Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 58

Book of Virtues and Merits

Hadith 16570–16609

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16570

Majma al-Zawaid #16570

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «وَذَكَرَ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: "" هُمْ ضِخَامُ الْهَامِ، ثَبَتُ الْأَقْدَامِ، نُصَّارُ الْحَقِّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَشَدُّ قَوْمًا عَلَى الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ سَلَامٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، وَقَالَ: سَلَامٌ هَذَا أَحْسَبُهُ سَلَامً الْمَدَائِنِيَّ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ, mentioning Banū Tamīm, called them large-headed, firm-footed, helpers of truth at the end, hardest against the Dajjāl. > **"They are large of head, firm of foot, helpers of truth at the end of time, hardest against the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بنو تمیم کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ ان کے سر بڑے ہوتے ہیں ، یہ ثابت قدم ہوتے ہیں ، آخری زمانے میں یہ حق کے مددگار ہوں گے اور دجال کے خلاف سب سے زیادہ سخت قوم ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے سلام کے حوالے سے ، منصور بن زاذان سے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے : سلام نامی اس راوی کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ یہ سلام مدائنی ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔

16571

Majma al-Zawaid #16571

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «رُبَّمَا ضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَتِفِي وَقَالَ: "" أَحِبُّوا بَنِي تَمِيمٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ would sometimes strike his shoulder commanding love of Banū Tamīm. > **"Love Banū Tamīm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعض اوقات نبی اکرم ﷺ میرے کندھے پر ہاتھ مار کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ’’ تم لوگ بنو تمیم سے محبت رکھو !‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اس سند کے حوالے سے منقول ہے ، اس سند میں ایک راوی عبیدہ بن عبدالرحمن ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16572

Majma al-Zawaid #16572

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُكْبَانًا فَمَرَرْنَا بِهَجْمَةٍ فَقَالُوا: لِمَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: لِبَنِي الْعَنْبَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُولَئِكَ قَوْمُنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ: وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports riding with the Prophet ﷺ past a herd asked about and attributed to Banū al-ʿAnbar, whom the Prophet ﷺ claimed as his people. > **"Those are our people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہمارا گزر 100 اونٹوں کے لگ بھگ کے پاس سے ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کن کے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : بنو عنبر کے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” وہ لوگ ہماری قوم ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16573

Majma al-Zawaid #16573

وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ بِهِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ: "" مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ "". وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا: أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ، فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَؤُلَاءِ نَعَمُ قَوْمِي "". وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ: "" لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿIkrimah ibn Khālid reports a man disparaging Banū Tamīm before him, prompting him to seize pebbles, then citing a Companion that Tamīm mentioned before the Prophet ﷺ drew charges of lateness answered by pointing to Muzaynah's equal pace, then their red and black camels of charity hailed as his people's camels, and finally forbidding aught but good for them as longest-speared against the Dajjāl. > **"Say nothing of Banū Tamīm but good, for they are the longest-speared of men against the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کی موجودگی میں بنو تمیم کو برا بھلا کہا ، تو عکرمہ نے اپنے ہاتھ میں کنکریاں اُٹھا لیں ، تاکہ وہ اس شخص کو ماریں ، پھر عکرمہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے تمیم قبیلہ کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے یہ کہا : بنو تمیم کا یہ قبیلہ اس معاملے میں تاخیر سے کام لے رہا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مزینہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : وہ قوم تاخیر کرنے والی نہیں ہو گی ، جن میں یہ لوگ شامل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے یہ کہا : بنو تمیم کے لوگ صدقہ لانے میں تاخیر کر رہے ہیں ، اسی دوران بنو تمیم کے سرخ اور سیاہ اونٹ آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ میری قوم کے جانور ہیں ۔ ایک دن ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس بنو تمیم پر تنقید کی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بنو تمیم کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہو ، کیونکہ دجال کے خلاف اُن کے نیزے سب سے زیادہ لمبے ہوں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16574

