Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 36

Book of Virtues and Merits

Hadith 15689–15728

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15689

Majma al-Zawaid #15689

وَعَنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: ثَلَاثٌ أَنَا عَمَّا سِوَاهُنَّ ضَعِيفٌ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُ أَنَّهُ حَقٌّ، وَلَا صَلَّيْتُ صَلَاةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِهَا حَتَّى أَنْفَتِلَ عَنْهَا، وَلَا تَبِعْتُ جِنَازَةً، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِ مَا إِيَّاهُ قَائِلُهُ وَيُقَالُ لَهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Mājishūn reports that Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) said: in three things I am not weak as in others: whatever I heard from the Messenger of Allah ﷺ I knew to be truth; never did I pray a prayer diverting myself to other thoughts until finishing; nor did I follow a bier without reflecting upon what its bearer says and what is said to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ماجشون بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی : تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں ان کے علاوہ چیزوں میں کمزور ہوں ( یعنی ان تین چیزوں میں کمزور نہیں ہوں ) جب بھی میں نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی بات سنی ، تو میں اس بات کا علم رکھتا تھا کہ یہ بات حق ہے ، اور جب بھی میں نے نماز ادا کی ، تو نماز ختم کرنے تک میں نے اپنا خیال کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیا ، اور جب بھی میں کسی جنازے میں شریک ہوا ، تو میری تمام تر توجہ کا مرکز ، اُس کی مرنے کے بعد کی صورتحال رہی ۔

15690

Majma al-Zawaid #15690

وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا حَضَرْتُ مَيِّتًا إِلَّا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِمَا يَقُولُ وَيُقَالُ لَهُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا، وَالْآخَرُ عَنِ الْمَاجِشُونِ مُنْقَطِعًا، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration the third is: nor did I attend a dead man without reflecting upon what he says and what is said to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میں ، جب بھی کسی جنازے میں شریک ہوا ، تو میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کہا کہے گا ؟ اور اس سے کیا کہا جائے گا ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ’’ منقطع ‘‘ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15691

Majma al-Zawaid #15691

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَقَدْ نَزَلَ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مَا وَطِئُوا الْأَرْضَ قَبْلَهَا "". وَقَالَ حِينَ دُفِنَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ! لَوِ انْفَلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَانْفَلَتَ مِنْهَا سَعَدٌ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ said seventy thousand angels descended for the death of Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه), never having trodden earth before; and when he was buried he exclaimed in glorification that had any escaped the grave's pressure, Saʿd would have escaped: > **"Seventy thousand angels descended for the death of Saʿd ibn Muʿādh, who never trod the earth before. Glory be to Allāh — had any escaped the pressure of the grave, Saʿd would have escaped it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سعد بن معاذ کے انتقال پر ستر ہزار ایسے فرشتے نازل ہوئے ہیں ، جنہوں نے اس سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا ۔‘‘ ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، اگر کسی شخص کو قبر کے دبوچنے سے نجات ملنا ہوتی ، تو سعد کو اُس سے نجات مل جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15692

Majma al-Zawaid #15692

وَعَنْ أبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «: "" اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī (رضي الله عنه) reports from the Prophet ﷺ: > **"The Throne shook for the death of Saʿd ibn Muʿādh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مرنے پر عرش ہل گیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15693

Majma al-Zawaid #15693

«وَعَنْ رُمَيْثَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ لَقَبَّلْتُ - وَهُوَ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَوْمَ مَاتَ: "" اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Rumaythah (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ — so near him he could have kissed the Seal between his shoulders — say to Saʿd ibn Muʿādh the day he died: > **"The Throne of the Merciful shook for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رمیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، اُس وقت میں نبی اکرم ﷺ کے اتنا قریب تھا کہ اگر میں چاہتا تو آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان موجود ’’ مہر نبوت ‘‘ کا بوسہ لے سکتا تھا ، جس دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کے لیے رحمن کا عرش ہلا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔

15694

Majma al-Zawaid #15694

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي، فَقُلْتُ لَهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ، تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ؟ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي: أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ. قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: "" لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ "". قَالَتْ: وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». هَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that returning from pilgrimage or ʿumrah, they were met at Dhū al-Ḥulayfah where Anṣārī youths met their families, and Usayd ibn Ḥuḍayr (رضي الله عنه) was informed of his wife's death, covered himself and wept. She reproached him — a companion of the Messenger ﷺ of precedence weeping for a woman — and he uncovered his head, affirming she spoke truly, yet by his life he ought to weep for none after Saʿd ibn Muʿādh, concerning whom the Messenger of Allah ﷺ had spoken; asked what he had said, he quoted the shaking of the Throne for Saʿd's passing, as he walked between her and the Messenger of Allah ﷺ: > **"The Throne shook for the passing of Saʿd ibn Muʿādh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ حج ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) عمرہ سے آئے ، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان موجود تھے ، جو اپنے عزیزوں سے ملے ، ان لوگوں کی ملاقات حضرت أسيد بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا ، حضرت اُسید نے سر جھکا لیا اور رونے لگے ، میں نے ان سے کہا : کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، آپ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابی ہیں ، آپ کو سبقت اور قدیم ہونے کا شرف حاصل ہے ، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور بولے : آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! میرا حق بنتا ہے کہ میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں ، جبکہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہوئی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے اُن کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سعد بن معاذ کی وفات پر عرش ہل گیا ہے ۔‘‘ ’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : اُس وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان چل رہے تھے ۔ امام احمد نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

15695

Majma al-Zawaid #15695

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الصِّبْيَانُ فَيُخْبِرُونَهُمْ عَنْ أَهْلِيهِمْ، فَأُخْبِرَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ بِمَوْتِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى، فَقِيلَ لَهُ: أَتَبْكِي؟ فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " إِنَّ الْعَرْشَ اهْتَزَّتْ أَعْوَادُهُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ». وَأَسَانِيدُهَا كُلُّهَا حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī narrates from ʿĀʾishah (رضي الله عنها) that when the Messenger of Allah ﷺ returned from a journey he would halt at Dhū al-Ḥulayfah, children coming out to inform them of their families; Usayd ibn Ḥuḍayr (رضي الله عنه) was told of his wife's death and wept. Asked did he weep, he answered why should he not, having heard the Messenger of Allah ﷺ say the supports of the Throne shook for Saʿd's death: > **"The supports of the Throne shook for the death of Saʿd ibn Muʿādh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے ، تو آپ ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کرتے تھے ، بچے نکل کر ان لوگوں کے پاس آتے تھے اور ان کے گھر بار کے بارے میں انہیں بتاتے تھے ، حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا گیا ، تو وہ رونے لگے ، ان سے کہا گیا : آپ رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں کیوں نہ روؤں ، جبکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عرش کے پائے ، سعد بن معاذ کے انتقال کی وجہ سے ہل گئے ۔‘‘ اس روایت کی تمام اسانید حسن ہیں ۔

15696

Majma al-Zawaid #15696

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: «لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ ; فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ». رَوَاهُ [أَحْمَدُ] الطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: «لَمَّا أُخْرِجَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ». وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd ibn al-Sakan (رضي الله عنها) reports that when Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) died — in Aḥmad's wording, when his bier was brought out — his mother cried aloud, and the Prophet ﷺ comforted her, bidding her tears cease and grief depart, for her son was the first whom Allah met smiling and for whom the Throne shook: > **"Let your tears cease and your grief depart; your son is the first whom Allāh met smiling, and for whom the Throne shook."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ’’ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : تمہارے آنسو ختم ہو جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیئے ، کیونکہ تمہارا بیٹا اور پہلا فرد ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ مسکرا کر ملا ہے ، اور اس کے لئے عرش ہل گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ کہا ہے : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : ’’ تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے ......‘‘ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15697

Majma al-Zawaid #15697

وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يَغْرُبُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿayqīb (رضي الله عنه) reports from the Prophet ﷺ: > **"The Throne shook for the death of Saʿd ibn Muʿādh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ میرا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سعد بن معاذ کی موت پر عرش ہل گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک عنبری ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15698

