Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 46

Book of Virtues and Merits

Hadith 16090–16129

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16090

Majma al-Zawaid #16090

«عَنْ أَبِي نُحَيْلَةَ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ رُمِيَ بِسَهْمٍ، فَقِيلَ لَهُ: انْزِعْهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْقِصْ مِنَ الْوَجَعِ وَلَا تُنْقِصْ مِنَ الْأَجْرِ، فَقِيلَ لَهُ: ادْعُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، وَاجْعَلْ أُمِّي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Nuhaylah, a Companion of the Prophet ﷺ, reports that he was struck by an arrow and when told to pull it out he prayed Allah to lessen the pain without lessening the reward, and when told to supplicate he prayed to be made of the near ones and his mother of the houris. > **"O Allah, lessen the pain but lessen not the reward; O Allah, make me of the near ones and make my mother of the houris."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابونحیلہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ، اُن سے یہ بات منقول ہے : انہیں ایک تیر لگا ، ان سے کہا گیا : آپ اسے نکال دیں ، تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! تو تکلیف کو کم کر دے ، لیکن تو اجر کو کم نہ کرنا ، اُن سے کہا گیا : دعا کیجئے ، تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! تو مجھے مقرب لوگوں میں شامل کر دے اور میری والدہ کو حورعین میں شامل کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16091

Majma al-Zawaid #16091

عَنْ بَشِيرٍ قَالَ: «كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي، فَقَالَ لِي: "" يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -؟ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - آخِذًا بِيَدِهِ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا؛ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - كُلَّ خَيْرٍ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُلَّ خَيْرٍ صَنَعَ اللَّهُ لِي. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Bashir reports that he walked with the Messenger of Allah ﷺ holding his hand, and the Prophet ﷺ asked him, O son of al-Khasasiyah, what complaint he had against Allah that morning, walking with His Messenger holding his hand; he replied he held no complaint, for Allah had granted him every good. > **"O son of al-Khasasiyah, what complaint have you against Allah this morning, walking with His Messenger holding his hand?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن خصاصیہ ! تمہیں اللہ تعالیٰ پر کس بات کا اعتراض ہے ؟ کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : مجھے اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا اعتراض نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کی بھلائی عطا کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کی بھلائی عطا کی ہے ‘‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خالد بن سمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16092

Majma al-Zawaid #16092

عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْبَكْرِيِّ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ: «انْطَلَقَ بِي أَهْلِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي. قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا عَطِيَّةَ أَسْوَدَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، وَكَانَتْ قَدْ أَتَتْ عَلَيْهِ مِائَةُ سَنَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu 'Atiyyah al-Bakri Bakr ibn Wa'il reports that his family took him to the Prophet ﷺ while he was a young lad, and he wiped his head; thereafter Abu 'Atiyyah was seen black of head and beard though a hundred years had passed over him. > **"The Prophet ﷺ wiped my head while I was a young lad, and it never greyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعطیہ بکری رضی اللہ عنہ جو بکر بن وائل سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے اہل خانہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے ، میں کمسن لڑکا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوعطیہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ اُن کے سر کے اور داڑھی کے بال سیاہ تھے ، حالانکہ ان کی عمر ایک سو سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16093

Majma al-Zawaid #16093

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ تَسْبِقُهُ بَعْضُ أَعْضَائِهِ إِلَى الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Ali reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever wishes to look at a man whose limb precedes him to Paradise should look at Zayd ibn Suhan. > **"Whoever wishes to look at a man whose limb precedes him to Paradise, let him look at Zayd ibn Suhan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھے ، جس کے اعضاء میں سے کوئی عضو ، جنت کی طرف اس سے سبقت لے جا چکا ہے ، تو اسے زید بن صوحان کو دیکھ لینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16094

Majma al-Zawaid #16094

عَنْ أَبِي جُمْعَةِ: جُنْبَذِ بْنِ سَبْعٍ قَالَ: «قَاتَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَ النَّهَارِ كَافِرًا، وَقَاتَلْتُ مَعَهُ آخِرَ النَّهَارِ مُسْلِمًا، وَكُنَّا ثَلَاثَةَ رِجَالٍ وَسَبْعَ نِسْوَةٍ، وَفِينَا نَزَلَتْ: "" {وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ} [الفتح: 25] "" الْآيَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Jum'ah Junbadh ibn Sab' reports that he fought the Prophet ﷺ at the start of the day a disbeliever and fought with him at its end a Muslim, that they were three men and seven women, and concerning them was revealed the verse that were it not for believing men and believing women. > **"Were it not for believing men and believing women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجمعہ جنبذ بن سبع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دن کے ابتدائی حصے میں کافر ہونے کے عالم میں ، نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا ، اور دن کے آخری حصے میں مسلمان ہونے کے طور پر آپ کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا ، ہم تین افراد تھے اور سات خواتین تھیں ، ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اگر مومن مرد اور مومن خواتین نہ ہوتے .......‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16095

Majma al-Zawaid #16095

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَكَانَ كُلَّمَا بَقِيَ شَيْءٌ حَمَلَهُ عَلَيَّ، وَسَمَّانِي الزَّامِلَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah reports that he was with the Prophet ﷺ on a journey, and whenever anything remained over he would load it upon him, naming him al-Zamilah, the ready mount. > **"Whenever anything remained over, he loaded it upon me and named me al-Zamilah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر میں ، میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، جب بھی کوئی چیز باقی بچتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ وہ مجھ سے اُٹھوا لیتے تھے ، آپ نے میرا نام ’’ زاملہ ‘‘ رکھا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16096

Majma al-Zawaid #16096

عَنْ أَبِي الْفِيلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَسُبُّوا مَاعِزًا ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Fil reports that the Messenger of Allah ﷺ said do not revile Ma'iz. > **"Do not revile Ma'iz."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ماعز کو برا نہ کہو !‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبداللہ بن ابوثور ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16097

Majma al-Zawaid #16097

عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: «سَأَلْتُ أَبِي - عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ -: أَيُّ شَيْءٍ تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنَّهُ أَخَذَنِي وَأَنَا خُمَاسِيٌّ أَوْ سُدَاسِيٌّ، فَأَجْلَسَنِي فِي حِجْرِهِ، وَغَسَلَ رَأْسِي بِيَدِهِ، وَدَعَا لِي وَلِذُرِّيَّتِي مِنْ بَعْدِي بِالْبَرَكَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ فِيهِ: وَمَسَحَ رَأْسِي، بَدَلَ: غَسَلَ. وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Hamzah ibn 'Abdullah ibn 'Utbah reports that he asked his father 'Abdullah ibn 'Utbah ibn Mas'ud what he remembered of the Messenger of Allah ﷺ, and he recalled that he took him while a boy of five or six, seated him in his lap, washed his head with his hand, in another wording wiped it, and supplicated blessing for him and his progeny after him. > **"He seated me in his lap, wiped my head, and supplicated blessing for me and my progeny."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا چیز یاد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے پکڑا ، میں اس وقت پانچ یا شاید چھ سال کا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میرے سر کو دھویا اور میرے لئے اور میرے بعد میری ذریت کے لئے برکت کی دعا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں سر کو دھونے کی بجائے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرے سر پر مسح کیا ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16098

