وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي عَنْ حَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: 18] ""، اشْتَدَّ عَلَى ثَابِتٍ، وَأَغْلَقَ بَابَهُ عَلَيْهِ وَطَفِقَ يَبْكِي، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا، وَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي، فَقَالَ: "" إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ، وَتَمُوتُ بِخَيْرٍ، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ "". قَالَ: فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: 2] فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وَتُقْتَلُ شَهِيدًا، وَيُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ». فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْمُسْلِمِينَ إِلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، وَمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ وَسَالِمٌ - مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ -: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهِمَا حُفْرَةً فَدَخَلَا فِيهَا، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا. قَالَ: وَأُرِيَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنِ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فُرْسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَجُلًا، فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلِمْهُ: أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا، وَفُلَانٌ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ تُضَيِّعَهُ. قَالَ: فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهَ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَبِنْتُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ بِنْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ صَحَابِيَّةٌ ; فَإِنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
EnglishUnverified translation
ʿAṭaʾ al-Khurasani reported that he came to Madinah and asked for someone to narrate to him the ḥadith of Thabit ibn Qays ibn Shammas, so they directed him to his daughter. He asked her and she said: I heard my father say, When there was revealed upon the Messenger of Allah ﷺ, Indeed Allah does not love every arrogant boaster, it weighed heavily upon Thabit. He closed his door and wept, and the Messenger of Allah ﷺ was informed, so he sent to him and asked him. He told him what weighed upon him from it, saying, I am a man who loves beauty and to be chief of his people. He said, You are not among them; rather you shall live well, die well, and Allah shall admit you to Paradise. She said: When Allah revealed upon His Messenger, O you who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet nor speak loudly to him, he did likewise. The Prophet ﷺ was informed, so he sent to him. He told him what weighed upon him, that he was loud of voice and feared being among those whose deeds are nullified. The Prophet ﷺ said, Rather you shall live praised, be killed a martyr, and Allah shall admit you to Paradise. When Abu Bakr رضي الله عنه mobilized the Muslims to fight the apostates at al-Yamamah against Musaylimah the liar, Thabit ibn Qays marched among those who marched. When they met Musaylimah and Banu Ḥanifah, the Muslims were defeated three times, so Thabit and Salim, the freedman of Abu Ḥudhayfah, said, This is not how we fought with the Messenger of Allah ﷺ. They dug a pit for themselves, entered it, and fought until they were killed. She said: A Muslim man saw Thabit ibn Qays in his dream, and he said, When I was killed yesterday a Muslim man passed by me and took from me a precious coat of mail. His dwelling is at the far end of the camp, and near his dwelling is a horse prancing in its tether. He has covered the coat with a cooking pot and placed a saddle upon the pot. Go to Khalid ibn al-Walid and let him send for my coat and take it. When you come to the caliph of the Messenger of Allah ﷺ, inform him that I owe such-and-such debt, and that so-and-so among my slaves is freed. Beware of saying this is a dream and neglecting it. She said: He came to Khalid ibn al-Walid, who directed to the coat and found it as described. He came to Abu Bakr رضي الله عنه and informed him, and Abu Bakr executed his bequest after his death. We know of no one whose bequest was executed after his death except Thabit ibn Qays ibn Shammas. > **"Rather you shall live praised, be killed a martyr, and Allah shall admit you to Paradise"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نے دریافت کیا : کون شخص مجھے حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرے گا ؟ تو لوگوں نے میری رہنمائی اُن کی صاحبزادی کی طرف کی ، میں نے اس خاتون سے سوال کیا ، تو اس نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : جب اللہ کے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کسی بھی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔‘‘ تو یہ بات حضرت ثابت رضی اللہ عنہ پر گراں گزری ، انہوں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور رونا شروع کر دیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ انہیں کیا چیز گراں گزری ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو جمال کو پسند کرتا ہے اور میں اپنی قوم کا سردار بھی ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن افراد میں سے میں ایک نہیں ہو ، بلکہ تم بھلائی والی زندگی بسر کرو گے اور بھلائی والی موت مرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل کی : ’’ اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور تم ان کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو ۔‘‘ تو پھر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے اُسی طرح کیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ نے انہیں پیغام بھیج کر بلوایا ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ جو چیز ان کے لئے مشکل کا باعث بنی ہے کہ ان کی آواز بلند ہے اور انہیں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ان افراد میں شامل نہ ہوں ، جن کے عمل ضائع ہو جائیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو گے اور شہید ہونے کے طور پر قتل ہو گے ، اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے افراد ، یمامہ کے افراد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ ہونے کے لئے کہا ، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی جانے والوں میں شامل تھے ، جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ اور بنوحنیفہ سے ہوا ، تو تین مرتبہ انہوں نے مسلمانوں کو پسپا کر دیا ، اس وقت حضرت ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ ، انہوں نے کہا : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس طرح جنگ میں حصہ نہیں لیتے تھے ، انہوں نے اپنے لئے ایک گڑھا بنایا اور اس میں داخل ہو گئے اور لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں شہید ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نظر آئے ، انہوں نے فرمایا : گزشتہ شام جب ہم قتل ہو گئے تھے ، تو مسلمانوں سے تعلق والا ایک فرد میرے پاس سے گزرا ، اور اس نے میری عمدہ زرہ مجھ سے اتار لی ، اس شخص کی رہائش لشکر کے دور دراز کے حصے میں ہے ، اور اس کی رہائشی جگہ کے پاس ایک گھوڑا ہو گا جو ادھر اُدھر بھاگا پھر رہا ہو گا ، اور اس نے اس زرہ کے اوپر ایک ہنڈیا الٹی کر کے رکھی ہوئی ہو گی ، اور اس ہنڈیا کے اوپر پاؤں دیا ہوا ہو گا ، تم حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ! اور انہیں کہو کہ وہ کسی شخص کو بھیجیں ، وہ میری زرہ جا کر لے آئے اور جب وہ خلیفہ کے پاس جائیں ، تو انہیں یہ بتا دیں کہ میرے ذمہ اتنا اتنا قرض ہے اور میرا فلاں غلام آزاد شمار ہو گا اور خیال رکھنا اور تم یہ نہ سمجھو کہ یہ کوئی پریشان خواب ہے ، اور تم اسے ضائع کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : وہ شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اس زرہ کی تلاش میں کسی شخص کو بھیجا ، تو وہ زرہ اسی حالت میں مل گئی ، جس طرح حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تھا ، پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے انتقال ہو جانے کے بعد ، ان کی ، کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا ، ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کو درست قرار دیا گیا ہو ، صرف حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی صحابیہ ہوں گی ، کیونکہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