Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 26

Book of Virtues and Merits

Hadith 15288–15327

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15288

Majma al-Zawaid #15288

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: «لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ، اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى [خُشِيَ عَلَيْهِ] حَتَّى تَزَوَّجَ عَائِشَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUbayd ibn ʿUmayr reported that when Khadījah died it weighed so heavily upon the Messenger of Allah ﷺ that concern was felt for him until he married ʿĀʾishah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ کے لئے یہ بات شدید پریشانی کا باعث ہوئی ، یہاں تک کہ آپ کو اس حوالے سے اندیشہ ہوا ، یہاں تک کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15289

Majma al-Zawaid #15289

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنَا وَخَلَّفَ بَنَاتِهِ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ بِالْمَدِينَةِ، بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاهُ، وَأَعْطَاهُمَا بَعِيرَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، أَخَذَهَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ؛ يَشْتَرِيَانِ بِهَا مَا يَحْتَاجَانِ إِلَيْهِ مِنَ الظَّهْرِ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأُرَيْقِطِ الدِّئَلِيَّ بِبَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَحْمِلَ مَعَهُ أَهْلَهُ أُمَّ رُومَانَ، وَأُمَّ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَا، وَأَخِي، وَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ امْرَأَةَ الزُّبَيْرِ، فَخَرَجُوا مُصْطَحِبِينَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قَدِيدٍ، اشْتَرَى زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِتِلْكَ الْخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ثَلَاثَةَ أَبْعِرَةٍ، ثُمَّ دَخَلُوا مَكَّةَ جَمِيعًا، فَصَادَفُوا طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُرِيدُ الْهِجْرَةَ، فَخَرَجْنَا جَمِيعًا، وَخَرَجَ زَيْدٌ، وَأَبُو رَافِعٍ بِفَاطِمَةَ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ، وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، وَحَمَلَ زَيْدٌ أُمَّ أَيْمَنَ وَوَلَدَهَا أَيْمَنَ وَأُسَامَةَ، وَاصْطَحَبَنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْضِ مِنْ نَمِرٍ نَفَرَ بَعِيرِي، وَأَنَا فِي مِحَفَّةٍ مَعِي فِيهَا أُمِّي، فَجَعَلَتْ تَقُولُ: وَابِنْتَاهُ وَاعَرُوسَتَاهُ. حَتَّى إِذَا أُدْرِكَ بَعِيرُنَا وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ هَبْشَا، فَسَلَّمَ اللَّهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ فِي عِيَالِ أَبِي بَكْرٍ، وَنَزَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ يَبْنِي الْمَسْجِدَ، وَأَبْيَاتُنَا حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَنْزَلَ فِيهَا أَهْلَهُ، فَمَكَثْنَا أَيَّامًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَبْنِيَ بِأَهْلِكَ؟ قَالَ: " الصَّدَاقُ ". فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيْنَا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي هَذَا الَّذِي أَنَا فِيهِ، وَهُوَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَدُفِنَ فِيهِ، وَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَحَدَ تِلْكَ الْبُيُوتِ، وَكَانَ يَكُونُ عِنْدَهَا، [وَكَاَنَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّايَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْجَوَارِي، فَمَا حَدَّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَنِي حَتَّى أَخَذَتْنِي أُمِّي، فَحَبَسَتْنِي فِي الْبَيْتِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي تَزَوَّجْتُهُ، فَمَا سَأَلْتُهَا حَتَّى كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي]». وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when the Messenger of Allah ﷺ emigrated he left her and his daughters behind, and when settled in Madīnah he sent Zayd ibn Ḥārithah with his freedman Abū Rāfiʿ, giving them two camels and five hundred dirhams taken from Abū Bakr to buy mounts, while Abū Bakr sent with them ʿAbdullāh ibn al-Urayqiṭ al-Dīlī with two or three camels and wrote to ʿAbdullāh ibn Abī Bakr to bring Umm Rūmān, Abū Bakr's mother, ʿĀʾishah, her brother, and Asmāʾ bint Abī Bakr wife of al-Zubayr, so they set out together to Qudayd where Zayd bought three camels, entered Makkah together, met Ṭalḥah ibn ʿUbaydillāh intending emigration, all left together, Zayd and Abū Rāfiʿ bringing Fāṭimah, Umm Kulthūm, and Sawdah bint Zamʿah, Zayd carrying Umm Ayman with her children Ayman and Usāmah, until at al-Bayḍ of Namir her camel bolted while she was in a litter with her mother crying for daughter and bride, until overtaken descending Thaniyyat Habshā, Allah delivering them to Madīnah where she stayed with Abū Bakr's family, the Prophet ﷺ visiting while building the mosque with houses around it lodging his family, Abū Bakr asking what prevented consummation, the Prophet ﷺ citing dower, Abū Bakr giving twelve ūqiyyahs and a nash which was sent, the Messenger of Allah ﷺ consummating with her in the very house she remained in where he died and was buried, lodging Sawdah in another house, noting he had married her while she played with girls and only realized it when her mother confined her in the house and herself informed her. > **"What prevents you from consummating with your family?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ ہمیں اور اپنی صاحبزادیوں کو ( مکہ میں ہی ) چھوڑ گئے ، جب آپ مدینہ منورہ میں مستقل طور پر ٹھہر گئے ( یا آپ نے رہائش کا بندوبست کر لیا ) تو آپ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان کے ہمراہ اپنے غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ نے ان دونوں کو دو اونٹ دیے اور پانچ سو درہم دیے ، آپ نے یہ رقم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لی تھی تاکہ وہ دونوں حضرات اس کے ذریعے ضرورت کے مطابق سواری کے جانور خرید لیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں صاحبان کے ہمراہ عبداللہ بن اریقط دؤیلی کو دو یا شاید تین اونٹوں کے ہمراہ بھیجا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ ان صاحب کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو یعنی سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کو مجھے ، میری بہن اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، ان سب کو سوار کروا کے بھجوا دے ، یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ یہ قدید کے مقام پر پہنچے ، وہاں زید بن حارثہ نے ان پانچ سو درہم کے ذریعے تین اونٹ خریدے ، پھر یہ سب لوگ مکہ میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ہجرت کے لئے جانا چاہ رہے تھے ، تو ہم سب اکٹھے روانہ ہوئے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ ، حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ ، فاطمہ ، ام کلثوم اور سوده بنت زمعہ کو لے کے نکلے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اُم ایمن رضی اللہ عنہا اور ان کی اولاد ایمن اور اسامہ کو سواری پر سوار کیا ، ہم لوگ بھی روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم لوگ نمر کے علاقے بیض میں تھے تو وہاں میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، میں اپنے ہودج میں تھی ، میرے ساتھ میری والدہ تھیں ، میری والدہ نے یہ کہنا شروع کیا ، ہائے میری بیٹی ہائے میری دلہن ، یہاں تک کہ ہمارا اونٹ جب ٹھیک ہوا تو اس وقت ہم ہرشی کی گھاٹی سے اتر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلامت رکھا ، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے ، میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رشتے داروں کے ہاں ٹھہری اور وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس چلے گئے ، نبی اکرم ﷺ ان دنوں مسجد نبوی کی تعمیر کروا رہے تھے ، ہمارے گھر مسجد کے اردگرد تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو وہاں رہائشی جگہ دی پھر ہم کچھ دن وہاں ٹھہرے رہے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے آپ اپنی اہلیہ کی رخصتی کیوں نہیں کرواتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مہر ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو بارہ اوقیہ اور ایک نش ( مخصوص پیمانہ ) چاندی دی ، وہ نبی اکرم ﷺ نے وہ ہمیں بھجوائی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میری رخصتی کروائی اور مجھے میرے اس گھر میں لے آئے جہاں میں موجود ہوں اور اسی گھر میں نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا اور اس میں آپ کو دفن کیا گیا ، نبی اکرم ﷺ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس گھر میں لے کے گئے تھے جو ان کے پاس رہا تھا ۔

15290

Majma al-Zawaid #15290

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَدِمْنَا مُهَاجِرِينَ، فَسَلَكْنَا فِي ثَنِيَّةٍ صَعْبَةٍ، فَنَفَرَ بِي جَمَلٌ كُنْتُ عَلَيْهِ نُفُورًا مُنْكَرًا، فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ أُمِّي: يَا عَرِبْسَةُ، فَرَكِبَتْ فِي رَأْسِهِ، فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: أَلْقِي خِطَامَهُ، فَأَلْقَيْتُهُ، فَقَامَ يَسْتَدِيرُ كَأَنَّمَا إِنْسَانٌ قَائِمٌ تَحْتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that they came as emigrants through a difficult pass when her camel bolted violently, and she never forgot her mother's cry of Yā ʿuraybisah as it tossed its head, until she heard a caller say throw its rein, which she did, whereupon it stood turning as though a man stood beneath it. > **"Throw its rein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ ہجرت کر کے آ گئے ، ہم ایک دشوار گزار گھاٹی میں چل رہے تھے اسی دوران میرا اونٹ سرکش ہو گیا ، جس اونٹ پر میں سوار تھی وہ بری طرح سے سرکش ہو گیا تھا ۔ اللہ کی قسم ! اپنی والدہ کا جملہ نہیں بھولی انہوں نے کہا : اے میری چھوٹی سی دلہن ! اس اونٹ نے مجھے اپنے سر کی طرف کر لیا تو میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس کی لگام چھوڑ دو ! میں نے اس کی لگام چھوڑی تو وہ کھڑا ہو کر گھومنے لگا ، یوں جیسے وہ انسان ہو اور کھڑا ہوا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15291

Majma al-Zawaid #15291

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كُنَّا بِالْحَدِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ، فَكَانَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" وَاعَرُوسَاهُ "". قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ، فَأَلْقَيْتُهُ، فَأَعْلَقَهُ [وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّحَرِ] اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِيَدِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ set out and when they were at al-Ḥadd they turned with her upon a camel, her last contact with them hearing the Messenger of Allah ﷺ cry Wa ʿarūsāh, and while so a caller told her to throw the rein, which she did, and Allah held it in His hand through that night journey. > **"Wa ʿarūsāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نکلے ، جب ہم لوگ ’’ حد ‘‘ نامی جگہ پر تھے تو ہم لوگ مڑ گئے ، میں ایک اونٹ پر سوار تھی ، مجھے بس یہ پتہ ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کی آواز آئی ، آپ یہ فرما رہے تھے کہ ارے دلہن ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اللہ کی قسم ابھی میں اسی صورت حال میں تھی کہ اسی دوران کسی منادی نے پکار کر کہا آپ لگام پھینک دیں ، میں نے لگام پھینک دی تو اللہ تعالیٰ نے وہ اونٹ ان کے ہاتھ میں دے دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15292

Majma al-Zawaid #15292

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اجْتَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي أَهْلِهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْوَلِيمَةِ مِنْ كِتَابِ الضَّحَايَا أَحَادِيثُ فِي جَلَائِهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ viewed ʿĀʾishah رضي الله عنها adorned among her family before consummating with her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروانے سے پہلے ، انہیں ان کے گھر والوں کے پاس ، دلہن کے طور پر تیار ہونے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے ولیمہ کے متعلق باب میں ، قربانی سے متعلق کتاب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان کے دلہن کے طور پر تیار ہونے کے بارے میں ہیں ۔

15293

Majma al-Zawaid #15293

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فِي شَوَّالٍ، وَأَعْرَسَ بِهَا فِي شَوَّالٍ بِالْمَدِينَةِ، عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَتْ عَائِشَةُ بِالْمَدِينَةِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ بَعْدَ الْوِتْرِ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَدُفِنَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb reported that the Messenger of Allah ﷺ married ʿĀʾishah bint Abī Bakr in Shawwāl and consummated with her in Shawwāl in Madīnah six months after his emigration, and ʿĀʾishah died in Madīnah with seventeen nights passed of Ramaḍān after al-Witr in year fifty-eight and was buried that night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے شوال کے مہینے میں سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اور شوال کے مہینے میں ہی مدینہ منورہ میں ان کی رخصتی کروائی تھی ، یہ آپ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے چھ ماہ بعد کی بات ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا جب رمضان کی سات راتیں گزر چکی تھیں ، یہ اٹھاون ہجری کی بات ہے ، اور انہیں اسی رات میں دفن کر دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15294