Majma al-Zawaid #16098

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَمَا أَنْسَى وَضْعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى رَأْسِي حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا، فَدَعَا لِي وَبَارَكَ عَلَيَّ، فَرَأَيْتُهُ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَفْرُقَ رَأْسَهُ مِنْ كِبَرِهِ، وَكَانَ يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Hilal al-Ansari reports that his father took him to the Prophet ﷺ asking him to supplicate for him, and he never forgot the Prophet ﷺ placing his hand upon his head till he felt its coolness; he supplicated for him and blessed him, and he lived white of head and beard, unable from age to part his hair, fasting by day and standing by night. > **"I never forgot the coolness of the hand of the Messenger of Allah ﷺ upon my head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ہلال انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کے لئے دعا کیجئے ، راوی کہتے ہیں : میں یہ بات نہیں بھولا کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے محسوس کی تھی ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے برکت کی دعا کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے بال سفید تھے اور عمر رسیدگی کی وجہ سے وہ اپنے سر میں مانگ نہیں نکال سکتے تھے ، وہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھتے تھے اور رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16099

Majma al-Zawaid #16099

عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: «كَانَ غُلَامٌ بِالْمَدِينَةِ يُكَنَّى أَبَا مُصْعَبٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ سُنْبُلٌ، فَفَرَكَ سُنْبُلَةً، ثُمَّ نَفَخَهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهِ فَأَكَلَهَا، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُعَيِّرُ مَنْ يَأْكُلُ فَرِيكَةَ السُّنْبُلِ، فَلَمَّا دَفَعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ لَمْ يَرُدَّهَا عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ: ثُمَّ قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: "" مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا؟ "". قُلْتُ: لَا أَحَدَ قَالَ: "" أَفْعَلُ "". فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي قَالَ: "" أَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ "". فَأَتَيْتُ أُمِّي فَسَأَلَتْنِي، فَقُلْتُ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِسُنْبُلٍ، فَفَرَكَ مِنْهُ سُنْبُلَةً بِيَدَيْهِ الْمُبَارَكَتَيْنِ، ثُمَّ نَفَخَهُ بِرِيقِهِ الْمُبَارَكِ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيَّ فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّهُ، فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَدَعَا لِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَوَّلُهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مُرْسَلًا فِي أَثْنَاءِ الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Malik ibn 'Umayr reports that a Madinan lad kunya'd Abu Mus'ab came to the Prophet ﷺ with ears of grain before him; he rubbed an ear, blew upon it, and handed it to him to eat, and though the Ansar mocked whoever ate the rubbed grain, the lad would not return what the Prophet ﷺ handed him. He stepped away, returned, and asked the Messenger of Allah ﷺ to supplicate that Allah place him with him in Paradise; asked who taught him this, he said no one, the Prophet ﷺ said he shall, and when he turned bade him help him with much prostration. He told his mother he had eaten from his blessed hands and blessed saliva and would not refuse it, and she praised him, and he returned and he supplicated for him. > **"Help me for yourself with much prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ایک لڑکا تھا ، جس کی کنیت ابومصعب تھی ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس وقت سنبل پڑی ہوئی تھی ، آپ نے اس سنبل کو چیرا ، پھر آپ نے اس میں دم کیا اور پھر وہ لڑکے کو دیدی ، اُس نے اس کو کھا لیا ، انصار اس بات کو عار کا باعث سمجھتے تھے کہ جو شخص سنبل کے چھلکے کو کھا لے ، جب نبی اکرم ﷺ نے وہ چیز اس کو دیدی ، تو اس لڑکے نے اسے واپس نہیں کیا ۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اُٹھا ، ابھی زیادہ دیر دور نہیں گیا تھا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے یہ دعا کیجئے کہ وہ جنت میں ، مجھے آپ کے ساتھ رکھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے ؟ میں نے جواب دیا : کسی نے نہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ایسا کر دوں گا ، جب میں وہاں سے مڑ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : بکثرت سجدہ کر کے اپنی ذات کے بارے میں میری مدد کرنا ۔ راوی کہتے ہیں : میں اپنی والدہ کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ، تو میں نے بتایا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، ایک سنبل لائی گئی ، نبی اکرم ﷺ نے اس کو چیرا ، اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کے ذریعے اس میں اپنا مبارک لعاب دہن ڈالا اور پھر وہ میرے سپرد کر دی ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس کو واپس کرتا ، تو میری والدہ نے کہا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، راوی کہتے ہیں پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے دعا دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کا ابتدائی حصہ یوں لگتا ہے جیسے ’’ مرسل ‘‘ ہے ، راوی کہتے ہیں : حضرت ابومصعب بیان کرتے ہیں ۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے ان سے سماع کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالوت بن عباد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16100

Majma al-Zawaid #16100

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ الطَّائِفِ تَدَلَّيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَكْرَةَ، فَقَالَ: "" أَنْتَ أَبُو بَكْرَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو الْمِنْهَالِ الْبَكْرَاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah reports that on the day of al-Ta'if he let himself down to the Messenger of Allah ﷺ by a pulley, and he declared him Abu Bakrah. > **"You are Abu Bakrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( غزوہ ) طائف کے دن ، میں صبح کے وقت رسی لٹکا کر آ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ابوبکرہ ( یعنی رسی والے ) ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومنہال بکراوی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16101

Majma al-Zawaid #16101

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ: «أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ: حُمَمَةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ حُمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ، فَإِنْ كَانَ حُمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ بِصِدْقِهِ، وَإِنْ كَانَ كَارِهًا فَأَعْزِمْ لَهُ وَإِنْ كَرِهَ، اللَّهُمَّ لَا يَرْجِعُ حُمَمَةُ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا، فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ - قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: الْبَطْنُ - فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ. قَالَ: فَقَامَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا بَلَغَ عِلْمُنَا إِلَّا أَنَّ حُمَمَةَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn 'Abd al-Rahman al-Himyari reports that Humamah, a Companion of the Prophet ﷺ, went out raiding to Isfahan in the caliphate of 'Umar and prayed that if his claim to love meeting Allah is true He decree it for his truthfulness, and if reluctant decree it though he dislike, and that Humamah never return from that journey; seizure took him, 'Affan once said the belly, and he died in Isfahan. Abu Musa rose and declared to the people that by Allah, of all they heard from their Prophet ﷺ, Humamah is naught but a martyr. > **"O Allah, Humamah claims to love meeting You; if Humamah is truthful then decree it for his truthfulness, and if reluctant then decree it though he dislike."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن حمیری بیان کرتے ہیں : ایک صاحب تھے جن کا نام حضرت حممہ رضی اللہ عنہ تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ اصبہان کی طرف جنگ میں حصہ لینے کے لئے تشریف لے گئے ، انہوں نے دعا کی اے اللہ ! حممہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ تیری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، تو اگر حممہ اس بات میں سچا ہے ، تو اس کی سچائی کو اس کے لئے پختہ کر دے ، اور اگر وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے ، تو پھر بھی اس کے لئے اس بات کو پختہ کر دے ، اگرچہ وہ اس کو ناپسند کرتا ہو ، اے اللہ ! حممہ اپنے اس سفر سے واپس نہ جائے ، راوی کہتے ہیں : تو موت نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ، ان کا انتقال اصبہان میں ہوا ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! ہم نے تمہارے نبی سے جو باتیں بھی سیکھی ہیں ، اور ہمیں جو بھی علم حاصل ہوا ہے ، اُس کے مطابق ’’ حممہ “ شہید شمار ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف داؤد بن عبدالله اودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16102

