Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 33

Book of Virtues and Merits

Hadith 15568–15608

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15568

Majma al-Zawaid #15568

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، وَكَرِهْتُ لِأُمَّتِي مَا كَرِهَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ الْكَرَاهَةِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ. وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh — meaning Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) — reports that the Messenger of Allah ﷺ said he was pleased for his nation with what Ibn Umm ʿAbd was pleased with for them, and hated for them what he hated: > **"I am pleased for my nation with what Ibn Umm ʿAbd is pleased with for them, and I hate for my nation what Ibn Umm ʿAbd hates for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اپنی اُمت کے لئے اُس چیز سے راضی ہوں ، جس چیز سے ابن ام عبد اُن کے لیے راضی ہے ، اور میں اپنی امت کے لئے اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جو چیز ابن ام عبد ان کے لیے ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ناپسندیدہ چیز کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں منقطع سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید رازی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15569

Majma al-Zawaid #15569

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، أَحَدُهُمْ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that only four remained with the Prophet ﷺ on the day of Uḥud, one of them ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صرف چار افراد باقی رہ گئے تھے ، جن میں سے ایک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15570

Majma al-Zawaid #15570

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: «أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّهُ، أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّكَ، وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ قَالَ: قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي حُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوِ اسْتِعَانَةً بِي؟ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّهُمَا: عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْهُمَا رَاضٍ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ فِي تَرْجَمَةِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports that a man asked ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنه) whether one whom the Messenger of Allah ﷺ died loving was not righteous; he agreed. The man noted the Prophet ﷺ died loving ʿAmr and had employed him. ʿAmr answered that his employment proved nothing of love or mere use, but he would name two men the Prophet ﷺ died loving: ʿAbd Allāh ibn Masʿūd and ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنهما); in al-Ṭabarānī's wording, that he died well-pleased with them both.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ نبی اکرم ﷺ اپنے وصال کے وقت ، اُس سے محبت رکھتے ہوں ، تو کیا وہ نیک شخص نہیں ہو گا ؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس شخص نے کہا : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ آپ سے محبت رکھتے تھے ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو عامل مقرر کیا تھا ، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے عامل مقر رکیا تھا ، لیکن اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی اکرم ﷺ مجھ سے محبت رکھتے تھے یا آپ اس کام کے سلسلے میں مجھ سے خدمت لینا چاہ رہے تھے ، البتہ میں تمہیں دو ایسے افراد کے بارے میں بتا دیتا ہوں کہ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تھا ، تو آپ ﷺ ان دونوں سے محبت رکھتے تھے ، وہ عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو آپ ﷺ ان دونوں سے راضی تھے ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے کچھ طرق حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حالات والے باب میں آئیں گے ۔

15571

Majma al-Zawaid #15571

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عُمَرَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ يَكَادُ الْجُلُوسُ يُوَازُونَهُ مِنْ قِصَرِهِ، فَضَحِكَ عُمَرُ حِينَ رَآهُ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ عُمَرَ وَيُضَاحِكُهُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِ، ثُمَّ وَلَّى فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى، فَقَالَ: كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that while they sat with ʿUmar (رضي الله عنه), ʿAbd Allāh (رضي الله عنه) arrived, so short that sitting people nearly equalled him. ʿUmar laughed upon seeing him, conversed and joked with him as he stood over him, then followed him with his gaze until he vanished, and described him as a vessel brimful of jurisprudence.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، قریب تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اُنہیں دیکھا تو مسکرا دیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور انہیں دیکھ کر مسکراتے رہے ، وہ حضرت عمر کے پاس ہی کھڑے رہے ، پھر جب وہ واپس چلے گئے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل ان کی طرف دیکھتے رہے ، یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا برتن ( یعنی فرد ) ہے ، جو سمجھ بوجھ سے بھرا ہوا ہے ( یہاں سمجھ بوجھ سے مراد ، دین کی سمجھ بوجھ ، یعنی دین کا علم ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15572

Majma al-Zawaid #15572

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ: قَدْ بَعَثْتُ عَمَّارًا أَمِيرًا، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَزِيرًا ; وَهُمَا مِنَ النُّجَبَاءِ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَاقْتَدُوا بِهِمَا وَاسْمَعُوا مِنْ قَوْلِهِمَا، وَقَدْ آثَرْتُكُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥārithah ibn Muḍarrib reports that ʿUmar (رضي الله عنه) wrote to the people of Kūfah that he had sent ʿAmmār as commander and ʿAbd Allāh ibn Masʿūd as minister, both eminent among the companions of Muḥammad ﷺ and veterans of Badr, bidding them follow and heed them, and declaring he had preferred them with ʿAbd Allāh over himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خط لکھا ، میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وزیر بنا کر بھیجا ہے ، یہ دونوں حضرات نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے برگزیدہ افراد میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، تو تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو اور ان دونوں کے حکم پر عمل پیرا ہو ، میں نے عبداللہ کے حوالے سے تمہارے لیے ، اپنی ذات پر ایثار کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارثہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15573

