Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 37

Book of Virtues and Merits

Hadith 15729–15768

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15729

Majma al-Zawaid #15729

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet ﷺ said that the voice of Abu Ṭalḥah in the army is better than a troop. > **"The voice of Abu Ṭalḥah in the army is better than a troop"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ لشکر میں ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15730

Majma al-Zawaid #15730

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةَ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] فَقَالَ: أَلَّا أَرَى رَبِّي يَسْتَنْفِرُنِي [شَابًّا وَشَيْخًا جَهَّزُونِي، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ: قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قُبِضَ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ فَنَحْنُ نَغْزُوا عَنْكَ. فَقَالَ: جَهِّزُونِي، فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that Abu Ṭalḥah recited Surat Baraʾah, and when he came to the verse, March forth, light and heavy, he said, I do not see my Lord but mobilizing me, young and old, so equip me. His sons said to him, You fought with the Messenger of Allah ﷺ until he passed away, and you fought with Abu Bakr until he died, and you fought with ʿUmar, so we shall fight on your behalf. He said, Equip me. He then boarded the sea and died, and they found no island in which to bury him except after seven days, yet he had not changed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورت توبہ کی تلاوت کی ، جب وہ اس مقام پر پہنچے : ’’ ہلکے یا بوجھل ہونے کے عالم میں نکل کھڑے ہو ۔‘‘ تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ دیکھ رہا ہوں ، میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے ، میں نکل کھڑا ہوؤں ، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں ، تو تم لوگ مجھے سامان سفر تیار کر کے دو ! ان کے بیٹوں نے کہا : آپ اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ، اور اب ہم آپ کی جگہ جنگ میں حصہ لے لیں گے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے سامان فراہم کرو ! پھر وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے ، اور اس دوران ان کا انتقال ہو گیا ہے ، لوگوں کو ان کو دفن کرنے کے لئے کوئی جزیرہ نہیں ملا ، ایسا جزیرہ سات دن بعد ملا ، لیکن اس دوران ان کی میت خراب نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15731

Majma al-Zawaid #15731

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ غَازِيًا فِي الْبَحْرِ، فَمَاتَ فِي السَّفِينَةِ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ، فَانْتَظَرُوا بِهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ حَتَّى وَجَدُوا لَهُ بَعْدَ سَبْعٍ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ كَمَا هُوَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that Abu Ṭalḥah went out raiding in the sea and died in the ship. They found no place to bury him, so they waited with him six days until after seven they found a place to bury him, and he had not changed as he was.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سمندری جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے ان کا کشتی میں انتقال ہو گیا ، ان لوگوں کو انہیں دفن کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی ، تو وہ چھ دن تک انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ سات دن بعد انہیں ایک جگہ ملی ، جہاں ان لوگوں نے انہیں دفن کیا ، تو اس دوران ان کا جسم خراب نہیں ہوا ، بلکہ ویسے ہی رہا جیسے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15732

Majma al-Zawaid #15732

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو طَلْحَةَ: زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَسِنُّهُ سَبْعُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Abu Ṭalḥah, Zayd ibn Sahl رضي الله عنه died in the year thirty-four, and ʿUthman ibn ʿAffan, رضي الله عنهما, prayed over him, while his age was seventy years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی اور ان کا نام حضرت زید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

15733

Majma al-Zawaid #15733

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ،، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً، وَقِيلَ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ مِنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullah ibn Numayr reported that Abu Ṭalḥah, Zayd ibn Sahl, died in the year thirty-four, and ʿUthman ibn ʿAffan prayed over him, and he died at seventy years of age, while it is said that Abu Ṭalḥah died in the year thirty-two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر ستر برس کے لگ بھگ تھی ، ایک قول کے مطابق حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال بتیس ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے ۔

15734

Majma al-Zawaid #15734

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَهُوَ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مَعَ جِبْرِيلَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming those among the Anṣar who witnessed Badr, then from Banu al-Najjar, listed Ḥarithah ibn al-Nuʿman, and he is the one who passed by the Messenger of Allah ﷺ while he was with Jibril عليه السلام at the seats.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد میں انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور یہ وہ فرد ہیں کہ جو نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تھے اور اس وقت نبی اکرم ﷺ ” مقاعد ‘‘ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15735

Majma al-Zawaid #15735

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ - فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا -: حَارِثَةُ بْنُ نُعْمَانِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غُنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥaq, in naming those who witnessed Badr, listed Ḥarithah ibn Nuʿman ibn Zayd ibn ʿAmir ibn Sawad ibn Kaʿb, and Kaʿb is Ẓafar, ibn al-Khazraj ibn ʿAmr ibn al-Aws.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ بن نعمان بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15736

Majma al-Zawaid #15736

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ» "" [وَكَانَ بَرًّا بِأُمِّهِ]. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ that he said, I entered Paradise and heard recitation therein. I asked, Who is this. They said, Ḥarithah ibn al-Nuʿman. Thus is devotion, thus is devotion. And he was dutiful to his mother. > **"I entered Paradise and heard recitation therein; thus is devotion, thus is devotion"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ میں جنت میں داخل ہوا ، تو میں نے اس میں تلاوت کی آواز سنی ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا : یہ حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) فرمانبردار اسی طرح ہوتے ہیں ، فرمانبردار اسی طرح ہوتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15737

