Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 34

Book of Virtues and Merits

Hadith 15609–15648

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15609

Majma al-Zawaid #15609

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: أَنَّهُ لَمَّا أُتِيَ بِاللَّبَنِ ضَحِكَ.

EnglishUnverified translation

In Aḥmad's narration, when the milk was brought to him, he laughed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب اُن کے پاس دودھ لایا گیا ، تو وہ ہنس پڑے ۔

15610

Majma al-Zawaid #15610

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لِعَمَّارٍ: تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضَرَارُ بْنُ صُرَدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said to ʿAmmār (رضي الله عنه): > **"The rebellious party will kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15611

Majma al-Zawaid #15611

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The rebellious party shall kill ʿAmmār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15612

Majma al-Zawaid #15612

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْعَرْدِ: أَنَّهُمَا «سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ: "" تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ، قُلْتُ: وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الْيُسْرِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Yusr ibn ʿAmr and Ziyād ibn al-ʿArd (رضي الله عنهما) both heard the Messenger of Allah ﷺ say to ʿAmmār (رضي الله عنه): > **"The rebellious party shall kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت زیاد بن عرد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ان دونوں حضرات نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود بن سلیمان ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجبول ہے اور زہری نامی راوی نے حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15613

Majma al-Zawaid #15613

«وَعَنِ ابْنَةِ هِشَامِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ - وَكَانَتْ تُمَرِّضُ عَمَّارًا - قَالَتْ: جَاءَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَمَّارٍ يَعُودُهُ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنِيَّتَهُ بِأَيْدِينَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَابْنَةُ هُشَامٍ وَالرَّاوِي عَنْهَا لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Hishām ibn al-Walīd ibn al-Mughīrah, who nursed ʿAmmār (رضي الله عنه), reports that Muʿāwiyah (رضي الله عنه) visited him in illness, and upon leaving said, O Allah, make not his death by our hands, for he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The rebellious party shall kill ʿAmmār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن ولید بن مغیرہ کی صاحبزادی ، جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کر رہی تھیں ، وہ بیان کرتی ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے ، جب وہ اُن کے پاس سے اُٹھ کر گئے ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! تو انہیں ہمارے ہاتھوں موت نہ دینا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ہشام کی صاحبزادی اور اس خاتون سے نقل کرنے والے راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15614

Majma al-Zawaid #15614

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كُنَّا نَنْقُلُ اللَّبِنَ لِلْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لِبِنَتَيْنِ لِبِنَتَيْنِ، فَيَنْفُضُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَتِفِهِ التُّرَابَ وَقَالَ: "" وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī (رضي الله عنه) reports that they carried bricks for the mosque one by one while ʿAmmār (رضي الله عنه) carried two by two, so the Messenger of Allah ﷺ dusted the earth from his shoulder and said: > **"Woe to you, O Ibn Sumayyah! The rebellious party shall kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مسجد نبوی کی تعمیر کرتے ہوئے ایک ایک اینٹ منتقل کر رہے تھے ، جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن کے کندھے سے مٹی جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابن سمیہ ! تمہارا ستیاناس ہو ، ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15615

Majma al-Zawaid #15615

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَيْضًا قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لِبِنَتَيْنِ لِبِنَتَيْنِ قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" يَا ابْنَ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī (رضي الله عنه) also reports that the Messenger of Allah ﷺ ordered them to build the mosque, and they carried brick by brick while ʿAmmār carried two by two; his companions — not he himself directly from the Prophet ﷺ — reported that he said: > **"O Ibn Sumayyah, the rebellious party shall kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں مسجد کی تعمیر کا حکم دیا ، تو ہم نے ایک ایک اینٹ منتقل کرنا شروع کی ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ، یہ بات میں نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی نہیں سنی ، ساتھیوں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اے ابن سمیہ ! ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15616

Majma al-Zawaid #15616

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْنِي الْمَسْجِدَ، فَإِذَا نَقَلَ النَّاسُ حَجَرًا نَقَلَ عَمَّارٌ حَجَرَيْنِ، فَإِذَا نَقَلُوا لَبِنَةً نَقَلَ لِبِنْتَيْنِ.» قَالَ: فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (رضي الله عنه) reports that while the Messenger of Allah ﷺ built the mosque, men carried one stone while ʿAmmār carried two, and one brick while he carried two, and then he mentioned the same warning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد تعمیر کروا رہے تھے ، دوسرے لوگ ایک ایک پتھر اٹھا کے لاتے تھے ، جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے ، لوگ ایک ایک اینٹ منتقل کرتے تھے ، اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کرتے تھے ........ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15617

Majma al-Zawaid #15617

وَعَنْ حَبَّةَ قَالَ: «اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "". وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥabbah reports that Ḥudhayfah and Abū Masʿūd (رضي الله عنهما) gathered, one reminding the other that the Messenger of Allah ﷺ had said the rebellious party would kill ʿAmmār (رضي الله عنه), and the other affirming him: > **"The rebellious party shall kill ʿAmmār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، تو ان دونوں صاحبان میں سے ، ایک نے دوسرے سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے :’’ ایک باغی گروہ ، عمار کو قتل کرے گا ، تو دوسرے صاحب نے اُن کی تصدیق کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15618

