Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 54

Book of Virtues and Merits

Hadith 16410–16449

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16410

Majma al-Zawaid #16410

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَيْشُونَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the best of his Ummah as the generation among whom he was sent, then those after them twice. > **"The best of my Ummah is the generation among whom I was sent, then those who follow them, then those who follow them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عیشون ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16411

Majma al-Zawaid #16411

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». قُلْتُ هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" ثُمَّ الرَّابِعُ أَرْذَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ name the best people as his generation and the two after, then a fourth most vile until the Hour. > **"The best of people are my generation, then those who follow them, then those who follow them; then the fourth shall be most vile until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر چوتھے زمانے میں وہ لوگ ہوں گے ، جو گھٹیا ترین ہوں گے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” پھر چوتھے زمانے سے لے کر قیامت تک گھٹیا لوگ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16412

Majma al-Zawaid #16412

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah al-Aslamī رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ named the best people as his generation, then those after them twice. > **"The best of people are my generation, then those who follow them, then those who follow them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16413

Majma al-Zawaid #16413

وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الْآخَرُونَ أَرْذَلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ إِدْرِيسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَعْدَةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Jaʿdah ibn Hubayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the best people as his generation and the three after, then a vile remainder. > **"The best of people are my generation, then those who follow them, then those who follow them, then those who follow them; then the rest shall be most vile."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر ان کے بعد والوں کا ہے ، پھر اس کے بعد والے لوگ گھٹیا ترین ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ادریس بن یزید اؤدی نامی راوی نے حضرت جعدہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

16414

Majma al-Zawaid #16414

وَعَنْ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ: «مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَسْقَى، فَقُمْتُ إِلَى كُوزٍ فَسَقَيْتُهُ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَقَالَ: "" تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ "". ثُمَّ قَالَ: "" خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Abū Lahab reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by them and asked for drink, so she gave him water from a jug, and a man in two green garments asked him, whereupon he ﷺ enjoined worship, prayer, and zakāh, then spoke of the best generation and the next. > **"Worship Allah, associating nothing with Him, establish prayer, and give zakāh; the best of my Ummah is my generation, then those who follow them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابولہب کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے پینے کے لئے کچھ طلب کیا ، میں پیالے کی طرف گئی اور میں نے آپ کو پینے کے لئے پیش کیا ، ایک شخص جس کے جسم پر دو سبز کپڑے تھے ، اس نے آپ سے سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، تم اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو ، تم نماز قائم کرو اور تم زکوۃ ادا کرو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے اور پھر ان کے بعد والوں کا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں گیا ہے ۔

16415

Majma al-Zawaid #16415

وَعَنْ بِنْتِ أَبِي جَهْلٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسَمَّاهَا جَمِيلَةَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ زَوْجَ بِنْتِ أَبِي جَهْلٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Abū Jahl, named Jamīlah, reports that the Prophet ﷺ spoke of the best people as his generation. > **"The best of people is my generation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجہل کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس خاتون کا نام سیدہ جمیلہ کا ذکر کیا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس خاتون کے شوہر کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔

16416

Majma al-Zawaid #16416

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ: أَيْنَ حَالُنَا مِمَّنْ قَبْلَنَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! لَوْ نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ مَا عَرَفُوكُمْ إِلَّا أَنْ يَجِدُوكُمْ قِيَامًا تُصَلُّونَ،.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Khumayr reports asking ʿAbd Allāh ibn Busr رضي الله عنه about their state compared to those before them, and he exclaimed in wonder that if the former were raised they would know them only by finding them standing in prayer. > **"Subḥān Allāh! If they were raised from the graves, they would not know you except by finding you standing, praying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن خمیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : پہلے والے لوگوں کے مقابلے میں ہماری حالت کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ اگر ان لوگوں کو قبروں سے اُٹھا دیا جائے ، تو وہ تمہیں اسی چیز سے پہچانیں گے کہ وہ تمہیں قیام کی حالت میں پائیں گے کہ تم نماز پڑھ رہے ہو ۔

16417

Majma al-Zawaid #16417

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي، وَطُوبَى لِمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي، طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فَزَالَتِ الدُّلْسَةُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Busr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave glad tidings to whoever saw him and whoever saw one who saw him, with a good return. > **"Ṭūbā for whoever saw me, and ṭūbā for whoever saw one who saw me; ṭūbā for them and a good return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اُن لوگوں کے لئے مبارکباد ہے اور اچھا انجام ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو تدلیس زائل ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16418

Majma al-Zawaid #16418

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Wāʾil ibn Ḥujr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave glad tidings to whoever saw him and whoever saw one who saw him. > **"Ṭūbā for whoever saw me, and whoever saw one who saw me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اور جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16419

Majma al-Zawaid #16419

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَنِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ tied continued goodness to the presence among them of one who saw him and accompanied him. > **"You shall remain upon good so long as there remains among you one who saw me and accompanied me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے ، جب تک تمہارے درمیان وہ شخص موجود رہے گا جس نے میری زیارت کی ہو اور میرے ساتھ رہا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16420

