وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً خَفِيفَةً، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا عُمَرُ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَامَ فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُونَ أَبِي بَكْرٍ. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا فُلَانُ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَشَفَقَ الْقَوْلَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْكُتْ أَوِ اجْلِسْ ; فَإِنَّ التَّشْقِيقَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ الْبَيَانَ مِنَ السِّحْرِ "". وَقَالَ: "" يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَامَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - رَبُّنَا، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ دِينُنَا، وَإِنَّ الْقُرْآنَ إِمَامُنَا، وَإِنَّ الْبَيْتَ قِبْلَتُنَا، وَإِنَّ هَذَا نَبِيُّنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِينَا مَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ، وَكَرِهْنَا مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَصَدَقَ، وَرَضِيتُ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» وَكَرِهْتُ مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
EnglishUnverified translation
Abū al-Dardāʾ (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ delivered a light sermon, then bade Abū Bakr rise and address, who fell short of the Messenger of Allah ﷺ; then ʿUmar, who fell short of both; then a certain man, who spoke with affectation, so the Prophet ﷺ bade him be silent — or sit — for affectation is from Satan and eloquence is magic. Then he bade Ibn Umm ʿAbd rise; he praised Allah, declared their Lord, religion, scripture, qiblah and Prophet, pointing to the Prophet ﷺ, and professed pleasure with what Allah and His Messenger pleased and hatred of what they hated, whereupon the Prophet ﷺ affirmed him twice and declared his own pleasure and hatred in accord for himself, his nation and Ibn Umm ʿAbd: > **"Be silent — or sit — for affectation is from Satan, and eloquence is magic."** > **"O Ibn Umm ʿAbd, rise and address."** > **"Ibn Umm ʿAbd is right, Ibn Umm ʿAbd is right and truthful; I am pleased with what Allah, Most High, is pleased with for me, my nation and Ibn Umm ʿAbd, and I hate what Allah, Most High, hates for me, my nation and Ibn Umm ʿAbd."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ، جب آپ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اُٹھو اور تم خطبہ دو ، انہوں نے خطبہ دیا ، جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ سے مختصر تھا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم اٹھو اور تم خطبہ دو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں سے مختصر خطبہ دیا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ! اس شخص نے بنا سنوار کر باتیں شروع کیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ ! راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اس طرح بنا سنوار کر بات کرنا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن عبد ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ کہا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے ، بے شک اسلام ہمارا دین ہے ، بے شک قرآن ہمارا پیشوا ہے ، بے شک کعبہ ہمارا قبلہ ہے ، بے شک ’’ یہ ‘‘ ہمارے نبی ہیں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔ تو ہم اُس سے راضی ہیں ، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہمارے لیے راضی ہیں ، اور اُس چیز کو ہم ناپسند کرتے ہیں ، جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمارے لئے ناپسندیدہ قرار دیا ہو ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابن ام عبد نے ٹھیک کہا ہے ، ابن ام عبد نے ٹھیک کہا ہے ، اور اس نے سچ کہا ہے ، میں اس چیز سے راضی ہوں ، جس سے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری اُمت اور ابن ام عبد کے لئے راضی ہو اور میں اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری امت کے لئے ، اور ابن ام عبد کے لیے ناپسند کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبیداللہ بن عثمان بن خثیم نامی راوی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