Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 29

Book of Virtues and Merits

Hadith 15408–15447

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15408

Majma al-Zawaid #15408

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «كَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مِنَ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ تَحْضُنُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ صَغِيرٌ، فَأَعْتَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَتُوُفِّيَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ» [هَكَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَرَوَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهَا عَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb reported that Umm Ayman, mother of Usāmah ibn Zayd, was Abyssinian, a maid of ʿAbd al-Muṭṭalib nursing the Messenger of Allah ﷺ in childhood, whom the Messenger of Allah ﷺ freed then married to Zayd ibn Ḥārithah, and she died five months after the Prophet ﷺ, though al-Zuhrī also said and narrated in this account she lived after ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb's death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ان کا تعلق حبشہ سے ہے ، یہ جناب عبدالمطلب کی کنیز تھیں اور انہوں نے کمسنی میں نبی اکرم ﷺ کی پرورش کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا تھا ، پھر آپ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی شادی کروا دی تھی ان کا وصال نبی اکرم ﷺ کے وصال کے پانچ ماہ بعد ہوا تھا ۔ زہری نے اسی طرح بیان کیا ہے ، اور اس بارے میں ایک روایت یہ منقول ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد بھی زندہ رہی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15409

Majma al-Zawaid #15409

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ يَوْمَ قُتِلَ عَنِ الْيَوْمَ وَهَى الْإِسْلَامُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reported that Umm Ayman said on the day ʿUmar was killed today Islam weakened. > **"Today Islam has weakened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن یہ ارشاد فرمایا : آج اسلام کمزور ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالله بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15410

Majma al-Zawaid #15410

عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَهَا، فَأَرْجَأَهَا فِيمَنْ أَرْجَأَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint Ḥakīm رضي الله عنها, whom the Messenger of Allah ﷺ had married, was deferred among those deferred.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی تھی لیکن پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں مؤخر کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15411

Majma al-Zawaid #15411

«عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ تَقُولُ: اذْهَبِي فَادْخُلِي، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي بِالْمَاءِ، وَقَالَ: "" ارْجِعِي "". قَالَ الْعَطَّافُ: قَالَتْ أُمِّي: فَرَأَيْتُ وَجْهَ زَيْنَبَ وَهِيَ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا نَقَصَ مِنْ وَجْهِهَا شَيْءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأُمُّ عَطَّافٍ لَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

Zaynab bint Abī Salamah رضي الله عنها reported that when the Messenger of Allah ﷺ entered to wash, her mother told her to go enter, she entered, he sprinkled water in her face telling her to return, and al-ʿAṭṭāf's mother reported seeing Zaynab as a great old woman with nothing diminished of her face. > **"Return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ غسل کر رہے تھے میری والدہ نے کہا : تم ابھی چلی جاؤ ، پھر تھوڑی دیر بعد آنا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر جب میں آئی تو نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر پانی چھڑکا اور آپ نے فرمایا : تم واپس چلی جاؤ ۔ عطاف نامی راوی بیان کرتے ہیں : میری والدہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا چہرہ دیکھا ہے وہ ایک بوڑھی عمر رسیدہ خاتون تھیں لیکن ان کے چہرے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عطاف نامی راوی کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15412

Majma al-Zawaid #15412

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَلِيمَةُ بِنْتُ أَبِي ذُؤَيْبٍ، وَاسْمُ أَبِي ذُؤَيْبٍ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَيَّانَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرِ بْنِ هَوَازِنَ، وَهِيَ أُمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي أَرْضَعَتْهُ وَفَصَلَتْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Ḥalīmah bint Abī Dhuʾayb, Abū Dhuʾayb being ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Ḥayyān of Banū Saʿd ibn Bakr ibn Hawāzin, was the mother of the Messenger of Allah ﷺ who nursed and weaned him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ حلیمہ بنت ابوذؤیب رضی اللہ عنہا ، ابوذؤیب کا نام عبداللہ ہے وہ حارث بن حیان کے صاحبزادے ہیں ، جن کا تعلق بنو سعد بن بکر بن ہوازن سے ہے ، یہ نبی اکرم ﷺ کی دائی ماں ہیں ، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے ۔

15413

Majma al-Zawaid #15413

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «كُنْتُ غُلَامًا أَحْمِلُ عُضْوَ الْبَعِيرِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ». قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ رَضَاعِهَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه reported he was a boy carrying a camel limb when he saw the Messenger of Allah ﷺ distributing meat at al-Jiʿrānah, a woman came to him and he spread his cloak for her, and when he asked who she was he was told she was his mother who had nursed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک لڑکا تھا ، جو کسی اونٹ کا کوئی حصہ اٹھا سکتا تھا اس وقت میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ جعرانہ کے مقام پر گوشت تقسیم کر رہے تھے تو اسی دوران ایک خاتون آپ کے پاس آئی تو آپ نے اپنی چادر بچھا دی ، میں نے دریافت کیا : یہ خاتون کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ نبی اکرم ﷺ کی رضاعی ماں ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں علامات نبوت سے متعلق باب میں سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے نبی اکرم ﷺ کو دودھ پلانے کا واقعہ پہلے گزر چکا ہے ۔

15414

Majma al-Zawaid #15414

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتْ أُمُّ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمُّ عُثْمَانَ، وَأُمُّ طَلْحَةَ، وَأُمُّ الزُّبَيْرِ، وَأُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمُّ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَازِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the mother of Abū Bakr, the mother of ʿUthmān, the mother of Ṭalḥah, the mother of al-Zubayr, the mother of ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and the mother of ʿAmmār ibn Yāsir all accepted Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خازم بن حسین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15415

Majma al-Zawaid #15415

وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: أُمُّ أَبِي بَكْرٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ الْخَيْرِ بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ، وَهَلَكَ أَبُو بَكْرٍ فَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ جَمِيعًا، وَكَانَا [قَدْ] أَسْلَمَا، وَمَاتَتْ أُمُّ أَبِي بَكْرٍ قَبْلَ أَبِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Haytham ibn ʿAdī reported that the mother of Abū Bakr was called Umm al-Khayr bint Ṣakhr ibn ʿĀmir, Abū Bakr died leaving both parents as heirs after they had accepted Islam, and the mother of Abū Bakr died before his father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام اُم خیر بنت صخر بن عامر تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کے والدین ان کے وارث بنے تھے ان دونوں نے اسلام قبول کیا تھا البتہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ان کے والد کے انتقال سے پہلے ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15416

