Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 43

Book of Virtues and Merits

Hadith 15969–16009

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15969

Majma al-Zawaid #15969

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ: «أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ فَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا. فَعَجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ: "" اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ "". قَالَ: فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: "" أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ "". فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الْمَسَاءِ فِي غَيْمٍ وَبَرْدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ: "" إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ، فَآذِنُونِي حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ "". وَأَعْجَلُوا فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ طَلْحَةُ: ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ مِنَ الْيَهُودَ، وَلَا يُصَابُ فِي سَبَبِي. فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ». قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْ آخِرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ وَسَكَتَ عَلَيْهِ؛ فَهُوَ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Wahwah reports that when Talhah ibn al-Bara' met the Prophet ﷺ and offered unreserved obedience, the Prophet ﷺ, marveling at the youth, told him to go and slay his father; when he turned to do it the Prophet ﷺ called him back, declaring he was not sent to sever kinship. Talhah later fell ill, the Prophet ﷺ visited him on a cloudy cold evening, told his family he saw death in him and asked to attend his burial and prayer, but Talhah died before the Prophet ﷺ reached Banu Salim ibn 'Awf, having instructed that he be buried without summoning the Messenger of Allah ﷺ for fear the Jews might harm him on his account; in the morning the Prophet ﷺ stood at his grave with the people in rows and supplicated for him. > **"O Allah, meet Talhah while You laugh to him and he laughs to You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم ﷺ سے ملے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو مناسب سمجھیں مجھے حکم دیں ، میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی ، وہ صاحب اس وقت کم عمر تھے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو ، راوی کہتے ہیں : تو وہ مڑ گئے تاکہ ایسا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا : ادھر آؤ ! مجھے رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کے احکام کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ۔ اس کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ شام کے وقت اُن کی عیادت کرنے کے لئے ان کے ہاں آئے ، اس وقت بادل بھی تھا اور سردی بھی تھی ، جب آپ واپس تشریف لے جانے لگے تو آپ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں سے کہا : طلحہ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اس کی موت کا وقت قریب آ چکا ہے ، تو تم لوگ مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے کفن دفن میں شریک ہو جاؤں ، اور اس کی نماز جنازہ ادا کروں ، اور تم اس بارے میں جلدی کرنا ، ابھی نبی اکرم ﷺ بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان صاحب کا انتقال ہو گیا ، اس وقت رات تاریک ہو چکی تھی ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا : تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا ، تم نبی اکرم ﷺ کو نہ بلانا ، کیونکہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہودیوں کی طرف سے اندیشہ ہے ، تو میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچے ، اگلے دن صبح کے وقت نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ ﷺ تشریف لائے اور ان صاحب کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے ، لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ، نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو طلحہ کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ تو اس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور یہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہے ، اور اگر اللہ نے چاہا تو یہ روایت حسن ہو گی ۔

15970

Majma al-Zawaid #15970

«عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّهُ: لَقِيَ سَفِينَةَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ! سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفِينَةَ. قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ، فَقَالَ لِي: "" ابْسُطْ كِسَاءَكَ "". فَبَسَطْتُهُ، فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" احْمِلْ؛ فَإِنَّمَا أَنْتِ سَفِينَةٌ "". فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ خَمْسَةٍ أَوْ سِتَّةٍ أَوْ سَبْعَةٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَحْفُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Jumhan reports that he met Safinah at Batn Nakhlah in the days of al-Hajjaj, stayed eight nights asking him about the hadiths of the Messenger of Allah ﷺ, asked his name, and Safinah refused to give any but the name the Messenger of Allah ﷺ gave him; the Prophet ﷺ had told him to spread his cloak, the Companions loaded their baggage into it and onto him, and named him Safinah, after which he felt he could have carried the loads of many camels without heaviness. > **"Carry, for you are but a Safinah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : حجاج کے زمانے میں ’’ بطن نخلہ ‘‘ کے مقام پر ان کی ملاقات حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں آٹھ دن ان کے پاس ٹھہرا رہا تاکہ ان سے نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے بارے میں سوالات کرتا رہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ نہیں بتاؤں گا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے ’’ سفینہ ‘‘ کا نام دیا ہے ، میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے آپ کو ’’ سفینہ ‘‘ کا نام کیوں دیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے ، ان لوگوں کا ساز و سامان وزنی تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم اپنی چادر کو پھیلاؤ ! میں نے اسے پھیلا دیا ، ان لوگوں نے اپنا سامان اس چادر میں رکھ لیا ، پھر ان لوگوں نے وہ سامان مجھ پر لاد دیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا :’’ تم یہ وزن اٹھا لو ! کیونکہ تم سفینہ ہو ۔‘‘ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اس وقت میں ایک اونٹ یا دو اونٹوں یا تین اونٹوں یا چار یا پانچ یا چھ یا سات اونٹوں کا وزن بھی اُٹھا لیتا ، تو وہ بھی میرے لئے بوجھ کا سبب نہ بنتا ، البتہ اگر وہ پیدل ہوتے تو معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

15971

Majma al-Zawaid #15971

وَعَنْ عِمْرَانَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ. قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً، أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Imran al-Bajali reports from a freedman of Umm Salamah that he accompanied the Prophet ﷺ on a journey, reached a valley, and began helping the people across or carrying them, whereupon the Prophet ﷺ told him he was naught that day but a Safinah. > **"You were naught today but a Safinah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بجلی نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، ہم ایک وادی کے پاس پہنچے ، تو میں لوگوں کو عبور کروانے لگا ( یا لوگوں کا وزن اٹھوانے لگا ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم آج سفینہ ہو ‘‘ ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

15972

Majma al-Zawaid #15972

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَحْرِ، فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتُنَا فَلَمْ نَعْرِفِ الطَّرِيقَ، فَإِذَا أَنَا بِالْأَسَدِ قَدْ عَرَضَ لَنَا، فَتَأَخَّرَ أَصْحَابِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: أَنَا سَفِينَةُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَضْلَلْنَا الطَّرِيقَ، فَمَشَى بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى أَوْقَفَنَا عَلَى الطَّرِيقِ، ثُمَّ تَنَحَّى وَدَفَعَنِي كَأَنَّهُ يُرِينِي الطَّرِيقَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَدِّعُنَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَانْكَسَرَتْ سَفِينَتِي الَّتِي كُنْتُ فِيهَا، فَرَكِبْتُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِهَا فَطَرَحَنِي اللَّوْحُ فِي أَجَمَةٍ فِيهَا الْأَسَدُ، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ يُرِيدُنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْحَارِثِ، أَنَا سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ وَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَدَفَعَنِي بِمِنْكَبِهِ. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Safinah reports that he was at sea when their ship broke and they lost the way, and a lion confronted them while his companions hung back; he approached it, declared himself Safinah the companion of the Messenger of Allah ﷺ and that they had lost the way, and the lion walked before him until it set them upon the road, then nudged him as in farewell. In another wording his plank cast him into a thicket with a lion, he addressed it as Abu al-Harith and freedman of the Messenger of Allah ﷺ, and it lowered its head and pushed him with its shoulder likewise. > **"I am Safinah, the companion of the Messenger of Allah ﷺ, and we have lost the way."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سمندر میں تھا ، ہماری کشتی ٹوٹ گئی ، ہمیں راستے کا پتہ نہیں تھا ، اسی دوران ایک شیر ہمارے سامنے آیا ، میرے ساتھی پیچھے ہٹ گئے ، میں اس کے قریب ہوا ، میں نے کہا : میں ’’ سفینہ ‘‘ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا صحابی ہے ، ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں ، تو وہ شیر ہمارے سامنے چلتا ہوا گیا ، یہاں تک کہ اس نے ہمیں راستے تک پہنچا دیا ، پھر وہ ایک طرف ہٹا اور اس نے مجھے آگے ہونے کا موقع دیا ، یوں جیسے وہ مجھے راستہ دکھا رہا ہو ، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ ہم سے رخصت ہونے لگا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میری وہ کشتی ٹوٹ گئی جس میں ، میں موجود تھا ، پھر میں ایک تختے پر سوار ہوا ، اس تختے نے مجھے ایک جنگل میں پہنچا دیا ، جس میں شیر موجود تھا ، وہ میری طرف آیا ، وہ مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، میں نے کہا : اے ابوالحارث ! میں ’’ سفینہ ‘‘ ہوں ، جو اللہ کے رسول کا غلام ہے ، تو اس نے اپنے سر کو جھکا لیا اور پھر وہ میری طرف آیا اور اس نے اپنے کندھے کے ذریعے مجھے آگے کیا ، باقی روایت حسب سابق ہے ۔

15973

Majma al-Zawaid #15973

وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ عَنْ سَفِينَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْوَهُ. وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَى قَوْلِهِ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟!، وَرِجَالُهُمَا وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In some of its paths the report is given from Safinah from the Messenger of Allah ﷺ to similar effect, though what is meant by attributing it to the Messenger of Allah ﷺ is unclear. > **"From Safinah, from the Messenger of Allah ﷺ, to similar effect."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے ان الفاظ کا کیا مطلب بنتا ہے ؟ کہ نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15974

Majma al-Zawaid #15974

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا أُلْقِيَنَّ مَا نُوزِعْتُ أَحَدًا مِنْكُمْ عِنْدَ الْحَوْضِ، فَأَقُولُ: هَذَا مِنْ أَصْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ "". قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: "" لَسْتَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda' reports that the Messenger of Allah ﷺ said he would surely be rivaled over some of his Companions at the Hawd, saying they are of his Companions only to be told he does not know what they innovated after him; Abu al-Darda' asked the Prophet ﷺ to supplicate that Allah not make him of them, and he replied that he is not of them. > **"You are not of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ایسی صورت حال ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی ایک کو میرے حوض کے پاس آنے سے روکا جائے اور میں کہوں : یہ شخص میرے اصحاب میں سے ایک ہے ، تو فرشتہ کہے : کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا ؟ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن افراد میں شامل نہ کرے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن میں سے نہیں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

15975

Majma al-Zawaid #15975

«وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: "" إِنَّ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي سَيَكْفُرُونَ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ""؟. قَالَ: "" أَجَلْ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، وَلَسْتَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda' reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ whether he truly said that some of his nation would disbelieve after their faith, and the Prophet ﷺ confirmed it, adding that Abu al-Darda' is not of them. > **"Yes, O Abu al-Darda', and you are not of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ ﷺ یہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ میری اُمت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد عنقریب کفر اختیار کریں گے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اے ابودرداء ! ( یعنی ایسا ہو گا ) لیکن تم اُن میں سے نہیں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15976

