Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 59

Book of Virtues and Merits

Hadith 16610–16649

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16610

Majma al-Zawaid #16610

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَشَرَةُ أَبْيَاتٍ بِالْحِجَازِ أَبْقَى مِنْ عِشْرِينَ بَيْتًا بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ preferred ten houses in al-Ḥijāz in endurance over twenty houses in al-Shām. > **"Ten houses in al-Ḥijāz outlast twenty houses in al-Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حجاز کے دس گھر ، شام میں بیس گھروں سے زیادہ باقی رہنے والے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16611

Majma al-Zawaid #16611

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ أَهْلِ الْحِجَازِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ placed hardness of hearts and harshness in Easterners, faith as Yemeni, and tranquillity in the people of al-Ḥijāz. > **"Hardness of hearts and harshness lie in Easterners, faith is Yemeni, and tranquillity lies in the people of al-Ḥijāz."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دلوں کی سختی اور مزاج کی تیزی ، اہل مشرق میں ہے اور ایمان یمنی ہے اور سکینت اہل حجاز میں ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اہل حجاز کے تذکرے کے اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16612

Majma al-Zawaid #16612

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلُ مَكَّةَ، وَأَهْلُ الطَّائِفِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَقَدْ تَقَدَّمَ إِخْرَاجُ أَهْلِ الْكُفْرِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿAbbād ibn Jaʿfar reports hearing the Messenger of Allah ﷺ name the first of his Ummah he shall intercede for on the Day of Resurrection as the people of Madīnah, Makkah, and al-Ṭāʾif. > **"The first of my Ummah I shall intercede for on the Day of Resurrection are the people of Madīnah, the people of Makkah, and the people of al-Ṭāʾif."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالملک بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن میں اپنی اُمت کے جن لوگوں کی سب سے پہلے شفاعت کروں گا وہ اہل مدینہ اہل مکہ اور اہل طائف ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الجہاد میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ جزیرہ عرب سے کافروں کو نکال دیا جائے گا ۔

16613

Majma al-Zawaid #16613

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَلَكِنْ قَدْ رَضِيَ بِمُحَقَّرَاتٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Satan has despaired of ever being worshipped in the Arabian Peninsula, yet he remains content with lesser, belittled sins. > **"Satan has despaired of being worshipped in the Arabian Peninsula, but he has become content with belittled deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اُس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16614

Majma al-Zawaid #16614

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Satan has despaired of being worshipped in this land of yours, but he is content with belittled deeds among you. > **"Satan has despaired of being worshipped in this land of yours, but he has become content with belittled deeds among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ تمہاری طرف سے چھوٹی چیزوں سے بھی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16615

Majma al-Zawaid #16615

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَقَدْ بَرَّأَ اللَّهُ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ مَا لَمْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah has cleared this peninsula of shirk, unless the stars lead them astray. > **"Allah has indeed cleared this peninsula of shirk, unless the stars lead them astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس جزیرے کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے تاوقتیکہ ستارے انہیں گمراہ نہ کریں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16616

Majma al-Zawaid #16616

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مُحْتَضِنًا ابْنَيِ ابْنَتِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "" وَاللَّهِ، إِنَّكُمْ تُجَبِّنُونَ وَتُبَخِّلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ وَجٍّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» "". وَقَالَ سُفْيَانُ: آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الطَّائِفُ، قَالَ الشَّاعِرُ: لَأَطَأَنَّكُمْ وَطْأَةَ الْمُتَادَلِ. وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا أَعْلَمُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint Ḥakīm رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ came out embracing his daughter's two sons, saying that by Allah, children make one cowardly and miserly, yet they are among the fragrance of Allah, and that the last treading Allah will tread is at Wajj. Sufyān noted the Prophet's ﷺ last campaign was Ṭāʾif, citing the poet's verse about treading down like one staggering. > **"By Allah, they make one cowardly and miserly, yet they are among the fragrance of Allah, and the last treading Allah will tread is at Wajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، آپ نے اپنے دونوں نواسوں کو گود میں اُٹھایا ہوا تھا آپ ﷺ نے یہ فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! تم ( یعنی انسان کی اولاد ) بزدل اور کمزور بنا دیتے ہو ، البتہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عطا کئے ہوئے پھول ہو ، اور بے شک آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ’’ وج ‘‘ کے مقام پر ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے اس روایت میں ” وج ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : وہ آخری روندنا ہو گا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار اس کو روند دے گا ۔‘‘ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جو آخری غزوہ کیا تھا وہ غزوہ طائف تھا ، شاعر نے کہا ہے : ’’ میں تم لوگوں کو یوں روند دوں گا ، جس طرح کوئی زخمی روندتا ہے ۔‘‘ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز نامی راوی نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16617