Majma al-Zawaid #15416

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ "" فُسْتُقَةُ "": مَاتَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ [سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ] بَعْدَ ابْنِهَا عَبْدِ اللَّهِ بِلَيَالٍ، وَكَانَتْ أُخْتَ عَائِشَةَ لِأَبِيهَا، وَأُمُّ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ. وَكَانَتْ لِأَسْمَاءَ يَوْمَ مَاتَتْ مِائَةُ سَنَةٍ، وُلِدَتْ قَبْلَ التَّارِيخِ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً [وَقَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً]. وَوُلِدَتْ أَسْمَاءُ لِأَبِي بَكْرٍ وَسِنُّهُ إِحْدَى وَعِشْرُونَ سَنَةً.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī ibn al-Madīnī Fustuqah reported that Asmāʾ bint Abī Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنها died in year seventy-three, nights after her son ʿAbdullāh, she was the paternal sister of ʿĀʾishah, her mother was Qutaylah bint ʿAbd al-ʿUzzā ibn ʿAbd Asʿad of Banū Mālik ibn Ḥisl, she was a hundred years old when she died, born twenty-seven years before the calendar and seventeen years before the mission, and Asmāʾ was born to Abū Bakr when he was twenty-one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن علی مدینی کہتے ہیں ۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا انتقال تہتر ہجری میں ہوا تھا ، ان کا انتقال ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ دن بعد ہوا تھا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باپ کی طرف سے شریک بہن تھیں ، سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کی والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن عبداسعد تھا اور ان کا تعلق بنو مالک بن حسل سے تھا ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا جب انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر ایک سو سال تھی ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سن ہجری کے آغاز سے ستائیس سال پہلے اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی پیدائش کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر اکیس سال تھی ۔

15417

Majma al-Zawaid #15417

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، طَوِيلَةٌ، مَكْفُوفَةُ الْبَصَرِ، فَقَالَتْ لِلْحَجَّاجِ: أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Ḥarmalah reported he entered Makkah after Ibn al-Zubayr was killed when his mother Asmāʾ bint Abī Bakr came as a very old, tall, blind woman and addressed al-Ḥajjāj about the rider descending. > **"Has it not yet come time for this rider to dismount?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلیٰ بن حرملہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ میں داخل ہوا تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما آئیں ، جو بوڑھی عمر رسیدہ خاتون تھیں ان کا قد طویل تھا اور بینائی ختم ہو چکی تھی ، انہوں نے حجاج سے کہا : کیا ابھی اس سوار کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ وہ نیچے اتر آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15418

Majma al-Zawaid #15418

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ الْخَثْعَمِيَّةُ، فَوَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، وَعَوْنَ بْنَ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr in naming those who emigrated to Abyssinia reported that Jaʿfar ibn Abī Ṭālib went with his wife Asmāʾ bint ʿUmays al-Khathʿamiyyah, who bore him in Abyssinia ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, ʿAwn ibn Jaʿfar, and Muḥammad ibn Jaʿfar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر ، حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ناموں میں بیان کرتے ہیں : حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ اسماء بنت عمیس خشعمیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ، حضرت عون بن جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15419

Majma al-Zawaid #15419

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْأَخَوَاتُ الْمُؤْمِنَاتُ "": مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ الْفَضْلِ امْرَأَةُ الْعَبَّاسِ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ امْرَأَةُ جَعْفَرٍ، وَامْرَأَةُ حَمْزَةَ وَهِيَ أُخْتُهُنَّ لِأُمِّهِنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونَةَ فِي مَنَاقِبِهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ named the believing sisters as his wife Maymūnah, Umm al-Faḍl wife of al-ʿAbbās, Asmāʾ bint ʿUmays wife of Jaʿfar, and the wife of Ḥamzah, maternal sisters to one another. > **"The believing sisters are Maymūnah wife of the Prophet, Umm al-Faḍl wife of al-ʿAbbās, Asmāʾ bint ʿUmays wife of Jaʿfar, and the wife of Ḥamzah, sisters by their mother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ مومن بہنیں ہیں ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا تھیں ، جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں ، جو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، یہ ( سب خواتین ) ماں کی طرف سے شریک بہنیں تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں یہ حدیث گزر چکی ہے ۔

15420

Majma al-Zawaid #15420

عَنْ مُهَاجِرٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بِنْتَ عَمِّ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَتَلَتْ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ تِسْعَةً مِنَ الرُّومِ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhājir reported that Asmāʾ bint Yazīd ibn al-Sakan, cousin of Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنهما, killed nine Romans on the day of Yarmūk with a tent pole.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مہاجر بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی چچازاد تھیں ، انہوں نے جنگ یرموک کے موقع پر خیمے کی لکڑی کے ذریعے نو رومیوں کو قتل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15421

