Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 47

Book of Virtues and Merits

Hadith 16130–16169

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16130

Majma al-Zawaid #16130

«عَنْ فَيْرُوزَ: أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ، فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ، فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ، وَجِئْنَا مِنْ حَيْثُ عَلِمْتَ، وَأَسْلَمْنَا، فَمَنْ وَلِيُّنَا؟ قَالَ: "" اللَّهُ وَرَسُولُهُ "". قَالُوا: حَسْبُنَا، رَضِينَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Fayruz reports that they embraced Islam among its embracers, dispatched their delegation to the Messenger of Allah ﷺ with their pledge and Islam, which he accepted; they declared themselves known comers from a known land in submission, asked who is their guardian, he answered Allah and His Messenger, and they said sufficient, they are pleased. > **"Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فیروز رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، اسلام قبول کرنے والوں میں حضرت فیروز رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، پھر ان لوگوں نے اپنا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ، اپنی بیعت اور اسلام کے لئے بھیجا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے اس چیز کو قبول کیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس جگہ سے آئیں ہیں ، جس کے بارے میں آپ علم رکھتے ہیں ، ہم نے اسلام قبول کیا ہے تو ہمارا ولی کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کا رسول ، اُن لوگوں نے عرض کی : یہ ہمارے لئے کافی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن فیروز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16131

Majma al-Zawaid #16131

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَأْسِي» ..

EnglishUnverified translation

Mu'awiyah ibn Qurrah al-Muzani reports from his father that the Messenger of Allah ﷺ wiped his head. > **"The Messenger of Allah ﷺ wiped my head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ مزنی اپنے والد ( حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔

16132

Majma al-Zawaid #16132

وَفِي رِوَايَةٍ: سَمِعْتُ أَبِي وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ رَأَسَهُ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ.

EnglishUnverified translation

In another wording he heard his father, who had reached the Prophet ﷺ, say he wiped his head and sought forgiveness for him. > **"He wiped his head and sought forgiveness for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔

16133

Majma al-Zawaid #16133

وَفِي رِوَايَةٍ: قُلْنَا: أَصَحِبَهُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ عَلَى عَهْدِهِ قَدْ حَلَبَ وَصَرَّ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording they asked whether he accompanied him; he said no, but he lived in his time milking and hobbling livestock. > **"I lived in his time, milking and hobbling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم نے دریافت کیا : کیا وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی تھے ؟ تو انہوں نے ( یعنی معاویہ بن قرہ نے ) جواب دیا : جی نہیں ! وہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں تھے اور ( ان کی عمر اتنی تھی ) کہ دودھ دوہ لیتے تھے اور جانور باندھ لیتے تھے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام بزار نے ان میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، امام احمد کی اسانید میں سے ایک کے اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف معاویہ بن قرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16134

Majma al-Zawaid #16134

عَنْ زِيَادَةَ، عَنْ جَدِّهِ مَسْعُودٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ مُطَاعًا، وَقَالَ لَهُ: "" يَا مُطَاعُ، أَنْتَ مُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ "". وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَقَالَ لَهُ: "" يَا مُطَاعُ، امْضِ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَمَنْ دَخَلَ تَحْتَ رَايَتِي هَذِهِ فَقَدْ أَمِنَ مِنَ الْعَذَابِ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ziyadah reports from his grandfather Mas'ud that the Messenger of Allah ﷺ named him Muta', declared him obeyed among his people, mounted him upon a piebald horse, granted him the banner, and bade him go to his companions, for whoever enters beneath that banner of his is safe from punishment. > **"O Muta', go to your companions, for whoever enters beneath this banner of mine is safe from punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیادہ نے اپنے دادا حضرت مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے انہیں ” مطاع “ ( یعنی پیشوا ) کا نام دیا تھا ، آپ نے ان سے فرمایا تھا : اے مطاع ! تم اپنی قوم میں ” مطاع ‘‘ ہو ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک ابلق گھوڑا دیا تھا اور انہیں جھنڈا دیا تھا اور ان سے فرمایا تھا : اے مطاع ! تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ ، جو شخص میرے اس جھنڈے کے نیچے داخل ہو گا ، وہ عذاب سے محفوظ ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16135

Majma al-Zawaid #16135

عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ خَالِهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ مَعَهُمْ قَالَ: فَفَجَئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ قَالَ: وَأَبْقَى الْقَوْمَ. قَالَ: فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً إِمَّا بِعَسِيبٍ، أَوْ قَضِيبٍ، أَوْ سِوَاكٍ، أَوْ شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي. قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ، أَوْ قَالَ: قُلْتُ: مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لِشَيْءٍ عَلِمَهُ اللَّهُ فِيَّ. قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحْتُ. قَالَ: وَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: إِنَّكَ رَاعٍ ; فَلَا تَكْسِرْ قَرْنَ رَعِيَّتَكَ. فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ - أَوْ قَالَ: أَصْبَحْنَا - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ إِنَّ نَاسًا يَتْبَعُونِي، وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتْبَعُونِي. اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا». - أَوْ قَالَ: - "" مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً "" - أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Sawwar reports from his maternal uncle that he saw the Messenger of Allah ﷺ with people following him, followed among them, then the crowd rushed and outstripped him; the Messenger of Allah ﷺ came upon him and struck him lightly with a palm stalk, stick, miswak, or something in his hand, by Allah without hurting him. He spent the night fearing the blow held some meaning Allah knew in him, resolving to come to him at dawn, while Jibril, peace be upon him, descended declaring him a shepherd who must not break the horn of his flock. At dawn prayer the Messenger of Allah ﷺ supplicated that since men follow him and it pleases him not, whomever he strikes or reviles Allah make it expiation and reward, or forgiveness and mercy. > **"O Allah, whomever I strike or revile, make it for him expiation and reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسوار رضی اللہ عنہ اپنے ماموں کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کچھ لوگ آپ کے پیچھے جا رہے تھے ، ان کے ساتھ میں بھی نبی اکرم ﷺ کے پیچھے ہو لیا ، پھر لوگ دوڑتے ہوئے آئے ، تو میں پیچھے ہٹ گیا راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے ضرب لگائی ، جو کسی چھڑی کے ذریعے تھے ، یا مسواک کے ذریعے تھے ، یا شاید کسی اور چیز کے ذریعے تھے ، جو آپ کے پاس موجود تھی ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے مجھے تکلیف نہیں پہنچائی ، میں نے وہیں رات گزاری ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے صرف اس وجہ سے مارا تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو میرے بارے میں علم عطا کیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا کہ صبح میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوؤں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے کہا : آپ دیکھ بھال کرنے والے ہیں ، تو آپ اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑیں ، جب ہم نے صبح کی نماز ادا کر لی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب صبح ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! کچھ لوگ میرے پیچھے آئے تھے اور مجھے ان کا اپنے پیچھے آنا پسند نہیں آیا تھا ، تو اے اللہ ! جسے میں نے ضرب لگائی ہو یا جسے میں نے برا کہا ہو ، تو اُس چیز کو اس شخص کے حق میں کفارے اور اجر کا باعث بنا دے ‘‘ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بخشش اور رحمت کا باعث بنا دے ‘‘۔ یا جس طرح بھی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16136

