Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 38

Book of Virtues and Merits

Hadith 15769–15808

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15769

Majma al-Zawaid #15769

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ: أَنَّهُ حَرَسَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ بَدْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ احْفَظْ أَبَا قَتَادَةَ كَمَا حَفِظَ نَبِيَّكَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah al-Ḥarith ibn Ribʿi رضي الله عنه reported that he guarded the Messenger of Allah ﷺ on the night of Badr, so the Messenger of Allah ﷺ said, O Allah, preserve Abu Qatadah as he preserved Your Prophet this night. > **"O Allah, preserve Abu Qatadah as he preserved Your Prophet this night"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کی رات انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پہریداری کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو ابوقتادہ کی اُسی طرح حفاظت فرما ! جس طرح اُس نے گزشتہ رات تیرے نبی کی حفاظت کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15770

Majma al-Zawaid #15770

وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «أَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى لَقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُهُمْ، فَظَفَرْتُ بِهِمْ وَقَتَلْتُ مَسْعَدَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَآنِي: " أَفْلَحَ الْوَجْهُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ". - ثَلَاثًا - وَنَفَّلَنِي سَلْبَ مَسْعَدَةَ».

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه reported that the polytheists raided the milch camels of the Messenger of Allah ﷺ, so he rode out and overtook them, prevailed over them, and killed Masʿadah. When the Messenger of Allah ﷺ saw him he said, The face has prospered; O Allah, forgive him, three times, and he granted him the spoils of Masʿadah. > **"The face has prospered; O Allah, forgive him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنیوں پر حملہ کر کے انہیں لوٹ لیا ، میں سوار ہوا اور ان تک پہنچ گیا ، مجھے ان پر کامیابی حاصل ہوئی اور میں نے مسعدہ کو قتل کر دیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا : یہ کامیاب چہرہ ہے ، اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے اور پھر آپ نے مسعدہ کا سامان مجھے انعام کے طور پر دے دیا ۔

15771

Majma al-Zawaid #15771

عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ حَيْثُ حَضَرَ، فَمَرَّ الرَّجُلُ فِي أَقْصَى الدَّارِ قَالَ: فَأَبْصَرْتُهُ فِي وَجْهِ قَتَادَةَ. قَالَ: وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ كَأَنَّ عَلَى وَجْهِهِ الدِّهَانَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَحَ وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-ʿAlaʾ ibn ʿUmayr reported that he was with Qatadah ibn Milḥan when death came to him, and a man passed at the far end of the house, and he said, I saw him in the face of Qatadah. He said: Whenever I saw him it was as though oil was upon his face, for the Messenger of Allah ﷺ had wiped his face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعلاء بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں ، حضرت قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ان کا آخری وقت قریب آ چکا تھا ، تو گھر کے دور کے کونے میں سے ایک شخص گزرا ، تو مجھے اُس کی شبیہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے چہرے میں نظر آ گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں انہیں دیکھتا تھا تو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے اُن کے چہرے پر تیل لگا ہوا ہے ( یعنی وہ انتہائی صاف ستھرا ہوتا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے اُن کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15772

Majma al-Zawaid #15772

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مِنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَجْدَعَةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ، وَكَانَ حَلِيفًا فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥaq, in naming those who witnessed Badr among the Anṣar, then from Banu Ḥarithah, listed Muḥammad ibn Maslamah ibn Khalid ibn ʿAdi ibn Majdaʿah ibn Ḥarithah ibn al-Ḥarith ibn al-Khazraj ibn ʿAmr ibn Malik ibn al-Aws, and he was an ally among Banu ʿAbd al-Ashhal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں ، انصار کی شاخ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے حضرت محمد رضی اللہ عنہ بن مسلمہ بن خالد بن عدی بن مجدع بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس کا ذکر کیا ہے ، یہ بنو عبداشہل کے حلیف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15773

Majma al-Zawaid #15773

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ، وَسِنُّهُ سَبْعٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Muḥammad ibn Maslamah died at Madinah in the year forty-three, at seventy-seven years of age.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ 43 ہجری میں ، 77 سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15774

Majma al-Zawaid #15774

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فِي صَفَرٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullah ibn Numayr reported that Muḥammad ibn Maslamah died in Ṣafar in the year forty-three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال صفر کے مہینے میں 43 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15775

Majma al-Zawaid #15775

«عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" يَا أَبَا الْوَلِيدِ». وَهُوَ، بَدْرِيٌّ، عَقَبِيٌّ، أُحُدِيٌّ، شَجَرِيٌّ نَقِيبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Ṣamit رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said to him, O Abu al-Walid. And he was a Badri, ʿAqabi, Uḥudi, and a chief who pledged beneath the tree. > **"O Abu al-Walid"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے ابوالولید ! یہ وہ صحابی ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں ، بیعت عقبہ میں ، غزوہ احد میں ، بیعت رضوان میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور یہ ’’ نقیب ‘‘ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15776

Majma al-Zawaid #15776

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُمْ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَالَكُمْ لَا تَلْقَوْنِي مَعَ إِخْوَانِكُمْ مِنْ قُرَيْشٍ؟ قَالَ عُبَادَةُ: الْحَاجَةُ. قَالَ: فَهَلَّا النَّوَاضِحُ. قَالُوا: أَنْضَيْنَاهَا يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Ṣamit رضي الله عنه reported that Muʿawiyah said to them, O company of Anṣar, why do you not meet me with your brothers among Quraysh. ʿUbadah said, Need. He said, Then why not the irrigation camels. They said, We wore them out on the day of Badr with the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا : اے انصار کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ قریش سے تعلق رکھنے والے اپنے بھائیوں کے ہمراہ مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آئے ؟ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : حاجت کی وجہ سے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ لوگوں کے پاس اونٹنیاں نہیں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ہم نے غزوہ بدر کے دن ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے ہوئے کمزور ( یا تھکاوٹ کا شکار ) کر دی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15777

Majma al-Zawaid #15777

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غُنْمِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥaq reported that ʿUbadah ibn al-Ṣamit is ibn Qays ibn Aṣram ibn Fihr ibn Thaʿlabah ibn Ghunm ibn Salim ibn ʿAwf ibn ʿAmr ibn ʿAwf ibn al-Khazraj.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15778

