Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 60

Book of Virtues and Merits

Hadith 16650–16689

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16650

Majma al-Zawaid #16650

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «وَهُوَ يَقُولُ لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَهُمَا يَسْتَشِيرَانِهِ فِي الْمَنْزِلِ، فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ. ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ. ثُمَّ سَأَلَاهُ فَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ قَالَ: "" عَلَيْكُمَا بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ بِلَادِ اللَّهِ، يَسَكُنُهَا خِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ speaking to Ḥudhayfah ibn al-Yamān رضي الله عنه and Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه while they consulted him about residence, and he pointed to Shām. They asked again and he pointed to Shām a second and third time, saying upon you two is Shām, for it is Allah's choicest land wherein dwell His choicest creation; whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"Upon you two is Shām, for it is Allah's choicest land; His choicest creation dwell therein. Whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ، اُن دونوں حضرات نے آپ سے رہائش اختیار کرنے کے بارے میں مشورہ لیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے شام کی طرف اشارہ کیا ، ان دونوں نے پھر آپ سے دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے شام کی طرف اشارہ کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے منتخب شدہ ہے ، وہ اپنی مخلوق میں سے بہترین لوگوں کو وہاں سکونت عطا کرے گا ، جو شخص یہ نہیں مانتا تو اُسے یمن چلے جانا چاہیے ، اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جو سب ضعیف ہیں ۔

16651

Majma al-Zawaid #16651

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ - وَاسْمُهُ ذَرْعٌ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَكُونُ جُنُودٌ أَرْبَعَةٌ، فَعَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَذَكَرَهُ فِي الذَّالِ الْمُعْجَمَةِ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي صُحْبَتِهِ. قُلْتُ: وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṭalḥah, named Dharʿ, رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said there will be four armies, so upon you is Shām, for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"There will be four armies, so upon you is Shām, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ، جن کا نام حضرت ذرع رضی اللہ عنہ ہے وہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چار لشکر ہوں گے ، تو تم پر شام میں رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان صحابی کا نام ” ذال ‘‘ سے شروع ہونے والے ناموں میں ذکر کیا ہے ، ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

16652

Majma al-Zawaid #16652

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ الشَّامُ، وَفِيهَا صَفْوَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَعِبَادِهِ، وَلَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْكُمْ مِنْ أُمَّتِي ثُلَّةٌ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَلَا عَذَابَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah's choicest earth is Shām, wherein are His choicest creation and servants, and a company of his Ummah will surely enter Paradise with neither reckoning nor punishment. > **"Allah's choicest earth is Shām, and therein are His choicest creation and servants. And a company of my Ummah will surely enter Paradise with neither reckoning nor punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی زمین میں اللہ تعالیٰ کا منتخب شدہ حصہ شام ہے ، اور اس جگہ میں وہ اپنی مخلوق اور اپنے بندوں میں سے ، منتخب لوگوں کو رکھے گا ، اور تم میں سے ، میری امت میں سے ایک ایسا گروہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ، جن سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں عذاب ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ حمصی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16653

Majma al-Zawaid #16653

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الشَّامُ صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ، إِلَيْهَا يَجْتَبِي صَفْوَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الشَّامِ إِلَى غَيْرِهِ فَبِسَخْطَهِ، وَمَنْ دَخَلَهَا مِنْ غَيْرِهَا فَبِرَحْمَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that Shām is Allah's choicest land, to which He gathers His choicest servants; whoever leaves Shām for elsewhere does so by His displeasure, and whoever enters it from elsewhere does so by mercy. > **"Shām is Allah's choicest land; to it He gathers His choicest servants. Whoever leaves Shām for elsewhere does so by displeasure, and whoever enters it from elsewhere does so by mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے شہروں میں منتخب شدہ ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے منتخب لوگوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص شام کو چھوڑ کر کسی اور علاقے کی طرف جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ایسا کرے گا ، اور جو شخص دوسرے علاقے کو چھوڑ کر شام چلا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ایسا کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16654

Majma al-Zawaid #16654

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تُجَنِّدُونَ أَجْنَادًا "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي؟ فَقَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّهَا صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ، فِيهَا خِيرَتُهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيُسْقَ بِغَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ ذَلِكَ فَلْيَلْحَقْ بِنَجْدِهِ» "". وَفِي إِسْنَادَيْهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said you will be formed into armies. A man said, "O Messenger of Allah, choose for me," and he said upon you is Shām, for it is Allah's choicest land wherein are His choicest servants; whoever turns away should join his Yemen and drink from its pools, in another wording join his Najd; for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"You will be formed into armies. Upon you is Shām, for it is Allah's choicest land; therein are His choicest servants. Whoever turns away should join his Yemen, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تجویز کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے ، اللہ تعالیٰ کا منتخب شدہ ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہتر بندوں کو رکھے گا ، جو شخص اس سے منہ موڑتا ہے اُسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ اوسط ‘‘ میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اُس سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے نجد چلا جائے ......‘‘۔ ان دونوں کی اسناد میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16655

Majma al-Zawaid #16655

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ، وَلَا يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا وَغَمًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى خُرَيْمٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Fātik al-Asadī رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the people of Shām are Allah's whip on earth, through whom He exacts retribution from whomever He wills of His servants; it is forbidden for their hypocrites to prevail over their believers, and they die only in grief and sorrow. > **"The people of Shām are Allah's whip on earth; He exacts retribution through them from whomever He wills of His servants. It is forbidden for their hypocrites to prevail over their believers, and they die only in grief and sorrow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اہل شام زمین میں اللہ کی لاٹھی ہیں ، ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے گا انتقام لے گا اور اہل شام کے منافقین پر یہ بات حرام ہے کہ وہ وہاں کے مومنین پر غالب آ جائیں ، اور وہ ( یعنی منافقین ) صرف پریشانی اور غم کے عالم میں ہی مریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد نے اسے حضرت خریم رضی اللہ عنہ پر ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16656

