Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 28

Book of Virtues and Merits

Hadith 15368–15407

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15368

Majma al-Zawaid #15368

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَائِذِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ - وَاسْمُ الْمُصْطَلِقِ خُزَيْمَةُ - يَوْمَ وَاقَعَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported that the Messenger of Allah ﷺ took captive Juwayriyah bint al-Ḥārith ibn Abī Ḍirār ibn al-Ḥārith ibn ʿĀʾidh ibn Mālik ibn al-Muṣṭaliq of Khuzāʿah, al-Muṣṭaliq being Khuzaymah, the day he encountered Banū al-Muṣṭaliq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث بن ابوضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق ، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے سے ہے ، اور مصطلق کا نام خزیمہ تھا تو غزوہ بنو مصلطق کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15369

Majma al-Zawaid #15369

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ مِلْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهَا، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَعْتَقَ كُلَّ أَسِيرٍ مَنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reported that Juwayriyah was the property of the Messenger of Allah ﷺ, so he freed her making her freedom her dowry, and freed every Banū al-Muṣṭaliq captive.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی ملکیت میں آئی تھیں نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا تھا اور آپ نے بنو مصطلق کے ہر قیدی کو آزاد کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15370

Majma al-Zawaid #15370

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَفْخَرْنَ عَلَيَّ، وَيَقُلْنَ: لَمْ يَتَزَوَّجْكِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَوَلَمْ أُعْظِمْ صَدَاقَكِ؟ أَلَمْ أُعْتِقْ أَرْبَعِينَ مِنْ قَوْمِكِ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid reported that Juwayriyah told the Prophet ﷺ his wives boasted over her claiming the Prophet ﷺ had not married her, and he asked had he not magnified her dowry and freed forty of her people. > **"Did I not magnify your dowry? Did I not free forty of your people?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : آپ کی ازواج میرے مقابلے میں فخر کا اظہار کرتی ہیں اور وہ یہ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے تمہارے ساتھ شادی نہیں کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا میں نے تمہیں بھاری مہر نہیں دیا ، کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو ( مہر کے طور پر ) آزاد نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15371

Majma al-Zawaid #15371

وَعَنْ شَبَابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ: مَاتَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَنَةَ سِتٍّ وَخَمْسِينَ.

EnglishUnverified translation

Shabāb al-ʿUṣfurī reported that Juwayriyah bint al-Ḥārith, wife of the Prophet ﷺ, died in year fifty-six.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب عصفری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا انتقال چھپن ہجری میں ہوا تھا ۔

15372

Majma al-Zawaid #15372

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَصَفِيَّةُ عَرُوسٌ فِي مَجَاسِدِهَا، فَرَأَتْ فِي الْمَنَامِ أَنَّ الشَّمْسَ وَقَعَتْ عَلَى صَدْرِهَا، فَقَصَّتْهَا عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَمَنَّيْنَ إِلَّا هَذَا الْمَلِكَ الَّذِي نَزَلَ بِنَا. فَافْتَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ عُنُقَ زَوْجِهَا صَبْرًا، وَتَعَرَّضَ لَهَا مَنْ هُنَالِكَ مِنْ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَلْقَى لَهُمْ تَمْرًا عَلَى سَفِيفٍ، وَقَالَ: "" كُلُوا وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ descended upon Khaybar with Ṣafiyyah a bride in her adornments, she had dreamed the sun fell upon her breast and told her husband, who swore she desired only the king who had descended upon them, so the Messenger of Allah ﷺ conquered it, struck her husband's neck in retribution, youths of the Messenger of Allah ﷺ vied for her, the Messenger of Allah ﷺ married her, cast dates upon a mat and told them to eat the Messenger's walīmah over Ṣafiyyah. > **"Eat the walīmah of the Messenger of Allah over Ṣafiyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب خیبر میں پڑاؤ کیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ سورج ان کے سینے پر آ گیا ہے ، انہوں نے یہ خواب اپنے شوہر کو سنایا تو ان کے شوہر نے کہا : اللہ کی قسم تم اس بادشاہ کے ساتھ شادی کرنے کی آرزو مند ہو جو ہمارے علاقے میں آیا ہوا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے خیبر فتح کیا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو باندھ کر اس کی گردن کو اڑا دیا گیا ، نبی اکرم ﷺ کے شہسواروں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو گرفتار کر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے ولیمے میں کھجوریں دسترخوان پر رکھوائیں اور فرمایا : اللہ کے رسول کی صفیہ کے ساتھ شادی کا ولیمہ کھاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

15373

Majma al-Zawaid #15373

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةٌ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ بِعَيْنَيْكِ؟ "". قَالَتْ: قُلْتُ لِزَوْجِي: إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَلَطَمَنِي وَقَالَ: أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ قَالَتْ: أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ وَمَا كَانَ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ أَبِي وَزَوْجِي، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَقَالَ: "" يَا صَفِيَّةُ، إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ، وَفَعَلَ وَفَعَلَ "". حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that Ṣafiyyah had greenness in her eyes, the Prophet ﷺ asked its cause, she said she told her husband she dreamed as sleepers see a moon falling in her lap, so he slapped her accusing her of desiring the king of Yathrib, and she added none was more hateful to her than the Messenger of Allah ﷺ who had killed her father and husband, but he kept excusing himself explaining O Ṣafiyyah her father had incited the Arabs against him and done such and such till it left her soul. > **"O Ṣafiyyah, your father incited the Arabs against me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کا رنگ سبز تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ تمہاری آنکھوں کا رنگ سبز کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا کہ میں نے اپنے سابقہ شوہر سے یہ کہا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ جیسے چاند میری گود میں آ گیا ، تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا : کیا تم یثرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی نہیں تھا ، جنہوں نے میرے والد اور میرے شوہر کو قتل کروایا تھا ، لیکن نبی اکرم ﷺ مسلسل میرے سامنے وجہ بیان کرتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! تمہارے والد نے عربوں کو میرے خلاف کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ چیز میرے دل سے رخصت ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15374

Majma al-Zawaid #15374

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُسْطَاطَهُ، حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ لِي فِيهَا قِسْمٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ "". فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشَاءِ حَضَرْنَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوُ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرِ عَجْوَةٍ، فَقَالَ: "" كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that when Ṣafiyyah bint Ḥuyayy رضي الله عنها entered the tent of the Messenger of Allah ﷺ, people including himself gathered expecting a share in her, so the Messenger of Allah ﷺ came out telling them to rise from their mother, and at evening they gathered, he came out with about a mudd and a half of ʿajwah dates in his cloak's edge telling them to eat their mother's walīmah. > **"Rise from your mother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے خیمے میں آئیں تو وہاں کچھ لوگ موجود تھے ان کے ساتھ میں بھی موجود تھا تاکہ اس بارے میں مجھے بھی حصہ ملے ، نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ ، جب رات کے کھانے کا وقت ہوا تو ہم پھر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے چادر میں ڈیڑھ مد کے لگ بھگ عجوہ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ نے فرمایا : اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15375