Majma al-Zawaid #15618

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُونَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَمَّارٍ: "" تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ دَاحِضًا فِي بَوْلِكَ، نَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءَ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ أَسَانِيدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith ibn Nawfal reports that he heard ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, ʿAmr ibn al-ʿĀṣ and Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān (رضي الله عنهم) say the Messenger of Allah ﷺ had said to ʿAmmār (رضي الله عنه) that the rebellious party would kill him; Muʿāwiyah retorted, mocking childishness, did we kill him — only he who brought him killed him: > **"The rebellious party shall kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا : ’’ ایک باغی گروہ ، تمہیں قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ہمیشہ اپنے پیشاب میں گیلے ہوتے رہو گے ( یعنی تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا ) کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ اُن کو اُس نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی اسانید میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

15619

Majma al-Zawaid #15619

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارٍ وَسَلَبِهِ، فَقَالَ عَمْرٌو: خَلِّيَا عَنْهُ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «قَاتِلُ عَمَّارٍ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ صَرَّحَ لَيْثٌ بِالتَّحْدِيثِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr (رضي الله عنهما) reports that two men came to ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنه) disputing over ʿAmmār's blood and spoils, and he told them to leave it, for he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The killer of ʿAmmār and his despoiler are in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو افراد ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ دونوں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور اُن کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمار کو قتل کرنے والا ، اور اُس کا سامان لینے والا جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں لیث نامی راوی نے تحدیث کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15620

Majma al-Zawaid #15620

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «قَاتِلُ عَمَّارٍ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمِلَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr (رضي الله عنهما) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The killer of ʿAmmār and his despoiler are in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمار کو قتل کرنے والا اور اُس کا سامان لینے والا جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15621

Majma al-Zawaid #15621

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ: «أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِعَمَّارٍ: "" إِنَّكَ حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنَّكَ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَلَتَقْتُلَنَّكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "". قَالَ: بَلَى قَالَ: فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ، نَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتْلَهُ الَّذِي جَاءَ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith reports that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنه) asked Muʿāwiyah (رضي الله عنه) whether he had heard, when the mosque was built, the Prophet's ﷺ words to ʿAmmār that he was keen upon jihād, among the people of Paradise, yet the rebellious party would kill him; he answered yes, and to the question why then they killed him, returned the same retort that they had not killed him but he who brought him had: > **"You are keen upon jihād, and you are among the people of Paradise, yet the rebellious party shall surely kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا : امیرالمومنین ! کیا آپ نے یہ روایت نہیں سنی ہے ؟ کہ مسجد کی تعمیر کے وقت نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ’’ تم جہاد کرنے کے حریص ہو اور تم اہل جنت میں سے ایک ہو اور ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔‘‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : پھر آپ لوگوں نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! تم مسلسل اپنے پیشاب میں گیلے ہوتے رہو گے ( یعنی تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا ) ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں اس نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15622

Majma al-Zawaid #15622

وَعَنْ هَنِيٍّ - مَوْلَى عَمْرٍو - قَالَ: «كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِصِفِّينَ، فَنَظَرْتُ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَتْلَى فَإِذَا أَنَا بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَقْتُولًا، فَذَهَبْنَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقُلْتُ: مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَمَّارٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ: "" تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "". فَقُلْتُ: هَذَا عَمَّارٌ قَدْ قَتَلْتُمُوهُ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيَّ، وَقَالَ: انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ، فَذَهَبْتُ فَوَقَفْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: مَاذَا تَقُولُ فِيهِ؟ قَالَ: إِنَّمَا قَتَلَهُ أَصْحَابُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا، وَرَوَاهُ مُخْتَصَرًا، وَرِجَالُ الْمُخْتَصَرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زِيَادٍ مَوْلَى عَمْرٍو وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Hāniʾ, freedman of ʿAmr, reports that he accompanied Muʿāwiyah and ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنهما) at Ṣiffīn, surveyed the slain that day and found ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) killed. Going to ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, he asked what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ concerning ʿAmmār; he answered that he had heard him tell ʿAmmār the rebellious party would kill him. Told that they had killed him, he denied it and demanded to be shown; standing over him and asked his judgement, he answered that only his companions had killed him: > **"The rebellious party shall kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ہنی بیان کرتے ہیں : ’’ میں ’’ صفین ‘‘ میں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اس دن میں نے مقتولین کا جائزہ لیا ، تو میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مقتول پایا ، ہم لوگ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، میں نے کہا : حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، آپ نے نبی اکرم ﷺ کو کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو عمار سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو تو آپ لوگوں نے قتل کر دیا ہے ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تم چلو اور مجھے دکھاؤ ! میں گیا اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، میں نے دریافت کیا : ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کروایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس کو مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، مختصر روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔

15623

Majma al-Zawaid #15623

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، وَمَيْسَرَةَ: «أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ كَانَ يُقَاتِلُ فَلَا يَقْتُلُ، فَيَجِيءُ إِلَى عَلِيٍّ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَوْمُ كَذَا وَكَذَا هَذَا، فَيَقُولُ: أَذْهِبْ عَنْكَ. قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ هَذِهِ آخِرَ شَرْبَةٍ أَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَامَ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ، وَفِي بَعْضِهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدْ تَغَيَّرَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبَقِيَّةُ الْأَسَانِيدِ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Bakhtarī and Maysarah report that ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) fought at Ṣiffīn without falling, repeatedly coming to ʿAlī (رضي الله عنه) asking whether this was the appointed day, and told to go away, until milk was brought and he drank, declaring the Messenger of Allah ﷺ had said it was the last draught he would drink of this world; then he rose, fought and was killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبختری اور میسرہ بیان کرتے ہیں : جنگ ’’ صفین ‘‘ کے دن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ لڑائی میں حصہ لیتے رہے ، لیکن وہ شہید نہیں ہوئے ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے امیرالمؤمنین ! کیا یہ فلاں فلاں دن نہیں ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اپنے سے لے جاؤ ! راوی کہتے ہیں : ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر دودھ لایا گیا ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اسے پیا ، پھر انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : یہ پینے کی وہ آخری چیز ہو گی ، جو میں دنیا میں پیوں گا ، پھر وہ اُٹھے انہوں نے لڑائی میں حصہ لیا اور شہید ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی بعض اسناد میں ایک راوی عطا بن سائب ہے ، جو تغیر کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کی بقیہ اسانید ضعیف ہیں ۔

15624

Majma al-Zawaid #15624

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[يَقُولُ] وَضَرَبَ جَنْبَ عَمَّارٍ قَالَ: "" إِنَّكَ لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَقْتُلَكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ النَّاكِبَةُ عَنِ الْحَقِّ، يَكُونُ آخِرُ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةَ لَبَنٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ, striking ʿAmmār's side, declare he would not die until the rebellious party, turned aside from truth, killed him, his final provision a draught of milk: > **"You shall not die until the rebellious party, turned aside from truth, kills you; your final provision of this world shall be a draught of milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، آپ ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پہلو پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ’’ تم اُس وقت تک نہیں مرو گے ، جب تک تمہیں ایک باغی گروہ قتل نہیں کرے گا ، جو حق سے عدول کرنے والا ہو گا ، اور دنیا میں تمہاری آخری استعمال کی چیز دودھ کا گھونٹ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15625

Majma al-Zawaid #15625

وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَعَا غُلَامًا لَهُ بِشَرَابٍ، فَأَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ آخِرَ شَيْءٍ أَزُودُهُ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحَةُ لَبَنٍ. ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَوْ هَزَمُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى حَقٍّ وَأَنَّهُمْ عَلَى بَاطِلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Sinān al-Duʾalī, a companion of the Messenger of Allah ﷺ, reports that he saw ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) summon his boy for drink; brought a cup of milk, he drank and declared Allah and His Messenger truthful — today he would meet the beloved Muḥammad ﷺ and his party, as the Messenger ﷺ had said his final provision would be thin milk — then swore that though driven back to the fronds of Hajar, they knew themselves upon truth and their foes upon falsehood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت ابوسنان دؤلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے اپنے غلام سے مشروب منگوایا ، تو وہ غلام اُن کے پاس دودھ کا پیالہ لے کر آیا ، انہوں نے اس دودھ کو پیا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ کہا ہے ، آج میں اپنی محبوب ہستیوں حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے مل جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں دنیا میں جو آخری چیز استعمال کروں گا ، وہ دودھ ہو گا ، پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ ہمیں پسپا کر دیں ، یہاں تک کہ وہ ہمیں ’’ سعفات ہجر ‘‘ تک پہنچا دیں ، تو بھی ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15626

Majma al-Zawaid #15626

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي خَاصِرَتِي، فَقَالَ: "" خَاصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، آخِرُ زَادِكَ ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ struck his flank and said it was a believing flank, that the rebellious party would kill him, his final provision thin milk: > **"A believing flank; the rebellious party shall kill you, and your final provision is thin milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے پہلو پر اپنا ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا : ’’ یہ مومن پہلو ہے ، ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ، اور تمہاری آخری استعمال کی چیز دودھ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15627