Majma al-Zawaid #15421

عَنِ [النَّضْرِ بْنِ] أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى أَبِي أَنَسٍ، فَقَالَتْ: جِئْتُ الْيَوْمَ بِمَا تَكْرَهُ، فَقَالَ: لَا تَزَالِينَ تَجِيئِينَ بِمَا أَكْرَهُ مِنْ عِنْدِ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ. قَالَتْ: كَانَ أَعْرَابِيًّا اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَاخْتَارَهُ وَجَعَلَهُ نَبِيًّا. قَالَ: مَا الَّذِي جِئْتِ بِهِ؟ قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكِ. فَمَاتَ مُشْرِكًا. وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ. قَالَتْ: لَمْ أَكُنْ أَتَزَوَّجُكَ وَأَنْتَ مُشْرِكٌ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا هَذَا دَهْرُكِ، قَالَتْ: فَمَا دَهْرِي؟ قَالَ: دَهْرُكِ فِي الصَّفْرَاءِ وَالْبَيْضَاءِ، قَالَتْ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّكَ إِنْ أَسْلَمْتَ فَقَدْ رَضِيتُ بِالْإِسْلَامِ مِنْكَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِهَذَا؟ قَالَتْ: يَا أَنَسُ، قُمْ فَانْطَلِقْ مَعَ عَمِّكَ. فَقَامَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَاتِقِي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ كَلَامَنَا، فَقَالَ: "" هَذَا أَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ عِزَّةُ الْإِسْلَامِ "". فَسَلَّمَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَزَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْإِسْلَامِ. فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا، ثُمَّ إِنَّ الْغُلَامَ دَرَجَ وَأُعْجِبَ بِهِ أَبُوهُ فَقَبَضَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: خَيْرُ مَا كَانَ، فَقَالَتْ: أَلَا تَتَغَدَّى؟ قَدْ أَخَّرْتَ غَدَاءَكَ الْيَوْمَ قَالَتْ: فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ غَدَاءَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، عَارِيَةٌ اسْتَعَارَهَا قَوْمٌ وَكَانَتِ الْعَارِيَةُ عِنْدَهُمْ مَا قَضَى اللَّهُ، وَإِنَّ أَهْلَ الْعَارِيَةِ أَرْسَلُوا إِلَى عَارِيَتِهِمْ فَقَبَضُوهَا، أَلْهُمْ أَنْ يَجْزَعُوا؟ قَالَ: لَا. قَالَتْ: فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَتْ: هَا هُوَ ذَا فِي الْمَخْدَعِ، فَدَخَلَ فَكَشَفَ عَنْهُ وَاسْتَرْجَعَ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَقَدْ قَذَفَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي رَحِمِهَا ذَكَرًا؛ لِصَبْرِهَا عَلَى وَلَدِهَا "". قَالَ: فَوَضَعَتْهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ يَا أَنَسُ إِلَى أُمِّكَ فَقُلْ لَهَا: إِذَا قَطَعْتِ سِرَارَ ابْنَكِ فَلَا تُذِيقِيهِ شَيْئًا حَتَّى تُرْسِلِي بِهِ إِلَيَّ "". قَالَ: فَوَضَعْتُهُ عَلَى ذِرَاعِي حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "" ائْتِنِي بِثَلَاثِ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ "". قَالَ: فَجِئْتُ بِهِنَّ، فَقَذَفَ نَوَاهُنَّ، ثُمَّ قَذَفَهُ فِي فِيهِ فَلَاكَهُ، ثُمَّ فَتَحَ فَا الْغُلَامِ فَجَعَلَهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ: "" أَنْصَارِيٌّ يُحِبُّ التَّمْرَ "". فَقَالَ: "" اذْهَبْ إِلَى أُمِّكِ فَقُلْ: بَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِ وَجَعَلَهُ بَرًّا تَقِيًّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Naḍr ibn Anas رضي الله عنه reported that Umm Sulaym came to Abū Anas declaring she brought what he disliked, he complained she always brought dislike from that Bedouin whom Allah had chosen and made a Prophet, she announced wine was prohibited, he declared separation and died a polytheist, then Abū Ṭalḥah came proposing while a polytheist, she refused marriage to a polytheist, he claimed her time was for yellow and white wealth, she called him and the Prophet ﷺ to witness that his Islam would satisfy her, sent Anas with his uncle to the Prophet ﷺ who recognized the glory of Islam between his eyes, he greeted and testified, the Messenger of Allah ﷺ married him upon Islam, she bore a boy whom his father loved, Allah took him, Abū Ṭalḥah asked after him and she answered with the best state, served his meal, then likened the son to a borrowed item its owners reclaimed without cause for grief, he agreed, she told him the son had departed this world in the inner chamber, he uncovered him uttering istirjāʿ and informed the Messenger of Allah ﷺ of her words, who swore Allah had cast a male into her womb for her patience, she gave birth, the Prophet ﷺ ordered Anas to bring the infant untouched after cutting the cord, Anas carried him on his forearm, the Prophet ﷺ asked for three ʿajwah dates, removed stones, chewed them, opened the boy's mouth placing them therein while he smacked, declaring him Anṣārī loving dates, and sent word of blessing and piety for him. > **"This is Abū Ṭalḥah with the glory of Islam between his eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والد کے پاس آئیں اور بولیں : آج میں ایک ایسی چیز لے کر آئی ہوں ، جسے آپ ناپسند کریں گے ، تو انہوں نے کہا : تم مسلسل اس دیہاتی کے پاس سے وہ چیز لے کر آتی ہو ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ دیہاتی ایسا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے اور اسے اختیار کیا ہے ، اور اسے نبی بنایا ہے ، ان صاحب نے کہا : تم ان کے پاس سے کیا لے کے آئی ہو ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو ان صاحب نے کہا : یہ میرے اور تمہارے درمیان علیحدگی ہے ، تو اُن صاحب کا انتقال مشرک ہونے کے عالم میں ہوا ۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے انہوں نے کہا : میں ایسی صورت میں آپ کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی ، جبکہ آپ مشرک ہوں ، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ کبھی نہیں ہو سکتا ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : میرے زمانے سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : تمہارا زمانہ زرد اور سفید چیز ( یعنی سونے اور چاندی میں ہے ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : میں آپ کو اور اللہ کے نبی کو گواہ بنا کر یہ کہتی ہوں کہ اگر آپ نے اسلام قبول کر لیا ، تو میں آپ کی طرف سے اسلام پر راضی ہوں ، تو انہوں نے دریافت کیا : میرے حق میں اس حوالے سے کون ہو گا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اے انس ! تم اٹھو اور اپنے چچا کے ساتھ جاؤ ، تو وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم اللہ کے نبی کے قریب پہنچے ، نبی اکرم ﷺ نے ہمارا کلام سن لیا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ تو ابوطلحہ ہے جس کی آنکھوں کے آگے اسلام کی عزت ہے ( یا چمک ہے ) انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور یہ کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شادی کروائی ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے ایک لڑے کو جنم دیا ، وہ بچہ اپنے والد کے نزدیک بہت پسندیدہ تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بچے کی روح کو قبض کر لیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے دریافت کیا : اے ام سلیم میرے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : اچھی حالت میں ہے ، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا ، کیا آپ کھانا نہیں کھائیں گے ، میں نے آپ کا کھانا سنبھال کے رکھا ہوا ہے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا ، پھر میں نے کہا : اے ابوطلحہ ایک عاریت کے طور پر دی جانے والی چیز جسے کسی قوم نے عارت کے طور پر لیا ہو اور وہ عاریت کے طور پر ان کے پاس اس وقت تک رہے جب تک اللہ کو منظور ہو ، پھر عاریت کے طور پر دینے والے لوگ اپنی عاریت والی چیز کی طرف کسی کو بھیج کر اسے واپس لے لیں ، تو کیا دوسرے لوگوں کو رونے پیٹنے کا حق ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ کا بیٹا دنیا سے رخصت ہو گیا ہے ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ وہاں ہے ، تو وہ اندر گئے انہوں نے اس سے کپڑا ہٹایا اور انا اللہ و انا الیه راجعون پڑھا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے رحم میں ایک بیٹا پیدا کیا ہے ، اور یہ اس عورت کے اپنی اولاد پر صبر کرنے کی وجہ سے ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو جنم دیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس ! تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور اس سے یہ کہنا کہ جب تم اپنے بیٹے کی نال کاٹ دو تو اسے کوئی چیز نہ چکھانا ، جب تک اسے میرے پاس نہیں بھیج دیتیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو میرے بازوں پر رکھا ، میں اسے لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرے پاس تین عجوہ کھجوریں لے کے آؤ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں انہیں لے کے آیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی گٹھلیاں پھینک دیں پھر آپ نے وہ کھجور اپنے منہ میں ڈالی اسے چبایا ، پھر آپ نے بچے کا منہ کھولا اور وہ اس کے منہ میں ڈال دی تو اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ انصاری ہے ، کھجور سے محبت کرتا ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور اس سے یہ کہنا کہ اس بچے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے برکت رکھے اور اسے نیک اور پرہیزگار بنائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف احمد بن منصور رمادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15422