Majma al-Zawaid #15976

وَعَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: «قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كُنْتُ تَاجِرًا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ التِّجَارَةِ وَالْعِبَادَةِ، فَلَمْ يَسْتَقِمْ، فَتَرَكْتُ التِّجَارَةَ وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْعِبَادَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khaythamah reports that Abu al-Darda' said he was a merchant before the Prophet ﷺ was sent, and after his sending he wished to combine trade and worship but it would not hold together, so he abandoned trade and devoted himself to worship. > **"I abandoned trade and devoted myself to worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیثمہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے میں تاجر تھا ، جب نبی اکرم ﷺ مبعوث ہو گئے تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تجارت اور عبادت کو اکٹھا کر دوں ، لیکن یہ معاملہ درست نہ ہو سکا ، تو میں نے تجارت کو ترک کر دیا اور عبادت پر برقرار رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15977

Majma al-Zawaid #15977

«عَنْ أَبِي بَزْرَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنْ: جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ يَمُرُّ بِهِنَّ وَيُلَاعِبُهُنَّ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: لَا تُدْخِلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبًا؛ إِنْ دَخَلَ عَلَيْكُمْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ. قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ: هَلْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: "" زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ "". قَالَ: نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنِعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ: "" إِنِّي لَسْتُ أُرِيدُهَا لِنَفْسِي "". قَالَ: فَلِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِجُلَيْبِيبٍ "". قَالَ: [يَا رَسُولَ اللَّهِ] أُشَاوِرُ أُمَّهَا. [فَأَتَى أُمَّهَا] فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ابْنَتَكِ قَالَتْ: نَعَمْ وَنِعْمَةَ عَيْنٍ. قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ يَخْطُبُهَا لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا يَخْطُبُهَا لِجُلَيْبِيبٍ. قَالَتْ: أَلِجُلَيْبِيبٍ إِنِيهْ أَلِجُلَيْبِيبٍ إِنِيهْ، لَا لَعَمْرُ اللَّهِ لَا نُزَوِّجُهُ. فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ لِيَأْتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُخْبِرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّهَا قَالَتِ الْجَارِيَةُ: مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمْ؟ فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّهَا، فَقَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ؟!، ادْفَعُونِي إِلَيْهِ؛ فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي. فَانْطَلَقَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: شَأْنُكَ بِهَا فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا. قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ لَهُ قَالَ: فَلَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: "" هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ "". قَالُوا: لَا. قَالَ: "" لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا "". قَالَ: "" فَاطْلُبُوهُ "". فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَا هُوَ ذَا إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ "". - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا -. ثُمَّ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى سَاعِدَيْهِ، وَحُفِرَ لَهُ مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ غَسَّلَهُ. قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا». وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ: «هَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: "" اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا "". قَالَ: فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنِ الْخِطْبَةِ وَالتَّزْوِيجِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah al-Aslami reports that Julaybib would visit women in jest, that the Ansar would not marry off a widow until they knew whether the Prophet ﷺ had any need of her, and that the Prophet ﷺ asked an Ansari for his daughter not for himself but for Julaybib; the father consulted her mother, who refused Julaybib outright, but the maiden asked who had proposed, declared they must not reject the order of the Messenger of Allah ﷺ, and trusted he would never let her be lost. Her father consented, the Prophet ﷺ married her to Julaybib, then went out on campaign, and after Allah granted spoils he asked whom they missed; they said no one, but he said he missed Julaybib. They found him beside seven polytheists he had slain before they slew him; the Prophet ﷺ declared twice or thrice that he is of him and he is of Julaybib, laid him upon his forearms with no bed but the arms of the Prophet ﷺ until his grave was dug, placed him in it without recorded washing, and Thabit added that no widow among the Ansar was more richly provided for, after the Prophet ﷺ supplicated that goodness be poured upon her abundantly and her life never be one of toil. > **"He slew seven and then they slew him; this one is of me and I am of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے جو خواتین کے پاس چلے جاتے تھے ، وہ خواتین کے پاس سے گزرتے ہوئے اُن کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر لیا کرتے تھے ، میں نے اپنی بیوی سے کہا : جلیبیب تمہارے ہاں اندر کبھی نہ آنے پائے ، اگر وہ تمہارے ہاں اندر آ گیا ، تو میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : انصار میں سے جب کسی شخص کے ہاں کوئی عورت بیوہ یا طلاق یافتہ ہوتی تھی ، تو وہ اس عورت کی شادی اس وقت تک نہیں کرتا تھا ، جب تک یہ بات پتہ نہ چل جائے ، کہ کیا نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں کوئی دلچسپی ہے یا نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا : تم میرے کہنے پر اپنی بیٹی کی شادی کروا دو ، اس نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! یہ تو عزت افزائی کی بات ہے اور آنکھوں کی نعمت ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اُس کے ساتھ خود شادی نہیں کرنا چاہتا ، اس شخص نے دریافت کیا : پھر کس کے لئے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جلیبیب کے لئے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں ، پھر وہ اس کی ماں کے پاس آیا اور بتایا : اللہ کے رسول ﷺ نے تمہاری بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اس عورت نے کہا : ٹھیک ہے ، یہ تو خوشی کی بات ہے ، اس شخص نے بتایا : کہ نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کے لئے اپنی ذات کے لئے شادی کا پیغام نہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ نے جلیبیب کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ، اس عورت نے کہا : کیا جلیبیب کے لئے ؟ یہ نہیں ہو سکتا ، اللہ کی قسم ! ہم اس کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، جب اس شخص نے اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کیا ، تاکہ نبی اکرم ﷺ کو اس لڑکی کی ماں کے جواب کے بارے میں بتائے ، تو اس لڑکی نے کہا : آپ لوگوں کو شادی کا پیغام کس نے دیا ہے ؟ اس لڑکی کی ماں نے اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس لڑکی نے کہا : کیا آپ اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کو مسترد کر رہے ہیں ؟ آپ مجھے اسی شخص کے حوالے کر دیں ، وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ۔ پھر اس لڑکی کا باپ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور یہ کہا : آپ جیسے مناسب سمجھیں کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کی شادی حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے تشریف لے گئے جب جنگ ختم ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ کسی کو غیر موجود پاتے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لیکن میں جلیبیب کو غیر موجود پا رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، تو لوگوں نے ان صاحب کو پایا کہ وہ سات افراد کے پہلو میں موجود تھے ، اُن سات افراد کو حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اور ان لوگوں کے وار کی وجہ سے حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ خود بھی شہید ہو چکے تھے اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ سات افراد کے پہلو میں موجود تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا اور ان سات افراد نے انہیں شہید کر دیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ حضرت جلیب رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اس نے سات افراد کو قتل کیا اور ان افراد نے اسے قتل کیا ، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، یہ بات آپ ﷺ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنی کلائیوں پر رکھا اور ان کے لئے قبر کھدوائی ، اُن کی میت کی چارپائی صرف نبی اکرم ﷺ کی کلائیاں تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں قبر میں اتارا ۔ راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں غسل دلوایا تھا یا نہیں ؟ ثابت نامی راوی کہتے ہیں : اُن کی بیوہ انصار میں سے ، سب سے زیادہ خرچ کرنے والی خاتون تھیں ۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ثابت کو یہ روایت بیان کی ہے : انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے لئے کیا دعا کی تھی ؟ آپ ﷺ نے یہ دعا کی تھی : ’’ اے اللہ ! اس عورت پر بھلائی کو انڈیل دے اور اس کی زندگی کو مشکلات کا شکار نہ کرنا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو انصار میں کوئی بھی بیوہ خاتون ، اس خاتون سے زیادہ خرچ کرنے والی ( یعنی خوشحال ) نہیں تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں شادی کا پیغام دینے اور شادی کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15978

Majma al-Zawaid #15978

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا قَالَ: أَسْتَأْمِرُ أُمَّهَا قَالَ: "" فَنَعَمْ إِذًا "". قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذًا، مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا جُلَيْبِيبًا وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلَانًا وَفُلَانًا؟ قَالَ: وَالْجَارِيَةُ فِي خِدْرِهَا تَسْمَعُ. قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَلِكَ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ: أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ؟ إِنْ كَانَ رَضِيَ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ. قَالَ: فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبْوَيْهَا، وَقَالَا: صَدَقَتْ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ رَضِيتَهُ فَقَدْ رَضِينَاهُ، فَقَالَ: "" إِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ "". فَزَوَّجَهَا، ثُمَّ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، فَرَكَبَ جُلَيْبِيبٌ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ. قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ أَيِّمٍ بِالْمَدِينَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا عِقَالًا. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas reports that the Messenger of Allah ﷺ proposed to an Ansari girl on behalf of Julaybib, her father sought her mother's counsel, the mother refused Julaybib though she had already refused others for the girl, and the maiden listening in her chamber asked whether they would reject the command of the Messenger of Allah ﷺ and bade them marry her to him if he was pleased with him for them. Her parents acknowledged her truthfulness, the father consented, the Prophet ﷺ declared his pleasure, married her to him, and soon the people of Madinah rushed out; Julaybib rode forth and was found slain with polytheists he had killed around him, and Anas attested that he saw his widow become among the most richly provided widows of Madinah. > **"If he is pleased with him for you, then marry him to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کے لئے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے لئے ان کے والد کو شادی کا پیغام دیا ، تو ان صاحب نے کہا : میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر وہ صاحب اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو اس عورت نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ نہیں ہو سکتا ، کیا نبی اکرم ﷺ کو صرف جلیبیب ملا تھا ؟ حالانکہ ہم تو فلاں اور فلاں کے رشتے سے بھی انکار کر چکے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : لڑکی پردے میں موجود یہ باتیں سن رہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتانے کے لئے جانے لگا ، تو اس لڑکی نے کہا : کیا آپ لوگ یہ ارادہ رکھتے ہیں ؟ کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے کو واپس کر دیں ، اگر اللہ کے رسول ﷺ آپ لوگوں کے لئے اس رشتے سے راضی ہیں ، تو آپ اس کے ساتھ ہی شادی کروا دیں ، راوی کہتے ہیں : تو گویا اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کے آگے سے پردہ ہٹا دیا ، اُن دونوں نے کہا : تم ٹھیک کہہ رہی ہو ، پھر اس لڑکی کا باپ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور بولا : اگر آپ اس سے راضی ہیں ، تو ہم بھی اس سے راضی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ اس کی شادی کروا دی ، پھر جنگ ہوئی ، حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ سوار ہو کر گئے ، تو لوگوں نے انہیں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے اردگرد مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ موجود تھے ، جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اس خاتون کو دیکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کی بیوہ خواتین میں ، سب سے زیادہ خرچ کرنے والی ( یعنی سب سے زیادہ خوشحال ) خاتون تھیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” گویا اس عورت نے اپنے ماں باپ کی رسیاں کھول دیں ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15979