Majma al-Zawaid #16617

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ: «أَنَّهُ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: "" إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا اللَّهُ بِوَجٍّ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ وَجٍّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «آخِرُ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ» "". وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Murrah رضي الله عنه reported that al-Ḥasan and al-Ḥusayn رضي الله عنهما raced to the Messenger of Allah ﷺ, who embraced them and said that children cause miserliness and cowardice, and that the last treading Allah will tread is at Wajj. > **"Children cause miserliness and cowardice, and the last treading Allah will tread is at Wajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن دونوں کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور یہ ارشاد فرمایا : ’’ اولاد ( آدمی کو ) کنجوس اور بزدل بنا دیتی ہے اور آخری روندنا ، جو اللہ تعالی روندے گا وہ ’’ وج ‘‘ کے مقام پر ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن انہوں نے ’’ وج ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” وہ آخری روندنا ، جو تمام جہانوں کا پروردگار روندے گا ......‘‘۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16618

Majma al-Zawaid #16618

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَقِطَعِ السَّحَابِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ: وَمِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً: " إِلَّا أَنْتُمْ» ".

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ raised his head to the sky and said the people of Yemen have come to you like fragments of cloud, the best of the people of the earth. When a man present asked, "And us, O Messenger of Allah?" he said in a low voice that they were excepted. > **"The people of Yemen have come to you like fragments of cloud, the best of the people of the earth."** > **"Except you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’ اہل یمن تمہارے پاس آئیں گے جو بادل کے ٹکڑوں کی مانند ( نفع رساں ) ہیں ، اور وہ اہل زمین کے سب سے بہتر لوگ ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) آپ کے پاس موجود افراد میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور ہم میں سے ؟ ( یعنی ہم میں سے بھی کچھ لوگ بہتر ہیں ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے پست آواز میں ارشاد فرمایا : البتہ تمہارا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘

16619

Majma al-Zawaid #16619

وَفِي رِوَايَةٍ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ قَالَ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَأَنَّهُمُ السَّحَابُ، هُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ فَقَالَ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ كَلِمَةً ضَعِيفَةً: "" إِلَّا أَنْتُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِلَّا نَحْنُ». وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه reported by way of another narration that while with the Messenger of Allah ﷺ on the road to Makkah, he ﷺ said the people of Yemen would come upon them like clouds, the choicest of the people of the earth. An Anṣārī man asked three times, "And not us, O Messenger of Allah?" and he ﷺ remained silent, then said in a faint voice that they were excepted. > **"The people of Yemen will come upon you as though they are clouds; they are the choicest of the people of the earth."** > **"Except you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مکہ کے راستے میں ، ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، اس دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئیں گے ، وہ بادلوں کی مانند ( نفع رساں ) ہوں گے اور وہ روئے زمین پر موجود لوگوں میں بہترین ہوں گے ، تو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ ( یعنی کیا ہم روئے زمین کے سب سے بہتر لوگ نہیں ہیں ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے پست آواز میں ارشاد فرمایا :’’ البتہ تمہارا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : البتہ ہمارا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے ، اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار کی اسناد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16620

Majma al-Zawaid #16620

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَخْرُجُ مِنْ عَدَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ» "". قَالَ الْمُعْتَمِرُ: أَظُنُّهُ قَالَ: فِي الْأَعْمَاقِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: "" «مِنْ عَدَنَ أَبْيَنَ» "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُنْذِرٍ الْأَفْطَسِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said twelve thousand will come forth from ʿAdan aiding Allah and His Messenger ﷺ, the best of those between him and them. Al-Muʿtamir added his thought that it was said "in the depths," while another wording says "from ʿAdan Abyan." > **"Twelve thousand will come forth from ʿAdan aiding Allah and His Messenger; they are the best of those between me and them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عدن سے بارہ ہزار لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کریں گے اور وہ میرے اور اُن کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بہتر ہوں گے ۔‘‘ معتمر نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں :” اعماق میں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” معدن ابین سے ۔‘‘ ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف منذر افطس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16621