Majma al-Zawaid #15778

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَشَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، يَسْكُنَانِ بَيْتَ الْمَقْدِسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Makḥul reported that ʿUbadah ibn al-Ṣamit and Shaddad ibn Aws used to reside at Bayt al-Maqdis.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں بیت المقدس میں مقیم رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15779

Majma al-Zawaid #15779

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: وَمَاتَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بِالشَّامِ مِنْ أَرْضِ فِلَسْطِينَ بِالرَّمْلَةِ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ، وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that ʿUbadah ibn al-Ṣamit died in al-Sham, in the land of Palestine at al-Ramlah, in the year thirty-four, when he was seventy-two years old.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا انتقال ، شام میں فلسطین کی سرزمین موجود شہر ’’ رملہ ‘‘ میں 34 ہجری میں ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر 72 سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15780

Majma al-Zawaid #15780

عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى فَرَسًا مِنْ سَوَاءِ بْنِ الْحَارِثِ فَجَحَدَهُ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ وَلَمْ تَكُنْ مَعَنَا حَاضِرًا "". فَقَالَ: صِدْقُكَ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَحَسْبُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thabit رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ bought a horse from Suwaʾ ibn al-Ḥarith, who then denied it, so Khuzaymah ibn Thabit testified for him. The Messenger of Allah ﷺ said to him, What prompted you to testify when you were not present with us. He said, Your truthfulness in what you brought, and my knowledge that you speak only truth. The Messenger of Allah ﷺ said to him, Whomever Khuzaymah testifies for or against, it suffices him. > **"Whomever Khuzaymah testifies for or against, it suffices him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سواء بن حارث نامی شخص سے ایک گھوڑا خریدا ، اس شخص نے سودے کا انکار کر دیا ، حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حق میں گواہی دے دی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ہمارے حق میں گواہی کیوں دی ہے ؟ جبکہ تم ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں سچ بیان کرتے ہیں ، جو آپ لے کے آئے ، اور مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آپ صرف سچی بات کہتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ خزیمہ جس شخص کے حق میں گواہی دے ، یا جس کے خلاف گواہی دے ، تو صرف اس کی گواہی کافی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

15781

Majma al-Zawaid #15781

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَخُزَيْمَةُ - الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ - قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ، فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ: عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيِّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي التَّعْبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab reported from ʿUmarah ibn Khuzaymah ibn Thabit al-Anṣari, and Khuzaymah is the one whose testimony the Messenger of Allah ﷺ made equal to the testimony of two men. Ibn Shihab said: ʿUmarah ibn Khuzaymah informed me, from his uncle, who was among the Companions of the Prophet ﷺ, that Khuzaymah ibn Thabit saw in a dream that he was prostrating upon the forehead of the Messenger of Allah ﷺ. He came to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned that, so the Messenger of Allah ﷺ lay down for him and he prostrated upon his forehead.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ وہ فرد ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اُن کی گواہی دو افراد کی گواہی کے برابر قرار دی تھی ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : عمارہ بن خزیمہ نے اپنے چچا ، جو ایک صحابی ہیں ، ان کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ اُن کے لئے لیٹ گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد عامر بن صالح زبیری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق کتاب التعبیر میں گزر چکے ہیں ۔

15782

Majma al-Zawaid #15782

عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ هَلَكْتُ قَالَ: "" لِمَ؟ "" قُلْتُ: نَهَى اللَّهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ. وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُ الْجَمَالَ. وَنَهَى أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مُطَوَّلًا هَكَذَا وَمُخْتَصَرًا، وَرِجَالُ الْمُخْتَصَرِ ثِقَاتٌ، وَفِي رِجَالِ الْمُطَوَّلِ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الْحَضْرَمِيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ أَبِيهِ فِي الثِّقَاتِ هُوَ وَأَخُوهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَيَعْتَضِدُ بِثِقَةِ رِجَالِ الْمُخْتَصَرِ، وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنْ ثَابِتًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ تَابِعِيٌّ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Thabit ibn Qays ibn Shammas al-Anṣari رضي الله عنه reported: I said, O Messenger of Allah, by Allah I have feared that I am ruined. He said, Why. I said, Allah forbade a man to be praised for what he did not do, yet I find I love praise. Allah forbade pride, yet I find I love beauty. And He forbade us to raise our voices above your voice, while I am a man loud of voice. The Messenger of Allah ﷺ said, Are you not pleased to live praised, be killed a martyr, and enter Paradise. He said, Yes, O Messenger of Allah. So he lived praised and was killed a martyr on the day of Musaylimah. > **"Are you not pleased to live praised, be killed a martyr, and enter Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اس نے جو کام نہ کیا ، ہو اُس کے حوالے سے وہ تعریف کا طلب گار ہو ، اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے تکبر سے منع کیا ہے اور مجھے اپنے اندر یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ میں خوبصورت چیزوں کو پسند کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند کریں ، اور میں ایک ایسا فرد ہوں جس کی آواز بلند ہوتی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے طور پر مر جاؤ ، اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے قابل تعریف زندگی بسر کی ، اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کے موقع پر شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اسی طرح طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، مختصر روایت کے رجال ثقہ ہیں اور طویل روایت میں امام طبرانی کے استاد احمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ خزرمی ہیں اور وہ ضعیف ہیں ، ابن حبان نے کتاب الثقات میں ان کے والد کے حالات میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، وہ ہیں اور ان کے بھائی عبیداللہ ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور مختصر کے رجال اس کے ثقہ ہونے کو مضبوط کر دیتے ہیں ، انہوں نے یہ روایت اسماعیل بن ثابت کے حوالے سے نقل کی ہے کہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ !...... اس روایت کی سند متصل ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور تابعی ہیں ، اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ) سے سماع کیا ہے ۔

