Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 42

Book of Virtues and Merits

Hadith 15929–15968

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15929

Majma al-Zawaid #15929

وَعَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ مُعَاوِيَةَ مَا كَانَ أَشَدَّ حُبَّهُ لِلْعَرَبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى مُجَاهِدٍ.

EnglishUnverified translation

Mujalid ibn Saʿid reported: May Allah have mercy upon Muʿawiyah; how intense was his love for the Arabs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجالد بن سعید بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، وہ عربوں سے کتنی شدید محبت کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور مجاہد تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15930

Majma al-Zawaid #15930

وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِأَخِيهِ: ارْتَدِفْ، فَأَبَى، فَقَالَ: بِئْسَ مَا أُدِّبْتَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: دَعْ أَخَاكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays, meaning Ibn Abi Ḥazim, reported that Muʿawiyah said to his brother, Ride behind, but he refused. He said, Evil is your training. Abu Sufyan said, Leave your brother.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سے کہا : تم میرے پیچھے بیٹھ جاؤ ! تو انہوں نے انکار کر دیا ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہاری بری تربیت کی گئی ہے ، تو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : اپنے بھائی کو رہنے دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15931

Majma al-Zawaid #15931

وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ سَنَةَ سِتِّينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Nuʿaym reported that Muʿawiyah died in the year sixty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونعیم بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 60 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15932

Majma al-Zawaid #15932

وَعَنِ اللَّيْثِ - يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ: تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ وَسَنَةَ بِضْعٍ وَسَبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth, meaning Ibn Saʿd, reported that Muʿawiyah ibn Abi Sufyan died four nights past of Rajab in the year sixty, aged between seventy and eighty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال چار رجب 60 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 70 سال سے 80 سال کے درمیان تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15933

Majma al-Zawaid #15933

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حَلِيفُ آلِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، كَانَ إِسْلَامُهُ بِمَكَّةَ، وَهَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى قَدِمَ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَقِيلَ: مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ خَمْسِينَ، وَدُفِنَ بِالتُّوتَةِ عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْكُوفَةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarani said: ʿAbdullah ibn Qays, Abu Musa al-Ashʿari, ally of the family of ʿUtbah ibn ʿAbd Shams; his Islam was at Makkah, and he migrated to Abyssinia until he came at the time of Khaybar. It is said Abu Musa died in the year fifty and was buried at al-Tutah two miles from al-Kufah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عبداللہ بن قیس ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ، جو آل عتبہ بن عبدشمس کے حلیف تھے ، یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے ، پھر انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ، یہاں تک کہ یہ خیبر کے زمانے میں آئے تھے ، یہ بات بیان کی گئی ہے : حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال 50 ہجری میں ہوا تھا اور انہیں کوفہ سے دو میل کے فاصلے پر موجود جگہ ’’ توتہ ‘‘ کے مقام پر دفن کیا گیا تھا ۔

15934

Majma al-Zawaid #15934

وَعَنْ شُبَابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ: وَلِيَ أَبُو مُوسَى الْكُوفَةَ وَلَهُ بِهَا أَهْلٌ وَدَارٌ حَضْرَةُ الْجَامِعِ، مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ. وَنَسَبُهُ قَالَ: أَبُو مُوسَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيُّ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنِ بْنِ حَرْبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ وَائِلِ بْنِ نَاجِيَةَ بْنِ جَمَاهِرِ بْنِ الْأَشْعَرِ بْنِ أَدَدِ بْنِ عُرَيْبِ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ كَهْلَانَ بْنِ سِنَانِ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ يَغُوثَ بْنِ قَحْطَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Shabab al-ʿUṣfuri reported that Abu Musa governed al-Kufah, with family and a house there facing the mosque. Abu Musa died in the year fifty-one. His lineage, he said: Abu Musa ʿAbdullah ibn Qays al-Ashʿari, he is ʿAbdullah ibn Qays ibn Ḥiṣn ibn Ḥarb ibn ʿAmir ibn Tamim ibn Bakr ibn ʿAmir ibn ʿAdi ibn Waʾil ibn Najiyah ibn Jamahir ibn al-Ashʿar ibn Udud ibn ʿUrayb ibn Yashjub ibn Zayd ibn Kahlan ibn Sinan ibn Yashjub ibn Yaghuth ibn Qaḥṭan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب عصفری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر بنے تھے ، وہاں ان کے اہل خانہ تھے اور گھر تھا جو جامع مسجد کے پاس تھا ، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال 51 ہجری میں ہوا تھا ۔ ان کے نسب کے بارے میں انہوں نے یہ کہا ہے : یہ حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ عبداللہ بن قیس بن حسن بن حرب بن عامر بن تمیم بن بكر بن عامر بن عدی بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر بن أدد بن عريب بن يشجب بن زید بن کہلان بن سنان بن يشجب بن یغوث بن قحطان ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15935

Majma al-Zawaid #15935

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: مَاتَ أَبُو مُوسَى سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn al-Rabiʿ ibn Abi Musa reported that Abu Musa died in the year fifty-two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ربیع بن ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15936

Majma al-Zawaid #15936

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: «قَدِمَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَكْبَرِ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَأَصْغَرِهِمْ، وَكَانَ أَبُو عَامِرٍ يَقُولُ: أَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ السَّفِينَةِ وَابْنِي أَصْغَرُهُمْ». قَالَ سَعِيدٌ: وَكَانَ فِيهَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَأَبُو مُوسَى، وَكَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ، خَرَجُوا بِالْأَبْوَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿid ibn ʿAbd al-ʿAziz reported that Abu Musa al-Ashʿari came to the Prophet ﷺ at Khaybar, and the Prophet ﷺ supplicated for the eldest and youngest of the ship's people. Abu ʿAmir used to say, I am the eldest of the ship's people and my son the youngest. Saʿid said: Therein were Abu ʿAmir, Abu Malik, Abu Musa, and Kaʿb ibn ʿAṣim; they went out at al-Abwaʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خیبر سے نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے کشتی میں آنے والے ہر بڑے چھوٹے شخص کو دعا دی ، حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :’’ میں کشتی والوں میں سب سے بڑا تھا اور میرا بیٹا سب سے چھوٹا تھا ۔ سعید بیان کرتے ہیں : اس کشتی میں حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ ’’ ابواء ‘‘ کے مقام پر آئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15937