Majma al-Zawaid #15375

«وَعَنْ رَزِينَةَ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَذِرَاعُهَا فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ، وَأَعْتَقَهَا، وَخَطَبَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، وَأَمْهَرَهَا زُرْبَيَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ مِنْ طَرِيقِ عَلِيلَةَ بِنْتِ الْكُمَيْتِ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ، عَنْ أَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رَزِينَةَ، وَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ. وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِمَا فِي الصَّحِيحِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Razīnah رضي الله عنها reported that on the day of Qurayẓah and al-Naḍīr the Messenger of Allah ﷺ brought Ṣafiyyah bint Ḥuyayy holding her forearm in his hand, when she saw the captives she testified none had right to worship but Allah and he was Allah's Messenger, so he released her forearm, freed her, proposed, married her, and dowered her a zurbiyyah garment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے دن نبی اکرم ﷺ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے آئے ، ان کی کلائی نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں تھی ، جب انہوں نے قیدیوں کو دیکھا تو یہ کہا : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کی کلائی چھوڑ دی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا ، انہیں شادی کا پیغام دیا اور پھر ان کے ساتھ شادی کر لی ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں مہر کے طور پر ( ٹیک لگانے والا ) تکیہ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت علیلہ بنت کمیت کے حوالے سے ان کی والدہ امینہ سے نقل کی ہے ، اور ان کے حوالے سے امۃ اللہ بنت رزینہ سے نقل کی ہے ، اور ان تینوں خواتین سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور یہ روایت اس روایت کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15376

Majma al-Zawaid #15376

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ took captive Ṣafiyyah bint Ḥuyayy ibn Akhṭab of Banū al-Naḍīr among what Allah granted him as fayʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے تھا ، انہیں قیدی بنا لیا ، یہ خاتون اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15377

Majma al-Zawaid #15377

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَهِيَ عَرُوسٌ بِكِنَانَةَ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ. رَوَى الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported that the Messenger of Allah ﷺ took captive Ṣafiyyah bint Ḥuyayy ibn Akhṭab of Banū al-Naḍīr on the day of Ḥunayn, a bride with Kinānah ibn Abī al-Ḥuqayq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے ، انہیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی بنایا تھا اور وہ خاتون کنانہ بن ابوحقیق کی بیوی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔

15378

Majma al-Zawaid #15378

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ صَفِيَّةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْجَارِيَةِ؟ "". قَالُوا: نَقُولُ: إِنَّكَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا وَأَحَقُّهُمْ. قَالَ: "" فَإِنِّي أَعْتَقْتُهَا وَاسْتَنْكَحْتُهَا، وَجَعَلْتُ عِتْقَهَا مَهْرَهَا "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْوَلِيمَةُ. قَالَ: "" الْوَلِيمَةُ حَقٌّ، وَالثَّانِيَةُ مَعْرُوفٌ، وَالثَّالِثَةُ فَخْرٌ وَحَرَجٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Waḥshī ibn Ḥarb رضي الله عنه reported that when Allah granted the Prophet ﷺ Ṣafiyyah he asked his Companions their view of the girl, they said he was worthiest and most entitled, so he declared he had freed and married her making her freedom her dowry, a man mentioned walīmah, and he declared walīmah obligatory, the second customary, the third pride and hardship. > **"I have freed her, married her, and made her freedom her dowry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا مال فے کے طور پر دے دیں تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اس کنیز کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو لوگوں نے کہا : ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس خاتون کے بارے میں لوگوں سے زیادہ لائق ہیں اور زیادہ حق رکھتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر میں اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لیتا ہوں اور اس کی آزادی کو اس کا مہر بنا دیتا ہوں ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولیمہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ولیمہ حق ہے ، اور دوسرے دن ( کھانا کھلانا ) نیکی ہے اور تیسرے دن فخر ہے ، اور گناہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15379

Majma al-Zawaid #15379

«وَعَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنَّ قَوْمَكِ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا ". قَالَتْ: فَمَا قُمْتُ مِنْ مَقْعَدِي وَمِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ».

EnglishUnverified translation

Ṣafiyyah رضي الله عنها reported she reached the Messenger of Allah ﷺ with none more hateful to her than him, he told her her people had done such and such, and she did not rise from her seat with any more beloved to her than him. > **"Your people did such and such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تو لوگوں میں کوئی بھی میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری قوم کے افراد نے یہ کیا اور وہ کیا ۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو وہاں اس جگہ سے میرے اٹھنے سے پہلے لوگوں میں کوئی بھی میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔

15380

Majma al-Zawaid #15380

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ قَطُّ أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجْزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ، فَيَضْرِبُ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ، فَيَمَسُّ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: "" يَا هَذِهِ مَهْلًا، يَا بِنْتَ حُيَيٍّ "". حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءُ قَالَ: "" أَمَا إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكِ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا وَكَذَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ لَمْ يُدْرِكْ صَفِيَّةَ، وَفِي رِجَالِ هَذِهِ رَبِيعُ ابْنُ أَخِي صَفِيَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from her, she never saw better character than the Messenger of Allah ﷺ, recalling he mounted her behind his she-camel by night from Khaybar, she dozed and the saddle's back struck her head, he wiped with his hand saying gently O daughter of Ḥuyayy, till at al-Ṣahbāʾ he apologized O Ṣafiyyah for what he did to her people for they had told him such and such. > **"Gently, O daughter of Ḥuyayy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس خاتون کے حوالے سے یہ ایک روایت منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے خیبر سے مجھے رات کے وقت اپنی اونٹنی کی پشت پر سوار کروایا ، میں اونگھنے لگتی تھی اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرا جاتا تھا ، تو آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرماتے تھے ، ارے آرام سے اے حیی کی بیٹی ! یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ صہباء تشریف لے آئے ، تو آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے عذر بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کیا ، انہوں نے میرے بارے میں یہ یہ کچھ کہا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، پہلے طریق کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ حمید بن ہلال نامی راوی نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے رجال میں ربیع نامی راوی ہے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا بھتیجا ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15381

Majma al-Zawaid #15381

عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمُّ سَلَمَةَ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ، وَحَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، وَمَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، وَجُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، وَصَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ. اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ تِسْعَةً [بَعْدَ خَدِيجَةَ]، وَالْكِنْدِيَّةُ مِنْ بَنِي الْجَوْنِ، وَالْعَالِيَةُ بِنْتُ ظَبْيَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ كِلَابٍ، وَزَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ، وَامْرَأَةٌ مَنْ بَنِي هِلَالٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī listed the wives of the Messenger of Allah ﷺ as Khadījah bint Khuwaylid, ʿĀʾishah bint Abī Bakr, Umm Salamah bint Abī Umayyah, Ḥafṣah bint ʿUmar, Umm Ḥabībah bint Abī Sufyān, Maymūnah bint al-Ḥārith, Juwayriyah bint al-Ḥārith, Zaynab bint Jaḥsh, Sawdah bint Zamʿah, and Ṣafiyyah bint Ḥuyayy, nine gathered with him after Khadījah, besides the Kindiyyah of Banū al-Jawn, al-ʿĀliyah bint Ẓabyān of Banū ʿĀmir ibn Kilāb, Zaynab bint Khuzaymah, and a Hilāliyyah woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ازواج یہ ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ، سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا ، سیدہ سلمہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما ، سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ، سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ، سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ، سیده صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد یہ نو خواتین آپ کے ساتھ رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی کندی خاتون کے ساتھ اور عالیہ بنت ظبیان کے ساتھ جن کا تعلق بنو عامر بن کلاب سے ہے اور سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ، بنو ہلال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ بھی شادی کی تھی ۔

15382

Majma al-Zawaid #15382

قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: «لَمَّا أَنْ دَخَلَتِ الْكِنْدِيَّةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. قَالَ: "" عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported ʿUrwah ibn al-Zubayr informed him that when the Kindiyyah entered upon the Prophet ﷺ she said she sought refuge in Allah from him, so he told her she sought refuge in the Mighty and to join her family. > **"You have sought refuge in the Mighty, join your family."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : عروہ بن زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ جب کندیہ ( نامی خاتون ) نبی اکرم ﷺ کے ہاں آئیں تو انہوں نے کہا : میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ایک بڑی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15383