15783

Majma al-Zawaid #15783

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] قَعَدَ ثَابِتٌ فِي الطَّرِيقِ يَبْكِي، فَمَرَّ بِهِ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا ثَابِتُ؟ قَالَ: أَنَا رَفِيعُ الصَّوْتِ، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ فِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا بُنَيَّ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ "" قَالَ: رَضِيَتُ بِبُشْرَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَا أَرْفَعُ صَوْتِي أَبَدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ} [الحجرات: 3]». الْآيَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ صَحَابِيٌّ، وَلَكِنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Thabit ibn Qays ibn Shammas رضي الله عنه reported that when this verse was revealed, Do not raise your voices above the voice of the Prophet, Thabit sat in the road weeping. ʿAṣim ibn ʿAdi passed by him and asked, What makes you weep, O Thabit. He said, I am loud of voice, and I fear this verse was revealed concerning me. The Messenger of Allah ﷺ said, O my son, are you not pleased to live praised, be killed a martyr, and enter Paradise. He said, I am pleased with the glad tidings of Allah and His Messenger; I shall never raise my voice above the Messenger of Allah ﷺ. Then was revealed, Indeed those who lower their voices. > **"O my son, are you not pleased to live praised, be killed a martyr, and enter Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم لوگ اپنی آوازوں کو ، نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ۔‘‘ تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے ، عاصم بن عدی ان کے پاس سے گزرے ، انہوں نے فرمایا : اے ثابت ! اتم کیوں رو رہے ہو ؟ ثابت نے جواب دیا : میری آواز بلند ہے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے ، شہید ہونے کے طور پر مرو گے اور جنت میں داخل ہو گے ، تو انہوں نے عرض کی : میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ملنے والی اس خوشخبری سے راضی ہوں ، اب میں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے اپنی آواز کبھی بلند نہیں کروں گا ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے میں واقف نہیں ہوں ، لیکن انہوں نے یہ کہا ہے : میرے والد حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، تو اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ بھی صحابی ہیں ، لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے ، زید بن حباب نامی راوی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15784

Majma al-Zawaid #15784

وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي عَنْ حَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: 18] ""، اشْتَدَّ عَلَى ثَابِتٍ، وَأَغْلَقَ بَابَهُ عَلَيْهِ وَطَفِقَ يَبْكِي، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا، وَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي، فَقَالَ: "" إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ، وَتَمُوتُ بِخَيْرٍ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ "". قَالَ: فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: 2] فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وَتُقْتَلُ شَهِيدًا، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ». فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْمُسْلِمِينَ إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، وَمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ وَسَالِمٌ - مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ -: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهِمَا حُفْرَةً فَدَخَلَا فِيهَا، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا. قَالَ: وَأُرِيَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنِ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فُرْسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَجُلًا، فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلِمْهُ: أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا، وَفُلَانٌ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ تُضَيِّعَهُ. قَالَ: فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهَ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَبِنْتُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ بِنْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ صَحَابِيَّةٌ ; فَإِنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭaʾ al-Khurasani reported that he came to Madinah and asked for someone to narrate to him the ḥadith of Thabit ibn Qays ibn Shammas, so they directed him to his daughter. He asked her and she said: I heard my father say, When there was revealed upon the Messenger of Allah ﷺ, Indeed Allah does not love every arrogant boaster, it weighed heavily upon Thabit. He closed his door and wept, and the Messenger of Allah ﷺ was informed, so he sent to him and asked him. He told him what weighed upon him from it, saying, I am a man who loves beauty and to be chief of his people. He said, You are not among them; rather you shall live well, die well, and Allah shall admit you to Paradise. She said: When Allah revealed upon His Messenger, O you who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet nor speak loudly to him, he did likewise. The Prophet ﷺ was informed, so he sent to him. He told him what weighed upon him, that he was loud of voice and feared being among those whose deeds are nullified. The Prophet ﷺ said, Rather you shall live praised, be killed a martyr, and Allah shall admit you to Paradise. When Abu Bakr رضي الله عنه mobilized the Muslims to fight the apostates at al-Yamamah against Musaylimah the liar, Thabit ibn Qays marched among those who marched. When they met Musaylimah and Banu Ḥanifah, the Muslims were defeated three times, so Thabit and Salim, the freedman of Abu Ḥudhayfah, said, This is not how we fought with the Messenger of Allah ﷺ. They dug a pit for themselves, entered it, and fought until they were killed. She said: A Muslim man saw Thabit ibn Qays in his dream, and he said, When I was killed yesterday a Muslim man passed by me and took from me a precious coat of mail. His dwelling is at the far end of the camp, and near his dwelling is a horse prancing in its tether. He has covered the coat with a cooking pot and placed a saddle upon the pot. Go to Khalid ibn al-Walid and let him send for my coat and take it. When you come to the caliph of the Messenger of Allah ﷺ, inform him that I owe such-and-such debt, and that so-and-so among my slaves is freed. Beware of saying this is a dream and neglecting it. She said: He came to Khalid ibn al-Walid, who directed to the coat and found it as described. He came to Abu Bakr رضي الله عنه and informed him, and Abu Bakr executed his bequest after his death. We know of no one whose bequest was executed after his death except Thabit ibn Qays ibn Shammas. > **"Rather you shall live praised, be killed a martyr, and Allah shall admit you to Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نے دریافت کیا : کون شخص مجھے حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرے گا ؟ تو لوگوں نے میری رہنمائی اُن کی صاحبزادی کی طرف کی ، میں نے اس خاتون سے سوال کیا ، تو اس نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : جب اللہ کے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کسی بھی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔‘‘ تو یہ بات حضرت ثابت رضی اللہ عنہ پر گراں گزری ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور رونا شروع کر دیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ انہیں کیا چیز گراں گزری ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو جمال کو پسند کرتا ہے اور میں اپنی قوم کا سردار بھی ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن افراد میں سے میں ایک نہیں ہو ، بلکہ تم بھلائی والی زندگی بسر کرو گے اور بھلائی والی موت مرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل کی : ’’ اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور تم ان کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو ۔‘‘ تو پھر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے اُسی طرح کیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ جو چیز ان کے لئے مشکل کا باعث بنی ہے کہ ان کی آواز بلند ہے اور انہیں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ان افراد میں شامل نہ ہوں ، جن کے عمل ضائع ہو جائیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے اور شہید ہونے کے طور پر قتل ہو گے ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے افراد ، یمامہ کے افراد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ ہونے کے لئے کہا ، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی جانے والوں میں شامل تھے ، جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ اور بنوحنیفہ سے ہوا ، تو تین مرتبہ انہوں نے مسلمانوں کو پسپا کر دیا ، اس وقت حضرت ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ ، انہوں نے کہا : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس طرح جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے ، انہوں نے اپنے لئے ایک گڑھا بنایا اور اس میں داخل ہو گئے اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں شہید ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نظر آئے ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ شام جب ہم قتل ہو گئے تھے ، تو مسلمانوں سے تعلق والا ایک فرد میرے پاس سے گزرا ، اور اس نے میری عمدہ زرہ مجھ سے اتار لی ، اس شخص کی رہائش لشکر کے دور دراز کے حصے میں ہے ، اور اس کی رہائشی جگہ کے پاس ایک گھوڑا ہو گا جو ادھر اُدھر بھاگا پھر رہا ہو گا ، اور اس نے اس زرہ کے اوپر ایک ہنڈیا الٹی کر کے رکھی ہوئی ہو گی ، اور اس ہنڈیا کے اوپر پاؤں دیا ہوا ہو گا ، تم حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! اور انہیں کہو کہ وہ کسی شخص کو بھیجیں ، وہ میری زرہ جا کر لے آئے اور جب وہ خلیفہ کے پاس جائیں ، تو انہیں یہ بتا دیں کہ میرے ذمہ اتنا اتنا قرض ہے اور میرا فلاں غلام آزاد شمار ہو گا اور خیال رکھنا اور تم یہ نہ سمجھو کہ یہ کوئی پریشان خواب ہے ، اور تم اسے ضائع کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اس زرہ کی تلاش میں کسی شخص کو بھیجا ، تو وہ زرہ اسی حالت میں مل گئی ، جس طرح حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تھا ، پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے انتقال ہو جانے کے بعد ، ان کی ، کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا ، ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کو درست قرار دیا گیا ہو ، صرف حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی صحابیہ ہوں گی ، کیونکہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15785