Majma al-Zawaid #16574

عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ فَقَالَ: لِيُحَدِّثْ كُلُّ رَجُلٍ بِمَكْرُمَةِ قَوْمِهِ، وَمَا كَانَ فِيهِمْ مِنْ فَضْلٍ، فَحَدَّثَ كُلُّ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى الْحَدِيثُ إِلَى فَتًى مِنْ جُهَيْنَةَ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَجَزَ عَنْ تَمَامِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ: حَدِّثْ يَا أَخَا جُهَيْنَةَ! بِفِيكَ كُلِّهِ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «جُهَيْنَةُ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ، غَضِبُوا لِغَضَبِي، وَرَضُوا لِرِضَائِي، أَغْضَبُ لِغَضَبِهِمْ، وَأَرْضَى لِرِضَائِهِمْ، مَنْ أَغْضَبَهُمْ فَقَدْ أَغْضَبَنِي، وَمَنْ أَغْضَبَنِي فَقَدْ أَغْضَبَ اللَّهَ». فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا جَاءَ الْحَدِيثُ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يُكَذِّبُنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ حَرْبٍ ... وَيَشْتُمُنِي لِقَوْلِي فِي جُهَيْنَهْ وَلَوْ أَنِّي كَذَبْتُ لَكَانَ قَوْلِي وَلَمْ أَكْذِبْ لِقَوْمِي مِنْ مُزَيْنَهْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ وَأَنْتَ مَيِّتٌ ... رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ لَوِ اسْتَبْيَنَهْ يَقُولُ: الْقَوْمُ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ جُهَيْنَةَ يَوْمَ خَاصَمَهُ عُيَيْنَهْ إِذَا غَضِبُوا غَضِبْتُ وَفِي رِضَاهُمْ ... رِضَائِي مِنْهُ لَيْسَتْ مُنَيْنَهْ وَمَا كَانُوا كَذَكْوَانَ وَرِعْلٍ وَلَا الْحَيَّيْنِ مِنْ سَلَفِي جُهَيْنَهْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sabrah ibn Maʿbad رضي الله عنه, Companion of the Messenger, reports notables gathered with Muʿāwiyah رضي الله عنه praising their peoples until a Juhanī youth faltered, when ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه urged full speech, testifying he heard the Messenger of Allah ﷺ declare Juhaynah of him and he of them, angered and pleased together, anger at them anger at Allah; Muʿāwiyah claimed the report concerned Quraysh, answered in verse affirming hearing against ʿUyaynah's dispute, unlike Dhakwān, Riʿl, and two former clans. > **"Juhaynah is of me and I am of them; they anger at my anger and are pleased at my pleasure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مختلف قبائل کے لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہوئے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ ہر شخص اپنی قوم کی عزت افزائی کے بارے میں بات چیت کرے کہ ان لوگوں میں کیا فضیلت پائی جاتی ہے ؟ تو ہر شخص نے گفتگو میں حصہ لیا یہاں تک کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی باری آئی ، تو اس نے گفتگو کی ، لیکن وہ پوری طرح گفتگو نہیں کر سکا ، تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اے جہینہ قبیلے کے فرد ! تم کھل کر گفتگو کرو ! کیونکہ میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جہینہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ، وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتے ہیں اور میری رضامندی کی وجہ سے راضی ہوتے ہیں اور میں اُن کے غضب ناک ہونے کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہوں ، اور ان کے راضی ہونے کی وجہ سے راضی ہوتا ہوں ، جو شخص انہیں غضبناک کرے گا وہ مجھے غضب ناک کرے گا ، اور جو مجھے غضبناک کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو غضبناک کرے گا ۔‘‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ غلط کہہ رہے ہیں ، یہ حدیث قریش کے بارے میں ہے ، تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : ’’ معاویہ بن حرب نے مجھے جھوٹا قرار دیا ہے اور جہینہ قبیلے کے بارے میں ، میری بیان کی ہوئی بات کے حوالے سے مجھے برا کہا ہے ، میں نے جھوٹ نہیں بولا ہے میں نے اگر جھوٹ بولنا ہوتا تو میری بات ، میری قوم مزینہ قبیلے کے بارے میں ہوتی ، لیکن میں نے ایک دن نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، اگر میں تحقیق کروں ، تو تم اس وقت مردہ ہو گے ( یعنی مسلمان بھی نہیں ہوئے ہو گے ) نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا : ’’ یہ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے جہینہ قبیلے کے بارے میں فرمائی تھی ، اور اس دن فرمائی تھی جب عیینہ نے آپ کے ساتھ بحث کی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ جب وہ غضب ناک ہوں گے تو میں بھی غضب ناک ہوؤں گا ، اور ان کی رضامندی میں ، میری رضامندی ہے ، یہ مہربانی ہے اور چھوٹی مہربانی نہیں ہے اور نہ ہی یہ لوگ ذکوان اور رعل قبلے کی مانند ہیں ، اور نہ ہی وہ قبیلے ، جو جہینہ کے پہلے لوگوں میں سے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن معبد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16575

Majma al-Zawaid #16575

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: «قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ ". قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ مَرَّاتٍ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ، - أَوِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ -» ". مُخَارِقٌ الَّذِي شَكَّ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reports that when the Bajīlah delegation came, the Messenger of Allah ﷺ ordered recording them beginning with al-Aḥmusīs, while a Qaysī lingered to watch, then supplicated for them five times for blessing or prayer, doubted by Mukhāriq. > **"Record the Bajalīs and begin with the Aḥmusīs; O Allah, bless them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ’’ بجیلہ ‘‘ قبیلے کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بجیلہ قبیلے کے لوگوں کا نام نوٹ کرو اور احمس قبیلے کے لوگوں سے آغاز کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس قبیلے کا ایک فرد پیچھے رہ گیا ، راوی کہتے ہیں : میں اس بات کا جائزہ لے رہا تھا کہ اب نبی اکرم ﷺ ان کے لئے کیا کہتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لئے پانچ مرتبہ دعا کی :’’ اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما !‘‘۔ یا شاید یہی الفاظ تھے :’’ اے اللہ ! ان میں برکت رکھ دے ۔‘‘ یہ شک مخارق نامی راوی کو ہے ۔