Majma al-Zawaid #15383

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported there was no woman with the Prophet ﷺ who had offered herself to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی ایسی خاتون نہیں تھیں ، جس خاتون نے اپنے آپ کو نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15384

Majma al-Zawaid #15384

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَتِيقِ بْنِ عَائِذٍ الْمَخْزُومِيِّ. ثُمَّ تَزَوَّجَ عَائِشَةَ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا. ثُمَّ تَزَوَّجَ بِالْمَدِينَةِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ. ثُمَّ تَزَوَّجَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكْرَانِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ - أَسَدُ خُزَيْمَةَ. ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَرَامٍ. ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ وَكَانَ اسْمُهَا هِنْدُ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى. ثُمَّ تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ. ثُمَّ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. وَسَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، مِنْ خُزَاعَةَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ، غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ. وَسَبَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، مِنْ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ. وَاسْتَسَرَّ رَيْحَانَةَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَلَحِقَتْ بِأَهْلِهَا، وَاحْتَجَبَتْ وَكَانَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا.، وَطَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ. وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيَّةَ ; مِنْ أَجْلِ بَيَاضٍ كَانَ بِهَا. وَتُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ الْهِلَالِيَّةُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ. وَبَلَغَنَا أَنَّ الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللَّهُ نِسَاءَهُ، وَنَكَحَتِ ابْنِ عَمٍّ لَهَا مِنْ قَوْمِهَا، وَوَلَدَتْ فِيهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَخْمِيمِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ رَوَاهُ مَرَّةً بِاخْتِصَارٍ مَوْقُوفًا عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ married Khadījah bint Khuwaylid previously under ʿAtīq ibn ʿĀʾidh al-Makhzūmī, then ʿĀʾishah at Makkah marrying no virgin besides her, then at Madīnah Ḥafṣah bint ʿUmar previously under Khunays ibn Ḥudhāfah al-Sahmī, then Sawdah bint Zamʿah previously under al-Sakrān ibn ʿAmr brother of Banū ʿĀmir ibn Luʾayy, then Umm Ḥabībah bint Abī Sufyān previously under ʿAbdullāh ibn Jaḥsh al-Asadī of Asad Khuzaymah, then Umm Ḥarām, then Umm Salamah bint Abī Umayyah named Hind previously under Abū Salamah ibn ʿAbd al-Asad ibn ʿAbd al-ʿUzzā, then Zaynab bint Jaḥsh previously under Zayd ibn Ḥārithah, then Maymūnah bint al-Ḥārith, took captive Juwayriyah bint al-Ḥārith ibn Abī Ḍirār of Banū al-Muṣṭaliq of Khuzāʿah in the Manāt-demolishing Muraysīʿ campaign, took captive Ṣafiyyah bint Ḥuyayy ibn Akhṭab of Banū al-Naḍīr among Allah's fayʾ, took Rayḥānah of Banū Qurayẓah as concubine then freed her so she joined her family veiled among them, divorced al-Ghāliyah bint Ẓabyān, separated from the sister of Banū ʿAmr ibn Kilāb and from the Jawniyyah Kindiyyah for whiteness upon her, Zaynab bint Khuzaymah al-Hilāliyyah died while the Messenger of Allah ﷺ lived, and it reached them al-Ghāliyah bint Ẓabyān married before Allah forbade his wives, wedding a cousin among her people and bearing among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے عتیق بن عائذ مخزومی کی اہلیہ تھیں پھر نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے حضرت خنیس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں ، جن کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے عبدااللہ بن جحش اسدی جن کا تعلق اسد خزیمہ سے ہے ، ان کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ، اس خاتون کا نام ہند تھا اور یہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابوزرعہ رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے کی شاخ بنو مصطلق سے ہے انہیں اس غزوہ میں قیدی بنایا جس غزوے کے دوران آپ نے مناة کو منہدم کیا تھا اور یہ غزوہ مریسیع ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے ، انہیں قیدی بنایا ، یہ خاتون اس میں شامل تھیں ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ نامی خاتون کو قیدی بنایا ، پھر آپ نے اسے آزاد کر لیا تو وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی گئیں ، انہوں نے حجاب کر لیا اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس ہی رہی ، نبی اکرم ﷺ نے غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون کو طلاق دے دی تھی ، آپ نے بنو عمرو بن کعب سے تعلق رکھنے والی خاتون سے علیحدگی اختیار کی تھی ، آپ نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی خاتون کندیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی ، جو ان کے جسم پر پھلبہری کے داغ کی وجہ سے تھی ، سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہو گیا تھا ، ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون نے اس سے پہلے شادی کر لی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ازواج ( کی کسی اور کے ساتھ شادی ) کو حرام قرار دیتا ، اس خاتون نے اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے چچا زاد کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ اخمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے ایک مرتبہ اختصار کے ساتھ یحیی بن ابوکثیر پر موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15385

Majma al-Zawaid #15385

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ عَشْرَةَ امْرَأَةً، مِنْهُنَّ سِتٌّ مِنْ قُرَيْشٍ وَوَاحِدَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْقُرَيْطِ، وَسَبْعٌ مِنْ سَائِرِ الْعَرَبِ، وَوَاحِدَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْهُنَّ غَيْرَهَا، فَأَوَّلُ مَنْ تَزَوَّجَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا بَعْدَ عَتِيقٍ أَبُو هَالَةَ هِنْدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ صُرَدِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ جَرَاوَةَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَيْمٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدُ بْنُ هِنْدٍ. قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ: فَمَرَّ هِنْدُ بِالْبَصْرَةِ مُجْتَازًا، فَهَلَكَ بِهَا، فَلَمْ يَقُمْ سُوقٌ وَلَا كَلَأٌ يَوْمَئِذٍ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَهُمَا، فَوَلَدَتْ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدَ مَنَافٍ، وَوَلَدَتْ لَهُ فِي الْإِسْلَامِ غُلَامَيْنِ وَأَرْبَعَ بَنَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reported that the Messenger of Allah ﷺ married fifteen women, six of Quraysh, one of Qurayẓah women, seven of other Arabs, one of Banū Isrāʾīl, marrying none of them in Jāhiliyyah besides her, first married in Jāhiliyyah was Khadījah bint Khuwaylid ibn Asad ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn Quṣayy previously under ʿAtīq ibn ʿAbdillāh ibn ʿUmar ibn Makhzūm, then after ʿAtīq under Abū Hālah Hind ibn Zurārah ibn Nabbāsh ibn Ḥabīb ibn Ṣurad ibn Salāmah ibn Jarāwah ibn Usayd ibn ʿAmr ibn Taym bearing him Hind ibn Hind, Zuhayr quoting Yūnus ibn ʿUbayd adding Hind passed through al-Baṣrah and perished there when no market nor pasture stood that day, then the Prophet ﷺ married her after them, she bore him ʿAbd Manāf in Jāhiliyyah and two boys and four girls in Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پندرہ خواتین کے ساتھ شادی کی تھی ، ان میں سے چھ کا تعلق قریش سے تھا ، ایک کا تعلق قریط سے تھا اور سات خواتین کا تعلق عربوں کے دیگر قبائل سے تھا ، ایک کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور کسی خاتون سے شادی نہیں کی ، آپ نے اعلانِ نبوت سے پہلے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے ساتھ شادی کی جو آپ سے پہلے عتیق بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے نکاح میں تھیں ، پھر اس کے بعد عتیق ابوہالہ ہند بن زراه بن نباش بن حبیب بن صرد بن سلامہ بن جراوہ بن اسید بن عمرو بن تیم کے نکاح میں آئیں اور انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن ہند کو جنم دیا زہیر بیان کرتے ہیں : یونس بن عبید نے یہ بات بیان کی ہے کہ ہند نامی یہ صاحب بصرہ سے گزرے تھے اور وہاں ان کا انتقال ہو گیا تھا وہاں ابھی کوئی بازار نہیں تھا اور کوئی گھاس پھوس نہیں اگی تھی ان دونوں صاحبان کے بعد نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اعلان نبوت سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بیٹے عبدمناف کو جنم دیا تھا اور اعلان نبوت کے بعد انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کو جنم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15386