Majma al-Zawaid #16656

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عُقْرُ دَارِ الْإِسْلَامِ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Nufayl رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the core of the abode of Islam is in Shām. > **"The core of the abode of Islam is in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلامی سلطنت کی بنیاد شام میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16657

Majma al-Zawaid #16657

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدُهُ: "" «طُوبَى لِلشَّامِ "". قُلْنَا: مَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِنَّ الرَّحْمَنَ لَبَاسِطٌ رَحْمَتَهُ عَلَيْهِ» "". قُلْتُ لَهُ، عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ: "" «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ لَبَاسِطَةٌ أَجْنِحَتِهَا عَلَى الشَّامِ» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said while they were with him, "Ṭūbā for Shām." They asked what for, O Messenger of Allah, and he said the Most Merciful spreads His mercy over it, in another wording the angels of the Most Merciful spread their wings over Shām. > **"Ṭūbā for Shām."** > **"The Most Merciful spreads His mercy over it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہم اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا : شام کے لیے مبارکباد ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس حوالے سے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رحمن نے اپنی رحمت اُس پر پھیلائی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ رحمان کے فرشتوں نے اپنے پر ، شام پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16658

Majma al-Zawaid #16658

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَقْبَلَ بِي الشَّامَ، وَوَلَّى ظَهْرِي الْيَمَنَ، وَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ جَعَلْتُ مَا تُجَاهَكَ غَنِيمَةً وَرِزْقًا، وَمَا خَلَفَ ظَهْرِكَ مَدَدًا، وَلَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشِّرْكُ، حَتَّى تَسِيرَ الْمَرْأَتَانِ لَا يَخْشَيَانِ جَوَرًا "". ثُمَّ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَبْلُغَ هَذَا الدِّينُ مَبْلَغَ هَذَا النَّجْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ الْمُتَأَخِّرُ إِلَى زَمَنِ أَبِي حَاتِمٍ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah faced him toward Shām and placed Yemen behind his back, saying O Muḥammad, what is before you I have made spoils and provision, and what is behind your back support; Islam will ever increase and shirk decrease until two women travel fearing no injustice. Then he swore by Him in Whose Hand is his soul that days and nights will not pass until this religion reaches as far as this star. > **"Allah faced me toward Shām and placed Yemen behind my back, and said to me: O Muḥammad, I have made what is before you spoils and provision, and what is behind your back support. Islam will ever increase and shirk decrease until two women travel fearing no injustice. By Him in Whose Hand is my soul, days and nights will not pass until this religion reaches as far as this star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف رکھا ہے اور میری پشت کی طرف یمن کو رکھا اور اس نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! میں نے تمہارے سامنے کی طرف غنیمت اور رزق رکھا ہے اور تمہاری پشت کی طرف مدد رکھی ہے ، اسلام مسلسل بڑھتا جائے گا اور شرک کم ہوتا جائے گا ، یہاں تک کہ دو عورتیں چلتی ہوئی جائیں گی اور انہیں کسی ظلم کا خوف نہیں ہو گا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، رات اور دن کا سلسلہ اُس وقت تک ختم نہیں ہو گا ، جب تک یہ دین وہاں تک نہیں پہنچ جائے گا جہاں یہ ستارہ پہنچتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی ہے جو ابوحاتم کے زمانے کا ہے اور اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

16659

Majma al-Zawaid #16659

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «دَخَلَ إِبْلِيسُ الْعِرَاقَ فَقَضَى فِيهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الشَّامَ فَطَرَدُوهُ، ثُمَّ دَخَلَ مِصْرَ فَبَاضَ فِيهَا وَفَرَّخَ، وَبَسَطَ عَبْقَرَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ فِيهِ: "" «فَطَرَدُوهُ حَتَّى بَلَغَ بَيسَانَ» "". مِنْ رِوَايَةِ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said Iblīs entered Iraq and fulfilled his need therein, then entered Shām and they drove him out, in another wording drove him until he reached Baysān, then entered Egypt where he laid eggs and hatched and spread his brood. > **"Iblīs entered Iraq and fulfilled his need therein, then entered Shām and they drove him out, then entered Egypt where he laid eggs and hatched and spread his brood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابلیس ، عراق میں داخل ہوا ، وہاں اس نے اپنی حاجت پوری کی ، پھر وہ شام میں داخل ہوا تو ان لوگوں نے اسے نکال دیا ، پھر وہ مصر میں داخل ہوا ، وہاں اُس نے انڈے دیے اور بچے دیے اور اپنی نسل کو پھیلایا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے وہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تو انہوں نے اسے نکال دیا یہاں تک کہ وہ ’’ بیسان ‘‘ پہنچ گیا ۔‘‘ یہ روایت یعقوب بن عبداللہ بن عتبہ بن اخنس نے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے اُن سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16660