Majma al-Zawaid #16136

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَزَوْتُ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ بِضْعًا وَأَرْبَعِينَ - أَوْ بِضْعًا وَثَلَاثِينَ - مِنْ بَيْنِ غَزْوَةٍ وَسَرِيَّةٍ».

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab reports that he saw the Messenger of Allah ﷺ and campaigned in the caliphates of Abu Bakr and 'Umar in some forty or some thirty campaigns and expeditions. > **"I saw the Messenger of Allah ﷺ and campaigned in some forty expeditions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں چالیس سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تیس سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا ہے اور جو بڑی لڑائیاں اور چھوٹی مہمات تھیں ۔

16137

Majma al-Zawaid #16137

وَفِي رِوَايَةٍ: ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ - أَوْ ثَلَاثًا وَأَرْبَعِينَ - مِنْ غَزْوَةٍ إِلَى سَرِيَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording thirty-three or forty-three, from campaign to expedition. > **"Thirty-three or forty-three, from campaign to expedition."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تینتیس ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تینتالیس چھوٹی بڑی جنگوں میں حصہ لیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16138

Majma al-Zawaid #16138

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ: «أَنَّهُ عَقَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid reports that he remembered the Prophet ﷺ and a mouthful he spewed into a bucket in their house. > **"I remember the Prophet ﷺ and a mouthful he spewed into a bucket in our house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اُن کے گھر میں ڈول میں کلی کی تھی ، وہ ڈول اُن کے گھر میں موجود تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16139

Majma al-Zawaid #16139

عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لَهُ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، وَبَارِكْ عَلَى عَلِيٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Ali ibn Shayban reports that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for him, blessing 'Ali ibn Shayban and blessing 'Ali. > **"O Allah, bless 'Ali ibn Shayban and bless 'Ali."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا : ’’ اے اللہ ! علی بن شیبان میں برکت رکھ دے ، اور علی پر برکت نازل فرما !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16140

Majma al-Zawaid #16140

عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ: «وَفَدْتُ مَعَ جَدِّي حِذْيَمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَغَيْرَهُمْ، وَهَذَا أَصْغَرُهُمْ، فَأَدْنَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "". قَالَ الذَّيَّالُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ، أَوِ الشَّاةِ الْوَارِمِ ضَرْعُهَا فَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَمْسَحُهُ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hanzalah ibn Hidhaym reports that he delegated with his grandfather Hidhaym to the Messenger of Allah ﷺ, who said he had bearded sons and others and this the youngest; the Messenger of Allah ﷺ drew him near, wiped his head, and blessed him. Al-Dhayyal reports he saw Hanzalah have the swollen-faced man or swollen-uddered ewe brought, say in Allah's name upon the spot of the Prophet's hand ﷺ, wipe it, and the swelling depart. > **"May Allah bless you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے دادا حضرت حذیم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وفد کے ساتھ ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے دادا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بچے ہیں ، ان میں سے کچھ کی داڑھی آ چکی ہے اور کچھ کی نہیں آئی ہے ، یہ ان میں سے سب سے کمسن ہے ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے قریب کیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : اللہ تعالیٰ تم میں برکت رکھے ۔ ذیال نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس کسی ایسے شخص کو لایا جاتا تھا ، جس کا چہرہ ورم آلود ہو چکا ہوتا تھا ، یا کسی بکری کو لایا جاتا تھا ، جس کے تھن ورم آلود ہو چکے ہوتے تھے ، تو وہ یہ کہتے تھے : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اس جگہ کے ساتھ ، جہاں نبی اکرم ﷺ کی تھیلی گئی تھی ، پھر وہ اس ورم والی جگہ پر ہاتھ پھیرتے تھے ، تو وہ ورم ختم ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ جو کتاب الوصایا میں ، وصیت کرتے ہوئے زیادتی کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے ، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

16141

Majma al-Zawaid #16141

عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: «وَفَدَ أَبِي وَأَنَا مَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلِابْنِي قَالَ: فَمَسَحَ رَأْسِي، وَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Hirmas ibn Ziyad reports that his father delegated with him to the Messenger of Allah ﷺ asking him to supplicate for him and his son; he wiped his head and pledged him upon Islam. > **"He wiped my head and pledged me upon Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اپنے والد کے ساتھ میں بھی تھا ، میرے والد نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے اور میرے بیٹے کے لئے دعا کیجئے ! راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور آپ ﷺ نے ہم سے اسلام پر بیعت لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16142

Majma al-Zawaid #16142

عَنْ خُرَيْمٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نِعْمَ الْفَتَى خُرَيْمٌ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي اللِّبَاسِ فِي الْإِزَارِ.