Majma al-Zawaid #15573

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ نَظِيفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abī Ḥāzim reports that he saw Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) clean and tidy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ، وہ صاف ستھرے فرد تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15574

Majma al-Zawaid #15574

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَيُكَنَّى: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، فِي سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدُفِنَ بِالْبَقِيعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه), kunyah Abū ʿAbd al-Raḥmān, died at Madīnah aged past sixty, in the year thirty-two; he bequeathed to al-Zubayr ibn al-ʿAwwām (رضي الله عنه), who prayed over him, and he was buried at al-Baqīʿ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، اُن کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر 60 سال سے کچھ زیادہ تھی ، اُن کا انتقال 32 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا ، انہوں نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کی تھی ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15575

Majma al-Zawaid #15575

عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِأَقْدَمَ هِجْرَةً مِنْ أَخِيهِ عُتْبَةَ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī states that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) did not emigrate earlier than his brother ʿUtbah (رضي الله عنه), though he died before him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہجرت نہیں کی تھی ، لیکن اُن کا انتقال اُن سے پہلے ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15576

Majma al-Zawaid #15576

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim ibn ʿAbd al-Raḥmān states that ʿUtbah ibn Masʿūd (رضي الله عنه) died in the time of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (رضي الله عنهما).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15577

Majma al-Zawaid #15577

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth ibn Saʿd states that ʿUtbah ibn Masʿūd (رضي الله عنه) died in the year forty-four.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال 44 ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15578

Majma al-Zawaid #15578

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَأَبُوهُ وَأُمُّهُ أَهْلَ بَيْتِ إِسْلَامٍ كُلُّهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq states that ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه), his father and his mother were all a household of Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، ان کے والد اور اُن کی والدہ ، یہ سب اسلام کے اہل بیت ہیں ۔

15579

Majma al-Zawaid #15579

قَالَ ابْنُ هِشَامٍ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرِ بْنِ عَبْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَذْحِجٍ، شَهِدَ بَدْرًا وَالْمَشَاهِدَ كُلَّهَا. وَيُقَالُ: إِنَّ اسْمَ أُمِّهِ سُمَيَّةُ بِنْتُ سَلَمِ بْنِ لَخْمٍ. يُكَنَّى: أَبَا الْيَقْظَانِ، قُتِلَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَوْمَ صِفِّينَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Hishām records that he is ʿAmmār ibn Yāsir ibn ʿAbs ibn Zayd ibn Madhḥij, who witnessed Badr and all the scenes after it; his mother's name is said to be Sumayyah bint Salam ibn Lakhm; his kunyah Abū al-Yaqẓān; and he was killed alongside ʿAlī (رضي الله عنهما) on the day of Ṣiffīn in the year thirty-seven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ہشام بیان کرتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر بن عبس بن زید بن مذحج ، انہیں غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، ایک قول کے مطابق ان کی والدہ کا نام سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا بنت سلم بن لخم تھا ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی کنیت ’’ ابویقظان ‘‘ ہے ، وہ سن 37 ہجری میں ، جنگ صفین میں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15580

Majma al-Zawaid #15580

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: هَاجَرَ أَبُو سَلَمَةَ وَأُمُّ سَلَمَةَ، وَخَرَجَ مَعَهُمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ حَلِيفًا لَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ ibn Abī Rabāḥ reports that Abū Salamah and Umm Salamah (رضي الله عنهما) migrated, and ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) went out with them, being their ally.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہجرت کے لیے نکلے ، تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی اُن کے ساتھ چلے گئے ، وہ اُن لوگوں کے حلیف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15581

Majma al-Zawaid #15581

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَّافِ بْنِ خَالِدٍ: أَرَأَيْتَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ حَلِيفًا لَكُمْ؟ قَالَ: بَلْ مَوْلَانَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَعَطَّافٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Abī Maryam reports that he asked ʿAṭṭāf ibn Khālid whether ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) had been their ally, and he answered: rather, our mawlā.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے عطاف بن خالد سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تم لوگوں کے حلیف تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : بلکہ وہ ہمارے آقا ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ’’ منقطع ‘‘ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عوف ہے ، جس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

15582

Majma al-Zawaid #15582

وَعَنْ أَبِي كَعْبٍ الْحَارِثِيِّ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجَاءَ رَجُلٌ آدَمُ، أَصْلَعُ، فِي مَقْدِمِ رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kaʿb al-Ḥārithī reports that he entered upon ʿUthmān (رضي الله عنه) when a dark, bald man arrived with a few hairs at the front of his head; asked who he was, they said ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکعب حارثی بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اسی دوران گندمی رنگت کے ایک صاحب آئے ، جن کے سر کے اگلے حصے پر چند ایک بال تھے ، اور اُن کی گدی کے پاس چند بال تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن جبل ہے اور امام ذہبی کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔

15583

Majma al-Zawaid #15583

وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ مَنْفَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارًا بِالْكُنَاسَةِ أَسْوَدَ جَعْدًا وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ} [الروم: 20]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kulayb ibn Manfaʿah reports from his father that he saw ʿAmmār (رضي الله عنه) at al-Kunāsah, dark-skinned and curly-haired, reciting the verse that among His signs is creating them from dust and then spreading as human beings.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلیب بن منفعت ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے ’’ کناسہ ‘‘ میں ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ سیاہ فام تھے اور گھنگریالے بالوں کے مالک تھے ، وہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ’’ اور اس کی نشانیوں میں ایک یہ چیز بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم بشر ( یعنی بنی نوع انسان بن کر ) پھیل گئے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15584

Majma al-Zawaid #15584

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَوْمَ صِفِّينَ آدَمَ طِوَالًا بِيَدِهِ الْحَرْبَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Salamah reports that he saw ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) on the day of Ṣiffīn, dark-complexioned and tall, with a spear in his hand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر ، میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ گندمی رنگت کے مالک ، طویل القامت شخص تھے ، اور اُن کے ہاتھ میں نیزہ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15585

Majma al-Zawaid #15585

وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعِنْدَهُ خَيَّاطٌ يَقْطَعُ بُرْدًا عَلَى قَطِيفَةِ ثَعَالِبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muṭarrif reports that he entered upon ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) while a tailor with him cut a cloak upon a fox-fur rug.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ایک درزی موجود تھا ، وہ ثعالب کی چادر پر ( شاید یہ مراد ہے لومڑی کے چمڑے کے بچھونے پر ) رکھ کر کپڑے کو کاٹ رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15586

Majma al-Zawaid #15586

«وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: يَا أَجْدَعُ. وَكَانَتْ أُذُنُهُ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: خَيْرَ أُذُنَيْ سَبَبْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ: الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ: وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reports that a man addressed ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) as O mutilated one, his ear having been cut off alongside the Messenger of Allah ﷺ, whereupon ʿAmmār answered him: > **"The best of my two ears you have reviled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے کٹے ہوئے عضو والے ! حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے کان ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہتے ہوئے کاٹ دیے گئے تھے ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میرے کان بہتر ہیں ، جنہیں تم نے برا کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید کہتے ہیں : ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15587

Majma al-Zawaid #15587

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: لَقِيَ عَلِيٌّ رَجُلَيْنِ قَدْ خَرَجَا مِنَ الْحَمَّامِ مُتَدَهِّنَيْنِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: كَذَبْتُمَا، أَنْتُمَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ؟ إِنَّمَا الْمُهَاجِرُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Salamah reports that ʿAlī (رضي الله عنه) met two men emerging from the bath anointed, asked who they were; they claimed to be Emigrants, and he answered that they lied — the true Emigrant was ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات دو افراد سے ہوئی ، وہ دونوں حمام سے نکلے تھے اور ان دونوں نے تیل لگایا ہوا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم دونوں کون ہو ؟ انھوں نے جواب دیا : مہاجرین سے تعلق رکھتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم دونوں غلط کہہ رہے ہو ، کیا تم دونوں مہاجرین سے تعلق رکھتے ہو گے ؟ مہاجر تو عمار بن یاسر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15588

Majma al-Zawaid #15588

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، كَانَا لَا يُحِبَّانِ أَنْ يُعْصَ اللَّهُ طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَلَا يُخَالِفَا الْحَقَّ قَيْدَ شَعَرَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الصَّلْتِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهما) reports that he never saw the like of ʿAmmār ibn Yāsir and Muḥammad ibn Abī Bakr (رضي الله عنهم): neither loved that Allah be disobeyed for the blink of an eye, nor that truth be opposed by a hair's breadth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے افراد نہیں دیکھے ، یہ دونوں اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں ، اور یہ دونوں بال برابر بھی حق کی مخالفت نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن حجاج بن صلت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15589

