Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 48

Book of Virtues and Merits

Hadith 16170–16209

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16170

Majma al-Zawaid #16170

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: وُلِدْتُ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Hatib رضي الله عنه said he was born in the land of Abyssinia.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حبشہ کی سرزمین پر پیدا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کا ایک اور طریق حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

16171

Majma al-Zawaid #16171

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَتْ بِي أُمِّي مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حِينَ مَاتَ أَبِي حَاطِبٌ، فَجَاءَتْ أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَصَابَ إِحْدَى يَدَيْ حَرِيقٌ مِنْ نَارٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، ابْنُ أَخِيكَ، وَقَدْ أَصَابَهُ هَذَا الْحَرْقُ مِنَ النَّارِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ: فَلَا أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَدْرِي أَنَفَثَ أَمْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَفِي ذَرِّيَّتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Hatib رضي الله عنه said his mother brought him from Abyssinia after his father Hatib had died, and one of his hands had been burned by fire. His mother presented him to the Prophet ﷺ as the son of his brother. Muhammad said, without ascribing falsehood to the Messenger of Allah ﷺ, that he did not recall whether the Prophet ﷺ blew upon him or wiped his head, but he supplicated for blessing for him and his progeny.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ مجھے حبشہ کی سرزمین سے لے کر آئیں ، یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے والد حضرت حاطب رضی اللہ عنہ انتقال کر چکے تھے ، تو میری والدہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تھیں ، راستے میں میرا ہاتھ آگ کی وجہ سے جل گیا تھا ، میری والدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ محمد بن حاطب ہے ، آپ کا بھتیجا ہے ، اسے آگ سے جلنے کی تکلیف لاحق ہوئی ہے ، حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں حضرت محمد ﷺ کی طرف سے جھوٹی بات منسوب نہیں کروں گا ، مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دم کیا تھا ، یا میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ( ان میں سے کوئی ایک کام ہوا تھا ) اور پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے برکت کی دعا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث بن محمد بن حاطب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16172

Majma al-Zawaid #16172

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ -: إِنَّمَا نَعُدُّ الشَّرَفَ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ فَبَيَّتَ الْيُمْنُ الَّذِي فِي الصِّفَةِ عِبْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، وَفَارِسِهَا مِنْ زُبَيْدٍ: عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، وَشَاعِرِهَا: امْرِئِ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ، لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا. قُلْتُ: مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Salam, meaning al-Baykandi, said nobility was only counted as what existed shortly before the Prophet ﷺ, continued into his time, and remained in Islam. He mentioned the household of Yemen, Abd al-Uzza among Kinda namely al-Ash'ath ibn Qays, their horseman of Zubayd namely Amr ibn Ma'di Karib, and their poet Imru al-Qays of Kinda, about which there is no disagreement.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے کچھ پہلے سے لے کر ، نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس تک جس چیز کو شرف سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز اسلام میں بھی شامل ہوئی ، وہ یمن کا ایک گھرانہ ہے ، جو صفہ میں کندہ میں تھا ، حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے شہوار زبید سے تعلق رکھتے تھے ، عمرو بن معدیکرب ان کا شاعر تھا ، امرءالقیس کندہ سے تعلق رکھتا تھا ، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟

16173

Majma al-Zawaid #16173

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ كِنْدَةَ دَيْنٌ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ بِالْأَسْحَارِ، فَأَدْرَكَتْنِي صَلَاةُ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَضَعَ قُدَّامَ كُلِّ إِنْسَانٍ حُلَّةً وَنَعْلًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ [قَالَ: وَإِنْ كُنْتَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ]، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: قَدِمَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ مَكَّةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq said he had a debt upon a man of Kinda which he used to pursue in the early mornings, until Fajr prayer overtook him in the mosque of al-Ash'ath ibn Qays رضي الله عنه. After the imam gave salutation, a robe, a pair of sandals, and five hundred dirhams were placed before every man. When he said he was not of the mosque's people, he was still told to accept, and he was informed that al-Ash'ath had arrived from Makka.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے قرض لینا تھا ، میں سحری کے وقت اس کے پاس آتا جاتا رہا ، ایک دن میں فجر کی نماز کے بعد حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی مسجد میں موجود تھا ، میں نے نماز ادا کی ، جب امام نے سلام پھیرا ، تو حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ہر شخص کے آگے ایک لباس اور ایک جوتا اور پانچ سو درہم رکھوائے ، میں نے کہا : میں اس مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : اگرچہ تم مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہو ( پھر بھی اسے قبول کرو ) تو میں نے کہا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں ، جو مکہ سے آئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16174

Majma al-Zawaid #16174

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ بِالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أُشِيرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَطْلَقَ وَثَاقَهُ، وَزَوَّجَهُ أُخْتَهُ، فَاخْتَرَطَ سَيْفُهُ وَدَخَلَ سُوقَ الْإِبِلِ، فَجَعَلَ لَا يَرَى جَمَلًا وَلَا نَاقَةً إِلَّا عَرْقَبَهُ، وَصَاحَ النَّاسُ: كَفَرَ الْأَشْعَثُ، فَلَمَّا فَرَغَ طَرَحَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ، وَلَكِنْ زَوَّجَنِي هَذَا الرَّجُلُ أُخْتَهُ، وَلَوْ كُنَّا فِي بِلَادِنَا كَانَتْ لَنَا وَلِيمَةٌ غَيْرُ هَذِهِ، يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، انْحَرُوا وَكُلُوا، وَيَا أَهْلَ الْإِبِلِ، تَعَالَوْا خُذُوا شِرَاءَهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim said when al-Ash'ath ibn Qays رضي الله عنه was brought, counsel was given to Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه to release him from bonds and marry him to his sister. Al-Ash'ath then unsheathed his sword, entered the camel market, and hamstrung every camel he saw. People cried that al-Ash'ath had disbelieved, but when he finished he cast down his sword and swore he had not disbelieved; rather, the man had married him to his sister, and had they been in their own land the wedding feast would have been greater. He invited the people of Madina to slaughter and eat, and invited the camel owners to come and take their price.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جب حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا ، انہوں نے ان کی بندش کھولی اور اپنی بہن کے ساتھ ان کی شادی کروا دی ، حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونتی ، وہ اونٹوں کے بازار میں داخل ہوئے اور انہیں جو بھی اونٹ اور اونٹنی نظر آئے ، وہ اس کے پاؤں کاٹتے گئے ، لوگ بلند آواز میں کہنے لگے : حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کفر اختیار کر لیا ہے ، جب حضرت اشعث رضی اللہ عنہ اس بات سے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے اپنی تلوار رکھی اور بولے : اللہ کی قسم ! میں نے کفر نہیں کیا ہے ، بلکہ ان صاحب نے ( یعنی امیرالمؤمنین نے ) اپنی بہن کے ساتھ میری شادی کی ہے ، اگر ہم اپنے علاقے میں موجود ہوتے تو ہمارا ولیمہ اس سے زیادہ بڑا ہوتا ، اے اہل مدینہ ! تم ان سب جانوروں کو قربان کر کے ان کا گوشت کھاؤ ، اور اے اونٹوں والو ! تم آگے آؤ اور اپنا معاوضہ وصول کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16175