Majma al-Zawaid #15294

وَعَنْ نَافِعٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسْطَ الْبَقِيعِ، وَالْإِمَامُ يَوْمَ صَلَّيْنَا عَلَى عَائِشَةَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَحَضَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَدَخَلَ فِي قَبْرِ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ، وَعُرْوَةُ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَمَاتَتْ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ فِي رَمَضَانَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْهُ، وَدُفِنَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ and other people of knowledge reported they prayed over ʿĀʾishah and Umm Salamah, wives of the Prophet ﷺ, in the midst of al-Baqīʿ, the imām when they prayed over ʿĀʾishah being Abū Hurayrah with ʿAbdullāh ibn ʿUmar present, and those who entered her grave were ʿAbdullāh and ʿUrwah sons of Muḥammad ibn Abī Bakr and ʿAbdullāh ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Bakr, and she died in year fifty-eight in Ramaḍān with seventeen passed and was buried that night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع اور دیگر اہل علم یہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے جنت البقیع کے درمیان نبی اکرم ﷺ کی دو ازواج سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی ہے ، جب ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی تھی اس وقت امام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک ہوئے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قبر میں حضرت محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے عبداللہ اور عروہ اترے تھے ، اور عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکر اترے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رمضان کے مہینے میں سترہ تاریخ کو اٹھاون ہجری میں ہوا تھا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15295

Majma al-Zawaid #15295

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَتْ عَلَيَّ أُمُّ مِسْطَحٍ، فَخَرَجْتُ لِحَاجَةٍ لِي إِلَى حُشٍّ، فَوَطِئَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ عَلَى عَظْمٍ أَوْ شَوْكَةٍ، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، قُلْتُ: بِئْسَ مَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: أَشْهَدُ أَنَّكِ مِنَ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ، أَتَدْرِينَ مَا قَدْ طَارَ عَلَيْكِ؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، فَقَالَتْ: مَتَى عَهْدُكِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْتُ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ فِي أَزْوَاجِهِ مَا أَحَبَّ، وَيُرْجِي مَنْ أَحَبَّ مِنْهُنَّ؟ قَالَتْ: إِنَّهُ طَارَ عَلَيْكِ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَرْتُ مَغْشِيَّةً عَلَيَّ، فَبَلَغَ أُمَّ رُومَانَ أُمِّي، فَلَمَّا بَلَغَهَا أَنَّ عَائِشَةَ بَلَغَهَا الْأَمْرُ، أَتَتْنِي فَحَمَلَتْنِي، فَذَهَبَتْ بِي إِلَى بَيْتِهَا، فَبَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ عَائِشَةَ قَدْ بَلَغَهَا الْخَبَرُ، فَجَاءَ إِلَيْهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَجَلَسَ عِنْدَهَا، وَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ التَّوْبَةَ "". فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى مَا بِي، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرَنَّ بِهَذِهِ الَّتِي قَدْ خَانَتْكَ وَفَضَحَتْنِي؟ قَالَتْ: فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى شَرٍّ. قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ؟ "". قَالَ: قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ أَرْسِلْ إِلَى بَرِيرَةَ خَادِمِهَا فَسَلْهَا، فَعَسَى أَنْ تَكُونَ قَدِ اطَّلَعَتْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى بَرِيرَةَ، فَجَاءَتْ، فَقَالَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنْ سَأَلْتُكِ عَنْ شَيْءٍ فَلَا تَكْتُمِينِي "". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا شَيْءٌ تَسْأَلُنِي عَنْهُ إِلَّا أَخْبَرْتُكَ بِهِ، وَلَا أَكْتُمُكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ شَيْئًا. قَالَ: "" قَدْ كُنْتِ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَهَلْ رَأَيْتِ مِنْهَا شَيْئًا تَكْرَهِينَهُ "". قَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالنُّبُوَّةِ ; مَا رَأَيْتُ مِنْهَا مُنْذُ كُنْتُ عِنْدَهَا إِلَّا خَلَّةً. قَالَ: "" مَا هِيَ؟ "". قَالَتْ: عَجَنْتُ عَجِينًا لِي، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: احْفَظِي الْعَجِينَ حَتَّى أَقْتَبِسَ نَارًا فَأَخْتَبِزَ، فَقَامَتْ تُصَلِّي فَغَفَلَتْ عَنِ الْعَجِينِ، فَجَاءَتِ الشَّاةُ فَأَكَلَتْهُ. فَأَرْسَلَ إِلَى أُسَامَةَ، فَقَالَ: "" يَا أُسَامَةُ، مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِيهَا؟ "". قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنْ تَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى يُحْدِثَ اللَّهُ إِلَيْكَ فِيهَا. قَالَتْ: فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَ الْوَحْيُ، فَلَمَّا نَزَلَ جَعَلْنَا نَرَى فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ، ثُمَّ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; قَدْ أَتَاكِ اللَّهُ بِعُذْرِكِ "". فَقُلْتُ: بِغَيْرِ حَمْدِكَ وَحَمْدِ صَاحِبِكَ. قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ تَكَلَّمْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ خَصِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that Umm Misṭaḥ came to her and she went out for her need to a ḥushsh when Umm Misṭaḥ stepped upon a bone or thorn and said may Misṭaḥ perish, so she rebuked her for reviling a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, whereupon Umm Misṭaḥ testified she was among the heedless believing women and asked whether she knew what had spread against her, and when she swore she did not, asked when her last contact with the Messenger of Allah ﷺ was, she answered he did as he pleased among his wives, so Umm Misṭaḥ told her such and such had spread, she fell unconscious, word reached her mother Umm Rūmān who carried her to her house, word reached the Messenger of Allah ﷺ that ʿĀʾishah had learned the news so he came, sat with her and said O ʿĀʾishah Allah has widened repentance, which worsened her state, then Abū Bakr entered saying O Messenger of Allah why regard one who betrayed you and disgraced me, which worsened her further, then he sent for ʿAlī asking his view, who answered Allah and His Messenger knew best, pressed him he said Allah widened women but ask Barīrah her servant who may have seen something, so he sent for Barīrah, made her testify he was Allah's Messenger and charge her not to conceal, she swore to tell all, asked if she ever saw anything blameworthy in ʿĀʾishah, she swore by Prophethood she saw only one trait, that she kneaded dough, asked ʿĀʾishah to guard it while she fetched fire to bake, ʿĀʾishah prayed and neglected it until a sheep ate it, then he sent for Usāmah asking his view, who answered Allah and His Messenger knew best, pressed him he advised silence until Allah revealed, and after a short while revelation descended and signs showed in the face of the Messenger of Allah ﷺ announcing glad tidings that Allah had cleared her, to which she replied without his or his companion's praise, and thereupon she spoke. > **"Rejoice O ʿĀʾishah, rejoice O ʿĀʾishah, Allah has brought you your clearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ام مسطح کے ہاں گئی اور پھر ان کے ساتھ قضائے حاجت کے لئے آبادی سے باہر گئی ، راستے میں کسی جگہ ام مسطح کا پاؤں کسی ہڈی پر یا شاید کسی کانٹے پر آیا تو انہوں نے کہا : مسطح برباد ہو جائے ، میں نے کہا : آپ نے بہت بری بات کہی ہے ، آپ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے ایک فرد کو برا کہہ رہی ہیں ، تو اس خاتون نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ غافل مومن خواتین میں سے ایک ہیں ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ آپ کے حوالے سے کیا بات پھیل چکی ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! جی نہیں ، تو اس نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول اپنی ازواج کے بارے میں جو پسند کرتے ہیں اس طرح کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور جو طریقہ کار چاہتے ہیں وہ کر لیتے ہیں ، تو ام مسطح نے کہا : آپ کے حوالے سے یہ یہ بات پھیل چکی ہے ، تو میں گر گئی اور مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی ، جب میری والدہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو میری حالت کا پتہ چلا کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ کیا صورت حال ہے ، تو وہ میرے پاس آئیں اور مجھے سوار کروا کے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ کو بھی یہ بات پتہ چل گئی کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے ، تو میری طبیعت اور خراب ہو گئی ، ابھی یہی صورت حال تھی کہ اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے ، وہ اندر آئے انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس کی طرف کیا دیکھ رہے ہیں ، اس نے آپ کے ساتھ خیانت کی ہے اور مجھے شرمندگی کا شکار کر دیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو میری طبیعت کی خرابی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے علی ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم مجھے یہ بتاؤ کہ عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حوالے سے گنجائش عطا کی ہوئی ہے ، تاہم آپ ان کی خادمہ بریرہ سے پوچھیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے معاملے کے حوالے سے کسی چیز سے واقف ہو ، تو نبی اکرم ﷺ نے بریرہ کو بلوایا ، وہ آئی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اگر میں تم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کروں تو تم نے مجھ سے چھپانی نہیں ہے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کریں گے تو میں آپ کو بتا دوں گی اور اگر اللہ نے چاہا تو آپ سے کوئی چیز نہیں چھپاؤں گی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عائشہ کے پاس ہوتی ہو ، تم نے اس کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھی جو تمہیں ناگوار گزرتی ہو ؟ اس نے کہا : جی نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبوت کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! جب سے میں ان کے پاس ہوں ۔ میں نے ان کے حوالے سے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، صرف ایک چیز کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ تو بریرہ نے بتایا کہ میں نے آٹا گوندھا تھا ۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : آپ آٹے کا دھیان رکھیے گا ، میں آگ لے کے آتی ہوں اور روٹی پکاتی ہوں ، وہ کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگ گئی اور آٹے سے غافل ہو گئی اور بکری آئی اور اس نے آٹا کھا لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اے اسامہ ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے بارے میں تمہاری جو رائے ہے ۔ اس کے بارے میں مجھے ضرور بتاؤ ، تو انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے آپ ان کے حوالے سے خاموش رہیں ، جب تک اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آپ کی طرف کوئی حکم نازل نہیں کر دیتا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے ، تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کا حکم نازل کر دیا ہے ، تو میں نے کہا : اس پر میں آپ کی تعریف نہیں کروں گی اور آپ کے ساتھی کی تعریف نہیں کروں گی ، راوی کہتے ہیں اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کلام کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15296

Majma al-Zawaid #15296

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَصَابَ عَائِشَةَ الْقُرْعَةُ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ انْطَلَقَتْ عَائِشَةُ لِحَاجَةٍ، فَانْحَلَّتْ قِلَادَتُهَا، فَذَهَبَتْ فِي طَلَبِهَا، وَكَانَ مِسْطَحٌ يَتِيمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَفِي عِيَالِهِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ عَائِشَةُ لَمْ تَرَ الْعَسْكَرَ. قَالَ: وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ يَتَخَلَّفُ عَنِ النَّاسِ، فَيُصِبُ الْقَدَحَ، وَالْجِرَابَ، وَالْإِدَاوَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: فَيَحْمِلُهُ - قَالَ: فَنَظَرَ فَإِذَا عَائِشَةُ فَغَطَّى - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجْهَهُ عَنْهَا - ثُمَّ أَدْنَى بَعِيرَهُ مِنْهَا، قَالَ: فَانْتَهَى إِلَى الْعَسْكَرِ، فَقَالُوا قَوْلًا وَقَالُوا فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ حَتَّى انْتَهَى، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ، فَيَقُومُ عَلَى الْبَابِ، فَيَقُولُ: "" كَيْفَ تِيكُمْ؟ "". حَتَّى جَاءَ يَوْمًا فَقَالَ: "" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ "". فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ. قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ عَشْرَ آيَاتٍ: {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} [النور: 11]. قَالَ: فَحَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِسْطَحًا، وَحَمْنَةَ، وَحَسَّانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ when intending travel cast lots among his wives, and the lot fell upon ʿĀʾishah in the campaign of Banū al-Muṣṭaliq, and in the depth of night she went for her need when her necklace loosened and she sought it, while Misṭaḥ an orphan under Abū Bakr's care remained with his household, and when she returned she saw no army, while Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal al-Sulamī who lagged behind to collect fallen cups, bags and water-skins saw her, covered his face from her, brought his camel near, reached the army with her, people spoke about it, and the narrator continued the account till its end, noting the Messenger of Allah ﷺ would come stand at the door asking how she was until one day he announced glad tidings that Allah had revealed her clearance, she replied by praise of Allah not of him, Allah revealed ten verses beginning with those who brought the slander, and the Messenger of Allah ﷺ imposed the ḥadd upon Misṭaḥ, Ḥamnah and Ḥassān. > **"Rejoice O ʿĀʾishah, Allah has revealed your clearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کر لیتے تھے ، ایک مرتبہ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قرعہ نکل آیا ( اس سفر کے دوران ) نصف رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئیں ، اس دوران ان کا ہار گر گیا ۔ وہ اس کی تلاش میں چلی گئیں ، حضرت مسطح رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش یتیم لڑکے تھے اور ان کے عیال میں سے تھے ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو انہوں نے وہاں لشکر کو نہیں دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ لوگوں سے پیچھے رہ جاتے تھے تاکہ اگر کوئی پیالہ یا مشکیزہ یا کوئی برتن رہ گیا ہو تو وہ اسے اٹھا لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے دیکھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نظر آئیں ، انہوں نے اپنا چہرہ ان سے ڈھانپ لیا اور اپنا اونٹ ان کے سامنے کیا ، پھر وہ لشکر تک پہنچے تو لوگوں نے اس بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لاتے اور دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور دریافت کرتے : تمہارا کیا حال ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن آپ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : ’’ اے عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ۔‘‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ تعالیٰ کی حمد ہے ، آپ کی تعریف نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں دس آیات نازل کیں : ’’ بے شک وہ لوگ جو تم میں سے ایک گروہ جھوٹا الزام لے کے آئے .......‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مسطح ، حمنہ اور حسان پر حد جاری کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15297