Majma al-Zawaid #15937

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «كَانَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَأَقَامَ بِهَا حَتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ، فَجَعَلَهُمْ فِي سَفِينَتَيْنِ، فَقَدِمَ بِهِمْ خَيْبَرَ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥaq reported that Abu Musa al-Ashʿari was among those who migrated to Abyssinia, staying therein until the Prophet ﷺ sent to the Negus ʿAmr ibn Umayyah, who placed them in two ships and brought them to Khaybar after al-Ḥudaybiyah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ، ان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی ، یہ وہاں مقیم رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی طرف بھیجا ، تو نجاشی نے ان لوگوں کو دو کشتیوں میں بھیجا ، تو یہ حدیبیہ کے بعد غزوہ خیبر کے قریب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15938

Majma al-Zawaid #15938

وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُرَاهُ يُرَائِي؟ "". فَأُسْكِتَ بُرَيْدَةُ فَإِذَا بِرَجُلٍ يَدْعُو فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالذَّي نَفْسِي بِيَدِهِ "" أَوْ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ "". قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً وَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُرَاهُ يُرَائِي؟ "". فَقَالَ بُرَيْدَةُ: أَتَقُولُ هُوَ مُرَاءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ لَا، بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ "". فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بِصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ - أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - أُعْطِي مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ "". فَقُلْتُ: أَلَا أُخْبِرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَلَى فَأَخْبِرْهُ "". فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتَ لِي صَدِيقٌ ; أَخْبَرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» "". وَهُنَا: "" مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Buraydah reports from his father Buraydah, may Allah be pleased with him, that the Prophet ﷺ took him by the hand into the mosque at night where a man was reciting, then heard the man supplicating with the testimony of the Unique, the Eternal, who begets not nor is begotten. The Prophet ﷺ swore that the man had asked by the Greatest Name, and on the next night identified the reciter as al-Ash'ari, a believing, repentant man granted a melodious voice. > **"By the One in whose Hand is my soul, he has asked Allah by His Greatest Name, which when asked by He gives, and when supplicated by He answers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت نکلے ، اُن کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہاں ایک صاحب کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ تو حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر اس شخص نے دعا کرنا شروع کی اور یہ کہا : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس واسطے سے کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں ، بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ایک ہے ، تو بے نیاز ہے ، تو وہ ہے کہ کسی کو اس نے جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی اُس کو جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اس نے اللہ تعالیٰ سے اُس کے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے کہ جب اُس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا جائے ، تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، اور جب دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب اگلی رات آئی ، تو حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ عشاء کے بعد نکلے ، نبی اکرم ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجد میں لے گئے ، تو وہاں ایک شخص کے تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ یہ دکھاوا کر رہا ہے ؟ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھاوا کرنے والا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، جی نہیں ! بلکہ یہ فرمانبردار مومن ہے ، راوی کہتے ہیں : تو وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے ، جو تلاوت کر رہے تھے اور مسجد کے کونے سے اُن کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اشعری کو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عبداللہ بن قیس کو حضرت داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتاؤں نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم اسے بتاؤ ، میں نے انہیں بتایا ، تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میرے دوست ہو ، تم نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ایک بات مجھے بتائی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ’’ بے شک عبداللہ بن قیس کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔‘‘ اور یہاں یہ الفاظ ہیں :’’ حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15939

Majma al-Zawaid #15939

«وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا، وَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: "" وَيْحَ أُمِّهَا قَرْيَةٌ! يَدَعُهَا أَهْلُهَا أَعْمَرَ مَا تَكُونُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنِقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا. ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بَرَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ، فَقَالَ: "" تُرَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟، إِنَّهُ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُبَشِّرُهُ؟ قَالَ: "" احْذَرْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ "". ثُمَّ انْحَدَرَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، فَقَالَ: يَا مِحْجَنُ، أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سَكِيَّةَ؟! فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، وَرَجَعَ، فَلَمَّا أَتَى بَيْتَهُ قَالَ: "" خَيْرُ دِينِنَا أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Mihjan ibn al-Adra' reports that the Messenger of Allah ﷺ took his hand up Uhud, looked over Madinah, foretold that its people would abandon it at its most flourishing and that the Dajjal would find an angel with drawn sword at every pass, then descended to the mosque where a man stood praying and reciting, whom he praised as devoted and forbearing, and at home repeated that the best of the religion is its easiest. > **"The best of your religion is its easiest, the best of your religion is its easiest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ آپ اُحد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر آپ نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے ، یہ ایک بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے چھوڑ جائیں گے ، جبکہ یہ آباد ہو چکی ہو گی ، دجال اس کے پاس آئے گا ، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتے کو تلوار سونتے ہوئے پائے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ وہاں سے اُترے آپ مسجد میں آ گئے ، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا اور تلاوت کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عبداللہ بن قیس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ یہ ایک نیک بردبار شخص ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں خوشخبری نہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس سے بچو کہ تم اسے یہ بات سنا کر اسے ہلاکت کا شکار کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ چلے گئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں آ گئے ، ہم نے حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے پر پایا ، مسجد میں ایک شخص تھا ، جو طویل نماز ادا کر رہا تھا ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے مزاج میں مزاح کا عنصر تھا ، انہوں نے فرمایا : اے محجن ! کیا تم اس طرح نماز نہیں ادا کرو گے جس طرح سکیہ نماز ادا کر رہا ہے ؟ تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور واپس چلے گئے ، جب وہ اپنے گھر آئے تو انہوں نے کہا : ہمارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ، تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو زیادہ آسان ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن ابورجاء کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15940

Majma al-Zawaid #15940

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» "". وَهُنَا: "" «مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that Abu Musa was granted a share of the melodious voice of Dawud, peace be upon him. > **"Abu Musa has indeed been given a flute from the flutes of Dawud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ابوموسیٰ کو حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے حصہ دیا گیا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ آل داؤد کی خوش الحانی میں سے .......‘‘۔ اور یہاں یہ الفاظ ہیں :” حضرت داؤد علیہ السلام کی خوش الحانی میں سے .......‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

15941

Majma al-Zawaid #15941

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَالَ: "" لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Qays reports that the Prophet ﷺ passed by Abu Musa while he was reciting and remarked upon the gift he had been given from the family of Dawud. > **"This one has been granted a share from the flutes of the family of Dawud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ تلاوت کر رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسے آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ دیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