Majma al-Zawaid #16175

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَسُبُّوا وَرَقَةَ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ لَهُ جَنَّةً أَوْ جَنَّتَيْنِ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا، وَزَادَ فِي الْمُرْسَلِ: كَانَ بَيْنَ أَخِي وَرَقَةَ وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ، فَوَقَعَ الرَّجُلُ فِي وَرَقَةَ لِيُغْضِبَهُ.» وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ وَالْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A'isha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling Waraqa, for he had seen a garden or two gardens for him. > **"Do not revile Waraqa, for I have seen a garden or two gardens for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ورقہ کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے اس کے لئے ایک باغ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو باغ دیکھے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے متصل اور مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے مرسل روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میرے بھائی ورقہ اور ایک شخص کے درمیان کچھ کلام ہوا ، تو دوسرے شخص نے حضرت ورقہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، تاکہ اسے غضب کا شکار کرے ... باقی روایت حسب سابق ہے ، مسند اور مرسل روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16176

Majma al-Zawaid #16176

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، فَقَالَ: "" يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ "".» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ was asked about Waraqa ibn Nawfal and said he would be raised on the Day of Resurrection as a nation by himself. > **"He will be raised on the Day of Resurrection as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سے حضرت ورقہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16177

Majma al-Zawaid #16177

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ: هَلْ تَنْفَعُهُ نُبُوَّتُكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا "". وَسُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ - لِأَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَأَحْكَامِ الْقُرْآنِ - فَقَالَ: "" أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "". وَسُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، فَقَالَ: "" أَبْصَرْتُهُ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ سُنْدُسٌ "". وَسُئِلَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَقَالَ: "" يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَهَذَا مِمَّا مُدِحَ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abd Allah رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ was asked whether his prophethood would benefit his uncle Abu Talib, and said yes, he had brought him out from the depths of Hell to its shallow part. Asked about Khadija رضي الله عنها, since she died before the obligations and rulings of the Qur'an, he said he had seen her upon a river of Paradise in a house of pearl with neither clamour nor fatigue therein. Asked about Waraqa, he said he had seen him in the midst of Paradise wearing sundus. Asked about Zayd ibn Amr ibn Nufayl, he said he would be raised as a nation alone between him and Isa عليه السلام. > **"Yes, I brought him out from the depths of Hell to its shallow part."** > **"He will be raised on the Day of Resurrection as a nation alone, between me and Isa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے آپ کے چچا جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا آپ کی نبوت انہیں فائدہ پہنچائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے انہیں جہنم کے نچلے حصے سے نکال کے اس کے اوپری حصے تک پہنچا دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیونکہ وہ فرائض اور قرآن کے احکام نازل ہونے سے پہلے انتقال کر گئی تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اسے جنت کی نہر کے کنارے موجود ، موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے ، جس میں کوئی شور و شغب اور کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے فرمایا : میں نے اسے جنت کے درمیان میں دیکھا ہے اور اس کے جسم پر سندس کا لباس تھا ۔ نبی اکرم ﷺ سے زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ، جو اُمت میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جس کی حدیث کی تعریف کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16178

Majma al-Zawaid #16178

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، وَيَقُولُ: دِينِي دِينُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِلَهِي إِلَهُ إِبْرَاهِيمَ، وَكَانَ يُصَلِّي وَيَسْجُدُ؟ قَالَ: "" ذَاكَ أُمَّةٌ وَحْدَهُ، يُحْشَرُ بَيْنِي وَبَيْنَ يَدَيْ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ "". وَسُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَيَقُولُ: إِلَهِي إِلَهُ زَيْدٍ، وَدِينِي دِينُ زَيْدٍ، وَكَانَ يَتَوَجَّهُ وَيَقُولُ: رَشَّدْتَ فَأَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو فَإِنَّمَا ... تَجَنَّبْتَ تَنُّورًا مِنَ النَّارِ حَامِيًا بِدِينِكَ دِينًا لَيْسَ دِينٌ كَمِثْلِهِ ... وَتَرَكِكَ جِنَانَ الْجِبَالِ كَمَا هِيَا. قَالَ: "" رَأَيْتُهُ يَمْشِي فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ "". وَسُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ: "" رَأَيْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا تَعَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدٍ وَقَدْ وُثِّقَ، وَهَذَا مِنْ جِيِّدِ حَدِيثِهِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه said they asked the Messenger of Allah ﷺ about Zayd ibn Amr ibn Nufayl, who used to face the qibla, profess the religion of Ibrahim, pray and prostrate. The Prophet ﷺ said he was a nation alone to be gathered between him and Isa ibn Maryam. Asked about Waraqa ibn Nawfal, who likewise faced the qibla and spoke verses in praise of right guidance and abandonment of idols, the Prophet ﷺ said he had seen him walking in the midst of Paradise wearing a robe of sundus. Asked about Khadija رضي الله عنها, he said he had seen her upon a river of Paradise in a house of pearl with neither toil nor fatigue. > **"That one is a nation alone; he will be gathered between me and Isa ibn Maryam."** > **"I saw him walking in the midst of Paradise wearing a robe of sundus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے ، زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں دریافت کیا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے یہ کہتا تھا کہ میرا دین وہی ہے ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ، اور میرا معبود وہی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معبود ہے ، وہ نماز پڑھتا تھا اور سجدہ کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایک اُمت ہے ، جسے میرے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے درمیان ( اُمت ہونے کے طور پر ) زندہ کیا جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے یہ کہتا تھا : میرا معبود وہی ہے جو زید کا معبود ہے ، اور میرا دین وہی ہے ، جو زید کا دین ہے اور پھر وہ رُخ کر کے یہ اشعار کہتا تھا : ’’ تم نے سمجھداری حاصل کی ، اے ابن عمرو ! تم اچھے ہو ، تم نے بھڑکتی ہوئی آگ کے تنور سے علیحدگی اختیار کی ، اپنے دین کے ذریعے ، جو ایک ایسا دین ہے کہ کوئی دین اس کی مانند نہیں ہے ، اور تم نے پہاڑوں کے باغات کو ویسے ہی چھوڑ دیا جیسے وہ تھے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اسے جنت کے درمیان میں چلتے ہوئے دیکھا ہے ، اس پر سندس کا بنا ہوا حلہ موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺ سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے فرمایا : میں نے اسے جنت کی ایک نہر کے کنارے موجود موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے ، جس میں کوئی پریشانی اور کوئی تکلیف نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور یہ روایت اس کی نقل کردہ عمدہ احادیث میں سے ایک ہے ، جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

