Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 35

Book of Virtues and Merits

Hadith 15649–15688

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15649

Majma al-Zawaid #15649

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: ابْنُ رَبِيعَةَ مِنْ الْيَمَنِ، وَيَقُولُ مَنْ نَسَبَهُ إِلَى الْيَمَنِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُمَيْرَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُكَّةَ بْنِ مَذْحِجٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah states that Ibn Rabīʿah (رضي الله عنه) was of Yemen, and those tracing him to Yemen name him ʿĀmir ibn Rabīʿah ibn Kaʿb ibn ʿUmayrah ibn Mālik ibn Kinānah ibn Khuzaymah ibn al-Ḥārith ibn Muʿāwiyah ibn ʿAbs ibn Zayd ibn ʿAkkah ibn Madhḥij.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا تعلق یمن سے ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : جنہوں نے اُن کی نسبت یمن کی طرف کی ہے ، انہوں نے ان کا نام و نسب یہ بیان کیا ہے : حضرت عامر بن ربیعہ بن کعب بن عمیرہ بن مالک بن کنانہ بن خزیمہ بن حارث بن معاویہ بن عبس بن زید بن عکہ بن مذحج ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15650

Majma al-Zawaid #15650

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ: تُوُفِّيَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn ʿAbd Allāh al-Zubayrī states that ʿĀmir ibn Rabīʿah (رضي الله عنه) died in the year thirty-two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں : حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 33 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15651

Majma al-Zawaid #15651

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كَانَ رَبِيعَةُ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ حِينَ نَشَبَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ، فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ: قُمْ فَسَلِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكَ مِنَ الْفِتْنَةِ الَّتِي أَعَاذَ مِنْهَا صَالِحَ عِبَادِهِ، فَقَامَ فَصَلَّى فَاشْتَكَى فَمَا خَرَجَ إِلَّا جِنَازَتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿĀmir ibn Rabīʿah reports that when people embroiled themselves in tribulation, Rabīʿah (رضي الله عنه) would pray by night, was shown in a dream and told to rise and ask Allah to shield him from the tribulation from which He shielded His righteous servants; so he rose, prayed, then fell ill and never left except as a bier.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : جب لوگ فتنے میں مبتلا ہوئے ، تو حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت نماز پڑھا کرتے تھے ، انہیں خواب میں یہ بات دکھائی گئی کہ اُن سے کہا گیا : تم اُٹھو اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگو : کہ وہ تمہیں اس فتنے سے محفوظ رکھے ، جس سے اس نے اپنے نیک بندوں کو محفوظ رکھا ہے ، حضرت عامر رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے نماز ادا کی ( یعنی یہ دعا مانگی ) پھر وہ بیمار ہو گئے ، یہاں تک کہ اُن کا جنازہ ہی گھر سے باہر آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15652

Majma al-Zawaid #15652

«عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ؟ فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِذَا لَقِيتُ الْعَدُوَّ فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ، شَدِيدًا حَرْدُهُ، أُقَاتِلُهُ وَيُقَاتِلُنِي فِيكَ، ثُمَّ ارْزُقْنِي الظَّفَرَ عَلَيْهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلْبَهُ. فَأَمَّنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِيَ وَأُذُنِيَ، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: مَنْ جَدَعَ أَنْفَكَ وَأُذُنَكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقُولُ: صَدَقْتَ قَالَ سَعْدٌ: يَا بُنَيَّ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ، وَإِنَّ أَنْفَهُ وَأُذُنَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ (رضي الله عنه) reports that ʿAbd Allāh ibn Jaḥsh (رضي الله عنه) said to him on the day of Uḥud, will you not supplicate Allah? Withdrawing aside, Saʿd prayed: O Lord, when I meet the enemy, bring me a man of fierce strength and fury whom I fight for You and who fights me, then grant me victory to slay him and take his spoil — and ʿAbd Allāh said āmīn. Then ʿAbd Allāh prayed: O Allah, grant me a man of fierce fury and strength whom I fight for You and who fights me, then seizes me and cuts off my nose and ears, so that when I meet You tomorrow and You ask who cut my nose and ears, I answer, for You and Your Messenger ﷺ, and You say, you spoke truly. Saʿd said, O my son, ʿAbd Allāh's supplication proved better than mine; at day's end I saw him with his nose and ears hanging by a thread.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : کیا تم اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرو گے ؟ یہ دونوں حضرات ایک طرف ہوئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی : اے میرے پروردگار ! جب میں دشمن کے سامنے آؤں ، تو تو میرے سامنے ایک ایسے فرد کو لانا ، جو طاقتور لڑاکا ہو ، میں اس کے ساتھ لڑائی کروں اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرے اور پھر تو مجھے اُس کے خلاف کامیابی عطا کرنا ، یہاں تک کہ میں اُسے قتل کر کے اس کا سامان حاصل کر لوں ، اس پر حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے آمین کہا ، پھر انہوں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! تو مجھے ایسا دشمن نصیب کرنا ، جو طاقتور اور لڑاکا ہو ، میں تیری راہ میں اس کے ساتھ لڑائی کروں ، اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرے ، پھر وہ مجھے پکڑ کر میری ناک اور کان کاٹ دے ، پھر جب میں کل تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں ، تو تو دریافت کرنا : تمہاری ناک اور کان کس نے کاٹے ہیں ؟ تو میں جواب دوں گا : یہ تیری اور تیرے رسول کی راہ میں کٹے ہیں ، پھر تو یہ فرمانا : تم نے سچ کہا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دعا ، میری دعا سے بہتر تھی ، میں نے دن کے آخری حصے میں انہیں دیکھا ، اُن کی ناک اور اُن کے کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15653

