Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 62

Book of Virtues and Merits

Hadith 16730–16742

13 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16730

Majma al-Zawaid #16730

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُو لَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا يُوجَدُ فِيهَا رَاحِلَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ الصَّحِيحُ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said people are but like a hundred camels among which no mount is found. > **"People are but like a hundred camels among which no mount is found."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ لوگوں کی مثال ایسے 100 اونٹوں کی مانند ہے جن میں سے سواری کے قابل کوئی نہیں ملتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے کہا ہے : اسے معمر نے زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح امام طبرانی نے بیان کیا ہے ۔

16731

Majma al-Zawaid #16731

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرْبَعَةُ أَجْبَالٍ مِنْ أَجْبَالِ الْجَنَّةِ، وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ. فَأَمَّا الْأَجْبَالُ: فَالطُّورُ، وَلُبْنَانُ، وَطُورُ سِينَا، وَطُورُ زَيْتَا. وَالْأَنْهَارُ مِنَ الْجَنَّةِ: النِّيلُ، وَالْفُرَاتُ، وَسَيْحَانُ، وَجَيْحَانُ» "". قُلْتُ: حَدِيثُهُ فِي الْأَنْهَارِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِبَالِ وَالْأَنْهَارِ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said four mountains are of Paradise's mountains and four rivers of Paradise's rivers. As for mountains: al-Ṭūr, Lubnān, Ṭūr Sīnā, and Ṭūr Zaytā. And the rivers of Paradise: the Nile, the Euphrates, Sayḥān, and Jayḥān. > **"Four mountains are of the mountains of Paradise, and four rivers are of the rivers of Paradise. As for the mountains: al-Ṭūr, Lubnān, Ṭūr Sīnā, and Ṭūr Zaytā; and the rivers of Paradise: the Nile, the Euphrates, Sayḥān, and Jayḥān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہیں اور چار نہریں جنت کی نہروں میں سے ہیں ، جہاں تک پہاڑوں کا تعلق ہے تو وہ طور ، لبنان ، طور سینا اور طور زیتا ہیں ، جہاں تک جنت کی نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل ، فرات ، سیحان اور جیحان ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نہروں کے بارے میں حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں ، پہاڑوں اور نہروں کی فضیلت کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

16732

Majma al-Zawaid #16732

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ: نَجْرَانُ، وَبَنُو تَغْلِبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah al-Sulamī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the worst two tribes among the Arabs are Najrān and Banū Taghlib. > **"The worst two tribes among the Arabs are Najrān and Banū Taghlib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عربوں میں دو سب سے برے قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16733

Majma al-Zawaid #16733

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُفُودُ الْعَرَبِ، فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا وَفْدٌ أَقْسَى قُلُوبًا، وَلَا أَحْرَى أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامُ لَمْ يَقَرَّ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه reported that delegations of the Arabs came to the Messenger of Allah ﷺ, and no delegation came to them harsher of heart, nor more likely that Islam had not settled in their hearts, than Banū Ḥanīfah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عربوں کے وفود نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ہمارے پاس کوئی ایسا وفد نہیں آیا جو بنو حنیفہ سے زیادہ سخت دل والا ہو اور جو اُن سے زیادہ اس لائق ہو کہ اسلام نے ان کے دل میں گھر نہ کیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16734

Majma al-Zawaid #16734

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «كَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَقِيفٌ، وَبَنُو حَنِيفَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَزَادَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَنُو أُمَيَّةَ، وَثَقِيفٌ، وَبَنُو حَنِيفَةَ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah رضي الله عنه reported that the most hated of people — or of tribes — to the Messenger of Allah ﷺ were Thaqīf and Banū Ḥanīfah. In Abū Yaʿlā's addition, and likewise al-Ṭabarānī: Banū Umayyah, Thaqīf, and Banū Ḥanīfah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ۔ قبائل میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ثقیف اور بنو حنیفہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد بن حنبل نے نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ بنو امیہ ، ثقیف اور بنو حنیفہ ( سب سے زیادہ ناپسندیدہ ) تھے ۔‘‘ امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ، ان روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن مطرف بن شخیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16735

Majma al-Zawaid #16735

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، مِنْهُمْ: مُسَلِيمَةُ، وَالْعَنْسِيُّ، وَالْمُخْتَارُ، وَشَرُّ قَبَائِلِ الْعَرَبِ بَنُو أُمَيَّةَ، وَبَنُو حَنِيفَةَ، وَثَقِيفٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Hour shall not come until thirty liars emerge, among them Musaylimah, al-ʿAnsī, and al-Mukhtār; and the worst of Arab tribes are Banū Umayyah, Banū Ḥanīfah, and Thaqīf. > **"The Hour shall not come until thirty liars emerge, among them Musaylimah, al-ʿAnsī, and al-Mukhtār; and the worst of Arab tribes are Banū Umayyah, Banū Ḥanīfah, and Thaqīf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذاب ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویدار ) نہیں نکلیں گے ، اُن میں سے ایک مسیلمہ ہے ، ایک عنسی ہے ، ایک مختار ہے اور عربوں کے قبائل میں سب سے برے بنو امیہ اور بنو حنیفہ اور ثقیف ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16736