16576

Majma al-Zawaid #16576

وَفِي رِوَايَةٍ: «قَدِمَ وَفْدُ أَحْمُسَ وَوَفْدُ قَيْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ "". ثُمَّ دَعَا لِأَحْمُسَ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي أَحْمُسَ وَخَيْلِهَا وَرِجَالِهَا "". سَبْعَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" ابْدَءُوا بِالْأَحْمُسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording the delegations of Aḥmus and Qays came to the Messenger of Allah ﷺ, who ordered beginning with the Aḥmusīs before the Qaysīs, then supplicated seven times for blessing upon Aḥmus, its horses, and its men. > **"Begin with the Aḥmusīs before the Qaysīs; O Allah, bless Aḥmus, its horses, and its men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ احمس قبیلے کے اور قیس قبیلے کے لوگوں کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیس قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو ! پھر آپ ﷺ نے احمس قبیلے کے لوگوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! تو احمس قبیلے کے لوگوں ، اُن کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد میں برکت رکھ دے !‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ کلمات آپ ﷺ نے سات مرتبہ ارشاد فرمائے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے ان کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ میں قبیلے سے پہلے احمس قبیلے کے لوگوں کو آنے دو !‘‘۔ ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16577

Majma al-Zawaid #16577

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى خَيْلِ أَحْمُسَ وَرِجَالِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn ʿUrfuṭah رضي الله عنه reports seeing the Messenger of Allah ﷺ raising his hands in supplication for the horses of Aḥmus and its men. > **"O Allah, bless the horses of Aḥmus and its men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے : ’’ اے اللہ ! تو احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد پر برکت نازل فرما !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16578

Majma al-Zawaid #16578

عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ: «ذُكِرَتْ قَيْسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" رَحِمَ اللَّهُ قَيْسًا "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَحَّمُ عَلَى قَيْسٍ؟! قَالَ: "" نَعَمْ ; إِنَّهُ كَانَ عَلَى دِينِ أَبِينَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ، يَا قَيْسُ حَيِّ يَمَنًا! يَا يَمَنُ حَيِّ قَيْسًا! إِنَّ قَيْسًا فُرْسَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَّنَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَيْسَ لِهَذَا الدِّينِ نَاصِرٌ غَيْرُ قَيْسٍ، إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ مُسَوَّمِينَ وَفُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مُعَلَّمِينَ، فُرْسَانُ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ قَيْسٌ إِنَّمَا قَيْسٌ بَيْضَةٌ تَفَلَّقَتْ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، إِنَّ قَيْسًا ضَرَّاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ "". يَعْنِي أَسَدَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ghālib ibn Abjar reports Qays mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, who invoked mercy upon Qays despite surprise, noting its adherence to the religion of their father Ismāʿīl ibn Ibrāhīm Khalīl Allāh, mutual greeting between Qays and Yemen, Qays as Allah's horsemen on earth, its sole support of religion at a coming time, marked horsemen of heaven and distinguished horsemen of earth, an egg split from the Household, and Allah's lion on earth. > **"May Allah have mercy on Qays; Qays are Allah's horsemen on earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے قیس قبیلے کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ قیس ( یعنی قیس قبیلے کے افراد ) پر رحم کرے ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپے قیس کے لیے دعائے رحمت کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ہمارے جدامجد حضرت اسماعیل علیہ السلام بن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دین پر تھے ، اسے قیس ! جو یمن کا قبیلہ ہے ، اے یمن ! جو قیس کا قبیلہ ہے ، بے شک قیس قبیلے کے لوگ زمین میں اللہ کے شہسوار ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب اس دین کا مددگار ، قیس قبیلے کے افراد کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں میں سے کچھ شہسوار بنائے ہیں ، جن پر نشان لگائے گئے ہیں اور زمین والوں میں سے کچھ شہسوار بنائے ہیں ، جن کی تربیت کی گئی ہے ، اہل زمین میں سے اللہ تعالیٰ کے شہسوار قیس قبیلے کے لوگ ہیں ، بے شک قیس قبیلے کے لوگ ایک ٹکڑا ہیں ، جو ہم سے الگ ہو گیا بے ، شک قیس قبیلے کے لوگ زمین میں اللہ کے شیر ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : لفظ ” ضراء “ کا مطلب شیر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16579

Majma al-Zawaid #16579

عَنِ ابْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ named the best of Easterners as ʿAbd al-Qays. > **"The best of Easterners is ʿAbd al-Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے لوگ ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16580

Majma al-Zawaid #16580

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ the same words naming the best of Easterners as ʿAbd al-Qays. > **"The best of Easterners is ʿAbd al-Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے لوگ ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16581

