Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 55

Book of Virtues and Merits

Hadith 16450–16489

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16450

Majma al-Zawaid #16450

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيمَا أَعْلَمُ: «قَدِّمُوا قُرَيْشًا، وَلَا تَقَدَّمُوهَا، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ؛ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَلَيْسَ هُوَ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الَّذِي فِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reports, to his knowledge, that the Prophet ﷺ commanded advancing Quraysh without preceding them, withholding their rank with Allah lest they exult. > **"Advance Quraysh and do not precede them; were it not that Quraysh would exult, I would inform them of what is theirs with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمائی ہے : ’’ قریش کو مقدم رکھو ! تم اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش تکبر کا شکار ہو جائیں گے ، تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا قدر و منزلت حاصل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے اور وہ متروک ہے اور یہ وہ عدی بن فضل نہیں ہیں ، جس کا ذکر ابن حبان کی کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

16451

Majma al-Zawaid #16451

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تُقَدِّمُوهَا، وَتَعَلَّمُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَلَا تُعَلِّمُوهَا وَلَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "". الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. م - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْعِلْمُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Sāʾib رضي الله عنه reports the Messenger ﷺ commanding precedence for Quraysh and learning from them without teaching them, withholding the reward of their best lest they exult; and ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith ibn Jazʾ al-Zubaydī رضي الله عنه reports knowledge in Quraysh and trust in al-Azd. > **"Advance Quraysh and do not precede them, learn from Quraysh and do not teach them; were it not that Quraysh would exult, I would inform them of what is for their best with Allah, Exalted is He."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قریش کو مقدم رکھو ، تم اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، قریش سے علم حاصل کرو ، تم انہیں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش زیادہ خوش فہمی کا شکار ہو جائیں گے ، تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بہترین لوگوں کے لئے کیا اجر و ثواب ہے ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ علم قریش میں ہے اور امانت ’’ ازد ‘‘ ( قبیلے کے لوگوں ) میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16452

Majma al-Zawaid #16452

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اطْلُبُوا "" - أَوْ قَالَ -: "" الْتَمِسُوا الْأَمَانَةَ فِي قُرَيْشٍ ; فَإِنَّ الْأَمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلٌ عَلَى أَمِينِ مَنْ سِوَاهُمْ، وَإِنَّ قَوِيَّ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلَانِ عَلَى قَوِيِّ مَنْ سِوَاهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded seeking trust in Quraysh, whose trustworthy and strong excel others twofold. > **"Seek trust in Quraysh, for the trustworthy of Quraysh excels the trustworthy of others, and the strong of Quraysh has twofold excellence over the strong of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش میں امانت تلاش کرو ( یہاں عربی کے ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کیونکہ قریش سے تعلق رکھنے والے امین شخص کو ، ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے تعلق رکھنے والے امین پر فضیلت حاصل ہو گی ، اور قریش سے تعلق رکھنے والے طاقتور شخص کو ، اُن کے علاوہ سے تعلق رکھنے والے طاقتور شخص پر دُگنی فضیلت حاصل ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16453

Majma al-Zawaid #16453

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ "". قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: مَا عَنِيَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: نُبْلُ الرَّأْيِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave the Qurashī double the strength of others, explained by al-Zuhrī as nobility of judgment. > **"Indeed the Qurashī has double the strength of a man other than Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریشی شخص کو قریش کے علاوہ افراد میں سے ، دو افراد جتنی قوت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ زہری سے دریافت کیا گیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : رائے کا سمجھ داری پر مشتمل ہونا ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16454

Majma al-Zawaid #16454

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُمَرَ: "" اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ "". فَجَمَعَهُمْ عُمَرُ عِنْدَ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُدْخِلُهُمْ عَلَيْكَ، أَوْ تَخْرُجُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: "" بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ "". قَالَ: فَأَتَاهُمْ فَقَالَ: "" هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. فِينَا حُلَفَاؤُنَا، وَفِينَا بَنُو إِخْوَانِنَا، وَفِينَا مَوَالِينَا. فَقَالَ: "" حُلَفَاؤُنَا مِنَّا، وَبَنُو إِخْوَانِنَا مِنَّا، وَمَوَالِينَا مِنَّا، وَأَنْتُمْ أَلَا تَسْمَعُونَ: "" إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ "" ; فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَانْظُرُوا، لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَأْتُونَ بِالْأَثْقَالِ فَنُعْرِضُ عَنْكُمْ "". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنْ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ، فَمَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ لِمَنْخَرَيْهِ "". - قَالَهَا ثَلَاثًا -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدَ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ: «كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ». وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الْبَزَّارِ، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ: قَدْ جَمَعْتُ لَكَ قُومِي، فَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا: قَدْ نَزَلَ فِي قُرَيْشٍ الْوَحْيُ، فَجَاءَ الْمُسْتَمِعُ وَالنَّاظِرُ مَا يَقُولُ لَهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ». فَذَكَرَ نَحْوَ الْبَزَّارِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rifāʿah ibn Rāfiʿ رضي الله عنه reports the Messenger ﷺ commanding ʿUmar رضي الله عنه to gather his people at his house, emerging to them, declaring allies, nephews, and clients among them, warning against worldly burdens on the Day of Resurrection despite kinship save through piety, then raising his hands thrice that Quraysh are trustworthy and whoever plots pitfalls for them Allah shall cast upon his nostrils. > **"O men, Quraysh are trustworthy; whoever seeks pitfalls for them, Allah shall cast him upon his nostrils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی قوم کے افراد کو میرے لئے اکٹھا کرو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے گھر کے پاس اکٹھا کیا ، پھر وہ گھر کے اندر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں آپ کے پاس اندر آنے کے لئے کہوں ؟ یا آپ باہر ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ میں اُن کے پاس باہر جاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہمارے درمیان ہمارے حلیف لوگ موجود ہیں اور ہمارے بھتیجے ہیں ( عربی متن میں یہی لفظ ہے ، لیکن شاید یہاں لفظ ’’ بھانجے ‘‘ ہونا چاہیے تھا ) اور ہمارے موالی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہمارے حلیف ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے بھتیجے ( یا ’’ بھانجے ‘‘ ) ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے موالی ہم میں سے ہیں ، اور تم لوگ ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ بے شک اس کے مددگار صرف پرہیزگار لوگ ہیں ، اگر تم ایسے ہو گے ، تو پھر یہ چیز ملے گی اور اگر ایسا نہ ہو ، تو پھر تم اس بات کا دھیان رکھنا ، ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ ، اور ہم تم سے اعراض کریں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور عرض کی : اے اللہ ! بے شک قریش ، امانت دار لوگ ہیں جو شخص ان کے خلاف سرکشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے نتھنوں کے بل اوندھا کر دے گا ، یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ اُسے چہرے کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا ۔‘‘ امام طبرانی نے امام بزار کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے لئے اپنی قوم کو جمع کر دیا ہے ، جب انصار کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے کہا : قریش کے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہو گی ، پھر وہ لوگ بھی آئے ، کوئی سننے والا تھا ، کوئی دیکھنے والا تھا کہ نبی اکرم ﷺ ان سے کیا کہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ...... اس کے بعد راوی نے امام بزار کی روایت کی مانند روایت مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد اور امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