Majma al-Zawaid #15422

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَزَّارِ أَيْضًا: قَالَتْ لَهُ: أَتَزَوَّجُكَ وَأَنْتَ تَعْبُدُ خَشَبَةً يَجُرُّهَا عَبْدِي فَلَانٌ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration of al-Bazzār she said to him whether she would marry him while he worshipped wood dragged by her slave so-and-so, then the narrator mentioned the account in full. > **"Would I marry you while you worship wood dragged by my slave so-and-so?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا میں آپ کے ساتھ شادی کر لوں جبکہ آپ ایک ایسی لکڑی کی عبادت کرتے ہیں جسے میرے فلاں غلام نے بنایا ہے ۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15423

Majma al-Zawaid #15423

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ أَنْ يُطَلِّقَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ سُلَيْمٍ لَحُوبٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that Abū Ṭalḥah intended to divorce Umm Sulaym, whereupon the Messenger of Allah ﷺ declared divorcing Umm Sulaym a grave sin. > **"Divorcing Umm Sulaym is indeed ḥūb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” ام سلیم کو طلاق دینا گناہ کا کام ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15424

Majma al-Zawaid #15424

عَنْ أَبِي أَحْمَدَ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: رَأَيْتُ بِعَيْنِي حَمْنَةَ بِنْتَ جَحْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ تَسْقِي الْعَطْشَى، وَتُدَاوِي الْجَرْحَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Aḥmad ibn Jaḥsh رضي الله عنه reported he saw with his own eyes Ḥamnah bint Jaḥsh on the day of Uḥud giving drink to the thirsty and treating the wounded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواحمد بن جحش بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی آنکھوں کے ذریعے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جنگ احد کے دن دیکھا کہ وہ پیاسوں کو پانی پلا رہی تھیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15425

Majma al-Zawaid #15425

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: هَاجَرَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ نِسَائِهِمْ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نِسْوَةٍ ذَكَرَهُنَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq reported that among Banū Asad women who emigrated was Ḥamnah bint Jaḥsh among women whom he named.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : بنو اسد کی خواتین میں سے سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی تھی ، محمد بن اسحاق نے ان کا ذکر دیگر خواتین کے ساتھ کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15426

Majma al-Zawaid #15426

«عَنْ أُمِّ عِيَاشٍ وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بِهَا مَعَ ابْنَتِهِ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAyyāsh رضي الله عنها, servant of the Prophet ﷺ, was sent by him with his daughter to ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عیاش رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی خادمہ تھیں ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنی صاحبزادی کے ہمراہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15427

Majma al-Zawaid #15427

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: أُمُّ الْمُنْذِرِ الَّتِي رَوَتْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمُهَا سَلْمَى بِنْتُ قَيْسٍ، وَصَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq reported that Umm al-Mundhir who narrated from the Prophet ﷺ was Salmā bint Qays, and she prayed toward both qiblas with the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدہ ام منذر رضی اللہ عنہا جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایات نقل کی ہیں ، ان کا نام سیدہ سلمی بنت قیس رضی اللہ عنہا ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15428

Majma al-Zawaid #15428

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا أَيُّوبَ، إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ أَيُّوبَ كَانَ حُوبًا». قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: الْحُوبُ: الْإِثْمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that Abū Ayyūb divorced his wife, whereupon the Prophet ﷺ told him divorcing Umm Ayyūb was sin, and Ibn Sīrīn explained ḥūb as sin. > **"O Abā Ayyūb, divorcing Umm Ayyūb was indeed ḥūb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اے ابوایوب ! ام ایوب کو طلاق دینا گناہ کام ہے ۔‘‘ ابن سیرین کہتے ہیں : لفظ حوب کا مطلب گناہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15429

Majma al-Zawaid #15429

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: كَانَتْ خَادِمُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهَا: خُضَيْرَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī ibn al-Ḥusayn reported that the servant of the Prophet ﷺ was called Khuḍayrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک خادمہ تھی جن کا نام خضیرہ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15430

Majma al-Zawaid #15430

«عَنْ رَوْضَةَ قَالَتْ: كُنْتُ وَصِيفَةً لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَتْ لِي مَوْلَاتِي: يَا رَوْضَةُ، قُومِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، فَإِذَا مَرَّ هَذَا الرَّجُلُ فَأَعْلِمِينِي، فَقُمْتُ فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَخَذْتُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ، فَتَبَسَّمَ فِي وَجْهِي. قَالَ شَيْبَةُ: وَأَظُنُّهُ مَسَحَ [يَدَهُ] عَلَى رَأْسِي. فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي: هُوَ ذَا قَدْ جَاءَ الرَّجُلُ، فَخَرَجَتْ مَوْلَاتِي وَمَنْ كَانَ مَعَهَا فِي الدَّارِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمُوا». قَالَ عَبْدُ الْجَلِيلِ: وَحَدَّثَنِي شَيْبَةُ قَالَ: كَانَتْ رَوْضَةُ مَعِي فِي الدَّارِ فِي بَنِي سُلَيْمٍ، إِذَا اشْتَرَى الْجِيرَانُ مَمْلُوكًا أَوْ خَادِمًا، أَوْ ثَوْبًا أَوْ طَعَامًا قَالُوا لَهَا: يَا رَوْضَةُ، ضَعِي يَدَكِ عَلَيْهِ، فَكَانَتْ كُلُّ شَيْءٍ تَمَسُّهُ فِيهِ الْبَرَكَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Rawḍah رضي الله عنها reported she was a maid to a Madinan woman, when the Messenger of Allah ﷺ emigrated from Makkah her mistress ordered her to watch the door for the man and inform her, she stood, the Prophet ﷺ came with companions, she grasped his cloak's edge and he smiled in her face, Shaybah adding he thought he wiped his hand upon her head, she told her mistress the man had come, her mistress and household came out, he offered Islam and they accepted, and ʿAbd al-Jalīl added Shaybah told him Rawḍah lived with him among Banū Sulaym such that neighbors buying a slave, servant, garment or food asked her to place her hand upon it and everything she touched held blessing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں مدینہ منورہ کی ایک خاتون کی کنیز تھی جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو میری مالکن نے مجھ سے کہا : اے روضہ ! تم گھر کے دروازے پر کھڑی ہو جاؤ ، جب یہ صاحب یہاں سے گزریں تو مجھے اس بارے میں بتا دینا ، تو میں کھڑی ہو گئی ، نبی اکرم ﷺ اپنے چند اصحاب سمیت ان لوگوں کے ہاں آئے تو میں نے آپ کی چادر کا کونہ پکڑ لیا ، تو آپ نے مسکرا کے میری طرف دیکھا ۔ شیبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا ، میں نے اپنی مالکن سے کہا : وہ صاحب تشریف لے آئے ہیں ، تو میری مالکن نکلیں اور ان کے ساتھ گھر کی دیگر خواتین بھی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے سامنے اسلام کی پیش کش کی تو ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ عبدالجلیل نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ شیبہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ بنو سلیم کے محلے میں ایک گھر میں رہی ہیں ، ان کے پڑوسیوں کا یہ معمول تھا کہ وہ جب بھی کوئی خادمہ یا ملازم یا کپڑا یا کھانا خریدتے تھے تو وہ اس خاتون سے یہ کہتے تھے : اے سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا ! آپ اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیں تو ہر وہ چیز جسے وہ چھو لیتی تھیں اس میں برکت ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15431