Majma al-Zawaid #15698

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَاصٍ - قَالَ: «مَرَّتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدِ اهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd — meaning Ibn Abī Waqqāṣ (رضي الله عنه) — reports that as the bier of Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) passed, the Prophet ﷺ said: > **"The Throne shook for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ گزرا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کے لئے عرش ہل گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں ایک راوی صالح بن محمد بن صالح نمار ہے ، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15699

Majma al-Zawaid #15699

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ بَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَبَكَى عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - حَتَّى عُرِفَ بُكَاءُ أَبِي بَكْرٍ، مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ، وَبُكَاءُ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that when Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) died, Abū Bakr and ʿUmar (رضي الله عنهما) wept till each one's weeping was known from the other's; asked whether the Messenger of Allah ﷺ wept, she answered no, but he grasped his beard ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے ، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رونا ، نمایاں محسوس ہو رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم ﷺ رو رہے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے اپنی داڑھی مبارک مٹھی میں لی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15700

Majma al-Zawaid #15700

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَدُمُوعُهُ تُحَادِرُ عَلَى لِحْيَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَهْلٌ أَبُو حُرَيْزٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that the Messenger of Allah ﷺ returned from the bier of Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) with tears flowing upon his beard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے واپس تشریف لائے ، تو آپ کے آنسو آپ کی داڑھی پر گر رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل ابوحریز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15701

Majma al-Zawaid #15701

وَعَنْ عُطَارِدٍ: أَنَّهُ «أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى، فَدَخَلَ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا: أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ مِنَ السَّمَاءِ؟ فَقَالَ: "" وَمَا تَعْجَبُونَ مِنْ ذَا؟ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا غُلَامُ، اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَقُلْ لَهُ يَبْعَثُ إِلَيَّ بِالْخَمِيصَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUṭārid reports that a brocade garment gifted by Kisrā was presented to the Prophet ﷺ; his Companions entered asking had it descended from heaven, and he marvelled at their wonder, declaring a handkerchief of Saʿd ibn Muʿādh's handkerchiefs in Paradise better, then bade a boy carry it to Abū Jahm ibn Ḥudhayfah demanding the khamīṣah in return: > **"What do you marvel at? A handkerchief of Saʿd ibn Muʿādh's handkerchiefs in Paradise is better than this. O boy, take it to Abū Jahm ibn Ḥudhayfah and tell him to send me the khamīṣah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطارد کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیباج کا کپڑا تحفے کے طور پر دیا ، جو کسریٰ نے انہیں پہننے کے لئے دیا تھا ، نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے عرض کی : کیا یہ آسمان سے آپ پر نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم اس کپڑے کو ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ ، اور اُس سے کہو کہ وہ حمیصہ نامی چادر میری طرف بھجوا دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔

15702

Majma al-Zawaid #15702

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنْ أُكَيْدِرَ الدَّوْمَةِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ: "" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا "". ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكْرَهُهَا وَأَلْبَسُهَا! قَالَ: "" يَا عُمَرُ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَثَهَا وَجْهًا فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا». وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ بَعَثَهَا إِلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reports that Ukaydir of Dūmah sent the Messenger of Allah ﷺ a sundus cloak; he wore it, the people marvelled, and he swore by Him in Whose Hand is his soul that Saʿd ibn Muʿādh's handkerchiefs in Paradise were better. Then he gifted it to ʿUmar (رضي الله عنه), who protested that the Prophet disliked it yet he should wear it; he answered he sent it only that ʿUmar send it onward and gain wealth thereby — this before silk was forbidden: > **"Do you marvel at this? By Him in Whose Hand is my soul, the handkerchiefs of Saʿd ibn Muʿādh in Paradise are better than it. O ʿUmar, I sent it to you only that you send it onward and gain wealth thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ دومہ ‘‘ کے ( حکمران ) ’’ اکیدر ‘‘ نے نبی اکرم ﷺ کو سندس سے بنا ہوا جبہ بھیجا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے پہن لیا ، لوگ اس پر حیران ہوئے ( یعنی انہیں وہ بہت زیادہ پسند آیا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وہ جبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اسے ناپسند کیا ہے ، تو کیا میں اس کو پہن لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے بھجوایا ہے تاکہ تم یہ کسی کو دے کر اس کے عوض میں مال حاصل کر لو ۔ راوی کہتے ہیں : یہ ریشم کی ممانعت سے پہلے کی بات ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وہ جبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا ، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15703