Majma al-Zawaid #16420

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلصَّحَابَةِ، وَلِمَنْ رَأَى وَلِمَنْ رَأَى "". قَالَ: قُلْتُ: وَمَا قَوْلُهُ: وَلِمَنْ رَأَى؟ قَالَ: مَنْ رَأَى مَنْ رَآهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، إِنْ كَانَ هُوَ أَبُو يَحْيَى الْمَدَنِيُّ هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ. قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: قَالَ: أَظُنُّهُ فُلَيْحَ بْنَ سُلَيْمَانَ، ذَكَرَ ذَلِكَ فِي تَرْجَمَةِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: وَقَدْ ذَكَرَ عَبْدَ الْجَبَّارِ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ supplicated for the Companions and for those who saw, and those who saw, explained as one who saw those who saw him ﷺ. > **"O Allah, forgive the Companions, and those who saw, and those who saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے اللہ ! تو صحابہ کی مغفرت کر دے ، اور اس کی کر دے ، جس نے زیارت کی ہو اور اس کی جس نے زیارت کی ہو ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس سے مراد کیا ہے ؟ جس نے زیارت کی ہو ، تو انہوں نے بتایا : جس نے اس کی زیارت کی ہو ، جس نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالجبار بن ابوحازم کا معاملہ مختلف ہے اگر تو یہ ابویحیی مدنی ہے ، تو پھر یہ فلیح بن سلیمان ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ فلیح بن سلیمان ہے ، انہوں نے یہ بات عبدالجبار بن ابوحازم کے حالات میں نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : عبدالجبار کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا گیا ہے ۔

16421

Majma al-Zawaid #16421

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي، وَمَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave glad tidings to whoever saw him and believed in him, and to the next two degrees of seeing. > **"Ṭūbā for whoever saw me and believed in me, and whoever saw one who saw me, and whoever saw one who saw one who saw me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جس نے میری زیارت کی ہو اور مجھ پر ایمان لایا ہو ( اور اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) جس نے اس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہے ، اور ( اس کے لئے بھی مبارکباد ہے ) ، جس نے اس ( تابعی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16422

Majma al-Zawaid #16422

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ - «وَكَانَ أَصَابَهُ سَهْمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَدْخُلُ النَّارَ مُسْلِمٌ رَآنِي، أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي، وَلَا رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي "" [ثَلَاثًا]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿUqbah reports from his father, who was struck by an arrow alongside the Messenger of Allah ﷺ, that he heard the Prophet ﷺ say thrice that no Muslim who saw him, or saw one who saw him, or saw one who saw one who saw him, shall enter the Fire. > **"No Muslim who saw me, or saw one who saw me, or saw one who saw one who saw me, shall enter the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عقبہ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے ہوئے تیر لگا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسا مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جس نے میری زیارت کی ہو ، یا جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ، اور نہ ہی وہ داخل ہو گا ، جس نے اُس کی ( تابعی ) زیارت کی ہو ، جس نے اُس ( صحابی ) کی زیارت کی ہو ، جس نے میری زیارت کی ہو ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : عبدالرحمن بن عقبہ جہنی کے حوالے سے ، ان کے والد سے یہ روایت منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16423

Majma al-Zawaid #16423

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَأَصْحَابِي يَقِلُّونَ، فَلَا تَسُبُّوهُمْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ warn that people shall increase while his companions decrease, forbidding reviling them with a curse upon the reviler. > **"Indeed people shall increase and my companions shall decrease, so do not revile them; may Allah curse whoever reviles them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور میرے اصحاب کم ہو جائیں گے ، تو تم انہیں برا نہ کہو ، اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو انہیں برا کہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

16424

Majma al-Zawaid #16424

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي». وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِي إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَيْفٍ الْخَوَارِزْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ invoked the curse of Allah upon whoever reviles his companions. > **"Whoever reviles my companions, upon him is the curse of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔‘‘ امام بزار کی سند میں ایک راوی سیف بن عمر ہے اور وہ متروک ہے اور امام طبرانی کی دو اسناد میں ایک راوی عبداللہ بن سیف خوارزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16425

Majma al-Zawaid #16425

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «ذُكِرَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَعُوا فِيهِ، يُقَالُ لَهُ: رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that Mālik ibn al-Dukhshun was mentioned before the Prophet ﷺ, and people attacked him as chief of the hypocrites, whereupon the Prophet ﷺ forbade reviling his companions. > **"Leave my companions; do not revile my companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے مالک بن دخشن کا ذکر کیا گیا ، لوگوں نے اس پر تنقید کی ، اس کے بارے میں یہ کہا گیا : وہ منافقین کا سردار ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے اصحاب کو رہنے دو ، تم میرے اصحاب کو برا نہ کہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16426

Majma al-Zawaid #16426

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي لَعَنَهُ اللَّهُ، وَالْمَلَائِكَةُ، وَالنَّاسُ أَجْمَعُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الصَّحَابَةِ بَعْضُ هَذَا فِي ضِمْنِ أَحَادِيثَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ invoked against the reviler of his companions the curse of Allah, the angels, and all mankind. > **"Whoever reviles my companions, Allah, the angels, and all mankind curse him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے گا ، اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی اس پر لعنت ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے صحابہ کرام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

16427

Majma al-Zawaid #16427

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ: تَأْمُرُونِي بِسَبِّ أَصْحَابِي، بَلْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَغَفَرَ لَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd ibn ʿAmr ibn Nufayl رضي الله عنه reports being urged to revile his companions and refusing, invoking blessing and forgiveness upon them. > **"You order me to revile my companions? Rather, may Allah bless them and forgive them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ مجھے یہ کہہ رہے ہوں کہ میں اپنے ساتھیوں کو برا کہوں ، بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرے اور ان کی مغفرت کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16428