Majma al-Zawaid #16621

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: "" لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي، وَقَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيقَةً قُلُوبُهُمْ، يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ مَرَّتَيْنِ، فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصَاكَ، ثُمَّ يَفِيئُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تُبَادِرَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا، وَالْوَلَدُ وَالِدَهُ، وَالْأَخُ أَخَاهُ، فَانْزِلْ بَيْنَ الْحَيَّيْنِ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ قُطَيْبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen, saying perhaps he would pass by his grave and mosque, that he was sent to a tender-hearted people who fight for truth twice, so he should fight alongside whoever obeys him against whoever disobeys, until they return to Islam such that wife outpaces husband, child father, and brother brother in it, and that he should settle between the two clans of al-Sakūn and al-Sakāsik. > **"Perhaps you will pass by my grave and my mosque. I have sent you to a tender-hearted people who fight for truth twice; so fight with whoever obeys you among them against whoever disobeys you, then they will return to Islam until wife outpaces husband, child father, and brother brother. So settle between the two clans of al-Sakūn and al-Sakāsik."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہو سکتا ہے کہ آئندہ تمہارا گزر میری قبر اور میری مسجد کے پاس سے ہو ، میں تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ، جن کے دل نرم ہیں اور وہ حق کے لیے دو مرتبہ لڑائی کرتے ہیں ، تم اس شخص کے ساتھ مل کر جنگ کرنا ، جو اُن میں سے تمہاری اطاعت کرے گا ، اور اُس کے خلاف جنگ کرنا جو تمہاری نافرمانی کرے گا ، پھر وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے یہاں تک کہ ( یعنی اسلام قبول کرنے کے حوالے سے ) عورت اپنے شوہر پر ، اولاد اپنے والد پر اور بھائی ، بھائی پر سبقت لے جائے گا ، تم دو قبیلوں سکون اور سکاسک کے درمیان ٹھہرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ البتہ یزید بن قطیب نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16622

Majma al-Zawaid #16622

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ، قَوْمٌ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ، حَسَنَةٌ طَاعَتُهُمْ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَالْفِقْهُ يَمَانٌ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that while the Messenger of Allah ﷺ was in Madīnah he said Allāhu Akbar when Allah's help and victory came and the people of Yemen came, a people pure of heart and excellent in obedience; faith is Yemeni, understanding is Yemeni, and wisdom is Yemeni. > **"Allāhu Akbar! When the help of Allah and victory came, and the people of Yemen came — a people pure of heart, excellent in obedience. Faith is Yemeni, understanding is Yemeni, and wisdom is Yemeni."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں موجود تھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ اکبر ‘‘ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ، اور اہل یمن آ گئے جو ایسے لوگ ہیں ، جن کے دل صاف ہیں ، اور جن کی فرمانبرداری عمدہ ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ارشاد فرمایا ) ایمان ، یمانی ہے ، سمجھ بوجھ یمانی ہے اور دانائی یمانی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ بن مسلم حنفی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16623

Majma al-Zawaid #16623

وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ بِسْطَامٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرُوا حَاجَّ الْيَمَنِ وَمَا يَصْنَعُونَ فِيهِ، فَسَبَّهُمْ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الْيَمَنِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" زَيْنُ الْحَاجِّ أَهْلُ الْيَمَنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، فِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ḥayyān ibn Bisṭām al-Hudhalī reported that while with ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما, some mentioned the Yemeni pilgrims and their conduct and one man reviled them, so Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said not to revile the people of Yemen, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say the adornment of pilgrims is the people of Yemen. > **"The adornment of pilgrims is the people of Yemen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حیان بن بسطام ہذلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے یمن کے حاجیوں کا ذکر کیا اور حج کے دوران اُن کے طرز عمل کا ذکر کیا ، حاضرین میں سے کسی نے ان لوگوں کو برا کہا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم لوگ اہل یمن کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حاجیوں کی زینت اہل یمن ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں کچھ ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

16624

Majma al-Zawaid #16624

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَهُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ، وَإِنْ بَعُدَ مِنْهُمُ الْمَرْبَعُ، وَيُوشِكُ أَنْ يَأْتُوكُمْ أَنْصَارًا وَأَعْوَانًا، فَآمُرُكُمْ بِهِمْ خَيْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said faith is Yemeni, that they are from him and toward him though their abode is distant, that they will soon come as helpers and supporters, so he commands kindness toward them. > **"Faith is Yemeni; they are from me and toward me, though their abode is distant. They will soon come to you as helpers and supporters, so I command you to be good to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایمان یمانی ہے اور وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میری طرف آئیں گے ، اگرچہ جگہ دور ہے اور عنقریب وہ لوگ مددگار اور معاون بن کر تمہارے پاس آئیں گے ، تو میں تمہیں ان کے بارے میں بھلائی کا حکم دیتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

16625

Majma al-Zawaid #16625

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا، وَأَنْجَعُ طَاعَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: "" وَأَسْمَعُ طَاعَةً "". وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the people of Yemen are the softest of heart and the most beneficial in obedience, in another wording the most obedient. > **"The people of Yemen are the softest of heart and the most excellent in obedience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اہل یمن سب سے زیادہ نرم دل والے اور سب سے زیادہ اچھے طریقے سے اطاعت کرنے والے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں ۔‘‘ اس کی سند حسن ہے ۔