15942

Majma al-Zawaid #15942

وَعَنْ أَبِي مُوسَى: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى أَبِي مُوسَى ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَبُو مُوسَى يَقْرَأُ، وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةُ، فَقَامَا يَسْتَمِعَانِ لِقِرَاءَتِهِ، ثُمَّ إِنَّهُمَا مَضَيَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَقِيَ أَبُو مُوسَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا مُوسَى، مَرَرْتُ بِكَ الْبَارِحَةَ وَمَعِي عَائِشَةُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فِي بَيْتِكَ، فَقُمْنَا فَاسْتَمَعْنَا لِقِرَاءَتِكَ "". فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكَ لَحَبَّرْتُ لَكَ تَحْبِيرًا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa reports that the Prophet ﷺ passed by him one night while he recited in his house, accompanied by 'A'ishah, may Allah be pleased with her, and the two stood listening; in the morning the Prophet ﷺ told him so, and Abu Musa replied that had he known of his presence he would have beautified his recitation for him. > **"O Abu Musa, I passed by you last night with 'A'ishah while you were reciting in your house, and we stood listening to your recitation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ رات کے وقت نبی اکرم ﷺ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت تلاوت کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ، یہ دونوں کھڑے ہو کر ان کی قرأت غور سے سننے لگے اور پھر یہ دونوں تشریف لے گئے ، اگلے دن جب صبح حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! گزشتہ رات میں تمہارے پاس سے گزرا تھا ، میرے ساتھ عائشہ تھی ، تم اس وقت اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، تو ہم کھڑے ہو کر تمہاری تلاوت غور سے سنتے رہے تھے ، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا علم ہوتا ، تو میں آپ کی خاطر اسے اور بنا سنوار کر ( تلاوت ) کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کی شرط کے مطابق ہیں ، صرف خالد بن نافع اشعری کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

15943

Majma al-Zawaid #15943

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَعَدَ أَبُو مُوسَى فِي بَيْتِهِ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ. قَالَ: فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَعْجَبَكَ مِنْ أَبِي مُوسَى، قَعَدَ فِي بَيْتٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَسْطِيعُ أَنْ تُقْعِدَنِي حَيْثُ لَا يَرَانِي أَحَدٌ مِنْهُمْ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَأَقْعَدَهُ الرَّجُلُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: "" إِنَّهُ يَقْرَأُ عَلَى مِزْمَارٍ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas reports that Abu Musa sat in his house reciting to a gathered people, and a man informed the Messenger of Allah ﷺ, who asked to be seated where none could see him, listened to the recitation, and likened it to the melody of the family of Dawud. > **"He recites upon a flute from the flutes of the family of Dawud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ، انہوں نے ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھنا شروع کیا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر حیرانگی نہیں ہو رہی ؟ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھ رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم مجھے کسی ایسی جگہ پر بٹھا دو جہاں اُن میں سے کوئی مجھے نہ دیکھ سکے ، اس شخص نے کہا : ٹھیک ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، اس شخص نے آپ کو ایک ایسی جگہ بٹھا دیا ، جہاں اُن میں سے کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا ، نبی اکرم ﷺ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ آل داؤد کی خوش الحانی کی طرح تلاوت کر رہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15944

Majma al-Zawaid #15944

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: «سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا مُوسَى يَقْرَأُ فَقَالَ: "" كَأَنَّ صَوْتَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' reports that the Prophet ﷺ heard Abu Musa reciting and likened his voice to the melodies of the family of Dawud. > **"It is as though the voice of this man is from the flutes of the family of Dawud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کی آواز آل داؤد کی خوش الحانی میں سے ایک ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15945

Majma al-Zawaid #15945

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ: "" لَقَدْ أُوتِيَ أَخُوكُمْ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Ka'b ibn Malik reports that the Messenger of Allah ﷺ, hearing Abu Musa al-Ash'ari recite, addressed his companions concerning the gift granted to their brother. > **"Your brother has been granted a share from the flutes of the family of Dawud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : آپ نے انہیں تلاوت کرتے ہوئے سنا تھا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے بھائی کو آل داؤد کی خوش الحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15946

Majma al-Zawaid #15946

(وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ فِي وَصِيَّتِهِ أَنْ لَا يُقَرَّ لِي عَامِلٌ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ، وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِيَّ أَرْبَعَ سِنِينَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -)

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi reports that 'Umar, may Allah be pleased with him, wrote in his bequest that none of his appointed governors should remain more than a year, except that al-Ash'ari should be retained for four years. > **"Let none of my governors be retained more than a year, but retain al-Ash'ari for four years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں یہ لکھا تھا : ’’ میرے مقرر کردہ کسی بھی اہلکار کو ایک سال سے زیادہ اپنے عہدے پر نہ رہنے دینا اور اشعری کو چار سال تک اس کے عہدے پر برقرار رکھنا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ، البتہ امام شعبی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15947

Majma al-Zawaid #15947

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بْنِ أَبِي عَامِرِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ عَوْفِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مُنَبِّهٍ، يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أُمُّهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ. وَلِيَ الْبَصْرَةَ نَحْوَ سَنَتَيْنِ، ثُمَّ وَلِيَ الْكُوفَةَ وَمَاتَ بِهَا سَنَةَ خَمْسِينَ. وَأَوَّلُ مَشَاهِدِهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُدَيْبِيَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu 'Ubaydah details the lineage of al-Mughirah ibn Shu'bah ibn Abi 'Amir, his kunyah Abu 'Abdullah, his mother from Banu Nasr ibn Mu'awiyah, his governorship of Basrah for about two years then Kufah where he died in the year fifty, and that his first campaign with the Messenger of Allah ﷺ was al-Hudaybiyah. > **"His first campaign with the Messenger of Allah ﷺ was al-Hudaybiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : یہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ بن ابوعامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس بن منبہ ہیں ، ان کی کنیت ’’ ابوعبداللہ ‘‘ ہے ۔ ان کی والدہ بنونصر بن معاویہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھیں ، یہ تقریباً دو سال بصرہ کے گورنر رہے تھے ، پھر یہ کوفہ کے گورنر بن گئے اور وہیں سن 50 ہجری میں اُن کا انتقال ہوا ۔ یہ سب سے پہلے غزوہ حدیبیہ میں ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15948

Majma al-Zawaid #15948

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَنَةَ خَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Bukayr reports that al-Mughirah ibn Shu'bah died in the year fifty. > **"Al-Mughirah ibn Shu'bah died in the year fifty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 50 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15949