Majma al-Zawaid #16102

عَنْ عَوْفِ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ: «وَفَدَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مَعَهُ غُلَيْمٌ، وَأَمَرَ لِكُلِّ رَجُلٍ بِبُرْدَيْنِ وَأَمَرَ لِي بِبُرْدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَاعَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَحَدَ بُرْدَيْهِ - يَعْنِي فَاشْتَرَيْتُهُ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بُرْدَيْنِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَالَ: "" مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذِهِ؟ "". قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا مِنْ فُلَانٍ قَالَ: "" أَنْتَ كُنْتَ أَحَقَّ مِنْهُ؛ إِذْ ضَيَّعَ مَا أَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Awf ibn al-Qa'qa' reports that his father delegated to the Prophet ﷺ with him a lad, and the Prophet ﷺ ordered every man two cloaks and him one; on the return one of them sold a cloak of his, which he bought, and when he came to the Prophet ﷺ in two cloaks he looked at him and asked whence they came. He said he bought it of so-and-so, and the Prophet ﷺ replied he was worthier of it than the one who wasted what the Messenger of Allah ﷺ gave him. > **"You were worthier of it than he, for he wasted what the Messenger of Allah ﷺ gave him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن قعقاع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گئے ، میں ان کے ساتھ تھا اور کمسن لڑکا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ہر فرد کو دو چادریں دینے کا حکم دیا اور مجھے ایک چادر دینے کا حکم دیا ، جب ہم وہاں سے واپس اُٹھ کے آئے تو ان میں سے ایک شخص نے اپنی دو چادروں میں سے ایک چادر فروخت کر دی ، میں نے وہ چادر خرید لی ، پھر میں دو چادریں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا اور دریافت کیا : یہ تمہیں کہاں سے ملی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے فلاں شخص سے خرید لی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے زیادہ حق دار تھے ، کیونکہ اس شخص نے تو اس چیز کو ضائع کر دیا ، جو اللہ کے رسول ﷺ نے اُسے دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16103

Majma al-Zawaid #16103

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ: قَالَ لَقِيطُ بْنُ أَرْطَاةَ السُّكُونِيُّ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِجْلَايَ مُعْوَجَّتَانِ لَا تَمَسَّانِ الْأَرْضَ، فَدَعَا لِي، فَمَشَيْتُ عَلَى الْأَرْضِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ نَصْرِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ جُنَادَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn 'A'idh reports that Laqit ibn Artah al-Sakuni came to the Prophet ﷺ with crooked legs that touched not the ground, and he supplicated for him so that he walked upon the earth. > **"He supplicated for him, and he walked upon the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں : حضرت لقيط بن ارطاۃ سکونی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میری دونوں ٹانگیں ٹیڑھی تھیں ، وہ زمین کو سیدھی طرح مس نہیں کر سکتی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے دعا دی تو میں زمین پر چلنے کے قابل ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نصر بن خزیمہ بن جنادہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16104

Majma al-Zawaid #16104

«عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ يُقَالُ لَهُ: قُرَّةُ بْنُ هُبَيْرَةَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ لَنَا أَرْبَابٌ وَرَبَّاتٌ نَعْبُدُهُنَّ مِنْ دُونِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَدَعَوْنَاهُنَّ فَلَمْ يُجِبْنَ، وَسَأَلْنَاهُنَّ فَلَمْ يُعْطِينَ، فَجِئْنَاكَ فَهَدَانَا اللَّهُ بِكَ، فَنَحْنُ نَعْبُدُ اللَّهَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَفْلَحَ مَنْ رُزِقَ لُبًّا "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْبِسْنِي ثَوْبَيْنِ مِنْ ثِيَابِكَ قَدْ لَبِسْتَهُمَا. فَكَسَاهُ، فَلَمَّا كَانَ بِالْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَاتٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَعِدْ عَلَيَّ مَقَالَتَكَ "". فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَفْلَحَ مَنْ رُزِقَ لُبًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A man of Banu Qushayr called Qurrah ibn Hubayrah reports that he came to the Prophet ﷺ telling him they had lords and ladies they worshipped besides Allah, who answered not nor gave when asked, so they came and Allah guided them through him to worship Allah alone; the Messenger of Allah ﷺ declared he prospers who is granted understanding. He asked to be clothed in two garments the Prophet ﷺ had worn, was clothed, and at the standing of 'Arafat the Messenger of Allah ﷺ bade him repeat his account, he repeated it, and he declared again his prosperity. > **"He prospers who is granted understanding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو قشیر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام حضرت قرہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا : پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہمارے دوسرے مذکر اور مؤنث رب ہوتے تھے ، ہم انہیں پکارتے تھے وہ ہمیں جواب نہیں دیتے تھے ، ہم ان سے مانگتے تھے وہ کچھ نہیں دیتے تھے ، تو ہم آپ کے پاس آئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے ہمیں ہدایت نصیب کی ، تو ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص کامیاب ہو گیا جسے سمجھ داری عطا کر دی گئی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا لباس مجھے پہننے کے لئے دے دیں ، جو آپ نے پہنا ہوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ انہیں دے دیا ، عرفات میں جب آپ وقوف کیے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ ! انہوں نے اپنی بات نبی اکرم ﷺ کے سامنے دہرائی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا جسے سمجھ بوجھ عطا کر دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16105

