Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 32

Book of Virtues and Merits

Hadith 15528–15567

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15528

Majma al-Zawaid #15528

وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: شَتَمَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ لَتَشْتُمُنِي وَأَنَا فِيَّ ثَلَاثُ خِصَالٍ: إِنِّي لَآتِي عَلَى الْآيَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَوَدِدْتُ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ يَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْحَاكِمِ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ يَعْدِلُ فِي حُكْمِهِ فَأَفْرَحُ، وَلَعَلِّي لَا أُقَاضَى إِلَيْهِ أَبَدًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْغَيْثِ قَدْ أَصَابَ الْبَلَدَ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ، فَأَفْرَحُ وَمَا لِي بِهِ سَائِمَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Buraydah al-Aslamī reports that when a man reviled Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما), he answered that despite his three traits: whenever he came upon a verse of Allah's Book he wished all people knew what he knew; whenever he heard of a Muslim ruler judging justly he rejoiced though he might never come before him; and whenever he heard of rain falling upon a Muslim land he rejoiced though he owned no grazing livestock there.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اسلمی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو برا کہا ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم مجھے برا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ میرے اندر تین خصوصیات ہیں ، میں اللہ کی کتاب کی کوئی ایک آیت پڑھتا ہوں ، تو میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب لوگوں کو اس کے بارے میں وہی علم ہو ، جو علم مجھے ہے ، اور میں مسلمان حکمرانوں میں سے کسی حاکم کے بارے میں سنتا ہوں کہ اس نے فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیا ہے ، تو میں اس بات پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ میں نے شاید کبھی بھی کسی عدالتی فیصلے کے بارے میں اسے نہیں کہا ہو گا ، اور جب میں کسی بادل کے بارے میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے کسی علاقے میں وہ برسا ہے ، تو میں اس پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ مجھے اس کے بدلے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15529

Majma al-Zawaid #15529

وَعَنْ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: بَدَتْ لَنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَاجَةٌ إِلَى الْوَالِي، وَكَانَ الَّذِي طَلَبْنَا إِلَيْهِ أَمْرًا صَعْبًا، فَمَشَيْنَا إِلَيْهِ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، فَكَلَّمُوهُ وَذَكَرُوا لَهُ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَا، فَذَكَرَ لَهُمْ صُعُوبَةَ الْأَمْرِ، فَعَذَرَهُ الْقَوْمُ، وَأَلَحَّ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا وَجَدَ بُدًّا مِنْ قَضَاءِ حَاجَتِهِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، وَإِذَا الْقَوْمُ أَنْدِيَةٌ. قَالَ حَسَّانُ: فَضَحِكْتُ وَأَنَا أَسْمَعُهُمْ، إِنَّهُ وَاللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا، إِنَّهَا وَاللَّهِ صَبَابَةُ النُّبُوَّةِ، وَوِرَاثَةُ أَحْمَدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْدِيهِ أَعْرَاقُهُ، وَانْتِزَاعُ شِبْهِ طِبَاعِهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَجْمِلْ يَا حَسَّانُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا، فَأَحْمَلَ فَأَنْشَأَ حَسَّانُ يَمْدَحُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ ... رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مُجَمَعَةٍ فَضْلَا إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ ... بِمُلْتَقِطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا كَفَى وَشَفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ ... لِذِي إِرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جَدًّا وَلَا هَزْلَا سَمَوْتَ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا دَنِيًّا وَلَا وَغِلَا ... خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى بَلِيغًا وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبَلَا فَقَالَ الْوَالِي: وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبَلَ غَيْرِي، وَاللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ḥassān ibn Thābit (رضي الله عنه) reports that the Anṣār needed something from the governor, a difficult matter, so they walked to him with men of Quraysh and others who spoke to him and reminded him of the Messenger of Allah's ﷺ counsel concerning them. He pleaded the difficulty; the people excused him, but Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) persisted until, by Allah, the governor found no escape from fulfilling the need. As they left and entered the mosque with groups gathered, Ḥassān laughed as he heard them, declaring Ibn ʿAbbās foremost in it, a remnant of prophethood and heir of Aḥmad ﷺ, guided by his veins. When the people bade him compose, Ibn ʿAbbās assented, and Ḥassān extolled him in verse: when Ibn ʿAbbās's face appears you see his merit in every assembly; when he speaks he leaves no word for another, with gathered utterances admitting no gap; he suffices and heals what is in breasts, leaving no jest or earnest for any eager speaker; he rose to the heights without hardship and attained their peaks, neither base nor intruding; created an ally of manliness and bounty, eloquent, never dull nor feeble-minded — whereupon the governor protested that by the dull and feeble he meant none but himself, with Allah between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حسان بن ثابت بھی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ، ہم کچھ افراد کو حاکم وقت سے کوئی کام پڑ گیا ، وہ ایک ایسا حکمران تھا ، جس نے ہمیں کسی مشکل کا شکار کرنا تھا ، تو ہم قریش سے تعلق رکھنے والے اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر حاکم کے پاس گئے ، ان لوگوں نے حاکم کے ساتھ بات چیت کی ، اور حاکم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی تھی ، حاکم نے ان لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ یہ معاملہ مشکل ہے ، تو ان لوگوں نے حاکم کو معذور قرار دیا ، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسلسل حاکم کے سامنے اصرار کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ اللہ کی قسم ! حاکم کے لئے اس کام کو کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا ، ہم اس کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں لوگوں کی مختلف ٹولیاں بیٹھی ہوئی تھیں ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ہنس پڑا ، میں ان لوگوں کو سن رہا تھا ( وہ کہہ رہے تھے : ) اللہ کی قسم ! وہ ( یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ) اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے ، اللہ کی قسم وہ نبوت ( یعنی نبی اکرم ﷺ کے خاندان کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور حضرت احمد ﷺ کے وارث ہیں ، ان کے ساتھ نسبی تعلق اور فطری قربت رکھتے ہیں ، لوگوں نے کہا : اے حضرت حسان ! آپ بھی کچھ کہیں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ’’ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ ، آپ کے سامنے آئے گا ، تو آپ کو ان کی ہر چیز میں فضیلت نظر آئے گی ، جب وہ بات کریں تو ( مقابل فریق کے لیے ) کہنے کو کچھ نہیں رہنے دیتے ، وہ ایسی مربوط ( گفتگو کرتے ہیں ) کہ آپ کو اس گفتگو میں کوئی چیز اضافی ( یعنی غیر ضروری ) نظر نہیں آئے گی ، دلوں میں جو بھی ( سوچ ، خیال ، فکر یا پریشانی ہو ) وہ اس کے لیے کفایت کر جاتے ہیں اور اس کی شفا کا باعث بن جاتے ہیں ، وہ کسی بھی عقلمند کے لیے ، بات کرنے کے لیے سنجیدگی یا مذاق کا کوئی پہلو نہیں رہنے دیتے ( اے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ) آپ کسی مشقت کا شکار ہوئے بغیر ، بلند مرتبے پر فائز ہوئے ہیں ، اور ( بلند مرتبے کی ) کوہان ( یعنی بلند ترین سطح ) تک پہنچے ہیں ، آپ نہ تو کمتر ہیں اور نہ ہی کمزور ( یا کوتاہی والے ) ہیں ، آپ مروت کے حلیف کے طور پر پیدا ہوئے اور آپ کی آواز بلیغ ہے ، اور آپ بزدل یا فاسد پیدا نہیں ہوئے ۔‘‘