Majma al-Zawaid #15386

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: «اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ مَعَ صَفِيَّةَ بَعْدَ خَدِيجَةَ، مَاتَ عَنْهُنَّ كُلِّهِنَّ. قَالَ: وَزَادُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ امْرَأَتَيْنِ سِوَى التِّسْعِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، كِلْتَاهُمَا جَمَعَ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا تُدْعَى أُمَّ الْمَسَاكِينِ، وَكَانَتْ خَيْرَ نِسَائِهِ لِلْمَسَاكِينِ، وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي الْجَوْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَطَلَّقَهَا وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كِنْدَةَ وَلَمْ يُجَامِعْهَا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَّقَ عُمَرُ بَيْنَهُمَا، وَضَرَبَ زَوْجَهَا. فَقَالَتْ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ; إِنْ كُنْتُ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَاضْرِبْ عَلَيَّ الْحِجَابَ، وَأَعْطِنِي مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُنَّ. قَالَ: أَمَّا هُنَالِكَ فَلَا، قَالَتْ: فَدَعْنِي أَنْكِحْ. قَالَ: لَا وَلَا نِعْمَةَ، وَلَا أُطَمِعُ فِي ذَلِكَ أَحَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَزِيَادَةُ عُثْمَانَ مُعْضِلَةٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Mulaykah and ʿAmr ibn Dīnār reported nine women including Ṣafiyyah gathered with the Prophet ﷺ after Khadījah, all of whom he died leaving, ʿUthmān ibn Abī Sulaymān adding two women besides the nine of Banū ʿĀmir ibn Ṣaʿṣaʿah both named Jamʿ, one called Mother of the Poor best of his women to the poor, he married a Jawniyyah woman who when she came sought refuge from him so he divorced her, married a Kindiyyah woman without consummating, she married after the Prophet ﷺ so ʿUmar separated them striking her husband, she protested O ʿUmar fear Allah, if she was among Mothers of Believers veil her and grant like them, he denied that, she asked leave to marry, he refused and would entice none to it. > **"Fear Allah, O ʿUmar, if I am among the Mothers of the Believers then cast the veil over me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ اور عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی اکرم ﷺ کے ہاں نو ازواج اکٹھی رہی تھیں اور ان تمام ازواج کا انتقال نبی اکرم ﷺ کی زوجیت میں ہی ہوا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عثمان بن ابوسلیمان نے ان نو خواتین کے علاوہ مزید دو خواتین کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا اور یہ دونوں ساتھ رہی تھیں ان میں سے ایک کو ام المساکین کہا جاتا ہے جو آپ کی تمام ازواج میں سے مساکین کے حق میں سب سے زیادہ بہتر تھیں اور نبی اکرم ﷺ نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، جب وہ خاتون آپ کے پاس آئی تو اس نے آپ سے پناہ مانگی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے طلاق دے دی ، نبی اکرم ﷺ نے کندہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، لیکن آپ نے اس کی رخصتی نہیں کروائی ، اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کے بعد دوسری شادی کر لی تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون اور اس کے شوہر کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی اور اس کے شوہر کی پٹائی کی تھی ، تو اس خاتون نے کہا تھا کہ اے عمر ! اللہ سے ڈرو اگر میں امہات المومنین میں سے ایک ہوتی تو تم نے مجھے بھی پردے کا حکم کرنا تھا اور مجھے بھی وہی ادائیگیاں کرنی تھیں جو ان امہات المومنین کو ادائیگی کرتے ہو ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : لیکن اب تو ایسا نہیں ہے ، تو اس خاتون نے کہا : پھر تم مجھے نکاح کرنے دو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جی نہیں یہ نہیں ہو سکتا اور اب میں کسی کو ایسا کرنے بھی نہیں دوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور عثمان نامی راوی کا نقل کردہ اضافی حصہ ’’ معضل ‘‘ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15387

Majma al-Zawaid #15387

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: «شِرَافُ بِنْتُ خَلِيفَةَ بْنِ فَرْوَةَ الْكَلْبِيَّةُ، أُخْتُ دَحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ، تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا».

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Shirāf bint Khalīfah ibn Farwah al-Kalbiyyah, sister of Diḥyah ibn Khalīfah, was married by the Messenger of Allah ﷺ without consummation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : شراف بنت خلیفہ بن فروہ کلبیہ ، جو دحیہ بن خلیفہ کی بہن ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی تھی لیکن ان کی رخصتی نہیں کروائی ۔

15388

Majma al-Zawaid #15388

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: «خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ، فَبَعَثَ عَائِشَةَ تَنْظُرُ إِلَيْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Mulaykah reported that the Prophet ﷺ proposed a Kalbī woman and sent ʿĀʾishah to view her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کلب قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا تھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا تھا تاکہ وہ اس خاتون کو دیکھ لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15389

Majma al-Zawaid #15389

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: «قُتَيْلَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّةُ - أُخْتُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى فَارَقَهَا».

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Qutaylah bint Qays al-Kindiyyah, sister of al-Ashʿath ibn Qays, was married by the Messenger of Allah ﷺ without consummation till he parted her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت قیس کندیہ ہیں جو حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی آپ نے ان کی رخصتی کروانے سے پہلے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔

15390

Majma al-Zawaid #15390

«وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ أَنَّهَا كَانَتْ مِنَ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ أَيْضًا مُرْسَلًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ خَوْلَةَ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint Ḥakīm ibn al-Awqaṣ رضي الله عنها was among those who offered themselves to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت حکیم بن اوقص رضی اللہ عنہا ، یہ ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنا آپ نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ روایت انہوں نے عروہ بن خولہ کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