Majma al-Zawaid #16105

عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: «نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ الظَّهْرَانِ قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنْ خِبَائِي، فَإِذَا نِسْوَةٌ يَتَحَدَّثْنَ، فَأَعْجَبَنِي، فَرَجَعْتُ فَاسْتَخْرَجْتُ عَيْبَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا حُلَّةً فَلَبِسْتُهَا، وَجِئْتُ فَجَلَسْتُ مَعَهُنَّ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَبَا عَبْدِ اللَّهِ "". فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِبْتُهُ وَاخْتَلَطْتُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَمَلٌ لِي شَرَدَ وَأَنَا أَبْتَغِي لَهُ قَيْدًا، فَمَضَى وَاتَّبَعْتُهُ، فَأَلْقَى إِلَيَّ رِدَاءَهُ وَدَخَلَ الْأَرَاكَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ مَتْنِهِ فِي خُضْرَةِ الْأَرَاكِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ، وَأَقْبَلَ وَالْمَاءُ يَسِيلُ مِنْ لِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ: "" أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا فَعَلَ شِرَادُ جَمَلِكَ؟ "". ثُمَّ ارْتَحَلْنَا، فَجَعَلَ لَا يَلْحَقُنِي فِي الْمَسِيرِ إِلَّا قَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا فَعَلَ شِرَادُ ذَلِكَ الْجَمَلِ؟ "". فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَعَجَّلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَاجْتَنَبْتُ الْمَسْجِدَ وَمُجَالَسَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَحَيَّنْتُ سَاعَةَ خَلْوَةِ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَقُمْتُ أَصَلِّي، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَجَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، وَطَوَّلْتُ رَجَاءَ أَنْ يَذْهَبَ وَيَدَعَنِي، فَقَالَ: "" طَوِّلْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا شِئْتَ أَنْ تُطَوِّلَ فَلَسْتُ قَائِمًا حَتَّى تَنْصَرِفَ "". فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ لَأَعْتَذِرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَأُبَرِّئَنَّ صَدْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفْتُ قَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا فَعَلَ شِرَادُ جَمَلِكَ؟ "". فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا شَرَدَ ذَلِكَ الْجَمَلُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ: "" رَحِمَكَ اللَّهُ "" - ثَلَاثًا - ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْجَرَّاحِ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Khawwat ibn Jubayr reports that they halted with the Messenger of Allah ﷺ at Marr al-Zahran, he came out of his tent to find women conversing, was taken with them, returned for his baggage, donned a fine suit, and sat among them. The Messenger of Allah ﷺ came out calling him Aba 'Abdullah; seized with awe and confusion he excused himself that a camel of his had strayed and he sought a shackle for it. The Prophet ﷺ moved on with him following, handed him his cloak, entered the arak thicket with the whiteness of his back showing through its green, relieved himself, performed ablution, and returned with water dripping from his beard upon his chest, asking after the stray camel. On the march none overtook him but greeted him and asked after that camel, till he hastened to Madinah avoiding the mosque and the Prophet's company. When that lengthened he watched for an empty hour, came to pray, and the Messenger of Allah ﷺ emerged from a chamber, prayed two light rak'ahs, while he lengthened hoping he would leave him; he bade him prolong as he wished, for he would not rise till he finished. He resolved to clear the Prophet's heart, and when he finished and was asked again after his camel he swore by the One who sent him with truth that no camel of his had strayed since he embraced Islam, and the Prophet ﷺ thrice invoked Allah's mercy upon him and never returned to the matter. > **"May Allah have mercy on you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ” مرالظہران ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، راوی کہتے ہیں : میں اپنے خیمے سے نکل کے آیا ، وہاں کچھ خواتین بات چیت کر رہی تھیں ، مجھے یہ بات اچھی لگی ، میں واپس گیا ، میں نے اپنا تھیلا نکالا ، اس میں سے عمدہ لباس نکالا اور اسے پہن لیا ، پھر میں آیا اور ان خواتین کے پاس بیٹھ گیا ، نبی اکرم ﷺ اپنے قبے میں سے باہر تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے ابوعبدالله ! جب میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو میں ہیبت کا شکار ہو گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا اونٹ سرکش ہو گیا ہے ، میں اس کے لئے رسی تلاش کر رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے پیچھے چلا گیا ، آپ نے اپنی چادر مجھے پکڑا دی ، پھر آپ درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے ، درختوں کے سبز پتوں کے درمیان میں آپ کے جسم کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے ، آپ نے قضائے حاجت کی پھر آپ نے وضو کیا پھر آپ تشریف لائے تو آپ کی داڑھی مبارک سے پانی بہہ کر آپ کے سینے پر آ رہا تھا ، آپ نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ تمہارے اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ پھر ہم روانہ ہوئے ، راستے میں جب بھی آپ میرے پاس پہنچتے تھے تو یہی فرماتے تھے : اے ابوعبداللہ ! تم پر سلام ہو ، تمہارے اس اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں مدینہ منورہ جلدی آ گیا اور میں نے مسجد میں جانے سے اجتناب کیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کیا ، جب خاصی دیر گزر گئی تو میں ایک ایسے وقت میں مسجد میں آیا ، جس میں مسجد خالی ہوتی ہے ، میں نکل کر مسجد کی طرف آیا ، وہاں نماز ادا کرنے لگا ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ اپنے کسی حجرے سے نکلے اور تشریف لائے ، آپ نے دو مختصر رکعات ادا کیں ، میں نے نماز کو طول دیا یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ تشریف لے جائیں گے اور مجھے ایسے ہی رہنے دیں گے ، آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم جتنی چاہو میں نماز ادا کرو ، جب تک تم نماز ختم نہیں کرتے ، میں یہاں ٹھہرا ہوا ہوں ، میں نے دل میں سوچا ، اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں ضرور معذرت پیش کروں گا ، اور اللہ کے رسول ﷺ کی غلط فہمی کو ضرور ختم کروں گا ، جب میں نے نماز ختم کی تو آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم پر سلام ہو ، تمہارے اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، وہ سرکش نہیں ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر حم کرے ! پھر آپ نے دوبارہ کوئی ایسی بات نہیں دُہرائی ، جو پہلے ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رحال ہیں ، صرف جراح بن مخلد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16106

Majma al-Zawaid #16106

عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ - وَكَانَ الْحَارِثُ رَجُلًا جَسِيمًا - فَنَزَلَ إِلَيْهِ، فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى حَاذَى وَجْهَهُ بِرُكْبَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَهْوَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ وَجْهَ الْحَارِثِ، فَمَا زَالَتْ نَضِرَةٌ عَلَى وَجْهِ الْحَارِثِ حَتَّى هَلَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn 'Amr al-Sahmi reports that he came to the Prophet ﷺ in the Farewell Hajj while he rode his she-camel al-'Adba', and being a large man he dismounted, drew near till his face stood level with the Prophet's knee ﷺ, and the Prophet of Allah bowed and wiped the face of al-Harith; a radiance never left the face of al-Harith till he perished. > **"He wiped my face, and its radiance never left me till I perished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے حضرت حارث رضی اللہ عنہ خوبصورت وجیہ و شکیل شخص تھے وہ سواری سے اُتر کر نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے اور نبی اکرم ﷺ کے قریب ہو گئے ، یہاں تک کہ ان کا چہرہ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنے کے برابر آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ جھکے اور آپ نے حضرت حارث ضی اللہ عنہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت حارث رضی اللہ عنہ کے انتقال تک اُن کے چہرے پر چمک برقرار رہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16107

