Majma al-Zawaid #16690
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ: عَنْ عُمَرَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" أَخْبَرُونِي بِأَعْظَمِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: "" وَمَا يَمْنَعُهُمْ مَعَ قُرْبِهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ، بَلْ غَيْرُهُمْ؟ "". قَالُوا: الْأَنْبِيَاءُ، قَالَ: "" وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ، بَلْ غَيْرُهُمْ "". قَالُوا: فَأَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "" قَوْمٌ يَأْتُونَ بَعْدَكُمْ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً - أَوْ أَعْظَمُ الْخَلْقِ إِيمَانًا - عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". وَقَالَ: الصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ الْمَرْفُوعِ حَسَنٌ، الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
ʿUmar رضي الله عنه reported through al-Bazzār that the Prophet ﷺ said to inform him of the greatest of creation with Allah in rank on Resurrection Day. They said the angels; he said what prevents them with their nearness to their Lord — rather others. They said the prophets; he said what prevents them while revelation descends upon them — rather others. They said then inform us, O Messenger of Allah, and he ﷺ said peoples coming after them, believing in him without seeing him, finding suspended scripture and believing in it; they are the greatest of creation with Allah in rank — or the greatest in faith — on Resurrection Day. > **"Inform me of the greatest of creation with Allah in rank on the Day of Resurrection?"** > **"Peoples coming after you, believing in me without seeing me, finding suspended scripture and believing in it; they are the greatest of creation with Allah in rank on the Day of Resurrection."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مجھے یہ بتاؤ کہ قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عظمت والی مخلوق کون سی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ وہ اپنے پروردگار کے قریب ہیں ، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی ، نبی ( ہوں گے ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے بلکہ ان کے علاوہ اور ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ ہمیں بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - ایمان کے اعتبار سے ، وہ سب سے زیادہ عظمت والے ہوں گے ۔‘‘ وہ فرماتے ہیں : درست یہ ہے کہ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور زید بن اسلم سے منقول ہے ، امام بزار کی نقل کردہ مرفوع روایت کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی منہال بن ابجر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