15530

Majma al-Zawaid #15530

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، وَسِنُّهُ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَكَانَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ. قَالَ: وُلِدْتُ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ وَنَحْنُ فِي الشِّعْبِ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reports that ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) died in the year sixty-eight at seventy-two years, dyeing his beard yellow. He said: I was born three years before the Hijrah while we were in the mountain pass, and the Prophet ﷺ passed away when I was thirteen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال 72 سال کی عمر میں 68 ہجری میں ہوا ، وہ داڑھی پر زرد رنگ کا خضاب لگاتے تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوا تھا ، اس وقت ہم لوگ شعب ابوطالب میں تھے ، اور جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، اس وقت میری عمر 13 سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15531

Majma al-Zawaid #15531

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَهُ جُمَّةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥabīb ibn Abī Thābit reports that he saw Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) with a full head of flowing hair.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، اُن کے بال بڑے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15532

Majma al-Zawaid #15532

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَبْدُ اللَّهِ طَوِيلًا مُشْرَبًا حُمْرَةَ صُفْرَةٍ وَسِيمًا صَبِيحَ الْوَجْهِ لَهُ صَغِيرَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq reports that Ibn ʿAbbās ʿAbd Allāh (رضي الله عنهما) was tall, fair with a reddish-yellow tinge, handsome and bright-faced, with flowing locks.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما طویل القامت شخص تھے ، اُن کا رنگ سرخ و سفید تھا ، وہ بھرپور جسم کے مالک وجیہ و شکیل شخص تھے ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا ، ان کی زلفیں تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15533

Majma al-Zawaid #15533

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيَّامَ مِنَى طَوِيلُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ إِزَارٌ فِيهِ بَعْضُ الْإِسْبَالِ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ أَصْفَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Isḥāq reports that he saw Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) during the days of Minā with long hair, wearing a waist-wrapper trailing somewhat and a yellow cloak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے منیٰ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، ان کے بال لمبے تھے ، ان کے جسم پر تہبند موجود تھا جو کچھ لٹکا ہوا تھا ، اور انہوں نے زرد چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15534

Majma al-Zawaid #15534

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَقَدْ خُتِنْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Prophet ﷺ passed away when he was fifteen years old and already circumcised.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، اس وقت میری عمر 15 سال تھی اور میرے ختنے ہو چکے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15535

Majma al-Zawaid #15535

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَشَهِدْنَا جِنَازَتَهُ، فَجَاءَ طَائِرٌ لَمْ يُرَ عَلَى خِلْقَتِهِ حَتَّى دَخَلَ فِي نَعْشِهِ، ثُمَّ لَمْ يُرَ خَارِجًا مِنْهُ، فَلَمَّا دُفِنَ تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، لَمْ يُدْرَ مَنْ تَلَاهَا: {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ - ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً - فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي} [الفجر: 27 - 29]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr reports that Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) died at al-Ṭāʾif and they attended his funeral, when a bird of never-seen form came and entered his bier and was never seen emerging; and when he was buried, this verse was recited at the grave's edge though none knew who recited it: > **"O reassured soul, return to your Lord well-pleased and pleasing, enter among My servants and enter My Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال طائف میں ہوا ، ہم اُن کے جنازے میں شریک ہوئے ، ایک پرندہ آیا ، اس جیسی مخلوق نہیں دیکھی گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ اُن کی میت میں داخل ہو گیا ، پھر وہ باہر نکلتا ہوا نظر نہیں آیا ، جب انہیں دفن کیا گیا ، تو ان کی قبر کے کنارے پر اس آیت کی تلاوت سنائی دی ، لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ تلاوت کون کر رہا ہے ؟ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ ، تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15536

Majma al-Zawaid #15536

وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ أَبِيهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ طَائِرٌ أَبْيَضُ، يُقَالُ لَهُ: الْغُرْنُوقُ.

