Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 40 · Chapter 1

Book of Remembrances

Hadith 16743–16782

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16743

Majma al-Zawaid #16743

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعُهَا لِدَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ وَالْوَرَقِ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ، فَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ، وَتَضْرِبُونَ رِقَابَهُمْ؟ ذِكْرُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ posed a question to his Companions about the finest and purest deed in the sight of their Sovereign, surpassing charity and battle in rank, and then named it. > **"Shall I not inform you of the best of your deeds, the purest with your Sovereign, the highest in raising your ranks, better for you than giving gold and silver, and better for you than meeting your enemy so they strike your necks and you strike theirs? It is the remembrance of Allah, mighty and majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں بتاؤں ؟ جو تمہارے مالک کے نزدیک سب سے بہتر ہے اور سب سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور تمہارے درجات کو زیادہ بلند کرنے کا باعث ہے ، اور تمہارے لئے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم دشمن کا سامنا کرو اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے ، اور تم اس کی گردنیں اڑاؤ ( یعنی وہ چیز ) اللہ کا ذکر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

16744

Majma al-Zawaid #16744

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» "". وَقَالَ مُعَاذٌ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ لَكُمْ، أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعُهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ، وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" ذِكْرُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports two closely related statements of the Messenger of Allah ﷺ exalting remembrance above all deeds in salvation and rank, the second framed as a question to which the Companions assented. > **"No deed of the son of Adam is more saving for him from the punishment of Allah than the remembrance of Allah; shall I not inform you of the best of your deeds for you, the purest with your Sovereign, the highest in your ranks, better for you than giving gold and silver, and better than meeting your enemy tomorrow so you strike their necks and they strike yours? Yes, O Messenger of Allah. It is the remembrance of Allah, mighty and majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ ، اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو ۔‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر عمل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تمہارے مالک کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات کی بلندی کے لئے زیادہ مناسب ہے ، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ کل تم دشمن کا سامنا کرو ، اور تم اُن کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اُڑائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کا ذکر کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ابن عیاش کے غلام زیاد بن ابوزیاد نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

16745

Majma al-Zawaid #16745

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ - تَعَالَى - مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى "". قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَلَا الْجِهَادُ، إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared remembrance the most saving deed, and when questioned about jihād, made a single exception, repeating his answer three times. > **"No deed of the son of Adam is more saving for him from the punishment of Allah, exalted be He, than the remembrance of Allah, exalted be He. Not even jihād? Not even jihād, unless one strike with his sword until it breaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اُسے اللہ کے ذکر سے زیادہ ، اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو ، لوگوں نے عرض کی : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاد کرنا بھی نہیں ، البتہ یہ صورت حال مختلف ہو گی کہ آدمی اپنی تلوار کے ذریعے زخم لگاتا رہے ، یہاں تک کہ وہ ( تلوار ) ٹوٹ جائے ، یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16746

Majma al-Zawaid #16746

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمْ يَتَحَسَّرْ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ - تَعَالَى - فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ: مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصُّورِيِّ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the single source of regret for the people of Paradise concerning their worldly hours. > **"The people of Paradise will feel regret for nothing except an hour that passed by them in which they did not remember Allah, exalted be He, therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت کو صرف اُس گھڑی کے بارے میں حسرت ہو گی جو ( دنیا میں ) ان پر گزری تھی اور اس گھڑی میں اُنہوں نے اللہ کا ذکر نہیں کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، امام طبرانی کے استاد محمد بن ابراہیم صوری کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16747

Majma al-Zawaid #16747

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمْ: «إِنَّ آخِرَ كَلَامٍ فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ قُلْتُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَغَيْرِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَخْبِرْنِي بِأَفْضَلِ الْأَعْمَالِ وَأَقْرَبِهَا إِلَى اللَّهِ؟ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Mālik ibn Yukhāmir reports that Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, related the final counsel he received upon parting from the Messenger of Allah ﷺ, after asking which deed Allah loves most. > **"That you die while your tongue is moist with the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن یخامر بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا : ’’ نبی اکرم ﷺ سے جدا ہوتے وقت جو میری آخری گفتگو آپ ﷺ کے ساتھ ہوئی تھی ، اُس میں ، میں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ کہ تم ایسی حالت میں مرو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوزرعہ دمشقی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے دوسرے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ آپ مجھے سب سے زیادہ فضیلت والے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے بارے میں بتائیے ......‘‘۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

16748

Majma al-Zawaid #16748

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: "" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا "". قَالَ: فَأَيُّ الصَّالِحِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: "" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا "". ثُمَّ ذَكَرَ الصَّلَاةَ، وَالزَّكَاةَ، وَالْحَجَّ، وَالصَّدَقَةَ، كُلُّ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: يَا أَبَا حَفْصٍ، ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَهُ، فَقَالَ: أَيُّ الْمُجَاهِدِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟. وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَكَذَلِكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ a dialogue in which a questioner asked successively about jihād, the righteous, prayer, zakāh, ḥajj and charity, receiving the same criterion each time, until Abū Bakr, may Allah be pleased with him, remarked to ʿUmar, may Allah be pleased with him, on the triumph of the rememberers, which the Prophet ﷺ confirmed. > **"Which jihād brings greatest reward? Those most abundant in remembrance of Allah, blessed and exalted be He. Which righteous folk gain greatest reward? Those most abundant in remembrance of Allah. O Abū Ḥafṣ, the rememberers have taken all good. Yes, indeed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کون سا جہاد زیادہ اجر کا باعث ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنا ۔‘‘ اُس شخص نے سوال کیا : نیک لوگوں میں کن کو زیادہ اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ جو اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرتے ہوں ۔‘‘ پھر اُس شخص نے نماز ، زکوۃ اور صدقہ ، سب چیزوں کا ذکر کیا اور نبی اکرم ﷺ یہی ارشاد فرماتے رہے : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہوں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابوحفص ! ذکر کرنے والے لوگ ، ہر قسم کی بھلائی لے گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” ایسا ہی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ اُس شخص نے آپ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے کہا : مجاہدین میں کسے زیادہ اجر ملے گا ؟“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ابن لہیعہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16749

Majma al-Zawaid #16749

وَعَنْ جَابِرٍ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى "". قِيلَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, raises to the Prophet ﷺ a statement making remembrance the most saving deed from punishment, with a question about jihād and a single martial exception. > **"No deed of the son of Adam is more saving for him from punishment than the remembrance of Allah, exalted be He. Not even jihād in the path of Allah? Not even jihād in the path of Allah, except that one strike with his sword until it breaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اُسے عذاب سے ، اللہ کے ذکر سے زیادہ نجات دینے والا ہو ، عرض کی گئی : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے کہ آدمی اپنی تلوار کے ذریعے ضرب لگاتا رہے ، یہاں تک کہ وہ ( تلوار ) ٹوٹ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور حجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

16750

Majma al-Zawaid #16750

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ عَجَزَ مِنْكُمْ عَنِ اللَّيْلِ أَنْ يُكَابِدَهُ، وَبَخِلَ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ، وَجَبُنَ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ يُجَاهِدَهُ، فَلْيُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ prescribed abundant remembrance for whoever lacks strength for night worship, generosity with wealth, or courage against the enemy. > **"Whoever among you is unable to endure the night, is miserly with wealth to spend it, and cowardly toward the enemy to fight him, let him increase in the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص رات کے وقت عبادت کرنے سے عاجز ہو ، اور مال کو خرچ کرنے کے حوالے سے بخیل ہو ، اور دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے حوالے سے بزدل ہو ، اسے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16751

Majma al-Zawaid #16751

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ أَنَّ رَجُلًا فِي حِجْرِهِ دَرَاهِمُ يُقَسِّمُهَا، وَآخَرُ يَذْكُرُ اللَّهَ كَانَ ذِكْرُ اللَّهِ أَفْضَلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ compared a distributor of dirhams with one engaged in remembrance, judging the latter superior. > **"If a man had dirhams in his lap distributing them, and another remembered Allah, the remembrance of Allah would be superior."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کسی شخص کی گود میں درہم موجود ہوں ، جنہیں وہ تقسیم کر رہا ہو اور دوسرا شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16752

Majma al-Zawaid #16752

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلُ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ placed remembrance above every charity. > **"No charity is superior to the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی صدقہ اللہ کے ذکر سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16753

Majma al-Zawaid #16753

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: "" عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتَ، وَاذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ، وَشَجَرٍ، وَمَا عَمِلْتَ مِنْ سُوءٍ فَأَحْدِثْ لِلَّهِ فِيهِ تَوْبَةً، السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلَانِيَةُ بِالْعَلَانِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that when he sought counsel, the Messenger of Allah ﷺ enjoined God-consciousness, remembrance in every place, and matching secret and open sins with fresh repentance. > **"Hold to the fear of Allah as much as you are able; remember Allah beside every stone and tree; and whatever evil you do, renew repentance to Allah for it, the secret with the secret and the open with the open."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے نصیحت کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر یہ لازم ہے کہ جہاں تک تم سے ہو سکے ، تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور جب تم کسی برائی کا ارتکاب کرو تو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے نیا ( یعنی نیکی کا ) کام کرو ( برائی کے بعد نیکی کرتے ہوئے ) پوشیدہ کی جگہ پوشیدہ ہو گا اور علانیہ کی جگہ علانیہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16754

Majma al-Zawaid #16754

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِكَثْرَةِ ذِكْرِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ جَعْدِيَّةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports in an athar that his intimate friend ﷺ counselled him to abundant remembrance of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ﷺ نے مجھے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کی تلقین کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدیہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16755