Majma al-Zawaid #16581

وَعَنْ نُوحِ بْنِ مَخْلَدٍ: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَسَأَلَهُ: "" مِمَّنْ أَنْتَ؟ "". فَقَالَ: أَنَا مِنْ ضُبَيْعَةَ مِنْ رَبِيعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَيْرُ رَبِيعَةَ عَبْدُ الْقَيْسِ، ثُمَّ الْحَيُّ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُمْ "". قَالَ: وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جُلْبَتَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَبْضَعَ مَعَهُ فِي جَيْشٍ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Nūḥ ibn Mukhallad reports coming to the Prophet ﷺ in Makkah and being asked his origin, answering Ḍubayʿah of Rabīʿah, whereupon the Messenger of Allah ﷺ named the best of Rabīʿah as ʿAbd al-Qays, then the clan he was from, and traded with him in goods to Yemen. > **"The best of Rabīʿah is ʿAbd al-Qays, then the clan you are from."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نوح بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت مکہ میں تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ضبیعہ بن ربیعہ سے تعلق رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ربیعہ میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلہ ہے ، اور پھر وہ قبیلہ ہے جس سے تم تعلق رکھتے ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے ہمراہ کچھ ساز و سامان بھی یمن بھیجا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہمراہ ایک لشکر میں سامان بھیجا ......‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16582

Majma al-Zawaid #16582

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا حَجِيجُ مَنْ ظَلَمَ عَبْدَ الْقَيْسِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared himself the disputant against whoever wrongs ʿAbd al-Qays. > **"I am the disputant against whoever wrongs ʿAbd al-Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اُس شخص کا مقابل فریق ہوؤں گا جو عبدالقیس ( یعنی اس قبیلے کے افراد ) کے ساتھ زیادتی کرے گا “۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16583

Majma al-Zawaid #16583

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ، بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ، نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ praised Azd as excellent people with sweet mouths, righteous oaths, and pure hearts. > **"Excellent people are Azd, sweet in mouths, righteous in oaths, pure in hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ازد ‘‘ قبیلے کے لوگ اچھے لوگ ہیں ، ان کے منہ پاکیزہ ہیں ، ان کی قسمیں سچی ہیں اور ان کے دل پاک و صاف ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16584

Majma al-Zawaid #16584

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نِعْمَ الْمُرْضِعُونَ أَهْلُ عُمَانَ» "". يَعْنِي الْأَزْدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ مَوْلَى طَلْحَةَ بْنِ دَاوُدَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn Dāwūd reports that the Messenger of Allah ﷺ praised the excellent nurslings, the people of Oman, meaning Azd. > **"Excellent nurslings are the people of Oman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن داؤد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دودھ پلانے والے اچھے لوگ اہل عمان ہیں ‘‘ راوی کہتے ہیں : یعنی ’’ ازد ‘‘ قبیلے کے لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ ہے جو حضرت طلحہ بن داؤد رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16585

Majma al-Zawaid #16585

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ، وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: "" أَمَا إِنِّي لَوْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزِدْ شَنُوءَةَ، وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ "". ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجَلَنْدِ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ، وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَدِمَتْ، وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مُوَرَّثًا، وَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ wrote to an Arab clan inviting them to Islam, who rejected the letter and reported back; he ﷺ said had it been sent to Azd Shanūʾah on the Oman coast and Aslam they would have accepted; he then sent to al-Julandā inviting him, who accepted Islam and sent a gift arriving after the Prophet ﷺ had passed, which Abū Bakr رضي الله عنه treated as inheritance dividing between Fāṭimah رضي الله عنها and al-ʿAbbās رضي الله عنه. > **"Had I sent it to a people on the Oman coast of Azd Shanūʾah and Aslam, they would have accepted it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی ، ان لوگوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا ، مکتوب لے جانے والے لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف واپس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے یہ مکتوب ’’ عمان ‘‘ کے کنارے موجود ’’ ازدشنوہ ‘‘ اور ’’ اسلم ‘‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھیجا ہوتا ، تو انہوں نے اسے قبول کر لینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ’’ جلند ‘‘ کو خط بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس مکتوب کو قبول کر لیا ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو تحفہ بھی بھجوایا ، جب وہ تحفہ آیا تو نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو چکا تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحفے کو وراثت میں منتقل کر دیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16586