Majma al-Zawaid #15785

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ جَاءَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ وَقَدْ نُشِرَ أَكْفَانُهُ وَتَحَنَّطَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ، وَأَعْتَذِرُ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ. فَقُتِلَ، وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ فَسُرِقَتْ، فَرَآهُ رَجُلٌ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقَالَ: إِنَّ دِرْعِي فِي قِدْرٍ تَحْتَ الْكَانُونِ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَوَصَّاهُ بِوَصَايَا، فَطَلَبُوا الدِّرْعَ فَوَجَدُوهَا وَأَنْفَذُوا الْوَصَايَا. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ الدِّرْعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that Thabit ibn Qays ibn Shammas came on the day of al-Yamamah with his shrouds spread and perfumed, saying, O Allah, I disavow to You what these have brought, and I apologize for what these have done. He was killed, and he had a coat of mail which was stolen. A man saw him in a dream, and he said, My coat is in a pot beneath the hearth in such-and-such place, and he enjoined bequests. They sought the coat and found it, and they executed the bequests.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن تشریف لائے ، انہوں نے اپنا کفن کھولا ، خوشبو لگائی اور پھر فرمایا : اے اللہ ! اُن لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، میں اس کے حوالے سے تیرے سامنے بری ذمہ ہونے کا اعلان کرتا ہوں ، اور ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے ، اس کے حوالے سے میں تیرے سامنے معذرت پیش کرتا ہوں ، تو وہ شہید ہو گئے ، ان کی جو زرہ تھی ، وہ چوری ہو گئی ، ایک شخص نے انہیں خواب میں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میری زرہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں چیز کے نیچے ہے اور پھر انہوں نے اس شخص کو خواب میں کچھ وصیتیں کیں ، ان لوگوں نے اس زرہ کو تلاش کیا ، تو وہ زرہ مل گئی اور ان لوگوں نے ان کی وصیتوں کو نافذ کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ واقعہ ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں زرہ والا واقعہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15786

Majma al-Zawaid #15786

وَعَنْ عُرْوَةَ: فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ سَنَةَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah, in naming those killed on the day of al-Yamamah among the Anṣar, then from Banu al-Ḥarith ibn al-Khazraj, listed Thabit ibn Qays ibn Shammas in the year twelve.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ، انصار کی شاخ ، بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، جو بارہ ہجری میں شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15787

Majma al-Zawaid #15787

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَقَطَتْ عَلَى لِحْيَتِهِ رِيشَةٌ، فَابْتَدَرَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَأَخَذَهَا، [مِنْ لِحْيَتِهِ] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَزَعَ اللَّهُ عَنْكَ مَا تَكْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَائِلُ بْنُ نُجَيْحٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Anṣari رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was performing ṭawaf between al-Ṣafa and al-Marwah when a feather fell upon his beard. Abu Ayyub hastened to him and took it from his beard, so the Prophet ﷺ said to him, May Allah remove from you what you dislike. > **"May Allah remove from you what you dislike"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے ، آپ کی داڑھی پر ایک پر گر گیا ۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ لپک کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گئے اور نبی اکرم ﷺ کی داڑھی سے اسے نکال لیا تو نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم سے اُس چیز کو دور کرے ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نائل بن نجیح ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ حبیب بن ابوثابت نامی راوی نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15788

Majma al-Zawaid #15788

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «نَزَلَ عَلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هَيَاجُ بْنُ بِسْطَامٍ التَّمِيمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ stayed with him, and he was the first among whom he stayed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ہاں پڑاؤ کیا ، میں وہ پہلا فرد تھا ، جس کے ہاں نبی اکرم ﷺ ٹھہرے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” میں وہ پہلا فرد تھا ، جس کے ہاں نبی اکرم ﷺ ٹھہرے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15789