16455

Majma al-Zawaid #16455

وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ أَوْفَى مِنْ قُرَيْشٍ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِمَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ فَقِّهْ قُرَيْشًا فِي الدِّينِ وَأَذِقْهُمْ مِنْ يَوْمِي هَذَا إِلَى آخِرِ الدَّهْرِ نَوَالًا، فَقَدْ أَذَقْتَهُمْ نَكَالًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās رضي الله عنه reports praising the fidelity of Quraysh converts at the conquest of Makkah after Abū Bakr رضي الله عنه, whereupon the Messenger of Allah ﷺ supplicated for their understanding and perpetual favour after former punishment. > **"O Allah, grant Quraysh understanding in religion and make them taste favour from this day of mine until the end of time, as Thou hast made them taste punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو قریش کے اُن افراد سے زیادہ ( عہد کو ) پورا کرتا ہو ، جو لوگ فتح مکہ کے موقع پر ، مکہ میں مسلمان ہوئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! قریش کو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما ، اور آج کے بعد سے لے کر زمانہ ختم ہونے تک انہیں اپنے عطیات سے نوازتے رہنا ، جس طرح تو نے پہلے انہیں سزا دی تھی ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16456

Majma al-Zawaid #16456

وَعَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّاتِ مِنْ يَمَنِ الْأَزْدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ، وَالْحَيَاءُ فِي قُرَيْشٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Muʿāwiyah ibn ʿAbd al-Lāt of Yamanī Azd reports hearing the Messenger of Allah ﷺ place trust in al-Azd and modesty in Quraysh. > **"Trust is in al-Azd, and modesty is in Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومعاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ امانت ’’ ازد ‘‘ قبیلے میں ہے اور حیاء ، قریش میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16457

Majma al-Zawaid #16457

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: وَذَكَرَ قُرَيْشًا فَقَالَ: "" إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعَةً: إِنَّهُمْ أَصْلَحُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ، وَأَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمَلُوكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid al-Fihrī رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ mention Quraysh with four traits: soundest at tribulation, quickest recovery after calamity, swiftest return after retreat, and firmest against royal oppression. > **"Indeed among them are four traits: they are the soundest of men at tribulation, quickest to recover after calamity, swiftest to return after retreat, and most preventive of the oppression of kings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، آپ ﷺ نے قریش کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ ان میں چار خصوصیات ہیں ، فتنہ کے وقت یہ باقی لوگوں سے زیادہ نیک ہوتے ہیں اور مصیبت کے بعد یہ لوگ جلدی سنبھل جاتے ہیں اور یہ پیچھے ہٹنے کے بعد پلٹ کر حملہ کرتے ہیں ، اور حکمرانوں کے ظلم کو سب سے زیادہ روکتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد احمد بن محمد بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16458

Majma al-Zawaid #16458

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ، فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: انْظُرِ الشَّيْخَ، فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا ; فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا. فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ، أَلَا أُحَدِّثُكُ بِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى. قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ "". قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! مَا أَحْسَنَ هَذَا، مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ قُلْتُ: حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ أَبِي: يَا بُنَيَّ، إِنْ وَلَيْتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd Allāh ibn ʿUmar ibn Mūsā reports Sulaymān ibn ʿAlī seating a Qurashī elder for the right of Quraysh, then hearing from Rabīʿah via Saʿīd ibn al-Musayyab via ʿAmr ibn ʿUthmān via his father ʿUthmān رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ warned that whoever degrades Quraysh Allah shall degrade, enjoining their honour in rule. > **"Whoever degrades Quraysh, Allah shall degrade him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عمر بن موسیٰ بیان کرتے ہیں : میں سلیمان بن علی کے پاس موجود تھا ، اسی دوران قریش سے تعلق رکھنے والا ایک بزرگ اندر آیا ، سلیمان نے کہا : اس بزرگ کو دیکھو ! پھر اس نے انہیں ایک اچھی جگہ پر بٹھایا اور کہا : قریش کا حق ہوتا ہے ، میں نے کہا : اے امیر ! کیا میں آپ کو ایک حدیث نہ سناؤں ؟ جو مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ملی ہے ، اس نے کہا : جی ہاں ! تو میں نے بتایا ، مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا : سبحان اللہ ! یہ کتنی اچھی بات ہے ، تمہیں یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ حدیث مجھے ربیعہ بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب کے حوالے سے عمرو بن عثمان بن عفان کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد ( یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! اگر تم لوگوں کے معاملات میں سے کسی چیز کے نگران بنو ، تو قریش کا احترام کرنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص قریش کی توہین کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16459

