Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 56

Book of Virtues and Merits

Hadith 16490–16529

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16490

Majma al-Zawaid #16490

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "" «أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارٌ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ شِعَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً لَاتَّبَعَتْ شُعْبَةَ الْأَنْصَارَ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِهِمْ شَيْئًا، فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ "" وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ يَعْنِي قَلْبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ: إِنَّهُ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ on the minbar call men the outer cloak and Anṣār the inner, promise their mountain path, declare himself of them but for Hijrah, enjoin kindness and pardon, and warn that frightening them frightens what lies between his sides, pointing to his breast, his heart. > **"Indeed men are the outer cloak and the Anṣār are the inner garment; whoever frightens them has frightened this which lies between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خبردار ! دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ( یعنی چادر ) ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ، اگر دوسرے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں جاؤں گا ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، جو شخص لوگوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز ( یعنی حکومت ) کا نگران بنے تو اسے انصار کے اچھے افراد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور برے لوگوں سے درگزر کرنا چاہیے ، جو شخص انصار کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ اس کو خوف زدہ کرنے والا شمار ہو گا جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سینے یعنی اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16491

Majma al-Zawaid #16491

«وَعَنِ ابْنِ شَفِيعٍ - وَكَانَ طَبِيبًا - قَالَ: دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ قَالَ: أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي: أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ [بَنِي] ظَفَرٍ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالُوا: كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ لَنَا، أَوْ يُعْطِينَا، أَوْ نَحْوَ [مِنْ] هَذَا، فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ: "" نَعَمْ أَقْسِمُ لِكُلِّ [أَهْلِ] بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا، فَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ "". قَالَ: قُلْتُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا ; فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ "". "" قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي "". فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَّمَ حُلَلًا بَيْنَ النَّاسِ فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ فَاسْتَصْغَرْتُهَا [فَأَعْطَيْتُهَا ابْنَتِي]، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي "". فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ: صَلِّ أَبَا أُسَيْدٍ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلَانٍ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا، فَظَنَنْتَ أَنْ ذَلِكَ يَكُونَ فِي زَمَانِي؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ مِنْهُ: "" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shafīʿ the physician reports that Usayd ibn Ḥuḍayr رضي الله عنه summoned him to cut a sciatic vein and narrated two reports: two Anṣārī households of Ẓafar and Banū Muʿāwiyah sought division through the Prophet ﷺ, who promised each half and future return, exchanged thanks praising them as chaste and patient, and warned of favouritism after him; later ʿUmar رضي الله عنه distributed robes, Usayd deemed his small and gave it to his daughter, then seeing a Qurashī youth trailing such a robe recalled the warning, reported it to ʿUmar, who explained it had gone to a Badrī Uḥudī ʿAqabī from whom the youth bought it, asking whether he thought it would occur in his time, which Usayd affirmed. > **"You shall meet favouritism after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شفیع ، جو ایک طبیب تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور میں نے ان کی عرق النساء کاٹ دی ، انہوں نے مجھے دو حدیثیں بیان کیں ، انہوں نے فرمایا : میری قوم کے افراد میرے پاس آئے ، ایک گھرانے کا تعلق بنوظفر سے تھا اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا تو ان لوگوں نے کہا : آپ ہمارے لئے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کریں کہ نبی اکرم ﷺ ہمیں بھی تقسیم میں کچھ دیں ، یا ہمیں کچھ اور عطا کریں ، یا اس کی مانند کوئی بات انہوں نے بیان کی ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں ان میں سے ہر گھرانے کو نصف حصہ دوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں مزید دے گا تو میں انہیں مزید دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں ( یعنی انصار ) کو جزائے خیر عطا کرئے ، کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ تم لوگ مانگنے سے بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کئے تو ان میں سے ایک حلہ انہوں نے مجھے بھی بھیجا ، میں نے اسے چھوٹا سمجھا ، وہ میں نے اپنی بیٹی کو دے دیا ، ایک وقت میں ، میں نماز ادا کر رہا تھا اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان میرے پاس سے گزرا ، اس نے ان حلوں میں سے ایک حلہ پہنا ہوا تھا اور وہ اتنا بڑا تھا کہ وہ اس کو گھسیٹ رہا تھا ، مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آ گیا : ’’ تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔‘‘ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ، وہ شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، وہ تشریف لائے ، میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے ابواسید ! آپ نماز پڑھتے رہیں ، جب میں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے دریافت کیا : آپ نے کیا کہا تھا ؟ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا حلہ ہے ، جو میں نے فلاں کی طرف بھیجا تھا اور وہ ایسا شخص ہے جسے غزوہ بدر میں ، غزوہ احد میں اور بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، پھر یہ نوجوان اس شخص کے پاس گیا اور اس نوجوان نے اس شخص سے وہ حلہ خرید کر اسے پہن لیا ، مجھے یہ اندازہ نہیں ہے کہ ایسا ( یعنی ترجیحی سلوک ) میرے زمانے میں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اے امیرالمومنین ! مجھے بھی یہ گمان نہیں تھا کہ یہ صورت حال آپ کے زمانے میں ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں ، اس میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے : ’’ بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16492

Majma al-Zawaid #16492

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «أَمَرَ أَبِي بِخَزِيرَةٍ صُنِعَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: "" مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ؟ أَلَحْمٌ هَذَا؟ "". قُلْتُ: لَا. فَأَتَيْتُ أَبِي فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ شَيْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ لِي: "" مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ؟ أَلَحْمٌ هَذَا؟ "". قَالَ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ اشْتَهَى اللَّحْمَ، فَأَمَرَ بِشَاةٍ لَنَا دَاجِنٍ فَذُبِحَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِرُ؟ "". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" جَزَى اللَّهُ الْأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا، وَلَا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنه reports his father ordering khazīrah brought to the Prophet ﷺ at home, first without meat then with a roasted household sheep after Jābir relayed a question about meat, whereupon the Prophet ﷺ prayed for the Anṣār, especially ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn Ḥarām and Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنهما. > **"May Allah reward the Anṣār well on our behalf, especially ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn Ḥarām and Saʿd ibn ʿUbādah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ’’ خزیرہ ‘‘ تیار کرنے کا حکم دیا ، وہ تیار کیا گیا ، پھر میرے والد نے مجھے ہدایت کی تو میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، راوی کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ اپنے گھر میں تھے ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے نبی اکرم ﷺ کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ تو میرے والد نے کہا : شاید نبی اکرم ﷺ کو گوشت کھانے کی خواہش ہو رہی تھی ، تو انہوں نے ہماری ایک بکری کے بارے میں حکم دیا اسے ذبح کیا گیا پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا میں اس کا گوشت لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تمہارے ساتھ کیا ہے ؟ میں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انصار کو ہماری طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن حبیب بن شہید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16493