EnglishUnverified translation

Khuraym reports that the Prophet ﷺ declared him an excellent youth. > **"What an excellent youth is Khuraym."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خریم اچھا آدمی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اس سے پہلے یہ طویل روایت کتاب اللباس میں تہبند پہننے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

16143

Majma al-Zawaid #16143

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: «كُنْتُ شَرِيكًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ: أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: "" كُنْتَ شَرِيكًا لِي، فَنِعْمَ الشَّرِيكُ أَنْتَ; كُنْتَ لَا تُمَارِي وَلَا تُدَارِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn al-Sa'ib reports that he was a partner of the Prophet ﷺ, and when he came to Madinah he asked whether he knew him; he answered he was his partner, and what an excellent partner, who neither disputed nor evaded. > **"You were my partner; what an excellent partner you were, neither disputing nor evading."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کا شراکت دار تھا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو میں نے دریافت کیا : آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے شراکت دار تھے اور تم اچھے شراکت دار تھے ، اور تم نہ دھوکہ دیتے تھے اور نہ جھگڑا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف منصور بن ابواسود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16144

Majma al-Zawaid #16144

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَايِعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: "" نَعَمْ، أَلَمْ تَكُنْ شَرِيكًا لِي فَوَجَدْتُكَ خَيْرَ شَرِيكٍ ; لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي "".» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn al-Sa'ib reports that he came to the Prophet ﷺ to pledge, asking whether he knew him; he answered yes, was he not his partner, and he found him the best of partners, neither evading nor disputing. > **"Were you not my partner? I found you the best of partners, neither evading nor disputing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آپ کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! کیا تم میرے شراکت دار نہیں تھے ؟ اور میں نے تمہیں بہترین شراکت دار پایا ہے ، تم نہ دھوکہ دیتے تھے اور نہ جھگڑا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16145

Majma al-Zawaid #16145

عَنْ عَطَاءٍ - مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - قَالَ: «رَأَيْتُ مَوْلَايَ: السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ لِحْيَتُهُ بَيْضَاءُ، وَرَأْسُهُ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: يَا مَوْلَايَ، مَا لِرَأْسِكَ لَا يَبْيَضُّ؟ قَالَ: لَا يَبْيَضُّ رَأْسِي أَبَدًا ; وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَضَى وَأَنَا غُلَامٌ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ وَأَنَا فِيهِمْ فَرَدَدْتُ - عَلَيْهِ السَّلَامَ - مِنْ بَيْنِ الْغِلْمَانِ، فَدَعَانِي فَقَالَ لِي: "" مَا اسْمُكَ؟ "". فَقُلْتُ: السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ النَّمِرِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "". فَلَا يَبْيَضُّ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: «كَانَ وَسَطُ رَأْسِ السَّائِبِ أَسْوَدَ وَبَقِيَّتُهُ أَبْيَضَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا سَيِّدِي، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ رَأْسِكَ هَذَا قَطُّ! هَذَا أَسْوَدُ، وَهَذَا أَبْيَضُ! قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا بُنَيَّ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: إِنِّي كُنْتُ مَعَ صِبْيَانٍ نَلْعَبُ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَرَّضْتُ لَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" وَعَلَيْكَ، مَنْ أَنْتَ؟ "". قُلْتُ: أَنَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "". قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ لَا يَبْيَضُّ أَبَدًا، وَلَا يَزَالُ هَكَذَا أَبَدًا». وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءٍ مَوْلَى السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ata', freedman of al-Sa'ib ibn Yazid, reports that he saw his master white of beard and black of head, and asked why his head whitened not; he answered it never shall, for the Messenger of Allah ﷺ passed while he played with the boys, he alone among them returned his greeting, he called him, asked his name, he said al-Sa'ib ibn Yazid nephew of al-Namr, he placed his hand upon his head and blessed him, so the spot of the Prophet's hand ﷺ shall never whiten. In al-Kabir the middle of al-Sa'ib's head stayed black and the rest white; asked of the marvel he told how he accosted the Messenger of Allah ﷺ at play, greeted him, was asked who he is, said al-Sa'ib ibn Yazid brother of al-Namr ibn Qasit, was wiped and blessed, and shall never whiten nor ever change. > **"May Allah bless you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے آقا حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی داڑھی کے بال سفید تھے اور سر کے بال سیاہ تھے ، میں نے کہا : اے آقا ! اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے سر کے بال سفید نہیں ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے سر کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جا رہے تھے ، میں اس وقت بچہ تھا اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے سلام کیا ان بچوں میں ، میں بھی موجود تھا ، تمام بچوں میں سے میں نے آپ کو سلام کا جواب دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : سائب بن یزید ، جو نمر کا بھانجا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے جس جگہ پر ہاتھ رکھا تھا ، وہاں کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : حضرت سائب رضی اللہ عنہ کے سر کا درمیانی حصہ سیاہ تھا اور باقی بال سفید تھے ، تو میں نے اپنے آقا سے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے سر کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی ، یہ والا حصہ سیاہ ہے اور یہ والا حصہ سفید ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، نہیں اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے ، میں آپ کے سامنے آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی : میں سائب بن یزید ہوں ، جو نمر بن قاصد کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، انہوں بیان کیا : اللہ کی قسم ! یہ حصہ کبھی سفید نہیں ہو گا اور یہ ہمیشہ اسی طرح رہے گا ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حضرت سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

16146

Majma al-Zawaid #16146

عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الشَّعْثَاءِ وَقُطْبَةَ مَوْلَاتِهَا: أَنَّهُمَا رَأَتَا مَدْلُوكًا أَبَا سُفْيَانَ، فَسَمِعَتَاهُ يَقُولُ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ مَوْلَايَ فَأَسْلَمْتُ. قَالَتْ أُمَيَّةُ: فَرَأَيْتُ مَا مَسَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْوَدَ، وَقَدِ ابْيَضَّ مَا سِوَى ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umayyah bint Abi al-Sha'tha' and Qutbah her freedwoman report that they saw Madluk Abu Sufyan, hearing him say he came to the Prophet ﷺ with his master and embraced Islam; Umayyah added that what the Prophet ﷺ had wiped stayed black while all besides it whitened. > **"What the Prophet ﷺ wiped stayed black, and all besides it whitened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امیہ بنت ابوشعثاء اور ان کی مالکن قطبہ بیان کرتی ہیں : ان دونوں نے حضرت مدلوک ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے اور ان دونوں نے حضرت مدلوک ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں اپنے موالی کے ساتھ ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے اسلام قبول کر لیا ۔ امیہ نامی خاتون کہتی ہیں : میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے جس جگہ پر ہاتھ پھیرا تھا ، وہ والے بال سیاہ تھے ، حالانکہ ان کے علاوہ بال سفید ہو چکے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16147

