Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 45

Book of Virtues and Merits

Hadith 16050–16089

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16050

Majma al-Zawaid #16050

«وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جِئْتُهُ: "" مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ، مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُ نَفَقَةً عَلَيْكَ إِلَّا أَنْفَقْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ: مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ. فَقَطْ مَرَّةً وَاحِدَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عِكْرِمَةَ.

EnglishUnverified translation

'Ikrimah ibn Abi Jahl reports that the Messenger of Allah ﷺ welcomed him as the emigrant rider when he came to him, and he pledged never to withhold any spending against the Prophet ﷺ but to spend it in the cause of Allah. > **"Welcome to the emigrant rider, welcome to the emigrant rider."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جس دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ، ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ ﷺ کے خلاف جتنا کچھ خرچ کیا ہے ، اب اتنی ہی رقم میں اللہ کی راہ میں بھی خرچ کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مصعب بن سعد نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

16051

Majma al-Zawaid #16051

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ لِأَبِي جَهْلٍ عُنُقًا فِي الْجَنَّةِ "". فَلَمَّا أَسْلَمَ عِكْرِمَةُ قَالَ: "" هُوَ هَذَا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah ﷺ said he saw a neck of Abu Jahl in Paradise, and when 'Ikrimah embraced Islam he declared this is he. > **"I saw a neck of Abu Jahl in Paradise; this is he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جنت میں ابوجہل کی گردن دیکھی ، راوی کہتے ہیں ، جب حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یعقوب بن محمد زہری ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16052

Majma al-Zawaid #16052

عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - قَالَ: «لَمَّا أَنْشَأَ النَّاسُ الْحَجَّ سَنَةَ تِسْعٍ، قَدِمَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْلِمًا، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوكَ "". قَالَ: لَوْ وَجَدُونِي نَائِمًا أَيْقَظُونِي، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مُسْلِمًا، فَرَجَعَ عِشَاءً، فَجَاءَ ثَقِيفٌ يُحْيُونَهُ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّهَمُوهُ وَأَغْضَبُوهُ، وَأَسْمَعُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَحْتَسِبُ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا أَسْحَرُوا وَاطَّلَعَ الْفَجْرُ قَامَ عُرْوَةُ عَلَى غُرْفَةٍ فِي دَارِهِ فَأَذَّنَ لِلصَّلَاةِ وَتَشَهَّدَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ عُرْوَةَ مِثْلُ صَاحِبِ يَاسِينَ؛ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى اللَّهِ فَقَتَلُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ، وَكِلَاهُمَا مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah ibn al-Zubayr reports that when the people began Hajj in the year nine, 'Urwah ibn Mas'ud came to the Messenger of Allah ﷺ a Muslim, sought leave to return to his people, was warned they might kill him, insisted they would wake him were he asleep, was permitted, returned by night, was greeted by Thaqif, invited them to Islam, was accused, angered, and answered with what he never expected, then at dawn stood upon his rooftop, called the adhan and testified, and a man of Thaqif shot him dead; the Messenger of Allah ﷺ said his likeness is that of the man of Yasin, who called his people to Allah and they killed him. > **"The likeness of 'Urwah is that of the man of Yasin; he called his people to Allah and they killed him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سن 9 ہجری میں ، جب لوگ حج کے لئے گئے ، تو حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں قتل کر دیں گے ، انہوں نے عرض کی : اگر وہ لوگ مجھے سویا ہوا پائیں ، تو مجھے بیدار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دیدی ، وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ، وہ رات کے وقت واپس پہنچے ، ثقیف قبیلے کے لوگ آئے اور انہیں سلام کرنے لگے ، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی ، تو ان لوگوں نے ان پر تہمت لگائی اور ان کے خلاف غصے کا اظہار کیا اور انہیں ایسی باتیں سنائیں کہ جن کے بارے میں وہ توقع نہیں کر رہے تھے ، پھر وہ لوگ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے ، جب سحری کا وقت ہوا اور صبح صادق طلوع ہونے لگی ، تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے بالاخانے پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے نماز کے لئے اذان دی اور شہادت کے کلمات پڑھے ، تو ثقیف قبیلے کے ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں شہید کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عروہ کی مثال یٰسین کے ساتھی کی مانند ہے کہ جس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تھی ، تو اُن لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے ، یہ دونوں روایات ’’ مرسل ‘‘ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

16053

Majma al-Zawaid #16053

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ إِلَى الطَّائِفِ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَشْبَهَ هَذَا بِصَاحِبِ يَاسِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفَضْلِ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas reports that the Messenger of Allah ﷺ sent 'Urwah ibn Mas'ud to al-Ta'if, a man shot him with an arrow and killed him, and the Messenger of Allah ﷺ said how like he is to the man of Yasin. > **"How like he is to the man of Yasin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو طائف بھیجا تھا ، ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں قتل کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ ( یعنی عروہ بن مسعود ) یٰسین کے ساتھی سے کتنی مشابہت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16054

Majma al-Zawaid #16054

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ: «أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ لِقَوْمِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: أَيْ قَوْمِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ، فَابْعَثُونِي إِلَى مُحَمَّدٍ فَأُكَلِّمَهُ، فَأَتَاهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَاكٍ فِي السِّلَاحِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: كُفَّ يَدَكَ قَبْلَ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَيْكَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ: أَنْتَ هُوَ وَاللَّهِ، إِنِّي لَفِي غَدْرَتِكَ، مَا أُخْرِجْتُ مِنْهَا بَعْدُ. فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ وَمَا هُوَ بِمَلِكٍ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الْهَدْيَ مَعْكُوفًا يَأْكُلُ وَبَرَهُ، وَمَا أَرَاكُمْ إِلَّا سَيُصِيبُكُمْ قَارِعَةٌ. فَانْصَرَفَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ، فَصَعِدَ سُورَ الطَّائِفِ فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ صَاحِبِ يَاسِينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Ali ibn Zayd ibn Jud'an reports that 'Urwah ibn Mas'ud told his people at Hudaybiyah that he had seen and addressed kings, asked to be sent to Muhammad, came to him there, spoke while touching the beard of the Messenger of Allah ﷺ as al-Mughirah ibn Shu'bah stood armed at his head warning him to withhold his hand; 'Urwah recognized him and recalled his treachery still unforgiven. He returned telling his people he had never seen the like of Muhammad ﷺ, no king, had seen the sacrificial animals held back eating their hair, and warned a calamity would strike them. He withdrew with his company, ascended the wall of al-Ta'if, testified there is no god but Allah and Muhammad is His Messenger, was shot dead by one of his people, and the Prophet ﷺ praised Allah for placing in his nation the like of the man of Yasin. > **"Praise belongs to Allah who has placed in my nation the like of the man of Yasin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں : حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے زمانے میں اپنی قوم سے کہا : اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہوا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہوئی ہے ، تم مجھے اُن ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی طرف جانے دو ، تاکہ میں ان کے ساتھ بات چیت کروں ، پھر وہ حدیبیہ کے مقام پر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، عروہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات کرنے لگے ، اس دوران وہ نبی اکرم ﷺ کی داڑھی کو بھی ہاتھ لگا لیتے تھے ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم ﷺ کے سرہانے ہتھیار لہرا کر کھڑے ہوئے تھے ، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا : اپنا ہاتھ پیچھے رکھو ! اس سے پہلے کہ وہ تمہارے پاس نہ آئے ، عروہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا : اللہ کی قسم ! تم وہی فرد ہو کہ میں تمہاری عہد شکنیوں کا جرمانہ بھگت رہا ہوں اور وہ ابھی تک پورا نہیں ہو پایا ، پھر عروہ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور بولے : اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے حضرت محمد ﷺ جیسا فرد کوئی نہیں دیکھا ، وہ بادشاہ نہیں ہیں ، میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے ، اور تم لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ عنقریب تمہیں بھی نقصان لاحق ہو گا ، پھر وہ اور ان کی قوم کے کچھ افراد ان کے ساتھ واپس آئے ، وہ لوگ طائف کی ایک قلعے کی دیوار پر چڑھے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو اُن کی قوم کے ایک فرد نے انہیں تیر مار کر انہیں قتل کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں یٰسین کے ساتھی جیسا فرد بنایا ہے ۔‘‘ یہ امام ابویعلیٰ ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16055

Majma al-Zawaid #16055

«عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَوْمِي أَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَعْرِضُ عَلَيْهِمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، فَأَتَيْتُهُمْ وَقَدْ سَقَوْا إِبِلَهُمْ وَحَلَبُوهَا وَشَرِبُوا، فَلَمَّا رَأَوْنِي قَالُوا: مَرْحَبًا بِالصُّدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ قَالُوا: بَلَغَنَا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، قُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ أَعْرِضُ عَلَيْكُمُ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا بِقَصْعَةِ دَمٍ، فَوَضَعُوهَا وَاجْتَمَعُوا حَوْلَهَا فَأَكَلُوا بِهَا قَالُوا: هَلُمَّ يَا صُدَيُّ، قُلْتُ: وَيْحَكُمُ! إِنَّمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ مَنْ يُحَرِّمُ هَذَا عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ؛ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالُوا: وَمَا قَالَ؟ قُلْتُ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ} [المائدة: 3] إِلَى قَوْلِهِ: وَأَنْ {تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ} [المائدة: 3]، فَجَعَلْتُ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَأْبَوْنَ، قُلْتُ لَهُمْ: وَيْحَكُمُ ائْتُونِي بِشَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ؛ فَإِنِّي شَدِيدُ الْعَطَشِ قَالَ: وَعَلَيَّ عِمَامَةٌ قَالُوا: لَا، وَلَكِنْ نَدَعُكَ تَمُوتُ عَطَشًا قَالَ: فَاعْتَمَمْتُ وَضَرَبْتُ بِرَأْسِي فِي الْعِمَامَةِ، وَنِمْتُ فِي الرَّمْضَاءِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِقَدَحِ زُجَاجٍ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَحْسَنَ مِنْهُ، وَفِيهِ شَرَابٌ لَمْ يَرَ النَّاسُ أَلَذَّ مِنْهُ، فَأَمْكَنَنِي مِنْهَا فَشَرِبْتُهَا، فَحَيْثُ فَرَغْتُ مِنْ شَرَابِي اسْتَيْقَظْتُ، وَلَا وَاللَّهِ مَا عَطِشْتُ وَلَا عَرَفْتُ عَطَشًا بَعْدَ تِيكَ الشَّرْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him to his people to call them to Allah and present the laws of Islam; he found them after watering and milking their camels, they welcomed him as Sudayy ibn 'Ajlan, accused him of apostasy, and he declared his faith and mission. As he invited them they brought a bowl of blood, gathered about it, ate from it, and invited him; he warned them it was forbidden save what is duly slaughtered, reciting the verse of al-Ma'idah, but they refused. Thirsty and turbaned, denied even water and left to die of thirst, he wrapped his head, slept in the scorching heat, and a visitor in dream gave him a glass cup of unsurpassed drink; he drank, awoke, and never knew thirst again after that draught. > **"By Allah, I never thirsted nor knew thirst after that draught."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے میری قوم کی طرف بھیجا ، تاکہ میں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دوں اور انہیں اسلامی تعلیمات بتاؤں ، میں ان لوگوں کے پاس آیا وہ لوگ اپنے اونٹ ہانک کر لائے تھے ، ان لوگوں نے ان کا دودھ دوہ لیا تھا اور اسے پی لیا تھا ، جب ان لوگوں نے مجھے دیکھا تو کہا : صدی بن عجلان کو خوش آمدید ، ان لوگوں نے کہا : ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ آپ بے دین ہو کر ان صاحب کے پاس چلے گئے ، میں نے کہا : جی نہیں ! بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں ، اور اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے ، تاکہ میں تمہارے سامنے اسلام اور اس کی تعلیمات پیش کروں ، راوی کہتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی صورت حال میں تھے کہ اسی دوران ایک پیالہ آیا ، جس میں خون موجود تھا ، وہ ان لوگوں نے رکھا اور اس کے اردگرد اکٹھے ہو گئے اور اسے کھانے لگے ، ان لوگوں نے کہا : اے صدی ! تم بھی آ جاؤ ، میں نے کہا تمہارا ستیاناس ہو ، میں ان صاحب کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں ، جنہوں نے اس چیز کو تمہارے لئے حرام قرار دیا ہے ، صرف وہ جانور حلال ہیں ، جسے تم ذبح کرو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ حکم نازل کیا ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ میں نے کہا : یہ آیت نازل ہوئی ہے : ’’ تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے ۔‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :” اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے پانسہ کھیلو ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور وہ انکار کرنے لگے ، میں نے ان سے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم میرے پاس ایک گھونٹ پانی لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید پیاس محسوس ہو رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا ہوا تھا ، ان لوگوں نے کہا : جی نہیں ! بلکہ ہم تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیں گے کہ تم پیاسے ہونے کے عالم میں مر جاؤ ، راوی کہتے ہیں : میں نے عمامہ باندھا اور اپنا سر عمامے پر رکھا اور شدید گری میں گرم ریت پر سو گیا ، خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا ، اس کے پاس شیشے کا بنا ہوا پیالہ تھا ، لوگوں نے اس سے زیادہ خوبصورت پیالہ نہیں دیکھا ہو گا ، اس میں ایسا مشروب تھا کہ لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ مشروب نہیں دیکھا ہو گا ، اس نے وہ مجھے دیا ، میں نے اسے پیا ، جب میں اُسے پی کر فارغ ہوا تو میں بیدار ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کی قسم ! مجھے پیاس محسوس نہیں ہوئی اور اس مشروب کے بعد مجھے پیاس کا پتہ ہی نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16056