EnglishUnverified translation

It is likewise reported from ʿAbd Allāh ibn Yāmīn from his father, except that he said a white bird came, called al-ghurnūq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن یامین نے اپنے والد کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ایک سفید رنگ کا پرندہ آیا جسے ’’ غرنوق ‘‘ کہا جاتا تھا ۔

15537

Majma al-Zawaid #15537

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ، وَكَثِيرًا بَنِي الْعَبَّاسِ، وَيَقُولُ: "" مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا "". فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ، فَيَلْتَزِمُهُمْ وَيُقَبِّلُهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith reports that the Messenger of Allah ﷺ would line up ʿAbd Allāh, ʿUbayd Allāh and Kathīr, the sons of al-ʿAbbās (رضي الله عنهم), and promise a gift to whoever reached him first; they would race to him and fall upon his back and chest, and he would embrace and kiss them: > **"Whoever beats the others to me shall have such-and-such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے صاحبزادوں ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت کثیر رضی اللہ عنہ کو صف میں کھڑا کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچے گا ، اُسے یہ یہ ملے گا ، تو وہ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی طرف جاتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کی پشت اور سینے پر گر جاتے تھے ، نبی اکرم ﷺ انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیتے تھے اور انھیں چومتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15538

Majma al-Zawaid #15538

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُمَا بَايَعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا ابْنَا سَبْعِ سِنِينَ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَسَّمَ وَبَسَطَ يَدَهُ، فَبَايَعَهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

It is reported of ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr and ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهم) that they pledged allegiance to the Messenger of Allah ﷺ when they were seven years old; when the Messenger of Allah ﷺ saw them he smiled, extended his hand, and accepted their pledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان دونوں حضرات نے سات سال کی عمر میں نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو ملاحظہ کیا ، تو آپ مسکرا دیے اور آپ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور ان دونوں سے بیعت لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، جس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15539

Majma al-Zawaid #15539

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ، إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ "". فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ، وَقَالَ لِقُثَمَ: "" ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ "". فَحَمَلَهُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ وَتَرْكَهُ. قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، كُلَّمَا مَسَحَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ "". قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْهِدَ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ قَالَ: أَجَلْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهما) reports that he recalled himself with Qutham and ʿUbayd Allāh, the sons of al-ʿAbbās, as playing boys when the Messenger of Allah ﷺ passed by riding; he bade them lift one child to him, so ʿAbd Allāh was carried in front, then bade them lift Qutham, who was carried behind — though ʿUbayd Allāh was dearer to al-ʿAbbās than Qutham, yet he felt no shyness before his uncle in carrying Qutham and leaving him. Then he wiped ʿAbd Allāh's head thrice, each time praying to succeed Jaʿfar in his children. Asked later what became of Qutham, he said he was martyred; and to the remark that Allah and His Messenger knew best the good, he assented: > **"Lift this one to me."** > **"O Allah, take Jaʿfar's place in caring for his children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ، میں ، قثم اور عبیداللہ تھے ، یہ دونوں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ، ہم بچے تھے اور کھیل رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ ایک سواری پر ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس بچے کو مجھے پکڑا دو ! نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا ، پھر آپ نے حضرت قثم کے بارے میں فرمایا : اسے مجھے پکڑا دو ، آپ نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا ، عبیداللہ ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو قثم سے زیادہ محبوب تھے ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا سے اس حوالے سے کچھ محسوس نہیں کیا کہ آپ نے قثم کو بٹھا لیا اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا ، ہر مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! جعفر کی اولاد کی دیکھ بھال کرنے والا ہو جا ! راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : حضرت قثم رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اللہ اور اس کا رسول بھلائی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15540

Majma al-Zawaid #15540

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهُوَ يَبِيعُ بَيْعَ الْغِلْمَانِ - أَوِ الصِّبْيَانِ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي بَيْعِهِ "". أَوْ قَالَ: "" فِي صَفْقَتِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Ḥurayth (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهما) while he traded as boys trade — or as children trade — and prayed for blessing upon his dealing, or upon his bargain: > **"O Allah, bless him in his trade — or: in his bargain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو بچوں کے ساتھ خرید و فروخت کا کھیل ، کھیل رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! اس کی خرید و فروخت میں اس کے لیے برکت رکھ دے ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے سودے میں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

15541

Majma al-Zawaid #15541

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: وَفِيهَا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْمَدِينَةِ، وَيُكَنَّى أَبَا جَعْفَرٍ. - يَعْنِي سَنَةَ ثَمَانِينَ -.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbd Allāh ibn Numayr states that in that year — meaning the year eighty — ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه) died at Madīnah, his kunyah being Abū Jaʿfar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : اُس سال میں ، حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ، ان کی کنیت ابوجعفر تھی ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد سن 80 ہجری ہے ۔

