Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 44

Book of Virtues and Merits

Hadith 16010–16049

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

16010

Majma al-Zawaid #16010

«عَنْ هَالَةَ أَنَّهُ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ رَاقِدٌ، فَاسْتَيْقَظَ، فَضَامَّ هَالَةَ إِلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ: "" هَالَةُ هَالَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ: كَأَنَّهُ سُرَّ بِهِ لِقَرَابَتِهِ مِنْ خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Halah reports that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ while he slept, the Prophet ﷺ awoke and drew Halah to his chest, uttering his name in joy, as though delighted by him for his kinship to Khadijah, may Allah be pleased with her. > **"Halah! Halah!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت سو رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو آپ نے حضرت بالہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور فرمایا : ہالہ ہالہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ اُن کی آمد پر اس لئے خوش ہوئے تھے کہ کیونکہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے رشتے دار تھے ۔ اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16011

Majma al-Zawaid #16011

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: "" اهْجُ الْمُشْرِكِينَ؛ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُؤَيِّدُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: كَانَ رَدِيءَ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' ibn 'Azib reports that the Messenger of Allah ﷺ told Hassan ibn Thabit to lampoon the polytheists, for Allah the Exalted aids him with the Holy Spirit. > **"Lampoon the polytheists, for Allah the Exalted aids you with the Holy Spirit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم مشرکین کی ہجو کرو ! بے شک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تمہاری تائید کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید رملی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : یہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

16012

Majma al-Zawaid #16012

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: قَدْ جَاءَ حَسَّانُ اللَّعِينُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا هُوَ بِلَعِينٍ؛ لَقَدْ جَاهَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلِسَانِهِ وَنَفْسِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Jubayr reports that a man came to Ibn 'Abbas announcing the arrival of the accursed Hassan, and Ibn 'Abbas replied he is no accursed one, for he strove with the Messenger of Allah ﷺ with his tongue and his self. > **"He is no accursed one; he strove with the Messenger of Allah ﷺ with his tongue and his self."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا : حسان لعین آیا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : وہ لعین نہیں ہیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ، اپنی زبان اور جان کے ہمراہ جہاد کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ بن حدیج ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

16013

Majma al-Zawaid #16013

عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ أَبَا هِنْدٍ - مَوْلَى بَنِي بَيَاضَةَ - كَانَ حَجَّامًا، حَجَمَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ صَوَّرَ اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي هِنْدٍ "". وَقَالَ: "" أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّبَرَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'A'ishah, may Allah be pleased with her, reports that Abu Hind, the freedman of Banu Bayadah, was a cupper who cupped the Prophet ﷺ, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said whoever wishes to look at a man in whose heart Allah has formed faith should look at Abu Hind, and he commanded that Abu Hind be married and married to. > **"Whoever wishes to look at a man in whose heart Allah has formed faith, let him look at Abu Hind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابوہند بنو بیاضہ کا غلام تھا ، وہ پچھنے لگایا کرتا تھا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کو پچھنے لگائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ جس کے دل میں ، اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نقش کر دیا ہے تو وہ ابوہند کو دیکھ لے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ ابوہند کی شادی کروا دو اور ابوہند کے ساتھ شادی کروا دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن اسحاق طبرانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16014

Majma al-Zawaid #16014

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَبُوكَ، فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ بِضِيَاءٍ وَشُعَاعٍ وَنُورٍ لَمْ نَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى بِمِثْلِهِ، فَأَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا جِبْرِيلُ، مَا لِي أَرَى الشَّمْسَ الْيَوْمَ طَلَعَتْ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى؟ "". قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيُّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ الْيَوْمَ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَالَ: "" وَفِيمَ ذَلِكَ؟ "". قَالَ: كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَةَ: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَفِي مَمْشَاهُ وَقِيَامِهِ وَقُعُودِهِ، فَهَلْ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ أَقْبِضَ لَكَ الْأَرْضَ فَتُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَصَلَّى عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدَلٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that while they were with the Messenger of Allah ﷺ at Tabuk the sun rose with a radiance never seen before, Jibril came, and when the Prophet ﷺ asked him why, he replied that Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Laythi had died in Madinah that day and Allah had dispatched a thousand angels to pray over him, for he recited Qul Huwa Allahu Ahad abundantly by night and day, standing, sitting, and walking; Jibril offered to fold the earth so the Prophet ﷺ might pray over him, he consented, and prayed over him. > **"He would abundantly recite Qul Huwa Allahu Ahad by night and day, in his walking, standing, and sitting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تبوک میں موجود تھے ، جب سورج نکلا تو اس کی روشنی تیز تھی ، اس سے پہلے ہم نے اس کو کبھی اس طرح چمکدار عالم میں طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے کہ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ سورج کی روشنی بہت تیز ہے ؟ اس سے پہلے میں نے کبھی اسے اس طرح طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں آج حضرت معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک ہزار فرشتے بھیجے ہیں ، تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ ادا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : وہ رات اور دن میں ، چلتے ہوئے قیام کے دوران ، بیٹھنے کے دوران ، کثرت کے ساتھ سورہ اخلاص پڑھا کرتے تھے ، پھر انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کے لئے زمین کو سمیٹ دوں اور آپ ان کی نماز جنازہ ادا کر لیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن زیدل ابومحمد ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

16015

Majma al-Zawaid #16015

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كَانَ يَأْتِينِي جِبْرِيلُ عَلَى صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ "". قَالَ أَنَسٌ: وَدِحْيَةُ كَانَ رَجُلًا جَسِيمًا أَبْيَضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas reports that the Messenger of Allah ﷺ said Jibril would come to him in the form of Dihyah al-Kalbi, and Anas added that Dihyah was a large, fair man. > **"Jibril would come to me in the form of Dihyah al-Kalbi."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جبرائیل ، میرے پاس دحیہ کلبی کی شکل میں آتا ہے ۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک وجیہ و شکیل ، خوب صورت سفید رنگ کے شخص تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16016

Majma al-Zawaid #16016

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: كَانَ عُتْبَةُ يَقُولُ: عِرْبَاضٌ خَيْرٌ مِنِّي، وَعِرْبَاضٌ يَقُولُ: عُتْبَةُ خَيْرٌ مِنِّي؛ سَبَقَنِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shurayh ibn 'Ubayd reports that 'Utbah would say 'Irbad is better than him, and 'Irbad would say 'Utbah is better than him, for 'Utbah preceded him to the Prophet ﷺ by a year. > **"'Irbad is better than me, and 'Utbah is better than me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے : عرباض مجھ سے بہتر ہیں ، اور حضرت عرباض رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے : عتبہ مجھ سے بہتر ہیں ، وہ مجھ سے ایک سال پہلے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16017

Majma al-Zawaid #16017

«عَنْ أَبِي زَيْدٍ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ غَزَوَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Zayd reports that he campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in seven campaigns. > **"I campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in seven campaigns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16018

Majma al-Zawaid #16018

«وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ قَالَ: قَاتَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَرَّةً». قَالَ شُعْبَةُ: وَهُوَ جَدُّ عَزْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ تَمِيمِ بْنِ حُوَيْصٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Zayd reports that he fought with the Prophet ﷺ thirteen times, and Shu'bah added that he is the grandfather of 'Azrah. > **"I fought with the Prophet ﷺ thirteen times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تیرہ مرتبہ جنگ میں حصہ لیا ہے ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : یہ عزرہ نامی راوی کے دادا ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ تمیم بن حویص کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16019