Majma al-Zawaid #15627

وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ: كُنْتُ بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ الْقُرَشِيِّ، فِي مَنْزِلِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ بِالْبَابِ أَفَتَأْذُنُونَ لَهُ فَيَدْخُلَ؟ فَكَرِهَ بَعْضُ [الْقَوْمِ]، وَقَالَ بَعْضٌ: أَدْخِلُوهُ، [فَدَخَلَ]، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ فَقَالَ: «لَقَدْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي فَأَرُدُّ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَبَا الْغَادِيَةِ، كَيْفَ كَانَ أَمْرُ عَمَّارٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ عَمَّارًا مِنْ خِيَارِنَا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَوْمًا فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ، فَلَوْ خَلُصْتُ إِلَيْهِ لَوَطِئْتُهُ بِرِجْلِي، فَمَا صَلَّيْتُ بَعْدَ ذَلِكَ صَلَاةً إِلَّا قُلْتُ: اللَّهُمَّ لَقِّنِي عَمَّارًا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ اسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ يَسُوقُ الْكَتِيبَةَ، فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ، فَبَدَرْتُهُ فَضَرَبْتُهُ فَكَبَا لِوَجْهِهِ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ ..

EnglishUnverified translation

Kulthūm ibn Jabr reports that at Wāsiṭ al-Qaṣab, in the house of ʿAnbasah ibn Saʿīd with ʿAbd al-Aʿlā ibn ʿAbd Allāh ibn ʿĀmir ibn Kurayz al-Qurashī, a man announced ʿAmmār's killer at the door seeking entry; some disliked it, some bade admit him, and there entered a man in patched garments declaring he had reached the Messenger of Allah ﷺ while benefiting his family herding sheep. Asked by one of the company, Abū al-Ghādiyah, how it was with ʿAmmār, he said they counted ʿAmmār among their best until hearing him revile ʿUthmān (رضي الله عنه) in the mosque of Qubāʾ, wishing to trample him, praying after every prayer to be brought face to face with him, until at Ṣiffīn a man leading a battalion met him, they exchanged two blows, he hastened and struck him down upon his face, then killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : میں ’’ واسط القصب ‘‘ میں عنبسہ بن سعید کے گھر میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا : دروازے پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل موجود ہے ، کیا تم لوگ اسے یہ اجازت دیتے ہو کہ وہ اندر آ جائے ؟ بعض لوگوں نے اس چیز کو ناپسند کیا اور بعض نے یہ کہا : اسے اندر آنے دو ! وہ اندر آیا ، وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، اس نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ، میں اس وقت اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا : اے ابوالغادیہ ! حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا معاملہ کیسا تھا ؟ اس نے جواب دیا : ہم حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اپنے بہترین افراد میں سے ایک شمار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک دن میں نے انہیں مسجد قباء میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہوئے سنا ، اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں انہیں اپنے اس پاؤں کے ذریعے روند دیتا ، اس کے بعد میں ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتا تھا : اے اللہ ! عمار سے میرا سامنا کروا دینا ، یہاں تک کہ جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ایک شخص میرے سامنے آیا ، جو ایک فوجی دستے کی کمان کر رہا تھا ، ہم دونوں نے ایک دوسرے پر دو ضربیں لگائیں ، پھر میں نے لپک کر اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا ۔

15628

Majma al-Zawaid #15628

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: أَدْخِلُوهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ طِوَالٌ، ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَتَّى قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ أَقْبَلَ يَمْشِي أَوَّلَ الْكَتِيبَةِ رَاجِلًا حَتَّى كَانَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ طَعَنَ رَجُلًا فِي رُكْبَتِهِ بِالرُّمْحِ فَصَرَعَهُ، فَانْكَفَأَ الْمِغْفَرُ عَنْهُ، فَاضْرِبْهُ فَإِذَا رَأَسُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ. قَالَ: يَقُولُ لَهُ مَوْلًى لَنَا: أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالَةً مِنْهُ. رَوَاهُ [كُلَّهُ] الطَّبَرَانِيُّ، [وَعَبْدُ اللَّهِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ] رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ أَحَادِيثُ، وَبَعْضُ مَا كَانَ بَيْنَهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAbd al-Aʿlā bade admit him, and there entered a tall, striking man as though not of this nation. The like of the account follows, until at Ṣiffīn he advanced on foot at the head of the battalion between the two ranks, speared a man in the knee and felled him, his helmet fell back — strike, and behold the head of ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه). A mawlā remarked which hand would suffice him, and the narrator never saw a man of clearer misguidance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالاعلیٰ نے کہا : تم لوگ اسے اندر آنے دو ، اُسے اندر لایا گیا ، تو اس کے جسم پر کپڑوں کے ٹکڑے تھے ، وہ ایک طویل القامت شخص تھا ، اس کی جسامت ایسی تھی کہ وہ اس اُمت سے تعلق نہیں رکھتا تھا ......۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ جنگی دستے کے آگے چلتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں فوجوں کے درمیان میں ، ایک شخص کے گھٹنے پر نیزہ مار کر اسے پچھاڑ دیا ، اُن کا خود ہٹ گیا ، تو اُس وقت میں نے اُن پر ضرب لگائی ، وہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا سر تھا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہمارے غلام نے ( یا ہمارے آقا نے ) اُس سے کہا : اس کے دونوں ہاتھوں میں سے کون سا ، اس کو ساتھ ملائے گا ، میں نے اس سے زیادہ گمراہ شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اور عبداللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس سے پہلے ’’ کتاب الفتن ‘‘ میں کچھ روایات گزر چکی ہیں ، جن میں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کا ذکر ہوا ہے ۔

