Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 31

Book of Virtues and Merits

Hadith 15488–15527

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15488

Majma al-Zawaid #15488

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَقَالَ: "" مَا أَدْرِي أَنَا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ أَسَرُّ أَمْ بِفَتْحِ خَيْبَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِي رِجَالِ الْكَبِيرِ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah (رضي الله عنه) reports that Jaʿfar ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه) came to the Messenger of Allah ﷺ from Abyssinia, and the Prophet ﷺ kissed him between the eyes and spoke of his joy: > **"I do not know whether I rejoice more at the arrival of Jaʿfar or at the conquest of Khaybar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ مجھے جعفر کی آمد سے زیادہ خوشی ہو رہی ہے ، یا خیبر فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہے ؟“ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی انس بن سالم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15489

Majma al-Zawaid #15489

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتْحَ خَيْبَرَ، قِيلَ لَهُ: قَدْ قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ، أَوْ فَتْحِ خَيْبَرَ "". فَأَتَاهُ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ ""أَنَّهُ قَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ"" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reports that when news of the conquest of Khaybar reached the Messenger of Allah ﷺ, he was told Jaʿfar had arrived from the Negus. The Prophet ﷺ expressed which joy was greater, and when Jaʿfar came to him he kissed him between the eyes: > **"I do not know at which of the two I rejoice more, the arrival of Jaʿfar or the conquest of Khaybar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو خیبر فتح ہونے کی اطلاع ملی ، تو آپ کو بتایا گیا : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس سے تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ ان دونوں میں سے کس چیز کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے ؟ جعفر کے آنے کی ، یا خیبر فتح ہونے کی ؟‘‘ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15490

Majma al-Zawaid #15490

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَةِ عَانَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir (رضي الله عنه) reports that when Jaʿfar (رضي الله عنه) arrived from Abyssinia, the Prophet ﷺ embraced him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے تشریف لائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ معانقہ کیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15491

Majma al-Zawaid #15491

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ تَلَقَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَظَرَ جَعْفَرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَجَلَ إِعْظَامًا مِنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَقَالَ: "" يَا حَبِيبِي أَشْبَهَ النَّاسِ بِخَلْقِي وَخُلُقِي، وَخُلِقْتَ مِنَ الطِّينَةِ الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا»، قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَكِّيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّعَيْنِيُّ، وَهَذَا مِنْ مَنَاكِيرِهِ.

EnglishUnverified translation

Jābir (رضي الله عنه) reports that the Messenger of Allah ﷺ went out to meet Jaʿfar ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه) on his arrival from Abyssinia. Jaʿfar hastened forward out of reverence, and the Prophet ﷺ kissed him between the eyes and addressed him as his beloved, describing his likeness to him and their common clay: > **"O my beloved, you are the people most resembling me in form and character, and you were created from the same clay from which I was created."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے تشریف لائے ، تو ان کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کے احترام کے پیش نظر تیزی سے آگے بڑھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا : ’’ اے میرے محبوب فرد ! تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے ، میرے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو ، تمہیں اُسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ، جس سے مجھے پیدا کیا گیا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب ’’ الخلافہ ‘‘ میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے اور یہ روایت اُس کی نقل کردہ ’’ منکر ‘‘ روایات میں سے ایک ہے ۔

15492

Majma al-Zawaid #15492

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَعْفَرٍ: "" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Aslam, freedman of the Prophet ﷺ, reports that the Messenger of Allah ﷺ said to Jaʿfar (رضي الله عنه): > **"You resemble my form and my character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن اسلم رضی اللہ عنہ ۔ یہ حضرت اسلم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرمایا : ’’ ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے حوالے سے تم میرے ساتھ مشابہت رکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15493

Majma al-Zawaid #15493

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَعْفَرٍ: "" خَلْقُكَ كَخَلْقِي، وَأَشْبَهَ خَلْقَكَ خَلْقِي، فَأَنْتَ مِنِّي، وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ فَمِنِّي وَأَبُو وَلَدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَقَّالٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd (رضي الله عنهما) reports that the Prophet ﷺ spoke to Jaʿfar (رضي الله عنه) and to ʿAlī (رضي الله عنه) concerning their likeness to him and their closeness: > **"Your form is as my form, and your character most resembles my character, so you are from me; and you, O ʿAlī, are from me and the father of my children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تمہاری ظاہری شکل و صورت ، میری شکل و صورت کی مانند ہے ، اور تمہارے اخلاق ، میرے اخلاق کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، تم مجھ سے ہو اور اے علی ! تم بھی مجھ سے ہو ، اور تم میرے بچوں کے باپ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد احمد بن عبدالرحمن بن عقال کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15494

Majma al-Zawaid #15494

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَرَّ مَعَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِيكَائِيلَ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ - فَسَلَّمَ ثُمَّ أَخْبَرَنِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُ حَيْثُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ جَعْفَرٌ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ described Jaʿfar ibn Abī Ṭālib passing with Jibrīl and Mīkāʾīl, granted two wings in place of his hands, greeting him and recounting his encounter with the polytheists, for which he was named al-Ṭayyār in Paradise: > **"Jaʿfar ibn Abī Ṭālib passed by with Jibrīl and Mīkāʾīl, peace be upon them, and he has two wings with which Allah compensated him for his hands; so he greeted me, then informed me of how it was with him when he met the polytheists, and for that Jaʿfar was named al-Ṭayyār in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ہمراہ گزرا ہے ، اُس کے دو پر ہیں ، یہ ’’ پر ‘‘ اللہ تعالیٰ نے اُسے اس کے دونوں بازؤں کے بدلے میں عطا کیے ہیں ، اس نے سلام کیا ، اور پھر اس نے مجھے بتایا : کہ جب وہ مشرکین کے مدمقابل آیا تھا ، تو اس کو کیا معامله درپیش ہوا تھا ؟ اسی وجہ سے جنت میں اس کا نام ’’ جعفر طیار ‘‘ رکھا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15495

Majma al-Zawaid #15495

وَبِسَنَدِهِ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَرِيبَةٌ مِنْهُ إِذْ رَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَسْمَاءُ هَذَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا - مَرُّوا فَسَلَّمُوا عَلَيْنَا، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمُ السَّلَامَ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَأُصِبْتُ فِي جَسَدِي مِنْ مَقَادِيمِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ، ثُمَّ أَخَذْتُ اللِّوَاءَ بِيَدِيَ الْيُمْنَى فَقُطِعَتْ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِي الْيُسْرَى فَقُطِعَتْ، فَعَوَّضَنِي اللَّهُ مِنْ يَدَيَّ جَنَاحَيْنِ أَطِيرُ بِهِمَا مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ فِي الْجَنَّةِ، أَنْزِلُ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُ، وَآكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا مَا شِئْتُ ". فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: هَنِيئًا لِجَعْفَرٍ مَا رَزَقَهُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُصَدِّقَنِي النَّاسُ، فَاصْعَدِ الْمِنْبَرَ فَأَخْبِرِ النَّاسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ، يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ". فَأَخْبَرَ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُمْ حِينَ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ، فَاسْتَبَانَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ جَعْفَرًا لَقِيَهُمْ، فَسُمِّيَ جَعْفَرَ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ».

EnglishUnverified translation

By the same chain, it is reported that the Messenger of Allah ﷺ sat with Asmāʾ bint ʿUmays (رضي الله عنها) nearby when he returned a greeting and told her Jaʿfar ibn Abī Ṭālib had passed with Jibrīl and Mīkāʾīl and greeted them. Jaʿfar recounted meeting the polytheists, receiving seventy-three wounds on the front of his body, losing first his right hand then his left while holding the banner, and being granted two wings in their place. Asmāʾ asked the Prophet ﷺ to ascend the minbar and tell the people, which he did, praising Allah and announcing Jaʿfar's station: > **"O Asmāʾ, this is Jaʿfar ibn Abī Ṭālib with Jibrīl and Mīkāʾīl, peace be upon them; they passed and greeted us, and I returned their greeting."** > **"O people, Jaʿfar ibn Abī Ṭālib is with Jibrīl and Mīkāʾīl, and he has two wings with which Allah compensated him for his hands, with which he flies in Paradise wherever he wishes, and he greeted me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ انھوں نے یہ بات نقل کی ہے : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور پھر یہ بتایا : اے اسماء ! یہ جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ موجود ہے ، انہوں نے گزرتے ہوئے ہمیں سلام کیا ، تو میں نے انہیں سلام کا جواب دیا ، اس نے مجھے بتایا : فلاں فلاں دن اُس کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا ( اس نے بتایا ) مجھے جسم پر آگے کے حصے پر تہتر زخم اور ضربیں لگی ہیں ، میں نے جھنڈا دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا ، وہ ہاتھ کٹ گیا تو میں نے اسے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا ، وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے میرے دونوں بازوؤں کی جگہ مجھے دو پر عطا کیے ہیں ، اور ان دونوں پروں کے ذریعے میں جنت میں حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل کے ہمراہ اڑ کر جا سکتا ہوں ، میں جہاں چاہوں وہاں پڑاؤ کر سکتا ہوں اور اس کے پھلوں میں سے جو چاہوں کھا سکتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھلائی عطا کی ہے ، اُس کے حوالے سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے لیے مبارکباد ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ میری اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے ، اس لئے یا رسول اللہ ! آپ منبر پر چڑھ کر لوگوں کو بتائیں ، نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ ہے ، اس کے دو پر ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے دونوں بازوؤں کے عوض میں اُسے عطا کئے ہیں ، اور وہ اُن دونوں پروں کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے وہاں جا سکتا ہے ، اُس نے مجھے سلام کیا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بتایا : جب اُن کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا تو اُن لوگوں کا کیا معاملہ تھا ؟ اس کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے دشمن کا سامنا کیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ’’ اس کو جنت میں ’’ جعفر طیار ‘‘ کا نام دیا گیا ۔‘‘

15496

Majma al-Zawaid #15496

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَلَكًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ ذَا جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا حَيْثُ شَاءَ مَقْصُوصَةً قَوَادِمُهُ بِالدِّمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ said he saw Jaʿfar ibn Abī Ṭālib in the form of an angel, flying where he wished with wings stained with blood: > **"I saw Jaʿfar ibn Abī Ṭālib as an angel flying in Paradise with two wings, flying with them wherever he wished, his forelocks stained with blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جعفر بن ابوطالب کو فرشتے کی طرح کی حالت میں دیکھا ، وہ جنت میں اُڑ رہا تھا ، اس کے دو ’’ پر ‘‘ تھے ، جن کے ذریعے وہ جہاں چاہتا تھا ، اُڑ کر چلا جاتا تھا ، اس کے پاؤں خون میں رنگے ہوئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔

15497

Majma al-Zawaid #15497

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَوَضَعَ عَبْدَ اللَّهِ، وَمُحَمَّدًا ابْنَيْ جَعْفَرٍ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ اسْتَشْهَدَ جَعْفَرًا، وَأَنَّ لَهُ جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that when news of Jaʿfar's death arrived, the Prophet ﷺ visited Asmāʾ bint ʿUmays (رضي الله عنها), seated Jaʿfar's sons ʿAbd Allāh and Muḥammad upon his thigh, conveyed what Jibrīl had told him of Jaʿfar's martyrdom and wings, and supplicated for his offspring: > **"Jibrīl has informed me that Allah has granted Jaʿfar martyrdom, and that he has two wings with which he flies with the angels in Paradise."** > **"O Allah, take Jaʿfar's place in caring for his children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے انتقال کی اطلاع آئی ، تو نبی اکرم ﷺ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادوں عبداللہ اور محمد کو اپنے زانو پر بٹھایا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ ابھی جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جعفر کو شہادت سے سرفراز کیا ہے ، اور اس کے دو پر ہیں ، جن کے ہمراہ وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اُڑ کر جاتا ہے ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! جعفر کی اولاد کی دیکھ بھال کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15498

Majma al-Zawaid #15498

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «هَنِيئًا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، أَبُوكَ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Glad tidings to you, O ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar, your father flies with the angels in the heaven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عبداللہ بن جعفر ! تمہیں مبارک ہو ، تمہارا باپ آسمان میں فرشتوں کے ساتھ اُڑتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15499

Majma al-Zawaid #15499

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: «أُرِيَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ، فَرَأَى جَعْفَرًا مَلَكًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ، وَزَيْدٌ مُقَابِلُهُ عَلَى السَّرِيرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي فَضْلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَفِيهِ فَضْلُ جَعْفَرٍ وَعَلِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Sālim ibn Abī al-Jaʿd reports that the Prophet ﷺ was shown them in sleep: Jaʿfar as an angel with two wings stained with blood, and Zayd opposite him upon a couch.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو خواب میں وہ لوگ دکھائے گئے ، تو آپ ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک فرشتے کی طرح ہیں ، اُن کے دو پر ہیں ، جو خون میں ڈوبے ہوئے ہیں ، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ ان کے مدمقابل پلنگ پر موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت زید بن حارثہ کی سند کے فضائل سے متعلق باب میں ایسی حدیث آئیں گی ، جس میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ ہو گا ۔

15500

Majma al-Zawaid #15500

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ جَعْفَرًا قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ بِالْبَلْقَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reports that Jaʿfar (رضي الله عنه) was killed on the day of Muʾtah at al-Balqāʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ’’ جنگ موتہ ‘‘ میں ’’ بلقاء ‘‘ کے مقام پر ، شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15501

Majma al-Zawaid #15501

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَلِيٌّ أَصْلِي، وَجَعْفَرٌ فَرْعِي - أَوْ جَعْفَرٌ أَصْلِي وَعَلِيٌّ فَرْعِي -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ said, with doubt from the narrator as to the order: > **"ʿAlī is my root and Jaʿfar is my branch — or: Jaʿfar is my root and ʿAlī is my branch."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ علی میری اصل ہے اور جعفر میری فرع ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - جعفر میری اصل ہے ، اور علی میری فرع ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15502

Majma al-Zawaid #15502

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "" يَا أَبَا يَزِيدَ، إِنِّي أُحِبُّكَ حُبَّيْنِ: حُبًّا لِقَرَابَتِكَ، وَحُبًّا لِمَا كُنْتُ أَعْلَمُ مِنْ حُبِّ عَمِّي إِيَّاكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Isḥāq reports in mursal form that the Messenger of Allah ﷺ said to ʿAqīl ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه), addressing him by his kunyah and naming kinship and his uncle's love as the two reasons: > **"O Abū Yazīd, I love you with two loves: a love for your kinship, and a love for what I knew of my uncle's love for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابویزید ! میں تمہارے ساتھ دو وجہ سے محبت کرتا ہوں ، ایک محبت تم سے رشتہ داری کی وجہ سے ہے ، اور ایک محبت اس وجہ سے ہے ، کیونکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ میرے چچا تم سے محبت کرتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15503

Majma al-Zawaid #15503

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَقَدْ حَضَرَ فَتْحَ خَيْبَرَ، وَقَسَمَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَيْبَرَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī states that ʿAqīl (رضي الله عنه) was present at the conquest of Khaybar, and the Prophet ﷺ allotted him a share from it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ خیبر کی فتح میں شریک ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے مال غنیمت میں سے ان کے لیے حصہ مقرر کیا تھا ۔

15504

Majma al-Zawaid #15504

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْمُغِيرَةُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّرِيقِ، وَكَانَ مِمَّنْ ثَبَتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، تُوُفِّيَ سَنَةَ عِشْرِينَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī states that al-Mughīrah Abū Sufyān ibn al-Ḥārith ibn ʿAbd al-Muṭṭalib ibn Hāshim (رضي الله عنه) accepted Islam on the day of the Conquest, met the Messenger of Allah ﷺ on the road, stood firm with him on the day of Ḥunayn, and died in the year twenty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت مغیرہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا ، ان کی ملاقات راستے میں ، نبی اکرم ﷺ سے ہوئی تھی ، یہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے ، ان کا انتقال 20 ہجری میں ہوا ۔

15505

Majma al-Zawaid #15505

وَعَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ لَا يَنْظُرُ فِي نَاحِيَةٍ إِلَّا رَأَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ يُقَاتِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ خَيْرُ أَهْلِي - أَوْ مِنْ خَيْرِ أَهْلِي -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥabbah al-Badrī (رضي الله عنه) reports that on the day of Ḥunayn, wherever the Messenger of Allah ﷺ looked he saw Abū Sufyān ibn al-Ḥārith (رضي الله عنه) fighting, and the Prophet ﷺ praised him, with doubt whether he said the best or among the best: > **"Abū Sufyān is the best of my household — or: among the best of my household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحبہ بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جس بھی سمت میں دیکھا ، تو آپ نے یہی ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ جنگ کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ابوسفیان ، میرے اہل خانہ میں سب سے بہتر ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بے شک ابوسفیان میرے اہل خانہ کے بہتر افراد میں سے ایک ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15506

Majma al-Zawaid #15506

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ شُرَاحِيلَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ عَامِرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ عَوْفِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُذْرَةَ بْنِ زَيْدِ اللَّهِ بْنِ رُفَيْدَةَ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ وَبَرَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ قُضَاعَةَ. وَيُقَالُ: إِنَّ أُمَّ زَيْدٍ: سُعَادُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ طَيِّئٍ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq records the full lineage of Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه) back through Quḍāʿah, and notes it is said his mother was Suʿād bint Zayd ibn Ṭayyiʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ بن شراحیل بن کعب بن عبدالعزیٰ بن امراء القیس بن عامر بن نعمان بن عبدود بن عوف بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذره بن زید بن رفیدہ بن کلیب بن وبرہ بن حارث بنقضاعہ ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق حضرت زید رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ، سعاد بنت زید بن طی ہے ۔

15507

Majma al-Zawaid #15507

قَالَ ابْنُ هِشَامٍ: «وَكَانَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصِيفًا، فَاسْتَوْهَبَتْهُ مِنْهُ عَمَّتُهُ: خَدِيجَةُ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَهَبَهُ لَهَا فَوَهَبَتْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ وَتَبَنَّاهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَقَدِمَ أَبُوهُ وَهُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ مَعِي، وَإِنْ شِئْتَ فَانْطَلِقْ مَعَ أَبِيكَ؟ "". قَالَ: لَا. بَلْ أُقِيمُ عِنْدَكِ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَعَثَهُ اللَّهُ فَصَدَّقَهُ، وَأَسْلَمَ وَصَلَّى مَعَهُ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: 5]. قَالَ: أَنَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Hishām reports that Ḥakīm ibn Ḥizām brought Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه) from Syria as a servant; his aunt Khadījah (رضي الله عنها), then wife of the Messenger of Allah ﷺ, asked for him and then gifted him to the Prophet ﷺ, who freed him and adopted him before revelation. When his father came, the Prophet ﷺ gave him the choice to stay or go, and he chose to stay, remaining until the mission came, believing and praying with him; after the verse calling them by their fathers was revealed, he declared his true lineage: > **"If you wish, remain with me, and if you wish, depart with your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ہشام بیان کرتے ہیں : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام سے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مزدور کے طور پر ساتھ لائے تھے ، حضرت حکیم رضی اللہ عنہ کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے وہ مزدور مانگ لیا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اُس وقت نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں ، حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے وہ غلام سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وہ غلام نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اُسے آزاد کر کے اُسے منہ بولا بیٹا بنا لیا ، یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ ان دنوں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے ، نبی ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میرے ساتھ ٹھہرے رہو ، اور اگر تم چاہو تو اپنے والد کے ساتھ چلے جاؤ ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میں آپ کے ساتھ رہوں گا ۔ تو وہ مسلسل ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے بلاؤ .......‘‘۔ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : میں زید بن حارثہ ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15508

Majma al-Zawaid #15508

وَبِسَنَدِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: أَسْلَمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بَعْدَ عَلِيٍّ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ بَعْدَهُ.