Majma al-Zawaid #16755

وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: "" اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ، وَأَكْثَرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ; فَإِنَّكِ لَا تَأْتِينَ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَهَذِهِ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Anas, may Allah be pleased with her, reports that when she sought counsel, the Messenger of Allah ﷺ enjoined abandoning sins as the best emigration, guarding obligations as the best jihād, and abundant remembrance as the most beloved offering to Allah. > **"Abandon sins, for it is the best emigration; guard the obligations, for it is the best jihād; and increase in the remembrance of Allah, for you will bring nothing to Allah more beloved to Him than abundant remembrance of Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم گناہوں سے لاتعلق ہو جاؤ ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم فرائض باقاعدگی ۔ سے سرانجام دو ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز پیش نہیں کروں گی ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذکر سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ خاتون حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔

16756

Majma al-Zawaid #16756

وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: جَعَلَكَ اللَّهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَنَا مَعَكَ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا صَالِحًا أَعْمَلُهُ، فَقَالَ: "" أَقِيمِي الصَّلَاةَ ; فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْجِهَادِ، وَاهْجُرِي الْمَعَاصِي ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ، وَاذْكُرِي اللَّهَ كَثِيرًا ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَنْ تَلْقَيْنَهُ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ: أُمُّ أَنَسٍ هَذِهِ لَيْسَتْ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، وَكِلَاهُمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Anas, may Allah be pleased with her, reports that she asked the Messenger of Allah ﷺ for a righteous deed while expressing hope to accompany him in the highest Paradise, and he directed her to prayer, abandonment of sins, and abundant remembrance. > **"Establish prayer, for it is the greatest jihād; abandon sins, for it is the best emigration; and remember Allah abundantly, for it is the most beloved deed to Allah that you meet Him with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں رفیق اعلیٰ میں رکھے اور میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے نیک عمل کی تعلیم دیجئے جس پر میں عمل کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم نماز قائم کرو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے اور تم گناہوں سے لاتعلق رہو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو ! کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے کہ تم اُس عمل کے ہمراہ اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا نامی یہ خاتون ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نہیں ہیں ، انہوں نے یہ روایت محمد بن اسماعیل انصاری کے حوالے سے ، یونس بن عمران بن ابوانس کے حوالے سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے ان دونوں کا تذکرہ کیا ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16757

Majma al-Zawaid #16757

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ الْقَاسِمِ، عَنْ جَدِّهِ: ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, declares in an athar his preference for spending a full day until night in remembrance over furnishing fine horses for the same span.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک پورا دن ، رات ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ایک پورا دن ، رات ہونے تک عمدہ گھوڑے سواری کے لیے دوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے قاسم کے حوالے سے اُن کے دادا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16758

Majma al-Zawaid #16758

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ السَّابِقُونَ؟ "". قَالُوا: مَضَى نَاسٌ، وَتَخَلَّفَ نَاسٌ، قَالَ: "" أَيْنَ السَّابِقُونَ؟ الَّذِينَ يَسْتَهْتِرُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ. مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْتَعَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ فَلْيُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: يُقَالُ: هَتَرَ بِالشَّيْءِ، وَاسْتَهْتَرَ بِهِ إِذَا وَلِعَ بِهِ، وَلَمْ يَتَحَدَّثْ بِغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that during a journey the Messenger of Allah ﷺ twice asked after the forerunners, and when the people spoke of those ahead and behind, he identified the true forerunners and the path to the meadows of Paradise. > **"Where are the forerunners? Where are the forerunners, those absorbed in the remembrance of Allah? Whoever wishes to graze in the meadows of Paradise, let him increase in the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : کچھ لوگ آگے چلے گئے ہیں اور کچھ پیچھے آ رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ وہ لوگ جو ہمیشہ اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جنت کے باغات کے پھل حاصل کرے ، اُسے کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن اثیر بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : «هَتَرَ بالشَّنِي ، وَاسْتَهْتَر به» - جب آدمی کسی چیز سے متعلق رہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہ کرے ۔

16759

Majma al-Zawaid #16759

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ: "" سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُفْرِدُونَ؟ قَالَ: "" الْمُفْرِدُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ، وَضَعَ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ، فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports that on a journey the Messenger of Allah ﷺ announced that the mufarridūn had outstripped, and upon inquiry explained their devotion and its lightening effect unto the Resurrection. > **"The mufarridūn have outstripped. Who are the mufarridūn, O Messenger of Allah? Those set apart by the remembrance of Allah; remembrance has laid their burdens from them, so they will come on the Day of Resurrection light."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مفردون ‘‘ سبقت لے گئے ہیں ، لوگوں نے دریافت کیا :” مفردون ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور وہ ذکر اُن سے اُن کے بوجھ کو اُٹھا دیتا ہے ( یعنی اس ذکر کی برکت سے ، اُن کی پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں ، یا ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) اور جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو وہ ہلکے پھلکے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16760