Majma al-Zawaid #16493

وَعَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَتَبَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَخْطُبُ عَلَى ابْنِهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَالْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ، قَدْ خَصَّكُمْ - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - بِنَصْرِ دِينِهِ، وَاعْتِزَازِ نَبِيِّهِ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ مِنْهُمْ فِي الْبَيْتِ الْعَمِيمِ، وَالْفَرْعِ الْقَدِيمِ، وَقَدْ دَعَانِي ذَلِكَ إِلَى اخْتِيَارِي مُصَاهِرَتَكَ، وَإِيثَارِكَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِي، وَقَدْ رَأَيْتُ أَنْ تُزَوِّجَ ابْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ ابْنَتَكَ أُمَّ أَبَانٍ بِنْتَ النُّعْمَانِ، وَقَدْ جَعَلْتُ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانُكَ، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَاكَ، وَبَلَغَهُ مُنَاكَ، وَحَكَمْتَ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلَكَ. فَلَمَّا قَرَأَ النُّعْمَانُ كِتَابَهُ كَتَبَ إِلَيْهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، بَدَأْتُ بِاسْمِي سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; وَذَلِكَ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا كَتَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى أَحَدٍ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ» "". أَمَّا بَعْدُ: فَقَدْ وَصَلَ إِلَيَّ كِتَابُكَ، وَقَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ فِيهِ مِنْ مَحَبَّتِنَا، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ صَادِقًا فَغُنْمٌ أَصَبْتَ، وَبِحَظِّكَ أَخَذْتَ ; لِأَنَّا أُنَاسٌ جَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى حُبَّنَا إِيمَانًا، وَبُغْضَنَا نِفَاقًا. وَأَمَّا مَا أَطْنَبْتَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ شَرَفِنَا، وَقَدِيمِ سَلَفِنَا، فَفِي مَدْحِ اللَّهِ تَعَالَى لَنَا وَذِكْرِهِ إِيَّانَا فِي كِتَابِهِ الْمُنَزَّلِ، وَقُرْآنِهِ الْمُفَصَّلِ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَغْنَانَا عَنْ مَدْحِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ آثَرْتِنِي بِابْنِكَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ عَلَى الْأَكْفَاءِ مِنْ وَلَدِ أَبِيكَ، فَحَظِّي مِنْكَ مَرْدُودٌ عَلَيْهِمْ، مَوْفُورٌ لَهُمْ، غَيْرُ مُشَاحٍّ لَهُمْ فِيهِ، وَلَا مُنَازِعٍ لَهُمْ عَلَيْهِ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ بِأَنَّ صَدَاقَهَا مَا نَطَقَ بِهِ لِسَانِي، وَتَرَمْرَمَتْ بِهِ شَفَتَايَ، وَبَلَغَهُ مُنَايَ، وَحَكَمْتُ بِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ قِبَلِي، فَقَدْ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ لَوْ أَنْصَفْتَ حَظِّي فِي بَيْتِ الْمَالِ أَوْفَرَ مِنْ حَظِّكَ، وَسَهْمِي فِيهِ أَجْزَلَ مِنْ سَهْمِكَ، فَأَنَا الَّذِي أَقُولُ: فَلَوْ أَنَّ نَفْسِي طَاوَعَتْنِي لَأَصْبَحْتُ لَهَا حَفْدٌ مِمَّا يُعَدُّ كَثِيرُ ... وَلَكِنَّهَا نَفْسٌ عَلَيَّ كَرِيمَةٌ عَيُوفٌ لِأَصْهَارِ اللِّثَامِ قُدُورُ لَنَا فِي بَنِي الْعَنْقَاءِ وَابْنَيْ مُحَرِّقٍ مُصَاهَرَةٌ يُسَمَّى بِهَا وَمُهُورُ ... وَفِي آلِ عِمْرَانَ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَقَائِلُ لَمْ يُدَنَّسْ لَهُنَّ حُجُورُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ النُّعْمَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ حِبَّانَ قَالَ فِي أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ قَالَ فِيهِ: بَشِيرُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ أَبَانٍ. فَزَادَ فِي نَسَبِهِ النُّعْمَانَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Muḥammad ibn Bashīr al-Anṣārī reports from his father and grandfather that Marwān ibn al-Ḥakam wrote to al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه seeking his daughter Umm Abān for his son ʿAbd al-Malik with lavish dower and praise of Anṣārī aid; al-Nuʿmān replied beginning with his own name as Sunnah from the Messenger ﷺ who enjoined beginning with oneself, affirmed their love as faith and hatred as hypocrisy sufficed by Allah's praise, returned the boast of preference, and answered the dower boast with verse claiming suffices and noble marriages among Banū al-ʿAnqāʾ, Ibnay Muḥarriq, Āl ʿImrān, and ʿAmr ibn ʿĀmir. > **"When one of you writes to another, let him begin with himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومحمد بن بشیر بن ابان بن بشیر بن نعمان بن بشیر بن سعد انصاری ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مروان بن حکم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے عبدالملک کے لئے شادی کا پیغام دیا ، جو حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے لئے تھا ۔ مردان نے جو انہیں خط لکھا اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ مروان بن حکم کی طرف سے نعمان بن بشیر کے نام ہے ، تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات جلال والی ہے ، اکرام والی ہے ، عظمت والی ہے ، غلبے والی ہے ، اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ تم نے اس کے دین کی مدد کی ، اس کے نبی کا ساتھ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان میں سے عمومی گھر میں رکھا اور قدیم شاخ میں رکھا ، تو اس چیز نے مجھے اس بات کی طرف راغب کیا کہ میں تمہارے ساتھ رشتے داری قائم کروں ، اور تمہیں اپنے باپ کی اولاد کے ہم پلہ افراد پر ترجیح دوں ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم میرے بیٹے عبدالملک بن مروان کے ساتھ اپنی بیٹی اُم ابان بنت نعمان کی شادی کروا دو ، اس کا مہر وہ ہو گا جو تمہاری زبان بیان کرے گی ، اور جو تمہارے ہونٹ ادا کریں گے ، اور جو تمہاری خواہش ہو گی ، میں نے اس سے پہلے ہی بیت المال ( کے نگران کو ) اس بارے میں حکم دے دیا ہے ۔‘‘ جب حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے وہ خط پڑھا تو انہوں نے اُسے جوابی خط میں لکھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ نعمان بن بشیر کی طرف سے مروان بن حکم کے نام ہے ، میں نے اپنا نام پہلے اس لئے لکھا ہے کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو خط لکھے تو پہلے اپنا ذکر کرے ۔‘‘ امابعد ! تمہارا مکتوب مجھ تک پہنچا ، جو تم نے ذکر کیا ہے ، اس کی مجھے سمجھ آ گئی کہ جو تم نے ہمارے ساتھ محبت کا ذکر کیا ہے ، تو یا تو تم اس دعوے میں سچے ہو گے ، تو یہ غنیمت ہے جو تمہیں حاصل ہو گئی ، اور ایک حصہ ہے جو تم نے لے لیا ، کیونکہ ہم ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے محبت کو ایمان قرار دیا ہے اور ہمارے ساتھ بغض کو نفاق قرار دیا ہے ، اور تم نے جو ہمارے شرف اور پرانے مرتبے کا ذکر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہماری تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کی ہوئی کتاب میں اس حوالے سے ہمارا ذکر کیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر نازل کی ، تو اس کے بعد ہمیں لوگوں میں سے کسی کی تعریف کی ضرورت نہیں رہ جاتی ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ تم نے اپنے بیٹے عبدالملک بن مروان کے لئے اپنے باپ کی اولاد میں سے اپنے ہم پلہ لوگوں پر مجھے ترجیح دی ہے ، تو تمہاری طرف سے میرا حصہ ان پر لوٹ جائے گا اور انہیں پوری ادائیگی کی جائے گی ، ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی ، ان کے ساتھ اس حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہو گا ، جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس لڑکی کا مہر وہ ہو گا جو میری زبان بیان کرے گی اور جو میرے ہونٹ حرکت میں آئیں گے اور جو میری خواہش ہو گی اور اس بارے میں تم نے بیت المال کے حکام کو حکم بھی دے دیا ہے ، تو الحمدللہ صورت حال یہ ہے کہ اگر تم میرے حصے کے بارے میں انصاف سے کام لو ، تو بیت المال میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ بنتا ہے ، اور اس بارے میں میرا حصہ تمہارے حصے سے زیادہ ہے ، تو میں یہ کہتا ہوں : ’’ اگر میرا نفس میری بات مان لے تو اس کے بہت سے خدمتگار ہو جائیں گے ، اور وہ اتنے ہوں گے جنہیں کثیر شمار کیا جائے ، لیکن میرا نفس میرے نزدیک معزز ہے اور اس کو کمینے اور گندے لوگوں کے ساتھ رشتہ مصاہرت قائم کرنا ناگوار گزرتا ہے ، عنفاء کے بیٹوں اور محرق کے دو بیٹوں کے ساتھ ہمارا رشتہ مصاہرت ہے ، جس سے بلندی بھی حاصل ہوئی اور مہر بھی ، عمران اور عمرو بن عامر کی آل میں ایسی رسیاں ہیں جن کے کنارے بھی میلے نہیں ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن بشیر بن نعمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن حبان نے ابومحمد بن بشیر بن ابان کے بارے میں یہ کہا ہے : بشیر بن نعمان بن بشیر بن ابان ہے ، تو انہوں نے اس کے نسب میں نعمان کا اضافہ کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