Majma al-Zawaid #15653

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: طِبْ أَبَا السَّائِبِ نَفْسًا ; إِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ. فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ هَذِهِ؟ "". قَالَتْ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: "" وَمَا يُدْرِيكِ؟ "". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ! قَالَ: "" أَجَلْ، مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit (رضي الله عنه) reports that when ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه) was buried, Umm al-ʿAlāʾ said, be glad, Abū al-Sāʾib, you are in Paradise. The Messenger of Allah ﷺ heard her and asked who she was; she answered, and to his question what made her know, she named ʿUthmān ibn Maẓʿūn. He affirmed they had seen only good, yet declared himself Allah's Messenger who knew not what would be done with him: > **"Who is this? What makes you know? I am the Messenger of Allāh, and by Allāh I do not know what shall be done with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا ، تو سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے یہ کہا ہے : اے ابوسائب ! آپ کو مبارک ہو ، کہ آپ جنت میں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کی یہ بات سن لی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کیا پتا ؟ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ہمیں صرف بھلائی کا پتا ہے ، میں اللہ کا رسول ہوں ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہو گا ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15654

Majma al-Zawaid #15654

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظْرَةَ غَضْبَانَ، وَقَالَ: "" وَمَا يُدْرِيكِ؟ "". قَالَتْ: فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي "". فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ لِعُثْمَانَ وَهُوَ أَفْضَلُهُمْ، فَلَمَّا مَاتَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْحَقِي بِسَلَفِنَا عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that when ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه) died, his wife said, Paradise be yours. The Prophet ﷺ looked at her with anger and asked what made her know; she answered, your horseman and companion. He swore he knew not what would be done with him, which weighed heavily upon the Companions for one so excellent; then when Ruqayyah daughter of the Messenger of Allah ﷺ died, he bade her join their predecessor: > **"What makes you know? By Allāh, I do not know what shall be done with me. Join our predecessor ʿUthmān ibn Maẓʿūn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو اُن کی اہلیہ نے کہا : آپ کو جنت کی مبارک ہو ، نبی اکرم ﷺ نے غصے کے عالم میں اُس خاتون کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : تمہیں کیسے پتا چلا ؟ اُس خاتون نے عرض کی : یہ آپ کے شہسوار تھے اور آپ کے صحابی تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ کے اصحاب کے لئے پریشانی کا باعث بنی ، جو بات نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے ارشاد فرمائی تھی ، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا تھا ، پھر جب نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ( یعنی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی میت کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرمایا : تم ہمارے پیشرو عثمان بن مظعون کے ساتھ مل جاؤ ! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15655

Majma al-Zawaid #15655

وَعَنِ الْأُسُودِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَشْفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْحِقْ بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ: عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad ibn Sarīʿ (رضي الله عنه) reports that when ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه) died the Muslims grieved for him; then when Ibrāhīm son of the Messenger of Allah ﷺ died, he said: > **"Join our righteous predecessor ʿUthmān ibn Maẓʿūn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو مسلمان ان کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہوئے ، پھر جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم ہمارے نیک پیشرو عثمان بن مظعون سے جا ملو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15656

Majma al-Zawaid #15656

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا مَاتَ مَيِّتٌ قَالَ: "" قَدِّمُوهُ عَلَى فَرَطِنَا، نِعْمَ الْفَرَطُ لِأُمَّتَيْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ ضَعِيفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar (رضي الله عنهما) reports that when anyone died, the Prophet ﷺ would say, send him forth to our vanguard; and the best vanguard for his nation was ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه): > **"Send him forth to our vanguard; what an excellent vanguard for my nation is ʿUthmān ibn Maẓʿūn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب کوئی فوتگی ہوتی ، تو نبی اکرم ﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے : ’’ اسے ہمارے پیشرو کی طرف بھجوا دو ! اور میری امت کا بہترین پیشرو عثمان بن مظعون ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند ضعیف ہے اور معجم اوسط کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15657

Majma al-Zawaid #15657

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ: عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (رضي الله عنه) reports that when Ruqayyah daughter of the Prophet ﷺ died, he said: > **"Join our righteous predecessor ʿUthmān ibn Maẓʿūn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ہمارے نیک پیشرو عثمان بن مظعون سے جا ملو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15658

Majma al-Zawaid #15658

وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ مَظْعُونٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى خَدِّهِ بَعْدَمَا مَاتَ، وَلَا نَعْلَمُ قَبَّلَ أَحَدًا غَيْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَفَّانَ الْحَاطِبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah bint Maẓʿūn (رضي الله عنها) reports that the Prophet ﷺ kissed ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه) upon the cheek after he died, and they knew of none else he kissed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ بنت مظعون رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ( میت کے ) گال پر بوسہ دیا تھا ، راوی خاتون کہتے ہیں : ہمیں نہیں علم کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے پہلے ، اُن کے علاوہ کسی اور ( کی میت ) کو بوسہ دیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عفان حاطبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15659

Majma al-Zawaid #15659

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ يَوْمَ مَاتَ، فَأَحْنَى عَلَيْهِ كَأَنَّهُ يُوصِيهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْا فِي عَيْنَيْهِ أَثَرَ الْبُكَاءِ. ثُمَّ أَحَنَى عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْهُ يَبْكِي. ثُمَّ أَحَنَى عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَلَهُ شَهِيقٌ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَبَكَى الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْ، إِنَّمَا هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ ; فَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ "". ثُمَّ قَالَ: "" أَذْهِبْ عَنْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَلَقَدْ خَرَجْتَ وَلَمْ تَتَلَبَّسْ مِنْهَا بِشَيْءٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ سَبَبُ إِسْلَامِهِ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ النَّحْلِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Prophet ﷺ visited ʿUthmān ibn Maẓʿūn (رضي الله عنه) the day he died, bent over him as though confiding, then raised his head with traces of weeping in his eyes; bent a second time and was seen weeping; bent a third time and raised his head sobbing, and they knew he had died, so the people wept. The Prophet ﷺ bade them hush, for that was from Satan, and to seek Allah's forgiveness, then addressed the departed as having left this world unentangled: > **"Hush; this is from Satan, so seek Allāh's forgiveness. Depart, O Abū al-Sāʾib, for you have left and never entangled yourself with anything of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس دن حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اُس دن نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ اُن پر جھک گئے ، یوں جیسے آپ انہیں کوئی تلقین کر رہے ہوں ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں رونے کا نشان موجود ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ دوسری مرتبہ ان پر جھک گئے ، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا ، تو لوگوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ رو رہے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ تیسری مرتبہ ان پر جھک گئے ، پھر آپ نے سر اٹھایا تو آپ کے رونے کی آواز آ رہی تھی ، لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، حاضرین بھی رونے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : رُک جاؤ ! بے شک یہ شیطان کی طرف سے ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوسائب : تم ایسی حالت میں ( یعنی دنیا سے رخصت ہو کہ جب ) تم اس سے نکلے ، تو تم اس کے حوالے سے کسی چیز کے بارے میں التباس کا شکار نہیں ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے عمر بن عبدالعزیز بن مقلاص کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب ، تفسیر سے متعلق کتاب میں سورہ نحل سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