Majma al-Zawaid #16760

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُفْرِدُونَ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُهْتِرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ مِنْ قَوْلِهِ: "" الَّذِينَ يُهْتِرُونَ "" إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبَ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ announced that the mufarridūn had outstripped, and upon inquiry defined them by absorption in remembrance. > **"The mufarridūn have outstripped. Who are the mufarridūn, O Messenger of Allah? Those absorbed in the remembrance of Allah, mighty and majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مفردون ‘‘ سبقت لے گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ’’ مفردون ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” جو اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16761

Majma al-Zawaid #16761

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ حَتَّى يَقُولُوا: مَجْنُونٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ دَرَّاجٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded such abundant remembrance that onlookers would deem the rememberer mad. > **"Increase in the remembrance of Allah until they say: mad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم ( اس قدر کثرت کے ساتھ ) اللہ کا ذکر کرو ، کہ لوگ کہیں : یہ مجنوں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16762

Majma al-Zawaid #16762

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا حَتَّى يَقُولَ الْمُنَافِقُونَ: إِنَّكُمْ مُرَاءُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ [الْجُفْرِيُّ]، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded such remembrance that the hypocrites would accuse the rememberers of ostentation. > **"Remember Allah with remembrance until the hypocrites say: you are showing off."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ کا ذکر اس طرح کرو ! کہ منافقین یہ کہیں : تم لوگ دکھاوا کر رہے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16763

Majma al-Zawaid #16763

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ: سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ "". فَقِيلَ: وَمَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَجَالِسُ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ، وَأَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that Allah will announce on the Day of Resurrection that the assembled will learn who the noble are, and upon inquiry identified them. > **"On the Day of Resurrection the assembled will know who the people of nobility are. Who are the people of nobility, O Messenger of Allah? The gatherings of remembrance in the mosques."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، عنقریب اہل محشر جان لیں گے کہ کون لوگ کرم والے ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کرم والے لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مساجد میں ذکر کی محافل والے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

16764

Majma al-Zawaid #16764

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ the heavenly announcement granted to sincere remembrance gatherings seeking only Allah's Face. > **"No people gather remembering Allah, mighty and majestic, seeking only His Face thereby, except a caller from heaven calls to them: rise forgiven, for your evil deeds have been replaced with good deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی کچھ لوگ اکٹھے ہو کر ، اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور وہ اس کے ذریعے صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں ، تو آسمان سے ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھ جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ، اور میں نے تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون مرئی ہے جس کو ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16765

Majma al-Zawaid #16765

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: تَعَالَ نُؤْمِنُ بِرَبِّنَا سَاعَةً، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يَرْغَبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ ; إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تَتَبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports that ʿAbdullāh ibn Rawāḥah, may Allah be pleased with him, habitually invited Companions to an hour of faith, and when an angered man complained that he diverted from the Prophet's faith to an hour's faith, the Prophet ﷺ answered with mercy and praise of such gatherings. > **"May Allah have mercy on Ibn Rawāḥah; he loves the gatherings over which the angels boast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے جب ملتے تھے تو یہ فرماتے تھے : آؤ ! تاکہ ہم گھڑی بھر کے لیے اپنے پروردگار پر ایمان لے آئیں ( یعنی گھڑی بھر کے لیے اُس کا ذکر کر لیں ) ایک دن انہوں نے ایک شخص سے یہی بات کہی ، تو وہ شخص غصے میں آ گیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور بولا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابن رواحہ کو ملاحظہ نہیں کیا ؟ کہ وہ آپ کے ایمان سے موڑ کر ، گھڑی بھر کے ایمان کی طرف ترغیب دیتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر رحم کرے ! اوہ ان محافل کو پسند کرتا ہے جن کے حوالے سے فرشتے فخر کا اظہار کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16766