Majma al-Zawaid #15949

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ حَفَرَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَلَحَدْنَا لَحْدًا. قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَبْرَ طَرَحْتُ الْفَأْسَ، ثُمَّ قُلْتُ: الْفَأْسَ الْفَأْسَ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى اللَّحْدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Shu'bah, may Allah be pleased with him, reports that he was among those who dug the grave of the Messenger of Allah ﷺ, that they made a lahd, and that when the Prophet ﷺ was lowered in he dropped his axe, descended, and placed his hand upon the lahd. > **"I was among those who dug the grave of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اُن افراد میں سے ایک تھا ، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک کو کھودا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے لحد تیار کی ، جب نبی اکرم ﷺ کو قبر مبارک میں اتار دیا گیا ، تو میں نے پھاؤڑا نیچے گرا دیا ، پھر میں نیچے اترا اور میں نے لحد پر ہاتھ رکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15950

Majma al-Zawaid #15950

وَعَنِ ابْنِ مَرْحَبٍ قَالَ: نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَةٌ، أَحَدُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يُدْعَى أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ: أَخَذْتُ خَاتَمِي فَأَلْقَيْتُهُ وَقُلْتُ: إِنَّ خَاتَمِي سَقَطَ مِنْ يَدِي ; لِأَمَسَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكُونَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Marhab reports that four men descended into the grave of the Prophet ﷺ, among them 'Abd al-Rahman ibn 'Awf, and that al-Mughirah ibn Shu'bah was called the last of the people to be with the Messenger of Allah ﷺ, saying he dropped his ring deliberately so that he might touch the Messenger of Allah ﷺ and be the last to be with him. > **"My ring fell from my hand, so that I might touch the Messenger of Allah ﷺ and be the last of the people to be with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن مرحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک میں چار افراد اُترے تھے ، ان میں سے ایک حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ سب سے آخر میں نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک سے باہر نکلے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے اپنی انگوٹھی پکڑی اور اسے اُس میں گرا دیا اور میں نے یہ کہا : میری یہ انگوٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی ہے ، میرا مقصد یہ تھا کہ میں نبی اکرم ﷺ کو مس کر لوں اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آخری نسبت میری ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15951

Majma al-Zawaid #15951

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَعُرِضَ عَلَيْهِ فَرَسٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: احْمِلْنِي عَلَى هَذَا، فَقَالَ: لَأَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِ غُلَامًا قَدْ رَكِبَ الْخَيْلَ عَلَى عُزْلَتِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَيْهِ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ وَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَبِيكَ فَارِسًا، فَغَضِبْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَسَحَبْتُهُ عَلَى أَنْفِهِ، فَكَأَنَّمَا كَانَ عَلَى أَنْفِهِ عَزْلَاءُ مَزَادَةٌ، فَأَرَادَتِ الْأَنْصَارُ أَنْ يَسْتَقْيِدُوا مِنِّي، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنِّي مُقَيِّدُهُمْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَلَأَنْ أُخْرِجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ أَقْرَبُ مِنْ أَنْ أُقِيدَهُمْ مِنْ وَزَعَةِ اللَّهِ الَّذِينَ يَزَعُونَ عِبَادَ اللَّهِ. قُلْتُ: هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ لَمْ أَعْرِفْ مَعْنَاهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Shu'bah reports that he was with Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, when a horse was presented and a man rudely claimed to be a better horseman than Abu Bakr and his father; al-Mughirah seized the man by the head and struck his nose, and Abu Bakr refused retaliation against al-Mughirah, defender of Allah's servants. > **"I would sooner expel them from their homes than grant them retaliation against al-Mughirah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک گھوڑا ان کے سامنے آیا ، ایک شخص نے کہا : مجھے یہ سواری کے لئے دے دیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ اس لڑکے کو سواری کے لئے دے دوں جو عزلت کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہو ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں یہ تمہیں سواری کے لئے دوں ، تو وہ شخص غصے میں آ گیا اور بولا : اللہ کی قسم ! میں آپ سے اور آپ کے والد سے زیادہ بہتر شہسوار ہوں ، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب اس نے اللہ کے رسول کے خلیفہ کو یہ بات کہی ، تو میں غصے میں آ گیا ، میں اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا ، میں نے اس کا سر پکڑا اور اس کی ناک پر مارا تو وہاں گومڑ سا بن گیا ، انصار نے یہ ارادہ کیا کہ وہ مجھ سے بدلہ لیں ، جب اس بات کی اطلاع حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ میں انہیں مغیرہ بن شعبہ سے بدلہ دلواؤں گا ، میں ان لوگوں کو ان کے علاقوں سے نکلوا دوں ، یہ اس سے زیادہ موزوں ہو گا کہ میں انہیں اس تربیت کرنے والے سے بدلہ دلواؤں جو اللہ کے بندوں کی تربیت کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس آخری جملے کا مفہوم میں نہیں سمجھ سکا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15952

Majma al-Zawaid #15952

«عَنْ قَيْسٍ الْمَدَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: عَلَيْكَ بِأَبِي هُرَيْرَةَ، فَبَيْنَا أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَفُلَانٌ فِي الْمَسْجِدِ نَدْعُو وَنَذْكُرُ رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَسَكَتْنَا، فَقَالَ: "" عُودُوا لِلَّذِي كُنْتُمْ فِيهِ "". فَقَالَ زَيْدٌ: فَدَعَوْتُ أَنَا وَصَاحِبِي قَبْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَمِّنُ عَلَى دُعَائِنَا، ثُمَّ دَعَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي سَائِلُكَ بِمِثْلِ مَا سَأَلَكَ صَاحِبَايَ، وَأَسْأَلُكُ عِلْمًا لَا يُنْسَى. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمِينَ "" فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ نَسْأَلُ اللَّهَ عِلْمًا لَا يُنْسَى، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَبَقَكُمَا بِهَا الْغُلَامُ الدَّوْسِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَيْسٌ هَذَا كَانَ قَاصَّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qays al-Madani reports that Zayd ibn Thabit sent a questioner to Abu Hurayrah, recalling how he, Abu Hurayrah, and another sat supplicating in the mosque when the Prophet ﷺ joined them and said Amen to their supplications; Abu Hurayrah asked for the like of what his companions asked plus knowledge never forgotten, the Prophet ﷺ said Amen, and when the others asked the same he told them the Dawsi youth had preceded them in it. > **"The Dawsi youth has preceded you in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس مدنی بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اُن سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! ( کیونکہ ایک مرتبہ ) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور فلاں شخص مسجد میں موجود تھے ، ہم اپنے پروردگار کا ذکر کر رہے تھے اس سے دعا کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس آ کر تشریف فرما ہوئے ، تو ہم خاموش ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ پھر وہی کرو جو تم پہلے کر رہے تھے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلے دعا کی ، نبی اکرم ﷺ ہماری دعا پر آمین کہتے رہے ، پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دعا کرتے ہوئے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں جو میرے دونوں ساتھیوں نے مانگی ہے اور تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو بھولے نہیں ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آمین ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم بھی اللہ تعالیٰ سے ایسے علم کی دعا مانگتے ہیں ، جو بھولے نہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ دوسی لڑکا اس حوالے سے سبقت لے گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور قیس نامی راوی ، یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا واعظ تھا ، اس کے حوالے سے اس کے بیٹے محمد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15953