Majma al-Zawaid #15589

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: «دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكُمْ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أُعْطِيَتْهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ. فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ - يَعْنِي عَمَّارًا -؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى بِالْبَطْحَاءِ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّهْرُ هَكَذَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اصْبِرْ "". ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ، وَقَدْ فَعَلْتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sālim ibn Abī al-Jaʿd reports that ʿUthmān (رضي الله عنه) summoned some companions of the Prophet ﷺ, among them ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه), adjured them whether the Prophet ﷺ preferred Quraysh over others and Banū Hāshim over Quraysh; they fell silent, and he declared that had he the keys of Paradise he would have given them to Banū Umayyah till the last entered. Then he sent for Ṭalḥah and al-Zubayr (رضي الله عنهما) and recounted walking hand in hand with the Messenger of Allah ﷺ at al-Baṭḥāʾ until they passed ʿAmmār's father and mother under torture; Abū ʿAmmār asked, O Messenger of Allah, shall time remain thus? The Prophet ﷺ bade patience and prayed for the family of Yāsir, whose forgiveness was already effected: > **"Be patient."** > **"O Allah, forgive the family of Yāsir — and indeed You have done so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ حضرات کو بلایا ، جن میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ لوگوں سے کچھ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ آپ لوگ میری تصدیق کریں ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم ﷺ قریش کو دیگر تمام لوگوں پر ترجیح دیتے تھے ؟ اور بنو ہاشم کو دیگر تمام قریش پر ترجیح دیتے تھے ؟ تو تمام حاضرین خاموش ہو گئے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجیاں ہوتیں ، تو میں نے وہ بنوامیہ کو دیدینی تھیں ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ، پھر انہوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر بلوایا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے بارے میں بتاؤں ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور ہم بطحاء میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ کا گزر عمار کے والد اور والدہ کے پاس سے ہوا ، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا ، عمار کے والد نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو آل یاسر کی مغفرت کر دے ، ویسے تو ایسا کر چکا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15590

Majma al-Zawaid #15590

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَبِي عَمَّارٍ وَأُمِّ عَمَّارٍ وَعَمَّارٍ: "" اصْبِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān (رضي الله عنه) reports that he heard the Prophet ﷺ say to Abū ʿAmmār, Umm ʿAmmār and ʿAmmār (رضي الله عنهم): > **"Be patient, family of Yāsir; your appointment is Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو عمار کے والد ، عمار کی والدہ اور عمار سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے آل یاسر ! تم صبر سے کام لو ، تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15591

Majma al-Zawaid #15591

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" «اصْبِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ said: > **"Be patient, family of Yāsir; your appointment is Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے آل یاسر ! تم صبر سے کام لو ، تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15592

Majma al-Zawaid #15592

وَعَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَبِأَهْلِهِ يُعَذَّبُونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا آلَ يَاسِرٍ مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ passed by ʿAmmār ibn Yāsir and his family while they were tortured for Allah, Mighty and Majestic, and said: > **"Rejoice, family of Yāsir; your appointment is Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کے پاس سے ہوا ، جنہیں اللہ کی راہ میں عذاب دیا جا رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے آل یاسر ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عبدالعزیز مقوم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15593

Majma al-Zawaid #15593

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مُضْطَجِعًا فِي حِجْرِ عَمَّارٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَاذَا يَقُولُ الْمُشْرِكُونَ آنِفًا لِهَذَا - يَعْنِي عَمَّارًا -؟ قَالَ: فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِهِ حَتَّى أَحَاطَ بِظَهْرِهِ، وَقَالَ: "" إِنَّهُمْ لَيَحْرُزُونَ أَدِيمًا طَيِّبًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ lay reclined in ʿAmmār's lap when a man entered and asked what the polytheists had just said about him — meaning ʿAmmār. The Prophet ﷺ, his head still in ʿAmmār's lap, passed his hand behind his back until he embraced him and declared their safekeeping of good skin: > **"They guard a good hide."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص اندر آیا اور اس نے دریافت کیا : اب مشرکین اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اس کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک پیچھے کی طرف لے جا کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی پشت پر رکھ کر ، انہیں اپنے بازو کے گھیرے میں لیا ، آپ ﷺ کا سر اس وقت ان کی گود میں تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان لوگوں نے پاکیزہ چمڑے کو سرخ رنگ ( یعنی خون ) میں رنگ دینا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، ویسے اُس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15594