Majma al-Zawaid #15737

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: «أَنَّ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ، فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" إِنَّهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmir ibn Rabiʿah reported that Ḥarithah ibn al-Nuʿman said, I passed by the Messenger of Allah ﷺ while Jibril عليه السلام was with him, sitting in the seats. I greeted him and then passed on. When I returned and the Prophet ﷺ departed, he said, Did you see who was with me. I said, Yes. He said, He is Jibril عليه السلام, and he returned your greeting. > **"He is Jibril عليه السلام, and he returned your greeting"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ ’’ مقاعد ‘‘ میں تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں گزر گیا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم ﷺ اس دوران فارغ ہو چکے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اُس فرد کو دیکھا تھا ؟ جو میرے ساتھ موجود تھا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15738

Majma al-Zawaid #15738

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِي الْبَارِحَةَ»؟ "". قَالَ: رَأَيْتُكَ تُنَاجِي رَجُلًا فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ: "" «فَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ»؟ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" «جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ» "". وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn ʿUqbah reported that Abu Salamah narrated from the man who passed by the Messenger of Allah ﷺ while he was conversing privately with Jibril عليه السلام. Abu Salamah claimed that he kept away from approaching the Messenger of Allah ﷺ fearing to hear his conversation. In the morning the Messenger of Allah ﷺ said to him, What prevented you from greeting when you passed by me last night. He said, I saw you conversing privately with a man, so I feared you would dislike my approaching you both. He said, Do you know who the man was. He said, No. He said, Jibril عليه السلام, and had you greeted he would have returned the greeting. And I heard from other than Abu Salamah that he was Ḥarithah ibn al-Nuʿman. > **"What prevented you from greeting when you passed by me last night"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ابوسلمہ نے اُن صاحب کے حوالے سے یہ روایت مجھے بیان کی ہے ، جو نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم ﷺ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ بیان کرنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے قریب نہیں گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ شاید آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں اگلے دن جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس وقت سلام کیوں نہیں کیا ؟ جب تم گزشتہ رات میرے پاس سے گزرے تھے ، تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو یہ چیز ناگوار نہ گزرے کہ میں آپ کی بات میں مخل ہوا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے ، تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہے کہ وہ فرد حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15739

Majma al-Zawaid #15739

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ حَارِثَةَ بْنَ النُّعْمَانِ قَالَ: «مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ فِي جَالِسٌ الْمَقَاعِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" إِنَّهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmir ibn Rabiʿah reported that Ḥarithah ibn al-Nuʿman said, I passed by the Messenger of Allah ﷺ while Jibril عليه السلام was with him, seated in the seats. I greeted him and then passed on. When I returned and the Prophet ﷺ departed, he said, Did you see who was with me. I said, Yes. He said, He is Jibril عليه السلام, and he returned your greeting. > **"He is Jibril عليه السلام, and he returned your greeting"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ یہ بات بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت ” مقاعد ‘‘ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں آگے گزر گیا ، جب میں واپس آیا تو اس دوران نبی اکرم ﷺ بھی فارغ ہو چکے تھے ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو میرے ساتھ تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور اس نے تمہیں سلام کا جواب دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15740

Majma al-Zawaid #15740

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُنَاجِي جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَزَعَمَ أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ تَجَنَّبَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَوُّفًا أَنْ يَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ إِذْ مَرَرْتَ بِيَ الْبَارِحَةَ» "". فَقَالَ: رَأَيْتُكَ تَنَاجِي رَجُلًا ; فَخَشِيتُ أَنْ تَكْرَهَ أَنْ أَدْنُوَ مِنْكُمَا قَالَ: "" «فَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلِ؟» "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" «جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ» "". وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَيْرِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn ʿUqbah reported that Abu Salamah narrated from the man who passed by the Messenger of Allah ﷺ while he was conversing privately with Jibril عليه السلام. Abu Salamah claimed that he kept away from approaching the Messenger of Allah ﷺ fearing to hear his conversation. In the morning the Messenger of Allah ﷺ said to him, What prevented you from greeting when you passed by me last night. He replied, I saw you conversing privately with a man, so I feared you would dislike my approaching you both. He said, Do you know who the man was. He said, No. He said, Jibril عليه السلام, and had you greeted he would have returned the greeting. And I heard from other than Abu Salamah that he was Ḥarithah ibn al-Nuʿman. > **"Jibril عليه السلام, and had you greeted he would have returned the greeting"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن عقبہ بیان کرتے ہیں : ابوسلمہ نے مجھے ان صاحب کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے ، جو نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تھے اور نبی اکرم ﷺ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، ابوسلمہ کا یہ کہنا ہے : وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے قریب ہونے سے اجتناب کر گئے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں آپ کی گفتگو میں مخل نہ ہوں ، اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ تم جب گزشتہ شام میرے پاس سے گزرے تھے ، تو تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو ایک شخص کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید آپ اس بات کو ناپسند کریں گے کہ میں آپ کے قریب آ جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ فرد کون تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اگر تم سلام کرتے تو اس نے سلام کا جواب دینا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ نامی راوی کے علاوہ سے یہ بات سنی ہوئی ہے کہ وہ فرد ، حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15741