Majma al-Zawaid #16056

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَاهِلَةَ، فَأَتَيْتُهُمْ وَهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، فَرَحَّبُوا بِي وَأَكْرَمُونِي، وَقَالُوا: تَعَالَ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي جِئْتُ لِأَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا الطَّعَامِ، وَأَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْتُكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِهِ، فَكَذَّبُونِي وَزَبَرُونِي، [فَانْطَلَقْتُ] وَأَنَا جَائِعٌ ظَمْآنُ قَدْ بَرَانِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَنِمْتُ فَأُتِيتُ فِي مَنَامِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ وَرُوِيتُ وَعَظُمَ بَطْنِي، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِكُمْ وَسَرَاتِكُمْ فَرَدَدْتُمُوهُ!، اذْهَبُوا إِلَيْهِ وَأَطْعِمُوهُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مَا يَشْتَهِي، فَأَتَوْنِي بِالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَقُلْتُ: لَا حَاجَةَ [لِي] فِي طَعَامِكُمْ وَشَرَابِكُمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، فَانْظُرُوا إِلَى هَذِهِ الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا، فَنَظَرُوا فَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Bahilah; he found them at food, they welcomed and honored him and invited him to eat, but he declared he came to forbid that food as the envoy of the Messenger of Allah ﷺ calling them to faith. They denied him and reviled him, so he departed hungry and thirsty in severe exhaustion, slept, and was given milk in dream which he drank till satiated and great of belly. His people then said a noble of theirs had been rejected, sent him desired food and drink, but he refused, declaring Allah had fed and watered him, bade them look at his state, they looked, and believed in him and in what he brought from the Messenger of Allah ﷺ. > **"Allah has fed me and given me drink; look at the state I am in."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے باہلہ قبیلے کی طرف بھیجا ، میں ان لوگوں کے پاس آیا ، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے ، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا ، میری عزت افزائی کی اور یہ کہا : آگے آؤ ! اور کھانا کھاؤ ، میں نے کہا : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں تمہیں اس کھانے سے منع کر دوں اور میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں ، میں تم لوگوں کے پاس آیا ہوں ، تاکہ تم ان پر ایمان لے آؤ ، تو ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور مجھے پرے کر دیا ، میں بھوکا اور پیاسا تھا ، شدید بھوک نے مجھے پریشانی کا شکار کر دیا تھا ، میں سو گیا ، خواب میں میرے پاس دودھ کا مشروب آیا ، میں نے وہ پیا تو میرا پیٹ بھر گیا ، لوگوں نے کہا : تمہارے معززین اور نمایاں افراد میں سے ایک شخص تمہارے پاس آیا اور تم لوگوں نے اسے لوٹا دیا ، تم لوگ اس کے پاس جاؤ اسے کھانا کھلاؤ اور مشروب دو ، جو وہ چاہتا ہو ، تو وہ لوگ کھانا اور مشروب لے کر میرے پاس آئے ، میں نے کہا : مجھے تمہارے کھانے اور تمہارے مشروب کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلا دیا ہے اور پلا دیا ہے ، تم لوگ اس صورت حال کا جائزہ لو !ا جس پر میں ہوں ، جب ان لوگوں نے جائزہ لیا ، تو وہ مجھ پر ایمان لے آئے اور اس چیز پر ایمان لے آئے ، جو میں اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے لے کر آیا تھا ۔

16057

Majma al-Zawaid #16057

وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَرَيْتُهُمْ بَطْنِي، فَأَسْلَمُوا عَنْ آخِرِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ الْأُولَى حَسَنٌ؛ فِيهَا أَبُو غَالِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In another wording he showed them his belly and they embraced Islam to the last of them. > **"He showed them his belly, and they embraced Islam to the last of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے اُن لوگوں کو اپنا پیٹ دکھایا ، تو وہ سب لوگ مسلمان ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

16058

Majma al-Zawaid #16058

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «قَالَ الْأَشَجُّ بْنُ عَصَرٍ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - "". قُلْتُ: مَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ "". قُلْتُ: أَقَدِيمًا كَانَا [فِي] أَمْ حَدِيثًا؟ قَالَ: "" [بَلْ] قَدِيمًا "". قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْأَشَجَّ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Abi Bakrah reports that al-Ashajj ibn 'Asar said the Messenger of Allah ﷺ told him he bears two traits Allah loves; asked what they are, he named forbearance and deliberation; asked whether they are old or new in him, he said old, and al-Ashajj praised Allah for fashioning him upon two traits Allah and His Messenger love. > **"In you are two traits Allah loves: forbearance and deliberation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : حضرت اشج بن عصر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اُن دونوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، میں نے عرض کی : کیا یہ شروع سے میرے اندر ہیں ؟ یا بعد میں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ یہ قدیمی ہیں ، میں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے دو ایسی عادتیں عطا کی ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اُن دونوں کو پسند کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے حضرت اشج رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

16059

Majma al-Zawaid #16059

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: "" إِنَّكَ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ يَعْقُوبَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقٍ حَسَنَةِ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar reports that the Messenger of Allah ﷺ told al-Ashajj of 'Abd al-Qays that in him are two qualities Allah and His Messenger love: forbearance and deliberation. > **"In you are two qualities Allah and His Messenger love: forbearance and deliberation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عبدالقیس قبیلے کے ’’ اشج “ سے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں کہ اللہ اور اُس کا رسول ﷺ اُن سے محبت کرتے ہیں ، بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن یعقوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت انہوں نے معجم اوسط میں ایسے طریق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

16060

Majma al-Zawaid #16060

وَعَنْ مَزْبَدَةَ جَدِّ هُودٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ إِذْ قَالَ: "" يَطْلَعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَكْبٌ مِنْ خَيْرِ أَهْلِ الْمَشْرِقِ "". فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَتَوَجَّهَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ، فَلَقِيَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا، فَرَحَّبَ وَقَرَّبَ، وَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: قَوْمٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: فَمَا أَقْدَمَكُمْ لِهَذِهِ الْبِلَادِ؟ التِّجَارَةُ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَتَبِيعُونَ سُيُوفَكُمْ هَذِهِ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ إِنَّمَا قَدِمْتُمْ فِي طَلَبِ هَذَا الرَّجُلِ؟ قَالُوا: أَجَلْ، فَمَشَى مَعَهُمْ يُحَدِّثُهُمْ حَتَّى نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَطْلُبُونَ "". فَرَمَى الْقَوْمُ بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ رَوَاحِلِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ سَعَى سَعْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ هَرْوَلَ هَرْوَلَةً، وَمِنْهُمْ مَنْ مَشَى حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذُوا بِيَدِهِ يُقَبِّلُونَهَا وَقَعَدُوا إِلَيْهِ، وَبَقِيَ الْأَشَجُّ - وَهُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ - فَأَنَاخَ الْإِبِلَ وَعَقَلَهَا وَجَمَعَ [مَتَاعَ] الْقَوْمِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي عَلَى تُؤَدَةٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ "". قَالَ: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْأَنَاةُ، وَالتُّؤَدَةُ "". قَالَ: أَجَبْلًا جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ تَخَلُّقًا مِنِّي؟ قَالَ: "" بَلْ جَبْلٌ "". قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ قِبَلَ تَمَرَاتٍ لَهُمْ يَأْكُلُونَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّي لَهُمْ هَذَا كَذَا وَهَذَا كَذَا قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَحْنُ بِأَعْلَمَ بِأَسْمَائِهَا مِنْكَ قَالَ: "" أَجَلْ "". فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ: أَطْعِمْنَا مِنْ بَقِيَّةِ الَّذِي بَقِيَ مِنْ نَوْطِكَ، فَقَامَ فَأَتَاهُ بِالْبَرْنِيِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا الْبَرْنِيُّ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمَرَاتِكُمْ، إِنَّمَا هُوَ دَوَاءٌ لَا دَاءَ فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Mazbadah, grandfather of Hud al-'Abdi, reports that while the Messenger of Allah ﷺ addressed his Companions he announced riders of the best people of the East would appear through that pass; 'Umar ibn al-Khattab went forth, met thirteen riders, welcomed them, learned they are of 'Abd al-Qays come seeking the Prophet ﷺ not for trade nor to sell their swords, and walked with them to him. They flung themselves from their mounts, some running, some hastening, some walking, seized the Prophet's hand ﷺ kissing it, while al-Ashajj, the youngest, first couched and hobbled the camels and gathered the baggage, then came composedly and kissed his hand. The Messenger of Allah ﷺ told him he bears two traits Allah and His Messenger love, deliberation and composure, fashioned in him from birth, and al-Ashajj praised Allah for it. The company turned to their dates, the Prophet ﷺ named each kind for them better than they knew, and declared their burni dates among their best, a remedy with no ailment in it. > **"In you are two traits Allah and His Messenger love."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہود عبدی کے دادا حضرت مزیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اس راستے سے تمہارے سامنے اہل مشرق کے بہترین سوار آئیں گے ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس طرف چل پڑے ، ان کی ملاقات تیرہ سواروں سے ہوئی ، انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : عبدالقیس قبیلے سے ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم یہاں کس لیے آئے ہو ؟ تجارت کے سلسلے میں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنی یہ تلواریں فروخت کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر شاید تم لوگ اُن صاحب سے ملنے کے لئے آئے ہو ، ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے اور ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ جب اُن کی نظر نبی اکرم ﷺ پر پڑی ، تو انہوں نے فرمایا : یہ تمہارے متعلقہ فرد ہیں جن کی تمہیں تلاش تھی ، تو وہ لوگ اپنی سواریوں سے تیزی سے اُترے ، ان میں سے کوئی تیزی سے چلتا ہوا ، کوئی دوڑتا ہوا ، کوئی عام رفتار سے چلتا ہوا ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا ، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دینا شروع کیا اور آپ کے پاس بیٹھ گئے ، صرف اشج باقی رہ گئے ، جو اُن لوگوں میں سب سے کم عمر تھے ، انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اسے باندھا ، تمام لوگوں کا ساز و سامان اکٹھا کیا ، پھر آرام سے چلتے ہوئے آئے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا دست مبارک پکڑ کر اسے بوسہ دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نرمی اور سہولت سے کام کرنا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میری جبلت میں شامل ہیں ؟ یا میری طرف سے پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ جبلت میں شامل ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری جبلت میں وہ چیز شامل کی ہے ، جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے ۔ پھر وہ لوگ اپنی کھجوریں لے کر آئے اور انہیں کھانے لگے ، نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے ان کھجوروں کے نام بیان کرنے شروع کیے کہ یہ ، یہ ہے اور یہ ، وہ ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! ہم ان کے ناموں کے بارے میں آپ سے زیادہ نہیں جانتے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر آپ ﷺ نے اُن میں سے ایک شخص سے فرمایا : اب تم ہمیں وہ کھجوریں کھلاؤ ، جو تمہاری پوٹلی میں باقی بچی ہیں ، وہ شخص اُٹھ کر گیا اور ’’ برنی ‘‘ کھجوریں لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ’’ برنی ‘‘ ہیں اور یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر ہیں ، یہ دوائی ہے ، اس میں بیماری نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

