وَبَلَغَنِي أَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ لَهُ عَشَرَةُ أَوْلَادٍ ذُكُورٌ سِوَى الْإِنَاثِ، فَمِنْ وَلَدِهِ: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَعَبْدُ اللَّهِ، وَقُثَمُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَمَعْبَدٌ، وَأُمُّ حَبِيبٍ. وَأُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ هَؤُلَاءِ: أُمُّ الْفَضْلِ الصُّغْرَى، وَاسْمُهَا: لُبَابَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ قَيْسِ غِيلَانَ، وَكَانَتْ قَدِيمَةَ الْإِسْلَامِ، أَسَلَمَتْ بِمَكَّةَ، وَفِي أُمِّ الْفَضْلِ يَقُولُ الشَّاعِرُ: مَا وَلَدَتْ نَجِيبَةٌ مِنْ فَحْلِ ... بِجَبَلٍ نَعْلَمُهُ أَوْ سَهْلِ كَسِتَّةٍ مِنْ بَطْنِ أُمِّ الْفَضْلِ ... أَكْرِمْ بِهَا مِنْ كَهْلَةٍ وَكَهْلِ عَمُّ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى ذِي الْفَضْلِ ... وَخَاتَمِ الرُّسُلِ وَخَيْرِ الرُّسْلِ. وَالْحَارِثُ بْنُ الْعَبَّاسِ أُمُّهُ: حُجَيْلَةُ بِنْتُ جُنْدُبِ بْنِ رَبِيعَةَ، مِنْ وَلَدِ تَمِيمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ. وَأُمُّهُ بِنْتُ الْعَبَّاسِ، تَزَوَّجَهَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ. وَصَفِيَّةُ هِيَ أُخْتُ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ: لَا، بَلْ أُمُّهَا غَيْرُ أُمِّ الْحَارِثِ. وَكَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَعَوْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَرُوحٌ، وَتَمَّامُ بْنُ الْعَبَّاسِ - وَكَانَ أَصْغَرَ وَلَدِ أَبِيهِ - يُقَالُ: إِنَّ تَمَّامًا أَخُو كَثِيرٍ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَفِي تَمَّامٍ يَقُولُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: تَمُّوا بِتَمَامٍ فَصَارُوا عَشَرَةْ ... يَا رَبُّ فَاجْعَلْهُمْ كِرَامًا بَرَرَةْ اجْعَلْهُمْ ذِكْرَى وَأَنْمِ الثَّمَرَةْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
It reached him that al-ʿAbbās had ten male children besides females, among them al-Faḍl ibn al-ʿAbbās, ʿAbdullāh, Qutham, ʿAbd al-Raḥmān, Maʿbad, and Umm Ḥabīb, their mother Umm al-Faḍl the younger named Lubābah bint al-Ḥārith ibn Ḥazn ibn Qays Ghaylān, early Muslim in Makkah, about whom the poet said no noble woman bore from a stallion on known hill or plain like six from Umm al-Faḍl's womb, honored gray couple, uncle of the chosen Prophet of merit, seal and best of messengers, while al-Ḥārith ibn al-ʿAbbās's mother was Ḥujaylah bint Jundub ibn Rabīʿah of Tamīm ibn Saʿd ibn Hudhayl ibn Mudrikah, his daughter Ummuhu married al-ʿAbbās ibn ʿUtbah ibn Abī Lahab, Ṣafiyyah full sister of al-Ḥārith though some said otherwise, and Kathīr, ʿAwn, Rawḥ, and Tamām ibn al-ʿAbbās the youngest, Tamām full brother of Kathīr, about whom al-ʿAbbās versified they were completed by Tamām to ten, praying his Lord make them noble dutiful, a remembrance and fruitful growth.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کے علاوہ ، آپ کے دس بیٹے تھے ، آپ کی اولاد میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ ، حضرت قثم رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، حضرت معبد رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیب رضی اللہ عنہا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان بچوں کی والدہ سیدہ ام فضل صغریٰ رضی اللہ عنہا ہیں ، اُس خاتون کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن بن قیس غیلان ہے ، انہوں نے قدیم زمانے میں ، مکہ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیده ام فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں شاعر نے یہ کہا ہے : ’’ ہمارے علم کے مطابق ، پہاڑ پر یا ہموار جگہ پر ، کسی معزز خاتون نے ایسے بیٹوں کو جنم نہیں دیا جیسے سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے چھ بیٹے ہیں ، ان کے حوالے سے بڑھاپے اور بوڑھے فرد کی عزت افزائی ہوئی ( اس خاتون کے شوہر ) نبی مصطفی ﷺ کے چچا ہیں ( وہ نبی مصطفی ﷺ ) جو فضیلت والے ہیں ، رسولوں ( کی بعثت کے سلسلے کو ) ختم کرنے والے ہیں اور سب رسولوں سے بہتر ہیں ۔‘‘ ( حضرت عباس کے صاحبزادوں میں ) ایک حضرت حارث بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اُن کی والدہ حجیلہ بنت جندب بن ربیعہ ہیں ، جو تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ کی اولاد میں سے ہے اور امیمہ بنت عباس ہیں ، جن کے ہاتھ عباس بن عتبہ بن ابولہب نے شادی کی تھی ، ایک صفیہ ہیں ، یہ دونوں حارث کی سگی بہنیں تھیں ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : اس خاتون کی والدہ حارث کی والدہ سے الگ ہیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد ، حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت عون بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت روح رضی اللہ عنہ ، حضرت تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ۔ جو اپنے والد کی اولاد میں ، سب سے چھوٹے ہیں ، یہ بات بیان کی جاتی ہے : حضرت تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما کے سگے بھائی تھے ، حضرت تمام بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب نے یہ شعر کہے ہیں : ’’ تمام کے ذریعے وہ مکمل ہو گئے اور وہ دس ہو گئے ، تو اے پروردگار ! تو انہیں معزز اور نیک بنا دے ، تو انہیں نصیحت اور سب سے زیادہ پھل پھول والا بنا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم بن عدی نامی راوی متروک ہے ۔