16494

Majma al-Zawaid #16494

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ أَيَّدَنِي بِأَشِدِّ الْعَرَبِ أَلْسُنًا وَأَذْرُعًا، بِابْنَيْ قَيْلَةَ: الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared Allah aided him through the strongest-tongued and strongest-armed Arabs, the two sons of Qaylah, al-Aws and al-Khazraj. > **"Indeed Allah aided me through the strongest of Arabs in tongues and arms, through the two sons of Qaylah: al-Aws and al-Khazraj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری تائید قیلہ کے ان دو بیٹوں کے ذریعے کی ہے ، جو عربوں میں زبان کے اعتبار سے ، سب سے زیادہ مضبوط ہیں اور سب سے زیادہ مضبوط کلائیوں والے ہیں اور وہ اوس اور خزرج قبیلے کے لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16495

Majma al-Zawaid #16495

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَالْتَقَمَ أُذُنَهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَارَ الدَّمُ فِي أَسَارِيرِهِ، وَقَالَ: "" هَذَا يَا رَسُولُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ يَتَهَدَّدُنِي وَيَتَهَدَّدُ مَنْ بِإِزَائِي، فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالْبَنِينَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، بِابْنَيْ قَيْلَةَ» "" يَعْنِي الْأَنْصَارَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: "" «فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالنَّبِيِّ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَبِابْنَيْ قَيْلَةَ» "". وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāqid al-Laythī رضي الله عنه reports sitting knee to knee with the Messenger of Allah ﷺ when a comer whispered, changing his ﷺ face with blood rising, complaining that ʿĀmir ibn al-Ṭufayl threatened him and those beside him, and Allah sufficed him through sons of Ismāʿīl, the two sons of Qaylah, meaning the Anṣār. > **"Allah sufficed me against him through the sons of Ismāʿīl, through the two sons of Qaylah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے کو مس ہو رہا تھا اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے آپ کے کان کے پاس منہ کیا اور کوئی بات بیان کی ، تو نبی اکرم ﷺ کا چہرہ تبدیل ہو گیا اور آپ کی رگوں میں خون پھیل گیا ( یعنی رگیں نمایاں ہو گئیں ) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ عامر بن طفیل کا قاصد ہے اور اس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو دھمکی دی ہے ، حالانکہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اولاد اسماعیل میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد ) کے ذریعے میری مدد کر دے گا ‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد انصار تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں اپنے نبی کی کفایت ، اسماعیل کی اولاد میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد یعنی انصار ) کے ذریعے کر دے گا ۔‘‘ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16496

Majma al-Zawaid #16496

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: "" أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً، لَاتَّبَعَتْ شُعْبَةَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكَنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِيَ أَمْرَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ» "". وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ on the minbar for the Anṣār call men his outer cloak and Anṣār his inner, promise their mountain path, declare himself of them but for Hijrah, enjoin kindness and pardon, and warn that frightening them frightens what lies between his sides, pointing to himself. > **"Indeed men are my outer cloak and the Anṣār are my inner garment; whoever frightens them has frightened this which lies between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر انصار سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ خبردار ! دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ، اور اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، جو شخص انصار کے معاملے کا نگران بنے تو وہ ان کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرے اور ان کے برے فرد سے درگزر کرے جو شخص انہیں خوف زدہ کرے گا ، وہ اس کو خوف زدہ کرے گا ، جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن نضر انصاری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16497

