Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 57

Book of Virtues and Merits

Hadith 16530–16569

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16530

Majma al-Zawaid #16530

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيِّهِمْ، وَجِيرَانِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِشَامِ بْنِ هَارُونَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Rifāʿah ibn Rāfiʿ رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for the Anṣār, their offspring, their offsprings' offspring, and their neighbours. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the offspring of the Anṣār, the offspring of their offspring, and their neighbours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی اور اُن کے پڑوسیوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہشام بن ہارون کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16531

Majma al-Zawaid #16531

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَزْوَاجِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ supplicated for the Anṣār, their sons, their sons' sons, their wives, and their offspring. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the sons of the Anṣār, the sons of the sons of the Anṣār, their wives, and their offspring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو انصار کی اور انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی ، اُن کی بیویوں کی ، اُن کی اولاد کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16532

Majma al-Zawaid #16532

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thābit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for the Anṣār, their sons, and their sons' sons. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the sons of the Anṣār, and the sons of the sons of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن زائدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16533

Majma al-Zawaid #16533

وَعَنْ عَوْفٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَشْهَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf al-Anṣārī al-Ashhalī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for the Anṣār, their sons, their sons' sons, and their clients. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the sons of the Anṣār, the sons of the sons of the Anṣār, and the clients of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف انصاری اشہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو انصار کی ، انصار کے بچوں کی ، انصار کے بچوں کے بچوں کی اور انصار کے غلاموں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16534

Majma al-Zawaid #16534

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْإِيمَانُ يَمَانٌ [وَرَدْءُ] الْإِيمَانِ فِي قَحْطَانَ، وَالْقَسْوَةُ فِي وَلَدِ عَدْنَانَ، حِمْيَرُ رَأْسُ الْعَرَبِ وَنَابُهَا، وَمَذْحِجٌ هَامَتُهَا وَعِصْمَتُهَا، وَالْأَزْدُ كَاهِلُهَا وَجُمْجُمَتُهَا، وَهَمْدَانُ غَارِبُهَا وَذُرْوَتُهَا، اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْأَنْصَارَ الَّذِينَ أَقَامَ اللَّهُ بِهِمْ الدِّينُ، الَّذِينَ آوَوْا، وَنَصَرُوا، وَحَمَوْنِي، وَهُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا، وَشِيعَتِي فِي الْآخِرَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ place faith in Yemen, its support in Qaḥṭān, hardness in ʿAdnān's sons, Ḥimyar the head and tooth, Madhḥij the crown and protection, Azd the shoulder and skull, Hamdān the withers and peak, then praying might for the Anṣār through whom Allah established religion, who sheltered, aided, and protected him, his companions in this world, partisans in the next, and first of his Ummah into Paradise. > **"O Allah, honour the Anṣār through whom Allah established the religion, who sheltered, aided, and protected me; they are my companions in this world, my partisans in the Hereafter, and the first of my Ummah to enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایمان یمنی ہے اور ایمان کے مددگار قحطان میں ہیں اور سختی عدنان کی اولاد میں ہے ، حمیر عربوں کا سر اور اصل ہیں اور ازد ان کا کاہل ( مخصوص رگ ) اور جمجمہ ( سر کی ہڈی ) ہیں اور مذحج اُن کا سر ہیں اور ان کا بچاؤ ہیں اور ہمدان ان کی گردن اور کوہان ہیں ، اے اللہ ! انصار کو عزت دے ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کو قائم کیا ، جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی اور میری حمایت کی ، وہ دنیا میں میرے ساتھی ہیں اور آخرت میں میرا گروہ ہیں اور میری امت میں سے وہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16535

Majma al-Zawaid #16535

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي طَلْحَةَ: "" «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ مَا عَلِمْتُهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ told Abū Ṭalḥah رضي الله عنه to convey salām to his people and tell them they are, as he knew them, chaste and patient. > **"Convey salām to your people, and tell them they are, as I knew them, chaste and patient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم اپنی قوم کو سلام کہہ دینا اور انہیں یہ بتانا کہ ان کے بارے میں میرا علم یہی ہے کہ وہ مانگنے سے بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16536

Majma al-Zawaid #16536

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ مَنْزِلِهِ سَمِعَهُ يَتَكَلَّمُ فِي الدَّاخِلِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ دَخَلَ، فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَمِعْتُكَ تُكَلِّمُ غَيْرَكَ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ دَخَلْتَ الدَّاخِلَ اغْتِمَامًا بِكَلَامِ النَّاسِ مِمَّا بِي مِنَ الْحُمَّى، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا بِعْدَكَ أَكْرَمَ مَجْلِسًا، وَلَا أَحْسَنَ حَدِيثًا مِنْهُ. قَالَ: "" ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَإِنَّ مِنْكُمْ لَرِجَالًا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يُقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ visited a fevered Anṣārī, heard him speaking within yet found none, was told a man of unmatched مجلس and speech visited him grieving over men's talk, and identified him as Jibrīl, noting men among them whose oaths Allah fulfils. > **"That was Jibrīl, and among you are men whom, if one swears by Allah, He fulfils him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، جب آپ اس کے گھر کے قریب تشریف لائے تو آپ نے اندر سے کسی کے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، جب آپ نے اجازت لی اور اندر تشریف لے گئے تو آپ کو کوئی نظر نہیں آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے دریافت کیا : میں نے تمہیں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سنا تھا ؟ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص بخار کی وجہ سے میری مزاج پرسی کے لیے آیا ، میں نے اس جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بیٹھتا ہو اور آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بات چیت کرتا ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور تم لوگوں میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک اللہ کے نام پر قسم اٹھا دے تو اللہ تعالیٰ اُسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی اسانید حسن ہیں ۔

