہ برائی کرتے ہیں ، تو کیا میں انہیں ان کا بدلہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی نہیں ! ایسی صورت میں تم سب لوگوں کو چھوڑا جائے گا ، البتہ تم اضافی چیز وصول کر لو اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، تمہارے ساتھ مسلسل ایک فرشتہ رہے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مددگار ہو گا ، جب تک تم ایسا کرتے رہو گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13472

Majma al-Zawaid #13472

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَامِ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (radiya Allahu anhu) reports that his close friend ﷺ enjoined him not to let the blame of any blamer overtake him concerning Allah, and further enjoined him to maintain kinship even if the relative turns his back, within a longer narration which the narrator then recounted in full. > **"Let not the blame of any blamer seize you concerning Allah, and maintain your ties of kinship even if the other turns away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ﷺ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ ( دوسرا رشتہ دار ) پیٹھ پھیر رہا ہو ........۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن منذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13473

Majma al-Zawaid #13473

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ "". قَالُوا: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: "" تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ mentioned three qualities found in a man for whom Allah would decree an easy reckoning and admit him into Paradise by His mercy. When those present asked what they were, offering their fathers and mothers as ransom, the Prophet ﷺ identified them as giving, joining, and pardoning, and promised Paradise by His mercy for whoever acted upon them. > **"You give to whoever deprived you, you join whoever severed you, and you pardon whoever wronged you, and when you do that, He will admit you into Paradise by His mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت کے ذریعے اسے جنت میں داخل کر دے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تمہیں محروم رکھے تم اُسے دو ! جو شخص قطع رحمی کرے ، تم اُس کے ساتھ صلہ رحم کرو ، اور جو شخص تمہارے ساتھ. زیادتی کرے ، تو اس سے درگزر کرو ، جب تم ایسا کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13474

Majma al-Zawaid #13474

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ ذِي رَحِمٍ يَأْتِي ذَا رَحِمَهُ، فَيَسْأَلُهُ فَضْلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَيَبْخَلُ عَلَيْهِ، إِلَّا أَخْرَجَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَهَنَّمَ حَيَّةً يُقَالُ لَهَا: شُجَاعٌ يَتَلَحَّظُ، فَيُطَوَّقُ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir ibn Abdullah al-Bajali (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ warned concerning any kinsman who comes to his kinsman and asks him for surplus wealth which Allah has granted him, only for the latter to withhold it out of miserliness, and what Allah would bring forth for him on the Day of Resurrection from Hell as a coiling serpent called Shuja that would be placed about his neck. > **"There is no kinsman who comes to his kinsman and asks him for surplus which Allah has granted him, and he withholds it from him out of miserliness, except that Allah will bring forth for him on the Day of Resurrection a serpent from Hell called Shuja, coiling and watchful, with which he shall be collared."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص اپنے کسی رشتے دار کے پاس آئے اور اس سے اضافی چیز مانگے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس دوسرے شخص کو عطا کی ہوئی ہو اور وہ شخص اُس کے حوالے سے بخل سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس ( بخل کرنے والے ) شخص کے لئے جہنم میں سے ایک سانپ نکالے گا ، جس کا نام ’’ شجاع ‘‘ ہو گا اور وہ سانپ تنگ ہو گا ( یعنی بل کھا کر سمٹے گا ) اور وہ اس شخص کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13475

Majma al-Zawaid #13475

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَمَنَعَهُ، مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الْبُيُوعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقِرْدَوْسِيُّ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ warned concerning any man to whom his paternal cousin comes asking for surplus and he refuses him, and what Allah would withhold from him on the Day of Resurrection, in a fuller narration found in the book of transactions. > **"Any man to whom his cousin comes asking him from his surplus and he withholds it from him, Allah will withhold His bounty from him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد آئے اور اس سے کوئی اضافی چیز مانگے اور وہ شخص اسے نہ دے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا فضل اُس ( نہ دینے والے ) سے روک لے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب البیوع میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن قردوسی ہے ، جسے ازدی نے اس حدیث کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13476

Majma al-Zawaid #13476

عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ لِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا عَمِّ، وَلَدُكَ قَوْمٌ لُجَجٌ وَخَيْرُهُمْ لِلْأَبْعَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ، وَلَا يَصِحُّ.