Majma al-Zawaid #16766

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَذْكُرُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا إِنَّكُمُ الْمَلَأُ الَّذِينَ أَمَرَنِي اللَّهُ أَنْ أُصَبِّرَ نَفْسِي مَعَكُمْ "". ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} [الكهف: 28]. إِلَى قَوْلِهِ: {وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا} [الكهف: 28]، أَمَا إِنَّهُ مَا جَلَسَ عُدَّتُكُمْ إِلَّا جَلَسَ مَعَهُمْ عِدَّتُهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِنْ سَبَّحُوا اللَّهَ - تَعَالَى - سَبَّحُوهُ، وَإِنْ حَمِدُوا اللَّهَ - تَعَالَى - حَمِدُوهُ، وَإِنْ كَبَّرُوا اللَّهَ كَبَّرُوهُ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ إِلَى الرَّبِّ - جَلَّ ثَنَاؤُهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، عِبَادُكَ سَبَّحُوكَ فَسَبَّحْنَا، وَكَبَّرُوكَ فَكَبَّرْنَا، وَحَمِدُوكَ فَحَمِدْنَا، فَيَقُولُ رَبُّنَا: يَا مَلَائِكَتِي، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُونَ: فِيهِمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ الْخَطَّاءُ. فَيَقُولُ: هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ passed ʿAbdullāh ibn Rawāḥah, may Allah be pleased with him, reminding his companions, declared them the company he was commanded to keep, recited the verse of patience with morning and evening supplicants, and described angels joining, ascending, reporting, and hearing divine pardon even for the erring sitter. > **"You are indeed the company whom Allah commanded me to keep myself patient with; no number of them sits except an equal number of angels sits with them; if they glorify Allah the angels glorify, if they praise Allah the angels praise, if they magnify Allah the angels magnify; then they ascend to the Lord, Who knows better, and say: our Lord, Your servants glorified You so we glorified, magnified You so we magnified, praised You so we praised; and our Lord says: My angels, I call you to witness that I have forgiven them; though they say: among them is erring so-and-so, He says: they are a people whose companion is never wretched."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے اصحاب کے ہمراہ ذکر کر رہے تھے ( یعنی انہیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ایسا گروہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ رکھوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :” اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک تمہاری تعداد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو فرشتے بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، پھر وہ فرشتے اوپر پروردگار کی بارگاہ میں چلے جاتے ہیں ، وہ پروردگار ان فرشتوں سے زیادہ علم رکھتا ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کر رہے تھے ، تو ہم نے بھی تیری تسبیح بیان کی ، وہ تیری کبریائی بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری کبریائی بیان کی ، وہ تیری حمد بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی ، تو ہمارا پروردگار یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اُن کے درمیان فلاں اور فلاں خطاکار شخص موجود تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ لوگ ( یعنی ذکر کرنے والے لوگ ) ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حماد کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16767

Majma al-Zawaid #16767

وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِ فَيَقُومُونَ حَتَّى يُقَالَ لَهُمْ: قُومُوا، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُتَوَكِّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالِدُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Suhayl ibn Ḥanẓalah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness and exchange of deeds to those who sit in remembrance and then rise. > **"No people sit in a gathering remembering Allah, mighty and majestic, therein and then rise except it is said to them: rise, for Allah has forgiven you and your evil deeds have been replaced with good deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہیل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کچھ لوگ کسی محفل میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، تو جب وہ اُٹھتے ہیں ، تو ان سے کہا جاتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے ، اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی متوکل بن عبدالرحمن ہے جو محمد بن ابوسری کا والد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16768

Majma al-Zawaid #16768

وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ لِلَّهِ سَرَايَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ تُجِلُّ اللَّهَ، وَتَقِفُ عَلَى مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْأَرْضِ فَارْتَعُوا فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ "". قَالُوا: وَأَيْنَ رِيَاضُ الْجَنَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَجَالِسُ الذِّكْرِ، فَاغْدُوَا وَرُوحُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ، وَاذْكُرُوهُ بِأَنْفُسِكُمْ، مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ الْعَبْدَ مِنْهُ حَيْثُ أَنْزَلُهُ مِنْ نَفْسِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُفْرَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed the people concerning angelic detachments at earthly remembrance gatherings, the identity of Paradise's meadows, and the measure of one's standing with Allah. > **"O people, Allah has detachments of angels who revere Allah and halt at the gatherings of remembrance on earth, so graze in the gardens of Paradise. Where are the gardens of Paradise, O Messenger of Allah? The gatherings of remembrance; go morning and evening in the remembrance of Allah and remember Him inwardly; whoever wishes to know his standing with Allah, let him look at Allah's standing with him, for Allah places the servant where he places Him from himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ کچھ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا احترام کرتے ہیں اور زمین میں ذکر کی محافل کے پاس ٹھہرتے ہیں ، تو تم لوگ جنت کے باغوں میں سے کچھ کھانے کے لئے حاصل کر لیا کرو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جنت کے باغات کہاں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ذکر کی محافل ، تم لوگ صبح و شام اللہ کا ذکر کیا کرو ، اور دل میں بھی اس کا ذکر کیا کرو ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ یہ بات جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی قدر و منزلت کیا ہے ؟ تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ اُس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے حوالے سے بندے کو اُسی مقام پر رکھتا ہے ، جیسے بندہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نزدیک سمجھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبدالله ہے جو عفرہ کا غلام ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، ان کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16769