15660

Majma al-Zawaid #15660

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوَهُمْ، فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا. فَقَالَ: "" يَا حَاطِبُ، أَفَعَلْتَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نِفَاقًا، قَدْ عَلِمْتُ: أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرُ رَسُولِهِ وَمُتِمُّ لَهُ أَمْرَهُ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَكَانَتْ وَالِدَتِي مَعَهُمْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا؟ فَقَالَ: "" تَقْتُلُ رَجُلًا مَنْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ أَتَمُّ مِنْهُ، وَقَالَ فِيهِ: غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh (رضي الله عنهما) reports that Ḥāṭib ibn Abī Baltaʿah (رضي الله عنه) wrote to the people of Makkah informing them the Messenger of Allah ﷺ intended to raid them. The Messenger of Allah ﷺ was guided to the woman bearing the letter, sent to her, and took the letter from her head. Asked if he had done it, Ḥāṭib admitted it, denying treachery or hypocrisy, affirming Allah would manifest His Messenger, explaining only that as a sojourner among them with his mother there, he sought favour with them. ʿUmar (رضي الله عنه) asked to strike his neck, and the Prophet ﷺ answered, would you kill a man of Badr — who knows, perhaps Allah looked upon the people of Badr and bade them do as they wished: > **"O Ḥāṭib, did you do it? Would you kill a man of Badr? Who knows — perhaps Allāh looked upon the people of Badr and said: Do whatever you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی طرف خط لکھا ، جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم ﷺ اُن پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بارے میں رہنمائی کی ، جس کے پاس وہ مکتوب تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کی طرف لوگوں کو بھیجا اور اس عورت کے سر میں سے وہ مکتوب حاصل کر لیا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے ایسا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے لئے کسی کھوٹ کی وجہ سے ، یا کسی منافقت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ہے ، مجھے یہ پتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو غلبہ عطا کر دینا ہے ، اور ان کے معاملے کو مکمل کر دینا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ میں ان لوگوں کے درمیان رہا ہوں ، اور میری والدہ ان کے ساتھ ابھی بھی رہ رہی ہیں ، تم میں یہ چاہ رہا تھا کہ اس حوالے سے اپنی والدہ کی خاطر اُن پر کوئی احسان کر دوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو قتل کرو گے ؟ تمہیں کیا پتا ؟ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : ’’ تم جو چاہو عمل کرو !‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ میں اُن کے درمیان نمایاں حیثیت رکھتا تھا ( یا میں اُن کے درمیان اجنبی تھا ) ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15661

Majma al-Zawaid #15661

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابِ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَغَيَّرَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِي، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا وَلَهُ جَذَمٌ وَأَهْلُ بَيْتٍ يَمْنَعُونَ لَهُ أَهْلَهُ، وَكَتَبْتُ كِتَابًا رَجَوْتُ أَنْ يَمْنَعَ اللَّهُ بِذَلِكَ أَهْلِيَ، فَقَالَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: ائْذَنْ لِي فِيهِ قَالَ: "" أَوَ كُنْتَ قَاتِلَهُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ: أَنْ أَذِنْتَ لِي قَالَ: "" وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ قَدِ اطَّلَعَ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUmar (رضي الله عنهما) reports that Ḥāṭib ibn Abī Baltaʿah (رضي الله عنه) was brought to the Messenger of Allah ﷺ, who asked if he had written the letter. He answered yes, swearing faith had never departed his heart, but every Qurashī had kin at Makkah guarding his family, so he wrote hoping Allah would thereby guard his own. ʿUmar, may Allah have mercy on him, sought leave concerning him; the Prophet ﷺ asked if he would have killed him, and upon his assent, reminded him of Badr: > **"Did you write this letter? Would you have killed him? Who knows — perhaps Allāh looked upon the people of Badr and said: Do whatever you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس حضرت حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میرے دل سے ایمان متغیر نہیں ہوا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ یہاں قریش سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد موجود ہے ، اس کے تعلق دار اور خاندان کے افراد مکہ میں موجود ہیں ، جو اس کے گھر کے افراد کی دیکھ بھال کریں گے ، میں نے یہ مکتوب اس اُمید میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے میرے گھر والوں کی حفاظت کرے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے اس کے بارے میں اجازت دیں ، نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اسے قتل کر دو گے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! اگر آپ مجھے اجازت دے دیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرمایا ہو : ’’ تم جو چاہو عمل کرو !‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15662