15542

Majma al-Zawaid #15542

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «لَمَّا اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ النَّاسُ فِيهِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قَدْ بَلَغَنِي مَا قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ، وَلَقَدْ قُلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ قَبْلَهُ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ أَتَى حِبُّ النَّاسِ إِلَيَّ». قَالَ: مَنِ اسْتَثْنَى فَاطِمَةَ وَغَيْرَهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar (رضي الله عنهما) reports that when the Messenger of Allah ﷺ appointed Usāmah ibn Zayd (رضي الله عنهما), people spoke against him until it reached the Prophet ﷺ, whereupon he declared what had reached him of their words about Usāmah as before about his father, affirmed thrice his fitness for command, and named him most beloved to him, some excepting Fāṭimah and others: > **"What you have said about Usāmah has reached me, and you said the same about his father before him; he is fit for command, he is fit for command, he is fit for command, and he is the most beloved of people to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم کا امیر مقرر کیا ، تو کچھ لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع ملی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے اسامہ کے بارے میں بات کی ہے ، اس سے پہلے تم لوگ اس کے باپ کے بارے میں بھی بات کر چکے ہو ، وہ امیر بننے کے لائق ہے ، وہ امیر بننے کے لائق ہے ، وہ امیر بننے کے لائق ہے اور وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : بعض حضرات نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کا استثناء کیا ہے ۔

15543

Majma al-Zawaid #15543

«وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ كُلِّهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: حَاشَا فَاطِمَةَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration the words are that he is the most beloved of all people to him, while Ibn ʿUmar would say, excepting Fāṭimah (رضي الله عنها). > **"He is the most beloved of all people to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے تھے : البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ مختلف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15544

Majma al-Zawaid #15544

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُبْغِضَ أُسَامَةَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that after hearing the Messenger of Allah ﷺ say it, none ought to hate Usāmah (رضي الله عنه): > **"Whoever loves Allāh and His Messenger, let him love Usāmah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے ، اُسے اسامہ سے محبت رکھنی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15545

Majma al-Zawaid #15545

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: «كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Shuʿayb ibn al-Ḥabḥāb reports that he heard their elders say the inscription on the ring of Usāmah ibn Zayd (رضي الله عنهما) was: beloved of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن شعیب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی میں یہ نقش تھا :” اللہ کے رسول کے محبوب ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15546

Majma al-Zawaid #15546

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يُدْعَى بِالْأَمِيرِ حَتَّى مَاتَ، يَقُولُونَ: بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لَمْ يَنْزِعْهُ حَتَّى مَاتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reports that Usāmah ibn Zayd (رضي الله عنهما) was addressed as commander until he died, people saying the Messenger of Allah ﷺ had dispatched him and never removed him until he passed away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال تک ’’ امیر ‘‘ کہہ کر بلایا جاتا تھا ، لوگ یہ کہتے تھے : کہ اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں ( امیر ) بنا کر بھیجا تھا اور پھر انھیں اُس عہدے سے الگ نہیں کیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15547

Majma al-Zawaid #15547

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ شَمْخِ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ صَاهِلَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ الْهُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq states that he is ʿAbd Allāh ibn Masʿūd ibn al-Ḥārith ibn Shamkh ibn Makhzūm ibn Ṣāhilah ibn al-Ḥārith ibn Tamīm ibn al-Hudhayl ibn Mudrikah ibn Ilyās ibn Muḍar ibn Nizār ibn Maʿadd ibn ʿAdnān, an ally of Banū Zuhrah, who witnessed Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ بن مسعود بن حارث بن شماس بن مخزوم بن صالح بن حارث بن تمیم بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں ، یہ بنوزہرہ کے حلیف ہیں اور انھیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔

15548

Majma al-Zawaid #15548

وَفِي رِوَايَةٍ: ابْنُ مَخْزُومِ بْنِ كَاهِلِ بْنِ حَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلٍ، حُلَفَاءِ بَنِي زُهْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration his line runs through Makhzūm ibn Kāhil ibn al-Ḥārith ibn Saʿd ibn Hudhayl, allies of Banū Zuhrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : یہ ( حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ بن مسعود بن حارث بن شماس ) بن مخزوم بن کاہل بن حارث بن سعد بن ہذیل ہیں ، جو بنوزہرہ کے حلیف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

15549

Majma al-Zawaid #15549

وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ رِشْدِينَ الْمِصْرِيِّ قَالَ: أَمْلَى عَلِيَّ مُوسَى بْنُ عَوْنٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ كَاهِلِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ صَاهِلَةَ بْنِ كَاهِلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عَوْنٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Aḥmad ibn Rushdīn al-Miṣrī reports that Mūsā ibn ʿAwn dictated to him the lineage of ʿAbd Allāh ibn ʿUtbah ibn Masʿūd ibn Kāhil ibn Ḥabīb ibn Thābit ibn Makhzūm ibn Ṣāhilah ibn Kāhil ibn al-Ḥārith ibn Tamīm ibn Saʿd ibn Hudhayl ibn Mudrikah ibn Ilyās ibn Muḍar ibn Nizār.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن رشدین مصری بیان کرتے ہیں : موسیٰ بن عون نے مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نسب املاء کروایا تھا ، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھائی کی اولاد میں سے تھے ( یعنی ان صاحب نے اپنے آباء و اجداد کا نسب بیان کرتے ہوئے اپنے دادا عبداللہ بن عتبہ کا یہ نسب بیان کیا : ) حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بن کاہل بن حبیب بن ثابت بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور موسیٰ بن عون نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15550

Majma al-Zawaid #15550

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَادِسُ سِتَّةٍ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرَنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that he recalls being the sixth of six, with no other Muslim upon the earth besides them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں ( اسلام قبول کرنے والا ) چھٹا فرد تھا ، روئے زمین پر ہمارے علاوہ اور کوئی مسلمان نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15551

Majma al-Zawaid #15551

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ. قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ، وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ! مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَمَا زَالَ عُمَرُ يُطْفِئُ وَيُسَرِّي عَنْهُ الْغَضَبَ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: وَيْحَكَ! وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَلِكَ لِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّهُ سَمَرَ عِنْدِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَنَحْنُ نَمْشِي مَعَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ، فَلَمَّا كِدْنَا نَعْرِفُ الرَّجُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ". قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " سَلْ تُعْطَهُ ". قَالَ عُمَرُ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَعُودَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ. قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي فَبَشَّرَهُ، فَلَا وَاللَّهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ».