Majma al-Zawaid #16586

وَعَنْ بِشْرِ بْنِ عِصْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَزْدِ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ، أَغْضَبُ لَهُمْ إِذَا غَضِبُوا، وَأَرْضَى لَهُمْ إِذَا رَضُوا» "". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقُرَيْشٍ، فَقَالَ بِشْرٌ: أَفَأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ لَوْ كَذَبْتُ عَلَيْهِ جَعَلْتُهَا لِقَوْمِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْقَبَائِلِ فَضْلُ الْأَزْدِ وَغَيْرِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Bishr ibn ʿIṣmah, Companion of the Prophet ﷺ, reports the Messenger of Allah ﷺ declaring Azd of him and he of them, angered and pleased together; when Muʿāwiyah claimed the words concerned Quraysh, Bishr denied lying upon the Messenger ﷺ, saying had he lied he would have assigned it to his own people. > **"Azd is of me and I am of them; I anger when they anger and am pleased when they are pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشر بن عصمہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ازد ، مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ، جب وہ غضب ناک ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی غضب ناک ہوؤں گا اور جب وہ راضی ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی راضی ہوؤں گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات قریش کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی ، تو حضرت بشر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرنی ہوتی ، تو میں اُسے اپنی قوم کے لیے منسوب کرتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : اس سے پہلے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں روایات میں ’’ ازد ‘‘ اور دیگر قبائل کی فضیلت کا بیان گزر چکا ہے ۔

16587

Majma al-Zawaid #16587

عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ «رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ: ""، أَنَا مِنْهُمْ، وَهُمْ مِنِّي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا بِاخْتِصَارٍ عَنِ ابْنِ أَخٍ لِسَعْدٍ، وَلَمْ يَسِمِّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ told Banū Nājiyah that he is of them and they of him. > **"I am of them and they are of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ میں اُن سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے متصل اور مرسل ، دونوں طرح سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، انہوں نے اسے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے کے حوالے سے نقل کیا ہے ، لیکن اس کا نام بیان نہیں کیا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16588

Majma al-Zawaid #16588

وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بَنِي نَاجِيَةَ فَقَالَ: هُمْ مِنَّا. قَالَ شُعْبَةُ: يَرْوُونَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُمْ حَيٌّ مِنِّي "". وَأَحْسَبُهُ قَالَ: "" وَأَنَا مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ.

EnglishUnverified translation

Shuʿbah reports asking Saʿd ibn Ibrāhīm about Banū Nājiyah, who called them of them, citing a report through Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنه from the Prophet ﷺ that they are a clan of him and he of them. > **"They are a clan of me, and I am of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شعبہ بیان کرتے ہیں : میں نے سعد بن ابراہیم سے بنو ناجیہ کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا : وہ ہم میں سے ہیں ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے : ” وہ ایسا قبیلہ ہے ، جو مجھ سے ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں :” اور میں اُن سے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ سعد بن ابراہیم نامی راوی نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16589

Majma al-Zawaid #16589

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعُمِائَةٍ مِنْ دَوْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَرْحَبًا أَحْسَنَ النَّاسِ وُجُوهًا، وَأَطْيَبَهُمْ أَفْوَاهًا، وَأَعْظَمَهُمْ أَمَانَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports four hundred of Daws coming to the Messenger of Allah ﷺ, who welcomed them as best-faced, sweetest-mouthed, and most trustworthy. > **"Welcome, best of men in faces, sweetest in mouths, and greatest in trust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :” دوس ‘‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چار سو افراد ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسے لوگوں کو خوش آمدید ہے ، جو چہرے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں ، سب سے زیادہ پاکیزہ منہ والے ہیں اور سب سے زیادہ امانت دار ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16590

Majma al-Zawaid #16590

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدٍ: «أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَوَلَدِهِ، فَاسْتَأْذَنُوا عَلَيْهِ، فَدَخَلُوا فَقَالَ: "" مَنْ هَؤُلَاءِ؟ "". فَقِيلَ لَهُ: هَذَا وَفْدُ عَنَزَةَ، فَقَالَ: "" بَخٍ بَخٍ بَخٍ بَخٍ، نِعْمَ الْحَيُّ عَنَزَةُ، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ، مَرْحَبًا بِقَوْمِ شُعَيْبٍ، وَأُخْتَانِ مُوسَى، سَلْ يَا سَلَمَةُ، عَنْ حَاجَتِكَ "". فَقَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَمَّا افْتَرَضْتَ عَلَيَّ فِي الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْعَنْزِ. فَأَخْبَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهُ قَرِيبًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فِي الِانْصِرَافِ، فَقَالَ: "" انْصَرِفْ "". فَمَا عَدَا أَنْ قَامَ لِيَنْصَرِفَ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ كَفَافًا لَا فُوتًا، وَلَا إِسْرَافًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَقَالَ: "" «اللَّهُمَّ ارْزُقْ عَنَزَةَ قُوتًا لَا سَرَفَ فِيهِ» "". وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Saʿd رضي الله عنه reports arriving as a delegation with household and sons, seeking permission and entering, identified as the delegation of ʿAnazah, praised as an excellent clan wronged yet aided, welcomed as the people of Shuʿayb and the two sisters linked with Mūsā; asked his need, he asked the obligations on camels, sheep, and goats, was informed, sat awhile, sought leave, and was bidden farewell with supplication for sufficient provision without lack or excess. > **"Excellent clan is ʿAnazah, wronged yet aided; O Allah, provide ʿAnazah sufficiency without lack or excess."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنے گھر والوں اور اولاد کے ایک گروہ کے ہمراہ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، جب وہ اندر آئے تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو آپ کو بتایا گیا : یہ عنزہ قبیلے کے وفد کے افراد ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، عنزہ ، اچھا قبیلہ ہے ، جب ان کے خلاف کوشش کی گئی تو ان کی مدد کی گئی ، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو خوش آمدید ! اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی دو بہنوں کی قوم کو خوش آمدید ! اے سلمہ ! تم اپنی حاجت کے بارے میں پوچھو ! تو حضرت سلمہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں آپ کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں کہ اونٹوں اور بکریوں وغیرہ میں مجھ پر کیا زکوۃ فرض ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس بارے میں بتایا ، پھر وہ کچھ دیر نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے رہے ، پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے واپسی کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ ! جب وہ واپس جانے کے لیے اُٹھنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو عنزہ قبیلے کے لوگوں کو ایسا رزق عطا فرما جو بنیادی ضروریات پوری کرتا ہو ، نہ وہ اس سے کم ہو اور نہ فضول خرچی والا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو عنزہ قبیلے کو ایسی خوراک عطا فرما ، جس میں اسراف نہ ہو ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایسے لوگ ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16591