Majma al-Zawaid #15979

«عَنْ أَنَسٍ أَنَّ: رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا، وَكَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْهَدِيَّةَ فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ "". وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ، وَكَانَ [رَجُلًا] دَمِيمًا، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مِنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ "". أَوْ قَالَ: "" [لَكِنْ] عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas reports that a desert man named Zahir would bring gifts to the Prophet ﷺ, who would equip him on departing, saying Zahir is their countryside and they are his town; the Prophet ﷺ loved him though he was unsightly, once embraced him from behind while he sold his goods, and joked over who would buy the slave; Zahir said he would be found a worthless bargain, and the Prophet ﷺ replied that with Allah he is not worthless but precious. > **"But with Allah you are not worthless."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دیہاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام ’’ زاہر ‘‘ تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کو تحفہ دیا کرتا تھا ، جب وہ واپس جانے لگتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ اسے ساز و سامان دیتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس سے محبت کرتے تھے ، وہ عام کی شکل و صورت کا شخص تھا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے ، وہ اس وقت اپنا سامان فروخت کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے پیچھے کی طرف سے اُسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کو دیکھ نہیں سکا ، اُس نے کہا : مجھے چھوڑو ! کون ہے ؟ جب اس نے مڑ کے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ اپنی پشت نبی اکرم ﷺ کے سینے سے مس کرنے لگا ، جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو پہچان لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون اس غلام کو خریدے گا ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ ﷺ نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم مہنگے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15980

Majma al-Zawaid #15980

«وَعَنْ سَالِمٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَشْجَعَ - يُقَالُ لَهُ: أَزْهَرُ بْنُ حَرَامٍ الْأَشْجَعِيُّ - رَجُلٌ بَدَوِيٌّ وَكَانَ لَا يَزَالُ يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطُرْفَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سُوقِ الْمَدِينَةِ يَبِيعُ سِلْعَةً لَهُ، وَلَمْ يَكُنْ أَتَاهُ - يَعْنِي فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ - فَاحْتَضَنَهُ مِنْ وَرَاءِ كَتِفِهِ، فَالْتَفَتَ فَأَبْصَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ كَفَّهُ، فَقَالَ: "" مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟ "". قَالَ: إِذًا تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَاسِدًا قَالَ: "" لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ رَبِيحٌ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِكُلِّ حَاضِرٍ بَادِيَةٌ، وَبَادِيَةُ آلِ مُحَمَّدٍ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Salim ibn Abi al-Ja'd reports from Azhar ibn Haram al-Ashja'i, a desert man who regularly brought rarities and gifts to the Prophet ﷺ, that the Messenger of Allah ﷺ saw him selling his goods in the market of Madinah, embraced him from behind his shoulder, and when he turned and kissed the Prophet's hand the Prophet ﷺ joked over who would buy the slave; the man said he would be found a poor bargain, and the Prophet ﷺ replied that with Allah he is profitable, adding that every town has its countryside and the countryside of the family of Muhammad is Zahir ibn Haram. > **"But with Allah you are profitable."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن ابوالجعد ، اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام حضرت ازہر بن حرام اشجعی رضی اللہ عنہ تھا ، اور وہ ایک دیہاتی تھے ، اُن کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : وہ ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی تحفہ لے کے آیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ کے بازار میں دیکھا کہ وہ اپنا سامان فروخت کر رہے تھے ، اس سے پہلے اُن کی نبی اکرم ﷺ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں پیچھے کی طرف سے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، انہوں نے پیچھے مڑ کے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو نبی نبی اکرم ﷺ کی ہتھیلی کو بوسہ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون اس غلام کو خریدے گا ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم منافع بخش ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر شہری کا کوئی دیہاتی ہوتا ہے اور آل محمد کا دیہاتی ، زاہر بن حرام ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15981

Majma al-Zawaid #15981

«عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ: النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْبِجَادَيْنِ: "" إِنَّهُ أَوَّاهٌ "". وَذَلِكَ أَنَّهُ كَثِيرُ الذِّكْرِ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ، وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Uqbah ibn 'Amir reports that the Prophet ﷺ said of a man called Dhu al-Bijadayn that he is oft-returning to Allah, for he remembers Allah abundantly in the Qur'an and raises his voice in supplication. > **"He is oft-returning to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : جنہیں ’’ زو بجادین “ کہا جاتا تھا کہ یہ فرمانبردار ہے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب قرآن پڑھنے کے حوالے سے اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے تھے اور وہ بلند آواز میں دعا مانگا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

15982

Majma al-Zawaid #15982

«وَعَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ: فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ؟ [قَالَ: فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ] قَالَ: "" إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ "". ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَلَّا؛ إِنَّهُ أَوَّابٌ "". [قَالَ:] فَنَظَرْتُ، فَإِذَا [هُوَ] عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Adra' reports that he guarded the Prophet ﷺ, who came out one night for some need, took him by the hand, passed a man praying aloud with the Qur'an, and suggested he might be showing off; on another night the narrator himself voiced the suspicion, and the Prophet ﷺ rejected it, declaring the man oft-returning, and behold it was 'Abdullah Dhu al-Bijadayn. > **"Nay, he is oft-returning to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کیا کرتا تھا ، ایک دن آپ رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے نکلے ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے مجھے پکڑ لیا ، ہم دونوں گئے ، ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو نماز پڑھتے ہوئے بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے یہ دکھاوا کرنے والا ہو ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص نماز پڑھ رہا ہے اور بلند آواز میں قرآن پڑھ رہا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پرے کیا اور ارشاد فرمایا : تم ایک دوسرے کے مقابلے میں غلبے کے اظہار کے ذریعے اس معاملے تک نہیں پہنچ پاؤ گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک رات نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، میں آپ کی حفاظت کر رہا تھا آپ کسی کام کے سلسلے میں تشریف لائے تھے ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ، ہم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا ، وہ پڑھتے ہوئے بلند آواز میں تلاوت کر رہا تھا ، میں نے عرض کی : ہو سکتا ہے یہ شخص دکھاوا کرنے والا ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں یہ فرمانبردار شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبداللہ ذو بجادین رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15983

Majma al-Zawaid #15983

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قَبْرِ عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - وَهُوَ يَقُولُ: "" نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمَا "". حَتَّى وَسَّدَهُ فِي لَحْدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, reports that he all but hears the Messenger of Allah ﷺ in the expedition of Tabuk at the grave of 'Abdullah Dhu al-Bijadayn, with Abu Bakr and 'Umar, may Allah have mercy upon them, saying hand me your companion until he settled him in his lahd, then facing the qiblah and declaring he entered the evening pleased with him and asking Allah to be pleased with him. > **"O Allah, I have entered the evening pleased with him, so be pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ، میں نبی اکرم ﷺ کو سن رہا تھا ، آپ حضرت عبداللہ ذو بجادین رضی اللہ عنہ کی قبر میں موجود تھے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے ساتھی کو مجھے پکڑاؤ ! یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اُن کی لحد میں انہیں لٹایا ، جب آپ انہیں دفن کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! میں نے ایسی حالت میں شام کی ہے کہ میں اس سے راضی ہوں ، تو بھی اس سے راضی ہو جا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن احمد عرزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15984

Majma al-Zawaid #15984

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ ضُمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَلَا أَرْقِيكَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "". قَالَ ضُمَامٌ: لَقَدْ قَرَأْتُ الْكُتُبَ، وَالتَّوْرَاةَ، وَالْإِنْجِيلَ، وَالزَّبُورَ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذَا الْكَلَامِ! أَعِدْهُنَّ عَلَيَّ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ. ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ أَسْلَمَ». قُلْتُ: حَدِيثُ ضُمَادٍ - بِالدَّالِ - فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ، وَحَدِيثُ ضُمَامٍ بِالْمِيمِ لَمْ أَجِدْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَذَكَرَهُ بِالْمِيمِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas reports that Dimam ibn Tha'labah came to the Messenger of Allah ﷺ offering to charm him with incantations, and the Messenger of Allah ﷺ replied with the praise of Allah, seeking His aid and refuge, the testimony of guidance and the two testimonies; Dimam, who had read the scriptures, the Torah, the Gospel, and the Psalms, declared he had never heard the like, asked him to repeat it, heard it again, and then embraced Islam. > **"Praise belongs to Allah; we seek His aid and seek refuge with Allah from the evils of our souls and the misdeeds of our works."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ضمام بن ثعلبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا میں آپ کو دم نہ کروں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اپنی ذات کے شر کے حوالے سے اور اپنے اعمال کی خرابیوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ، جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کر دے ، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ رہنے دے ، اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ تو ضمام نے کہا : میں نے کتابیں پڑھی ہیں ، تورات ، انجیل اور زبور پڑھی ہیں ، لیکن میں نے اس طرح کا کلام نہیں سنا ، آپ یہ کلمات میرے سامنے دہرائیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے سامنے یہ کلمات دہرائے ، پھر راوی نے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :” صحیح “ میں ” ضماد ‘‘ نامی فرد سے متعلق روایت مذکور ہے اور ’’ ضمام “ کا لفظ میں نے کسی روایت میں نہیں پایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے فرد کا نام ” ضمام ‘‘ نقل کیا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

15985

Majma al-Zawaid #15985

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَهُوَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ. وَإِنَّمَا سُمِّيَ النَّحَّامَ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «سَمِعْتُ نَحْمَةً فِي الْجَنَّةِ» ". وَالنَّحْمُ: الصَّوْتُ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies the man as Nu'aym ibn 'Abdullah ibn Asad of 'Adi ibn Ka'b, called al-Nahham because the Prophet ﷺ said he heard a soft voice in Paradise, and nahm means a soft sound. > **"I heard a soft voice in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت نعیم رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن اسد بن عبدعوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں ۔ ان کا نام ’’ نحام ‘‘ اس لئے رکھا گیا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جنت میں ’’ نحمہ ‘‘ سنی ہے ۔‘‘ اور لفظ ’’ نحم “ کا مطلب ’’ آواز ‘‘ ہے ۔

15986

Majma al-Zawaid #15986

قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى: وَكَانَ إِسْلَامُهُ قَبْلَ هِجْرَةِ الْحَبَشَةِ، وَقُتِلَ بِأَجْنَادِينَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ.