Majma al-Zawaid #15953

«وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي الْمُسْنَدِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Ka'b, may Allah be pleased with him, reports that Abu Hurayrah was bold in asking the Messenger of Allah ﷺ about matters that none besides him would ask about. > **"Abu Hurayrah was bold in asking the Messenger of Allah ﷺ about matters none besides him would ask."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مختلف چیزوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے سوال کرنے کی جرأت رکھتے تھے کہ اُن چیزوں کے بارے میں ، ان کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کرتا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے ’’ مسند ‘‘ میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو ’’ علامات نبوت ‘‘ کے بارے میں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15954

Majma al-Zawaid #15954

وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ سُلَيْمٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: تُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَمِعَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Sha'tha' Sulaym reports that he came to Madinah and found Abu Ayyub narrating from Abu Hurayrah; when challenged that he had himself seen the Messenger of Allah ﷺ, Abu Ayyub replied that Abu Hurayrah had indeed heard. > **"He indeed heard."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوشعثاء سلیم بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، وہاں میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کر رہے تھے ، میں نے کہا : آپ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ جبکہ آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے ، تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : انہوں نے سماع کیا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک راوی سعید بن سفیان جحدری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15955

Majma al-Zawaid #15955

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ قَرَّتْ عَيْنِي وَطَابَتْ نَفْسِي، وَإِذَا لَمْ أَرَكَ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي مَيْمُونَةَ الْفَارِسِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he said to the Messenger of Allah ﷺ that when he sees him his eyes are comforted and his soul delighted, and when he does not see him his soul is not at ease. > **"O Messenger of Allah, when I see you my eye is comforted and my soul is delighted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں ، تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور میرا من خوشگوار ہو جاتا ہے ، اور جب میں آپ کو نہیں دیکھتا ، تو میرا من خوشگوار نہیں ہوتا .......‘‘۔ راوی کو شک ہے شاید اس کی مانند کوئی کلمہ اُنہوں نے ارشاد فرمایا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومیمونہ فارسی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15956

Majma al-Zawaid #15956

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ابْسُطْ ثَوْبَكَ "". فَبَسَطْتُهُ، فَحَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَّةَ النَّهَارِ، ثُمَّ تَفِلَ فِي ثَوْبِي، ثُمَّ ضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى بَطْنِي فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ: كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُنْدَعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah reports that the Messenger of Allah ﷺ told him to spread his garment, narrated to him for most of the day, then spat into it, and after he gathered it to his belly he never forgot anything thereafter. > **"Spread your garment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنا کپڑا پھیلاؤ ! تو میں نے اسے پھیلا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے دن کا بڑا حصہ مجھے مختلف باتیں بیان کیں ، پھر آپ نے میرے کپڑے میں لعاب دہن ڈالا ، پھر میں نے اپنے کپڑے کو لپیٹ کر پیٹ کے ساتھ لگا لیا ، اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، سعید بن منصور کہتے ہیں : مالک اس سے راضی تھے اور یہ راوی ثقہ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن عبدالرحمن جندعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15957

Majma al-Zawaid #15957

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ يَعْرِضُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah reports that the Qur'an was reviewed with the Prophet ﷺ once every year, and in the year in which he passed away it was reviewed with him twice. > **"He would review the Qur'an with the Prophet ﷺ once every year, and in the year he died he reviewed it with him twice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ) ہر سال میں ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے ، جب وہ سال آیا ، جس میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15958

Majma al-Zawaid #15958

عَنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا بَلَغَهُ -: "" دَعَا لَهُ "" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عُبَيْدِ أَبِي مَالِكٍ، وَاجْعَلْهُ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik 'Ubayd reports, in what reached him, that the Prophet ﷺ supplicated for him that Allah bless 'Ubayd Abu Malik and raise him above many of the people. > **"O Allah, bless 'Ubayd Abu Malik and raise him above many of the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ دعا دی تھی : ’’ اے اللہ ! تو عبید ابومالک پر رحمت نازل فرما اور اُسے بہت سے لوگوں سے بلند تر کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15959