Majma al-Zawaid #15741

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَرَّ حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُنَاجِيهِ، فَمَرَّ وَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: مَا مَنْعُهُ أَنْ يُسَلِّمَ؟ إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ مِنَ الثَّمَانِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَمَا الثَّمَانُونَ؟ "". قَالَ: يَفِرُّ النَّاسُ عَنْكَ غَيْرَ ثَمَانِينَ فَيَصْبِرُونَ مَعَكَ، رِزْقُهُمْ وَرِزْقُ أَوْلَادِهِمْ عَلَى اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ. فَلَمَّا رَجَعَ حَارِثَةُ سَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا سَلَّمْتَ حِينَ مَرَرْتَ؟ "". قَالَ: رَأَيْتُ مَعَكَ إِنْسَانًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ حَدِيثَكَ. قَالَ: "" وَرَأَيْتُهُ؟ "". قَالَ: "" ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ قَالَ "". فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رِجَالُهُ كُلُّهُمْ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported that Ḥarithah ibn al-Nuʿman passed by the Messenger of Allah ﷺ while Jibril عليه السلام was conversing privately with him, and he passed without greeting. Jibril عليه السلام said, What prevented him from greeting. Had he greeted I would have returned it. Then he said, Yet he is among the eighty. The Messenger of Allah ﷺ asked, What are the eighty. He said, The people will flee from you except eighty who will stand firm with you; their provision and their children's provision is upon Allah in Paradise. When Ḥarithah returned he greeted, and the Messenger of Allah ﷺ said to him, Did you not greet when you passed. He said, I saw a person with you and disliked interrupting your conversation. He asked, And did you see him. He said, That is Jibril عليه السلام. And he informed him of what Jibril عليه السلام had said. > **"Had he greeted I would have returned it"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام موجود تھے اور آپ سرگوشی میں ان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ گزر گئے ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا ، انہوں نے سلام نہیں کیا ، اگر یہ سلام کرتا تو میں نے اسے جواب دینا تھا ، پھر انہوں نے کہا : شاید یہ شخص ’’ ثمانین ‘‘ میں سے ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا :” ثمانون ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سب لوگ آپ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے ، صرف ” ثمانین ‘‘ ( یعنی اتنی افراد ) کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ کے ساتھ جمے رہیں گے ، جنت میں ان کو اور ان کی اولاد کو رزق فراہم کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، جب حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ واپس گئے تو انہوں نے سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جب تم پہلے گزرے تھے تو تم نے سلام نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی گفتگو میں مخل ہو جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے بتایا : وہ جبرائیل علیہ السلام تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں وہ بات بتائی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جو آپ سے کہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور ان سب کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15742

Majma al-Zawaid #15742

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَنْ سَيِّدُكُمْ؟ "". قَالُوا: جَدُّ بْنُ قَيْسٍ، وَإِنَّا لَنَبْخَلُهُ. قَالَ: "" لَيْسَ سَيِّدَكُمْ، وَلَكِنَّ سَيِّدَكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ وَكَانَ سَخِيًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, رضي الله عنهما, reported that the Messenger of Allah ﷺ said, O company of Anṣar, who is your chief. They said, Al-Jadd ibn Qays, though we deem him miserly. He said, He is not your chief, but your chief is ʿAmr ibn al-Jamuḥ, and he was generous. > **"O company of Anṣar, who is your chief"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : جد بن قیس ، ویسے ہم انہیں بخیل سمجھتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہارا سردار نہیں ہے ، بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے ، وہ سخی ہے ۔‘‘ ( شاید یہ الفاظ راوی کے ہیں : وہ سخی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ بن ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15743

Majma al-Zawaid #15743

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ؟ "". قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ عَلَى أَنَّا نَبْخَلُهُ. قَالَ: بَلْ سَيِّدُكُمُ الْجَعْدُ الْأَبْيَضُ: عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ» ""قَالَ: وَكَانَ بْنُ الْجَمُوحِ يُولِمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ إِذَا تَزَوَّجَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُمَا وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, Who is your chief, O Banu Salamah. They said, Al-Jadd ibn Qays, though we deem him miserly. He said, Rather your chief is the fair white one, ʿAmr ibn al-Jamuḥ. And Ibn al-Jamuḥ used to host a feast for the Messenger of Allah whenever he married. > **"Who is your chief, O Banu Salamah"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جد بن قیس ہیں ، ویسے ہم انہیں بخیل شمار کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ تمہارا سردار گھنگھریالے بالوں والا ، گوری رنگت والا ، عمرو بن جموح ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی شادی کرتے تھے ، تو حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ولیمے کا انتظام کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حمید بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے ، عثمان بن ابوشیبہ اور ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

15744

Majma al-Zawaid #15744

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَيِّدُكُمُ «يَا بَنِي سَلَمَةَ؟ "". قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ عَلَى أَنَّا نَبْخَلُهُ قَالَ: "" وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ! بَلْ سَيِّدَكُمْ الْجَعْدُ القَطِطُ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Malik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said, Who is your chief, O Banu Salamah. They said, Al-Jadd ibn Qays, though we account him miserly. He said, And what disease is worse than miserliness. Rather your chief is the curly-haired fair one, ʿAmr ibn al-Jamuḥ. > **"And what disease is worse than miserliness"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس ہیں ، ویسے ہم انہیں بخیل شمار کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار گھنگھریالے بالوں والا فرد ، عمرو بن جموح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔

15745

Majma al-Zawaid #15745

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا بَنِي سَلَمَةَ، مَنْ سَيِّدُكُمُ الْيَوْمَ؟ "". قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَلَكِنَّا نَبْخَلُهُ قَالَ: "" وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ! وَلَكِنَّ سَيِّدَكُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ فِي الْبُخْلِ وَالسَّخَاءِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, O Banu Salamah, who is your chief today. They said, Al-Jadd ibn Qays, though we deem him miserly. He said, And what disease is worse than miserliness. But your chief is ʿAmr ibn al-Jamuḥ. > **"And what disease is worse than miserliness"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بنو سلمہ ! آج تمہارا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس ہیں ، لیکن ہم انہیں بخیل سمجھتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار عمرو بن جموح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الزکوۃ میں ، کنجوسی اور سخاوت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

15746

Majma al-Zawaid #15746

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ: «أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ، أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ - وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ -؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". فَقَتَلُوا يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَمْشِي بِرِجْلِهِ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ "". فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ نَصْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه who was present at that, reported that ʿAmr ibn al-Jamuḥ came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, tell me, if I fight in the path of Allah until I am killed, shall I walk with this foot of mine sound in Paradise, and his leg was lame. The Messenger of Allah ﷺ said, Yes. He was killed on the day of Uḥud, he and his nephew and a freedman of theirs. The Messenger of Allah ﷺ passed by him and said, As if I see him walking with this leg of his sound in Paradise. The Messenger of Allah ﷺ then ordered concerning them and their freedman, and they were placed in a single grave. > **"Yes"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اُس وقت وہاں موجود تھے جب حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہوں اور قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا میں جنت میں اپنی اس ٹانگ کے ذریعے صحیح طور پر چل پاؤں گا ؟ راوی کہتے ہیں : اُن کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو غزوہ احد کے دن ، وہ ان کے ایک بھتیجے اور ان کے ایک غلام شہید ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں گویا اس وقت بھی اس کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ یہ اپنی اس ٹانگ کے ذریعے صحیح طور پر چل رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں افراد اور ان کے غلام کے بارے میں حکم دیا ، تو انہیں ایک ہی قبر میں اتارا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن نصر انصاری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15747

Majma al-Zawaid #15747

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي عُبَيْدٍ؟ "". قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ الْقَيْسِ، عَلَى أَنَّ فِيهِ بُخْلًا. قَالَ: "" فَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟! بَلْ سَيِّدُكُمْ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, Who is your chief, O Banu ʿUbayd. They said, Al-Jadd ibn al-Qays, though there is miserliness in him. He said, And what disease is worse than miserliness. Rather your chief is Bishr ibn al-Baraʾ ibn Maʿrur. > **"And what disease is worse than miserliness"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بنو عمیر ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : جد بن قیس ہیں ، البتہ ان میں بخل پایا جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار بشر بن براء بن معرور ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن محمد وراق ہے اور وہ متروک ہے ۔

15748

Majma al-Zawaid #15748

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ؟ "". قَالُوا: جَدُّ بْنُ قَيْسٍ، عَلَى أَنَّا نَزِنُهُ بِالْبُخْلِ، فَقَالَ: "" وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟! "". قَالُوا: فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخَيِ الطَّبَرَانِيِّ وَلَمْ أَرَ مِنْ ضَعْفِهِمَا.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Malik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said, Who is your chief, O Banu Salamah. They said, Jadd ibn Qays, though we account him miserly. He said, And what disease is worse than miserliness. They said, Then who is our chief, O Messenger of Allah. He said, Bishr ibn al-Baraʾ ibn Maʿrur. > **"And what disease is worse than miserliness"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جد بن قیس ہیں ، تاہم ہم ان پر بخل کا الزام عائد کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمارا سردار کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بشر بن براء بن معرور ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے دونوں استادوں کا معاملہ مختلف ہے ، البتہ میں نے کسی کو ان دونوں کو ضعیف قرار دیتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

15749

Majma al-Zawaid #15749

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِيمَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، وَهُوَ [الَّذِي] أَكَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشَّاةِ الَّتِي سُمَّ فِيهَا يَوْمَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ ذَكَرْتُهَا فِي مَوَاضِعِهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab reported, concerning those who witnessed al-ʿAqabah among the Anṣar, then from Banu Salamah: Bishr ibn al-Baraʾ ibn Maʿrur, and he is the one who ate with the Messenger of Allah ﷺ from the sheep in which poison was placed on the day of Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے بیعت عقبہ میں شرکت کرنے والے افراد میں ، انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ، حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، جنہوں نے خیبر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس بکری کا گوشت کھایا تھا ، جس میں زہر ملایا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں میں ان کے متعلقہ مقامات پر ذکر کر چکا ہوں ۔

15750

Majma al-Zawaid #15750

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «رَحِمَ اللَّهُ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، كَانَ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ أَنَاخَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar, رضي الله عنهما, reported that the Messenger of Allah ﷺ said, May Allah have mercy upon my brother ʿAbdullah ibn Rawahah; wherever prayer overtook him, he made his camel kneel. > **"May Allah have mercy upon my brother ʿAbdullah ibn Rawahah"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ میرے بھائی عبداللہ بن رواحہ پر رحم کرے ! اُسے جہاں بھی نماز کا وقت ہوتا تھا ، وہ جانور کو بٹھا لیتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15751