EnglishUnverified translation

Abu 'Ubaydah Ma'mar ibn al-Muthanna reports that his Islam preceded the migration to Abyssinia and that he was slain at Ajnadayn in the land of Syria. > **"His Islam preceded the migration to Abyssinia, and he was slain at Ajnadayn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں : انہوں نے ہجرت حبشہ سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور یہ شام کی سرزمین پر ’’ اجنادین ‘‘ کے مقام پر شہید ہوئے تھے ۔

15987

Majma al-Zawaid #15987

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهَبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، وَأُمُّهُ عَمْرَةُ بِنْتُ الْأَرْقَمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. كَانَ قَدْ عَمِيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ. وَكَانَ كَاتِبًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies him as 'Abdullah ibn al-Arqam ibn 'Abd Yaghuth of Zuhrah, his mother 'Amrah bint al-Arqam, who lost his sight before his death and served as scribe to the Prophet ﷺ and to Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, and 'Ali, may Allah be pleased with them. > **"He was scribe to the Prophet ﷺ and to Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, and 'Ali."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ بن ارقم بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں ، ان کی والدہ عمرہ بنت ارقم بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ، یہ وفات سے پہلے نابینا ہو گئے تھے ، یہ نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے کتابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں ۔

15989

Majma al-Zawaid #15989

وَعَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابُ رَجُلٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: "" أَجِبْ عَنِّي "". فَكَتَبَ جَوَابَهُ ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ "". فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ كَانَ يُشَاوِرُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُعْضَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Wahid ibn Abi 'Awn reports that a man's letter came to the Prophet ﷺ, who told 'Abdullah ibn al-Arqam to answer on his behalf; he wrote the reply, read it to him, the Prophet ﷺ declared he had hit the mark and done well and supplicated for his success, and 'Umar would consult him when he ruled. > **"You have hit the mark and done well; O Allah, grant him success."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالواحد بن ابوعون بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس کسی شخص کا مکتوب آیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میری طرف سے جواب لکھو ! انہوں نے جواب لکھا ، پھر نبی اکرم ﷺ کو پڑھ کے سنایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک لکھا ہے ، اور اچھا کام کیا ہے ، اے اللہ ! تو اسے توفیق عطا فرما !‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے ، تو وہ اُن سے مشورہ لیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ معضل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15990

Majma al-Zawaid #15990

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: «قَدِمْتُ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَبِسْنَا حُلَلَنَا بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: مَنْ يُمْسِكُ لَنَا رَوَاحِلَنَا؟ فَكُلُّ الْقَوْمِ أَحَبَّ الدُّخُولَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَرِهَ التَّخَلُّفَ عَنْهُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ أَمْسَكْتُ لَكُمْ عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ عَهْدَ اللَّهِ لَتُمْسِكُنَّ لِي إِذَا خَرَجْتُمْ قَالُوا: فَذَلِكَ لَكَ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجُوا، فَقَالُوا: انْطَلَقَ بِنَا، قُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالُوا: إِلَى أَهْلِكَ، فَقُلْتُ: خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي حَتَّى إِذَا حَلَلْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْجِعُ وَلَا أَدْخُلُ عَلَيْهِ وَقَدْ أَعْطَيْتُمُونِي مَا قَدْ عَلِمْتُمْ [مِنَ الْعَهْدِ]؟ قَالُوا: فَاعْجَلْ لَنَا؛ فَإِنَّا قَدْ كَفَيْنَاكَ الْمَسْأَلَةَ فَلَمْ نَدَعْ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْنَاهُ، فَدَخَلْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُفَقِّهَنِي فِي الدِّينِ وَيُعَلِّمَنِي قَالَ: "" مَاذَا قُلْتَ؟ "". فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْقَوْلَ، فَقَالَ: "" لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرٌ عَلَيْهِمْ وَعَلَى مَنْ تَقْدُمُ عَلَيْهِ مَنْ قَوْمِكَ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَيَّادٍ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

'Uthman ibn Abi al-'As reports that he came in the delegation of Thaqif to the Messenger of Allah ﷺ, donned his finery at the Prophet's door, and being the youngest volunteered to hold their mounts on their covenant to hold his turn for him; they entered, asked all they wished, and urged him to return to his family without entering, but he insisted upon his covenant, entered hastily, and asked the Messenger of Allah ﷺ to supplicate that Allah grant him understanding in religion and knowledge. The Prophet ﷺ asked him to repeat his words, marveled that none of his companions had asked him such a thing, and appointed him leader over them and over those of his people he would come to. > **"Go, for you are leader over them and over those of your people you come to."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ’’ ثقیف ‘‘ قبیلے کے وفد میں شامل ہو کر آیا ، جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، ہم نے اپنے لباس نبی اکرم ﷺ کے دروازے کے پاس پہنے ، پھر ان لوگوں نے دریافت کیا : کون ہماری سواریوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ سب لوگوں کو یہ بات پسند تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں ، اور کسی کو بھی پیچھے رہنا پسند نہیں تھا ، تو میں ان لوگوں میں سب سے کمسن تھا ، میں نے کہا : اگر تم لوگ چاہو ، تو میں تمہاری خاطر ان سواریوں کو روک کے رکھتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم مجھے اللہ کے نام کا یہ عہد دو ، کہ جب تم باہر آ جاؤ گے ، تو تم مجھے بھی موقع دو گے ، ان لوگوں نے کہا : تمہیں یہ چیز مل گئی ، پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر وہ لوگ واپس آئے ، تو انہوں نے کہا : چلو ! چلیں ، میں نے دریافت کیا : کہاں ؟ انہوں نے کہا : اپنے گھر ، میں نے کہا : اپنے گھر سے تو نکل کے میں آیا ہوں ، اب میں نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر پہنچا ہوں ، تو آپ سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ؟ تم لوگوں نے مجھے عہد دیا تھا ، جو تم جانتے ہو ان لوگوں نے کہا : اچھا پھر جلدی آ جانا ، کیونکہ ہم نے تمہاری جگہ تمام سوالات دریافت کر لیے ہیں ، کوئی چیز نہیں چھوڑی ، ہر چیز کے بارے میں ہم نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کر لیا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے دین کی سمجھ بوجھ اور دین کا فہم عطا کرے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا ہے ؟ میں نے آپ ﷺ کے سامنے اپنی بات دہرا دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے کسی نے اس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ، تم جاؤ ! تم اُن لوگوں کے امیر ہو اور تمہاری قوم سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد ہو گا ، تم اُس کے امیر ہو گے .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حکیم بن حکیم بن عباد کا معاملہ مختلف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

15991

Majma al-Zawaid #15991

وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى مُخْتَصَرَةٍ قَالَ فِيهَا: «فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ مُصْحَفًا كَانَ عِنْدَهُ فَأَعْطَانِيهِ».

EnglishUnverified translation

In another brief wording he reports that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ, asked him for a copy of the mushaf that was with him, and he gave it to him. > **"I asked him for a copy of the mushaf that was with him, and he gave it to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک اور مختصر روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ سے ایک مصحف مانگ لیا ، جو آپ کے پاس موجود تھا ، تو وہ آپ نے مجھے عطا کر دیا ۔

15992

Majma al-Zawaid #15992

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ كِتَابٌ قَالَ: "" لَأُعْطِيَنَّ هَذَا الْكِتَابَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قُمْ يَا عُثْمَانُ بْنَ أَبِي الْعَاصِ» "". فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْلَى أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah reports that the Messenger of Allah ﷺ stood upon the pulpit with a book, declaring he would give it to a man who loves Allah and His Messenger and whom Allah and His Messenger love, then called 'Uthman ibn Abi al-'As to rise, and handed it to him. > **"Rise, O 'Uthman ibn Abi al-'As."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ کے دست مبارک میں ایک تحریر تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تحریر میں اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اُس سے محبت رکھتے ہیں ، اے عثمان بن ابوالعاص ! تم کھڑے ہو جاؤ ، تو حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے وہ تحریر اُن کے حوالے کر دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یعلیٰ ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15993

Majma al-Zawaid #15993

وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ، وَكَانَ لَهُ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ، فَمُرَّ عَلَيْهِ بِكَبْشٍ، فَقَالَ لِصَاحِبِهِ: بِكَمْ أَخَذْتَهُ؟ فَقَالَ: بِاثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مَعِي اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا اشْتَرَيْتُ بِهَا كَبْشًا، فَضَحَّيْتُ وَأَطْعَمْتُ عِيَالِي، فَلَمَّا قُمْتُ اتَّبَعَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ بِصُرَّةٍ فِيهَا خَمْسُونَ دِرْهَمًا، فَمَا رَأَيْتُ دَرَاهِمَ قَطُّ كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهَا، أَعْطَانِي وَهُوَ لَهَا مُحْتَسِبٌ وَأَنَا إِلَيْهَا مُحْتَاجٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Nadrah reports that he visited 'Uthman ibn Abi al-'As during the ten days when he had set aside a house for hadith, watched a ram priced at twelve dirhams pass by, wished aloud he had twelve dirhams to sacrifice and feed his family, and upon leaving found the messenger of 'Uthman following him with a purse of fifty dirhams, the most blessed coins he ever saw, given in devotion by one who could spare and received in need by one who needed. > **"I never saw coins of greater blessing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں ، حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ، دس دنوں میں حاضر ہوا ( شاید اس سے مراد یہ ہے کہ ذوالحج کے پہلے عشرے میں حاضر ہوا ) اُن کا ایک کمرہ تھا ، جسے انہوں نے بات چیت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا ، ایک دنبہ ان کے پاس سے گزرا ، انہوں نے دنبے کے مالک سے دریافت کیا : تم نے یہ کتنے کے عوض میں خریدا ہے ؟ اس نے بتایا : بارہ درہم کے عوض میں ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اگر میرے پاس بارہ درہم ہوتے ، تو میں نے اس کے عوض میں دنبہ خرید لینا تھا اور قربانی کر لینی تھی ، اور اپنے گھر والوں کو کھانا کھلانا تھا ، جب میں ان کے پاس سے اٹھا تو میرے پیچھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد ایک تھیلی لے کے آیا جس میں پچاس درہم موجود تھے میں نے ان سے زیادہ برکت والے درہم کبھی نہیں دیکھے ، انہوں نے وہ مجھے دیدیے اور وہ اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتے تھے اور مجھے ان کی ضرورت تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15994

Majma al-Zawaid #15994

عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ قَالَ: بَيْنَمَا عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ يُكَلِّمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ عَامِلًا، فَأَغْضَبُهُ فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَبْضَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَرَجَمَهُ بِهَا، فَأَصَابَ حَجْرٌ مِنْهَا جَبِينَهُ فَشَجَّهُ، فَسَالَ الدَّمُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَكَأَنَّهُ نَدِمَ فَقَالَ: امْسَحِ الدَّمَ عَنْ لِحْيَتِكَ، فَقَالَ: لَا يَهُولَنَّكَ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ لَمَا انْتَهَكْتُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ أَشَدُّ مِمَّا انْتَهَكْتَ مِنِّي. قَالَ: فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَ عُمَرَ ذَلِكَ مِنْهُ وَزَادَهُ خَيْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Nawfal ibn Musahiq reports that while 'Uthman ibn Hunayf, a governor, spoke with 'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, he angered him, so 'Umar seized a handful of gravel and pelted him, a stone cutting his forehead and drawing blood over his beard; 'Umar seemed to regret it and told him to wipe the blood, but 'Uthman replied he should not be alarmed, for what he had suffered from those entrusted to him was harsher, and 'Umar was pleased with him and increased him in good. > **"By Allah, what I have suffered from those you entrusted to me is harsher than what you have inflicted upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نوفل بن مساحق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ سرکاری اہلکار تھے ان کی کسی بات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمین سے مٹھی بھر کنکریاں اُٹھائیں اور وہ ان کو ماریں تو ان میں سے ایک پتھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر لگا اور وہاں سے خون نکل آیا اور نکل کر ان کی داڑھی پر بہہ گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر ندامت ہوئی ، انہوں نے کہا : تم اپنی داڑھی سے خون پونچھ لو ! تو حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیرالمومنین ! یہ چیز آپ کو پریشانی کا شکار نہ کرے ، اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے جن لوگوں کے امور کا نگران بنایا تھا ، میں نے ان کے ساتھ اس سے زیادہ سختی کی تھی ، جتنی آپ نے میرے ساتھ کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ بات پسند آئی اور ان کی بھلائی میں اضافہ ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نوفل بن مساحق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15995