Majma al-Zawaid #15297

وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: «قُلْتُ - يَعْنِي لِعَائِشَةَ -: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - أَوْ يَا أُمَّتَاهُ - أَلَا تُحَدِّثِينِي كَيْفَ كَانَ - يَعْنِي أَمْرَ الْإِفْكِ -؟ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَخُوضُ الْمَطَرَ بِمَكَّةَ، وَمَا عِنْدِي مَا يَرْغَبُ فِيهِ الرِّجَالُ، وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَزَوَّجَنِي أَلْقَى اللَّهُ عَلَيَّ الْحَيَاءَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاجَرَ وَأَنَا مَعَهُ، فَاحْتُمِلْتُ إِلَيْهِ، وَقَدْ جَاءَنِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسِيرًا، فَخَرَجَ بِي مَعَهُ، وَكُنْتُ خَفِيفَةً فِي حُدَّاجَةٍ لِي عَلَيْهَا سُتُورٌ، ارْتَحَلُوا جَلَسْتُ عَلَيْهَا، وَاحْتَمَلُوهَا وَأَنَا فِيهَا فَشَدُّوهَا عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ، فَنَزَلُوا مَنْزِلًا وَخَرَجْتُ لِحَاجَتِي، فَرَجَعْتُ وَقَدْ نَادَوْا بِالرَّحِيلِ، فَنَزَلْتُ فِي الْحِدَاجَةِ وَقَدْ رَأَوْنِي حِينَ حَرَّكْتُ السُّتُورَ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِيهَا ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي، فَإِذَا أَنَا قَدْ نَسِيتُ قِلَادَةً كَانَتْ مَعِي مِنْ جَزْعٍ، فَخَرَجْتُ مُسْرِعَةً أَطْلُبُهَا، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْقَوْمُ قَدْ سَارُوا، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى إِلَّا الْغُبَارَ مِنْ بَعِيدٍ، فَإِذَا هُمْ قَدْ وَضَعُوا الْحِدَاجَةَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ، لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنِّي فِيهَا لِمَا رَأَوْا مِنْ خِفَّتِي، فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ، فَقُلْتُ: مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قُلْتُ: أَدْرِ عَنِّي وَجْهَكَ، وَضَعْ رِجْلَكَ عَلَى ذِرَاعِ بَعِيرِكَ. قَالَ: أَفْعَلُ وَنِعْمَةُ عَيْنٍ وَكَرَامَةٌ. قَالَتْ: فَأَدْرَكْتُ النَّاسَ حِينَ نَزَلُوا، فَذَهَبَ فَوَضَعَنِي عِنْدَ الْحِدَاجَةِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّاسُ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، قَالَتْ: وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ أَبَوَيَّ، وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَعْلَمُ مَا قَدْ كَانَ قِيلَ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ خَادِمِي أَوْ رَبِيبَتِي، فَقَالَتْ كَذَا قَالَتْ، وَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: مَا أَغْفَلَكِ! فَأَخَذَتْنِي حُمَّى نَافِضٍ، فَأَخَذَتْ أُمِّي كُلَّ ثَوْبٍ كَانَ فِي الْبَيْتِ فَأَلْقَتْهُ عَلَيَّ. فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "" مَا تَرَوْنَ؟ "". فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا أَكْثَرَ النِّسَاءَ، وَتَقْدِرُ عَلَى الْبَدَلِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ، وَأَمْرُنَا لِأَمْرِكَ تَبَعٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاللَّهِ لَيُبَيِّنَنَّهُ اللَّهُ لَكَ فَلَا تَعْجَلْ. قَالَتْ: وَقَدْ صَارَ وَجْهُ أَبِي كَأَنَّهُ صُبَّ عَلَيْهِ زِرْنِيخٌ. قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى مَا بِي، فَقَالَ: "" مَا لِهَذِهِ؟ "". قَالَتْ أُمِّي: مَا لِهَذِهِ مِمَّا قُلْتُمْ وَقِيلَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا. قَالَتْ: فَزَادَنِي ذَلِكَ عَلَى مَا عِنْدِي. قَالَتْ: وَأَتَانِي، فَقَالَ: "" اتَّقِي اللَّهَ يَا عَائِشَةُ، وَإِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ، وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ "". قَالَتْ: وَطَلَبْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: غَيْرَ أَنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ: {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18]، {إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [يوسف: 86]. قَالَتْ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَصْحَابِهِ، وَوَجْهُهُ كَأَنَّمَا ذِيبَ عَلَيْهِ الزِّرْنِيخُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ [الْوَحْيُ]، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَطُوفْ، فَعَرِفَ أَصْحَابُهُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، وَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِهِ، وَهُوَ يَتَهَلَّلُ وَيُسْفِرُ، فَلَمَّا قَضَى الْوَحْيُ قَالَ: "" أَبْشِرْ يَا أَبَا بَكْرٍ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ ابْنَتِكَ وَبَرَاءَتَهَا، فَانْطَلِقْ إِلَيْهَا فَبَشِّرْهَا "". قَالَتْ: وَقَرَأَ عَلَيْهِ مَا نَزَلَ فِيَّ. قَالَتْ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ مُسْرِعًا يَكَادُ أَنْ يَنْكَبَّ قَالَتْ: فَقُلْتُ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ الَّذِي جِئْتَ مِنْ عِنْدِهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِي، فَأَخَذَ بِكَفِّي، فَانْتَزَعْتُ يَدِي مِنْهُ، فَضَرَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: أَتَنْزَعِينَ كَفَّكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ تَفْعَلِينَ هَذَا؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ: فَهَذَا كَانَ أَمْرِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، فِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad reported he asked ʿĀʾishah, O Mother of the Believers, would she narrate how the affair of the slander was, and she said the Messenger of Allah ﷺ married her at Makkah while she waded the rain with nothing men desire, a girl of six, and when it reached her that he had married her Allah cast modesty upon her, then the Messenger of Allah ﷺ emigrated with her and she was taken to him at nine, the Messenger of Allah ﷺ journeyed with her, she light in her curtained litter which they lifted with her inside and bound upon the camel, they halted and she went for her need, returned after the call to depart, entered the litter after they had seen her stir the curtains, sat and struck her chest finding she had forgotten her necklace of onyx, rushed to seek it, returned to find the people gone with only distant dust, the litter placed upon the camel supposing her inside due to her lightness, when a man holding his camel's head asked who it was, he said Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal, asked if she was the Mother of the Believers, she said yes, he said to Allah we belong and return, she told him to turn his face and place his foot upon the camel's foreleg, which he gladly did, she caught the people at their halt, he placed her at the litter, people looked without her perceiving, she noticed coldness from her parents and the Messenger of Allah ﷺ without knowing what was said until her servant informed her and a Muhājir man called her heedless, shivering fever seized her, her mother heaped every garment in the house upon her, the Messenger of Allah ﷺ consulted his Companions asking their view, some said there are many women and replacement possible, others affirmed messengership, and the account continued.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں : میں نے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اے امی جان ! کیا آپ مجھے یہ نہیں بیان کریں گی کہ واقعہ افک کس طرح ہوا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : ’’ جب نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ شادی کی تھی اس وقت میں مکہ میں بارش میں گھوم پھر لیتی تھی کیونکہ میری عمر ابھی اتنی نہیں تھی کہ جس میں مردوں کو دلچسپی ہو ، میری عمر چھ سال تھی ، جب مجھے یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء ڈال دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کی تو میں آپ کی بیوی تھی ، مجھے سوار کروا کے آپ کے پاس لایا گیا ، نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نو سال کی تھی ( یعنی میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی ) نبی اکرم ﷺ ایک سفر کر رہے تھے آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے ، میں ہلکی پھلکی سی تھی ، میں ہودج میں رہتی تھی جس میں پردے پڑے ہوئے ہوتے تھے ، جب وہ لوگ روانہ ہونے لگتے تھے تو میں اس ہودج میں بیٹھ جاتی تھی ، وہ لوگ اسے اٹھا لیتے تھے ، میں اس کے اندر موجود ہوتی تھی وہ لوگ اس ہودج کو اونٹ کی پشت پر باندھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، میں قضائے حاجت کے لئے گئی ، جب میں واپس آئی تو ان لوگوں نے یہ اعلان کیا کہ روانگی ہونے لگی ہے ، اسی دوران میں ہودج سے باہر آ گئی ، ان لوگوں نے مجھے پردوں کی حرکت کے وقت دیکھ لیا تھا ، جب میں اس میں بیٹھی تھی ، تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا تو مجھے پتہ چلا کہ میں اپنا ہار گم کر آئی ہوں ، میں تیزی سے اس کی تلاش میں نکلی ، جب میں واپس آئی تو لوگ جا چکے تھے اور مجھے دور سے صرف غبار نظر آ رہا تھا ، ان لوگوں نے ہودج کو اونٹ کی پشت پر رکھ دیا تھا ، ان کا یہ خیال تھا کہ میں اس کے اندر ہی موجود ہوں گی کیونکہ میں ہلکی پھلکی ہوتی تھی ، اسی دوران ایک شخص نظر آیا جس نے اپنے اونٹ کا سر پکڑا ہوا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : صفوان بن معطل ، آپ اُم المومنین ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو اس نے کہا : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، میں نے کہا : تم اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لو اور اپنے اونٹ کی ٹانگ کے پاس اپنی ٹانگ رکھو ، اس نے کہا : میں ایسا ہی کروں گا اور یہ میرے لئے عزت افزائی کا باعث ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ اگلا پڑاؤ کر چکے تھے ، میں گئی اور اپنے ہودج میں چلی گئی ، لوگوں نے مجھے دیکھ لیا ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا صورت حال تھی ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لیکن اس دوران مجھے اپنے والدین کا رویہ بدلا ہوا محسوس ہوا اور نبی اکرم ﷺ کا رویہ بھی بدلا ہوا محسوس ہوا ، لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا بات ہو رہی ہے ؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری خادمہ میرے پاس آئی تو اس نے بتایا کہ اس اس طرح کی صورت حال ہے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھ سے کہا : آپ کتنی غافل ہیں ، پھر مجھے کپکپی والا بخار ہو گیا ، میری والدہ نے گھر میں موجود ہر کپڑا لے کر میرے اوپر ڈال دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا اور دریافت کیا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ، تو کسی نے یہ کہا کہ عورتیں بہت سی ہیں اور آپ ان کے بدلے میں ( دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرنے پر ) قدرت رکھتے ہیں ، کسی نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ، اور ہمارا حکم آپ کے حکم کا تابع ہے ، کسی نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کے سامنے حقیقت حال بیان کر دے گا ، تو آپ جلدی نہ کریں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس دوران میرے والد کا چہرہ یوں ہو چکا تھا جیسے اس پر زریخ انڈیل دیا گیا ہو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے میری صورت حال ملاحظہ کی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ میری والدہ نے کہا : یہ اس وجہ سے ہے جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں اور جو بات کہی گئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے کوئی بات نہیں کی اور مزید کچھ نہیں ارشاد فرمایا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس سے میری پریشانی میں اور بھی اضافہ ہو گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، اگر تم نے اس طرح کا کوئی ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ، بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے ، اور وہ برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جواب میں ، میں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لینا تھا لیکن اس وقت وہ مجھے یاد نہیں آیا تو میں نے یہ کہا کہ میں تو صرف وہی بات کہ سکتی ہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ اب صبر کرنا ہی بہتر ہے ، اور تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس حوالے سے اللہ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے ، میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے اس بات کا پتہ ہے جس کا تمہیں پتہ نہیں ہے ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے آپ کے چہرے کا یہ عالم تھا جیسے اس پر زریخ ڈال دیا گیا ہو یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تھی ، تو پھر آپ کی طرف نظر نہیں کی جاتی تھی ، آپ کے اصحاب کو اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے وہ آپ کے منتظر رہے ، آپ کا چہرہ روشن ہوتا جا رہا تھا ، جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے ابوبکر ! تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیٹی کے عذر اور اس کے بری ہونے کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے خوشخبری سناؤ ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان کے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، قریب تھا کہ وہ گر جاتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے کہا : اس بات پر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں اور آپ کے آقا کی حمد بیان نہیں کرتی ، جن کے پاس سے آپ آئے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ میرے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ سے چھڑا لیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے مارا اور فرمایا : کیا تم اللہ کے رسول سے اپنا ہاتھ الگ کر رہی ہو ، کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا کر رہی ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے راوی سے فرمایا : تو یہ معاملہ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