Majma al-Zawaid #16019

وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ: عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَكَانَتْ فِيهِ شَعْرَةٌ فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ "". قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ لَيْسَ فِي لِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سِتُّونَ سَنَةً. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Zayd 'Amr ibn Akhtab al-Ansari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked for water, he brought a cup containing water with a hair in it, he removed it, and the Prophet ﷺ supplicated for his beauty; thereafter he was seen at ninety-four with not a white hair in his beard. > **"O Allah, beautify him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوزید عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو میں آپ کی خدمت میں پانی لے کے آیا ، اس میں ایک بال موجود تھا ، وہ میں نے نکال لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو اسے آراستہ کر دے !‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا اس وقت اُن کی عمر 94 سال تھی ، اس وقت بھی اُن کی داڑھی میں کوئی سفید بال نہیں تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : 60 سال تھی ، اس کی سند حسن ہے ۔

16020

Majma al-Zawaid #16020

«وَعَنْ أَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جَمَّلَكَ اللَّهُ "". وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا حَسَنَ الشَّمَطِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ: الْحَجَّاجِ بْنِ نُصَيْرٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Zayd ibn Akhtab reports that the Messenger of Allah ﷺ said to him may Allah beautify you, and he was a handsome man with fair streaks of grey. > **"May Allah beautify you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوزید بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ تمہیں آراستہ کرے ‘‘ راوی کہتے ہیں : وہ ایک خوبصورت وجیہ و شکیل شخصیت کے مالک تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد حجاج بن نصیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16021

Majma al-Zawaid #16021

«عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: "" يَا ضَمْرَةُ، أَتُرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ؟ "". فَقَالَ: لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ "". فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزْعَهُمَا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُ.

EnglishUnverified translation

Damrah ibn Tha'labah reports that he came to the Prophet ﷺ wearing two Yemeni garments, and the Prophet ﷺ asked whether he deemed those two garments would admit him to Paradise; he replied that if the Messenger of Allah ﷺ sought forgiveness for him he would not sit until he removed them, the Prophet ﷺ supplicated for him, and he hastened away and removed them. > **"O Allah, forgive Damrah ibn Tha'labah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر یمن کے بنے ہوئے دو حلے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ضمرہ ! کیا تم اپنے ان دو کپڑوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اُتار دوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے ، تو وہ تیزی سے گئے اور انہوں نے وہ لباس تبدیل کر لیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16022

Majma al-Zawaid #16022

وَعَنْهُ: «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ حَرِّمْ دَمَ ابْنِ ثَعْلَبَةَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ "". قَالَ: فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عُرْضِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُمْ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ، إِنَّكَ لَتُغَرَّرُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي أَصْحَابِي فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي. قَالَ: فَعُمِّرَ زَمَانًا طَوِيلًا مِنْ دَهْرِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

He also reports that he came to the Prophet ﷺ asking him to supplicate for martyrdom, so the Prophet ﷺ supplicated that Allah forbid the blood of Ibn Tha'labah to the polytheists and disbelievers; thereafter he would charge into the midst of the enemy fancying the Prophet ﷺ before them until he reached him, his people warning him of his daring, and he lived long thereafter. > **"O Allah, forbid the blood of Ibn Tha'labah to the polytheists and disbelievers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! ابن ثعلبہ کے خون کو مشرکین اور کفار پر حرام قرار دیدے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں دشمن پر حملہ کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ مجھے ملاحظہ فرماتے کہ میں ان کے پیچھے ہوں ، تو لوگ کہتے : اے ابن ثعلبہ ! تم ان کے پیچھے ہو ؟ تم انجام کی طرف توجہ دیے بغیر دشمن پر حملہ کر رہے ہو ، تو وہ کہتے : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ان کے پیچھے ملاحظہ کیا ہوا ہے ، تو میں ان پر حملہ کرتا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر جاتا ، پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف جاتا اور ان کے ساتھ مل کر حملہ آور ہو جاتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( ان صحابی نے ) لمبی عمر پائی تھی ۔

16023

Majma al-Zawaid #16023

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَا وَكَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ma'qil ibn Yasar reports that he accompanied the Prophet ﷺ such-and-such a time. > **"I accompanied the Prophet ﷺ such-and-such a time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اتنا اتنا عرصہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16024

Majma al-Zawaid #16024

قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ زَوْجُ بِنْتِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ خَالَتِهَا، أَمُّهُ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ أُخْتُ خَدِيجَةَ لِأَبِيهَا، وَأُمُّهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ، وَهُوَ الْأَصَمُّ بْنُ جُنْدُبِ بْنِ هَرِمِ بْنِ رَوَاحَةَ بْنِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ بْنِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَيُقَالُ: اسْمُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ مُهَشَّمٌ، وَكَانَ يُسَمَّى: جَرْوَ الْبَطْحَاءِ. وَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: اسْمُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ: لُقَيْطٌ. قَالَ الزُّبَيْرُ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْمُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ: الْقَاسِمُ، وَذَلِكَ الثَّبْتُ فِي اسْمِهِ. وَتُوُفِّيَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkar identifies Abu al-'As ibn al-Rabi', husband of the Prophet's daughter ﷺ and son of her maternal aunt, his mother Halah bint Khuwaylid, sister of Khadijah by her father, his lineage through 'Abd ibn Ma'is of Lu'ayy, his title Jarw al-Batha', the disputed reports over his given name as Muhashsham, Luqayt, or al-Qasim, the last deemed firmest, and his death in Dhu al-Hijjah of the year twelve. > **"Abu al-'As ibn al-Rabi' died in Dhu al-Hijjah of the year twelve."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کے شوہر تھے ، اور اُن صاحبزادی کے خالہ زاد بھی تھے ، حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ہالہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھا ، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی باپ کی طرف سے شریک بہن تھیں ، اس خاتون کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا ، زائدہ کا نام اصم بن جدب بن حرم بن رواحہ بن حجر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی تھا ، ایک اور قول کے مطابق حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا نام ” میشم ‘‘ تھا اور انہیں بطحاء کا ( موسم کا ) پہلا پھل کہا جاتا تھا ۔ زبیر بیان کرتے ہیں : محمد بن حسن اور یحیی بن محمد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا نام ’’ لقیط ‘‘ تھا ۔ زبیر بیان کرتے ہیں : محمد بن ضحاک نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا نام قاسم تھا اور ان کے نام میں یہی قول مستند ہے ۔ حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا انتقال ذوالحج کے مہینے میں 12 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