Majma al-Zawaid #15751

وَعَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ: "" اجْلِسُوا "". فَسَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسُوا "". فَجَلَسَ فِي بَنِي غُنْمٍ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ ابْنُ رَوَاحَةَ جَالِسٌ فِي بَنِي غُنْمٍ ; سَمِعَكَ وَأَنْتَ تَقُولُ لِلنَّاسِ: "" اجْلِسُوا "". فَجَلَسَ فِي مَكَانِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَجْمَعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ sat on the minbar on Friday, and when he sat he said, Sit. ʿAbdullah ibn Rawahah heard the statement of the Messenger of Allah ﷺ, Sit, so he sat among Banu Ghunm. It was said, O Messenger of Allah, that is Ibn Rawahah sitting among Banu Ghunm; he heard you saying to the people, Sit, so he sat in his place. > **"Sit"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ، جب آپ تشریف فرما ہو گئے تو آپ نے فرمایا : تم لوگ بیٹھ جاؤ ! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان سن لیا :” تم لوگ بیٹھ جاؤ ‘‘ تو وہ بنو غنم میں بیٹھ گئے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ وہاں بنو غنم میں بیٹھ گئے ہیں ، انہوں نے آپ کو لوگوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بیٹھ جاؤ ! تو وہ اُسی جگہ بیٹھ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15752

Majma al-Zawaid #15752

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ: أَبُو الْيُسْرِ: كَعْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غُنْمِ بْنِ [سَوَادُ بْنُ غُنْمِ بْنِ] كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥaq, in naming those among the Anṣar who witnessed Badr, then from Banu al-Khazraj, listed Abu al-Yusr, Kaʿb ibn ʿAmr ibn ʿAbbad ibn ʿAmr ibn Ghunm ibn Sawad ibn Ghunm ibn Kaʿb ibn Salamah ibn ʿAli.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے ، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں انصار کی شاخ بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو بن عباد بن عمرو بن غنم بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ بن علی کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15753

Majma al-Zawaid #15753

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ: كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً، إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ تُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ [رَجُلٍ] يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ»؟ "". قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" «فَافْعَلْ» "". قَالَ: فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَلِّيًا قَالَ: "" «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ» "". قَالَ: فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ أُخْرَاهَا فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدَيَّ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ، حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَبَحُوهُمَا وَأَكَلُوهُمَا. فَكَانَ أَبُو الْيُسْرِ مِنْ آخَرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلَاكًا، فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: أُمْتِعُوا بِي لَعَمْرِي حَتَّى كُنْتُ آخِرَهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلَمَةَ عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Yusr, Kaʿb ibn ʿAmr رضي الله عنه reported: By Allah, I was with the Messenger of Allah ﷺ at Khaybar one evening when sheep belonging to a Jewish man approached, heading for their fortress while we were besieging them. The Messenger of Allah ﷺ said, Which man will feed us from these sheep. I said, I will, O Messenger of Allah. He said, Then do so. He said: I went out running like an ostrich, and when the Messenger of Allah ﷺ saw me turning away he said, O Allah, grant us enjoyment through him. He said: I caught up with the sheep after the first of them had entered the fortress, so I took two sheep from the last of them and clasped them under my arms, then came back running as though I carried nothing, until I cast them before the Messenger of Allah ﷺ, and they slaughtered them and ate them. And Abu al-Yusr was among the last of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ to perish; when he narrated this ḥadith he wept, then said, Grant me enjoyment, by my life, until I was the last of them. > **"O Allah, grant us enjoyment through him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! خیبر میں ، میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شام کے وقت موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص کی بکریاں آئیں ، جو قلعے میں جانا چاہ رہی تھیں ، ہم نے ان کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون شخص ان بکریوں میں سے کھانا کھلائے گا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کرو ! راوی کہتے ہیں : تو میں نر جانور کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے جاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا ، راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پہنچا ، ان کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا ، میں نے ان کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں بغل میں دبایا اور پھر انہیں لے کر دوڑتا ہوا آ گیا ، یوں جیسے میرے ساتھ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، میں نے ان دونوں کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا ، لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور انہوں نے ان دونوں کا گوشت کھایا ۔ حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں آخر میں انتقال کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، جب وہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ، پھر فرماتے تھے : تم مجھ سے نفع حاصل کر لو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں ان ( یعنی صحابہ کرام ) میں سے آخری افراد میں سے ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، حضرت کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15754

Majma al-Zawaid #15754

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو الْيُسْرِ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Abu al-Yusr, Kaʿb ibn ʿAmr, died in the year fifty-five at Madinah, and he was the last of the people of Badr to die.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال پچپن ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا تھا اور یہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد میں انتقال کرنے والے آخری فرد ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15755

Majma al-Zawaid #15755

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أَبُو الْيُسْرِ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullah ibn Numayr reported that Abu al-Yusr, Kaʿb ibn ʿAmr, died in the year fifty-five at Madinah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال پچپن ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15756