15298

Majma al-Zawaid #15298

وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسَافِرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، فَخَرَجَ سَهْمُ عَائِشَةَ فِي غَزْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ جُوَيْرِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، قَلِيلَةَ اللَّحْمِ خَفِيفَةً، وَكَانَتْ تَلْزَمُ خِدْرَهَا، فَإِذَا أَرَادَ النَّاسُ الرَّحِيلَ، ذَهَبَتْ، فَتَوَضَأَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَدَخَلَتْ مِحَفَّتَهَا، فَيُرَحَّلُ بِعِيرُهَا، ثُمَّ تُحْمَلُ مِحَفَّتُهَا فَتُوضَعُ عَلَى الْبَعِيرِ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ فِيهَا الْمُنَافِقُونَ وَغَيْرُهُمْ مِمَّنِ اشْتَرَكَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ: إِنَّهَا خَرَجَتْ تَتَوَضَّأُ حِينَ دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَانْسَلَّ مِنْ عُنُقِهَا عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ أَظْفَارٍ، فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ، وَهِيَ فِي بُغَاءِ الْعِقْدِ، وَلَمْ تَعْلَمْ بِرَحِيلِهِمْ، فَشَدُّوا عَلَى بَعِيرِهَا الْمِحَفَّةَ، وَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّهَا فِيهَا كَمَا كَانَتْ تَكُونُ، فَرَجَعَتْ عَائِشَةُ إِلَى مَنْزِلِهَا، فَلَمْ تَجِدْ فِي الْعَسْكَرِ أَحَدًا، فَغَلَبَتْهَا عَيْنَاهَا. وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَخَلَّفَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَنِ الْعَسْكَرِ حَتَّى أَصْبَحَ. قَالَتْ: فَمَرَّ بِي فَرَآنِي فَاسْتَرْجَعَ، وَأَعْظَمَ مَكَانِي حِينَ رَآنِي وَحْدِي، وَقَدْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ وَيَعْرِفُنِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ. قَالَتْ: فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَسَتَرْتُ وَجْهِي عَنْهُ بِجِلْبَابِي، وَأَخْبَرْتُهُ بِأَمْرِي، فَقَرَّبَ بَعِيرَهُ فَوَطِئَ عَلَى ذِرَاعِهِ، فَوَلَّانِي قَفَاهُ حَتَّى رَكِبْتُ، وَسَوَّيْتُ ثِيَابِي، ثُمَّ بَعَثَهُ، فَأَقْبَلَ يَسِيرُ بِي حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ نِصْفَ النَّهَارِ أَوْ نَحْوَهُ، فَهُنَالِكَ قَالَ فِيَّ وَفِيهِ مَنْ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ، وَأَنَا لَا أَعْلَمُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، وَلَا مِمَّا يَخُوضُ النَّاسُ فِيهِ مِنْ أَمْرِي، وَكُنْتُ تِلْكَ اللَّيَالِي شَاكِيَةً. وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَنْكَرْتُ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَعُودُنِي قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا مَرِضْتُ، وَكَانَ تِلْكَ اللَّيَالِي لَا يُدْخُلُ عَلَيَّ وَلَا يَعُودُنِي، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ، وَهُوَ مَارٌّ: "" كَيْفَ تِيكُمْ؟ "". فَيَسْأَلُ عَنِّي أَهْلَ الْبَيْتِ. فَلَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَكْثَرَ النَّاسُ فِيهِ مِنْ أَمْرِي غَمَّهُ ذَلِكَ، وَقَدْ شَكَوْتُ قَبْلَ ذَلِكَ إِلَى أُمِّي مَا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجَفْوَةِ فَقَالَتْ لِي: يَا بُنَيَّةُ، اصْبِرِي فَوَاللَّهِ لَقَلَّ مَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ يُحِبُّهَا زَوْجُهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا رَمَيْنَهَا. قَالَتْ: فَوَجَدْتُ حِسًّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ صُبْحِهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَسْتَشِيرُهُمَا فِي أَمْرِي، وَكُنَّا ذَلِكَ الزَّمَانَ لَيْسَ لَنَا كُنُفٌ نَذْهَبُ فِيهَا، إِنَّمَا كُنَّا نَذْهَبُ كَمَا يَذْهَبُ الْعَرَبُ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ، فَقُلْتُ لِأُمِّ مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ: خُذِي الْإِدَاوَةَ فَامْلَئِيهَا مَاءً فَاذْهَبِي بِهَا إِلَى الْمَنَاصِعِ، وَكَانَتْ هِيَ وَابْنُهَا مِسْطَحٌ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ قَرَابَةٌ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُنْفِقُ عَلَيْهِمَا، فَكَانَا يَكُونَانِ عِنْدَهُ وَمَعَ أَهْلِهِ. فَأَخَذَتِ الْإِدَاوَةَ وَخَرَجَتْ نَحْوَ الْمَنَاصِعِ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ: بِئْسَ مَا قُلْتِ. قَالَتْ: ثُمَّ مَشَيْنَا فَعَثَرَتْ أَيْضًا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ لِصَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبِ بَدْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّكَ لَغَافِلَةٌ عَمَّا فِيهِ النَّاسُ مِنْ أَمْرِكِ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، فَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ مِسْطَحًا وَفُلَانًا وَفُلَانَةَ فِيمَنِ اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمُنَافِقِينَ؛ يَجْتَمِعُونَ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْكِ وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ ; يَرْمُونَكِ بِهِ. قَالَتْ: فَذَهَبَ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْغَائِطِ، فَرَجَعْتُ عُودِي عَلَى يَدَيَّ [إِلَى بَيْتِي]. فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَأَخْبَرَهُمَا بِمَا قِيلَ فِيَّ، وَاسْتَشَارَهُمَا فِي أَمْرِي، فَقَالَ أُسَامَةُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَى أَهْلِكَ سُوءًا، وَقَالَ عَلِيٌّ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْثَرَ النِّسَاءَ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ الْخَبَرَ فَتَوَعَّدِ الْجَارِيَةَ - يَعْنِي بَرِيرَةَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّ: "" فَشَأْنُكَ بِالْخَادِمِ "". فَسَأَلَهَا عَلِيٌّ عَنِّي، فَلَمْ تُخْبِرْهُ - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ - إِلَّا بِخَيْرٍ؛ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ سُوءًا، إِلَّا أَنَّهَا جُوَيْرِيَّةٌ تُصْبِحُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَدْخُلُ الشَّاةُ الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُ مِنَ الْعَجِينِ. قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَمِعَ مَا قَالَتْ - بَرِيرَةُ لِعَلِيٍّ إِلَى النَّاسِ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ لِي مِنْ رَجُلٍ يُؤْذُونَنِي فِي أَهْلِي؟ فَمَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي سُوءًا، وَيَرْمُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي، مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ سُوءًا، وَلَا خَرَجْتُ مَخْرَجًا إِلَّا خَرَجَ مَعِيَ فِيهِ "". قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ الْأَشْهَلِيُّ مِنَ الْأَوْسِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْأَوْسِ كَفَيْنَاكَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فِيهِ بِأَمْرِكَ. وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَزْرَجَيُّ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: كَذَبْتَ، وَاللَّهِ وَهَذَا الْبَاطِلُ. فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْأَشْهَلِيُّ، وَرِجَالٌ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ، فَاسْتَبُّوا وَتَنَازَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَعْظُمَ الْأَمْرُ بَيْنَهُمْ. فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتِي، وَبَعَثَ إِلَى أَبَوَيَّ فَأَتَيَاهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: "" يَا عَائِشَةُ، إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، فَإِنْ كُنْتِ أَخْطَأْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرِيهِ "". فَقُلْتُ لِأَبِي: أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي لَا أَفْعَلُ، هُوَ نَبِيُّ اللَّهِ وَالْوَحْيُ يَأْتِيهِ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لِي كَمَا قَالَ أَبِي، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَئِنْ أَقْرَرْتُ عَلَى نَفْسِي بِبَاطِلٍ لَتُصَدِّقُنَّنِي، وَلَئِنْ بَرَّأْتُ نَفْسِي - وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ - لَتُكَذِّبُنَّنِي، فَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ حِينَ يَقُولُ: {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18]. وَنَسِيتُ اسْمَ يَعْقُوبَ لِمَا بِي مِنَ الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ وَاحْتِرَاقِ الْجَوْفِ، فَتَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ يَتَغَشَّاهُ مِنَ الْوَحْيِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَمَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ؛ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بَرَاءَتَكِ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي أَمْرِي، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو لِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْ بَرَاءَتِي أَنْ يَرَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْرِي رُؤْيَا، فَيُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا عِنْدَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ لِي أَبَوَايَ عِنْدَ ذَلِكَ: قُومِي فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ، بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكُمْ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ وَأُمِّهِ، فَلَمَّا رَمَانِي حَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَهُ بِشَيْءٍ أَبَدًا. قَالَ: فَلَمَّا تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] "". بَكَى أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَأَعَادَ النَّفَقَةَ عَلَى مِسْطَحٍ وَأُمِّهِ. قَالَتْ: وَقَعَدَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ بِالسَّيْفِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً، فَقَالَ صَفْوَانُ لِحَسَّانَ حِينَ ضَرَبَهُ: تَلَقَّ ذُبَابَ السَّيْفِ عَنْكَ فَإِنَّنِي ... غُلَامٌ إِذَا هُوجِيتُ لَسْتُ بِشَاعِرِ وَلَكِنَّنِي أَحْمِي حِمَايَ وَأَنْتَقِمْ ... مِنَ الْبَاهِتِ الرَّامِي الْبُرَاةِ الطَّوَاهِرِ. ثُمَّ صَاحَ حَسَّانُ فَاسْتَغَاثَ النَّاسَ عَلَى صَفْوَانَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّاسُ فَرَّ صَفْوَانُ، فَجَاءَ حَسَّانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَعْدَاهُ عَلَى صَفْوَانَ فِي ضَرْبَتِهِ إِيَّاهُ، فَسَأَلْتُهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَهَبَ لَهُ ضَرْبَةَ صَفْوَانَ إِيَّاهُ، فَوَهَبَهَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاضَهُ [مِنْهَا] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ عَظِيمٍ وَجَارِيَةً رُومِيَّةً - وَيُقَالُ قِبْطِيَّةً - تُدْعَى سِيرِينَ. فَوَلَدَتْ لِحَسَّانَ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الشَّاعِرَ. قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ بَاعَ حَسَّانُ ذَلِكَ الْحَائِطَ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فِي وِلَايَتِهِ بِمَالٍ عَظِيمٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: وَبَلَغَنِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ الَّذِي قَالَ اللَّهُ فِيهِ: {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: 11]- أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقِيلَ فِي أَصْحَابِ الْإِفْكِ الْأَشْعَارُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي مِسْطَحٍ فِي رَمْيِهِ عَائِشَةَ، فَكَانَ يُدْعَى عَوْفًا: يَا عَوْفُ وَيْحَكَ هَلَّا قُلْتَ عَارِفَةً ... مِنَ الْكَلَامِ وَلَمْ تَبْغِي بِهِ طَمَعَا فَأَدْرَكَتْكَ حُمَيَّا مَعْشَرٍ أُنُفٍ ... فَلَمْ يَكُنْ قَاطِعًا يَا عَوْفُ مَنْ قَطَعَا هَلَّا حَرِبْتَ مِنَ الْأَقْوَامِ إِذْ حَسَدُوا ... فَلَا تَقُولُ وَإِنْ عَادَيْتَهُمْ قَذَعَا لَمَّا رَمَيْتَ حَصَانًا غَيْرَ مُقْرِفَةٍ ... أَمِينَةَ الْجَيْبِ لَمْ نَعْلَمْ لَهَا خَضَعَا فِيمَنْ رَمَاهَا وَكُنْتُمْ مَعْشَرًا أُفُكًا ... فِي سَيِّئِ الْقَوْلِ مِنْ لَفْظِ الْخَنَا شَرَعَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرًا فِي بَرَاءَتِهَا ... وَبَيْنَ عَوْفٍ وَبَيْنَ اللَّهِ مَا صَنَعَا فَإِنْ أَعِشْ أَجْزِ عَوْفًا فِي مَقَالَتِهِ ... سُوءَ الْجَزَاءِ بِمَا أَلْفَيْتُهُ تَبَعَا. وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الَّذِينَ رَمَوْا عَائِشَةَ مِنَ الشِّعْرِ: تَشْهَدُ الْأَوْسُ كُلُّهَا وَفَتَاهَا ... بِحِقْدٍ وَذَلِكَ مُعْلُومُ نِسَاءُ الْخَزْرَجِيِّينَ يَشْهَدْنَ ... وَالْخُمَاسِيُّ مِنْ نَسْلِهَا وَالْعَظِيمُ أَنَّ بِنْتَ الصِّدِّيقِ كَانَتْ حَصَانًا ... عَفَّةَ الْجَيْبِ دِينُهَا مُسْتَقِيمُ تَتَّقِي اللَّهَ فِي الْمَغِيبِ عَلَيْهَا ... نِعْمَةُ اللَّهِ سِرُّهَا مَا يَرِيمُ خَيْرُ هَدْيِ النِّسَاءِ حَالًا وَنَفْسًا ... وَأَبًا لِلْعُلَا نَمَاهَا كَرِيمُ لِلْمَوَالِي إِذَا رَمُوهَا بِإِفْكٍ ... أَخَذَتْهُمْ مَقَامِعٌ وَجَحِيمُ لَيْتَ مَنْ كَانَ قَدْ قَفَاهَا بِسُوءٍ ... فِي حُطَامٍ حَتَّى يَبُولَ اللَّئِيمُ وَعَوَانٍ مِنَ الْحُرُوبِ تَلَظَّى ... ثَغْسًا قُوتُهَا عَقَارٌ صَرِيمُ لَيْتَ سَعْدًا وَمَنْ رَمَاهَا بِسُوءٍ ... فِي كَظَاظٍ حَتَّى يَتُوبَ الظَّلُومُ. وَقَالَ حَسَّانُ وَهُوَ يُبَرِّئُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِيمَا قِيلَ فِيهَا، وَيَعْتَذِرُ إِلَيْهَا: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ ... وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ خَلِيلَةُ خَيْرِ النَّاسِ دِينًا وَمَنْصِبًا ... نَبِيِّ الْهُدَى وَالْمَكْرُمَاتِ الْفَوَاضِلِ عَقِيلَةُ حَيٍّ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ ... كِرَامِ الْمَسَاعِي مَجْدُهَا غَيْرُ زَائِلِ مُهَذَّبَةٌ قَدْ طَيَّبَ اللَّهُ خِيَمَهَا ... وَطَهَّرَهَا مِنْ كُلٍّ سُوءٍ وَبَاطِلِ فَإِنْ كَانَ مَا قَدْ جَاءَ عَنِّي قُلْتُهُ ... فَلَا رَفَعَتْ صَوْتِي إِلَىَّ أَنَامِلِي وَإِنَّ الَّذِي قَدْ قِيلَ لَيْسَ بِلَائِطٍ ... بِكِ الدَّهْرَ بَلْ قَوْلُ امْرِئٍ غَيْرِ هَائِلِ وَكَيْفَ وَوُدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي ... لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ لَهُ رَتْبٌ عَالٍ عَلَى النَّاسِ فَضْلُهَا ... تَقَاصَرَ عَنْهَا سَوْرَةُ الْمُتَطَاوِلِ. قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: وَحَدَّثَنِي [أَبِي] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالَّذِينِ رَمَوْا عَائِشَةَ ; فَجُلِدُوا الْحَدَّ [جَمِيعًا] ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ. وَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الشِّعْرِ حِينَ جُلِدُوا: لَقَدْ ذَاقَ عَبْدُ اللَّهِ مَا كَانَ أَهْلَهُ ... وَحَمْنَةُ إِذْ قَالُوا هَجِيرًا وَمِسْطَحُ تَعَاطَوْا بِرَجْمِ الْغَيْبِ زَوْجَ نَبِيِّهِمْ ... وَسَخْطَةَ ذِي الْعَرْشِ الْكَرِيمِ فَأَنْزَحُوا فَآذَوْا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا وَعَمَّمُوا ... مَخَازِيَ سُوءٍ حَلَّلُوهَا وَفُضِّحُوا». قُلْتُ: حَدِيثُ الْإِفْكِ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ غَيْرِ هَذَا، وَبِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ هَذَا يُخَالِفُ مَا فِي الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, wife of the Prophet ﷺ, reported that the Prophet ﷺ when intending travel cast lots among his wives and whichever lot emerged he took her, and ʿĀʾishah's lot emerged in his campaign against Banū al-Muṣṭaliq of Khuzāʿah, and when the Messenger of Allah ﷺ turned back near Madīnah, ʿĀʾishah then a young light girl of little flesh keeping her veil, when people prepared to depart she went to relieve herself, returned and entered her litter which was saddled and lifted upon her camel, and the hypocrites and others who joined in ʿĀʾishah's affair first said she had gone to relieve herself near Madīnah when her necklace of onyx beads slipped from her neck, the Messenger of Allah ﷺ and people departed while she sought the necklace unaware of their departure, they bound her litter upon her camel supposing her inside as usual, she returned to the camp finding no one and was overcome by sleep, while Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal al-Sulamī, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, had lagged that night till morning, passed by her, saw her, uttered istirjāʿ and was awed at her solitude, having known her before the veil, asked her affair, she veiled her face with her jilbāb and informed him, he brought his camel, stepped upon its foreleg, turned his back till she mounted and arranged her clothes, then drove it walking with her till they entered Madīnah at midday or near it, whereupon the people of slander spoke about her and him while she knew nothing, being ill those nights, first noticing from the Prophet ﷺ that whereas he used to visit her in sickness he now neither entered nor visited but only said passing how is she and asked her household, until he learned people talked much and grieved, she had complained to her mother of his estrangement and her mother told her to be patient that a beautiful beloved wife with co-wives is envied, then on the night after whose morning the Prophet ﷺ consulted ʿAlī ibn Abī Ṭālib and Usāmah ibn Zayd she needed to relieve herself, there being no privies in houses and going outside at night by Arab custom, she asked Umm Misṭaḥ to take a water vessel to al-Manāṣiʿ, that woman and her son Misṭaḥ being kin of Abū Bakr maintained by him and dwelling with him, she stumbled and cursed Misṭaḥ, ʿĀʾishah rebuked her, she stumbled again and repeated it, ʿĀʾishah rebuked her for a Badr Companion, she asked if she was heedless of what circulated that Misṭaḥ and others with hypocrites misled by Satan gathered at ʿAbdullāh ibn Ubayy ibn Salūl of Banū al-Ḥārith ibn al-Khazraj speaking about her and Ṣafwān, her need vanished and she returned home, next morning the Prophet ﷺ summoned ʿAlī and Usāmah, informed them of the talk and consulted them, Usāmah swore they knew only good of his wife, ʿAlī said there are many women but ask the servant meaning Barīrah, the Prophet ﷺ agreed, ʿAlī asked her and she praised her saying only that she was a young girl whose dough a domestic goat ate, when the Prophet ﷺ heard it he addressed the people asking O group of Muslims who would excuse him from the man who harmed him concerning his wife of whom he knew only good and who slandered a Companion of blameless record always with him on journeys, Saʿd ibn Muʿādh al-Anṣārī of Banū ʿAbd al-Ashhal offered to deal with him if of Aws or to obey command if of Khazraj, Saʿd ibn ʿUbādah al-Khazrajī accused him of falsehood, Usayd ibn Ḥuḍayr al-Ashhalī rose and factions disputed till it escalated, the Prophet ﷺ came to her house, summoned her parents, praised Allah as due then told her O ʿĀʾishah she was among daughters of Adam and if she erred to repent and seek forgiveness, she asked her father to answer for her but he said he could not for he was Allah's Prophet receiving revelation, asked her mother likewise who said the same, so she swore if she confessed falsely they would believe and if she declared innocence while Allah knew it they would call her liar, recalling only the words of Yūsuf's father that patience was best and Allah's help sought for what they alleged, her grief making her forget Yaʿqūb's name, whereupon the Prophetic state of revelation seized him, when lifted he wiped his face and announced glad tidings that Allah had revealed her innocence, she had expected no Qurʾān but only a dream vindication, her parents told her to kiss the Prophet's head but she refused praising only Allah, and the narrator continued that Abū Bakr who maintained Misṭaḥ and his mother swore to spend no more, then when the Prophet ﷺ recited that they pardon and overlook and love Allah's forgiveness, Abū Bakr wept, affirmed his Lord, resumed spending, Ṣafwān once ambushed Ḥassān with a sword striking him and versifying about guarding the innocent and chaste against the liar, Ḥassān cried for help, people came, Ṣafwān fled, Ḥassān sought redress from the Prophet ﷺ who asked him to gift the blow, which he did, so the Prophet ﷺ compensated him with a large date garden and a Roman or Coptic slave-girl Sīrīn who bore his poet son ʿAbd al-Raḥmān, Abū Uways transmitted via Ḥusayn ibn ʿAbdillāh ibn ʿUbaydillāh ibn ʿAbbās from ʿIkrimah from Ibn ʿAbbās that Ḥassān later sold the garden to Muʿāwiyah for great wealth, that the painful torment verse concerned ʿAbdullāh ibn Ubayy ibn Salūl of Banū al-Ḥārith ibn al-Khazraj, with verses by Abū Bakr against Misṭaḥ called ʿAwf, by Umm Saʿd ibn Muʿādh testifying to the chastity of Abū Bakr's daughter, and by Ḥassān exonerating and apologizing to ʿĀʾishah as chaste, dignified, guarded from backbiting, beloved of the best of mankind in religion and rank, noble of Luʾayy ibn Ghālib whose glory never fades, refined whom Allah made wholesome and pure, swearing if he ever repeated slander his fingers would not raise his voice, for the charge never clung to her but was the word of an undaunted liar, while his lifelong love and support belonged to the Household of the Messenger of Allah, adornment of gatherings, whose lofty rank outstrips the ambitious, and Abū Uways added his father told him the Messenger of Allah ﷺ ordered those who cast at ʿĀʾishah flogged the ḥadd eighty each, whereupon Ḥassān versified that ʿAbdullāh, Ḥamnah and Misṭaḥ tasted what they deserved for blind conjecture against their Prophet's wife incurring wrath of the Noble Throne, harming the Messenger and spreading shameful disgraces exposed. > **"Rejoice O ʿĀʾishah, Allah has revealed your innocence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ کر لیتے تھے ان میں سے جس کے نام کا حصہ نکلتا تھا آپ اسے اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے ، ایک مرتبہ بنو مصطلق جن کا تعلق خزاعہ سے ہے ، ان کے ساتھ جنگ کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام کا قرعہ نکل آیا ، جب نبی اکرم ﷺ وہاں سے واپس آ رہے تھے تو مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان دنوں لڑکی تھیں اور کم عمر تھیں ، ان کا وزن بھی کم تھا ، وہ اپنے پردے میں بیٹھی رہتی تھیں ، جب لوگ روانگی کا ارادہ کرنے لگے تو وہ گئیں اور انہوں نے وضو کیا ، جب وہ واپس آئیں اور اپنے ہودج میں داخل ہوئیں تو اسے اٹھا کر ان کے اوپر رکھ لیا گیا ، اس واقعہ کے بارے میں سب سے پہلے منافقین نے بات چیت شروع کی اور کچھ دوسرے لوگ بھی تھے جو منافق نہیں تھے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں وہ بھی حصہ دار بن گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ چکے تھے تو ایک مرتبہ وہ وضو کرنے کے لئے نکلیں ، اسی دوران پتھروں سے بنا ہوا ان کا ہار گر گیا ، نبی اکرم ﷺ اور لوگ روانہ ہو گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہار کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں ، انہیں لوگوں کی روانگی کا پتہ نہیں چلا ، لوگوں نے ان کا ہودج باندھ کر اونٹ پر رکھ دیا ، وہ یہ سمجھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پہلے کی طرح اس کے اندر ہی موجود ہوں گی ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پڑاؤ کی جگہ پر واپس آئیں تو وہاں انہیں لشکر میں سے کوئی نظر نہیں آیا ، وہاں ان کی آنکھ لگ گئی ، حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ اس رات لشکر کے پیچھے رہ گئے تھے ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے دیکھا تو انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور جب انہوں نے مجھے اکیلے دیکھا تو وہ اس بات پر بہت حیران ہوئے ، میں ان سے واقف تھی اور وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھ سے واقف تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، انہوں نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اپنی چادر کے ذریعے اپنا چہرہ چھپا لیا اور انہیں اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اپنا اونٹ قریب کیا اور اپنا ہاتھ آگے کیا ، انہوں نے مجھے اونٹ پر سوار کروایا ، میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے ، پھر انہوں نے اپنے اونٹ کو کھڑا کیا اور مجھے ساتھ لے کر چلنے لگے ، یہاں تک کہ ہم دوپہر کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے ، تو وہاں میرے بارے میں لوگوں نے باتیں کیں اور اہل افک نے میرے بارے میں جو کہنا تھا وہ کہا ، مجھے اس حوالے سے کسی چیز کا علم نہیں تھا ، لوگ میرے بارے میں کیا باتیں کرتے پھر رہے تھے ؟ مجھے نہیں معلوم تھا ، انہی دنوں میں بیمار ہو گئی ۔ اس دوران مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے جو پہلی چیز عجیب لگی وہ یہ تھی کہ اس سے پہلے میں جب بیمار ہوتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ میری عیادت کیا کرتے تھے لیکن ان دنوں آپ میرے پاس تشریف نہیں لائے ، آپ نے میری عیادت نہیں کی ، صرف یہ تھا کہ گزرتے ہوئے آپ یہ پوچھ لیتے تھے کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ آپ گھر والوں سے میرے بارے میں دریافت کرتے رہتے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ کو یہ پتہ چلا کہ لوگ میرے معاملے کے بارے میں بہت زیادہ باتیں کر رہے ہیں ، تو آپ اس وجہ سے پریشان ہو گئے ، اس سے پہلے میں اپنی والدہ سے شکایت کر چکی تھی ، جو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے لاتعلقی مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔ تو میری والدہ نے مجھ سے کہا تھا : اے بیٹی ! صبر سے کام لو ۔ اللہ کی قسم ! جو عورت خوبصورت ہو اور اس کا شوہر اس سے محبت کرتا ہو اور اس عورت کی سوکنیں بھی ہوں تو وہ اس طرح کے الزام لگایا کرتی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جس رات کی اگلی صبح نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلا کے مشورہ لیا تھا ، اس رات مجھے قضائے حاجت کے لئے جانے کی ضرورت محسوس ہوئی ، اس زمانے میں ہمارے ہاں گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے ، ہم عربوں کے رواج کے مطابق رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے آبادی سے باہر جایا کرتی تھیں ، میں نے ام مسطح سے کہا : آپ برتن لے لیں اور اسے پانی سے بھر دیں اور اسے ساتھ لے کے مناصع ( یعنی قضائے حاجت والی جگہ ) کی طرف چلیں ، وہ خاتون اور ان کے صاحبزادے مسطح ، ان دونوں کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رشتے داری تھی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دونوں کو خرچ دیا کرتے تھے اور یہ دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں رہتے تھے ، اس خاتون نے برتن لیا اور میں مناصع کی طرف جانے کے لئے نکلی ، راستے میں کسی جگہ ام مسطح کا پاؤں الجھا تو اس نے کہا : مسطح برباد ہو جائے ، میں نے کہا : آپ نے بہت بری بات کہی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ چلتی رہیں ، پھر ان کا پاؤں الجھا تو انہوں نے کہا : مسطح برباد ہو جائے ، میں نے ان سے کہا : آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابی جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، ان کے بارے میں بری بات کہہ رہی ہیں ، تو انہوں نے کہا : تم اس چیز کے حوالے سے غافل ہو جو لوگوں کے درمیان تمہارے بارے میں چل رہی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا : مسطح اور فلاں شخص اور فلانی عورت اور منافقین میں سے جنہیں شیطان نے پھسلا دیا ہے ، وہ سب لوگ عبداللہ بن ابی بن سلول کے گھر میں اکٹھے ہوئے ہیں جس کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے ہے ، اور وہ تمہارے بارے میں اور صفوان بن معطل کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور تم پر اس کے حوالے سے الزام عائد کرتے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، مجھے جو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی اور میں وہیں سے اپنے گھر واپس آ گئی ۔ اس سے اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر بلوایا اور میرے بارے میں جو باتیں کہی جا رہی تھیں اس کے بارے میں انہیں بتایا اور میرے بارے میں ان دونوں سے مشورہ لیا ، تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ہمیں آپ کی اہلیہ کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! خواتین بہت سی ہیں ، تاہم اگر آپ اصل بات معلوم کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ کنیز سے مشورہ لیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مراد بریرہ تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاں ٹھیک ہے تم خادمہ سے پوچھو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خادمہ سے میرے بارے میں دریافت کیا تو الحمدللہ اس خادمہ نے انہیں بھلائی کی بات ہی بتائی ، اس خادمہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے ، البتہ یہ بات ہے کہ وہ کمسن لڑکی ہیں ان کے ہاں آٹا گوندھا جاتا ہے پھر گھر کی پالتو بکری آتی ہے اور وہ اس آٹے کو کھا جاتی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ نے وہ بات سنی جو بریرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہی تھی ، تو آپ لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، جب لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ نے فرمایا : ’’ اے مسلمانوں کے گروہ ! کون شخص مجھے اس شخص سے بدلہ دلوائے گا ، جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے اذیت پہنچائی ہے ، مجھے اپنی بیوی کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ہے اور ان لوگوں نے میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص پر الزام لگایا ہے جس کے بارے میں مجھے کسی برائی کا علم نہیں ہے ، میں جب بھی ( سفر پر ) باہر گیا وہ میرے ساتھ ہی باہر گیا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اوس قبیلے کی شاخ بنو عبداشہل سے تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ہے تو ہم آپ کی جگہ اسے سنبھال لیں گے اور اگر وہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ہے ، تو آپ اس کے بارے میں ہمیں حکم دیں ، اس پر حضرت سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا : اللہ کی قسم ! تم غلط کہہ رہے ہو ، یہ بات غلط ہے ، اس پر حضرت اسید بن حضیر انصاری اشہلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اس پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بولنے اور تنازع کرنے کا معاملہ شروع ہوا ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے درمیان بات بڑھ گئی ۔ ( سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) نبی اکرم ﷺ میرے گھر تشریف لائے ، آپ نے میرے والدین کو پیغام بھیج کر بلوایا ، وہ دونوں آپ کے پاس آئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم بھی حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ایک ہو ، اگر تم نے غلطی کی ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے اپنے والد سے کہا : آپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اللہ کے نبی ہیں اور ان کے پاس وحی آتی ہے ، میں نے اپنی والدہ سے کہا : آپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں تو انہوں نے بھی مجھے وہی بات کہی جو میرے والد نے کہی تھی ، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں اپنی ذات کے بارے میں جھوٹی بات کا اقرار کروں تو آپ لوگ مجھے سچا سمجھیں گے اور اگر میں خود کو اس سے لاتعلق قرار دوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں لاتعلق ہوں ، تو آپ لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے ، تو اپنے لئے اور آپ کے لئے مثال کے طور پر صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کی بات یاد آ رہی ہے کہ جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اب صبر ہی بہتر ہے ، جو تم لوگ کہہ رہے ہو اس حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پریشانی اور رونے کی وجہ سے اور دکھ کی وجہ سے مجھے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام یاد نہیں آیا ، پھر اسی دوران نبی اکرم ﷺ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے نزول کے وقت آپ پر طاری ہوتی ہے ، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت کا حکم نازل کر دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرا یہ گمان نہیں تھا کہ میرے معاملے کے بارے میں قرآن نازل ہو گا ، مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ جب میری برات کے بارے میں علم دینا چاہے گا ، تو نبی اکرم ﷺ میرے بارے میں کوئی خواب دیکھ لیں گے اور اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بری الذمہ قرار دیدے گا ، اس وقت میرے والدین نے مجھ سے کہا : تم اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے سر کا بوسہ دو ، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گی ، میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں ، آپ لوگوں کی تعریف نہیں کرتی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کو خرچ دیا کرتے تھے ، جب مسطح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ اب وہ کبھی اس پر کچھ خرچ نہیں کریں گے ، جب نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں ، کیا تم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔‘‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے عرض کی : جی ہاں اے میرے پروردگار ! پھر انہوں نے دوبارہ مسطح اور ان کی والدہ پر خرچ کرنا شروع کر دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سا ایک مرتبہ تلوار لے کر حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھ گئے ، انہوں نے حضرت حسان بن ثابت پر ضرب لگائی اور جب انہوں نے ان پر ضرب لگائی تو صفوان نے حسان سے کہا : ’’ خود کو تلوار کی دھار سے بچاؤ ، کیونکہ میں ایک ایسا فرد ہوں کہ میری ہجو کی گئی ہے اور میں شاعر نہیں ہوں ، میں اپنے حامیوں کو بچاؤں گا اور بری الذمہ اور پاکدامن افراد کی طرف سے جھوٹے اور الزام لگانے والے شخص سے انتقام لوں گا ۔‘‘ تو حسان چیخ پڑے تو انہوں نے صفوان کے خلاف لوگوں سے مدد مانگی ، جب لوگ آئے تو صفوان وہاں سے فرار ہو گئے ، پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور صفوان کے خلاف مدد مانگی ، جو ضرب انہوں نے حسان پر لگائی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ صفوان کی انہیں لگائی ہوئی ضرب نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کر دیں ، انہوں نے وہ ضرب نبی اکرم ﷺ کو ہبہ کر دی ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک بڑا کھجوروں کا باغ معاوضے کے طور پر دیا ، ایک رومی یا شاید قبطی کنیز دی جس کا نام سیرین تھا ، اس کنیز نے بعد میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن کو جنم دیا تھا ، جو شاعر بنا تھا ۔ ابواویس نامی راوی کہتے ہیں : حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس نے مجھے عکرمہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر بعد میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے وہ باغ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہیں فروخت کیا تھا اور بہت سے مال کے عوض میں فروخت کیا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ فرمایا : ’’ اور جس نے اس میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ، اس کے لئے دردناک عذاب ہے ‘‘ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ہے ، جس کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جھوٹا الزام لگانے والوں کے بارے میں کچھ اشعار بھی کہے گئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسطح کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی وجہ سے اسے یہ کہا ، مسطح کو عوف کہا جاتا تھا ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے مخاطب کر کے یہ اشعار کہے : ) ’’ اے عوف تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے وہ بات کیوں نہیں کہی ، جس سے واقفیت تھی ، اور تمہیں اس کے حوالے سے لالچ کی پیروی نہیں کرنی چاہیے تھی کہ تمہیں تکبر ( یا سرکشی ) کرنے والے گروہ کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اے عوف ! جو رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرتا ہے ، وہ پامال کرنے والا نہ بنتا ( اگر وہ صیح بات کہتا ) تم نے ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کیوں نہیں کی ، جب وہ حسد میں مبتلا ہوئے اور جب تم ان سے دشمنی کرتے تو تم نے ان کے خلاف سخت باتیں کیوں نہیں کیں ، جب تم نے پاکدامن شخصیت پر الزام لگایا ، جس کا ذکر برائی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، جو گریبان کے حوالے سے امانت دار تھی اور ہمیں اس کے بارے میں ( برائی کی طرف ) جھکاؤ کا کوئی علم نہیں ہے ، جنہوں نے اس شخصیت پر جھوٹا الزام لگایا ، اسے جھوٹا الزام لگانے والو ! تم نے غلط بات کی اور تم سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی برأت کے بارے میں عذر ( یا حکم ) نازل کر دیا ، تو اب ( عوف نے ) جو کیا ہے ، یہ معاملہ اب عوف اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہو گیا ہے ، اگر میں زندہ رہ گیا تو عوف کی کہی ہوئی بات کا اس کو برا بدلہ دوں گا ، کیونکہ میں اس کو ( برائی کی ) پیروی کرنے والا پایا ہے ۔‘‘ سیدہ ام سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والے افراد کے بارے میں یہ اشعار کہے : ’’ پورا اوس قبیلہ اور اس کے نوجوان ، اس بارے میں گواہ ہیں ، اور یہ بات معلوم شدہ ہے ، خزرج قبیلے کی خواتین ، ان کی اولاد میں سے پانچ سال کا بچہ اور بڑا فرد بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی پاکدامن ہیں ، ان کا گریبان محفوظ ہے اور دین مستقیم ہے ، جب ان کے شوہر موجود نہ ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی نعمت ، ان کا سر ہے ، جو ہمیشہ رہے گی ، حالت اور ذات ، اور والد کے حوالے سے ، ان کا طور طریقہ خواتین میں سب سے بہتر ہے ، بلندی کے حصول کے حوالے سے ان کا نسب معزز ہے ، جن موالیوں نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے ، ان کے لیے لوہے کے گرز اور حجیم ( یعنی جہنم کی آگ ) ہو گی ، کاش ایسا ہو کہ جس نے ان کی طرف برائی کی نسبت کی ہے ، وہ آگ میں جائے یہاں تک کہ وہ کمینہ اس میں پگھل جائے ، اور جنگوں کے درمیان میں جو عارضی وقفہ ہوتا ہے ، وہ ختم ہو ، وہ جنگ جس کی غذا تباہی ہوتی ہے ، اے سعد ! کاش وہ شخص جس نے ان کی طرف برائی کی نسبت کی ہے ، وہ پریشانیوں کا شکار ہو جائے ، تاکہ ظلم کرنے والے ( اس سے عبرت حاصل کر کے ) توبہ کر لیں ۔‘‘ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور ان کے سامنے معذرت پیش کی : ’’ وہ پاکدامن اور باوقار ہیں ، ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، اور وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل ( بھولی بھالی ) خواتین کے گوشت کے حوالے سے ان کا پیٹ خالی ہوتا ہے ( یعنی وہ غیبت نہیں کرتی ہیں ) وہ ان کی محبوب ہستی ہیں ، جو دین اور منصب کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، وہ ہدایت والے نبی ہیں ، جو عزت اور فضیلت ( کی ہر شان کے لائق ہیں ) وہ خاتون لؤی بن غالب کے قبیلے کی سمجھدار خاتون ہیں ، جن کی کوششیں معزز ہیں اور ان کی بزرگی زائل ہونے والی نہیں ہے ، وہ تہذیب یافتہ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعت کو پاکیزہ بنایا ہے اور ہر خرابی اور باطل سے انہیں پاک رکھا ہے ، میری طرف سے ( کوتاہی کی وجہ سے ) پہلے جو بات سامنے آئی تھی اگر میں اب بھی وہ کہوں تو میری پوریں ، میری لاٹھی ( صحیح لفظ ’’ سوطی ‘‘ یعنی لاٹھی ہے ) میری طرف بلند نہ کریں ، ویسے بھی جو کچھ کہا گیا وہ آپ میں کبھی بھی نہیں ہو سکتا ، بلکہ وہ ایک ایسے فرد کا قول ہے ، جو ہولناکی کا شکار نہیں ہوتا ، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے ( کہ میں اس طرح کی بات کروں ) جبکہ میری محبت اور میری نصرت ، جب تک میں زندہ ہوں ، اللہ کے رسول کے اہل بیت کے لیے ہے ( وہ رسول ) جو محفلوں کی زینت ہیں ، انہیں لوگوں پر بلند مرتبہ حاصل ہے ان کی فضیلت ایسی ہے کہ بلند و بالا چھلانگ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی ۔‘‘ ابواویس بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کے بارے میں حکم دیا تو ان سب کو اسّی اسّی کوڑے حد کے طور پر لگائے گئے جب حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کوڑے لگائے گئے ، تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ’’ عبداللہ ، حمنہ اور مسطح نے جب بری بات کہی تو انہوں نے اس ( سزا ) کا ذائقہ چکھ لیا جس کے وہ اہل تھے ، انہوں نے لاعلمی کے باوجود اپنے نبی کی اہلیہ ( پر الزام عائد کیا ) اور کریم عرش کے پروردگار کی ناراضگی مول لینے کے درپے ہوئے ، تو انہیں دور کر دیا گیا ، اس طرح انہوں نے اللہ کے رسول کو اذیت پہنچائی اور یوں اپنی رسوائی کا سامان کر کے ذلت کا شکار ہوئے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں واقعہ افک کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے وہ اس کے علاوہ ہے ، اور اس میں یہ سیاق بھی مذکور نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ اس کا کچھ حصہ اس کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے ۔