16061

Majma al-Zawaid #16061

«وَعَنِ الزَّارِعِ: أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ مَعَهُ بِأَخِيهِ لِأُمِّهِ - يُقَالُ لَهُ: مَطَرُ بْنُ هِلَالِ بْنِ عَنَزَةَ - وَخَرَجَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ مَجْنُونٍ، وَمَعَهُمُ الْأَشَجُّ - وَكَانَ اسْمُهُ الْمُنْذِرَ بْنَ عَائِذٍ - فَقَالَ الْمُنْذِرُ: يَا زَارِعُ، خَرَجْتَ مَعَنَا بِرَجُلٍ مَجْنُونٍ وَفَتًى شَابٍّ، لَيْسَ مِنَّا وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ الزَّارِعُ: أَمَّا الْمُصَابُ؛ فَآتِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو لَهُ عَسَى أَنْ يُعَافِيَهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْفَتَى الْعَنَزِيُّ؛ فَإِنَّهُ أَخِي لِأُمِّي وَأَرْجُو أَنْ يَدْعُوَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَعْوَةٍ، تُصِيبُهُ دَعْوَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَمَا عَدَا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قُلْنَا: هَذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا تَمَالَكْنَا أَنْ وَثَبْنَا عَنْ رَوَاحِلِنَا، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَأَخَذْنَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهُمَا، وَأَنَاخَ الْمُنْذِرُ رَاحِلَتَهُ فَعَقَلَهَا، وَذَاكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَمَدَ إِلَى رَوَاحِلِنَا فَأَنَاخَهَا رَاحِلَةً رَاحِلَةً، فَعَقَلَهَا كُلَّهَا، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى عَيْبَتِهِ فَفَتَحَهَا فَوَضَعَ عَنْهَا ثِيَابَ السَّفَرِ، ثُمَّ أَتَى يَمْشِي، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَشَجُّ، إِنْ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ "". قَالَ: وَمَا هُمَا بِأَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: "" الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ "". قَالَ: فَأَنَا تَخَلَّقْتُ بِهِمَا أَمِ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: "" بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا "". قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ. قَالَ الزَّارِعُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي جِئْتُ بِابْنِ أَخٍ لِي مُصَابٍ؛ لِتَدْعُوَ اللَّهَ لَهُ وَهُوَ فِي الرِّكَابِ قَالَ: "" فَأْتِ بِهِ "". قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعَ الْأَشَجُّ، فَأَخَذْتُ عَيْبَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ، وَأَلْقَيْتُ عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَأَلْبَسْتُهُمَا إِيَّاهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجِئْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الْمَجْنُونِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْعَلْ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِي "". فَأَقَمْتُهُ فَجَعَلْتُ ظَهْرَهُ مِنْ قِبَلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجْهَهُ مِنْ قِبَلِي، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ جَرَّهُ بِمَجَامِعِ رِدَائِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِثَوْبِهِ ظَهْرَهُ، وَقَالَ: "" اخْرُجْ يَا عَدُوَّ اللَّهِ "". فَالْتَفَتَ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَعَا لَهُ وَمَسَحَ وَجْهَهُ. قَالَ: فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ الْمَسْحَةُ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، كَأَنَّ وَجْهَهُ وَجْهُ عَذْرَاءَ شَبَابًا، وَمَا كَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَفْضُلُ عَلَيْهِ بَعْدَ دَعْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ دَعَا لَنَا عَبْدَ الْقَيْسِ، فَقَالَ: "" خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ، رَحِمَ اللَّهُ عَبَدَ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا غَيْرَ خَزَايَا إِذْ أَبَى بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يُسْلِمُوا "". قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَنَا حَتَّى زَالَتِ الشَّمْسُ. قَالَ الزَّارِعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَنَا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا لَيْسَ مِنَّا قَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ "". فَانْصَرَفْنَا رَاجِعِينَ، فَقَالَ الْأَشَجُّ: إِنَّكَ كُنْتَ يَا زَارِعُ أَمْثَلَ مِنِّي رَأْيًا فِيهِمَا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَهْمُ بْنُ قُثَمَ، كَانَ قَدْ شَرِبَ قَبْلَ ذَلِكَ بِالْبَحْرَيْنِ مَعَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ ابْنُ عَمِّهِ فَضَرَبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ، فَكَانَتْ تِلْكَ الضَّرْبَةُ فِي سَاقِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّ أَرْضَنَا ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ، وَإِنَّا نَشْرَبُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ عَلَى طَعَامِنَا، فَقَالَ: لَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَشْرَبَ الْإِنَاءَ ثُمَّ يَزْدَادَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ الشَّرَابَ فَيَقُومَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَيَضْرِبَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ "". فَجَعَلَ يُغَطِّي جَهْمُ بْنُ قُثَمَ سَاقَهُ. قَالَ: فَنَهَاهُمْ عَنِ الدِّبَاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ». قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الزَّارِعِ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ. وَسُكِتَ عَلَى حَدِيثِهَا، فَهُوَ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zari' reports that he went as delegate to the Messenger of Allah ﷺ with his maternal brother Matar ibn Hilal of 'Anazah, an afflicted nephew, and al-Ashajj, whose name was al-Mundhir ibn 'A'idh; al-Mundhir objected to bringing an afflicted man and a youth not of the delegation, but al-Zari' hoped the Prophet's supplication would heal the one and bless the other. Upon reaching Madinah they leapt from their mounts, seized the Prophet's hands and feet ﷺ kissing them, while al-Mundhir composedly hobbled every mount, changed his travel clothes, and came walking; the Prophet ﷺ praised in him the forbearance and deliberation Allah fashioned in him. Al-Zari' then brought the afflicted youth, changed his clothes likewise, and presented him; the Prophet ﷺ had him turned with his back facing him, seized his cloak, raised his hand till the whiteness of his armpits showed, struck his back with his garment, and commanded the enemy of Allah to come out; the youth turned with the gaze of the sound, was seated, supplicated for, his face wiped, and the trace of that wiping remained in youthfulness into his old age, none of the company excelling him after the Prophet's supplication. Then he supplicated for 'Abd al-Qays as the best people of the East who embraced Islam unashamed. > **"Come out, O enemy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زارع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ اپنی ماں کی طرف سے شریک بھائی کو لے کر گئے ، جن کا نام مطر بن ہلال بن عنزہ تھا اور وہ اپنے ساتھ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر گئے ، جو مجنون تھا ، ان لوگوں کے ساتھ حضرت اشج رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کا نام حضرت منذر بن عائذ رضی اللہ عنہ ہے ، حضرت مندر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے زارع ! تم ہمارے ساتھ ایک پاگل شخص کو لے کر جا رہے ہو ؟ اور تم ایک نوجوان کو لے کر جا رہے ہو ، جو ہم میں سے نہیں ہے ؟ اور ہم اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں وفد کی شکل میں جا رہے ہیں ، تو حضرت زارع رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک بیمار شخص کا تعلق ہے ، تو میں اسے ساتھ لے کر جا رہا ہوں ، تاکہ نبی اکرم ﷺ اس کے لئے دعا کریں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطا کر دے ، جہاں تک عنزی نوجوان کا تعلق ہے ، تو وہ ماں کی طرف سے میرا شریک بھائی ہے اور مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم ﷺ اس کے لئے بھی دعا کریں گے ، اور اسے نبی اکرم ﷺ کی دعا نصیب ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، تو ہم نے کہا : یہاں اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، پھر ہمیں خود پر قابو نہیں رہا ، ہم نے اپنی سواریوں سے چھلانگیں لگائیں اور تیزی سے چلتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، ہم نے آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں پکڑے اور انہیں بوسہ دینا شروع کیا ، حضرت مندر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا ، اُسے باندھا ، یہ سب کچھ نبی اکرم ﷺ کی نگاہوں کے سامنے ہو رہا تھا ، پھر وہ ہماری سواریوں کی طرف بڑھے ، انہوں نے ایک ایک کر کے ہر ایک سواری کو بٹھایا ، پھر ان سب کو باندھا ، پھر وہ اپنے تھیلے کی طرف بڑھے اسے کھولا اور اپنے جسم سے سفر کا لباس اتارا ( اور نیا اور عمدہ لباس پہن کر ) چلتے ہوئے تشریف لائے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اشج ! تمہارے اندر دو عادتیں ہیں ، اللہ اور اس کا رسول ﷺ انہیں پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ، انہوں نے عرض کی : کیا میں نے ان دونوں کو خود اپنایا ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ نے میری جبلت میں یہ رکھی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جبلت میں یہ رکھی ہیں ، تو انہوں نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری جبلت میں دو ایسی عادتیں رکھی ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ محبت کرتے ہیں ، بردباری کرنا اور جلدبازی نہ کرنا ۔ حضرت زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں اپنے ایک بھتیجے کو لے کر آیا ہوں جو بیمار ہے ، تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کریں ، وہ سواروں میں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لے کر آؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس آیا ، میں وہ چیز دیکھ چکا تھا ، جو اشج نے کیا تھا ، تو میں نے اپنا تھیلا لیا ، اس میں سے دو عمدہ کپڑے نکالے اور اپنے بھتیجے سے سفر کے لباس کو اتارا ، اُسے وہ کپڑے پہنائے ، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا ، وہ اس طرح دیکھ رہا تھا ، جس طرح کوئی پاگل شخص دیکھتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی پشت میری طرف کر دو ، میں نے اُسے کھڑا کیا اور اس کی پشت نبی اکرم ﷺ کی طرف کر دی اور اس کا رخ اپنی طرف کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے پکڑا ، پھر آپ نے اس کے گریبان کو پکڑا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کا کپڑا اس کی پشت پر مارا ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! نکل جاؤ ، جب میں نے توجہ کی ، تو وہ بچہ بالکل ٹھیک شخص کی طرح دیکھ رہا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُسے اپنے سامنے بٹھایا اور اس کے لئے دعا کی اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، راوی کہتے ہیں : اس ہاتھ پھیرنے کا اثر ہمیشہ اس کے چہرے پر رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص بوڑھا ہو گیا تھا ، لیکن اس کا چہرہ نوجوان کنوارے شخص کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ کی دعا نصیب ہونے کے بعد اُن لوگوں میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں تھا ، جو اس پر فضیلت والا محسوس ہوتا ہو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لئے ، یعنی عبدالقیس کے وفد کے لئے ، یہ دعا کی کہ یہ اہل مشرق کے بہترین لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کے لوگوں پر رحم کرے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا ، تو کسی ندامت کا شکار ہوئے بغیر کیا ، جبکہ کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا ، پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ مسلسل ہمارے لئے دعا کرتے رہے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا ، حضرت زارع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ، جو ہم میں سے نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا بھانجا اُن میں سے ایک فرد ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم وہاں سے واپس آئے ، تو حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے کہا : اے زارع ! ان دونوں کے بارے میں تمہاری رائے مجھ سے زیادہ مناسب تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ان لوگوں میں ایک صاحب حضرت جہم بن قثم رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اس سے پہلے بحرین میں وہ اپنے چچازاد کے ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہے تھے ، اُن کے چازاد اٹھ کر ان کے پاس آئے اور ان کی پنڈلی پر تلوار ماری تو اس ضرب کا اثر ان کی پنڈلی پر موجود تھا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہماری سرزمین بوجھل اور ناموافق ہے ، ہم اپنے کھانے کے بعد ایک مشروب پیتے ہیں ( یعنی شراب پیتے ہیں ، اگر آپ ہمیں اس کی اجازت دیں ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک برتن پئے ، پھر وہ اس کے ساتھ مزید ایک اور پی لے ، یہاں تک کہ جب وہ زیادہ شراب پی لے ، تو اُٹھ کر اپنے چچا زاد کے پاس جائے اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت جہم بن قثم رضی اللہ عنہ نے اپنی پنڈلی کو چھپانا شروع کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کو دباء ، حنتم اور نقیر سے منع کیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خاتون ام ابان بنت زارع ہیں ، امام ابوداؤد نے اس خاتون کے حوالے سے روایت نقل کی ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے ، تو یہ روایت حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16062