Majma al-Zawaid #16591

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ نُعَيْمٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عِصَامٍ جَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا رَبَاحٍ، مَا الَّذِي ذَكَرَ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ حِينَ قَدِمْتَ عَلَيْهِ فِي قَوْمِكَ عَنْزَةٌ؟ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ وَمِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَنَزِيُّ، فَقَالَ: عَنَزَةُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَذْكُرُ قَوْمَكَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَنَزَةُ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ: "" حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا، مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ، مَنْصُورُونَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ: أَنَّ أَبَاهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَنْظَلَةَ. وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ḥanẓalah ibn Nuʿaym reports ʿUmar ibn ʿIṣām asking what the Commander of the Faithful ʿUmar رضي الله عنه told him concerning ʿAnazah; he answered that ʿUmar, upon hearing his lineage, recalled the Messenger of Allah ﷺ mentioning his people and pointing eastward as a clan wronged yet aided. > **"A clan from here, wronged yet aided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حنظلہ بن نعیم بیان کرتے ہیں : عمر بن ہشام اُن کے پاس آئے اور بولے : اے ابورباح ! وہ واقعہ کیا ہے ؟ کہ جب آپ اپنی قوم عنزہ قبیلے کے ہمراہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے وہ بات کی تھی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کون ہو اور تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں حنظلہ بن نعیم عنزی ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : عنزہ قبیلے سے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن تمہاری قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! عنزہ قبیلے کے لوگ کون ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا : ’’ وہ اس طرف کا ایک قبیلہ ہے ، جب ان کے خلاف لڑائی کی جائے تو ان کی مدد کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام احمد نے بھی یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ غضبان بن حنظلہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد وفد کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے حنظلہ کا ذکر نہیں کیا ، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے تمام رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16592

Majma al-Zawaid #16592

عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَبْطَحِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ، فَقَالَ: " مَنْ أَنْتُمْ؟ ". فَقُلْنَا: بَنُو عَامِرٍ، فَقَالَ: " مَرْحَبًا أَنْتُمْ مِنِّي» ".

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reports coming to the Prophet ﷺ at al-Abṭaḥ in his red tent, asked their identity and answering Banū ʿĀmir, welcomed as of him ﷺ. > **"Welcome, you are of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ ابطح ‘‘ کے مقام پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ اس وقت سرخ رنگ کے خیمے میں موجود تھے ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ کون ہو ؟ ہم نے عرض کی بنو عامر ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خوش آمدید ! تم لوگ مجھ سے ہو ۔

16593

Majma al-Zawaid #16593

وَفِي رِوَايَةٍ: " «مَرْحَبًا بِكُمْ» ".

EnglishUnverified translation

In another wording the welcome is addressed to them directly. > **"Welcome to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ تم لوگوں کو خوش آمدید !‘‘

16594

Majma al-Zawaid #16594

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَأَنَا مِنْكُمْ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَأَبُو يَعْلَى أَيْضًا، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording he ﷺ adds his belonging to them. > **"And I am of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” اور میں تم سے ہوں “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور معجم اوسط میں اُن صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، یہ روایات امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہیں اور ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16595

Majma al-Zawaid #16595

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ - أَوْ قَالَ: يُثْنِي عَلَيْهِمْ - حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reports witnessing the Messenger of Allah ﷺ supplicate for this clan of Nakhaʿ, or praise them, until he wished himself one of them. > **"O Allah, bless this clan of Nakhaʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے نخع قبیلے کے لئے دعا کی تھی راوی کہتے ہیں ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کی تعریف بیان کی ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی : کہ کاش میں اُن کا ایک فرد ہوتا ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16596