15391

Majma al-Zawaid #15391

«عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ مُلَمَّعَةٌ بِالذَّهَبِ، وَنِسَاؤُهُ مُجْتَمِعَاتٌ فِي بَيْتٍ كُلُّهُنَّ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ جَارِيَةٌ تَلْعَبُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ بِالتُّرَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ تَرَيْنَ هَذِهِ؟ "". فَنَظَرْنَا إِلَيْهَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا أَحْسَنَ مِنْ هَذِهِ قَطُّ، وَلَا أَعْجَبَ. فَقَالَ: "" ارْدُدْنَهَا إِلَيَّ "". فَلَمَّا أَخَذَهَا قَالَ: "" وَاللَّهِ لَأَضَعَنَّهَا فِي رَقَبَةِ أَحَبِّ أَهْلِ الْبَيْتِ إِلَيَّ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَظْلَمَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَضَعَهَا فِي رَقَبَةِ غَيْرِي مِنْهُنَّ، وَلَا أَرَاهُنَّ إِلَّا أَصَابَهُنَّ مِثْلَ الَّذِي أَصَابَنِي، وَوَجَمْنَا جَمِيعًا سُكُوتًا، فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى وَضَعَهَا فِي رَقَبَةِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَبَّاسِ، فَسُرِّيَ عَنَّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported a necklace of onyx inlaid with gold was gifted to the Messenger of Allah ﷺ while his wives gathered all in a house and Umāmah bint Abī al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ played as a girl in the side with dust, so the Messenger of Allah ﷺ asked their view, they declared never seeing finer or more wondrous, he asked it returned to him, took it swearing to place it upon the neck of the most beloved of the Household to him, ʿĀʾishah said the earth darkened between her and him fearing he place it upon another, all fell silent alike, and he placed it upon Umāmah's neck relieving them. > **"By Allah, I shall place it upon the neck of the most beloved of the Household to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یمنی موتیوں سے بنا ہوا ہار پیش کیا گیا جس پر سونا لگا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ کی تمام ازواج گھر میں اکٹھی تھیں ، امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع جو ایک بچی تھی ، وہ گھر کے ایک کونے میں مٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ، ہم خواتین نے اس ہار کی طرف دیکھا اور ہم نے عرض کی : ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ عمدہ ( ہار ) کبھی نہیں دیکھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ مجھے دو ، جب نبی اکرم ﷺ نے اسے لے لیا تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں یہ ہار اپنے اہل بیت میں سے اپنی سب سے زیادہ محبوب شخصیت کی گردن میں ڈالوں گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان زمین میرے لئے تاریک ہو گئی ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں نبی اکرم ﷺ وہ ہار میرے علاوہ کسی اور کی گردن میں نہ ڈال دیں اور دیگر ازواج کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ ان کی بھی وہی کیفیت تھی ، جو میری کیفیت تھی ، ہم سب خاموش رہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ وہ ہار لے کے گئے اور آپ نے وہ ہار امامہ بنت ابوالعاص کے گلے میں ڈال دیا تو ہماری یہ کیفیت ختم ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے امام احمد اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔

15392

Majma al-Zawaid #15392

قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: وَأَوْصَى أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ بِابْنَتِهِ أُمَامَةَ إِلَى الزُّبَيْرِ وَبِتَرِكَتِهِ، فَزَوَّجَهَا الزُّبَيْرُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ بَعْدَ وَفَاةِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَقُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ. عِنْدَهُ وَلَمْ تَلِدْ لَهُ. فَقَالَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ النَّخَعِيَّةُ: أَشَابَ ذُؤَابَتِي وَأَذَلَّ رُكْنِي ... أُمَامَةُ يَوْمَ فَارَقَتِ الْقَرِينَا يَطِيفُ بِهِ لِحَاجَتِهَا إِلَيْهِ ... فَلَمَّا اسْتَأْنَسَتْ رَفَعَتْ رَنِينَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār reported that Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ entrusted his daughter Umāmah and his estate to al-Zubayr, who married her to ʿAlī ibn Abī Ṭālib after Fāṭimah رضي الله عنها, ʿAlī was killed while Umāmah was with him bearing him none, whereupon Umm al-Haytham al-Nakhaʿiyyah versified her forelock grayed and pillar humbled the day Umāmah parted her mate whom she circled in need till comforted she raised a cry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور اپنے ترکہ کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو وصی مقرر کیا تھا ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کی شادی حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کروا دی تھی ۔ یہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد کی بات ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی ، جب حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کسی اولاد کو جم نہیں دیا ۔ ام ہیثم نخعیہ نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ کیا میرے بال سفید ہو گئے ، اور میرے اعضاء کمزور ہو گئے ، جب امامہ اپنے ساتھی ( یعنی شوہر ) سے جدا ہو گئی ، جو اس کی ضرورت کے وقت اس ( شوہر ) کے چکر لگاتی تھی ، جب اس کی وحشت کم ہوئی تو اس کے رونے کی آواز بلند ہو گئی ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15393

Majma al-Zawaid #15393

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كَانَتْ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ أُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا قَالَ لَهَا: لَا تَزَوَّجِي، فَإِنْ أَرَدْتِ الزَّوَاجَ فَلَا تَخْرُجِي مِنْ رَأْيِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ، فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَتْ إِلَى الْمُغِيرَةِ تَسْتَأْمِرُهُ، فَقَالَ لَهَا: أَنَا خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ، فَاجْعَلِي أَمْرَكِ إِلَيَّ، فَفَعَلَتْ فَدَعَا رِجَالًا فَتَزَوَّجَهَا، فَهَلَكَتْ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ، فَلَيْسَ لِزَيْنَبَ عَقِبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbd al-Raḥmān reported that Umāmah bint Abī al-ʿĀṣ whose mother was Zaynab bint the Messenger of Allah ﷺ was with ʿAlī ibn Abī Ṭālib, when he died he told her not to marry except by counsel of al-Mughīrah ibn Nawfal, Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān proposed, she consulted al-Mughīrah who declared himself better for her and asked her affair to him, she complied, he summoned men and married her, Umāmah perished with al-Mughīrah ibn Nawfal bearing him none, leaving Zaynab no progeny.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کی والدہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں ، سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے سیده امامہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم شادی نہ کرنا ، اگر تمہارا شادی کرنے کا ارادہ ہو تو مغیرہ بن نوفل کے مشورے کے خلاف نہ کرنا ، حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا ، وہ حضرت مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے مشورہ لیں ، تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میں معاویہ کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوں ، آپ اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیں ، تو اس خاتون نے ایسا ہی کیا ، تو ان صاحب نے کچھ مردوں کو بلایا اور اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی ، تو سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کا انتقال مغیرہ بن نوفل کی زوجیت میں ہوا ، انہوں نے ان صاحب کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بھی ان کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں رہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15394