Majma al-Zawaid #16459

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ قَبْلَ مَوْتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو هِلَالٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ warned that whoever degrades Quraysh Allah shall degrade before his death. > **"Whoever degrades Quraysh, Allah shall degrade him before his death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص قریش کی توہین کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے مرنے سے پہلے اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیم ابوہلال ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔

16460

Majma al-Zawaid #16460

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ فُلَانًا الثَّقَفِيَّ قُتِلَ، وَقَدْ كَانَ أَسْلَمَ. فَقَالَ: "" أَبْعَدَهُ اللَّهُ ; إِنَّهُ كَانَ يُبْغِضُ قُرَيْشًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reports that when a Thaqafī convert was slain, the Prophet ﷺ cast him away for hating Quraysh. > **"May Allah cast him away, for he hated Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : فلاں ثقفی شخص قتل ہو گیا ہے ، وہ شخص مسلمان ہو چکا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے ، کیونکہ وہ قریش سے بغض رکھتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16461

Majma al-Zawaid #16461

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ يَوْمَ حُنَيْنٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ مَقْتُولٍ فَقَالَ: "" أَبْعَدَكَ اللَّهُ ; فَإِنَّكَ كُنْتَ تُبْغِضُ قُرَيْشًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah رضي الله عنه reports seeing the Messenger of Allah ﷺ stand on the day of Ḥunayn over a slain man of Thaqīf, casting him away for hating Quraysh. > **"May Allah cast you away, for you hated Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، غزوہ حنین کے موقع پر آپ ﷺ ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقتول شخص کے پاس آ کر ٹھہرے اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے ، تم قریش سے بغض رکھتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

16462

Majma al-Zawaid #16462

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حُبُّ قُرَيْشٍ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ، مَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَقَدْ أَبْغَضَنِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ made love of Quraysh faith and hatred disbelief, and love of the Arabs love of himself and hatred hatred of himself. > **"Love of Quraysh is faith and hatred of them disbelief; whoever loves the Arabs has loved me, and whoever hates them has hated me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش سے محبت رکھنا ایمان ہے ، اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو شخص اُن سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔

16463

Majma al-Zawaid #16463

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بُغْضُ بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ declared hatred of Banū Hāshim and the Anṣār disbelief, and hatred of the Arabs hypocrisy. > **"Hatred of Banū Hāshim and the Anṣār is disbelief, and hatred of the Arabs is hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے اور عربوں سے بغض رکھنا نفاق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16464

Majma al-Zawaid #16464

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded love of Quraysh as a cause for the love of Allah Almighty. > **"Love Quraysh, for whoever loves them, Allah Almighty loves him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قریش سے محبت رکھو ! کیونکہ جو شخص ان سے محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16465

Majma al-Zawaid #16465

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ قَوْمَكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا ". قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ، لَقَدْ دَخَلْتُ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي. قَالَ: " وَمَا هُوَ؟ ". قُلْتُ: تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَتِكَ بِكَ لَحَاقًا، قَالَ: " نَعَمْ ". قُلْتُ: وَمِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: " تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا، وَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: كَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ - أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ -؟ قَالَ: " دُبًّا يَأْكُلُ أَشِدَّاؤُهُ ضِعَافَهُ، حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمُ السَّاعَةُ ". قَالَ: وَالدُّبَّا: الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا».

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her saying her people would be quickest of his Ummah to join him; when she asked in alarm, he ﷺ explained deaths would claim them and their Ummah would envy them, and after them men would be like wingless locusts whose strong devour the weak until the Hour. > **"O ʿĀʾishah, your people shall be the quickest of my Ummah to join me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تمہاری قوم میری امت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملے گی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، جب آپ اندر تشریف لائے تو آپ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی ، جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کی : آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میری قوم آپ کی امت میں سے ، سب سے پہلے آپ سے جا ملے گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ موت انہیں ختم کر دے گی اور ان کی امت انہیں مار دے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کا کیا بنے گا ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس وقت لوگوں کا کیا بنے گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس طرح کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ، جو طاقتور ہوں ، وہ کمزوروں کو کھا جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اُن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : لفظ ’’ دباء ‘‘ کا مطلب وہ کیڑے ہوتے ہیں ، جن کے پر نہیں اُگتے ہیں ۔

16466

Majma al-Zawaid #16466

وَفِي رِوَايَةٍ: «يَا عَائِشَةُ، أَوَّلُ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ "". قَالَ: قُلْتُ: - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ - أَبَنِي تَيْمٍ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ تَسْتَحْلِيُهُمُ الْمَنَايَا، وَتَنَفَّسُ النَّاسُ عَنْهُمْ أَوَّلُ النَّاسِ هَلَاكًا "". قُلْتُ: فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ؟ قَالَ: "" هُمْ صُلْبُ النَّاسِ، إِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ أَيْضًا، وَإِسْنَادُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي بَقِيَّةِ الرِّوَايَاتِ مَقَالٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording ʿĀʾishah رضي الله عنها reports the Prophet ﷺ saying her people, this clan of Quraysh, shall perish first as deaths claim them and men turn on them; asked about mankind after them, he ﷺ called them the backbone of men whose ruin ruins mankind. > **"O ʿĀʾishah, the first of men to perish shall be your people; they are the backbone of men, and when they perish, men perish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے پہلے تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو گی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، کیا بنو تیم ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ قریش کا یہ قبیلہ ، موت انہیں ختم کر دے گی اور لوگ انہیں مار دیں گے ، میں نے عرض کی : اس کے بعد لوگوں کی بقاء کیسے ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ ( یعنی قریش ، دوسرے ) لوگوں کی پشت ہیں ، جب یہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے تو باقی لوگ بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور امام احمد کی نقل کردہ پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ روایات کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