EnglishUnverified translation

By the same chain, Ibn Isḥāq states that Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه) accepted Islam after ʿAlī (رضي الله عنه), the first to do so after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے اس سند کے ساتھ ابن اسحاق کا یہ قول نقل کیا ہے : حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے یہ پہلے فرد ہیں ۔

15509

Majma al-Zawaid #15509

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb states that the first to accept Islam was Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15510

Majma al-Zawaid #15510

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ، وَعَلِيٌّ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَسْأَلَهُ. قَالَ أُسَامَةُ: فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ، فَقَالَ: "" اخْرُجْ فَانْظُرْ مِنْ هَؤُلَاءِ؟ "". فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدٌ، مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ: "" ائْذَنْ لَهُمْ "". فَدَخَلُوا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: "" فَاطِمَةُ "". قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ: "" أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي، وَأَشْبَهُ خُلُقُكَ خُلُقِي، وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي. وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي، وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي. وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي، وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd (رضي الله عنهما) reports that Jaʿfar, ʿAlī and Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنهم) each claimed to be most beloved to the Messenger of Allah ﷺ and went to ask him. Usāmah announced them without naming his father, they were admitted, and when they asked about men after he answered Fāṭimah, he gave each his station: > **"Fāṭimah."** > **"As for you, O Jaʿfar, your form resembles my form and your character resembles my character, and you are from me and my tree. As for you, O ʿAlī, you are my son-in-law and the father of my children, and I am from you and you are from me. As for you, O Zayd, you are my freedman and from me, and the most beloved of the people to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : میں تم سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک محبوب ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک محبوب ہوں ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کا محبوب ہوں ، پھر انہوں نے کہا : تم ہمارے ساتھ اللہ کے رسول کی طرف چلو ! تاکہ ہم نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں ۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ حضرات تشریف لائے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جا کر دیکھو ! کہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ ہیں ، میں نے یہ نہیں کہا : میرے والد ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہیں اجازت دیدو ! یہ حضرات اندر آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فاطمہ ، اُنہوں نے عرض کی : ہم آپ سے مردوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے جعفر ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے اخلاق میرے اخلاق سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، تم مجھ سے ہو اور میرا شجرہ ہو ، اور اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم میرے داماد ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15511

Majma al-Zawaid #15511

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا أُصِيبَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ جِيءَ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَأُوقِفُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخِّرَ، ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ فَوَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "" أُلَاقِي مِنْكَ الْيَوْمَ مَا لَقِيتُ مِنْكَ أَمْسِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah (رضي الله عنها) reports that after Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه) was struck down, Usāmah ibn Zayd was brought and stood before the Messenger of Allah ﷺ, whose eyes filled with tears, so he was taken back; returning the next day, the Prophet ﷺ spoke of the grief renewed at his sight: > **"Shall I meet from you today what I met from you yesterday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو لایا گیا اور انہیں نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا کیا گیا ، نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، تو انہیں پیچھے کر دیا گیا ، پھر وہ اگلے دن آئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری وجہ سے کل جو میری کیفیت ہوئی تھی آج بھی وہی کیفیت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15512

Majma al-Zawaid #15512

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آخَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Ḥārithah (رضي الله عنه) said to the Messenger of Allah ﷺ: > **"O Messenger of Allah, you established brotherhood between me and Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بھائی بنا دیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن صالح ازدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15513

Majma al-Zawaid #15513

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشِّعْبِ أَتَى أَبِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى أُمَّ الْفَضْلِ إِلَّا قَدِ اعْتَمَلَتْ عَلَى جَمَلٍ قَالَ: "" لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَقَرَّ أَعْيُنَنَا بِغُلَامٍ "". فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا فِي خِرْقِي، فَحَنَّكَنِي. قَالَ مُجَاهِدٌ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حُنِّكَ بِرِيقِ النُّبُوَّةِ غَيْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ، وَرَوَاهُ مُخْتَصَرًا بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that while the Prophet ﷺ was in the mountain pass, his father came and said, O Muḥammad, I see Umm al-Faḍl is with child. The Prophet ﷺ expressed hope for a boy who would cool their eyes, and when the child was born he was brought wrapped in cloths and given taḥnīk. Mujāhid added that none else is known to have been given taḥnīk with prophetic saliva: > **"Perhaps Allah will cool our eyes with a boy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ شعب ( یعنی شعب ابی طالب ) میں تھے ، اُس وقت میرے والد ، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے محمد ( ﷺ ) میرا یہ خیال ہے کہ ام فضل حاملہ ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ شاید اللہ تعالیٰ لڑکے کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں پیدا ہوا تو مجھے کپڑے میں لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ، اور نبی اکرم ﷺ نے مجھے گھٹی دی ۔ مجاہد کہتے ہیں : اُن کے علاوہ ہمیں کسی ایسے فرد کے بارے میں علم نہیں ہے جسے نبوت کے لعاب کے ذریعے گھٹی دی گئی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے متصل طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی نے اسے منقطع سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ۔

15514

Majma al-Zawaid #15514

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ قَالَتْ: «بَيْنَا أَنَا مَارَّةٌ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: "" يَا أُمَّ الْفَضْلِ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ "". قُلْتُ: كَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ لَا يُوَلِّدُونَ النِّسَاءَ؟ قَالَ: "" هُوَ مَا أَقُولُ لَكِ، فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ "". فَلَمَّا وَضَعْتُهُ، أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَأَلَّبَاهُ بِرِيقِهِ. قَالَ: "" اذْهَبِي بِهِ، فَلْتَجِدِنَّهُ كَيِّسًا "". قَالَ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرْتُهُ فَتَبَسَّمَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ، فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَأَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا عَمِّي، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ "". فَقَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضَ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَلِمَ لَا أَقُولُ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي؟! وَالْعَمُّ وَالِدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports from his mother Umm al-Faḍl bint al-Ḥārith (رضي الله عنها) that as she passed while the Prophet ﷺ was in the Ḥijr, he called her, told her she carried a boy despite Quraysh's pact against births, and bade her bring him when born. She did so; he named him ʿAbd Allāh, gave him taḥnīk with his saliva, and declared he would prove sagacious. She told al-ʿAbbās, who smiled and visited the Prophet ﷺ, whereupon the Prophet ﷺ rose to him, kissed him between the eyes, seated him at his right, and praised the uncle's station: > **"O Umm al-Faḍl, you are carrying a boy."** > **"It is as I tell you; when you deliver him, bring him to me."** > **"Take him; you will find him sagacious."** > **"This is my uncle; let whoever wishes boast of his uncle."** > **"Why should I not say so, when you are my uncle and the remainder of my forefathers? The uncle is a father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ’’ ایک مرتبہ میں گزر رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ اُس وقت حطیم میں موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ کو ایک لڑکے کا حمل ہے ، میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قریش نے آپس میں یہ طے کیا ہے کہ خواتین کے ہاں بچے نہیں ہوں گے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ویسا ہی ہے ، جیسے میں تمہیں کہہ رہا ہوں ، جب تم اسے جنم دو ، تو اسے میرے پاس لے کر آنا ، جب سیده ام فضل رضی اللہ عنہا نے حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو وہ انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے اُن کا نام عبداللہ تجویز کیا اور انہیں اپنے لعاب دہن کے ذریعے گھٹی دی اور فرمایا : اسے لے جاؤ ! تم اسے بہت سمجھدار پاؤ گی ۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو وہ مسکرا دیے ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، وہ ایک خوبصورت طویل القامت شخص تھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، تو آپ اُن کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے اُن کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور انہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا اور پھر یہ فرمایا : ’’ یہ میرے چچا ہیں ، جو چاہے وہ اپنے چچا کو لا کر مقابلہ کر لے ‘‘ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ذرا زیادہ نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں یہ کیوں نہ کہوں ؟ جبکہ آپ میرے چچا ہیں ، میرے آباؤ اجداد کا بقیہ ہیں ، اور چچا ، والد کی جگہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15515

Majma al-Zawaid #15515

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مِنْكَبِي - شَكَّ سَعِيدٌ - ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ، وَالطَّبَرَانِيِّ: "" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ "". وَلِأَحْمَدَ طَرِيقَانِ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ placed his hand upon his shoulder — Saʿīd, the narrator, doubted whether he said shoulder or upper arm — and supplicated for him: > **"O Allah, grant him understanding in religion and teach him interpretation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا ۔ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - میرے کندھے پر رکھا ۔ ( یہ شک سعید نامی راوی کو ہے ، یعنی اس میں کندھے کے لئے استعمال ہونے والا لفظ مختلف ہے ) ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے !‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے :’’ اے اللہ ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے !‘‘۔ امام احمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15516

Majma al-Zawaid #15516

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" نِعْمَ تُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ أَنْتَ "". وَدَعَا لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ prayed for him and praised him as an interpreter of the Qurʾān, adding that Jibrīl, peace be upon him, had prayed for him twice: > **"What an excellent interpreter of the Qurʾān you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھے دعا دی اور ارشاد فرمایا : تم قرآن کے اچھے ترجمان ہو ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بھی مجھے دو مرتبہ دعا دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15517

Majma al-Zawaid #15517

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَوَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بَرْدَهَا فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ احْشُ جَوْفَهُ عِلْمًا وَحِلْمًا "". فَلَمْ يَسْتَوْحِشْ فِي نَفْسِهِ إِلَى مَسْأَلَةِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَمْ يَزَلْ حَبْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that the Messenger of Allah ﷺ placed his hand upon his head and prayed for wisdom and interpretation, then placed his hand upon his chest so that ʿAbd Allāh felt its coolness, and prayed that his breast be filled with knowledge and forbearance. Thereafter he never felt shy in asking anyone, and remained the scholar of this nation until Allah took him: > **"O Allah, grant him wisdom and teach him interpretation."** > **"O Allah, fill his breast with knowledge and forbearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! تو اسے حکمت عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا ، تو نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے میں محسوس کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اس کے پیٹ کو ( یعنی سینے کو ) علم اور بردباری سے بھر دے ! راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کسی بھی شخص سے ، کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے الجھن محسوس نہیں ہوئی ، اور وہ مسلسل اس اُمت کے بڑے عالم رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دیدی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15518

Majma al-Zawaid #15518

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ، أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكِ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ. قَالَ: فَرُحْنَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ، فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ ذَلِكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that he was with his father in the presence of the Messenger of Allah ﷺ when a man stood privately conversing with him, seeming to turn away from his father. When they left, his father remarked on his cousin's apparent avoidance; Ibn ʿAbbās explained a man had been in private counsel. They returned and asked, and the Prophet ﷺ asked ʿAbd Allāh if he had seen him, then told him the visitor's identity and cause of preoccupation: > **"Did you see him, O ʿAbd Allāh?"** > **"That was Jibrīl, peace be upon him; he is the one who kept me from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اور شخص موجود تھا ، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے والد کی طرف توجہ نہیں دی ، جب ہم آپ کے پاس سے نکلے ، تو میرے والد نے کہا : اے میرے بیٹے ! کیا تم نے اپنے چچازاد کو دیکھا نہیں ؟ وہ گویا مجھ سے اعراض کر رہے تھے ، میں نے کہا : ابا جان ! ان کے پاس ایک شخص موجود تھا ، جس کے ساتھ وہ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پھر بعد میں جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے تو میرے والد نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے عبداللہ سے یہ یہ بات کہی تھی ، تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس ایک فرد موجود تھا ، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا ، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی موجود تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! کیا تم نے اُس کو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اور اسی کی وجہ سے میں آپ لوگوں کی طرف توجہ نہیں دے سکا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15519