Majma al-Zawaid #15789

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ عَلَيْهِ حِينَ هَاجَرَ، غَزَا أَرْضَ الرُّومِ، فَمَرَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَجَفَاهُ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ مِنْ غَزْوَتِهِ فَجَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْ لَهُ رَأْسًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْبَأَنِي أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَبِمَ أَمَرَكُمْ؟ قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ: اصْبِرُوا إِذًا. فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ وَقَدْ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ لَكَ عَنْ مَسْكَنِي كَمَا خَرَجْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَهْلَهُ فَخَرَجُوا، وَأَعْطَاهُ كُلَّ شَيْءٍ أَغْلَقَ عَلَيْهِ الدَّارَ، فَلَمَّا كَانَ انْطِلَاقُهُ قَالَ: حَاجَتُكَ؟ قَالَ: حَاجَتِي عَطَائِي وَثَمَانِيَةُ أَعْبُدٍ يَعْمَلُونَ فِي أَرْضِي، وَكَانَ عَطَاؤُهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، فَأَضْعَفَهَا لَهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفًا وَأَرْبَعِينَ عَبْدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas رضي الله عنهما reported that Abu Ayyub al-Ansari رضي الله عنه, with whom the Messenger of Allah ﷺ stayed when he migrated, raided the land of Rome and passed by Muʿawiyah رضي الله عنهما who treated him coldly. He went on then returned from his raid and Muʿawiyah again treated him coldly and paid him no regard. He said, The Messenger of Allah ﷺ informed me that after him we shall see preference shown to others. Muʿawiyah asked, What did he command you. He said, He commanded us to be patient. He said, Then be patient. He then came to ʿAbdullah ibn ʿAbbas at al-Baṣrah, over which ʿAli رضي الله عنهما had appointed him, and Ibn ʿAbbas said, O Abu Ayyub, I wish to vacate my dwelling for you as you vacated yours for the Messenger of Allah ﷺ. He ordered his household to leave and gave him everything the house contained. When his departure came he asked, Your need. He said, My need is my stipend and eight slaves to work my land, and his stipend was four thousand, so he multiplied it for him five times and gave him twenty thousand and forty slaves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب ہجرت کی ، تو نبی اکرم ﷺ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے تھے ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لینے کے لئے گئے ، ان کا گزر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، وہ تشریف لے گئے ، جب وہ جنگ سے واپس تشریف لائے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور انہیں نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا ، تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ ہم لوگ ( یعنی انصار ) نبی اکرم ﷺ کے بعد ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر نبی اکرم ﷺ نے آپ لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے کہا : اے حضرت ابوایوب ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ کے چلا جاؤں ، جس طرح آپ نے نبی اکرم ﷺ کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ دی تھی ، پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تو وہ گھر سے باہر آ گئے اور انہوں نے گھر کے اندر موجود ہر چیز حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دے دی ، جب گھر خالی ہو گیا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ کو کوئی کام ہے ؟ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یہ کام ہے کہ جو میرا وظیفہ ہے ، وہ مجھے مل جائے اور آٹھ غلام مل جائیں ، جو میری زمین پر کام کریں ، اُن کا وظیفہ چار ہزار تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پانچ گنا کر کے دیا ، اور انہیں بیس ہزار رقم دی اور چالیس غلام بھی دیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15790

Majma al-Zawaid #15790

وَفِي رِوَايَةٍ: قَدِمَ أَبُو أَيُّوبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ - فَشَكَا لَهُ أَنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادَيْنِ. وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ.

EnglishUnverified translation

In another narration Abu Ayyub came to Muʿawiyah and complained to him that he owed a debt, and he mentioned the ḥadith with two chains.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ ان کے ذمہ کچھ قرض ہے ...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حبیب بن ثابت نامی راوی نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15791

Majma al-Zawaid #15791

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا [فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي حَتَّى أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ "". فَأَبَى، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَتِكَ بِحَائِطِي، قَالَ [فَفَعَلَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي قَالَ]: فَاجْعَلْهَا لَهُ فَقَدَ أَعْطَيْتُكَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَّاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ "" [فِي الْجَنَّةِ]. قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا. قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ، اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ ; فَإِنِّي قَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ الْبَيْعُ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that a man said, O Messenger of Allah, so-and-so has a palm tree and I straighten my wall with it, so order him to give it to me that I may straighten my wall with it. The Prophet ﷺ said, Give it to him for a palm tree in Paradise. He refused, so Abu al-Daḥdaḥ came to him and said, Sell me your palm tree for my walled garden. He did so, then he came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, I have bought the palm tree with my garden, so assign it to him for I have given it to him. The Messenger of Allah ﷺ said, How many a heavy laden bunch of dates for Abu al-Daḥdaḥ in Paradise. He said that repeatedly. He said: He then came to his wife and said, O Umm al-Daḥdaḥ, go out of the garden, for I have sold it for a palm tree in Paradise. She said, Profitable is the bargain, or a word resembling it. > **"Give it to him for a palm tree in Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا کھجور کا ایک درخت ہے اور وہ میرے باغ میں ہے ، اور میں اپنے اس باغ میں رہتا ہوں ، تو آپ اس شخص کو یہ حکم دیں تاکہ وہ مجھے وہ درخت دیدے ، تاکہ میں اپنے باغ میں رہ سکوں ، نبی اکرم ﷺ نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم جنت میں کھجور کے ایک درخت کے عوض میں وہ درخت اسے دے دو ! اس شخص نے انکار کر دیا ، حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : تم اپنا وہ درخت میرے باغ کے عوض میں مجھے فروخت کر دو ! تو اس نے ایسا کر دیا ، حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنے باغ کے عوض میں وہ درخت خرید لیا ہے ، تو آپ وہ درخت اس متعلقہ شخص کو دے دیں ، وہ میں نے آپ کی نذر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ابودحداح کے کتنے ہی کھجوروں کے وزنی گچھے ہیں ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اسے اُم دحداح ! اس باغ سے باہر آ جاؤ ! کیونکہ میں نے جنت میں موجود کھجور کے ایک درخت کے عوض میں اسے فروخت کر دیا ہے ، تو اس خاتون نے کہا : یہ کامیابی کا سودا ہے ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15792