Majma al-Zawaid #16497

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ أَبُوهُ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا بِأُحُدٍ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا، أَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Kaʿb ibn Mālik reports from a Companion that the Prophet ﷺ stood preaching, praised Allah, sought forgiveness for the martyrs of Uḥud, then said the Muhājirīn increase while the Anṣār do not, naming them his trust and refuge, enjoining honour for their noble and pardon for their wrongdoers, for they discharged their duty while their reward remains. > **"O company of Muhājirīn, you increase while the Anṣār do not increase; the Anṣār are my trust to which I resorted, so honour their noble and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن کعب بن مالک ، ان کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور آپ نے غزوہ اُحد کے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے خاص ساتھی ہیں ، میں جن کی پناہ میں آیا ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے جو اُن کے ذمہ بنتا تھا اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو ان کا حق بنتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16498

Majma al-Zawaid #16498

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - يَعْنِي: أَبَاهُ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: "" أَمَّا بَعْدُ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Kaʿb ibn Mālik al-Anṣārī, meaning his father among the three forgiven, reports through a Companion that the Prophet ﷺ emerged head-bound declaring the Muhājirīn increasing while the Anṣār remain as today, naming them his trust and refuge, enjoining honour and pardon. > **"The Anṣār are my trust to which I resorted, so honour their noble and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری ( یہ حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ ) ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، عبداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ ﷺ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ ﷺ نے اپنے خطبے کے درمیان ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، وہ اسی حالت پر رہیں گے جس پر اب ہیں اور انصار میرے قریبی ہیں ، جن کی پناہ میں نے لی ہے ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16499

Majma al-Zawaid #16499

وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، «فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفْرَانِ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ: إِزَارٌ وَرِدَاءٌ، فَوَقَفَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ فَقَالَ: أَبَا حَجَّاجٍ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ؟ قَالَ: أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ. قَالَ: فَأَرْسَلَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ، فِي أَحَدِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ، وَفِي الْآخَرِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qudāmah ibn Ibrāhīm reports seeing al-Ḥajjāj beat ʿAbbās ibn Sahl over Ibn al-Zubayr, when Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه, an aged braided elder in waist-wrapper and cloak, stood between the rows invoking the Messenger's ﷺ bequest to do good to the righteous of the Anṣār and pardon their wrongdoers, and al-Ḥajjāj released him. > **"He enjoined doing good to the righteous of the Anṣār and pardoning their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قدامہ بن ابراہیم بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو دیکھا کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے عباس بن سہل کی پٹائی کر رہا تھا ، اسی دوران حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس آئے اور وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے ، ان کے دونوں طرف بال تھے ، ان کے جسم پر دو لباس تھے ، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی ، وہ پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے : اے حجاج ! کیا تم ہمارے بارے میں ، اللہ کے رسول ﷺ کی وصیت کا خیال نہیں رکھو گے ؟ حجاج نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے کیا وصیت کی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اللہ کے رسول ﷺ نے یہ وصیت کی ہے کہ انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کی جائے اور ان کے برے فرد سے درگزر کیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج نے عباس کو چھوڑ دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب ہے اور دوسری میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

16500

Majma al-Zawaid #16500

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded accepting from the righteous of the Anṣār and overlooking their wrongdoers. > **"Accept from the righteous of the Anṣār and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انصار کے اچھائی کرنے والے کو قبول کرو ، ان کے برے فرد سے درگزر کرو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے جسے دحیم اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16501

Majma al-Zawaid #16501

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ خَرَجَ مُتَلَفِّعًا فِي أَخْلَاقِ ثِيَابٍ عَلَيْهِ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَسَمِعَ النَّاسُ بِهِ وَأَهْلُ السُّوقِ، فَحَضَرُوا الْمَسْجِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، احْفَظُونِي فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ; فَإِنَّهُ كَرِشِي الَّذِي آكُلُ فِيهَا، وَعَيْبَتِي، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Saʿd reports from his father that when his own death was announced to the Prophet ﷺ, he ﷺ emerged wrapped in worn clothes to the minbar before townsfolk and marketfolk, praised Allah, and enjoined remembering him well through this clan of Anṣār, his stomach and trust, accepting from their righteous and overlooking their wrongdoers. > **"O men, remember me well through this clan of the Anṣār, for they are my stomach in which I eat and my trust; accept from their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن سعد اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو یہ اطلاع دی گئی کہ آپ عنقریب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو آپ گھر سے باہر تشریف لائے آپ نے کپڑا سر پر لپیٹا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، لوگوں کو آپ کے بارے میں پتہ چلا اور بازار والوں کو پتہ چلا ، تو وہ سب مسجد میں آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! انصار کے اس قبیلے کے بارے میں میری حفاظت کرنا ، کیونکہ یہ میرے خاص قریبی ساتھی ہیں ، تم ان میں کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی زید بن سعد بن زید اشہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16502

Majma al-Zawaid #16502

وَعَنْ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ: «أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ مَرَّ بِمَرْوَانَ يَوْمَ الدَّارِ وَهُوَ صَرِيعٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ الزَّرْقَاءِ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ حَيٌّ أَجَزْتُ عَلَيْكَ، فَحَقَدَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَتَى بِهِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: احْفَظْ فِيَّ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ: "" احْفَظُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ زَوْجَ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhājir ibn Dīnār reports that Abū Saʿīd al-Anṣārī رضي الله عنه passed Marwān fallen on the day of the House, vowing to finish him had he known life remained, which ʿAbd al-Malik resented; when caliph he summoned him, and Abū Saʿīd invoked the Messenger's ﷺ bequest to preserve their righteous and overlook their wrongdoers. > **"Preserve their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مہاجر بن دینار بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ ایک دن مروان کے پاس سے گزرے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب جنگ ہوئی تھی اور وہ پچھاڑا گیا تھا ، انہوں نے کہا : اے ابن زرقاء ! اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم زندہ ہو ، تو میں نے تم پر حملہ کر دینا تھا ، عبدالملک نے ان کے خلاف یہ بات یاد رکھی ، پھر جب عبدالملک خلیفہ بن گیا تو انہیں لایا گیا تو حضرت ابوسعید انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا : تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کی وصیت کا خیال رکھنا ، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا : ) ’’ ان کے ( یعنی انصار کے ) اچھے افراد کی حفاظت کرنا اور برے لوگوں سے درگزر کرنا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بنت یزید بن سکن بن عمرو بن حرام کے شوہر تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16503