EnglishUnverified translation

Qays ibn Marwān reports that a man came to ʿUmar (رضي الله عنه) at ʿArafah saying he had left a man at Kūfah dictating the codices from memory. ʿUmar swelled with anger until near filling the saddle's sides, demanding who he was; told it was ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, his anger subsided until he returned to his former state, declaring none worthier of it and recounting how the Messenger of Allah ﷺ would spend the night conversing with Abū Bakr over Muslim affairs, ʿUmar with them, until they came upon a man standing in prayer in the mosque. The Messenger of Allah ﷺ stood listening to his recitation, and when they nearly knew the man, he praised reciting fresh as revealed upon the reading of Ibn Umm ʿAbd. Then the man sat supplicating, and the Messenger of Allah ﷺ bade him ask and be given. ʿUmar swore he would return to give him the tidings, but in the morning found Abū Bakr had already done so, as ever outstripping him to every good: > **"Whoever is pleased to recite the Qurʾān fresh as it was revealed, let him recite it upon the reading of Ibn Umm ʿAbd."** > **"Ask, you shall be given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن مروان بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ اس وقت عرفہ میں موجود تھے ، اس شخص نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! میں کوفہ سے آیا ہوں ، اور میں نے وہاں ایک صاحب کو چھوڑا ہے ، جو زبانی طور پر قرآن مجید املاء کرواتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے سے میں آ گئے اور شدید غصے میں آ گئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا ستیاناس ہو ، وہ شخص کون ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوا ، جب اُن کی کیفیت ٹھیک ہو گئی ، جو پہلے تھی ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، اللہ کی قسم ! ان کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں ہے ، جو اس بارے میں اُن سے زیادہ حق رکھتا ہو اور میں تمہیں اُس کے بارے میں بتاتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ کر رات کے وقت گفتگو کرتے تھے ، جو مسلمانوں کے کسی معاملے کے بارے میں ہوتی تھی ، ایک رات آپ ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے ، میں بھی آپ کے پاس موجود تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہوئے آئے ، تو ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر اُس کی تلاوت سننے لگے ، قریب تھا کہ ہم اُس شخص کو پہچان جاتے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح یہ نازل ہوا ہے ، اُسے ابن ام عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ) کی تلاوت کے مطابق قرآن کو پڑھنا چاہیے ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص بیٹھ کر دعا مانگنے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے اور یہ کہنے لگے : تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سوچا ، اللہ کی قسم ! کل میں اس شخص کے پاس ضرور جاؤں گا ، اور اُسے ضرور خوشخبری سناؤں گا ، وہ کہتے ہیں : جب میں اگلے دن صبح اُسے خوشخبری دینے کے لیے اس کے پاس گیا ، تو میں نے یہ صورتحال پائی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے اسے خوشخبری سنا چکے تھے ، اللہ کی قسم ! میں نے بھلائی کے جس بھی کام کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ، تو وہ اس بارے میں مجھ سے سبقت لے جا چکے ہوتے تھے ۔

15552

Majma al-Zawaid #15552

وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ خَارِجًا، فَقَالَ: إِنْ فَعَلْتَ إِنَّكَ لَسَبَّاقٌ بِالْخَيْرِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿUmar went to Ibn ʿAbd Allāh to gladden him but found Abū Bakr coming out, and remarked that in such deeds he was ever foremost in good.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تاکہ انہیں خوشخبری سنائیں ، تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل رہے تھے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : اگر آپ نے یہ کیا ہے ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بھلائی کی طرف بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس بن مروان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15553

Majma al-Zawaid #15553

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، وَهُوَ عَلَى ضَعْفِهِ حَسَنُ الْحَدِيثَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فُرَاتِ بْنِ مَحْبُوبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh — meaning Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) — reports that Abū Bakr and ʿUmar (رضي الله عنهما) gladdened him with the Messenger of Allah's ﷺ words: > **"Whoever is pleased to recite the Qurʾān fresh as it was revealed, let him recite it upon the reading of Ibn Umm ʿAbd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ خوشخبری سنائی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح وہ نازل ہوا ہے ، تو اُسے ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابوالنجود ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال بھی صحیح کے رجال ہیں ، صرف فرات بن محبوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15554

Majma al-Zawaid #15554

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَنَّهُمَا بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" سَلْ تُعْطَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh (رضي الله عنه) reports through Abū Bakr and ʿUmar (رضي الله عنهما) that they gladdened him with the Messenger of Allah's ﷺ words to him: > **"Ask, you shall be given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ان دونوں حضرات نے انہیں یہ خوشخبری سنائی اور یہ بتایا : نبی اکرم ﷺ نے اُن سے ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ) یہ فرمایا :’’ تم مانگو ! تمہیں وہ دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15555