Majma al-Zawaid #15662

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ فِي أَثَرِ الْكِتَابِ، فَأَدْرَكَا الْمَرْأَةَ عَلَى بَعِيرٍ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنْ قُرُونِهَا، فَأَتَيَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ: "" يَا حَاطِبُ، أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا [الْكِتَابَ]؟ "". قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ غَرِيبًا فِي أَهْلِ مَكَّةَ، وَكَانَ أَهْلِي بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَخَشِيتُ عَلَيْهِمْ، فَكَتَبْتُ كِتَابًا لَا يَضُرُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ شَيْئًا، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَنْفَعَةً لِأَهْلِي، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْكِنِّي مِنْ حَاطِبٍ ; فَإِنَّهُ قَدْ كَفَرَ فَأَضْرِبُ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مَا يُدْرِيكَ؟ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنه) reports that Ḥāṭib ibn Abī Baltaʿah (رضي الله عنه) wrote to Makkah, Allah informed His Prophet ﷺ, who sent ʿAlī and al-Zubayr (رضي الله عنهما) after the letter. They overtook the woman on her camel, extracted it from her braids, brought it, and it was read to the Prophet ﷺ. Ḥāṭib was summoned and confessed; asked his motive, he swore sincere counsel to Allah and His Messenger, pleading only strangerhood at Makkah with his family among them, fearing for them, writing what could harm Allah and His Messenger nothing while perchance benefiting his folk. ʿUmar drew his sword and sought leave to strike his neck for disbelief, and the Messenger of Allah ﷺ answered, O Ibn al-Khaṭṭāb, who knows — perhaps Allah looked upon this band of Badr and declared forgiveness: > **"O Ḥāṭib, did you write this letter? What moved you to it? O Ibn al-Khaṭṭāb, who knows? Perhaps Allāh looked upon this band of the people of Badr and said: Do whatever you wish, for I have forgiven you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ ( رضی اللہ عنہ ) نے اہل مکہ کی طرف ایک مکتوب لکھا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی اطلاع دیدی ، نبی اکرم ﷺ نے علی اور زبیر کو اس مکتوب کے پیچھے بھیجا ، وہ دونوں ایک عورت کے پاس پہنچے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھی ، ان دونوں نے اس کے بالوں میں سے وہ مکتوب نکلوایا اور وہ مکتوب لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، وہ مکتوب نبی اکرم ﷺ کے سامنے پڑھا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے حاطب کو بلوایا اور دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خیرخواہ ہوں لیکن میں مکہ میں غریب الوطن تھا ، اور میرے اہل خانہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں ، مجھے ان اہل خانہ کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں نے ایک ایسا مکتوب لکھا ، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا ، لیکن یہ ہو سکتا تھا کہ وہ میرے اہل خانہ کے لئے نفع کا باعث بن جاتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تلوار نکالی اور پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیجئے ، کیونکہ اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے اس گروہ کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور پھر یہ فرمایا ہو : ’’ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15663

Majma al-Zawaid #15663

«وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ كِتَابًا وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ: "" انْطَلِقَا حَتَّى تُدْرِكَا امْرَأَةً مَعَهَا كِتَابٌ، وَائْتِيَانِي بِهِ "". فَانْطَلَقَا حَتَّى لَقِيَاهَا، فَقَالَا: أَعْطِينَا الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ، وَأَخْبَرَاهَا أَنَّهُمَا غَيْرُ مُنْصَرِفَيْنِ حَتَّى يَنْزِعَا كُلَّ ثَوْبٍ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَلَسْتُمَا رَجُلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ؟ قَالَا: بَلَى، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا: أَنَّ مَعَكِ كِتَابًا، فَلَمَّا أَيْقَنَتْ أَنَّهَا غَيْرُ مُنْفَلِتَةٍ مِنْهُمَا حَلَّتِ الْكِتَابَ مِنْ رَأْسِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاطِبًا حَتَّى قَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَقَالَ: "" أَتَعْرِفَ هَذَا الْكِتَابَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ "". قَالَ: هُنَاكَ وَلَدِي وَقَرَابَتِي، وَكُنْتُ امْرَأً غَرِيبًا فِيكُمْ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فِي قَتْلِ حَاطِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنِّي غَافِرٌ لَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥāṭib ibn Abī Baltaʿah reports from his father that while with the Messenger of Allah ﷺ, a veteran of Badr, he wrote to the disbelieving Quraysh. The Messenger of Allah ﷺ summoned ʿAlī and al-Zubayr (رضي الله عنهما), bade them overtake a woman bearing a letter and bring it. They met her, demanded the letter, warning they would not turn back till every garment upon her was searched; she asked were they not two Muslims, they affirmed yet insisted the Messenger ﷺ had told them of the letter, so despairing escape she loosed it from her head and handed it over. Ḥāṭib was summoned, the letter read to him, he acknowledged it, and pleaded children and kin there and strangerhood among Quraysh. ʿUmar sought leave to kill Ḥāṭib, and the Messenger of Allah ﷺ reminded him of Badr and divine forgiveness: > **"Go until you overtake a woman bearing a letter, and bring it to me. Do you know this letter? What moved you to it? He witnessed Badr, and you know not — perhaps Allāh looked upon the people of Badr and said: Do whatever you wish, for I forgive you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے قریش کے کفار کی طرف ایک مکتوب لکھا ، حضرت حاطب رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، اُنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا : تم دونوں جاؤ ! تم ایک عورت کے پاس پہنچو گے ، جس کے پاس ایک مکتوب ہو گا ، تم اس مکتوب کو میرے پاس لے آنا ، یہ دونوں حضرات تشریف لے گئے ، اُن کی ملاقات اس عورت سے ہوئی ، ان دونوں نے کہا : تم ہمیں اپنے پاس موجود مکتوب دیدو ، ان دونوں نے اس عورت کو خبردار کیا کہ وہ دونوں اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے ، جب تک اس کی جامہ تلاشی نہیں لے لیتے ، اس عورت نے دریافت کیا : کیا تم دونوں مسلمان نہیں ہو ؟ اُن دونوں حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ تمہارے پاس ایک مکتوب ہے ، جب اس عورت کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ دونوں ایسے نہیں جائیں گے ، تو اس عورت نے اپنے سر میں سے مکتوب نکالا اور وہ ان دونوں حضرات کے حوالے کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ مکتوب پڑھا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس مکتوب سے واقف ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : وہاں میری اولاد اور رشتہ دار موجود ہیں ، اور میں قریش کے درمیان ایک غریب الوطن شخص ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس نے بدر میں شرکت کی ہے اور تم نہیں جانتے ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا ہو : ’’ تم جو چاہو عمل کرو ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

15664

Majma al-Zawaid #15664

وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ: «جَاءَ غُلَامُ حَاطِبٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَبْتَ ; قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Mubashshir (رضي الله عنها) reports that Ḥāṭib's boy came saying, by Allah, Ḥāṭib shall never enter Paradise, whereupon the Messenger of Allah ﷺ declared him lying, for Ḥāṭib had witnessed Badr and Ḥudaybiyah: > **"You lie; he witnessed Badr and al-Ḥudaybiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام آیا اور بولا : اللہ کی قسم ! حضرت حاطب رضی اللہ عنہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، تو تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے جھوٹ بولا ہے ، وہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15665