16537

Majma al-Zawaid #16537

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: افْتَخَرَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ، فَقَالَتِ الْأَوْسُ: مِنَّا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ: حَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ، وَمِنَّا مَنِ اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَمِنَّا مَنْ حَمَتْهُ الدُّبُرُ: عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَفْلَحِ، وَمِنَّا مَنْ أُجِيزَتْ شَهَادَتُهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ: خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ. وَقَالَ الْخَزْرَجِيُّونَ: مِنَّا أَرْبَعَةٌ جَمَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْمَعْهُ غَيْرُهُمْ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ،. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَطْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports Aws and Khazraj boasting: Aws naming Ḥanẓalah washed by angels, Saʿd ibn Muʿādh at whom the Throne shook, ʿĀṣim protected by hornets, and Khuzaymah whose testimony equalled two; Khazraj naming four who gathered the Qurʾān under the Messenger ﷺ: Zayd ibn Thābit, Abū Zayd, Ubayy ibn Kaʿb, and Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنهم. > **"Four gathered the Qurʾān under the Messenger of Allah ﷺ, none but they: Zayd ibn Thābit, Abū Zayd, Ubayy ibn Kaʿb, and Muʿādh ibn Jabal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اوس اور خزرج کے قبیلے کے لوگوں نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، اوس قبیلے کے لوگوں نے کہا : ہم میں وہ فرد ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا اور وہ حضرت حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں ، جن کے لئے رحمان کا عرش ہل گیا تھا اور وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں جنہیں دبر ( نامی کیڑے نے ) کاٹ لیا تھا ، اور وہ حضرت عاصم بن ثابت بن ابوافلح رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سے وہ فرد ہیں کہ جن کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا گیا ہے ، اور وہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں ، خزرج قبیلے کے لوگوں نے کہا : ہم میں چار افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں قرآن کو جمع کیا تھا ، اُن کے علاوہ اور کسی نے قرآن کو جمع نہیں کیا ، اور وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں ، اس میں سے صرف یہ حصہ ہے :” جنہوں نے قرآن کو جمع کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16538

Majma al-Zawaid #16538

وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَعُدَّ غَيْرَ خَمْسَةٍ مِنَ السِّتَّةِ.

EnglishUnverified translation

Dāwūd ibn Abī Hind, Ismāʿīl ibn Abī Khālid, and Zakariyyā ibn Abī Zāʾidah report that six companions gathered the Qurʾān under the Messenger of Allah ﷺ, all of the Anṣār, naming Ubayy ibn Kaʿb, Muʿādh ibn Jabal, Zayd ibn Thābit, Abū Zayd, and Saʿd ibn ʿUbayd رضي الله عنهم, though only five of the six are counted. > **"Six of the companions of the Messenger of Allah ﷺ gathered the Qurʾān under the Messenger of Allah ﷺ, all of them of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

داؤد بن ابوہند ، اسماعیل بن ابوخالد اور زکریا بن ابوزائدہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے چھ افراد نے قرآن کو جمع کیا تھا ، اُن سب کا تعلق انصار سے ہے ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن عبید رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند منقطع ہے اور چھ میں سے صرف ان پانچ افراد کا نام ذکر کیا گیا ہے ۔

16539

Majma al-Zawaid #16539

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ مِثْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَقِبَ هَذَا، وَفِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn ʿUbayd رضي الله عنه reports the like concerning gathering the Qurʾān. > **"Six of the companions gathered the Qurʾān under the Messenger of Allah ﷺ, all of them of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن عبید کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16540

Majma al-Zawaid #16540

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ تَبُوكَ، وَكَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ قَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ "". فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ قَالَ: "" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "". ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: "" هَلْ تُحِبُّونَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِدُورِ الْأَنْصَارِ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ عَبْدُ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ "". فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلْتَنَا آخِرَ الْقَبَائِلِ، قَالَ: "" إِذَا كُنْتَ مِنَ الْخِيَارِ فَحَسْبُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reports that when the Prophet ﷺ returned from Tabūk at the pass he ﷺ said Allāhu Akbar, then looking at Uḥud declared its mutual love, then named the best Anṣārī homes as ʿAbd al-Ashhal, Dār al-Ḥārith ibn al-Khazraj, Banū al-Najjār, then Banū Sāʿidah; when Saʿd رضي الله عنه complained of being last, he ﷺ answered sufficiency in being among the best. > **"The best homes of the Anṣār are ʿAbd al-Ashhal, then Dār al-Ḥārith ibn al-Khazraj, then Dār Banī al-Najjār, then Dār Banī Sāʿidah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب تبوک سے تشریف لائے تو آپ گھاٹی پر پہنچے ، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! اور جب آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر آپ نے توجہ دی اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں انصار کے گھرانوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر عبداشہل ہیں ، پھر حارث بن خزرج کا گھرانہ ہے ، پھر بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں قبائل میں ، سب سے آخر میں کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم بہترین لوگوں میں سے ہو ، تو یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16541

Majma al-Zawaid #16541

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ وَهُنَّ يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَقُلْنَ: نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِنَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ رَشِيدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَرَشِيدٌ هَذَا قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ passed slave-girls of Banū al-Najjār beating the duff and singing of themselves and the excellence of Muḥammad ﷺ as neighbour, whereupon the Prophet of Allah ﷺ prayed for blessing upon them. > **"O Allah, bless them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بنو نجار کی کچھ لڑکیوں کے پاس سے گزرے ، جو دف بجاتے ہوئے یہ گا رہی تھیں : ’’ ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اور حضرت محمد ﷺ کتنے اچھے پڑوسی ہیں ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! انہیں برکت نصیب فرما !‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے رشید کے حوالے سے ثابت سے نقل کی ہے اور رشید نامی اس راوی کے بارے میں امام ذہبی نے یہ کہا ہے : یہ مجہول ہے ۔

