Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 61

Book of Virtues and Merits

Hadith 16690–16729

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16690

Majma al-Zawaid #16690

وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ: عَنْ عُمَرَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" أَخْبَرُونِي بِأَعْظَمِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: "" وَمَا يَمْنَعُهُمْ مَعَ قُرْبِهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ، بَلْ غَيْرُهُمْ؟ "". قَالُوا: الْأَنْبِيَاءُ، قَالَ: "" وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ، بَلْ غَيْرُهُمْ "". قَالُوا: فَأَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "" قَوْمٌ يَأْتُونَ بَعْدَكُمْ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً - أَوْ أَعْظَمُ الْخَلْقِ إِيمَانًا - عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". وَقَالَ: الصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ الْمَرْفُوعِ حَسَنٌ، الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar رضي الله عنه reported through al-Bazzār that the Prophet ﷺ said to inform him of the greatest of creation with Allah in rank on Resurrection Day. They said the angels; he said what prevents them with their nearness to their Lord — rather others. They said the prophets; he said what prevents them while revelation descends upon them — rather others. They said then inform us, O Messenger of Allah, and he ﷺ said peoples coming after them, believing in him without seeing him, finding suspended scripture and believing in it; they are the greatest of creation with Allah in rank — or the greatest in faith — on Resurrection Day. > **"Inform me of the greatest of creation with Allah in rank on the Day of Resurrection?"** > **"Peoples coming after you, believing in me without seeing me, finding suspended scripture and believing in it; they are the greatest of creation with Allah in rank on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مجھے یہ بتاؤ کہ قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عظمت والی مخلوق کون سی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ وہ اپنے پروردگار کے قریب ہیں ، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی ، نبی ( ہوں گے ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے بلکہ ان کے علاوہ اور ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ ہمیں بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - ایمان کے اعتبار سے ، وہ سب سے زیادہ عظمت والے ہوں گے ۔‘‘ وہ فرماتے ہیں : درست یہ ہے کہ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور زید بن اسلم سے منقول ہے ، امام بزار کی نقل کردہ مرفوع روایت کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی منہال بن ابجر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16691

Majma al-Zawaid #16691

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِيمَانًا؟ "". قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: "" الْمَلَائِكَةُ كَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ؟! "". قَالُوا: النَّبِيُّونَ، قَالَ: "" النَّبِيُّونَ يُوحَى إِلَيْهِمْ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ؟! "". قَالُوا: الصَّحَابَةُ، قَالَ: "" الصَّحَابَةُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ؟! وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوَّمَ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ فَيَجِدُونَ كِتَابًا مِنَ الْوَحْيِ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَتَّبِعُونَهُ، فَهُمْ أَعْجَبُ النَّاسِ إِيمَانًا - أَوِ الْخَلْقِ إِيمَانًا» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، قُلْتُ: فِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، فَوَثَّقَهُ قَوْمٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ asked which creation is most wondrous in faith. They said the angels; he said how should angels not believe. They said the prophets; he said revelation is sent to them, how should they not believe. They said the Companions; he said the Companions are with the prophets, how should they not believe. Rather the most wondrous of people in faith are peoples coming after them, finding a Book of revelation, believing in it and following it; they are the most wondrous of people — or of creation — in faith. > **"Which creation is most wondrous in faith?"** > **"Rather the most wondrous of people in faith are peoples coming after you, finding a Book of revelation, believing in it and following it; they are the most wondrous of people in faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کون سی مخلوق ایمان کے حوالے سے زیادہ حیران کن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی ! نبی ( ہوں گے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انبیاء کی طرف وحی ہوتی ہے ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( ہوں گے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صحابہ ، انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ حیران کن وہ لوگ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے اور وہ وحی سے متعلق کتاب پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی پیروی کریں گے وہ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ مخلوق میں سب سے زیادہ حیران کن ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے کی ہے ، وہ کہتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے حوالے سے یہ روایت غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16692

Majma al-Zawaid #16692

وَعَنْ صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: «قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جُمُعَةَ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، وَمَعَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ خَرَجْنَا مَعَهُ لِنُشِيِّعَهُ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ: إِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ جَائِزَةً، وَحَقًّا أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا: هَاتِ - رَحِمَكَ اللَّهُ - فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَاشِرُ عَشْرَةٍ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ مَنْ قَوْمٍ أَعْظَمُ مِنَّا أَجْرًا؟ آمَنَّا بِكَ وَاتَّبَعْنَاكَ. قَالَ: "" مَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟! يَأْتِيكُمُ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ. بَلَى قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ، يَأْتِيهِمْ كِتَابٌ بَيْنَ لَوْحَيْنِ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَاخْتُلِفَ فِي رِجَالِهِ.