Majma al-Zawaid #15703

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كُلُّهُمْ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا: أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that three Anṣār, all of Banū ʿAbd al-Ashhal, had none counted above them in merit after the Messenger of Allah ﷺ: Saʿd ibn Muʿādh, Usayd ibn Ḥuḍayr and ʿAbbād ibn Bishr (رضي الله عنهم).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہیں ، ان تینوں کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے ، اللہ کے رسول ﷺ کے بعد کسی ایک کی ان پر فضیلت شمار نہیں کی جاتی ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15704

Majma al-Zawaid #15704

عَنْ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ: أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَلْقَى لَهَا ثَوْبًا حَتَّى جَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ بِنْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ قُبِضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ] وَبَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Saʿd bint Saʿd ibn al-Rabīʿ (رضي الله عنها) reports that she entered upon Abū Bakr al-Ṣiddīq (رضي الله عنه), who spread a garment for her to sit upon; then ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنه) entered asking, O Successor of the Messenger of Allah, who is she? He answered, she is the daughter of one better than me and you, save the Messenger of Allah ﷺ — a man taken in the Prophet's ﷺ lifetime, occupying his seat in Paradise, while we remained.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سعد بنت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے کپڑا بچھا دیا ، تو وہ اس پر بیٹھ گئیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ خاتون کون ہے ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : یہ اس شخص کی صاحبزادی ہے ، جو مجھ سے اور تم سے بہتر ہے ، البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ایک ایسا فرد ہے ، جس کا انتقال نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہو گیا تھا ، اور اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور میں اور تم باقی رہ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15705

Majma al-Zawaid #15705

قَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ: أَنَّهُ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ بَدْرِيٌّ. وَقَدْ تَقَدَّمَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī narrates that Usayd (رضي الله عنه) witnessed al-ʿAqabah as a chief and Badr, as already given.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے یہ بات نقل کی ہے : انہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ نقیب ہیں اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ بات اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔

15706

Majma al-Zawaid #15706

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ، وَكَانَ يَقُولُ: لَوْ أَكُونُ فِيمَا أَكُونُ عَلَى حَالٍ مِنْ أَحْوَالِ ثَلَاثَةٍ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَا شَكَكْتُ فِي ذَلِكَ حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَحِينَ أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ، وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً، وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِسِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا، وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِهِ فِي آخِرِ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that Usayd ibn Ḥuḍayr (رضي الله عنه) was among the most excellent of men, saying that were he to remain in any of three states he would be of Paradise without doubt: when reciting the Qurʾān or hearing it recited, when hearing the Messenger of Allah's ﷺ sermon, and when attending a bier — never attending one without reflecting upon what is done with it and whither it goes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فضیلت رکھنے والے لوگوں میں سے ایک تھے ، وہ فرماتے تھے : ’’ تین طرح کی صورتحال میں ، میری جو کیفیت ہوتی ہے ، اگر میری وہی کیفیت رہے تو ، میں اہل جنت میں سے ہوں اور مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے ، ایک اس وقت جب میں قرآن پڑھ رہا ہوتا ہوں ، یا جب میں قرآن کی تلاوت سن رہا ہوتا ہوں ، اور جب میں نبی اکرم ﷺ کا خطبہ سن رہا ہوتا ہوں ، اور جب میں جنازے میں شریک ہوتا ہوں ، تو میں صرف اس بارے میں غور کرتا ہوں ، اب اس کے ساتھ کیا ہو گا ؟ اور یہ کس صورتحال کی طرف جائے گا ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کے آخر میں ، ان کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث گزر چکی ہے ۔