16542

Majma al-Zawaid #16542

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، - أَوْ غِفَارُ وَأَسْلَمُ - وَمَنْ كَانَ مِنْ أَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ، - أَوْ جُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ - حُلَفَاءُ مَوَالِي، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khālid رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named Quraysh, the Anṣār, Aslam, Ghifār, and those of Ashjaʿ and Juhaynah as allied clients with no protector but Allah and His Messenger ﷺ. > **"Quraysh, the Anṣār, Aslam, Ghifār, and whoever is of Ashjaʿ and Juhaynah are allied clients; they have no protector besides Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قریش ، انصار ، اسلم اور غفار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) غفار اور اسلم اور اشجع اور جہینہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہینہ اور اشجع سے تعلق رکھنے والے لوگ ، جو ایک دوسرے کے حلیف ہیں ، وہ میرے ساتھی ہیں اور اُن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ اور کوئی مولیٰ نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد امام طبرانی نقل کی ہے جو اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری سے نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے ۔

16543

Majma al-Zawaid #16543

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ، وَسُلَيْمٌ، أَوْلِيَائِي، لَيْسَ لَهُمْ وَلِيٌّ دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named Quraysh, the Anṣār, Juhaynah, Muzaynah, Aslam, Ghifār, Ashjaʿ, and Sulaym as his allies with no protector but Allah and His Messenger ﷺ. > **"Quraysh, the Anṣār, Juhaynah, Muzaynah, Aslam, Ghifār, Ashjaʿ, and Sulaym are my allies; they have no protector besides Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار ، اشجع اور سلیم ( یعنی ان قبائل کے افراد ) یہ میرے ساتھی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ اور کوئی ولی نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16544

Majma al-Zawaid #16544

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ جَمَاعَةً مِنَ الْعَرَبِ يَتَفَاخَرُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا هَذَا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، الَّذِي أَسْمَعُ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الْعَرَبُ تَفَاخَرُ فِيمَا بَيْنَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِذَا فَاخَرْتَ النَّاسَ فَفَاخِرْ بِقُرَيْشٍ، وَإِذَا كَاثَرْتَ فَكَاثِرْ بِتَمِيمٍ، وَإِذَا حَارَبْتَ فَحَارِبْ بِقَيْسٍ، أَلَا إِنَّ وُجُوهَهَا كِنَانَةٌ، وَلِسَانَهَا أُسْدٌ، وَفُرْسَانَهَا قَيْسٌ. يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِلَّهِ فُرْسَانًا فِي سَمَائِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ، وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَلَهُ فُرْسَانٌ فِي أَرْضِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ، وَهُمْ قَيْسٌ. يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنَّ آخِرَ مَنْ يُقَاتِلُ عَنِ الْإِسْلَامِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا ذِكْرُهُ، وَعَنِ الْقُرْآنِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا رَسْمُهُ لَرَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ قَيْسٍ؟ قَالَ: "" مِنْ سُلَيْمٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reports coming to the Prophet ﷺ amid boasting Arabs and being told to boast through Quraysh, match numbers through Tamīm, and fight through Qays, whose faces are Kinānah, tongue Asd, and horsemen Qays; Allah's horsemen in heaven are angels and on earth Qays, and the last to fight for Islam when only its mention remains and for the Qurʾān when only its script remains shall be a man of Qays, of Sulaym. > **"O Abā al-Dardāʾ, when you boast before men, boast through Quraysh; when you match numbers, match through Tamīm; and when you fight, fight through Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عربوں کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : اے ابودرداء ! یہ کیا معاملہ ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عرب ہیں ، جو ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! جب تم نے لوگوں کے سامنے فخر کا اظہار کرنا ہو ، تو قریش کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا ، اور جب کثرت کا اظہار کرنا ہو ، تو تمیم کے حوالے سے کثرت کا اظہار کرنا ، اور جب جنگ کرنی ہو ، تو قیس قبیلے کی مدد سے جنگ کرنا ، کیونکہ ان کے چہرے ترکش ہیں ، ان کی زبان شیر کی ہے اور ان کے گھڑ سوار قیس ہیں ۔ اے ابودرداء ! آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کچھ شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کے شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ قیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔ اے ابودرداء ! اسلام کی طرف سے جو لوگ آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اسلام کا تذکرہ باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حوالے سے جو لوگ سب سے آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اس کی رسم باقی رہ جائے گی ، وہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیس قبیلے میں سے ( کون سی شاخ کے ) لوگ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

16545

Majma al-Zawaid #16545

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ذُكِرَتِ الْقَبَائِلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: "" جَمَلٌ أَزْهَرُ، يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ "". وَسَأَلُوهُ عَنْ هَوَازِنَ فَقَالَ: "" زَهْرَةٌ تَنْبُعُ مَاءً "". وَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: "" ثَبَتُ الْأَقْدَامِ، رُجَّحُ الْأَحْلَامِ، عُظَمَاءُ الْهَامِ، أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، هَضْبَةٌ حَمْرَاءُ لَا يَضُرُّهَا مَنْ نَاوَأَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ صُبَيْحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports tribes mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, who likened Banū ʿĀmir to a bright camel eating tree edges, Hawāzin to a blossom gushing water, and Banū Tamīm to the firm-footed, weighty-minded, great-headed, hardest against the Dajjāl at the end, a red plateau unharmed by opponents. > **"Firm of foot, weighty of mind, great of head, the hardest of men against the Dajjāl at the end of time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے مختلف قبائل کا ذکر کیا گیا ، آپ سے بنو عامر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ چمکتی رنگت کا اونٹ ہیں ، جو درخت کے اطراف میں سے کھاتا ہے ، لوگوں نے آپ سے ہوازن کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : وہ چمکدار لوگ ہیں ، جن سے پانی پھوٹتا ہے ، لوگوں نے آپ سے بنو تمیم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : وہ ثابت قدم لوگ ہیں ، سمجھدار ہیں ، اُن کے سر بڑے ہیں ، آخری زمانے میں دجال کے خلاف وہ سب سے زیادہ سخت ہوں گے ، وہ ایک ( سطح مرتفع والی ) ایسی سرخ مٹی ہے کہ جو شخص اس کی پناہ میں آیا ، اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن صبیح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16546