16626

Majma al-Zawaid #16626

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ قَالَ: «أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِيهِ أَحَدٌ، قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْإِيمَانُ يَمَانٌ هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ عُرْوَةَ بْنَ رُوَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Ruwaym reported that Anas ibn Mālik رضي الله عنه came to Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه in Damascus, who asked him for a ḥadīth heard directly from the Messenger of Allah ﷺ with none between, so Anas رضي الله عنه said he heard the Messenger of Allah ﷺ say faith is Yemeni, thus, toward Lakhm and Judhām. > **"Faith is Yemeni, thus, toward Lakhm and Judhām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروه بن رویم بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس پاس تشریف لائے ، جو اس وقت دمشق میں موجود تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ ان کے پاس آئے ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو اور اس حدیث میں آپ کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان کوئی اور نہ ہو ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایمان یمنی ہے اور اس طرح لخم اور جذام کی طرف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عروہ بن رویم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16627

Majma al-Zawaid #16627

وَعَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ: «أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ يَمَانٌ، وَالْحِكْمَةَ يَمَانِيَّةٌ، وَأَجِدُ نَفَسَ رَبِّكُمْ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَبِيبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shabīb Abū Rawḥ reported that a Bedouin asked Abū Hurayrah رضي الله عنه for a ḥadīth from the Prophet ﷺ, so he mentioned the Prophet ﷺ said faith is Yemeni, wisdom is Yemeni, and he finds the breath of your Lord from the direction of Yemen. > **"Faith is Yemeni, wisdom is Yemeni, and I find the breath of your Lord from the direction of Yemen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شبیب ابوروح بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس نے کہا : اے حضرت ابوہریرہ ! آپ مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کیجئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے ، اور میں اپنے پروردگار کی ( یعنی رحمت کا ) جھونکا یمن کی طرف پاتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف شبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16628

Majma al-Zawaid #16628

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَمُضَرُ عِنْدَ أَذْنَابِ الْإِبِلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said faith is Yemeni, while Muḍar are with the tails of camels. > **"Faith is Yemeni, while Muḍar are with the tails of camels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایمان یمنی ہے اور مضر ( قبیلے کے لوگ ) اونٹوں کی دموں کے پاس ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔

16629

Majma al-Zawaid #16629

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ مِنْ مَغَازِيهِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَيْنَاهُ فِيهِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَالْحِكْمَةُ هَاهُنَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kabshah al-Anmārī رضي الله عنه reported that on one of the campaigns with the Messenger of Allah ﷺ they halted, came to him, and he ﷺ raised his hands and said faith is Yemeni and wisdom is here toward Lakhm and Judhām. > **"Faith is Yemeni, and wisdom is here toward Lakhm and Judhām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنگ میں شرکت کے لیے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، جب ہم اس دوران آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کئے اور یہ ارشاد فرمایا : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت ، ادھر لخم اور جذام کی طرف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عروہ بن رویم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

16630

Majma al-Zawaid #16630

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَمُضَرُ عِنْدَ أَذْنَابِ الْإِبِلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said faith is Yemeni, while Muḍar are with the tails of camels. > **"Faith is Yemeni, while Muḍar are with the tails of camels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایمان یمنی ہے اور مضر ( قبیلے کے لوگ ) اونٹوں کی دموں کے پاس ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16631

Majma al-Zawaid #16631

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْإِيمَانُ يِمَانٌ فِي حِنْدِسٍ وَجُذَامَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَحَدِ مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAwf رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said faith is Yemeni, among Ḥindis and Judhām. > **"Faith is Yemeni, among Ḥindis and Judhām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایمان یمنی ہے اور حندس اور جذام ( نامی قبیلوں ) میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، البتہ میں نے اس کا کسی صحابی سے سماع نہیں پایا ہے ۔

16632

Majma al-Zawaid #16632

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ: كَنْزَ فَارِسَ، وَالرُّومِ، وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ، وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ، يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ، وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". قَالَهَا ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Khathʿam رضي الله عنه reported that during the Tabūk campaign the Messenger of Allah ﷺ halted one night, his Companions gathered, and he ﷺ said Allah had granted him that night the two treasures, of Persia and Rome, and aided him through kings, the red kings of Ḥimyar; there is no king but Allah; they will come taking from Allah's wealth and fighting in Allah's path. He said it three times. > **"Allah has granted me tonight the two treasures: the treasure of Persia and of Rome, and He has aided me through kings, the red kings of Ḥimyar. There is no king but Allah. They will come taking from the wealth of Allah and fighting in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ایک رات آپ ﷺ ٹھہرے ہوئے تھے ، آپ کے اصحاب آپ کے پاس اکٹھے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آج رات مجھے اللہ تعالیٰ نے دو خزانے عطا کیے ہیں ، اہل فارس کا خزانہ اور اہل روم کا خزانہ اور اس نے دو بادشاہوں کے ذریعے میری مدد کی ہے ، جو حمیر کے سفید فام لوگ ہیں ، ویسے بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، وہ لوگ آئیں گے اور اللہ کا مال حاصل کریں گے اور اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہمام شعبانی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16633