15707

Majma al-Zawaid #15707

(وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ - وَيُكْنَى: أَبَا يَحْيَى - سَنَةَ عِشْرِينَ، وَحَمَلَهُ عُمَرُ بَيْنَ أَعْوَادِ السَّرِيرِ حَتَّى وَضَعَهُ بِالْبَقِيعِ وَصَلَّى عَلَيْهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرُوِيَ عَنِ الْوَاقِدِيِّ بَعْضُهُ، وَإِسْنَادُهُمَا مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that Usayd ibn Ḥuḍayr (رضي الله عنه), kunyah Abū Yaḥyā, died in the year twenty; ʿUmar (رضي الله عنه) bore him between the bier's poles until laid at al-Baqīʿ, and prayed over him (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابویحیی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی چارپائی کے پایوں کے درمیان میں سے ، اُن کے جنازے کو کندھا دیا تھا ، اور اس وقت تک دیے رکھا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب تک ان کی چارپائی کو ’’ بقیع ‘‘ میں رکھ نہیں دیا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی میں نقل کی ہے ، انہوں نے واقدی کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور ان دونوں کی سند منقطع ہے ۔

15708

Majma al-Zawaid #15708

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّهُ كَانَ مَرِيضًا فَبَصَقَ عَنْ يَمِينِهِ - أَوْ أَرَادَ: أَنْ يَبْصُقَ عَنْ يَمِينِهِ - فَقَالَ: مَا بَصَقْتُ عَنْ يَمِينِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported of Muʿādh ibn Jabal (رضي الله عنه) that while ill he spat to his right — or intended to spit — and remarked that he had never spat to his right since accepting Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیمار ہو گئے ، انہوں نے اپنے دائیں طرف تھوک دیا ، یا انہوں نے اپنے دائیں طرف تھوکنے کا ارادہ کیا ( یعنی انہیں دائیں طرف تھوکنے کی ضرورت پیش آئی ) تو انہوں نے فرمایا : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، کبھی اپنے دائیں طرف نہیں تھوکا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15709

Majma al-Zawaid #15709

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ، حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ: لَمْ أَنْسَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ. قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْقَانِتُ؟ قَالُوا: لَا قَالَ: الْمُطِيعُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَجَّاجِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that Muʿādh (رضي الله عنه) was a nation, devout to Allah, upright, submitted, never of the polytheists. When a companion cited Ibrāhīm, he said he had not forgotten, then asked did they know what a nation was — they did not — and answered, one who teaches people good; asked did they know the devout, they did not, and answered, obedient to Allah, Mighty and Majestic.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ایک امت تھے ، جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے ، سیدھے راستے پر گامزن تھے ، اور مسلمان تھے ، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : راوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی شخص نے یہ بات بیان کی : ابراہیم نخعی نے یہ بات بیان کی ہے : میں یہ بات نہیں بھولا کہ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ اُمت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو قانت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار شخص ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حجاج بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15710

Majma al-Zawaid #15710

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ said: > **"Take the Qurʾān from four: from Ubayy ibn Kaʿb, ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, Muʿādh ibn Jabal and Sālim freedman of Abū Ḥudhayfah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قرآن کا علم چار لوگوں سے حاصل کرو ! ابی بن کعب ، عبداللہ بن مسعود ، معاذ بن جبل اور ابوحذیفہ کا غلام سالم ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15711

Majma al-Zawaid #15711

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ إِمَامُ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَزْهَرَ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Kaʿb al-Quraẓī reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Muʿādh ibn Jabal is the foremost of the scholars by a rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ معاذ بن جبل ، علماء سے ایک قدم آگے ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن ازہر انصاری ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15712

Majma al-Zawaid #15712

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكَ يَقُولُ: مَاتَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَقَائِلٌ يَقُولُ: ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مُعَاذٌ إِمَامُ الْعُلَمَاءِ بِرِتْوَةٍ» "". قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: الرِّتْوَةُ: الْمَنْزِلَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that he heard Anas ibn Mālik (رضي الله عنه) say Muʿādh ibn Jabal (رضي الله عنه) died aged twenty-eight — another saying thirty-two — and that the Messenger of Allah ﷺ said Muʿādh was the foremost of scholars by a rank; Ibn Bukayr adds that al-ratwah means a station: > **"Muʿādh is the foremost of the scholars by a rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال 28 سال کی عمر میں ہو گیا تھا ، کسی نے یہ بیان کیا ہے : کہ 32 سال کی عمر میں ہوا تھا اور نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ معاذ ، علماء سے ایک قدم آگے ہو گا ۔‘‘ یحیی بن بکیر کہتے ہیں : لفظ ’’ رتوة “ کا مطلب ” منزلت ‘‘ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