Majma al-Zawaid #16546

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا، وَعِنْدَهُ عُيَيَنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ "". فَقَالَ عُيَيْنَةُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَكَيْفَ ذَاكَ؟ "". قَالَ: خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، جَاعِلِي رِمَاحِهِمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، لَابِسِي الْبُرُدِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَبْتَ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانُ إِلَى لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَعَامِلَةَ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِخْوَسًاءَ، وَمِشْرَحًاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ "". ثُمَّ قَالَ: "" أَمَرَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنَتْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ "". ثُمَّ قَالَ: "" عُصِيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ، وَجَعْدَةَ، وَعُصِيَّةَ "". ثُمَّ قَالَ: "" لَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ، وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". ثُمَّ قَالَ: "" شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ: نَجْرَانُ، وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ، وَمَأْكُولٌ» "".

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه reports horses displayed before the Messenger of Allah ﷺ beside ʿUyaynah ibn Ḥiṣn al-Fazārī, who claimed men of Najd bearing swords on shoulders, spears on horses' manes, and cloaks are best; the Messenger of Allah ﷺ rejected it, naming men of Yemen best, faith Yemeni toward Lakhm, Judhām, and ʿĀmilah, the eaten of Ḥimyar better than its eaters, Ḥaḍramawt better than Banū al-Ḥārith, tribes better and worse, indifference to the ruin of both Ḥāriths, cursing the four kings Jamadāʾ, Mikhwasāʾ, Mishraḥāʾ, Abḍaʿah and their sister al-ʿAmarradah, then telling of commanded cursing then blessing of Quraysh twice each, disobedience of ʿUṣayyah save Qays, Jaʿdah, and ʿUṣayyah, superiority of Aslam, Ghifār, and Juhaynī allies over Asad, Tamīm, Ghaṭafān, and Hawāzin on the Day of Resurrection, worst Arab tribes Najrān and Banū Taghlib, and most numerous in Paradise Madhḥij and Maʾkūl. > **"You have lied; rather the best of men are the men of Yemen, and faith is Yemeni."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک دن گھوڑے گزرے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن بن بدر فزاری موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : میں تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہوں ( یا میں شہسواروں کا تم سے بڑا سپہ سالار ہوں ) اس نے کہا : لیکن میں پیادہ افراد کو آپ سے زیادہ بہتر طریقے سے لے کر چل سکتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : لوگوں میں سب سے بہتر وہ مرد ہوتے ہیں ، جو اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کے قدموں کے پاس رکھتے ہیں ، اور نجد کی بنی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غلط کہہ رہے ہو ، بلکہ لوگوں میں سب سے بہتر اہل یمن کے افراد ہیں ، ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام اور عاملہ کی طرف ہے ، اور حمیر کا کھایا ہوا ، اس کے کھانے والے سے بہتر ہے ، اور حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہے ، ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر ہوتا ہے اور ایک قبیلہ کسی دوسرے سے برا ہوتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر حارث قبیلے کی دونوں شاخیں ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اللہ تعالیٰ چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مخوساء ، مشرحاء اور ابضعہ اور اُن کی بہن عمردہ ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اب اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، صرف قیس اور جعدہ اور عصیہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسلم اور غفار اور ان کے ملتے جلتے لوگ ، جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن کے مقابلے میں بہتر ہوں گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عربوں کے دو بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ، اور جنت میں زیادہ تعداد والے قبیلے مذحج اور ماکول ہیں ۔

16547

Majma al-Zawaid #16547

وَفِي رِوَايَةٍ: " «وَمَأْكُولٌ [حِمْيَرَ] خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا» ". قَالَ: مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَنْ بَقِيَ.

EnglishUnverified translation

In another wording the eaten of Ḥimyar is better than its eaters, explained that those who passed are better than those who remain. > **"The eaten of Ḥimyar is better than its eaters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ حمیر کا کھایا ہوا ، اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : کہ جو گزر گیا ہے ، وہ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہے ۔

16548

Majma al-Zawaid #16548

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَأَنَا يَمَانٌ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَلَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قَيْلَ وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا، وَالطَّبَرَانِيُّ وَسَمَّى السَّاقِطَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording he ﷺ declares himself Yemeni, Ḥaḍramawt better than Banū al-Ḥārith, indifference to both clans perishing, with no ruler or king but Allah. > **"I am Yemeni, and Ḥaḍramawt is better than Banū al-Ḥārith; there is no ruler nor king but Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میں یمانی ہوں اور حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، تو حکمرانی اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ’’ متصل ‘‘ اور ’’ مرسل ‘‘ دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کو امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ، انہوں نے ساقط راوی کا نام بسر بن عبیداللہ بیان کیا ہے اور ان تمام روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16549