Majma al-Zawaid #16660

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَسَّمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْخَيْرَ فَجَعَلَهُ عَشَرَةَ أَعْشَارٍ، فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَعْشَارٍ بِالشَّامِ، وَبَقِيَّتُهُ فِي سَائِرِ الْأَرْضِ. وَقَسَّمَ الشَّرَّ عَشَرَةَ أَعْشَارٍ، فَجَعَلَ جُزْءًا مِنْهُ بِالشَّامِ، وَبَقِيَّتُهُ فِي سَائِرِ الْأَرْضِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ ضِرَارٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ḍirār ibn ʿAmr al-Asadī reported from his father, from ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه, that Allah divided good into ten parts, placing nine in Shām and the rest in the rest of the earth; and He divided evil into ten parts, placing one part in Shām and the rest in the rest of the earth. > **"Allah divided good into ten parts: He placed nine parts in Shām and the remainder in the rest of the earth. And He divided evil into ten parts: He placed one part thereof in Shām and the remainder in the rest of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ضرار اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کو تقسیم کیا ، اس نے اُس ( بھلائی ) کے دس حصے بنائے ، تو دس میں سے نو حصے شام میں رکھ دیے ، اور باقی کا ایک حصہ پوری زمین میں رکھا ، اللہ تعالیٰ نے برائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا تو اس ( برائی ) کا ایک حصہ شام میں رکھا اور باقی کے تمام حصے پوری روئے زمین میں رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبداللہ بن ضرار نامی راوی ضعیف ہے ۔

16661

Majma al-Zawaid #16661

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَهْلُ الشَّامِ وَأَزْوَاجُهُمْ وَذَرَارِيُّهِمْ وَعَبِيدُهُمْ وَإِمَاؤُهُمْ إِلَى مُنْتَهَى الْجَزِيرَةِ مُرَابِطُونَ، فَمَنْ نَزَلَ مَدِينَةً مِنَ الشَّامِ، فَهُوَ فِي رِبَاطٍ، أَوْ ثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ، فَهُوَ مُجَاهِدٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَلَمْ يُسَمِّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the people of Shām, their spouses, offspring, slaves and maidservants to the edge of the peninsula are frontier guards; whoever settles in a city of Shām is in ribāṭ, and whoever stands at a frontier post thereof is a mujāhid. > **"The people of Shām, their spouses, their offspring, their slaves and their maidservants, to the edge of the peninsula, are frontier guards. Whoever settles in a city of Shām is in ribāṭ, and whoever stands at a frontier post thereof is a mujāhid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل شام ، ان کی بیویاں ، ان کے بال بچے ، ان کے غلام ، ان کی کنیزیں ، جزیرہ کی آخری حد تک پہریداری کرنے والے شمار ہوں گے ، جو شخص شام کے کسی شہر میں ٹھہرے گا وہ پہریداری کرنے والا ہو گا ، اور جو وہاں کی کسی پہاڑ کی دراڑ میں ٹھہرے گا ، وہ مجاہد ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ارطاۃ بن منذر کی ایک فرد کے حوالے سے ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16662

Majma al-Zawaid #16662

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ، وَعَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ، لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that a party of his Ummah will ever fight at the gates of Damascus and around it, and at the gates of Bayt al-Maqdis and around it; the forsaking of whoever forsakes them will not harm them, manifest upon truth until the Hour comes. > **"A party of my Ummah will ever fight at the gates of Damascus and around it, and at the gates of Bayt al-Maqdis and around it. The forsaking of whoever forsakes them will not harm them, manifest upon truth until the Hour comes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کا ایک گروہ ’’ دمشق ‘‘ کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد ، اور بیت المقدس کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد مسلسل جنگ کرتا رہے گا ، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس کی کوشش اُنہیں ( یعنی مسلمانوں کو ) کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور وہ لوگ قیامت قائم ہونے ایک مسلسل حق پر گامزن رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16663

Majma al-Zawaid #16663

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ - أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ - تَسُوقُ النَّاسَ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say a fire will emerge from the sea of Ḥaḍramawt — or from Ḥaḍramawt — driving people. They asked what he commanded them, and he said upon you is Shām. > **"A fire will emerge from the sea of Ḥaḍramawt — or from Ḥaḍramawt — driving people."** > **"Upon you is Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حضرموت کے سمندر سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرموت سے ایک آگ نکلے گی ، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16664

Majma al-Zawaid #16664

وَعَنْ حَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ كَلَالٍ قَالَ: «سَارَ عُمَرُ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ كَانَ إِلَيْهَا، حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ: أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: ارْجِعْ، وَلَا تَقْتَحِمْ عَلَيْهِ، فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ ; فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثَ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ ; لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ، أَلَا وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ بِمُؤَخِّرٍ فِي أَجَلِي، وَمَا كَانَ قَدُومِيهِ بِمُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي، أَلَا وَلَوْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِي عَنْهَا، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَنْزِلَ الشَّامَ، ثُمَّ أَدْخُلَ حِمْصَ ; لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ، وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ، وَحَائِطُهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥamrah ibn ʿAbd Kalāl reported that ʿUmar رضي الله عنه marched to Shām after his first march there until near it, when word reached him and those with him that plague raged therein, so his Companions said return and do not plunge into it; had he descended while it raged they would not see him leave it. So he turned back to Madīnah, halted that night, and Ḥamrah, nearest to him, rose with him and heard him say: they turned me back from Shām after I neared it because of plague — yet my turning from it will not delay my term, nor would my going forward hasten it. Were he to finish necessary affairs in Madīnah he would march until settling in Shām, then enter Ḥimṣ, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say Allah will raise from it on Resurrection Day seventy thousand with neither reckoning nor punishment, their rising between the olives and its wall in the red soil. > **"Allah will surely raise from it on the Day of Resurrection seventy thousand with neither reckoning nor punishment upon them; their rising is between the olives and its wall in the red soil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمرہ بن عبدکلال بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف ، اپنے پہلے سفر کے موقع پر ، شام جانے کے لیے روانہ ہوئے ، جب وہ شام کے قریب پہنچے تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں طاعون پھیل چکا ہے ، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا : آپ واپس چلیں اور شام میں داخل نہ ہوں ، اگر آپ شام گئے اور وہاں طاعون ہوا ، تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ آپ وہاں سے واپس آ پائیں گے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی طرف واپس مڑ گئے ، اس رات انہوں نے رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا ، میں اس وقت ان کے سب سے زیادہ قریب تھا ، جب وہ اُٹھے تو میں بھی ان کے پیچھے اُٹھا ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب میں شام کے قریب پہنچ چکا تھا تو ان لوگوں نے مجھے وہاں سے واپس کروا دیا ، کیونکہ وہاں طاعون موجود ہے ، خبردار ! وہاں سے میرا واپس لوٹ جانا ، میری موت کے وقت میں تاخیر نہیں کرے گا ، اور نہ ہی میرا وہاں چلے جانا ، موت کے مخصوص وقت کو جلدی کر دے تا ، خبردار ! میں مدینہ منورہ واپس جانے کے بعد ، ضروری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد پھر سفر کروں گا ، اور شام جا کے ٹھہروں گا ، اور پھر میں ’’ حمص ‘‘ میں داخل ہوؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) وہاں سے ستر ہزار ایسے افراد کو اُٹھائے گا ، جن سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا ، وہ لوگ وہاں کی نرم مٹی میں موجود زیتون ( کے درختوں ) اور اس کی دیواروں کے درمیان سے اُٹھائے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16665