Majma al-Zawaid #15519

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، وَهُوَ يُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ، وَهُوَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنَا لَا أَعْلَمُ، فَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: "" هَذَا ابْنُ عَمِّي، هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ "". قَالَ: مَا أَشَدَّ وَضْحَ ثِيَابِهِ، أَمَا إِنَّ ذُرِّيَّتُهُ سَتُسَوِّدُ بَعْدَهُ، لَوْ سَلَّمَ عَلَيْنَا رَدَدْنَا عَلَيْهِ. فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ؟ "". قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ تَنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَنْقَطِعَ عَلَيْكُمَا مُنَاجَاتُكُمَا. قَالَ: "" وَقَدْ رَأَيْتَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَمَا إِنَّهُ سَيَذْهَبُ بَصَرُكَ، وَيُرَدُّ عَلَيْكَ فِي مَوْتِكَ "". قَالَ عِكْرِمَةُ: فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانَهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: مَا تَصْنَعُونَ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي قَالَ لَهُ، فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ، تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ سَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ: {يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ - ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً - فَادْخُلِي فِي عِبَادِي - وَادْخُلِي جَنَّتِي} [الفجر: 27 - 30]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that he passed the Messenger of Allah ﷺ in white garments while he conversed privately with Diḥyah ibn Khalīfah al-Kalbī — who was in truth Jibrīl, peace be upon him — unknown to him, so he did not greet. Jibrīl asked who he was, the Prophet ﷺ identified his cousin Ibn ʿAbbās, and Jibrīl remarked on the whiteness of his garments, that his offspring would wear black after him, and that had he greeted they would have answered. When Ibn ʿAbbās returned, the Prophet ﷺ asked why he had not greeted; he excused himself for not wishing to interrupt, confirmed he had seen the man, and received tidings that his sight would depart and be restored at his death. ʿIkrimah added that at his funeral a radiant bird entered his shroud, which he forbade them to disturb as the Prophet's glad tidings, and that those at the grave edge heard the verses of the reassured soul: > **"This is my cousin; this is Ibn ʿAbbās."** > **"O Ibn ʿAbbās, what kept you from greeting?"** > **"Did you indeed see? Your sight shall depart, and it shall be returned to you at your death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، میرے جسم پر سفید لباس تھا ، اُس وقت نبی اکرم ﷺ حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، وہ دراصل حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا ، میں نے سلام نہیں کیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! یہ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے بتایا : یہ میرا چچا زاد ہے ، یہ ابن عباس ہے ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اس نے کتنے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، لیکن اس کے بعد اس کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی ، اگر یہ ہمیں سلام کرتا ، تو ہم نے اسے جواب دینا تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن عباس ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے دیکھا کہ آپ حضرت دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے ہیں ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی بات چیت میں دخل دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اُسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری بینائی رخصت ہو جائے گی اور پھر تمہارے مرنے پر ، وہ تمہیں لوٹائی جائے گی ۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا اور ان کی میت تختے پر رکھی ہوئی تھی ، تو ایک انتہائی سفید رنگ کا پرندہ آیا اور ان کے کفن میں داخل ہو گیا ۔ لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا کفن کھول دیں ، تو عکرمہ نے کہا : تم لوگ کیا کرنے لگے ہو ؟ یہ نبی اکرم ﷺ کی بیان کردہ خوشخبری ہے ، جو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمائی تھی ، جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی میت کو لحد میں رکھا گیا ، تو اسی دوران قبر کے کنارے پر موجود افراد نے کسی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ’’ اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15520

Majma al-Zawaid #15520

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ الْعَبَّاسُ بِعَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ رَجُلًا فَرَجَعَ وَلَمْ يُكَلِّمْهُ، فَقَالَ: "" رَأَيْتَهُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" ذَاكَ جِبْرِيلُ، أَمَا إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَذْهَبَ بَصَرُهُ، وَيُؤْتَى عِلْمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that al-ʿAbbās sent him to the Messenger of Allah ﷺ with a need; finding a man with him, he withdrew without speaking. The Prophet ﷺ later asked if he had seen him, confirmed the visitor, and foretold his future: > **"Did you see him? That was Jibrīl; he shall not die until his sight departs and he is granted knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص کو موجود پایا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کوئی بات کئے بغیر واپس چلے گئے ، بعد میں نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور یہ ( یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اس کی بینائی رخصت نہیں ہو جاتی ، اور اسے علم دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15521

Majma al-Zawaid #15521

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ، فَقَالَ: الْعَجَبُ وَاللَّهِ لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَرَكِبْتُ ذَلِكَ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ، وَتَتَبُّعِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجِدُهُ قَائِلًا، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْقِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَكَ؟. قُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَيَقُولُ: هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيكَ، فَأَقُولُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي، فَذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ، فَيَقُولُ: أَنْتَ كُنْتَ أَعْلَمَ مِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that after the Messenger of Allah ﷺ passed away, he invited a man to join him in learning from the Prophet's Companions, who were many; the man marvelled that people would ever need Ibn ʿAbbās while so many Companions lived. Ibn ʿAbbās persisted, pursuing the Companions for every ḥadīth he heard they had heard, even resting his cloak at a door while wind blew dust upon his face until the man emerged asking what the Prophet's cousin wanted, offering to come if summoned, while Ibn ʿAbbās insisted he was worthier to come. When the Companions passed on and people needed him, that same man admitted his greater knowledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو میں نے ایک شخص سے کہا : آؤ ! تاکہ ہم نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے علم حاصل کریں ، اُن سے سوالات کریں کیونکہ اس وقت ان کی تعداد کافی زیادہ ہے ، تو اُس شخص نے کہا : اے ابن عباس ! اللہ کی قسم ! تم پر حیرانگی ہوتی ہے ، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تم سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ؟ جبکہ لوگوں کے درمیان تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول کے اصحاب موجود ہیں ۔ پھر میں سوار ہو کر گیا اور سوالات کرنے لگا ، میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے پیچھے جانے لگا ، بعض اوقات میں کسی حدیث کے سلسلے میں کسی صحابی کے پیچھے جاتا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلتا تھا کہ انہوں نے وہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے سنی ہوئی ہے ، تو میں انہیں پاتا تھا کہ وہ آرام کر رہے ہوتے تھے ، میں اُن کے گھر کے دروازے پر چادر کا تکیہ بنا کر موجود رہتا تھا ، ہوا میرے اوپر گرد و غبار ڈال دیتی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب خود نکل کر باہر آتے اور جب مجھے دیکھتے تو یہ کہتے : اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ کو کیا کام ہے ؟ میں جواب دیتا : ایک حدیث کے بارے میں پتہ کرنا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلا تھا کہ آپ اسے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ حدیث میں خود آپ سے سن لوں ، تو وہ صاحب کہتے : آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھیجا ؟ میں آپ کے پاس خود آ جاتا ، تو میں ان صاحب کو جواب دیتا : میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ میں آپ کے پاس آتا ، پھر جب اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب رخصت ہو گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پیش آئی تو میرے اُس ساتھی نے مجھے ایسی حالت میں دیکھا ، تو وہ یہ بولا : تم مجھ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15522

Majma al-Zawaid #15522

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: جَالَسْتُ سَبْعِينَ أَوْ ثَمَانِينَ شَيْخًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَحَدٌ مِنْهُمْ خَالَفَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيَلْتَقِيَانِ إِلَّا قَالَ: الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ، أَوْ قَالَ: صَدَقْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Maysarah reports from Ṭāwūs that he sat with seventy — or eighty — elders among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, and whenever any of them met Ibn ʿAbbās in disagreement, he would concede the word was as Ibn ʿAbbās said, or say, you spoke the truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن میسرہ نے طاؤس کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں 70 ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں 80 بزرگ صحابہ کرام کے پاس بیٹھا ہوں ، ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے برخلاف رائے نہیں دیتا تھا ، جب وہ دونوں ملتے تھے تو وہ دوسرے صاحب یہی کہتے تھے : قول وہی ہے جو آپ نے کہا ہے ، یا وہ یہ کہتے تھے : آپ نے سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15523

Majma al-Zawaid #15523

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلَةٍ. قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا، كَانَ يَقُومُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ: عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَيَقْرَأُ (سُورَةَ الْبَقَرَةِ) وَسُورَةَ (آلَ عِمْرَانَ) ثُمَّ يُفَسِّرُهُمَا آيَةً آيَةً، وَكَانَ مَثَجَّةً نَجْدًا غَرْبًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Hudhalī reports that he visited al-Ḥasan and remarked on Ibn ʿAbbās's station with the Qurʾān, whereupon al-Ḥasan quoted ʿUmar (رضي الله عنه) describing him as the youth of elders, with a questioning tongue and an understanding heart, who would stand upon their minbar on the eve of ʿArafah reciting Sūrat al-Baqarah and Sūrat Āl ʿImrān and expounding them verse by verse, an overflowing vessel of knowledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بکر ہذلی بیان کرتے ہیں : میں حسن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے کہا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو قرآن کے حوالے سے ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے ، تو انہوں نے بتایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : یہ نوجوان عمر رسیدہ افراد کی مانند ہے ، اس کے پاس ایسی زبان ہے جو سوال کرنے والی ہے ، اور ایسا دل ہے جو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ، یہ عرفہ کی شام ہمارے اس منبر پر کھڑا ہوتا ، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت کرتا اور پھر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتا چلا جاتا ، وہ ( علم کا ) چھلکتا ہوا ، بھرا ہوا ڈول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے ۔

15524

Majma al-Zawaid #15524

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ مِنَ النُّبُوَّةِ فَيُجِيبُونِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ، وَعَنِ الْقَوْسِ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً. قَالَ: فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ: إِنَّ هَذَا شَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أُسْأَلُ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ الْكِتَابَ - كِتَابَ هِرَقْلَ - فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ: فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that Heraclius wrote to Muʿāwiyah (رضي الله عنه) asking, if any trace of prophethood remained among them, for answers concerning the Milky Way, the bow, and the patch of land the sun struck but for a single hour. Muʿāwiyah confessed he had never expected such questions, folded the letter, and sent it to Ibn ʿAbbās, who wrote back identifying each: > **"The bow is security for the people of the earth against drowning; the Milky Way is the gate of heaven from which it splits open; and as for the patch the sun struck for but an hour of the day, it is the sea that was parted for the Children of Isrāʾīl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہرقل نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور یہ کہا : اگر ان لوگوں کے درمیان نبوت میں کوئی باقی ہوا ، تو وہ مجھے اس چیز کے بارے میں جواب دیں گے ، جس کے بارے میں ، میں نے اُن سے سوال کیا ہے ، ہرقل نے انھیں خط لکھ کر اُن سے مجرہ ( شاید کہکشاں مراد ہے ) ، قوس اور زمین کے اس خطے کے بارے میں دریافت کیا ، جسے صرف ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مکتوب اور قاصد ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ مجھ سے اس بارے میں بھی دریافت کیا جائے گا ، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا مکتوب لپیٹا اور وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھجوا دیا ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جوابی خط میں لکھا : ’’ قوس اہل زمین کے لیے ڈوبنے سے امان ہے ، اور مجرہ آسمان کا دروازہ ہے جس کو کھولا جاتا ہے ، جہاں تک زمین کے اس حصے کا تعلق ہے جسے دن کی ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، تو وہ دریا کا وہ حصہ ہے ، جس کو بنی اسرائیل کے لئے کشادہ کیا گیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15525