16467

Majma al-Zawaid #16467

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ، يُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْنَعْلِ فَتَقُولُ: هَذَا نَعْلٌ قُرَشِيٌّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: "" هَذِهِ "" بَدَلُ "" هَذَا "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named Quraysh the quickest Arab tribes to perish, until a woman passing a sandal would call it a Qurashī sandal. > **"The quickest Arab tribes to perish is Quraysh; a woman shall soon pass by a sandal and say: this is a Qurashī sandal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عربوں کے قبائل میں سب سے زیادہ جلدی قریش فنا ہوں گے ، عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ کوئی عورت کسی جوتے کے پاس سے گزرے گی تو یہ کہے گی : یہ کسی قریشی کا جوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، امام احمد کے رجال اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16468

Majma al-Zawaid #16468

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَزَالُ الدِّينُ وَاصِبًا مَا بَقِيَ مِنْ قُرَيْشٍ عِشْرُونَ رَجُلًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ tied the firmness of religion to the survival of twenty men of Quraysh. > **"Religion shall remain firm so long as twenty men of Quraysh remain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ دین مسلسل مضبوط رہے گا ، جب تک قریش کے بیس افراد ( بھی ) باقی رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

16469

Majma al-Zawaid #16469

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةٌ، وَمَادَّةُ قُرَيْشٍ مَوَالِيهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said every people has a strength, and the strength of Quraysh is their clients. > **"Indeed every people has a strength, and the strength of Quraysh is their clients."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر قوم کے معاونین ہوتے ہیں ، اور قریش کے معاونین ، اُن کے موالی ( یعنی اُن کے غلام ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16470

Majma al-Zawaid #16470

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَسْلَمَتِ الْمَلَائِكَةُ طَوْعًا، وَأَسْلَمَتِ الْأَنْصَارُ طَوْعًا، وَأَسْلَمَتْ عَبْدُ الْقَيْسِ طَوْعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَيْخِهِ: عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the angels, the Anṣār, and ʿAbd al-Qays all submitted willingly. > **"The angels submitted willingly, the Anṣār submitted willingly, and ʿAbd al-Qays submitted willingly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فرشتوں نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا اور انصار نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا اور عبدالقیس نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16471

Majma al-Zawaid #16471

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ، حُبُّهُمْ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، فِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَأَسْقَطَهُ الْآخَرَانِ وَرِجَالُهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn ʿUbādah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ called this clan of Anṣār a trial whose love is faith and whose hatred is hypocrisy. > **"Indeed this clan of the Anṣār is a trial; loving them is faith and hating them is hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک انصار کا یہ قبیلہ محنۃ ( یعنی آزمائش ) ہے ، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور باقی دو افراد نے اسے ساقط کیا ہے امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16472

Majma al-Zawaid #16472

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّنِي أَحَبَّ الْأَنْصَارَ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ، لَا يُحِبُّهُمْ مُنَافِقٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ مُؤْمِنٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ، النَّاسُ دِثَارٌ، وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا وَالْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِمَا كِلَاهُمَا عَطِيَّةُ، وَحَدِيثُهُ يُكْتَبُ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ tied love and hatred of himself to love and hatred of the Anṣār, denied hypocrites love and believers hatred of them, tied Allah's love and hatred likewise, called men the outer cloak and Anṣār the inner garment, and preferred their mountain path. > **"Whoever loves me loves the Anṣār, and whoever hates me hates the Anṣār; the Anṣār are the inner garment and men the outer cloak, and had men taken a path and the Anṣār a path, I would take the path of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے ، وہ انصار سے محبت رکھے گا ، جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ انصار سے بغض رکھے گا ، کوئی منافق ان سے محبت نہیں رکھے گا اور کوئی مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا ، جو ان سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا ، لوگ اوپری لباس ہیں اور انصار اندرونی لباس ہیں ، اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں ، اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں ، تو ’’ میں ‘‘ انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں ایک راوی عطیہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو اس کے ضعیف ہونے کے باوجود نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16473

Majma al-Zawaid #16473

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَكْثَرِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd reports from the Prophet ﷺ that no man believing in Allah and the Last Day hates the Anṣār. > **"No man who believes in Allah and the Last Day hates the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایسا کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے زیادہ تر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16474

Majma al-Zawaid #16474

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حُبُّ الْأَنْصَارِ إِيمَانٌ، وَبُغْضُهَا نِفَاقٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ made love of the Anṣār faith and hatred hypocrisy. > **"Love of the Anṣār is faith, and hatred of them is hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انصار سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16475

Majma al-Zawaid #16475

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ، قَسَّمْتَ فِي قَوْمِكَ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ. قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ؟ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي، وَمَا أَنَا مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: " فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ ". قَالَ [فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسُ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ] قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ، [فَدَخَلُوا] وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، وَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ؟ وَوَجْدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ". قَالُوا: بَلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ، قَالَ: " أَلَا تُجِيبُونِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟ ". قَالُوا: وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ؟ قَالَ: " أَمَا وَاللَّهِ، لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدِّقْتُمْ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَعَائِلًا فَوَاسَيْنَاكَ. أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا؟ تَأَلَّفْتُ قَوْمًا لِيُسْلِمُوا؟ وَوَكَلَتْكُمُ إِلَى إِسْلَامِكُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِحَالِكُمْ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ". قَالَ: فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ، وَقَالُوا: رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْمًا وَحَظًّا. ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقُوا».