Majma al-Zawaid #15756

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَمَرَ أَبِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" «مَا هَذَا يَا جَابِرُ، أَلَحَمٌ ذَا؟» "". قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا. قَالَ: "" ضَعْهَا "". فَأَتَيْتُ أَبِي، فَقَالَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: قَالَ لِي: "" «مَا هَذَا يَا جَابِرُ؟ أَلَحْمٌ؟» "". قَالَ أَبِي: أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ أَحْسَبُ - يَشْتَهِي اللَّحْمَ. فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «جَزَاكُمُ اللَّهُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا، وَلَا سِيَّمَا آلَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn Ḥaram, رضي الله عنهما, reported that his father ordered a ḥarirah to be made, so he made it, then his father ordered him and he carried it to the Messenger of Allah ﷺ. He said to me, What is this, O Jabir, is it meat. I said, No, O Messenger of Allah, but my father ordered me to make a ḥarirah, so I made it, then he ordered me and I carried it. He said, Put it down. I came to my father, who asked, What did the Messenger of Allah ﷺ say to you. I said, He said to me, What is this, O Jabir, is it meat. My father said, I think the Messenger of Allah ﷺ desires meat. He stood to a domestic animal and slaughtered it, then ordered it roasted, then ordered me and I brought it. The Messenger of Allah ﷺ said, May Allah reward you, O company of Anṣar, with good, and especially the family of ʿAmr ibn Ḥaram and Saʿd ibn ʿUbādah. > **"May Allah reward you, O company of Anṣar, with good"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ’’ حریرہ ‘‘ تیار کرنے کا حکم دیا ، میں تے وہ تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں اسے اُٹھا کے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا وہ میں نے تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں اسے اٹھا کے لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے رکھ دو ! میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے تم سے کیا فرمایا ؟ میں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے کہا : میرا خیال ہے ، نبی اکرم ﷺ کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے ، پھر وہ بکری کی طرف اُٹھ کے گئے ، انہوں نے اسے ذبح کیا ، پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا ، تو میں اس کا گوشت لے کر آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کے گھر والوں کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15757

Majma al-Zawaid #15757

وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجَابِرٍ: "" «أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا جَابِرُ؟ "". قَالَ: [بَلَى] يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْخَيْرِ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ فَأَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: تَمَنَّ عَلَيَّ مَا شِئْتَ أُعْطِيكَهُ قَالَ: يَا رَبِّ، مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ، أَتَمَنَّى عَلَيْكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقَاتِلَ مَعَ نَبِيِّكَ فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ لَهُ: قَدْ سَلَفَ مِنِّي إِنَّكَ إِلَيْهَا لَا تَرْجِعُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ الْفَيْضِ بْنِ وَثِيقٍ، عَنْ أَبِي عُبَادَةَ الزُّرَقِيِّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, Mother of the Believers رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said to Jabir, Shall I not give you glad tidings, O Jabir. He said, Yes, O Messenger of Allah, with good. He said, Allah gave life to your father and seated him before Him, and said, Wish of Me whatever you will and I shall give it to you. He said, O Lord, we did not worship You as You deserve to be worshipped; I wish of You to return me to the world so I may fight with Your Prophet and be killed once more. He said to him, It has already preceded from Me that you shall not return to it. > **"Shall I not give you glad tidings, O Jabir"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! بھلائی کی بات ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اسے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا : تم میرے سامنے جو چاہو آرزو کرو ! میں وہ چیز تمہیں عطا کروں گا ، اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! ہم نے تیری عبادت اس طرح نہیں کی ، جو تیری عبادت کا حق تھا ، تو میں تیرے سامنے یہ خواہش بیان کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے ، تاکہ میں تیرے نبی کے ساتھ جنگ میں حصہ لوں اور مجھے دوبارہ قتل کر دیا جائے ، تو پروردگار نے اس سے فرمایا : میری طرف سے یہ بات پہلے طے ہو چکی ہے کہ تم دنیا کی طرف واپس نہیں جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے فیض بن وثیق کے حوالے سے ابوعبادہ زرقی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

15758

Majma al-Zawaid #15758

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: اسْتُشْهِدَ أَبِي وَعَمِّي وَعَلَى أَبِي دَيْنٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" «يَا جَابِرُ، أَلَا أُبَشِّرُكَ بِبِشَارَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَحْيَا أَبَاكَ وَعَمَّكَ فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا، وَسَأَلَا رَبَّهُمَا أَنْ يَرُدَّهُمَا إِلَى الدُّنْيَا، فَقَالَ: أَبَعْدَ مَا قَضَيْتُ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ؟!». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ خَالِيًا عَنْ ذِكْرِ عَمِّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that his father and his uncle were martyred while his father had a debt. The Messenger of Allah ﷺ sent to me and said, O Jabir, shall I not give you tidings of a glad tiding from Allah and His Messenger. Allah, Blessed and Exalted, gave life to your father and your uncle and presented to them, and they asked their Lord to return them to the world. He said, Is it after what I have decreed in the Book that they shall not be returned to it. > **"O Jabir, shall I not give you tidings of a glad tiding from Allah and His Messenger"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد اور میرے چچا نے جام شہادت نوش کر لیا ، میرے والد کے ذمہ قرض تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے جابر ! کیا میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی خوشخبری نہ سناؤں ؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ اور تمہارے چچا کو زندہ کیا اور ان دونوں کے سامنے آیا ، ان دونوں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی کہ پروردگار ان دونوں کو دوبارہ دنیا کی طرف بھیج دے ، تو پروردگار نے فرمایا : یہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ میں کتاب میں یہ طے کر چکا ہوں کہ اُن لوگوں کو دنیا کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے چچا کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمرو ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15759

