عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَمَرَ أَبِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" «مَا هَذَا يَا جَابِرُ، أَلَحَمٌ ذَا؟» "". قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا. قَالَ: "" ضَعْهَا "". فَأَتَيْتُ أَبِي، فَقَالَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: قَالَ لِي: "" «مَا هَذَا يَا جَابِرُ؟ أَلَحْمٌ؟» "". قَالَ أَبِي: أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ أَحْسَبُ - يَشْتَهِي اللَّحْمَ. فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «جَزَاكُمُ اللَّهُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَيْرًا، وَلَا سِيَّمَا آلَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Jabir ibn ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn Ḥaram, رضي الله عنهما, reported that his father ordered a ḥarirah to be made, so he made it, then his father ordered him and he carried it to the Messenger of Allah ﷺ. He said to me, What is this, O Jabir, is it meat. I said, No, O Messenger of Allah, but my father ordered me to make a ḥarirah, so I made it, then he ordered me and I carried it. He said, Put it down. I came to my father, who asked, What did the Messenger of Allah ﷺ say to you. I said, He said to me, What is this, O Jabir, is it meat. My father said, I think the Messenger of Allah ﷺ desires meat. He stood to a domestic animal and slaughtered it, then ordered it roasted, then ordered me and I brought it. The Messenger of Allah ﷺ said, May Allah reward you, O company of Anṣar, with good, and especially the family of ʿAmr ibn Ḥaram and Saʿd ibn ʿUbādah. > **"May Allah reward you, O company of Anṣar, with good"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ’’ حریرہ ‘‘ تیار کرنے کا حکم دیا ، میں تے وہ تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں اسے اُٹھا کے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا وہ میں نے تیار کیا ، پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں اسے اٹھا کے لے آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے رکھ دو ! میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے تم سے کیا فرمایا ؟ میں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! یہ کیا ہے ؟ کیا یہ گوشت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے کہا : میرا خیال ہے ، نبی اکرم ﷺ کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے ، پھر وہ بکری کی طرف اُٹھ کے گئے ، انہوں نے اسے ذبح کیا ، پھر ان کے حکم کے تحت اسے پکایا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا ، تو میں اس کا گوشت لے کر آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، خاص طور پر عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کے گھر والوں کو ( جزائے خیر عطا کرے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