15299

Majma al-Zawaid #15299

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَافَرَ سَافَرَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ، وَيَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ، فَسَافَرَ بِعَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَكَانَ لَهَا هَوْدَجٌ، وَكَانَ الْهَوْدَجُ يَحْمِلُونَهُ وَيَضَعُونَهُ، فَعَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لِلْحَاجَةِ فَتَبَاعَدَتْ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ قَدِ ارْتَحَلُوا، وَجَاءَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْهَوْدَجَ، فَحَمَلُوهُ وَلَا يَحْسَبُونَ إِلَّا أَنَّهَا فِيهِ، فَسَارُوا، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ فَوَجَدَتْهُمْ قَدِ ارْتَحَلُوا، فَجَلَسَتْ مَكَانَهَا فَاسْتَيْقَظَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، وَكَانَ لَا يَقَرَبُ النِّسَاءَ، فَتَقَرَّبَ مِنْهَا، وَكَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ لَهُ، فَلَمَّا رَآهَا حَمَلَهَا وَقَدْ كَانَ يَرَاهَا قَبْلَ الْحِجَابِ، وَجَعَلَ يَقُودُ بِهَا الْبَعِيرَ حَتَّى أَتَوُا النَّاسَ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ [عَائِشَةُ، وَأَكْثَرُوا الْقَوْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى اعْتَزَلَهَا، وَاسْتَشَارَ فِيهَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَغَيْرَهُ]. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْهَا، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُحْدِثَ لَكَ فِيهَا، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: النِّسَاءُ كَثِيرٌ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لَيْلَةً تَمْشِي فِي نِسَاءٍ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتِ! تَقُولِينَ هَذَا لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَتْ: إِنَّكَ لَا تَدْرِينَ مَا يَقُولُونَ، وَأَخْبَرَتْهَا الْخَبَرَ، فَسَقَطَتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ بَعْدَهَا فِي سُورَةِ النُّورِ: {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} [النور: 11] حَتَّى بَلَغَ {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: 11] {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ} [النور: 22]، إِلَى قَوْلِهِ: {وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 22]. وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْطِي مِسْطَحًا وَيَبِرُّهُ وَيَصِلُهُ، وَكَانَ مِمَّنْ أَكْثَرَ عَلَى عَائِشَةَ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلَّا يُعْطِيَهُ شَيْئًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْتِيَهَا وَيُبَشِّرَهَا، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَهَا بِعُذْرِهَا، وَبِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ. فَقَالَتْ: لَا بِحَمْدِكَ، وَلَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ when traveling took some of his wives casting lots between them, and traveled with ʿĀʾishah bint Abī Bakr رضي الله عنها who had a hawdaj they lifted and set down, and the Messenger of Allah ﷺ and his Companions halted for the night while ʿĀʾishah went far for her need unnoticed, and when the Prophet ﷺ awoke the people had departed and the bearers lifted the hawdaj supposing her inside and marched, so she returned to find them gone and sat in place, when an Anṣārī man named Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal who kept from women approached with his camel, having seen her before the veil, mounted her and led the camel till they reached the people and the Prophet ﷺ, and people spoke much till it reached the Prophet ﷺ and weighed upon him so he withdrew from her and consulted Zayd ibn Thābit and others, who said leave her that Allah may reveal something concerning her, while ʿAlī ibn Abī Ṭālib said there are many women, so the Prophet ﷺ was hard upon her, and one night ʿĀʾishah walked among women when Umm Misṭaḥ stumbled and cursed Misṭaḥ, ʿĀʾishah rebuked her for a Companion of the Prophet ﷺ, she replied she knew not what they said and informed her of the news, so ʿĀʾishah fell unconscious, then the Qurʾān descended in Sūrat al-Nūr from those who brought the slander till the one who took most of it and till do not swear the possessors of bounty to Allah is Forgiving Merciful, while Abū Bakr who used to give Misṭaḥ, maintain and join him though he had spoken most against ʿĀʾishah, swore to give him nothing, so the verse do you not love Allah to forgive you descended, and the Prophet ﷺ commanded him to come give her glad tidings, so Abū Bakr came informing her of her clearance and what Allah revealed, and she replied not by his praise nor his companion's. > **"Leave her, perhaps Allah will reveal something concerning her for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر کرتے تھے تو اپنے ساتھ اپنی کسی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جاتے تھے ، آپ ان خواتین کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ سفر پر لے گئے ، ان کا ایک مخصوص ہودج تھا ، اس ہودج کو لوگ اٹھاتے تھے اور اسے اونٹ پر رکھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے نکلیں ، وہ دور چلی گئیں ، ان کے بارے میں پتہ نہیں تھا ، جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو وہ لوگ روانہ ہو گئے ، وہ لوگ جو ہودج کو اٹھاتے تھے وہ آئے ، انہوں نے ہودج کو اٹھایا ، ان کا یہ خیال تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اندر ہی موجود ہوں گی ، جب وہ لوگ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے لوگوں کو پایا کہ وہ روانہ ہو چکے ہیں ، تو وہ اسی جگہ پر بیٹھ گئیں ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام صفوان بن معطل تھا ، وہ بیدار ہوا ، وہ خواتین کے قریب نہیں جا سکتا تھا ، اس کے ساتھ اس کا اونٹ بھی تھا ، جب اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو انہیں اپنے اونٹ پر سوار کروایا ، وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ چکا تھا ، وہ اپنا اونٹ لے کر چلتا ہوا لوگوں کے پاس اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں اور بہت زیادہ باتیں کیں ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر یہ بات گراں گزری ، یہاں تک کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لاتعلقی اختیار کی ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے مشورہ لیا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں رہنے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے سامنے اس کا کوئی حکم نازل کر دے گا ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا : خواتین بہت سی ہیں ، ایک رات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خواتین کے ساتھ چلتی ہوئی جا رہی تھیں ، تو اسی دوران ام مسطح کا پاؤں پھسلا ، تو انہوں نے کہا : مسطح برباد ہو جائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ نے بری بات کہی ہے ، آپ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہی ہیں ، ام مسطح نے کہا : آپ نہیں جانتی لوگ کیا کہہ رہے ہیں ، پھر ام مسطح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساری صورت حال بتائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کے گر گئیں ، پھر اس کے بعد قرآن میں سورت نور میں یہ آیات نازل ہوئیں : ’’ بیشک وہ لوگ ، جو تم میں سے ایک گروہ نے جھوٹا الزام لگایا ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :” اور ان میں سے جس نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے ۔‘‘ ( پھر آگے چل کر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم میں سے فضیلت والے لوگ قسم نہ اٹھائیں ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ اس سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسطح کو رقم دیا کرتے تھے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، صلہ رحمی کرتے تھے اور یہ وہ شخص تھا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف زیادہ باتیں کی تھیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ اب وہ اسے کچھ نہیں دیں گے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کے انہیں خوشخبری سنائیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم نازل کیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نہ تو آپ کی تعریف کروں گی اور نہ آپ کے آقا کی تعریف کروں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