Majma al-Zawaid #16147

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ حَرْمَلَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِيمَانُ هَهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ، وَالنِّفَاقُ هَهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ، وَلَا يَذْكُرُ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَرْمَلَةُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرَفِ لِسَانِ حَرْمَلَةَ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحَبَّ مَنْ يُحِبُّنِي، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى الْخَيْرِ "". فَقَالَ حَرْمَلَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لِي إِخْوَانًا مُنَافِقِينَ كُنْتُ فِيهِمْ رَأْسًا، أَلَا أَدُلَّكَ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ جَاءَنَا كَمَا جِئْتَنَا اسْتَغْفَرْنَا لَهُ كَمَا اسْتَغْفَرْنَا لَكَ، وَمَنْ أَصَرَّ عَلَى ذَنْبِهِ فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِ، وَلَا نَخْرِقُ عَلَى أَحَدٍ سِتْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar reports that he was with the Prophet ﷺ when Harmalah ibn Zayd came, sat before the Messenger of Allah ﷺ, and confessed that faith with him is here, pointing to his tongue, hypocrisy here, pointing to his breast, and he remembers Allah but little. The Prophet ﷺ stayed silent till he repeated it, then seized the tip of his tongue and prayed Allah grant him a truthful tongue, a grateful heart, his own love and the love of those who love him, and turn his affair to good. Harmalah said his brethren are hypocrites among whom he was a chief and offered to name them, but the Prophet ﷺ answered that whoever comes as he came they seek forgiveness for as for him, who persists is left to Allah, and they tear no veil from any. > **"O Allah, grant him a truthful tongue, a grateful heart, my love and the love of those who love me, and turn his affair to good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران حضرت حرملہ بن زید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان یہاں ہے ، انہوں نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، اور نفاق یہاں ہے ، انہوں نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ، اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تھوڑا کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ ان کے حوالے سے خاموش رہے ، حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات نبی اکرم ﷺ کے سامنے دہرائی ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ کی زبان کا کنارہ پکڑ کر یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! اس کی زبان کو سچا اور دل کو شکر کرنے والا بنا دے ، اور اسے میری محبت اور اس شخص کی محبت نصیب کر دے ، جو مجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف پھیر دے ۔‘‘ حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو ہمارے پاس آئے ، جس طرح آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہیں ، تو کیا ہم اس کے لئے بھی اسی طرح دعائے مغفرت کریں گے ، جس طرح ہم آپ کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور جو شخص اپنے گناہ پر اصرار کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے اور ہم کسی کے پردے کو فاش نہیں کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16148

Majma al-Zawaid #16148

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: صَلَّى الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ بِالنَّاسِ فِي سَفَرٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ، فَمَرَّتْ حَمِيرٌ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ، فَأَعَادَ بِهِمُ الصَّلَاةَ، فَقَالُوا: أَرَادَ أَنْ يَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ الْوَلِيدُ [بْنَ عُقْبَةَ] ; إِذْ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الصَّلَاةَ أَرْبَعًا. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ، فَلَحِقْتُ الْحَكَمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَوَقَفَ حَتَّى تَلَاحَقَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: إِنِّي أَعَدْتُ بِكُمُ الصَّلَاةَ مِنْ أَجْلِ الْحَمِيرِ الَّتِي مَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَضَرَبْتُمُونِي مَثَلًا لِابْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُحْسِنَ سِيرَتَكُمْ، وَيُحْسِنَ بَلَاغَكُمْ، وَأَنْ يَنْصُرَكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ، وَأَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَمَضَوْا، فَلَمْ يَرَوْا فِي وَجْهِهِمْ ذَلِكَ إِلَّا مَا يُسِرُّونَ بِهِ، فَلَمَّا أَنْ فَرَغُوا مَاتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn al-Samit reports that al-Hakam ibn 'Amr al-Ghifari led the people in prayer on a journey before a sutrah, donkeys passed before his companions, and he repeated the prayer with them; they said he meant to do as al-Walid ibn 'Uqbah did when he prayed four with his companions. He offered them more, and when he caught up with al-Hakam and told him, he halted till the company gathered and explained he repeated the prayer for the donkeys that passed, yet they struck him the likeness of Ibn Abi Mu'ayt; he prayed Allah better their conduct, their conveyance, their victory over their enemy, and part him from them. They marched seeing in their course naught but what pleased them, and when they finished, he died. > **"I ask Allah to better your conduct, your conveyance, your victory, and to part me from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے سفر کے دوران لوگوں کو نماز پڑھائی ، ان کے سامنے سترہ موجود تھا ، ان کے ساتھیوں کے آگے سے گدھا گزرا ، تو انہوں نے ان لوگوں کو نماز دوبارہ پڑھائی ، لوگوں نے کہا : یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ اس طرح کریں جس طرح ولید بن عقبہ نے کیا تھا کہ جب اس نے صبح کی نماز میں اپنے ساتھیوں کو چار رکعات پڑھا دیں تھیں ، پھر اس نے کہا تھا : میں تمہیں مزید بھی پڑھاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : میں حضرت حکم رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو وہ ٹھہر گئے یہاں تک کہ لوگ ان کے پاس آ گئے ، تو حضرت حکم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے گدھوں کی وجہ سے تمہیں نماز دوبارہ پڑھائی تھی ، جو تمہارے آگے سے گزرے تھے اور تم لوگوں نے مجھے مثال دیتے ہوئے ابن ابومعیط کے ساتھ ملا دیا ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہاری سیرت کو عمدہ کرے ، تمہارے بلاغ کو عمدہ کرے اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہاری مدد کرے اور میرے اور تمہارے درمیان علیحدگی کروا دے ، پھر وہ لوگ روانہ ہو گئے ، پھر انہوں نے آگے جا کر وہی صورت حال دیکھی کہ جس سے وہ خوش ہوتے ، یہاں تک کہ جب وہ اس جنگ سے فارغ ہوئے ، تو حضرت حکم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16149