Majma al-Zawaid #16062

وَعَنْ نَافِعٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: «وَفَدَ الْمُنْذِرُ بْنُ سَاوَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى أَتَى مَدِينَةَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ الْمُنْذِرِ أُنَاسٌ، وَأَنَا غُلَيْمٌ لَا أَعْقِلُ أَمْسِكُ جِمَالَهُمْ. قَالَ: فَذَهَبُوا بِسِلَاحِهِمْ فَسَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ الْمُنْذِرُ سِلَاحَهُ، وَوَضَعَ ثِيَابًا كَانَتْ مَعَهُ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ بِدُهْنٍ، فَأَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ الْجِمَالِ، أَنْظُرُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ الْمُنْذِرُ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَأَيْتُ مِنْكَ مَا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ "". قُلْتُ: وَمَا رَأَيْتَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَضَعْتَ سِلَاحَكَ، وَلَبِسْتَ ثِيَابَكَ، وَتَدَهَّنْتَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ أُحْدِثُهُ؟ قَالَ: "" لَا، بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ "". فَسَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسْلَمَتْ عَبْدُ الْقَيْسِ طَوْعًا، وَأَسْلَمَ النَّاسُ كَرْهًا، فَبَارَكَ اللَّهُ فِي عَبْدِ الْقَيْسِ "". قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ، وَلَكِنِّي لَمْ أَعْقِلْ. وَمَاتَ نَافِعٌ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَوْثِيقًا. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nafi' al-'Abdi reports that al-Mundhir ibn Sawa came from Bahrain to the city of the Messenger ﷺ with men while Nafi' was an uncomprehending lad minding their camels; they laid down their arms, greeted the Prophet of Allah ﷺ, and al-Mundhir changed into fresh clothes and oiled his beard before greeting him. The Prophet ﷺ remarked upon his comely conduct in laying down arms, dressing, and anointing, and when asked whether it was innate or newly adopted replied it was innate; then he declared 'Abd al-Qays embraced Islam willingly while others embraced under compulsion, and blessed them. Nafi' looked upon the Messenger of Allah ﷺ as one looks today, yet without comprehension, and died at one hundred twenty. > **"'Abd al-Qays embraced Islam willingly, so may Allah bless 'Abd al-Qays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نافع عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت منذر بن ساوی رضی اللہ عنہ بحرین سے وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے شہر آئے ، حضرت مندر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے کچھ لوگ بھی تھے اور میں کمسن لڑکا تھا ، جسے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ، میں ان لوگوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ اپنے ہتھیار لے کر گئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کیا ، حضرت مندر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہتھیار اتارے اور اپنے جسم پر موجود ( سفر کا ) لباس تبدیل کیا ، اپنی داڑھی کو تیل لگایا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام پیش کیا ، میں اونٹوں کے ساتھ تھا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھ رہا تھا ، حضرت مندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہاری طرف سے وہ چیز دیکھی ہے جو تمہارے ساتھیوں میں نہیں دیکھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھ میں کیا چیز دیکھی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ہتھیار اتارے ، لباس تبدیل کیا اور تیل لگایا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا یہ ایک ایسی چیز ہے جو میری جبلت میں شامل ہے ؟ یا اسے میں نے خود اختیار کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہاری جبلت میں شامل ہے ، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عبدالقیس قبیلے کے لوگوں نے رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور دوسرے ( کچھ لوگوں نے ) زبردستی اسلام قبول کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ عبدالقیس قبیلے کو برکت نصیب کرے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی طرف اُس وقت یوں دیکھ رہا تھا ، جس طرح اس وقت تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں ، لیکن اس وقت مجھے زیادہ سمجھ بوجھ نہیں تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت نافع رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن نافع عبدی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا توثیق ذکر نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16063

Majma al-Zawaid #16063

«عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ ... وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالًا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ... وَحَمْلِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ بَيْعَتِي ... فَقَدْ بِعْتُ أَهْلِي وَمَالِي بِدَالَا.». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ، بَدَلَ: الْمُسْلِمِينَ. وَقَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُكَ يَا ضِرَارُ». وَقَالَ فِي الْإِسْنَادِ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَالضَّعِيفُ قُرَشِيٌّ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَثْرَمُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، وَلَمْ يَقُلِ الْأَثْرَمُ، فَإِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ وُثِّقَ وَإِلَّا فَهُوَ الضَّعِيفُ، وَفِي الْآخَرِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Dirar ibn al-Azwar reports that he came to the Prophet ﷺ asking to pledge upon Islam, declaring in verse he had abandoned divining arrows, singing girls, wine in revelry, charging the mailed warrior in the fray, and bearing arms against the Muslims, praying his bargain never be a loss for he sold his family and wealth in exchange; and the Prophet ﷺ replied his bargain was no loss, O Dirar. > **"Your bargain is no loss, O Dirar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں ، تاکہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں ، پھر میں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ میں نے مغفرت کے حصول اور گریہ و زاری ( یعنی توبہ ) کے لیے پانسے کے تیروں ، کنیزوں کی گائیکی اور شراب کو چھوڑ دیا ہے ، اور شدت ( یعنی جنگ ) کے وقت میرا ( اپنے گھوڑے ) ’’ محبر ‘‘ کو موڑنا اور میرا مسلمانوں کے خلاف جنگ پر برانگیختہ کرنا ( میں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سودے میں نقصان نہ ہو کیونکہ میں نے اپنے اہل خانہ اور مال کے بدلے میں یہ سودا کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور عبداللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” اور میرا مشرکین پر حملہ کرنا ‘‘ یہاں ” مسلمانوں ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ مشرکین ‘‘ استعمال ہوا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں :” اے ضرار ! تمہارے سودے میں تمہیں خسارہ نہیں ہو گا ۔‘‘ انہوں نے سند میں ایک راوی کا نام محمد بن سعید باہلی ذکر کیا ہے اور یہ ضعیف ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن زیاد اثرم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان کی کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں محمد بن سعید بن زیاد کا ذکر ہے ، لیکن انہوں نے لفظ اثرم نقل نہیں کیا ، اگر تو یہ وہی ہے تو پھر اس کی توثیق کی گئی ہے اور اگر یہ وہ نہیں ہے ، تو پھر یہ راوی ضعیف ہے ، اور دوسری سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16064

Majma al-Zawaid #16064

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هُوَ نُبَيْشَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيُّ، يَقُولُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ، وَهُوَ نُبَيْشَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ عَتَّابِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ وَاثِلَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies him as Nubayshah ibn 'Abdullah al-Hudhali, called Nubayshah al-Khayr, son of 'Abdullah ibn Shayban of al-Harith of 'Abd al-'Uzza of Wathilah. > **"He is Nubayshah ibn 'Abdullah al-Hudhali, called Nubayshah al-Khayr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت نبیشہ بن عبداللہ ہذلی رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ کہتے ہیں : یہ حضرت نبیشہ الخیر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن شیبان بن عتباب بن حارث بن حصین بن حارث بن عبدالعزیٰ بن واثلہ ہیں ۔

16065

Majma al-Zawaid #16065

عَنْ أُمِّ عَاصِمٍ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ سُفْيَانَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْهُذَلِيِّ - قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ: "" نُبَيْشَةَ الْخَيْرِ "". دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أُسَارَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِمَّا أَنْ تَمُنَّ عَلَيْهِمْ، وَإِمَّا أَنْ تُفَادِيَهُمْ، فَقَالَ: "" أَمَرْتَ بِخَيْرٍ، أَنْتَ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umm 'Asim, mother of the child of Sufyan ibn Salamah of Hudhayl, reports that Nubayshah entered upon them, the Messenger of Allah ﷺ having named him Nubayshah al-Khayr; he entered upon the Messenger of Allah ﷺ where captives were held and urged either favoring them or ransoming them, and the Prophet ﷺ approved his counsel and confirmed his title. > **"You have counseled good; you are Nubayshah al-Khayr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام عاصم ، جو سفیان بن سلمہ بن محبق ہذلی کی اُم ولد ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نبیشہ الخیر کا نام دیا تھا ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ قیدی موجود تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یا تو آپ ان پر احسان کیجئے ، یا پھر ان کا فدیہ قبول کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے بھلائی کے بارے میں مشورہ دیا ہے ، تم نبیشہ الخیر ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16066

Majma al-Zawaid #16066

عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ: «أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَانَ مَحْبُوسًا بِمَكَّةَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ بَاعَ مَالًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: الْمَنَا بِنَاقَةْ بِالطَّائِفِ، وَقَالَ: وَإِنْ أُهَاجِرْ وَأَبِعْ بِنَاقَةٍ ... ثُمَّ اشْتَرِ مِنْهَا حِلًى وَنَاقَةْ ثُمَّ ارْمِهِمْ بِنَفْسِكَ الْمُشْتَاقَةْ. فَوَجَدَ غَفْلَةً مِنَ الْقَوْمِ، فَخَرَجَ هُوَ وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مُشَاةً يَخَافُونَ الطَّلَبَ، فَسَعَوْا حَتَّى تَعِبُوا، وَقَصَّرَ الْوَلِيدُ فَقَالَ: يَا قَدَمَيَّ أَلْحِقَانِي بِالْقَوْمِ ... لَا تَعِدَانِي كَسَلًا بَعْدَ الْيَوْمِ. فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْأَجْرَاسِ نُكِبَ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ ... وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ. فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جُزْتُ وَأَنَا مَيِّتٌ، فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ، وَاجْعَلْهُ مِمَّا يَلِي جِلْدِي. فَتُوُفِّيَ، فَكَفَّنَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَمِيصِهِ، وَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا صَبِيٌّ وَهِيَ تَقُولُ: يَا عَيْنُ ابْكِ] الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ [أَبَا الْوَلِيدِ] بْنِ الْمُغِيرَهْ ... إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَبَا الْوَلِيدِ بْنَ الْمُغِيرَهْ قَدْ كَانَ غَيْثًا فِي السِّنِينَ وَجَعْفَرًا غَدَقًا وَمِيرَهْ .. فَقَالَ: "" إِنْ كِدْتُمْ تَتَّخِذُونَ الْوَلِيدَ حَنَانًا "". فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Isma'il ibn Ayyub of Makhzum reports that al-Walid ibn al-Walid was detained in Makkah, and when he resolved to emigrate he sold property called al-Mana in al-Ta'if for a she-camel, versifying his resolve to emigrate, buy adornment and a mount, and fling his longing self at the enemy. Seizing the people's heedlessness he set out on foot with 'Ayyash ibn Abi Rabi'ah and Salamah ibn Hisham fearing pursuit, tired, al-Walid lagging and urging his feet in verse never to promise sloth again; at al-Ajras his finger was injured and he versified it bled but in Allah's cause. He entered Madinah upon the Messenger of Allah ﷺ declaring he came though dead, asking to be shrouded in his shirt next his skin; he died, the Messenger of Allah ﷺ shrouded him in his shirt, and visiting Umm Salamah found her mourning him in verse as the rain and succor of lean years, whereupon he remarked they had all but taken al-Walid as an object of tender devotion, and named his son 'Abdullah. > **"O my feet, catch up with the company; never again promise me sloth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن ایوب بن سلمہ بن عبدالولید بن مغیرہ بن عبدالله بن عمر بن مخزوم بیان کرتے ہیں : حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ میں پابند تھے ، جب انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے مکہ میں موجود اپنی زمین فروخت کر دی ، جس کا نام منا بناقہ تھا وہ طائف میں تھی ، انہوں نے یہ اشعار کہے : ’’ اگر میں ہجرت کر لوں اور بناقہ کو فروخت کر دوں ، اور پھر اس کے بدلے زیور اور اونٹنی خرید لوں ، اور پھر تمہارے مشتاق نفس کے ہمراہ ان پر تیر ماروں ۔‘‘ پھر انہیں لوگوں کی طرف سے غفلت محسوس ہوئی ، تو وہ نکل کھڑے ہوئے ، اُن کے ساتھ حضرت عیاش بن ربیعہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ پیدل روانہ ہوئے ، انہیں یہ اندیشہ تھا کہ لوگ ان کے پیچھے نہ آ جائیں ، پھر یہ دوڑنے لگے ، یہاں تک کہ یہ تھک گئے ، ولید کا قد چھوٹا تھا ، انہوں نے یہ اشعار کہنے شروع کیے : ’’ اے میرے دونوں پاؤں مجھے قوم سے ملا دو ، آج کے بعد تم میرے ساتھ کسلمندی کا وعدہ نہیں کرو گے ۔‘‘ جب وہ ’’ بحرہ اضراس ‘‘ کے پاس تھے تو وہ گر گئے ، تو انہوں نے کہا : ’’ تم صرف ایک انگلی ہو جو خون آلود ہوئی ہے ، اور اللہ کی راہ میں تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔‘‘ جب وہ مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں مر جاؤں تو آپ اپنی قمیص میں مجھے کفن دیجئے گا اور وہ قمیص میرے جسم کے ساتھ لگائی جائے ، پھر ان کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص میں انہیں کفن دیا ، ایک مرتبہ آپ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے ، تو ان کے سامنے ایک بچہ موجود تھا اور وہ یہ شعر پڑھ رہی تھیں : ’’ تم ولید بن ولید پر روؤ ! جو ابوالولید بن مغیرہ ہے ، بیشک ولید بن ولید ابوالولید ، خاندان کے لیے کفایت کرتا تھا ، قحط سالی میں وہ بادل تھا ، وہ زیادہ پانی والی ندی تھا اور طعام تھا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ تم لوگ ولید کو مہربان بنا لو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