16179

Majma al-Zawaid #16179

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «خَرَجَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ وَزَيْدُ بْنُ عَمْرٍو يَطْلُبَانِ الدِّينَ، حَتَّى مَرَّا بِالشَّامِ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ، وَأَمَّا زَيْدٌ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْمَوْصِلَ، فَإِذَا هُوَ بِرَاهِبٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاحِلَةِ؟ قَالَ: مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: مَا تَطْلُبُ؟ قَالَ: الدِّينَ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّصْرَانِيَّةَ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، وَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا. قَالَ: أَمَا إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ سَيَظْهَرُ بِأَرْضِكَ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا ... تَعَبُّدًا وَرِقًّا الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْحَالْ ... وَهَلْ مُهَاجِرٌ كَمَا قَالْ عُذْتُ بِمَا عَاذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ [وَهُوَ قَائِمٌ، وَأَنْفَي لَكَ اللَّهُمَّ عَانَ، رَاغِمْ بِهَا تَجَشَّمَنِي، فَإِنِّي جَاشِمٌ]. ثُمَّ يَنْحَنِي فَيَسْجُدُ لِلْكَعْبَةِ. قَالَ: فَمَرَّ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ [لَهُمَا]، فَدَعَيَاهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ قَالَ: فَمَا رُئِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى بُعِثَ. قَالَ: وَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ زَيْدًا كَانَ كَمَا رَأَيْتَ أَوْ كَمَا بَلَغَكَ، فَاسْتَغْفِرْ لَهُ. قَالَ: "" نَعَمْ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه said Waraqa ibn Nawfal and Zayd ibn Amr went out seeking the true religion until they passed through Sham. Waraqa became Christian, while Zayd was told that what he sought lay ahead of him. He continued to al-Mawsil, where a monk questioned him, offered him Christianity which he refused, and told him that what he sought would appear in his own land. Zayd then proclaimed his devotion, declared refuge in what Ibrahim had sought refuge in, bowed, and prostrated toward the Ka'ba. Later Zayd ibn Amr passed by the Prophet ﷺ and Zayd ibn Haritha while they were eating from a tray, and they invited him, but he refused to eat what had been slaughtered upon idols. After that the Prophet ﷺ was never seen eating what had been slaughtered upon idols until he was commissioned. Sa'id then asked the Prophet ﷺ to seek forgiveness for Zayd, and the Prophet ﷺ commanded them to seek forgiveness for him, for he would be raised as a nation alone. > **"Yes; seek forgiveness for him, for he will be raised on the Day of Resurrection as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو ، دین کی تلاش میں نکلے ، ان دونوں کا گزر شام سے ہوا ، وہاں ورقہ نے عیسائیت اختیار کر لی ، زید سے یہ کہا گیا : آپ جو چیز تلاش کر رہے ہیں ، وہ آگے ہے ، وہ آگے روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ موصل پہنچ گئے ، وہاں ایک راہب موجود تھا ، اس نے دریافت کیا : یہ سواری والا شخص کہاں سے آیا ہے ؟ زید نے بتایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر کے پاس سے ، اس راہب نے دریافت کیا : تم کیا تلاش کر رہے ہو ؟ زید نے جواب دیا : دین ، راہب نے انہیں عیسائیت کی پیش کش کی ، تو زید نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہا : مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے ، راہب نے کہا : تم جو تلاش کر رہے ہو ، وہ عنقریب تمہاری سرزمین پر ظاہر ہو گا ، پھر وہ یہ کہتے ہوئے روانہ ہو گئے : ’’ میں حاضر ہوں ، حق کے لئے ، حق کے لئے ، عبادت گزاری کے لئے اور نرمی کے لئے ، میں نیکی تلاش کر رہا ہوں جو ابھی نہیں ملی ہے ، کیا کوئی مہاجر ہے ، جس طرح اس نے کہا ہے ، میں اس ذات کی پناہ مانگتا ہوں ، جس کی پناہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مانگی تھی ، جبکہ وہ قیام کی حالت میں تھے ۔‘‘ پھر وہ جھک گئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن عمرو ، نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے تھیلے میں سے کھانا نکال کر کھا رہے تھے ، ان دونوں نے اسے دعوت دی ، انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو کبھی کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کر دیا گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( میرے مرحوم والد ) زید ویسے ہی تھے ، جیسا کہ آپ نے انہیں خود ملاحظہ کیا ہے ، یا جس طرح آپ کو ان کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں ، تو آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ قیامت کے دن اُسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16180

Majma al-Zawaid #16180

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي لَا آكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ. قَالَ: فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ يَأْكُلُ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا قَدْ رَأَيْتَ وَبَلَغَكَ، وَلَوْ أَدْرَكَكَ آمَنَ بِكَ وَاتَّبَعَكَ ; فَاسْتَغْفِرْ لَهُ، قَالَ: "" نَعَمْ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ; فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه said the Messenger of Allah ﷺ was in Makka with Zayd ibn Haritha when Zayd ibn Amr ibn Nufayl passed by them, and they invited him to their tray. He refused to eat what had been slaughtered upon idols. Thereafter the Messenger of Allah ﷺ was never seen eating anything slaughtered upon idols. Sa'id then pleaded that his father would have believed and followed the Prophet ﷺ had he lived to meet him, and asked him to seek forgiveness for him. The Prophet ﷺ assented and commanded seeking forgiveness for him, for he would be raised as a nation alone. > **"Yes; seek forgiveness for him, for he will be raised on the Day of Resurrection as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود تھے ، اسی دوران زید بن عمرو بن نفیل ، ان کے پاس سے گزرے ان دونوں نے انہیں کھانے کی دعوت دی ، تو زید نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں اس جانور کو نہیں کھاتا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، جسے بت کے پاس ذبح کیا گیا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے والد ( یعنی زید بن عمرو بن نفیل ) ویسے تھے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ، اور جیسا کہ آپ کو اس بارے میں اطلاع ملی ، اگر وہ آپ کا زمانہ پا لیتے ، تو آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی پیروی کرتے ، تو آپ اُن کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ! کیونکہ اُسے قیامت کے دن ایک اُمت کے طور پر اٹھایا جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16181

Majma al-Zawaid #16181

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «سَأَلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: "" يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه said he and Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه asked the Messenger of Allah ﷺ about Zayd ibn Amr, and he said he would come on the Day of Resurrection as a nation alone. > **"He will come on the Day of Resurrection as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے زید بن عمرو کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ قیامت کے دن ایک اُمت کی شکل میں آئے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16182