Majma al-Zawaid #15759

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَامَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَلَّ عَلَى أَبِيهِ السَّيْفَ وَقَالَ: لِلَّهِ عَلَيَّ أَلَّا أُغْمِدَهُ حَتَّى تَقُولَ: مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ قَالَ: وَيْلَكَ! مُحَمَّدٌ الْأَعَزُّ وَأَنَا الْأَذَلُّ! فَبَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْجَبَهُ وَشَكَرَهَا لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Zayd, رضي الله عنهما, reported that when the Messenger of Allah ﷺ returned from Banu al-Muṣṭaliq, the son of ʿAbdullah ibn Ubayy stood and drew his sword against his father, saying, It is binding upon me before Allah not to sheathe it until you say, Muḥammad is the mightiest and I am the lowest. He said, Woe to you, Muḥammad is the mightiest and I am the lowest. It reached the Messenger of Allah ﷺ, and it pleased him and he thanked him for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ بنو مصطلق سے واپس تشریف لائے تو عبداللہ بن اُبی کا بیٹا ( ان کا نام بھی حضرت عبداللہ ہی یہ ہے ) اس نے اپنے باپ کے سامنے تلوار سونت لی اور یہ کہا : اللہ کی قسم ! مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ یہ تلوار میں اس وقت تک میان میں نہیں ڈالوں گا ، جب تک آپ یہ نہیں کہتے : کہ حضرت محمد ﷺ عزت والے ہیں اور میں ذلیل ہوں ، تو عبداللہ بن اُبی نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ! حضرت محمد ﷺ عزت والے ہیں ، اور میں ذلیل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی گئی تو آپ کو یہ بات اچھی لگی اور آپ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله کا شکریہ ادا کیا ( یا ان کی تعریف کی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15760

Majma al-Zawaid #15760

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ: أَنَّهُ «اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقْتُلَ أَبَاهُ قَالَ: "" لَا تَقْتُلْ أَبَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAbdullah ibn Ubayy, رضي الله عنهما, reported that he sought permission from the Prophet ﷺ to kill his father. He said, Do not kill your father. > **"Do not kill your father"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن اُبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے باپ ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ) کو قتل کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے باپ کو قتل نہ کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله بن ابی کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15761

Majma al-Zawaid #15761

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ فِي ظِلِّ أُطُمٍ، فَقَالَ: غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ، فَقَالَ: "" لَا. وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ، وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ passed by ʿAbdullah ibn Ubayy while he was in the shade of a fortress, and he said, Ibn Abi Kabshah has raised dust upon us. His son ʿAbdullah ibn ʿAbdullah said, O Messenger of Allah, by the One Who honored you, if you wish I shall bring you his head. He said, No, but honor your father and keep good company with him. > **"No, but honor your father and keep good company with him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر عبداللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت ایک عمارت کے سائے میں موجود تھا ، اس نے کہا : ابن ابوکبشہ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ، تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله نے کہا : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں اس کا سر آپ کے پاس لے کر آتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15762

Majma al-Zawaid #15762

عَنْ شُبَابٍ قَالَ: عُمَارَةُ بْنُ حَزْمِ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَأُمُّهُ أُمُّ إِخْوَتِهِ عَمْرٍو وَمَعْمَرٍ، بَنُو حَزْمٍ: خَالِدَةُ بِنْتُ أَنَسِ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ وَهْبِ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ سَاعِدَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Shabab reported that ʿUmarah ibn Ḥazm ibn Lawdhan ibn ʿAmr ibn ʿAbd ʿAwf ibn Malik ibn al-Najjar, and his mother, the mother of his brothers ʿAmr and Maʿmar, the sons of Ḥazm, was Khalidah bint Anas ibn Shayban ibn Wahb ibn Lawdhan ibn ʿAmr ibn Thaʿlabah ibn al-Khazraj ibn Saʿidah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عماره رضی اللہ عنہ بن حزم بن لوذان بن عمرو بن عبدعوف بن مالک بن نجار ہیں ، ان کی والدہ جو ان کے بھائی عمرو اور معمر کی بھی والدہ ہیں ، وہ خالدہ بنت انس بن شیبان بن وہب بن لوذان بن عمرو بن ثعلبہ بن خزرج بن ساعدہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15763

Majma al-Zawaid #15763

وَعَنْ شُبَابٍ أَيْضًا قَالَ: شَهِدَ عُمَارَةُ بْنُ حَزَمٍ الْعَقَبَةَ، وَبَدْرًا، وَأُحُدًا، وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Shabab also reported that ʿUmarah ibn Ḥazm witnessed al-ʿAqabah, Badr, Uḥud, and all the scenes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب بیان کرتے ہیں : حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ ، غزوہ احد اور غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15764

Majma al-Zawaid #15764

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ: عِمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah, in naming those martyred on the day of al-Yamamah among the Anṣar, then from Banu Malik ibn al-Najjar, listed ʿImarah ibn Ḥazm.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں انصار کی شاخ ، بنو مالک بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15765