Majma al-Zawaid #15594

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «كَانَ عَمَّارُ يَقُولُ: قَاتَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، أَرْسَلَنِي إِلَى بِئْرِ بَدْرٍ، فَلَقِيتُ الشَّيْطَانَ فِي صُورَةِ الْإِنْسِ، فَصَارَعَنِي فَصَرَعْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَدُقُّهُ بِفِهْرٍ مَعِي أَوْ حَجَرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَمَّارٌ لَقِيَ الشَّيْطَانَ عِنْدَ الْبِئْرِ فَقَاتَلَهُ "". فَمَا عَدَا أَنْ رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" ذَاكَ الشَّيْطَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ: يَعْقُوبِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَخْرَمِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports that ʿAmmār (رضي الله عنه) would say he fought alongside the Messenger of Allah ﷺ against jinn and men: sent to the well of Badr, he met Satan in human form, wrestled and threw him, and crushed him with a stone he carried. The Messenger of Allah ﷺ announced that ʿAmmār had met Satan at the well and fought him; when ʿAmmār returned and reported, he confirmed the adversary: > **"ʿAmmār met Satan at the well and fought him. That was Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عمار رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مل کر جنات اور انسانوں سے جنگ کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے بدر کے کنویں کی طرف بھیجا ، میری ملاقات انسانی شکل میں موجود ، ایک شیطان سے ہوئی ، اس نے میرے ساتھ مقابلہ کیا ، تو میں نے اُسے پچھاڑ دیا ، میں نے اپنے پاس موجود پتھر کے ذریعے اُسے کچلنا شروع کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کنویں کے پاس عمار کا سامنا ، شیطان سے ہوا ، تو عمار نے اُس کے ساتھ مقابلہ کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں واپس آیا اور نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ شیطان تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یعقوب بن اسحاق مخرمی سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15595

Majma al-Zawaid #15595

«وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ كَلَامٌ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَجَعَلَ يَغْلُظُ لَهُ، وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ، فَبَكَى عَمَّارٌ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ: "" مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ "". قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ، فَلَقِيتُهُ فَرْضِيَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn al-Walīd (رضي الله عنه) reports that harsh words passed between him and ʿAmmār, so ʿAmmār went complaining to the Prophet ﷺ, and Khālid followed to complain likewise. Khālid persisted harshly while the Prophet ﷺ remained silent; ʿAmmār wept asking did the Messenger not see, whereupon the Prophet ﷺ raised his head and declared Allah's enmity and hatred toward his enemies, and Khālid thereafter prized nothing above ʿAmmār's pleasure until they met and he was pleased: > **"Whoever opposes ʿAmmār, Allāh opposes him; and whoever hates ʿAmmār, Allāh hates him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میرے اور عمار کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی ، میں نے اُن کے خلاف سختی سے بات کی ، تو عمار میری شکایت کرنے کے لئے نبی اکرم ﷺ کے پاس چلا گیا ، اسی دوران حضرت خالد رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے ، وہ بھی نبی اکرم ﷺ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شکایت کرنا چاہتے تھے ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انہوں نے عمار کے ساتھ زیادہ سختی سے بات کی ، نبی اکرم ﷺ اس دوران خاموش رہے ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عمار سے عداوت رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے عداوت رکھے اور جو شخص عمار سے بغض رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھے ۔‘‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں وہاں سے نکلا ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی رضامندی سے زیادہ میرے نزدیک اور کوئی چیز محبوب نہیں تھی ، میں اُن سے ملا اور وہ راضی ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15596

