عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: «جَلَسْنَا يَوْمًا أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فِي رَهْطٍ مِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَرَهْطٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَهْطٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَاخْتَصَمْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّنَا أَوْلَى بِهِ، وَأَحَبُّ إِلَيْهِ؟ قُلْنَا: نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، آمَنَّا بِهِ، وَاتَّبَعْنَاهُ، وَقَاتَلْنَا مَعَهُ، وَكَتِيبَتُهُ فِي نَحْرِ عَدُوِّهِ ; فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ. وَقَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ: نَحْنُ الَّذِينَ هَاجَرْنَا مَعَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَفَارَقْنَا الْعَشَائِرَ وَالْأَهْلِينَ وَالْأَمْوَالَ، وَقَدْ حَضَرْنَا مَا حَضَرْتُمْ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتُمْ ; فَنَحْنُ أَوْلَى [النَّاسِ] بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ. وَقَالَ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: نَحْنُ عَشِيرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَضَرْنَا الَّذِي حَضَرْتُمْ، وَشَهِدْنَا الَّذِي شَهِدْتُمْ ; فَنَحْنُ أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّهُمْ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ لَتَقُولُنَّ شَيْئًا "". فَقُلْنَا مِثْلَ مَقَالَتِنَا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: "" صَدَقْتُمْ، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْكُمْ؟ "". وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ إِخْوَانُنَا الْمُهَاجِرُونَ. فَقَالَ: "" صَدَقُوا [وَبَرُّوا]، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ؟ "". وَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا قَالَ بَنُو هَاشِمٍ فَقَالَ: "" صَدَقُوا [وَبَرُّوا]، مَنْ يَرُدُّ هَذَا عَلَيْهِمْ؟ "". ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أَقْضِيَ بَيْنَكُمْ؟ "" قُلْنَا: بَلَى. بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّمَا أَنَا أَخُوكُمْ "". فَقَالُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. "" وَأَمَّا أَنْتُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْكُمْ "". فَقَالُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ ذَهَبْنَا بِهِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. "" وَأَمَّا أَنْتُمْ بَنُو هَاشِمٍ فَأَنْتُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ "". فَقُمْنَا وَكُلُّنَا رَاضٍ مُغْتَبِطٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مِسْكِينٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
EnglishUnverified translation
Ka'b ibn Ujra رضي الله عنه said one day they sat before the Messenger of Allah ﷺ in the mosque, a group of them of the Ansar, a group of the Muhajirun, and a group of Banu Hashim, and they disputed over the Messenger of Allah ﷺ as to which of them was closest and most beloved to him. The Ansar claimed precedence through belief, following, fighting alongside him, and being his squadron against the enemy. The Muhajirun claimed precedence through emigration with Allah and His Messenger, forsaking kin, families, and wealth, while sharing in all that the others had witnessed. Banu Hashim claimed precedence as his kin, while sharing in all that the others had witnessed. The Messenger of Allah ﷺ came out to them, heard their claims, affirmed each group's truth, and asked who could refute them. He then judged between them, telling the Ansar he was their brother, telling the Muhajirun he was of them, and telling Banu Hashim they were of him and toward him. They all arose pleased and rejoicing with the Messenger of Allah ﷺ. > **"Shall I not judge between you?"** > **"As for you, O company of the Ansar, I am but your brother."** > **"As for you, O company of the Muhajirun, I am but of you."** > **"As for you, O Banu Hashim, you are of me and toward me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے گھروں کے سامنے مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، کچھ افراد کا تعلق مہاجرین سے تھا اور کچھ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا ، ہمارے درمیان نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بحث ہو گئی کہ ہم میں سے کون نبی اکرم ﷺ کے نزدیک زیادہ مقرب ہے ؟ اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ہم نے کہا : ہم انصار کا گروہ ، ہم نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے ، ہم نے نبی اکرم ﷺ کی پیروی کی ، ہم نے آپ کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا اور دشمن کے مدمقابل ہم آپ کا دستہ ہیں ، تو ہم اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ قریب ہیں ، اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، ہمارے مہاجرین بھائیوں نے کہا : ہم لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کی ، ہم نے اپنے خاندانوں اور اہل و عیال اور اموال کو چھوڑ دیا اور ہم بھی اسی طرح جنگوں میں شریک ہوتے رہے ہیں ، جس طرح تم ہوئے ہو اور ہم وہاں موجود رہے ہیں ، جہاں تم موجود رہے ہو ، تو ہم اللہ کے رسول ﷺ کے نزدیک زیادہ قریبی ہیں اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائیوں نے کہا : ہم اللہ کے رسول کا خاندان ہیں ، ہم بھی ان مواقع پر حاضر رہے ہیں ، جہاں تم حاضر رہے ہو ، وہاں موجود رہے ہیں جہاں تم موجود رہے ہو ، تو ہم اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ قریبی ہیں اور آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : تم لوگ کس چیز کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو ؟ تو ہم نے اپنے اپنے موقف کو دہرا دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انصار سے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کہا ہے ، تم لوگوں کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے مہاجر بھائیوں نے جو کہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا ہے اور سچ کہا ہے ، ان کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر بنو ہاشم نے جو کہا تھا ، ہم نے اس کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ہے اور ٹھیک کہا ہے ، ان کی بات کو کون مسترد کر سکتا ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ دوں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا بھائی ہوں ‘‘ ان لوگوں نے کہا : اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ’’ اے مہاجرین کے گروہ ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو میں تمہارا ایک فرد ہوں ‘‘ ان لوگوں نے کہا : اللہ اکبر ! ہم اس چیز کو لے جائیں گے ، رب کعبہ کی قسم ! ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ’’ اے بنو ہاشم ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم مجھ سے ہو اور میری طرف آؤ گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ، ہم میں سے ہر ایک راضی تھا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے تعلق کی وجہ سے رشک کر رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسکین انصاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