وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَذْكُرُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا إِنَّكُمُ الْمَلَأُ الَّذِينَ أَمَرَنِي اللَّهُ أَنْ أُصَبِّرَ نَفْسِي مَعَكُمْ "". ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} [الكهف: 28]. إِلَى قَوْلِهِ: {وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا} [الكهف: 28]، أَمَا إِنَّهُ مَا جَلَسَ عُدَّتُكُمْ إِلَّا جَلَسَ مَعَهُمْ عِدَّتُهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِنْ سَبَّحُوا اللَّهَ - تَعَالَى - سَبَّحُوهُ، وَإِنْ حَمِدُوا اللَّهَ - تَعَالَى - حَمِدُوهُ، وَإِنْ كَبَّرُوا اللَّهَ كَبَّرُوهُ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ إِلَى الرَّبِّ - جَلَّ ثَنَاؤُهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، عِبَادُكَ سَبَّحُوكَ فَسَبَّحْنَا، وَكَبَّرُوكَ فَكَبَّرْنَا، وَحَمِدُوكَ فَحَمِدْنَا، فَيَقُولُ رَبُّنَا: يَا مَلَائِكَتِي، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُونَ: فِيهِمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ الْخَطَّاءُ. فَيَقُولُ: هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ passed ʿAbdullāh ibn Rawāḥah, may Allah be pleased with him, reminding his companions, declared them the company he was commanded to keep, recited the verse of patience with morning and evening supplicants, and described angels joining, ascending, reporting, and hearing divine pardon even for the erring sitter. > **"You are indeed the company whom Allah commanded me to keep myself patient with; no number of them sits except an equal number of angels sits with them; if they glorify Allah the angels glorify, if they praise Allah the angels praise, if they magnify Allah the angels magnify; then they ascend to the Lord, Who knows better, and say: our Lord, Your servants glorified You so we glorified, magnified You so we magnified, praised You so we praised; and our Lord says: My angels, I call you to witness that I have forgiven them; though they say: among them is erring so-and-so, He says: they are a people whose companion is never wretched."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے اصحاب کے ہمراہ ذکر کر رہے تھے ( یعنی انہیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ایسا گروہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ رکھوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :” اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک تمہاری تعداد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو فرشتے بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، پھر وہ فرشتے اوپر پروردگار کی بارگاہ میں چلے جاتے ہیں ، وہ پروردگار ان فرشتوں سے زیادہ علم رکھتا ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کر رہے تھے ، تو ہم نے بھی تیری تسبیح بیان کی ، وہ تیری کبریائی بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری کبریائی بیان کی ، وہ تیری حمد بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی ، تو ہمارا پروردگار یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اُن کے درمیان فلاں اور فلاں خطاکار شخص موجود تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ لوگ ( یعنی ذکر کرنے والے لوگ ) ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حماد کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