16025

Majma al-Zawaid #16025

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ فَرْوَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُذَامِيُّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِهِ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَانَ فَرْوَةُ عَامِلًا لِقَيْصَرَ مَلِكِ الرُّومِ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ، وَكَانَ مَنْزِلُهُ بِعُمَانَ وَمَا حَوْلَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ الرُّومَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِ حَبَسُوهُ، فَقَالَ فِي مَحْبَسِهِ: طَرَقَتْ سُلَيْمَى مُوهِنًا أَصْحَابِي ... وَالرُّومُ بَيْنَ النَّاسِ وَالَقَرَوَانِي صَدَّ الْخَيَالُ وَسَاءَنِي مَا قَدْ أَرَى ... فَهَمَمْتُ أَنْ أُعْفِي وَقَدْ أَبْكَانِي فَلَا تُكْحِلَنَّ الْعَيْنَ بَعْدِي إِثْمِدًا ... سَلْمَى وَلَا بَرِّينَ لِلْإِيمانِ وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَبَا كُبَيْشَةَ أَنَّنِي ... وَسَطَ الْأَعِزَّةِ لَا يُحِسُّ لِسَانِي وَلَئِنْ هَلَكْتُ لَيُفْقَدَنَّ أَخَاكُمُ ... وَلَئِنْ أَصَبْتُ لَيُعْرَفَنَّ مَكَانِي وَلَقَدْ عُرِفْتُ بِكُلِّ مَا جَمَعَ الْفَتَى ... مِنْ رَأْيِهِ وَبِنَجْدَةٍ وَبَيَانِ. فَلَمَّا جَمَعُوا لَهُ وَصَلَبُوهُ عَلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ: عَفْرَاءُ بِفِلَسْطِينَ، فَلَمَّا رُفِعَ عَلَى خَشَبَةٍ قَالَ: أَلَا هَلْ أَتَى سَلْمَى بِأَنَّ حَلِيلَهَا ... عَلَى مَاءِ عَفْرَا فَوْقَ إِحْدَى الرَّوَاحِلِ بِحَدَّافَةٍ لَمْ يَضْرِبِ الْفَحْلُ أُمَّهَا ... مُشَذِّيَةً أَطْرَافُهَا بِالْمَنَاجِلِ. وَقَالَ: بَلِّغْ سَرَاةَ الْمُسْلِمِينَ بِأَنَّنِي ... سِلْمٌ لِرَبِّي أَعْظُمِي وَبَنَانِي رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ الرِّبْعِيِّ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas reports that Farwah ibn 'Amir al-Judhami sent to the Prophet ﷺ declaring his Islam and gifted him a white mule, though he was Caesar's governor over the neighboring Arabs at 'Umman; when Rome learned of it they imprisoned him, and in prison he composed verses of longing and resolve. When they gathered against him and crucified him at the waters of 'Afra' in Palestine, raised upon the wood he spoke verses asking that Salma be told of his state and conveying to the Muslims that his very bones submit to his Lord. > **"Convey to the leaders of the Muslims that I submit, my bones and my fingertips, to my Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت فروہ بن عامر جذامی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اسلام قبول کرنے کا پیغام بھیجا اور آپ کی خدمت میں ایک سفید خچر تحفے کے طور پر بھیجا ، فروہ ، روم کے حکمران قیصر کی طرف سے ، عرب کے قریبی علاقوں کے گورنر تھے ، وہ عمان میں رہتے تھے ، جب رومیوں کو ان کے معاملے کا پتہ چلا تو انہوں نے حضرت فروہ رضی اللہ عنہ کو قید کر دیا ( وہاں انہوں نے یہ اشعار کہے : ) ’’ سلیمیٰ ، نصف رات کے لگ بھگ ، میرے ساتھیوں کو لے کر نکلی ، جبکہ ان لوگوں اور سواریوں کے درمیان رومی موجود تھے ، خیال رک گیا ، اور جو میں نے دیکھا وہ مجھے برا لگا ، میں نے ارادہ کیا کہ میں ذرا اونگھ لوں ، لیکن اس نے مجھے رلا دیا ، تم میرے بعد کبھی بھی آنکھوں میں اثمد سرمہ نہ لگانا ، اے سلمی ! اور تم ایمان کو ظاہر نہ کرنا ، اے ابوکبیشہ ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں طاقتور لوگوں کے درمیان ہوں ، لیکن میری زبان کو جڑ سے نہیں کاٹا گیا ، اگر میں ہلاک ہو گیا تو تمہارے بھائی کی غیر موجودگی محسوس کی جائے گی اور اگر میں ( ان تک پہنچ گیا تو وہ میری حیثیت سے آشنا ہوں گے ، اور میری پہچان ہر اس چیز کے حوالے سے ہو گی جس کو کوئی جوانمرد جمع کرتا ہے ، جس کا تعلق عقلمندی ، بہادری اور قادر الکلامی سے ہے ۔‘‘ جب ان لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ انہیں مصلوب کرنا ہے تو ان لوگوں نے انہیں ایک پانی ( کے چشمے یا تالاب ) کے پاس مصلوب کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کا نام ’’ عفراء ‘‘ تھا ، جب انہیں لکڑی پر بلند کیا گیا ، تو انہوں نے کہا : ’’ کیا سلمیٰ کو یہ اطلاع مل گئی ہے کہ اس کا شوہر عفراء نامی پانی ( کے چشمے یا تالاب ) کے پاس ایک لکڑی پر موجود ہے ، ایک ایسی حدافہ کہ کسی نر نے اس کی ماں کے ساتھ قربت نہیں کی ، اور وہ اپنی خوشبو اس جگہ پھیلا رہی ہے جہاں ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا : ’’ مسلمانوں کے سرداروں کو یہ پیغام پہنچا دو ! کہ میں ایسی حالت میں ہوں کہ میری ہڈیاں اور میری پوریں اپنے پروردگار ( کے حکم ) کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسلمہ بن ربعی ہے جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

16026

Majma al-Zawaid #16026

«عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَكَرِهْتَ يَوْمَيْكُمْ وَيَوْمَيْ هَمْدَانَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَاءُ الْأَهْلِ وَالْعَشِيرَةِ. قَالَ: "" أَمَا إِنَّهُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى مِنْكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" خَيْرٌ لِمَنْ بَقِيَ مِنْكُمْ "". وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَقَدْ ضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Farwah ibn Musayk al-Muradi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked him whether he grieved over his people's day and the day of Hamdan; he replied yes, for it meant the perishing of kith and kin, and the Prophet ﷺ replied that it is yet good for those of them who fear Allah. > **"Yet it is good for those of you who fear Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم اس بات کو ناپسند کرتے ہو کہ تمہارے دو دن اور ہمدان کے دو دن ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اہل خانہ اور خاندان کا فنا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اس شخص کے حق میں بہتر ہو گی ، جو تم میں سے پرہیزگاری اختیار کرے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” یہ اس کے حق میں بہتر ہو گا ، جو تم میں سے باقی رہے گا ۔‘‘ روایت کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، ویسے اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16027

Majma al-Zawaid #16027

عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا، أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

One of the Companions of the Prophet ﷺ reports that the Prophet ﷺ told his Companions that among them are men to whom he gives nothing, entrusting them to their faith, among them Furat ibn Hayyan. > **"Among you are men to whom I give nothing, entrusting them to their faith, among them Furat ibn Hayyan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ’’ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں ، جنہیں میں کچھ نہیں دیتا ہوں ، میں انہیں ان کے ایمان کے سپرد کر دیتا ہوں ، اُن لوگوں میں سے ایک فرات بن حیان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حارثہ بن مضرب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16028

Majma al-Zawaid #16028

وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ طَالِبٍ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنِّي لَأُعْطِي قَوْمًا أَتَأَلَّفُهُمْ، وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا عِنْدَهُمْ - أَوْ إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ - مِنْهُمْ: فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said he gives to a people to conciliate them and entrusts others to what they hold or what Allah has placed in their hearts, among them Furat ibn Hayyan. > **"I give to a people to conciliate them, and I entrust a people to what Allah has placed in their hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں ، کچھ لوگوں کو ( مال دولت وغیرہ ) دیتا ہوں ، اس طرح میں اُن کی تالیف قلب کرتا ہوں اور کچھ لوگوں کو اس کے سپرد کر دیتا ہوں جو ( ایمان ) اُن کے پاس ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس کے سپرد کر دیتا ہوں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ( ایمان ) رکھا ہے اور ان لوگوں میں سے ایک فرات بن حیان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16029

Majma al-Zawaid #16029

عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ مِنْ بَنِي غَاضِرَةَ مِنْ خُزَاعَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu 'Ubayd reports that 'Imran ibn Husayn is of Banu Ghadirah, of Khuza'ah. > **"Imran ibn Husayn is of Banu Ghadirah of Khuza'ah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبید بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو خزاعہ کی شاخ بنو غاضرہ سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16030