Majma al-Zawaid #15394

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا تُغَطِّي رَأْسَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا مِنْ عَشَرَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخُوهَا، وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ ابْنَا أَبِي طَالِبٍ ابْنَا أَخِيهَا، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ابْنُهَا، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ابْنُ ابْنَةِ أَخِيهَا، أَمُّهُ أَرْوَى بِنْتُ كُرَيْزٍ، وَأُمُّهَا الْبَيْضَاءُ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ ابْنَا أُخْتِهَا بَرَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأُمِّ طُلَيْبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ قُصَيٍّ: أَرْوَى بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ. وَأَبِي أَحْمَدَ الْأَعْمَى الشَّاعِرِ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ جَحْشِ بْنِ رِئَابِ بْنِ يَعْمَرَ بْنِ صَبْرَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ وَرْدَانَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. تُوُفِّيَتْ صَفِيَّةُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ قَتْلِهَا الْيَهُودِيَّ فِي قُرَيْظَةَ وَغَزْوَةِ أُحُدٍ أَيْضًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār reported that Ṣafiyyah bint ʿAbd al-Muṭṭalib never veiled her head from the Messenger of Allah ﷺ nor from ten first Muhājirūn: her brother Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib, her nephews Jaʿfar and ʿAlī sons of Abū Ṭālib, her son al-Zubayr ibn al-ʿAwwām, her great-nephew ʿUthmān ibn ʿAffān whose mother Arwā bint Kurayz daughter of al-Bayḍāʾ Umm Ḥakīm bint ʿAbd al-Muṭṭalib, her sister Barrah's sons Abū Salamah ibn ʿAbd al-Asad and Abū Sabrah ibn Abī Ruhm, Ṭulayb ibn ʿUmayr ibn Wahb ibn ʿAbd ibn Quṣayy's mother Arwā bint ʿAbd al-Muṭṭalib, and the blind poet Abū Aḥmad named ʿAbd ibn Jaḥsh ibn Riʾāb ibn Yaʿmar ibn Ṣabrah ibn Murrah ibn Kathīr ibn Ghanm ibn Wardān ibn Asad ibn Khuzaymah whose mother was Umaymah bint ʿAbd al-Muṭṭalib, and Ṣafiyyah died in ʿUmar's caliphate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت عبدالمطلب نبی اکرم ﷺ کی آمد پر اور مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے دس افراد میں سے کسی کی آمد پر سر نہیں ڈھانپتی تھیں ( وہ دس افراد یہ ہیں : ) ’’ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، جو اس خاتون کے بھائی ہیں ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں جناب ابوطالب کے صاحبزادے ہیں اور اس خاتون کے بھتیجے ہیں ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، یہ اس خاتون کے صاحبزادے ہیں ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، جو اس خاتون کی بھتیجی کے صاحبزادے ہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ بنت کریز ہیں اور اُس خاتون کی والدہ بیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب ہیں ، اور ابوسلمہ بن عبدالاسد سے اور ابوسبرہ بن ابورہم ، یہ دونوں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی بہن برہ بنت عبدالمطلب کے صاحبزادے ہیں ، اور طلیب بن عمیر بن وہب بن عبد بن قصی کی والدہ ، ارویٰ بنت عبدالمطلب ہیں ، اور عبداللہ اور ابواحمد نابینا ، جو شاعر ہیں ، اُن کا نام عبد بن جحش بن رئاب بن يعمر بن صبره بن مرہ بن کثیر بن غنم بن وردان بن اسد بن خزیمہ ہے ( ان دونوں کی والدہ ) امیمہ بنت عبدالمطلب ہیں ۔‘‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ایک یہودی کو قتل کرنے کا واقعہ قریظہ کے ساتھ جنگ اور غزوہ احد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15395

Majma al-Zawaid #15395

عَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَاكِبًا أَخَذَ صَخْرَةً مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ فَرَمَى بِهَا لِلرُّكْنِ، فَتَفَلَّقَتِ الصَّخْرَةُ، فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُوْرِ قُرَيْشٍ إِلَّا دَخَلَتْهَا مِنْهَا كَسْرَةً غَيْرَ دُوْرِ بَنِي زُهْرَةَ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ مُرْسَلًا، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀtikah bint ʿAbd al-Muṭṭalib رضي الله عنها reported she saw a rider take a rock from Abū Qubays hurling it toward the Corner, it split, and every Quraysh house received a fragment except Banū Zuhrah houses, then the narrator mentioned the account to its end.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ایک سوار کو دیکھا جس نے ابوقتبیس پہاڑ سے ایک پتھر کو لیا اور وہ رکن کی طرف پھینکا تو پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور قریش کے ہر گھرانے میں اس کا ایک ٹکڑا داخل ہوا ، صرف بنوزہرہ کے گھرانے میں داخل نہیں ہوا ۔ ( علامه ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث آخر تک نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عروہ بن زبیر کے حوالے سے مرسل روایت کے ہونے کے طور پر یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

15396

Majma al-Zawaid #15396

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ: أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ: أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ ... بِتَأْوِيلِهَا فَلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ... بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ [وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ... حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ] أَفِرُّ صَبَاحَ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبُهُمْ ... فَهُنَّ هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهِفَاتِ دِمَاءَكُمْ ... كِفَاحًا كَمَا يَمْرِي السَّحَايِبُ جَانِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْ ... جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا بِأَبِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيكَتِي ... زُعَازِعُ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيَصْطَلِمَنَّكُمْ ... بِجَأْوَاءَ يَرْدَى حَافِيَتُهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ... لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَحَدِيثُ رِجَالِهِ حَسَنٌ وَلَكِنَّ الْإِسْنَادَ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn ʿAbdillāh and other Qurashīs reported that ʿĀtikah bint ʿAbd al-Muṭṭalib affirmed her dream's truth and Quraysh's denial when the Messenger of Allah ﷺ smote them at Badr, versifying was not the dream true with its interpretation brought by a fleeing remnant, he saw and brought the certainty his eyes beheld what cutting swords effect, they accused her of lying though she lied not, only a liar denies the truthful, only fear of death made Ḥakīm flee when paths narrowed, do hearts flee the people's dawn call as air with absent minds, they passed swords through blood face to face as clouds stream, how did his cousins find Muḥammad on encounter day with war's trials, did he not overwhelm them with blows bewildering cowards and revealing stars by day, may he be ransomed on encounter day when war's fiercest bites, as his swords flashed from sovereignty like rosy gales after stiffness, swearing if they returned he would uproot them with a teeming host whose vanguards hasten like sunlight flashing bolts with radiant piercing sides.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن عبداللہ اور دیگر افراد جن کا تعلق قریش سے ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کو جھوٹا قرار دینے کے حوالے سے یہ اشعار کہے ہیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے قریش کو بدر کے مقام پر شکست دی تھی ( وہ اشعار درج ذیل ہیں : ) ’’ کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑ کر بھاگنے والا شخص لے کے آیا ہے اس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا جو تیز دھار والی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نے یہ کہا کہ آپ نے جھوٹ کہا ہے حالانکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا سچائی کے حوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قرار دے گا جو خود جھوٹا ہو گا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کے خوف سے بھاگا تھا وہ ان میں سے سمجھ دار تھا جس کے لیے راستہ تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مدمقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا حضرت محمد ﷺ سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچا زاد ہیں اور جنگ میں اور اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا حضرت محمد ﷺ نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں حضرت محمد ﷺ کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ تم لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال حسن ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔

15397

Majma al-Zawaid #15397

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكْفِيهِ الدَّاخِلَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدٍ تَكْفِيهِ الْخَارِجَ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, meaning Ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه, reported that Fāṭimah daughter of the Messenger of Allah ﷺ sufficed him inside work and Fāṭimah bint Asad sufficed him outside work, meaning the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ ہی رضی اللہ عنہا بنت محمد ، ان ( یعنی نبی اکرم ﷺ کے ) کے گھریلو کام کر دیتی تھیں اور سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا ان کے باہر کے کام کر دیتی تھیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مراد ، نبی اکرم ﷺ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15398

Majma al-Zawaid #15398

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَلِيٍّ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ: اكْفِي فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِقَايَةَ الْمَاءِ وَالذَّهَابَ فِي الْحَاجَةِ، وَتَكْفِيكِ خِدْمَةَ الدَّاخِلِ الطَّحْنَ وَالْعَجْنَ. وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration from ʿAlī رضي الله عنه he told his mother Fāṭimah bint Asad ibn Hāshim to suffice Fāṭimah daughter of the Messenger of Allah ﷺ with drawing water and errands, while she would suffice her with inside service of grinding and kneading.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے اپنی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد بن ہاشم سے کہا : آپ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کے لئے پانی پلانے کا کام اور کسی کام کے سلسلے میں باہر جانے والا کام سنبھال لیں ، وہ آپ کے لئے گھر کے اندرونی معاملات سنبھال لیں گی ، جیسے آٹا پیسنا اور آٹا گوندھنا وغیرہ ۔ دوسری روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15399