16067

Majma al-Zawaid #16067

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: تَمِيمُ بْنُ أَوْسٍ الدَّارِيُّ، وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ، يُكَنَّى أَبَا رُقَيَّةَ، وَهُوَ [عَمُّ] تَمِيمِ بْنِ [أَوْسِ بْنِ] خَارِجَةَ بْنِ سَوَادِ بْنِ جُذَيْمَةَ بْنِ دِرَاعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الدَّارِ بْنِ لَخْمِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ لِمَازَةَ بْنِ لَخْمٍ ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies Tamim ibn Aws al-Dari, also called Ibn Qays, kunyah Abu Ruqayyah, uncle of Tamim ibn Aws ibn Kharijah of al-Dar of Lakhm. > **"Tamim al-Dari, kunyah Abu Ruqayyah, of al-Dar of Lakhm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک قول کے مطابق ان کے والد کا نام اوس ہے ، ان کی کنیت ابورقیہ ہے ، یہ حضرت تمیم بن اوس بن خارجہ بن سواد بن جذیمہ بن دراع بن عدی بن دار بن لخم بن حبیب بن لمازہ بن لجم ہیں ۔

16068

Majma al-Zawaid #16068

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْرَجَ فِي الْمَسْجِدِ: تَمِيمٌ الدَّارِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah reports that the first to light a lamp in the mosque was Tamim al-Dari. > **"The first to light a lamp in the mosque was Tamim al-Dari."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے سب سے پہلے مسجد میں چراغ جلایا ، وہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے اور وہ متروک ہے ۔

16069

Majma al-Zawaid #16069

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ - قَالَ: وَاسْمُ أَبِي سُلْمَى: رَبِيعَةُ بْنُ رِيَاحِ بْنِ قُرْظِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَازِنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ ثَوْرِ بْنِ هَدْمَةَ بْنِ لَاطِي بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مُزَيْنَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Salam al-Baykandi gives the name of Abu Salma as Rabi'ah ibn Riyah of Qurth of al-Harith of Mazin of Tha'labah of Thawr of Hudmah of Lati of 'Uthman of Muzaynah. > **"Abu Salma is Rabi'ah ibn Riyah of Muzaynah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں : ابوسلمی کا نام ربیعہ بن ریاح بن قرظ بن حارث بن مازن بن ثعلبہ بن ثور بن ہدمہ بن لاطی بن عثمان بن مزینہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16070