Majma al-Zawaid #16769

وَعَنْ أَنَسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ لِلَّهِ سَيَّارَةً مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يَطْلُبُونَ حِلَقَ الذِّكْرِ، فَإِذَا أَتَوْا عَلَيْهِمْ وَحَفُّوا بِهِمْ، ثُمَّ بَعَثُوا رَائِدَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ إِلَى رَبِّ الْعِزَّةِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، أَتَيْنَا عَلَى عِبَادٍ مِنْ عِبَادِكَ يُعَظِّمُونَ آلَاءَكَ، وَيَتْلُونَ كِتَابَكَ، وَيُصَلُّونَ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَسْأَلُونَكَ لِآخِرَتِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ، فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي، فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ إِنَّمَا اعْتَنَقَهُمُ اعْتِنَاقًا! فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي ; فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، فَعَادَ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ the account of travelling angels enveloping remembrance circles, reporting their glorification, recitation, blessings upon the Prophet ﷺ and worldly and otherworldly supplication, and receiving a repeated command of mercy even for the brief erring visitor. > **"Our Lord, we came upon servants of Yours magnifying Your blessings, reciting Your Book, sending blessings upon Your Prophet Muḥammad ﷺ, and asking You for their Hereafter and world. Cover them with My mercy. O our Lord, among them is erring so-and-so who only embraced them briefly. Cover them with My mercy, for they are companions whose companion is never wretched."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ گھومنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں ، جو ذکر کے حلقوں کو تلاش کرتے ہیں ، جب وہ ان حلقوں کے پاس آتے ہیں ، تو انہیں ڈھانپ لیتے ہیں ، پھر وہ اپنے نمائندے کو آسمان کی طرف رب العزت کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کے پاس آئے ، جو تیری نعمتوں کی عظمتوں کا اعتراف کر رہے تھے ، اور تیری کتاب کی تلاوت کر رہے تھے ، اور تیرے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود بھیج رہے تھے ، اور وہ تجھ سے دنیا اور آخرت کا سوال کر رہے تھے ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم میری رحمت کے ذریعے انہیں ڈھانپ لو ! فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اُن کے درمیان فلاں گناہ گار شخص موجود تھا ، وہ ذرا سی دیر کے لیے اُن کے پاس آیا تھا ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم اُن لوگوں کو میری رحمت کے ذریعے ڈھانپ لو ! کیونکہ وہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے افراد ہیں کہ جن کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے زائدہ بن ابورقاد کے حوالے سے زیاد نمیری سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، تو یہ سند حسن ہو جاتی ہے ۔

16770

Majma al-Zawaid #16770

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ أَقْوَامًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي وُجُوهِهِمُ النُّورُ، عَلَى مَنَابِرِ اللُّؤْلُؤِ، يَغْبِطُهُمُ النَّاسُ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ "". قَالَ: فَجَثَا أَعْرَابِيٌّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلِّهِمْ لَنَا نَعْرِفْهُمْ. قَالَ: هُمُ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ، مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى، وَبِلَادٍ شَتَّى، يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ يَذْكُرُونَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold luminous peoples envied though neither prophets nor martyrs, and when a Bedouin knelt seeking their description, identified them by mutual love and remembrance. > **"Allah will raise peoples on the Day of Resurrection with light in their faces, upon pulpits of pearl, envied by people though neither prophets nor martyrs. Describe them for us. They are those who love one another for Allah, from diverse tribes and lands, gathering upon the remembrance of Allah and remembering Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا جن کے چہروں پر نور ہو گا اور وہ موتیوں کے بنے ہوئے منبروں پر موجود ہوں گے اور لوگ اُن پر رشک کر رہے ہوں گے ، وہ نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک دیہاتی شخص گھٹنوں کے بل جھک گیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے ! تاکہ ہم انہیں پہچان لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہوں گے ، جن کا تعلق مختلف قبائل سے اور مختلف علاقوں سے ہو گا اور وہ اللہ کے ذکر کی خاطر اکٹھے ہو کر اُس کا ذکر کرتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16771

Majma al-Zawaid #16771

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ - وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ - رِجَالٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْشَى بَيَاضُ وُجُوهِهِمْ نَظَرُ النَّاظِرِينَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟! قَالَ: "" هُمْ جِمَاعٌ مِنْ نَوَازِعِ الْقَبَائِلِ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ، فَيَنْتَقُونَ أَطَايِبَ الْكَلَامِ كَمَا يَنْتَقِي آكِلُ التَّمْرِ أَطَايِبَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe honoured men at the right of the Most Merciful, envied for seat and nearness, and upon inquiry traced their rank to remembrance gatherings and choice speech. > **"At the right of the Most Merciful, both of Whose Hands are right, will be men neither prophets nor martyrs, the whiteness of their faces overwhelming the beholder, envied by the prophets and martyrs for their seat and nearness to Allah, mighty and majestic. Who are they, O Messenger of Allah? They are groups from scattered tribes gathering upon the remembrance of Allah, selecting the choicest speech as the eater of dates selects the choicest thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( قیامت کے دن ) رحمان کے دائیں طرف ۔ ویسے اُس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ۔ ( اس کے دائیں طرف ) کچھ ایسے افراد ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، اُن کے چہرے کی چمک دیکھنے والوں کی نگاہ کو ڈھانپے ہوئے ہو گی ، انبیاء کرام اور شہداء اُن کے بیٹھنے کے مقام اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں گے ، جو اللہ کے ذکر کی خاطر اکٹھے ہوتے ہوں گے ، اور چن چن کر پاکیزہ باتیں یوں حاصل کریں گے جس طرح کھجور کھانے والا شخص ، عمدہ کھجوریں چن چن کر کھاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16772