Majma al-Zawaid #16503

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ عَرَفْتَ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَنْصَارِ عِنْدَ مَوْتِهِ: "" اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reports that Abū Bakr رضي الله عنه wrote to ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنه recalling the Messenger's ﷺ bequest concerning the Anṣār at his death to accept from their righteous and overlook their wrongdoers. > **"Accept from their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ’’ امابعد ! نبی اکرم ﷺ نے اپنے وصال کے قریب انصار کے بارے میں جو وصیت کی تھی ، اس کا تمہیں علم ہے کہ تم لوگ ان کے اچھے فرد کی اچھائی قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اسے امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16504

Majma al-Zawaid #16504

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لَهُ: هَذِهِ الْأَنْصَارُ رِجَالُهَا وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِدِ يَبْكُونَ، قَالَ: "" وَمَا يُبْكِيهَا؟ "". قَالَ: يَخَافُونَ أَنْ تَمُوتَ. قَالَ: فَخَرَجَ فَجَلَسَ عَلَى مِنْبَرِهِ مُتَعَطِّفٌ بِثَوْبٍ، طَارِحٌ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِعِصَابَةِ سَخْتٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا أَوَّلَهُ إِلَى قَوْلِهِ: فَخَرَجَ فَجَلَسَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنِ ابْنِ كَرَامَةَ، عَنِ ابْنِ مُوسَى، وَلَمْ أَعْرِفِ الْآنَ أَسْمَاءَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was told the Anṣār, men and women, wept in the mosque fearing his ﷺ death, so he ﷺ emerged wrapped with ends on his shoulders and head bound, praised Allah, and said men increase while the Anṣār decrease until like salt in food, enjoining acceptance and pardon for whoever governs them. > **"Men shall increase and the Anṣār shall decrease until they are like salt in food; whoever governs any of their affairs, let him accept from their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی آیا اور آپ کو بتایا کہ انصار کے مرد اور خواتین مسجد میں موجود ہیں اور وہ رو رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : آپ ﷺ تشریف لائے آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے کپڑا سر پر باندھا ہوا تھا ، جس کے کنارے آپ کے کندھے پر آ رہے تھے ، آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی جو پرانے کپڑے کی تھی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! اے لوگو ! بے شک دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ یوں ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے ، تو جو شخص لوگوں کے معاملے میں کسی چیز کا نگران بنے ، تو وہ انصار کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرے اور برے فرد کی برائی سے درگزر کرے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس کا ابتدائی حصہ یہاں تک نہیں ہے :’’ آپ تشریف لائے اور تشریف فرما ہوئے ......‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ابن کرامہ کے حوالے سے ابن موسیٰ سے نقل کی ہے اور اس وقت میں ان دونوں کے ناموں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16505

Majma al-Zawaid #16505

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَوْصَى بِالنَّاسِ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، إِنَّكُمْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِيدُ عَلَى هَيْئَتِهَا الَّتِي هِيَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ، وَالْأَنْصَارُ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ emerged, prayed, enjoined good for men, then said the Muhājirīn increase while the Anṣār remain as today, naming them his trust and refuge, enjoining honour and pardon. > **"The Anṣār are my trust to which I resorted, so honour their noble and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے لوگوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، یہ اسی طرح رہیں گے جس طرح یہ اس وقت ہیں اور انصار میرے مقربین ہیں ، جن کی پناہ میں نے لی ہے ، تو تم ان کے معزز افراد کی عزت افزائی کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16506

Majma al-Zawaid #16506

وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «أَنَّ سَهْلًا دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: "" أَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ "". فَقَالَ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ قَالَ: هَذَانِ كَنَفَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، فَقَالَا: نَعَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbbās ibn Sahl ibn Saʿd reports that Sahl رضي الله عنه entered upon al-Ḥajjāj leaning on his hand and cited the Prophet ﷺ on doing good to the righteous of the Anṣār and pardoning their wrongdoers, witnessed by ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar and Ibrāhīm ibn Muḥammad ibn Ḥāṭib at his sides. > **"Do good to their righteous and pardon their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباس بن سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت سہل رضی اللہ عنہ ، حجاج کے پاس آئے ، وہ اس وقت ہاتھ کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا ، حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے انصار کے بارے میں یہ فرمایا ہے : کہ ان کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے فرد سے درگزر کرو ، حجاج نے دریافت کیا : کون آپ کے حق میں گواہی دے گا ؟ تو انہوں نے کہا : یہ دو افراد جو تمہارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں ، عبداللہ بن جعفر اور ابراہیم بن محمد بن حاطب ، تو ان دونوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ایسا ہی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16507

Majma al-Zawaid #16507

وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَهُمْ يَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Usayd ibn Ḥuḍayr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the Anṣār his stomach and trust, noting men increase while they decrease, enjoining acceptance and pardon. > **"The Anṣār are my stomach and my trust; men shall increase while they decrease, so accept from their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انصار میرے انتہائی قریبی اور رازدار ہیں ، دوسرے لوگ زیادہ ہوتے جائیں گے اور یہ لوگ کم ہوتے جائیں گے ، تو تم اُن کے اچھے فرد کی اچھائی قبول کرنا اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16508

Majma al-Zawaid #16508

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، تَزِيدُونَ إِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Kaʿb ibn Mālik reports from his father among the three forgiven that the Prophet ﷺ stood preaching, praised Allah, sought forgiveness for the martyrs of Uḥud, and said the Muhājirīn increase while the Anṣār do not, naming them his trust and refuge, enjoining honour and pardon, for they discharged their duty while their reward remains. > **"The Anṣār are my trust to which I resorted, so honour their noble and overlook their wrongdoers, for they have discharged what was upon them and what is theirs remains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اُن کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی جو غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تھے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے رازدار ہیں ، جن کی میں نے پناہ لی ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور اُن کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16509

Majma al-Zawaid #16509

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَنَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Kaʿb ibn Mālik reports from his father that the last sermon the Messenger of Allah ﷺ preached to them covered the same concerning the Anṣār in abridged form. > **"Honour their noble and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ آخری خطبہ جو نبی اکرم ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا :..... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16510

Majma al-Zawaid #16510

وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَمَحْمُودٍ ابْنَيْ جَابِرٍ قَالَا: «خَرَجْنَا يَوْمَ دَخَلَ حُبَيْشُ بْنُ دُلْجَةَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ الْحَرَّةِ بِعَامٍ، فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ حَتَّى ظَهْرِ الْمِنْبَرُ، فَفَزِعَ النَّاسُ، فَخَرَجْنَا بِجَابِرٍ فِي الْحَرَّةِ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَنَكَبَهُ الْحَجَرُ فَقَالَ: أَخَافَ اللَّهُ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَتَاهُ، وَمَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ أَخَافَ الْأَنْصَارَ، فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ» ".