Majma al-Zawaid #16070

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، مُنْصَرَفَهُ مِنَ الطَّائِفِ، كَتَبَ بُجَيْرُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى إِلَى أَخِيهِ كَعْبِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى يُخْبِرُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ رَجُلًا بِمَكَّةَ مِمَّنْ كَانَ يَهْجُوهُ وَيُؤْذِيهِ، وَأَنَّهُ بَقِيَ مِنْ شُعَرَاءِ قُرَيْشٍ ابْنُ الزِّبَعْرَى، وَهُبَيْرَةُ بْنُ أَبِي وَهْبٍ قَدْ هَرَبُوا فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَإِنْ كَانَتْ لَكَ فِي نَفْسِكَ حَاجَةٌ فَفِرَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَإِنَّهُ لَا يَقْتُلُ أَحَدًا جَاءَهُ تَائِبًا، وَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ فَانْجُ وَلَا نَجَا لَكَ، وَقَدْ كَانَ كَعْبٌ قَالَ أَبْيَاتًا نَالَ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَلَغَ كَعْبًا الْكِتَابُ ضَاقَتْ بِهِ الْأَرْضُ وَأَشْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ، وَأَرْجَفَ بِهِ مَنْ كَانَ حَاضِرُهُ مِنْ عَدُوِّهِ [قَالُوا: هُوَ مَقْتُولٌ]، فَلَمَّا لَمْ يَجِدْ مِنْ شَيْءٍ بُدًّا قَالَ قَصِيدَتَهُ الَّتِي يَمْتَدِحُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذِكْرِ خَوْفِهِ وَإِرْجَافِ الْوُشَاةِ بِهِ. ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى رَجُلٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مَعْرِفَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ - كَمَا ذُكِرَ لِي - فَغَدَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ أَشَارَ لَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْ إِلَيْهِ فَاسْتَأْمِنْهُ، فَذُكِرَ لِي أَنَّهُ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَعَّبَ بْنَ زُهَيْرٍ جَاءَ لِيَسْتَأْمِنَ مِنْكَ تَائِبًا مُسْلِمًا؛ فَهَلْ أَنْتَ قَابِلٌ مِنْهُ إِنْ أَنَا جِئْتُكَ بِهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا كَعْبُ بْنُ زُهَيْرٍ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: وَثَبَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي وَعَدُوَّ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْهُ عَنْكَ؛ فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ تَائِبًا نَازِعًا "". فَغَضِبَ عَلَى هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ لِمَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُهُمْ؛ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَقَالَ قَصِيدَتَهُ الَّتِي قَالَهَا حِينَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مِمَّا قَالَ [فِيهَا]: تَمْشِي الْوُشَاةُ بِجَنْبَيْهَا وَقَوْلُهُمُ ... إِنَّكَ يَا ابْنَ أَبِي سُلْمَى لَمَقْتُولُ وَقَالَ كُلُّ صَدِيقٍ كُنْتُ آمُلُهُ ... لَا أُلْفِيَنَّكَ إِنِّي عَنْكَ مَشْغُولٌُ فَقُلْتُ: خَلُّوا سَبِيلِي لَا أَبَا لَكُمْ ... فَكُلُّ مَا قَدَّرَ الرَّحْمَنُ مَفْعُولُ كُلُّ ابْنِ أُنْثَى وَإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهُ ... يَوْمًا عَلَى آلَةٍ حَدْبَاءَ مَحْمُولُ أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَوْعَدَنِي ... وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ مَأْمُولُ مَهْلًا هَدَاكَ الَّذِي أَعْطَاكَ نَافِلَةَ الْ ... فُرْقَانِ فِيهَا مَوَاعِيظُ وَتَفْصِيلُ لَا تَأْخُذَنِّي بِأَقْوَالِ الْوُشَاةِ وَلَمْ ... أُذْنِبْ وَإِنْ كَثُرَتْ فِي الْأَقَاوِيلُ إِنَّ الرَّسُولَ لَنُورٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ ... مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ مَسْلُولُ فِي عُصْبَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ قَائِلُهُمْ ... بِبَطْنِ مَكَّةَ لَمَّا أَسْلَمُوا: زُولُوا زَالُوا فَمَا زَالَ أَنْكَاسٌ وَلَا كُشُفٌ ... عِنْدَ اللِّقَاءِ وَلَا مَيْلٌ مَغَازِيلُ يَمْشُونَ مَشْيَ الْجِمَالِ الزُّهْرِ يَعْصِمُهُمْ ... ضَرْبٌ إِذَا عَرَّدَ السُّودُ التَّنَابِيلُ شُمُّ الْعَرَانِينَ أَبْطَالٌ لَبُوسُهُمُ ... مِنْ نَسْجِ دَاوُدَ فِي الْهَيْجَا سَرَابِيلُ بِيضٌ سَوَابِغُ قَدْ شُكَّتْ لَهَا حَلَقٌ ... كَأَنَّهَا حَلَقُ الْقَفْعَاءِ مَجْدُولُ لَيْسُوا مَفَارِيحَ إِنْ نَالَتْ رِمَاحُهُمُ ... قَوْمًا وَلَيْسُوا مَجَازِيعًا وَإِنْ نِيلُوا لَا يَقَعُ الطَّعْنُ إِلَّا فِي نُحُورِهِمُ ... وَمَا لَهُمْ عَنْ حِيَاضِ الْمَوْتِ تَهْلِيلُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: فَلَمَّا قَالَ: السُّودُ التَّنَابِيلُ. وَإِنَّمَا أَرَادَ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؛ لِمَا كَانَ صَاحِبُهُمْ صَنَعَ وَخَصَّ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِدْحَتِهِ، غَضِبَتْ عَلَيْهِ الْأَنْصَارُ، فَبَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ أَخَذَ يَمْدَحُ الْأَنْصَارَ، وَيَذْكُرُ بَلَاءَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَوْضِعَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ سَرَّهُ كَرَمُ الْحَيَاةِ فَلَا يَزَلْ ... فِي مِقْنَبٍ مِنْ صَالِحِي الْأَنْصَارِ الْبَاذِلِينَ نُفُوسَهُمْ لِنَبِيِّهِمْ ... يَوْمَ الْهِيَاجِ وَفِتْنَةِ الْحَارِ وَالضَّارِبِينَ النَّاسَ عَنْ أَحِيَاضِهِمْ ... بِالْمِشْرَفِيِّ وَبِالْقَنَا الْخَطَّارِ وَالنَّاظِرِينَ بِأَعْيُنٍ مُحْمَرَّةٍ ... كَالْجَمْرِ غَيْرَ كَلَيْلَةِ الْأَبْصَارِ يَتَطَهَّرُونَ كَأَنَّهُ نُسُكٌ لَهُمْ ... بِدِمَاءِ مَنْ قَتَلُوا مِنَ الْكُفَّارِ لَوْ يَعْلَمُ الْأَقْوَامُ عِلْمَيْ كُلَّهُ ... فِيهِمْ لَصَدَّقَنِي الَّذِينَ أُمَارِي.». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq reports that when the Messenger of Allah ﷺ returned to Madinah from al-Ta'if, Bujayr ibn Zuhayr wrote to his brother Ka'b warning him that the Messenger of Allah ﷺ had slain at Makkah a satirist who harmed him, that Ibn al-Zib'ra and Hubayrah ibn Abi Wahb had fled every way, and that if he valued himself he should flee to the Messenger of Allah ﷺ who kills none who comes repentant, else save himself though there is no safety. Ka'b, who had versified against the Messenger of Allah ﷺ, found the earth straitened, feared for himself amid his enemies' rumors of his doom, composed his ode praising the Messenger of Allah ﷺ with mention of his fear and the slanderers, journeyed to Madinah, lodged with a Juhani acquaintance, prayed dawn with the people, was shown the Messenger of Allah ﷺ, rose, placed his hand in his, unknown to him, and asked whether Ka'b ibn Zuhayr seeking safety repentant and Muslim would be accepted if brought; the Prophet ﷺ said yes, and he declared himself Ka'b. An Ansari leapt up asking leave to strike the enemy of Allah's neck, but the Prophet ﷺ bade him leave Ka'b, for he came repentant and turning; Ka'b then resented that quarter of the Ansar while none of the Emigrants spoke but good of him, and recited his ode wherein the slanderers proclaim him slain, friends forsake him, all decreed befalls, every son of woman is one day borne upon a curved bier, word reached him the Messenger of Allah ﷺ threatened him yet pardon is hoped from him. > **"Word reached me the Messenger of Allah threatened me, yet pardon is hoped from the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ طائف سے واپسی پر جب مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو بحیر بن زہیر بن ابوسلمی نے اپنے بھائی کعب بن زہیر بن ابوسلمی کو خط لکھا اور انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کروا دیا تھا ، جو آپ کی ہجو کرتا تھا اور آپ کو اذیت پہنچاتا تھا اور قریش کے شاعروں میں سے ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابووہب کو جس طرف راستہ ملا ، وہ اس طرف بھاگ کھڑے ہوئے ، اگر تم اپنے بارے میں مناسب سمجھو ، تو اللہ کے رسول ﷺ کی طرف آ جاؤ ، کیونکہ وہ کسی ایسے فرد کو قتل نہیں کرواتے ہیں ، جو توبہ کر کے آیا ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ، تو تم نجات تلاش کر لو تمہیں نجات نہیں ملے گی ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے ایسے اشعار کہے تھے ، جن میں نبی اکرم ﷺ پر تنقید کی تھی ، جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو یہ مکتوب ملا ، تو زمین ان کے لئے تنگ ہو گئی اور انہیں اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا اور وہاں انہیں دشمن کے حوالے سے بھی خوف تھا ، تو انہیں اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ملا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، تو وہ انہوں نے وہ قصد کیا ، جس میں انہوں نے اپنے خوف کا ذکر کرتے ہوئے اور اپنی پریشان کن صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ کی تعریف بیان کی ہے ۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ آئے ، وہ ایک ایسے شخص کے پاس ٹھہرے ، جس کا تعلق جہینہ قبیلے سے تھا اور اس کے ساتھ ان کی پرانی شناسائی تھی ، اگلے دن جہینہ قبیلے کا وہ فرد انہیں ساتھ لے کر مسجد میں آیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کرنی تھی ، اس شخص نے لوگوں کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی ، پھر اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کر کے بتایا : یہ اللہ کے رسول ہیں ، تم اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے امان حاصل کر لو ، راوی کہتے ہیں : یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ وہ اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک پر رکھا ، نبی اکرم ﷺ انہیں پہچانتے نہیں تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر توبہ کرتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے آیا ہے ، تاکہ آپ سے امان حاصل کر لے ، اگر میں اسے آپ کے پاس لے آؤں ، تو کیا آپ اس کی طرف سے یہ چیز قبول کر لیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کعب بن زہیر ہوں ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اُچھل کر ان کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے موقع دیں کہ میں اللہ کے اس دشمن کی گردن اڑا دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! کیونکہ یہ توبہ کرتے ہوئے اور ( کفر سے ) الگ ہو کر آیا ہے ، راوی کہتے ہیں : انصار کے قبیلے کو مجھ پر یہ غصہ تھا کہ میں نے ان کے متعلقہ فرد کے ساتھ جو طرز سلوک کیا تھا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مہاجرین کے بارے میں ہمیشہ بھلائی کی بات کہی تھی ( اور انصار پر تنقید کی تھی ) پھر انہوں نے وہ قصیدہ کہا ، جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے کہا تھا ۔ اس قصیدے کے کچھ اشعار یہ ہیں : ’’ جب وہ ( یعنی میری محبوبہ ) چلتی ہے ، تو اس کے دونوں پہلوؤں میں ، چغلی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ، اور ان کا ( مجھ سے ) یہ کہنا ہوتا ہے : اے ابن ابوسلمیٰ ! تم مارے جاؤ گے ، اور جس بھی دوست نے مجھے امید تھی ، ان میں سے ہر ایک نے یہ کہا : میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ، میں تم سے الگ ہوں ، تو میں نے کہا : میرا راستہ چھوڑ دو ! تمہارا باپ نہ رہے ، رحمن نے تقدیر میں جو طے کیا ہے ، وہ ہو کر رہے گا ، ہر ماں کا بیٹا خواہ کتنا ہی طویل عرصہ سلامت رہے ، ایک دن اس کو میت کے تختے پر ضرور اٹھایا جاتا ہے ، مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے میرے بارے میں وعید بیان کی ہے ( یعنی قتل کا فرمان جاری کیا ہے ) تو اللہ کے رسول ﷺ سے معافی کی امید کی جا سکتی ہے ( یا رسول اللہ ! ) نرمی کیجیے ! وہ ذات ( یعنی اللہ تعالیٰ ) آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے ، جس نے آپ کو انعام ( یا عطیہ ) کے طور پر قرآن دیا ہے ، جس میں وعظ و نصیحت کی باتیں بھی ہیں اور ( احکام کی ) تفصیلات بھی ہیں ، آپ چغلی کرنے والوں کی باتوں کی وجہ سے میری گرفت نہ کریں ، میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، اگرچہ میرے بارے میں باتیں بہت کی گئی ہیں ، بیشک رسول ﷺ ایسا نور ہیں کہ ان سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے بے نیام ہندی تلوار ہیں ، جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو قریش کے گروہ میں سے ایک کہنے والے نے مکہ کے نشیبی علاقے میں یہ کہا : تم چل پڑو ! تو وہ لوگ ( یعنی مہاجرین ) روانہ ہو گئے ( یعنی انہوں نے ہجرت کر لی ) حالانکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہ تو وہ کمزور ہیں اور نہ ہی ( دشمن سے ) سامنا کرنے کے وقت ( یعنی جنگ میں ) ڈھال کے بغیر ہیں ، نہ تلوار کے بغیر ہیں ، نہ ہتھیاروں کے بغیر ہیں ، وہ ( جنگ میں ) یوں خوبصورتی سے چلتے ہیں ، جیسے سفید ( یعنی عمدہ قسم کے ) اونٹ چلتے ہیں ، اور ضرب اُن کی حفاظت کرتی ہے ، جب چھوٹے قد کے سیاہ فام لوگ منہ موڑ لیتے ہیں ، وہ ( مہاجرین ) اونچی ناک والے بہادر ہیں ، اور ( جنگ کے موقعہ پر ) ان کا لباس وہ قمیصیں ( یعنی زرہیں ) ہوتی ہیں جو حضرت داؤد علیہ السلام نے ( لوہے سے ) تیار کی تھیں ( وہ زرہیں ) چمکدار اور بڑی ہیں ، جن کے حلقے ایک دوسرے میں پیوست ہوتے ہیں ، یوں جیسے وہ ’’ قفعاء ‘‘ ( نامی بوٹی ) کے مضبوط حلقے ہوں ، جب ان کے نیزے دشمن تک پہنچ جائیں ( اور دشمن کو مار دیں ) تو وہ خوش نہیں ہوتے ہیں اور جب انہیں خود کو نقصان پہنچے تو وہ واویلا نہیں کرتے ہیں ( دشمن کے ) نیزوں کے وار ( ان مہاجرین کے ) سینوں پر لگتے ہیں ، اور وہ ( مہاجرین ) موت کے حوضوں سے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں ۔‘‘ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمرو نے مجھے یہ بات بتائی ہے : جب انہوں نے ’’ السود التنابیل ‘‘ ( یعنی چھوٹے قد کے سیاہ فام ) کا لفظ کا استعمال کیا ، تو اس سے مراد انصار کا گروہ تھا کیونکہ ان کے ساتھی نے ایسا کیا تھا ، اور حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ، قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کا ذکر تعریف کے ساتھ ہی کیا تھا ، تو اس وجہ سے انصار کو ان پر غصہ آیا ، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو وہ انصار کی بھی تعریف کرنے لگے اور انہوں نے انصار کی ان کوششوں کا ذکر کیا ، جو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کی تھیں اور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اُن کی جو قدر و منزلت حاصل تھی اس کا ذکر کیا : ’’ جو شخص زندگی میں عزت چاہتا ہے وہ انصار کے نیک شہسواروں کے ساتھ رہے ، جنہوں نے جنگ کے موقعہ پر ، اور مخالفتوں کی آزمائش کے وقت اپنی جانیں اپنے نبی ﷺ کے لیے خرچ کیں ، اور لوگوں کے حوضوں کے پاس ، اُن پر چیر پھاڑ کر دینے والی تلواروں اور نیزوں کے ذریعے ضربیں لگائیں ، وہ ( دشمن کو ) انگاروں جیسی سرخ آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہیں ، ان کا دیکھنا کمزور نہیں ہوتا ، وہ ( انصار ، دشمن کے ) خون سے طہارت حاصل کرتے ہیں ، جن کافروں کو انہوں نے قتل کیا ہو ، یوں جیسے وہ ( دشمن ) ان کا قربانی کا جانور ہو ، ان لوگوں ( یعنی انصار ) کے بارے میں ، مجھے جو علم ہے ، اگر وہ سارا علم باقی سب کو بھی حاصل ہو جائے ، تو وہ شخص بھی میری بات کی تصدیق کر دے گا ، جس کے ساتھ میں بحث کر رہا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ثقہ ہیں ۔

16071

Majma al-Zawaid #16071

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَا شومة بْنُ جُرْثُومٍ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ؛ فَقِيلَ لَاسرُ بْنُ حِمْيَرَ، وَقِيلَ: لَاشَرُ بْنُ جَاهِمٍ، وَقِيلَ: جُرْهُمُ، وَقِيلَ: غُرْنُوفُ بْنُ نَاسِمٍ، وَيُقَالَ: نَاشِرٌ وَيُقَالُ: نَاشِبُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: خُرَيْمُ بْنُ نَاشِبٍ ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani discusses Abu Tha'labah al-Khushani, Lashumah ibn Jurthum, over whose name there is disagreement: Lasr ibn Himyar, Lashar ibn Jahim, Jurhum, Ghurnuf ibn Nasim, Nashir, Nashib ibn 'Amr, or Khuraym ibn Nashib. > **"Abu Tha'labah al-Khushani; disagreement surrounds his name."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت لاشومہ بن جرثوم ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام لاسر بن حمیر ہے ایک قول کے مطابق لاشر بن جاہم ہے ، ایک قول کے مطابق جرہم ہے ایک قول کے مطابق غرنوف بن ناسم ہے ، ایک قول کے مطابق ناشر ہے ، ایک قول کے مطابق ناشب بن عمرو ہے ، ایک قول کے مطابق خریم بن ناشب ہے ۔

16072

Majma al-Zawaid #16072

«- عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ قَالَ: فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَ، ثُمَّ قَالَ: "" نُوَيْبِتَةٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ: "" بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ». قُلْتُ: .... .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Tha'labah al-Khushani reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ to tell him what is lawful and unlawful for him; the Prophet ﷺ looked him up and down and called him a little offshoot; asked whether an offshoot of good or evil, he replied an offshoot of good. > **"Rather, an offshoot of good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ بتائیے کہ کون سی چیز میرے لئے حلال ہے ؟ اور کون سی چیز حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا اور پھر ارشاد فرمایا : چھوٹا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا ، یا برائی کا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ بھلائی کا چھوٹا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام احمد کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مسلم بن مشکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16073