Majma al-Zawaid #16182

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا حَارًّا مِنْ أَيَّامِ مَكَّةَ وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ، وَقَدْ ذَبَحْنَا لَهُ شَاةً فَأَنْضَجْنَاهَا. قَالَ: فَلَقِيَهُ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَحَيَّا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا زَيْدُ، مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنِفُوا لَكَ؟ "". قَالَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ ذَلِكَ لِغَيْرِ نَائِلَةٍ لِي مِنْهُمْ، وَلَكِنِّي خَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ فَدَكٍ، وَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ الشَّامِ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللَّهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ، قَلَّتُ: مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَبْتَغِي، فَقَالَ شَيْخٌ مِنْهُمْ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَعْبُدُ اللَّهَ بِهِ إِلَّا شَيْخًا بِالْحِيرَةِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ بَيْتِ اللَّهِ مَنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرْظِ، فَقَالَ: إِنَّ الدِّينَ الَّذِي تُطْلُبُ قَدْ ظَهَرَ بِبِلَادِكَ، قَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ قَدْ ظَهَرَ نَجْمُهُ، وَجَمِيعُ مَنْ رَأَيْتَهُمْ فِي ضَلَالٍ، فَلَمْ أُحِسَّ بِشَيْءٍ بَعْدُ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: وَقَرَّبَ إِلَيْهِ السُّفْرَةَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ: "" شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ "". فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِآكُلَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ: فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ [قَالَ: وَتَفَرَّقْنَا] فَطَافَ بِهِ وَأَنَا مَعَهُ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صَنَمَانِ مِنْ نُحَاسٍ، أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ: يَسَافُ، وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ: نَائِلَةُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا تَمَسَّحُوا بِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَمْسَحْهُمَا ; فَإِنَّهُمَا رِجْسٌ "". فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَأَمَسَّنَّهُمَا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَسْتُهُمَا "" يَا زَيْدُ، أَلَمْ تُنْهَ؟ "" وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُ يُبْعَثُ أُمَّةً وَحْدَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ: فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي خَرَجْتُ لَهُ، فَقَالَ: كُلُّ مَنْ رَأَيْتَ فِي ضَلَالٍ، وَإِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينِ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ، وَقَدْ خَرَجَ فِي أَرْضِكَ نَبِيٌّ أَوْ هُوَ خَارِجٌ، فَارْجِعْ فَصَدِّقْهُ وَآمِنْ بِهِ. وَقَالَ أَيْضًا: فَقَالَ زَيْدٌ: إِنِّي لَا آكُلُ شَيْئًا ذُبِحَ لِغَيْرِ اللَّهِ. وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى، وَالْبَزَّارِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Haritha رضي الله عنه said he went out with the Messenger of Allah ﷺ on a hot Makkan day, riding behind him toward one of the idols, after they had slaughtered a ewe and cooked it. They met Zayd ibn Amr ibn Nufayl, and each greeted the other with the greeting of Jahiliyya. The Prophet ﷺ asked why his people had turned against him. Zayd swore it was for no wrong of his, but because he had gone out seeking the true religion to the rabbis of Fadak and then Sham, found them associating partners with Allah, and was directed to a shaykh at al-Hira, who told him that the religion he sought had appeared in his own land with a prophet whose star had risen, while all others were in misguidance. When the tray was offered, Zayd asked what it was, was told it was a ewe slaughtered for an idol, and refused to eat what Allah's name had not been mentioned over. Zayd ibn Haritha added that the Prophet ﷺ then went to the House and circumambulated it with him, and forbade wiping the two brass idols Isaf and Na'ila between al-Safa and al-Marwa as filth. After Zayd ibn Amr died and revelation came to the Prophet ﷺ, the Prophet ﷺ said he would be raised as a nation alone. > **"O Zayd, why do I see your people turned against you?"** > **"Do not wipe them, for they are filth."** > **"He will be raised as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک گرم دن میں ، مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ باہر نکلا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، ہم ایک بت کی طرف گئے ، وہاں ہم نے ایک بکری ذبح کی اور پھر اسے پکایا ، راوی کہتے ہیں : زید بن عمرو بن نفیل کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق سلام دعا کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے زید ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ سے ناپسندیدگی کے جذبات رکھتی ہے ، تو زید نے کہا : اللہ کی قسم ! اے محمد ! میں نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، بلکہ میں دین حق کی تلاش میں نکلا تھا ، یہاں تک کہ میں فدک کے یہودی علماء کے پاس آیا ، تو میں نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی قرار دیتے ہیں ، میں نے کہا : یہ دین کیا ہے ؟ جس کی تلاش میں نکلا ہوں ، پھر میں نکلا ، یہاں تک کہ میں شام کے علماء کے پاس آیا ، میں نے انہیں پایا کہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک بھی ٹھہراتے ہیں ، میں نے کہا : یہ وہ دین نہیں ہے ، جس کی میں تلاش میں ہوں ، تو ان میں سے ایک بوڑھے نے کہا : تم جس دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، اس کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والا ہمارے علم کے مطابق صرف ایک شخص ہے ، جو حیرہ میں ہے ، میں وہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس آیا ، جب اس نے مجھے دیکھا ، تو اس نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے کہا : بیت اللہ کے پاس رہنے والوں سے ہے ، کانٹوں اور چمڑے میں رہنے والوں سے ہے ، تو اس نے کہا : وہ دین جو تم تلاش کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ظاہر ہو جائے گا ، ایک نبی مبعوث ہوں گے ، جن کا ستارہ ظاہر ہو گا اور تم نے جتنے بھی لوگوں کو دیکھا ہے وہ سب گمراہ ہیں ، اے محمد ! اس کے بعد میں نے کوئی چیز محسوس نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھانے کی چیز اس کے سامنے کی ، اس نے دریافت کیا : اے محمد ! یہ کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے بتایا : یہ ایک بکری ہے ، جسے ہم نے استھان پر ذبح کیا تھا ، تو اس نے کہا : میں ایسے جانور کا گوشت نہیں کھاتا ، جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ بیت اللہ کے پاس آئے ، ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اور آپ کے ساتھ ، میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کا چکر لگایا ، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس پیتل کے بنے ہوئے دو بت تھے ، اُن میں سے ایک کا نام یساف تھا اور دوسرے کا نام نائلہ تھا ، مشرکین جب چکر لگاتے تھے ، تو ان دونوں پر ہاتھ پھیرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان دونوں پر ہاتھ نہ پھیرنا ، کیونکہ یہ دونوں ناپاک ہیں ، میں نے دل میں سوچا کہ میں ان دونوں پر ضرورت ہاتھ لگاؤں گا تاکہ میں اس بات کا جائزہ لوں کہ نبی اکرم ﷺ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے ان دونوں پر ہاتھ پھیر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے زید ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : زید بن عمرو کہتے ہیں : میں نے اس راہب کو اس چیز کے بارے میں بتایا جس مقصد کے لئے میں نکلا تھا ، تو اس نے مجھ سے کہا : تم نے جتنے لوگوں کو دیکھا ہے ، وہ سب گمراہ ہیں ، تم اللہ کے دین اور فرشتوں کے دین کے بارے میں دریافت کر رہے ہو ، تمہارے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہو گا ، یا ظہور ہو چکا ہو گا ، تم واپس جاؤ اور ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان لانا ۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : زید نے کہا : میں ایسی کوئی چیز نہیں کھاؤں گا ، جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔ امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