Majma al-Zawaid #16596

عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: «وَفَدْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَنِي عَنِ الْيَمَامَةِ: "" فِيَمَنِ الْعَدْلُ مِنْ أَهْلِهَا؟ "". فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: فِي بَنِي عَبْدِ الدُّؤَلِ، ثُمَّ كَرِهْتُ أَنْ أَكْذِبَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: الْعَدْلُ مِنْهُمْ فِي بَنِي عُبَيْدٍ، فَقَالَ: "" صَدَقْتَ، أَرْضٌ ثَبَتَتْ عَلَى شَدٍّةٍ وَلَنْ تَهْلِكَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" إِنَّهُمْ يَعْمَلُونَ بِأَيْدِيهِمْ، وَيُؤَاكِلُونَ عَبِيدَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Maʿbad reports delegating to the Prophet ﷺ, asked in whose hands lies justice among Yamāmah's people; intending Banū ʿAbd al-Duʾal but fearing to lie, he named Banū ʿUbayd, confirmed truthful as a land firm on hardship never perishing, explained by working with hands and eating with slaves. > **"You spoke truly; they work with their hands and eat with their slaves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے یمامہ کے بارے میں دریافت کیا : کہ وہاں کے رہنے والوں میں عادل کون ہے ؟ میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ یہ چیز بنو عبدالدؤل میں پائی جاتی ہے ، لیکن پھر مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غلط بیانی کروں ، تو میں نے کہا : ان میں عدل ، بنو عبید میں پایا جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے سچ کہا ہے ، وہ ایک ایسی سرزمین ہے جو شدت پر جمی رہتی ہے ، اور ہلاکت کا شکار نہیں ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کام کرتے ہیں ، اور اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ کھلاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16597

Majma al-Zawaid #16597

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فَالْعَدْلُ فِي مُضَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ placed justice in Muḍar when men differ. > **"When men differ, justice lies in Muḍar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب لوگوں کے درمیان اختلاف ہو ، تو عدل ، مضر میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن مؤمل کے حوالے سے مثنیٰ بن صباح سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

16598

Majma al-Zawaid #16598

عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ طَاحِيَةٍ مُهَاجِرًا يُقَالُ لَهُ: بَيْرَحُ بْنُ أَسَدٍ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَيَّامٍ، فَرَآهُ عُمَرُ فَعَلِمَ أَنَّهُ غَرِيبٌ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: هَذَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ الَّتِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: عُمَانُ، يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ، بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ، لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abū Labīd reports a Ṭāḥiyah migrant Bayraḥ ibn Asad reaching Madīnah days after the Messenger's ﷺ passing, recognised by ʿUmar رضي الله عنه as a stranger of Oman, taken to Abū Bakr رضي الله عنه as of the land the Messenger ﷺ knew as Oman washed by the sea, whose Arabs would not shoot his messenger with arrow or stone. > **"I know a land called Oman, washed at its side by the sea, with an Arab clan whom, had my messenger come to them, they would not shoot with arrow or stone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابولبید بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص ” طاحیہ ‘‘ سے ہجرت کر کے نکلا ، اس کا نام بیرح بن اسد تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے کچھ دن بعد مدینہ منورہ پہنچا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا ، تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اجنبی شخص ہے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے بتایا : اہل عمان سے ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا اہل عمان سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لے کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ بات بیان کی : کہ یہ شخص اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں ایک ایسی سرزمین کے بارے میں جانتا ہوں ، جس کا نام عمان ہے ، اور اس کے کنارے پر سمندر موجود ہے ، وہاں عربوں کا ایک قبیلہ ہے ، اگر ان لوگوں کے پاس میرا قاصد پہنچ جائے تو وہ لوگ اسے تیر یا پتھر نہیں ماریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف لمازہ بن زبار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ نے بھی یہ روایت اس طرح نقل کی ہے ۔

16599

Majma al-Zawaid #16599

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا عَلِيُّ، أُوصِيكَ بِالْعَرَبِ خَيْرًا، أُوصِيكَ بِالْعَرَبِ خَيْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: أَسْنَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي فَقَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ enjoining him twice to goodness toward the Arabs. > **"O ʿAlī, I enjoin goodness toward the Arabs; I enjoin goodness toward the Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! میں تمہیں عربوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، میں تمہیں عربوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک دی ہوئی تھی ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ امام بزار کے رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

16600

Majma al-Zawaid #16600

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ، وَالْقُرْآنَ عَرَبِيٌّ، وَكَلَامَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَلِسَانَ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ» "". وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded love of the Arabs for three: his Arabness, the Arabic Qurʾān, and the Arabic speech of Paradise's people. > **"Love the Arabs for three: I am Arab, the Qurʾān is Arabic, and the speech of Paradise's people is Arabic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین وجوہ سے ، عربوں سے محبت رکھو ! کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہل جنت کا کلام عربی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اہل جنت کی زبان عربی ہو گی ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی علاء بن عمرو حنفی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