Majma al-Zawaid #16665

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ، رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ، تَثُجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا، يَقُولُونَ: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادِ، فَيَقُولُ: صَدَقَ عِبَادِي، اغْسِلُوهُمْ بِنَهْرِ الْبَيْضَةِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ نَقَاءً بِيضًا، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو عِقَالٍ: هِلَالُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَسَارٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَفِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said ʿAsqalān is one of the two brides; seventy thousand with no reckoning will be raised from it on Resurrection Day, and fifty thousand martyrs will be raised from it as delegations to Allah, with rows of martyrs holding their severed heads in their hands, their jugulars gushing blood, saying Our Lord, grant us what You promised us through Your messengers; indeed You never break the promise. So He says My servants have spoken truth; wash them in the river of whiteness, and they emerge pure and white, roaming Paradise wherever they will. > **"ʿAsqalān is one of the two brides. Seventy thousand with no reckoning upon them will be raised from it on the Day of Resurrection, and fifty thousand martyrs will be raised from it as delegations to Allah. Therein are rows of martyrs, their severed heads in their hands, their jugulars gushing blood, saying: Our Lord, grant us what You promised us through Your messengers; indeed You never break the promise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عسقلان ، دو دلہنوں میں سے ایک ہے ، وہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھایا جائے گا ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، اور وہاں سے 50 ہزار شہداء کو اٹھایا جائے گا ، جو وفد کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جائیں گے ، اور ان شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے سر کٹے ہوئے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں موجود ہوں گے ، اُن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں وہ چیز عطا کر دے جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا ، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے ۔ تو پروردگار یہ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا ہے ، انہیں ” نہر بیضہ ‘‘ میں غسل دو ! وہ لوگ جب اُس سے نکلیں گے ، تو صاف ستھرے چمکدار ہوں گے اور پھر وہ جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں ٹھہر جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعقال ہلال بن زید بن یسار ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ اسماعیل بن عیاش نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16666

Majma al-Zawaid #16666

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَذْكُرُ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ يَوْمًا، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا، فَقَالَ: "" أَهْلُ مَقْبَرَةِ شُهَدَاءِ عَسْقَلَانَ يُزَفُّونَ إِلَى الْجَنَّةِ، كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ mention the people of a graveyard one day, pray over them abundantly, and when asked about them he said they are the martyred people of the graveyard of ʿAsqalān, escorted to Paradise as a bride is escorted to her husband. > **"They are the martyred people of the graveyard of ʿAsqalān; they are escorted to Paradise as a bride is escorted to her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، ایک دن آپ ﷺ نے ’’ اہل مقبرہ ‘‘ کا ذکر کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لیے دعائے رحمت کی اور ان کے لیے بکثرت دعائے رحمت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل مقبرہ ، عسقلان کے شہداء ہیں ، قیامت کے دن انہیں یوں اہتمام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ، جس طرح دلہن کو اس کے شوہر کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

16667

Majma al-Zawaid #16667

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ: "" صَلَّى اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْمَقْبَرَةِ "" ثَلَاثًا، قَالَ: فَلَمْ نَدْرِ أَيَّ مَقْبَرَةٍ، وَلَمْ يُسَمِّ لَهُمْ شَيْئًا. قَالَ: فَدَخَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَطَّافٌ: فَحُدِّثْتُ أَنَّهَا عَائِشَةُ - فَقَالَ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيَّ مَقْبَرَةٍ هِيَ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: "" أَهْلُ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَلَفْظُهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ وَصَلَّى عَلَى أَهْلِ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ». وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ يَسِيرٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Mālik ibn Buḥaynah رضي الله عنه reported that while the Messenger of Allah ﷺ sat among his Companions he said thrice, may Allah bless that graveyard, without naming it. A Companion then visited one of the Prophet's ﷺ wives — ʿAṭṭāf was told it was ʿĀʾishah رضي الله عنها — saying the Messenger of Allah ﷺ mentioned a graveyard and prayed over them without telling which. When the Messenger of Allah ﷺ visited her she asked him, and he said they are the people of a graveyard at ʿAsqalān; in another wording he sought forgiveness and prayed over the people of a graveyard at ʿAsqalān. > **"May Allah bless that graveyard."** > **"They are the people of a graveyard at ʿAsqalān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اُن مقبرہ والوں پر رحمت نازل کرے ، یہ کلمات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ، راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ نہیں ہو پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے کون سے قبرستان کو مراد لیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُن کے حوالے سے کوئی نام ذکر نہیں کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عطاف نامی راوی کہتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں ، اُن صحابی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے کسی قبرستان والوں کا ذکر کر کے اُن کے لیے دعائے رحمت کی ہے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سا قبرستان ہے ؟ جب نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے اُس قبرستان کے بارے میں دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عسقلان کے قبرستان کے لوگوں ( یعنی وہاں کے بارے میں ، میں نے وہ دعا کی تھی ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عسقلان کے قبرستان والوں کے لئے دعائے مغفرت کی اور اُن کے لیے دعائے رحمت کی ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی علی بن عبداللہ بن مالک بن بحینہ ہے اور امام بزار کی سند میں راوی کا نام مالک بن عبداللہ بن بحینہ ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16668

