وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ قَامَ يَوْمًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوشِكُونَ أَنْ تَكُونُوا أَجْنَادًا مُجَنَّدَةً، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ "". فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ فَاخْتَرْ لِي، قَالَ: "" إِنِّي أَخْتَارُ لَكَ الشَّامَ ; فَإِنَّهُ خِيرَةُ الْمُسْلِمِينَ، وَصَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا صَفْوَتِهِ مِنْ خَلْقِهِ، فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيُسْقَ مِنْ غَدْرِهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Al-ʿIrbāḍ ibn Sāriyah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he stood among the people one day and said O people, you will soon be formed armies: an army in Shām, in Iraq, in Yemen. Ibn Ḥawālah said, "O Messenger of Allah, if I reach that time then choose for me," and he said he chooses Shām for him, for it is the choicest of Muslims and Allah's choicest land, to which He gathers His choicest creation; whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed him Shām and its people. > **"O people, you will soon be formed armies: an army in Shām, an army in Iraq, and an army in Yemen."** > **"I choose Shām for you, for it is the choicest of the Muslims and Allah's choicest land; He gathers to it His choicest creation. Whoever refuses should join his Yemen and drink from its pools, for Allah has guaranteed me Shām and its people."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! عنقریب ایسا وقت آئے گا جب تم مختلف لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر عراق میں ہو گا ، ایک لشکر یمن میں ہو گا ، تو حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں ، تو آپ میرے لئے ( ان میں سے کسی ایک کو ) اختیار کر دیں ( یعنی تجویز کر دیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے لئے شام کو اختیار کرتا ہوں کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں کا علاقہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں ، اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے برگزیدہ بندوں کو اس کی طرف بھیجے گا ، جو شخص نہیں مانتا اسے یمن چلے جانا چاہیے اور وہاں کے کنووں سے سیرابی حاصل کرنی چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے بارے میں ضمانت دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