Majma al-Zawaid #16428

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أُمِرْتُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ لِسَلَفِكُمْ فَشَتَمْتُمُوهُمْ، أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports reproaching revilers of the predecessors though commanded to seek forgiveness for them, having heard the Messenger of Allah ﷺ foretell the last of the Ummah cursing its first before its end. > **"This Ummah shall not perish until its last curses its first."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تمہیں اپنے اسلاف کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تم لوگ انہیں برا کہتے ہو ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ امت اس وقت تک فنا نہیں ہو گی ، جب تک اس کے آخری زمانے کے لوگ ، پہلے والوں پر لعنت نہیں کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے اور وہ شخص ضعیف ہے ۔

16429

Majma al-Zawaid #16429

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ سَهْلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling his companions, invoking Allah's curse upon the reviler. > **"Do not revile my companions; may Allah curse whoever reviles my companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ میرے اصحاب کو برا نہ کہو ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ، جو میرے اصحاب کو برا کہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16430

Majma al-Zawaid #16430

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَبَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ invoked the curse of Allah upon whoever reviles any one of his companions. > **"Whoever reviles any one of my companions, upon him is the curse of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے اصحاب میں سے کسی ایک کو برا کہے گا ، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن صحابی کے حوالے سے ایک روایت منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

16431

Majma al-Zawaid #16431

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدِي، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ فَسَبَقَهَا عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ فِي الْجَنَّةِ، إِلَّا أَنَّهُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّكَ أَقْوَامٌ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ يَلْفِظُونَهُ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ، لَهُمْ نَبَزٌ يُقَالُ لَهُمْ: الرَّافِضَةُ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُمْ فَجَاهِدْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْعَلَامَةُ فِيهِمْ؟ قَالَ: "" لَا يَشْهَدُونَ جُمُعَةً وَلَا جَمَاعَةً، وَيَطْعَنُونَ عَلَى السَّلَفِ الْأَوَّلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports that on her night, while the Prophet ﷺ was with her, Fāṭimah رضي الله عنها came with ʿAlī رضي الله عنه preceding her, and the Prophet ﷺ told ʿAlī that he and his companions are in Paradise, warning of claimants of his love who cast off Islam, reciting without passing throats, called al-Rāfiḍah, to be fought as polytheists, marked by absence from Friday and congregation and attack upon the early predecessors. > **"O ʿAlī, you and your companions are in Paradise, except that among those who claim to love you are peoples who reject Islam then cast it off, reciting the Qurʾān without passing their throats, nicknamed al-Rāfiḍah; if you meet them, fight them, for they are polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، نبی اکرم ﷺ میرے پاس موجود تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سے سبقت لے گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے علی ! تم اور تمہارے ساتھی جنت میں ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو یہ کہتا ہے ، وہ تم سے محبت رکھتا ہے ، کچھ لوگ ہیں ، جو اسلام کو پرے کر دیں گے اور اسے ایک طرف پھینک دیں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، ان کا ایک مخصوص نام ہو گا انہیں ’’ رافضہ ‘‘ کہا جائے گا ، جب تم اُن کا زمانہ پاؤ ، تو ان کے ساتھ جہاد کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن کے درمیان موجود مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوں گے اور پہلے کے اسلاف پر طعن کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن غانم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16432

Majma al-Zawaid #16432

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ قَالَتْ: «نَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: "" هَذَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ يَلْفِظُونَ الْإِسْلَامَ يَرْفُضُونَهُ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمُّونَ الرَّافِضَةَ، مَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ». رَوَاهُ أَبْو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ عَلِيٍّ لَمْ تَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ فِيمَا أَحْسِبُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Fāṭimah bint Muḥammad رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ looked at ʿAlī رضي الله عنه and placed him in Paradise, warning that among his partisans shall be those who cast off and reject Islam, nicknamed al-Rāfiḍah, to be killed as polytheists. > **"This one is in Paradise, and among his partisans shall be those who cast off Islam, rejecting it, nicknamed al-Rāfiḍah; whoever meets them, let him kill them, for they are polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : یہ جنت میں جائے گا اور اس کے گروہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اسلام کو پھینک دیں گے اور وہ اسے پرے کر دیں گے ، اُن کا مخصوص نام ہو گا انہیں رافضہ کہا جائے گا ، جو شخص ان سے ملے وہ اُن سے لڑے ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میرے خیال میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

16433

Majma al-Zawaid #16433

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُنْبَزُونَ الرَّافِضَةُ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ وَيَلْفِظُونَهُ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ the coming in the last age of a people nicknamed al-Rāfiḍah who reject and cast off Islam, to be fought as polytheists. > **"There shall be in the last age a people nicknamed al-Rāfiḍah, rejecting Islam and casting it off; fight them, for they are polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آخری زمانے میں کچھ لوگ آئیں گے جن کا نام رافضہ ہو گا ، وہ اسلام کو پرے کر دیں گے اور اسے پھینک دیں گے ، تم اُن کے ساتھ لڑائی کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16434

