عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَامِلًا عَلَى حِمْصَ، فَمَكَثَ حَوْلًا لَا يَأْتِيهِ. فَقَالَ عُمَرُ لِكَاتِبِهِ: اكْتُبْ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ، فَوَاللَّهِ مَا أَرَاهُ إِلَّا [قَدْ] خَانَنَا، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَقْبِلْ، وَأَقْبِلْ بِمَا جِئْتَ مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حِينَ تَنْظُرُ فِي كِتَابِي هَذَا، فَأَخْذَ عُمَيْرٌ جِرَابَهُ فَجَعَلَ فِيهِ زَادَهُ وَقَصْعَتَهُ، وَعَلَّقَ إِدَاوَتَهُ وَأَخَذَ عَنَزَتَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي مِنْ حِمْصَ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ. قَالَ: فَقَدِمَ وَقَدْ شَحُبَ لَوْنُهُ، وَاغْبَرَّ وَجْهُهُ، وَطَالَتْ شَعْرَتُهُ، فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ عُمَيْرُ: مَا تَرَى مِنْ شَأْنِي؟ أَلَسْتَ تَرَانِي صَحِيحَ الْبَدَنِ، طَاهِرَ الدَّمِ، مَعِي الدُّنْيَا أَجُرُّهَا بِقُرُونِهَا! قَالَ: وَمَا مَعَكَ؟ قَالَ: فَظَنَّ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَالٍ، فَقَالَ: مَعِي جِرَابِي أَجْعَلُ فِيهِ زَادِي، وَقَصْعَتِي آكُلُ فِيهَا وَأَغْسِلُ فِيهَا رَأْسِي وَثِيَابِي، وَإِدَاوَتِي أَحْمِلُ فِيهَا وَضُوئِي وَشَرَابِي وَعَنَزَتِي أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأُجَاهِدُ بِهَا عَدُوِّي إِنْ عَارَضَنِي، فَوَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا إِلَّا تَبَعٌ لِمَتَاعِي. قَالَ: فَجِئْتَ تَمْشِي؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَمَا كَانَ لَكَ أَحَدٌ يَتَبَرَّعُ لَكَ بِدَابَّةٍ تَرْكَبُهَا؟! قَالَ: مَا فَعَلُوا وَمَا سَأَلْتُهُمْ ذَلِكَ قَالَ: بِئْسَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِهِمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ، فَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ عَنِ الْغِيبَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ. قَالَ: فَأَيْنَ مَا بَعَثْتُكَ لَهُ وَأَيَّ شَيْءٍ صَنَعْتَ؟ قَالَ: وَمَا سُؤَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُمْرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! فَقَالَ عُمَيْرُ: أَمَا لَوْ لَمْ أَخْشَ أَنْ أَغُمَّكَ مَا أَخْبَرْتُكَ، بَعَثْتَنِي حَتَّى أَتَيْتُ الْبَلَدَ، فَجَمَعْتُ صُلَحَاءَ أَهْلِهَا فَوَلَّيْتُهُمْ جِبَايَةَ فَيْئِهِمْ، حَتَّى إِذَا جَمَعُوهُ وَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ، وَلَوْ نَالَكَ مِنْهُ شَيْءٌ لَأَتَيْتُكَ بِهِ قَالَ: فَمَا جِئْتَنَا بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: جَدِّدُوا لِعُمَيْرٍ عَهْدًا. قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَسَيِّئٌ لَا عَمِلْتُ لَكَ وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا سَلِمْتُ بَلْ لَمْ أَسْلَمْ وَلَوْ قُلْتُ لِنَصْرَانِيٍّ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَهَذَا مَا عَرَّضْتَنِي لَهُ يَا عُمَرُ، وَإِنَّ أَشْقَى أَيَّامِي يَوْمًا خَلَفْتُ مَعَكَ يَا عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَهُ فَأَذِنَ لَهُ، فَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ. قَالَ: وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ أَمْيَالٌ، فَقَالَ عُمَرُ حِينَ انْصَرَفَ عُمَيْرٌ: مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ خَانَنَا، فَبَعَثَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ حَتَّى تَنْزِلَ بِهِ كَأَنْ ضَيْفٌ [فَإِنْ رَأَيْتَ أَثَرَ شَيْءٍ فَأَقْبِلْ]، وَإِنْ رَأَيْتَ حَالًا شَدِيدَةً فَادْفَعْ هَذِهِ الْمِائَةَ الدِّينَارِ. فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ، فَإِذَا بِعُمَيْرٍ جَالِسٌ يُفَلِّي قَمِيصَهُ إِلَى جَنْبِ الْحَائِطِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: انْزِلْ رَحِمَكَ اللَّهُ، فَنَزَلَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: صَالِحًا. قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: صَالِحِينَ قَالَ: أَلَيْسَ يُقِيمُونَ الْحُدُودَ؟ قَالَ: بَلَى؛ لَقَدْ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ أَتَى فَاحِشَةً فَمَاتَ مِنْ ضَرْبِهِ، فَقَالَ عُمَيْرُ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ عُمَرَ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا شَدِيدًا حُبُّهُ لَكَ. قَالَ: فَنَزَلَ بِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَيْسَ لَهُمْ إِلَّا قُرْصَةٌ مِنْ شَعِيرٍ كَانُوا يَخُصُّونَهُ بِهَا وَيَطْوُونَ حَتَّى أَتَاهُمُ الْجَهْدُ، فَقَالَ لَهُ عُمَيْرٌ: يَا هَذَا، إِنَّكَ قَدْ أَجَعْتَنَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَحَوَّلَ عَنَّا فَافْعَلْ قَالَ: فَأَخْرَجَ الدَّنَانِيرَ فَوَضَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَعَثَ بِهَا إِلَيْكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَاسْتَعِنْ بِهَا، فَصَاحَ قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، رُدَّهَا، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِ احْتَجْتَ إِلَيْهَا وَإِلَّا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، فَقَالَ عُمَيْرٌ: وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ أَجْعَلُهَا فِيهِ، فَشَقَّتِ امْرَأَتُهُ أَسْفَلَ دِرْعِهَا فَأَعْطَتْهُ خِرْقَةً فَجَعَلَهَا فِيهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَبْنَاءِ الشُّهَدَاءِ وَالْفُقَرَاءِ. ثُمَّ رَجَعَ وَالرَّسُولُ يَظُنُّ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: أَقْرِئْ مِنِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ السَّلَامَ. فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَالًا شَدِيدَةً. قَالَ: فَمَا صَنَعَ بِالدَّنَانِيرِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ: وَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي فَلَا تَضَعْهُ مِنْ يَدِكَ حَتَّى تُقْبِلَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا صَنَعْتَ بِالدَّنَانِيرِ؟ قَالَ: صَنَعْتُ مَا صَنَعْتُ، وَمَا سُؤَالُكَ عَنْهَا؟ قَالَ: أَنْشُدُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي بِمَا صَنَعْتَ بِهَا قَالَ: قَدَّمْتُهَا لِنَفْسِي، فَقَالَ: رَحِمَكَ اللَّهُ. فَأَمَرَ لَهُ عُمَرُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ وَثَوْبَيْنِ، فَقَالَ: أَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ؛ قَدْ تَرَكْتُ فِي الْمَنْزِلِ صَاعَيْنِ مِنْ شَعِيرٍ إِلَى أَنْ آكُلَ ذَلِكَ، قَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالرِّزْقِ، فَلَمْ يَأْخُذِ الطَّعَامَ. وَأَمَّا الثَّوْبَانِ: فَقَالَ: إِنَّ فُلَانَةً عَارِيَةٌ. فَأَخَذَهُمَا وَرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ هَلَكَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ. فَخَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ الْمَشَّاءُونَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لِيَتَمَنَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أُمْنِيَّتَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأُعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا. وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأَعْتِقُ لِوَجْهِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي مَالًا؛ فَأُنْفِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَقَالَ آخَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قُوَّةً؛ فَأَمْتَحَ بِدَلْوٍ مَاءَ زَمْزَمَ لِحَاجِّ بَيْتِ اللَّهِ. فَقَالَ عُمَرُ: وَدِدْتُ أَنَّ لِي رَجُلًا مِثْلَ عُمَيْرٍ، وَدِدْتُ أَنَّ لِي رِجَالًا مِثْلَ عُمَيْرٍ؛ أَسْتَعِينُ بِهِمْ فِي أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إبراهيم بْنِ عَنْتَرَةَ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