15629

Majma al-Zawaid #15629

عَنْ كُرْدُوسٍ: أَنَّ خَبَّابًا أَسْلَمَ سَادِسَ سِتَّةٍ كَانَ سُدُسَ الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ إِلَى كُرْدُوسٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكُرْدُوسٌ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Kurdūs reports that Khabbāb (رضي الله عنه) accepted Islam as the sixth of six — a sixth of Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کردوس بیان کرتے ہیں : حضرت خباب رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے چھٹے فرد تھے ، تو وہ اسلام کا چھٹا حصہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور کردوس تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور کردوس ثقہ ہیں ۔

15630

Majma al-Zawaid #15630

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ مَوْلَى زُهْرَةَ، يُكْنَى: عَبْدَ اللَّهِ. تُوُفِّيَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ مُنْصَرَفَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَنْ صِفِّينَ إِلَى الْكُوفَةِ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قُبِرَ فِي الْكُوفَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِسْلَامُ خَبَّابٍ بِمَكَّةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reports that Khabbāb ibn al-Aratt (رضي الله عنه), freedman-ally of Zuhrah, kunyah Abū ʿAbd Allāh, died in the year thirty-seven as ʿAlī (رضي الله عنه) returned from Ṣiffīn to Kūfah; he was the first of the Prophet's ﷺ companions buried at Kūfah, and his Islam had been at Makkah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بنوزہرہ کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے تھے ، ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، ان کا انتقال 37 ہجری میں ہوا ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین سے واپس کوفہ کی طرف تشریف لا رہے تھے ، یہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد ہیں ، جو کوفہ میں دفن ہوئے ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15631

Majma al-Zawaid #15631

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ جُزَيْمَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah, naming those who witnessed Badr, lists Khabbāb ibn al-Aratt ibn Khuwaylid ibn Saʿd ibn Juzaymah ibn Kaʿb ibn Saʿd (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے افراد کے ناموں میں ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ بن ارت بن خویلد بن سعد بن جذیمہ بن کعب بن سعد کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15632

Majma al-Zawaid #15632

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهَبٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَهُ - يَعْنِي مَعَ عَلِيٍّ - حِينَ رَجَعَ مِنْ صِفِّينَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْكُوفَةِ إِذْ نَحْنُ بِقُبُورِ سَبْعَةٍ عَنْ أَيْمَانِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذِهِ الْقُبُورُ؟ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ تُوُفِّيَ بَعْدَ مَخْرَجِكَ إِلَى صِفِّينَ، وَأَوْصَى أَنْ يُدْفَنَ فِي ظَهْرِ الْكُوفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا يَدْفِنُونَ مَوْتَاهُمْ فِي أَقْبِيَتِهِمْ وَعَلَى أَبْوَابِ دُورِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا خَبَّابًا أَوْصَى بِالظَّهْرِ دَفَنَ النَّاسُ، فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: رَحِمَ اللَّهُ خَبَّابًا ; لَقَدْ أَسْلَمَ رَاغِبًا، وَهَاجَرَ طَائِعًا، وَعَاشَ مُجَاهِدًا، وَابْتُلِيَ فِي جِسْمِهِ أَحْوَالًا، وَلَنْ يُضَيِّعَ اللَّهُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا، ثُمَّ دَنَا مِنَ الْقُبُورِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ فَارِطٌ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ عَمَّا قَلِيلٍ لَاحِقٌ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ وَتَجَاوَزْ عَنَّا وَعَنْهُمْ، طُوبَى لِمَنْ أَرَادَ الْمَعَادَ، وَعَمِلَ لِلْحُسْنَى، وَقَنِعَ بِالْكَفَافِ، وَرَضِيَ عَنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that they travelled with ʿAlī (رضي الله عنه) returning from Ṣiffīn until at Kūfah's gate they saw seven graves to their right. Asked whose they were, they were told Khabbāb ibn al-Aratt (رضي الله عنه) had died after his departure for Ṣiffīn and willed burial outside Kūfah, whereas people had buried their dead in courtyards and doorways; seeing his will, others buried there too. ʿAlī (رضي الله عنه) invoked mercy upon Khabbāb — accepting Islam eagerly, migrating obediently, living as a striver, tried in his body, whose reward Allah never wastes — then approached the graves, greeted the believing dwellings as predecessors soon to be followed, prayed forgiveness and forbearance for all, and blessed whoever intends the return, works for the best, contents himself with sufficiency and is pleased with Allah, Mighty and Majestic.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، راوی کہتے ہیں : یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ صفین سے واپس آ رہے تھے ، جب ہم کوفہ کے دروازے کے پاس پہنچے ، تو وہاں ہمارے دائیں طرف سات قبریں موجود تھیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کس کی قبریں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اے اميرالمؤمنین ! آپ کے صفین کی طرف تشریف لے جانے کے بعد حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ انہیں کوفہ سے باہر دفن کیا جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اپنے مرحومین کو اپنے گھروں میں دفن کرتے تھے ، یا اپنے محلوں کے دروازوں پر دفن کرتے تھے ، جب انہوں نے یہ دیکھا کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے شہر سے باہر دفن ہونے کی وصیت کی ہے ، تو کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اپنے مرحومین یہاں دفن کر دیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ خباب پر رحم کرے ، اس نے رغبت رکھتے ہوئے اسلام قبول کیا ، فرمانبرداری کرتے ہوئے ہجرت کی ، مجاہد کے طور پر زندہ رہا ، اُسے اس کے جسم کے حوالے سے کچھ امور میں مبتلا کیا گیا ، لیکن اللہ تعالیٰ اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرے گا ، جس نے اچھا عمل کیا ہو ۔‘‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ قبروں کے قریب ہوئے اور انہوں نے یہ دعا پڑھی : ’’ اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی کے رہنے والو ! تم پر سلام ہو ، تم ہمارے پیشرو ہوں ، اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں تھوڑے ہی عرصے میں ہم بھی تم سے آ ملیں گے ، اے اللہ ! تو ہماری اور ان کی مغفرت کر دے ، تو ہم سے اور اُن سے درگزر کر دے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے اور بھلائی کے لئے عمل کرتا ہے ، اور بنیادی ضرورت پوری ہونے پر قناعت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے راضی رہتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15633