Majma al-Zawaid #16434

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ يَنْتَحِلُونَ حُبَّ أَهْلِ الْبَيْتِ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports being with the Prophet ﷺ alongside ʿAlī رضي الله عنه when the Prophet ﷺ warned of a people in his Ummah claiming love of the Household, nicknamed al-Rāfiḍah, to be fought as polytheists. > **"O ʿAlī, there shall be in my Ummah a people professing love of the Household, nicknamed al-Rāfiḍah; fight them, for they are polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! عنقریب میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے ، جو اہل بیت کے ساتھ محبت کا دعویٰ کریں گے ، اُن کا مخصوص نام ہو گا ، انہیں رافضہ کہا جائے گا ، تم اُن کے ساتھ لڑائی کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16435

Majma al-Zawaid #16435

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ كَبِيرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّوَّاءُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold the emergence in the last age of a people named al-Rāfiḍah who reject Islam. > **"There shall appear in the last age a people named al-Rāfiḍah, rejecting Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں ایسے لوگ ظاہر ہوں گے ، جن کا نام رافضہ ہو گا وہ اسلام کو پرے کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ اور بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کبیر بن اسماعیل النواء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16436

Majma al-Zawaid #16436

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَإِيَّاكَ وَذِكْرُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا سَبَقَ لَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr reports that a man asked Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما for counsel, and he enjoined taqwā and caution in mentioning the companions of the Messenger of Allah ﷺ, for their precedence is unknown. > **"I enjoin upon you taqwā of Allah, and beware of mentioning the companions of the Messenger of Allah ﷺ, for you do not know what preceded for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا : مجھے کوئی تلقین کیجئے ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور تم اللہ کے رسول کے اصحاب کا ذکر کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ، کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ اُن کے لئے کیا چیز سبقت لے جا چکی ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16437

Majma al-Zawaid #16437

وَعَنْ كُرَيْبٍ [أَنَّ] ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ إِيَّاكَ وَسَبَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهَا مَعِيبَةٌ.

EnglishUnverified translation

Kurayb reports that Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما told him to beware of reviling the companions of the Messenger of Allah ﷺ as a blameworthy thing. > **"O boy, beware of reviling the companions of the Messenger of Allah ﷺ, for it is blameworthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن سے فرمایا : اے لڑکے ! تم اللہ کے رسول کے اصحاب کو برا کہنے سے بچنا ، کیونکہ یہ ایک معیوب بات ہے ۔

16438

Majma al-Zawaid #16438

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: الشِّيعَةُ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ؟ قَالَ: كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ، لَوْ عَلِمْنَا ذَلِكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀṣim ibn Ḍamrah reports asking al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنه about the Shīʿah claim that ʿAlī will return, and al-Ḥasan dismissed the claimants as liars, citing the marriage of his wives and division of his inheritance as proof. > **"Those liars have lied; had we known that, his wives would not have married, nor would we have divided his inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا : شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ( دنیا میں ) واپس آ جائیں گے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ جھوٹے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ، اگر ہمیں اس بات کا پتہ ہوتا ، تو آپ رضی اللہ عنہ کی ازواج نے دوسری شادی نہیں کرنی تھی ، اور نہ ہی ہم نے اُن کی وارثت تقسیم کرنی تھی ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16439

Majma al-Zawaid #16439

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: أَتَانِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَا فِي الْكُتَّابِ، فَقَالَ: اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ، فَكَشَفْتُ عَنْ بَطْنِي فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ السَّلَامَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī ibn al-Ḥusayn reports that Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنه came to him in the kuttāb, asked him to uncover his belly and kissed it, then conveyed a greeting entrusted by the Messenger of Allah ﷺ. > **"Indeed the Messenger of Allah ﷺ commanded me to convey salām to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوجعفر محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت مدرسے میں تھا ، انہوں نے فرمایا : آپ اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹائیں میں نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا ، تو انہوں نے میرے پیٹ پر بوسہ دیا اور پھر یہ فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں آپ کو سلام پہنچاؤں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16440

Majma al-Zawaid #16440

عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: «نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ [الشامِ] يَوْمِ صِفِّيَنَ: أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Laylā reports that on the day of Ṣiffīn a man of Syria called out asking whether Uways al-Qaranī was among them, and upon affirmation recalled hearing the Messenger of Allah ﷺ praise him. > **"Indeed among the best of the Tābiʿīn is Uways."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابولیلی بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے دن ، اہل شام میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں پکار کر کہا : کیا تمہارے درمیان حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ موجود ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو اس شخص نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تابعین میں سب سے بہتر اویس ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16441

Majma al-Zawaid #16441

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ الرَّبِيعُ بْنُ خَيْثَمٍ إِذَا دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِذْنٌ لِأَحَدٍ حَتَّى يَفْرَغَ كُلُّ وَاحِدٌ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ. قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَبَا يَزِيدَ، لَوْ رَآكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَحَبَّكَ، وَمَا رَأَيْتُكَ إِلَّا ذَكَرْتُ الْمُخْبِتِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah ibn ʿAbd Allāh reports that when al-Rabīʿ ibn Khuthaym entered upon ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه, none was admitted until the two finished with one another, and ʿAbd Allāh addressed him as Abū Yazīd with love and remembrance of the humble. > **"O Abū Yazīd, had the Messenger of Allah ﷺ seen you, he would have loved you; and I see you only and remember the humble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : ربیع بن خیثم ، جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے تو جب تک یہ دونوں صاحبان آپس کی بات چیت سے فارغ نہیں ہو جاتے تھے ، کسی کو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابویزید ! اگر اللہ کے رسول ﷺ تمہیں دیکھ لیتے تو وہ تم سے محبت رکھتے اور تمہارے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ تمہارا ذکر ’’ مخبتین ‘‘ میں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16442