Majma al-Zawaid #16668

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرِيدَ الْغَزْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ، وَالْزَمْ فِي الشَّامِ عَسْقَلَانَ ; فَإِنَّهَا إِذَا دَارَتِ الرَّحَا فِي أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي خَيْرٍ وَعَافِيَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: "" «إِذَا دَارَتْ رَحَا أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي رَخَاءٍ وَعَافِيَةٍ» "". وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that a man came to the Prophet ﷺ saying he desired to fight in Allah's path, and he ﷺ said upon you is Shām, for Allah has guaranteed him Shām and its people; and keep in Shām to ʿAsqalān, for when the mill turns upon his Ummah — in another wording when the mill of his Ummah turns — its people will be in ease and well-being. > **"Upon you is Shām, for Allah has guaranteed me Shām and its people. And keep in Shām to ʿAsqalān, for when the mill turns upon my Ummah its people will be in ease and well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینا چاہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ، اور تم شام میں ’’ عسقلان ‘‘ میں رہنا ، کیونکہ جب میری امت میں ( فتنوں کی ) چکی گھومے گی ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ خیر اور عافیت میں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب میری امت کی چکی گھومے گی تو وہاں کے رہنے والے لوگ خوشحالی اور عافیت میں ہوں گے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

16669

Majma al-Zawaid #16669

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا الشَّامَ وَمَنْ فِيهَا مِنَ الرُّومِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكُمْ سَتَغْلِبُونَ عَلَى الشَّامِ، وَتُصِيبُونَ عَلَى بَحْرِهَا حِصْنًا يُقَالُ لَهُ: أَنَفَةٌ، يُبْعَثُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفَ شَهِيدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه reported that while sitting with the Messenger of Allah ﷺ they mentioned Shām and the Romans therein, so the Messenger of Allah ﷺ said you will overcome Shām and seize upon its sea a fortress called Anafah, from which seventy thousand martyrs will be raised on Resurrection Day. > **"You will overcome Shām and seize upon its sea a fortress called Anafah, from which seventy thousand martyrs will be raised on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، لوگوں نے شام کا اور وہاں موجود رومیوں کا ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تم لوگ شام پر غالب آ جاؤ گے اور تم وہاں کے سمندر میں موجود ایک قلعے میں پہنچو گے ، جس کا نام ’’ انفۃ ‘‘ ہو گا قیامت کے دن ، وہاں سے بارہ ہزار شہیدوں کو اُٹھایا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16670

Majma al-Zawaid #16670

وَعَنْ شُرَحْبِيلَ الْجُعْفِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الصَّنْعَةُ فَعَلَيْهِ بِعُمَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shuraḥbīl al-Juʿfī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whoever finds livelihood difficult should take to ʿUmān. > **"Whoever finds livelihood difficult should take to ʿUmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شرحبیل جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہو ، اسے عمان چلے جانا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16671

Majma al-Zawaid #16671

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: «ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيٍّ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، فَقَالُوا: الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: لَا ; إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْبُدَلَاءُ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْتَقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ الْمِقْدَادِ، وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْ عَلِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Shurayḥ ibn ʿUbayd reported that the people of Shām were mentioned before ʿAlī رضي الله عنه while he was in Iraq, and they said curse them, O Commander of the Faithful. He refused, saying he heard the Messenger of Allah ﷺ say the Substitutes are in Shām, forty men, each time one dies Allah replaces him with another; through them rain is sought, through them victory over enemies is granted, and through them punishment is turned away from the people of Shām. > **"The Substitutes are in Shām, forty men; each time a man dies Allah replaces him with another. Through them rain is sought, through them victory over enemies is granted, and through them punishment is turned away from the people of Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل شام کا ذکر کیا گیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت عراق میں تھے ، لوگوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ ان پر لعنت کیجئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ابدال شام میں ہوں گے ، وہ چالیس افراد ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی ایک فرد انتقال کر جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے فرد کو لے آئے گا ، اُن کی وجہ سے بارش نازل ہو گی ، اُن کے وسیلے سے دشمن کے خلاف مدد مانگی جائے گی اور اُن کی وجہ سے اہل شام سے عذاب کو پھیر دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شریح بن عبید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں انہوں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پہلے ہو گیا تھا ۔

16672

Majma al-Zawaid #16672

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو زَرْعَةَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that the Substitutes in this Ummah are thirty, like Khalīl al-Raḥmān; each time a man dies Allah replaces him with another. > **"The Substitutes in this Ummah are thirty, like Khalīl al-Raḥmān; each time a man dies Allah replaces him with another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ابدال اس امت میں ہوں گے ، وہ تیس افراد ہوں گے ، وہ حضرت خلیل الرحمن علیہ السلام کی مانند ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی فرد فوت ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا فرد لے آئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف عبدالواحد بن قیس کا معاملہ مختلف ہے اسے عجلی اور ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ان دونوں کے علاوہ لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