Majma al-Zawaid #15765

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: عُمَارَةُ بْنُ حَزْمِ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ غُنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ وُثِّقُوا، وَنَسَبُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ عُمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥaq, in naming those martyred on the day of al-Yamamah among the Anṣar, then from Banu al-Khazraj, then from Banu al-Najjar, listed ʿUmarah ibn Ḥazm ibn Lawdhan ibn ʿAmr ibn ʿAbd ʿAwf ibn Ghunm ibn Malik ibn al-Najjar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں ، انصار کی شاخ بنو خزرج کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت عماره رضی اللہ عنہ بن حزم بن لوذان بن عمرو بن عبدعوف بن غنم بن مالک بن نجار کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، انہوں نے اس کی نسبت ابن اسحاق کی طرف کی ہے کہ انہوں نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔

15766

Majma al-Zawaid #15766

عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي ظُفَرَ: قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَوَادِ بْنِ كَعْبِ - وَكَعْبٌ ظُفَرُ - بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَوْسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥaq, in naming those who witnessed Badr among the Anṣar, then from al-Aws, then from Banu Ẓafar, listed Qatadah ibn al-Nuʿman ibn Zayd ibn ʿAmir ibn Sawad ibn Kaʿb, and Kaʿb is Ẓafar, ibn al-Khazraj ibn ʿAmr ibn al-Aws.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ ، بنو ظفر سے تعلق رکھنے والے ، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بن نعمان بن زید بن عامر بن سواد بن کعب بن خزرج بن عمرو بن اوس کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15767

Majma al-Zawaid #15767

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي مُظْلِمَةً، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدْتُ مَعَهُ الصَّلَاةَ وَآنَسْتُهُ بِنَفْسِي. فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ بَرَقَتِ السَّمَاءُ، فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا قَتَادَةُ مَا هَاجَ عَلَيْكَ؟ "". قُلْتُ: أَرَدْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْ أُؤْنِسَكَ قَالَ: "" خُذْ هَذَا الْعُرْجُونَ فَتَخَصَّرْ بِهِ ; فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ أَضَاءَ لَكَ عَشْرًا أَمَامَكَ وَعَشْرًا خَلْفَكَ "". ثُمَّ قَالَ لِي: "" إِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ رَأَيْتَ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ فِي أَسْتَارِ بَيْتِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ شَيْطَانٌ. قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَأَضَاءَ لِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَفِي الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا، وَرِجَالُ أَحْمَدَ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatadah ibn al-Nuʿman رضي الله عنه reported: I went out one dark night, and I said, If only I would come to the Messenger of Allah ﷺ and witness prayer with him and keep him company. I did so, and when I entered the mosque the sky flashed lightning, and the Messenger of Allah ﷺ saw me and said, O Qatadah, what has brought you out. I said, With my father and mother as ransom, I wished to keep you company. He said, Take this palm stalk and hold it at your side, for when you go out it will illuminate ten cubits before you and ten behind you. Then he said to me, When you enter your house you will see something like a rough stone in the curtains of your house, for that is a devil. He said: I went out and it illuminated for me, then I struck the thing like a rough stone until it left my house. > **"Take this palm stalk and hold it at your side"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک تاریک رات میں ، میں نکلا ، میں نے سوچا مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جا کر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونا چاہیے ، اور آپ کو اپنی ذات کے حوالے سے انسیت فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں مسجد میں داخل ہوا ، تو اسی دوران آسمان پر بجلی چمکی ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ کیا تو فرمایا : اے قتادہ ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ کو انسیت فراہم کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ شاخ لے لو ! اس کے ذریعے ٹیک لگا کے جاؤ ، جب تم نکلو گے تو دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے تک یہ تمہیں روشنی فراہم کرے گی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : جب تم اپنے گھر میں داخل ہو گے تو ایک کھردرے پتھر کی چیز تمہیں اپنے گھر کے پردوں میں نظر آئے گی ، وہ شیطان ہو گا ، راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا وہ شاخ میرے لئے روشن ہو گئی پھر میں نے اس کھردرے پتھر کی چیز پر ضرب لگائی ، تو وہ میرے گھر سے باہر نکل گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے نماز سے متعلق کتاب میں ، اُس گھڑی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جو جمعہ کے دن میں موجود ہوتی ہے اور جس میں دعا کی قبولیت کی امید ہوتی ہے ، اور اس کے علاوہ باجماعت نماز ادا کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے ہی نقل کی ہے اور امام احمد کی وہ روایت جو کتاب الصلوۃ میں پہلے گزر چکی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15768

Majma al-Zawaid #15768

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ - وَيُكْنَى أَبَا عُثْمَانَ - فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَسِنُّهُ خَمْسٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ حَزْمَةَ، وَيُقَالُ: خَزْمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Qatadah ibn al-Nuʿman, whose kunyah was Abu ʿUthman, died in the year twenty-three, and ʿUmar ibn al-Khaṭṭab prayed over him, while his age was sixty-five years. Abu Saʿid al-Khudri, Muḥammad ibn Maslamah, and al-Ḥarith ibn Ḥazmah descended into his grave, and it is said Khazmah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعثمان تھی ان کا انتقال تیس ہجری میں ہوا تھا ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر پینسٹھ سال تھی ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث بن حزمہ رضی اللہ عنہ اور ایک قول کے مطابق ، حضرت حارث بن خزمہ رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں اترے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