Majma al-Zawaid #16549

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَيْلٌ وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ "". فَقَالَ عُيَيْنَةُ: إِنْ تَكُنْ أَفْرَسَ بِالْخَيْلِ مِنِّي فَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، قَالَ: "" وَكَيْفَ؟ "". قَالَ: إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ رِجَالٌ لَابِسُو الْبُرُدَ، وَاضِعُو السُّيُوفِ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، وَعَرَضُوا الرِّمَاحَ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، رِجَالُ نَجْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَبْتَ، بَلْ هُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، الْإِيمَانُ يَمَانٌ إِلَى لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَعَامِلَةَ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَلَا قَيْلَ، وَلَا مَلِكَ، وَلَا قَاهِرَ إِلَّا اللَّهُ» "". فَبَعَثَ السِّمْطَ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مَنْ بَنِي الْحَارِثِ» ""؟. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ سِمْطٌ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ «. وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِخْوَسَاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَمِشْرَحَاءَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ، وَكَانَتْ تَأْتِي الْمُسْلِمِينَ إِذَا سَجَدُوا فَتَرْكَبُهُمْ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنْتُهُمْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ: مَذْحِجٌ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَتَمِيمٍ، وَهَوَازِنَ، وَغَطَفَانَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قَبِيلَتَيْنِ: تَمِيمَ بْنَ مُرٍّ سَبْعًا فَلَعَنْتُهُمْ، وَبَكْرَ بْنَ وَائِلٍ خَمْسًا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، إِلَّا مَازِنَ وَقَيْسَ قَبِيلَتَانِ لَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ أَحَدًا أَبَدًا، مَنَاعِشَ وَمُلَادِسَ، وَزَعَمَ أَنَّهُمَا قَبِيلَتَانِ تَاهَتَا اتَّبَعَتَا الْمَشْرِقَ فِي عَامِ جَدْبٍ، فَانْقَطَعَتَا فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَا يُوَصَلُ إِلَيْهِمَا، وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ. قَالَ الذَّهَبِيُّ: حَمَلَ عَنْهُ النَّاسُ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَاهُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ شَيْخَيْنِ آخَرَيْنِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه reports in fuller wording horses displayed beside ʿUyaynah, rival claims over horsemen and men of Najd in cloaks with swords and spears, corrected toward Yemen, faith Yemeni toward Lakhm, Judhām, and ʿĀmilah, eaten Ḥimyar better, Ḥaḍramawt better, no ruler, conqueror but Allah; al-Simṭ verified the Ḥaḍramawt wording through him and believed; the Prophet ﷺ cursed the four kings and their sister who mounted prostrating Muslims, cursed Quraysh twice then blessed them twice by command, named most numerous in Paradise Madhḥij, Aslam, Ghifār, Muzaynah with Juhaynī allies better than Banū Asad, Tamīm, Hawāzin, and Ghaṭafān, indifference to both clans, and commanded cursing of Tamīm ibn Murr seven times, Bakr ibn Wāʾil five times, and others. > **"You have lied; rather they are the people of Yemen; faith is Yemeni."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے اس وقت آپ کے پاس عیینہ موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے بڑا شہسوار ہوں ، عیینہ نے کہا : اگر آپ مجھ سے بڑے شہوار ہیں ، تو میں آپ سے زیادہ بڑا پیادہ ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : مردوں میں بہتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو چادریں پہنتے ہیں ، اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں ، اور وہ نجد کے لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے غلط کہا ہے ( یعنی جو لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں ) وہ اہل یمن کے مرد ہیں اور ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام ، عاملہ کی طرف ہے اور حمیر کا کھایا ہوا ، اُن کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت بنو حارث سے بہتر ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا :” حکومت ، بادشاہی اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سمط نے کہا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے : جمداء ، مخوساء ، ابضعہ ، مشرحاء اور ان کی بہن عمردہ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب مسلمان سجدے میں گئے ہوتے تھے تو یہ عورت اُن کے پاس آتی تھی اور ان پر سوار ہو جاتی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر دو مرتبہ لعنت کی پھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں نے ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کی ، جنت میں مذحج ، اسلم ، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ زیادہ تعداد میں ہوں گے ، اور اُن سے ملتے جلتے جہینہ قبیلے کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنو اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے ، اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو قبیلوں ، تمیم بن مر پر سات مرتبہ لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اور بکر بن وائل پر پانچ مرتبہ لعنت کروں ، عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ، البتہ مازن اور قیس قبیلے کا معاملہ مختلف ہے ۔ ان ( کفار ) میں سے کوئی شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا ، مناعش اور ملادس ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دو قبیلے وہ ہیں جو بھٹک گئے تھے اور قحط سالی کے دوران یہ دونوں مشرق کی طرف چلے گئے تھے اور عام ( آباد ) زمین سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے تھے ، ان تک پہنچا نہیں جا سکتا تھا ، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، یہ مقارب الحال ہے ، امام نسائی کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اس کی مانند روایت عمدہ سند کے ساتھ انہوں نے دو دیگر اساتذہ سے نقل کی ہے ۔

16550

Majma al-Zawaid #16550

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دَارِنَا يَعْرِضُ الْخَيْلَ. قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنْتَ أَبْصَرُ مِنِّي بِالْخَيْلِ، وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَيُّ الرِّجَالِ خَيْرٌ؟ "". فَقَالَ: رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، وَيَلْبَسُونَ الْبُرُودَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَبْتَ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ ذِي الْإِيمَانِ يَمَانٌ، وَأَكْثَرُ قَبِيلَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ كِنْدَةَ، فَلَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِشْرَخَاءَ، وَمِخْوَسَاءَ، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reports the Prophet ﷺ displaying horses in their abode when ʿUyaynah ibn Ḥiṣn claimed superior knowledge of men of Najd with swords, spears, and cloaks; the Prophet ﷺ rejected it, naming best men those of Yemeni faith, most numerous in Paradise Madhḥij, eaten Ḥimyar better, Ḥaḍramawt better than Kindah, cursing the four kings and their sister. > **"You have lied; rather the best of men are the men of Yemeni faith, and the most numerous tribe in Paradise is Madhḥij."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے محلے میں موجود تھے ، آپ کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے ، اسی دوران عیینہ بن حصن نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : شہسواروں کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں اور پیادہ افراد کے بارے میں ، میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون سے مرد بہتر ہوتے ہیں ؟ اس نے کہا : وہ مرد جو اپنی تلوار اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں اور نجد سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ چادریں پہنتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے غلط کہا ہے ، بلکہ مردوں میں سب سے بہتر مرد ایمان والے یمنی لوگ ہیں اور جنت میں زیادہ تعداد میں مذحج قبیلے کے لوگ ہوں گے ، اور حمیر کا کھایا ہوا اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت ، کندہ سے بہتر ہے ، اللہ تعالی چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مشرخاء ، مخوساء ، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ البتہ خالد بن معدان نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16551