Majma al-Zawaid #15959

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «حَدِّثُونِي عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَمْ يُصَلِّ قَطُّ، فَإِذَا لَمْ يَعْرِفْهُ النَّاسُ، سَأَلُوهُ: مَنْ هُوَ؟ فَيَقُولُ: أُصَيْرِمُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ. قَالَ الْحُصَيْنُ: فَقُلْتُ لِمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُ الْأُصَيْرِمِ؟ قَالَ: كَانَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ عَلَى قَوْمِهِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُحُدٍ بَدَا لَهُ الْإِسْلَامُ فَأَسْلَمَ، فَأَخَذَ سَيْفَهُ فَغَدَا حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ، فَدَخَلَ فِي عَرْضِ النَّاسِ، فَقَاتَلَ حَتَّى أَثْبَتَتْهُ الْجِرَاحَةُ. فَبَيْنَا رِجَالُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَلْتَمِسُونَ قَتْلَاهُمْ فِي الْمَعْرَكَةِ إِذَا هُمْ بِهِ قَالُوا: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَلْأُصَيْرِمُ، وَمَا جَاءَ بِهِ، لَقَدْ تَرَكْنَاهُ وَإِنَّهُ لَمُنْكِرٌ لِهَذَا الْحَدِيثِ! فَسَأَلُوهُ: مَا جَاءَ بِهِ؟ فَقَالُوا: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمْرُو؟! أَحَدَثًا عَلَى قَوْمِكَ، أَوْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ: بَلْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ أَخَذْتُ سَيْفِي فَغَدَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَاتَلْتُ حَتَّى أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي. فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فِي أَيْدِيهِمْ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah would ask about a man who entered Paradise though he never prayed, then identify him as Usayrim of Banu 'Abd al-Ashhal, 'Amr ibn Thabit ibn Waqsh; Mahmud ibn Labid explained that he refused Islam until the day of Uhud, then accepted it, seized his sword, fought among the people until wounds pinned him down, told his tribesmen he came out of desire for Islam and belief in Allah and His Messenger, died among them, and the Prophet ﷺ said he was of the people of Paradise. > **"He is of the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے تھے : تم لوگ مجھے اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو جنت میں داخل ہو گا اور اس نے کبھی کوئی نماز بھی ادا نہیں کی ، جب لوگوں نے اس شخص کو نہیں پہچانا تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : وہ شخص کون ہے ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا :’’ اصیرم ‘‘ جس کا تعلق بنو عبداشہل سے تھا ، اُس کا نام عمرو بن ثابت بن وقش تھا ۔ حصین نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا :” اصیرم “ کا کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اپنی قوم میں سے اس شخص نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ، جب غزوہ احد کا موقع آیا اور نبی اکرم ﷺ احد کی طرف تشریف لے جانے کے لئے نکلے تو اس شخص کو خیال آیا کہ وہ اسلام قبول کر لے ، تو وہ مسلمان ہو گیا اس نے اپنی تلوار لی اور دشمن کی طرف بڑھا اور دشمن کے درمیان داخل ہو گیا اور لڑائی کرتا رہا یہاں تک کہ زخمی ہو گیا ، لڑائی کے بعد بنو عبداشہل کے افراد جنگ میں اپنے مقتولین تلاش کر رہے تھے ، وہاں وہ شخص بھی موجود تھا ، لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ تو ’’ اصیرم “ کی لاش ہے ، یہ یہاں کیسے آ گیا ہے ؟ ہم تو اسے چھوڑ کے آئے تھے ، اور یہ شخص تو اس بات کا ( یعنی اسلام کا ) انکار کرتا تھا ، پھر ان لوگوں نے اس سے دریافت کیا : کہ وہ وہاں کیسے آیا ، انہوں نے دریافت کیا : اے عمرو ! تم یہاں کیوں آئے تھے ؟ کیا تمہاری قوم میں کوئی ایسا واقعہ پیش آ گیا تھا ؟ یا اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے تم آئے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : بلکہ اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے آیا ہوں ، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور میں نے اسلام قبول کیا ، پھر میں نے اپنی تلوار لی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوا اور لڑائی کرتا رہا ، یہاں تک کہ میری یہ صورت حال ہو گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے تھوڑی دیر بعد اُن لوگوں کے ہاتھوں میں اُس شخص کا انتقال ہو گیا ، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” وہ اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15960

Majma al-Zawaid #15960

«عَنْ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ - قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا، وَمَسَحَ رَأْسِي مِرَارًا، وَاسْتَغْفَرَ لِي وَلِذُرِّيَّتِي عَدَدَ مَا بِيَدَيَّ مِنَ الْأَصَابِعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَكِيمَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa', may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ mounted him behind him many times, wiped his head many times, and sought forgiveness for him and his progeny as many times as the fingers on his hands. > **"The Messenger of Allah ﷺ mounted me behind him many times and sought forgiveness for me and my progeny."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کئی مرتبہ سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہے ، آپ ﷺ نے کئی مرتبہ میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا ہے ، آپ ﷺ نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے اتنی مرتبہ دعائے مغفرت کی ہے کہ جتنی میرے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف علی بن یزید بن ابوحکیمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15961

Majma al-Zawaid #15961

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah al-Harith ibn Rib'i, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said the best of their horsemen is Abu Qatadah and the best of their foot soldiers is Salamah ibn al-Akwa'. > **"The best of our horsemen is Abu Qatadah, and the best of our foot soldiers is Salamah ibn al-Akwa'."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہمارا سب سے بہتر گھڑ سوار ابوقتادہ ہے اور ہمارا سب سے بہتر پیادہ ، سلمہ بن اکوع ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15962

Majma al-Zawaid #15962

«عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِشْرِينَ غَزْوَةً، غَزْوَةً بَعْدَ غَزْوَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abbas ibn Sahl ibn Sa'd reports that he heard Abu Usayd say he campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in twenty campaigns, one after another. > **"I campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in twenty campaigns, one after another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیس غزوات میں شرکت کی ہے جو ایک کے بعد دوسرا غزوہ ہوا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15963

Majma al-Zawaid #15963

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أُصِيبَ بَصَرُهُ قَبْلَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَتَّعَنِي بِبَصَرِي فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَرَادَ الْفِتْنَةَ فِي عِبَادِهِ كَفَّ بَصَرِي عَنْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sulayman ibn Yasar reports that Abu Usayd al-Sa'idi lost his sight before the killing of 'Uthman and said praise belongs to Allah who let him enjoy his sight during the life of the Prophet ﷺ and withheld it when He decreed tribulation among His servants. > **"Praise belongs to Allah who let me enjoy my sight during the life of the Prophet ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بینائی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ختم ہو گئی تھی انہوں نے یہ فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ، مجھے بینائی کی نعمت عطا کی تھی اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فتنے کا ارادہ کیا ، تو اس نے اس حوالے سے میری بینائی کو روک لیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن حازم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ( راوی ) ثقہ ہے ۔

15964

Majma al-Zawaid #15964

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَاسْمُهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَسِنُّهُ تِسْعُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Bukayr reports that Abu Usayd al-Sa'idi, whose name was Malik ibn Rabi'ah, died in the year thirty at the age of ninety. > **"Abu Usayd al-Sa'idi died in the year thirty at the age of ninety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ جن کا نام ’’ مالک بن ربیعہ ‘‘ ہے ان کا انتقال 30 ہجری میں 90 سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15965

Majma al-Zawaid #15965

عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقِيُّ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr ibn Hubaysh reports that during the caliphate of 'Uthman ibn 'Affan he came in a delegation to meet Ubayy ibn Ka'b and the Companions, met Safwan ibn 'Assal al-Muradi, asked whether he had seen the Messenger of Allah ﷺ, and Safwan replied yes and that he had campaigned with him in twelve campaigns. > **"Yes, and I campaigned with him in twelve campaigns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، میں وفد کے ساتھ حاضر ہوا ، میں اس وفد میں اس لئے شامل ہوا تھا ، تاکہ میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے ہو جائے ، میری ملاقات حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے ان سے دریافت کیا : آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں اور میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت بھی کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

15966

Majma al-Zawaid #15966

عَنْ سَعْدٍ - مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - قَالَ: «شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ، وَكَانَ يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفْوَانُ هَجَانِي، فَقَالَ: "" دَعُوا صَفْوَانَ ; فَإِنَّ صَفْوَانَ خَبِيثُ اللِّسَانِ طَيِّبُ الْقَلْبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا» "".