Majma al-Zawaid #15431

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that ʿĀtikah bint Zayd was under ʿAbdullāh ibn Abī Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عاتکہ بنت زید ، حضرت عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

15432

Majma al-Zawaid #15432

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: أُمُّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةُ اسْمُهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ ضَبِيسٍ الْكَعْبِيَّةُ الْخُزَاعِيَّةُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Umm Maʿbad al-Khuzāʿiyyah was ʿĀtikah bint Khālid ibn Munqidh ibn Ḍubays al-Kaʿbiyyah al-Khuzāʿiyyah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کا نام عاتکہ بنت خالد بن منقذ بن ضبیس کعبیہ خزاعیہ ہے ۔

15433

Majma al-Zawaid #15433

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ حَرَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ مَعْبَدٍ كَانَتْ تَجْرِي عَلَيْهَا كِسْوَةٌ، وَشَيْءٌ مِنْ غَلَّةِ الْيَمَنِ، وَقَطِرَانٌ لِإِبِلِهَا، فَمَرَّ عُثْمَانُ، فَقَالَتْ: أَيْنَ كِسْوَتِي؟ وَأَيْنَ غَلَّةُ الْيَمَنِ الَّتِي كَانَتْ تَأْتِينِي؟ قَالَ: هِيَ لَكِ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ عِنْدَنَا، وَاتَّبَعَتْهُ حَتَّى أَعْطَاهَا إِيَّاهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ حَرَامٍ، وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهَا فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي كِتَابِ الْمَغَازِي، وَلَهَا طَرِيقٌ آخَرُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn Ḥarām from his father reported that Umm Maʿbad received clothing, Yemeni produce, and pitch for her camels, when ʿUthmān passed she demanded where her clothing and Yemeni produce due to her were, he affirmed they were hers with them, and she followed him till he gave them to her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن حرام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کا لباس تھا اور یمن سے آنے والا کچھ غلہ تھا اور ان کے اونٹوں کا قطران ( تارکول کی مانند ایک چیز جو بعض درختوں سے بنائی جاتی ہے ) تھا ، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور بولیں : میرا لباس کہاں ہے ، اور میرا یمن کا غلہ کہاں ہے ؟ جو میرے پاس آنا تھا ، تو انہوں نے کہا : اے ام معبد ! وہ آپ کا ہے ، اور ہمارے پاس ہے ، پھر سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں ، یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ چیزیں انہیں دے دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہشام بن حرام اور ان کے والد ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں ان کا پورا واقعہ کتاب المغازی میں گزر چکا ہے ، اور اس کا ایک اور طریق علامات نبوت سے متعلق باب میں گزر چکا ہے جو نبی اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک سے متعلق باب میں ہے ۔

15434

Majma al-Zawaid #15434

عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ قَالَ: قَبْرُ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُسَ، وَهُمْ يَقُولُونَ: هَذَا قَبْرُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn al-Ghāz reported that the grave of Umm Ḥarām bint Milḥān is in Cyprus, people saying this is the grave of the righteous woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن غاز بیان کرتے ہیں : سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کو قبرس میں دفن کیا گیا اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک نیک خاتون کی قبر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے قائل تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15435

Majma al-Zawaid #15435

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: فَاطِمَةُ بِنْتُ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ، تُكَنَّى أُمَّ جَمِيلٍ، أُخْتُ عُمَرَ قَدِيمَةُ الْإِسْلَامِ، أَسْلَمَتْ قَبْلَ عُمَرَ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Fāṭimah bint al-Khaṭṭāb ibn Nufayl, called Umm Jamīl, sister of ʿUmar, early in Islam accepting before ʿUmar, was the wife of Saʿīd ibn Zayd ibn ʿAmr ibn Nufayl رضي الله عنهما.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت خطاب بن نفیل رضی اللہ عنہا ، ان کی کنیت ام جمیل ہے یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، انہوں نے شروع میں اسلام قبول کر لیا تھا انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا ، یہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ۔

15436

Majma al-Zawaid #15436

«عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟ ". فَقَالُوا: بَنَتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ ". - يَعْنِي الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ -».

EnglishUnverified translation

Umm Khālid bint al-Aswad ibn ʿAbd Yaghūth رضي الله عنها entered upon the Prophet ﷺ, he asked who she was, they said the daughter of al-Aswad ibn ʿAbd Yaghūth, and he praised Allah who brings the living from the dead, meaning the believer from the disbeliever. > **"Praise belongs to Allah who brings the living from the dead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام خالد رضی اللہ عنہا بنت اسود بن عبدیغوث کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ اسود بن عبدیغوث کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو مردہ میں سے زندہ نکالتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ وہ کافر میں سے مومن کو نکال دیتا ہے ۔

15437

Majma al-Zawaid #15437

وَفِي رِوَايَةٍ: «دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ هَذِهِ؟ "". فَقَالُوا: بَعْضُ خَالَاتِكَ، فَقَالَ: "" إِنَّ خَالَاتِي فِي هَذِهِ الْأَرْضِ لَغَرَائِبُ، مَنْ هَذِهِ؟ "". قَالُوا: أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ: "" سُبْحَانَ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet ﷺ entered asking who she was, they said some maternal aunt of his, he remarked his maternal aunts in this land were strangers and asked again, they said Umm Khālid bint al-Aswad ibn ʿAbd Yaghūth, and he glorified Him who brings the living from the dead. > **"Glory to Him who brings the living from the dead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ آپ کی ننھیالی عزیزہ ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سرزمین پر میری خالاؤں کا ہونا حیران کن بات ہے ، یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ پاک ہے وہ ذات جو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اس میں دوسری سند حسن ہے ۔