Majma al-Zawaid #16030

وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ خَلَفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ نُهْمِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ حُمَمَةَ بْنِ غَاضِرَةَ بْنِ حَبَشِيَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ خُزَاعَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi gives the lineage of 'Imran ibn Husayn ibn 'Ubayd ibn Khalaf through Ghadirah of Khuza'ah. > **"'Imran ibn Husayn ibn 'Ubayd of Khuza'ah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقدی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ بن حصین بن عبید بن خلف بن عبید بن عبدنہم بن حذافہ بن حممہ بن غاضره بن حبشیہ بن کعب بن عمرو بن خزاعہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16031

Majma al-Zawaid #16031

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: ثِنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ قَالَ: وَيُكَنَّى عِمْرَانُ: أَبَا نُجَيْدٍ، أَسْلَمَ قَدِيمًا هُوَ وَأَبُوهُ، وَغَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَوَاتٍ. وَلَمْ يَزَلْ فِي بِلَادِ قَوْمِهِ وَيَنْزِلُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَثِيرًا، إِلَى أَنْ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَوَّلَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَنَزَلَهَا إِلَى أَنْ مَاتَ بِهَا، وَلَهُ بَقِيَّةٌ مِنْ وَلَدٍ. وَخَالِدُ بْنُ طُلَيْقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَلِيَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ. وَيُقَالُ: إِنَّ حُصَيْنًا مَاتَ مُسْلِمًا، وَقَدْ وَرَدَ أَنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَسْلَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani, through 'Ubaydullah ibn Muhammad, reports that 'Imran's kunyah is Abu Nujayd, that he and his father embraced Islam early, that he campaigned with the Messenger of Allah ﷺ, remained among his people visiting Madinah often until the Prophet's passing ﷺ, then moved to Basrah where he lived till death leaving descendants, that Khalid ibn Tulayq of his line held its judgeship, and that the sound view is his father Husayn died a Muslim. > **"'Imran embraced Islam early with his father and campaigned with the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن محمد نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : حضرت عمران رضی اللہ عنہ کی کنیت ’’ ابونجیح ‘‘ تھی ، وہ بہت پہلے اسلام قبول کر چکے تھے ، ان کے والد نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کئی غزوات میں حصہ لیا ہے ، یہ مسلسل اپنے علاقے میں رہائش پذیر رہے اور مدینہ منورہ بہت زیادہ آ کر ٹھہرتے تھے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو یہ بصرہ آ کر ٹھہر گئے اور انتقال کرنے تک یہ وہیں مقیم رہے ، اور وہیں اُن کا انتقال ہوا ، ان کی اولاد بھی ہوئی تھی ۔ ان کی اولاد میں سے خالد بن طلیق بن محمد بن عمران بن حصین ، بصرہ کے قاضی بھی بنے تھے ۔ ایک قول کے مطابق ، ان کے والد حضرت حصین رضی اللہ عنہ کا مسلمان ہونے کے عالم میں انتقال ہوا تھا ، اور یہ بات بھی منقول ہے کہ وہ مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہوئے تھے ، تاہم زیادہ مستند روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16032

Majma al-Zawaid #16032

وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا بِشَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مُسْتَنِدًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ، حَوْلَهُ حَلْقَةٌ يُحَدِّثُهُمْ. فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hilal ibn Yasaf reports that he came to Basrah, entered the mosque, and found a white-haired, white-bearded elder leaning against a pillar with a circle learning from him; asked who he was, they said 'Imran ibn Husayn. > **"That is 'Imran ibn Husayn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بلال بن یساف بیان کرتے ہیں : میں بصرہ میں آیا ، میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک بزرگ موجود تھے جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے ، وہ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے اردگرد لوگوں کا حلقہ تھا اور وہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16033

Majma al-Zawaid #16033

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: مَا قَدِمَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُفَضِّلُهُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin reports that none of the Companions of the Prophet ﷺ who came to them was deemed superior to 'Imran ibn Husayn. > **"We deemed none of the Companions who came to us superior to 'Imran ibn Husayn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی فرد ( بصرہ میں ) ایسا نہیں آیا ، جسے ہم حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16034

Majma al-Zawaid #16034

وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ: مَا قَدِمَ الْبَصْرَةَ مِثْلُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْإِمَامَ أَحْمَدَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ عُيَيْنَةَ فَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Sufyan reports that none like 'Imran ibn Husayn ever came to Basrah. > **"None like 'Imran ibn Husayn ever came to Basrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان بیان کرتے ہیں : بصرہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی فرد نہیں آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام احمد نے سفیان ثوری نامی راوی سے سماع نہیں کیا ہے اور اگر سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہو ، تو ان سے امام احمد نے سماع کیا ہے ۔

16035

Majma al-Zawaid #16035

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ وَبِهَا أَبُو نُجَيْدٍ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعَثَهُ يُفَقِّهُ أَهْلَ الْبَصْرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Aswad al-Du'ali reports that he came to Basrah where Abu Nujayd 'Imran ibn Husayn was, whom 'Umar ibn al-Khattab had sent to teach the people of Basrah their religion. > **"'Umar sent 'Imran ibn Husayn to teach the people of Basrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دؤلی بیان کرتے ہیں : میں بصرہ آیا وہاں حضرت ابونجید عمران بن حصین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اہل بصرہ کی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16036

Majma al-Zawaid #16036

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ: أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: مَا مَسَسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا خَالَفَ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn al-A'raj reports that 'Imran ibn Husayn said he never touched his private part with his right hand since pledging with it to the Messenger of Allah ﷺ. > **"I have never touched my private part with my right hand since I pledged with it to the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے دائیں ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ہے ، اُس کے بعد میں نے دائیں ہاتھ کے ذریعے کبھی اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سہل مازنی ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16037

Majma al-Zawaid #16037

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ - مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ -: أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ قُتِلَ لَهُ أَخٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَ بِهِ سَبْعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَطَاءٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Ata' ibn Abi Maymunah, freedman of 'Imran ibn al-Husayn, reports that 'Imran's brother was killed in the pre-Islamic age and he slew seventy in recompense. > **"'Imran's brother was slain in the pre-Islamic age, and he slew seventy for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابومیمونہ ، جو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی زمانہ جاہلیت میں قتل ہوا تھا ، تو انہوں نے اس کے بدلے میں ستر افراد کو قتل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عطاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

16038

Majma al-Zawaid #16038

وَعَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ: مَاتَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Harun ibn 'Abdullah al-Hammal reports that 'Imran ibn Husayn died in the year fifty-two. > **"'Imran ibn Husayn died in the year fifty-two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16039

Majma al-Zawaid #16039

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ «عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً».

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq reports from al-Bara' ibn 'Azib that he campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in fifteen campaigns. > **"I campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in fifteen campaigns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ 15 غزوات میں شرکت کی ہے ۔

16040

Majma al-Zawaid #16040

«وَقَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

He also reports that he heard Zayd ibn Arqam say he campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in some ten campaigns. > **"I campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in some ten campaigns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ 10 سے زیادہ غزوات میں شرکت کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی اور دیگر نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16041