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ gave gifts to Quraysh and Arab tribes with nothing for the Anṣār, resentment spread until one said he had met his people; Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنه conveyed it, declared himself one of his people, gathered them in an enclosure excluding others, and the Prophet ﷺ came, praised Allah, reminded them of guidance after error, riches after poverty, and unity after enmity, drew from them that favour belongs to Allah and His Messenger, rehearsed their truthful claim of belief, aid, shelter, and consolation, reproached worldly rivalry, offered return with the Messenger ﷺ over sheep and camels, declared himself of the Anṣār but for Hijrah, promised their path, and prayed for them and their descendants until they wept and chose the Messenger ﷺ as share. > **"Are you not pleased, O company of Anṣār, that men go with sheep and camels while you return with the Messenger of Allah ﷺ in your dwellings? O Allah, have mercy on the Anṣār, the sons of the Anṣār, and the sons of the sons of the Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے قریش کو مختلف عطیات عطا کیے ، اور عربوں کے دیگر قبائل کو بھی دیے ، اور انصار کو ان میں سے کچھ بھی نہیں دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ، یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ان میں سے کسی نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات اپنی قوم سے ہو گئی ہے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ انصار کے اس قبیلے کو آپ کے اس طرز عمل کے حوالے سے کچھ الجھن ہے جو آپ نے اس مال فئے کے بارے میں کیا ہے ، جو مال آپ کو حاصل ہوا ہے ، جسے آپ نے اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ہے اور آپ نے عربوں کے مختلف قبائل کے لوگوں کو بڑے ، بڑے عطیات سے نوازا ہے ، لیکن انصار کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے سعد ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اپنی قوم کا ایک فرد ہوں اور میں ان میں سے ایک ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی قوم کو میرے لئے کسی جگہ پر جمع کرو ، راوی کہتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، پھر وہ لوگ اندر آئے ، پھر بعض اور لوگ آئے ، انہوں نے انہیں واپس کر دیا ، جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : میں نے انصار کے قبیلے کے لوگوں کو آپ کے لئے اکٹھا کروا دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، جو اُس کی شان کے لائق ہے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! وہ بات کیا ہے ؟ جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے اور وہ الجھن کیا ہے جو تم اپنے من میں محسوس کر رہے ہو ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کی ، تم لوگ تنگ دست تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحال کر دیا ، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے درمیان الفت پیدا کر دی ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ اور اس کے رسول کا احسان سب سے زیادہ اور فضل سب سے زیادہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ جبکہ احسان اور فضل ، اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو یہ کہ سکتے ہو ، اور تم سچ بولو گے اور تمہاری بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آپ ﷺ ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے تھے کہ آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو پرے کر دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کی مدد کی ، آپ کو نکال دیا گیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ تنگی کا شکار تھے ، تو ہم نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اپنے من میں دنیا کے ساز و سامان کے حوالے سے الجھن رکھتے ہو ؟ میں نے اس کے حوالے سے کچھ لوگوں کی تالیف قلب کی ہے تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں ، اور میں نے تم لوگوں کو تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں گے اور تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی رہائشی جگہ پر واپس لے جاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اور اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں گے تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، اے اللہ ! انصار پر رحم فرما ، انصار کے بچوں پر ، انصار کے بچوں کے بچوں پر رحم فرما ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ، انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے رسول ﷺ کی تقسیم اور حصے سے راضی ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے اور وہ لوگ بھی ادھر اُدھر چلے گئے ۔

16476

Majma al-Zawaid #16476

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ: أَمَا وَاللَّهِ، لَقَدْ كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُ أَنْ لَوِ اسْتَقَامَتِ الْأُمُورُ لَقَدْ آثَرَ عَلَيْكُمْ. قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ رَدًّا عَنِيفًا. قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ أَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا، قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَكُنْتُمْ لَا تَرْكَبُونَ الْخَيْلَ ". قَالَ: فَكُلَّمَا قَالَ لَهُمْ شَيْئًا قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَلَمَّا رَآهُمْ لَا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " الْأَنْصَارُ كَرِشِي، وَأَهْلُ بَيْتِي، وَعَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ: ِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا أَمَرَكُمْ؟ قُلْتُ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ: فَاصْبِرُوا إِذًا».

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports in another wording that an Anṣārī warned his fellows that favouritism would follow stability and was harshly rebuffed; when it reached the Messenger of Allah ﷺ he ﷺ reminded them of blessings including riding horses, met only with assent, then named the Anṣār his inner circle, household, and refuge, enjoining pardon for their wrongdoers and acceptance from their righteous; Abū Saʿīd later told Muʿāwiyah رضي الله عنه of the foretold favouritism and the command to patience, which Muʿāwiyah affirmed. > **"The Anṣār are my inner circle, my household, and my refuge to which I resorted; so pardon their wrongdoers and accept from their righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا : اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کو کہا کرتا تھا کہ جب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے تو نبی اکرم ﷺ تمہارے ساتھ ترجیحی سلوک کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے اس کو سختی سے منع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے انہیں مختلف باتیں ارشاد فرمائیں ، جو مجھے یاد نہیں رہیں ، تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو تم لوگ پہلے گھوڑوں پر سواری نہیں کیا کرتے تھے ؟ جب بھی نبی اکرم ﷺ اُن سے کوئی بات فرماتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا کہ وہ آپ کو کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں ......۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : انصار میرے رازدار ( یا انتہائی قریبی ) ہیں ، میرے اہل بیت ہیں اور میری پناہ گاہ ہیں ، جس کی ” میں ‘‘ پناہ میں آیا ، تو تم اُن کے برے لوگوں سے درگزر کرو اور ان کی اچھائی قبول کرو ۔‘‘ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی کہ ہم عنقریب ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم ﷺ نے تم لوگوں کو کیا ہدایت کی ؟ میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو پھر تم لوگ صبر سے کام لو ۔

16477

Majma al-Zawaid #16477

وَفِي رِوَايَةٍ «: "" فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ» "". رَوَاهَا أَحْمَدُ كُلَّهَا، وَأَبُو يَعْلَى بِالرِّوَايَةِ الَّتِي قَالَ فِيهَا: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِأَصْحَابِهِ. وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى لِأَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.

EnglishUnverified translation

In another wording the command is to endure until meeting him ﷺ at the Ḥawḍ, transmitted fully by Aḥmad and partly by Abū Yaʿlā. > **"So be patient until you meet me at the Ḥawḍ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم لوگ صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ حوض پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو جائے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ نے اس میں سے پہلی روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :’’ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے کہا ......‘‘۔ پہلی روایت جو امام احمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔

16478

Majma al-Zawaid #16478

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ نَحْوُ مَا تَقَدَّمَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ [غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ].