Majma al-Zawaid #15665

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَمَرَّتْ عَلَيَّ أُمَّتِي فَأُرِيتُهُمْ، فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ قَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ; هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ "". فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ: "" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ وَرِجَلُهُمَا فِي الْمُطَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي الْمُطَوَّلُ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ فِيمَنْ يَدْخُلُهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said the nations were shown to him at the season of pilgrimage, then his own nation passed and their multitude filling plain and mountain pleased him. Asked was he pleased, O Muḥammad, he answered yes; told that with them were seventy thousand entering Paradise without reckoning — those who seek no ruqyah, draw no omens, use no cauterisation, and trust in their Lord — ʿUkkāshah (رضي الله عنه) rose asking the Prophet ﷺ to pray Allah place him among them, and he prayed for him; then another rose asking likewise, and he answered that ʿUkkāshah had outstripped him: > **"Are you pleased, O Muḥammad? With them are seventy thousand entering Paradise without reckoning: those who seek no ruqyah, draw no omens, use no cauterisation, and trust in their Lord. ʿUkkāshah has outstripped you to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حج کے موقع پر میرے سامنے مختلف امتیں پیش کی گئیں ، پھر میرے پاس سے میری امت گزری ، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی کثرت مجھے اچھی لگی ، انہوں نے ہموار زمین اور پہاڑوں ، ساری جگہ کو بھر دیا تھا ، اس ( پروردگار ) نے دریافت کیا : اے محمد ! کیا تم راضی ہو گئے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے فرمایا : ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہیں ، فال نہیں نکالتے ہیں ، داغ نہیں لگواتے ہیں اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی اُن میں شامل کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا کی ، ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی اُن میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عکاشہ اس بارے میں تم پر سبقت لے گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے طویل اور مختصر دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ، اور طویل روایت میں ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، آگے چل کے طویل روایت ، جنت کی صفت سے متعلق کتاب میں ، ان افراد سے متعلق باب میں آئے گی ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔

15666

Majma al-Zawaid #15666

عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ: «كَانَ أَيْمَنُ عَلَى مَطْهَرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَعْلَبَةُ يُعَاطِيهِ حَاجَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ زَكَرِيَّا، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Maysarah reports that Ayman (رضي الله عنه) was in charge of the Prophet's ﷺ purification vessel, while Thaʿlabah assisted him in his needs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومیسرہ بیان کرتے ہیں : حضرت ایمن رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے طہارت کے برتن ، آپ کے جوتوں اور آپ کی ضروریات کے نگران تھے ( شاید یہاں مراد قضائے حاجت کے وقت پانی یا ڈھیلے فراہم کرنا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباس بن زکریا کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15667

Majma al-Zawaid #15667

وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ سَعْدٌ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ فَارٌّ مِنَ الْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَرَاهِيَةَ. قَالَ سَعْدٌ: مَا رَأَيْتُ خُطْبَةً أَبْعَدَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، ثُمَّ إِنَّهُمُ احْتَضَرُوا الْقِتَالَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ أَعَنَتَ الْقَوْمَ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَيْمَنَ: لَقَدْ حُدِّثْتُ أَنَّكَ [لَا] تَقُومُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ جُبْنًا، فَقَالَ: إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ أَقُومَ مَقَامًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ لِخَلِيقٌ أَنْ تَفْعَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

By the same chain from Abū Maysarah, Saʿd (رضي الله عنه) reports that he once saw Ayman (رضي الله عنه) fleeing combat, and perceived displeasure on the Messenger of Allah's ﷺ face. Later, when battle was joined, Saʿd saw Ayman restrain the enemy, which pleased the Prophet ﷺ. ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنه) remarked he had been told Ayman would not stand between the ranks from cowardice, and Ayman answered that he hoped to take a stand loved by Allah and His Messenger; ʿUmar affirmed he was worthy to do so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : ابومیسرہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایمن کو دیکھا کہ وہ لڑائی سے بھاگ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد لوگ لڑائی میں شریک ہوئے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایمن کو دیکھا کہ اس نے دشمن کو عاجز کر دیا اور نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ایمن رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے یہ بات بتائی گئی تھی کہ بزدلی کی وجہ سے تم دو صفوں کے درمیان کھڑے نہیں ہو سکتے ، تو حضرت ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : مجھے یہ امید ہے کہ میں ایسی جگہ پر کھڑا ہوؤں گا ، جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس بات کے لائق ہو کہ تم ایسا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ، اس سے پہلی والی روایت کی سند کے ہمراہ نقل کی ہے ۔

15668

Majma al-Zawaid #15668

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ: أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said the foremost are four: he the foremost of the Arabs, Ṣuhayb foremost of Rome, Salmān foremost of Persia, and Bilāl foremost of Abyssinia: > **"The foremost are four: I am the foremost of the Arabs, Ṣuhayb is the foremost of Rome, Salmān is the foremost of Persia, and Bilāl is the foremost of Abyssinia."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، میں ، عربوں میں سے سبقت لے جانے والا ہوں ، اور صہیب ، رومیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ، اور سلمان ، فارسیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ، اور بلال حبشیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمارہ بن زاذان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15669

Majma al-Zawaid #15669

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ إِلَى الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say he was the foremost of the Arabs to Paradise, Ṣuhayb of Rome, Bilāl of Abyssinia, and Salmān of Persia: > **"I am the foremost of the Arabs to Paradise, Ṣuhayb is the foremost of Rome to Paradise, Bilāl is the foremost of Abyssinia to Paradise, and Salmān is the foremost of Persia to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں ، عربوں میں سے جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہوں اور رومیوں میں سے ، صہیب ، جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور حبشیوں میں سے بلال جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور فارسیوں میں سے سلمان جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15670