Majma al-Zawaid #16442

عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ الشَّعْبِيُّ يُحَدِّثُ بِالْمَغَازِي، فَمَرَّ ابْنُ عُمَرَ فَسَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ بِهَا، فَقَالَ: لَهُوَ أَحْفَظُ لَهَا مِنِّي، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ شَهِدْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿUmayr reports that al-Shaʿbī would narrate the Maghāzī when Ibn ʿUmar رضي الله عنهما passed, heard him, and acknowledged his superior retention despite his own presence with the Messenger of Allah ﷺ. > **"He is more retentive of them than I, though I witnessed them with the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ امام شعبی ، مغازی ( یعنی غزوات سے متعلق واقعات ) بیان کر رہے تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کا گزر وہاں سے ہوا ، انہوں نے ان کو اس بارے میں بیان کرتے ہوئے سنا ، تو یہ فرمایا : یہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ یاد رکھے ہوئے ہے ، حالانکہ میں ان جنگوں میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16443

Majma al-Zawaid #16443

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنَيْنِ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغِيثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ اللَّهِ، وَلَا أَبَاهُ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ، وَالْبُخَارِيُّ ذَكَرَ أَبَاهُ، وَلَمْ يَجْرَحْهُمَا أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Burdah رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ foretell a man emerging from al-Kāhinayn with unmatched study of the Qurʾān. > **"There shall emerge from al-Kāhinayn a man who studies the Qurʾān with a study none after him shall study."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کاہنوں میں ایک شخص نکلے گا ، جو قرآن کا یوں درس دے گا کہ اُس طرح کا درس اُس کے بعد کوئی نہیں دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ عبداللہ بن مغیث نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے نقل کی ہے اور میں عبداللہ اور اس کے والد سے واقف نہیں ہوں ، البتہ ابن ابوحاتم نے عبداللہ کا ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اس کے والد کا ذکر کیا ہے ، ان دونوں پر کسی نے جرح نہیں کی ہے ۔

16444

Majma al-Zawaid #16444

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ: «أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا قَتَادَةُ، لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا ; فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ، وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا وَمُسْنَدًا، وَأَحَالَ لَفْظَ الْمُسْنَدِ عَلَى الْمُرْسَلِ، وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ، وَالطَّبَرَانِيُّ مُسْنَدًا، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِي الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِي الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ فِي مُسْنَدِ أَحْمَدَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي بَعْضِ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Ibrāhīm al-Taymī reports that Qatādah ibn al-Nuʿmān al-Ẓafarī رضي الله عنه spoke against Quraysh, whereupon the Messenger of Allah ﷺ forbade him, foretelling men among them whose deeds would dwarf his and incite admiration, withholding their rank with Allah lest they transgress. > **"O Qatādah, do not revile Quraysh, for you may see men among them before whose deeds you deem your deed small, and before whose acts your act small, envying them when you see them; were it not that Quraysh would transgress, I would inform them of what is theirs with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : حضرت قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ نے قریش پر تنقید کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے قتادہ ! تم قریش کو برا نہ کہو کیونکہ ہو سکتا ہے ، تم ان میں ایسے افراد کو دیکھو کہ تم ان کے اعمال کے مقابلے میں ، اپنے اعمال کو حقیر سمجھو گے اور ان کے افعال کے مقابلے میں ، اپنے افعال کو حقیر سمجھو گے ، اور جب تم انہیں دیکھو گے تو تم اُن پر رشک کرو گے ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے , تو میں انہیں اس بارے میں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا قدر و منزلت حاصل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ’’ مرسل ‘‘ اور ’’ مسند ‘‘ طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے ’’ مسند ‘‘ کے لفظ کو ’’ مرسل ‘‘ کی طرف لوٹا دیا ہے بزار نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ’’ مسند ‘‘ طور پر نقل کیا ہے ’’ مسند ‘‘ میں بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ’’ مرسل ‘‘ اور ’’ مسند ‘‘ میں ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جعفر بن عبداللہ بن اسلم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ’’ مسند احمد ‘‘ میں ہے اور وہ ثقہ ہے ، طبرانی کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16445