Majma al-Zawaid #15995

«عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي، ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ ذَكَرَكَ [آنِفًا] بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ، فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ: "" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ - أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ - رَجُلٌ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، أَلَا إِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ "". قَالَ جَرِيرٌ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا، رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir reports that as he neared Madinah he couched his camel, opened his baggage, donned his fine clothes, and entered to find the Messenger of Allah ﷺ preaching while the people stared at him; his neighbor told him the Prophet ﷺ had just mentioned him in the finest terms, announcing that there would enter upon them through that door a man of the best of Dhu Yaman with the touch of an angel upon his face, and Jarir praised Allah for His favor. > **"There shall enter upon you through this door a man of the best of Dhu Yaman; upon his face is the touch of an angel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا ، تو میں نے اپنی سواری کو باندھ دیا ، پھر میں نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا عمدہ لباس پہنا ، پھر میں ( مسجد میں ) داخل ہوا ، تو اس وقت نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، لوگ غور سے میری طرف دیکھنے لگے ، میں نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے دریافت کیا : اے اللہ کے بندے ! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرا ذکر کیا ہے ؟ اس نے بتایا : جی ہاں ! ابھی تھوڑی دیر پہلے عمدہ طریقے سے آپ کا ذکر کیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : ’’ اس دروازے سے تمہارے سامنے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس راستے سے تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا ، جو یمن کے لوگوں میں سب سے بہتر ہو گا ، یاد رکھنا ! اُس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔‘‘ حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی کہ اس نے مجھے یہ چیز عطا کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ ، ان دونوں کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مغیرہ بن شبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15996

Majma al-Zawaid #15996

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَطْلَعُ عَلَيْكُمْ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ "". فَطَلَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas reports that the Messenger of Allah ﷺ said the best of Dhu Yaman, bearing the touch of an angel, would appear before them, and Jarir ibn 'Abdullah appeared. > **"The best of Dhu Yaman shall appear before you, bearing the touch of an angel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے سامنے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، جس پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15997

Majma al-Zawaid #15997

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا يَوْمًا قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَكْثَرُهُمْ مِنَ الْيَمَنِ، إِذْ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الثَّنِيَّةِ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ "". فَبَقِيَ الْقَوْمُ كُلُّ رَجُلٍ يَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَإِذَا هُمْ بِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ طَلَعَ مِنَ الثَّنِيَّةِ، فَجَاءَ حَتَّى سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى أَصْحَابِهِ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمُ السَّلَامَ، ثُمَّ بَسَطَ عَرْضَ رِدَائِهِ وَقَالَ لَهُ: "" عَلَى هَذَا يَا جَرِيرُ فَاقْعُدْ "". فَقَعَدَ مَعَهُمْ مَلِيًّا ثُمَّ قَامَ فَانْصَرَفَ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَقَدْ رَأَيْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ مَنْظَرًا لِجَرِيرٍ مَا رَأَيْنَاهُ لِأَحَدٍ قَالَ: "" نَعَمْ؛ هَذَا كِرِيمُ قَوْمِهِ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Damrah reports that while he sat with the Prophet ﷺ among many Companions, mostly of Yaman, the Prophet ﷺ announced that the best of Dhu Yaman would appear through that pass; each man hoped he would be of his household, then Jarir ibn 'Abdullah appeared, greeted the Prophet ﷺ and his Companions, was greeted by all, was bidden to sit upon the breadth of the Prophet's cloak, sat a while then departed, and when the Companions marveled at the honor shown him the Prophet ﷺ explained that he is the noble of his people and the noble of a people is to be honored when he comes. > **"When the noble of a people comes to you, honor him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ضمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا ، ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق یمن سے تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے ارشاد فرمایا : تمہارے سامنے اس گھاٹی سے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، تو تمام لوگ یہ توقع رکھنے لگے کہ شاید اس کے گھرانے کا کوئی فرد آ جائے ، تو اسی دوران گھاٹی سے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے ، وہ آگے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو سلام کیا ، ان سب لوگوں نے سلام کا جواب دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر کو بچھایا اور ان سے فرمایا : اے جریر ! اس پر بیٹھ جاؤ ، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کچھ دیر بیٹھے رہے ، پھر وہ اُٹھے اور واپس چلے گئے ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے عرض کی : ہم نے جریر کے لئے آپ کی طرف سے ایک ایسی صورت حال دیکھی ہے ، جو ہم نے کسی کے لئے نہیں دیکھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! یہ اپنی قوم کا معزز فرد ہے اور جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز فرد آئے ، تو تم اُس کی عزت افزائی کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15998

Majma al-Zawaid #15998

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَأْتِيكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ خَيْرُ ذِي يَمَنٍ، عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ "". قَالَ: فَمَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا يَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مِنْهُ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَاكِبٌ، فَانْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَبَايَعَهُ وَهَاجَرَ. قَالَ: "" مَنْ أَنْتَ؟ "". قَالَ: أَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَنْبِهِ، وَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَصَدْرِهِ وَبَطْنِهِ، حَتَّى انْحَنَى جَرِيرٌ حَيَاءً أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ تَحْتَ إِزَارِهِ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَلِذُرِّيَّتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظَهْرَهُ وَهُوَ يَدْعُو لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' ibn 'Azib reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ announce that the best of Dhu Yaman would come through that pass with the touch of an angel upon his face; every man wished it were of his kin, then a rider appeared, dismounted, took the Prophet ﷺ by the hand, greeted him, pledged allegiance, and emigrated. Asked who he was, he said Jarir ibn 'Abdullah al-Bajali, and the Messenger of Allah ﷺ seated him beside him, wiped his head, face, chest, and belly until Jarir bent in modesty, supplicated blessings for him and his progeny, then wiped his head and back likewise in supplication. > **"Who are you?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اس راستے سے تمہارے سامنے یمن کا بہترین فرد آئے گا ، اس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہو گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ہر فرد یہ آرزو کرنے لگا کہ آنے والا شخص اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو ، اسی دوران ایک سوار ان کے پاس آیا جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا تو وہ اپنی سواری سے اترا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کے ساتھ مصافحہ کیا ، اس سے بیعت لی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : میں جریر بن عبداللہ بجلی ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر ، ان کے چہرے اور ان کے سینے اور ان کے پیٹ پر پھیرا ، یہاں تک کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ شرم کی وجہ سے آگے کی طرف جھک گئے ، انہیں یہ لگا کہ شاید نبی اکرم ﷺ تہبند کے نیچے اپنا ہاتھ داخل کریں گے ، نبی اکرم ﷺ اس دوران ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے برکت کی دعا کرتے رہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے سر اور پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لئے دعا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15999

Majma al-Zawaid #15999

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَبَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاشْتَرَطَ عَلَيَّ: "" وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "". فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ: فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ: "" وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِطُرُقٍ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir reports that he came to the Prophet ﷺ offering allegiance upon emigration, and the Messenger of Allah ﷺ pledged him stipulating sincerity to every Muslim, which Jarir accepted. > **"And sincerity to every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہجرت پر آپ کی بیعت کروں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے بیعت لی اور مجھ پر یہ شرط لی کہ ہر مسلمان کی خیرخواہی بھی کرنی ہے ، تو میں نے اس بات پر بھی آپ کی بیعت کر لی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16000

Majma al-Zawaid #16000

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «جَرِيرٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ "". قَالَهَا ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَسُلَيْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ali ibn Abi Talib reports that the Messenger of Allah ﷺ said Jarir is of us, of the household, through and through, repeating it three times. > **"Jarir is of us, Ahl al-Bayt, through and through."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جریر ، ہم اہل بیت میں سے ہے ، جیسے باطن کے لئے ظاہر ہوتا ہے ( یا پیٹ کے لئے پشت ہوتی ہے ) ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوبکر بن حفص نامی راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، سلیمان بن ابراہیم بن جریر نامی راوی کو ثقہ قرار دیتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16001

Majma al-Zawaid #16001

«- وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: كَانَتْ إِذَا قَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوُفُودُ دَعَانِي، فَبَاهَاهُمْ بِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Jarir reports that whenever delegations came to the Messenger of Allah ﷺ he would summon him and boast of him before them. > **"Whenever delegations came to the Messenger of Allah ﷺ, he would summon me and boast of me before them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وفود نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ ﷺ مجھے بلاتے تھے اور میرے حوالے سے ، آپ ﷺ اُن کے سامنے فخر کا اظہار کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن عمرو اموی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

16002

Majma al-Zawaid #16002

وَعَنِ ابْنٍ لِجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ نَعْلُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ طُولُهَا ذِرَاعٌ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَابْنُ جَرِيرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A son of Jarir ibn 'Abdullah reports that the sandal of Jarir ibn 'Abdullah was a cubit in length. > **"The sandal of Jarir ibn 'Abdullah was a cubit in length."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے جوتے کا سائز ایک ’’ ذراع ‘‘ تھا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے میں واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

16003

Majma al-Zawaid #16003

وَعَنْ سُلَيْمٍ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: كُنْتُ رَفَّاءً عَلَى بَابِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَانَ يَخْرُجُ فَيَرْكَبُ بَغْلَةً لَهُ وَيَحْمِلُ غُلَامَهُ خَلْفَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسُلَيْمٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaym Abu al-Hudhayl reports that he was a groom at the door of Jarir ibn 'Abdullah, who would come out, mount his mule, and carry his servant behind him. > **"He would mount his mule and carry his servant behind him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم ابوہذیل بیان کرتے ہیں : میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دربان تھا ، وہ نکلے ، اپنے خچر پر سوار ہوئے اور انہوں نے اپنے غلام کو اپنے پیچھے سوار کروا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے سلیم نامی راوی اور محمد بن منصور کلبی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16004