EnglishUnverified translation

Ṣāliḥ ibn Jubayr reported that Abū Jumʿah al-Anṣārī رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, came to Bayt al-Maqdis to pray therein, with Rajāʾ ibn Ḥaywah present that day. When he departed they accompanied him to farewell him, and as they turned back he said they had a due upon him to narrate a ḥadīth heard from the Messenger of Allah ﷺ. They said relate it, may Allah have mercy on you. He said they were with the Messenger of Allah ﷺ, with Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه as tenth of ten, and they asked whether any people were greater in reward than them, having believed and followed him. He ﷺ asked what prevented them while the Messenger stood among them and revelation came from heaven; rather peoples coming after them, to whom a Book between two boards comes, believing in it and acting upon it — they are greater in reward, thrice repeated. > **"What prevents you from that while the Messenger of Allah stands among you and revelation comes to you from heaven? Rather peoples coming after you, to whom a Book between two boards comes, believing in it and acting upon what is in it; they are greater than you in reward, they are greater than you in reward, they are greater than you in reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صالح بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت ابوجمعہ انصاری ہمارے پاس بیت المقدس تشریف لائے تاکہ وہ وہاں نماز ادا کریں اس وقت ہمارے ساتھ رجاء بن حیوہ بھی موجود تھے جب وہ واپس جانے لگے تو ہم ان کی مشایعت کے لئے ان کے ساتھ چلنے لگے ، جب ہم نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے فرمایا تمہارا میرے ذمہ حصہ اور حق ہے کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، ہم نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! آپ بیان کیجیے ، تو انہوں نے بتایا : ’’ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، ہمارے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سمیت دس افراد تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی قوم ہے جسے ہم سے زیادہ اجر ملے گا جب کہ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ہم نے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس حوالے سے تمہارے لئے کیا رکاوٹ تھی ؟ جبکہ اللہ کے رسول ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں ، آسمان سے وحی تمہارے پاس آتی ہے ، بلکہ ایک قوم ہو گی جو تمہارے بعد آئے گی ، ان کے پاس دو لوچوں کے درمیان موجود کتاب آئے گی ، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16693

Majma al-Zawaid #16693

وَعَنْ أَبِي جُمُعَةَ قَالَ: «تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ، وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Jumʿah رضي الله عنه reported that they breakfasted with the Messenger of Allah ﷺ, with Abū ʿUbaydah ibn al-Jarrāḥ رضي الله عنه present, who asked whether any were better than them, having accepted Islam and fought alongside him. He ﷺ said yes: peoples coming after him, believing in him without seeing him. > **"Yes: peoples coming after me, believing in me without seeing me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ناشتہ کیا ہمارے ساتھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ہم سے بہتر بھی ہو گا ؟ جبکہ ہم نے آپ کے ہمراہ اسلام قبول کیا اور آپ کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! ایک قوم ہے ، جو میرے بعد آئے گی ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16694

Majma al-Zawaid #16694

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَخْبَرَهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ - أَوْ يَخْرُجُونَ - بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ يَرَانِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَلَمْ يُسَمِّ التَّابِعِيَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Banū Asad reported that Abū Dharr رضي الله عنه informed him that the Messenger of Allah ﷺ said the most intense of his Ummah in love for him are peoples coming — or emerging — after him, each wishing he had given his family and wealth only to see him. > **"The most intense of my Ummah in love for me are peoples coming after me; each of them wishes he had given his family and his wealth only to see me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ وہ میرے بعد آئیں گے ، ان میں سے کوئی شخص یہ خواہش کرے گا کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مال کو دیدیتا اور اس کے عوض میں اس نے میری زیارت کر لی ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے تابعی کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16695

Majma al-Zawaid #16695

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِرُؤْيَتِي أَهْلَهُ وَمَالَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said peoples coming after him, each wishing to ransom seeing him with his family and wealth. > **"Peoples coming after me, each of them wishing to ransom seeing me with his family and his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ایک قوم آئے گی ، ان میں سے کوئی ایک شخص یہ خواہش کرے گا کہ اس نے میری زیارت کے لئے فدیے کے طور پر اپنے اہل خانہ اور مال کو دے دیا ہوتا ۔‘‘ ( یعنی کاش اس کے بس میں ہوتا کہ وہ یہ فدیہ ادا کر کے میری زیارت کا شرف حاصل کر لیتا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16696

Majma al-Zawaid #16696

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ حُبًّا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّنْ رَآهُ، أَوْ مِنْ عَامَّةِ مَنْ رَآهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ أَخُو عَبْدِ الْغَفَّارِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِ الْبَزَّارِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه said: By Allah, you love the Messenger of Allah ﷺ more intensely than those who saw him — or than most of those who saw him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! تم لوگ اُن لوگوں سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہو ، جنہوں نے آپ ﷺ کی زیارت کی ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ۔ جنہوں نے آپ ﷺ کی زیارت کی ہے ، ان میں سے زیادہ تر لوگوں ( کے مقابلے میں ، نبی اکرم ﷺ سے ، تم زیادہ محبت کرتے ہو ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داود حرانی ہے ، جو عبدالغفار کا بھائی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام بزار کی سند کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