EnglishUnverified translation

Abbas (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed him concerning his children, describing their character and noting for whom their goodness is greatest. > **"O uncle, your children are a disputatious people, and the best of them is for the most distant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے چچا آپ کی اولاد ! کھلے دل کے لوگ ہیں ، اور وہ دور کے فرد کے لئے ( سب لوگوں سے ) زیادہ بہتر ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں مجہول راوی ہیں اور یہ روایت مستند نہیں ہے ۔

13477

Majma al-Zawaid #13477

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِكُلِّ شَجَرَةٍ ثَمَرَةٌ، وَثَمَرَةُ الْقَلْبِ الْوَلَدُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْحَمُ مَنْ لَا يَرْحَمُ وَلَدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا رَحِيمٌ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا يَرْحَمُ. قَالَ: "" لَيْسَ رَحْمَتُهُ أَنْ يَرْحَمَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا الرَّحْمَةُ أَنْ يَرْحَمَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ: حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا، وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُ هَذِهِ الْحِكَايَةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ concerning every tree having fruit and the fruit of the heart being the child, concerning mercy toward one's child, an oath by Him in Whose Hand is his soul that none but the merciful shall enter Paradise, and, when those present said that each of them showed mercy, a clarification that mercy here means mercy toward people at large rather than merely toward one's companion. > **"Every tree has its fruit, and the fruit of the heart is the child. Allah does not show mercy to whoever does not show mercy to his child. By Him in Whose Hand is my soul, none shall enter Paradise except the merciful. Mercy is not that one of you shows mercy to his companion; rather mercy is that he shows mercy to people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل ، اولاد ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا ، جو اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں صرف رحم کرنے والا شخص داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک شخص رحم کرتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس رحمت یہ مراد نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی پر رحم کرے ، بلکہ رحمت سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگوں پر رحم کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، صدقہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ابومہدی سعید بن سنان ، جو اہل حمص کے مؤذن ہیں ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ثقہ اور پسندیدہ فرد ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس حکایت کی سند مستند نہیں ہے ۔

13478

Majma al-Zawaid #13478

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْوَلَدُ ثَمَرَةُ الْقَلْبِ، وَإِنَّهُ مَجْبَنَةٌ مَبْخَلَةٌ مَحْزَنَةٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ concerning the child as the fruit of the heart and its effect of rendering a man cowardly, miserly, and sorrowful. > **"The child is the fruit of the heart, and indeed it renders one cowardly, miserly, and sorrowful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اولاد ، دل کا پھل ہوتی ہے اور یہ آدمی کو کمزور کنجوس اور غمگین ( پریشان ) کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13479

Majma al-Zawaid #13479

عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ كِنْدَةَ، فَقَالَ لِي: "" هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ؟ "". قُلْتُ: غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مُخْرَجِي إِلَيْكَ مِنَ ابْنَةِ جَمَدٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ مَكَانَهُ شِبَعَ الْقَوْمِ. قَالَ: "" لَا تَقُلْ ذَاكَ، فَإِنَّهُ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ، وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا، ثُمَّ لَئِنْ قُلْتُ ذَلِكَ إِنَّهُ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ، إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ashath ibn Qays (radiya Allahu anhu) reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ among the delegation of Kindah, and the Prophet ﷺ asked him whether he had children. He replied that a son had been born to him from the daughter of Jamad while he was setting out, and that he would have preferred enough to feed the people to satiety in his place. The Prophet ﷺ forbade him that remark, affirmed the coolness of the eye and the reward when children are taken, and then repeated that children render one cowardly and sorrowful. > **"Do not say that, for among them is coolness of the eye and reward when they are taken. Yet if you say that, they do render one cowardly and sorrowful; indeed they render one cowardly and sorrowful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ’’ کندہ ‘‘ کے وفد کے ہمراہ حاضر ہوا ، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ میں نے عرض کی : جب میں آپ کی طرف نکل کر آنے والا تھا ، تو اس وقت میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ، جو جمد کی صاحبزادی سے ہوا ہے ، میری یہ خواہش تھی کہ اس کی جگہ مجھے یہ چیز مل جاتی ہے کہ میں لوگوں کو سیر ہو کے کھانا کھلا سکتا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو ، اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور اگر اولاد کا انتقال ہو جائے تو اجر بھی ہوتا ہے ، تم یہ بات کہتے ہو ، اولاد تو آدمی کو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ، اولاد تو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13480

Majma al-Zawaid #13480

وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَخَذَ حَسَنًا فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "" «إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْهَلَةٌ مَجْبَنَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad ibn Khalaf (radiya Allahu anhu) reports from the Prophet ﷺ that he took Hasan, kissed him, then turned to those present and described the effect of children upon a man. > **"Indeed the child renders one miserly, ignorant, and cowardly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن خلف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) آپ ﷺ نے انہیں پکڑ کر انہیں بوسہ دیا ، پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اولاد کنجوس ، سخت اور بزدل کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13481