Majma al-Zawaid #15792

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرة: 245] قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ "". قَالَ: أَرِنَا يَدَكَ قَالَ: فَنَاوَلَهُ يَدَهُ قَالَ: قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي - وَحَائِطُهُ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ - فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا، فَنَادَى: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ قَالَتْ: لَبَّيْكَ قَالَ: اخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud رضي الله عنه reported that when there was revealed, Who is it that will loan Allah a goodly loan, Abu al-Daḥdaḥ said, O Messenger of Allah, does Allah seek a loan from us. He said, Yes, O Abu al-Daḥdaḥ. He said, Show me your hand. He extended his hand to him and he said, I have loaned my Lord my garden, and in his garden were six hundred palm trees. He walked until he came to the garden while Umm al-Daḥdaḥ and his children were in it, and he called, O Umm al-Daḥdaḥ. She said, At your service. He said, Go out, for I have loaned it to my Lord. > **"Yes, O Abu al-Daḥdaḥ"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کون شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ۔‘‘ تو حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب کر رہا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اے ابودحداح ! انہوں نے عرض کی : آپ اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے عرض کی : میں اپنا باغ اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : اُن کے باغ میں کھجوروں کے چھ سو درخت تھے ، پھر وہ چلتے ہوئے اس باغ کے پاس آئے ، اُم دحداح اور ان کے گھر کے افراد اس باغ میں موجود تھے ، انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے ام دحداح ! اس خاتون نے کہا : میں حاضر ہوں ، انہوں نے کہا : تم باہر نکل آؤ ! کیونکہ یہ میں نے اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15793

Majma al-Zawaid #15793

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ يَسْتَقْرِضُهُ، فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بَعَثَ إِلَيَّ يَسْتَقْرِضُنِي؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ أَنَّ مَالِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ».

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥman ibn Abza رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ sent to Abu al-Daḥdaḥ seeking a loan. When the messenger came to him the Messenger of Allah ﷺ said, He sent to me seeking a loan. He said, Yes. He said, I call Allah to witness that my wealth in such-and-such place is in the path of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said, How many a bunch of dates for Abu al-Daḥdaḥ in Paradise. > **"How many a bunch of dates for Abu al-Daḥdaḥ in Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر ان سے قرض طلب کیا ، جب قاصد ان کے پاس آیا تو انہوں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول ﷺ نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھ سے قرض طلب کیا ہے ؟ قاصد نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ فلاں فلاں جگہ پر موجود میری زمین ، اللہ کے لئے ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں ابودحداح کے کتنے ہی گچھے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

15794

Majma al-Zawaid #15794

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ دَخَلَ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ الشِّعْرَ، فَقَالَ لَهُ: أَخِي، أَمَا عَلَّمَكَ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ: أَتَخْشَى أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي؟ وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا بَلَاءَ اللَّهِ إِيَّايَ، فَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مِنْهُمْ مَنْ تَفَرَّدْتُ بِقَتْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ شَارَكْتُ فِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sirin reported that Anas ibn Malik entered upon al-Baraʾ ibn Malik while he was composing poetry, so he said to him, My brother, has Allah not taught you what is better than this. Al-Baraʾ said to him, Do you fear I shall die upon my bed. By Allah that shall never be, by Allah's trial of me, for I have killed a hundred among the polytheists, some whom I killed alone and some in whose killing I shared.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ شعر کہہ رہے تھے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے میرے بھائی ! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس چیز کا علم عطا نہیں کیا ، جو اس سے بہتر ہے ؟ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ اللہ کی قسم : ایسا کبھی نہیں ہو گا ، اس آزمائش کے بعد ، جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مبتلاء کیا ہے ، میں نے ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے ، اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں ، جنہیں میں قتل کرنے میں منفرد تھا ، اور ایسے بھی ہیں جنہیں قتل کرنے میں میں حصہ دار تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال راسی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور محمد بن سیرین نامی راوی نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15795

Majma al-Zawaid #15795

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «اسْتَلْقَى الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ تَرَنَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: اذْكُرِ اللَّهَ أَيْ أُخَيَّ! فَاسْتَوَى جَالِسًا وَقَالَ: أَيْ أَنَسٌ، أَتُرَانِي أَمُوتُ عَلَى فِرَاشِي وَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مُبَارَزَةً سِوَى مَنْ شَارَكْتُ فِي قَتْلِهِ؟!». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that al-Baraʾ ibn Malik lay upon his back then hummed, so Anas said to him, Remember Allah, O my brother. He sat upright and said, O Anas, do you think I shall die upon my bed when I have killed a hundred among the polytheists in single combat apart from those in whose killing I shared.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ پشت کے بل چت لیٹے ہوئے تھے ، وہ ترنم کے ساتھ کچھ پڑھنے لگے ، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے میرے بھائی ! تم اللہ کا ذکر کرو ، تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، انہوں نے کہا : اے انس ! کیا تم میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو ؟ کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ میں نے مقابلے کی دعوت دے کر ایک سو مشرکین کو قتل کیا ہے ، اور یہ ان کے علاوہ ہیں ، جن کے قتل کرنے میں ، میں حصہ دار تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15796