16697

Majma al-Zawaid #16697

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: أنَتُمْ أَصْحَابِي وَلَكَنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَلَفْظُهُ: "" «وَمَتَى أَلْقَى إِخْوَانِي؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» "". وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى مُحْتَسِبٌ: أَبُو عَائِذٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْفَضْلِ بْنِ الصَّبَاحِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ جِسْرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْتَسِبٍ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he wished he had met his brothers. The Companions of the Prophet ﷺ asked whether they were not his brothers, and he said they are his Companions, but his brothers are those believing in him without seeing him. In Abū Yaʿlā's wording he asked when he shall meet his brothers, they asked whether they were not his brothers, and he said rather they are his Companions, and his brothers are those believing in him without seeing him. > **"I wished I had met my brothers."** > **"You are my Companions, but my brothers are those who believed in me without seeing me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کر لیتا ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے عرض کی : کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے ، جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ میں کب اپنے بھائیوں سے ملوں گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ بلکہ تم میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کے رجال میں ایک راوی محتسب ابوعائذ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن عدی نے اسے ضعیف کہا ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف فضل بن صباح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام احمد کی سند میں ایک راوی ’’ جسر ‘‘ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف ’’ محتسب ‘‘ کا معاملہ مختلف ہے ۔

16698

Majma al-Zawaid #16698

وَبِسَنَدِ أَبِي يَعْلَى إِلَى أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى كَمَا تَقَدَّمَ حَسَنٌ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ فِيهِ جِسْرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported by Abū Yaʿlā's chain that the Messenger of Allah ﷺ said ṭūbā for whoever saw him and believed, and ṭūbā seven times for whoever believed without seeing him. > **"Ṭūbā for whoever saw me and believed in me, and ṭūbā seven times for whoever believed in me without seeing me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ کی سند کے ساتھ ، یہ بات منقول ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہ دیکھا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ، امام احمد کی سند میں ایک راوی ’’ جسر ‘‘ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16699

Majma al-Zawaid #16699

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ، قَالَ: "" طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، ثُمَّ طُوبَى، ثُمَّ طُوبَى، ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي "". قَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَمَا طُوبَى؟ قَالَ: "" شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that a man said to him, ṭūbā for whoever saw him and believed. He ﷺ said ṭūbā for whoever saw him and believed, then ṭūbā, then ṭūbā, then ṭūbā for whoever believed without seeing him. The man asked what ṭūbā is, and he said a tree in Paradise of a hundred years' journey, the garments of Paradise's people emerging from its calyxes. > **"Ṭūbā for whoever saw me and believed in me, then ṭūbā, then ṭūbā, then ṭūbā for whoever believed in me without seeing me."** > **"A tree in Paradise of a hundred years' journey; the garments of the people of Paradise emerge from its calyxes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے آپ کی زیارت کی اور وہ آپ پر ایمان لایا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا اور اس کے لیے مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہ دیکھا ہو ، اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : طوبیٰ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں موجود ایک درخت ہے ، جس کی مسافت 100 سال کی ہے ، اور اہل جنت کے کپڑے اس کی ٹہنیوں سے نکلتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

16700

Majma al-Zawaid #16700

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي. سَبْعَ مَرَّاتٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَيْمَنَ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said ṭūbā for whoever saw him and believed, and ṭūbā seven times for whoever believed without seeing him. > **"Ṭūbā for whoever saw me and believed in me, and ṭūbā seven times for whoever believed in me without seeing me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لیے مبارکباد ہے جس نے میری زیارت کی اور جو مجھ پر ایمان لایا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہیں دیکھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف احمد بن مالک اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16701

Majma al-Zawaid #16701

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَعَ رَاكِبَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ: "" كِنْدِيَّانِ مَذْحَجِيَّانِ "". حَتَّى إِذَا أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِِجٍ قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ، مَاذَا لَهُ؟ قَالَ: "" طُوبَى لَهُ "". فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ، مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ؟ قَالَ: "" طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ "". قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAbd al-Raḥmān al-Juhanī رضي الله عنه reported that while with the Messenger of Allah ﷺ two riders appeared; seeing them he said two Kindīs, two Madhḥijīs, until they came and proved men of Madhḥij. One approached to pledge, took his hand, and asked what is for whoever saw him, believed, affirmed and followed him; he said ṭūbā for him, and he wiped his hand and departed. Then the other came to pledge, asking what is for whoever believed, affirmed and followed him without seeing him; he said ṭūbā for him, then ṭūbā for him, then ṭūbā for him, and he wiped his hand and departed. > **"Two Kindīs, two Madhḥijīs."** > **"Ṭūbā for him, then ṭūbā for him, then ṭūbā for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، اسی دوران دو سوار سامنے آئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ دونوں کندی اور مذحجی ہیں ، یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کے پاس آ گئے تو ان کا تعلق مذحج قبیلے سے تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم ﷺ کے قریب ہوا ، تاکہ آپ کی بیعت کرے ، جب اس نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ کو دیکھے ، آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے تو اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس نے نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا ، پھر دوسرا شخص آگے آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کرنے کے لئے آپ کا ہاتھ پکڑا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا ، اور واپس چلا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