Majma al-Zawaid #16772

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ جَمَاعَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَ: "" لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَتِهِنَّ إِلَّا عِنْدَ ذِكْرٍ، أَوْ جِنَازَةٍ، وَإِنَّمَا مَثَلُ جَمَاعَتِهِنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ كَمَثَلِ صَيْقَلٍ أَدْخَلَ حَدِيدَةً النَّارَ، فَلَمَّا أَحْرَقَهَا ضَرَبَهَا، فَأَحْرَقَ شَرَرُهَا كُلَّ شَيْءٍ أَصَابَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَادَةَ، وَيَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ, asked about women's gatherings, restricted their good to two occasions and warned of their assemblage with a parable of iron, fire and sparks. > **"There is no good in their gathering except for remembrance or a funeral; their gathering when assembled is like a polisher who puts iron into the fire, and when it burns he strikes it, so its sparks burn all they touch."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے خواتین کے اجتماع کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خواتین کے اجتماع میں بھلائی نہیں ہے ، البتہ ذکر ، یا جنازے کا معاملہ مختلف ہے ، اُن کے اجتماع کی مثال ، جب وہ اکٹھی ہوتی ہیں ، تو ان کے اجتماع کی مثال صیقل کی مانند ہے کہ جب لوہے کو آگ میں داخل کیا جاتا ہے ، اور جب وہ گرم ہو جاتا ہے ، تو اُس پر ضرب لگائی جاتی ہے ، تو اس کے شرارے ہر اس چیز کو جلا دیتے ہیں ، جسے وہ لگتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن اسحاق کے حوالے سے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16773

Majma al-Zawaid #16773

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ؟ قَالَ: "" غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ about the spoil of remembrance gatherings and received a doubled answer. > **"What is the spoil of the gatherings of remembrance? The spoil of the gatherings of remembrance is Paradise, Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ذکر کی محافل کی غنیمت کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ذکر کی محافل کی غنیمت ، جنت ہے ، جنت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کی سند حسن ہے ۔

16774

Majma al-Zawaid #16774

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَأٍ [مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ فِي مَلَأٍ] خَيْرٍ مِنْهُ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ» "". قَالَ قَتَادَةُ: وَاللَّهُ تَعَالَى أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ conveyed a divine address to the son of Adam on mutual remembrance and approaching, with Qatādah remarking on divine swiftness in forgiveness. > **"O son of Adam, if you remember Me within yourself I remember you within Myself; if you remember Me in a company I remember you in a company, among the angels or in a company, better than it; if you draw near Me a span I draw near you a cubit, if you draw near Me a cubit I draw near you a fathom, and if you come to Me walking I come to you hastening."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! اگر تم دل میں میرا ذکر کرو گے تو میں بھی تنہائی میں تمہارا ذکر کروں گا ، اور اگر تم گروہ میں میرا ذکر کرو گے تو میں فرشتوں کے گروہ میں تمہارا ذکر کروں گا ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ میں ایسے گروہ میں تمہارا ذکر کروں گا ، جو اس سے بہتر ہو گا ، اگر تم ایک بالشت میری طرف آؤ گے تو میں ایک ذراع ( یعنی کہنی سے لے کر درمیانی بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) تمہاری طرف آؤں گا اور اگر تم ایک ’’ ذراع ‘‘ میرے قریب ہو گے تو میں ایک باع ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ جتنی مقدار ) تمہارے قریب ہوؤں گا ، اگر تم چلتے ہوئے میری طرف آؤ گے تو میں دوڑتے ہوئے تمہاری طرف آؤں گا ۔‘‘ فتادہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ سب سے جلدی ( یعنی انتہائی جلدی ) مغفرت کرنے والا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16775

Majma al-Zawaid #16775

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَالَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: لَا يَذْكُرُنِي عَبْدٌ فِي نَفْسِهِ إِلَّا ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ مِنْ مَلَائِكَتِي، وَلَا يَذْكُرُنِي فِي مَلَأٍ إِلَّا ذَكَرْتُهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ conveyed a divine promise of reciprocal remembrance in angelic and highest company. > **"No servant remembers Me within himself except I remember him in a company of My angels, and none remembers Me in a company except I remember him in the Highest Companionship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالی فرماتا ہے : بندہ تنہائی میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں فرشتوں کے گروہ میں اُس کا ذکر کرتا ہوں اور جب بندہ گروہ میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ’’ رفیق اعلیٰ ‘‘ میں اُس کا ذکر کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16776