Majma al-Zawaid #13481

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَخَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي عُنُقِهِ خِرْقَةٌ يَجُرُّهَا، فَعَثَرَ فِيهَا فَسَقَطَ عَلَى وَجْهِهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِنْبَرِ يُرِيدُهُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَخَذُوا الصَّبِيَّ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ وَحَمَلَهُ فَقَالَ: "" قَاتَلَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ، إِنَّ الْوَلَدَ فِتْنَةٌ، وَاللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنِّي نَزَلْتُ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ حَسَنٍ، وَلَمْ يَنْسُبْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَارُودِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (radiya Allahu anhuma) reports that he saw the Messenger of Allah ﷺ delivering the sermon upon the pulpit when Husayn ibn Ali (radiya Allahu anhu) came out with a cloth about his neck which he was dragging, tripped over it, and fell upon his face. The Prophet ﷺ therefore descended from the pulpit toward him, and when the people saw this they seized the boy and brought him to him. He took him up, carried him, invoked Allah against Satan, described the child as a trial, and swore that he had not realized his descent until the boy was brought to him. > **"May Allah destroy Satan. Indeed the child is a trial. By Allah, by Allah, I did not realize that I had descended from the pulpit until he was brought to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر دیکھا آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ آئے ، ان کی گردن میں ایک کپڑا تھا جسے وہ کھینچ رہے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں ٹھوکر لگی اور وہ گر گئے ، تو نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اُتر کر ان کی طرف جانے لگے ، جب لوگوں نے یہ صورت حال ملاحظہ کی تو انہوں نے بچے کو پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں لیا اور گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ شیطان کو برباد کرے ! اولاد آزمائش ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! میں یہی بات جانتا ہوں ، میں منبر سے نیچے اترا ، یہاں تک اسے لے آیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا اور اس کے حوالے سے اسے عبداللہ بن علی جارودی سے نقل کیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13482

Majma al-Zawaid #13482

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا وُلِدَ فِي أَهْلِ بَيْتٍ غُلَامٌ إِلَّا أَصْبَحَ فِيهِمْ عِزٌّ لَمْ يَكُنْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ صَالِحٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning a boy born within a household and the honour that settles among them which had not been there before. > **"No boy is born within a household except that honour settles among them which had not been there."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس بھی گھرانے میں لڑکا پیدا ہوتا ہے ، تو ان کے درمیان ایسا غلبہ آ جاتا ہے ، جو پہلے نہیں تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن صالح ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔

13483

Majma al-Zawaid #13483

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا وُلِدَتِ الْجَارِيَةُ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا مَلَكًا يَزُفُّ الْبَرَكَةَ زَفًّا، يَقُولُ: ضَعِيفَةٌ خَرَجَتْ مِنْ ضَعِيفَةٍ، الْقَيِّمُ عَلَيْهَا مُعَانٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا وُلِدَ الْغُلَامُ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ فَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ: اللَّهُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرٍ لَمْ يَنْسُبْهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ described what Allah sends at the birth of a girl and of a boy: an angel conveying blessing and announcing the weak come forth from the weak with aid for her guardian until the Day of Resurrection, and an angel from heaven kissing the boy between his eyes and conveying the greeting of Allah. > **"When a girl is born, Allah sends an angel to her conveying blessing in abundance, saying: a weak one come forth from a weak one; her guardian shall be aided until the Day of Resurrection. And when a boy is born, Allah sends an angel to him from heaven who kisses him between his eyes and says: Allah conveys His greeting to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بچی پیدا ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو برکت ڈالتا ہے اور یہ کہتا ہے : ایک کمزور وجود ، جو ایک کمزور وجود میں سے نکلا ہے ، اس کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کی قیامت تک مدد کی جائے گی ، جب بچہ پیدا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف سے ، اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے ، وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیتا ہے اور یہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام کہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کا اسم منسوب نہیں کیا ، اس کے حوالے سے یہ عبداللہ بن سلیمان مصری کے حوالے سے منقول ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13484

Majma al-Zawaid #13484

وَعَنْ نُبَيْطٍ - يَعْنِي ابْنَ شَرِيطٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا وُلِدَ لِلرَّجُلٍ ابْنَةٌ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً يَقُولُونَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، يَكْسُونَهَا بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيَمْسَحُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى رَأْسِهَا وَيَقُولُونَ: ضَعِيفَةٌ خَرَجَتْ مِنْ ضَعِيفَةٍ، الْقَيِّمُ عَلَيْهَا مُعَانٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Nubayt ibn Sharith (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ described what Allah sends when a daughter is born to a man: angels greeting the household, shading her with their wings, passing their hands over her head, and announcing the weak come forth from the weak with aid for her guardian until the Day of Resurrection. > **"When a daughter is born to a man, Allah sends angels saying: peace be upon you, O people of the house. They shade her with their wings and pass their hands over her head, saying: a weak one come forth from a weak one; her guardian shall be aided until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نبیط ، یعنی حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیجتا ہے ، جو یہ کہتے ہیں : تم پر سلام ہو ! اے اس گھر والو ! پھر وہ لوگ اُس بچی کو اپنے پروں کے ذریعے ڈھانپ لیتے ہیں ، اور اپنے ہاتھ اس کے سر پر پھیرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : ایک کمزور وجود جو ایک کمزور وجود سے نکلا ہے ، اس کی دیکھ بھال کرنے والے کی قیامت کے دن تک مدد ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13485