Majma al-Zawaid #16149

عَنْ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَ رَقَبَةً لِأُمِّ سَلَمَةَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي "". فَمَكَثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: "" مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ - أَوِ الْجُوَيْرِيَةُ -؟ "". قُلْتُ: صَالِحَةٌ عِنْدَ أُمِّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَلَّادِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Nawfal al-Ashja'i reports that the Messenger of Allah ﷺ entrusted a slave to him for Umm Salamah, may Allah be pleased with her, telling him he is but his foster-kin; he stayed with the Messenger of Allah ﷺ as Allah willed, then was asked how the girl fares, and answered she is well with her mother. > **"You are but my foster-kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز ان صاحب کے حوالے کی ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم میرے عزیز ہو ، پھر وہ جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ نبی اکرم ﷺ کے پاس رہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کنیز کا کیا حال ہے ؟ تو میں نے کہا : وہ ٹھیک ہے ، اپنی والدہ کے پاس ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خلاد بن اسلم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16150

Majma al-Zawaid #16150

عَنْ شَدَّادٍ: أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: "" مَا لَكَ يَا شَدَّادُ؟ "". قَالَ: ضَاقَتْ بِيَ الدُّنْيَا. قَالَ: "" لَيْسَ عَلَيْكَ [إِنَّ] الشَّامُ تُفْتَحُ، وَيُفْتَحُ بَيْتُ الْمَقْدِسِ، فَتَكُونُ أَنْتَ وَوَلَدُكَ أَئِمَّةً فِيهِمْ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shaddad reports that he was with the Messenger of Allah ﷺ as his soul departed, and he asked what ailed him; he said the world had straitened upon him. He answered Syria is no strait upon him, for it shall be opened and Bayt al-Maqdis opened, and he and his son shall be leaders therein. > **"Syria shall be opened and Bayt al-Maqdis opened, and you and your son shall be leaders therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے اور گہری گہری سانسیں لے رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میرے لیے دنیا تنگ ہو گئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے ، شام فتح ہو گا اور تم اور تمہاری اولاد وہاں پیشواء ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16151

Majma al-Zawaid #16151

عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: إِنَّكَ مِنْ قُدَمَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفُقَهَائِهِمْ، فَإِذَا صَلَّيْتَ وَدَخَلْتَ فُسْطَاطِي فَقُمْ فِي النَّاسِ، فَحَدِّثْهُمْ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي مَوَاضِعِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rashid al-Hubrani reports that Mu'awiyah said to 'Abd al-Rahman ibn Shibl that he is of the earliest Companions of the Messenger of Allah ﷺ and their jurists, so when he prays and enters his pavilion he should stand among the people and narrate what he heard from the Messenger of Allah ﷺ. > **"Stand among the people and narrate what you heard from the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوراشد حبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نبی اکرم ﷺ کے قدیم اصحاب میں سے اور صاحب علم اصحاب میں سے ایک ہیں ، جب آپ نماز ادا کر لیں ، تو آپ میرے خیمے میں تشریف لائیں اور پھر لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر وہ احادیث بیان کریں جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے متعلقہ مقامات پر گزر چکی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

16152

Majma al-Zawaid #16152

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ أَهْلُ الْبَحْرَيْنِ وَقَدِمَ الْجَارُودُ وَافِدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرِحَ بِهِ فَقَرَّبَهُ وَأَدْنَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَرْبِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik reports that when the people of Bahrain came with al-Jarud as delegate to the Messenger of Allah ﷺ, he rejoiced at him, welcomed him, and drew him near. > **"He rejoiced at him, welcomed him, and drew him near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اہل بحرین آئے ، تو حضرت جارود رضی اللہ عنہ وافد کے طور پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اور ان کی آمد پر خوش ہوئے ، آپ نے انہیں اپنے قریب اور پاس کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زربی بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16153

Majma al-Zawaid #16153

عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أَسْرَبْنَا وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ دُحْمُسَةٍ، فَأَضَاءَتْ أَصَابِعِي حَتَّى جَمَعُوا عَلَيْهَا ظَهَرَهُمْ، وَمَا سَقَطَ مِنْ مَتَاعِهِمْ، وَإِنَّ أَصَابِعِي لَتُنِيرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Hamzah ibn 'Amr reports that they journeyed by night with the Messenger of Allah ﷺ in darkness, and his fingers gave light till they gathered their mounts upon them and whatever gear had fallen, his fingers indeed glowing. > **"My fingers gave light till they gathered their mounts and fallen gear upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ایک تاریک رات میں ہم نے پڑاؤ کیا ، تو میری انگلیاں روشن ہو گئیں ، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کی روشنی میں سواریوں کو اکٹھا کیا اور جو سامان گر گیا تھا ، وہ بھی اکٹھا کیا ، اس دوران میری انگلیاں روشن رہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، کثیر بن زید بن نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16154