Majma al-Zawaid #15399

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أُمُّ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا، فَقَالَ: "" رَحِمَكِ اللَّهُ يَا أُمِّي، كُنْتِ أُمِّي بَعْدَ أُمِّي، تَجُوعِينَ وَتُشْبِعِينِي، وَتَعْرَيْنَ وَتَكْسِينِي، وَتَمْنَعِينَ نَفْسَكِ طَيِّبًا وَتُطْعِمِينِي، تُرِيدِينَ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ "". ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُغَسَّلَ ثَلَاثًا، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءَ الَّذِي فِيهِ الْكَافُورُ سَكَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، ثُمَّ خَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَمِيصَهُ فَأَلْبَسُهَا إِيَّاهُ، وَكَفَّنَهَا بِبُرْدٍ فَوْقَهُ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَأَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَغُلَامًا أَسْوَدَ يَحْفِرُونَ، فَحَفَرُوا قَبْرَهَا، فَلَمَّا بَلَغُوا اللَّحْدَ حَفْرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، وَأَخْرَجَ تُرَابَهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاضْطَجَعَ فِيهِ، فَقَالَ: "" اللَّهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ، وَلَقِّنْهَا حُجَّتَهَا، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي ; فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ "". وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَأَدْخَلُوهَا اللَّحْدَ هُوَ، وَالْعَبَّاسُ، وَأَبُو بَكْرٍ الصَّدِيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that when Fāṭimah bint Asad ibn Hāshim, mother of ʿAlī رضي الله عنهما, died, the Messenger of Allah ﷺ entered, sat at her head declaring mercy upon his mother after his mother who hungered to feed him, went bare to clothe him, denied herself delicacies to feed him seeking Allah's Face and the Hereafter, then ordered washing thrice, poured the camphor water with his hand, removed his shirt clothing her with it, shrouded her with a cloak above, summoned Usāmah ibn Zayd, Abū Ayyūb al-Anṣārī, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb and a black youth to dig, dug her grave, at the laḥd dug it with his hand removing its soil with his hand, when finished entered and lay in it supplicating Allah who gives life and death, Living undying, to forgive his mother Fāṭimah bint Asad, dictate her proof, widen her entrance by right of his Prophet and prior Prophets, Most Merciful of merciful, gave four takbīrs over her, and he, al-ʿAbbās and Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنهم lowered her into the laḥd. > **"May Allah have mercy upon you, O my mother, you were my mother after my mother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد بن ہاشم ، جو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، جب ان کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ ان کی میت کے پاس تشریف لائے آپ ان کے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے امی جان ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے آپ میری والدہ کے بعد میری ماں کی جگہ تھیں آپ خود بھوکی رہ جاتی تھیں اور مجھے سیر کروا دیتی تھیں ، خود پرانے لباس میں رہتی تھیں اور مجھے نیا لباس دے دیتی تھیں ، خود عمدہ چیزیں نہیں کھاتی تھیں مجھے کھلا دیتی تھیں اور آپ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کا حصول کا ارادہ رکھتی تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تو اس خاتون کو تین مرتبہ غسل دیا گیا ، جب وہ پانی آیا جس میں کافور ملا ہوا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے اندر ڈالا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص اتار کر انہیں پہنانے کے لئے دی اور نبی اکرم ﷺ نے اس قمیص کے اوپر چادروں میں انہیں کفن دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ایک سیاہ فام غلام کو بلوایا ، انہوں نے قبر کھودی ، جب وہ لوگ لحد تک پہنچ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے کھودا اور اپنے ہاتھ سے اس کی مٹی باہر نکالی ، جب اس کام سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم ﷺ اس کے اندر اترے اور اس میں لیٹ گئے پھر آپ نے یہ پڑھا : ’’ اللہ کی ذات وہ ہے جو زندگی دیتا ہے ، اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ خود زندہ ہے ، اور اسے موت نہیں آئے گی ، تو میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت کر دے اور اسے اس کی حجت تلقین کرنا اور اپنے نبی اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کے وسیلے سے ان کی قبر کو ان کے لئے کشادہ کر دینا ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی نماز میں چار تکبیریں کہی تھیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو لحد میں اتارا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے جسے ابن حبان اور حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15400

Majma al-Zawaid #15400

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ أُمُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ خَلَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَمِيصَهُ وَأَلْبَسَهَا إِيَّاهُ، وَاضْطَجَعَ فِي قَبْرِهَا، فَلَمَّا سُوِّيَ عَلَيْهَا التُّرَابُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَصْنَعْهُ بِأَحَدٍ! فَقَالَ: "" أَلْبَسْتُهَا قَمِيصِي ; لِتَلْبَسَ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ، وَاضْطَّجَعْتُ مَعَهَا فِي قَبْرِهَا ; خُفِّفَ عَنْهَا مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ؛ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ صَنِيعًا بَعْدَ أَبِي طَالِبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that when Fāṭimah mother of ʿAlī ibn Abī Ṭālib died the Prophet ﷺ removed his shirt clothing her with it and lay in her grave, and when soil was leveled they asked O Messenger of Allah they saw him do what he never did, so he explained he clothed her his shirt for garments of Paradise and lay with her in her grave to lighten grave pressure, for after Abū Ṭālib she was finest of Allah's creation to him in conduct. > **"I clothed her my shirt that she wear of Paradise garments, and I lay with her in her grave that grave pressure be lightened for her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص اتاری اور وہ انہیں پہنانے کے لئے دی ، آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قبر میں خود لیٹے اور جب ان کی قبر پر مٹی برابر کر لی گئی تو کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو ایک ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا جو آپ نے کسی کے لئے نہیں کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے انہیں اپنی قمیص پہنانے کے لئے اسی لئے دی تاکہ وہ جنت کا لباس پہنے اور میں اس کی قبر میں اس لئے لیٹا تاکہ قبر کے بھینچنے کے حوالے سے انہیں تخفیف ہو ، کیونکہ جناب ابوطالب کے بعد ، اللہ کی مخلوق میں سے ، انہوں نے میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15401

Majma al-Zawaid #15401

«عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَتْ مُتَبَرِّجَةً قَدْ بَدَا قُرْطَاهَا، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اعْمَلِي، فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يُغْنِي عَنْكِ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَتْهُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ شَفَاعَتِي لَا تَنَالُ أَهْلَ بَيْتِي! وَإِنَّ شَفَاعَتِي تَنَالُ حَاءَ وَحَكَمَ "". - وَحَاءَ وَحَكَمَ قَبِيلَتَانِ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Rāfiʿ reported that Umm Hāniʾ bint Abī Ṭālib went out adorned with visible earrings, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb told her to work for Muḥammad would avail her nothing, she came informing the Prophet ﷺ, so the Messenger of Allah ﷺ asked what was with folk claiming his intercession would not reach his Household when it would reach Ḥāʾ and Ḥakam, two tribes. > **"What is with folk claiming my intercession will not reach my Household, when my intercession will reach Ḥāʾ and Ḥakam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا گھر سے باہر نکلیں تو ان کی زینت ظاہر تھی اور ان کی بالیاں نظر آ رہی تھیں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم عمل کیا کرو ، حضرت محمد ﷺ تمہارے کسی کام نہیں آ سکیں گے ، وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نصیب نہیں ہو گی حالانکہ میری شفاعت ’’ حاء “ اور حکم کو نصیب ہو جائے گی ( راوی کہتے ہیں ) یہ دو قبیلے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15402