Majma al-Zawaid #16736

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ قَامَ فِي بَابٍ دَاخِلٍ فِيهِ إِلَى الْمَسْجِدِ - مَسْجِدِ مِنًى -، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْأَعْبُدِ الْكُفَّارِ الْفُسَّاقِ قَدْ عَمَدُوا عَلَيَّ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ الْأَحْنَفِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْعِتْقِ مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَحَدِيثُ: "" إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ "". وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَفِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ وَكِتَابِ الْفِتَنِ فِي بَنِي الْحَكَمِ وَغَيْرِهِمْ مَا يُغْنِي عَنْ إِعَادَتِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما stood at a gate leading into the mosque — the mosque of Minā — praised Allah and extolled Him, then said these enslaved disbelieving sinners aimed at him, then mentioned the ḥadīth in full. > **"These enslaved disbelieving sinners have aimed at me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اُس دروازے پر کھڑے ہوئے تھے جس میں سے مسجد میں ۔ یعنی منیٰ کی مسجد میں ۔ داخل ہوا جاتا ہے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا : ’’ بے شک ان غلاموں ، کافروں اور فاسقوں نے مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے صدقہ لینے والا شخص ، صرف کوئی بربری ملے تو وہ اس صدقے کو واپس لے جائے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، اسی طرح ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایمان اُن کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔‘‘ اور یہ روایت ضعیف ہے ، اسی طرح کتاب الخلافۃ اور کتاب الفتن میں بنو حکم اور دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی روایات مذکور ہیں ، جنہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

16737

Majma al-Zawaid #16737

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، غَيْرَ ذِكْرِ ثَقِيفٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ: يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيِّ، وَهُوَ صَدُوقٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said no man believing in Allah and the Last Day hates the Anṣār, nor loves Thaqīf. > **"No man believing in Allah and the Last Day hates the Anṣār, nor loves Thaqīf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایسا شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور ایسا شخص ثقیف سے محبت نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ثقیف کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد یحیی بن عثمان بن صالح سہمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ صدوق ہے ، اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

16738

Majma al-Zawaid #16738

«وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ: أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَنْشُرَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ، فَضَمَّ طَرَفَ رِدَائِهِ إِلَى بَطْنِهِ وَإِلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" زَادَكَ اللَّهُ شُحًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Qayn reported that he passed the Prophet ﷺ with some dates, and the Prophet ﷺ reached to take a handful to spread before his Companions, but he clutched the edge of his cloak to his belly and chest, so the Prophet ﷺ said to him: may Allah increase you in miserliness. > **"May Allah increase you in miserliness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالقین کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، اس وقت اُس کے پاس کچھ کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اُس سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر اپنے اصحاب کے سامنے پھیلا دیں ، تو اس نے اپنی چادر کا کنارہ اپنے پیٹ اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اللہ تعالی تمہارے بخل میں اضافہ کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16739

Majma al-Zawaid #16739

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا سَرَّكُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إِلَى الرَّجُلِ الضَّغِيطِ، الْمُطَاعِ فِي قَوْمِهِ، فَانْظُرُوا إِلَى هَذَا "". يَعْنِي عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said if it pleases you to look at a feeble man obeyed among his people, then look at this — meaning ʿUyaynah ibn Ḥiṣn. > **"If it pleases you to look at a feeble man obeyed among his people, then look at this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم یہ چاہو کہ تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو کمزور ہو ‘‘ اور اپنی قوم کا پیشوا ہو ، تو تم اس کو دیکھ لو ‘‘ ( شاید یہاں لفظ ’’ کمزور ‘‘ بیوقوف ہونے کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے ، کیونکہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ آپ نے اس شخص کو ’’ احمق مطاع ‘‘ قرار دیا ہے ) ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد ، عیینہ بن حصن تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16740

Majma al-Zawaid #16740

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ فَقُلْنَا: إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَضَحِكَ وَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! لَوْعَلِمْنَا ذَلِكَ مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ، وَلَا تَسَاهَمْنَا مِيرَاثَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَمْرٌو لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Aṣamm reported that he entered upon al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنهما while he was in the house of ʿAmr ibn Ḥurayth, and they said people claim ʿAlī will return before Resurrection Day. He laughed and denied it, saying had they known that, they would neither have married his wives nor divided his inheritance. > **"Glory be to Allah! Had we known that, we would not have married his wives nor divided his inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن اصم بیان کرتے ہیں : وہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اُس وقت عمرو بن حریث کے گھر میں موجود تھے ، ہم نے کہا : کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قیامت کے دن سے پہلے دنیا میں واپس تشریف لائیں گے ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا تو ہم نے ان کی ازواج کو دوسری شادی نہیں کرنے دینی تھی اور نہ ہی ان کی وراثت آپس میں تقسیم کرنی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمرو نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16741

Majma al-Zawaid #16741

وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ. فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ: قُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ! فَوَاللَّهِ، لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي النِّفَاقِ وَالْمُنَافِقِينَ وَأَسْمَائِهِمْ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū Yaḥyā reported that he stood between al-Ḥasan and al-Ḥusayn رضي الله عنهما while he and Marwān exchanged insults, and al-Ḥasan kept silencing al-Ḥusayn. Marwān said they were a cursed household, so al-Ḥasan grew angry and answered that Allah had cursed Marwān while he was in his father's loins. > **"You say a cursed household! By Allah, Allah had cursed you while you were in your father's loins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویحیی بیان کرتے ہیں : میں اُس وقت وہاں موجود تھا ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان موجود تھے ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو خاموش کروا رہے تھے ، اسی دوران مروان نے کہا : اہل بیت ملعون ہیں ( نعوذ باللہ من ذلک ) تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے فرمایا : تم یہ کہ رہے ہو کہ اہل بیت ملعون ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اُس وقت تم پر لعنت کی تھی ، جب تم اپنے باپ کی پشت میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان کے آخر میں منافقت اور منافقین اور ان کے ناموں کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

16742

Majma al-Zawaid #16742

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ يَحْتَدِرُهُ "". يَعْنِي رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that the devil of the mountain pass cast him down — meaning a man of Bajīlah. > **"The devil of the mountain pass cast him down."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پہاڑ کے شگاف کے شیطان نے اس کو نیچے گرایا ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ( جو نیچے گر گیا تھا ) ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، بکر بن قرواش کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