Majma al-Zawaid #15596

«وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَخْوَفَ عِنْدِي عَلَى أَنْ يُدْخِلَنِي النَّارَ مِنْ شَأْنِ عَمَّارٍ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَمَا هُوَ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَأَصَبْتُهُمْ وَفِيهِمْ أَهْلُ بَيْتِ مُسْلِمِينَ، فَكَلَّمَنِي عَمَّارٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَرْسِلْهُمْ، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى آتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنْ شَاءَ أَرْسَلَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهِمْ مَا أَرَادَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ فَدَخَلَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى خَالِدٍ فَعَلَ وَفَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا مَجْلِسُكَ مَا سَبَّنِي ابْنُ سُمَيَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ يَا عَمَّارُ "". فَخَرَجَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا نَصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أَجَبْتَ الرَّجُلَ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَنِي مِنْهُ إِلَّا مَحْقَرَتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَحْقِرْ عَمَّارًا يَحْقِرْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسُبَّ عَمَّارًا يَسُبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَنْتَقِصْ عَمَّارًا يَنْتَقِصْهُ اللَّهُ "". فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى اسْتَغْفَرَ لِي. وَفِي رِوَايَةٍ: "" مَنْ يُعَادِ عَمَّارًا يُعَادِهِ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ، مِنْهَا مَا وَافَقَ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَمِنْهَا مَا هُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn al-Walīd (رضي الله عنه) reports that no deed weighed on him with greater fear of Hell than the affair of ʿAmmār: dispatched by the Messenger of Allah ﷺ with companions to an Arab clan, he seized them though they included a Muslim household; ʿAmmār interceded for some, demanding their release, while Khālid refused until he brought them to the Messenger of Allah ﷺ to release or judge as he willed. Entering upon the Prophet ﷺ, ʿAmmār complained of Khālid's deed, and Khālid retorted that were it not for his gathering, Ibn Sumayyah would not have reviled him. The Prophet ﷺ ordered ʿAmmār out, and he left weeping that the Messenger had not aided him against Khālid; asked why he had not answered the man, Khālid pleaded only contempt had restrained him, whereupon the Prophet ﷺ warned that contempt, reviling and disparagement of ʿAmmār return upon their doer from Allah. Khālid followed him until ʿAmmār sought forgiveness for him; in one narration, whoever opposes ʿAmmār is opposed by Allah: > **"Go out, O ʿAmmār. Did you not answer the man? Whoever belittles ʿAmmār, Allāh belittles him; whoever reviles ʿAmmār, Allāh reviles him; and whoever disparages ʿAmmār, Allāh disparages him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا ، جس کے بارے میں مجھے یہ اندیشہ ہو کہ وہ عمل مجھے جہنم میں داخل کروا دے گا ، البتہ اس معاملے کا حکم مختلف ہے ، جو عمار کے حوالے سے پیش آیا ، ہم نے دریافت کیا ہے : اے ابوسلیمان ! وہ کیا معاملہ ہے ؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے ہمراہ مجھے عربوں کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا ، میں نے ان لوگوں پر حملہ کیا ، اس قبیلے میں مسلمانوں کے کچھ گھرانے بھی تھے ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ ان افراد کے بارے میں بات چیت کی اور یہ کہا : آپ انہیں چھوڑ دیں ، میں نے کہا : ایسا اُس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں انہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں لے جاتا ، اگر نبی اکرم ﷺ چاہیں گے تو انھیں چھوڑ دیں گے ، اور اگر چاہیں گے تو جو سلوک چاہیں گے ، ان کے ساتھ کریں گے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، پھر وہ اندر آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا ؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کام کیا ہے ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر آپ کی محفل نہ ہوتی ، تو سمیہ کا بیٹا ( یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) مجھے برا نہیں کہہ سکتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمار ! تم باہر چلے جاؤ ، تو وہ روتے ہوئے باہر گئے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں کی ( حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اُسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ میں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہ فقیر آدمی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عمار کو حقیر سمجھے ، اللہ تعالیٰ اسے حقیر سمجھے ، جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار کی تنقیص کرے ، اللہ تعالیٰ اُس کی تنقیص کرے ۔‘‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں باہر آ کر حضرت عمار کے پیچھے گیا ، یہاں تک کہ انہوں نے میرے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” جو شخص عمار سے دشمنی رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے دشمنی رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں کچھ امام احمد کی سند کے موافق ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور ان میں سے کچھ روایات ’’ مرسل ‘‘ ہیں ۔

15598

Majma al-Zawaid #15598

وَفِي الْأَوْسَطِ مِنْهُ: «مَنْ سَبَّ عَمَّارًا سَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ». فَقَطْ. وَفِي إِسْنَادِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

In al-Awsaṭ the wording is confined to the threat and hatred returned for reviling and hating ʿAmmār (رضي الله عنه): > **"Whoever reviles ʿAmmār, Allāh reviles him; and whoever hates ʿAmmār, Allāh hates him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معجم اوسط میں اس روایت میں سے یہ الفاظ مذکور ہیں : ’’ جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار سے بغض رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے بغض رکھے ۔‘‘ اس کی سند میں ایک سے زیادہ ایسے افراد ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

15599

Majma al-Zawaid #15599

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: مَا كُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُحِبُّ رَجُلًا فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ النَّارَ. قِيلَ: قَدْ كَانَ يَسْتَعْمِلُكَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ رَجُلًا قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: «ذَاكَ قَتِيلُكُمْ يَوْمَ صِفِّينَ قَالَ: [قَدْ] وَاللَّهِ قَتَلْنَاهُ». وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ نَحْوُهُ بِمَحَبَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمَّارٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ (رضي الله عنه) said they never deemed that one whom the Messenger of Allah ﷺ died loving would enter the Fire. Told the Prophet ﷺ had employed him, he answered Allah knew best, but he had loved a man; asked who, he named ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه). Al-Ṭabarānī adds the rejoinder that he was their slain one at Ṣiffīn, answered with an oath that they had indeed killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا جب وصال ہوا ، تو اس وقت آپ جس شخص سے محبت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ اُسے جہنم میں داخل نہیں کرے گا ، اُن سے کہا گیا : اللہ کے رسول ﷺ نے تو آپ کو بھی عامل ( یعنی لشکر کا امیر ) مقرر کیا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن نبی اکرم ﷺ ایک شخص سے محبت رکھتے تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون ہے ؟ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : عمار بن یاسر ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ کسی شخص نے کہا : وہ تو جنگ صفین میں ، آپ کے ہاتھوں مارے گئے تھے ، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ۔‘‘ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں اس نوعیت کی حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے تھے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15600