Majma al-Zawaid #13485

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَكْرَهُوا الْبَنَاتَ، فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade hatred of daughters and described them as affectionate and precious. > **"Do not hate daughters, for they are affectionate and precious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو ! کیونکہ وہ محبت رکھنے والی اور ( بہت ) قیمتی ہوتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13486

Majma al-Zawaid #13486

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبَّلَ حَسَنًا، فَقَالَ لَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشْرٌ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Saib ibn Yazid (radiya Allahu anhu) reports that the Prophet ﷺ kissed Hasan, whereupon al-Aqra ibn Habis remarked that ten children had been born to him and he had never kissed any of them, and the Prophet ﷺ answered concerning Allah's mercy toward whoever shows no mercy to people. > **"Allah does not show mercy to whoever does not show mercy to people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا ، اقرع بن حابس نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میرے دس بچے ہیں ، میں نے اُن میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13487

Majma al-Zawaid #13487

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" «إِذَا نَظَرَ الْوَالِدُ إِلَى وَلَدِهِ فَسَرَّهُ، كَانَ لِلْوَالِدِ عِتْقُ نَسَمَةٍ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ نَظَرَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ نَظْرَةً؟ قَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning a father who looks at his child with delight and the reward of freeing a soul recorded for him. When asked whether this applied even to three hundred and sixty looks, the Prophet ﷺ magnified Allah in reply. > **"When a father looks at his child and it delights him, there is for the father the freeing of a soul. Allah is Greatest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب والد اپنی اولاد کی طرف دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے ، تو والد کو ایک جان ( یعنی غلام یا کنیز ) آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! اگر وہ تین سو ساٹھ مرتبہ دیکھے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ بات کہی ہے : کہ یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13488

Majma al-Zawaid #13488

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «رِيحُ الْوَلَدِ مِنْ رِيحِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ described the scent of a child as being from the scent of Paradise. > **"The fragrance of the child is from the fragrance of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اولاد کی خوشبو ، جنت کی خوشبو کا حصہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عثمان بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ راوی ضعیف ہے ۔

13489

Majma al-Zawaid #13489

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ فَقَبَّلَهُ وَأَجْلَسَهُ عَلَى فَخِذِهِ، وَجَاءَتْهُ بَنِيَّةٌ لَهُ فَأَجْلَسَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا سَوَّيْتَ بَيْنَهُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَلَمْ يُسَمِّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu anhu) reports that a man sat with the Prophet ﷺ when a son of his came, so he kissed him and seated him upon his thigh, and then a daughter of his came and he seated her before him, whereupon the Messenger of Allah ﷺ asked him why he had not treated them equally. > **"Why have you not treated them both equally?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اس کا بیٹا اس کے پاس آیا ، اس شخص نے اس کو بوسہ دیا اور اسے اپنے زانوں پر بٹھا لیا ، پھر اس کی بیٹی اس کے پاس آئی ، تو اُس شخص نے اسے اپنے آگے بٹھا لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم نے ان دونوں کے درمیان برابری کیوں نہیں رکھی ؟“۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ہمارے بعض اصحاب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے اس راوی کا نام بیان نہیں کیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13490

Majma al-Zawaid #13490

عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: بَلَى يَا أُمَّهْ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا حَتَّى يُغْنِيَهُمَا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ أَوْ يَكْفِيَهُمَا، كَانَتَا سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Muttalib ibn Abdullah al-Makhzumi reports that he visited Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ (radiya Allahu anha), who offered to narrate what she had heard from the Messenger of Allah ﷺ. When he assented, she related his words concerning whoever spends upon two daughters, two sisters, or two female relatives, seeking reward, until Allah enriches them from His bounty or suffices them, and what the two would become for him against the Fire. > **"Whoever spends upon two daughters, two sisters, or two female relatives, seeking reward for his spending upon them, until Allah enriches them from His bounty or suffices them, they shall be a veil for him from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطلب بن عبداللہ مخزومی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، میں نے عرض کی : اے امی جان ! جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دو بیٹیوں ، یا دو بہنوں ، یا دو رشتے دار خواتین پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ اُن پر خرچ کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ، اور اس وقت تک خرچ کرتا رہتا ہے ، جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ، وہ دونوں ( لڑکیاں ) بے نیاز نہیں ہو جاتی ہیں ، یا اُن دونوں کی کفایت نہیں ہو جاتی ، تو وہ دونوں خواتین اُس شخص کے لئے جہنم سے بچاؤ کے لئے رکاوٹ بن جائیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13491