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه and Abū Saʿīd رضي الله عنه transmit in abridged form what preceded concerning the Anṣār and patience. > **"Be patient until you meet me at the Ḥawḍ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ اس کی مانند روایت منقول ہے جو پہلے گزری ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

16479

Majma al-Zawaid #16479

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاةِ، فَقَسَّمُوهَا فِي قُرَيْشٍ، فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ [عَلَيْهِ]، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا فَقَالَ: "" أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! فَوَاللَّهِ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا لَأَتْبَعْتُ شُعْبَتَكُمْ "". قَالُوا: رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ» يَا مُحَمَّدُ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that after Ḥunayn detachments brought camels and sheep which were divided among Quraysh, the Anṣār felt resentment, and the Prophet ﷺ gathered and addressed them, offering the Messenger of Allah ﷺ himself as their share and vowing to follow their path were men and they to take separate valleys. > **"Are you not pleased that you have been given the Messenger of Allah ﷺ? By Allah, had men taken a valley and you taken a mountain path, I would follow your mountain path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حنین کو فتح کر لیا اور آپ نے اپنے دستوں کو بھیجا ، تو وہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے وہ سب چیزیں قریش میں تقسیم کر دیں ، ہمیں انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ، نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اکٹھا کیا اور آپ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تمہیں اللہ کے رسول ﷺ دیدیے گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر لوگ ایک وادی میں چلیں ، اور تم لوگ ایک گھاٹی میں چلو ، تو میں تمہاری گھاٹی میں جاؤں گا ‘‘ لوگوں نے عرض کی : ہم راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! اے حضرت محمد ! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16480

Majma al-Zawaid #16480

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ الْفَيْءَ الَّذِي أَفَاءَ اللَّهُ بِحُنَيْنٍ مِنْ غَنَائِمِ هَوَازِنَ، فَأَحْسَنَ فَأَفْشَى [الْقَسْمَ] فِي أَهْلِ [مَكَّةَ] مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، فَغَضِبَتِ الْأَنْصَارُ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَاهُنَا [لَيْسَ] مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْيَخْرُجْ إِلَى رَحْلِهِ "". ثُمَّ يَشْهَدْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قَدْ بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ فِي هَذِهِ الْمَغَانِمِ الَّتِي آثَرْتُ بِهَا أُنَاسًا أَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ ; لَعَلَّهُمْ أَنْ يَشْهَدُوا بَعْدَ الْيَوْمِ، وَقَدْ أَدْخَلَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ الْإِسْلَامَ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ يَمُنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِيمَانِ؟ وَخَصَّكُمْ بِالْكَرَامَةِ، وَسَمَّاكُمْ بِأَحْسَنِ الْأَسْمَاءِ: أَنْصَارِ اللَّهِ، وَأَنْصَارِ رَسُولِهِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَكُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ [بِهَذِهِ الْغَنَائِمِ] الشَّاءِ وَالنَّعَمِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! "". فَلَمَا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: رَضِينَا، قَالَ: "" أَجِيبُونِي فِيمَا قُلْتُ "". قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتَنَا فِي ظُلْمَةٍ فَأَخْرَجَنَا اللَّهُ بِكَ إِلَى النُّورِ، وَوَجَدْتَنَا عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَنَا اللَّهُ بِكَ، وَوَجَدْتَنَا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِكَ، قَدْ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، فَاصْنَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شِئْتَ فِي أَوْسَعِ الْحَلِّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاللَّهِ، لَوْ أَجَبْتُمُونِي بِغَيْرِ هَذَا الْقَوْلِ لَقُلْتُ: صَدَقْتُمْ، لَوْ قُلْتُمْ: أَلَمْ تَأْتِنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَمُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ، وَقَبِلْنَا مَا رَدَّ النَّاسُ عَلَيْكَ، لَوْ قُلْتُمْ هَذَا لَصَدَقْتُمْ "". فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: بَلْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيْنَا وَعَلَى غَيْرِنَا، ثُمَّ بَكَوْا فَكَثُرَ بُكَاؤُهُمْ، وَبَكَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» مَعَهُمْ [فَكَانُوا بِالَّذِي قَالَ لَهُمْ أَشَدَّ ارْتِبَاطًا وَأَفْضَلَ عِنْدَهُمْ مِنْ كُلِّ مَالٍ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَدِيثُهُ فِي الرِّقَاقِ وَنَحْوِهَا حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Yazīd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ divided the fayʾ of Ḥunayn from Hawāzin spoils generously among Makkans of Quraysh and others, angering the Anṣār; he ﷺ came to their dwellings, cleared others, praised Allah, explained conciliating new Muslims whose hearts Allah had entered into Islam, reminded them of faith, honour, and the names Anṣār of Allah and His Messenger, declared himself of the Anṣār but for Hijrah, promised their valley, and offered return with the Messenger ﷺ over livestock; they professed satisfaction, recalled darkness to light and error to guidance, professed pleasure with Allah, Islam, and Muḥammad ﷺ, and he ﷺ affirmed their truth had they claimed shelter, belief, and aid, until they wept and he ﷺ wept with them, bound more by his words than any wealth. > **"Are you not pleased that men go with sheep, livestock, and camels while you go with the Messenger of Allah ﷺ?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ’’ ہوازن ‘‘ کے مال غنیمت میں سے غزوہ حنین میں مال فئے عطا کیا تھا ، وہ آپ نے تقسیم کر دیا ، آپ نے وہ ( مال و اسباب ) قریش سے تعلق رکھنے والے اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ، اس بات پر انصار غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ان کی رہائشی جگہوں پر ان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو ایسا فرد موجو ہو ، جس کا تعلق انصار سے نہ ہو وہ نکل کر اپنی رہائشی جگہ پر چلا جائے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے کلمہ شہادت پڑھا ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! اس مال غنیمت کے بارے میں تمہاری جو بات ہے ، وہ مجھ تک پہنچی ہے ، جس کے حوالے سے میں نے تمہارے ساتھ کچھ ترجیحی سلوک کیا ہے ، میں اس کے ذریعے ان لوگوں کو اسلام سے مانوس کرنا چاہتا تھا ہو سکتا ہے کہ وہ آج کے بعد ایسی کسی جنگ میں شریک نہ ہوں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اسلام داخل کر دے ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے تم پر احسان نہیں کیا ؟ اور تمہیں خصوصی کرامت عطا نہیں کی اس نے تمہارا نام سب سے عمدہ رکھا ہے کہ اللہ کے مددگار ، اس کے رسول کے مددگار ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری وادی میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں چلوں گا ، تو کیا تم اس چیز سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اس مال غنیمت کو لے جائیں ، بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول ﷺ کو لے جاؤ ‘‘ جب انصار نے یہ بات سنی تو انہوں نے کہا : ہم راضی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا ہے ، اس کے بارے میں تم مجھے جواب دو ، انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ظلمت میں پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس میں سے نکال کر نور کی طرف لے گیا ، آپ نے ہمیں جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پایا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں اس سے بچا لیا ، آپ نے ہمیں گمراہ پایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت نصیب کی ، ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ جیسے چاہیں ، جو چاہیں کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جواب دیتے تو میں یہ کہتا کہ تم نے ٹھیک کہا ہے ، اگر تم یہ کہتے کہ کیا آپ ایسی حالت میں ہمارے پاس نہیں آئے تھے کہ آپ کو نکال دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو چھوڑ دیا گیا تو ہم نے آپ کی مدد کی ، اور لوگوں نے آپ کو جواب دیا تھا تو ہم نے آپ کو قبول کیا ، اگر تم لوگ یہ بات کہتے ، تو تم سچے ہوتے ، انصار نے کہا : بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا فضل اور احسان ہے ، جو ہم پر ہے اور ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں پر ہے ، پھر وہ لوگ رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کا رونا بہت زیادہ ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ بھی ان کے ساتھ رونے لگے پھر ان لوگوں کو اس حوالے سے زیادہ فخر محسوس ہوا اور یہ چیز ان کے نزدیک ہر قسم کے مال سے زیادہ فضیلت رکھتی تھی ، جو نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث ، دلوں کو نرم کرنے سے متعلق موضوعات اور اس جیسے دیگر موضوعات میں حسن شمار ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16481