Majma al-Zawaid #15402

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالُوا: «قَدِمَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ مُهَاجِرَةً، فَنَزَلَتْ دَارَ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى الزُّرَقِيِّ، فَقَالَ لَهَا نِسْوَةٌ جَالِسِينَ إِلَيْهَا مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: أَنْتِ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ - مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ} [المسد: 1 - 2] يَعْنِي: مَا يُغْنِي عَنْكِ مُهَاجَرُكِ؟ فَأَتَتْ دُرَّةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَتْ إِلَيْهِ مَا قُلْنَ لَهَا، فَسَكَّنَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" اجْلِسِي "". ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ الظَّهْرَ، وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ سَاعَةً، وَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، مَالِي أُوذَى فِي أَهْلِي، فَوَاللَّهِ إِنَّ شَفَاعَتِي لَتَنَالُ حَيَّ حَاءَ وَحَكَمٍ، وَصُدَا، وَسَلْهَبَ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, Abū Hurayrah and ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنهم reported that Durrah bint Abī Lahab came emigrating lodging at Rāfiʿ ibn al-Muʿallā al-Zuraqī's house, Banū Zurayq women sitting with her taunted her as daughter of Abī Lahab of whom Allah said perish the hands, implying what her emigration availed, so Durrah complained to the Prophet ﷺ, the Messenger of Allah ﷺ calmed her bidding her sit, prayed Ẓuhr, sat awhile on the minbar declaring why he was harmed concerning his family when by Allah his intercession would reach Ḥayy Ḥāʾ, Ḥakam, Ṣudāʾ and Salhab on Resurrection Day. > **"O people, why am I harmed concerning my family."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ہجرت کر کے آئیں ، انہوں نے رافع بن معلیٰ زرقی کے محلے ( یا گھر ) میں رہائش اختیار کی ، بنوزریق سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین جو ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، انہوں نے ان سے کہا : آپ اس ابولہب کی صاحبزادی ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ’’ ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا تھا وہ اس کے کسی کام نہیں آیا “۔ ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کا ہجرت کرنا آپ کے کس کام آئے گا ، تو سیدہ درہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی جو ان خواتین نے کہی تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پرسکون ہونے کا کہا اور فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ، پھر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر گھڑی بھر کے لئے تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ مجھے میرے اہل خانہ ( یعنی خاندان کے افراد ) کے حوالے سے اذیت پہنچائی جاتی ہے ، اللہ کی قسم ! میری شفاعت حاء اور حکم اور صدا قبیلے کے افراد کو بھی قیامت کے دن نصیب ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15403

Majma al-Zawaid #15403

وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنٍ قَالَ: «كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ، وَالْوَلِيدَ، وَأَبَا مُسْلِمٍ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي؟! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَمَا ذَاكَ؟ "". قَالَتْ: قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى "". فَصَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظَّهْرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَلْكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ؟ "". فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَغْضَبَ اللَّهَ مَنْ أَغْضَبَكَ، فَقَالَ: "" هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي، فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ هُوَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī al-Ḥusayn, ʿAbdullāh ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Ḥusayn in mursal form, reported that Durrah bint Abī Lahab was with al-Ḥārith ibn ʿAbdillāh ibn Nawfal bearing him ʿUqbah, al-Walīd and Abū Muslim, then came to the Prophet ﷺ in Madīnah, people spoke much of her parents, she pleaded O Messenger of Allah was none born of disbelievers but her, he asked what was it, she said Madīnah folk harmed her over her parents, so the Messenger of Allah ﷺ told her when he prayed Ẓuhr to pray where he saw, he prayed Ẓuhr, turned to her, faced the people asking O people had they lineage and he none, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb leapt declaring Allah angered at whoever angered him, so he declared her his cousin of whom none should speak but good. > **"This is my cousin, let none speak of her but good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں : سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ، حارث بن عبداللہ بن نوفل کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے ان صاحب کے بچوں عقبہ اور ولید اور ابومسلم کو جنم دیا پھر وہ خاتون مدینہ منورہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئیں ، لوگوں نے ان کے ماں باپ کے بارے میں زیادہ باتیں کیں تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے علاوہ اور کوئی کافروں کی اولاد نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا کہ اہل مدینہ نے مجھے میرے ماں باپ کے حوالے سے اذیت پہنچائی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : جب میں ظہر کی نماز ادا کروں گا ، تو تم نے ایسی جگہ نماز ادا کرنی ہے جہاں میں دیکھ سکوں ، جب نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! کیا تم لوگوں کا نسب ہے ، اور میرا نسب نہیں ہے ۔‘‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اس شخص پر غضب ناک ہو جس نے آپ کو غضبناک کیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ میری چچازاد ہے ، کوئی بھی شخص اس کے ساتھ صرف بھلائی کی بات ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابوحسین نامی راوی عبداللہ بن ابوحسین ہے ، اور یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15404

Majma al-Zawaid #15404

«وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ائْتُونِي بِوَضُوءٍ "". قَالَتْ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ، فَبَدَرْتُهَا فَأَخَذْتُهُ أَنَا، فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ إِلَيَّ عَيْنَهُ أَوْ بَصَرَهُ قَالَ: "" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ "". قَالَتْ: فَأُتِيَ بِرَجُلٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا فَعَلْتُهُ إِنَّمَا قِيلَ لِي. قَالَتْ: وَكَانَ يَسْأَلُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: "" أَفْقَهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ، وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ». وَذَكَرَ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ فَلَمْ أَحْفَظْهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Durrah daughter of Abī Lahab رضي الله عنها reported she was with ʿĀʾishah when the Prophet ﷺ entered asking for ablution water, she and ʿĀʾishah raced to the jug, she beat her taking it, he performed ablution raising his eye declaring she was from him and he from her, then a man was brought claiming he only repeated what was told him, and he used to ask him on the minbar who were best people, he answered most understanding in Allah's religion and most joining kin, Sharīk mentioning two other things she did not retain. > **"You are from me, and I am from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے آپ نے فرمایا : میرے پاس وضو کا پانی لے کے آؤ ، سیدہ درہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں اور عائشہ برتن کی طرف لپکیں اور میں ان سے پہلے برتن تک پہنچ گئی ، میں نے اسے لیا ، نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا ، آپ نے اپنی نگاہ اٹھا کے میری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔‘‘ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : پھر ایک شخص کو لایا گیا تو اس نے کہا : میں نے ایسا نہیں کیا ، مجھے یہ بات کہی گئی تھی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کے منبر پر موجود رہنے کے دوران آپ سے سوال کیا تھا ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور رشتے داری کے حقوق کا سب سے زیادہ خیال رکھتا ہو ۔‘‘ اس کے بعد شریک نامی راوی نے دو اور چیزیں بھی ذکر کی تھیں جو مجھے یاد نہیں رہی ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15405

Majma al-Zawaid #15405

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: أُمُّ أَيْمَنَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ لِأُخْتِ خَدِيجَةَ فَوَهَبَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَيُقَالُ: اسْمُهَا بَرَكَةُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī reported that Umm Ayman, mother of Usāmah ibn Zayd, freedwoman of the Messenger of Allah ﷺ, belonged to Khadījah's sister who gifted her to the Messenger of Allah ﷺ, who married her to Zayd ibn Ḥārithah, and it was said her name was Barakah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی کنیز ہیں ، یہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کی بہن کی کنیز تھیں اس خاتون نے انہیں نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کروا دی تھی ایک قول کے مطابق ان کا اصل نام برکہ ہے ۔

15406

Majma al-Zawaid #15406

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمُّ أَيْمَنَ هِيَ: أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that Umm Ayman was mother of Usāmah ibn Zayd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15407

Majma al-Zawaid #15407

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، «عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَشْكَابٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reported from Umm Ayman that she was among those who pledged allegiance to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسین بن اشکاب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