Majma al-Zawaid #15525

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: خَرَجَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ، وَنَجْدَةُ بْنُ عُوَيْمِرٍ، فِي نَفَرٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ يُنَقِّرُونَ عَنِ الْعِلْمِ وَيَطْلُبُونَهُ، حَتَّى قَدِمُوا مَكَّةَ، فَإِذَا هُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَاعِدًا قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ لَهُ أَحْمَرُ وَقَمِيصٌ، فَإِذَا نَاسٌ قِيَامٌ يَسْأَلُونَهُ عَنِ التَّفْسِيرِ، يَقُولُونَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: هُوَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ لَهُ نَافِعٌ: مَا أَجْرَأَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ عَلَى مَا تُخْبِرُ بِهِ مُنْذُ الْيَوْمِ! فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَعَدِمَتْكَ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَنْ هُوَ أَجْرَأُ مِنِّي؟ قَالَ: مَنْ هُوَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: رَجُلٌ تَكَلَّمَ بِمَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ، أَوْ رَجُلٌ كَتَمَ عِلْمًا عِنْدَهُ. قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي أَتَيْتُكَ لِأَسْأَلَكَ. قَالَ: هَاتِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ فَسَلْ. قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ} [الرحمن: 35]. مَا الشُّوَاظُ؟ قَالَ: اللَّهَبُ الَّذِي لَا دُخَانَ فِيهِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ: أَلَا مَنْ مُبْلِغٍ حَسَّانَ عَنِّي ... مُغَلْغَلَةً تَذُبُّ إِلَى عُكَاظِ أَلَيْسَ أَبُوكَ قَيْنًا كَانَ فِينَا ... إِلَى الْقَيْنَاتِ فَسْلًا فِي الْحِفَاظِ يَمَانِيًّا يَظَلُّ يُشِبُّ كِيرًا ... وَيَنْفُخُ دَائِبًا لَهَبَ الشُّوَاظِ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ} [الرحمن: 35]. قَالَ: الدُّخَانُ الَّذِي لَا لَهَبَ فِيهِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ نَابِغَةَ بَنِي ذُبْيَانَ يَقُولُ: يُضِيءُ كَضَوْءِ سِرَاجِ السَّلِيطِ ... لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ فِيهِ نُحَاسًا. يَعْنِي دُخَانًا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ} [الإنسان: 2]. قَالَ: مَاءُ الرَّجُلِ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ، إِذَا اجْتَمَعَا فِي الرَّحِمِ كَانَ مَشِيجًا. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ يَقُولُ: كَأَنَّ النَّصْلَ وَالْقَوْقِينَ مِنْهُ ... خِلَالَ الرِّيشِ سِيطَ بِهِ مَشِيجُ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ} [القيامة: 29]. مَا السَّاقُ بِالسَّاقِ؟ قَالَ: الْحَرْبُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ: أَخُو الْحَرْبِ إِنْ عَضَّتْ بِهِ الْحَرْبُ عَضَّهَا ... وَإِنْ شَمَّرَتِ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ شَمَّرَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {بَنِينَ وَحَفَدَةً} [النحل: 72]. مَا الْبَنِينُ وَالْحِفْدَةُ؟ قَالَ: أَمَّا بُنُوكَ فَإِنَّهُمْ يَتَعَاطَوْنَكَ، وَأَمَّا حَفَدَتُكَ فَإِنَّهُمْ خَدَمُكَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ: حَفْدُ الْوَلَائِدِ حَوْلَهُنَّ وَأُلْقِيَتْ ... بِأَكُفِّهِنَّ أَزِمَّةُ الْأَحْمَالِ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ} [الشعراء: 153] [مَنِ الْمُسَحَّرُونَ]؟ قَالَ: مِنَ الْمَخْلُوقِينَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ الثَّقَفِيِّ وَهُوَ يَقُولُ: فَإِنْ تَسْأَلِينَا مِمَّ نَحْنُ فَإِنَّنَا ... عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ الْمُسَحَّرِ . قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ} [الذاريات: 40]. مَا الْمُلِيمُ؟ قَالَ: الْمُذْنِبُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ: بِعِيدٌ مِنَ الْآفَاتِ لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ ... وَلَكِنَّ الْمُسِيءَ هُوَ الْمُلِيمُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1]، مَا الْفَلَقُ؟ قَالَ: هُوَ الصُّبْحُ قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيَدِ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَقُولُ: الْفَارِجُ الْهَمِّ مَبْذُولٌ عَسَاكِرُهُ ... مَا يُفَرِّجُ ضَوْءَ الظُّلْمَةِ الْفَلَقُ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ} [الحديد: 23]. مَا الْأَسَاةُ؟ قَالَ: لَا تَحْزَنُوا. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيَدِ بْنِ رَبِيعَةَ: قَلِيلُ الْأَسَى فِيمَا أَتَى الدَّهْرَ دُونَهُ ... كَرِيمُ الثَّنَا حُلْوُ الشَّمَائِلِ مُعْجَبُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ} [الانشقاق: 14]. مَا يَحُورُ؟ قَالَ: يَرْجِعُ. قَالَ: هَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ: وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَشِهَابٍ وَضَوْئُهُ ... يَحُورُ رَمَادًا بَعْدَ إِذْ هُوَ سَاطِعُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ} [الرحمن: 44]. مَا الْآنُ؟ قَالَ: الَّذِي انْتَهَى حَرُّهُ قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ: فَإِنْ يَقْبِضْ عَلَيْكَ أَبُو قُبَيْسٍ ... تَحُطُّ بِكَ الْمُنْيَةُ فِي هَوَانِ وَتُخْضِبُ لِحْيَةً غَدَرَتْ وَخَانَتْ ... بِأَحْمَرَ مِنْ نَجِيعِ الْجَوْفِ آنِ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ} [القلم: 20]. مَا الصَّرِيمُ؟ قَالَ: اللَّيْلُ الْمُظْلِمُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ: لَا تَزْجُرُوا مُكْفَهِرًّا لَا كَفَاءَ لَهُ ... كَاللَّيْلِ يَخْلِطُ أَصْرَامًا بِأَصْرَامِ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: 78]. مَا غَسَقُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: إِذَا أَظْلَمَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ النَّابِغَةِ: كَأَنَّمَا جَدَّ مَا قَالُوا وَمَا وَعَدُوا ... آلٌ تَضَمَّنَهُ مِنْ دَامِسٍ غَسَقِ قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ: الْآلُ: الشَّرَابُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا} [النساء: 85]. مَا الْمُقِيتُ؟ قَالَ: قَادِرٌ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ النَّابِغَةَ: وَذِي ضِغْنٍ كَفَفْتُ الضِّغْنَ عَنْهُ ... وَإِنِّي فِي مَسَاءَتِهِ مُقِيتُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: 17]؟ قَالَ: إِقْبَالُ سَوَادِهِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ: عَسْعَسَ حَتَّى لَوْ يَشَاءُ أَدْنَى ... كَأَنَّ لَهُ مِنْ ضَوْءِ نُورِهِ قَبَسُ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ} [يوسف: 72]. قَالَ: الزَّعِيمُ الْكَفِيلُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ: وَإِنِّي زَعِيمٌ إِنْ رَجَعْتُ مُمَلَّكًا ... بِسَيْرٍ تَرَى مِنْهُ الْغُرَانِقَ أَزْوَرَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَفُومِهَا} [البقرة: 61]. مَا الْفُومُ؟ قَالَ: الْحِنْطَةُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ. : قَدْ كُنْتُ أَحْسَبُنِي كَأَغْنَى وَافِدٍ ... قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَنْ زِرَاعَةِ فُومِ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَالْأَزْلَامُ} [المائدة: 90]. مَا الْأَزْلَامُ؟ قَالَ: الْقِدَاحُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الْحُطَيْئَةِ: لَا يَزْجُرُ الطَّيْرَ إِنْ مَرَّتْ بِهِ سُنُحًا ... وَلَا يُقَامُ لَهُ قَدْحٌ بِأَزْلَامِ. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ} [الواقعة: 9]؟ قَالَ: أَصْحَابُ الشِّمَالِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى حَيْثُ يَقُولُ: نَزَلَ الشَّيْبُ بِالشِّمَالِ قَرِيبًا ... وَالْمُرُورَاتُ دَانِيًا وَحَقِيرًا قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ} [التكوير: 6]؟ قَالَ: اخْتَلَطَ مَاؤُهَا بِمَاءِ الْأَرْضِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى: لَقَدْ عَرَفَتْ رَبِيعَةُ فِي جُذَامٍ ... وَكَعْبٌ خَالَهَا وَابْنَا ضِرَارِ لَقَدْ نَازَعْتُمُ حَسَبًا قَدِيمًا ... وَقَدْ سَجَرَتْ بِحَارُهُمُ بِحَارِى. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ} [الذاريات: 7]. مَا الْحُبُكُ؟ قَالَ: الطَّرَائِقُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى: مُكَلَّلٌ بِأُصُولِ النَّجْمِ تَنْسِجُهُ ... رِيحُ الشَّمَالِ لِضَاحٍ مَا بِهِ حُبُكُ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً} [الجن: 3]؟ قَالَ: ارْتَفَعَتْ عَظَمَةُ رَبِّنَا. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ لِلنُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ: إِلَى مَلِكٍ يَضْرِبُ الدَّارِعِينَ ... لَمْ يُنْقِصِ الشَّيْبُ مِنْهُ قُبَالَا أَيَرْفَعُ جَدِّكَ أنِّي امْرُؤٌ ... سَقَتْنِي الْأَعَادِي سِجَالًا سِجَالَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا} [يوسف: 85]؟ قَالَ: الْحَرَضُ: الْبَالِي. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ: أَمِنْ ذِكْرِ لَيْلَى إِنْ نَأَتْ غُرْبَةٌ بِهَا ... أُعَدُّ حَرِيضًا لِلْكَرَى مُحَرِّمَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: 61]؟ قَالَ: لَاهُونَ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ هَزِيلَةَ بِنْتِ بَكْرٍ وَهِيَ تَبْكِي عَادًا: نَعَيْتُ عَادًا لِصَمَا ... وَأَتَى سَعْدٌ شَرِيدَا قِيلَ قُمْ فَانْظُرْ إِلَيْهِمْ ... ثُمَّ دَعْ عَنْكَ السُّمُودَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِذَا اتَّسَقَ} [الانشقاق: 18]. مَا اتِّسَاقُهُ؟ قَالَ: إِذَا اجْتَمَعَ قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ: إِنَّ لَنَا قَلَائِصًا نَفَائِقَا ... مُسْتَوْسِقَاتٌ لَوْ تَجِدْنَ سَائِقَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: الْأَحَدُ الصَّمَدُ، أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الصَّمَدُ؟ قَالَ: الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا. قَالَ: فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسْدِيَةِ: أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَبَرِ بَنِي أَسَدْ ... بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدْ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]. مَا الْأَثَامُ؟ قَالَ: الْجَزَاءُ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ بِشْرِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَسَدِيِّ: وَإِنَّ مَقَامَنَا يَدْعُو عَلَيْهِمْ ... بِأَبْطُحِ ذِي الْمَجَازِ لَهُ أَثَامُ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَهُوَ كَظِيمٌ} [النحل: 58]؟ قَالَ: السَّاكِتُ قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ خُزَيْمَةَ الْعَبْسِيِّ: فَإِنْ تَكْ كَاظِمًا بِمُصَابِ شَاسٍ ... فَإِنِّي الْيَوْمَ مُنْطَلِقُ اللِّسَانِ قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا} [مريم: 98]. مَا رِكْزًا؟ قَالَ: صَوْتًا. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ خِرَاشِ بْنِ زُهَيْرٍ: فَإِنْ سَمِعْتُمْ بَخِيلٍ هَابِطٍ شَرَفًا ... أَوْ بَطْنِ قُفٍّ فَأَخْفَوُا الرِّكْزَ وَاكْتَتِمُوا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: 152]؟ قَالَ: إِذْ تَقْتُلُونَهُمْ بِإِذْنِهِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ عُتْبَةَ اللَّيْثِيِّ: نَحُسُّهُمْ بِالْبِيضِ حَتَّى كَأَنَّمَا ... نُفَلِّقُ مِنْهُمْ بِالْجَمَاجِمِ حَنْظَلَا قَالَ: صَدَقْتَ. فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ} [الطلاق: 1]. هَلْ كَانَ الطَّلَاقُ يُعْرَفُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، طَلَاقًا بَائِنًا ثَلَاثًا، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَعْشَى بْنِ قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حِينَ أَخَذَهُ أَخْتَانُهُ غَيْرَةً، فَقَالُوا: إِنَّكَ قَدْ أَضْرَرْتَ بِصَاحِبَتِنَا، وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ أَنْ لَا نَضَعَ الْعَصَا عَنْكَ أَوْ تُطَلِّقَهَا، فَلَمَّا رَأَى الْجِدَّ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ فَاعِلُونَ بِهِ شَرًّا قَالَ: أَجَارَتَنَا بِينِي فَإِنَّكِ طَالِقَهْ ... كَذَاكَ أُمُورُ النَّاسِ غَادٍ وَطَارِقَهْ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَتُبِيتَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ: فَبِينِي حَصَانَ الْفَرْجِ غَيْرَ دَمِيمَةٍ ... وَمَامُوقَةً مِنَّا كَمَا أَنْتَ وَامِقَهْ فَقَالُوا: وَاللَّهُ لَنُبِينَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ، فَقَالَ: فَبِينِي فَإِنَّ الْبَيْنَ خَيْرٌ مِنَ الْعَصَا ... وَأَنْ لَا تَزَالَ فَوْقَ رَأْسِكِ بَارِقَهْ فَأَبَانَهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn Muzāḥim al-Hilālī reports that Nāfiʿ ibn al-Azraq and Najdah ibn ʿUwaymir set out with leaders of the Khawārij seeking knowledge until they reached Makkah, where they found ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) seated near Zamzam in a red cloak and shirt, with people standing and asking him concerning exegesis. Nāfiʿ challenged his boldness in answering; Ibn ʿAbbās retorted that bolder still was one who spoke without knowledge or concealed what he knew. Nāfiʿ conceded and began his questions, each time asking the meaning of a Qurʾānic word and whether the Arabs knew it before revelation, Ibn ʿAbbās assigning each meaning and citing a pre-Islamic verse as witness — shuwāẓ as smokeless flame, nuḥās as smokeless smoke, amshāj as the mingled male and female fluids, the joining of leg with leg as war, sons and grandsons as those who serve and attend, the bewitched as the created, mulīm as the sinful, al-falaq as the dawn, grief as sorrow, return as coming back, scalding water at utmost heat, the dark night, the darkness of night, the sustainer as the powerful, the night's advancing darkness, the guarantor, wheat, divining arrows, the companions of the left, seas made to overflow, paths, majesty exalted, worn out, heedless diversion, gathering, the One sought in all needs, recompense, the silent, a sound, slaying by permission — and finally whether divorce was known in the Jāhiliyyah, to which Ibn ʿAbbās answered yes, an irrevocable triple divorce, citing the verses of al-Aʿshā divorcing his wife thrice before her brothers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن مزاحم ہلالی بیان کرتے ہیں : نافع بن ازرق اور نجدہ بن عویمر ، خوارج کے اکابرین کے ہمراہ ، علم کے حصول اور اس کی تلاش میں نکلے ، یہاں تک کہ وہ مکہ آ گئے ( ایک دن ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما زمزم کے کنویں کے پاس تشریف فرما تھے ، انہوں نے سرخ چادر اور قمیص پہنی ہوئی تھی ، وہاں کچھ لوگ کھڑے ہو کر ، ان سے تفسیر کے بارے میں سوالات کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے ابوعباس ! آپ فلاں فلاں ( آیت کی تفسیر ) کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں جواب دیتے : وہ ( یعنی اس کی تفسیر ) اس اس طرح ہو گی ۔ نافع بن ازرق نے ان سے کہا : اے ابن عباس ! آج آپ جن امور کے بارے میں بتا رہے ہیں ، تو آپ ( اس حوالے سے ) کتنی جرأت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُس سے فرمایا : اے نافع ! تمہاری ماں تمہیں روئے اور تمہیں کھو دے ، کیا میں تمہیں اُس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو مجھ سے بھی زیادہ جرأت کا مظاہرہ کرنے والا ہے ؟ اُس نے دریافت کیا : اے ابن عباس ! وہ کون ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : وہ شخص جو اس ( چیز یا مسئلہ کے ) بارے میں کلام کرے ، جس کے بارے میں ، اس کے پاس علم نہ ہو اور ( دوسرا ) وہ شخص جو اپنے پاس موجود علم کو چھپائے ۔ اُس نے کہا : اے ابن عباس ! آپ نے سچ کہا ہے ، میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ سے سوالات کروں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابن ازرق ! ( سوال ) لاؤ ! اور پوچھو ! نافع نے سوال کیا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : «يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ» یہاں ’’ شواظ ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : وہ شعلہ جس میں دھواں نہیں ہوتا ہے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے اُمیہ بن ابوصلت کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «الا مَنْ مُبْلِغْ حَسَّانَ عَنِّىْ مُغَلُغَلَةً تَدِبُّ إِلى عُكَاظِ الَيسَ أَبُوكَ قَيْنًا كَانَ فِينَا إلَى الْقَيْنَاتِ فَسُلًا فِي الْحِفَاظِ يمَانِيًّا يَظْلُّ يَشُبُّ كِيرًا وَيَنْفُخُ دَائِبًا لَهَبَ الشَّوَاظِ» ’’ خبردار ! کون میری طرف سے حسان کو یہ پیغام پہنچائے گا ، جو پیغام چلتا ہوا عکاظ ( کے میلے ) تک بھی پہنچ جائے ، کیا تمہارا باپ ہمارے درمیان لوہار نہیں تھا ، اور کنیزوں کی حفاظت کے معاملے میں وہ کمزور ( یا بزدل ) تھا ، وہ یمنی تھا ، اور مسلسل بھٹی میں آگ لگاتا رہتا تھا اور دھویں کے بغیر والے شعلوں میں پھونک مارتا رہتا تھا ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَنُحَاسُ فَلَا تَنْتَصِرَانِ» یہاں ’’ نحاس ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : وہ شعلہ ، جس میں دھواں نہیں ہوتا ہے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے بنو ذبیان کے ’’ نابغہ ‘‘ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «يُضِیئُ كَضَوُءِ سِرَاجِ السَّلي طِ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ فِيهِ تُحَاسَا» ’’ وہ ایسے چراغ کی مانند چمکتا ہے ، جو چراغ ایسے تیل سے روشن ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے نحاس ( یعنی دھویں کے بغیر شعلہ ) بنایا ہو ۔‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ( کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ ) «أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيه» حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : مرد کا نطفہ اور عورت کا نطفہ جب رحم میں اکٹھے ہو جائیں تو اس کو ’’ مشج ‘‘ کہتے ہیں ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ابوذؤیب ہذلی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر نہیں سنا ہے : «كَأَنَّ النَّصْلَ وَالْفُوقَيْنِ مِنْهُ خِلَالَ الرِّيشِ سِيطَ بِهِ مَشِيجُ» جیسے ( تیر کا ) نصل ( یعنی ) پھل اور دونوں فوق ( یعنی وہ حصہ جو کمان کے تار پر رکھا جاتا ہے ) اس سے ہے ، اور پروں کے درمیان میں اس کے ذریعے انہیں اکٹھا کیا گیا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ» یہاں ’’ الساق بالساق ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جنگ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ابوذؤیب کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «أخُو الْحَرْبِ إِنْ عَضَتْ بِهِ الْحَرْبُ عَضَهَا وَإِن شَمَرَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ شَمَرًا» ’’ وہ جنگ کا متعلقہ فرد ہے ، اگر جنگ اسے کاٹے تو وہ اس ( جنگ ) کو کاٹ لیتا ہے اور اگر جنگ پنڈلی سے کپڑا ہٹائے تو وہ بھی پائینچے چڑھا لیتا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «بَنِينَ وَحَفَدَة» یہاں ’’ بنون ‘‘ اور ’’ حفدة ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جہاں تک تمہارے بیٹوں کا تعلق ہے تو وہ تمہیں ( مال وغیرہ ) پکڑاتے ہیں اور جہاں تک تمہارے ’’ حفدۃ ‘‘ کا تعلق ہے تو اس سے مراد تمہارے خادمین ہیں ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امیہ بن ابوصلت کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «حَفَدَ الْوَلَائِدُ حَوْلَهُنَّ وَالْقِيتُ بِأَكُفِّهِنَّ آزِمَةُ الْأَحْمَالِ» ’’ ان کے اردگرد کنیزیں ان کی خدمت کرتی ہیں اور سواریوں کی لگامیں اُن کے ہاتھوں میں ڈال دی گئی ہیں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ» ( یعنی یہاں لفظ ’’ مسحرین ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا مخلوق ۔ نافع : نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم ، یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امیہ بن ابوصلت ثقفی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «فَإِنْ تَسْأَلِينَا مِمَّ نَحْنُ فَإِنَّنَا عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ الْمُسَحَّرِ» ’’ اگر تم ہم سے یہ پوچھو کہ ہمارا تعلق کن سے ہے ؟ تو ہم اس مخلوق کی چڑیائیں ہیں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «فَنَبَذْنَاهُ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ» یہاں ’’ ملیم ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : گناہگار نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امیہ بن ابوصلت کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «بَعِيدٌ مِنَ الْأَفَاتِ لَسْتَ لَهَا بِأَهْلِ وَلَكِنَّ الْمُسِيئَ هُوَ الْمُلِيمُ» ’’ آفات سے دور ہو ، تم اُن کے اہل نہیں ہو ، لیکن برا کام کرنے والا ہی گناہگار ہوتا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» یہاں ’’ فلق ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : صبح کی روشنی ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم ، یا معنیٰ ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے لبید کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : وہ کہتا ہے : «الْفَارِجُ الْهَمِّ مَبْذُولٌ عَسَاكِرُهُ كَمَا يُفَرِّجُ ضَوْءَ الظُّلْمَةِ الْفَلَقِ» ’’ غم کو دور کرنے والا ، اُس کے لشکروں پر ( مال وغیرہ کو ) خرچ کیا گیا ، جس طرح ، صبح کی روشنی ، رات کی تاریکی کو ختم کر دیتی ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ» یہاں ( لفظ ’’ تأسوا ‘‘ ) ’’ اساة ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : یہ کہ تم غمگین نہ ہو ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم ، یا معنیٰ ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے لبید بن ربیعہ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «قَلِيلُ الْآسَى فِيمَا أَتَى الدَّهْرُ دُونَه كَرِيمُ الثَّنَا حُلْوُ الشَّمَائِلِ مُعْجِبُ» ’’ زمانہ اس پر جو ( مشکلات وغیرہ ) لایا ، وہ اُن پر کم غمگین ہونے والا ہے ، وہ معزز تعریف ، میٹھے اخلاق کا مالک ، پسندیدہ فرد ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «انه ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُور» یہاں ’’ یحور ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : وہ لوٹے گا ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم ، یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے لبید بن ربیعہ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَالشَّهَابِ وَضَوْؤُهُ يَحُورُ رَمَادًا بَعْدَ إِذْ هُوَ سَاطِعُ» ’’ آدمی کی مثال ، شہاب ( ستارے ) کی طرح ہے ، جس کی چمک لوٹ کر راکھ ہو جاتی ہے ، حالانکہ وہ ( پہلے ) چمک رہا ہوتا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ» یہاں ’’ آن ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جس کی گرمی انتہا کی ہو ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم ، یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ہنو ذبیان کے ’’ نابغہ ‘‘ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «فَإِنْ يَقْبِضُ عَلَيْكَ أَبُو قُبَيْسٍ تَحْطَ بِكَ الْمَنِيَّةُ فِي هَوَانِ وَتُخْضَبُ لِحْيَةٌ غَدَرَتْ وَخَانَتْ بِأَحْمَرَ مِنْ نَجِيعِ الْجَوْفِ أَنِ» ’’ اگر ابوقبیس تم پر سمٹ جائے ، تو موت تمہیں بے حیثیت ہونے کی حالت میں گرا دے گی ، اور عہد شکنی اور خیانت کرنے والی داڑھی کو ، پیٹ کے سرخ اور انتہائی گرم خون کا خضاب لگا دیا جائے گا ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ» یہاں ’’ صریم ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : تاریک رات ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ہنو ذبیان کے ’’ نابغہ ‘‘ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «لَا تَزْجُرُوا مُكَفَهِّرُ الْأَكْفَاءِ لَهُ كَاللَّيْلِ يَخْلُطُ أَصْرامًا بِأَصْرَامِ» ’’ تم زجر نہ کرو ، وہ اپنے ہم پلہ افراد پر غصہ کرتا ہے ، جس طرح تاریک رات کے حصے گھل مل جاتے ہیں ۔‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «إلى غَسَقِ اللَّيْلِ» یہاں ’’ غسق اللیل ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جب وہ ( یعنی رات ) تاریک ہو جائے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے نابغہ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : وہ کہتا ہے : «كَأَنَّمَا جُلُ مَا قَالُوا وَمَا وَعَدُوا آلْ تَضَمَّنَهُ مِنْ دَامِسٍ غَسَقِ» ’’ انہوں نے جو کچھ کہا اور جو وعدے کیے ہیں ، اُن میں سے زیادہ تر گویا ایسا سراب ہیں ، جس کے ساتھ رات کی تاریکی بھی ہو ‘‘ ( یہاں اس روایت کے ایک راوی ) ابوخلیفہ کہتے ہیں : ( اس شعر میں لفظ ) ’’ آل ‘‘ سے مراد ، سراب ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہی درست ہے ، یعنی اُن کی کہی ہوئی بات اور ان کے کیے ہوئے وعدے زیادہ تر سراب جیسے ہی ہیں ۔ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا» یہاں ’’ مقیت ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : قدرت رکھنے والا ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امرؤالقیس کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «وَذِي ضِغْنِ كَفَفْتُ الضَّعْنَ عَنْهُ وَإِنِّي فِي مَسَاءً تِهِ مُقِيتُ» ’’ وہ کینے والا ہے اور میں نے اس سے کینے کو روک لیا ہے اور میں اس کی برائیاں بیان کرنے پر قدرت رکھتا ہوں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ» ( یعنی یہاں لفظ ’’ عسعس “ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اُس کی سیاہی ( یا تاریکی ) کا آنا ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امرؤالقیس کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «عَسْعَسَ حَتَّى لَوْ يَشَاءُ كَانَ لَهُ مِنْ ضَوْءهِ قَبَسُ» ’’ رات کی تاریک آ چکی ہے اگر وہ چاہے تو اس کو روشنی کا ٹکڑا مل سکتا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وآنَا بِهِ زَعِيمٌ» ( یعنی یہاں لفظ ’’ زعیم ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : زعیم سے مراد ، کفیل ( ضمانتی ) ہے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب ، اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امرؤالقیس کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «وَإِنِّي زَعِيمٌ إِنْ رَجَعْتُ مُمَلَكًا بِسَيْرٍ تَرَى مِنْهُ الْفُرَائِقَ ازْوِرًا» ’’ میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اگر میں دوبارہ بادشاہ بن گیا تو ایسا سفر کروں گا کہ تم دیکھو گے ، کہ شیر ( یا لشکر کے آگے راہنما کے طور پر چلنے والے لوگ ) بھی اس سے بھاگیں گئے ؟ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَفُومِهَا» یہاں ’’ فوم ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : گندم ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ابوذؤیب ہذلی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «قَدْ كُنْتَ تَحْسِبُنِي كَأَغْنَى وَافِدٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَنْ زِرَاعَةٍ فُومِ» ’’ تم میرے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ میں سب سے زیادہ خوشحال ملاقاتی ہوں جو مدینہ آیا ہے اس کی وجہ گندم کی کھیتی باڑی تھی ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «الأزلام» یہاں ’’ ازلام ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : فال ( یا پانسے ) کے تیر ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر ، کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنیٰ ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے خطیئہ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «لَا يَزْجُرُ الطَّيْرَ إِنْ مَرَّتْ بِهِ سَنَحًا وَلَا يُقَامُ لَهُ قَدَحٌ بِأَزْلَامِ» ’’ اگر پرندہ اس کے پاس سے گزرے تو وہ مہربانی کی وجہ سے اس کو نہیں ڈانتا ہے اور اس کے لیے فال ( یا پانسے ) کے تیر کھڑے نہیں کیے جاتے ہیں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «اصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ» ( یعنی یہاں ’’ اصحاب المشأمة ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : بائیں طرف کے لوگ ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن ابوسلمیٰ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : وہ کہتا ہے : «نَزَلَ الشَّيْبُ بِالشِّمَالِ قَرِيبًا وَالْمَرُورَاتِ دَانِيًّا وَحَقِيرًا» ’’ عنقریب بائیں طرف بڑھاپا آ جائے گا اور گزری ہوئی چیزیں کمتر اور حقیر ہو جائیں گی ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتُ» ( یعنی یہاں اس سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اس ( سمندر ) کے پانی کا زمین کے پانی کے ساتھ مل جانا ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن ابوسلمیٰ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «لَقَدْ عَرَفَتْ رَبِيعَةُ فِي جُذَامٍ وَكَعْبٌ خَالُهَا وَابْنَا ضِرَارٍ لَقَدْ نَازَعُتُهُم حَسَنًا قَدِيمًا وَقَدْ سَجَّرَتْ بِحَارُهُمْ بِحَارِي» ’’ ربیعہ ( قبیلے ) نے جذام میں پہچان لیا ہے ، اور کعب ان کا ننھالی عزیز ہے اور ضرار کے دو بیٹوں کو ( انہوں نے پہچان لیا ) میں ایک طویل عرصے سے حسب میں ان کے ساتھ تنازع کرتا آ رہا ہوں ، ان کے سمندروں ( کا پانی ) میرے سمندروں کے ساتھ مل گیا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ» یہاں ’’ حبک ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : ( مختلف ) راستے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن ابوسلمیٰ کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «مَكَلِّلٌ بِأُصُولِ النَّجْمِ تَنْسِجُهُ ريحُ الشِّمَالِ لِضَاحِي مَا بِهِ حُبُكَ» ’’ ستارے کی جڑوں کے ذریعے اس کو آراستہ کیا گیا ہے ، جس کو شمال کی ہوا نے ظاہر ہونے والے کے لیے بُنا ہے ، اس میں راستے نہیں ہیں ۔‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «جد رَبِّنَا» ( یعنی یہاں اس سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : ہمارے پروردگار کی عظمت بلند ہوئی ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے طرفہ بن عبد کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ، جو اُس نے نعمان بن مندر سے ( یا نعمان بن مندر کے لیے ) کہا تھا : «إلى مَلِكٍ يَضْرِبُ الدَّارِعِينَ لَمْ يَنْقُصِ الشَّيْبُ مِنْهُ قَبَالًا تَرَفَعُ بِجَدِكَ إِنِّي امْرُؤٌ سَقَتُنِي الْأَعَادِي سِجَالًا سِجَالًا» ’’ ایسے بادشاہ کی طرف جو زرہیں پہننے والوں پر ضرب لاتا ہے ، بڑھاپے نے اس پر کوئی اثر نہیں کیا ہے ، تم اپنی بزرگی کے ہمراہ سربلند رہو ، میں ایک ایسا شخص ہوں ، کہ دشمنوں نے مجھے ڈول کے ڈول پلائے ہیں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا» ( یعنی یہاں ’’ حرض ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : حرض سے مراد بوسیدہ ہو جانا ہے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے طرفہ بن عبد کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «آمِنْ ذِكْرِ لَيْلَى إِنْ نَأْتُ غُرْبَةٌ بِهَا أَعَدُّ حَرِيضًا لِلْكِرَا مُحَرَّمِ» ’’ اگر غریب الوطنی کی وجہ سے اُس ( کے وجود ) سے دوری ہے ، تو کیا لیلی کے ذکر سے میں یوں بوسیدہ ہو جاؤں گا ( کہ اُٹھنے کے قابل نہ رہوں ) یوں کہ اس کا بدلہ حرام ہو گا ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَانْتُمْ سَامِدُونَ» ( یعنی یہاں ’’ سامدون ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : لہو ( یا غفلت کا شکار ہونے ) والے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ہزیلہ بنت بکر کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ، جو اس نے عاد پر روتے ہوئے کہا تھا : «بُعِثَتُ عَادٌ لَقِيمًا وَاَتَى سَعْدٌ شَرِيدًا قِيلَ قُمْ فَانْظُرُ إِلَيْهِمُ ثُمَّ دَعُ عَنْكَ السُّمُودَا» ’’ عاد کو یوں کر دیا گیا کہ اس کو نگل لیا گیا اور سعد کی یہ حالت ہوئی کہ اس کو ایک طرف کر دیا گیا اور یہ کہا گیا : تم اُٹھو اور ان کی طرف دیکھو ! اور پھر اپنے آپ سے لہولعب کا شکار ہونا چھوڑ دو !‘‘۔ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «إِذَا اتَّسَقَ» اس میں ’’ اتساق ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جب وہ اکٹھا ہو جائے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ابوصرمہ انصاری کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «إِنَّ لَنَا قَلَائِصًا نَقَائِقًا مُسْتَوسِقَاتٍ لَوْ يَجِدْنَ سَائِقَا» ’’ ہمارے پاس عمدہ جوان اونٹنیاں ہیں ، کہ اگر انہیں کوئی ہانک کر لے جانے والا مل جائے تو وہ منظم رہتی ہیں ۔‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «اَلصَّمَد» ( نافع نے کہا : ) جہاں تک لفظ ’’ احد ‘‘ کا تعلق ہے تو اس ( کا مطلب اور مفہوم ) ہم جانتے ہیں ، لیکن ’’ الصمد ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : وہ ذات کہ تمام امور میں جس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے اسدیہ ( عورت ) کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «آلَا بَكْرَ النَّاعِي بِخَيْرِ بَنِي أَسَدُ بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدُ» ’’ خبردار ! موت کی خبر دینے والے نے علی الصبح بنو اسد کے بہترین فرد عمرو بن مسعود جو رجوع کا مرکز سردار ہے ( اس کے انتقال کی ) اطلاع دی ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «يَلْقَ اَثَامًا» یہاں ’’ اثام ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جزاء ( یعنی بدلہ ) ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے بشر بن ابوخازم اسدی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «وَإِنَّ مَقَامَنَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ بِأَبْطَحِ ذِي الْمَجَازِ لَهُ آثَامُ» ’’ ان ( لوگوں ) کے خلاف دعا کرنے کے لیے ہمارے کھڑے ہونے کی جگہ ، ذوالمجاز کی کشادہ سرزمین ہے ، یہ ان کے لیے بدلہ ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «وَهُوَ كَظِيمٌ» یہاں ’’ کظیم ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : خاموش ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن خزیمہ عبسی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «فَإِنْ يَكُ كَاظِمًا بِمُصَابِ شَاسٍ فَإِنِّي الْيَوْمَ مُنْطَلِقُ لِسَانِي» ’’ اگر وہ ( غصے یا تکبر کی وجہ سے ) آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے والے شخص کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر خاموش بھی رہتا ہے تو آج میں اپنی زبان کو ( اس کو جواب دینے کے لیے ) کھلا چھوڑتا ہوں ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» یہاں ’’ رکز ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : آواز ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے خراش بن زہیر کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِخَيْلٍ هَابِطٍ شَرَفًا أَوْ بَطْنِ قَوٍّ فَأَخْفُوا الرَّكْزَ وَاكُتَتِمُوا» ’’ جب تم گھڑ سواروں کے بارے میں سنو کہ وہ کسی ٹیلے سے نیچے اتر رہے ہیں یا نشیبی حصے کی طرف آ رہے ہیں ، تو آواز پست کرو اور چھپ جاؤ ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «إِذْ تَحْشُونَهُمْ بِإِذْنِهِ» ( یعنی اس سے کیا مراد ہے ؟ ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : یعنی جب تم اس کے حکم سے ان لوگوں کو قتل کر رہے تھے ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد ﷺ پر کتاب ( یعنی قرآن مجید ) نازل ہونے سے پہلے عرب اس ( مفہوم یا معنی ) سے واقف تھے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے عتبہ لیثی کا یہ قول ( یعنی یہ شعر ) نہیں سنا ہے : «نَحْسُّهُمُ بِالْبِيضِ حَتَّى كَأَنَّمَا نُفَلِّقُ مِنْهُمْ بِالْجَمَاجِمِ حَنْظَلًا» ’’ ہم تلواروں کے ذریعے انہیں قتل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ہم ان کے سر ، یوں اُڑاتے ہیں ، جیسے حنظلہ نامی بوٹی کو چیرا جاتا ہے ‘‘ نافع نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : «یَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءِ» ’’ اے نبی ! جب تم خواتین ( یعنی اپنی ازواج ) کو طلاق دو ........‘‘۔ کیا زمانہ جاہلیت میں بھی طلاق کا رواج تھا ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! بائنہ ، طلاق ہوتی تھی ، جو تین طلاقوں کی شکل میں ہوتی تھی ۔ کیا تم نے اعشیٰ بن قیس بن ثعلبہ کا یہ قول نہیں سنا ، کہ جب اس کے سسرالی عزیزوں نے اس پر غصے کی وجہ سے اس کو پکڑ لیا اور انہوں نے کہا : تم نے ہماری عزیزہ کو ضرر پہنچایا ہے ، تو ہم نے اللہ کے نام پر یہ قسم اٹھائی ہے کہ ہم تمہاری مسلسل پٹائی کرتے رہیں گے ، یا پھر تم اس عورت کو طلاق دیدو ! جب اس نے ان لوگوں کے تیور دیکھے کہ وہ ( اس کے ساتھ ) برا سلوک کریں گے ، تو اس نے ( یہ شعر ) کہا : «أَجَارَتَنَا بِينِي فَإِنَّكِ طَالِقَهُ كَذَاكَ أُمُورُ النَّاسِ غَادٍ وَطَارِقَةُ» ’’ اے ہماری ساتھی عورت ! تو بائنہ ہو جا ! کیونکہ تجھے طلاق مل گئی ہے ، لوگوں کے امور میں اسی طرح صبح و شام ہوتی ہے ( یعنی ان میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ) ۔‘‘ ان لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! یا تو تم اس عورت کو بائنہ طلاق دیدو ورنہ ہم مسلسل تمہاری پٹائی کرتے رہیں گے ، تو اُس نے ( یہ شعر ) کہا تھا : «فَبِينِي حَصَانَ الْفَرْجِ غَيْرَ ذَمِيمَةٍ وَمَا مُوقَةٌ مِنَّا كَمَا أَنْتِ وَامِقَة» ’’ اے پاکدامن عورت ! تم بائنہ ہو جاؤ ، اس حال میں کہ تم قابل مذمت نہیں ہو ، جس طرح تم محبت کرنے والی تھیں ، اس طرح ہماری طرف سے محبت نہیں کی جا سکی ۔‘‘ ان لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! یا تو تم اس عورت کو بائنہ طلاق دیدد ورنہ ہم مسلسل تمہاری پٹائی کرتے رہیں گے ، تو اُس نے ( یہ شعر ) کہا تھا : «وَبِينِي فَإِنَّ الْبَيْنَ خَيْرٌ مِنَ الْعَصَا وَأَنْ لَا تَزَالِي فَوْقَ رَأْسِكِ بَارِقَةُ» ’’ تم بائنہ ہو جاؤ ! کیونکہ علیحدگی ، عصا ( یعنی مار کھانے ) سے ، بہتر ہے ، اور ( میری دعا ہے ) کہ تمہارے سر پر ہمیشہ خوش نصیبی ( یا ناز و نعمت ) کا ستارہ رہے ۔‘‘ تو اُس ( یعنی اعشیٰ بن قیس بن ثعلبہ ) نے اُس خاتون کو تین طلاقوں کے ذریعے بائنہ کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ متروک ہے ۔

