وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «لَمَّا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَعْطَى مِنْ تِلْكَ الْعَطَايَا فِي قُرَيْشٍ وَقَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَنْصَارِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَجَدَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى كَثُرَتْ فِيهِمُ الْقَالَةُ، حَتَّى قَالَ قَائِلُهُمْ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَجَدُوا عَلَيْكَ فِي أَنْفُسِهِمْ لِمَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْفَيْءِ الَّذِي أَصَبْتَ، قَسَّمْتَ فِي قَوْمِكَ، وَأَعْطَيْتَ عَطَايَا عِظَامًا فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ، وَلَمْ يَكُنْ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ. قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِكَ يَا سَعْدُ؟ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَا إِلَّا امْرُؤٌ مِنْ قَوْمِي، وَمَا أَنَا مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: " فَاجْمَعْ لِي قَوْمَكَ فِي هَذِهِ الْحَظِيرَةِ ". قَالَ [فَخَرَجَ سَعْدٌ فَجَمَعَ النَّاسُ فِي تِلْكَ الْحَظِيرَةِ] قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَتَرَكَهُمْ، [فَدَخَلُوا] وَجَاءَ آخَرُونَ فَرَدَّهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا أَتَاهُ سَعْدٌ فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ لَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، وَثْنَى عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا قَالَةٌ بَلَغَتْنِي عَنْكُمْ؟ وَوَجْدَةٌ وَجَدْتُمُوهَا فِي أَنْفُسِكُمْ؟ أَلَمْ تَكُونُوا ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ". قَالُوا: بَلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ، قَالَ: " أَلَا تُجِيبُونِي يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟ ". قَالُوا: وَبِمَاذَا نُجِيبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ الْمَنُّ وَالْفَضْلُ؟ قَالَ: " أَمَا وَاللَّهِ، لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدِّقْتُمْ، أَتَيْتَنَا مُكَذَّبًا فَصَدَّقْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَعَائِلًا فَوَاسَيْنَاكَ. أَوَجَدْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فِي لُعَاعَةٍ مِنَ الدُّنْيَا؟ تَأَلَّفْتُ قَوْمًا لِيُسْلِمُوا؟ وَوَكَلَتْكُمُ إِلَى إِسْلَامِكُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِحَالِكُمْ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ". قَالَ: فَبَكَى الْقَوْمُ حَتَّى أَخْضَلُوا لِحَاهُمْ، وَقَالُوا: رَضِينَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْمًا وَحَظًّا. ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقُوا».
EnglishUnverified translation
Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ gave gifts to Quraysh and Arab tribes with nothing for the Anṣār, resentment spread until one said he had met his people; Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنه conveyed it, declared himself one of his people, gathered them in an enclosure excluding others, and the Prophet ﷺ came, praised Allah, reminded them of guidance after error, riches after poverty, and unity after enmity, drew from them that favour belongs to Allah and His Messenger, rehearsed their truthful claim of belief, aid, shelter, and consolation, reproached worldly rivalry, offered return with the Messenger ﷺ over sheep and camels, declared himself of the Anṣār but for Hijrah, promised their path, and prayed for them and their descendants until they wept and chose the Messenger ﷺ as share. > **"Are you not pleased, O company of Anṣār, that men go with sheep and camels while you return with the Messenger of Allah ﷺ in your dwellings? O Allah, have mercy on the Anṣār, the sons of the Anṣār, and the sons of the sons of the Anṣār."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے قریش کو مختلف عطیات عطا کیے ، اور عربوں کے دیگر قبائل کو بھی دیے ، اور انصار کو ان میں سے کچھ بھی نہیں دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی ، یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ان میں سے کسی نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات اپنی قوم سے ہو گئی ہے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ انصار کے اس قبیلے کو آپ کے اس طرز عمل کے حوالے سے کچھ الجھن ہے جو آپ نے اس مال فئے کے بارے میں کیا ہے ، جو مال آپ کو حاصل ہوا ہے ، جسے آپ نے اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ہے اور آپ نے عربوں کے مختلف قبائل کے لوگوں کو بڑے ، بڑے عطیات سے نوازا ہے ، لیکن انصار کے لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے سعد ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اپنی قوم کا ایک فرد ہوں اور میں ان میں سے ایک ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی قوم کو میرے لئے کسی جگہ پر جمع کرو ، راوی کہتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ، انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، پھر وہ لوگ اندر آئے ، پھر بعض اور لوگ آئے ، انہوں نے انہیں واپس کر دیا ، جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : میں نے انصار کے قبیلے کے لوگوں کو آپ کے لئے اکٹھا کروا دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، جو اُس کی شان کے لائق ہے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! وہ بات کیا ہے ؟ جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے اور وہ الجھن کیا ہے جو تم اپنے من میں محسوس کر رہے ہو ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کی ، تم لوگ تنگ دست تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحال کر دیا ، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے درمیان الفت پیدا کر دی ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ اور اس کے رسول کا احسان سب سے زیادہ اور فضل سب سے زیادہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! تم لوگ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو کیا جواب دیں ؟ جبکہ احسان اور فضل ، اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو یہ کہ سکتے ہو ، اور تم سچ بولو گے اور تمہاری بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آپ ﷺ ہمارے پاس ایسی حالت میں آئے تھے کہ آپ کو جھٹلایا جا رہا تھا ، تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو پرے کر دیا گیا تھا ، تو ہم نے آپ کی مدد کی ، آپ کو نکال دیا گیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ، آپ تنگی کا شکار تھے ، تو ہم نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اپنے من میں دنیا کے ساز و سامان کے حوالے سے الجھن رکھتے ہو ؟ میں نے اس کے حوالے سے کچھ لوگوں کی تالیف قلب کی ہے تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں ، اور میں نے تم لوگوں کو تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے ، اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے جائیں گے اور تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنی رہائشی جگہ پر واپس لے جاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوتا ، اور اگر لوگ ایک گھاٹی میں چلیں گے تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ، اے اللہ ! انصار پر رحم فرما ، انصار کے بچوں پر ، انصار کے بچوں کے بچوں پر رحم فرما ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں ، انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے رسول ﷺ کی تقسیم اور حصے سے راضی ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے اور وہ لوگ بھی ادھر اُدھر چلے گئے ۔