15713

Majma al-Zawaid #15713

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي طَاعُونِ عَمْوَاسٍ، سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه died in the plague of ʿAmawas in the year seventeen or eighteen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ’’ عمواس ‘‘ کے طاعون میں 17 یا شاید 18 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15714

Majma al-Zawaid #15714

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قُبِضَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿid ibn al-Musayyab reported that Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه passed away when he was thirty-three or thirty-four years old.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کی عمر 35 برس یا شاید 34 برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس کی حدیث حسن ہے ‘ اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15715

Majma al-Zawaid #15715

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَالَّذِي يَرْفَعُ فِي نَسَبِهِ يَقُولُ: اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Saʿid reported that Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه died when he was twenty-eight years old, while the one who traces his lineage upward says he was thirty-two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت ان کی عمر 28 برس تھی ، جس نے ان کی عمر زیادہ بیان کی ہے اس کا یہ کہنا ہے : کہ ان کی عمر 32 برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15716

Majma al-Zawaid #15716

قُلْتُ: قَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ: أَنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا.

EnglishUnverified translation

It is noted that al-Ṭabarani narrated that Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه witnessed the battle of Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے ، انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ۔

15717

Majma al-Zawaid #15717

عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ} [البينة: 1] إِلَى آخِرِهَا قَالَ جِبْرِيلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَهَا أُبَيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَيٍّ: "": إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ "". قَالَ: إِنِّي قَدْ ذُكِرْتُ ثَمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَبَكَى أُبَيٌّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Ḥabbah al-Badri رضي الله عنه reported that when the verses, Those who disbelieved among the People of the Book, up to its end, were revealed, Jibril عليه السلام said, O Messenger of Allah, your Lord commands you to have Ubayy recite it. The Prophet ﷺ then said to Ubayy, Jibril عليه السلام has commanded me to have you recite this surah. Ubayy asked, Have I been mentioned there, O Messenger of Allah. He replied, Yes. Thereupon Ubayy wept. > **"Jibril عليه السلام has commanded me to have you recite this surah"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحبہ بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یا رسول الله ! آپ کا پروردگار آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ اسے حضرت ابی کے سامنے پڑھیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہارے سامنے یہ سورت پڑھوں ، حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15718

Majma al-Zawaid #15718

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، إِنِّي أُمِرْتُ: أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ". فَقَالَ: بِاللَّهِ آمَنْتُ، وَعَلَى يَدَيْكَ أَسْلَمْتُ، وَمِنْكَ تَعَلَّمْتُ قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوْلَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَذُكِرْتُ هُنَاكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ بِاسْمِكَ وَنَسَبِكَ فِي الْمَلَأِ الْأَعْلَى ". قَالَ: فَاقْرَأْ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ».

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, O Abu al-Mundhir, I have been commanded to present the Qurʾan to you. He replied, Through Allah I have believed, at your hands I submitted, and from you I learned. The Messenger of Allah ﷺ repeated his statement, and Ubayy asked, O Messenger of Allah, and was I mentioned there. He said, Yes, by your name and lineage in the highest assembly. Ubayy then said, Then recite, O Messenger of Allah. > **"O Abu al-Mundhir, I have been commanded to present the Qurʾan to you"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوالمنذر ! مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ، انہوں نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور میں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور میں نے آپ سے علم حاصل کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات دہرائی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرا ذکر وہاں ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تمہارے نام اور تمہارے نسب کے ہمراہ ملاء اعلیٰ میں ہوا ہے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ تلاوت کیجئے ۔

15719

Majma al-Zawaid #15719

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ، فَقَالَ: " «أَمَرَنِي جِبْرِيلُ: أَنَّ أَعْرِضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» ".