Majma al-Zawaid #16481

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ غَنَائِمَ، فَقَسَّمَ لِلنَّاسِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَلِي الْقِتَالَ وَالْغَنَائِمُ لِغَيْرِنَا. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ "" أَنِ اجْتَمِعُوا "". فَأَتَاهُمْ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ "". قَالُوا: لَا. إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا وَمَوْلَانَا، فَقَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ "". فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ إِلَى أَبْيَاتِكُمْ؟ "". قَالُوا: رَضِينَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that at Ḥunayn the Prophet ﷺ gained spoils and divided them, the Anṣār saying they fought while others took spoils; he ﷺ summoned them, asked whether any outsider was among them, was told only a nephew and a client, ruled both as of the people, then offered taking Muḥammad ﷺ to their homes over sheep and camels, which they accepted. > **"O company of Anṣār, are you not pleased that men go with sheep and camels while you go with Muḥammad to your homes?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین میں نبی اکرم ﷺ کو مال غنیمت حاصل ہوا ، وہ آپ نے لوگوں کے درمیان تقسیم کیا تو انصار نے کہا : جنگ ہم کریں اور غنیمت دوسرے لوگوں کو مل جائے ، نبی اکرم ﷺ کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا کہ تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ ، پھر آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا ہے اور ہمارا ایک غلام ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا بھانجا ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، اور قوم کا غلام ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ حضرت محمد ﷺ کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ ، تو ان لوگوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

16482

Majma al-Zawaid #16482

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْأَنْصَارِ: "" أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ أَصْلَ النَّاسِ دِثَارٌ وَأَنْتُمْ شِعَارٌ؟ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّ النَّاسَ لَوْ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكْتُمْ آخَرَ اتَّبَعْتُ وَادِيَكُمْ وَتَرَكْتُ النَّاسَ؟ وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ [امْرَأً] مِنَ الْأَنْصَارِ؟ "". قَالُوا: [بَلَى] رَضِينَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ قِيلَ: إِنَّهُ تَابِعِيٌّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jubayr reports that the Prophet ﷺ told the Anṣār that men in general are the outer cloak while they are the inner garment, promising to follow their valley over others and declaring he would be of the Anṣār were Allah not to have named him of the Muhājirīn, which they accepted. > **"Are you not pleased that other men are the outer cloak while you are the inner garment? Had men taken a valley and you taken another, I would follow your valley and leave men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انصار سے فرمایا : کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہوں اور تم جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہو ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور تم دوسری میں چلو ، تو میں تمہاری وادی میں جاؤں گا اور لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام مہاجرین میں شامل کیا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، تو ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبداللہ بن جبیر کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ تابعی ہیں اور یہ ثقہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16483

Majma al-Zawaid #16483

وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْتُمُ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ، لَا أُوتَيَنَّ مِنْ قِبَلِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا وَاحِدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbbād ibn Bashīr al-Anṣārī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the Anṣār the inner garment and men the outer cloak, warning against being reached through them. > **"O company of Anṣār, you are the inner garment and men are the outer cloak; I shall not be reached from your side."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباد بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! تم لوگ جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہو ، دوسرے لوگ اوپری لباس ہیں اور مجھے تمہاری طرف سے کوئی اندیشہ نہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کے حوالے سے صرف ایک فرد نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16484

Majma al-Zawaid #16484

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ - قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّاهُ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً "". قَالَ: فَبِمَا أَمَرَكُمْ؟ قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ، قَالَ: اصْبِرُوا إِذًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Muḥammad ibn ʿAqīl reports that Muʿāwiyah رضي الله عنه came to Madīnah and Abū Qatādah رضي الله عنه met him, recalling the Messenger's ﷺ warning of favouritism after him and the command to patience, which Muʿāwiyah affirmed. > **"You shall meet favouritism after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منورہ تشریف لائے ، وہاں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ( انصار سے ) یہ ارشاد فرمایا تھا :’’ تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے ‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے آپ لوگوں کو کیا حکم دیا تھا ؟ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل نامی راوی حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16485