Majma al-Zawaid #16107

عَنِ التَّلِبِّ: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي] فَقَالَ: "" إِذَا أَذِنَ - أَوْ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ - "". قَالَ: فَغَيَّرَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ دَعَاهُ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلتَّلِبِّ وَارْحَمْهُ "" - ثَلَاثًا -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ رَوَى عَنْهُ اثْنَانِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Al-Talib reports that he came to the Prophet ﷺ asking his forgiveness, and he replied when permission is given, or till it be permitted; after what Allah willed he called him, wiped his hand over his face, and prayed thrice for his forgiveness and mercy. > **"O Allah, forgive al-Talib and have mercy upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُس وقت کروں گا جب اجازت دی جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا اور اپنا دست مبارک ان کے چہرے پر پھیرا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! تلب کی مغفرت کر دے اور اس پر رحم کر ! یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ملقام بن تلب نامی راوی سے دو افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

16108

Majma al-Zawaid #16108

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: «أَنَّ رَجُلًا - يُقَالُ لَهُ: حَرْمَلَةُ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِيمَانُ هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - وَالنِّفَاقُ هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى قَلْبِهِ - وَلَا أَذْكُرُ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّنِي، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda' reports that a man called Harmalah came to the Prophet ﷺ confessing that faith with him is here, pointing to his tongue, hypocrisy here, pointing to his heart, and he remembers Allah but little; the Prophet ﷺ supplicated that Allah grant him a remembering tongue, a grateful heart, his own love and the love of those who love him, and turn his affair to good. > **"O Allah, grant him a remembering tongue, a grateful heart, my love and the love of those who love me, and turn his affair to good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا نام حرملہ تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان یہاں ہے ، اس نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، اور منافقت یہاں ہے ، اُس نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا ، اور میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! اس کی زبان کو ذکر کرنے والا ، دل کو شکر کرنے والا بنا دے ، اور اسے میری محبت اور اس شخص کی محبت نصیب کر دے ، جو مجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف لے جا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16109

Majma al-Zawaid #16109

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ يُسَمَّى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَارِئَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي فَضْلِهِ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ فِيمَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Abi Layla reports that Sa'd ibn 'Ubayd was called al-Qari' in the time of the Messenger of Allah ﷺ. > **"Sa'd ibn 'Ubayd was called al-Qari' in the time of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن عبید رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں قاری صاحب کہا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث آگے چل کر ، ان انصار کی فضیلت کے بارے میں آئے گی ، جنہوں نے قرآن جمع کیا تھا ۔

16110

Majma al-Zawaid #16110

عَنْ عَامِرِ بْنِ لَقِيطٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَشِّرُهُ بِإِسْلَامِ قَوْمِي وَطَاعَتِهِمْ وَافِدًا إِلَيْهِ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ قَالَ: "" أَنْتَ الْوَافِدُ الْمَيْمُونُ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "". قَالَ: وَمَسَحَ نَاصِيَتِي، ثُمَّ صَافَحَنِي وَصَبَّحَهُ قَوْمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَبَى اللَّهُ لِبَنِي عَامِرٍ إِلَّا خَيْرًا، أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ نَازَعَ لَهَا لَكَانَتِ الْخِلَافَةُ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَلَكِنَّ جَدَّ قُرَيْشٍ يُزَاحِمَ لَهَا "". فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْتَ قَالَ: "" هَلْ أَطْعَمْتُمْ ضَيْفَكُمْ شَيْئًا؟ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: وَضَعْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا غَيْرُهُ قَالَ: وَرَاحَتِ الْغَنَمُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ فَتَكَرَّهْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَكِ؟ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا، إِنَّ غَنَمَنَا إِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَةِ شَاةٍ ذَبَحْنَاهَا لِأَنْفُسِنَا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

'Amir ibn Laqit al-'Amiri reports that he came to the Prophet ﷺ announcing his people's Islam and obedience as their delegate, and when he told the news the Prophet ﷺ declared him the blessed delegate and invoked Allah's blessing upon him, wiped his forelock, shook his hand, and his people greeted him in the morning. The Messenger of Allah ﷺ declared Allah refuses but good for Banu 'Amir, and by Allah were it not that the ancestor of Quraysh contends for it the caliphate would belong to Banu 'Amir ibn Sa'sa'ah, yet Quraysh's ancestor crowds them for it. Entering the house he asked whether their guest had been fed; 'A'ishah, may Allah be pleased with her, said they set dates before him having naught else. The flocks returned at evening, the Prophet ﷺ ordered a ewe slaughtered, and when dislike showed he explained they slaughtered for themselves, for when their sheep exceed a hundred they slaughter for themselves. > **"You are the blessed delegate; may Allah bless you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن لقیط عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور فرمانبرداری اختیار کرنے کی خوشخبری سنائی ، میں وافد کے طور پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، جب میں نے آپ کو اس بارے بتایا ، تو آپ نے فرمایا : تم بابرکت وافد ہو ، اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت نصیب کرے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میری قوم نے آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بنو عامر کے بارے میں صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نہ ہوتا کہ قریش کے جدامجد نے اس حوالے سے ان سے اختلاف کیا ہے ، تو خلافت بنو عامر بن صعصعہ کو ملنی تھی ، لیکن کیونکہ قریش کے جدامجد کا نسب میں ان سے اختلاف ہے ، اس لئے ایسا نہیں ہوا ، پھر جب نبی اکرم ﷺ گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے مہمان کو کچھ کھلایا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ان کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی تھیں ، ہمارے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں تھا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بکریاں آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ایک بکری کو ذبح کیا جائے ، میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کیا الجھن ہے ؟ ہم اسے اپنے لئے ذبح کر رہے ہیں ، ہماری بکریاں جب ایک سو سے ایک بھی زائد ہو جائے ، تو ہم اسے اپنے لئے ذبح کر لیتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ کذاب ہے ۔

16111

Majma al-Zawaid #16111

عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: حَاتِمُ طَيِّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْحَشْرَجِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ أَخْزَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu 'Ubayd al-Qasim ibn Sallam gives Hatim of Tayy as son of 'Abdullah ibn Sa'd ibn al-Hashraj ibn Imri' al-Qays ibn 'Adi ibn Akhzam. > **"Hatim of Tayy is son of 'Abdullah ibn Sa'd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبید قاسم بن سلام بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم طائی بن عبدالله بن سعد بن حشرج بن امرءالقيس بن عدی بن اخزم ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16112