Majma al-Zawaid #13491

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ وَيَرْحَمُهُنَّ وَيَكْفُلُهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ أَلْبَتَّةَ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتِ اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: "" وَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ "". قَالَ: فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ لَوْ قَالَ: وَاحِدَةً، لَقَالَ: "" وَاحِدَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: "" وَيُزَوِّجُهُنَّ "". مِنْ طُرُقٍ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (radiya Allahu anhuma) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever has three daughters whom he shelters, treats mercifully, and maintains, and what becomes binding for him without exception. When asked about two, the Prophet ﷺ affirmed the same, and some of the people present judged that had one been asked about, he would likewise have affirmed it. In another wording the marrying off of them is added. > **"Whoever has three daughters whom he shelters, treats mercifully, maintains, and marries off, Paradise becomes binding for him without exception, and likewise if they are two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں ، جنہیں وہ پناہ دے ، اُن پر رحم کرے ان کی کفالت کرے ، تو اس شخص کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر دو ہوں ، تو بھی یہی ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : حاضرین کا یہ خیال تھا کہ اگر وہ شخص یہ سوال کرتا کہ اگر ایک ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرما دینا تھا کہ اگر ایک ہو ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اور وہ ان کی شادی کروا دے ۔‘‘ یہ مختلف طرق کے ساتھ منقول ہے ، امام احمد کی سند عمدہ ہے ۔

13492

Majma al-Zawaid #13492

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا [مَا صَحِبَتَاهُ] دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" ابْنَتَانِ "". بَدَلَ: "" أُخْتَانِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ concerning whoever has two sisters and keeps excellent companionship with them for as long as they remain with him, and what the two become as a means for him into Paradise. > **"Whoever has two sisters and keeps excellent companionship with them for as long as they remain with him, he shall enter Paradise through them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس کی دو بہنیں ہوں ، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، جب تک وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں ، تو وہ ان دونوں کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ’’ دو بہنوں ‘‘ کی جگہ ’’ دو بیٹیوں ‘‘ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13493

Majma al-Zawaid #13493

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ ذُو قَرَابَةٍ أَوْ لَا قَرَابَةَ لَهُ فَأَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ إِصْبَعَيْهِ - وَمَنْ سَعَى عَلَى ثَلَاثِ بَنَاتٍ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَكَانَ لَهُ كَأَجْرِ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَائِمًا قَائِمًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever sponsors an orphan, whether related or unrelated, and his closeness to him in Paradise with his two fingers joined, and concerning whoever strives upon three daughters and his place in Paradise with the reward of a striving, fasting, standing warrior in the path of Allah. > **"Whoever sponsors an orphan, whether related or unrelated, he and I shall be in Paradise like these two, and whoever strives upon three daughters shall be in Paradise, with for him the reward of a warrior in the path of Allah, fasting and standing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی یتیم کی کفالت کرے ، خواہ وہ رشتے دار ہو یا رشتے دار نہ ہو ، تو جنت میں ، میں اور وہ ( ان دو انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا : ) جو شخص تین بیٹیوں کو پالتا پوستا ہے ، وہ جنت میں جائے گا اور اسے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے اور قیام کرنے والے مجاہد کے اجر کی مانند اجر ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

13494

Majma al-Zawaid #13494

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَبْلُغْنَ أَوْ يَمُتْنَ، إِلَّا كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَوِ اثْنَتَانِ؟ قَالَ: " وَثِنْتَانِ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning any Muslim with three daughters upon whom he spends until they come of age or pass away, and what they become for him against the Fire. When a woman asked about two, the Prophet ﷺ affirmed the same. > **"There is no Muslim with three daughters upon whom he spends until they come of age or pass away, except that they shall be a veil for him from the Fire, and likewise two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس بھی مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر خرچ کرے ، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں ، یا انتقال کر جائیں ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گی ، ایک خاتون نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13495

Majma al-Zawaid #13495

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ يَعُولُهُنَّ حَتَّى يَبْلُغْنَ، إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا» "". وَجَمَعَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى. قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning any of his community with three daughters or three sisters whom he maintains until they come of age, and his companionship with him in Paradise, joining his index and middle fingers in illustration. > **"There is none of my community with three daughters or three sisters whom he maintains until they come of age, except that he shall be with me in Paradise like this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے جس بھی فرد کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں ، اور وہ اُن کی کفالت کرے ، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں ، تو وہ شخص جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ بات مذکور ہے :” جو شخص دو لڑکیوں کی کفالت کرے .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13496