Majma al-Zawaid #15633

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا حِسٌّ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا بِلَالٌ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said he entered Paradise and heard a movement, looked, and behold it was Bilāl (رضي الله عنه): > **"I entered Paradise and heard a movement; I looked, and behold it was Bilāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں آہٹ محسوس ہوئی ، میں نے دیکھا تو وہ بلال تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت زبیری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15634

Majma al-Zawaid #15634

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيْ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ؟ قَالَ: بِلَالٌ يَمْشِي أَمَامَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِيمَا اجْتَمَعَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَغَيْرِهِمَا، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said he entered Paradise and heard a footfall before him; asking Jibrīl what it was, he was told Bilāl walked before him: > **"I entered Paradise and heard a footfall before me; I said, O Jibrīl, whose footfall is this? He said, Bilāl walks before you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی چاپ سنی ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ چاپ کس کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ بلال ہیں ، جو آپ کے آگے چل رہے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام احمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے اجتماعی فضائل سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔

15635

Majma al-Zawaid #15635

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَمَّا أُسْرِيَ بِي فِي الْجَنَّةِ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الْخَشْخَشَةُ؟ قَالَ: هَذَا بِلَالٌ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْتَ أُمَّ بِلَالٍ وَلَدَتْنِي، وَأَبُو بِلَالٍ، وَأَنَا مِثْلُ بِلَالٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Waḥshī ibn Ḥarb (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when he was taken by night, he heard a rustling in Paradise and asked Jibrīl, who told him it was Bilāl (رضي الله عنه); Abū Bakr (رضي الله عنه) exclaimed, would that Bilāl's mother and father had borne him, and he were like Bilāl: > **"When I was taken by night in Paradise, I heard a rustling; I said, O Jibrīl, what is this rustling? He said, this is Bilāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، جنت میں ، میں نے کسی کی آہٹ سنی ، تو میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کس کی آہٹ ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ حضرت بلال کی ہے ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کاش بلال کی والدہ اور والد نے مجھے جنم دیا ہوتا ، اور میں بلال کی مانند ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15636

Majma al-Zawaid #15636

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «نِعْمَ الْمَرْءُ بِلَالٌ، وَهُوَ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ، وَالْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said Bilāl (رضي الله عنه) was an excellent man and chief of the witnesses, and that muezzins shall be longest-necked of people on the Day of Judgement: > **"What an excellent man Bilāl is; he is the chief of the witnesses, and the muezzins shall be the longest-necked of people on the Day of Judgement."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بلال اچھا آدمی ہے ، وہ شہداء کا سردار ہے ، اور اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے لمبی گردن والے ہوں گئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن مصک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15637

Majma al-Zawaid #15637

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَسَمِعَ وَجْسًا، فَقَالَ: "" يَا جِبْرِيلُ، مِنْ هَذَا؟ "". قَالَ: هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلنَّاسِ حِينَ جَاءَ: "" قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَابُوسٍ وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that on the night the Prophet of Allah ﷺ was taken by night, he entered Paradise and heard a faint sound; asking Jibrīl who it was, he was told it was Bilāl the muezzin (رضي الله عنه). When he returned to the people he announced that Bilāl had succeeded, having seen such-and-such for him, and mentioned the ḥadīth: > **"O Jibrīl, who is this? Bilāl has succeeded; I saw such-and-such for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی ، اس ( معراج کے دوران ) میں ، جب آپ جنت میں داخل ہوئے ، تو آپ نے کسی کی ہلکی سی آواز سنی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل : یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ حضرت بلال مؤذن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لائے ، تو آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : ’’ تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ، میں نے اس کے لئے یہ یہ کچھ دیکھا ہے ‘‘........ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور قابوس کے علاوہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ویسے قابوس کی بھی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

