Majma al-Zawaid #13469
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَتْ قُرَيْشًا أَزْمَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الرِّمَّةَ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَدٌ أَيْسَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، «فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ: "" يَا عَمِّ، إِنَّ أَخَاكَ أَبَا طَالِبٍ قَدْ عَلِمْتَ كَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَقَدْ أَصَابَ قُرَيْشًا مَا تَرَى، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَحْمِلَ عَنْهُ بَعْضَ عِيَالِهِ "". فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَا: يَا أَبَا طَالِبٍ، إِنَّ حَالَ قَوْمِكَ مَا قَدْ تَرَى، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، وَقَدْ جِئْنَا لِنَحْمِلَ عَنْكَ بَعْضَ عِيَالِكَ. فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: دَعَا لِي عَقِيلًا وَافْعَلَا مَا أَحْبَبْتُمَا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا، وَأَخَذَ الْعَبَّاسُ جَعْفَرًا، فَلَمْ يَزَالَا مَعَهُمَا حَتَّى اسْتَغْنَيَا. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: وَلَمْ يَزَلْ جَعْفَرٌ مَعَ الْعَبَّاسِ حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مُهَاجِرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Abbas (radiya Allahu anhuma) reports that Quraysh were struck by a severe famine until they ate worn-out bones, and none among Quraysh were more comfortable than the Messenger of Allah ﷺ and Abbas ibn Abd al-Muttalib. The Messenger of Allah ﷺ therefore proposed to Abbas that they go to Abu Talib, whose dependents were many, and take over some of his household. Both went to him and asked to relieve him of some of his dependents, and Abu Talib told them to leave Aqil for him and do as they wished with the rest. So the Messenger of Allah ﷺ took Ali and Abbas took Jafar, and both boys remained with them until they became independent. Sulayman ibn Dawud added that Jafar remained with Abbas until he emigrated to the land of Abyssinia. > **"O uncle, your brother Abu Talib has many dependents, and Quraysh has been struck by what you see, so come with me to him so that we may take over some of his dependents."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش کو شدید قحط سالی لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ ہڈی کے ساتھ لگے ہوئے ( چھچھڑے ) بھی کھانے لگے ، اس وقت قریش میں کوئی بھی نبی اکرم ﷺ اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوشحال نہیں تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ اے چچا جان ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بھائی جناب ابوطالب کے بال بچے زیادہ ہیں اور قریش کو جو صورت حال لاحق ہوئی ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، آپ ہمارے ساتھ ان کے پاس چلیں ، تاکہ ہم ان کے اہل خانہ میں سے کچھ کا ذمہ اپنے ذمے لے لیں ، تو یہ دونوں جناب ابوطالب کے پاس گئے ، اُن دونوں نے کہا : اے ابوطالب ! آپ کی قوم کو اس صورت حال کا سامنا ہے جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ بھی ان میں سے ایک ہیں ، ہم اس لئے آئے ہیں کہ تاکہ آپ کے اہل خانہ میں سے بعض کا ذمہ خود لے لیں ، تو جناب ابوطالب نے کہا : تم عقیل کو میرے لئے رہنے دو اور باقی جو تم دونوں پسند کرو ، تو کر لو ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لے لیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو لے لیا ، یہ دونوں مسلسل اسی طرح رہے ، یہاں تک کہ یہ دونوں بے نیاز ہو گئے ۔‘‘ سلیمان بن داؤد بیان کرتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے جانے تک مسلسل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