Majma al-Zawaid #15555

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: "" غَضًّا "" بَدَلَ: "" غَرِيضًا "".، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ عبد الله الْبَجَلِيُّ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever loves to recite the Qurʾān fresh as it was revealed, let him recite it upon the reading of Ibn Umm ʿAbd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اُسی طرح پڑھے جس طرح یہ نازل ہوا ہے ، تو اُسے ( قرآن کو ) ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق پڑھنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے لفظ ’’ عریض ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ غض ‘‘ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15556

Majma al-Zawaid #15556

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ"". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever loves to recite the Qurʾān fresh as it was revealed, let him recite it upon the reading of Ibn Umm ʿAbd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جیسے یہ نازل ہوا ہے ، تو اسے ( قرآن کو ) ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق پڑھنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

15557

Majma al-Zawaid #15557

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَدْعُو، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا حَاذَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ دُعَاءَهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ سَلْ تُعْطَهُ "". فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: الدُّعَاءُ الَّذِي كُنْتَ تَدْعُو بِهِ؟ فَقَالَ: حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَجَّدْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حُقٌّ، وَكِتَابُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUtbah reports that while Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) supplicated in the mosque, the Messenger of Allah ﷺ passed with Abū Bakr (رضي الله عنه); drawing near, he heard the supplication without recognising him and asked who he was, bidding him ask and be given. Abū Bakr returned to ʿAbd Allāh ibn Masʿūd and asked what supplication he had made; he said he had praised and glorified Allah, then declared His promise, meeting, Book, prophets, Muḥammad ﷺ, Paradise, Fire and messengers all true: > **"Who is this? Ask, you shall be given."** > **"O Allah, there is no god but You; Your promise is true, meeting You is true, Your Book is true, the prophets are true, Muḥammad ﷺ is true, Paradise is true, the Fire is true, and Your messengers are true."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں موجود تھے ، اور وہ دعا کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، جب نبی اکرم ﷺ ان کے قریب پہنچے ، تو آپ نے ان کی دعا سنی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں پہچانا نہیں ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : وہ دعا کیا تھی ؟ جو تم کر رہے تھے ، انہوں نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، اس کی بزرگی بیان کی ، پھر میں نے یہ کہا : ” اے اللہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، تیری کتاب حق ہے ، انبیاء کرام حق ہیں ، حضرت محمد ﷺ حق ہیں ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے اور تیرے رسول حق ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15558

Majma al-Zawaid #15558

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: «أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا حَاذَى ِبهِ سَمِعَ دُعَاءَهُ وَهُوَ لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""سَلْ تُعْطَهُ"" فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الدُّعَاءُ الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ مَا هُوَ؟ قَالَ: حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَجَّدْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حُقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقٌّ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَسَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ السَّمَّانِ وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that while he supplicated in the mosque, the Prophet ﷺ passed with Abū Bakr and ʿUmar (رضي الله عنهما); drawing near, he heard the supplication without recognising him and bade him ask and be given. Abū Bakr returned asking what supplication he had made; he said he had praised and glorified Allah, then affirmed His promise, meeting, Paradise, Fire, messengers, prophets and Muḥammad ﷺ all true: > **"Ask, you shall be given."** > **"O Allah, there is no god but You; Your promise is true, meeting You is true, Paradise is true, the Fire is true, Your messengers are true, the prophets are true, and Muḥammad ﷺ is true."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ مسجد میں موجود تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ وہاں سے گزرے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت دعا کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا کو سنا ، آپ اُن کو پہچانے نہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم مانگو ! تمہیں وہ دیا جائے گا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : وہ دعا کیا تھی ؟ جو تم مانگ رہے تھے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی بزرگی بیان کی ، پھر میں نے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، تیرے رسول حق ہیں ، انبیاء کرام حق ہیں ، حضرت محمد ﷺ حق ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل اور سعید بن ربیع سمان کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

15559

Majma al-Zawaid #15559

وَعَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ آخِيرًا: قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا: قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ: «لَا إِلَّا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ»، وَكَانَ آخِرُ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid reports that Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) asked which of the two readings was later, that of ʿAbd Allāh or that of Zayd. Told Zayd's, he corrected them: the Messenger of Allah ﷺ would review the Qurʾān with Jibrīl, peace be upon him, once each year, but in the year he passed away he reviewed it with him twice, and the final reading was the reading of ʿAbd Allāh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : دو قرأتوں میں سے کون سی بعد والی ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت یا حضرت زید رضی اللہ عنہ کی قرأت ؟ راوی کہتے ہیں : ہم نے جواب دیا : حضرت زید رضی اللہ عنہ کی قرأت ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ ہر سال حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے ، جب وہ سال آیا جس میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہونا تھا ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ، تو آخری قرأت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ، یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15560

Majma al-Zawaid #15560

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعِينَ سُورَةً، وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ عَلَى خَيْرِ النَّاسِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» -. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh — meaning Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) — reports that he recited seventy chapters before the Messenger of Allah ﷺ, and completed the Qurʾān before the best of people, ʿAlī ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ستر سورتیں پڑھ کر سنائی ہیں اور میں نے پورا قرآن لوگوں میں سب سے بہتر فرد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں قرآن ختم کرنے والا حصہ نہیں ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سالم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15561