'Umayr ibn Sa'd reports that 'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, appointed him governor of Hims, and after a year without word 'Umar wrote suspecting betrayal and ordering him to come with whatever public revenue he held. 'Umayr packed his bag with his provisions and bowl, hung his water-skin, seized his staff, and walked from Hims to Madinah, arriving pale, dusty, and long-haired. He greeted 'Umar, declared himself sound in body and pure of blood dragging the world by its horns, and when 'Umar expected wealth he displayed only his bag, bowl, water-skin, and staff, declaring the world but follows his gear. He explained he gathered the righteous of the town, entrusted collection of their revenue to them, and set it in its places, bringing nothing to 'Umar. 'Umar ordered his commission renewed, but 'Umayr refused ever to work for him or any after him, reproached the suspicion cast upon him, and returned home miles from Madinah. 'Umar still suspected him and sent al-Harith as a guest-spy with a hundred dinars for dire need; al-Harith found 'Umayr delousing his shirt by a wall, was hosted with meager fare, saw his household's poverty, offered the gold, and 'Umayr refused it, bidding him return it; al-Harith reported his utter destitution, and 'Umar vindicated him and summoned him back, but 'Umayr declined office altogether. > **"I am sound in body, pure of blood, with the world dragging behind me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص کا گورنر مقرر کر کے بھیجا تھا ، وہ ایک سال وہاں مقیم رہے وہ اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں آئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب سے کہا : کہ تم حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو خط لکھو ، اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، اسے یہ لکھو کہ جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم آ جاؤ اور جب تم میرا یہ مکتوب دیکھو تو اس وقت تمہارے پاس جو مسلمان آئے ہوئے ہوں ، ان کو بھی لے آنا ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنا تھیلا پکڑا ، اس میں زاد سفر رکھا اور پیالہ رکھا اور اس کو ساتھ لٹکایا اور اپنا نیزہ پکڑا اور وہ حمص سے پیدل چل کر روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچے ، راوی کہتے ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئے تو ان کا رنگ متغیر ہو چکا تھا ، ان کا چہرہ غبار آلود تھا ، ان کے بال بڑھ چکے تھے ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ پر سلامتی نازل ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کو میرا معاملہ کیا لگتا ہے ؟ کیا آپ مجھے دیکھ نہیں رہے کہ میرا جسم ٹھیک ہے ، خون پاک ہے ، میرے ساتھ دنیا موجود ہے ، جسے میں سینگ سے پکڑ کر کھینچ کر لایا ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے تھے کہ شاید وہ مال لے کر آئے ہیں ، انہوں نے کہا : میرے پاس میرا یہ تھیلا ہے جس میں ، میں نے اپنا زاد سفر اور پیالہ رکھا ہے ، جس میں میں کھاتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے سر اور کپڑے کو بھی دھو لیتا ہوں ، اور ایک میرا برتن ہے ، جس میں وضو کے لئے پانی لے لیتا ہوں اور پینے کے لئے لے لیتا ہوں ، اور میرا ایک نیزہ بھی ہے ، جس کے ساتھ میں ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنے دشمن کے ساتھ جنگ بھی کر لیتا ہوں ، اگر وہ میرے مقابل آ جائے ، اللہ کی قسم ! دنیا میرے اسی ساز و سامان کی پیروکار ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم پیدل چل کر آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں تھا ، جو تمہیں ایک سواری تحفے کے طور پر دے دیتا ، تاکہ تم اس پر سوار ہو جاتے ، انہوں نے کہا : ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا ، اور میں نے