16183

Majma al-Zawaid #16183

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: كَانَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، وَيَلْزَقُ ظَهْرَهُ إِلَى صَفْحَتِهَا، وَيَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا [أَجِدُ] عَلَى الْأَرْضِ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي [وَكَانَ تَرَكَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ، وَأَكْلَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ]، وَكَانَ يَفْدِي الْمَوْءُودَةَ أَنْ تُقْتَلَ، وَقَالَ عَمْرُو [بْنُ زَيْدِ] بْنِ نُفَيْلٍ: عُزِلَتِ الْجِنُّ وَالْجَنَانُ عَنِّي ... كَذَلِكَ يَفْعَلُ الْجَلِدُ الصَّبُورُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها said Zayd ibn Amr ibn Nufayl in Jahiliyya used to stand at the Ka'ba, lean his back against its wall, and declare that none upon the earth followed the religion of Ibrahim but himself. He had abandoned idol worship and eating what was slaughtered upon idols, and used to ransom infant girls lest they be killed by burial.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زید بن عمرو بن نفیل ، زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوتے تھے ، وہ اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگا دیتے تھے اور یہ کہتے تھے : اے قریش کے گروہ ! مجھے اپنے علاوہ روئے زمین پر دین ابراہیم کی پیروی کرنے والا اور کوئی فرد نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے بتوں کی عبادت ترک کر دی تھی اور بتوں کے پاس جو جانور ذبح ہوتے تھے ، انہیں کھانا ترک کر دیا تھا ، جس بچی کو زندہ گاڑا جاتا تھا ، وہ فدیہ دے کر اسے قتل سے بچا لیتے تھے ، عمرو بن زید بن نفیل نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ میں نے جن اور جنان کو اپنے سے الگ کر دیا ، مضبوط اور صبر کرنے والا فرد ایسا ہی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16184

Majma al-Zawaid #16184

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّكُمْ يَعْرِفُ الْقُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ؟ "". فَقَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعْرِفُهُ قَالَ: "" فَمَا فَعَلَ؟ "". قَالُوا: هَلَكَ قَالَ: "" مَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اجْتَمِعُوا وَاسْمَعُوا وَعُوا، مَنْ عَاشَ مَاتَ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا، وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا، مِهَادٌ مَوْضُوعٌ، وَسَقْفٌ مَرْفُوعٌ، وَنُجُومٌ تَمُورُ، وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ، أَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا، لَئِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ رِضًا لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطٌ، إِنَّ لِلَّهِ دِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دِينِكُمُ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ، مَا لِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ فَلَا يَرْجِعُونَ، أَرَضَوْا بِالْمُقَامِ فَأَقَامُوا؟ أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا؟ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفِيكُمُ مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ؟. "". فَأَنْشَدَهُ بَعْضُهُمْ: فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِينَ ... مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ... لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ... يَسْعَى الْأَصَاغِرُ وَالْأَكَابِرْ لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيْكَ ... وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ... حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said a delegation of Abd al-Qays came to the Messenger of Allah ﷺ, who asked which of them knew Quss ibn Sa'ida al-Iyadi. They all knew him, and said he had perished. The Prophet ﷺ said he remembered him at Ukaz in the sacred month upon a red camel, addressing the people and calling them to gather, hear, and heed: that whoever lives dies, whoever dies passes, and all that is coming will come; that in the heaven is tidings and in the earth are lessons, a bed laid out, a roof raised, stars moving, and seas that do not recede. Quss swore a true oath that if there is contentment on earth there will be displeasure after it, and that Allah has a religion more beloved to Him than theirs. He wondered at people who depart and do not return, whether they were content to remain or left to sleep. The Prophet ﷺ then asked if any of them could recite his poetry, and one of them recited verses on the lessons of past generations, the watering-places of death with no return, and certainty of following where the people had gone. > **"O people, gather, hear and heed: whoever lives dies, whoever dies passes, and all that is coming will come."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کون قس بن ساعدہ ایادی کو جانتا ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم سب ان کو جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ فوت ہو گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اسے بھولا نہیں ہوں ، میں حرمت والے مہینے میں اسے عکاظ کے میلے میں ملا تھا ، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا اور وہ لوگوں کو خطبہ دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : ’’ اے لوگو ! اکٹھے ہو جاؤ ، بات کو سنو اور اسے محفوظ رکھو ، جو شخص زندہ رہتا ہے ، وہ مر بھی جاتا ہے ، اور جو مر جاتا ہے ، وہ فوت ہو جاتا ہے ، جو چیز آنی ہے ، وہ آ کے رہنی ہے ، آسمان میں خبر ہے ، اور زمین میں عبرت کی چیزیں ہیں ، ایک بچھونا بچھا دیا گیا ہے اور ایک چھت بلند کر دی گئی ہے ، اور ستارے چمک رہے ہیں ، اور سمندر طغیانی میں ہیں ، قس سچی قسم اٹھاتا ہے کہ زمین میں اگر کسی کے ساتھ رضامندی ہو گی تو اس کے بعد ناراضگی بھی ہو گی ، اور اللہ تعالیٰ کا ایک مخصوص دین ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے دین سے زیادہ پسندیدہ ہے ، جس دین پر تم گامزن ہو ، کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ چلے جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آتے ہیں ، کیا وہ اس مقام سے راضی ہو گئے ہیں اور وہاں ٹھہر گئے ہیں ؟ یا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ سو گئے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے ؟ جو اس کے اشعار سنائے ، تو ان لوگوں میں سے کسی نے ان کے یہ اشعار سنائے : ’’ پہلے کی صدیوں میں گزر جانے والے افراد میں ، ہمارے لیے بصیرت ہے ، جب میں نے موت کے گھاٹوں کو دیکھا ، تو میں نے موت سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں پایا ، اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے ( سب ) اسی ( موت ) کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ، گزرا ہوا ( وقت ، یا فرد ) تمہاری طرف واپس نہیں آئے گا ، اور باقی رہ جانے والوں میں سے کوئی ( ہمیشہ ، دنیا میں ) ٹھہرا نہیں رہے گا ، تو ( یہ سب دیکھ کر مجھے یقین آ گیا ) کہ میں نے بھی وہیں جانا ہے جہاں قوم ( یعنی باقی سب لوگ گئے ہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16185

Majma al-Zawaid #16185

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنْ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said their brother the Negus had died, and commanded seeking forgiveness for him. > **"Your brother the Negus has died, so seek forgiveness for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے ، تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

