عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّكُمْ يَعْرِفُ الْقُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ؟ "". فَقَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعْرِفُهُ قَالَ: "" فَمَا فَعَلَ؟ "". قَالُوا: هَلَكَ قَالَ: "" مَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اجْتَمِعُوا وَاسْمَعُوا وَعُوا، مَنْ عَاشَ مَاتَ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا، وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا، مِهَادٌ مَوْضُوعٌ، وَسَقْفٌ مَرْفُوعٌ، وَنُجُومٌ تَمُورُ، وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ، أَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا، لَئِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ رِضًا لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطٌ، إِنَّ لِلَّهِ دِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دِينِكُمُ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ، مَا لِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ فَلَا يَرْجِعُونَ، أَرَضَوْا بِالْمُقَامِ فَأَقَامُوا؟ أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا؟ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفِيكُمُ مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ؟. "". فَأَنْشَدَهُ بَعْضُهُمْ: فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِينَ ... مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ... لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ... يَسْعَى الْأَصَاغِرُ وَالْأَكَابِرْ لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيْكَ ... وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ... حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn Abbas رضي الله عنهما said a delegation of Abd al-Qays came to the Messenger of Allah ﷺ, who asked which of them knew Quss ibn Sa'ida al-Iyadi. They all knew him, and said he had perished. The Prophet ﷺ said he remembered him at Ukaz in the sacred month upon a red camel, addressing the people and calling them to gather, hear, and heed: that whoever lives dies, whoever dies passes, and all that is coming will come; that in the heaven is tidings and in the earth are lessons, a bed laid out, a roof raised, stars moving, and seas that do not recede. Quss swore a true oath that if there is contentment on earth there will be displeasure after it, and that Allah has a religion more beloved to Him than theirs. He wondered at people who depart and do not return, whether they were content to remain or left to sleep. The Prophet ﷺ then asked if any of them could recite his poetry, and one of them recited verses on the lessons of past generations, the watering-places of death with no return, and certainty of following where the people had gone. > **"O people, gather, hear and heed: whoever lives dies, whoever dies passes, and all that is coming will come."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کون قس بن ساعدہ ایادی کو جانتا ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم سب ان کو جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ فوت ہو گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اسے بھولا نہیں ہوں ، میں حرمت والے مہینے میں اسے عکاظ کے میلے میں ملا تھا ، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا اور وہ لوگوں کو خطبہ دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : ’’ اے لوگو ! اکٹھے ہو جاؤ ، بات کو سنو اور اسے محفوظ رکھو ، جو شخص زندہ رہتا ہے ، وہ مر بھی جاتا ہے ، اور جو مر جاتا ہے ، وہ فوت ہو جاتا ہے ، جو چیز آنی ہے ، وہ آ کے رہنی ہے ، آسمان میں خبر ہے ، اور زمین میں عبرت کی چیزیں ہیں ، ایک بچھونا بچھا دیا گیا ہے اور ایک چھت بلند کر دی گئی ہے ، اور ستارے چمک رہے ہیں ، اور سمندر طغیانی میں ہیں ، قس سچی قسم اٹھاتا ہے کہ زمین میں اگر کسی کے ساتھ رضامندی ہو گی تو اس کے بعد ناراضگی بھی ہو گی ، اور اللہ تعالیٰ کا ایک مخصوص دین ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے دین سے زیادہ پسندیدہ ہے ، جس دین پر تم گامزن ہو ، کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ چلے جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آتے ہیں ، کیا وہ اس مقام سے راضی ہو گئے ہیں اور وہاں ٹھہر گئے ہیں ؟ یا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ سو گئے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے ؟ جو اس کے اشعار سنائے ، تو ان لوگوں میں سے کسی نے ان کے یہ اشعار سنائے : ’’ پہلے کی صدیوں میں گزر جانے والے افراد میں ، ہمارے لیے بصیرت ہے ، جب میں نے موت کے گھاٹوں کو دیکھا ، تو میں نے موت سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں پایا ، اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے ( سب ) اسی ( موت ) کی طرف دوڑے جا رہے ہیں ، گزرا ہوا ( وقت ، یا فرد ) تمہاری طرف واپس نہیں آئے گا ، اور باقی رہ جانے والوں میں سے کوئی ( ہمیشہ ، دنیا میں ) ٹھہرا نہیں رہے گا ، تو ( یہ سب دیکھ کر مجھے یقین آ گیا ) کہ میں نے بھی وہیں جانا ہے جہاں قوم ( یعنی باقی سب لوگ گئے ہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