EnglishUnverified translation

Sa'd, the freedman of Abu Bakr, reports that a man complained to the Prophet ﷺ that Safwan ibn al-Mu'attal had lampooned him in verse, and the Prophet ﷺ told them to leave Safwan alone, for his tongue is sharp but his heart is pure. > **"Leave Safwan alone, for Safwan is foul of tongue but pure of heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ یہ شعر کہتے ہیں ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صفوان نے اس شاعری کے ذریعے میری ہجو بیان کی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : صفوان کو رہنے دو ! کیونکہ صفوان کی زبان تیز ہے اور اس کا دل پاکیزہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن صالح بن رستم ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :” صحیح “ میں یہ بات ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ مجھے اُس کے بارے میں ، صرف بھلائی کا علم ہے ۔‘‘

15967

Majma al-Zawaid #15967

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ: «هَاجَرَ أَبِي صَفْوَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَمَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ يَدَهُ فَمَسَحَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: إِنِّي أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ». فَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ قَدَامَةَ حَيْثُ أَتَى دَارَ الْهِجْرَةِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ دَعَا قَوْمَهُ وَبَنِي أَخِيهِ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ، وَخَرَجَ مَعَهُ بِابْنَيْهِ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، وَكَانَتْ أَسْمَاؤُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: عَبْدَ الْعُزَّى، وَعَبْدَ نُهْمٍ، فَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ فِي ذَلِكَ ابْنُ أَخِيهِ نَصْرُ بْنُ فَلَانِ بْنِ قُدَامَةَ فِي خُرُوجِ صَفْوَانَ وَوَحْشَتِهِمْ لِفِرَاقِهِ: تَحَمَّلَ صَفْوَانُ وَأَصْبَحَ غَادِيًا ... بِأَبْنَائِهِ عَمْدًا وَخَلَّى الْمَوَالِيَا فَأَصْبَحْتُ مُخْتَارًا لِرَمْلٍ مُعَبَّدٍ ... وَأَصْبَحَ صَفْوَانُ بِيَثْرِبَ ثَاوِيًا طِلَابَ الَّذِي يَبْقَى وَآثَرَ غَيْرَهُ ... فَشَتَّانَ مَا يَفْنَى وَمَا كَانَ بَاقِيَا بِإِتْيَانِهِ دَارَ الرَّسُولِ مُحَمَّدٍ ... مُجِيبًا لَهُ إِذْ جَاءَ بِالْحَقِّ هَادِيَا فَيَا لَيْتَنِي يَوْمَ الْحُدَبَّا اتَّبَعْتُهُمْ ... قَضَى اللَّهُ فِي الْأَشْيَاءِ مَا كَانَ قَاضِيَا. فَأَجَابَهُ صَفْوَانُ فَقَالَ: مِنْ مُبَلِّغٍ نَصْرًا رِسَالَةَ عَاتِبٍ ... بِأَنَّكَ بِالتَّقْصِيرِ أَصْبَحْتَ رَاضِيَا مُقِيمًا عَلَى أَرْكَانِ هِدْلِقَ لِلْهَوَى ... وَأَنَّكَ مَغْرُورٌ تَمَنَّى الْأَمَانِيَا فَسَامَ قُسَيْمَاتِ الْأُمُورِ وَعَادَهَا ... قَضَى اللَّهُ فِي الْأَشْيَاءِ مَا كَانَ قَاضِيَا. وَأَقَامَ صَفْوَانُ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى مَاتَ بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي مَوْتِ أَبِيهِ صَفْوَانَ: وَأَنَا ابْنُ صَفْوَانَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ ... عِنْدَ النَّبِيِّ سَوَابِقُ الْإِسْلَامِ صَلَّى الْإِلَهُ عَلَى النَّبِيِّ وَآلِهِ ... وَثَنَى عَلَيْهِ بَعْدَهَا بِسَلَامِ وَالْخَلْقُ كُلُّهُمُ بِمِثْلِ صَلَاتِهِمْ ... مَنْ فِي السَّمَاءِ وَأَرْضُهُ الْأَيَّامِ. وَأَقَامَ صَفْوَانُ بِالْمَدِينَةِ خِلَافَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَعَثَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ صَفْوَانَ فِي جَيْشٍ مَدَدًا لِلْمُثَنَّى بْنِ حَارِثَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَيْمُونٍ وَكَانَ قَدَرِيًّا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Safwan ibn Qudamah reports that his father Safwan migrated to the Prophet ﷺ in Madinah, pledged Islam, and the Prophet ﷺ extended his hand and wiped it; Safwan declared his love for the Messenger of Allah ﷺ, who replied that a man is with whom he loves. Safwan urged his people and nephews to emigrate with him, they refused, and he departed with his two sons 'Abd al-Rahman and 'Abdullah, whose pre-Islamic names the Prophet ﷺ changed. His nephew Nasr composed verses lamenting his departure, Safwan answered him in verse, and 'Abd al-Rahman elegized his father upon his death in Madinah, where he remained through the caliphate of 'Umar, who dispatched Jarir ibn 'Abdullah and 'Abd al-Rahman ibn Safwan as reinforcements to al-Muthanna ibn Harithah. > **"A man is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن صفوان بن قدامہ بیان کرتے ہیں : حضرت صفوان بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کی طرف گئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے ، میرے والد نے اسلام پر نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک ان کی طرف بڑھایا اور ان پر ہاتھ پھیرا ، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ آدمی اُس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں حضرت صفوان بن قدامہ رضی اللہ عنہ جب بھی مدینہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نبی اکرم ﷺ اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوتے تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ اپنی قوم کو اور اپنے بھتیجوں کو یہ کہتے تھے : کہ وہ لوگ بھی اُن کے ساتھ جائیں ، ان کے ساتھیوں نے ساتھ جانے سے انکار کیا ، تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ چلے گئے اور انہوں نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا ، وہ اپنے ساتھ اپنے دو بیٹوں عبدالرحمن اور عبداللہ کو لے گئے تھے ، ان کے نام زمانہ جاہلیت میں عبدالعزیٰ اور عبدنہم تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اسماء تبدیل کئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کے تشریف لے جانے اور باقی ساتھیوں کو وہیں چھوڑ جانے کے بارے میں حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نصر بن فلاں بن فلاں بن قدامہ نے یہ اشعار کہے : حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے سامان لادا اور اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر ، جان بوجھ کر اپنے موالی ( شاید رشتہ دار مراد ہیں ) کو اکیلا چھوڑ دیا ، اور میں ریتلے واقف راستے میں مختار رہ گیا ، اور حضرت صفوان یثرب کی مٹی ( سرزمین پر ) چلے گئے ، اس کی طلب میں جو باقی رہ جائے گا ، انہوں نے غیر کو ترجیح دی ، تو جو فنا ہو جائے اور جو باقی رہنے والا ہو ان کے درمیان فرق ہے ، ان کا رسول ، حضرت محمد ﷺ کے علاقے میں جانا اور ان ( رسول ) کی دعوت کو قبول کر لینا ، جبکہ وہ ( رسول ) حق لے کر آئے ہیں اور ہدایت دینے والے ہیں ، کاش مشکل کے وقت میں ، میں بھی ان کی پیروی کر لیتا ، لیکن اللہ تعالیٰ چیزوں کے بارے میں جو فیصلہ کر دے ، ہوتا وہی ہے ۔‘‘ تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیتے ہوئے یہ کہا : ’’ کون شخص نصر تک ناراض شخص کا ( یعنی میرا ) مکتوب پہنچائے گا کہ تم کوتاہی پر راضی رہ گئے اور اپنی خواہش کی پیروی میں کھلی جگہ پر مقیم رہے ، اس نے آرزو کی ، تم غلط فہمی کا شکار ہو ، تم آرزوئیں کر لو ، وہ امور کی تلاش کرتا ہے ، اور پھر ( ان امور ) کو ناپسند کرتا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ چیزوں کے بارے میں جو فیصلہ کر دے ، ہوتا وہی ہے ۔‘‘ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ، ان کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کے انتقال پر یہ اشعار کہے : ’’ میں اُن حضرت صفوان کا بیٹا ہوں ، جنہیں نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے حوالے سے سبقت حاصل ہوئی ، معبود برحق ، نبی اکرم ﷺ اور ان کی آل پر ، رحمت نازل کرے اور پھر اس کے بعد ان پر سلام بھی نازل کرے ، اور ساری مخلوق بھی ، جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے ، وہ ان پر ہمیشہ درود بھیجتی رہے ۔‘‘ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے ، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس لشکر میں بھیجا ، جو حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی امداد کے لئے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن میمون ہے وہ قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15968