EnglishUnverified translation

Muḥammad and Maḥmūd sons of Jābir report going out when Ḥubaysh ibn Duljah entered Madīnah a year after al-Ḥarrah until the minbar showed, frightening men; they brought blind Jābir at al-Ḥarrah, a stone struck him aside, and twice or thrice unasked he invoked Allah's fright upon whoever frightened the Messenger of Allah ﷺ, then testified he heard the Messenger ﷺ warn that frightening the Anṣār frightens what lies between his sides. > **"Whoever frightens the Anṣār has frightened what lies between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد اور محمود نامی راوی ، یہ دونوں جابر کے صاحبزادے ہیں ، یہ دونوں بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نکلے ، یہ ان دنوں کی بات ہے جب حبیش بن دلجہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تھا ، یہ واقعہ حرہ سے ایک سال بعد کی بات ہے ، جب وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور منبر پر چڑھا ، تو لوگ خوف زدہ ہو گئے ، ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے ، ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہیں ایک پتھر کے ذریعے ٹھوکر لگی تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوف کا شکار کرے ، جس نے اللہ کے رسول ﷺ کو خوف کا شکار کیا ہے ، انہوں نے یہ بات دو یا تین مرتبہ کہی ، ہم نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، ہم نے کہا : اے ابا جان ! کون شخص ہے جو اللہ کے رسول کو خوف کا شکار کرے گا ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص انصار کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا وہ اُس کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا ، جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔‘‘

16511

Majma al-Zawaid #16511

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَنْبَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: "" «مَنْ أَخَافَ الْأَنْصَارَ» "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَالِبِ بْنِ حَبِيبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording he ﷺ placed his hands upon his sides while uttering the warning concerning frightening the Anṣār, and in other wordings frightening the people of Madīnah. > **"Whoever frightens the Anṣār has frightened what lies between these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص انصار کو خوف زدہ کرے گا .....‘‘۔ بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالب بن حبیب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا ......‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16512

Majma al-Zawaid #16512

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: «أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُمْ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا لَكُمْ لَمْ تَلْقَوْنِي مَعَ إِخْوَانِكُمْ مِنْ قُرَيْشٍ؟ قَالَ عُبَادَةُ: الْحَاجَةُ، قَالَ: فَهَلَّا عَلَى النَّوَاضِحِ؟ قَالَ: أَنْضَيْنَا يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا أَجَابَهُ فَقَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَثَرَةٌ بَعْدِي "". قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا أَمَرَكُمْ؟ قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ حَتَّى نَلْقَاهُ، قَالَ: فَاصْبِرُوا إِذًا حَتَّى تَلْقَوْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reports that Muʿāwiyah رضي الله عنه asked the Anṣār why they did not meet him with Quraysh brethren, ʿUbādah citing need and worn camels at Badr without answer, then recalling the Messenger's ﷺ foretelling of favouritism after him and the command to patience until meeting him, which Muʿāwiyah affirmed. > **"There shall be favouritism against you after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے انصار کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آئے ؟ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ضرورت کی وجہ سے ، انہوں نے کہا : آپ اونٹنیوں پر کیوں نہیں آئے ؟ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے تھکا دی تھیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے یہ فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم ﷺ نے تم لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، یہاں تک کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ سے جا ملیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ لوگ اس وقت تک صبر سے کام لیں ، جب تک آپ نبی اکرم ﷺ سے جا نہیں ملتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

16513

Majma al-Zawaid #16513

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فَأَبْطَأَتِ الْأَنْصَارُ عَنْ تَلَقِّيهِ فَلَمْ يَصْنَعْ بِهِمْ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَتُصِيبُكُمْ بَعْدِي أَثَرَةٌ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي "". قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَاصْبِرُوا إِذًا. قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: نَصْبِرُ كَمَا أَمَرَنَا، وَاللَّهِ لَا يُضِلُّكَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that when Muʿāwiyah arrived and the Anṣār delayed meeting him without reprisal, Abū Ayyūb رضي الله عنه affirmed the truthful promise of favouritism after him ﷺ with patience until meeting him, which Muʿāwiyah affirmed and Abū Ayyūb upheld. > **"Favouritism shall befall you after me, so be patient until you meet me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انصار کو ان سے ملنے کے لئے آنے میں تاخیر ہو گئی ، انہوں نے ان کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ، تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ، تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے تو تم صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ، تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم اسی طرح صبر سے کام لیں گے جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے ، اللہ کی قسم ! وہ تمہیں نہیں بھٹکائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

16514

Majma al-Zawaid #16514

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَيْسَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْهُ؟» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

A man reports that Dhū al-Yadayn addressed the Anṣār asking whether the Messenger of Allah ﷺ had not commanded patience until meeting him. > **"Did the Messenger of Allah ﷺ not command you to be patient until you meet him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا تھا ؟ کہ تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ تم نبی اکرم ﷺ سے جا ملو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس باب میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔

16515

Majma al-Zawaid #16515

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، بَايِعْ هَذَا فَقَالَ: "" وَمَنْ هَذَا؟ "". قَالَ: هَذَا ابْنُ عَمِّي: حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ - أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ -. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا أُبَايِعُكُمْ، إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ، لَا يُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُحِبُّهُ، وَلَا يُبْغِضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُبْغِضُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn Ziyād al-Sāʿidī al-Anṣārī رضي الله عنه reports coming to the Prophet ﷺ on the day of al-Khandaq while he pledged men to Hijrah, presenting his cousin Ḥawṭ, and the Prophet ﷺ refused their pledge since men emigrate to them, not from them, swearing that love or hatred of the Anṣār until meeting Allah returns like for like. > **"No man loves the Anṣār until he meets Allah but Allah meets him loving him, and no man hates the Anṣār until he meets Allah but Allah meets him hating him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص سے بھی بیعت لے لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ میرا چچازاد حوط بن یزید ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) یزید بن حوط ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تم لوگوں سے بیعت نہیں لوں گا کیونکہ لوگ تو ہجرت کر کے تمہاری طرف آئیں گے ، تم ہجرت کر کے ان کی طرف نہیں جاؤ گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جو شخص انصار سے محبت کرتا ہو اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہو گا ، اور جو شخص انصار سے بغض رکھتا ہو ، یہاں تک کہ وہ ایسی حالت میں ہی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