15638

Majma al-Zawaid #15638

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَشَّرْتُ بِلَالًا، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، بِمَا تُبَشِّرُنِي؟ فَقُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَجِيءُ بِلَالٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نَاقَةٍ، رِجْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ، وَزِمَامُهَا مَنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ، مَعَهُ لِوَاءٌ يَتْبَعُهُ الْمُؤَذِّنُونَ، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى إِنَّهُ لَيَدْخُلُ مَنْ أَذَّنَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar (رضي الله عنهما) reports that he gave Bilāl (رضي الله عنه) glad tidings, who asked what tidings he bore. He answered that he had heard the Messenger of Allah ﷺ describe Bilāl coming on the Day of Judgement upon a camel with feet of gold and a bridle of pearl and ruby, bearing a banner followed by the muezzins, admitting them to Paradise, even all who called adhān for forty mornings seeking Allah's Face, Blessed and Exalted: > **"Bilāl shall come on the Day of Judgement upon a camel whose feet are of gold and whose bridle is of pearl and ruby, with a banner, followed by the muezzins, and he shall admit them to Paradise, even whoever called adhān for forty mornings seeking thereby the Face of Allāh, Blessed and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنائی ، تو انہوں نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! تم مجھے کس بات کی خوشخبری سنانا چاہتے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا : میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ، بلال ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے گا ، جس کے پاؤں سونے کے بنے ہوئے ہوں گے ، اس کی لگام قیمتی پتھروں اور یاقوت کی بنی ہوئی ہو گی ، بلال کے پاس ایک جھنڈا ہو گا اور اذان دینے والے لوگ اُس کے پیچھے ہوں گے ، اور وہ ( یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ ) ان ( یعنی مؤذنین ) کو جنت میں داخل کروا دے گا ، یہاں تک کہ وہ ہر ایسے فرد کو داخل کروا دے گا ، جس نے چالیس دن تک صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اذان دی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15639

Majma al-Zawaid #15639

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَثَلُ بِلَالٍ مَثَلُ النَّحْلَةِ ; غَدَتْ تَأْكُلُ مِنَ الْحُلْوِ وَالْمُرِّ، ثُمَّ هُوَ حُلْوٌ كُلُّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (رضي الله عنه) reports from the Messenger of Allah ﷺ that Bilāl's parable is that of the bee, which goes out eating of sweet and bitter, yet all becomes sweet: > **"The parable of Bilāl is as the bee: it goes out eating of the sweet and the bitter, yet it is all sweet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بلال کی مثال ، شہد کی مکھی کی مانند ہے ، جو جا کر میٹھی اور کڑوی ( یعنی ہر قسم کی چیز ) کھا لیتی ہے ، لیکن پھر وہ سب کچھ میٹھا بن جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15640

Majma al-Zawaid #15640

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ بِلَالٌ - مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - وَيُقَالُ: إِنَّهُ تَرِبُ أَبِي بَكْرٍ بِدِمَشْقَ فِي الطَّاعُونِ، وَدُفَنَ عِنْدَ بَابِ الصَّغِيرِ، وَيُكْنَى: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَيُقَالُ: يُكْنَى أَبَا عَمْرٍو فِي سَنَةِ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَهُوَ مِنْ مُولَدِي السَّوَادِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that Bilāl (رضي الله عنه), freedman-ally of Abū Bakr (رضي الله عنه) — and it is said his coeval — died of plague at Damascus and was buried at Bāb al-Ṣaghīr; his kunyah was Abū ʿAbd Allāh, also said Abū ʿAmr, in the year seventeen, and he was of those born in servitude.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، جو حضرت ابوبکر کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے ہیں ، اور ایک قول کے مطابق وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہم عمر تھے ، اُن کا انتقال طاعون کی وجہ سے ’’ دمشق ‘‘ میں ہوا تھا ، اور انہیں ” باب صغیر ‘‘ کے پاس دفن کیا گیا ، اُن کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، اور ایک قول کے مطابق ان کی کنیت ابوعمرو تھی ، ان کا انتقال 17 ہجری میں ، یا شاید 18 ہجری میں ہوا تھا ، اور وہ پیدائشی غلام تھے ۔

15641

Majma al-Zawaid #15641

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ - فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ -: سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr, naming those of Quraysh of Banū ʿAbd Shams ibn ʿAbd Manāf who witnessed Badr, lists Sālim freedman of Abū Ḥudhayfah (رضي الله عنهم).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر نے ، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، قریش کی شاخ بنو عبدشمس بن عبدمناف سے تعلق رکھنے والے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15642