Majma al-Zawaid #16445

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَ مِنْ بَدْرٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَهَلْ لَقِينَا إِلَّا عَجَائِزَ كَالْجُزُرِ الْمُعَقَّلَةِ فَنَحَرْنَاهَا؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ تَفَقَّأَ فِيهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ أَخِي، لَا تَقُلْ ذَلِكَ، أُولَئِكَ الْمَلَأُ الْأَكْبَرُ مِنْ قُرَيْشٍ، أَمَا لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ بِمَكَّةَ هِبَتَهُمْ "". فَوَاللَّهِ، لَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَرَأَيْتُهُمْ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ فِي مَجَالِسِهِمْ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَى أَنَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ هَيْبَتِهِمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ رَأَيْتَهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ لَهِبْتَهُمْ "". قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعَاشِرَ النَّاسِ، أَحِبُّوا قُرَيْشًا ; فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّ قُرَيْشًا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَ قُرَيْشًا فَقَدْ أَبْغَضَنِي، إِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيَّ قَوْمِي ; فَلَا أَتَعَجَّلُ لَهُمْ نِقْمَةً، وَلَا أَسْتَكْثِرُ لَهُمْ نِعْمَةً. اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا، أَلَا إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَلِمَ مَا فِي قَلْبِي مِنْ حُبِّي لِقَوْمِي فَسَرَّنِي فِيهِمْ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ} [الزخرف: 44] فَجَعَلَ الذِّكْرَ، وَالشَّرَفَ لِقَوْمِي، فِي كِتَابِهِ فَقَالَ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ - وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: 214 - 215] يَعْنِي: قَوْمِي، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الصِّدِّيقَ [مِنْ قَوْمِي]، وَالشَّهِيدَ مِنْ قَوْمِي، وَالْأَئِمَّةَ مِنْ قَوْمِي، إِنِ اللَّهَ قَلَبَ الْعِبَادَ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَكَانَ خَيْرَ الْعَرَبِ قُرَيْشٌ، وَهِيَ الشَّجَرَةُ الْمُبَارَكَةُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ: {مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ} [إبراهيم: 24] قُرَيْشٌا (أَصْلُهَا ثَابِتٌ) يَقُولُ: أَصْلُهَا كَرَمٌ (وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ) يَقُولُ: الشَّرَفُ الَّذِي شَرَّفَهُمُ اللَّهُ بِهِ بِالْإِسْلَامِ الَّذِي هَدَاهُمْ لَهُ، وَجَعَلَهُمْ أَهْلَهُ. ثُمَّ أَنْزَلُ فِيهِمْ سُورَةً مِنْ كِتَابِهِ مُحْكَمَةً: {لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ - فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} [قريش: 1 - 3] "". قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قُرَيْشٌ بِخَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَرَّهُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: "" {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ} [الزخرف: 44]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنٌ السَّلُولِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn Ḥātim رضي الله عنه reports sitting with the Prophet ﷺ upon his return from Badr when an Anṣārī belittled the slain as hobbled old camels slaughtered, changing the Prophet's ﷺ face as though pomegranate seeds burst therein; he ﷺ corrected him that they were the great chiefs of Quraysh, awe-inspiring in their Makkan assemblies, which ʿAdī later witnessed himself, then enjoined love of Quraysh as love of himself, prayed for their latter part after their former punishment, cited remembrance and honour for his people in revelation, the Ṣiddīq, martyr, and Imāms from them, the blessed tree and Sūrah Quraysh, rejoicing whenever Quraysh was praised. > **"O company of men, love Quraysh, for whoever loves Quraysh has loved me, and whoever hates Quraysh has hated me; O Allah, as Thou hast made the first of Quraysh taste punishment, make their last taste favour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ بدر سے تشریف لائے تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : ہمارا سامنا بوڑھی عورتوں سے ہوا ، جو بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھیں ، تو ہم نے انہیں ذبح کر دیا ، نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کی رنگت تبدیل ہو گئی ، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کے اوپر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم اس طرح نہ کہو ، وہ قریش سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگ تھے ، اگر تم مکہ میں انہیں ان کی محفلوں میں دیکھ لیتے ، تو تم ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں مکہ آیا ، میں نے ان لوگوں کو مسجد حرام کے پاس اپنی محفلوں میں بیٹھا ہوا دیکھا ، تو مجھے یہ بھی قدرت حاصل نہیں ہو سکی کہ میں انہیں سلام کرتا اور اس کی وجہ ان لوگوں کی ہیبت تھی ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا : ’’ اگر تم انہیں ان کی مخصوص محفلوں میں دیکھتے ، تو ان سے ہیبت زدہ ہو جاتے ۔‘‘ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں کے گروہ ! تم قریش سے محبت رکھو ، کیونکہ جو شخص قریش سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا اور جو قریش سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے نزدیک میری قوم کو محبوب کر دیا ہے ، تو میں ان سے انتقام لینے میں جلدی نہیں کروں گا ، اور ان کے لئے نعمت زیادہ طلب نہیں کروں گا ، اے اللہ ! تو نے قریش کے ابتدائی حصے کو سزا کا ذائقہ چکھایا تھا ، تو ان کے آخری حصے کو عطیات کا ذائقہ چکھا دے ، خبردار ! اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے ؟ جو میرے دل میں اپنی قوم کے لئے محبت ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان لوگوں کے بارے میں خوش کیا اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نصیحت اور شرف ، میری قوم کے لئے مخصوص کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! اور اپنے پر ان کے لئے جھکا کے رکھو ، جو مومنین تمہاری پیروی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد بھی ، میری قوم کے لوگ ہیں ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے صدیق کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، شہید کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، حکمرانوں کو میری قوم میں سے بنایا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دل اُلٹ پلٹ کر دیکھے ، تو عربوں میں سب سے بہتر قریش تھے اور یہی وہ مبارک درخت ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس کی مثال ایک پاکیزہ کلمے کی طرح ہے ، جو پاکیزہ درخت کی مانند ہوتا ہے ، جس کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہوتی ہے ۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں ، اس کی اصل مضبوط ہوتی ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس سے مراد ان کی اصل کا معزز ہونا ہے اور اس کی جڑ آسمان میں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ، وہ شرف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کے حوالے سے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب کی اور انہیں اہل اسلام میں بنا دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک پوری سورت نازل کی ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ قریش کو رغبت دی سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر کی رغبت ان کو دی ، تو انہیں چاہیے کہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں جو ( ان کے ) بھوک کے عالم میں انہیں کھانے کے لیے دیتا ہے ، اور خوف سے انہیں محفوظ رکھتا ہے ۔‘‘ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب بھی آپ کے سامنے قریش کا ذکر بھلائی کے حوالے سے کیا جاتا ، تو اس بات پر آپ خوش ہوتے تھے ، یہاں تک کہ خوشی کے آثار آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے ، آپ یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے : ’’ اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے عنقریب حساب لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین سلولی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16446