16702

Majma al-Zawaid #16702

وَعَنْ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَلَمْ يَرَكَ وَصَدَّقَكَ وَلَمْ يَرَكَ؟ قَالَ: "" طُوبَى لَهُمْ، ثُمَّ طُوبَى لَهُمْ، أُولَئِكَ مِنَّا، أُولَئِكَ مَعَنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ بَيْهَسٌ الثَّقَفِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAmrah رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ about whoever believed without seeing him and affirmed him without seeing him, and he ﷺ said ṭūbā for them, then ṭūbā for them; they are from us, they are with us. > **"Ṭūbā for them, then ṭūbā for them; they are from us, they are with us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعمره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو اور وہ آپ کی تصدیق کرے ، اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ان کے لئے مبارکباد ہے اور ان کے لیے مزید مبارکباد ہے ، وہ لوگ ہم میں سے ہیں اور وہ لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بیہس ثقفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، کبیر کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16703

Majma al-Zawaid #16703

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «طُوبَى لِمَنْ أَدْرَكَنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَقَنِي، وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُدْرِكْنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي، وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُدْرِكْنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said ṭūbā for whoever reached him, believed and affirmed him, and ṭūbā for whoever did not reach him yet believed and affirmed him, and ṭūbā for whoever did not reach him yet believed and affirmed him. > **"Ṭūbā for whoever reached me and believed in me and affirmed me, and ṭūbā for whoever did not reach me yet believed in me and affirmed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ پائے اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ نہ پائے ، اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ، جو میرا زمانہ نہ پائے اور مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

16704

Majma al-Zawaid #16704

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: يَا عِيسَى، إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدَكَ أُمَّةً، إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ، حَمِدُوا وَشَكَرُوا، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ، احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ. قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ هَذَا لَهُمْ، وَلَا حِلْمَ، وَلَا عِلْمَ؟! قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَوَّارٍ، وَأَبِي حَلْبَسٍ: يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that he heard Abū al-Qāsim, the Messenger of Allah ﷺ, say that Allah says: O ʿĪsā, I shall send after you an Ummah; if what they love befalls them they praise and thank, and if what they hate befalls them they hope reward and persevere, without forbearance nor knowledge. He said: O Lord, how is this for them without forbearance nor knowledge? He said: I grant them of My forbearance and My knowledge. > **"O ʿĪsā, I shall send after you an Ummah; if what they love befalls them they praise and thank, and if what they hate befalls them they hope reward and persevere, without forbearance nor knowledge. I grant them of My forbearance and My knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول حضرت ابوالقاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجوں گا اگر انہیں وہ چیز نصیب ہو گی جسے وہ پسند کرتے ہوں ، تو وہ اس بات پر حمد کریں گے اور شکر کریں گے اور اگر انہیں وہ صورتحال لاحق ہو جسے وہ ناپسند کرتے ہوں تو وہ اس بارے میں ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر سے کام لیں گے ، حالانکہ ان میں حلم اور علم نہیں ہو گا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! انہیں یہ چیز کیسے نصیب ہو گی ؟ جبکہ نہ حلم ہو گا اور نہ علم ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے حلم اور اپنے علم میں سے اُنہیں عطا کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن سوار اور ابوحلبس یزید بن میسرہ کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں بھی ثقہ ہیں ۔

16705

Majma al-Zawaid #16705

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَنَا حَظُّكُمْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، وَقَدْ صَحَّحَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he is their portion of the prophets and they are his portion of the nations. > **"I am your portion of the prophets, and you are my portion of the nations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں انبیاء کرام میں سے تم لوگوں کا حصہ ہوں اور تم لوگ اُمتوں میں سے میرا حصہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف ابوحبیبہ طائی کا معاملہ مختلف ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ ایک حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، اور ابن حبان میں اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

16706

Majma al-Zawaid #16706

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ، وَعُبَيْدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَغَرِّ، وَهُمَا ثِقَتَانِ، وَفِي عُبَيْدٍ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the parable of his Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better. > **"The parable of my Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتہ نہیں چلتا کہ اُس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟""۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حسن بن قزعہ اور عبید بن سلیمان اغر کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ، عبید کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

16707

Majma al-Zawaid #16707

وَعَنْ عَمَّارٍ أَيْضًا قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ أُمَّتِي كَالْمَطَرِ، يَجْعَلُ اللَّهُ فِي أَوَّلِهِ خَيْرًا، وَفِي آخِرِهِ خَيْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār رضي الله عنه also reported that the Messenger of Allah ﷺ said the parable of his Ummah is like rain; Allah places good in its first and good in its last. > **"The parable of my Ummah is like rain; Allah places good in its first and good in its last."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے ابتدائی حصے میں بھی بھلائی رکھی ہے ، اور اس کے آخری حصے میں بھی بھلائی رکھی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16708

Majma al-Zawaid #16708

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَسَنَدُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ. وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْنَادٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the parable of his Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better. > **"The parable of my Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند حسن ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس سے زیادہ عمدہ سند کے ساتھ روایت نقل نہیں کی گئی ۔

16709

Majma al-Zawaid #16709

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that the parable of his Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better. > **"The parable of my Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے یا آخری حصہ ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

16710

Majma al-Zawaid #16710

وَعَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the parable of his Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better. > **"The parable of my Ummah is like rain; unknown whether its first or its last is better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتا نہیں چلتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16711