16673

Majma al-Zawaid #16673

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَزَالُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ بِهِمْ تَقُومُ الْأَرْضُ، وَبِهِمْ تُمْطَرُونَ، وَبِهِمْ تُنْصُرُونَ» "". قَالَ قَتَادَةُ: إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ الْحَسَنُ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُمَرَ، وَالْبَزَّارُ عَنْ عَنْبَسَةَ الْخَوَاصِّ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said thirty in his Ummah will ever remain, through whom the earth stands, through whom you are rained upon, through whom you are aided. Qatādah said he hopes al-Ḥasan is among them. > **"There will ever remain thirty in my Ummah; through them the earth stands, through them you are rained upon, and through them you are aided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں مسلسل 30 افراد ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے زمین قائم رہے گی اور اُن کے وسیلے سے بارش نازل کی جائے گی اور ان کے وسیلے سے مدد کی جائے گی ۔‘‘ قتادہ کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ حسن اُن لوگوں میں سے ایک ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے عمرو بزار کے حوالے سے عنبسہ خواص سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16674

Majma al-Zawaid #16674

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَنْ تَخْلُوَ الْأَرْضُ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِثْلَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَبِهِمْ تُسْقَوْنَ، وَبِهِمْ تُنْصَرُونَ، مَا مَاتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ آخَرَ» "". قَالَ سَعِيدٌ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ: لَسْنَا نَشُكُّ أَنَّ الْحَسَنَ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the earth will never be empty of forty men like Khalīl al-Raḥmān; through them you are given drink, through them you are aided; whenever one dies Allah replaces him with another. Saʿīd said he heard Qatādah say they do not doubt al-Ḥasan is among them. > **"The earth will never be empty of forty men like Khalīl al-Raḥmān; through them you are given drink and through them you are aided. Whenever one of them dies Allah replaces him with another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین ایسے 40 افراد سے خالی نہیں ہو گی ، جو حضرت خلیل الرحمن علیہ السلام کی مانند ہوں گے ، ان کی وجہ سے تم لوگوں کو سیراب کیا جائے گا ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی ، جب ان میں سے کوئی ایک فرد فوت ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا لے آئے گا ۔‘‘ سعید نامی راوی کہتے ہیں : میں نے قتادہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ حسن ان لوگوں میں سے ایک ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16675

Majma al-Zawaid #16675

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَزَالُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ، يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِمْ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْأَبْدَالُ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُمْ لَمْ يُدْرِكُوهَا بِصَلَاةٍ، وَلَا بِصَوْمٍ، وَلَا صَدَقَةٍ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبِمَ أَدْرَكُوهَا؟ قَالَ: "" بِالسَّخَاءِ، وَالنُّصْحِيَّةِ لِلْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ثَابِتِ بْنِ عَيَّاشٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْكَلْبِيِّ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said forty men of his Ummah will ever remain, their hearts upon the heart of Ibrāhīm; Allah repels harm from the people of earth through them; they are called the Substitutes. The Messenger of Allah ﷺ said they did not attain it by prayer, fasting, or charity. They asked how then, and he said by generosity and sincere counsel to the Muslims. > **"There will ever remain forty men of my Ummah, their hearts upon the heart of Ibrāhīm; Allah repels harm from the people of earth through them; they are called the Substitutes. They did not attain it by prayer, nor fasting, nor charity."** > **"By generosity and sincere counsel to the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں ہر وقت چالیس ایسے افراد ہمیشہ رہیں گے جن کے دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے اہل زمین سے ( عذاب وغیرہ کو ) پرے کرے گا ، انہیں ابدال کہا جائے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ نماز یا روزہ یا صدقہ کی وجہ سے اس مقام تک نہیں پہنچیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ کسی وجہ سے اس مقام تک پہنچیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سخاوت کی وجہ سے اور مسلمانوں کی خیرخواہی کی وجہ سے ( وہ اس مقام تک پہنچیں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے ثابت بن عیاش احدب کے حوالے سے ابورجاء کلبی سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16676

Majma al-Zawaid #16676

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: «لَمَّا فُتِحَتْ مِصْرُ سَبُّوا أَهْلَ الشَّامِ، فَأَخْرَجَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَأْسَهُ مِنْ بُرْنُسٍ ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" فِيهِمُ الْأَبْدَالُ، فَبِهِمْ تُنْصَرُونَ، وَبِهِمْ تُرْزَقُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، وَشَهْرٌ اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Ḥawshab reported that when Egypt was conquered and the people reviled the people of Shām, ʿAwf ibn Mālik رضي الله عنه thrust his head from his hooded cloak and said O people of Egypt, do not revile the people of Shām, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say among them are the Substitutes; through them you are aided and through them you are provided. > **"Among them are the Substitutes; through them you are aided and through them you are provided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب مصر فتح ہوا اور لوگوں نے اہل شام کو قیدی بنا لیا ، تو حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں سے اپنا سر باہر نکالا اور پھر یہ فرمایا : اے اہل مصر ! تم اہل شام کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ان میں ’’ ابدال ‘‘ ہوتے ہیں ، ان کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے ، اور ان کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، محمد بن مبارک صوری نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس میں ایک راوی شہر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16677