Majma al-Zawaid #13496

وَعَنْ أَبِي الْمُحَبَّرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ خَالَتَيْنِ أَوْ عَمَّتَيْنِ أَوْ جَدَّتَيْنِ فَهُوَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالَّتِي إِلَى جَنْبَهَا - فَإِنْ كُنَّ ثَلَاثًا فَهُوَ مُفْرَحٌ، وَإِنْ كُنَّ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَيَا عِبَادَ اللَّهِ أَدْرِكُوهُ أَقْرِضُوهُ ضَارِبُوهُ ضَارِبُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Muhabbirah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever maintains two daughters, two sisters, two maternal aunts, two paternal aunts, or two grandmothers, and his companionship with him in Paradise like two joined fingers, joining his index and its neighbour in illustration. He then described the burden when they are three, and urged the servants of Allah to reach such a man with loans and partnership when they are four or five, repeating the call to partnership. > **"Whoever maintains two daughters, two sisters, two maternal aunts, two paternal aunts, or two grandmothers, he shall be with me in Paradise like these two. If they are three, then he is gladdened yet burdened, and if they are four or five, then O servants of Allah, reach him, advance him loans, and enter partnership with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحبرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دو بیٹیوں ، یا دو بہنوں ، یا دو خالاؤں ، یا دو پھوپھیوں ، یا دو دادیوں ( یا دو نانیوں ) کی کفالت کرتا ہے ، تو وہ میرے ساتھ جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہو گا ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر مزید ارشاد فرمایا : ) ’’ اگر وہ تین ہوں ، تو وہ شخص قرض کے بوجھ تلے آ جائے گا اور اگر وہ چار یا پانچ ہوں ، تو اے اللہ کے بندو ! اس تک جاؤ ، اسے قرض دو ، اس کے ساتھ مضاربت کرو ، اس کے ساتھ مضاربت کرو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13497

Majma al-Zawaid #13497

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَانَتْ لَهُ ابْنَةٌ فَأَدَّبَهَا وَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، وَعَلَّمَهَا وَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَوْسَعَ عَلَيْهَا مِنْ نِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَوْسَعَ عَلَيْهِ، كَانَتْ لَهُ مَنَعَةً وَسِتْرًا مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (radiya Allahu anhu) reports that he heard the Prophet ﷺ speak concerning whoever has a daughter and disciplines her well, teaches her well, and bestows upon her amply from the blessings Allah has bestowed upon him, and what she becomes for him against the Fire. > **"Whoever has a daughter and disciplines her, disciplines her well, teaches her, teaches her well, and bestows upon her amply from the blessings of Allah which He has bestowed upon him, she shall be a protection and a veil for him from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کی ایک بیٹی ہو ، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے ، اُسے تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے ، اور اُس کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کشادگی سے دے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو عطا کی ہوئی ہوں ، تو وہ بچی اس شخص کے لئے جہنم سے رکاوٹ اور بچاؤ کا باعث بن جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

13498

Majma al-Zawaid #13498

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَعَالَهُنَّ وَآوَاهُنَّ وَكَفَّهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "". قُلْنَا: وَبِنْتَيْنِ؟ قَالَ: "" وَبِنْتَيْنِ "". قُلْنَا: وَوَاحِدَةً؟ قَالَ: "" وَوَاحِدَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever has three daughters whom he maintains, shelters, and suffices, and what becomes binding for him. When those present asked about two and then about one, the Prophet ﷺ affirmed the same in each case. > **"Whoever has three daughters whom he maintains, shelters, and suffices, Paradise becomes binding for him, and likewise two, and likewise one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں ، وہ شخص اُن کی کفالت کرے ، انہیں پناہ دے اور ان کی دیکھ بھال کرے ، تو اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ، ہم نے عرض کی : اگر دو بیٹیاں ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر دو بیٹیاں ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ) ہم نے عرض کی : اگر ایک ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر ایک ہو ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13499