Majma al-Zawaid #16004

عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي مُلْكٍ عَظِيمٍ وَطَاعَةٍ، فَرَفَضْتُهُ وَخَرَجْتُ رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَدْ بَشَّرَهُمْ بِقُدُومِي، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ وَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَهُ وَأَقْعَدَنِي مَعَهُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّينَ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَدْ أَتَاكُمْ مِنْ أَرْضٍ بَعِيدَةٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ، رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَفِي دِينِهِ، بَقِيَّةُ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ بَلَغَنَا ظُهُورُكَ، وَنَحْنُ فِي مُلْكٍ عَظِيمٍ وَطَاعَةٍ عَظِيمَةٍ، فَأَتَيْتُكَ رَاغِبًا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَفِي دِينِهِ. قَالَ: "" صَدَقْتَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wa'il ibn Hujr reports that when the emergence of the Messenger of Allah ﷺ reached them while they lived in great dominion and obedience, he renounced it and came desiring Allah and His Messenger; the Prophet ﷺ had already announced his coming, greeted him, spread his cloak for him, seated him with himself upon the pulpit, praised Allah and blessed the Prophets, and announced to the people that Wa'il ibn Hujr had come from distant Hadramawt obedient and uncoerced, desiring Allah, His Messenger, and his religion, a remnant of the sons of kings, and Wa'il affirmed his account as truth. > **"O people, this is Wa'il ibn Hujr who has come to you from a distant land, obedient and uncoerced, a remnant of the sons of kings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں نبی اکرم ﷺ کے ظہور کی اطلاع ملی ، ہم اس وقت ایک بڑی حکومت میں تھے اور ہماری اطاعت کی جاتی تھی ، لیکن میں نے اسے پرے کیا ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رغبت رکھتے ہوئے نکل کھڑا ہوا ، جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام کو میری آمد کے بارے میں خوشخبری دے چکے تھے ، جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ، آپ نے میرے لیے اپنی چادر کو بچھایا اور مجھے اس پر بٹھایا ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، پھر آپ نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا ، پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، انبیاء کرام پر درود بھیجا ، لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو ! یہ وائل بن حجر ہے ، یہ ’’ حضرموت ‘‘ کے دور دراز کے علاقے سے تمہارے پاس اپنی خوشی سے آیا ہے زبردستی نہیں آیا ، یہ اللہ اور اس کے رسول میں رغبت رکھتا ہے ، اور اللہ کے دین میں رغبت رکھتا ہے ، یہ بادشاہوں کی اولاد میں سے ہے ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے ظہور کی اطلاع مل گئی تھی ، ہم اس وقت حکومت میں تھے اور ہماری بڑی فرمانبرداری ہوتی تھی ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول کے دین میں رغبت رکھتے ہوئے آپ کے پاس آیا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم نے سچ کہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16005

Majma al-Zawaid #16005

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ جَاءَكُمْ لَمْ يَجِئْكُمْ رَغْبَةً وَلَا رَهْبَةً، جَاءَكُمْ حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ "". وَبَسَطَ لَهُ رِدَاءَهُ وَأَجْلَسَهُ إِلَى جَنْبِهِ وَضَمَّهُ إِلَيْهِ، وَأَصْعَدَهُ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: "" ارْفُقُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْمُلْكِ "". فَقَالَ: إِنَّ أَهْلِي غَلَبُونِي عَلَى الَّذِي لِي قَالَ: "" أَنَا أُعْطِيكَهُ وَأُعْطِيكَ ضِعْفَهُ "". فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا وَائِلُ بْنَ حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ عَمَّتِهَا: أُمِّ يَحْيَى بِنْتِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wa'il ibn Hujr reports that he came to the Prophet ﷺ, who announced that Wa'il had come not from desire nor fear but from love of Allah and His Messenger, spread his cloak for him, seated him beside himself, embraced him, raised him to the pulpit, and bade the people be gentle with him as one newly removed from kingship; when Wa'il complained his family had overpowered him in his property, the Prophet ﷺ promised to grant it and its double, and instructed him that in prayer a man places his hands level with his ears and a woman level with her breasts. > **"Be gentle with him, for he is newly removed from kingship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ وائل بن حجر ہے ، جو تمہارے پاس آیا ہے ، یہ کسی ( دنیاوی ) رغبت یا خوف کی وجہ سے تمہارے پاس نہیں آیا ہے ، یہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے تمہارے پاس آیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور انہیں اپنے پہلو میں بٹھایا اور انہیں اپنے ساتھ لگا لیا ، پھر آپ نے انہیں منبر پر بٹھایا پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ نرمی سے کام لو ! کیونکہ اس کی حکومت کا زمانہ قریب ہے ، انہوں نے عرض کی : میرے رشتہ دار میرے حق کے حوالے سے مجھ پر غالب آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ میں تمہیں دیدوں گا اور تمہیں اس کا دگنا دوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے وائل بن حجر ! جب تم نماز پڑھو ، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے مدمقابل رکھو اور عورت اپنے ہاتھ چھاتی کے مد مقابل رکھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیحین ‘‘ میں ان صحابی کے حوالے سے رفع یدین کے بارے میں حدیث مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے میمونہ بنت حجر بن عبدالجبار کے حوالے سے اس خاتون کی پھوپھی ام یحیی بنت عبدالجبار سے نقل کی ہے اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