Majma al-Zawaid #16711

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: "" إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي: مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ؟ قُلْتُ: مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّي، هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ، فَقَالَ: لَا نُخْزِيكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ،. وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ. ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: ادْعُ تُجَبْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ: أَوَمُعْطِيَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - سُؤْلِي؟ قَالَ: مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَبَ، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ، وَالنَّصْرَ، وَالرُّعْبَ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ، وَطَيَّبَ لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was absent and did not emerge until they thought he would not emerge; when he emerged he prostrated so long they thought his soul had been taken therein. Raising his head he ﷺ said his Lord had consulted him about his Ummah — what He should do with them. He said: whatever You will, my Lord; they are Your creation and servants. He consulted him a second time and he answered likewise, so He said: We shall not disgrace you regarding your Ummah, O Muḥammad. And He informed him that the first of his Ummah entering Paradise are seventy thousand, with each thousand seventy thousand, with no reckoning upon them. Then He sent to him saying supplicate and you shall be answered, ask and you shall be given. He asked His messenger whether his Lord would grant his request, and he said He sent him only to grant him. His Lord granted him, without boast: forgave his past and future sins while he walks alive and sound; granted that his Ummah shall neither hunger nor be overcome; granted al-Kawthar, a river of Paradise flowing into his Pond; granted might, victory, and terror travelling a month before his Ummah; granted that he is the first of the prophets to enter Paradise; made spoils wholesome for him and his Ummah; permitted much of what was strict upon those before; and placed no hardship upon them. > **"My Lord consulted me about my Ummah: what should I do with them? I said: whatever You will, my Lord; they are Your creation and Your servants. He said: We shall not disgrace you regarding your Ummah, O Muḥammad."** > **"Supplicate and you shall be answered, ask and you shall be given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کافی دیر تک تشریف نہیں لائے ، یہاں تک کہ جب ہم نے یہ گمان کیا کہ اب آپ ﷺ تشریف نہیں لائیں گے ، تو آپ ﷺ تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے میں آپ کی جان قبض ہو گئی ہے ، جب آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں اُن کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے کرے ، وہ تیری مخلوق ہیں اور تیرے بندے ہیں ، پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے یہی بات عرض کی ، پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تمہاری امت کے بارے میں ہم تمہیں غمگین نہیں کریں گے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ) ’’ پروردگار نے مجھے یہ بتایا : میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والی ستر ہزار افراد ہوں گے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید ستر ہزار ہوں گے ، اور ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ۔‘‘ پھر اُس ( پروردگار ) نے مجھے پیغام بھیجا اور فرمایا : ’’ تم دعا مانگو ! وہ قبول ہو گی ، تو مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، تو میں نے اس کے قاصد سے کہا : کیا میں جو مانگوں گا ؟ میرا پروردگار مجھے وہ دے گا ؟ قاصد نے کہا : اس نے مجھے آپ کی طرف اسی لیے بھیجا ہے تاکہ وہ آپ کو وہ چیز دے ( یعنی جو آپ مانگیں گے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو میں یہ بات فخر کے اظہار کے لئے نہیں کہہ رہا ، میرے پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کی : کہ اس نے میرے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ، اور اب میں زندہ اور صحیح ہونے کے طور پر چلتا ہوں ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میری اُمت بھوک کا شکار نہیں ہو گی ، اور وہ مغلوب نہیں ہو گی ، اور اس نے مجھے کوثر عطا کی ، یہ جنت کی نہر ہے ، جو بہتی ہوئی میرے حوض میں آتی ہے ۔ اور اس نے مجھے غلبہ مدد اور رعب عطا کیا ، جو میری اُمت کے آگے ایک مہینے کی مسافت تک ہو گا ، اور اس نے مجھے یہ چیز عطا کی کہ میں انبیاء کرام میں سے ، جنت میں سب سے پہلے داخل ہوؤں گا اور اس میں میرے لئے اور میری اُمت کے لیے مال غنیمت کو پاکیزہ ( یعنی حلال ) قرار دیا اور اس نے ہمارے لیے بہت سی ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا ، جن کے حوالے سے اُس نے ہم سے پہلے لوگوں پر سختی کی تھی ، اور اس نے ہم پر حرج کو لازم قرار نہیں دیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16712

Majma al-Zawaid #16712

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي الْبَارِحَةَ لَدُنْ هَذِهِ الْحُجْرَةِ حَتَّى لَأَنَا أَعْرِفُ بِالرَّجُلِ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِصَاحِبِهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُرِضَ عَلَيْكَ مَنْ خُلِقَ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُخْلَقْ؟ قَالَ: "" صُوِّرُوا لِي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَنَا أَعْرَفُ بِالْإِنْسَانِ مِنْهُمْ مِنَ الرَّجُلِ بِصَاحِبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn Asīd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said his Ummah was shown to him last night beside this chamber, until he knew each man among them better than any of you knows his companion. A man asked: this shown you is those created among them — what of those not yet created? He said their forms were depicted for him, and by Him in Whose Hand is his soul, he knows each person among them better than a man knows his companion. > **"My Ummah was shown to me last night beside this chamber, until I knew each man among them better than any of you knows his companion."** > **"Their forms were depicted for me; by Him in Whose Hand is my soul, I know each person among them better than a man knows his companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گزشتہ رات میرے سامنے اس حجرے میں میری اُمت کو پیش کیا گیا ، یہاں تک کہ میں اُن میں سے ہر ایک شخص کو اس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : یا رسول اللہ ! یہ تو آپ کے سامنے وہ لوگ پیش کیے گئے جو اُن میں سے پیدا ہو چکے ہیں ، تو ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کی شکلیں میرے سامنے پیش کی گئیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں ان میں سے کسی شخص کو اُس سے زیادہ بہتر طور پر پہچان گیا ، جتنا کوئی شخص اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16713

