وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أُمُّ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا، فَقَالَ: "" رَحِمَكِ اللَّهُ يَا أُمِّي، كُنْتِ أُمِّي بَعْدَ أُمِّي، تَجُوعِينَ وَتُشْبِعِينِي، وَتَعْرَيْنَ وَتَكْسِينِي، وَتَمْنَعِينَ نَفْسَكِ طَيِّبًا وَتُطْعِمِينِي، تُرِيدِينَ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ "". ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُغَسَّلَ ثَلَاثًا، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءَ الَّذِي فِيهِ الْكَافُورُ سَكَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، ثُمَّ خَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَمِيصَهُ فَأَلْبَسُهَا إِيَّاهُ، وَكَفَّنَهَا بِبُرْدٍ فَوْقَهُ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَأَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَغُلَامًا أَسْوَدَ يَحْفِرُونَ، فَحَفَرُوا قَبْرَهَا، فَلَمَّا بَلَغُوا اللَّحْدَ حَفْرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، وَأَخْرَجَ تُرَابَهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاضْطَجَعَ فِيهِ، فَقَالَ: "" اللَّهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ، وَلَقِّنْهَا حُجَّتَهَا، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي ; فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ "". وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَأَدْخَلُوهَا اللَّحْدَ هُوَ، وَالْعَبَّاسُ، وَأَبُو بَكْرٍ الصَّدِيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that when Fāṭimah bint Asad ibn Hāshim, mother of ʿAlī رضي الله عنهما, died, the Messenger of Allah ﷺ entered, sat at her head declaring mercy upon his mother after his mother who hungered to feed him, went bare to clothe him, denied herself delicacies to feed him seeking Allah's Face and the Hereafter, then ordered washing thrice, poured the camphor water with his hand, removed his shirt clothing her with it, shrouded her with a cloak above, summoned Usāmah ibn Zayd, Abū Ayyūb al-Anṣārī, ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb and a black youth to dig, dug her grave, at the laḥd dug it with his hand removing its soil with his hand, when finished entered and lay in it supplicating Allah who gives life and death, Living undying, to forgive his mother Fāṭimah bint Asad, dictate her proof, widen her entrance by right of his Prophet and prior Prophets, Most Merciful of merciful, gave four takbīrs over her, and he, al-ʿAbbās and Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنهم lowered her into the laḥd. > **"May Allah have mercy upon you, O my mother, you were my mother after my mother."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد بن ہاشم ، جو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، جب ان کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ ان کی میت کے پاس تشریف لائے آپ ان کے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے امی جان ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے آپ میری والدہ کے بعد میری ماں کی جگہ تھیں آپ خود بھوکی رہ جاتی تھیں اور مجھے سیر کروا دیتی تھیں ، خود پرانے لباس میں رہتی تھیں اور مجھے نیا لباس دے دیتی تھیں ، خود عمدہ چیزیں نہیں کھاتی تھیں مجھے کھلا دیتی تھیں اور آپ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کا حصول کا ارادہ رکھتی تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تو اس خاتون کو تین مرتبہ غسل دیا گیا ، جب وہ پانی آیا جس میں کافور ملا ہوا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے اندر ڈالا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص اتار کر انہیں پہنانے کے لئے دی اور نبی اکرم ﷺ نے اس قمیص کے اوپر چادروں میں انہیں کفن دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ایک سیاہ فام غلام کو بلوایا ، انہوں نے قبر کھودی ، جب وہ لوگ لحد تک پہنچ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے کھودا اور اپنے ہاتھ سے اس کی مٹی باہر نکالی ، جب اس کام سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم ﷺ اس کے اندر اترے اور اس میں لیٹ گئے پھر آپ نے یہ پڑھا : ’’ اللہ کی ذات وہ ہے جو زندگی دیتا ہے ، اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ خود زندہ ہے ، اور اسے موت نہیں آئے گی ، تو میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت کر دے اور اسے اس کی حجت تلقین کرنا اور اپنے نبی اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کے وسیلے سے ان کی قبر کو ان کے لئے کشادہ کر دینا ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی نماز میں چار تکبیریں کہی تھیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو لحد میں اتارا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے جسے ابن حبان اور حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