16006

Majma al-Zawaid #16006

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «لَمَّا بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجْتُ وَافِدًا عَنْ قَوْمِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أَصْحَابَهُ قَبْلَ لِقَائِهِ، فَقَالُوا: بَشَّرَنَا بِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدَمَ عَلَيْنَا بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ: "" قَدْ جَاءَكُمْ وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ "". ثُمَّ لَقِيتُهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَرَحَّبَ بِي، وَأَدْنَى مَجْلِسِي وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ فَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ دَعَا فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ الْمِنْبَرَ وَأَطْلَعَنِي مَعَهُ وَأَنَا دُونَهُ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ أَتَاكُمْ مِنْ بِلَادٍ بَعِيدَةٍ مِنْ بِلَادِ حَضْرَمَوْتَ، طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ، بَقِيَّةُ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا حَجَرُ وَفِي وَلَدِكَ "". ثُمَّ نَزَلَ وَأَنْزَلَنِي مَنْزِلًا شَاسِعًا عَنِ الْمَدِينَةِ، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ يُبَوِّئَنِي إِيَّاهُ، فَخَرَجْتُ وَخَرَجَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ: يَا وَائِلُ، إِنَّ الرَّمْضَاءَ قَدْ أَصَابَتْ بَطْنَ قَدَمِي فَأَرْدِفْنِي خَلْفَكَ، فَقُلْتُ: مَا أَضِنُّ عَلَيْكَ بِهَذِهِ النَّاقَةِ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ قَالَ: فَأَلْقِ إِلَيَّ حِذَاءَكَ أَتَوَقَّى بِهِ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ، قُلْتُ: مَا أَضِنُّ عَلَيْكَ بِهَاتَيْنِ الْجِلْدَتَيْنِ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِمَّنْ يَلْبَسُ لِبَاسَ الْمُلُوكِ وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ. فَلَمَّا أَرَدْتُ الرُّجُوعَ إِلَى قَوْمِي أَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكُتُبٍ ثَلَاثَةٍ: مِنْهَا كِتَابٌ لِي خَالِصٌ يُفَضِّلُنِي فِيهِ عَلَى قَوْمِي، وَكِتَابٌ لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي بِأَمْوَالِنَا هُنَاكَ، وَكِتَابٌ لِي وَلِقَوْمِي. وَفِي كِتَابِي الْخَالِصِ: "" بِسْمِ اللَّهِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنَّ وَائِلًا يُسْتَسْقَى وَيُتَرَفَّلُ عَلَى الْأَقْيَالِ حَيْثُ كَانُوا مِنْ حَضْرَمَوْتَ "". وَفِي كِتَابِيِ الَّذِي لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ لِأَبْنَاءِ مَعْشَرٍ وَأَبْنَاءِ ضَمَعَاجٍ أَقْيَالِ شَنُوءَةَ، بِمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مَنْ مُلُوكٍ وَمَزَاهِرَ وَعُمْرَانُ بَحْرٍ وَمِلْحٍ وَمَحْجَرٍ، وَمَا كَانَ لَهُمْ مَنْ مَالٍ اتَّرَثُوهُ [وَمَاءٍ يَنَابَعَتْ] وَمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مِنْ مَالٍ بِحَضْرَمَوْتَ أَعْلَاهَا وَأَسْفَلِهَا، مِنِّي الذِّمَّةُ وَالْجِوَارُ، اللَّهُ لَهُمْ جَارٌ، وَالْمُؤْمِنُونَ عَلَى ذَلِكَ أَنْصَارٌ "". وَفِي الْكِتَابِ الَّذِي لِي وَلِقَوْمِي: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَالْأَقْوَالِ الْعَيَاهِلَةِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، بِإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ مِنَ الصِّرْمَةِ التِّيعَةِ وَلِصَاحِبِهَا الْثِّيمَةُ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ وَلَا وِرَاطَ فِي الْإِسْلَامِ. لِكُلِّ عَشْرَةٍ مِنَ السَّرَايَا مَا يَحْمِلُ الْقِرَابُ مِنَ التَّمْرِ، مَنْ أَحْيَا فَقَدْ أَرْبَى، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "". فَلَمَّا مَلَكَ مُعَاوِيَةُ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ، فَقَالَ لَهُ: ضَمَمْتُ إِلَيْكَ النَّاحِيَةَ فَاخْرُجْ بِجَيْشِكَ، فَإِذَا خَلَّفْتَ أَفْوَاهَ الشَّامِ فَضَعْ سَيْفَكَ، فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي حَتَّى تَصِيرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ ادْخُلِ الْمَدِينَةَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي، وَإِنْ أَصَبْتَ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ حَيًّا فَائْتِنِي بِهِ، فَفَعَلَ وَأَصَابَ وَائِلًا حَيًّا فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُتَلَقَّى، وَأَذِنَ لَهُ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَسَرِيرِي هَذَا أَفْضَلُ أَمْ ظَهْرُ نَاقَتِكَ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَكُفْرٍ، وَكَانَتْ تِلْكَ سِيرَةَ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَدْ أَتَانَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ فَسَتَرَ الْإِسْلَامُ مَا فَعَلْتُ. قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ مِنْ نَصْرِنَا وَقَدْ اتَّخَذَكَ عُثْمَانُ ثِقَةً وَصِهْرًا؟ قُلْتُ: إِنَّكَ قَاتَلْتَ رَجُلًا هُوَ أَحَقُّ بِعُثْمَانَ مِنْكَ قَالَ: وَكَيْفَ يَكُونُ أَحَقَّ بِعُثْمَانَ مِنِّي وَأَنَا أَقْرَبُ إِلَى عُثْمَانَ فِي النَّسَبِ؟ قُلْتُ: إِنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ؛ فَالْأَخُ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ، وَلَسْتُ أُقَاتِلُ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ: أَوَلَسْنَا مُهَاجِرِينَ؟ قُلْتُ: أَوَلَسْنَا قَدِ اعْتَزَلْنَاكُمَا جَمِيعًا؟ وَحُجَّةٌ أُخْرَى: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَقَدْ حَضَرَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ، ثُمَّ رَدَّ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، فَقَالَ: "" أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ "". فَشَدَّدَ أَمْرَهَا وَعَجَّلَهُ وَقَبَّحَهُ، فَقُلْتُ لَهُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفِتَنُ؟ قَالَ: "" يَا وَائِلُ، إِذَا اخْتَلَفَ سَيْفَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَاعْتَزِلْهُمَا "". فَقَالَ: أَصْبَحْتَ شِيعِيًّا؟ فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنِّي أَصْبَحْتُ نَاصِحًا لِلْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ سَمِعْتُ ذَا وَعَلِمْتُهُ مَا أَقْدَمْتُكَ، قُلْتُ: أَوَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عِنْدَ مَقْتَلِ عُثْمَانَ؟ انْتَهَى بِسَيْفِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَضَرَبَهُ حَتَّى انْكَسَرَ، فَقَالَ: أُولَئِكَ قَوْمٌ يَحْمِلُونَ [عَلَيْنَا]. قُلْتُ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ ""؟. فَقَالَ: اخْتَرْ أَيَّ الْبِلَادِ شِئْتَ؛ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِرَاجِعٍ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، فَقُلْتُ: عَشِيرَتِي بِالشَّامِ وَأَهْلُ بَيْتِي بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ عَشَرَةٍ مِنْ عَشِيرَتِكَ، فَقُلْتُ: مَا رَجَعْتُ إِلَى حَضْرَمَوْتَ سُرُورًا بِهَا، وَمَا يَنْبَغِي لِلْمُهَاجِرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهُ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ قَالَ: وَمَا عِلَّتُكَ؟ قُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتَنِ، فَحَيْثُ اخْتَلَفْتُمِ اعْتَزَلْنَاكُمْ، وَحَيْثُ اجْتَمَعْتُمْ جِئْنَاكُمْ، فَهَذِهِ الْعِلَّةُ. فَقَالَ: إِنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ فَسِرْ إِلَيْهَا، فَقُلْتُ: مَا أَلِي بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَحَدٍ أَمَا رَأَيْتَ أَبَا بَكْرٍ أَرَادَنِي فَأَبَيْتُ؟ وَأَرَادَنِي عُمَرُ فَأَبَيْتُ، وَأَرَادَنِي عُثْمَانُ فَأَبَيْتُ، وَلَمْ أَتْرُكْ بَيْعَتَهُمْ. [قَدْ] جَاءَنِي كِتَابُ أَبِي بَكْرٍ حَيْثُ ارْتَدَّ أَهْلُ نَاحِيَتِنَا، فَقُمْتُ فِيهِمْ حَتَّى رَدَّهُمُ اللَّهُ إِلَى الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أُمِّ الْحَكَمِ، فَقَالَ: سِرْ فَقَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ، وَسِرْ بِوَائِلٍ فَأَكْرِمْهُ وَاقْضِ حَوَائِجَهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسَأْتَ بِي الظَّنَّ؛ تَأْمُرُنِي بِإِكْرَامِ مَنْ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْرَمَهُ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَأَنْتَ؟ فَسُرَّ مُعَاوِيَةُ بِذَلِكَ مِنْهُ، فَقَدِمْتُ مَعَهُ الْكُوفَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ: الْوِرَاطُ: الْقِمَارُ. وَالْأَقْوَالُ: الْمُلُوكُ. وَالْعَيَاهِلُ: الْعُظَمَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wa'il ibn Hujr reports that he went as his people's delegate to Madinah, the Companions told him the Messenger of Allah ﷺ had announced his coming three days prior, the Prophet ﷺ welcomed him, drew his seat near, spread his cloak, gathered the people, ascended the pulpit with Wa'il below him, praised Allah, and announced him as the obedient remnant of kings from Hadramawt with blessings upon him and his father. He lodged him far from Madinah under Mu'awiyah ibn Abi Sufyan's charge, and on the way Mu'awiyah asked to ride behind him and to borrow his sandals against the scorching ground, but Wa'il refused both lest he be reproached for demeaning royal dignity. Before returning, the Prophet ﷺ granted him three letters: one distinguishing him above his people, one securing his household's properties, and one for him and his people enjoining prayer, zakah with its detailed dues, and forbidding false claims and treachery in Islam, with stated shares and the prohibition of intoxicants. Years later Mu'awiyah's commander Busr ibn Abi Artah seized him alive and brought him to Mu'awiyah, who honored him, debated him over 'Uthman, 'Ali, and withdrawal from the strife citing the Prophet's command to withdraw when two swords differ in Islam, and Wa'il refused governorship of Kufah after the Prophet ﷺ, as he had refused Abu Bakr, 'Umar, and 'Uthman, asking only to join the united body and withdraw from their differences. > **"O Wa'il, when two swords differ in Islam, withdraw from them both."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہمیں نبی اکرم ﷺ کے ظہور کی اطلاع ملی ، تو میں اپنی قوم کی طرف سے نمائندے کے طور پر روانہ ہوا ، یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آیا ، میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہونے سے پہلے آپ کے اصحاب سے ہوئی ، تو ان لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں آپ کے بارے میں خوشخبری سنائی ہے ، اس سے پہلے کہ آپ آئیں ، آپ کے آنے سے تین دن پہلے ، آپ ﷺ نے ہمیں خوشخبری سنائی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وائل بن حجر تمہارے پاس آنے والا ہے پھر میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، تو آپ نے مجھے خوش آمدید کہا ، آپ نے میرے لئے اپنی چادر بچھائی اور اس پر مجھے بٹھایا پھر آپ نے لوگوں کو بلوایا لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے پھر نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے مجھے بھی منبر پر بٹھایا ، میں آپ کے نیچے والے درجے پر بیٹھا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! یہ وائل بن حجر ہے ، یہ ’’ حضرموت ‘‘ کے علاقوں میں سے دور دراز کے علاقوں سے تمہارے پاس آیا ہے اور اپنی رضامندی سے آیا ہے ، زبردستی نہیں آیا ، یہ بادشاہوں کے خاندان سے ہے ، اے وائل ! اللہ تعالیٰ تم میں ، اور تمہاری اولاد میں برکت نصیب کرے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اتر آئے ، آپ نے مجھے ٹھہرنے کے لئے ایک ایسی رہائش گاہ فراہم کی جو مدینہ منورہ سے دور تھی ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اس رہائش گاہ تک پہنچا دیں ، میں وہاں سے نکلا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی میرے ساتھ نکلے ، راستے میں کسی جگہ پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے وائل ! گرم ریت میرے پاس پاؤں کو نقصان پہنچا رہی ہے آپ مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ، میں نے کہا : میں آپ کو اس اونٹنی پر ضرور بٹھا لیتا ، لیکن آپ کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ بادشاہوں کے پیچھے بیٹھیں اور مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ آپ کے حوالے سے مجھے عار دلائی جائے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ اپنا جوتا مجھے دے دیں ، میں اس کے ذریعے دھوپ کی تپش سے بچ جاؤں گا ، میں نے کہا : میں چمڑے کے ان دو ٹکڑوں کے حوالے سے کنجوسی نہیں کرتا ، لیکن آپ اُن افراد میں سے ایک نہیں ہیں ، جو بادشاہوں کی طرح کا لباس پہنیں ، مجھے یہ بات ناگوار ہے کہ مجھے آپ کے حوالے سے عار دلائی جائے ۔ راوی کہتے ہیں : جب میں اپنی قوم کی طرف واپس گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے تین قسم کے مکتوبات دیے ، اُن میں سے ایک خالص میرے لئے تھا ، جس میں مجھے ، میری قوم پر فضیلت دی گئی تھی ، ایک میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے تھا ، جو یہاں موجود میرے اموال کے بارے میں تھا اور ایک مکتوب میری قوم کے لئے تھا ۔ جو مکتوب خاص میرے لئے تھا اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے مہاجر بن ابوامیہ کے نام ہے وائل کو حضرموت کے معززین سے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا گیا ہے ۔‘‘ جو مکتوب میرے لئے اور میرے اہل خانہ کے لئے تھا اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے مہاجر بن ابوامیہ کے نام ہے ، جو اس گروہ کے بیٹوں اور شنوہ کے معززین کے بیٹوں کے لیے ہے کہ وہاں ان کی جو بھی ملکیتی ( زمین ) اور کھیتی باڑی ہے اور زمینیں اور جگہیں ہیں ، اور دریا ( یا پانی ) اور نمک اور بستیوں کے نواحی علاقے ہیں ، اور جو بھی مال ہے جو انہیں وراثت میں ملا ہے ، وہ سب میری طرف سے ذمہ میں ہیں اور پناہ میں ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن کا محافظ ہے اور اہل ایمان اس بارے میں مددگار ہیں ۔‘‘ جو مکتوب میرے لئے اور میری قوم کے لئے تھا ، اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے وائل بن حجر اور حضرموت کے اکبرین اور معززین کے نام ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ، زکوۃ دیں گے ، جو اونٹوں اور بکریوں میں سے دی جائے گی ، اور ان کے مالکان پر مخصوص نصاب ( میں زکوۃ لازم ہو گی ) اسلام میں جلب ، جنب ، شغار اور ’’ وراط ‘‘ ( زکوۃ سے بچنے کے لیے جانور چھپانے ) کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، جنگی مہمات میں سے ہر دس افراد کے لیے اتنی کھجوریں دی جائیں گی جو تھیلی میں آ جائیں ، جو شخص پھل کے پکنے سے پہلے اس کو فروخت کرے گا تو یہ ممنوع ہو گا ، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حکمران بن گئے تو انہوں نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا ، جس کا نام بسر بن ابوارطاۃ تھا ، انہوں نے اس سے کہا : تم اطراف کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لو اور اپنے لشکر کو لے کے نکلو ، اور جب تم شام کی حدود سے باہر نکل جاؤ تو اپنی تلوار اٹھا لینا اور جو شخص میری بیعت کا انکار کرے ، اسے قتل کر دینا ، یہاں تک کہ تم مدینہ منورہ پہنچ جاؤ ، پھر مدینہ میں داخل ہو جانا اور جو شخص میری بیعت کا انکار کرے اسے قتل کر دینا اور اگر تمہیں وائل بن حجر زندہ مل گیا ، تو اسے میرے پاس لے کر آنا ، اس شخص نے ایسا ہی کیا ، اسے حضرت وائل رضی اللہ عنہ زندہ مل گئے ، وہ انہیں ساتھ لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ان کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا گیا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، اور اپنے ساتھ اپنے پلنگ پر بٹھایا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ دریافت کیا : کیا میرا یہ پلنگ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، یا آپ کی اونٹنی کی پشت زیادہ فضیلت رکھتی تھی ؟ میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! میں زمانہ جاہلیت اور زمانہ کفر کے قریب تھا اور زمانہ جاہلیت کا یہی معمول تھا ، اب اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی دولت سے نواز چکا ہے ، اور اسلام نے میری اس چیز کی پردہ پوشی کر لی ہے جو میں نے کیا تھا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا وجہ ہے آپ نے ہماری مدد کیوں نہیں کی ؟ جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنا قابل اعتماد ساتھی اور رشتے دار بھی بنا لیا تھا ، میں نے کہا : آپ اُس شخص کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ، جو آپ کی بہ نسبت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زیادہ قریب ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیسے مجھ سے زیادہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حق دار ہو سکتا ہے ؟ جبکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبی اعتبار سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہوں ، میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، تو بھائی ، چچا زاد کی بہ نسبت زیادہ قریبی ہوتا ہے ، اور میں مہاجرین کے ساتھ لڑائی نہیں کر سکتا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہم لوگ مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ تو میں نے کہا : کیا ہم نے آپ دونوں گروہوں سے علیحدگی اختیار نہیں کی ہے ، پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اُٹھا کے مشرق کی طرف دیکھا ، اس وقت بہت سے لوگ آپ کے پاس موجود تھے ، پھر آپ نے اپنی نگاہ واپس کی اور فرمایا : تم لوگوں کے پاس تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے آئیں گے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس معاملے کی اہمیت اس کے جلدی آنے اور اس کے قبیح ہونے کو بیان کیا ، حاضرین میں سے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! فتنوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے وائل ! جب اسلام میں دو تلواریں ایک دوسرے کے مدمقابل ہو جائیں ، تو تم ان دونوں سے الگ ہو جانا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ ایک الگ گروہ ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا : جی نہیں ! لیکن میں مسلمانوں کا خیرخواہ ہوں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر آپ نے یہ بات سنی ہے اور آپ اس بات کا علم رکھتے ہیں ، تو پھر آپ آئے کیوں ہیں ؟ میں نے کہا : کیا آپ نے وہ چیز ملاحظہ نہیں کی ہے ؟ جو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں کیا تھا ، وہ اپنی تلوار لے کر چٹان کے پاس گئے اور انہوں نے اپنی تلوار چٹان پر مار کر اسے توڑ دیا تھا اور یہ کہا تھا : یہ لوگ ہم پر حملہ آور ہوں گے ( یا یہ لوگ ہم پر بوجھ لادنا چاہتے ہیں ) ۔ میں نے کہا : پھر میں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا کیا کروں گا ؟ ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھتا ہے ، تو وہ میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اُن سے محبت رکھتا ہے اور جو شخص انصار سے بغض رکھتا ہے ، وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے اُن کے ساتھ بغض رکھتا ہے ۔‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ جو شہر چاہیں ، اپنے لئے پسند کر لیں کیونکہ اب آپ واپس ’’ حضرموت ‘‘ تو نہیں جائیں گے ، میں نے کہا : میرے خاندان کے لوگ شام میں موجود ہیں ، میرے اہل خانہ کوفہ میں موجود ہیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کے اہل خانہ میں سے ایک شخص آپ کے خاندان کے دس افراد سے زیادہ بہتر ہے ، میں نے کہا : مجھے ’’ حضرموت ‘‘ واپس جا کر خوشی نہیں ہو گی اور ویسے بھی کسی مہاجر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جہاں سے وہ ہجرت کر کے گیا تھا ، اس جگہ واپس چلا جائے ، البتہ اگر کوئی علت ہو تو حکم مختلف ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ علت کیا ہے ؟ میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کا وہ فرمان جو فتنوں کے بارے میں ہے کہ جب آپ لوگ اختلاف کا شکار ہوں ، تو ہم لوگ آپ سے لاتعلق ہو جائیں ، اور جب آپ لوگ اکٹھے ہو جائیں تو ہم آپ کے پاس آ جائیں ، تو یہ علت ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو کوفہ کا گورنر مقرر کرتا ہوں ، آپ وہاں چلے جائیں ، میں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کے لئے کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کیا ، کیا آپ کو پتہ نہیں ہے ؟ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے گورنر بنانا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنا چاہا ، تو میں نے انکار کر دیا اور میں نے اُن لوگوں کی بیعت کو چھوڑا نہیں تھا ، جب ہماری طرف کے لوگ مرتد ہوئے تھے ، تو میری طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا تھا ، میں اُن لوگوں کے درمیان موجود رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی طرف لوٹا دیا اور یہ میرے کسی حکومتی عہدے کے بغیر ہوا تھا ، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن ام حکم کو بلایا اور فرمایا : تم روانہ ہو جاؤ ! میں تمہیں کوفہ کا گورنر مقرر کرتا ہوں اور تم حضرت وائل رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ ! اور ان کا احترام کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا ، تو عبدالرحمن نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! آپ نے میرے بارے میں برا گمان رکھا ہے ، آپ مجھے ایسے شخص کا احترام کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی عزت افزائی کی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی اور خود آپ نے بھی کی ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہو گئے ، حضرت وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں عبدالرحمن کے ہمراہ کوفہ آ گیا اور پھر حضرت وائل رضی اللہ عنہ انتقال تک وہیں مقیم رہے ۔ محمد بن حجر نامی راوی کہتے ہیں :” وراط ‘‘ سے مراد قمار ہے ’’ اقوال ‘‘ سے مراد بادشاہ ہیں اور ’’ عیاہل ‘‘ سے مراد معززین ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