Majma al-Zawaid #15642

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ، فَأَخَذْتُ سَيْفِي فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَّا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ "". قَالَ: "" أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ؟». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنه) reports that when alarm struck Madīnah, he came upon Sālim freedman of Abū Ḥudhayfah (رضي الله عنهما) wrapped in his sword-belt, took his own sword and wrapped himself likewise, whereupon the Messenger of Allah ﷺ asked why their resort had not been to Allah and His Messenger, and bade them act as these two believing men had acted: > **"O people, why was your resort not to Allāh and His Messenger? Did you not act as these two believing men acted?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ، تو میں حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام ، سالم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اپنی تلوار گردن میں لٹکائی ہوئی تھی ، میں نے بھی اپنی تلوار لی اور میں نے بھی وہ گردن میں لٹکا لی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم خطرے کی صورتحال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف کیوں نہیں آئے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ وہ کام نہیں کر سکتے تھے ؟ جو کام ان دو مؤمن افراد نے کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15643

Majma al-Zawaid #15643

وَعَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that the Prophet ﷺ heard Sālim freedman of Abū Ḥudhayfah (رضي الله عنهما) reciting by night and said: > **"Praise be to Allāh, who has placed in my nation one like him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت تلاوت کرتے ہوئے سنا ، تو ارشاد فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری اُمت میں اس جیسے افراد بنائے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15644

Majma al-Zawaid #15644

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا فِي تَرْجَمَةِ سَالِمٍ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah, naming those martyred on the day of Yamāmah, includes him — thus al-Ṭabarānī narrates in the biography of Sālim (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے جنگ یمامہ میں شریک ہونے والے افراد میں ان کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے حالات میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15645

Majma al-Zawaid #15645

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، هَاجَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī states that ʿĀmir ibn Fuhayrah (رضي الله عنه), freedman of Abū Bakr al-Ṣiddīq (رضي الله عنه), was among the first Emigrants, migrated with the Messenger of Allah ﷺ and Abū Bakr from Makkah to Madīnah, was a veteran of Badr, and was martyred on the day of Biʾr Maʿūnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے ہیں ، یہ ابتداء میں ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے ایک ہیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی ، انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے جنگ ’’ بئر معونہ ‘‘ میں جام شہادت نوش کیا تھا ۔

15646

Majma al-Zawaid #15646

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كَلَّمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ بِشَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْلًا يَا طَلْحَةُ، إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا كَمَا شَهِدْتَهُ، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِمَوَالِيهِمْ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf (رضي الله عنه) reports that Ṭalḥah ibn ʿUbayd Allāh (رضي الله عنه) spoke harshly to ʿĀmir ibn Fuhayrah (رضي الله عنه), so the Prophet ﷺ restrained him, reminding him that ʿĀmir had witnessed Badr as he had, and that the best are best to their freedmen: > **"Gently, O Ṭalḥah; he witnessed Badr as you witnessed it, and the best of you are the best of you to their freedmen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر بن فہیرہ کو کوئی سخت بات کہہ دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے طلحہ ! تم رک جاؤ ! کیونکہ یہ بھی اسی طرح بدر میں شریک ہوا ہے ، جس طرح تم شریک ہوئے ہو اور تم میں بہتر لوگ وہ ہیں ، جو اپنے موالی کے حق میں بہتر ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15647

Majma al-Zawaid #15647

قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ بَنِي عَدِيٍّ، وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reports that Ibn ʿĀmir ibn Rabīʿah related to him, being among the elders of Banū ʿAdī, and that his father had witnessed Badr (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے مجھے حدیث بیان کی اور وہ ( صاحبزادے ) بنو عدی کے اکابرین میں سے ایک تھے ، اور اُن کے والد کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15648

Majma al-Zawaid #15648

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: مَنْ نَسَبَهُ إِلَى عِتْرِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ: عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعَّبِ بْنِ عُمَيْرَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ رُفَيْدَةَ بْنِ عَدْنَانَ، وَيُقَالُ: طَاهِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مِنْ الْيَمَنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq records that those who trace him to ʿItr ibn Wāʾil name him ʿĀmir ibn Rabīʿah ibn Kaʿb ibn ʿUmayrah ibn Mālik ibn Kinānah ibn ʿĀmir ibn Saʿīd ibn ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith ibn Rufaydah ibn ʿAdnān, also said Ṭāhir ibn Rabīʿah of Yemen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : جو لوگ عتر بن وائل کی طرف منسوب ہیں ، اُن میں ایک حضرت عامر بن ربیعہ بن کعب بن عمیرہ بن مالک بن کنانہ بن عامر بن سعید بن عبداللہ بن حارث بن رفیدہ بن عدنان ہیں ، اور ایک قول کے مطابق طاہر بن ربیعہ ہے ، جن کا تعلق یمن سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