وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَ مِنْ بَدْرٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَهَلْ لَقِينَا إِلَّا عَجَائِزَ كَالْجُزُرِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ تَفَقَّأَ فِيهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ أَخِي، لَا تَقُلْ ذَلِكَ، أُولَئِكَ الْمَلَأُ الْأَكْبَرُ مِنْ قُرَيْشٍ، أَمَا لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ بِمَكَّةَ هِبَتَهُمْ "". فَوَاللَّهِ، لَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَرَأَيْتُهُمْ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ فِي مَجَالِسِهِمْ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَى أَنَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ هَيْبَتِهِمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ لَهِبْتَهُمْ "". قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعَاشِرَ النَّاسِ، أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّ قُرَيْشًا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَ قُرَيْشًا فَقَدْ أَبْغَضَنِي، إِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيَّ قَوْمِي ; فَلَا أَتَعَجَّلُ لَهُمْ نِقْمَةً، وَلَا أَسْتَكْثِرُ لَهُمْ نِعْمَةً. اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا، أَلَا إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَلِمَ مَا فِي قَلْبِي مِنْ حُبِّي لِقَوْمِي فَسَرَّنِي فِيهِمْ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ} [الزخرف: 44] فَجَعَلَ الذِّكْرَ، وَالشَّرَفَ لِقَوْمِي، فِي كِتَابِهِ فَقَالَ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ - وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: 214 - 215] يَعْنِي: قَوْمِي، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصِّدِّيقَ [مِنْ قَوْمِي]، وَالشَّهِيدَ مِنْ قَوْمِي، وَالْأَئِمَّةَ مِنْ قَوْمِي، إِنِ اللَّهَ قَلَبَ الْعِبَادَ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَكَانَ خَيْرَ الْعَرَبِ قُرَيْشٌ، وَهِيَ الشَّجَرَةُ الْمُبَارَكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ: {مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ} [إبراهيم: 24] قُرَيْشٌا (أَصْلُهَا ثَابِتٌ) يَقُولُ: أَصْلُهَا كَرَمٌ (وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ) يَقُولُ: الشَّرَفُ الَّذِي شَرَّفَهُمُ اللَّهُ بِهِ بِالْإِسْلَامِ الَّذِي هَدَاهُمْ لَهُ، وَجَعَلَهُمْ أَهْلَهُ. ثُمَّ أَنْزَلُ فِيهِمْ سُورَةً مِنْ كِتَابِهِ مُحْكَمَةً: {لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} [قريش: 1 - 3] "". قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قُرَيْشٌ بِخَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَرَّهُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: "" {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ} [الزخرف: 44]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنٌ السَّلُولِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAdī ibn Ḥātim رضي الله عنه reports sitting with the Prophet ﷺ upon his return from Badr when an Anṣārī belittled the slain as hobbled old camels slaughtered, changing the Prophet's ﷺ face as though pomegranate seeds burst therein; he ﷺ corrected him that they were the great chiefs of Quraysh, awe-inspiring in their Makkan assemblies, which ʿAdī later witnessed himself, then enjoined love of Quraysh as love of himself, prayed for their latter part after their former punishment, cited remembrance and honour for his people in revelation, the Ṣiddīq, martyr, and Imāms from them, the blessed tree and Sūrah Quraysh, rejoicing whenever Quraysh was praised. > **"O company of men, love Quraysh, for whoever loves Quraysh has loved me, and whoever hates Quraysh has hated me; O Allah, as Thou hast made the first of Quraysh taste punishment, make their last taste favour."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ بدر سے تشریف لائے تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : ہمارا سامنا بوڑھی عورتوں سے ہوا ، جو بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھیں ، تو ہم نے انہیں ذبح کر دیا ، نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کی رنگت تبدیل ہو گئی ، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کے اوپر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم اس طرح نہ کہو ، وہ قریش سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگ تھے ، اگر تم مکہ میں انہیں ان کی محفلوں میں دیکھ لیتے ، تو تم ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مکہ آیا ، میں نے ان لوگوں کو مسجد حرام کے پاس اپنی محفلوں میں بیٹھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ بھی قدرت حاصل نہیں ہو سکی کہ میں انہیں سلام کرتا اور اس کی وجہ ان لوگوں کی ہیبت تھی ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا : ’’ اگر تم انہیں ان کی مخصوص محفلوں میں دیکھتے ، تو ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ۔‘‘ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں کے گروہ ! تم قریش سے محبت رکھو ، کیونکہ جو شخص قریش سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو قریش سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے نزدیک میری قوم کو محبوب کر دیا ہے ، تو میں ان سے انتقام لینے میں جلدی نہیں کروں گا ، اور ان کے لئے نعمت زیادہ طلب نہیں کروں گا ، اے اللہ ! تو نے قریش کے ابتدائی حصے کو سزا کا ذائقہ چکھایا تھا ، تو ان کے آخری حصے کو عطیات کا ذائقہ چکھا دے ، خبردار ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے ؟ جو میرے دل میں اپنی قوم کے لئے محبت ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان لوگوں کے بارے میں خوش کیا اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نصیحت اور شرف ، میری قوم کے لئے مخصوص کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! اور اپنے پر ان کے لئے جھکا کے رکھو ، جو مومنین تمہاری پیروی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد بھی ، میری قوم کے لوگ ہیں ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے صدیق کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، شہید کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، حکمرانوں کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دل اُلٹ پلٹ کر دیکھے ، تو عربوں میں سب سے بہتر قریش تھے اور یہی وہ مبارک درخت ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس کی مثال ایک پاکیزہ کلمے کی طرح ہے ، جو پاکیزہ درخت کی مانند ہوتا ہے ، جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہوتی ہے ۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں ، اس کی اصل مضبوط ہوتی ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس سے مراد ان کی اصل کا معزز ہونا ہے اور اس کی جڑ آسمان میں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ، وہ شرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کے حوالے سے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب کی اور انہیں اہل اسلام میں بنا دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک پوری سورت نازل کی ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ قریش کو رغبت دی سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر کی رغبت ان کو دی ، تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں جو ( ان کے ) بھوک کے عالم میں انہیں کھانے کے لیے دیتا ہے ، اور خوف سے انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔‘‘ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب بھی آپ کے سامنے قریش کا ذکر بھلائی کے حوالے سے کیا جاتا ، تو اس بات پر آپ خوش ہوتے تھے ، یہاں تک کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے ، آپ یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے : ’’ اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے عنقریب حساب لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین سلولی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