16186

Majma al-Zawaid #16186

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «لَمَّا أَتَيْنَا النَّجَاشِيَّ فَأَرَدْنَا الْخُرُوجَ مِنْ عِنْدِهِ، حَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُوا صَاحِبَكُمْ بِمَا صَنَعْتُ بِكُمْ، وَهَذِهِ رُسُلِي مَعَكُمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي. قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي، وَقَالَ: "" مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ "". ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ: هَذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ عَمَّا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا، فَقَالَ جَعْفَرٌ: قَدْ فَعَلَ بِنَا، وَحَمَلَنَا، وَزَوَّدَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ لَنَا: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرُ لِي، فَدَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ "". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: آمِينَ قَالَ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ فَأَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُمَا غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ja'far ibn Abi Talib رضي الله عنه said when they prepared to leave the Negus, he provided them mounts and provisions and gifts, and asked them to inform their master of his treatment, sending his envoys with them while testifying that there is no god but Allah and that he is the Messenger of Allah ﷺ, and asking that he seek forgiveness for him. Ja'far said they left until they reached Madina, where the Prophet ﷺ met him, embraced him, and said he did not know whether he rejoiced more at the conquest of Khaybar or the arrival of Ja'far. The Negus's envoy then asked Ja'far to describe his master's conduct, and Ja'far affirmed his provision and his testimony. The Prophet ﷺ supplicated three times for Allah to forgive the Negus, and the Muslims said Amin. Ja'far then told the envoy to convey to his master what he had seen of the Prophet ﷺ. > **"I do not know whether I rejoice more at the conquest of Khaybar or at the arrival of Ja'far."** > **"O Allah, forgive the Negus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نجاشی کے پاس آئے ، پھر ہم نے واپسی کا ارادہ کیا ، تو اس نے ہمیں سواریاں فراہم کیں اور ہمیں زادراہ دیا اور ہمیں دوسری چیزیں دیں اور پھر بولا : میں نے تم لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ، تم اس کے بارے میں اپنے آقا کو بتا دینا ، یہ نمائندے تمہارے ساتھ ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم اُن سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اس کے پاس سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے ، نبی اکرم ﷺ کی جب مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے یا جعفر کے آنے کی ؟ پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا ، اس نے کہا : یہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا طرز سلوک اختیار کیا ہے ؟ تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : اُس نے ہمارے ساتھ یہ ، یہ کیا ہے ، اس نے ہمیں سواریوں کے جانور دیے ، ہمیں زاد سفر دیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور اس نے یہ کہا کہ آپ ان سے یہ کہہ دیجئے گا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ دعا کی : اے اللہ ! نجاشی کی مغفرت کر دے ! اور مسلمانوں نے اس پر آمین کہا ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا : اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو وہ چیز بتا دینا ، جو تم نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے دیکھی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عمرو اور ایک راوی مجالد بن سعید ہیں ، ایک سے زیادہ افراد نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16187

Majma al-Zawaid #16187

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: "" {وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ} [المائدة: 83] "". قَالَ: نَزَلَتْ فِي النَّجَاشِيِّ وَأَصْحَابِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abd Allah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said the verse concerning eyes overflowing with tears upon hearing what was sent down to the Messenger was revealed about the Negus and his companions. > **"When they hear what has been sent down to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جب ان لوگوں نے وہ چیز سنی ، جو رسول کی طرف نازل کی گئی تھی ، تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ اُن سے آنسو جاری ہو گئے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن بحر عقیلی کا عامل مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16188

Majma al-Zawaid #16188

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ "". فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: يَأْمُرُنَا أَنْ نَسْتَغْفِرَ لَهُ وَقَدْ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَنَزَلَتْ: "" {وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ} [آل عمران: 199] "" الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، أَحَدُهُمَا قَالَ فِيهِ: "" صَلُّوا عَلَيْهِ "". وَقَدْ تَقَدَّمَتْ فِي الْجَنَائِزِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَفِي هَذِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ. وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said when the Negus died the Prophet ﷺ commanded seeking forgiveness for their brother, whereupon some people objected to seeking forgiveness for one who had died in Abyssinia. Then the verse concerning those among the People of the Book who believe in Allah and what was sent down was revealed. > **"Seek forgiveness for your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو ! بعض لوگوں نے کہا : یہ ہمیں اس کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا کہہ رہے ہیں حالانکہ وہ حبشہ کی سرزمین پر فوت ہوا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس چیز پر ایمان لاتے ہیں ، جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو اسناد میں سے ایک میں انہوں نے یہ کہا ہے : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے لئے دعائے رحمت کرو ۔ اس سے پہلے کتاب الجنائز میں ، غائبہ نماز سے متعلق باب میں ، روایت گزر چکی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الجنائز میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔

16189

Majma al-Zawaid #16189

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطِّلِ قَالَ: «خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ، فَلَمْ تَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ ; فَأَخْرَجَ رَجُلٌ لَهَا خِرْقَةً مِنْ عَيْبَتِهِ، فَلَفَّهَا فِيهَا وَدَفَنَهَا، وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا مَكَّةَ فَإِنَّا بِالْمَسْجِدَ الْحَرَامِ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا شَخْصٌ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ؟ فَقُلْنَا: مَا نَعْرِفُهُ. فَقَالَ لَنَا: أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجِنَانِ؟ قُلْنَا: هَذَا. قَالُوا: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْ آخِرِ التِّسْعَةِ مَوْتًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Safwan ibn al-Mu'attal رضي الله عنه said while they were on pilgrimage at al-Arj they saw a serpent writhing which soon died. A man took a cloth from his bag, wrapped it, dug for it in the earth, and buried it. When they reached Makka in the Sacred Mosque, a person asked which of them was Amr ibn Jabir, then which of them was the companion of the serpent. When identified, they thanked him and said he had been among the last to die of the nine who had come to the Messenger of Allah ﷺ to listen to the Qur'an.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کرنے کے لئے روانہ ہوئے ، جب ہم ’’ عرج ‘‘ کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں ایک سانپ چلتا ہوا نظر آیا ، تھوڑی ہی دیر میں وہ مر گیا ، پھر ایک شخص نکلا ، جس نے اپنے تھیلے میں سے لباس نکالا ، اس نے اسے لپیٹا اور اسے دفن کر دیا اور اس کے لئے زمین کو چیرا ، جب ہم مکہ آئے تو میں مسجد حرام میں موجود تھا ، اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آ کے ٹھہرا ، اس نے دریافت کیا : تم میں سے عمرو بن جابر کون ہے ؟ ہم نے کہا : ہم تو اس سے واقف نہیں ہیں ، اس نے ہم سے دریافت کیا : تم میں سے کون جنّ ہے ؟ ہم نے کہا : یہ ہے ، تو لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے ، وہ ان نو افراد میں سے آخری فرد تھا ، جس کا سب سے آخر میں انتقال ہوا ، یہ وہ لوگ تھے ، جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے غور سے قرآن سنا تھا ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد اور طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان عبدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16190

Majma al-Zawaid #16190

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مُخَضْرَمٌ، وَاسْمُهُ: صَخْرُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ [عُبَادَةَ بْنِ نَزَالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ] مَنَاةَ بْنِ تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that al-Ahnaf ibn Qays was a mukhadram, and his name was Sakhr ibn Qays ibn Mu'awiya ibn Husayn ibn Ubada ibn Nazzal ibn Murra ibn Ubayd ibn al-Harith ibn Amr ibn Sa'd ibn Zayd Manat ibn Tamim ibn Murra.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ احنف بن قیس ہے ، جنہیں ’’ مخضرم ‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہے ( یعنی انہوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں پائے ہیں ) ان کا نام صخر بن قیس بن معاویہ بن حصین بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن حارث بن عمرو بن سعد بن زید مناة بن تمیم بن مرہ ہے ۔

