«وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَخْوَفَ عِنْدِي عَلَى أَنْ يُدْخِلَنِي النَّارَ مِنْ شَأْنِ عَمَّارٍ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَمَا هُوَ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَأَصَبْتُهُمْ وَفِيهِمْ أَهْلُ بَيْتِ مُسْلِمِينَ، فَكَلَّمَنِي عَمَّارٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَرْسِلْهُمْ، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى آتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنْ شَاءَ أَرْسَلَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهِمْ مَا أَرَادَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ فَدَخَلَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى خَالِدٍ فَعَلَ وَفَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا مَجْلِسُكَ مَا سَبَّنِي ابْنُ سُمَيَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ يَا عَمَّارُ "". فَخَرَجَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا نَصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أَجَبْتَ الرَّجُلَ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَنِي مِنْهُ إِلَّا مَحْقَرَتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَحْقِرْ عَمَّارًا يَحْقِرْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسُبَّ عَمَّارًا يَسُبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَنْتَقِصْ عَمَّارًا يَنْتَقِصْهُ اللَّهُ "". فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى اسْتَغْفَرَ لِي. وَفِي رِوَايَةٍ: "" مَنْ يُعَادِ عَمَّارًا يُعَادِهِ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا بِأَسَانِيدَ، مِنْهَا مَا وَافَقَ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَمِنْهَا مَا هُوَ مُرْسَلٌ.
EnglishUnverified translation
Khālid ibn al-Walīd (رضي الله عنه) reports that no deed weighed on him with greater fear of Hell than the affair of ʿAmmār: dispatched by the Messenger of Allah ﷺ with companions to an Arab clan, he seized them though they included a Muslim household; ʿAmmār interceded for some, demanding their release, while Khālid refused until he brought them to the Messenger of Allah ﷺ to release or judge as he willed. Entering upon the Prophet ﷺ, ʿAmmār complained of Khālid's deed, and Khālid retorted that were it not for his gathering, Ibn Sumayyah would not have reviled him. The Prophet ﷺ ordered ʿAmmār out, and he left weeping that the Messenger had not aided him against Khālid; asked why he had not answered the man, Khālid pleaded only contempt had restrained him, whereupon the Prophet ﷺ warned that contempt, reviling and disparagement of ʿAmmār return upon their doer from Allah. Khālid followed him until ʿAmmār sought forgiveness for him; in one narration, whoever opposes ʿAmmār is opposed by Allah: > **"Go out, O ʿAmmār. Did you not answer the man? Whoever belittles ʿAmmār, Allāh belittles him; whoever reviles ʿAmmār, Allāh reviles him; and whoever disparages ʿAmmār, Allāh disparages him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا ، جس کے بارے میں مجھے یہ اندیشہ ہو کہ وہ عمل مجھے جہنم میں داخل کروا دے گا ، البتہ اس معاملے کا حکم مختلف ہے ، جو عمار کے حوالے سے پیش آیا ، ہم نے دریافت کیا ہے : اے ابوسلیمان ! وہ کیا معاملہ ہے ؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے ہمراہ مجھے عربوں کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا ، میں نے ان لوگوں پر حملہ کیا ، اس قبیلے میں مسلمانوں کے کچھ گھرانے بھی تھے ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ ان افراد کے بارے میں بات چیت کی اور یہ کہا : آپ انہیں چھوڑ دیں ، میں نے کہا : ایسا اُس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں انہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں لے جاتا ، اگر نبی اکرم ﷺ چاہیں گے تو انھیں چھوڑ دیں گے ، اور اگر چاہیں گے تو جو سلوک چاہیں گے ، ان کے ساتھ کریں گے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی ، پھر وہ اندر آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا ؟ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ کام کیا ہے ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر آپ کی محفل نہ ہوتی ، تو سمیہ کا بیٹا ( یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) مجھے برا نہیں کہہ سکتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمار ! تم باہر چلے جاؤ ، تو وہ روتے ہوئے باہر گئے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں کی ( حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اُسے جواب کیوں نہیں دیا ؟ میں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہ فقیر آدمی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عمار کو حقیر سمجھے ، اللہ تعالیٰ اسے حقیر سمجھے ، جو شخص عمار کو برا کہے ، اللہ تعالیٰ اُسے برا کہے ، جو شخص عمار کی تنقیص کرے ، اللہ تعالیٰ اُس کی تنقیص کرے ۔‘‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں باہر آ کر حضرت عمار کے پیچھے گیا ، یہاں تک کہ انہوں نے میرے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” جو شخص عمار سے دشمنی رکھے ، اللہ تعالیٰ اُس سے دشمنی رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ طویل اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں کچھ امام احمد کی سند کے موافق ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور ان میں سے کچھ روایات ’’ مرسل ‘‘ ہیں ۔