Majma al-Zawaid #16713

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّتُهُ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" كُنْتَ هَاهُنَا هَلْ سَمِعْتَ "". قُلْتُ: نَعَمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that his Ummah was shown to the Messenger of Allah ﷺ, and he stood behind him. When he finished he turned to him and said: you were here — did you hear? He said yes. > **"You were here — did you hear?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کی اُمت کو پیش کیا گیا ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا تھا ، جب آپ فارغ ہوئے اور میری طرف متوجہ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم یہاں تھے ؟ کیا تم نے سنا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16714

Majma al-Zawaid #16714

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُمَّتِي فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى - أَوْ عَدَدِ الْمَطَرِ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said his Ummah on earth are more numerous than pebbles — or the number of rain. > **"My Ummah on earth are more numerous than pebbles — or the number of rain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ زمین میں میری امت کی تعداد کنکریوں کی تعداد ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ بارش کے قطروں کی تعداد سے زیادہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ابوحاتم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16715

Majma al-Zawaid #16715

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا وَبَعْضُهَا فِي النَّارِ، وَبَعْضُهَا فِي الْجَنَّةِ، إِلَّا أُمَّتِي كُلُّهَا فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that every Ummah has part in the Fire and part in Paradise, except his Ummah — all of it in Paradise. > **"Every Ummah has part in the Fire and part in Paradise, except my Ummah — all of it in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر امت کا کچھ حصہ جہنم میں جائے گا اور کچھ حصہ جنت میں جائے گا ، البتہ میری امت کا معاملہ مختلف ہے ، وہ سب جنت میں جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

16716

Majma al-Zawaid #16716

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، مُتَابٌ عَلَيْهَا، تَدْخُلُ قُبُورَهَا بِذُنُوبِهَا، وَتَخْرُجُ مِنْ قُبُورِهَا لَا ذُنُوبَ عَلَيْهَا، يُمَحَّصُ عَنْهَا بِاسْتِغْفَارِ الْمُؤْمِنِينَ لَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَيْخِهِ: أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say his Ummah is a merciful Ummah, forgiven, entering graves with sins and emerging from graves sinless, purged through the believers' seeking forgiveness for them. > **"My Ummah is a merciful Ummah, forgiven; entering their graves with their sins and emerging from their graves sinless, purged through the believers' seeking forgiveness for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت ، امت مرحومہ ہے ، ان پر فضل کیا جائے گا ، وہ اپنے گناہوں کے ہمراہ اپنی قبروں میں داخل ہونگے ، اور جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اہل ایمان کے ، ان کے لیے دعائے مغفرت کی وجہ سے ، اُن کے گناہوں کو ختم کر دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد احمد بن طاہر بن حرملہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

16717

Majma al-Zawaid #16717

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْجَنَّةُ حُرِّمَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى أَدْخُلَهَا، وَحُرِّمَتْ عَلَى الْأُمَمِ حَتَّى تَدْخُلَهَا أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that Paradise was forbidden the prophets until he enters it, and forbidden the nations until his Ummah enters it. > **"Paradise was forbidden the prophets until I enter it, and forbidden the nations until my Ummah enters it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت انبیاء کرام کے لیے اُس وقت تک حرام ہے جب تک ” میں ‘‘ اُس میں داخل نہیں ہو جاتا اور دوسری امتوں کے لیے ، اُس وقت تک حرام ہے ، جب تک میری امت اُس میں داخل نہیں ہو جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ہیں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کی سند حسن ہے ۔

16718

Majma al-Zawaid #16718

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْجَنَّةُ مُحَرَّمَةٌ عَلَى جَمِيعِ الْأُمَمِ حَتَّى أَدْخُلَهَا أَنَا وَأُمَّتِي الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said Paradise is forbidden all nations until he and his Ummah enter it, first in order. > **"Paradise is forbidden all nations until I and my Ummah enter it, first in order."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت تمام امتوں کے لیے حرام ہے ، جب تک ” میں ‘‘ اور میری امت یکے بعد دیگرے اُس میں داخل نہیں ہو جاتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

16719

Majma al-Zawaid #16719

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ أَقْسَمْتُ لَبَرَرْتُ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَبْلَ سَابِقِ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbd al-Yamānī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said were he to swear he would prove true: none shall enter Paradise before the forerunners of his Ummah. > **"Were I to swear I would prove true: none shall enter Paradise before the forerunners of my Ummah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عبدیمانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں قسم اٹھا لوں تو میں سچا ہوؤں گا کہ میری اُمت سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔

16720

Majma al-Zawaid #16720

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُمَّتِهِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ عَلَى طَاعَتِكَ، وَحُطَّ مِنْ وَرَائِهِمْ بِرَحْمَتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for his Ummah, saying O Allah turn their hearts toward Your obedience and encompass those behind them with Your mercy. > **"O Allah, turn their hearts toward Your obedience, and encompass those behind them with Your mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا : ” اے اللہ ! تو ان کے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف لے آ ! اور اُن کے بعد والوں کو اپنی رحمت کے ذریعے گھیر لے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16721

Majma al-Zawaid #16721

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مِنَ الْأُمَمِ أُمَّةٌ ضُرِبَ لَهُمْ مَثَلٌ، كَمَثَلِ أُجَرَاءَ ائْتَجَرَهُمْ رَجُلٌ يَعْمَلُونَ لَهُ يَوْمًا كُلَّهُ، وَجَعَلَ لَهُمْ قِيرَاطًا قِيرَاطًا، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ سَئِمُوا، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: حَاسِبْنَا فَحَاسَبَهُمْ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطٍ، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى اللَّيْلَةِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ فَبَايَعَهُ قَوْمٌ آخَرُونَ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ سَئِمُوا، قَالُوا: حَاسِبْنَا فَحَاسَبَهُمْ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطِ نِصْفُ قِيرَاطٍ، وَأَحَبَّ الرَّجُلُ أَنْ يُقْضَى لَهُ قَبْلَ اللَّيْلِ ; فَائْتَجَرَ قَوْمًا عَلَى أَنْ يُكْمِلُوا لَهُ مَا غَبَرَ مِنْ عَمَلِهِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ "". فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونُوا أَنْتُمْ صَاحِبَ الْقِيرَاطَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that among the nations a parable was struck for an Ummah: like hired workers whom a man hires to work for him the whole day for a qīrāṭ each. They work till midday, tire, and ask for settlement; he settles and they receive half a qīrāṭ. He asks who will work for him till night for a qīrāṭ each, so others pledge and work till near ʿAṣr, tire, ask settlement, and receive half a qīrāṭ each. The man, wishing his work completed before night, hires a people to complete the remainder till night for two qīrāṭs each. Then the Messenger of Allah ﷺ said to them: I hope, Allah willing, that you are the ones of the two qīrāṭs. > **"I hope, Allah willing, that you are the ones of the two qīrāṭs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ امتوں میں سے ایک امت کے لئے یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ اُن کی مثال ایسے مزدوروں کی مانند ہے ، جنہیں کوئی شخص مزدور رکھتا ہے کہ وہ مزدور سارا دن اس کے لئے کام کریں گے اور وہ ان مزدوروں کو ایک ایک قیراط دے گا ، پھر وہ مزدور کام کرنا شروع کرتے ہیں یہاں تک کہ جب دوپہر ہوتی ہے تو وہ تھک جاتے ہیں ، وہ اس شخص سے کہتے ہیں تم ہمارے ساتھ حساب کر لو ! وہ ان کے ساتھ حساب کرتا ہے تو ان مزدوروں کے حصے میں نصف قیراط آتا ہے ، وہ شخص یہ کہتا ہے : کون رات تک میرے لیے کام کرے گا اسے ایک ایک قیراط دیا جائے گا ، تو کچھ دوسرے لوگ اس کے ساتھ سودا طے کر لیتے ہیں اور کام کرتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کے قریب کا وقت ہوتا ہے تو وہ تھک جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : تم ہمارے ساتھ حساب کر لو وہ ان کے ساتھ حساب کرتا ہے ، تو ان لوگوں کو نصف ، نصف قیراط ملتا ہے ۔ وہ شخص یہ چاہتا ہے کہ رات ہونے سے پہلے اُس کا کام پورا ہو جائے ، تو وہ ایک قوم کو مزدور رکھتا ہے ، اس شرط پر کہ وہ باقی رہ جانے والا کام اُسے رات تک مکمل کر دیں اور انہیں دو دو قیراط ملیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے امید ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ دو دو قیراط وصول کرنے والے ہوؤ گے ( یعنی تم لوگ عمل تھوڑا کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تمہیں زیادہ اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16722

Majma al-Zawaid #16722

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّكُمْ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، مُعَافَاةٌ ; فَاسْتَقِيمُوا وَخُذُوا طَاقَةَ الْأَمْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said you are a merciful, pardoned Ummah; so be upright and take the capacity of the matter. > **"You are a merciful, pardoned Ummah; so be upright and take the capacity of the matter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُمت مرحومہ ہو ، جس کو معاف کیا گیا ہے ، تو تم لوگ ٹھیک رہو اور معاملے کی طاقت کو پکڑو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن لاحق ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16723