Majma al-Zawaid #16551

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ، وَعَلَى خَوْلَانَ خَوْلَانَ الْعَالِيَةَ، وَعَلَى الْأَمْلُوكِ أَمْلُوكِ رَدْمَانَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah al-Sulamī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ invoked blessing upon al-Sakūn, al-Sakāsik, Khawlān al-ʿĀliyah, and al-Amlūk Amlūk Ridmān. > **"May Allah bless al-Sakūn, al-Sakāsik, Khawlān al-ʿĀliyah, and al-Amlūk Amlūk Ridmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سکون ، سکاسک اور خولان ، یعنی خولان عالیہ اور املوک ، یعنی املوک ردمان ( یعنی ان سب قبائل ) کے لیے دعائے رحمت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن معاویہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16552

Majma al-Zawaid #16552

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ الْأَمْلُوكُ أَمْلُوكُ حِمْيَرَ، وَسُفْيَانُ، وَالسَّكُونُ، وَالْأَشْعَرِيِّينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه reports hearing the Prophet ﷺ count among the best of men al-Amlūk of Ḥimyar, Sufyān, al-Sakūn, and the Ashʿarīs. > **"Among the best of men are al-Amlūk of Ḥimyar, Sufyān, al-Sakūn, and the Ashʿarīs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر املوک ( یعنی ) املوک حمیر ، سفیان ، سکون اور اشعر ( قبیلوں کے لوگ ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16553

Majma al-Zawaid #16553

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْكِنَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا رَجُلٌ يُخْبِرُنِي عَنْ مُضَرَ؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا وَجْهُهَا الَّذِي فِيهِ سَمْعُهَا وَبَصَرُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ. وَأَمَّا لِسَانُهَا الَّذِي تُعْرِبُ بِهِ فِي أَنْدِيَتِهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ. وَأَمَّا كَاهِلُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ. وَأَمَّا فُرْسَانُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قَيْسِ عَيْلَانَ. قَالَ: فَنَظَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَالْمُصَدِّقِ لَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl al-Kinānī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ asked for one to inform of Muḍar, and a man answered that its face of hearing and sight is Quraysh, its tongue in assemblies Banū Asad ibn Khuzaymah, its shoulder Banū Tamīm ibn Murrah, and its horsemen Qays ʿAylān, which the Prophet ﷺ appeared to confirm. > **"Its face is this clan of Quraysh, its tongue this clan of Banū Asad, its shoulder this clan of Banū Tamīm, and its horsemen this clan of Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل کنانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا کوئی ایسا شخص ہے ؟ جو مجھے مضر کے بارے میں خبر دے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں آپ کو ان کے بارے میں بتاتا ہوں ، یا رسول اللہ ! جہاں تک ان کے چہرے کا تعلق ہے ، جس میں ان کی سماعت اور بصارت ہے تو وہ قریش کا یہ قبیلہ ہے جہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے ، جس کے ذریعے وہ محفلوں میں گفتگو کرتے ہیں ، تو وہ بنو اسد بن خزیمہ کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کی ’’ کاہل ‘‘ ( نامی رگ ) کا تعلق ہے تو وہ بنو تمیم بن مر کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کے شہسواروں کا تعلق ہے تو وہ قیس عیلان کا یہ قبیلہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ گویا آپ ﷺ اس کی بات کی تصدیق کر رہے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16554

Majma al-Zawaid #16554

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَرِجَالٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ: غَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ "". قَالَ: فَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: وَاللَّهِ، لَئِنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ - يَعْنِي غَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرٍ - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ preferred Aslam, Ghifār, men of Muzaynah, and Juhaynah over the two allies Ghaṭafān and Banū ʿĀmir ibn Ṣaʿṣaʿah, whereupon ʿUyaynah ibn Badr swore he would rather be with the latter in Fire than the former in Paradise. > **"Aslam, Ghifār, men of Muzaynah, and Juhaynah are better than the two allies: Ghaṭafān and Banū ʿĀmir ibn Ṣaʿṣaʿah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلم ، غفار اور مزینہ اور جہینہ قبیلے کے لوگ ، دو حلیفوں ، یعنی غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو عیینہ بن بدر نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں اُن لوگوں میں شامل ہو کر جہنم میں چلا جاؤں ۔ اُس کی مراد غطفان اور بنو عامر تھے ۔ تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو کر جنت میں جاؤں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن جناح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16555

Majma al-Zawaid #16555

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ وَبَنِي وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ؟ "". فَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرِ بْنِ حُصَيْنٍ: وَاللَّهِ، لَأَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَحْمَقَ مُطَاعٍ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ asked whether Aslam and Ghifār being better than Asad and Ghaṭafān, and Muzaynah and Juhaynah better than Asad, Ghaṭafān, Hawāzin, Tamīm, and ʿĀmir ibn Ṣaʿṣaʿah, meant loss, affirmed by them, whereupon ʿUyaynah ibn Badr preferred the latter in Fire, and the Prophet ﷺ named him a gladly-seen obeyed fool. > **"Whoever is pleased to look at an obeyed fool, let him look at this one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ اگر اسلم اور غفار ، یہ دونوں حلیف قبیلے ، اسد اور غطفان نامی دو حلیف قبیلوں سے بہتر ہوں ، تو کیا تم یہ سمجھو گے کہ وہ خسارے کا شکار ہو گئے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کے مزینہ اور جہینہ نامی دو حلیف قبیلے ، اسد ، غطفان ، ہوازن ، تمیم اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ؟ تو عیینہ بن بدر بن حصین نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اُن لوگوں کے ساتھ جہنم میں جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنت میں جاؤں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے احمق کو دیکھے ، جسے پیشوا کی حیثیت حاصل ہو ، تو اُسے اس کو دیکھ لینا چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔

16556

Majma al-Zawaid #16556

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَسْلَمَ، وَغِفَارَ، وَمُزَيْنَةَ، وَأَشْجَعَ، وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أَسْلَمَ: الْأَنْصَارَ، وَجَعَلَ مَوْضِعَ بَنِي كَعْبٍ: بَنِي عَبْدَةَ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that Aslam, Ghifār, Muzaynah, Ashjaʿ, Juhaynah, and Banū Kaʿb are his clients apart from men, with Allah and His Messenger as protector. > **"Aslam, Ghifār, Muzaynah, Ashjaʿ, Juhaynah, and whoever is of Banū Kaʿb are my clients apart from men, and Allah and His Messenger are their protector."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اسلم ، غفار ، مزینہ ، اشجع اور جہینہ اور بنو کعب سے تعلق رکھنے والے جو لوگ ہیں وہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے موالی ( یعنی ساتھی ) ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول ﷺ ان کے مولیٰ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اسے امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ’’ اسلم ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ انصار ‘‘ نقل کیا ہے ، اور ’’ بنو کعب ‘‘ کی جگہ ’’ بنو عبدہ ‘‘ نقل کیا ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16557

Majma al-Zawaid #16557

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «غِفَارُ، وَأَسْلَمُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ مَوَالِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Sinān رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named Ghifār, Aslam, Juhaynah, and Muzaynah clients of Allah Almighty and His Messenger. > **"Ghifār, Aslam, Juhaynah, and Muzaynah are clients of Allah Almighty and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ غفار ، اسلم ، جہینہ اور مزینہ ( ان قبائل کے لوگ ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے موالی ( یعنی ساتھی ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16558

Majma al-Zawaid #16558

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا، وَأَسَانِيدُهُمْ جَيِّدَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ prayed peace for Aslam and forgiveness for Ghifār, disclaiming authorship and attributing the words to Allah Almighty. > **"Aslam, may Allah grant it peace, and Ghifār, may Allah forgive it; I did not say it, but Allah Almighty said it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ، یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں ، بلکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ان دونوں کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان حضرات کی اسانید عمدہ ہیں ۔

16559

Majma al-Zawaid #16559

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke the same words of peace for Aslam and forgiveness for Ghifār as from Allah. > **"Aslam, may Allah grant it peace, and Ghifār, may Allah forgive it; I did not say it, but Allah said it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں ، بلکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16560

Majma al-Zawaid #16560

وَعَنِ ابْنِ سَنْدَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَتُجِيبُ أَجَابَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ "". فَقَالَ لَهُ أَبُو الْخَيْرِ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ، أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ تُجِيبَ؟ قَالَ: نَعَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sandar reports that the Messenger of Allah ﷺ added Tujīb answering Allah and His Messenger alongside Aslam and Ghifār, confirmed to Abū al-Khayr by Abū al-Aswad as heard. > **"Aslam, may Allah grant it peace, Ghifār, may Allah forgive it, and Tujīb answered Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن سندر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ، اور تجیب قبیلے کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کو قبول کیا ہے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ابوالخیر نامی راوی نے اُن سے کہا : اے ابواسود ! کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کو ’’ تجیب ‘‘ قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور ان دونوں حضرات کی سند حسن ہے ۔

16561

Majma al-Zawaid #16561

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke briefly the peace for Aslam and forgiveness for Ghifār. > **"Aslam, may Allah grant it peace, and Ghifār, may Allah forgive it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عہنما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16562

Majma al-Zawaid #16562

وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Qirṣāfah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke briefly the peace for Aslam and forgiveness for Ghifār. > **"Aslam, may Allah grant it peace, and Ghifār, may Allah forgive it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16563

Majma al-Zawaid #16563

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «بَنُو غِفَارَ، وَأَسْلَمَ، كَانُوا لِكَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ فِتْنَةً، يَقُولُونَ: لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا جَعَلَهُ اللَّهُ أَوَّلَ النَّاسِ، وَأَنَّهَا غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بَاخْتِصَارٍ عَنْهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسِفُ بْنُ خَالِدِ السَّمْتِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ used to say Ghifār and Aslam were a trial for many who claimed had it been good Allah would not make it first, while forgiveness and peace were decreed for them. > **"Ghifār, may Allah forgive it, and Aslam, may Allah grant it peace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بنو غفار اور اسلم قبیلے کے لوگ ، بہت سے لوگوں کے لیے آزمائش ہیں ، وہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ اگر یہ بھلائی ہوتی ، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ( باقی ) لوگوں میں سب سے پہلے نہ رکھتا ، بے شک غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ اسے اُن صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16564

Majma al-Zawaid #16564

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عِصَابَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ: "" أَتَتْكُمُ الْأَزْدُ أَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوهًا، وَأَعْذَبُهَا أَفْوَاهًا، وَأَصْدَقُهَا لِقَاءً "". وَنَظَرَ إِلَى كَبْكَبَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ: "" مَنْ هَذِهِ؟ "". قَالُوا: بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اجْبُرْ كَسِيرَهُمْ، وَآوِ طَرِيدَهُمْ، وَأَرْضِ بَرَّهُمْ، وَلَا تُرِنِي مِنْهُمْ سَائِلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbd Allāh reports from his father and grandfather that the Messenger of Allah ﷺ, seeing an approaching company, welcomed Azd as best-faced, sweetest-mouthed, and truest in meeting, then seeing a dense host of Bakr ibn Wāʾil prayed for mending their broken, sheltering their expelled, pleasing their righteous, and never showing him a beggar among them. > **"Azd has come to you, best of men in faces, sweetest in mouths, and truest in meeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :” ازد ‘‘ قبیلے کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں ، جو چہرے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں ، سب سے زیادہ میٹھے منہ والے ہیں اور ملاقات میں سب سے زیادہ سچے ہیں ‘‘ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بکر بن وائل ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو ان کے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دے ، ان کے نکالے ہوئے کو پناہ دیدے ، ان کے نیک شخص کو راضی کر دے اور مجھے ان کی طرف سے سائل نہ دکھانا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16565

