عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرْبَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا وَلَا لَنَا زَادٌ، وَلَا لَنَا طَعَامٌ، وَلَا عِلْمَ لَنَا بِالطَّرِيقِ! فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ سَتَمُرُّونَ بِرَجُلٍ صَبِيحِ الْوَجْهِ، يُطْعِمُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَيَسْقِيكُمْ مِنَ الشَّرَابِ، وَيَدُلُّكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ عَلَيَّ جَمَلٍ يُشِرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالُوا: أَبْشِرْ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ; فَإِنَّا نَعْرِفُ فِيكَ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَخْبَرُونِي بِمَا قَالَ لَهُمْ، فَأَطْعَمْتُهُمْ وَسَقَيْتُهُمْ وَزَوَّدْتُهُمْ، وَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى دَلَلْتُهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَوْصَيْتُهُمْ بِإِبِلِي، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: مَا الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: "" أَدْعُو إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "". فَقُلْتُ: إِذَا أَجَبْنَاكَ إِلَى هَذَا فَنَحْنُ آمِنُونَ عَلَى أَهْلِنَا وَدِمَائِنَا وَأَمْوَالِنَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَأَعْلَمْتُهُمْ بِإِسْلَامِي، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ بَشَرٌ كَثِيرٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ هَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ لِي: "" يَا عَمْرُو، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ الْجَنَّةِ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ. قَالَ: "" هَذَا وَقَوْمُهُ "". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَقَالَ لِي: "" يَا عَمْرُو، هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةَ النَّارِ، يَأْكُلُ الطَّعَامَ، وَيَشْرَبُ الشَّرَابَ، وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ. قَالَ: "" هَذَا وَقَوْمُهُ آيَةُ النَّارِ "". وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ. فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَرْتُ مِنْ آيَةِ النَّارِ إِلَى آيَةِ الْجَنَّةِ، وَيَرَى بَنِي أُمَيَّةَ قَاتِلِي بَعْدَ هَذَا؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ فِي حَجَرٍ فِي جَوْفِ حَجَرٍ لَاسْتَخْرَجَنِي بَنُو أُمَيَّةَ حَتَّى يَقْتُلُونِي. حَدَّثَنِي بِهِ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ رَأْسِي أَوَّلُ رَأْسٍ يُحْتَزُّ فِي الْإِسْلَامِ، وَيُنْقَلُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
'Amr ibn al-Hamiq reports that the Messenger of Allah ﷺ dispatched his horsemen, who complained they had neither provisions nor food nor knowledge of the road; he told them they would pass a fair-faced man who would feed them, water them, guide them, and is of the people of Paradise. When the company descended upon him they gestured to one another gazing at him, announced glad tidings of Allah and His Messenger for he bore the Prophet's description, and told him his words; he fed them, watered them, provisioned them, guided them, returned to his family enjoining his camels, then went to the Messenger of Allah ﷺ asking his call. He answered the testimony that none is worshipped but Allah and he is His Messenger, prayer, zakah, pilgrimage, and the fast of Ramadan; asked whether answering secures their families, blood, and wealth, he said yes, so he embraced Islam, told his family, and many embraced through him, then emigrated to the Messenger of Allah ﷺ. One day with him the Prophet ﷺ offered to show him a sign of Paradise eating, drinking, walking the markets, and pointing to 'Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, declared him and his people it; offered to show a sign of the Fire likewise, he pointed to a man as it and his people. When strife befell he remembered the Prophet's words, fled from the sign of the Fire to the sign of Paradise, and foretold that Banu Umayyah are his killers after this, who would extract him though hidden in stone within stone, for his beloved the Messenger of Allah ﷺ told him his head is the first head severed in Islam and carried from land to land. > **"You shall pass a fair-faced man who will feed you, water you, guide you, and he is of the people of Paradise."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی ، اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بھیج رہے ہیں ، ہمارے پاس زاد سفر بھی نہیں ہے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے اور ہمیں راستے کا بھی پتہ نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ عنقریب ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرو گے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہو گا ، وہ تمہیں کھانا کھلائے گا ، مشروب پلائے گا اور راستے کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرے گا ، اور وہ شخص اہل جنت میں سے ہو گا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لوگ میرے پاس آ کر ٹھہرے ، تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارے کرنے شروع کیے ، میں نے کہا : تم ایک دوسرے کی طرف اشارے کر رہے ہو اور میری طرف دیکھ رہے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کہا : تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے آنے والی خوشخبری کو قبول کرو ، کیونکہ ہمیں تمہارے اندر وہ صفت پتہ چل گئی ہے ، جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان کی تھی ، انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے جو ارشاد فرمایا تھا ، تو میں نے ان لوگوں کو کھانا کھلایا ، انہیں پانی پلایا ، انہیں زاد سفر دیا ، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا اور انہیں راستے کے بارے میں بتایا ، پھر میں اپنے گھر واپس آیا ، اپنے اونٹوں کے بارے میں اپنے گھر والوں کو تلقین کی پھر میں نکل کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دینا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے اور بیت اللہ کا حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے ( کی طرف دعوت دیتا ہوں ) میں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، ہم آپ کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں ، ہم اپنے اہل اور اپنی جانوں اور اموال سمیت ایمان لاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو میں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں واپس اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا ، تو میرے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر میں ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جنت کی نشانی دکھاؤں ؟ جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے عمرو ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ میں تمہیں جہنم کی نشانی دکھاؤں ، جو کھانا کھاتا ہے اور مشروب پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : یہ اور اس کی قوم جہنم کی نشانی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ راوی کہتے ہیں : جب فتنہ واقع ہوا ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آ گیا ، تو میں ، جہنم کی نشانی سے بھاگ کر ، جنت کی نشانی کی طرف آ گیا ، اُن کا یہ کہنا تھا کہ اس کے بعد بنوامیہ مجھے قتل کر دیں گے ، میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں کسی پتھر کے اندر موجود ہوا تو وہ مجھے تلاش کر کے قتل کر دیں گے ، یہ بات میرے محبوب ﷺ نے مجھے بتائی ہے کہ میرا سر وہ پہلا سر ہو گا ، جو اسلام میں کاٹا جائے گا اور اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالملک مسعودی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