Majma al-Zawaid #16633

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ ; فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ فَقَالَ: "" لَا "". ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ، يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَهُمْ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ فَارِسَ وَالرُّومَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا مَرُّوا بِكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ، وَيَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَإِنَّهُمْ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ» "". وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ، فَقَدْ صَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbd رضي الله عنه reported that a man said, "O Messenger of Allah, curse the people of Yemen, for their might is severe, their numbers many, their fortresses strong," but he ﷺ said no. Then the Messenger of Allah ﷺ cursed the non-Arabs, Persia and Rome, and said when the Yemenis pass by you driving their women and carrying their sons on their shoulders, then they are from him and he is from them. > **"No."** > **"When they pass by you driving their women and carrying their sons upon their shoulders, then they are from me and I am from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں ، کیونکہ وہ لوگ زبردست لڑاکے ہیں ، اور ان کی تعداد زیادہ ہے ، اور ان کے قلعے مضبوط ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے عجمیوں پر لعنت کی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب وہ ( یعنی اہل یمن ) تمہارے پاس سے گزریں گے ، تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے ، انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے عجمیوں ، یعنی اہل فارس اور اہل روم پر لعنت کی .....‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اہل یمن تمہارے پاس سے گزریں گے تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے اور انہوں نے اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔‘‘ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے اور بقیہ نامی راوی نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

16634

Majma al-Zawaid #16634

وَعَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْفَهْمِيِّ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ مِنْ ثِيَابِ الْمَعَافِرِ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَعَنَ اللَّهُ هَذَا الثَّوْبَ، وَلَعَنَ مَنْ يَعْمَلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَلْعَنْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Thawr al-Fahmī رضي الله عنه reported that while with the Messenger of Allah ﷺ a garment of Maʿāfir cloth was brought, Abū Sufyān said may Allah curse the garment and whoever makes it, so the Messenger of Allah ﷺ said not to curse them, for they are from him and he is from them. > **"Do not curse them, for they are from me and I am from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثور فہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، وہاں ایک ’’ معافری ( یعنی یمنی ) کپڑا لایا گیا ، تو ابوسفیان نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کپڑے پر لعنت کرے اور اس شخص پر بھی لعنت کرے ، اسے بناتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ان لوگوں پر لعنت نہ کرو ! کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

16635

Majma al-Zawaid #16635

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَأَوْسَعْنَا لَهُ فَجَلَسَ، وَقَالَ: "" أَيْنَ أَصْحَابِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ، وَهُمْ مِنِّي؟ وَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَيَدْخُلُونَهَا مَعِي؟ "". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا قَالَ: "" نَعَمْ. أَهْلُ الْيَمَنِ الْمُطَرَّحِينَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ، الْمَدْفُوعُونَ عَنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَمْ يَقْضِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ فِيهِمْ خِلَافٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ يَتَضَمَّنُ بَعْضُهَا أَهْلَ الْيَمَنِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ came out while they sat, they made room, he sat and asked where are his Companions of whom he is and who are of him, with whom he will enter Paradise. They asked him to inform them, and he said yes: the Yemenis, cast aside at the ends of the earth, turned away from the doors of rulers, each dying with his need unfulfilled in his breast. > **"Where are my Companions of whom I am and who are of me, and I shall enter Paradise and they shall enter it with me?"** > **"Yes: the Yemenis, cast aside at the ends of the earth, turned away from the doors of rulers; each of them dies with his need unfulfilled in his breast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ کے لئے گنجائش بنائی ، آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرے وہ اصحاب کہاں ہیں کہ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں ، میں جنت میں داخل ہوؤں گا تو وہ میرے ساتھ اُس میں داخل ہوں گے ۔‘‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیں گے ؟ ( کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ) ’’ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! وہ اہل یمن ہیں ، جنہیں زمین میں دور کر دیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے دروازوں سے پرے کر دیا جاتا ہے اور ان میں سے کوئی ایک فرد مرتا ہے تو اس کی خواہش اس کے سینے میں ہی رہ جاتی ہے ، جسے وہ پوری نہیں کر سکا ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے عربوں کے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن کے ضمن میں اہل یمن کا ذکر بھی ہوا ہے ۔