Majma al-Zawaid #16677

عَنْ سُوَيْدٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَهُ - قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ مَعُونَةً بِالشَّامِ، بِالظَّهْرِ وَالضَّرْعِ، كَمَا جَعَلَ يُوسُفَ بِمِصْرَ مَعُونَةً لِأَهْلِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Suwayd al-Alhānī رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ — or one who heard him narrated — say Allah made this clan of Lakhm and Judhām a support in Shām in mounts and udders, as He made Yūsuf a support for the people of Egypt. > **"Allah has made this clan of Lakhm and Judhām a support in Shām in mounts and udders, as He made Yūsuf a support for its people in Egypt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سوید الہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی ہے ، جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے لخم اور جذام ( نامی قبیلوں ) کو اہل شام کے لیے ، سواریوں اور تھنوں کے حوالے سے مددگار بنایا ہے ، جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں ، وہاں کے رہنے والوں کے لیے مددگار بنایا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16678

Majma al-Zawaid #16678

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْصَى عِنْدَ وَفَاتِهِ فَقَالَ: "" اللَّهَ اللَّهَ فِي قِبْطِ مِصْرَ، فَإِنَّكُمْ سَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَيَكُونُونَ لَكُمْ عُدَّةً وَأَعْوَانًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ counseled at his death, saying fear Allah, fear Allah regarding the Copts of Egypt, for you will prevail over them and they will be reinforcement and helpers for you in Allah's path. > **"Fear Allah, fear Allah regarding the Copts of Egypt, for you will prevail over them and they will be reinforcement and helpers for you in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وصال کے قریب نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مصر کے قبطیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ، اللہ سے ڈرتے رہنا ، عنقریب تم ان لوگوں پر غالب آ جاؤ گے اور وہ لوگ تمہاری تعداد میں اضافے کا باعث بنیں گے اور اللہ کی راہ میں تمہارے مددگار بن جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16679

Majma al-Zawaid #16679

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " إِذَا فُتِحَتْ مِصْرُ فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا ;، فَإِنَّ لَهُمْ دَمًا وَرَحِمًا» ".

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say when Egypt is opened, treat the Copts well, for they have blood-ties and kinship. > **"When Egypt is opened, treat the Copts well, for they have blood-ties and kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب مصر فتح ہو جائے تو تم قبطیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ! کیونکہ ان کے ساتھ خون اور رحم کا رشتہ ہے ۔‘‘

16680

Majma al-Zawaid #16680

وَفِي رِوَايَةٍ: "" إِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً "". يَعْنِي أَنَّ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ كَانَتْ مِنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported in another narration that the Prophet ﷺ said they have a covenant of protection, meaning that the mother of Ismāʿīl was from them. > **"They have a covenant of protection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ان کے لیے ذمہ ہو گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا تعلق اُن سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16681

Majma al-Zawaid #16681

وَعَنْ أَبِي هَانِئٍ: حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ - وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ - وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ وَغَيْرَهُمَا يَقُولَانِ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ قُوَّةٌ لَكُمْ، وَإِبْلَاغٌ إِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ "". يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hāniʾ Ḥumayd ibn Hāniʾ reported that he heard Abū ʿAbd al-Raḥmān al-Ḥubulī — ʿAbdullāh ibn Yazīd — and ʿAmr ibn Ḥurayth and others say that the Messenger of Allah ﷺ said you will come upon a curly-haired people, so treat them well, for they are strength for you and conveyance to your enemy by Allah's permission — meaning the Copts of Egypt. > **"You will come upon a curly-haired people, so treat them well, for they are strength for you and conveyance to your enemy by Allah's permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہانی حمید بن ہانی بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابوعبدالرحمن خولی رضی اللہ عنہ ، جن کا نام عبداللہ بن یزید ہے ، اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے علاوہ دیگر افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جن کے سر گھنگریالے بالوں والے ہوں گے ، تم ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو ! کیونکہ وہ تمہارے لیے اللہ کے اذن کے تحت قوت بن جائیں گے اور تمہیں دشمن تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں گے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد مصر کے قبطی تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16682

Majma al-Zawaid #16682

وَعَنْ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ مِصْرَ سَتُفْتَحُ فَانْتَجِعُوا خَيْرَهَا، وَلَا تَتَّخِذُوهَا دَارًا ; فَإِنَّهُ يُسَاقُ إِلَيْهَا أَقَلُّ النَّاسِ أَعْمَارًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُطَهِّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ يُونُسَ: مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Rabāḥ al-Lakhmī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said Egypt will be opened, so seek its good but do not take it as a home, for the shortest-lived people will be driven to it. > **"Egypt will be opened, so seek its good but do not take it as a home, for the shortest-lived people will be driven to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رباح لخمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک مصر عنقریب فتح ہو جائے گا ، تم وہاں سے بھلائی حاصل کرنا ، لیکن تم اسے رہائش گاہ نہ بنا لینا کیونکہ اس کی طرف اُن لوگوں کو لے کر جایا جائے گا ، جن کی عمریں کم ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطہر بن ہیثم ہے ابوسعید بن یونس کہتے ہیں : وہ متروک الحدیث ہے ۔