Majma al-Zawaid #15968

عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مِسْكِينٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: ابْسُطْ - يَعْنِي يَدَكَ - أُبَايِعْكَ. قَالَ: "" وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. ثُمَّ عُدْتُ لَهُ فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ قَالَ: "" عَلَامَ "". قُلْتُ: عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ: "" وَإِنْ أَمَرْتُكَ بِقَطِيعَةِ وَالِدَيْكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. ثُمَّ عُدْتُ الثَّالِثَةَ، وَكَانَتْ لَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ بِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا طَلْحَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ فِي دِينِنَا قَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَكُونَ فِي دِينِكَ رِيبَةٌ "". فَأَسْلَمَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ. ثُمَّ مَرِضَ فَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُ مُغْمًى عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَظُنُّ طَلْحَةَ إِلَّا مَقْبُوضًا مِنْ لَيْلَتِهِ، فَإِنْ أَفَاقَ فَأَرْسِلُوا إِلَيَّ "". فَأَفَاقَ طَلْحَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا عَادَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: بَلَى، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ قَالَ: فَقَالَ: لَا تُرْسِلُوا إِلَيْهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ فَتَلْسَعَهُ دَابَّةٌ أَوْ يُصِيبُهُ شَيْءٌ، وَلَكِنْ إِذَا فُقِدْتُ فَأَقْرِءُوهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَقُولُوا لَهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لِي. فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصُّبْحَ سَأَلَ عَنْهُ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَوْتِهِ وَبِمَا قَالَ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ الْقَهُ يَضْحَكُ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَعَبَدُ رَبِّهِ بْنُ صَالِحٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Miskin reports through Talhah ibn Miskin from Talhah ibn al-Bara' that he came to the Prophet ﷺ asking to pledge allegiance, was tested three times over obedience even if commanded to sever his parents, and the Prophet ﷺ clarified that there is no severing of kinship in their religion but he wished no doubt to remain in his faith; Talhah embraced Islam excellently, fell ill, the Prophet ﷺ visited him unconscious and expected his passing that night, Talhah awoke at midnight, forbade summoning the Prophet ﷺ at that hour lest a mount sting him, sent his greetings and asked his forgiveness, died before dawn, and the Prophet ﷺ raised his hand in supplication for him. > **"O Allah, meet him while he laughs to You and You laugh to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسکین نے طلحہ بن مسکین کے حوالے سے حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ بڑھائیے ! اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ اپنا دست مبارک بڑھائیے ، تاکہ میں آپ ﷺ کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں اپنے والدین سے لاتعلقی کا حکم دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس چیز پر ؟ میں نے عرض کی : اسلام پر ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ میں تمہیں تمہارے والدین کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرنے کا حکم دوں ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر میں نے تیسری مرتبہ عرض کی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُن صحابی کی ایک والدہ تھیں اور وہ اُس خاتون کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کیا کرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے طلحہ ! ہمارے دین میں رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا نہیں ہے ، لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اُن کا اسلام عمدہ ہوا ۔ پھر وہ بیمار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ اُن کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : طلحہ کے بارے میں مجھے یہ توقع ہے کہ یہ آج رات انتقال کر جائے گا ، اگر اسے ہوش آ جائے تو مجھے پیغام بھیج کے بلوانا ، نصف رات کے وقت حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے میری عیادت نہیں کی ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں ( یعنی کی ہے ) پھر لوگوں نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کے بارے میں بتایا ، تو انہوں نے کہا : تم اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس کسی کو نہ بھیجو ! ہو سکتا ہے ، جانے والے شخص کو کوئی جانور ڈنک مار دے ، یا اسے کوئی اور نقصان پہنچ جائے ، البتہ جب صبح ہو جائے ، تو تم میری طرف سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کر دینا ، اور آپ کو یہ درخواست کر دینا کہ آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی اور ان صاحب کے بارے میں دریافت کیا : تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو ان صاحب کے انتقال اور ان کے بیان کے بارے میں بتایا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو اس کے ساتھ ایسی حالت میں ملاقات کرنا کہ وہ تیری طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ، اور تو اُس کی طرف دیکھ کے مسکرا رہا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدربہ بن صالح نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