Majma al-Zawaid #16154

عَنْ صِلَةَ بْنِ أَشْيَمَ قَالَ: أُصِيبَ أَبُو رِفَاعَةَ وَأَنَا فِي غَزَاةٍ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ أَبَا رِفَاعَةَ عَلَى نَاقَةٍ سَرِيعَةٍ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ قَطُوفٍ، وَأَنَا عَلَى أَثَرِهِ فَيُعْرِجُهَا حَتَّى أَقُولَ الْآنَ أُسْمِعُهُ الصَّوْتَ، ثُمَّ يُسَرِّحُهَا فَتَنْطَلِقُ وَأَتْبَعُهُ. فَأَوَّلْتُ رُؤْيَايَ: أَنَّهُ طَرِيقُ أَبِي رِفَاعَةَ آخُذُهُ وَأَنَا أَكَدُّ الْعَمَلَ بَعْدَهُ [كَدًّا]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Silah ibn Ashyam reports that Abu Rifa'ah was stricken while he campaigned, and he dreamt Abu Rifa'ah upon a swift she-camel with himself upon a slow camel behind him, alternately nearing to shout and outstripped as she sped; he interpreted his dream that it is the path of Abu Rifa'ah he takes, toiling hard in works after him. > **"It is the path of Abu Rifa'ah I take, toiling hard after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن اشیم بیان کرتے ہیں : حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، میں اس وقت ایک جنگ میں حصہ لے رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوں ، جو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، میں ان کے پیچھے ہوں اور وہ سورج غروب ہونے کے قریب کے وقت میں داخل ہو جاتے ہیں ، پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ اب میں ان تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہوں ، پھر وہ اسے تیز رفتاری سے لے جاتے ہیں اور میں ان کے پیچھے جاتا ہوں ، تو میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر کی کہ وہ حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کے راستے میں ہیں ، اور میں انہیں پکڑ لوں گا اور ان کے بعد ’’ میں ‘‘ عمل میں بھرپور کوشش کروں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16155

Majma al-Zawaid #16155

عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ: «أَنَّهُ كَانَ بِوَجْهِهِ حَزَازَةٌ - يَعْنِي الْقُوَبَاءَ - فَالْتَقَمَتْ أَنْفَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمْ يَمْضِ ذَلِكَ الْيَوْمُ وَفِي أَنْفِهِ أَثَرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abyad ibn Hammal reports that a facial mange, the ringworm, covered his face and consumed his nose, so the Messenger of Allah ﷺ summoned him, wiped his face, and before that day passed no trace remained upon his nose. > **"He wiped my face, and before the day passed no trace remained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے چہرے پر جلد کی خرابی کی بیماری تھی ، جس نے ان کی ناک کو ختم کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا اور ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، تو اس دن کے بعد وہاں کوئی نشان باقی نہیں رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔

16156

Majma al-Zawaid #16156

عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أَصَابَتْنِي رَمْيَةٌ وَأَنَا أُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ خَيْبَرَ فِي وَجْهِي، فَلَمَّا سَالَتِ الدِّمَاءُ عَلَى وَجْهِي وَصَدْرِي تَنَاوَلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيدَي فَسَلَتَ الدَّمُ عَنْ وَجْهِي وَصَدْرِي إِلَى ثَنْدُوَتَيْ؛ ثُمَّ دَعَا لِي. قَالَ حَشْرَجُ: فَكَانَ عَائِذٌ يُخْبِرُنَا بِذَلِكَ فِي حَيَاتِهِ، فَلَمَّا هَلَكَ وَغَسَّلْنَاهُ، نَظَرْنَا إِلَى مَا كَانَ يَصِلُ لَنَا مِنْ [أَمْرِ] أَثَرِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي مَسَّهَا مَا كَانَ يَقُولُ لَنَا مِنْ صَدْرِهِ، فَإِذَا غُرَّةٌ سَائِلَةٌ كَغُرَّةِ الْفَرَسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'A'idh ibn 'Amr reports that a shot struck him fighting before the Messenger of Allah ﷺ on the day of Khaybar in his face, and as blood flowed over his face and chest the Prophet ﷺ took with his hand and wiped the blood from his face and chest down to his collarbones, then supplicated for him. Hashraj reports 'A'idh would tell them this in life, and when he perished and they washed him they looked upon the trace he described of the Prophet's hand ﷺ upon his chest, a flowing blaze like a horse's blaze. > **"He wiped the blood from my face and chest with his hand and supplicated for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے ایک تیر لگا ، میں اُس وقت نبی اکرم ﷺ کے سامنے جنگ کر رہا تھا ، یہ غزوہ خیبر کے موقع کی بات ہے ، وہ تیر میرے چہرے پر لگا تھا ، جب خون میرے چہرے اور سینے پر بہتا ہوا آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا ، آپ نے میرے چہرے اور میرے سینے سے خون کو پونچھا اور پھر میرے لئے دعا کی ۔ حشرج نامی راوی کہتے ہیں : حضرت عائذ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں ہمیں یہ بات بتایا کرتے تھے ، جب ان کا انتقال ہوا اور ہم نے انہیں غسل دیا ، تو ہم نے اس جگہ کا جائزہ لیا ، جس کے بارے میں ہمیں پتہ چلا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کو وہاں پر پھیرا تھا کہ جس کے بارے میں حضرت عائذ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا تھا ، تو اس مقام پر ایسی چمک تھی ، جس طرح گھوڑے میں چمک دار نشان ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16157

Majma al-Zawaid #16157

عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ الْجِسْرِيِّ قَالَ: «وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ، امْسَحْ وَجْهِي وَادْعُ لِي بِالْبَرَكَةِ، فَمَسَحَ وَجْهِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَتْ أُمُّ الْبَنِينَ - وَهِيَ امْرَأَتُهُ -: مَا رَأَيْتُهُ مُنْتَبِهًا مِنْ نَوْمٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ عَلَى وَجْهِهِ مُدَّهَنٌ، وَإِنْ كَانَ لَيَجْتَزِئُ بِالتَّمَرَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'A'idh ibn Sa'id al-Jisri reports that they delegated to the Messenger of Allah ﷺ, and he asked by his father and mother to wipe his face and supplicate blessing for him; he wiped his face and supplicated blessing for him. Umm al-Banin his wife said he was never seen waking from sleep but his face anointed, and he sufficed himself with dates. > **"He wiped my face and supplicated blessing for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مائذ بن سعید جسری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ میرے چہرے پر ہاتھ پھیریے ، اور میرے لئے برکت کی دعا کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، ان صاحب کی اہلیہ سیدہ ام البنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تھے ، تو ان کے چہرے پر یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے تیل لگا ہوا ہے ، اگرچہ وہ کھجوروں کے کھیتوں میں کام کر کے آئے ہوئے ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16158

