وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ فِي أَثَرِ الْكِتَابِ، فَأَدْرَكَا الْمَرْأَةَ عَلَى بَعِيرٍ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنْ قُرُونِهَا، فَأَتَيَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ: "" يَا حَاطِبُ، أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا [الْكِتَابَ]؟ "". قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ غَرِيبًا فِي أَهْلِ مَكَّةَ، وَكَانَ أَهْلِي بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَخَشِيتُ عَلَيْهِمْ، فَكَتَبْتُ كِتَابًا لَا يَضُرُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ شَيْئًا، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَنْفَعَةً لِأَهْلِي، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْكِنِّي مِنْ حَاطِبٍ ; فَإِنَّهُ قَدْ كَفَرَ فَأَضْرِبُ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مَا يُدْرِيكَ؟ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنه) reports that Ḥāṭib ibn Abī Baltaʿah (رضي الله عنه) wrote to Makkah, Allah informed His Prophet ﷺ, who sent ʿAlī and al-Zubayr (رضي الله عنهما) after the letter. They overtook the woman on her camel, extracted it from her braids, brought it, and it was read to the Prophet ﷺ. Ḥāṭib was summoned and confessed; asked his motive, he swore sincere counsel to Allah and His Messenger, pleading only strangerhood at Makkah with his family among them, fearing for them, writing what could harm Allah and His Messenger nothing while perchance benefiting his folk. ʿUmar drew his sword and sought leave to strike his neck for disbelief, and the Messenger of Allah ﷺ answered, O Ibn al-Khaṭṭāb, who knows — perhaps Allah looked upon this band of Badr and declared forgiveness: > **"O Ḥāṭib, did you write this letter? What moved you to it? O Ibn al-Khaṭṭāb, who knows? Perhaps Allāh looked upon this band of the people of Badr and said: Do whatever you wish, for I have forgiven you."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ ( رضی اللہ عنہ ) نے اہل مکہ کی طرف ایک مکتوب لکھا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی اطلاع دیدی ، نبی اکرم ﷺ نے علی اور زبیر کو اس مکتوب کے پیچھے بھیجا ، وہ دونوں ایک عورت کے پاس پہنچے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھی ، ان دونوں نے اس کے بالوں میں سے وہ مکتوب نکلوایا اور وہ مکتوب لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، وہ مکتوب نبی اکرم ﷺ کے سامنے پڑھا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے حاطب کو بلوایا اور دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خیرخواہ ہوں لیکن میں مکہ میں غریب الوطن تھا ، اور میرے اہل خانہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں ، مجھے ان اہل خانہ کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں نے ایک ایسا مکتوب لکھا ، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا ، لیکن یہ ہو سکتا تھا کہ وہ میرے اہل خانہ کے لئے نفع کا باعث بن جاتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تلوار نکالی اور پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیجئے ، کیونکہ اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے اس گروہ کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور پھر یہ فرمایا ہو : ’’ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