Majma al-Zawaid #15600

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «كَمْ مِنْ ذِي طِمْرَ بْنِ لَا ثَوْبَ لَهُ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، مِنْهُمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ speak of the dust-covered, garmentless ones whose oath Allah fulfils if they swear by Him, naming ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) among them: > **"How many a dust-covered one with two worn cloths and no garment, whose oath Allāh would fulfil if he swore by Him — among them is ʿAmmār ibn Yāsir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کتنے ہی دو چھوٹی چادروں والے ایسے ہوتے ہیں ، جن کے پاس مناسب لباس نہیں ہوتا ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں ، تو اللہ تعالیٰ اُسے پوری کروا دیتا ہے اور اُن ( لوگوں ) میں سے ایک عمار بن یاسر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔

15601

Majma al-Zawaid #15601

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أَقْسَمَ يَوْمَ أُحُدٌ فَهُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، وَأَقْسَمَ يَوْمَ الْجَمَلِ فَغَلَبُوا أَهْلَ الْبَصْرَةِ، وَقِيلَ لَهُ يَوْمَ صِفِّينَ: لَوْ أَقْسَمْتَ! فَقَالَ: لَوْ ضَرَبُونَا بِأَسْيَافِهِمْ حَتَّى نَبْلُغَ سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ، فَلَمْ يُقْسِمْ، فَقُتِلَ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَقْسَمْتُ يَا جِبْرِيلُ وَيَا مِيكَالُ: لَا يَغْلِبَنَّا مَعْشَرٌ ضُلَّالٌ إِنَّا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ جُهَّالٌ. حَتَّى خَرَقَ صَفَّ الْمُشْرِكِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn ʿAbd al-ʿAzīz reports that ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) swore on the day of Uḥud and the polytheists were routed, swore on the day of al-Jamal and the people of Baṣrah were overcome; told on the day of Ṣiffīn to swear, he answered that though driven by swords to the fronds of Hajar they knew themselves upon truth and their foes upon falsehood, so he did not swear and was killed that day. On Uḥud his oath had invoked Jibrīl and Mīkāl that no misguided host would overcome them while they stood upon truth against the ignorant, until he pierced the polytheists' rank.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی تھی ، تو مشرکین پسپا ہو گئے تھے اور جنگ جمل کے دن اُنہوں نے قسم اٹھائی تھی ، تو اہل بصرہ مغلوب ہو گئے تھے ، جنگ صفین کے دن اُن سے کہا گیا : اگر آپ قسم اُٹھا لیں تو یہ مناسب ہو گا ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ اپنی تلواروں کے ذریعے ہم پر وار کرتے ہوئے ( یعنی ہمیں دھکیلتے ہوئے ) ’’ سعفات ہجر ‘‘ نامی جگہ تک لے جائیں ، تو بھی ہم یہ بات جانتے ہیں کہ بے شک ہم حق پر ہیں اور وہ لوگ باطل پر ہیں ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے قسم نہیں اُٹھائی ، اور اُسی دن وہ شہید ہو گئے ۔ اُنہوں نے غزوہ احد کے دن یہ کہا تھا : ’’ اے جبرائیل اور اے میکائیل ، میں یہ قسم اٹھاتا ہوں کہ گمراہ لوگوں کا گروہ ہم پر ہرگز غالب نہیں آئے گا ، بے شک ہم حق پر ہیں اور وہ جاہل لوگ ہیں ۔‘‘ یہاں تک کہ انہوں نے مشرکین کی صف کو چیر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ سند کے اعتبار سے ’’ منقطع ‘‘ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں .

15602

Majma al-Zawaid #15602

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَقْرَانٌ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا حَتَّى خَرَقَ صَفَّ الْمُشْرِكِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا»

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said of Ibn Sumayyah (رضي الله عنه) that whenever two courses were offered him, he always chose the more guided of the two: > **"Ibn Sumayyah — never were two courses offered him but he chose the more guided of the two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سمیہ کے بیٹے ( یعنی حضرت عمار بن یاسر ) کے سامنے جب بھی دو مختلف معاملے پیش کئے گئے تو اُس نے ہمیشہ اس کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سے زیادہ رہنمائی والا ہو ( یعنی زیادہ سمجھداری والا ہو ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سمیہ کے بیٹے کے سامنے جب بھی کوئی عورت پیش کی گئی تو اس نے ان دونوں میں سے زیادہ رہنمائی والی کو اختیار کیا ‘‘۔

15603

Majma al-Zawaid #15603

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «دَمُ عَمَّارٍ وَلَحْمُهُ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ أَنْ تَطْعَمَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say of ʿAmmār (رضي الله عنه): > **"The blood of ʿAmmār and his flesh are forbidden for the Fire to taste."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمار کا خون اور اُس کا گوشت ، آگ پر یہ حرام ہے کہ اُن کو کھائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