Majma al-Zawaid #16073

وَعَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ: مَاتَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Harun ibn 'Abdullah al-Hammal reports that Abu Tha'labah al-Khushani died in the year seventy-five. > **"Abu Tha'labah al-Khushani died in the year seventy-five."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ ان کا انتقال 75 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16074

Majma al-Zawaid #16074

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: «أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ رَوَاءٍ الْعَنْسِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُ يَتَعَشَّى، فَدَعَاهُ إِلَى الْعَشَاءِ فَأَكَلَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ "". قَالَ رَبِيعَةُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ: "" أَرَاغِبًا أَمْ رَاهِبًا "". قَالَ رَبِيعَةُ: أَمَّا الرَّغْبَةُ فَوَاللَّهِ مَا هِيَ فِي يَدِكَ، وَأَمَّا الرَّهْبَةُ فَوَاللَّهِ إِنَّا بِبِلَادٍ لَا تَبْلُغُنَا جُيُوشُكَ وَلَا خُيُولُكَ، وَلَكِنِّي خُوِّفْتُ فَخِفْتُ، وَقِيلَ لِي: آمِنْ فَآمَنْتُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُبَّ خَطِيبٍ مِنْ عَنْسَ "". فَأَقَامَ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَهُ فَوَدَّعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ أَحْسَسْتَ حِسًّا فَوَائِلْ إِلَى أَدْنَى قَرْيَةٍ "". فَأَحَسَّ حِسًّا فَوَائِلَ إِلَى قَرْيَةٍ فَمَاتَ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr ibn Muhammad ibn 'Amr ibn Hazm reports that Rabi'ah ibn Rawa' al-'Ansi came to the Messenger of Allah ﷺ, found him at supper, was invited and ate, was asked to testify there is no god but Allah and Muhammad is His servant and Messenger, testified, was asked whether from desire or fear, replied desire is not in the Prophet's hand while fear is groundless in lands no armies reach, but he was warned and feared and bidden to believe so he believed; the Prophet ﷺ remarked how many an eloquent preacher is of 'Ans. He frequented the Prophet ﷺ, then bade farewell, was told if he sensed danger to turn to the nearest village, sensed it, turned aside, and died there. > **"Many an eloquent preacher is of 'Ans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں : حضرت ربیعہ بن رواء عنسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ رات کا کھانا کھا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں کھانے کی دعوت دی ، انہوں نے کھانا کھایا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اپنی خوشی سے ایسا کر رہے ہو ؟ یا خوف کی وجہ سے ایسا کر رہے ہو ؟ تو حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک رغبت کا تعلق ہے تو اللہ کی قسم ! وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے اور جہاں تک ڈر کا تعلق ہے ، تو اللہ کی قسم ! ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ جہاں تک آپ کے لشکر نہیں پہنچے ہیں ، اور نہ ہی آپ کے گھڑ سوار پہنچے ہیں ، لیکن مجھے خوف دلایا گیا تو میں خوف کا شکار ہو گیا ، مجھ سے کہا گیا کہ تم ایمان لے آؤ ، تو میں ایمان لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنس قبیلے کے لوگ بہترین خطیب ہوتے ہیں ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آنے جانے لگے ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں رخصت کیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تمہیں طبیعت میں خرابی محسوس ہو ، تو تم قریب کی بستی کی طرف چلے جانا ‘‘ راوی کہتے ہیں : وہ وہاں سے روانہ ہوئے ، راستے میں انہیں طبیعت خراب محسوس ہوئی ، تو وہ قریب کی بستی میں چلے گئے اور وہاں اُن کا انتقال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16075

Majma al-Zawaid #16075

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَيْدَرَةُ بْنُ خَيْشَنَةَ: أَبُو قِرْصَافَةَ اللَّيْثِيُّ، مَوْلَى بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies Haydarah ibn Khayshanah as Abu Qirsafah al-Laythi, freedman of Banu Layth of Bakr of 'Abd Manat of Kinanah. > **"Abu Qirsafah al-Laythi, freedman of Banu Layth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت حیدرہ بن خیشنہ ابوقرصافہ لیثی ہیں ، جو بنو لیث بن بكر بن عبدمناة بن کنانہ سے نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔

16076

Majma al-Zawaid #16076

«عَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي أَنِّي كُنْتُ يَتِيمًا بَيْنَ أُمِّي وَخَالَتِي، وَكَانَ أَكْثَرُ مَيْلِي إِلَى خَالَتِي، وَكُنْتُ أَرْعَى شُوَيْهَاتٍ لِي، فَكَانَتْ خَالَتِي كَثِيرًا مَا تَقُولُ لِي: يَا بُنَيَّ، لَا تَمُرَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ - تَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُغْوِيَكَ وَيُضِلَّكَ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ حَتَّى آتِيَ الْمَرْعَى، وَأَتْرُكَ شُوَيْهَاتِي وَآتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أُرَوِّحُ غَنَمِي ضُمَّرًا يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ. وَقَالَتْ لِي خَالَتِي: مَا لِغَنَمِكَ يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ؟ قُلْتُ: مَا أَدْرِي. ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الثَّانِيَ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَاجِرُوا وَتَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا دَامَ الْجِهَادُ "". ثُمَّ إِنِّي رُحْتُ بِغَنَمِي كَمَا رُحْتُ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ. ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَلَمْ أَزَلْ عِنْدَهُ أَسْمَعُ مِنْهُ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَبَايَعْتُهُ وَصَافَحْتُهُ، وَشَكَوْتُ إِلَيْهِ أَمْرَ خَالَتِي وَأَمْرَ غَنَمِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جِئْنِي بِالشِّيَاهِ "". فَجِئْتُهُ بِهِنَّ، فَمَسَحَ ظُهُورَهُنَّ وَضُرُوعَهُنَّ، وَدَعَا فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَامْتَلَأْنَ شَحْمًا وَلَبَنًا، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى خَالَتِي بِهِنَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَكَذَا فَارْعَ، قُلْتُ: يَا خَالَةُ، مَا رَعَيْتُ إِلَّا حَيْثُ أَرْعَى كُلَّ يَوْمٍ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكِ بِقِصَّتِي، وَأَخْبَرْتُهَا بِالْقِصَّةِ وَإِتْيَانِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْتُهَا بِسِيرَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، فَقَالَتْ [لِي] أُمِّي وَخَالَتِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي فَأَسْلَمْنَ، وَبَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[وَمَا] صَافَحَهُنَّ. فَهَذَا مَا كَانَ مِنْ أَمْرِ إِسْلَامِ أَبِي قِرْصَافَةَ، وَهِجْرَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يَسْكُنُ أَرْضَ تِهَامَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qirsafah, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reports that his Islam began as an orphan between his mother and maternal aunt, leaning to his aunt, pasturing his little ewes; his aunt oft warned him against approaching the Prophet ﷺ lest he beguile him, yet he left his flock daily to listen to him, returning with shrunken, dry-uddered sheep. Questioned over their state, he knew not what to say, returned a second day hearing him call mankind to emigrate and hold to Islam while striving endures, a third day embraced Islam, pledged, and clasped his hand, then complained of his aunt and flock; the Messenger of Allah ﷺ bade him bring the ewes, wiped their backs and udders, supplicated blessing over them, and they filled with fat and milk. His mother and aunt, told the tale and his words and conduct, went with him, embraced Islam, pledged the Messenger of Allah ﷺ, though he did not clasp their hands; such was the affair of Abu Qirsafah's Islam. > **"O people, emigrate and hold fast to Islam, for emigration does not cease while striving endures."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے اسلام کا آغاز یوں ہوا کہ میں یتیم بچہ تھا ، میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، میں زیادہ تر اپنی خالہ کے ساتھ رہتا تھا ، اور میں کچھ بکریاں چرایا کرتا تھا ، میری خالہ اکثر مجھ سے یہ کہتی تھیں : کہ تم اُن صاحب کے پاس سے نہ گزرنا ، اُن کی مراد نبی اکرم ﷺ تھے ، ورنہ وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے اور تمہیں بھٹکا دیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نکلتا تھا یہاں تک کہ اپنی چراگاہ تک آتا تھا ، اپنی بکریاں وہاں چھوڑتا تھا اور پھر ( ایک مرتبہ ) میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا ، میں مسلسل آپ کی بات چیت سنتا رہا ، پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس آیا ، تو ان کے تھن خشک تھے ، میری خالہ نے مجھ سے کہا : کیا وجہ ہے تمہاری بکریوں کے تھن خشک کیوں ہیں ؟ میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، پھر میں دوسرے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ویسا ہی کیا ، جس طرح میں نے پہلے دن کیا تھا ، البتہ میں نے اس دوران نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو ، کیونکہ ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی ، جب تک اسلام باقی ہے ۔‘‘ پھر میں شام کو اپنی بکریاں لے کر واپس گیا ، جس طرح میں پہلے دن واپس لے کر گیا تھا ، پھر میں تیسرے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بات چیت سنتا رہا ، آپ کے پاس موجود رہا ، یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ، آپ کے دست اقدس پر بیعت کر لی ، میں نے آپ کے ساتھ مصافحہ کیا ، پھر میں نے اپنی خالہ کا معاملہ آپ کے سامنے شکایت کے طور پر ذکر کیا اور اپنی بکریوں کا معاملہ ذکر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم وہ بکریاں میرے پاس لے کر آؤ ، میں انہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی پشت اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور اُن میں برکت کی دعا کی ، تو وہ بکریاں چربی اور دودھ سے بھر گئیں ، جب میں اُن بکریوں کو لے کر اپنی خالہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے کہا : اے میرے بیٹے ! اسی طرح تم ان کو چرایا کرو ، میں نے کہا : اے خالہ جان ! میں نے انہیں اسی طرح چرایا ہے جس طرح میں انہیں روزانہ چراتا ہوں ، لیکن اب میں آپ کو اپنا واقعہ بتاتا ہوں ، پھر میں نے انہیں پوری صورت حال بتائی اور یہ بتایا کہ کس طرح میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور گفتگو کے بارے میں انہیں بتایا ، تو میری ماں اور میری خالہ نے مجھ سے کہا : تم ہمیں بھی اُن کے پاس لے جاؤ ، تو میں ، میری والدہ اور میری خالہ گئے ، اُن خواتین نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اُن خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو یہ حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے اور اُن کے نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کا معاملہ ہے ، حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ تہامہ کی سرزمین پر رہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16077

Majma al-Zawaid #16077

وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ: «أَسَرَتِ الرُّومُ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ إِذَا حَضَرَ وَقْتُ كُلِّ صَلَاةٍ صَعِدَ سُورَ عَسْقَلَانَ، وَنَادَى: يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ، فَيَسْمَعُهُ وَهُوَ فِي بَلَدِ الرُّومِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Azzah bint 'Iyad ibn Abi Qirsafah reports that Rome captured a son of Abu Qirsafah, and thereafter at every prayer time Abu Qirsafah would ascend the wall of Ascalon calling his son by name to prayer, and his son heard him in the land of Rome. > **"At every prayer he would ascend the wall of Ascalon and call: O so-and-so, prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده عزه بنت عیاض بن ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : رومیوں نے حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو قیدی بنا لیا تو حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت عسقلان شہر کی دیواروں پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکار کر یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، تو اُن کا بیٹا ان کی آواز سن لیتا تھا ، حالانکہ وہ رومیوں کے شہر میں موجود ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16078

Majma al-Zawaid #16078

عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ: أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: عَمْرُو بْنُ خُوَيْلِدٍ ..