Majma al-Zawaid #15561

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ شَجَرَةً، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ صَعِدَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا تَضْحَكُونَ؟ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ ordered Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) up a tree to fetch something; when his companions saw ʿAbd Allāh's legs as he climbed and laughed at their thinness, the Prophet ﷺ rebuked their laughter and declared the weight of his leg on the Day of Judgement: > **"What are you laughing at? The leg of ʿAbd Allāh shall be heavier in the Balance on the Day of Judgement than Uḥud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ درخت پر چڑھے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اس درخت میں سے کچھ اتار کر لائیں ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اوپر چڑھنے کے وقت ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو وہ لوگ اُن کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ہنس پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ، میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ خاتون ثقہ ہیں ۔

15562

Majma al-Zawaid #15562

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ، وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ، فَجَعَلَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ. فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَفِي بَعْضِهَا: «لَسَاقَا ابْنِ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ». وَفِي بَعْضِهَا: «بَيْنَا هُوَ يَمْشِي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ هَمَزَهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ». وَأَمْثَلُ طُرُقِهَا فِيهِ: عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that he would gather siwāk from an arāk tree, his legs being thin, when the wind overturned his garment and the people laughed at him. The Messenger of Allah ﷺ asked what they laughed at; told at the thinness of his legs, he swore by Him in Whose Hand is his soul that in the Balance they would outweigh Uḥud — in some wordings, that the two legs of Ibn Masʿūd on the Day of Judgement shall be firmer and greater than Uḥud: > **"What are you laughing at? By Him in Whose Hand is my soul, they are heavier in the Balance than Uḥud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ پیلو کے درخت سے مسواک چن رہے تھے ، اُن کی پنڈلیاں پتلی تھیں ، ہوا کی وجہ سے اُن کا کپڑا اڑا تو کچھ لوگ ان کی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میزان میں یہ دونوں ( پنڈلیاں ) احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ابن مسعود کی دونوں پنڈلیاں ، قیامت کے دن ، اُحد پہاڑ سے زیادہ مضبوط اور زیادہ بڑی ہوں گی ۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران آپ کے بعض اصحاب نے ان پر تبصرہ کیا .......‘‘۔ اس روایت کے تمام طرق میں ، جو سب سے زیادہ مثالی طریق ہے ، اس میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15563

Majma al-Zawaid #15563

وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَقَى شَجَرَةً يَجْتَنِي مِنْهَا سِوَاكًا، فَوَضَعَ رِجْلَيْهِ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qurrah ibn Iyās reports that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd (رضي الله عنه) climbed a tree to gather siwāk from it and placed his feet upon it, whereupon the Companions of the Messenger of Allah ﷺ laughed at the thinness of his legs, so the Messenger of Allah ﷺ declared their weight in the Balance: > **"They are heavier in the Balance than Uḥud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قرہ بن ایاس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود ایک درخت پر چڑھے ، تاکہ اس میں سے مسواک اتاریں ، انہوں نے اپنے پاؤں اس پر رکھے ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اُن کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ہنس پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ دونوں ، میزان میں اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15564

Majma al-Zawaid #15564

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «ذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى كَبَاثٍ، فَصَعِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَجَرَةً لِيَجْتَنِيَ مِنْهَا، فَنَظَرُوا إِلَى سَاقَيْهِ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَتِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ؟ "". قَالُوا: مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيِ ابْنِ مَسْعُودٍ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاللَّهِ إِنَّهُمَا لَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ "". ثُمَّ ذَهَبَ كُلُّ إِنْسَانٍ فَاجْتَنَى فَحْلًا يَأْكُلُهُ، وَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِجِنَائِهِ قَدْ جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ، فَوَضْعَهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: هَذَا جِنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ ... وَكُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ فَأَكَلَ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl reports that Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) went with some people to the kabāth fruit, climbed a tree to gather from it, and they looked at his legs and laughed at their thinness. The Prophet ﷺ asked what they laughed at; told at the thinness of Ibn Masʿūd's legs, he swore they outweighed Uḥud. Then each man went and gathered ripe fruit to eat, while Ibn Masʿūd brought his gathering in his lap, placed it before the Prophet ﷺ, and recited his verses declaring it his harvest with its best within, every gatherer's hand to his mouth, and the Prophet ﷺ ate from it: > **"What are you laughing at? By Allah, they are heavier in the Balance than Uḥud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے ، اُن کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ، یہ لوگ پیلو کے درخت کی طرف گئے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درخت پر چڑھے تاکہ اُس سے مسواک اتاریں ، یا پھل اتاریں ، لوگوں نے ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو ان کی پنڈلیوں کی کمزوری پر وہ ہنس پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ کس بات پر ہنستے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ابن مسعود کی پنڈلیوں کی کمزوری پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! یہ دونوں میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔‘‘ پھر ہر شخص گیا اور وہ پھل چننے لگا اور اسے کھانے لگا ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جو پھل اتارا تھا ، وہ اُسے اپنی جھولی میں رکھ کر آئے ، اور اسے نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھ دیا اور یہ شعر پڑھا : ’’ یہ میرا چنا ہوا پھل ہے اور اس میں بہتر پھل ہے اور ہر پھل چننے والے کا ہاتھ اس کے اپنے منہ کی طرف ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُس پھل میں سے کھایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15565

Majma al-Zawaid #15565

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ، فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: "" مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ "". فَقُلْتُ: مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ! فَقَالَ: "" قَدْ أَحْسَنْتَ، أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ "". ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ went out for his need and he met him bringing water. Asked who had ordered him to do so, he answered that no one had, whereupon the Prophet ﷺ praised him and gave him glad tidings of Paradise; then ʿAlī (رضي الله عنه) came and he gave him the same tidings: > **"Who ordered you to do this? You have done well; receive glad tidings of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، میں پانی لے کر آپ کے پیچھے گیا ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں کس نے اس بات کا حکم دیا ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے اس بارے میں ہدایت نہیں کی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اچھا کام کیا ہے ، تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ! پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی جنت کی خوشخبری دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

