Majma al-Zawaid #16490
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "" «أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارٌ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ شِعَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شُعْبَةً لَاتَّبَعَتْ شُعْبَةَ الْأَنْصَارَ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِهِمْ شَيْئًا، فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَذَيْنِ "" وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ يَعْنِي قَلْبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ: إِنَّهُ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Qatādah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ on the minbar call men the outer cloak and Anṣār the inner, promise their mountain path, declare himself of them but for Hijrah, enjoin kindness and pardon, and warn that frightening them frightens what lies between his sides, pointing to his breast, his heart. > **"Indeed men are the outer cloak and the Anṣār are the inner garment; whoever frightens them has frightened this which lies between these two."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خبردار ! دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ( یعنی چادر ) ہیں ، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں ، اگر دوسرے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں جاؤں گا ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، جو شخص لوگوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز ( یعنی حکومت ) کا نگران بنے تو اسے انصار کے اچھے افراد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور برے لوگوں سے درگزر کرنا چاہیے ، جو شخص انصار کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ اس کو خوف زدہ کرنے والا شمار ہو گا جو ان دونوں کے درمیان ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سینے یعنی اپنے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