Majma al-Zawaid #16041

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَامِلًا عَلَى حِمْصَ، فَمَكَثَ حَوْلًا لَا يَأْتِيهِ. فَقَالَ عُمَرُ لِكَاتِبِهِ: اكْتُبْ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ، فَوَاللَّهِ مَا أَرَاهُ إِلَّا [قَدْ] خَانَنَا، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقْبِلْ، وَأَقْبِلْ بِمَا جِئْتَ مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حِينَ تَنْظُرُ فِي كِتَابِي هَذَا، فَأَخْذَ عُمَيْرٌ جِرَابَهُ فَجَعَلَ فِيهِ زَادَهُ وَقَصْعَتَهُ، وَعَلَّقَ إِدَاوَتَهُ وَأَخَذَ عَنَزَتَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي مِنْ حِمْصَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ. قَالَ: فَقَدِمَ وَقَدْ شَحُبَ لَوْنُهُ، وَاغْبَرَّ وَجْهُهُ، وَطَالَتْ شَعْرَتُهُ، فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ عُمَيْرُ: مَا تَرَى مِنْ شَأْنِي؟ أَلَسْتَ تَرَانِي صَحِيحَ الْبَدَنِ، طَاهِرَ الدَّمِ، مَعِي الدُّنْيَا أَجُرُّهَا بِقُرُونِهَا! قَالَ: وَمَا مَعَكَ؟ قَالَ: فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَالٍ، فَقَالَ: مَعِي جِرَابِي أَجْعَلُ فِيهِ زَادِي، وَقَصْعَتِي آكُلُ فِيهَا وَأَغْسِلُ فِيهَا رَأْسِي وَثِيَابِي، وَإِدَاوَتِي أَحْمِلُ فِيهَا وَضُوئِي وَشَرَابِي وَعَنَزَتِي أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأُجَاهِدُ بِهَا عَدُوِّي إِنْ عَارَضَنِي، فَوَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا إِلَّا تَبَعٌ لِمَتَاعِي. قَالَ: فَجِئْتَ تَمْشِي؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَمَا كَانَ لَكَ أَحَدٌ يَتَبَرَّعُ لَكَ بِدَابَّةٍ تَرْكَبُهَا؟! قَالَ: مَا فَعَلُوا وَمَا سَأَلْتُهُمْ ذَلِكَ قَالَ: بِئْسَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ، فَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ عَنِ الْغِيبَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ. قَالَ: فَأَيْنَ مَا بَعَثْتُكَ لَهُ وَأَيَّ شَيْءٍ صَنَعْتَ؟ قَالَ: وَمَا سُؤَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُمْرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! فَقَالَ عُمَيْرُ: أَمَا لَوْ لَمْ أَخْشَ أَنْ أَغُمَّكَ مَا أَخْبَرْتُكَ، بَعَثْتَنِي حَتَّى أَتَيْتُ الْبَلَدَ، فَجَمَعْتُ صُلَحَاءَ أَهْلِهَا فَوَلَّيْتُهُمْ جِبَايَةَ فَيْئِهِمْ، حَتَّى إِذَا جَمَعُوهُ وَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ، وَلَوْ نَالَكَ مِنْهُ شَيْءٌ لَأَتَيْتُكَ بِهِ قَالَ: فَمَا جِئْتَنَا بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: جَدِّدُوا لِعُمَيْرٍ عَهْدًا. قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَسَيِّئٌ لَا عَمِلْتُ لَكَ وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا سَلِمْتُ بَلْ لَمْ أَسْلَمْ وَلَوْ قُلْتُ لِنَصْرَانِيٍّ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَهَذَا مَا عَرَّضْتَنِي لَهُ يَا عُمَرُ، وَإِنَّ أَشْقَى أَيَّامِي يَوْمًا خَلَفْتُ مَعَكَ يَا عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَهُ فَأَذِنَ لَهُ، فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ. قَالَ: وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ أَمْيَالٌ، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ انْصَرَفَ عُمَيْرٌ: مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ خَانَنَا، فَبَعَثَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ حَتَّى تَنْزِلَ بِهِ كَأَنْ ضَيْفٌ [فَإِنْ رَأَيْتَ أَثَرَ شَيْءٍ فَأَقْبِلْ]، وَإِنْ رَأَيْتَ حَالًا شَدِيدَةً فَادْفَعْ هَذِهِ الْمِائَةَ الدِّينَارِ. فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ، فَإِذَا بِعُمَيْرٍ جَالِسٌ يُفَلِّي قَمِيصَهُ إِلَى جَنْبِ الْحَائِطِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: انْزِلْ رَحِمَكَ اللَّهُ، فَنَزَلَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: صَالِحًا. قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: صَالِحِينَ قَالَ: أَلَيْسَ يُقِيمُونَ الْحُدُودَ؟ قَالَ: بَلَى؛ لَقَدْ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ أَتَى فَاحِشَةً فَمَاتَ مِنْ ضَرْبِهِ، فَقَالَ عُمَيْرُ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ عُمَرَ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا شَدِيدًا حُبُّهُ لَكَ. قَالَ: فَنَزَلَ بِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَيْسَ لَهُمْ إِلَّا قُرْصَةٌ مِنْ شَعِيرٍ كَانُوا يَخُصُّونَهُ بِهَا وَيَطْوُونَ حَتَّى أَتَاهُمُ الْجَهْدُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: يَا هَذَا، إِنَّكَ قَدْ أَجَعْتَنَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَحَوَّلَ عَنَّا فَافْعَلْ قَالَ: فَأَخْرَجَ الدَّنَانِيرَ فَوَضَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَعَثَ بِهَا إِلَيْكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَاسْتَعِنْ بِهَا، فَصَاحَ قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، رُدَّهَا، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِ احْتَجْتَ إِلَيْهَا وَإِلَّا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، فَقَالَ عُمَيْرٌ: وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ أَجْعَلُهَا فِيهِ، فَشَقَّتِ امْرَأَتُهُ أَسْفَلَ دِرْعِهَا فَأَعْطَتْهُ خِرْقَةً فَجَعَلَهَا فِيهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَبْنَاءِ الشُّهَدَاءِ وَالْفُقَرَاءِ. ثُمَّ رَجَعَ وَالرَّسُولُ يَظُنُّ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: أَقْرِئْ مِنِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ السَّلَامَ. فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَالًا شَدِيدَةً. قَالَ: فَمَا صَنَعَ بِالدَّنَانِيرِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ: وَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي فَلَا تَضَعْهُ مِنْ يَدِكَ حَتَّى تُقْبِلَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا صَنَعْتَ بِالدَّنَانِيرِ؟ قَالَ: صَنَعْتُ مَا صَنَعْتُ، وَمَا سُؤَالُكَ عَنْهَا؟ قَالَ: أَنْشُدُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي بِمَا صَنَعْتَ بِهَا قَالَ: قَدَّمْتُهَا لِنَفْسِي، فَقَالَ: رَحِمَكَ اللَّهُ. فَأَمَرَ لَهُ عُمَرُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ وَثَوْبَيْنِ، فَقَالَ: أَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ؛ قَدْ تَرَكْتُ فِي الْمَنْزِلِ صَاعَيْنِ مِنْ شَعِيرٍ إِلَى أَنْ آكُلَ ذَلِكَ، قَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالرِّزْقِ، فَلَمْ يَأْخُذِ الطَّعَامَ. وَأَمَّا الثَّوْبَانِ: فَقَالَ: إِنَّ فُلَانَةً عَارِيَةٌ. فَأَخَذَهُمَا وَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ هَلَكَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ. فَخَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ الْمَشَّاءُونَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لِيَتَمَنَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أُمْنِيَّتَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأُعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا. وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأَعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأُنْفِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قُوَّةً؛ فَأَمْتَحَ بِدَلْوٍ مَاءَ زَمْزَمَ لِحَاجِّ بَيْتِ اللَّهِ. فَقَالَ عُمَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ لِي رَجُلًا مِثْلَ عُمَيْرٍ، وَدِدْتُ أَنَّ لِي رِجَالًا مِثْلَ عُمَيْرٍ؛ أَسْتَعِينُ بِهِمْ فِي أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إبراهيم بْنِ عَنْتَرَةَ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Umayr ibn Sa'd reports that 'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, appointed him governor of Hims, and after a year without word 'Umar wrote suspecting betrayal and ordering him to come with whatever public revenue he held. 'Umayr packed his bag with his provisions and bowl, hung his water-skin, seized his staff, and walked from Hims to Madinah, arriving pale, dusty, and long-haired. He greeted 'Umar, declared himself sound in body and pure of blood dragging the world by its horns, and when 'Umar expected wealth he displayed only his bag, bowl, water-skin, and staff, declaring the world but follows his gear. He explained he gathered the righteous of the town, entrusted collection of their revenue to them, and set it in its places, bringing nothing to 'Umar. 'Umar ordered his commission renewed, but 'Umayr refused ever to work for him or any after him, reproached the suspicion cast upon him, and returned home miles from Madinah. 'Umar still suspected him and sent al-Harith as a guest-spy with a hundred dinars for dire need; al-Harith found 'Umayr delousing his shirt by a wall, was hosted with meager fare, saw his household's poverty, offered the gold, and 'Umayr refused it, bidding him return it; al-Harith reported his utter destitution, and 'Umar vindicated him and summoned him back, but 'Umayr declined office altogether. > **"I am sound in body, pure of blood, with the world dragging behind me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص کا گورنر مقرر کر کے بھیجا تھا ، وہ ایک سال وہاں مقیم رہے وہ اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب سے کہا : کہ تم حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو خط لکھو ، اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، اسے یہ لکھو کہ جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم آ جاؤ اور جب تم میرا یہ مکتوب دیکھو تو اس وقت تمہارے پاس جو مسلمان آئے ہوئے ہوں ، ان کو بھی لے آنا ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنا تھیلا پکڑا ، اس میں زاد سفر رکھا اور پیالہ رکھا اور اس کو ساتھ لٹکایا اور اپنا نیزہ پکڑا اور وہ حمص سے پیدل چل کر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچے ، راوی کہتے ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئے تو ان کا رنگ متغیر ہو چکا تھا ، ان کا چہرہ غبار آلود تھا ، ان کے بال بڑھ چکے تھے ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ پر سلامتی نازل ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کو میرا معاملہ کیا لگتا ہے ؟ کیا آپ مجھے دیکھ نہیں رہے کہ میرا جسم ٹھیک ہے ، خون پاک ہے ، میرے ساتھ دنیا موجود ہے ، جسے میں سینگ سے پکڑ کر کھینچ کر لایا ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے تھے کہ شاید وہ مال لے کر آئے ہیں ، انہوں نے کہا : میرے پاس میرا یہ تھیلا ہے جس میں ، میں نے اپنا زاد سفر اور پیالہ رکھا ہے ، جس میں میں کھاتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے سر اور کپڑے کو بھی دھو لیتا ہوں ، اور ایک میرا برتن ہے ، جس میں وضو کے لئے پانی لے لیتا ہوں اور پینے کے لئے لے لیتا ہوں ، اور میرا ایک نیزہ بھی ہے ، جس کے ساتھ میں ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے دشمن کے ساتھ جنگ بھی کر لیتا ہوں ، اگر وہ میرے مقابل آ جائے ، اللہ کی قسم ! دنیا میرے اسی ساز و سامان کی پیروکار ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم پیدل چل کر آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں تھا ، جو تمہیں ایک سواری تحفے کے طور پر دے دیتا ، تاکہ تم اس پر سوار ہو جاتے ، انہوں نے کہا : ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا ، اور میں نے ان سے یہ چیز مانگی بھی نہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ مسلمان برے ہیں جن کے پاس سے نکل کر تم آئے ہو ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمر ! آپ اللہ سے ڈریں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیبت کرنے سے منع کیا ہے ، میں نے ان لوگوں کو صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا معاملہ ہے جس کی خاطر میں نے تمہیں بھیجا تھا ، تم نے کیا کیا ؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے امیرالمومنین ! آپ کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : سبحان اللہ ! حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں آپ کو غمگین کر دوں گا ، تو میں نے آپ کو یہ بات نہیں بتائی تھی ، جب آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور آپ کا پیغام مجھ تک پہنچا ، تو میں شہر میں آیا میں نے شہر کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور میں نے ان کے مال غنیمت کا ان کو نگران مقرر کیا اور جب ان لوگوں نے اس کو اکٹھا کر لیا اور میں نے اس کے خرچ کا تعین کر دیا ، تو میں آیا اگر اس میں سے آپ کا بھی کوئی حصہ ہوتا ، تو وہ میں آپ کے پاس لے آتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم ہمارے لئے کچھ نہیں لے کے آئے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عمیر کے لئے نئے سرے سے حکم نامہ جاری کرو ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ ٹھیک نہیں ہے ، میں آپ کے لئے کام نہیں کروں گا ، اور نہ ہی آپ کے بعد کسی اور کے لئے کام کروں گا ، اللہ کی قسم ! میں سلامت میں ہی رہوں گا ، بلکہ میں نے اسلام ہی قبول نہیں کیا ہو گا کہ اگر میں نے کسی عیسائی کو بھی یہ کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے ، تو اے حضرت عمر ! آپ مجھے اس کام کے لئے دوبارہ بھیجنا چاہ رہے ہیں ، میری زندگی کا سب سے زیادہ بدنصیب دن وہ ہو گا ، جب میں آپ سے پیچھے رہ جاؤں ، اے عمر ! پھر انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُن کے گھر اور مدینہ منورہ کے درمیان کچھ میل کا فاصلہ تھا ، جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، پھر انہوں نے ایک شخص کو بھیجا ، جس کا نام حارث تھا ، انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور اس کے ہاں یوں ٹھہرنا ، جیسے مہمان ہو ، اگر تمہیں کوئی اس طرح کا نشان نظر آئے ( جس سے خیانت ظاہر ہو رہی ہو ) تو آ جانا اور اگر تم مشکل صورت حال دیکھو ( یعنی ان کے گھر میں غربت ہو ) تو تم ایک سو دینار اسے دیدینا ۔ حارث نامی وہ شخص گیا ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے اپنی قمیص کو سی رہے تھے ، اس شخص نے انہیں سلام کیا حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، تم یہاں ٹھہر جاؤ ! وہ شخص وہاں ٹھہر گیا ، پھر حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : مدینہ منورہ سے ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے امیرالمومنین کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : ٹھیک ہیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے مسلمانوں کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ بھی ٹھیک ہیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ حدود قائم نہیں کرتے ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : جی ہاں ! ( یعنی قائم کرتے ہیں ) انہوں نے اپنے بیٹے کو سزا دی تھی ، جس نے ایک برائی کا ارتکاب کیا تھا اور اس سزا کی وجہ سے اس بچے کا انتقال ہو گیا تھا ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدد فرمانا ، کیونکہ میرے علم کے مطابق وہ تیرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے اتنے سخت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص اُن کے ہاں تین دن ٹھہرا رہا ، ان لوگوں کو کھانے کے لئے صرف جو کی روٹی ملتی تھی ، وہ لوگ جو کی اس روٹی کا کچھ حصہ توڑ کر کھا لیتے تھے اور باقی رکھ دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں بھوک لاحق ہو گئی ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا : اے فرد ! تم نے ہمیں بھوک کا شکار کر دیا ہے ، اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے پاس سے روانہ ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے دینار نکالے اور وہ ان کے حوالے کیے اور یہ کہا : یہ امیرالمومنین نے آپ کو بھجوائے ہیں ، آپ ان کے ذریعے مدد حاصل کریں ، تو انہوں نے چیخ ماری اور کہا : مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے تم انہیں واپس لے جاؤ ، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا : اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے ، تو لے لیں اور اگر نہیں ہے تو پھر اسے صحیح جگہ پر خرچ کر دیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے کہ جس میں اُس کو خرچ کروں ، تو اس عورت نے اپنی چادر کا نیچے والا حصہ چیرا اور وہ ٹکڑا انہیں دیا ، انہوں نے اس میں وہ دینار رکھ دیے پھر وہ باہر تشریف لے گئے انہوں نے وہ دینار شہداء اور غریبوں کے بچوں میں تقسیم کر دیے ، پھر وہ واپس آ گئے ، قاصد یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ اسے بھی اُن میں سے کچھ دیں گے ، انہوں نے قاصد سے کہا : تم امیرالمومنین کو میری طرف سے سلام کہہ دینا ۔ جب حارث نامی شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ؟ تو اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں نے مشکل صورت حال دیکھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس نے دیناروں کا کیا کیا ؟ قاصد نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا کہ جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے تو تم اسے ہاتھ میں رکھنے سے پہلے میری طرف روانہ ہو جانا ، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے دیناروں کا کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : میں نے ان کا جو بھی کیا ہو ، آپ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان کا کیا کیا ؟ تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اپنی ذات کے لئے وہ آگے بھجوا دیے ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں اناج کا ایک وسق اور دو کپڑے دیے جائیں ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک اناج کا تعلق ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ میں اپنے گھر میں جو کے دو صاع چھوڑ کے آیا ہوں ، وہ آگے میرے کام آتے رہیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مزید عطا کر دے گا ، تو انہوں نے اناج نہیں لیا ، پھر انہوں نے فرمایا : جہاں تک دو کپڑوں کا تعلق ہے ، تو فلاں خاتون کو کپڑوں کی ضرورت ہے ، انہوں نے وہ دو کپڑے لئے اور اس کو لے کر اپنے گھر آ گئے ، پھر وہ اپنے گھر میں ہی مقیم رہے ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو یہ خبر اُن پر بہت گراں گزری ، انہوں نے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے لئے رحمت کے کلمات پڑھے ، وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے ، ان کے ساتھ دوسرے پیدل لوگ بھی تھے ، یہاں تک کہ وہ بقیع غرقد کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنی اپنی خواہش بیان کرے ، تو ایک شخص نے کہا : اے امیرالمومنین ! میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا اور میں اس کے ذریعے اللہ کی ذات کی خاطر اتنے اتنے لوگوں کو آزاد کر دیتا ، ایک اور شخص نے کہا : میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا ، اُسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ، ایک اور شخص نے کہا : میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس قوت موجود ہوتی اور میں اس قوت کے ذریعے آب زمزم نکال کر بیت اللہ کے حاجیوں کو دیتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسا کوئی فرد ہوتا ، اور میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسے کئی افراد ہوتے ، جن کے ذریعے میں مسلمانوں کے کاموں میں مدد حاصل کر سکتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ابراہیم بن عثرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