Majma al-Zawaid #16565

عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَجَاءَ سَبْيٌ مِنْ خَوْلَانَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ، فَنَهَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports owing a neck of Ismāʿīl's children, intending to free from Khawlān captives but forbidden by the Prophet ﷺ, then commanded to free from Muḍarī Banū al-ʿAnbar captives when they came. > **"Free from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُن کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم تھا ، ایک مرتبہ خولان قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کسی کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں منع کر دیا ، پھر مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ، بنو عنبر سے تعلق رکھنے والے کچھ قیدی آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُن میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16566

Majma al-Zawaid #16566

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ بِالْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ، وَقَالَ: "" مَنْ كَانَ عَلَيْهِ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلَا يُعْتِقُ مِنْ حِمْيَرَ أَحَدًا» "". قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ: وَمَا كَانَ حِمْيَرُ؟ قَالَ: هُوَ أَكْبَرُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَفِيهِمَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reports that ʿĀʾishah رضي الله عنها owed a freedman of Ismāʿīl's children, and the Prophet ﷺ commanded freeing from al-ʿAnbar captives, warning none bound by such a vow should free any of Ḥimyar, explained as older than Ismāʿīl. > **"Whoever owes a freedman of Ismāʿīl's children, let him free none of Ḥimyar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا لازم تھا ’’ بلعنبر ‘‘ قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم ہو وہ حمیر میں سے کسی کو آزاد نہ کرے ۔‘‘ علی بن عابس کہتے ہیں : میں نے اسماعیل بن ابوخالد سے دریافت کیا : جمیر کون تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بڑے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن عابس کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16567

Majma al-Zawaid #16567

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ»، أَوْ قَالَ هَذَا الْمَعْنَى. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ: أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports that ʿĀʾishah رضي الله عنها owed a freedman of Ismāʿīl's children, and the Prophet ﷺ commanded her to free from Banū al-ʿAnbar captives when they arrived. > **"Free from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنا لازم تھا ، بنو عنبر سے تعلق رکھنے والے کچھ قیدی آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : یا شاید اسی مفہوم کے الفاظ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد احمد بن عبداللہ بن ابوسفر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16568

Majma al-Zawaid #16568

وَعَنْ زُبَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَانَ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلْيَعْتِقْ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زُبَيْبٍ، كَمَا وَقَعَ فِي الْأَصْلِ وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ مُكَبِّرًا كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبَي حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zubayb ibn Thaʿlabah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ command whoever owes a neck of Ismāʿīl's children to free from Banū al-ʿAnbar. > **"Whoever owes a neck of Ismāʿīl's children, let him free from Banū al-ʿAnbar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیب بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا لازم ہو ، اسے بنو عنبر میں سے کسی کو آزاد کر دینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زبیب ہے ، جیسا کہ اصل میں مذکور ہے ، لیکن وہ اصل میں عبداللہ مکبر ہے ، جیسا کہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ ثقہ تابعین میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16569

Majma al-Zawaid #16569

وَعَنْ ذُؤَيْبٍ «أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ عَتِيقًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ غَدًا "". فَجَاءَ فَيْءُ الْعَنْبَرِ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذِي مِنْهُمْ أَرْبَعَةً، صِبَاحٌ مِلَاحٌ، لَا تُخَبَّأُ مِنْهُمُ الرُّءُوسُ» "". قَالَ عَطَاءٌ: «فَأَخَذَتْ جَدِّي رُدَيْحًا، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي سَمُرَةَ، وَأَخَذَتِ ابْنَ عَمِّي زُخَيًّا، وَأَخَذَتْ خَالِي زُبَيْبًا. ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رُؤُوسَهُمْ، وَبَرَّكَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" هَؤُلَاءِ يَا عَائِشَةُ، مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ قَصْدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ فِيهِ: "" «خُذِي أَرْبَعَةَ غِلْمَةٍ صِبَاحٍ» "". وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Dhuʾayb reports that ʿĀʾishah رضي الله عنها sought a captive of pure Ismāʿīlī stock, and the Prophet ﷺ told her to await the morrow's ʿAnbar fayʾ, then to take four fair handsome boys without hiding heads; ʿAṭāʾ names them Rudayḥ, Samurah, Zukhayy, and Zubayb, whom the Prophet ﷺ stroked, blessed, and declared purely of Ismāʿīl. > **"Take four fair boys; these, O ʿĀʾishah, are of Ismāʿīl's children purely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا چاہتی ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم انتظار کرو ! کل جب ہمارے پاس عنبر قبیلے کا مال فے آئے گا ( یعنی پھر تم ایسا کر لینا ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر عنبر قبیلے کا مال فے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم ان میں سے چار افراد وصول کر لو ، جو صبیح و ملیح ہیں ، ان میں سے کسی فرد کو سنبھال کے نہیں رکھا جائے گا ۔ عطاء کہتے ہیں : تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے دادا ’’ ردیح ‘‘ کو میرے چچازاد ’’ سمرہ ‘‘ کو میرے ایک اور چچازاد ’’ زخیا ‘‘ کو اور میرے ماموں ’’ زبیب ‘‘ کو حاصل کر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اُٹھایا ، آپ ﷺ نے وہ دست مبارک ان لوگوں کے سر پر پھیرا اور اُن کو برکت کی دعاء دی اور ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں ، جنہیں کثرت کے ساتھ آزاد کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تم چار ایسے افراد حاصل کر لو جو صبیح لڑکے ہوں ......‘‘۔ اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