EnglishUnverified translation

Harun ibn 'Abdullah al-Hammal identifies Abu Shurayh al-Khuza'i as Ka'b ibn 'Amr, also called Khuwaylid ibn 'Amr or 'Amr ibn Khuwaylid. > **"Abu Shurayh al-Khuza'i is Ka'b ibn 'Amr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں : یہ حضرت ابوشریح خزاعی کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک قول کے مطابق ان کا نام خویلد بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق عمرو بن خویلد ہے ۔

16079

Majma al-Zawaid #16079

عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ: قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ: مَنْ رَآنِي أُلَاحِي خَتَنًا لِي، أَفْرَشَنِي كَرِيمَتَهُ، وَأَفْرَشْتُهُ كَرِيمَتِي؛ فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَجْنُونٌ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي. وَمَنْ رَأَى لِأَبِي شُرَيْحٍ جَدْيًا أَوْ لَبَنًا يُبَاعُ؛ فَهُوَ نَهْبٌ. وَمَنْ رَآنِي أُحَادُّ جَارًا فِي لَبِنَةٍ؛ فَأَنَا مَجْنُونٌ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي. قَالَ: فَاخْتَبَرَهُ جَارٌ لَهُ - يُقَالُ لَهُ: عَرْفَجَةُ - فَأَخَذَ مِنْ دَارِهِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّهُ أَخَذَ مِنْ دَارِكَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ قَالَ: هُوَ أَعْلَمُ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ جَارُهُ بَعْدُ، وَرَجَعَ إِلَى حَقِّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id al-Maqburi reports that Abu Shurayh declared whoever sees him contending with a son-in-law, having housed each other's daughters, should deem him mad and cauterize his head; whoever sees a kid or milk of his sold, it is plunder; whoever sees him disputing a neighbor over a brick, he is mad and should be cauterized. A neighbor called 'Arfajah tested him by seizing ten cubits of his house; told of it, Abu Shurayh said he knows best, and the neighbor restored his right thereafter. > **"He knows best."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید مقبری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص مجھے یہ دیکھے کہ میں اپنے سسرالی عزیز کے ساتھ لڑائی کر رہا ہوں ، خواہ وہ میرا سسر بنتا ہو ، یا میں اس کا سسر بنتا ہوؤں ، تو اس وقت میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا اور جو شخص ابوشریح کا جانور فروخت ہوتے ہوئے دیکھے ، تو وہ اچک لیا گیا ہو گا اور جو شخص مجھے دیکھے کہ میں کسی اینٹ کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کر رہا ہوں تو میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اُن کے پڑوسی ، جن کا نام عرفجہ تھا ، اُن سے اس کے بارے میں دریافت کیا ، انہوں نے اس کے گھر میں سے دس بالشت کا حصہ لے لیا تھا ، تو لوگوں نے ان سے کہا : اے ابوشریح ! اس نے آپ کے گھر میں سے دس بالشت کا حصہ لے لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ زیادہ بہتر جانتا ہے ، بعد میں اُن کے پڑوسی نے وہ جگہ ان کو واپس کر دی اور ان کے حق کی طرف رجوع کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16080

Majma al-Zawaid #16080

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو شُرَيْحٍ - وَاسْمُهُ خُوَيْلِدٌ - سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ بِالْمَدِينَةِ، وَاخْتُلِفَ فِي وَفَاتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Bukayr reports that Abu Shurayh, named Khuwaylid, died in Madinah in the year sixty-eight, though his death date is disputed. > **"Abu Shurayh died in Madinah in the year sixty-eight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، ان کا نام خویلد تھا ان کا انتقال 68 ہجری میں ہوا ، ان کی وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

16081

Majma al-Zawaid #16081

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn 'Abdullah ibn Numayr reports that Abu Shurayh al-Khuza'i, Ka'b ibn 'Amr, died in the year fifty-eight. > **"Abu Shurayh al-Khuza'i died in the year fifty-eight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوشریح خزاعی کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال 58 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

16082

Majma al-Zawaid #16082

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هَانِئُ بْنُ نِيَارِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدِ بْنِ كِلَابِ بْنِ دَهْمَانَ بْنِ غُنْمِ بْنِ ذُبْيَانَ بْنِ هُمَيْمِ بْنِ كَاهِلِ بْنِ ذُهْلِ بْنِ بِلَى بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَافِّ بْنِ قُضَاعَةَ: أَبُو بُرْدَةَ الْبَلَوِيُّ حَلِيفُ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَقَبِيٌّ، بَدْرِيٌّ [وَهُوَ خَالُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ] ..

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies Hani' ibn Niyar of Quda'ah as Abu Burdah al-Balawi, ally of Banu Harithah of Khazraj, of 'Aqabah and Badr, maternal uncle of al-Bara' ibn 'Azib. > **"Hani' ibn Niyar is Abu Burdah al-Balawi, of 'Aqabah and Badr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت ہانی رضی اللہ عنہ بن نیار بن عمرو بن عبید بن کلاب بن دہمان بن غنم بن ذبیان بن تمیم بن کاہل بن ذہل بن بلی بن عمرو بن الحاف بن قضاعه - ابوبردہ بلوی ہیں ، جو بنو حارثہ بن خزرج کے حلیف ہیں ، انہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ہیں ۔

16083

Majma al-Zawaid #16083

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: عَاصِمُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْجَدِّ بْنِ عَجْلَانَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، وَهُوَ مِنْ بِلَى، حَلِيفٌ لِبَنِي عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَوْفِ [بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ] بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ، خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[إلِى بَدْرٍ فَرَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ] مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ. وَيُقَالُ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَخْلَفَهُ عَلَى الْعَالِيَةِ. وَيُقَالُ: عَاشَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمِائَةَ سَنَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq identifies 'Asim ibn 'Adi of Baliyy, ally of Banu 'Ubayd of Aws, who set out with the Prophet ﷺ to Badr but was sent back with a share allotted among the men of Badr, was said to be left over al-'Aliyah, and said to have lived one hundred fifteen years. > **"'Asim ibn 'Adi set out to Badr and was allotted a share among its men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ بن عدی بن جد بن عجلان بن ضبیعہ ہیں ، ان کا تعلق بنو بلی سے ہے ، یہ بنو عبید بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف ہیں ، یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف گئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں واپس کر دیا تھا اور ان کا حصہ اصحاب بدر کے ہمراہ مقرر کیا تھا ۔ یہ بات بیان کی جاتی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ’’ عالیہ ‘‘ نامی علاقے میں انہیں اپنا نائب مقرر کیا تھا ۔ یہ بات بیان کی جاتی ہے : یہ 115 کی عمر تک زندہ رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16084

Majma al-Zawaid #16084

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ: قَيْسُ بْنُ أَبِي صَعْصَعَةَ، وَاسْمُ أَبِي صَعْصَعَةَ: عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ عَوْفِ بْنِ مَبْذُولِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غُنْمِ بْنِ مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, naming the Ansar who witnessed Badr of Khazraj of Banu Mazin of al-Najjar, lists Qays ibn Abi Sa'sa'ah, whose father's name was 'Amr ibn Zayd of Mabdhul of Ghanm of Mazin of al-Najjar. > **"Qays ibn Abi Sa'sa'ah of Banu Mazin of al-Najjar witnessed Badr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، بنو خزرج کی شاخ بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت قیس بن صعصہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، ابوصعصعہ کا نام عمرو بن زید بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16085

Majma al-Zawaid #16085

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: قَيْسُ بْنُ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَقَبِيٌّ، بَدْرِيٌّ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani notes Qays ibn Sa'sa'ah al-Ansari was of 'Aqabah and Badr. > **"Qays ibn Sa'sa'ah was of 'Aqabah and Badr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت قیس بن صعصعہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔

16086

Majma al-Zawaid #16086

عَنْ هَانِئٍ أَبِي مَالِكٍ: «أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْيَمَنِ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَأَنْزَلَهُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا جَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ الْجَيْشَ إِلَى الشَّامِ خَرَجَ مَعَهُمْ وَلَمْ يَرْجِعْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْعَلَائِيَّ قَالَ: الظَّاهِرُ أَنَّ [يَزِيدَ بْنَ] عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ أَبِي مَالِكٍ.

EnglishUnverified translation

Hani' Abu Malik reports that he came from Yaman to the Messenger of Allah ﷺ, who invited him to Islam, he embraced it, the Prophet ﷺ wiped his head, supplicated blessing for him, lodged him with Yazid ibn Abi Sufyan, and when Abu Bakr dispatched the army to Syria he went with them and never returned. > **"He embraced Islam, the Prophet ﷺ wiped his head and supplicated blessing for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بانی ابومالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ یمن سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے برکت کی دعا کی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں یزید بن ابوسفیان کے ہاں ٹھہرایا ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کیا ، تو یہ بھی اُن لوگوں کے ساتھ تشریف لے گئے تھے ، لیکن یہ واپس نہیں آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ علائی کا معاملہ مختلف ہے وہ یہ کہتے ہیں : بظاہر یہ لگتا ہے : یزید بن عبدالرحمن نامی راوی نے اپنے دادا حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

16087

Majma al-Zawaid #16087

عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْبُدَيْلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، وَسَقَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَرْبَةَ سَوِيقٍ، شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَهَا، وَشَرِبْتُ آخِرَهَا، فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَلَّتَهَا عَلَى فُؤَادِي إِذَا ظَمِئْتُ، وَبَرْدَهَا إِذَا أَضْحَيْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu 'Aqil al-Budayli reports that he came to the Prophet ﷺ, believed and affirmed, and the Messenger of Allah ﷺ gave him sawiq to drink, drinking first himself and giving the last to him; ever after he felt its moisture upon his heart when thirsty and its coolness in the forenoon heat. > **"I still feel its moisture upon my heart when thirsty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعقیل بدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں آپ پر ایمان لے آیا ، میں نے آپ کی تصدیق کی ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے ستو کا مشروب پلایا ، جس کا ابتدائی حصہ نبی اکرم ﷺ نے پیا تھا ، اور اس کا آخری حصہ میں نے پیا ، اُس کی ٹھنڈک ہمیشہ مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوتی ہے ، جب بھی میں پیاسا ہوتا ہوں اور اُس کی ٹھنڈک ہر دن کے وقت مجھے محسوس ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16088

Majma al-Zawaid #16088

«عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَعَ اللِّوَاءَ إِلَيَّ، وَرَمَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْجَنْدَلِ، فَأَعْجَبَهُ، وَدَعَا لِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Maryam reports that he campaigned with the Prophet ﷺ, who entrusted the banner to him, and that he shot with stones before him in a manner that pleased him, so he supplicated for him. > **"He entrusted the banner to me and supplicated for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا ، نبی اکرم ﷺ نے جھنڈا میرے سپرد کیا ، میں نے اسے اپنے سامنے زمین میں گاڑ دیا ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی ، تو آپ ﷺ نے مجھے دعا دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16089

Majma al-Zawaid #16089

«عَنْ أَبِي خَيْرَةَ قَالَ: كَانَتْ لِي إِبِلٌ أَحْمِلُ عَلَيْهَا، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ - أَوْ قَالَ: حُنَيْنًا - وَكُنَّا نَحْمِلُ لَهُ الْمَاءَ عَلَى إِبِلِنَا، وَكَانَتْ لِي بِالْمَدِينَةِ تِجَارَةٌ، فَدَعَا لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَرَكَةِ، وَدَعَا لِوَلَدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Khayrah reports that he owned camels for carriage, came to Madinah, attended Khaybar or Hunayn with the Prophet ﷺ carrying water for him upon their camels, kept a trade in Madinah, and the Prophet ﷺ supplicated blessing for him and his children. > **"The Prophet ﷺ supplicated blessing for me and my children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوخیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا ایک اونٹ تھا ، جس پر میں سامان لادا کرتا تھا ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ خبیر میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) غزوہ حنین میں شریک ہوا ، ہم اپنے اونٹ پر پانی لادا کرتے تھے ، مدینہ منورہ میں میرا تجارت کا کام ہوتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے برکت کی دعا کی تھی ، آپ نے میری اولاد کے لئے بھی دعا دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