16636

Majma al-Zawaid #16636

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ قِبَلَ الْعِرَاقِ، وَالشَّامِ وَالْيَمَنِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ عَلَى طَاعَتِكَ، وَحُطَّ مَنْ وَرَاءَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ looked toward Iraq, al-Shām, and Yemen and prayed O Allah, turn their hearts toward Your obedience and encompass those behind them. > **"O Allah, turn their hearts toward Your obedience, and encompass those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عراق ، شام اور یمن کی طرف دیکھا اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! اُن کے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف لے آ ! اور جو ان کے پیچھے ہیں انہیں گھیر لے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف علی بن بحرین بری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16637

Majma al-Zawaid #16637

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَفِي يَمَنِنَا "". فَقَالَ رَجُلٌ: وَفِي شَرْقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا "". فَقَالَ رَجُلٌ: وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، إِنَّ مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، وَبِهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ، وَبِهِ الدَّاءُ الْعُضَالُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ وَلَفْظُهُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا "". - مَرَّتَيْنِ - فَقَالَ رَجُلٌ: وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، وَبِهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الْشَّرِّ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed O Allah bless for us our Shām and our Yemen. A man said, "And our east, O Messenger of Allah?" He repeated the supplication, and when asked again about the east he said from there rises the horn of Satan, with it nine-tenths of evil and the incurable disease. > **"O Allah, bless for us our Shām and our Yemen."** > **"From there rises the horn of Satan, and with it nine-tenths of evil and the incurable disease."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو ہمارے شام اور ہمارے یمن میں ، ہمارے لئے برکت ڈال دے ۔‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے مشرقی علاقے کے لئے بھی ( یعنی دعا کیجئے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں ، ہمارے لئے برکت ڈال دے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے مشرق ( یعنی اس کے لئے بھی دعا کیجئے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت ڈال دے ( پھر نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے مخاطب ہو کر یہ ارشاد فرمایا : ) ’’ وہاں ( یعنی مشرق کی سمت میں ) سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا اور وہاں کفر کے دس میں سے نو حصے ہیں اور وہاں پیچیدہ بیماری ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو ہمارے لئے ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت ڈال دے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے مشرق کے لیے بھی ( یعنی دعا کیجئے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا ، اور وہاں شر کے دس میں سے نو حصے ہیں ۔‘‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

16638

Majma al-Zawaid #16638

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمُنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ ; فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ، وَفِسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr reported that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ narrated from the Prophet ﷺ that Shām will be opened for you, so when given choice of dwellings therein, take the city called Damascus, for it is the stronghold of the Muslims in the great battles, and their encampment therein is at land called al-Ghūṭah. > **"Shām will be opened for you; when you are given choice of dwellings therein, then take the city called Damascus, for it is the stronghold of the Muslims in the great battles, and their encampment therein is at a land called al-Ghūṭah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے ، ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب تمہارے لئے شام فتح ہو جائے گا ، جب تمہیں اس میں رہائشی جگہ کے بارے میں اختیار دیا جائے تو تم پر اس شہر میں رہنا لازم ہے ، جس کا نام ’’ دمشق ‘‘ ہو گا ، کیونکہ وہ جنگوں میں ، مسلمانوں کی چھاؤنی ہو گا ، اور اس میں سے ان کا خیمہ اُس جگہ پر ہو گا ، جس کا نام ’’ غوطہ ‘‘ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16639

Majma al-Zawaid #16639

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أَتَتْنِي مَلَائِكَةٌ، فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي، فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا فَالْإِيمَانُ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that while sleeping angels came, carried the pillar of the Book from beneath his pillow toward Shām, and that faith when tribulations fall will be in Shām. > **"While I slept, angels came and carried the pillar of the Book from beneath my pillow and took it to Shām. Verily, faith when tribulations fall will be in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے تکیہ کے نیچے سے کتاب کا ستون اٹھا لیا اور اسے لے کر شام کی طرف چلے گئے ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16640

Majma al-Zawaid #16640

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that while sleeping he saw the pillar of the Book taken from beneath his head, he thought it taken away, followed it with his gaze, and it was taken to Shām; verily faith when tribulations fall is in Shām. > **"While I slept I saw the pillar of the Book taken from beneath my head; I thought it taken away, so I followed it with my gaze, and it was taken to Shām. Verily, faith when tribulations fall is in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں سو رہا تھا اس دوران میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے سر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اسے لے جایا جائے گا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، تو اس کو شام کی طرف لے جایا گیا ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16641