16191

Majma al-Zawaid #16191

عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ [إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: تَذْكُرْ] إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِكَ مِنْ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقُلْتُ: إِيهِ وَاللَّهِ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، أَوْ لَا أَسْمَعُ إِلَّا حَسَنًا، فَإِنِّي رَجَعْتُ وَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَتَكَ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ "". قَالَ: فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّي لَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ahnaf ibn Qays said while he was circumambulating the House a man of Banu Sulaym met him and offered glad tidings, recalling when the Messenger of Allah ﷺ had sent him to his people of Banu Sa'd to call them to Islam. Al-Ahnaf affirmed that he had spoken only good, and when the messenger returned and informed the Prophet ﷺ of his words, the Prophet ﷺ supplicated for Allah to forgive al-Ahnaf. Al-Ahnaf said he had no greater hope than in that supplication. > **"O Allah, forgive al-Ahnaf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، اسی دوران بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا : کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اس نے کہا : تم یہ ذکر رہے تھے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دوں ، تو میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے صرف بھلائی کی بات کہی تھی ، یا میں نے صرف اچھی بات سنی تھی ، اگر میں واپس آ گیا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو تمہاری بات کے بارے میں بتایا ، تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! احنف کی مغفرت کر دے ، حضرت احنف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو مجھے اس ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی دعا ) سے زیادہ اور کسی چیز کے بارے میں امید نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

16192

Majma al-Zawaid #16192

عَنْ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ حَجَرِ بْنِ رِيَابِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ سُوَاةَ بْنِ عَامِرٍ، وَكُنْيَةُ جَابِرٍ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأُمُّ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ خَلْدَةُ بِنْتُ أَبِي وَقَّاصٍ، أُخْتُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَجُنَادَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Junada ibn Salm said Jabir was Jabir ibn Samura ibn Junada ibn Jundub ibn Hajar ibn Ri'ab ibn Habib ibn Suwawa ibn Amir, his kunya was Abu Abd Allah, and the mother of Jabir ibn Samura was Khalda bint Abi Waqqas, sister of Sa'd ibn Abi Waqqas رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جنادہ بن سلم بیان کرتے ہیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن سمرہ بن جنادہ بن جندب بن حجر بن رئاب بن حبيب بن سواة بن عامر ہیں ، ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ، خلدہ بنت ابووقاص ہیں ، جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، جنادہ نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16193

Majma al-Zawaid #16193

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ أَحَدَ بَنِي عَبْسٍ، وَكَانَ عِدَادُهُ فِي الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri stated that Hudhayfa رضي الله عنه was of Banu Abs, though his number was among the Ansar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو عبس سے تھا اور ان کا شمار انصار میں ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16194

Majma al-Zawaid #16194

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ [أَبِي] قَيْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ .

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that Huwaytib was Huwaytib ibn Abd al-Uzza ibn Abi Qays ibn Abd Wudd ibn Nasr ibn Malik ibn Hisl ibn Amir ibn Lu'ayy ibn Ghalib ibn Fihr ibn Malik.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت حویطب رضی اللہ عنہ بن عبدالعزیٰ بن ابوقيس بن عبد بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ۔

16195

Majma al-Zawaid #16195

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْحَكْمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ كَانَ يَنْزِلُ الْبَصْرَةَ، وَهُوَ الْحَكْمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُجَدَّعِ بْنِ حُذَيْمِ بْنِ حُلْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُلَيْلِ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that al-Hakam ibn Amr al-Ghifari رضي الله عنه settled in Basra, and he was al-Hakam ibn Amr ibn Mujadda' ibn Hudhaym ibn Hilwan ibn al-Harith ibn Tha'laba ibn Mulayl ibn Damra ibn Bakr ibn Manat ibn Kinana.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ ، انہوں نے بصرہ میں رہائش اختیار کی تھی ۔ یہ حضرت حکم رضی اللہ عنہ بن عمرو بن مجدع بن حذيم بن حلوان بن حارث بن ثعلبہ بن مليل بن ضمرہ بن بکر بن مناة بن کنانہ ہیں ۔

16196

Majma al-Zawaid #16196

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْحَارِثُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَخْزُومٍ يُكَنَّى: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأُمُّهُ: أَسْمَاءُ بِنْتُ مَخْرَمَةَ [بْنِ جَنْدَلِ] بْنِ أَيْبَرَ بْنِ نَهْشَلِ بْنِ دَارِمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ تَمِيمٍ، أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَكَانَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ، وَتُوُفِّيَ سَنَةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ بِالشَّامِ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that al-Harith ibn Hisham ibn al-Mughira ibn Abd Allah ibn Makhzum رضي الله عنه had the kunya Abu Abd al-Rahman, his mother was Asma bint Makhrama, he accepted Islam on the day of the Conquest, was of the Mu'allafa, and died in Sham in the year eighteen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے ، ان کی والدہ اسماء بنت مخرمہ بن جندل بن ایبر بن نہشل بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زيد مناة بن تمیم ہیں ، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا ، یہ مؤلفۃ القلوب میں سے ہیں ، ان کا انتقال اٹھارہ ہجری میں شام میں ہوا ۔

16197

Majma al-Zawaid #16197

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شَيْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، وَأُمُّهُ فِهْرِيَّةٌ، يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ يُدْعَى حَبِيبُ الرُّومِ لِمُجَاهَدَتِهِ الرُّومَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that Habib was Habib ibn Maslama ibn Malik ibn Wuhayb ibn Amr ibn Shayban ibn Muharib ibn Fihr ibn Malik, his mother was Fihriyya, his kunya was Abu Abd al-Rahman, and he was called Habib of the Romans for his striving against the Romans.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت حبیب رضی اللہ عنہ بن مسلمہ بن مالک بن وہیب بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک ، ان کی والدہ بھی فہریہ ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے ، انہیں ” حبیب الروم ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے روم میں جہاد میں بھرپور حصہ لیا تھا ۔

16198

Majma al-Zawaid #16198

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَدِيِّ بْنِ وَائِلِ بْنِ مُنَبِّهِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ [بْنِ سَلْمَى بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ] بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ جُشَمَ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَسَّانَ بْنِ الْأَزْدِ بْنِ الْغَوْثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ كَهْلَانَ بْنِ سَبَأِ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ يَعْرُبَ بْنِ قَحْطَانَ بْنِ هُودٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that Khuzayma was Khuzayma ibn Thabit ibn al-Fakih ibn Amr ibn Adi ibn Wa'il ibn Munabbih ibn Imri al-Qays ibn Salma ibn Habib ibn Adi ibn Tha'laba ibn Imri al-Qays ibn Alqama ibn Mu'awiya ibn Jusham ibn Malik ibn al-Aws ibn Haritha ibn Tha'laba ibn Amr ibn Amir ibn Haritha ibn Tha'laba ibn Ghassan ibn al-Azd ibn al-Ghawth ibn Malik ibn Zayd ibn Kahlan ibn Saba ibn Yashjub ibn Ya'rub ibn Qahtan ibn Hud عليه السلام.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بن ثابت بن فاکہہ بن عمرو بن عدی بن وائل بن منبہ بن امراء القیس بن سلمی بن حبیب بن عدی بن ثعلبہ بن امراء القیس بن علقمہ بن معاویہ بن جشم بن مالک بن اوس بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عامر بن حارثہ بن ثعلبہ بن غسان بن ازد بن غوث بن مالک بن زید بن کہلان بن سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان بن ہود ۔

16199

Majma al-Zawaid #16199

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخُو عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لِأَبِيهِ، وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ubayda Ma'mar ibn al-Muthanna said Zayd ibn al-Khattab رضي الله عنه was the paternal brother of Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه, and was older than Umar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے باپ کی طرف سے شریک بھائی تھے اور یہ عمر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوعبیدہ تک اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

16200

Majma al-Zawaid #16200

وَبِسَنَدِهِ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أُمُّ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ: أَسْمَاءُ بِنْتُ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ نَصْرِ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ..