Majma al-Zawaid #15670

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ: أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَائِدٌ الْعَطَّارُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ بَعْضُ طُرُقٍ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ (رضي الله عنها) reports that the Messenger of Allah ﷺ said the foremost are four: he of the Arabs, Salmān of Persia, Ṣuhayb of Rome, and Bilāl of Abyssinia: > **"The foremost are four: I am the foremost of the Arabs, Salmān is the foremost of Persia, Ṣuhayb is the foremost of Rome, and Bilāl is the foremost of Abyssinia."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، عربوں میں سے ” میں ‘‘ سبقت لے جانے والا ہوں ، فارسیوں میں سے سلمان سبقت لے جانے والا ہے ، رومیوں میں سے صہیب سبقت لے جانے والا ہے اور حبشیوں میں سے بلال سبقت لے جانے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس روایت کے بعض طرق گزر چکے ہیں ۔

15671

Majma al-Zawaid #15671

«وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb (رضي الله عنه) reports that he accompanied the Prophet ﷺ before revelation came to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی طرف پہلی مرتبہ وحی نازل ہونے سے پہلے ہی سے آپ کے ساتھ ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15672

Majma al-Zawaid #15672

وَعَنْ عِكْرِمَةَ - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ -: أَنْ صُهَيْبًا افْتَدَى مِنْ أَهْلِهِ بِنِصْفِ مَالِهِ، ثُمَّ خَرَجَ مُهَاجِرًا فَأَدْرَكُوهُ بِالطَّرِيقِ، فَخَرَجَ عَمَّا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIkrimah, freedman of Ibn ʿAbbās, reports that Ṣuhayb (رضي الله عنه) ransomed himself from his folk with half his wealth, then set out migrating; overtaken on the road, he surrendered the remainder of his wealth and went on.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام مکرمہ بیان کرتے ہیں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے اپنے مالکان کو اپنا نصف مال فدیے کے طور پر دیا ، پھر وہ ہجرت کرنے کے لئے نکلے ، راستے میں وہ لوگ اُن کے پاس پہنچ گئے ، تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے باقی بچا ہوا مال بھی انہیں دے دیا اور پھر آگے روانہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15673

Majma al-Zawaid #15673

وَعَنْ صُهَيْبٍ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ مَرَّ بِأَسِيرٍ لَهُ يَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصُهَيْبٌ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: أَسِيرٌ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ صُهَيْبٌ: لَقَدْ كَانَ فِي عُنُقِ هَذَا مَوْضِعٌ لِلسَّيْفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلَعَلَّكَ آذَيْتَهُ؟ "". فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ، فَقَالَ: "" لَوْ آذَيْتَهُ لَآذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb (رضي الله عنه) reports that Abū Bakr (رضي الله عنه) passed with a captive for whom he sought amnesty from the Messenger of Allah ﷺ, while Ṣuhayb sat in the mosque. Asked who accompanied him, Abū Bakr answered a polytheist captive for whom he sought the Prophet's ﷺ protection; Ṣuhayb remarked there was room at his neck for the sword. The Prophet ﷺ perceived anger and asked its cause; told what Ṣuhayb had said, he asked had Abū Bakr harmed him, and upon his oath of denial, warned that harming him would harm Allah and His Messenger: > **"Perhaps you harmed him? Had you harmed him, you would have harmed Allāh and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ایک قیدی کے ساتھ گزرے ، وہ نبی اکرم ﷺ سے اس کے لیے امان لینا چاہتے تھے ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مشرکین سے تعلق رکھنے والا میرا ایک قیدی ہے ، میں اللہ کے رسول ﷺ سے اس کے لیے امان لینا چاہتا ہوں ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی گردن میں تلوار کے لیے ایک جگہ ہے ، اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ میں تمہیں غصے میں دیکھ رہا ہوں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اپنے اس قیدی کے ہمراہ صہیب کے پاس سے گزرا ، تو اُس نے کہا : اس کی گردن میں تلوار کے لیے جگہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو شاید تم نے اُسے اذیت پہنچائی ہو گی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اسے اذیت پہنچائی ہوتی ، تو تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15674

Majma al-Zawaid #15674

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: «لَمْ يَشْهَدْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشْهَدًا قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهُ، وَلَا غَزَا غَزْوَةً قَطُّ أَوَّلَ الْأَمْرِ وَآخِرَهُ إِلَّا كُنْتُ فِيهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، وَلَمْ يُبَايِعْ بَيْعَةً قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهَا، وَلَمْ يُسَيِّرْ سَرِيَّةً قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهَا، وَمَا خَافُوا أَمَامَهُمْ قَطُّ إِلَّا كُنْتُ أَمَامَهُمْ، وَلَا مَا وَرَاءَهُمْ إِلَّا كُنْتُ وَرَاءَهُمْ، وَمَا جَعَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَ الْعَدُوِّ قَطُّ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣuhayb (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ never attended a scene but he was present, never raided early or late but he stood at his right or left, never took a pledge but he attended it, never dispatched a detachment but he joined it; if they feared ahead he was ahead, if behind he was behind, and he never placed the Messenger of Allah ﷺ between himself and the enemy until the Messenger of Allah ﷺ passed away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جس بھی جنگ میں حصہ لیا ، میں اس میں شریک ہوا ہوں ، اور نبی اکرم ﷺ نے جو بھی غزوہ کیا ، خواہ وہ آغاز کے زمانے میں ہوا ہو ، یا بعد کے زمانے میں ہوا ہو ، میں اس میں نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف یا بائیں طرف موجود رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے جب بھی بیعت لی ، تو میں بھی وہاں موجود رہا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے جو بھی جنگی مہم روانہ کی ، میں اس میں شریک ہوا ہوں ، اگر لوگوں کو آگے کی طرف سے اندیشہ ہوتا تھا ، تو میں ان کے آگے ہوتا تھا ، اگر پیچھے کی طرف سے اندیشہ ہوتا تھا ، تو میں ان کے پیچھے ہوتا تھا ، اور میں نے کبھی نبی اکرم ﷺ کو اپنے اور دشمن کے درمیان نہیں ہونے دیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15675