15438

Majma al-Zawaid #15438

«عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ عُمَرَ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that Ṣafiyyah bint ʿUmar was with the Messenger of Allah ﷺ on the day of Ḥunayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں غزوہ حنین کے موقع پر سیدہ صفیہ بنت عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15439

Majma al-Zawaid #15439

«عَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَا أَرْعَى، فَقَالَ: "" يَا سَلَّامَةُ، بِمَا تَشْهَدِينَ؟ "". قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمُّ دَاوُدَ الْوَابِشِيَّةُ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sallāmah bint al-Ḥurr رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ passed her in early Islam while she grazed, asking what she testified, she testified none had right to worship but Allah and Muḥammad was Allah's Messenger, and he smiled laughing. > **"O Sallāmah, in what do you testify?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابتداء اسلام میں نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے ، میں بکریاں چرا رہی تھی ، آپ نے فرمایا : اے سلامہ ! تم کس چیز کی گواہی دیتی ہو ؟ میں نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اُم داؤد وابشیہ ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15440

Majma al-Zawaid #15440

عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ سَمْرَاءَ بِنْتَ نَهِيكٍ - وَكَانَتْ قَدْ أَدْرَكَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا دُرُوعٌ غَلِيظَةٌ، وَجُمَّارٌ غَلِيظَةٌ، بِيَدِهَا سَوْطٌ تُؤَدِّبُ النَّاسَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Abī Sulaym reported he saw Samrāʾ bint Nuhayk who had reached the Prophet ﷺ wearing coarse armor and coarse veil, whip in hand disciplining people, commanding good and forbidding evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن ابوسلیم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ سمراء بنت نہیک رضی اللہ عنہا کو دیکھا ہے اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ، اس خاتون نے موٹی قمیص اور موٹی چادر پہنی ہوئی تھی ، ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے وہ لوگوں کو ادب سکھاتی تھیں ، وہ نیکی کا حکم دیتی تھیں اور برائی سے منع کرتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15441

Majma al-Zawaid #15441

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ أُمُّ مُعَاوِيَةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Hind bint ʿUtbah ibn Rabīʿah ibn ʿAbd Shams ibn ʿAbd Manāf was the mother of Muʿāwiyah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ہیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔

15442

Majma al-Zawaid #15442

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَهَبٍّ الطَّائِيِّ قَالَ: كَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ عِنْدَ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ، وَكَانَ الْفَاكِهُ مِنْ فِتْيَانِ قُرَيْشٍ، وَكَانَ لَهُ بَيْتٌ لِلضِّيَافَةِ يَغْشَاهُ النَّاسُ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ، فَخَلَّى ذَلِكَ الْبَيْتَ يَوْمًا، وَاضْطَجَعَ الْفَاكِهُ وَهِنْدُ وَقْتَ الْقَائِلَةِ، ثُمَّ خَرَجَ الْفَاكِهُ فِي بَعْضِ حَاجَاتِهِ، وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَغْشَاهُ، فَوَلَجَ الْبَيْتَ، فَلَمَّا رَأَى الْمَرْأَةَ وَلَّى هَارِبًا، فَأَبْصَرَهُ الْفَاكِهُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْبَيْتِ، فَأَقْبَلَ إِلَى هِنْدٍ فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي كَانَ عِنْدَكِ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ عِنْدِي أَحَدٌ وَمَا انْتَبَهْتُ حَتَّى أَنْبَهْتَنِي. قَالَ: الْحَقِي بِأَبِيكِ، وَتَكَلَّمَ فِيهَا النَّاسُ، فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا: يَا بُنَيَّةُ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِيكِ فَنَبِّئِينِي نَبَأَكِ، فَإِنْ يَكُنِ الرَّجُلُ عَلَيْكِ صَادِقًا دَسَسْتُ لَهُ مَنْ يَقْتُلُهُ ; فَيَنْقَطِعُ عَنْكِ الْفَاكِهُ، وَإِنْ يَكْ كَاذِبًا حَاكَمْتُهُ إِلَى بَعْضِ كُهَّانِ الْيَمَنِ، فَحَلَفَتْ لَهُ بِمَا كَانُوا يَحْلِفُونَ بِهِ أَنَّهُ لَكَاذِبٌ عَلَيْهَا. فَقَالَ لِلْفَاكِهِ: يَا هَذَا، إِنَّكَ رَمَيْتَ ابْنَتِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، فَحَاكِمْنِي إِلَى بَعْضِ كُهَّانِ الْيَمَنِ. فَخَرَجَ عُتْبَةُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَخَرَجَ الْفَاكِهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، وَخَرَجَتْ مَعَهُمْ هِنْدٌ فِي نِسْوَةٍ مَعَهَا. فَلَمَّا شَارَفُوا الْبِلَادَ قَالُوا: نَرِدُ عَلَى الْكَاهِنِ فَتَنَكَّرَ حَالُ هِنْدٍ، وَتَغَيَّرَ وَجْهُهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا: إِنِّي أَرَى مَا بِكِ مِنْ تَنَكُّرِ الْحَالِ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَكْرُوهٍ عِنْدَكِ، أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ يَشْهَدَ النَّاسُ مَسِيرَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ يَا أَبَتَاهُ، مَا ذَاكَ لِمَكْرُوهٍ، وَلَكِنْ أَعْرِفُ أَنَّكُمْ تَأْتُونَ بَشَرًا يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، وَلَا آمَنُ أَنْ يَسِمَنِي بِسِمَةٍ تَكُونُ عَلَيَّ سُبَّةً فِي الْعَرَبِ. فَقَالَ: إِنِّي أَخْتَبِرُهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْظُرَ فِي أَمْرِكِ. فَصَفَّرَ بِفَرَسِهِ حَتَّى أَدْلَى، ثُمَّ أَخَذَ حَبَّةً مِنْ بُرٍّ فَأَدْخَلَهَا فِي إِحْلِيلِهِ وَأَوْكَأَ عَلَيْهَا بِسَيْرٍ، فَلَمَّا صَبَّحُوا الْكَاهِنَ أَكْرَمَهُمْ وَنَحَرَ لَهُمْ، فَلَمَّا تَغَدَّوْا قَالَ لَهُ عُتْبَةُ: إِنَّا قَدْ جِئْنَاكَ فِي أَمْرٍ، وَإِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا أَخْتَبِرُكَ بِهِ، فَانْظُرْ مَا هُوَ. قَالَ: تَمْرَةٌ فِي كَمَرَةٍ. قَالَ: أُرِيدُ أَبْيَنَ مِنْ هَذَا. قَالَ: حَبَّةٌ مِنْ بُرٍّ فِي إِحْلِيلِ مُهْرٍ. قَالَ: صَدَقْتَ، فَانْظُرْ فِي أَمْرِ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةِ. فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ وَيَضْرِبُ كَتِفَهَا، وَقَالَ: قُومِي غَيْرَ وَحْشَاءَ وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَتَلِدَنَّ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ: مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ إِلَيْهَا الْفَاكِهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، فَنَثَرَتْ يَدَهَا مِنْ يَدِهِ وَقَالَتْ: إِلَيْكَ، فَوَاللَّهِ لَأَحْرِصَنَّ عَلَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِكَ. فَتَزَوَّجَهَا أَبُو سُفْيَانَ فَجَاءَتْ بِمُعَاوِيَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥumayd ibn Muhabb al-Ṭāʾī reported that Hind bint ʿUtbah was with al-Fākih ibn al-Mughīrah al-Makhzūmī, a Qurashī youth with a guest house entered without permission, one day the house was empty while al-Fākih and Hind napped at midday, al-Fākih left for a need, a frequenter entered, seeing the woman fled, al-Fākih saw him leaving, struck Hind with his foot demanding who was with her, she swore none was and she awoke only when he woke her, he ordered her to her father, people talked, her father demanded the truth promising to have the man killed if truthful or to contest before a Yemeni soothsayer if lying, she swore by their oaths he lied, he challenged al-Fākih to the soothsayer, ʿUtbah set out with ʿAbd Manāf folk, al-Fākih with Makhzūm folk, Hind with women, nearing the land her state changed, her father feared disgrace before witnesses, she denied wrongdoing but feared fallible man branding her with lasting shame, he tested the soothsayer first by whistling his horse till it exposed, inserting a wheat grain into its sheath tied with a strap, next morning after honor and slaughter ʿUtbah asked him to divine the hidden test, he said a date in a sheath, pressed for clearer he said a wheat grain in a foal's sheath, confirmed truthful he bade him examine the women, he approached each striking her shoulder declaring her innocent till Hind, striking her shoulder declaring she would rise neither wild nor adulteress and would bear a boy called Muʿāwiyah, al-Fākih took her hand, she withdrew declaring by Allah she would strive it be from another, then Abū Sufyān married her and she bore Muʿāwiyah. > **"Rise, neither wild nor adulteress, and you shall bear a boy called Muʿāwiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن منہب طائی بیان کرتے ہیں : سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا ، فاکہہ بن مغیرہ مخزومی کی اہلیہ تھیں ، فاکہہ قریش کے نوجوانوں میں سے ایک تھے ، ان کا مہمانوں کے لئے ایک مخصوص کمرہ تھا جہاں لوگ اجازت لیے بغیر اندر آ سکتے تھے ، ایک دن گھر میں اور کوئی نہیں تھا صرف فاکہہ اور ہند دوپہر کے وقت آرام کے لئے لیٹے ہوئے تھے ، پھر فاکہہ کسی کام کے سلسلے میں باہر چلے گئے اسی دوران ان کا ایک ملاقاتی آ گیا اور گھر کے اندر داخل ہو گیا ، جب اس نے دیکھا کہ اندر خاتون ہیں ، تو وہ اس وقت جلدی سے واپس چلا گیا ، فاکہہ نے اس شخص کو دیکھ لیا جو گھر سے نکل رہا تھا ، وہ ہند کے پاس آئے ، انہیں پاؤں مارا اور دریافت کیا : وہ شخص کون تھا ؟ جو ابھی تمہارے پاس تھا ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میرے پاس تو کوئی بھی نہیں تھا اور میں تو اس وقت بیدار ہوئی ہوں جب آپ نے مجھے ہلایا ہے ، تو فاکہہ نے کہا : تم اپنے باپ کے پاس چلی جاؤ ، لوگوں نے اس بارے میں بات چیت شروع کر دی ، تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کے والد نے ان سے کہا : اے میری بیٹی ! لوگ تمہارے بارے میں بہت زیادہ باتیں کر رہے ہیں ، تم مجھے اصل صورت حال کے بارے میں بتاؤ ، اگر تو وہ شخص تمہارے بارے میں سچ بول رہا ہے تو پھر میں اس کے لئے کسی شخص کو تیار کرتا ہوں جو اسے قتل کر دے اور اگر وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے ، تو پھر میں یمن کے کسی کاہن کے سامنے تمہارا مقدمہ پیش کرتا ہوں ، اور لوگ جس طرح حلف اٹھاتے ہیں اس طرح میں بھی حلف اٹھا لوں گا کہ وہ شخص اس بارے میں جھوٹا ہے ، پھر عتبہ نے فاکہہ سے کہا : اے شخص تم نے میری بیٹی پر بہت بڑا الزام لگایا ہے اب تم میرے ساتھ یمن کے کسی کاہن کے سامنے مقدمہ پیش کرو ، عتبہ ، بنو عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کے نکلا اور فاکہہ بنو مخزوم کے لوگوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کے نکلا اور سیدہ ہند رضی اللہ عنہا ان لوگوں کے ہمراہ چند خواتین سمیت نکلیں ، یہ لوگ مختلف علاقوں سے گزرتے رہے ، لوگوں نے کہا : ہم کاہن کے پاس جانے والے ہیں اور ہند کی حالت تبدیل ہو رہی ہے ، اور اس کا چہرہ متغیر ہو رہا ہے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کے والد نے ان سے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری حالت تبدیل ہو رہی ہے اور اس کی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ یہ چیز تمہارے نزدیک ناپسندیدہ ہے ، لوگوں کے ہمارے سفر میں شریک ہونے سے پہلے ایسا کیوں نہیں ہوا ؟ تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! اے ابا جان ! میں نے وہ غلط کام نہیں کیا ، بلکہ مجھے یہ خیال آ رہا تھا کہ آپ لوگ ایک انسان کے پاس جا رہے ہیں جو غلط بھی ہو سکتا ہے اور ٹھیک بھی ہو سکتا ہے ، اور اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ وہ مجھ پر کوئی الزام لگا دے ، تو یہ ہمیشہ کے لئے میرے لئے الزام بن جائے گا ، تو عتبہ نے کہا : میں تمہارے معاملے میں اس کا جائزہ لینے سے پہلے اس کا امتحان لوں گا ، عتبہ نے اپنے گھوڑے کے کان میں سیٹی بجائی تو اس کی شرمگاہ منتشر ہو گئی ، پھر عتبہ نے گندم کا ایک دانا لیا اور وہ اس کی شرمگاہ کے سوراخ میں داخل کر کے اس پر کپڑا باندھ دیا ، اگلے دن صبح جب وہ لوگ کاہن کے پاس پہنچے تو کاہن نے ان کی مہمان نوازی کی ، ان کے لئے جانور قربان کیا ، پھر عتبہ نے اس سے کہا : ہم آپ کے پاس ایک کام کے سلسلے میں آئے ہیں ، لیکن اس سے پہلے میں نے آپ کے لئے ایک چیز چھپا کے رکھی ہے ، آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے اور جائزہ لیں کہ وہ کیا ہے ، تو اس نے کہا : نر کی شرمگاہ میں دانہ ہے ، عتبہ نے کہا : میں اس سے زیادہ واضح چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا : گندم کا دانہ ، گھوڑے کی شرمگاہ کے اندر ہے ، عتبہ نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ، اب آپ ان خواتین کے معاملے کا جائزہ لیں ، تو وہ شخص ان میں سے ہر ایک خواتین کے پاس آتا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اور یہ کہتا : تم پرے ہو جاؤ ، یہاں تک کہ وہ ہند کے قریب آیا ، اس نے ہند کے کندھے پر ہاتھ مارا اور بولا : تم کھڑی ہو جاؤ ، ایسی حالت میں کہ نہ تمہیں وحشت ہو اور نہ ہی تم زنا کرنے والی ہو اور تم ایک لڑکے کو جنم دو گی ، جس کا نام معاویہ ہو گا ، تو فاکہہ اٹھ کر اس خاتون کے پاس آیا ، اس نے سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑا تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑا لیا اور بولیں : تم چلے جاؤ ! اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ وہ بچہ تمہارے علاوہ کسی اور سے ہو ۔ پھر بعد میں حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے اور وہ مجہول ہے ۔