Majma al-Zawaid #16776

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: يَا ابْنَ آدَمَ، إِذَا ذَكَرْتَنِي خَالِيًا ذَكَرْتُكَ خَالِيًا، وَإِذَا ذَكَرْتَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنَ الَّذِينَ تَذْكُرُنِي فِيهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَقَدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet ﷺ a divine address to the son of Adam on solitary and communal remembrance and its superior return. > **"O son of Adam, when you remember Me alone I remember you alone, and when you remember Me in a company I remember you in a company better than those among whom you remember Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! جب تم تنہائی میں میرا ذکر کرتے ہو ، تو میں بھی اکیلے میں تمہارا ذکر کرتا ہوں ، اور جب تم گروہ میں میرا ذکر کرتے ہو ، تو میں اُن سے زیادہ بہتر گروہ میں تمہارا ذکر کرتا ہوں ، جن کے درمیان تم میرا ذکر کرتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف بشر بن معاذ عقدی کا معاملہ مختلف ہے اور ثقہ ہے ۔

16777

Majma al-Zawaid #16777

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَيَذْكُرَنَّ اللَّهَ قَوْمٌ عَلَى الْفُرُشِ الْمُمَهَّدَةِ يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّاتِ الْعُلَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold the admission of rememberers even from their beds to the highest Gardens. > **"Peoples will surely remember Allah upon well-spread beds, and He will admit them to the highest Gardens."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کچھ لوگ بچھے ہوئے بستروں پر اللہ کا ذکر کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں بلند جنتوں میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16778

Majma al-Zawaid #16778

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ) قَالَ: "" يُذْكَرُ اللَّهُ بِذِكْرِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet ﷺ an interpretation of the verse on the allies of Allah as those whose very mention evokes remembrance. > **"Allah is remembered by their mention."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( یعنی ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ خبردار ! بے شک اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن کا ذکر کرنے سے اللہ کا ذکر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

16779

Majma al-Zawaid #16779

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الرَّازِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that when a man asked the Messenger of Allah ﷺ about the allies of Allah, he defined them by the effect of their sight. > **"Who are the allies of Allah? Those who, when seen, Allah is remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کے ولی کون ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ کہ جب وہ دکھائی دیں تو اللہ کی یاد آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد علی بن حرب رازی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16780

Majma al-Zawaid #16780

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِذِكْرِ اللَّهِ، إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْقَاسِمِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ likened certain people to keys whose sight evokes remembrance. > **"Among people are keys to the remembrance of Allah; when they are seen, Allah is remembered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جو اللہ کے ذکر کی کنجی ہوتے ہیں ، جب وہ نظر آ جائیں تو اللہ تعالیٰ کی یاد آ جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قاسم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

16781

Majma al-Zawaid #16781

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مِنْ بُقْعَةٍ يُذْكَرُ اللَّهُ عَلَيْهَا بِصَلَاةٍ أَوْ بِذِكْرٍ إِلَّا اسْتَبْشَرَتْ بِذَلِكَ إِلَى مُنْتَهَاهَا إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ، وَفَخَرَتْ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْبِقَاعِ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ إِلَّا تَزَخْرَفَتْ لَهُ الْأَرْضُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the rejoicing and boasting of every spot where Allah is remembered, and the adornment of the earth for desert prayer. > **"No spot upon which Allah is remembered with prayer or remembrance fails to rejoice thereby down to its limit through seven earths, and to boast over the surrounding spots; and no servant stands in a desert land intending prayer except the earth is adorned for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین کے جس بھی حصے پر ، نماز یا ذکر کی صورت میں ، اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، تو اُس حصے سے لے کر ، ساتویں زمین تک ، اس حوالے سے بشارت حاصل کرتا ہے ، اور اپنے اردگرد موجود حصوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے ، اور جب کوئی بندہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگتا ہے ، تو زمین اُس کے لیے آراستہ ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16782

Majma al-Zawaid #16782

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مِنْ بُقْعَةٍ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهَا بِصَلَاةٍ إِلَّا فَخَرَتْ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْبِقَاعِ، وَاسْتَبْشَرَتْ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلَى مُنْتَهَاهَا إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the boasting and rejoicing of every spot where Allah is remembered in prayer. > **"No spot in which Allah is remembered with prayer fails to boast over the surrounding spots, and to rejoice for the remembrance of Allah down to its limit through seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین کے جس بھی حصے میں نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ حصہ اپنے اردگرد کے حصوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور وہاں سے لے کر ساتویں زمین تک ، اللہ تعالیٰ کے ذکر کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بکر بالسی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