Majma al-Zawaid #16723

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِأَبِي بُرْدَةَ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِيكَ فِيهِ أَحَدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مُقَدِّسَةٌ، مُبَارَكَةٌ، مَرْحُومَةٌ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّمَا عَذَابُهُمْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا بِالْفِتَنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا الْقَاسِمُ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaymān ibn Dāwūd al-Khawlānī reported that he heard ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz say to Abū Burdah: narrate a ḥadīth with none between you and your father therein. He said he heard his father — Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه — say he heard the Messenger of Allah ﷺ say his Ummah is sanctified, blessed, merciful; no punishment upon it on Resurrection Day; its punishment is among them in this world through tribulations. > **"My Ummah is a sanctified, blessed, merciful Ummah; no punishment upon it on the Day of Resurrection. Its punishment is among them in this world through tribulations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن داؤد خولانی بیان کرتے ہیں : میں نے عمر بن عبدالعزیز کو ابوبردہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ! جس میں آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کوئی اور واسطہ نہ ہو ، تو ابوبردہ نے بتایا : میں نے اپنے والد ( یعنی حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت پاک ، برکت والی اور رحم یافتہ ہے ، قیامت کے دن ان پر عذاب نہیں ہو گا ، اُن کا عذاب دنیا میں اُن کے درمیان فتنوں کے ذریعے ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک میں ایک شخص قاسم ہے جو حمص کا رہنے والا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن قیس سکونی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16724

Majma al-Zawaid #16724

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنْتُمْ أَشْبَهُ الْأُمَمِ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ سَمْتًا، وَسِمَةً، وَهَدْيًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that they are the most resembling of nations to the Children of Israel in conduct, marks, and guidance. > **"You are the most resembling of nations to the Children of Israel in conduct, marks, and guidance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چال چلن اور طور طریقوں کے حوالے سے تم بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی امت ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16725

Majma al-Zawaid #16725

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُذِنَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السُّجُودِ، فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلًا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُمْ: ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءً لَكُمْ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that when Allah gathers creation on Resurrection Day, the Ummah of Muḥammad ﷺ will be permitted prostration; they shall prostrate long, then be told to raise their heads — We have made your number a ransom for you from the Fire. > **"Raise your heads; We have made your number a ransom for you from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوقات کو جمع کرے گا ، تو حضرت محمد ﷺ کی امت کو سجدہ کرنے کی اجازت دے گا ، تو وہ لوگ اس کی بارگاہ میں طویل سجدہ کریں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا : تم لوگ اپنے سر اٹھاؤ ! کیونکہ ہم نے تمہاری تعداد جتنے لوگوں کو جہنم سے تمہارا فدیہ قرار دیدیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابوالمساور ہے اور وہ متروک ہے ۔

16726

Majma al-Zawaid #16726

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةٌ، أُمَّتِي مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ، فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the people of Paradise are a hundred and twenty rows, his Ummah among them eighty rows. > **"The people of Paradise are a hundred and twenty rows; my Ummah among them are eighty rows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اُن میں سے میری امت کی 80 صفیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن غصن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں بقیہ احادیث ، جنت کی صفت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، جن میں اس امت سے تعلق رکھنے والے بکثرت افراد کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہو گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

16727

Majma al-Zawaid #16727

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ إِلَّا مَنْ أَبَى، أَوْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟! فَقَالَ: "" مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي دَخَلَ النَّارَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: By Him in Whose Hand is my soul, you shall all enter Paradise except whoever refuses or strays against Allah like a camel strays. Asked who refuses to enter Paradise, he said whoever obeys him enters Paradise and whoever disobeys him enters the Fire. > **"By Him in Whose Hand is my soul, you shall all enter Paradise except whoever refuses or strays against Allah like a camel strays."** > **"Whoever obeys me enters Paradise, and whoever disobeys me enters the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم سب لوگ ضرور جنت میں داخل ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو انکار کر دے ، یا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایسی سرکشی کا اظہار کرے ، جس طرح اونٹ سرکشی کرتا ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کون جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میری اطاعت کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16728

Majma al-Zawaid #16728

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Khālid reported that Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه passed Khālid ibn Yazīd ibn Muʿāwiyah, who asked him for the gentlest word heard from the Messenger of Allah ﷺ. He said he heard the Messenger of Allah ﷺ say: verily all of you enter Paradise except whoever strays against Allah like a camel strays against its people. > **"Verily all of you enter Paradise except whoever strays against Allah like a camel strays against its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خالد بیان کرتے ہیں : حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، تو خالد نے اُن سے اُس سب سے نرم کلمہ کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنا ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خبردار ! تم سب لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال "" صحیح "" کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16729

Majma al-Zawaid #16729

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" كُلُّكُمْ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ. قَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: "" {لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى} [الليل: 15] "" كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ. وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say all of you are in Paradise except whoever strays against Allah like a camel strays against its people. In al-Kabīr as mawqūf upon Abū Umāmah: none of this Ummah remains but enters Paradise except whoever strays against Allah like an evil camel strays against its people; whoever disbelieves him, then Allah says none burns but the most wretched who denied and turned away — denying what Muḥammad ﷺ brought and turning from it. > **"All of you are in Paradise except whoever strays against Allah like a camel strays against its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم سب جنت میں جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے ، جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اسے معجم کبیر میں ، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ پر ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس اُمت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس طرح کوئی برا ( یعنی سرکش ) اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس ( یعنی جہنم ) میں صرف کوئی بدنصیب ہی جائے گا ۔‘‘ اس سے مراد یہی ہے کہ وہ اس چیز کو جھٹلا دے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ، اور وہ اُس سے منہ موڑنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