Majma al-Zawaid #16112

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ الْكُوفَةَ، فَأَتَيْتُهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنُّبُوَّةِ وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنِ الْعَرَبِ كَانَ أَشَدَّ لَهُ بُغْضًا، وَلَا أَشَدَّ كَرَاهِيَةً لَهُ مِنِّي، حَتَّى خَرَجْتُ فَلَحِقْتُ بِالرُّومِ؛ فَتَنَصَّرْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا بَلَغَنِي مَا يَدْعُو إِلَيْهِ مِنَ الْأَخْلَاقِ الْحَسَنَةِ، وَمَا قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنَ النَّاسِ، ارْتَحَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَوَقَفْتُ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ صُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ، فَقَالَ: "" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ "". فَقُلْتُ: أَخٍ أَخٍ فَأَنَخْتُ، فَجَلَسْتُ وَأَلْزَقْتُ رُكْبَتِي بِرُكْبَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ وَحُلْوِهِ وَمُرِّهِ، يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْتِيَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ "". - وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ كُوفَةُ - "" حَتَّى تَطُوفَ بِهَذِهِ الْكَعْبَةِ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَحْمِلَ جِرَابَ الْمَالِ، فَتَطُوفَ بِهِ فَلَا تَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ، فَتَضْرِبُ بِهِ الْأَرْضَ فَتَقُولُ: لَيْتَكَ لَمْ تَكُنْ، لَيْتَكَ كُنْتَ تُرَابًا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ يَسِيرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi reports that he visited 'Adi ibn Hatim al-Ta'i at Kufah with Kufans asking for a hadith heard from the Messenger of Allah ﷺ, and 'Adi told them none of the Arabs bore the Prophet ﷺ fiercer hatred than he, till he fled to Rome and Christianized there; when word reached him of the fine character he summoned and the multitudes gathering to him, he journeyed to him, halted beside him where Suhayb, Bilal, and Salman sat, and the Prophet ﷺ bade him embrace Islam and be safe. He cried brother, brother, couched his camel, sat knee to knee, and asked what Islam is; he answered belief in Allah, His angels, His books, His messengers, and the decree, its good and evil, its sweet and bitter, then foretold that the Hour shall not rise till the lone woman journeys from al-Hirah, no Kufah then, circling this Ka'bah with no guard, and till a man carries a bag of wealth about finding none to accept it, striking the earth with it and wishing it had never been, wishing it were dust. > **"O 'Adi ibn Hatim, embrace Islam and be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے ، میں اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم نے ان سے کہا : آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو , تو انہوں نے بتایا : ’’ جب نبی اکرم ﷺ کو نبوت کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ، تو میرے علم کے مطابق عربوں میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے ، جو مجھ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کو ناپسند کرتا ہو اور مجھ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کو ناگوار سمجھتا ہو ، یہاں تک کہ میں اپنے علاقے سے نکلا اور رومیوں کے ساتھ جا کے مل گیا ، میں نے عیسائیت اختیار کر لی ، جب مجھے یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم ﷺ کن اچھے اخلاق کی طرف دعوت دیتے ہیں ، لوگ کس طرح ان کے اردگرد اکٹھے ہو رہے ہیں ، تو میں سوار ہوا اور آپ کے پاس آیا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس صہیب ، بلال ، سلمان موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عدی بن حاتم اسلام قبول کر لو ، تم سلامت رہو گے میں نے کہا : اُخ اُخ ، پھر میں نے سواری کو بٹھایا اور پھر میں بیٹھ گیا ، میرا گھٹنا نبی اکرم ﷺ کے گھٹنے سے مس کر رہا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو اور تم تقدیر پر ایمان رکھو ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ، اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح نہیں ہو جائیں گے ، اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کوئی عورت ’’ حیرہ ‘‘ سے چل کر ، بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے آ جائے گی اور اسے کوئی اندیشہ نہیں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ان دنوں کوفہ تو ہوتا ہی نہیں تھا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک ( یہ نہیں ہو گا کہ ) تم مال کا تھیلا لے کر نکلو گے ، اور چکر لگاؤ گے ، لیکن تمہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جو اس کو قبول کرے ، تو تم اس مال کو زمین پر مار کر یہ کہو گے : کاش ! تم اس سے پہلے ہوتے ہی نہیں ، یا کاش تم اس سے پہلے مٹی ہو چکے ہوتے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا معمولی سا حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدلاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔

16113

Majma al-Zawaid #16113

وَعَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ يُكَنَّى أَبَا طَرِيفٍ، تُوُفِّيَ بِالْكُوفَةِ زَمَنَ الْمُخْتَارِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Harun ibn 'Abdullah al-Hammal reports that 'Adi ibn Hatim al-Ta'i, kunyah Abu Tarif, died at Kufah in the days of al-Mukhtar in the year sixty-eight. > **"'Adi ibn Hatim died at Kufah in the year sixty-eight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں : حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوطریف تھی ، ان کی وفات مختار کے زمانے میں 68 ہجری میں کوفہ میں ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16114

Majma al-Zawaid #16114

عَنْ حَسَّانَ - مَوْلَى مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ - وَكَانَ مَالِكٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: رَأَيْتُ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ، وَكَانَ فِي سَاقِهِ عِرْقٌ مَكْتُوبٌ "" لِلَّهِ ""، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَيَّ شَيْءٍ تَنْظُرُ؟ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْتُبْ كَاتِبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَحَسَّانُ، وَأَبُو سَلَمَةَ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hassan, freedman of Malik ibn 'Abdullah al-Khath'ami, a Companion of the Prophet ﷺ, reports that he saw Malik performing ablution with a vein in his leg inscribed to Allah, and as he gazed Malik asked what he looked at, for no scribe had written it. > **"What are you looking at? No scribe wrote it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عبداللہ خشعمی رضی اللہ عنہ کے غلام ، حسان بیان کرتے ہیں : حضرت مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت مالک بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، اُن کی پنڈلی کی ایک رگ پر لفظ ’’ اللہ ‘‘ لکھا ہوا تھا ، میں غور سے اس کی طرف دیکھنے لگا ، تو انہوں نے کہا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ یہ کسی کاتب نے نہیں لکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حسان نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والے فرد ابوسلمہ ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16115

Majma al-Zawaid #16115

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ قَالَ: «قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ. وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reports that Qays ibn 'Asim al-Minqari told him he came to the Messenger of Allah ﷺ, and when he saw him he heard him say this is the chief of the people of the tents. > **"This is the chief of the people of the tents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : میں ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ یہ اونٹ والوں کا سردار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے اور وہ متروک ہے ۔

16116

Majma al-Zawaid #16116

«وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ: أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَاغْتَسَلَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَدَخَلَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَامَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدْ سَأَلَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ ثَلَاثِ كَلِمَاتٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ». قُلْتُ: اغْتِسَالُهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn 'Asim reports that he came to the Prophet ﷺ, who ordered him to wash with water and sidr; he washed, prayer was established, he stood between Abu Bakr and 'Umar, and when prayer ended the Prophet ﷺ declared Qays had asked him three words none asked him but Abu Bakr. > **"Qays ibn 'Asim asked me three words none asked me but Abu Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کریں ، پھر نماز کھڑی ہوئی ، تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے ، جب نماز مکمل ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیس بن عاصم نے مجھ سے تین کلمات کے بارے میں دریافت کیا ہے ، اُن کلمات کے بارے میں اور کسی نے دریافت نہیں کیا ، البتہ ابوبکر کا معاملہ مختلف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے غسل کرنے کے واقعہ کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16117