Majma al-Zawaid #15675

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَمَرَ صُهَيْبًا - مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ -: أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah (رضي الله عنهما) reports that when ʿUmar (رضي الله عنه) was stabbed, he ordered Ṣuhayb (رضي الله عنه), freedman of Banū Judʿān, to lead the people in prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ، تو انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو ، جو بنو جدعان کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے تھے ، اُن کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15676

Majma al-Zawaid #15676

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī Shaybah states that al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنه) is Abū ʿAmr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ، ان کی کنیت ابوعمرو ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15677

Majma al-Zawaid #15677

(وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ ثُمَامَةَ بْنِ مَطْرُودِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ [بْنِ زُهَيْرِ] بْنِ ثَوْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ هَزْلِ بْنِ قَابِسِ بْنِ رُوَيْمِ بْنِ الْقَيْنِ بْنِ الْهُونِ بْنِ بَهْزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَافِّ بْنِ قُضَاعَةَ. وَإِنَّمَا نُسِبَ إِلَى الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ; لِأَنَّهُ تَبَنَّاهُ وَحَالَفَهُ. وَكَانَ أَبْطَنَ آدَمَ، يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، أَقْنَى، طَوِيلَ الْأَنْفِ. مَاتَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -) ..

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq records that he is al-Miqdād ibn ʿAmr ibn Thaʿlabah ibn Rabīʿah ibn Thumāmah ibn Maṭrūd ibn ʿAmr ibn Saʿd ibn Zuhayr ibn Thawr ibn Thaʿlabah ibn Mālik ibn Hazl ibn Qābis ibn Ruwaym ibn al-Qayn ibn al-Hūn ibn Bahz ibn ʿAmr ibn al-Ḥāf ibn Quḍāʿah, attributed to al-Aswad ibn ʿAbd Yaghūth ibn Wahb ibn ʿAbd Manāf ibn Zuhrah because he adopted and allied him. He was pot-bellied, dark, dyeing his beard yellow, aquiline and long-nosed; died at Madīnah aged seventy, and ʿUthmān ibn ʿAffān (رضي الله عنه) prayed over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بن عمرو بن ثعلبہ بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرود بن عمرو بن سعد بن زہیر بن ثور بن ثعلبہ بن مالک بن ہزل بن قابس بن رویم بن القين بن الهون بن بہز بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ ہیں ۔ ان کی نسبت اسود بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی طرف کی گئی ہے ، کیونکہ انہوں نے ان صاحب کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور انہیں حلیف قرار دیا تھا ۔ یہ بڑے پیٹ کے ، گندمی رنگ کے مالک شخص تھے اور داڑھی پر زرد خضاب لگاتے تھے ، یہ اٹھی ہوئی اور لمبی ناک کے مالک تھے ، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا ، اُس وقت ان کی عمر ستر برس تھی ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔

15678

Majma al-Zawaid #15678

وَعَنْ عُثْمَانَ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: مِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرِو بَدْرِيٌّ، يُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ، وَقِيلَ: أَبَا عَمْرٍو حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، [وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي نَسَبِهِ] وَهُوَ مُهَاجِرِيٌّ أَوَّلِيٌّ بَدْرِيٌّ - رَحِمَهُ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān — as al-Ṭabarānī states — records that al-Miqdād ibn al-Aswad ibn ʿAmr (رضي الله عنه) was a Badr veteran, kunyah Abū Maʿbad, also said Abū ʿAmr, ally of Banū Zuhrah, his lineage disputed, an early Emigrant, may Allah have mercy on him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود بن عمرو بدری ہیں ، ان کی کنیت ابومعبد ہے اور ایک قول کے مطابق ابوعمرو ہے ، یہ بنو زہرہ کے حلیف ہیں ، ان کے نسب کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، یہ ابتداء میں ہجرت کرنے والے فرد ہیں ، اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔

15679

Majma al-Zawaid #15679

وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «رَأَيْتُ الْمِقْدَادَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ ضَخْمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hammām ibn al-Ḥārith reports that he saw al-Miqdād (رضي الله عنه), and he was stout.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے وہ ایک بھاری بھرکم فرد تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15680

Majma al-Zawaid #15680

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «كَانَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ مِنْ كِنْدَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī states that al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنه) was of Kindah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تعلق کندہ سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15681

Majma al-Zawaid #15681

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ صَهْبَانَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ صَاحِبًا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَهْزٍ فَأَصَابَ فِيهِمْ دَمًا، فَهَرَبَ إِلَى كِنْدَةَ فَحَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَصَابَ فِيهِمْ دَمًا فَهَرَبَ إِلَى مَكَّةَ، فَحَالَفَ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sufyān ibn Ṣahbānah al-Mahrī reports that he accompanied al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنه) in the Jāhiliyyah: a man of Bahz, he shed blood among them and fled to Kindah, allying with them; then shed blood among them and fled to Makkah, allying with al-Aswad ibn ʿAbd Yaghūth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان بن صہبانہ مہری بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا ساتھی تھا ، اُن کا تعلق بہز قبیلے سے تھا وہاں انہوں نے قتل کر دیا اور بھاگ کر کندہ چلے گئے اور ان لوگوں کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کر لیا ، پھر وہاں انہوں نے قتل کیا اور بھاگ کر مکہ آ گئے ، یہاں انہوں نے اسود بن عبدیغوث کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور سفیان تک اس کی سند حسن ہے ۔

15682

Majma al-Zawaid #15682

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى أَرْبَعَةٍ: عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ الْمِقْدَادِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ وَعِمْرَانُ بْنُ وَهْبٍ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said Paradise longs for four: ʿAlī ibn Abī Ṭālib, ʿAmmār ibn Yāsir, Salmān al-Fārisī and al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنهم): > **"Paradise longs for four: ʿAlī ibn Abī Ṭālib, ʿAmmār ibn Yāsir, Salmān al-Fārisī and al-Miqdād ibn al-Aswad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت چار افراد کی مشتاق ہے ، علی بن ابوطالب ، عمار بن یاسر ، سلمان فارسی اور مقداد بن اسود ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سلمہ بن فضل اور عمران بن وہب نامی راویوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15683