Majma al-Zawaid #15796

وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَأَخُوهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ حِصْنٍ مِنْ حُصُونِ الْعَدُوِّ وَالْعَدُوُّ يُلْقُونَ كَلَالِيبَ فِي سَلَاسِلَ مُحَمَّاةٍ، فَتَعْلَقُ بِالْإِنْسَانِ فَيَرْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ، فَعَلَقَ بَعْضُ تِلْكَ الْكَلَالِيبِ بِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَفَعُوهُ حَتَّى أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ، فَأَتَى أَخُوهُ الْبَرَاءُ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ أَخَاكَ، وَهُوَ يُقَاتِلُ النَّاسَ، فَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى نَزَا فِي الْجِدَارِ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى السِّلْسِلَةِ وَهِيَ تُدَارُ، فَمَا بَرِحَ يَجُرُّهُمْ وَيَدَاهُ تُدَخِّنَانِ حَتَّى قَطَعَ الْحَبْلَ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى يَدَيْهِ فَإِذَا عِظَامُهُ تَلُوحُ قَدْ ذَهَبَ مَا عَلَيْهَا مِنَ اللَّحْمِ، أَنْجَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِذَاكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Isḥaq ibn ʿAbdullah ibn Abi Ṭalḥah reported that while Anas ibn Malik and his brother al-Baraʾ ibn Malik were at a fortress of the enemy, the enemy casting grappling hooks in heated chains that caught a man and lifted him to them, one of those hooks caught Anas ibn Malik and they lifted him till he left the ground. His brother al-Baraʾ came, and it was said to him, Reach your brother, while he was fighting the people. He came running until he leapt at the wall, then seized the chain with his hand while it was turning, and he kept pulling them with his hands smoking until he cut the rope. He then looked at his hands and behold the bones were visible with the flesh upon them gone. Allah Almighty thereby delivered Anas ibn Malik رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور اُن کے بھائی حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ دشمن کے ایک قلعے کے پاس موجود تھے ، دشمن نے گرم زنجیروں کے ذریعے آنکڑے لٹکائے ، جو شخص ان میں پھنس جاتا تھا ، وہ لوگ اسے اپنی طرف اٹھا لیتے تھے ، اُن آنکڑوں میں سے ایک میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ پھنس گئے ، دشمن نے انہیں اٹھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ زمین سے کچھ اوپر ہو گئے ، تو اُن کے بھائی حضرت براء رضی اللہ عنہ آئے ، اُن سے کہا گیا : آپ اپنے بھائی کے پاس پہنچیں ، وہ اس وقت دشمن سے لڑائی کر رہے تھے ، وہ دوڑتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ وہ دیوار کی طرف اچھلے اور پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس زنجیر کو پکڑ لیا ، وہ گھومنے لگی ، وہ مسلسل انہیں کھینچتے رہے ، ان کے دونوں ہاتھ جل گئے ، لیکن انہوں نے رسی کو کاٹ دیا ، جب انہوں نے اپنے ہاتھوں کا جائزہ لیا ، تو ان کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور ہڈیوں پر موجود گوشت ختم ہو چکا تھا ، لیکن اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو نجات دیدی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15797

Majma al-Zawaid #15797

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَبِي حَمْزَةَ». قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ كَنَّانِي بِبَقْلَةَ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ gave him the kunyah Abu Ḥamzah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میری کنیت ’’ ابوحمزہ ‘‘ رکھی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اُن کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میری یہ کنیت ( ’’ حمزہ ‘‘ نامی ) ایک سبزی کی وجہ سے رکھی تھی ، جسے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15798

Majma al-Zawaid #15798

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that he had a forelock, and the Messenger of Allah ﷺ would stretch it and hold it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری لمبی زلفیں تھیں ، نبی اکرم ﷺ انہیں کھینچ لیتے تھے اور انہیں پکڑ لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

15799

Majma al-Zawaid #15799

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that he hopes to meet the Messenger of Allah ﷺ and say, O Messenger of Allah, your little servant. > **"O Messenger of Allah, your little servant"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا : تو میں عرض کروں گا : آپ کا ادنیٰ خادم ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15800

Majma al-Zawaid #15800

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا أَتَيْتُ أَنَسًا يُخْبَرُ بِمَكَانِي، فَأَدْخُلُ عَلَيْهِ، فَآخُذُ بِيَدَيْهِ فَأُقَبِّلْهُمَا وَأَقُولُ: بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ وَأَقُولُ: بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Thabit reported that when he came to Anas his presence would be announced, so he would enter upon him and take his hands and kiss them, saying, With my father be ransomed these two hands that touched the Messenger of Allah ﷺ, and he would kiss his eyes and say, With my father be ransomed these two eyes that saw the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس میں آیا کرتا تھا ، اور انہیں میرے آنے کے بارے میں بتایا جاتا تھا ، تو وہ مجھے اندر آنے کے لئے کہتے تھے ، میں ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے ان کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دونوں ہاتھ وہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو چھوا ہے ، پھر ان کی دونوں آنکھوں کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دو آنکھیں وہ ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15801

Majma al-Zawaid #15801

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ مُوَرِّقٌ الْعِجْلِيُّ: ذَهَبَ الْيَوْمَ نِصْفُ الْعِلْمِ، فَقِيلَ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا أَبَا الْمُغِيرَةِ؟ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ إِذَا خَالَفَنَا فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا لَهُ: تَعَالَ إِلَى مَنْ سَمِعَهُ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatadah reported that when Anas ibn Malik died, Muwarriq al-ʿIjli said, Today half of knowledge has gone. It was said, How is that, O Abu al-Mughirah. He said, When a man of the people of desires opposed us in ḥadith from the Messenger of Allah ﷺ we would say to him, Come to one who heard it from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو مورق عجلی نے کہا : آج نصف علم رخصت ہو گیا ، اُن سے کہا گیا : اے ابومغیرہ ! وہ کیسے ؟ انہوں نے فرمایا : پہلے جب کوئی بدمذہب کسی حدیث کے بارے میں ، ہم سے اختلاف کرتا تھا ، تو ہم اس سے یہ کہتے تھے : کہ آؤ ! ہم اُن کے پاس چلتے ہیں ، جنہوں نے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے سنی ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15802

Majma al-Zawaid #15802

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ: مَتَى مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir ibn Ḥazim reported that he asked Shuʿayb ibn al-Ḥabḥab, When did Anas ibn Malik die. He said, In the year ninety.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جریر بن حازم بیان کرتے ہیں : میں نے شعیب بن حجاب سے دریافت کیا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال کب ہوا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : 90 ہجری میں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15803

Majma al-Zawaid #15803

وَعَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى قَالَ: مَاتَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sari ibn Yaḥya reported that Anas ibn Malik died in the year ninety-three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سری بن یحیی بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال 93 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15804

Majma al-Zawaid #15804

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «خَيَّرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْهِجْرَةِ وَالنُّصْرَةِ، فَاخْتَرْتُ الْهِجْرَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ gave him choice between emigration and support, so he chose emigration. > **"The Messenger of Allah ﷺ gave me choice between emigration and support, so I chose emigration"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ہجرت اور نصرت کے درمیان اختیار دیا ، تو میں نے ہجرت کو اختیار کیا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