Majma al-Zawaid #13499

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَمَعَهَا بِنْتَانِ لَهَا، قَالَ: فَأَعْطَتْهَا عَائِشَةُ ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً، ثُمَّ أَخَذَتْ تَمْرَةً لِتَضَعَهَا فِي فَمِهَا، قَالَ: فَنَظَرَ الصَّبِيَّانِ إِلَيْهَا، قَالَ: فَصَدَعَتْهَا نِصْفَيْنِ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا نِصْفًا، وَخَرَجَتْ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ بِمَا فَعَلَتْ - أَوْ تَفْعَلُ - الْمَرْأَةُ، قَالَ: "" فَلَقَدْ دَخَلَتْ بِذَلِكَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ، وَذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيِّ الرَّاوِي عَنْهُ، فَقَالَ: عُبَيْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فَضَالَةَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ. قُلْتُ: وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu anhu) reports that a woman with her two daughters visited Aishah (radiya Allahu anha), who gave her three dates. She gave each girl one date, then lifted the third to place it in her own mouth, but when the two girls looked toward her she split it in halves and gave each one a half, then departed. When the Messenger of Allah ﷺ arrived, Aishah informed him of what the woman had done, and he announced her entry into Paradise on account of it. > **"She has entered Paradise on account of that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر اس نے تیسری کھجور پکڑی اور وہ اپنے منہ میں رکھنے لگی ، تو وہ دونوں بچیاں اس کی طرف دیکھ رہی تھیں ، اُس نے اس کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور اُن میں سے ہر ایک کو نصف نصف کھجور دے دی ، پھر وہ چلی گی ، جب نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کے طرز عمل کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ عورت اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن فضالہ ہے ، جس کا ذکر امام مزی نے مسلم بن ابراہیم فراہیدی کے حالات میں کیا ہے ، جو اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : عبیدالرحمن بن فضالہ ، مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13500

Majma al-Zawaid #13500

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا ابْنَاهَا فَسَأَلَتْهُ فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةٌ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةً فَأَكَلَهَا، ثُمَّ نَظَرَا إِلَى أُمِّهِمَا، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ بِنِصْفَيْنِ وَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ تَمْرَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ رَحِمَهَا اللَّهُ بِرَحْمَتِهَا ابْنَيْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Hasan ibn Ali (radiya Allahu anhu) reports that a woman with her two sons came to the Messenger of Allah ﷺ and asked of him, so he gave her three dates, one for each of them. She gave each boy his date, then when both looked toward their mother she split the remaining date in halves and gave each a half. The Messenger of Allah ﷺ then announced that Allah had shown her mercy on account of her mercy to her two sons. > **"Allah has shown mercy to her on account of her mercy to her two sons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے ، اس نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے تین کھجوریں دیں ، تاکہ ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور مل جائے ، اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر وہ خود کھجور کھانے لگی ، تو دونوں بچے اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے ، تو اس نے تیسری کھجور کے دو حصے کئے اور ان میں سے ہر ایک کو نصف نصف کھجور دیدی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس عورت کے اپنے دونوں بیٹوں پر رحم کرنے کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے بھی اس عورت پر رحم کر دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13501

Majma al-Zawaid #13501

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ قُثَمَ فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: حُبِّي: قُثَمُ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبِيُّ ذِي النِّعَمْ بِرَغْمِ مَنْ زَعَمْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُطَوَّلٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that Abbas (radiya Allahu anhu) would take his son Qutham, place him upon his chest, and chant his love for him, his resemblance to the one of the noble nose, the Prophet of blessings, despite whoever claimed otherwise, within a longer narration of Anas concerning al-Hajjaj ibn Ilat. > **"My beloved Qutham, resembling the one of the noble nose, the Prophet of blessings, despite the dislike of whoever claims otherwise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت قثم رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے پر بٹھا لیتے تھے اور یہ کہتے تھے : ’’ یہ میرا محبوب قثم ہے ، جو خوشبودار ناک والے فرد سے مشابہت رکھتا ہے ، جو نعمتوں والے نبی ہیں ، خواہ یہ کسی کو کتنا ہی برا کیوں نہ لگے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول طویل حدیث ہے ، جس میں حجاج بن علاط کا واقعہ مذکور ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13502

Majma al-Zawaid #13502

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِالتُّرَابِ، فَنَهَاهُمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" دَعْهُمْ فَإِنَّ التُّرَابَ رَبِيعُ الصِّبْيَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُجَالِدِ بْنِ الرُّعَيْنِيِّ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by children playing with dust, and when some of the companions of the Prophet ﷺ forbade them, he ordered that they be left, describing dust in relation to children. > **"Leave them, for dust is the springtime of children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر بچوں کے پاس سے ہوا ، وہ مٹی کے ساتھ کھیل رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے بچوں کو اس سے منع کیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کو رہنے دو ! کیونکہ مٹی بچوں کی بہار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مجالد رعینی ہے اور اس حدیث اور دیگر حدیث کے حوالے سے ، اُس پر تہمت عائد کی گی ہے ۔

13503

Majma al-Zawaid #13503

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مَا تَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَدَبِ تَأْدِيبُ الْأَوْلَادِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (radiya Allahu anhuma) reports from the Prophet ﷺ concerning what a father bestows upon his child and that nothing surpasses good upbringing. > **"No father bestows upon his child anything better than good upbringing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ والد اولاد کو اچھی تربیت سے زیادہ فضیلت والا اور کوئی عطیہ دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی تھا اور وہ متروک تھا ۔ اس سے پہلے کتاب الادب میں ، اولاد کی تربیت سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں ۔