Majma al-Zawaid #16158

عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا بَعِيرًا، يَرْكَبُهُ اثْنَانِ وَيَسُوقُهُ وَاحِدٌ فِي الصَّحَارَى، وَيَفُوزُ فِي الْحِيَالِ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَمْشِي، فَقَالَ لِي: "" أَرَاكَ يَا رَبَاحُ مَاشِيًا "". فَقُلْتُ: إِنَّمَا نَزَلْتُ السَّاعَةَ وَهَذَانِ صَاحِبَايَ وَقَدْ رَكِبَا، بِصَاحِبِي فَأَنَاخَا بِعِيرَهُمَا وَنَزَلَا عَنْهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ قَالَا: ارْكَبْ صَدْرَ هَذَا الْبَعِيرِ، فَلَا تَزَالُ عَلَيْهِ حَتَّى تَرْجِعَ، وَنَعْتَقِبُ أَنَا وَصَاحِبِي، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ لَكُمَا رَفِيقًا صَالِحًا ; فَأَحْسِنَا صُحْبَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقِيلَ فِيهِ: صَدُوقٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabah ibn al-Rabi' ibn Muraqqa' ibn Sayfi reports that they campaigned with the Messenger of Allah ﷺ with every three granted a camel, two riding and one driving in the wastes; the Messenger of Allah ﷺ passed him walking and remarked upon it. He explained he had just dismounted while his two companions rode, and his two companions couched their camel, dismounted, and when he reached them bade him ride its fore and remain till return while they took turns, and when asked why they said the Messenger of Allah ﷺ told them they have a righteous companion whose company they should keep well. > **"You have a righteous companion, so keep his company well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رباح بن ربیع بن مرقع بن صیفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ہم میں سے تین افراد کو ایک اونٹ دیا ، دو افراد اس پر سوار ہو جاتے تھے ، اور ایک اسے ہانک کر لے کر چلتا تھا ، صحراء میں ایسا ہوتا رہا ، اسی دوران ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے ، تو میں پیدل چل رہا تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے رباح ! میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم پیدل چل رہے ہو ، میں نے عرض کی : میں ابھی تھوڑی دیر پہلے نیچے اترا ہوں اور اب یہ میرے دونوں ساتھی سواری کر رہے ہیں ، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس سے گزرا ، انہوں نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا تھا اور وہ اس سے نیچے اتر آئے تھے ، جب میں وہاں پہنچا ، تو ان دونوں نے کہا : تم اس اونٹ کے آگے والے حصے پر سوار ہو جاؤ اور واپس جانے تک تم آگے والے حصے پر سوار ہو گے ، میں اور میرا دوسرا ساتھی ہم پیچھے بیٹھیں گے ، میں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تم دونوں کا ساتھی نیک آدمی ہے ، تم نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : وہ صدوق ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16159

Majma al-Zawaid #16159

عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «كَانَ بِي بَرَصٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَرَأْتُ مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Walid ibn Qays reports that a leprosy afflicted him, the Messenger of Allah ﷺ supplicated for him, and he was healed of it. > **"He supplicated for me, and I was healed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ولید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے برص ( یعنی پھلبہری کا داغ ) تھا ، نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے دعا کی تو مجھے شفاء نصیب ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16160

Majma al-Zawaid #16160

عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لَمَّا بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ خَرَجَ يَمْشِي مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْزِلُ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِرَاكِبٍ وَلَا أَنْتَ بِنَازِلٍ ; إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ إِلَى يَحْيَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Sa'id al-Ansari reports that when Abu Bakr, may Allah be pleased with him, dispatched Yazid ibn Abi Sufyan to Syria he walked out with him, and Yazid said either he ride or Yazid dismount; he answered he shall neither ride nor shall Yazid dismount, for he reckons his footsteps. > **"I shall neither ride nor shall you dismount, for I reckon my footsteps."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن سعید انصاری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ، جب حضرت یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو شام بھیجا ، تو وہ خود ان کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے گئے ، حضرت یزید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : یا تو آپ سوار ہو جائیں ، یا میں سواری سے نیچے اتر آتا ہوں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہ تو میں سوار ہوؤں گا ، اور نہ تم نیچے اترو گے ، میں ان قدموں کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور یحیی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16161

Majma al-Zawaid #16161

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِالشَّامِ سَنَةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ، وَكَانَ اسْتَخْلَفَ مُعَاوِيَةَ، فَأَقَرَّهُ عُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Bukayr reports that Yazid ibn Abi Sufyan died in Syria in the year eighteen, having appointed Mu'awiyah, whom 'Umar confirmed. > **"Yazid ibn Abi Sufyan died in Syria in the year eighteen, and 'Umar confirmed Mu'awiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال 18 ہجری میں ، شام میں ہوا تھا ، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16162

Majma al-Zawaid #16162

عَنْ يَاسِرِ بْنِ سُوَيْدٍ الْجُهَنِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَّهَهُ فِي خَيْلٍ أَوْ سَرِيَّةٍ وَامْرَأَتُهُ حَامِلٌ، فَوَلَدَتْ لَهُ مَوْلُودًا، فَحَمَلَتْهُ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وُلِدَ هَذَا الْمَوْلُودُ وَأَبَوْهُ فِي الْخَيْلِ فَسَمِّهِ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ كَثِّرْ رِجَالَهُمْ، وَأَقِلَّ آيَامَاهُمْ، وَلَا تُحْوِجْهُمْ، وَلَا تُرِ أَحْدَاثَهُمْ خَصَاصَةً "". فَقَالَ: "" سَمِّهِ مُسْرِعًا؛ فَقَدْ أَسْرَعَ فِي الْإِسْلَامِ، فَهُوَ مُسْرِعُ بْنُ يَاسِرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Yasir ibn Suwayd al-Juhani reports that the Messenger of Allah ﷺ dispatched him with cavalry while his wife was with child, she bore him a son, and his mother carried him to the Messenger of Allah ﷺ asking him to name the newborn whose father stood in the cavalry. The Prophet ﷺ took him, passed his hand over him, prayed Allah multiply their men, lessen their widows, leave them needless, and let their youth see no poverty, then bade them name him Musri', for he hastened into Islam, Musri' ibn Yasir. > **"O Allah, multiply their men, lessen their widows, leave them needless, and let their youth see no poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یاسر بن سوید جہنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک جنگی مہم پر بھیجا ، ان کی بیوی حاملہ تھی ، انہوں نے بچے کو جنم دیا ، اس بچے کی ماں انہیں اٹھا کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور بولی : یا رسول اللہ ! یہ بچہ پیدا ہوا ہے ، اس کے والد جنگ پر گئے ہوئے ہیں ، آپ اس کا نام تجویز کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کو لیا ، آپ نے اپنے دست مبارک کو اس پر پھیرا اور فرمایا : اے اللہ ! ان کے مردوں کو بکثرت کر دے اور ان کی پریشانیوں کو کم کر دے اور انہیں حاجت کا شکار نہ کرنا ، اور تو ان کے بچوں کو بھوک نہ دکھانا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بچے کا نام ’’ مسرع “ رکھو ، کیونکہ یہ اسلام کی طرف جلدی سے آیا ہے ، تو یہ مسرع بن یاسر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16163