15526

Majma al-Zawaid #15526

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ اللَّيْلِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَرَّنِي حَتَّى جَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَلَاتِهِ خَنِسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" مَا شَأْنُكَ أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِحِذَائِكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبَهُ، فَدَعَا لِي أَنْ يَزِيدَنِي اللَّهُ عِلْمًا وَفِقْهًا». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما) reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ in the last part of the night and prayed behind him; the Prophet ﷺ took his hand and drew him to stand alongside him, but when the Prophet ﷺ turned to his prayer, Ibn ʿAbbās withdrew behind. When the prayer ended, the Prophet ﷺ asked his reason; Ibn ʿAbbās answered that none ought to pray alongside him while he was the Messenger Allah had honoured. This pleased him, and he prayed that Allah increase him in knowledge and understanding: > **"What is the matter with you — I place you alongside me and you withdraw?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہ بیان کرتے ہیں : میں رات کے آخری حصے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا اور مجھے اپنے برابر کھڑا کر لیا ، جب نبی اکرم ﷺ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوئے ، تو میں ذرا پیچھے ہٹ گیا ، نبی اکرم ﷺ نماز ادا کرتے رہے ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا تھا اور تم پیچھے ہٹ گئے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کسی کے لئے یہ مناسب ہے ؟ کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( مخصوص شان ) عطا کی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کو یہ بات اچھی لگی ، آپ نے میرے لئے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے مزید علم اور سمجھ بوجھ عطا کرے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15527

Majma al-Zawaid #15527

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: «شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَاءَ مَنْ سَفَرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنِي أَنَا وَغُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَتَرَكَكَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Mulaykah reports that he witnessed Ibn al-Zubayr say to Ibn ʿAbbās (رضي الله عنهما), do you remember when the Messenger of Allah ﷺ met us coming from a journey? Ibn ʿAbbās answered yes: he carried me and a boy of Banū Hāshim and left you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : کیا آپ کو یاد ہے ؟ جب نبی اکرم ﷺ ایک سفر سے تشریف لائے تھے ، تو ہم نے نبی اکرم ﷺ کا استقبال کیا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے مجھے اور بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے لڑکے کو اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے اور اس روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے ، یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