EnglishUnverified translation

In another narration Ubayy reported that he presented the Qurʾan to the Prophet ﷺ, who said, Jibril عليه السلام commanded me to have you present the Qurʾan to me. > **"Jibril عليه السلام commanded me to have you present the Qurʾan to me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے قرآن پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جبرائیل نے مجھے یہ ہدایت کی ہے ، کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔

15720

Majma al-Zawaid #15720

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ أُبَيٌّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمِرْتُ: أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In another narration Ubayy رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to him, I have been commanded to have you recite the Qurʾan. > **"I have been commanded to have you recite the Qurʾan"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15721

Majma al-Zawaid #15721

وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ» ".

EnglishUnverified translation

It was previously mentioned concerning the virtue of Muʿadh ibn Jabal that the Prophet ﷺ said, Take the Qurʾan from four, from Ubayy ibn Kaʿb. > **"Take the Qurʾan from four, from Ubayy ibn Kaʿb"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس سے پہلے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق یہ روایت گزر چکی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قرآن چار افراد سے سیکھو ! ابی بن کعب سے ۔‘‘

15722

Majma al-Zawaid #15722

وَعَنْ عَامِرِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ جَارِيَةُ بْنُ مَجْمَعٍ قَدْ قَرَأَهُ إِلَّا سُورَةً أَوْ سُورَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmir al-Shaʿbi reported that six men among the Anṣar collected the Qurʾan during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ: Zayd ibn Thabit, Abu Zayd, Muʿadh ibn Jabal, Abu al-Dardaʾ, Saʿd ibn ʿUbādah, and Ubayy ibn Kaʿb, رضي الله عنهم, while Jāriyah ibn Majmaʿ had recited all of it except a surah or two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شبعی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں انصار سے تعلق رکھنے والے چھ افراد نے قرآن جمع کیا تھا ( شاید اس سے مراد یہ ہے پورا حفظ کیا تھا ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ ، حضرت ابومعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، جبکہ حضرت جاریہ بن مجمع رضی اللہ عنہ نے پورا قرآن پڑھا تھا ، صرف ایک یا دو سورتوں کو نہیں پڑھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن عثمان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15723

Majma al-Zawaid #15723

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ الْقَضَاءِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةً: عُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعَبْدُ اللَّهِ، وَأُبَيٌّ وَزَيْدٌ، وَأَبُو مُوسَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Masruq reported that the authorities in judicial matters among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were six: ʿUmar, ʿAli, ʿAbdullah, Ubayy, Zayd, and Abu Musa, رضي الله عنهم.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں قاضی کے طور پر فیصلہ دینے والے افراد چھ تھے ، حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ ، حضرت ابی بن کعب ، حضرت زید اور حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہم ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15724

Majma al-Zawaid #15724

وَعَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مَا خَضَّبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtayy al-Saʿdi reported that he saw Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه white in his head and beard, and he had not dyed them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتی سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے ، وہ خضاب استعمال نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15725

Majma al-Zawaid #15725

وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: كَانَتْ فِي أُبَيٍّ بَشَاشَةُ شَرَابِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ كُنَاسَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr ibn Ḥubaysh reported that there was cheerfulness in the hospitality of Ubayy رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مزاج میں خوشگواریت تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن کناسہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15726

Majma al-Zawaid #15726

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ [وَيَقُولُ بَعْضُهُمْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] وَقَائِلٌ يَقُولُ: سَنَةَ ثَلَاثِينَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullah ibn Numayr reported that Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه died during the caliphate of ʿUmar in the year twenty-two, while some say during the caliphate of ʿUthman, and one saying states in the year thirty during the caliphate of ʿUthman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تیئس ہجری میں ہوا تھا ، بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے : ان کا انتقال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ، کسی نے یہ کہا ہے : سن تیس ہجری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔

15727

Majma al-Zawaid #15727

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُكَنَّى أَبَا الْمُنْذِرِ بِالْمَدِينَةِ سَنَة ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ مِنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه whose kunyah was Abu al-Mundhir, died at Madinah in the year twenty-two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں بائیس ہجری میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابوالمندر تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے ۔

15728

Majma al-Zawaid #15728

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشُدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ» ".

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the voice of Abu Ṭalḥah is harder upon the polytheists than a troop. > **"The voice of Abu Ṭalḥah is harder upon the polytheists than a troop"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مشرکین کے لئے ، ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ سخت ہے ۔‘‘