15566

Majma al-Zawaid #15566

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا كَذَبْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا كَذِبَةً وَاحِدَةً، كُنْتُ أَرْحَلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الطَّائِفِ فَسَأَلَنِي: أَيُّ الرِّحْلَةِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: الطَّائِفِيَّةُ الْمُنْكَبَّةُ، وَكَانَ يَكْرَهُهَا. فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا قَالَ: "" مَنْ رَحَلَ هَذِهِ؟ "". قَالُوا: رَحَّالُكَ قَالَ: "" مُرُوا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَرْحَلَ». فَأُعِيدَتْ إِلَيَّ الرِّحْلَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd (رضي الله عنه) reports that he never lied after accepting Islam except for a single lie: he used to saddle for the Prophet ﷺ, and a man from al-Ṭāʾif asked him which manner of saddling the Messenger of Allah ﷺ loved most. He answered the Ṭāʾifī inverted style, though the Prophet disliked it. When it was brought thus, the Prophet ﷺ asked who had saddled it; told it was his saddler, he ordered that Ibn Umm ʿAbd do the saddling, and the task was returned to him: > **"Who saddled this? Tell Ibn Umm ʿAbd to saddle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ، البتہ ایک مرتبہ کی غلط بیانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں ، نبی اکرم ﷺ کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ، طائف سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اُس نے مجھ سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کو پالان تیار کرنے کا کون سا طریقہ پسند ہے ؟ میں نے جواب دیا : طائفیہ منکبہ ، حالانکہ نبی اکرم ﷺ اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ پالان کس نے تیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ کا پالان تیار کرنے والے شخص نے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن ام عبد سے کہو کہ وہ پالان تیار کیا کرے ، تو پالان تیار کرنے کی ذمہ داری مجھے واپس مل گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

15567

Majma al-Zawaid #15567

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً خَفِيفَةً، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا عُمَرُ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَامَ فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُونَ أَبِي بَكْرٍ. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ: "" يَا فُلَانُ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَشَفَقَ الْقَوْلَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْكُتْ أَوِ اجْلِسْ ; فَإِنَّ التَّشْقِيقَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ الْبَيَانَ مِنَ السِّحْرِ "". وَقَالَ: "" يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، قُمْ فَاخْطُبْ "". فَقَامَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - رَبُّنَا، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ دِينُنَا، وَإِنَّ الْقُرْآنَ إِمَامُنَا، وَإِنَّ الْبَيْتَ قِبْلَتُنَا، وَإِنَّ هَذَا نَبِيُّنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِينَا مَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ، وَكَرِهْنَا مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَصَدَقَ، وَرَضِيتُ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» وَكَرِهْتُ مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ delivered a light sermon, then bade Abū Bakr rise and address, who fell short of the Messenger of Allah ﷺ; then ʿUmar, who fell short of both; then a certain man, who spoke with affectation, so the Prophet ﷺ bade him be silent — or sit — for affectation is from Satan and eloquence is magic. Then he bade Ibn Umm ʿAbd rise; he praised Allah, declared their Lord, religion, scripture, qiblah and Prophet, pointing to the Prophet ﷺ, and professed pleasure with what Allah and His Messenger pleased and hatred of what they hated, whereupon the Prophet ﷺ affirmed him twice and declared his own pleasure and hatred in accord for himself, his nation and Ibn Umm ʿAbd: > **"Be silent — or sit — for affectation is from Satan, and eloquence is magic."** > **"O Ibn Umm ʿAbd, rise and address."** > **"Ibn Umm ʿAbd is right, Ibn Umm ʿAbd is right and truthful; I am pleased with what Allah, Most High, is pleased with for me, my nation and Ibn Umm ʿAbd, and I hate what Allah, Most High, hates for me, my nation and Ibn Umm ʿAbd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ، جب آپ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اُٹھو اور تم خطبہ دو ، انہوں نے خطبہ دیا ، جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ سے مختصر تھا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم اٹھو اور تم خطبہ دو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں سے مختصر خطبہ دیا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ! اس شخص نے بنا سنوار کر باتیں شروع کیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ ! راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اس طرح بنا سنوار کر بات کرنا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن عبد ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ کہا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے ، بے شک اسلام ہمارا دین ہے ، بے شک قرآن ہمارا پیشوا ہے ، بے شک کعبہ ہمارا قبلہ ہے ، بے شک ’’ یہ ‘‘ ہمارے نبی ہیں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔ تو ہم اُس سے راضی ہیں ، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہمارے لیے راضی ہیں ، اور اُس چیز کو ہم ناپسند کرتے ہیں ، جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمارے لئے ناپسندیدہ قرار دیا ہو ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابن ام عبد نے ٹھیک کہا ہے ، ابن ام عبد نے ٹھیک کہا ہے ، اور اس نے سچ کہا ہے ، میں اس چیز سے راضی ہوں ، جس سے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری اُمت اور ابن ام عبد کے لئے راضی ہو اور میں اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری امت کے لئے ، اور ابن ام عبد کے لیے ناپسند کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبیداللہ بن عثمان بن خثیم نامی راوی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