16516

Majma al-Zawaid #16516

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: «أَنَّ النَّاسَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَفْرِ الْخَنْدَقِ يُبَايِعُونَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَا تُبَايِعُونِ عَلَى الْهِجْرَةِ إِنَّمَا يُهَاجِرُ النَّاسُ إِلَيْكُمْ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُحِبُّ الْأَنْصَارَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُحِبُّهُ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ يُبْغِضُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُهَيْلٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Usayd al-Sāʿidī رضي الله عنه reports that when men came to dig al-Khandaq pledging Hijrah, the Prophet ﷺ when finished told the Anṣār not to pledge to Hijrah since men emigrate to them, and meeting Allah with love or hatred of the Anṣār returns like for like. > **"Men emigrate to you; whoever meets Allah loving the Anṣār, Allah meets him loving him, and whoever meets Allah hating the Anṣār, Allah meets him hating him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تاکہ خندق کھودیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے بیعت لینا شروع کی ، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! تم لوگ ہجرت پر بیعت نہیں کرو گے ، کیونکہ لوگوں نے ہجرت کر کے تمہاری طرف آنا ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ انصار سے محبت رکھتا ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھتا ہو گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ انصار سے بغض رکھتا ہو ، تو وہ شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سہیل ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16517

Majma al-Zawaid #16517

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: «أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ فَقَالُوا: لَنَا فِي حَدِيثِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا أَزِيدَكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَ مِثْلَهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reports sitting among Anṣār when Muʿāwiyah رضي الله عنه emerged, asked their talk, heard it concerned the Anṣār, and added what he heard from the Messenger of Allah ﷺ tying Allah's love and hatred to love and hatred of the Anṣār. > **"Whoever loves the Anṣār, Allah loves him, and whoever hates the Anṣār, Allah hates him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ انصار کے کچھ افراد کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے ان کی بات چیت کے بارے میں دریافت کیا تو ان لوگوں نے بتایا کہ ہم لوگ انصار کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تم لوگوں کو مزید ایک حدیث نہ سناؤں ؟ جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، تو ان لوگوں نے کہا : جی ہاں ! اے امیرالمومنین ! تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کی مانند روایت منقول ہے امام طبرانی نے یہ روایت معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16518

Majma al-Zawaid #16518

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ tied love and hatred of the Anṣār to love and hatred of himself. > **"Whoever loves the Anṣār, through love of me he loved them, and whoever hates the Anṣār, through hatred of me he hated them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھے گا تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ نعمان بن مرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16519

Majma al-Zawaid #16519

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ tied Allah's love and hatred to love and hatred of the Anṣār. > **"Whoever loves the Anṣār, Allah loves him, and whoever hates the Anṣār, Allah hates him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16520

Majma al-Zawaid #16520

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ again tied love and hatred of the Anṣār to love and hatred of himself. > **"Whoever loves the Anṣār, through love of me he loved them, and whoever hates the Anṣār, through hatred of me he hated them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف احمد بن حاتم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16521

Majma al-Zawaid #16521

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوَيْتُ إِلَيْهَا، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the Anṣār his trust and refuge, enjoining acceptance and pardon, for they discharged their duty while their reward remains. > **"The Anṣār are my trust to which I resorted, so accept from their righteous and overlook their wrongdoers, for they have discharged what was upon them and what is theirs remains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک انصار میرے قریبی ہیں ، جن کی میں نے پناہ لی ہے ، تو تم ان کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرو اور ان کے برے فرد سے درگزر کرو ، کیونکہ ان لوگوں نے وہ چیز ادا کر دی ہے جو ان کے ذمہ تھی ، اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے جو ان کا حق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16522

Majma al-Zawaid #16522

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُنَافِقٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ كُرَيْدُ بْنُ رَوَاحَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ made love of the Anṣār the sign of every believer and hypocrite, through love and hatred of himself. > **"Love of the Anṣār is the sign of every believer and hypocrite; whoever loves the Anṣār, through love of me he loved them, and whoever hates the Anṣār, through hatred of me he hated them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انصار سے محبت رکھنا ہر مومن اور منافق ( کے درمیان فرق ) کی نشانی ہے ، جو شخص انصار سے محبت رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا ، تو وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کرید بن رواحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16523

Majma al-Zawaid #16523

وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي: أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا: سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rabāḥ ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥuwayṭib reports from his grandmother hearing her father Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنه say he heard the Messenger of Allah ﷺ deny prayer without ablution, ablution without Allah's name, faith in Allah without faith in him, and faith in him without love of the Anṣār. > **"None believes in Allah who does not believe in me, and none believes in me who does not love the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رباح بن عبدالرحمن بن حويطب بیان کرتے ہیں : میری دادی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ اس خاتون نے اپنے والد حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو ، اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا ، جس نے اُس سے پہلے اللہ کا نام نہ لیا ہو ، اور وہ شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوتا جو مجھ پر ایمان نہ رکھتا ہو ، اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوتا ، جو انصار سے محبت نہ کرتا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤ اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں انصار والا حصہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوثفال مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16524

Majma al-Zawaid #16524

وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَتَرْجَمَ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ، فَلَعَلَّهَا سَمِعَتْهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِنْ أَبِيهَا فَرَوَتْهُ مَرَّةً هَكَذَا، وَمَرَّةً هَكَذَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو ثِفَالٍ أَيْضًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rabāḥ reports from his grandmother hearing the Messenger of Allah ﷺ tie belief in Allah to belief in him and belief in him to love of the Anṣār. > **"None believes in Allah who does not believe in me, and none believes in me who does not love the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رباح بن عبدالرحمن بن حویطب اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ وہ شخص اللہ پر ایمان نہیں رکھتا ، جو مجھ پر ایمان نہ رکھتا ہو اور وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا ، جو انصار سے محبت نہ کرتا ہو ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے انہوں نے اس خاتون کے حالات بیان کیے ہیں ، شاید اس خاتون نے یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے براہ راست خود بھی سنی ہو ، اور اپنے والد سے بھی سنی ہو ، تو ایک مرتبہ اس طرح روایت کر دی اور دوسری مرتبہ دوسری طرح روایت کر دی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوثقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16525