16042

Majma al-Zawaid #16042

عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِئِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: عَاشَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ، سِتِّينَ فِي الْإِسْلَامِ وَسِتِّينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ إِذَا اسْتَغْلَظَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: لَا وَالَّذِي أَنْعَمَ عَلَى حَكِيمٍ أَنْ يَكُونَ قَتِيلًا يَوْمَ بَدْرٍ لَا أَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَلَا يَفْعَلُهُ [وَيُكَنَّى أَبَا خَالِدٍ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ya'qub ibn 'Abd al-Rahman al-Qari reports from his father that Hakim ibn Hizam lived one hundred twenty years, sixty in Islam and sixty in pre-Islamic times, and when he swore emphatically he would say by the One who favored Hakim that he not be slain a disbeliever at Badr, he would not do such-and-such, and he would refrain. > **"Hakim ibn Hizam lived one hundred twenty years, sixty in Islam and sixty before it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب بن عبدالرحمن قاری بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، ساٹھ سال زمانہ اسلام میں رہے تھے اور ساٹھ کی زندگی زمانہ جاہلیت میں گزاری تھی ، جب وہ کسی قسم میں شدت کا مفہوم ظاہر کرنا چاہتے تھے تو یہ کہتے تھے : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے حکیم کو یہ انعام عطا کیا کہ وہ غزوہ بدر کے دن مارا نہیں گیا ، میں ایسا نہیں کروں گا ، تو وہ ویسا نہیں کرتے تھے ، ان کی کنیت ’’ ابوخالد ‘‘ تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

16043

Majma al-Zawaid #16043

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي: أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَضَرَ يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، وَمِائَةُ بَدَنَةٍ، وَمِائَةُ بَقَرَةٍ، وَمِائَةُ شَاةٍ، فَقَالَ: هَذَا كُلُّهُ لِلَّهِ، فَأَعْتَقَ الرِّقَابَ وَأَمَرَ بِذَلِكَ فَنُحِرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Mus'ab ibn Thabit reports that it reached him that Hakim ibn Hizam attended the day of 'Arafah with a hundred slaves, a hundred camels, a hundred cattle, and a hundred sheep, declaring all for Allah, manumitting the slaves and ordering the rest sacrificed. > **"All of this is for Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن موجود تھے ، ان کے ساتھ ایک سو غلام تھے ، ایک سو گائیں تھیں اور ایک سو بکریاں تھیں ، انہوں نے فرمایا : یہ سب اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، تو انہوں نے غلاموں کو آزاد کر دیا اور جانوروں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں قربان کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

16044

Majma al-Zawaid #16044

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ: أَنَّهُ بَاعَ دَارًا لَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بِسِتِّينَ أَلْفًا، فَقَالُوا: غَبَنَكَ وَاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَخَذْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بِزِقِّ خَمْرٍ، أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسَاكِينِ وَالرِّقَابِ، فَأَيُّنَا الْمَغْبُونُ؟.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam sold a house of his to Mu'awiyah, may Allah be pleased with them, for sixty thousand, and when they said Mu'awiyah had been cheated he replied he had taken it in pre-Islamic times for a wineskin, called them to witness it is now for the cause of Allah, the poor, and slaves, and asked which of them is cheated. > **"I call you to witness that it is for the cause of Allah, the poor, and slaves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا ایک گھر ساٹھ ہزار کے عوض میں فروخت کیا ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت معاویہ نے آپ کے ساتھ غبن کیا ہے ، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ( یہ گھر ) شراب کے ایک مشکیزے کے عوض میں لیا تھا اور میں تمہیں گواہ بنا کے یہ کہتا ہوں کہ یہ ( ساری رقم ) اللہ کی راہ میں مسکینوں کے لئے اور غلام آزاد کرنے کے لئے مخصوص ہے ، تو ہم میں سے کس کے ساتھ غبن ہوا ہے ۔

16045

Majma al-Zawaid #16045

وَفِي رِوَايَةٍ: بِمِائَةِ أَلْفٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording the price was a hundred thousand. > **"He sold it for a hundred thousand and gave it in charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ ایک لاکھ کے عوض میں فروخت کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔

16046

Majma al-Zawaid #16046

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ سَمِعْنَا بِهِ كَانَ أَكْثَرَ حَمْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ. قَالَ: لَقَدْ قَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ الْمَدِينَةَ يَسْأَلَانِ مَنْ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَدُلَّا عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، فَأَتَيَاهُ فِي أَهْلِهِ، فَسَأَلَهُمَا مَا يُرِيدَانِ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ لَهُمَا: لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا، وَكَانَ حَكِيمٌ يَلْبَسُ ثِيَابًا يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ كَأَنَّهَا الشِّبَاكُ، ثَمَنُهَا أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ، وَيَأْخُذُ عَصًا فِي يَدِهِ وَيَخْرُجُ وَمَعَهُ غُلَامَانِ لَهُ، وَكُلَّمَا مَرَّ بِكُنَاسَةٍ أَوْ قُمَامَةٍ - فَرَأَى فِيهَا خِرْقَةً تَصْلُحُ فِي جِهَازِ الْإِبِلِ الَّتِي يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَخَذَهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ: أَمْسِكَا فَاسْتَعِينَا فِي جِهَازِكُمَا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيَّانِ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يَصْنَعُ ذَلِكَ: وَيْحَكَ! انْجُ بِنَا؛ فَوَاللَّهِ مَا عِنْدَ هَذَا إِلَّا لُقَطُ الْقَشْعِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَيْحَكَ! لَا تَعْجَلْ حَتَّى نَنْظُرَ، فَخَرَجَ بِهِمَا إِلَى السُّوقِ فَنَظَرَ إِلَى نَاقَتَيْنِ جَلِيلَتَيْنِ سَمِينَتَيْنِ خَلِفَتَيْنِ، فَابْتَاعَهُمَا وَابْتَاعَ جِهَازَهُمَا، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ: رُمَّا بِهَذِهِ الْخِرَقِ مَا يَنْبَغِي لَهُ الْمَرَمَّةُ مِنْ جِهَازِكُمَا، ثُمَّ أَوْقَرَهُمَا طَعَامًا وَبُرًّا وَوَدَكًا، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا نَفَقَةً، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا النَّاقَتَيْنِ. قَالَ: يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ لَاقِطِ قَشْعٍ خَيْرًا مِنَ الْيَوْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hazim reports that none in Madinah was heard to carry more in the cause of Allah than Hakim ibn Hizam; two Bedouins seeking a mount for the cause were directed to him in his home, found him in cheap Egyptian garb gathering usable rags with his staff for camel gear with his two servants, despaired of him as a mere rag-picker, but watched him buy two fine, fat, pregnant she-camels with their gear, stuff them with food, grain, and fat, add expenses, and grant them all to the two men, who marveled at the rag-picker's bounty. > **"By Allah, I never saw a rag-picker better than today."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جس کے بارے میں ہم نے یہ سنا ہو کہ وہ حضرت حکیم بن خزام رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ اللہ کی راہ میں سواری کے لئے جانور دیتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ دو دیہاتی مدینہ منورہ آئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون شخص انہیں اللہ کی راہ میں سواری کے جانور فراہم کرے گا ؟ تو ان دونوں کی رہنمائی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، وہ دونوں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ ان دونوں نے بتایا : تو حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا : تم جلدی نہ کرو ، میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں ، حضرت حکیم رضی اللہ عنہ ایسے کپڑے پہنتے تھے جو مصر سے ان کے پاس لائے جاتے تھے ، جو شباک کی مانند ہوتے تھے ، جن کی قیمت چار درہم ہوتی تھی ، وہ اپنے ہاتھ میں ایک عصا پکڑ لیتے تھے ، ان کے ساتھ ان کے دو غلام بھی ہوتے تھے ، جب بھی وہ کچرے کے پاس سے گزرتے تھے اور اس میں وہ کوئی کپڑا دیکھتے تھے ، جو اونٹ کے لئے استعمال ہو سکتا تھا ، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دینا ہوتا ، تو وہ اپنے عصا کے کنارے کے ذریعے اس کپڑے کو لیتے تھے اسے جھاڑتے تھے اور پھر اپنے غلاموں سے کہتے تھے کہ اس کو پکڑ لو اور اس کے ذریعے تم اپنے سامان میں مدد حاصل کرنا ، ان دونوں دیہاتیوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ، جبکہ وہ یہ کر رہے تھے : تمہارا ستیاناس ہو تم ہمیں لے کے چلو ، اللہ کی قسم ! ہمیں ان صاحب کے پاس سے صرف وہ چیز ہی ملے گی ، جو کہیں گری پڑی ہوئی ہی ملتی ہے ، تو اس کے ساتھی نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم جلدبازی نہ کرو ، جب تک ہم جائزہ نہیں لے لیتے ، پھر حضرت حکیم رضی اللہ عنہ ان دونوں کو ساتھ لے کر بازار گئے ، وہاں انہوں نے دو بڑی موٹی تازی عمدہ قسم کی اونٹنیاں دیکھیں ، انہیں خریدا ، ان کا ساز و سامان خریدا ، پھر انہوں نے اپنے غلاموں سے کہا : اس کپڑے میں جو آتا ہے اس میں ڈال دو ، پھر حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اناج اور گندم اور چربی بھی لے کر دی ، اور ان دونوں کو خرچ بھی فراہم کیا اور وہ اونٹنیاں بھی انہیں عطا کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن اس کچرا اٹھانے والے شخص سے زیادہ بہتر شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

16047

Majma al-Zawaid #16047

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، أُمُّهُ: أُمُّ مُجَالِدٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هِلَالٍ. أَسْلَمَ عَامَ الْفَتْحِ، وَاسْتُشْهِدَ [يَوْمَ الْيَرْمُوكَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَقِيلَ: اسْتُشْهِدَ] يَوْمَ أَجْنَادِينَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies 'Ikrimah ibn Abi Jahl ibn Hisham of Makhzum, his mother Umm Mujalid of Banu Hilal, his Islam in the year of the Conquest, and his martyrdom at Yarmuk in the caliphate of 'Umar, may Allah be pleased with them, or by another account at Ajnadayn. > **"'Ikrimah embraced Islam in the year of the Conquest and was martyred at Yarmuk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم ہیں ، ان کی والدہ ام مجالد تھیں ، جو بنو ہلال سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں ۔ انہوں نے فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا تھا ، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جنگ یرموک میں جام شہادت نوش کیا تھا ، ایک قول کے مطابق یہ ’’ جنگ اجنادین ‘‘ میں شہید ہوئے تھے ۔

16048

Majma al-Zawaid #16048

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ: عِكْرَمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، لَيْسَ لَهُ عَقِبٌ، وَكَانَ خَرَجَ هَارِبًا يَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّى اسْتَأْمَنَتْ لَهُ زَوْجَتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ هِشَامٍ، فَأَمَّنَهُ. أَدْرَكَتْهُ بِالْيَمَنِ فَرَدَّتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ، وَقَالَ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Mus'ab ibn 'Abdullah al-Zubayri reports that 'Ikrimah ibn Abi Jahl left no descendants, fled on the day of the Conquest until his wife Umm Hakim bint Hisham secured safety for him from the Prophet ﷺ, overtook him in Yaman, and brought him back; when the Prophet ﷺ saw him he rose, embraced him, and welcomed the emigrant rider. > **"Welcome to the emigrant rider."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں : حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل بن ہشام کی اولاد کوئی نہیں ہوئی تھی ، یہ فتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے تھے ، یہاں تک کہ ان کی اہلیہ نے نبی اکرم ﷺ سے ان کے لئے امان حاصل کی تھی ، وہ خاتون ام حکیم بنت ہشام ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے امان دیدی ، وہ خاتون یمن میں ان کے پاس گئیں ، اور انہیں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آئیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ اُٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

16049

Majma al-Zawaid #16049

وَعَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَانَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: وَالَّذِي نَجَّانِي يَوْمَ بَدْرٍ. وَكَانَ يَأْخُذُ الْمُصْحَفَ، فَيَضَعُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ: كَلَامُ رَبِّي. كَلَامُ رَبِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Mulaykah reports that when 'Ikrimah ibn Abi Jahl swore emphatically he would say by the One who saved him on the day of Badr, and he would take the mushaf, place it upon his face, and say my Lord's speech, my Lord's speech. > **"My Lord's speech, my Lord's speech."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جب کسی قسم میں شدت کا مفہوم ظاہر کرنا چاہتے تھے تو وہ یہ کہتے تھے کہ اس ذات کی قسم ! جس نے جنگ بدر کے دن مجھے نجات عطا کی ، اسی طرح وہ قرآن مجید لیتے تھے ، اُسے اپنے چہرے پر رکھتے تھے اور یہ کہتے تھے : یہ میرے پروردگار کا کلام ہے ، یہ میرے پروردگار کا کلام ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