16007

Majma al-Zawaid #16007

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرِينِ تَبِعْتُهُ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَعْجَبُ. انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: سَمُّوا اللَّهَ وَتَقَحَّمُوا، فَسَمَّيْنَا وَتَقَحَّمْنَا فَعَبَرْنَا، فَمَا بَلَّ الْمَاءُ أَسَافِلَ خِفَافِ إِبِلِنَا. فَلَمَّا قَفَلْنَا صِرْنَا مَعَهُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: صَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا فَإِذَا سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، ثُمَّ أَرْخَتْ عَزَالِيهَا فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا، فَمَاتَ فَدَفَنَّاهُ فِي الرَّمْلِ، فَلَمَّا صِرْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ قُلْنَا: يَجِيءُ سَبْعٌ فَيَأْكُلُهُ، فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْمَرٍ الْهَرَوَيُّ وَالِدُ إِسْمَاعِيلَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهُ فِي الْبَحْرِينِ، وَحَصْرُهُمْ إِيَّاهُ وَنَصْرُهُ عَلَيْهِمْ فِي قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah reports that he followed al-'Ala' ibn al-Hadrami to Bahrain and witnessed three traits he cannot say which is most wondrous: at the seashore al-'Ala' bade them name Allah and plunge, and they crossed with the water not wetting the camels' lower trappings; on the return in a waterless waste he bade them pray two rak'ahs, supplicated, and a shield-like cloud rained upon them so they drank and drew water; and when he died and they buried him in the sand, they returned fearing a beast would devour him and found no trace of him. > **"Name Allah and plunge in."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا ، تو میں بھی اُن کے پیچھے گیا ، میں نے ان کی تین چیزیں دیکھیں ، مجھے نہیں اندازہ ہو سکا کہ اُن میں زیادہ کون سی زیادہ حیران کن ہے ؟ جب ہم سمندر کے ساحل پر پہنچے ، تو انہوں نے کہا : اللہ کا نام لے کر اس میں داخل ہو جاؤ ، ہم نے اللہ کا نام لیا اور داخل ہو گئے ، اور ہم نے اسے عبور کر لیا اور ہمارے اونٹوں کے پاؤں کے نچلے حصے کو بھی پانی نے گیلا نہیں کیا ، جب ہم واپس آ رہے تھے ، تو ہمارا گزر ان کے ساتھ ایک بے آب و گیاہ سرزمین سے ہوا ، ہمارے پاس پانی نہیں تھا ، ہم نے ان کے سامنے اس کی شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ دو رکعت ادا کرو ، پھر انہوں نے دعا کی ، تو ڈھال کی طرح کا بادل آیا اور پھر ہم پر موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اور ہم نے پانی پی بھی لیا اور پینے کے لئے حاصل بھی کر لیا ( یا جانوروں کو بھی پلا دیا ) جب وہ دفن ہوئے ، تو ہم نے انہیں ریت میں دفن کیا ، ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ ہم نے یہ سوچا کہ کوئی درندہ آ کر ان کی لاش کی بے حرمتی کر سکتا ہے ، جب ہم واپس آئے تو وہ ہمیں ملے ہی نہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن معمر ہروی ہے ، جو اسماعیل کا والد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ’’ بحرین ‘‘ میں اُن کا واقعہ اور ان کا ان لوگوں کو محصور کرنا اور ان کے خلاف مدد حاصل کرنا ، اس سب کا ذکر مرتدین سے قتال سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

16008

Majma al-Zawaid #16008

«عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَتَانِي [فِي هَؤُلَاءِ] النَّتْنَى لَشَفَّعْتُهُ "". يَعْنِي: الْمُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ، فَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ جُبَيْرٌ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: فَأَسْلَمَ عِنْدَ ذَلِكَ جُبَيْرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im reports that the Messenger of Allah ﷺ said that had al-Mut'im ibn 'Adi, among those foul ones, come to him he would have interceded for him, whereupon Jubayr embraced Islam. > **"Had he come to me among those ones, I would have interceded for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ ان بدبودار لوگوں ( یعنی غزوہ بدر کے قیدیوں ) کے بارے میں ، میرے پاس آتا تو میں نے اُس کی سفارش قبول کر لینی تھی ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد ( حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا والد ) مطعم بن عدی تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اُس موقع پر حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں موجود ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” اس موقع پر حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

16009

Majma al-Zawaid #16009

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: ثَوْبَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَيُقَالُ: هُوَ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ حِمْيَرَ مَوْلَى آلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَيُقَالُ: أَصَابَهُ سِبَاءٌ فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ، كَانَ يَسْكُنُ حِمْصَ، مَاتَ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani identifies Thawban, may Allah be pleased with him, by his kunyah Abu 'Abdullah, as of Yaman of Himyar, a freedman of the family of the Messenger of Allah ﷺ, said to have been taken captive and purchased and manumitted by the Messenger of Allah ﷺ, resident in Hims, who died in the year fifty-five. > **"Thawban was a freedman of the family of the Messenger of Allah ﷺ and died in the year fifty-five."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی کنیت ’’ ابوعبدالله ‘‘ ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا تعلق یمن کے حمیر قبیلے سے ہے اور یہ نبی اکرم ﷺ کے خاندان سے نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔ یہ بات بیان کی گئی ہے : یہ قیدی بن گئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں خرید کر انہیں آزاد کر دیا تھا ، ان کا انتقال 54 ہجری میں ہوا تھا ۔