15443

Majma al-Zawaid #15443

عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ قَالَتْ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّيْتُ مَعَهُ بَعْضَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُمْتُ وَنَظَرَ إِلَيَّ - وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً - فَقَالَ: "" إِنْ كَانَ ابْنُ هَذِهِ لَيُقَاتِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحَاجِزِ "". قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ كَانَ لَكَذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ. قَالَتْ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا. قَالَتْ: وَمَعِي ثَلَاثُ بَنَاتٍ، فَكَتَبَ: "" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِقَيْلَةَ وَالنِّسْوَةِ الثَّلَاثِ، لَا يُظْلَمْنَ حَقًّا، وَلَا يُسْتَكْرَهْنَ عَلَى نِكَاحٍ، وَكُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُسْلِمٍ لِي وَلَهُنَّ نَاصِرٌ، وَأَحْسِنَّ وَلَا تُسِئْنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qaylah bint Makhramah رضي الله عنها reported she came to the Prophet ﷺ praying part of the prayer with him, when he finished she stood, he looked at her, a tall woman, remarking her son would have fought behind the barrier, she swore he was so O Messenger of Allah but had died, asked for a document, having three daughters, so he wrote from Muḥammad Allah's Messenger to Qaylah and the three women that their right not be wronged nor coerced into marriage, every believer and Muslim was helper to him and them, enjoining kindness without harm. > **"From Muḥammad Allah's Messenger to Qaylah and the three women: they shall not be wronged in right nor coerced into marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں ایک نماز ادا کی ، جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں کھڑی ہو گئی ، آپ نے میری طرف دیکھا ، راوی کہتے ہیں : وہ ایک طویل القامت خاتون تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اس خاتون کا بیٹا رکاوٹ کے پیچھے سے جنگ میں حصہ لیتا ( تو یہ مناسب ہوتا ) اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر وہ ہوتا تو ایسا ہی ہوتا ، یا رسول اللہ ! لیکن اس کا انتقال ہو چکا ہے ، پھر اس خاتون نے عرض کی : آپ میرے لئے تحریر لکھوا دیں ، اُس خاتون نے عرض کی : میری تین بیٹیاں ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ تحریر لکھوائی : ’’ یہ اللہ کے رسول ، حضرت محمد ﷺ کی طرف سے قیلہ اور تین خواتین کے لئے کہ ان کے حق کے حوالے سے ( تحریر ہے ) ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے ، شادی کے بارے میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کی جائے گی ، مجھ پر ایمان رکھنے والا ، اسلام قبول کرنے والا ہر فرد ، ان کا مددگار ہو گا اور ان کے ساتھ اچھائی کی جائے گی ، ان کے ساتھ برائی نہیں کی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15444

Majma al-Zawaid #15444

«وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَرْبُوعِيِّ قَالَتْ: ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَمَا وَرَدَتْ عَلَى أَبِي الْإِبِلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِبِنْتِي هَذِهِ بِالْبَرَكَةِ. قَالَتْ: فَأَجْلَسَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jamrah bint ʿAbdillāh al-Yarbūʿiyyah رضي الله عنها reported her father took her to the Prophet ﷺ after camels came to him, asking Allah's blessing for his daughter, so the Prophet ﷺ seated her in his lap, placed his hand upon her head, and supplicated for blessing for her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ جمرہ بنت عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، یہ اُس کے بعد کی بعد بات ہے کہ میرے والد کے پاس اونٹ آ گئے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری اس بیٹی کے لئے برکت کی دعا کیجئے ، راوی کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا ، آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15445

Majma al-Zawaid #15445

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: التَّوْأَمَةُ بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ. لَهَا ذِكْرٌ وَلَا حَدِيثَ لَهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that al-Tawʾamah bint Umayyah ibn Khalaf was mentioned though no narration came from her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ توامہ بنت اُمیہ بن خلف رضی اللہ عنہا ان کا تذکرہ ملتا ہے ، لیکن اُن کے حوالے سے کوئی حدیث منقول نہیں ہے ۔

15446

Majma al-Zawaid #15446

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [عَبْدِ] الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ: صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَهِيَ بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥakam ibn Abī Ziyād reported that Ṣāliḥ was the freedman of al-Tawʾamah, daughter of Umayyah ibn Khalaf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حکم بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : صالح نامی شخص سیدہ توامہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا اور وہ خاتون امیہ بن خلف کی صاحبزادی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15447

Majma al-Zawaid #15447

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: تَمِيمَةُ بِنْتُ وَهْبٍ، وَهِيَ الَّتِي طَلَّقَهَا رَفَاعَةُ - بِنْتُ سَمُوأَلٍ، لَهَا ذِكْرٌ وَلَا حَدِيثَ لَهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Tamīmah bint Wahb, divorced by Rifāʿah ibn Samawʾal, was mentioned though no narration came from her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ تمیمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ، یہ وہ خاتون ہیں ، جنہیں حضرت رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تھی ، ان کا تذکرہ ملتا ہے ، لیکن ان کے حوالے سے کوئی حدیث مذکور نہیں ہے ۔