Majma al-Zawaid #16117

عَنِ الْوَاقِدَيِّ قَالَ: عِيَاضُ بْنُ تَمِيمِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي شَدَّادِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ [بْنِ فِهْرٍ]. أَسْلَمَ عِيَاضٌ قَدِيمًا قَبْلَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَشَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ بِالشَّامِ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ أَبَا عُبَيْدَةَ الْوَفَاةُ وَلَّى أَبُو عُبَيْدَةَ عِيَاضَ بْنَ تَمِيمٍ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ، فَأَقَرَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ. وَكَانَ عِيَاضٌ رَجُلًا صَالِحًا سَمْحًا، مَاتَ يَوْمَ مَاتَ وَمَا لَهُ مَالٌ، وَلَا عَلَيْهِ دَيْنٌ لِأَحَدٍ، تُوُفِّيَ بِالشَّامِ سَنَةَ عِشْرِينَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi gives 'Iyad ibn Tamim ibn Zuhayr of Dabbah of Fihr, who embraced Islam early before Hudaybiyah, witnessed it, served in Syria with Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah, was appointed by him over his office at his death, was confirmed by 'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, lived righteous and generous, and died in Syria in the year twenty at sixty, leaving no wealth and owing no debt. > **"'Iyad embraced Islam before Hudaybiyah and died in Syria in the year twenty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقدی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ بن تمیم بن زہیر بن ابوشداد بن ربیعہ بن ہلال بن ضباء بن حارث بن فہر ہیں ۔ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا ، وہ غزوہ حدیبیہ میں شریک ہوئے ، یہ شام میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ، جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا ، تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ، جو ان کی ذمہ داریاں تھیں ، ان کے حوالے سے حضرت عیاض بن تمیم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا تھا ، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ ایک نیک اور خوش اخلاق بزرگ تھے ، جب ان کا انتقال ہوا ، تو ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا اور نہ ہی ان پر کسی کا کوئی قرض تھا ، اُن کا انتقال 60 سال کی عمر میں شام میں سن 20 ہجری میں ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے واقدی تک اس کی سند حسن ہے ۔

16118

Majma al-Zawaid #16118

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَاسْتَخْلَفَ ابْنَ عَمِّهِ: عِيَاضَ بْنَ تَمِيمٍ الْفِهْرِيَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri reports that Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah died and appointed his cousin 'Iyad ibn Tamim al-Fihri after him. > **"Abu 'Ubaydah died and appointed 'Iyad ibn Tamim after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے چچازاد حضرت عیاض بن تمیم فہری رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16119

Majma al-Zawaid #16119

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: "" يَعِيشُ هَذَا الْغُلَامُ قَرْنًا "". فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ. وَكَانَ فِي وَجْهِهِ ثُؤْلُولٌ، فَقَالَ: "" لَا يَمُوتُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ "". فَلَمْ يَمُتْ حَتَّى ذَهَبَ الثُّؤْلُولُ مِنْ وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ الثُّؤْلُولِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لِيُدْرِكَنَّ قَرْنًا» "". وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Busr reports that the Messenger of Allah ﷺ placed his hand upon his head and declared the boy shall live a century, and he lived a hundred years; a wart stood upon his face, and he declared he shall not die till the wart leaves his face, and he died not till it left. > **"This boy shall live a century."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور ارشاد فرمایا : یہ لڑکا ایک صدی تک زندہ رہے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ ایک سو سال تک زندہ رہے تھے ۔ اُن کے چہرے میں دانے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کے چہرے سے دانے ختم نہیں ہو جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ان کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا ، جب تک ان کے چہرے سے دانے رخصت نہیں ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ صرف دانوں والے حصے کے ہمراہ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” یہ ایک صدی تک پہنچے گا ۔‘‘ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، صرف حسن بن ایوب حضرمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16120

Majma al-Zawaid #16120

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: «أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ، وَقَالَ: وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَيْهَا، وَقَالَ: "" لَيُدْرِكَنَّ قَرْنًا "". وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُرَجِّلُ رَأْسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ayyub al-Hadrami reports that 'Abdullah ibn Busr showed him a mole upon his head where the Messenger of Allah ﷺ had placed his hand, declaring he shall surely reach a century, and 'Abdullah would comb his head. > **"He shall surely reach a century."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن ایوب حضرمی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی مانگ میں موجود ایک مسہ دکھایا اور بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا اور یہ فرمایا تھا : یہ ایک صدی تک پہنچے گا ، راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سر میں کنگھی کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن ایوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

16121

Majma al-Zawaid #16121

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: «لَمَّا بَعَثَتْنِي أُمِّي بِقُطَفٍ، تَنَاوَلْتُ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جِئْتُ بِهِ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: "" أَيَا غُدَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْحِيرَانِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Busr reports that when his mother sent him with a cluster he nibbled from it before delivering it to the Prophet ﷺ, and when he brought it he wiped his head and cried O treacherous one. > **"O treacherous one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میری والدہ نے مجھے گچھے دے کر بھیجا ، تو میں نے انہیں نبی اکرم ﷺ تک پہنچانے سے پہلے ان میں سے کچھ کو کھا لیا ، جب میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اے ہیرا پھیری کرنے والے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بسر حیرانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16122

Majma al-Zawaid #16122

عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: «ذَهَبَتْ أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالرِّزْقِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Hurayth reports that his mother took him to the Messenger of Allah ﷺ, who wiped his head and supplicated provision for him. > **"He wiped my head and supplicated provision for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئیں ، نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ، اور میرے لئے رزق کی دعا کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

16123

Majma al-Zawaid #16123

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: ذَهَبَتْ بِي أُمِّي أَوْ أَبِي. وَرَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وَبَعْضِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording with him, his mother or father took him, and al-Tabarani transmits both wordings with sound chains. > **"His mother or his father took him to the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میری والدہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے والد مجھے ساتھ لے کر گئے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16124

Majma al-Zawaid #16124

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: كُنْتُ فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ يَوْمَ بَدْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Hurayth reports that he was in his mother's womb on the day of Badr. > **"I was in my mother's womb on the day of Badr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر میں اپنی والدہ کے پیٹ میں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

16125

Majma al-Zawaid #16125

وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: مَاتَ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ ..