Majma al-Zawaid #16163

عَنْ حَسَّانَ بْنِ شَدَّادٍ: «أَنَّ أُمَّهُ وَفَدَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَفَدْتُ إِلَيْكَ ; لِتَدْعُوَ لِبُنَيَّ هَذَا أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ بَرَكَةً، وَأَنْ يَجْعَلَهُ طَيِّبًا كَثِيرًا، فَتَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِ وُضُوئِهِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهَا فِيهِ، وَاجْعَلْهُ كَثِيرًا طَيِّبًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Hassan ibn Shaddad reported that his mother came as part of a delegation to the Prophet ﷺ and asked him to supplicate for blessing and abundant goodness for her young son. The Prophet ﷺ performed ablution from the remainder of his ablution water, wiped the boy's face, and supplicated for him. > **"O Allah, bless her in him, and make him abundant and good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حسان بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُن کی والدہ وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں وفد کے ساتھ آپ کی خدمت میں آئی ہوں ، تاکہ آپ میرے اس بیٹے کے لئے دعا کریں ، تاکہ اللہ تعالیٰ اسے برکت نصیب کرے اور اسے بہت زیادہ پاکیزگی عطا کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے وضو کے بچے ہوئے پانی کے ذریعے وضو کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! اس خاتون کے لئے اس بچے میں برکت رکھ دے اور اس بچے کو بہت زیادہ پاکیزہ بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16164

Majma al-Zawaid #16164

عَنْ إِسْحَاقَ أَبِي الْحَارِثِ قَالَ: «رَأَيْتُ حَشْرَجَ رَجُلًا أَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ، وَمَسَحَ رَأَسَهُ، وَدَعَا لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو الْحَارِثِ قِيلَ فِيهِ: إِنَّهُ مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ishaq Abu al-Harith said he saw Hashraj, a man whom the Prophet ﷺ had taken and placed in his lap, wiped his head, and supplicated for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق ابوحارث بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حشرج رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک ایسے فرد تھے کہ جنہیں نبی اکرم ﷺ نے پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا تھا ، پھر آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لئے دعا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن حارث ابوحارث نامی کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ مجہول ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16165

Majma al-Zawaid #16165

عَنْ سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ تَمِيمٍ - قَالَ: «قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ بَنُوكَ؟ "". قُلْتُ: هَا هُمْ أُولَاءِ. قَالَ: "" فَائْتِنِي بِهِمْ "". قَالَ: فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَأَلْبَسْتُهُمْ قُمُصًا بَيْضَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِمْ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُمْ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالضَّلَالَةِ، وَالْفَقْرِ، الَّذِي يُصِيبُ بَنِي آدَمَ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id, meaning Ibn Tamim, said the Prophet ﷺ asked him where his sons were, told him to bring them, and he dressed them in white shirts and brought them. The Prophet ﷺ then sought refuge for them with Allah. > **"O Allah, I seek refuge with You for them from disbelief, misguidance, and the poverty that afflicts the children of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن تمیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارے بچے کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کی : وہ یہاں ہیں ، وہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم انہیں میرے پاس لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اپنی بیوی کے پاس آیا ، میں نے ان بچوں کو سفید لباس پہنایا ، پھر میں انہیں لے کر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں انہیں کفر ، گمراہی اور غربت کے حوالے سے ، جو بنی آدم کو لاحق ہوتے ہیں ، اُن کے حوالے سے ان کو تیری پناہ سے میں دیتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16166

Majma al-Zawaid #16166

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ: أَيُّ النَّاسِ أَفْصَحُ؟ قَالُوا: سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mus'ab ibn Sa'd said Uthman رضي الله عنه asked who among the people was most eloquent, and those present said it was Sa'id ibn al-As رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعید بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : لوگوں میں کون سب سے زیادہ فصیح ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16167

Majma al-Zawaid #16167

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أَثَالٍ أَسْلَمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْطَلِقَ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ فَيَغْتَسِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ ""». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" قَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reported that Thumama ibn Athal رضي الله عنه accepted Islam, so the Prophet ﷺ ordered him to go to the garden of Abu Talha رضي الله عنه and bathe there. The Messenger of Allah ﷺ then praised the goodness of his Islam. > **"Your companion's Islam has become good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں جا کر وہاں غسل کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16168

Majma al-Zawaid #16168

عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ لَهُ كِتَابًا بِالْوَصَاةِ إِلَى مَنْ بَعْدَهُ مِنْ وُلَاةِ الْأَمْرِ [وَخَتَمَ عَلَيْهِ]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muslim ibn al-Harith رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ wrote for him a letter containing counsel to the rulers who would come after him, and sealed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسلم بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے ایک مکتوب تحریر کروایا تھا ، جس میں بعد میں آنے والے حکمرانوں کے لئے تلقین تھی اور اس مکتوب پر مہر لگوائی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16169

Majma al-Zawaid #16169

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَدْيِ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه said whoever is pleased to look at the conduct of the Messenger of Allah ﷺ should look at the conduct of Amr ibn al-Aswad رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے طور طریقوں کو دیکھے ، تو اسے عمرو بن اسود کے طور طریقوں کو دیکھ لینا چاہیے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