16601

Majma al-Zawaid #16601

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي دَعَوْتُ لِلْعَرَبِ فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُعْتَرِفًا بِكَ فَاغْفِرْ لَهُ أَيَّامَ حَيَاتِهِ، وَهِيَ دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -، وَإِنَّ لِوَاءَ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِي، وَإِنَّ أَقْرَبَ الْخَلْقِ إِلَى لِوَائِي يَوْمَئِذٍ الْعَرَبُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ: "" «اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُصَدِّقًا بِكَ، مُوقِنًا فَاغْفِرْ لَهُ» "". فَقَطْ. وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for the Arabs that whoever meets Allah affirming Him be forgiven life's days, the supplication of Ibrāhīm and Ismāʿīl عليهما السلام, with the banner of praise in his hand on the Day of Resurrection and the Arabs nearest to his banner. > **"O Allah, whoever of them meets Thee affirming Thee, forgive him the days of his life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے عربوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! ان میں سے جو شخص ایسی حالت میں تیری بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ تیرے بارے میں اعتراف کرتا ہو ، تو اس کی پوری زندگی کی مغفرت کر دینا ‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بھی یہی دعا تھی ، اور قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور اُس دن مخلوق میں سے میرے جھنڈے کے سب سے زیادہ قریب عرب ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ اے اللہ ! ان میں سے جو ایسی حالت میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں کہ وہ تیری تصدیق کرتا ہو اور تجھ پر یقین رکھتا ہو ، تو اس کی مغفرت کر دینا ۔‘‘ ان دونوں روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16602

Majma al-Zawaid #16602

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا عَرَبِيٌّ، وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ، وَلِسَانُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ declared himself Arab, the Qurʾān Arabic, and the tongue of Paradise's people Arabic. > **"I am Arab, the Qurʾān is Arabic, and the tongue of Paradise's people is Arabic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

16603

Majma al-Zawaid #16603

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَحْيًا قَطُّ عَلَى نَبِيٍّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ إِلَّا بِالْعَرَبِيَّةِ، ثُمَّ يَكُونُ هُوَ بَعْدُ يُبَلِّغُهُ قَوْمَهُ بِلِسَانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ swore that Allah never sent down direct revelation to a prophet but in Arabic, after which he conveys it to his people in his tongue. > **"By Him in Whose Hand is my soul, Allah never sent down revelation to a prophet between Him and him but in Arabic, then he conveys it to his people in his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی پر جو بھی وحی نازل کی ، تو اللہ تعالیٰ اور اس نبی کے درمیان ، وہ وحی ، عربی زبان میں ہوتی تھی ، اور پھر اس کے بعد وہ نبی اُس وحی کو اپنی قوم کی زبان میں قوم تک پہنچاتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16604

Majma al-Zawaid #16604

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حُبُّ قُرَيْشٍ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ، وَحُبُّ الْعَرَبِ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ. مَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ made love of Quraysh faith and hatred disbelief, and love of the Arabs faith and hatred disbelief, tying love and hatred of the Arabs to love and hatred of himself. > **"Love of Quraysh is faith and hatred of them disbelief, and love of the Arabs is faith and hatred of them disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش سے محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن سے بغض رکھنا کفر ہے ، عربوں سے محبت رکھنا ایمان ہے اور اُن سے بغض رکھنا کفر ہے ، جو شخص عربوں سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو عربوں سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔

16605

Majma al-Zawaid #16605

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ إِلَّا مُنَافِقٌ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ declared none hates the Arabs but a hypocrite. > **"None hates the Arabs but a hypocrite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عربوں سے بغض کوئی منافق ہی رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن جبیرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

16606

Majma al-Zawaid #16606

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare no believer hates the Arabs, nor does a believer love Thaqīf. > **"No believer hates the Arabs, and no believer loves Thaqīf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کوئی مومن ، عربوں سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی مومن ، ثقیف سے محبت نہیں رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عامر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16607

Majma al-Zawaid #16607

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا ذَلَّتِ الْعَرَبُ ذَلَّ الْإِسْلَامُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَصْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ tied the humiliation of Islam to the humiliation of the Arabs. > **"When the Arabs are humiliated, Islam is humiliated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب عرب ذلت کا شکار ہو جائیں گے تو اسلام کمزور ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خطاب بصری ہے جسے ازدی اور دیگر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16608

Majma al-Zawaid #16608

عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَّ إِبْلِيسَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسُيُّ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarīr reports from the Prophet ﷺ that Iblīs despaired of being worshipped in the land of the Arabs. > **"Iblīs has despaired of being worshipped in the land of the Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ابلیس اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب کی سرزمین پر اس کی عبادت کی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر احمسی ہے ، جس کو عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16609

Majma al-Zawaid #16609

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا: "" «أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه and ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه report the Messenger of Allah ﷺ telling them Satan despaired of being worshipped in the Arabian Peninsula. > **"Satan has despaired of being worshipped in the Arabian Peninsula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اُس کی عبادت کی جائے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