EnglishUnverified translation

Abu Nu'aym reports that 'Amr ibn Hurayth died in the year eighty-five. > **"'Amr ibn Hurayth died in the year eighty-five."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونعیم بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کا انتقال 85 ہجری میں ہوا تھا ۔

16126

Majma al-Zawaid #16126

قَالَ أَبُو مُوسَى: وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَنَةً. قَالَ: وَيُكَنَّى عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ: أَبَا سَعِيدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى أَبِي نُعَيْمٍ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa reports that the Prophet ﷺ passed away when 'Amr ibn Hurayth was twelve years old, and that his kunyah is Abu Sa'id. > **"The Prophet ﷺ passed away when 'Amr ibn Hurayth was twelve years old."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوموسی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو اس وقت حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کی عمر بارہ سال تھی ۔ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوسعید تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابونعیم تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16127

Majma al-Zawaid #16127

عَنْ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّالَّةِ، فَأَسْلَمْتُ، فَمَسَحَ رَأْسِي. قَالَ: فَأَتَتْ عَلَى عَمْرٍو مِائَةُ سَنَةٍ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَأْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Tha'labah al-Juhani reports that he met the Messenger of Allah ﷺ at al-Sallah, embraced Islam, and he wiped his head; a hundred years passed over 'Amr with the spot of the Prophet's hand never greying. > **"The spot of the hand of the Prophet ﷺ never greyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن ثعلبہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :” سالہ ‘‘ کے مقام پر میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی عمر ایک سو سال ہو چکی تھی اور ان کے سر کے جس حصے پر نبی اکرم ﷺ نے دست مبارک پھیرا تھا ، وہاں کوئی بال سفید نہیں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16128

Majma al-Zawaid #16128

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرْبَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا وَلَا لَنَا زَادٌ، وَلَا لَنَا طَعَامٌ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ! فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَمَلٍ يُشِرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالُوا: أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ لَهُمْ، فَأَطْعَمْتُهُمْ وَسَقَيْتُهُمْ وَزَوَّدْتُهُمْ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: "" أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "". فَقُلْتُ: إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَدِمَائِنَا وَأَمْوَالِنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ هَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ لِي: "" يَا عَمْرُو، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ الْجَنَّةِ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ. قَالَ: "" هَذَا وَقَوْمُهُ "". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَقَالَ لِي: "" يَا عَمْرُو، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ النَّارِ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ. قَالَ: "" هَذَا وَقَوْمُهُ آيَةُ النَّارِ "". وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ. فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَرْتُ مِنْ آيَةِ النَّارِ إِلَى آيَةِ الْجَنَّةِ، وَيَرَى بَنِي أُمَيَّةَ قَاتِلِي بَعْدَ هَذَا؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ فِي حَجَرٍ فِي جَوْفِ حَجَرٍ لَاسْتَخْرَجَنِي بَنُو أُمَيَّةَ حَتَّى يَقْتُلُونِي. حَدَّثَنِي بِهِ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ رَأْسِي أَوَّلُ رَأْسٍ يُحْتَزُّ فِي الْإِسْلَامِ، وَيُنْقَلُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn al-Hamiq reports that the Messenger of Allah ﷺ dispatched his horsemen, who complained they had neither provisions nor food nor knowledge of the road; he told them they would pass a fair-faced man who would feed them, water them, guide them, and is of the people of Paradise. When the company descended upon him they gestured to one another gazing at him, announced glad tidings of Allah and His Messenger for he bore the Prophet's description, and told him his words; he fed them, watered them, provisioned them, guided them, returned to his family enjoining his camels, then went to the Messenger of Allah ﷺ asking his call. He answered the testimony that none is worshipped but Allah and he is His Messenger, prayer, zakah, pilgrimage, and the fast of Ramadan; asked whether answering secures their families, blood, and wealth, he said yes, so he embraced Islam, told his family, and many embraced through him, then emigrated to the Messenger of Allah ﷺ. One day with him the Prophet ﷺ offered to show him a sign of Paradise eating, drinking, walking the markets, and pointing to 'Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, declared him and his people it; offered to show a sign of the Fire likewise, he pointed to a man as it and his people. When strife befell he remembered the Prophet's words, fled from the sign of the Fire to the sign of Paradise, and foretold that Banu Umayyah are his killers after this, who would extract him though hidden in stone within stone, for his beloved the Messenger of Allah ﷺ told him his head is the first head severed in Islam and carried from land to land. > **"You shall pass a fair-faced man who will feed you, water you, guide you, and he is of the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی ، اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بھیج رہے ہیں ، ہمارے پاس زاد سفر بھی نہیں ہے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے اور ہمیں راستے کا بھی پتہ نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ عنقریب ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرو گے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ، وہ تمہیں کھانا کھلائے گا ، مشروب پلائے گا اور راستے کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرے گا ، اور وہ شخص اہل جنت میں سے ہو گا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ میرے پاس آ کر ٹھہرے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارے کرنے شروع کیے ، میں نے کہا : تم ایک دوسرے کی طرف اشارے کر رہے ہو اور میری طرف دیکھ رہے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کہا : تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے آنے والی خوشخبری کو قبول کرو ، کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ صفت پتہ چل گئی ہے ، جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان کی تھی ، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے جو ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے ان لوگوں کو کھانا کھلایا ، انہیں پانی پلایا ، انہیں زاد سفر دیا ، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا اور انہیں راستے کے بارے میں بتایا ، پھر میں اپنے گھر واپس آیا ، اپنے اونٹوں کے بارے میں اپنے گھر والوں کو تلقین کی پھر میں نکل کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دینا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے اور بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف دعوت دیتا ہوں ) میں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، ہم آپ کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں ، ہم اپنے اہل اور اپنی جانوں اور اموال سمیت ایمان لاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں واپس اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ، تو میرے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جنت کی نشانی دکھاؤں ؟ جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جہنم کی نشانی دکھاؤں ، جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم جہنم کی نشانی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ راوی کہتے ہیں : جب فتنہ واقع ہوا ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آ گیا ، تو میں ، جہنم کی نشانی سے بھاگ کر ، جنت کی نشانی کی طرف آ گیا ، اُن کا یہ کہنا تھا کہ اس کے بعد بنوامیہ مجھے قتل کر دیں گے ، میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں کسی پتھر کے اندر موجود ہوا تو وہ مجھے تلاش کر کے قتل کر دیں گے ، یہ بات میرے محبوب ﷺ نے مجھے بتائی ہے کہ میرا سر وہ پہلا سر ہو گا ، جو اسلام میں کاٹا جائے گا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک مسعودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16129

Majma al-Zawaid #16129

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ: أَنَّهُ سَقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ مَتِّعْهُ بِشَبَابِهِ "". فَمَرَّتْ بِهِ ثَمَانُونَ لَمْ نَرَ لَهُ شَعْرَةً بَيْضَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn al-Hamiq al-Khuza'i reports that he gave the Messenger of Allah ﷺ drink, and he supplicated that Allah let him enjoy his youth; eighty years passed over him without a white hair seen. > **"O Allah, let him enjoy his youth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پانی پلایا تو آپ نے دعا دی : ’’ اے اللہ ! اس کی جوانی برقرار رکھنا ۔‘‘ تو اُن کی عمر 80 سال ہو گئی تھی لیکن ان کا کوئی بال سفید نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