Majma al-Zawaid #16525

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اسْتَحْدِثُوا الْإِسْلَامَ بِحُبِّ الْأَنْصَارِ ; فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded renewing Islam through love of the Anṣār, loved only by believers and hated only by hypocrites. > **"Renew Islam through love of the Anṣār, for none loves them but a believer, and none hates them but a hypocrite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انصار سے محبت کے ذریعے اسلام کی تجدید کرتے رہو ، کیونکہ مومن ہی ان سے محبت رکھے گا اور کوئی منافق ہی اُن سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16526

Majma al-Zawaid #16526

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا جَرُّوا نَخْلَهُمْ قَسَّمَ الرَّجُلُ تَمْرَةً إِلَى قِسْمَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَقَلُّ مِنَ الْآخَرِ، ثُمَّ يَجْعَلُونَ السَّعَفَ مَعَ أَقَلِّهِمَا، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْمُسْلِمِينَ فَيَأْخُذُونَ أَكْثَرَهُمَا، وَيَأْخُذُ الْأَنْصَارُ أَقَلَّهُمَا مِنْ أَجْلِ السَّعَفِ، حَتَّى فُتِحَتْ خَيْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ وَفَّيْتُمْ لَنَا بِالَّذِي كَانَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَطِيبَ أَنْفُسُكُمْ بِنَصِيبِكُمْ مِنْ خَيْبَرَ، وَتَطِيبَ لَكُمْ ثِمَارُكُمْ فَعَلْتُمْ "". قَالُوا: إِنَّهُ قَدْ كَانَ لَكَ عَلَيْنَا شُرُوطٌ، وَلَنَا عَلَيْكَ شَرْطٌ بِأَنَّ الْجَنَّةَ لَنَا، فَقَدْ فَعَلْنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا بِأَنَّ لَنَا شَرْطَنَا، قَالَ: "" فَذَاكُمْ لَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَفِيهِمَا مَجَالِدٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Anṣār when harvesting palms would split dates into unequal shares, add fronds to the lesser, let Muslims choose the greater until Khaybar opened, when the Messenger of Allah ﷺ offered release from Khaybar shares for ripened fruits; they recalled his conditions upon them and their condition upon him of Paradise, which he ﷺ confirmed as theirs. > **"You have fulfilled for us what was upon you; that is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار جب اپنی کھجوروں کے درخت سے کھجوریں اُتارتے تھے تو ہر آدمی کھجوروں کو دو حصوں میں تقسیم کر لیتا تھا ، ان میں سے ایک حصہ ، دوسرے سے کم ہوتا تھا ، پھر وہ شاخوں کو کم والے حصے کے ساتھ ملا دیتے تھے ، پھر مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا تھا تو وہ ان میں سے زیادہ والا حصہ لے لیتے تھے ، اور انصار تھوڑا حصہ لیتے تھے ، کیونکہ اس میں شاخیں وغیرہ ہوتی تھیں ، یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کے ذمہ جو چیز لازم تھی وہ تم نے ہمیں پوری ادا کر دی ، اب اگر تم چاہو تو خیبر میں اپنا حصہ لے کر مطمئن ہو جاؤ اور اگر تم چاہو تو اپنے یہ پھل لے لو ، جیسے تم کرو گے ٹھیک ہے تو ان لوگوں نے عرض کی : آپ کے لئے ہمارے ذمہ ایک شرط تھی اور ہمارے لئے آپ کے ذمہ ایک شرط تھی کہ ہمیں جنت ملے گی تو ہم نے تو وہ کر دیا ، جو آپ نے ہم سے مانگا تھا ، کیا ہمیں وہ چیز ملے گی جو ہم نے شرط عائد کی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ چیز تمہیں ملے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی مجالد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16527

Majma al-Zawaid #16527

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا يَضُرُّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said no harm befalls a woman dwelling between two Anṣārī houses or between her parents. > **"No harm befalls a woman who dwells between two houses of the Anṣār, or dwells between her parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسی کسی خاتون کو کوئی نقصان نہیں ہو گا جو انصار کے دو گھرانوں کے درمیان ٹھہرتی ہے ، یا وہ اپنے ماں باپ کے ہاں ٹھہرتی ہے ‘‘ ( یعنی کوئی فرق نہیں ہو گا ) ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16528

Majma al-Zawaid #16528

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «شَقَّ عَلَى الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَكْرِيَ لَهُمْ نَهْرًا سَيْحًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ، مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ، وَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ لَكُمْ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ ". فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اغْتَنِمُوهَا وَسَلُوهُ الْمَغْفِرَةَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ".

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that watering hardship drove the Anṣār to ask the Prophet ﷺ to hire them the flowing Sayḥ river; he ﷺ welcomed the Anṣār, promised every request that day and every supplication for them, and at their seeking forgiveness supplicated for the Anṣār, their sons, and their sons' sons, in other wordings adding wives and daughters-in-law. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the sons of the Anṣār, and the sons of the sons of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے لئے یہ پانی لاد کر لانا مشکل کا باعث بن رہا تھا ، وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے اور آپ سے یہ درخواست کی کہ نبی اکرم ﷺ ان کے لئے ایک نہر کھدوا دیں ، جو مستقل بہتی رہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : انصار کو خوش آمدید ہے ! انصار کو خوش آمدید ہے ! اللہ کی قسم ! آج تم مجھ سے جو بھی مانگو گے وہ میں تمہیں دے دوں گا اور میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگوں گا وہ مجھے دیدے گا ۔ ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا : تم لوگ اس صورت حال کو غنیمت سمجھو اور تم لوگ نبی اکرم ﷺ سے دعائے مغفرت کی درخواست کرو ، تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! انصار کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کی مغفرت کر دے ، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘

16529

Majma al-Zawaid #16529

وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَلِأَزْوَاجِ الْأَنْصَارِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: "" مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ "" - ثَلَاثًا -. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: "" وَلِلْكَنَائِنِ "". وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording the supplication extends to the wives of the Anṣār, greeted thrice with welcome. > **"O Allah, forgive the Anṣār, the sons of the Anṣār, the sons of the sons of the Anṣār, and the wives of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ انصار کی بیویوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” انصار کو خوش آمدید ۔‘‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ معجم اوسط ، معجم صغیر اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :” انصار کی بہو ، بیٹیوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