Majma al-Zawaid #16485

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ عَيْبَةً، وَعَيْبَتِي هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥumayd al-Sāʿidī رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ call this clan of Anṣār his trust, declaring himself of the Anṣār but for Hijrah, promising their mountain path, naming Anṣār the inner garment and men the outer, and enjoining kindness to their righteous and pardon for their wrongdoers. > **"Indeed every Prophet has a trust, and my trust is this clan of the Anṣār; the Anṣār are the inner garment and men the outer cloak, so whoever governs men, let him do good to their righteous and overlook their wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر نبی کا ایک قریبی گروہ ہوتا ہے اور میرا قریبی گروہ ، انصار کا یہ گروہ ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی ، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں اور لوگ اوپر اوڑھنے والا لباس ہیں ، جو شخص لوگوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بنے ، اسے انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرنی چاہیے اور ان کے برے فرد سے درگزر کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16486

Majma al-Zawaid #16486

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَا [إِنَّ] لِكُلِّ نَبِيٍّ تَرِكَةً وَصَنِيعَةً، وَإِنَّ تَرِكَتِي وَصَنِيعَتِي الْأَنْصَارُ، فَاحْفَظُونِي فِيهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came out declaring every Prophet has a legacy and handiwork, and his legacy and handiwork are the Anṣār, enjoining his trust in them. > **"Indeed every Prophet has a legacy and handiwork, and my legacy and handiwork are the Anṣār, so keep my trust concerning them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار ! ہر نبی کے پسماندگان اور مقربین ہوتے ہیں اور میرے پسماندگان اور مقربین انصار ہیں ، تو تم ان کے بارے میں میری حفاظت کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16487

Majma al-Zawaid #16487

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا، فَخَطَبَ فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: "" أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّاءَ فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي؟ أَلَمْ تَكُونُوا خَائِفِينَ فَأَمِنَكُمُ اللَّهُ بِي؟ أَلَا تَرُدُّونَ عَلَيَّ؟ "". قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ نُجِيبُكَ؟ قَالَ: "" تَقُولُونَ: أَلَمْ يَطْرُدْكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ؟ أَلَمْ يُكَذِّبْكَ قَوْمُكَ فَصَدَّقْنَاكَ؟ "". يُعَدِّدُ عَلَيْهِمْ، [قَالَ]: فَجَثَوْا عَلَى رُكَبِهِمْ وَقَالُوا: أَمْوَالُنَا وَأَنْفُسُنَا لَكَ. فَنَزَلَتْ: {""قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى""} [الشورى: 23]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ heard something and addressed the Anṣār, reminding them of might after abasement, guidance after error, and safety after fear, prompting them to answer with shelter, belief, and possessions on their knees, whereupon love of kin was revealed. > **"Were you not abased, and Allah honoured you through me? Were you not astray, and Allah guided you through me? Were you not fearful, and Allah secured you through me?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کوئی بات سنی ، پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے انصار سے ارشاد فرمایا : ’’ کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ کمتر حیثیت کے مالک تھے تو اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں عزت سے نوازا ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ گمراہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں ہدایت نصیب کی ، کیا ایسا نہیں ہے ؟ کہ تم لوگ خوف کا شکار تھے تو اللہ تعالی نے میری وجہ سے تمہیں امان عطا کی ، تم لوگ مجھے جواب نہیں دو گے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ مجھے یہ جواب دو کہ کیا آپ کی قوم نے آپ کو چھوڑ نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، کیا آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلا نہیں دیا تھا ؟ تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، نبی اکرم ﷺ نے متعدد باتیں شمار کروائیں ، تو وہ لوگ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عرض کی : ہمارے اموال اور ہماری جانیں آپ کی ملکیت ہیں ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم یہ فرما دو ! کہ میں اس بارے میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں ، البتہ رشتے داری کے حوالے سے محبت کا حکم مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16488

Majma al-Zawaid #16488

وَعَنْ مَطَرٍ أَبِي مُوسَى مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - وَإِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَهُمَا وَأَنَا غُلَامٌ - فَقَالَ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي؟ وَأَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي؟ فَقَالَ: أَنْتَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ فِي ذَلِكَ الْوَادِي "". فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ». وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ» "". قَالَ: صَدَقْتَ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَلَمْ يُحَدِّثْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا صَدَّقَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Maṭar Abū Mūsā, client of Ṭalḥah, reports sitting as a boy with Abū Hurayrah رضي الله عنه and ʿAbd Allāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما when Abū Hurayrah defended his transmission, recalled the Messenger ﷺ preferring the valley of the Anṣār and declaring himself of them but for Hijrah, each confirmed by Ibn ʿUmar. > **"Had men taken a valley and the Anṣār taken a valley, I would walk with the Anṣār in that valley."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطر ابوموسی ، جو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی آل کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، میں ان دونوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، میں لڑکا تھا ، انہوں ( یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہوں ، کون سی زمین مجھ کو سہارا دے گی اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ؟ ( اگر میں ایسا کروں ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ اس سے زیادہ بہتر ہیں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں ، تو میں انصار والی وادی میں اُن کے ساتھ چلوں گا ۔‘‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ۔‘‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آپ نے سچ بیان کیا ہے ، میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، اس دن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو بھی حدیث بیان کی ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن کی تصدیق کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16489

Majma al-Zawaid #16489

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الشِّعْبَ أَحْسَنُ مِنَ الْوَادِي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ knew the mountain path better than the valley, in reference to the Anṣār. > **"The mountain path is better than the valley."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ بات جانتے تھے کہ گھاٹی ، وادی سے بہتر ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