EnglishUnverified translation

With the same chain he also said the mother of Zayd ibn al-Khattab رضي الله عنه was Asma bint Habib ibn Wahb ibn Amr ibn Umayr ibn Nasr ibn Asad ibn Khuzayma.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام اسماء بنت حبیب بن وہب بن عمرو بن عمیر بن نصر بن اسد بن خزیمہ تھا ۔

16201

Majma al-Zawaid #16201

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: أَبُو طَلْحَةَ: زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq said Abu Talha رضي الله عنه was Zayd ibn Sahl ibn al-Aswad ibn Haram ibn Amr ibn Zayd Manat ibn Adi ibn Amr ibn Malik ibn al-Najjar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن علی بن عمرو بن مالک بن نجار ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16202

Majma al-Zawaid #16202

وَعَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ: سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ ذَلِكَ عَنْ بَعْضِ وَلَدِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Numayr said Abu Talha Zayd ibn Sahl رضي الله عنه reported that he heard Ibn Idris say that on the authority of one of his descendants.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن نمیر بیان کرتے ہیں حضرت ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ میں نے ابن ادریس کو ان کی اولاد میں سے کسی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

16203

Majma al-Zawaid #16203

وَعَنْ شَبَابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ: سَعْدُ بْنُ الْأَطْوَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَاهِبِ بْنِ عَتَّابِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سَعْدِ بْنِ صَغِيرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَوْفِ بْنِ غَطَفَانَ بْنِ قَيْسِ بْنِ جُهَيْنَةَ بْنِ زَيْدٍ مِنْ سَاكِنِي الْبَصْرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Shabab al-Usfuri said Sa'd ibn al-Atwal was Sa'd ibn al-Atwal ibn Abd Allah ibn Khalid ibn Wahib ibn Attab ibn Malik ibn Sa'd ibn Saghir ibn Adi ibn Awf ibn Ghatfan ibn Qays ibn Juhayna ibn Zayd, of the residents of Basra.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب عصفری بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن اطول بن عبداللہ بن خالد بن واہب بن عتاب بن مالک بن سعد بن صغير بن عدی بن عوف بن غطفان بن قیس بن جہینہ بن زید ، یہ بصرہ کے رہنے والوں میں سے ایک تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

16204

Majma al-Zawaid #16204

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: سُهَيْلُ بْنُ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ أُهَيْبِ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، وَبَيْضَاءُ أُمُّهُ، وَاسْمُهَا: دَعْدُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ جَحْدَمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ. رَوَاهُ بِسَنَدٍ جَيِّدٍ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that Suhayl was Suhayl ibn Wahb ibn Rabi'a ibn Hilal ibn Uhayb ibn Dabba ibn al-Harith ibn Fihr, his mother was al-Bayda, whose name was Da'd bint Asad ibn Jahdam ibn Umayya ibn al-Harith ibn Fihr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی فرماتے ہیں : حضرت سہیل رضی اللہ عنہ بن وہب بن ربیعہ بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر ، ان کی والدہ کا نام بیضاء تھا ، ان کا اصل نام دعد بنت اسد بن جحدم بن امیہ بن حارث بن فہر تھا ۔ یہ روایت انہوں نے ابن اسحاق تک عمدہ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

16205

Majma al-Zawaid #16205

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ: قَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ [وَهُوَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ] [بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْغَوْثِ].

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Bukayr said Shurahbil ibn Hasana رضي الله عنه was Shurahbil ibn Hasana ibn Abd Allah ibn Amr, a man of al-Ghawth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ ، یہ حضرت شرحبیل بن حسنہ بن عبداللہ بن عمرو ہیں ، اور یہ غوث سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں ۔

16206

Majma al-Zawaid #16206

وَقَالَ ابْنُ الْكَلْبِيِّ: شَرَحْبِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْغِطْرِيفِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ جَثَّامَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ مُلَادِمِ بْنِ مَالِكٍ رُهْمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ يَشْكُرَ بْنِ مُبَشِّرِ بْنِ الْغَوْثِ بْنِ مُرَاخِي [تَمَيمِ بْنِ مُرٍّ، وَيُقَالُ إِنَّهُ مِنْ كِنْدَةَ].

EnglishUnverified translation

Ibn al-Kalbi said Shurahbil was Shurahbil ibn Abd Allah ibn al-Muta' ibn Abd Allah ibn al-Ghitrif ibn Abd al-Uzza ibn Juthama ibn Malik ibn Muladim ibn Malik Ruhm ibn Sa'd ibn Yashkur ibn Mubashshir ibn al-Ghawth ibn Murakhi of Tamim ibn Murr, and it is said he was of Kinda.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

این کلبی بیان کرتے ہیں : حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ بن عبدالله بن مطاع بن عبدالله بن غطریف بن عبدالعزیٰ بن جثامہ بن مالک بن ملادم بن مالک بن رہم بن سعد بن یشکر بن مبشر بن غوث بن مراخی ، تمیم بن مر اور ایک قول کے مطابق ان کا تعلق کندہ سے ہے ۔

16207

Majma al-Zawaid #16207

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مُخَضْرَمٌ، وَاسْمُهُ: صَخْرُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ [عُبَادَةَ بْنِ نَزَالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ] مَنَاةَ بْنِ تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عَمْرٍو ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani stated that al-Ahnaf ibn Qays was a mukhadram, and his name was Sakhr ibn Qays ibn Mu'awiya ibn Husayn ibn Ubada ibn Nazzal ibn Murra ibn Ubayd ibn al-Harith ibn Amr ibn Sa'd ibn Zayd Manat ibn Tamim ibn Murra ibn Amr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ یہ ’’ مخضرم ‘‘ ہیں ، ان کا نام صخر بن قیس بن معاویہ بن حصین بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن حارث بن عمرو بن سعد بن زيد مناة بن تمیم بن مرہ بن عمرو ہے ۔

16208

Majma al-Zawaid #16208

وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ الصُّدَيَّ بْنَ عَجْلَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Shurahbil ibn Muslim said he heard Abu Umama al-Bahili رضي الله عنه, who was Sudayy ibn Ajlan ibn Amr ibn Wahb.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ باہلی صدی بن عجلان بن عمرو بن وہب کو بیان کرتے ہوئے سنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16209

Majma al-Zawaid #16209

وَعَنِ الْأَصْمَعِيِّ قَالَ: أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ: صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ مِنْ حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو سَهْمِ بْنِ عَمْرٍو بَطْنٌ مِنْ بَنِي قَبِيلَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْأَصْمَعِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Asma'i said Abu Umama al-Bahili رضي الله عنه was Sudayy ibn Ajlan, of a clan called Banu Sahm ibn Amr, a branch of Banu Qabila.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اصمعی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوامامہ باہلی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ کا تعلق ایک ایسے قبیلے سے ہے ، جنہیں بنو سہم بن عمرو کہا جاتا ہے اور یہ بنو قبیلہ کی شاخ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اصمعی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