13504

Majma al-Zawaid #13504

عَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْوَلَدُ سَيِّدٌ سَبْعُ سِنِينَ، وَعَبْدٌ سَبْعُ سِنِينَ، وَوَزِيرٌ سَبْعُ سِنِينَ، فَإِنْ رَضِيتَ مُكَاتَفَتَهُ لِإِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَإِلَّا فَاضْرِبْ عَلَى جَنْبِهِ فَقَدِ اعْتَذَرْتَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Jubayrah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ described the child across three periods of seven years as a master, then a servant, then a minister, and instructed that if his conduct at twenty-one is pleasing it is well, otherwise to strike his side, for then excuse has been offered before Allah. > **"The child is a master for seven years, a servant for seven years, and a minister for seven years. If you are pleased with his fellowship at twenty-one, then well, otherwise strike his side, for you have offered your excuse to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بچہ سات سال سردار ہوتا ہے ، سات سال غلام ہوتا ہے ، سات سال وزیر ہوتا ہے ، اگر تم اکیس سال کی عمر میں ، اس کے کردار سے راضی ہو ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس کے پہلو پر ہاتھ مارو ! ( یعنی اس کی تربیت کرنے کے اب تم پابند نہیں رہے ہو ) اور تم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن جبیرہ بن محمود ہے اور وہ متروک ہے ۔

13505

Majma al-Zawaid #13505

عَنْ صَخْرِ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُولَدُ بَعْدَ مِائَةِ سَنَةٍ مَوْلُودٌ لِلَّهِ فِيهِ حَاجَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ أَرَادَ لَا يُولَدُ لِأَحَدٍ بَعْدَ أَنْ يَكْمُلَ مِنَ الْعُمْرِ مِائَةَ سَنَةٍ وَلَدٌ فِي الْغَالِبِ، فَإِنْ وُلِدَ لَهُ فَلَا يَعِيشُ الْوَالِدُ حَتَّى يُؤَدِّبَهُ، فَيَتَعَلَّمُ الْمَعَاصِيَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Sakhr ibn Qudamah (radiya Allahu anhu) reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning a child born after one hundred years and Allah's need of him, understood to mean that one who fathers a child after completing a hundred years will generally not live to discipline him, so the child learns disobedience. > **"No child born after one hundred years is one in whom Allah has any need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صخر بن قدامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک سو سال ( کی عمر ) کے بعد جو بچہ پیدا ہو گا ، اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد احمد بن قاسم بن مساور کے حوالے سے اور محمد بن جعفر بن اعین کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جس شخص کی عمر ایک سو سال ہو چکی ہو اور اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی ہو اور پھر اولاد ہو جائے ، تو پھر اگر اس کے ہاں اولاد ہو بھی جائے گی ، تو والد اتنا عرصہ زندہ نہیں رہے گا کہ اس کی تربیت کر سکے ، تو وہ بچہ گناہ سیکھے گا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13506

Majma al-Zawaid #13506

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ رَبَّى صَغِيرًا حَتَّى يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَمْ يُحَاسِبْهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (radiya Allahu anha) reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning whoever raises a young child until he says that none is worthy of worship but Allah, and that Allah shall not call him to account. > **"Whoever raises a young child until he says: none is worthy of worship but Allah, Allah shall not call him to account."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص چھوٹے بچے کو پالے پوسے ، یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھنے کے قابل ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے حساب نہیں لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13507

Majma al-Zawaid #13507

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، «أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُوءَ الْحِرْفَةِ فَقَالَ: "" رَبِّ صَغِيرًا "". فَسَأَلَهُ فَقَالَ: "" مُهْرًا أَوْ جَارِيَةً أَوْ غُلَامًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As (radiya Allahu anhuma) reports that a man complained to the Messenger of Allah ﷺ about poor livelihood, so the Prophet ﷺ told him to raise a young one. When the man asked what was meant, the Prophet ﷺ specified a foal, a girl, or a boy. > **"Raise a young one: a foal, a girl, or a boy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کام کاج ٹھیک نہ ہونے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی بچے کی تربیت کرو ( یعنی اسے پالو پوسو ! ) اس نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یا کسی گھوڑے کا بچہ لے لو ، یا کوئی بچی لے لو یا بچہ لے لو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13508

Majma al-Zawaid #13508

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ: "" امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (radiya Allahu anhu) reports that a man complained to the Messenger of Allah ﷺ about hardness of his heart, so the Prophet ﷺ told him to stroke the head of the orphan and feed the destitute. > **"Stroke the head of the orphan and feed the destitute."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے دل کی سختی کی شکایت کی ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو ، اور غریب کو کھانا کھلاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