Majma al-Zawaid #15683

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" [يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ] دَعُونِي "". فَانْطَلَقَ بِالْهَدْيِ فَنَحَرَهُ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: لَا وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَالْمَلَأِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ قَالُوا لِمُوسَى: {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24]، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مُقَاتِلُونَ، فَنَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ مَعَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعُونَ بَدَنَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reports that on the day of Ḥudaybiyah the Prophet ﷺ said, leave me, then went with the sacrificial animals and slaughtered them — or as narrated — whereupon al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنه) swore they would not be as the chiefs of Israel who told Mūsā, go you and your Lord and fight, we sit here; rather go you and your Lord and fight, and we shall fight with you both. Qatādah added that seventy camels accompanied them that day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے چھوڑ دو ( یعنی مجھے کرنے دو ) پھر آپ قربانی کے جانور کو لے کر تشریف لے گئے اور اسے قربان کر دیا ‘‘ ( یا جس طرح بھی راویوں نے بیان کیا ہے ) حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم بنی اسرائیل کے گروہ کی مانند نہیں ہوں گے ، جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہہ دیا تھا : آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور دونوں لڑائی کریں ، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ، ( حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم تو یہ کہیں گے : ) آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور لڑائی کریں ہم آپ دونوں کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیں گے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کے جانور کو قربان کیا ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں : اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ستر اونٹ تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15684

Majma al-Zawaid #15684

وَعَنْ يَحْيَى بْنَ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ بِالْجَرْفِ، وَحَمَلَهُ الرِّجَالُ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رِقَابِهِمْ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَيُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ، وَسِنُّهُ نَحْوٌ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that al-Miqdād ibn al-Aswad (رضي الله عنه) died at al-Jurf, men bearing him upon their necks to Madīnah in the year thirty-three; ʿUthmān ibn ʿAffān (رضي الله عنه) prayed over him; his kunyah was Abū Maʿbad, aged about seventy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا انتقال ’’ حرف ‘‘ کے مقام پر ہوا ، لوگ ان کی میت کندھوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ لے کے آئے ، یہ 33 ہجری کی بات ہے ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی ، حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومعبد تھی اور انتقال کے وقت ان کی عمر 70 سال کے لگ بھگ تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15685

Majma al-Zawaid #15685

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ يُكْنَى: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَقِيلَ: أَبُو غَزْوَانَ، وَكَانَ طَوِيلًا جَمِيلًا، مَاتَ سَنَةِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْبَصْرَةِ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، وَدُفِنَ فِي بَعْضِ الْمِيَاهِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً، حَلِيفُ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah Maʿmar ibn al-Muthannā states that ʿUtbah ibn Ghazwān (رضي الله عنه), kunyah Abū ʿAbd Allāh, also said Abū Ghazwān, was tall and handsome; died in the year seventeen while bound for Baṣrah the second time, buried by some waters, aged fifty-five, an ally of Banū Nawfal ibn ʿAbd Manāf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، اور ایک قول کے مطابق ابوغزوان تھی ، وہ طویل القامت خوبصورت شخص تھے ، ان کا انتقال 17 ہجری میں ہوا تھا ، جب وہ دوسری مرتبہ بصرہ جا رہے تھے ، انہیں کسی پانی کے پاس دفن کیا گیا تھا ، ان کی عمر 55 سال تھی ، وہ بنو نوفل بن عبدمناف کے حلیف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15686

Majma al-Zawaid #15686

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِطَرِيقِ الْبَصْرَةِ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَسِنُّهُ سَبْعٌ وَخَمْسُونَ سَنَةً. وَقِيلَ: مَاتَ سَنَةَ عِشْرِينَ، وَهُوَ الَّذِي مَصَّرَ الْبَصْرَةَ، وَاخْتَطَّ بِهَا الْمَنَازِلَ، وَبَنَى مَسْجِدَهَا، وَهُوَ الَّذِي افْتَتَحَ الْأُبُلَّةَ، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ الْبَصْرَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَلَّاهُ إِيَّاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that ʿUtbah ibn Ghazwān (رضي الله عنه) died in the year seventeen on the Baṣrah road as ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb's governor (رضي الله عنه), aged fifty-seven — also said twenty — he who founded Baṣrah, parcelled its dwellings, built its mosque, conquered al-Ubullah, governing Baṣrah six months under ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا انتقال 17 ہجری میں ، بصرہ کے راستے میں ہوا تھا ، وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ اہلکار تھے ، ان کی عمر 57 برس تھی ، ایک قول کے مطابق ان کا انتقال 20 ہجری میں ہوا تھا ، یہ وہ فرد ہیں جنہوں نے ’’ بصرہ ‘‘ شہر بسایا تھا ، وہاں گھروں کی حد بندی کی تھی ، اور وہاں کی مسجد تعمیر کی تھی ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے ’’ ابلہ ‘‘ فتح کیا تھا ، یہ چھ ماہ تک بصرہ کے گورنر رہے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15687

Majma al-Zawaid #15687

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْأَشْهَلِيُّ، بَدْرِيٌّ أُحَدِيٌّ، يُكْنَى أَبَا عَمْرٍو، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ بِأَسَانِيدِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī states that Saʿd ibn Muʿādh al-Anṣārī, then al-Ashhalī (رضي الله عنه), veteran of Badr and Uḥud, kunyah Abū ʿAmr, was martyred on the day of the Trench, as already given with chains concerning Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ انصاری ، اشہلی ، انہیں غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کا شرف حاصل ہے اُن کی کنیت ابوعمر تھی ، وہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے تھے ۔ یہ بات اس سے پہلے اسانید کے ساتھ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

15688

Majma al-Zawaid #15688

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا سَيِّدُكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf (رضي الله عنه) reports that while they sat with the Prophet ﷺ, Saʿd ibn Muʿādh (رضي الله عنه) arrived, and the Messenger of Allah ﷺ said: > **"This is your chief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، اسی دوران حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تم لوگوں کا سردار معاذ ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