15604

Majma al-Zawaid #15604

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ مَا خَلَا عَمَّارًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مُلِئَ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that she could speak of any companion of the Messenger of Allah ﷺ if she wished, except ʿAmmār (رضي الله عنه), for she heard the Messenger of Allah ﷺ say of him: > **"He is filled with faith to his very bones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی بھی فرد کے بارے میں اگر میں چاہوں ، تو کوئی بات کہہ سکتی ہوں ، صرف حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ اپنی ہڈیوں کے کناروں تک ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15605

Majma al-Zawaid #15605

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ حُذَيْفَةُ فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، قُتِلَ هَذَا الرَّجُلُ وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيمَا يَقُولُ؟ قَالَ: أَسْنِدُونِي، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى صَدْرِ رَجُلٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَبُو الْيَقْظَانِ عَلَى الْفِطْرَةِ، لَا يَدَعُهَا حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَمَسَّهُ الْهَرَمُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Bilāl ibn Yaḥyā reports that when ʿUthmān (رضي الله عنه) was killed, Ḥudhayfah (رضي الله عنه) was approached amid people's disagreement; asked to be propped against a man's chest, he declared he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that Abū al-Yaqẓān remained upon the primordial nature, never abandoning it until death or dotage: > **"Abū al-Yaqẓān is upon the fitrah; he shall not abandon it until he dies or dotage touches him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بلال بن یحیی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ، تو ایک شخص حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا : اے ابوعبداللہ ! ان صاحب کو قتل کر دیا گیا ہے ، لوگوں میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ! پھر ایک شخص نے سینے کے ذریعے انہیں ٹیک دی ، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ابوالیقظان فطرت پر ہے ، وہ مرتے دم تک فطرت کو نہیں چھوڑے گا ، البتہ اگر اسے بڑھاپا لاحق ہو گیا ، تو معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

15606

Majma al-Zawaid #15606

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَاهْتَدَوْا بِهَدْيِ عَمَّارِ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ: «اقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -». فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded following the two after him, Abū Bakr and ʿUmar (رضي الله عنهما), guidance by ʿAmmār's guidance, and holding fast to the covenant of Ibn Umm ʿAbd (رضي الله عنه): > **"Follow the two after me: Abū Bakr and ʿUmar, may Allāh be pleased with them both; be guided by the guidance of ʿAmmār; and hold fast to the covenant of Ibn Umm ʿAbd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا ، ابوبکر اور عمر اور عمار کی ہدایت کے ذریعے رہنمائی حاصل کرنا ، اور ابن اُم عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ) کے عہد کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ میرے بعد دو افراد کی پیروی کرنا ، ابوبکر اور عمر ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15607

Majma al-Zawaid #15607

عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَتِ: «اشْتَكَى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ شَكْوَى ثَقُلَ مِنْهَا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ وَنَحْنُ نَبْكِي حَوْلَهُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ أَتَحْسَبُونَ أَنِّي مُتُّ عَلَى فِرَاشِي؟ أَخْبَرَنِي حَبِيبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ تَقْتُلُنِي الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، وَأَنَّ آخِرَ زَادِي مَذْقَةً مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَنِي أَنِّي أُقْتَلُ بَيْنَ صِفِّينَ». وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَمَوْلَاةُ عَمَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A freedwoman of ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) reports that he fell gravely ill and fainted; waking to find them weeping around him, he asked why they wept — did they suppose he would die upon his bed? His beloved ﷺ had told him the rebellious party would kill him, and that his final provision would be a draught of milk.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کنیز بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، جب انہیں ہوش آیا ، تو ہم ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ کیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ میرے محبوب ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، ایک باغی گروہ مجھے قتل کرے گا اور دنیا میں سب سے آخر میں ، میں دودھ پیوں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : مجھے دو صفوں کے درمیان قتل کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی کنیز سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15608

Majma al-Zawaid #15608

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ بِصِفِّينَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ وَهُوَ يُنَادِي: إِنِّي لَقِيتُ الْجَبَّارَ وَتَزَوَّجْتُ الْحُورَ الْعِينَ، الْيَوْمَ نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ، عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ: "" آخِرَ زَادِكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reports that he heard ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) at Ṣiffīn on the day he was struck, calling out that he had met the Compeller, wed the wide-eyed maidens, and would today meet the beloved Muḥammad ﷺ and his party, as the Messenger of Allah ﷺ had covenanted that his final provision of this world would be thin milk: > **"Today we meet the beloved, Muḥammad, and his party; my final provision of this world is thin milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : جنگ صفین میں ، جس دن حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، اُس دن میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہہ رہے تھے : ’’ میں جبار کی بارگاہ میں حاضر ہونے لگا ہوں اور میری شادی حورعین سے ہو جائے گی ، اور آج میں اپنے محبوب افراد ، حضرت محمد ﷺ اور اُن کے گروہ سے مل جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ دنیا میں تمہارے استعمال کی آخری چیز وہ پتلا دودھ ہو گا ، جس میں پانی ملا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