ان سے یہ چیز مانگی بھی نہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ مسلمان برے ہیں جن کے پاس سے نکل کر تم آئے ہو ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمر ! آپ اللہ سے ڈریں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیبت کرنے سے منع کیا ہے ، میں نے ان لوگوں کو صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا معاملہ ہے جس کی خاطر میں نے تمہیں بھیجا تھا ، تم نے کیا کیا ؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے امیرالمومنین ! آپ کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : سبحان اللہ ! حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں آپ کو غمگین کر دوں گا ، تو میں نے آپ کو یہ بات نہیں بتائی تھی ، جب آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور آپ کا پیغام مجھ تک پہنچا ، تو میں شہر میں آیا میں نے شہر کے نیک لوگوں کو جمع کیا اور میں نے ان کے مال غنیمت کا ان کو نگران مقرر کیا اور جب ان لوگوں نے اس کو اکٹھا کر لیا اور میں نے اس کے خرچ کا تعین کر دیا ، تو میں آیا اگر اس میں سے آپ کا بھی کوئی حصہ ہوتا ، تو وہ میں آپ کے پاس لے آتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم ہمارے لئے کچھ نہیں لے کے آئے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : عمیر کے لئے نئے سرے سے حکم نامہ جاری کرو ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ ٹھیک نہیں ہے ، میں آپ کے لئے کام نہیں کروں گا ، اور نہ ہی آپ کے بعد کسی اور کے لئے کام کروں گا ، اللہ کی قسم ! میں سلامت میں ہی رہوں گا ، بلکہ میں نے اسلام ہی قبول نہیں کیا ہو گا کہ اگر میں نے کسی عیسائی کو بھی یہ کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے ، تو اے حضرت عمر ! آپ مجھے اس کام کے لئے دوبارہ بھیجنا چاہ رہے ہیں ، میری زندگی کا سب سے زیادہ بدنصیب دن وہ ہو گا ، جب میں آپ سے پیچھے رہ جاؤں ، اے عمر ! پھر انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُن کے گھر اور مدینہ منورہ کے درمیان کچھ میل کا فاصلہ تھا ، جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے ، پھر انہوں نے ایک شخص کو بھیجا ، جس کا نام حارث تھا ، انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور اس کے ہاں یوں ٹھہرنا ، جیسے مہمان ہو ، اگر تمہیں کوئی اس طرح کا نشان نظر آئے ( جس سے خیانت ظاہر ہو رہی ہو ) تو آ جانا اور اگر تم مشکل صورت حال دیکھو ( یعنی ان کے گھر میں غربت ہو ) تو تم ایک سو دینار اسے دیدینا ۔ حارث نامی وہ شخص گیا ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے اپنی قمیص کو سی رہے تھے ، اس شخص نے انہیں سلام کیا حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، تم یہاں ٹھہر جاؤ ! وہ شخص وہاں ٹھہر گیا ، پھر حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : مدینہ منورہ سے ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے امیرالمومنین کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : ٹھیک ہیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے مسلمانوں کو کیسی حالت میں چھوڑا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ بھی ٹھیک ہیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ حدود قائم نہیں کرتے ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : جی ہاں ! ( یعنی قائم کرتے ہیں ) انہوں نے اپنے بیٹے کو سزا دی تھی ، جس نے ایک برائی کا ارتکاب کیا تھا اور اس سزا کی وجہ سے اس بچے کا انتقال ہو گیا تھا ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدد فرمانا ، کیونکہ میرے علم کے مطابق وہ تیرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے اتنے سخت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص اُن کے ہاں تین دن ٹھہرا رہا ، ان لوگوں کو کھانے کے لئے صرف جو کی روٹی ملتی تھی ، وہ لوگ جو کی اس روٹی کا کچھ حصہ توڑ کر کھا لیتے تھے اور باقی رکھ دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں بھوک لاحق ہو گئی ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا : اے فرد ! تم نے ہمیں بھوک کا شکار کر دیا ہے ، اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے پاس سے روانہ ہو جاؤ ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے دینار نکالے اور وہ ان کے حوالے کیے اور یہ کہا : یہ امیرالمومنین نے آپ کو بھجوائے ہیں ، آپ ان کے ذریعے مدد حاصل کریں ، تو انہوں نے چیخ ماری اور کہا : مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے تم انہیں واپس لے جاؤ ، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا : اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے ، تو لے لیں اور اگر نہیں ہے تو پھر اسے صحیح جگہ پر خرچ کر دیں ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے کہ جس میں اُس کو خرچ کروں ، تو اس عورت نے اپنی چادر کا نیچے والا حصہ چیرا اور وہ ٹکڑا انہیں دیا ، انہوں نے اس میں وہ دینار رکھ دیے پھر وہ باہر تشریف لے گئے انہوں نے وہ دینار شہداء اور غریبوں کے بچوں میں تقسیم کر دیے ، پھر وہ واپس آ گئے ، قاصد یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ اسے بھی اُن میں سے کچھ دیں گے ، انہوں نے قاصد سے کہا : تم امیرالمومنین کو میری طرف سے سلام کہہ دینا ۔ جب حارث نامی شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ؟ تو اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں نے مشکل صورت حال دیکھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس نے دیناروں کا کیا کیا ؟ قاصد نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا کہ جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے تو تم اسے ہاتھ میں رکھنے سے پہلے میری طرف روانہ ہو جانا ، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے دیناروں کا کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : میں نے ان کا جو بھی کیا ہو ، آپ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان کا کیا کیا ؟ تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اپنی ذات کے لئے وہ آگے بھجوا دیے ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں اناج کا ایک وسق اور دو کپڑے دیے جائیں ، تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : جہاں تک اناج کا تعلق ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ میں اپنے گھر میں جو کے دو صاع چھوڑ کے آیا ہوں ، وہ آگے میرے کام آتے رہیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مزید عطا کر دے گا ، تو انہوں نے اناج نہیں لیا ، پھر انہوں نے فرمایا : جہاں تک دو کپڑوں کا تعلق ہے ، تو فلاں خاتون کو کپڑوں کی ضرورت ہے ، انہوں نے وہ دو کپڑے لئے اور اس کو لے کر اپنے گھر آ گئے ، پھر وہ اپنے گھر میں ہی مقیم رہے ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو یہ خبر اُن پر بہت گراں گزری ، انہوں نے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے لئے رحمت کے کلمات پڑھے ، وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے ، ان کے ساتھ دوسرے پیدل لوگ بھی تھے ، یہاں تک کہ وہ بقیع غرقد کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنی اپنی خواہش بیان کرے ، تو ایک شخص نے کہا : اے امیرالمومنین ! میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا اور میں اس کے ذریعے اللہ کی ذات کی خاطر اتنے اتنے لوگوں کو آزاد کر دیتا ، ایک اور شخص نے کہا : میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس مال موجود ہوتا ، اُسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ، ایک اور شخص نے کہا : میری یہ خواہش تھی کہ میرے پاس قوت موجود ہوتی اور میں اس قوت کے ذریعے آب زمزم نکال کر بیت اللہ کے حاجیوں کو دیتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسا کوئی فرد ہوتا ، اور میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس عمیر جیسے کئی افراد ہوتے ، جن کے ذریعے میں مسلمانوں کے کاموں میں مدد حاصل کر سکتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ابراہیم بن عثرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