Majma al-Zawaid #16641

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَإِذَا هُوَ قَدْ عُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ إِذَا كَانَتِ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that while sleeping he saw the pillar of the Book taken from beneath his head, followed it with his gaze, and it was directed to Shām; verily when tribulations come faith is in Shām. He said it three times. > **"While I slept I saw the pillar of the Book taken from beneath my head, so I followed it with my gaze, and it was directed to Shām. Verily, when tribulations come, faith is in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں سو رہا تھا ، میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اسے میرے سر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ دوڑائی ، تو اسے شام کی طرف لے جایا جا رہا تھا ، خبردار ! جب فتنے ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔

16642

Majma al-Zawaid #16642

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ فَالْأَمْنُ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَفِي أَحَدِهَا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ تُوبِعَ عَلَى هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported in another narration that the Messenger of Allah ﷺ said when tribulations fall, safety is in Shām. > **"When tribulations fall, safety is in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ جب فتنے واقع ہوں گے تو امن شام میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت میں اس کی متابعت کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16643

Majma al-Zawaid #16643

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ انْتُزِعَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ هَوِيَ بِهِ، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، وَإِنِّي أَوَّلْتُ أَنَّ الْفِتَنَ إِذَا وَقَعَتْ إِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he saw the pillar of the Book removed from beneath his pillow, followed it with his gaze, and it was a radiant light until he thought it taken away, directed to Shām; and he interpreted that when tribulations fall, faith is in Shām. > **"I saw the pillar of the Book removed from beneath my pillow, so I followed it with my gaze, and it was a radiant light until I thought it taken away, and it was directed to Shām. And I interpreted that when tribulations fall, faith is in Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا ، میں نے اس کی طرف نگاہ رکھی ، تو وہ ایک چمکتا ہوا نور تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اُسے لے جایا جائے گا ، تو اسے شام کی طرف لے جایا گیا ، میں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان شام میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

16644

Majma al-Zawaid #16644

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَمُودًا أَبْيَضَ كَأَنَّهُ لُؤْلُؤَةٌ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ، قَلْتُ: مَا تَحْمِلُونَ؟ فَقَالُوا: عَمُودُ الْكِتَابِ، أُمِرْنَا أَنْ نَضَعَهُ بِالشَّامِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ اخْتُلِسَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - تَخَلَّى مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَإِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى وُضِعَ بِالشَّامِ "". فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي؟ قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ḥawālah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that on the night of his ascension he saw a white pillar like a pearl carried by angels; he asked what they carried and they said the pillar of the Book, ordered to place it in Shām. And while sleeping he saw the pillar taken from beneath his pillow, thought Allah had forsaken the people of earth, followed it with his gaze as a radiant light before him until placed in Shām. Ibn Ḥawālah asked him to choose for him, and he said upon you is Shām. > **"I saw on the night I was taken a white pillar as though pearl, carried by angels. I said: What are you carrying? They said: The pillar of the Book; we were commanded to place it in Shām."** > **"Upon you is Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے ایک سفید ستون دیکھا جو جھلملاتا ہوا موتی تھا ، اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تم نے کیا اُٹھایا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ کتاب کا ستون ہے ، ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے شام میں نصب کریں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے کتاب کے ستون کو دیکھا کہ اُسے میرے تکیے کے نیچے سے نکال لیا گیا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس کو اہل زمین سے الگ کر دیا جائے گا ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، تو وہ میرے سامنے ایک چمکتے ہوئے نور کی مانند تھا ، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا ۔‘‘ حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ( کوئی شہر یا علاقہ ) تجویز کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16645

Majma al-Zawaid #16645

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّكُمْ سَتُجَنَّدُونَ أَجْنَادًا: جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَمِصْرَ، وَالْعِرَاقِ، وَالْيَمَنِ "". قَالُوا: فَخِرْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ "". قَالُوا: إِنَّا أَصْحَابُ مَاشِيَةٍ، وَلَا نُطِيقُ الشَّامَ، قَالَ: "" فَمَنْ لَمْ يُطِقِ الشَّامَ فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: "" «فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ» "". وَفِيهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُقْبَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that you will be formed into armies: an army in Shām, in Egypt, in Iraq, and in Yemen. They asked him to choose for them, and he said upon you is Shām. They said they were herders unable for Shām, so he said whoever cannot take Shām should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed him Shām. > **"You will be formed into armies: an army in Shām, in Egypt, in Iraq, and in Yemen."** > **"Upon you is Shām; and whoever cannot take Shām should join his Yemen, for Allah has guaranteed me Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب تم لوگ مختلف لشکر پاؤ گے ، شام میں ، مصر میں ، عراق میں ، یمن میں ، ایک ایک لشکر ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے کوئی اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم لوگوں پر شام میں رہنا لازم ہے ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : ہم مال مویشی والے لوگ ہیں ، ہم شام میں رہنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شام میں رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے یمن چلے جانا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ۔‘‘ ان دونوں روایات میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16646