15805

Majma al-Zawaid #15805

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ يَهُودَ: إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقَامَ مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ادْنُ "". فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ: "" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ "". فَقُلْتُ لَهُ: انْعَتْ لَنَا رَبَّنَا قَالَ: فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَدِمَ الْمَدِينَةَ] وَأَنَا عَلَى نَخْلَةٍ أَجُزُّهَا، فَسَمِعْتُ رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ. قَالَ: فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَقَالَتْ أُمِّي: وَاللَّهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ كَذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Ḥamzah ibn Yusuf ibn ʿAbdullah ibn Salam reported from his father that ʿAbdullah ibn Salam said to the rabbis of the Jews, I shall renew a covenant at the mosque of our father Ibrahim and Ismaʿil. He set out to the Messenger of Allah ﷺ while he was at Makkah, and he met them when they had turned from the ḥajj, finding the Messenger of Allah ﷺ at Mina with the people around him. He stood with the people, and when the Messenger of Allah ﷺ looked at him he said, ʿAbdullah ibn Salam. He said, Yes. He said, Come near. So I drew near to him. He said, I adjure you by Allah, O ʿAbdullah ibn Salam, do you not find me in the Tawrah as the Messenger of Allah ﷺ. I said to him, Describe our Lord to us. Then Jibril عليه السلام came until he stood before the Messenger of Allah ﷺ and said, Say, He is Allah, the One, Allah the Eternal, He neither begets nor is born, nor is there to Him any equivalent. The Messenger of Allah ﷺ recited it to us, so ʿAbdullah ibn Salam said, I bear witness that there is no deity but Allah and that you are the Messenger of Allah. Then Ibn Salam departed to Madinah and concealed his Islam. When the Messenger of Allah ﷺ migrated and came to Madinah while I was atop a palm cutting it, I heard a stir in Madinah and asked, What is this. They said, This is the Messenger of Allah ﷺ who has come. He said: I cast myself down from the top of the palm, then went out hastening until I came to him and greeted him, then returned, and my mother said, By Allah, had it been Musa ibn ʿImran عليه السلام you would not thus cast yourself from the top of the palm. I said, By Allah, my joy at the coming of the Messenger of Allah ﷺ is greater than at Musa when he was sent. > **"I adjure you by Allah, O ʿAbdullah ibn Salam, do you not find me in the Tawrah as the Messenger of Allah"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا : میں اپنے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مسجد کے پاس سے ہو کے آتا ہوں ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف تشریف لے گئے ، نبی اکرم ﷺ ان دنوں مکہ میں ہی موجود تھے ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اس وقت وہاں پہنچے جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو منیٰ میں پایا ، کچھ لوگ آپ کے اردگرد موجود تھے ، وہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے اُن کی طرف دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : قریب ہو جاؤ ! میں آپ کے قریب ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں اے عبداللہ بن سلام ! کیا تم نے تورات میں یہ بات نہیں پائی ہے ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : آپ اپنے پروردگار کی صفات ہمارے سامنے بیان کیجئے ! راوی کہتے ہیں : تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے یہ آیات پڑھیں : ’’ تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہم پلہ نہیں ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ سورت ہمارے سامنے تلاوت کی ، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس چلے گئے ، انہوں نے اپنے ایمان کو چھپا کے رکھا ، جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس وقت کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا کھجوریں اُتار رہا تھا ، میں نے مدینہ منورہ میں شور کی آواز سنی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول ﷺ تشریف لے آئے ہیں ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے کھجور کے درخت کے اوپر سے نیچے چھلانگ مار دی اور پھر میں نکلا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر جب میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے کھجور کے درخت کے اوپر سے اس طرح خود کو نیچے نہیں گرانا تھا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری پر میں اُس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15806

Majma al-Zawaid #15806

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَجِيءُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ؟ "". قَالَ سَعْدٌ: وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَوَضَّأُ قَالَ قَالَ: فَقُلْتُ: هُوَ عُمَيْرٌ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd, meaning Ibn Abi Waqqaṣ رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ was brought a bowl and ate from it, and a remainder remained. The Messenger of Allah ﷺ said, A man shall come from this mountain pass among the people of Paradise to eat this remainder. Saʿd said: I had left my brother ʿUmayr performing ablution, so I said, It is ʿUmayr. Then ʿAbdullah ibn Salam came and ate it. > **"A man shall come from this mountain pass among the people of Paradise to eat this remainder"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا اور اس میں سے کچھ بچ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس راستے سے ایک جنتی شخص آئے گا اور وہ اس بچے ہوئے کو کھائے گا ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اُس وقت میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کے آیا تھا ، میں نے سوچا وہ عمیر ہو گا ، لیکن اسی دوران عبداللہ بن سلام آ گئے اور انہوں نے اسے کھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں ان کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15807

Majma al-Zawaid #15807

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَجْلَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَسَمَّانِي: "" يُوسُفَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ إِسْنَادَيْنِ مِنْهَا ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: «وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ».

EnglishUnverified translation

Yusuf ibn ʿAbdullah ibn Salam رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ seated him in his lap, wiped over his head, named him Yusuf, and supplicated for blessing for him. > **"Yusuf"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنی گود میں بٹھایا ، آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور اور میرا نام ’’ یوسف ‘‘ رکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے دو اسناد کے رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ نبی اکرم ﷺ نے مجھے برکت کی دعا دی ۔‘‘

15808

Majma al-Zawaid #15808

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ فِيمَا أَحْسَبُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reported that he is the nearest of them to the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Resurrection, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say, The nearest of you to me on the Day of Resurrection is he who leaves the world in the state he was upon the day I left him, and by Allah there is none among you but has clung to something of it except me. > **"The nearest of you to me on the Day of Resurrection is he who leaves the world in the state he was upon the day I left him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن میں نبی اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب ہوؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن تم میں سے ، میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا ، جو دنیا سے جاتے ہوئے اُسی حالت میں ہو گا کہ جس حالت میں ، میں نے اُسے چھوڑا تھا ( پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! تم میں سے ہر شخص دنیا کے حوالے سے کسی نہ کسی چیز میں مبتلاء ہوا ، سوائے میرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عراک بن مالک نامی راوی نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ، میرے خیال میں ، سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