16683

Majma al-Zawaid #16683

عَنْ بِرَيْدَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" سَيَكُونُ بَعْدِي بُعُوثٌ كَثِيرَةٌ، فَكُونُوا فِي بَعْثِ خُرَاسَانَ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ ; فَإِنَّهُ بَنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا بِالْبَرَكَةِ، وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْأَوْسَطِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، وَهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِمَا.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that after him there will be many expeditions, so be in the expedition of Khurāsān, then settle in the city of Marw, for Dhū al-Qarnayn built it and supplicated blessing for its people, and no evil will harm its people. > **"After me there will be many expeditions, so be in the expedition of Khurāsān, then settle in the city of Marw, for Dhū al-Qarnayn built it and supplicated blessing for its people, and no evil will harm its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرے بعد عنقریب بہت سی جنگی مہمات بھیجی جائیں گی ، تو تم اس لشکر میں ہونا ، جو خراسان جائے گا اور پھر تم ’’ مرو ‘‘ نامی شہر میں پڑاؤ کرنا ، کیونکہ ’’ ذوالقرنین ‘‘ نے اُسے بنایا تھا اور اس کے رہنے والوں کے لئے برکت کی دعا کی تھی ، وہاں کے رہنے والوں کو کوئی برائی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام احمد اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی اوس بن عبداللہ ہے ، اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ہشام بن مصک ہے ، اور ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

16684

Majma al-Zawaid #16684

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «مَا أَخْبِيَةٌ بَعْدَ أَخْبِيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ يَدْفَعُ عَنْهَا مَا يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ، وَلَا يُرِيدُهُمْ أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَتَاهُمُ اللَّهُ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُمْ».

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said there are no tents after the tents that were with the Messenger of Allah ﷺ at Badr, through which defense was made, that repel from their people what they repel; none intends them with evil except Allah brings upon him what distracts him from them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ فرماتے ہیں : بدر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جو خیمے لگائے گئے تھے جن کے ذریعے بچاؤ کیا گیا ، ان کے بعد کوئی خیمہ ایسا نہیں ہے جو ان خیمے والوں سے زیادہ محفوظ ہو ، جو بھی شخص ان کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ایسی صورتحال کا شکار کرے گا کہ وہ ان کے حوالے سے توجہ ہٹا لے گا ۔

16685

Majma al-Zawaid #16685

وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ: «إِنَّكُمُ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: إِلَّا أَتَاهُمُ اللَّهُ بِمَا يَشْغَلُهُمْ. وَقَالَ الْبَزَّارُ: يَعْنِي الْكُوفَةَ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ - يَعْنِي الْكُوفَةَ -. وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said in another narration: O company of Arabs, today you commit matters that in the time of the Messenger of Allah ﷺ were outright hypocrisy — meaning the people of these tents, meaning Kūfah. > **"O company of Arabs, today you commit matters that in the time of the Messenger of Allah ﷺ were outright hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ انہوں نے فرمایا : اے عربوں کے گروہ ! آج تم کچھ ایسے امور کے مرتکب ہو رہے ہو کہ اگر وہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو وہ منافقت شمار ہوتے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی صورتحال کا شکار کر دے گا جو انہیں مشغول کر دے گی ‘‘ اور امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس سے مراد کوفہ ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” ان خیمے والوں سے مراد کوفہ ہے ۔‘‘ امام احمد اور امام بزار کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16686

Majma al-Zawaid #16686

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ: "" الْعِلْمُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرٌ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said were knowledge at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would reach it. > **"Were knowledge at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would reach it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر علم ثریا ( نامی ستارے ) پر ہو ، تو فارس کے رہنے والوں میں سے کچھ افراد اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں لفظ ’’ علم ‘‘ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16687

Majma al-Zawaid #16687

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ» "". رَوَاهُ أَبُويَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said were faith suspended at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would attain it. > **"Were faith suspended at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would attain it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ایمان ثریا ( نامی ستارے ) کے ساتھ لڑکا ہوا ہو ، تو فارس کے فرزندوں میں سے کچھ لوگ اُس تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16688

Majma al-Zawaid #16688

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ الدِّينُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that were religion suspended at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would reach it. > **"Were religion suspended at al-Thurayyā, men of the sons of Persia would reach it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر دین ثریا ستارے پر لٹکا ہوا ہو تو فارس کے فرزندوں میں سے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہیں اور وہ کذاب ہے ۔

16689

Majma al-Zawaid #16689

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَقَالَ: "" أَنْبَئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: "" هُمْ كَذَلِكَ، يَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا، بَلْ غَيْرُهُمْ؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ. قَالَ: "" هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمْ اللَّهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَنْبِيَاءِ، قَالَ: "" هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِالشَّهَادَةِ، بَلْ غَيْرُهُمْ "". قَالُوا: فَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ، يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that he sat with the Prophet ﷺ, who asked them to inform him of the best of believers in faith. They said the angels; he ﷺ said they are so, and rightly, with the station Allah granted them — rather others. They said the prophets honoured with mission and prophethood; he ﷺ said they are so and deserve it. They said the martyrs martyred alongside the prophets; he ﷺ said they are so and deserve it, honoured with martyrdom — rather others. They asked who then, and he ﷺ said peoples in the loins of men coming after him, believing in him without seeing him, affirming him without seeing him, finding suspended scripture and acting upon it; they are the best of believers in faith. > **"Inform me of the best of believers in faith?"** > **"Peoples in the loins of men, coming after me, believing in me without seeing me, affirming me without seeing me, finding suspended scripture and acting upon what is in it; they are the best of believers in faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھے ان کے بارے میں بتاؤ جو ایمان کے اعتبار سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہوں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فرشتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور انہیں یہ حق ہے کہ وہ ایسے ہوں ، ان کے لئے اس بارے میں کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مقام عطا کیا ہے بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انبیاء ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور نبوت کے ذریعے عزت عطا کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ، ان کے لیے اس بارے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مرتبہ و مقام عطا کیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ شہداء ہوں گے جنہوں نے انبیاء کے ساتھ شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ان کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے حوالے سے عزت عطا کی ہو ، بلکہ ان کے علاوہ اور لوگ ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ لوگ جو ابھی مردوں کی پشتوں میں ہیں اور میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے ، یہ لوگ ایمان کے حوالے سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