Majma al-Zawaid #16446

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ قَبْلَهُمْ، وَلَا يُعْطَاهَا أَحَدٌ بَعْدَهُمْ، فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا: بِأَنِّي مِنْهُمْ، وَأَنَّ النُّبُوَّةَ فِيهِمْ، وَأَنَّ الْحِجَابَةَ فِيهِمْ، وَأَنَّ السِّقَايَةَ فِيهِمْ، وَنَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيلِ، وَعَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ، وَأَنْزَلَ فِيهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ تَنْزِلْ فِي أَحَدٍ غَيْرَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ named seven distinctions of Quraysh granted to none before or after: his being from them, prophethood, veiling, watering, victory over the Elephant, sole worship for ten years, and a Sūrah revealed concerning them alone. > **"Allah favoured Quraysh with seven traits given to none before them nor after them: I am from them, prophethood is among them, the veiling is among them, the watering is among them, He aided them against the Elephant, they worshipped Allah ten years with none but them worshipping, and a Sūrah of the Qurʾān was revealed concerning them revealed concerning none but them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالی نے قریش کو سات خصوصیات کے حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ، جو اُن سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، اور ان کے بعد کسی کو نہیں دی جائیں گی ، اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ فضیلت دی ہے کہ میں اُن میں سے ہوں اور نبوت ان میں ہے ، اور حجابہ کا منصب ان میں ہے اور سقایہ کا منصب ان میں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے خلاف ان لوگوں کی مدد کی اور ان لوگوں نے دس سال تک یوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی کہ ان کے علاوہ اور کسی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ، قرآن کی ایک سورت نازل کی ، اُن کے علاوہ اور کسی کے بارے میں ( کوئی مستقل سورت ) نازل نہیں ہوئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16447

Majma al-Zawaid #16447

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِصَالٍ: فَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ عَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ إِلَّا قُرَشِيٌّ، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ نَصَرَهُمُ اللَّهُ عَلَى الْفِيلِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ نَزَلَتْ فِيهِمْ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَدْخُلْ فِيهِمْ غَيْرُهُمْ: {لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ} [قريش: 1]، وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّ فِيهِمُ النُّبُوَّةَ، وَالْخِلَافَةَ، وَالْحِجَابَةَ، وَالسِّقَايَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ ضُعِّفَ، وَوَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ named the sevenfold favour of Quraysh: sole worship for ten years, victory over the Elephant while polytheists, Sūrah Li-īlāfi Quraysh concerning them alone, and prophethood, caliphate, veiling, and watering among them. > **"Allah favoured Quraysh with seven traits: they worshipped Allah ten years with none but a Qurashī worshipping, He aided them against the Elephant while polytheists, a Sūrah was revealed concerning them with none but them included, and among them are prophethood, the caliphate, the veiling, and the watering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش کو اللہ تعالیٰ نے سات خصوصیات کے حوالے سے فضیلت عطا کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت دی ہے کہ وہ دس سال تک اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرتے رہے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف کسی قریشی نے ہی کی ، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے خلاف اُن کی مدد کی ، جبکہ وہ لوگ مشرک تھے ، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت عطا کی ہے کہ ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل ہوئی ہے ، جس میں ان کے علاوہ کسی اور کا تذکرہ نہیں ہے ’’ لایلاف قریش ‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فضیلت عطا کی کہ ان کے نبوت ، خلافت ، حجابہ اور سقایہ کے منصب ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔

16448

Majma al-Zawaid #16448

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: أَقْحَمَتِ السَّنَةُ نَابِغَةَ بَنِي جَعْدَةَ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ: حَكَيْتَ لَنَا الصِّدِّيقَ لَمَا وَلَيْتَنَا ... وَعُثْمَانَ وَالْفَارُوقَ فَارْتَاحَ مُعْدَمُ وَسَوَّيَتْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ فَاسَتَوَوْا ... فَعَادَ صَبَاحًا حَالِكُ اللَّيْلِ مُظْلِمُ أَتَاكَ أَبُو لَيْلَى تَحَوَّلَ بِهِ الدُّجَى ... دُجَى اللَّيْلِ جَوَابَ الْفَلَاةِ عَتَمْتُمْ لِتَجَبُرَ مِنْهُ جَانِبًا زَعْزَعَتْ بِهِ ... صُرُوفُ اللَّيَالِي وَالزَّمَانُ الْمُصَمْصِمُ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِلَيْكَ يَا أَبَا لَيْلَى، فَإِنَّ الشِّعْرَ أَهْوَنُ وَسَائِلِكَ عِنْدَنَا، أَمَّا صَفْوَةُ مَالِنَا فَلِآلِ الزُّبَيْرِ، وَأَمَّا عُيُونُهُ فَإِنَّ بَنِي أَسَدٍ يَشْغَلُهَا عَنْكَ وَتَمِيمًا، وَلَكِنْ لَكَ فِي مَالِ اللَّهِ حَقَّانِ: حَقٌّ لِرُؤْيَتِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَقٌّ لِشَرِكَتِكَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فِي الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُدْخِلُ دَارَ النَّعَمِ، وَأَمَرَ لَهُ بِقَلَائِصَ سَبْعٍ، وَحَمْلٍ وَخَيْلٍ، وَأَوْقَرَ لَهُ الرِّكَابَ بُرًّا وَتَمْرًا، فَجَعَلَ النَّابِغَةُ يَسْتَعْجِلُ فَيَأْكُلُ الْحَبَّ صَرْفًا، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: وَيْحَ أَبِي لَيْلَى لَقَدْ بَلَغَ بِهِ الْجَهْدُ، فَقَالَ النَّابِغَةُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا وَلِيَتْ قُرَيْشٌ فَعَدَلَتْ، وَاسْتُرْحِمَتْ فَرَحِمَتْ، وَعَاهَدَتْ فَوَفَتْ، وَوَعَدَتْ فَأَنْجَزَتْ، إِلَّا كُنْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ فِرَاطَ الْقَاصِفِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَرِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUrwah ibn al-Zubayr reports drought driving Nābighah of Banū Jaʿdah to ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr رضي الله عنه in Madīnah with verses likening him to al-Ṣiddīq, ʿUthmān, and al-Fārūq and seeking aid, answered with honour for Quraysh, a share for seeing the Messenger ﷺ and sharing Islam, camels, mounts, wheat and dates, and Nābighah testifying he heard the Messenger of Allah ﷺ tie his and the Prophets' precedence to the justice, mercy, covenant, and promise of Quraysh. > **"Never did Quraysh rule justly, show mercy when asked, covenant faithfully, and fulfil promises, but I and the Prophets stood ahead of the throng."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ’’ نابغہ ‘‘ بنو جعدہ کو قحط سالی نے لپیٹ میں لیا ، وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ مدینہ منورہ میں بیٹھے تھے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے : ’’ جب آپ ہمارے والی ( یعنی حکمران ) بنے ، تو آپ نے ہمارے سامنے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کیے تو اس شخص کو راحت نصیب ہوئی جس کے پاس کچھ نہ ہو ، آپ نے لوگوں کے ساتھ ، حق کے مطابق برابری کا سلوک کیا ، تو وہ سیدھے ہو گئے اور تاریک رات صبح میں تبدیل ہو گئی ، ابولیلی آپ کے پاس آیا ہے ، جس کو تاریکیاں گھما رہی ہیں ، جو رات کی تاریکیاں ہیں ، وہ ویرانوں کو عبور کرنے والا مضبوط اونٹ ہے ، تاکہ آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، راتوں کے تبدیل ہونے اور ظالم زمانے نے اس کو الگ کر دیا ہے ۔‘‘ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا : اے ابولیلی ! آپ اپنا دھیان کریں ، کیونکہ شعر کہنا زیادہ آسان ہے اور آپ جو پوچھ رہے ہیں وہ ہمارے پاس ہے ، جہاں تک ہمارے مال کی پاکیزگی کا تعلق ہے وہ آل زبیر کے لئے مخصوص ہے ، جہاں تک اس چشموں کا تعلق ہے ، تو بنو اسد نے آپ کے اور تمیم کے حوالے سے ان سے مشغول ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے مال میں آپ کے دو قسم کے حق ہیں ، ایک حق اس حوالے سے ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے اور ایک حق وہ ہے جو باقی اہل اسلام کے ہمراہ آپ اسلام میں شراکت دار ہیں ، پھر انہوں نے ’’ نابغہ ‘‘ کے بارے میں حکم دیا ، انہیں نعمتوں والے گھر میں لے جایا گیا ، انہوں نے ان کے لئے سات اونٹنیاں اور سامان اور گھوڑے دیے اور آٹے اور کھجوروں کی سواریاں دیں ، تو ’’ نابغہ ‘‘ نے جلدی سے وصول کرنا شروع کیا ، تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابولیلی ! تمہارا ستیاناس ہو ! اس طرح تو مشقت زیادہ ہو جائے گی ، تو حضرت نابغہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قریش کو جب بھی والی بنایا جائے گا ، وہ عدل سے کام لیں گے اور جب بھی اُن سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم سے کام لیں گے ، اور جب ان سے وعدہ لیا جائے گا تو وہ پورا کریں گے ، تو ایسی صورت میں ، میں اور دیگر انبیاء ہجوم میں اُن کے پیشواء ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور اس کے ایسے رجال ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16449

Majma al-Zawaid #16449

وَعَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: "" لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ entered upon her declaring he would inform Quraysh of their rank with Allah were it not that they would exult. > **"Were it not that Quraysh would exult, I would inform them of what is theirs with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اُن کے ہاں تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش متکبر ہو جائیں گے ، تو میں اُنہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کی کیا قدر و منزلت ہے ؟“۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