Majma al-Zawaid #16646

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ بِالشَّامِ جُنْدٌ، وَبِالْيَمَنِ جُنْدٌ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي؟ قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Yazīd رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that there will be an army in Shām and an army in Yemen. A man stood asking him to choose for him, and he said upon you is Shām, for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"There will be an army in Shām and an army in Yemen."** > **"Upon you is Shām, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک لشکر شام میں ہو گا اور ایک لشکر یمن میں ہو گا ، ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر شام میں رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ متروک ہے ۔

16647

Majma al-Zawaid #16647

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي بَلَدًا أَكُونُ فِيهِ، فَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَبْقَى لَمْ أَخْتَرْ عَنْ قُرْبِكَ شَيْئًا. فَقَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ "". فَلَمَّا رَأَى كَرَاهِيَتِي لِلشَّامِ قَالَ: "" أَتَدْرِي مَا يَقُولُ اللَّهُ فِي الشَّامِ؟ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: يَا شَامُ، أَنْتِ صَفْوَتِي مِنْ بِلَادِي، أُدْخِلُ فِيكِ خِيرَتِي مِنْ عِبَادِي. إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ḥawālah al-Azdī رضي الله عنه reported that he said, "O Messenger of Allah, choose for me a land to dwell in; were I to know you would remain I would choose nothing over nearness to you." He ﷺ said upon you is Shām. When he saw his dislike for Shām, he said do you know what Allah says of Shām? Allah says: O Shām, you are My choicest land, in you I settle My choicest servants; Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"Upon you is Shām. Do you know what Allah says of Shām? Allah says: O Shām, you are My choicest land; in you I settle My choicest servants. Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کوئی شہر اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) جس میں ، میں رہوں ، اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ باقی رہیں گے تو میں نے آپ کے قرب کو چھوڑ کر اور کوئی چیز اختیار نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر شام میں رہنا لازم ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ کی کہ میں شام کو ناپسند کرتا ہوں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے شام کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ’’ اے شام ! تم میرے شہروں میں میرے منتخب کردہ ہو اور میں تم میں اپنے بندوں میں سے بہترین لوگوں کو داخل کروں گا ، ( پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں ، مجھے ضمانت دی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف صالح بن رستم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16648

Majma al-Zawaid #16648

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ قَامَ يَوْمًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا أَجْنَادًا مُجَنَّدَةً، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ "". فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ فَاخْتَرْ لِي، قَالَ: "" إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ ; فَإِنَّهُ خِيرَةُ الْمُسْلِمِينَ، وَصَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا صَفْوَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿIrbāḍ ibn Sāriyah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he stood among the people one day and said O people, you will soon be formed armies: an army in Shām, in Iraq, in Yemen. Ibn Ḥawālah said, "O Messenger of Allah, if I reach that time then choose for me," and he said he chooses Shām for him, for it is the choicest of Muslims and Allah's choicest land, to which He gathers His choicest creation; whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"O people, you will soon be formed armies: an army in Shām, an army in Iraq, and an army in Yemen."** > **"I choose Shām for you, for it is the choicest of the Muslims and Allah's choicest land; He gathers to it His choicest creation. Whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! عنقریب ایسا وقت آئے گا جب تم مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر عراق میں ہو گا ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، تو حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں ، تو آپ میرے لئے ( ان میں سے کسی ایک کو ) اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے لئے شام کو اختیار کرتا ہوں کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں کا علاقہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں ، اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے برگزیدہ بندوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص نہیں مانتا اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16649

Majma al-Zawaid #16649

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَجَنَّدَ النَّاسُ أَجْنَادًا، جُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْمَشْرِقِ، وَجُنْدٌ بِالْمَغْرِبِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي، فَإِنِّي فَتًى شَابٌّ، فَلَعَلِّي أُدْرِكُ ذَلِكَ، فَأَيُّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَفِيهِمَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said people will be formed into armies: in Yemen, Shām, the East, the West. A man said, "Welcome, O Messenger of Allah, choose for me, for I am a young man; perhaps I shall reach that — which do you command?" He said upon you is Shām. > **"People will be formed into armies: an army in Yemen, an army in Shām, an army in the East, and an army in the West."** > **"Upon you is Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر مشرق میں ہو گا ، ایک لشکر مغرب میں ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : آپ کو خوش آمدید ہے ، یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر لیں ( یعنی کوئی تجویز کر دیں ) کیونکہ میں ایک نوجوان شخص ہوں ، ہو سکتا ہے ، میں اس طرح کی صورتحال پا لوں ، تو آپ مجھے اس بارے میں کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔‘‘ یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، دونوں طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