15300

Majma al-Zawaid #15300

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ أَثْلَاثًا، فَمَنْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ خَرَجَ بِهِنَّ مَعَهُ، فَكُنَّ يَخْرُجْنَ يَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، فَلَمَّا غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ أَقْرَعَ بَيْنَهُنَّ، فَأَصَابَتِ الْقَرْعَةُ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجَ بِهِمَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَالَ رَحْلُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَبْرَكُوا بَعِيرَهَا لِيُصْلِحُوا رَحْلَهَا. وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُرِيدُ قَضَاءَ حَاجَةٍ، فَلَمَّا أَبْرَكُوا إِبِلَهُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: إِلَى مَا يُصْلِحُوا رَحْلَ أُمِّ سَلَمَةَ أَقْضِي حَاجَتِي. قَالَتْ: فَنَزَلْتُ مِنَ الْهَوْدَجِ فَأَخَذْتُ مَا فِي السَّطْلِ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بِنُزُولِي، فَأَتَيْتُ حَوْبَهُ، فَانْقَطَعَتْ قِلَادَتِي، فَاحْتَسَبْتُ فِي رَجْعِهَا وَنِظَامِهَا، وَبَعَثَ الْقَوْمُ إِبِلَهُمْ وَمَضَوْا، وَظَنُّوا أَنِّي فِي الْهَوْدَجِ لَمْ أَنْزِلْ قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَمْ أَرَ أَحَدًا قَالَتْ: فَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى أَعْيَيْتُ، فَقُدِّرَ فِي نَفْسِي أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي وَيَرْجِعُونَ فِي طَلَبِي. قَالَتْ: فَنِمْتُ عَلَى بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَمَرَّ بِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، وَكَانَ رَفِيقَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى السَّاقَةِ فَجَعَلَهُ، فَكَانَ إِذَا رَحَلَ النَّاسُ قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ اتَّبَعَهُمْ، فَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ مِنْ شَيْءٍ حَمَلَهُ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ أَصْحَابَهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا مَرَّ بِي ظَنَّ أَنِّي رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَئُومًا قُمْ ; فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ مَضَوْا. قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ رَجُلًا، أَنَا عَائِشَةُ. فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ثُمَّ أَنَاخَ بَعِيرَهُ فَعَقَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَلَّى عَنِّي، فَقَالَ: يَا أُمَّهْ، قَوْمِي فَارْكَبِي، فَإِذَا رَكِبْتِ فَآذِنِينِي. قَالَتْ: فَرَكِبْتُ، فَجَاءَ حَتَّى حَلَّ الْعِقَالَ، ثُمَّ بَعَثَ جَمَلَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا كَلَّمَهَا كَلَامًا حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: فَجَرَ بِهَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَأَعَانَهُ عَلَى ذَلِكَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةُ. وَشَاعَ ذَلِكَ فِي الْعَسْكَرِ، وَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ فِي قَلْبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالُوا حَتَّى رَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَشَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ الْمُنَافِقُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَدِينَةِ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ أُمُّ مِسْطَحٍ، فَرَأَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْمَذْهَبَ، فَحَمَلَتْ مَعِيَ السَّطْلَ وَفِيهِ مَاءٌ، فَوَقَعَ السَّطْلُ مِنْهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! تُتَعِّسِينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَهُوَ ابْنُكِ؟! فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ مِسْطَحٍ: إِنَّكِ سَالَ بِكِ السَّيْلُ وَأَنْتِ لَا تَدْرِينَ، فَأَخْبَرَتْهَا بِالْخَبَرِ. قَالَتْ: فَلَمَّا أَخْبَرَتْنِي أَخَذَتْنِي الْحُمَّى، وَتَقَلَّصَ مَا كَانَ بِي، وَلَمْ أُبْعِدِ الْمَذْهَبَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكُنْتُ أَرَى مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَفْوَةً وَلَمْ أَدِرْ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ [هِيَ]، حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ مِسْطَحٍ، فَعَلِمْتُ أَنَّ جَفْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مِسْطَحٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى أَهْلِي؟ قَالَ: "" اذْهَبِي "". فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ حَتَّى أَتَتْ أَبَاهَا أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: أَخْرَجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِهِ. قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجَكِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُؤْوِيكِ أَنَا؟ وَاللَّهِ لَا أُؤْوِيكِ حَتَّى يَأْمُرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُؤْوِيَهَا. قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ مَا قِيلَ لَنَا هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَطُّ، فَكَيْفَ وَقَدْ أَعَزَّنَا الْإِسْلَامُ؟ فَبَكَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّهَا أُمُّ رُومَانَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَبَكَى مَعَهُمْ أَهْلُ الدَّارِ. وَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ يَعْذُرُنِي مِمَّنْ يُؤْذِينِي؟ "". فَقَامَ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَسَلَّ سَيْفَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أُعِيذُكَ مِنْهُ، إِنْ يَكُنْ مِنَ الْأَوْسِ أَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ، وَإِنْ يَكُنْ مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا بِأَمْرِكَ فِيهِ. فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، إِنَّمَا طَلَبْتَنَا بِذُحُولٍ كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ هَذَا: يَا لِلْأَوْسِ، وَقَالَ هَذَا: يَا لِلْخَزْرَجِ. فَاضْطَرَبُوا بِالنِّعَالِ وَالْحِجَارَةِ، وَتَلَاطَمُوا، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ: فَفِيمَ الْكَلَامُ؟ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا بِأَمْرِهِ، فَنَفَذَ عَنْ رَغْمِ أَنْفِ مَنْ رَغِمَ، وَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ أَبُو عُبَيْدَةَ فَاحْتَضَنَهُ. فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ أَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ مَا نَزَلَ بِهِ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَنَزَلَ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي} [الحجرات: 9]. إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ، فَصَاحَ النَّاسُ: رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَامَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَتَلَازَمُوا وَتَصَالَحُوُا. وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِنْبَرِ، وَانْتَظَرَ الْوَحْيَ فِي عَائِشَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ، وَأُسَامَةَ، وَبَرِيرَةَ، وَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَشِيرَ فِي أَهْلِهِ لَمْ [يَعُدْ] عَلِيًّا وَأُسَامَةَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ زِيدٍ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: "" مَا تَقُولُ فِي عَائِشَةَ فَقَدْ أَهَمَّنِي مَا قَالَ النَّاسُ فِيهَا؟ "". فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ نَالَ النَّاسُ، وَقَدْ أُحِلَّ لَكَ طَلَاقُهَا. وَقَالَ لِأُسَامَةَ: "" مَا تَقُولُ أَنْتَ بِهَا؟ "". قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! مَا يَحِلُّ لَنَا أَنَّ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا، سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ لِبَرِيرَةَ: "" مَا تَقُولِينَ يَا بَرِيرَةُ؟ "". قَالَتْ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاعَلِمْتُ عَلَى أَهْلِكَ إِلَّا خَيْرًا، إِلَّا أَنَّهَا امْرَأَةٌ نَئُومٌ، تَنَامُ حَتَّى تَجِيءَ الدَّاجِنُ فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا حَتَّى لَيُخْبِرَنَّكَ اللَّهُ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا: "" يَا عَائِشَةُ، إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ هَذَا الْأَمْرَ فَقُولِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ لَكِ "". فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْهُ أَبَدًا، إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُهُ فَلَا غَفَرَهُ اللَّهُ لِي، وَمَا أَجِدُ مَثَلِي وَمَثَلَكُمْ إِلَّا مِثْلَ أَبِي يُوسُفَ - وَذَهَبَ اسْمُ يَعْقُوبَ مِنَ الْأَسَفِ -: {إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [يوسف: 86] فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَلِّمُنَا إِذْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَعْشَةٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَائِشَةَ: قُومِي فَاحْتَضِنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَدْنُو مِنْهُ. فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَاحْتَضَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسُرِّيَ عَنْهُ وَهُوَ يَبْتَسِمُ، فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ "". فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ. فَتَلَا عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ النُّورِ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ خَبَرُهَا وَعَذَرُهَا وَبَرَاءَتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَوْمِي إِلَى الْبَيْتِ "". فَقَامَتْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَجَمَعَ النَّاسَ، ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ الْبَرَاءَةِ لِعَائِشَةَ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ الْمُنَافِقِ، فَجِيءَ بِهِ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّيْنِ، وَبَعَثَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَضُرِبُوا ضَرْبًا وَجِيعًا وَوُجِئَ فِي رِقَابِهِمْ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا ضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّيْنِ ; لِأَنَّهُ مَنْ قَذَفَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَيْهِ حَدَّانِ. فَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْكَ وَأَنْتَ ابْنُ خَالَتِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا قُلْتَ فِي عَائِشَةَ؟ أَمَّا حَسَّانُ فَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْسَ مِنْ قَوْمِي، وَأَمَّا حَمْنَةُ فَامْرَأَةٌ ضَعِيفَةٌ لَا عَقْلَ لَهَا، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَمُنَافِقٌ، وَأَنْتَ فِي عِيَالِي مُنْذُ مَاتَ أَبُوكَ وَأَنْتَ ابْنُ أَرْبَعِ حِجَجٍ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْكَ وَأَكْسُوكَ حَتَّى بَلَغْتَ، مَا قَطَعْتُ عَنْكَ نَفَقَةً إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَرَجُلٌ لَا وَصَلْتُكَ بِدَرَاهِمَ أَبَدًا، وَلَا عَطَفْتُ عَلَيْكَ بِخَيْرٍ أَبَدًا، ثُمَّ طَرَدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَأَخْرَجَهُ مِنْ مَنْزِلِهِ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} [النور: 22]. الْآيَةَ، فَلَمَّا قَالَ: {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] بَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: أَمَّا قَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ [بِأَمْرِي] فِيكَ ; لَأُضَاعِفَنَّ لَكَ النَّفَقَةَ، وَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَغْفِرَ لَكَ، وَكَانَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ مُنَافِقَةٌ مَعَهُ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ: (الْخَبِيثَاتُ)، يَعْنِي امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ. (لِلْخَبِيثَيْنِ) يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ. {وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ} [النور: 26]؛ عَبْدُ اللَّهِ لِامْرَأَتِهِ. {وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ} [النور: 26]، يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {[(وَالطَّيِّبُونَ) يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (لِلطَّيِّبَاتِ) يَعْنِي لِعَائِشَةَ وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ} [النور: 26]. إِلَى آخَرِ الْآيَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ when intending travel cast lots thrice among his wives and took whomever the lot struck, who would go out giving water and treating the wounded, and when he campaigned against Banū al-Muṣṭaliq he cast lots and it struck ʿĀʾishah and Umm Salamah, so he took them, and on the road Umm Salamah's saddle tilted so they couched her camel to mend it, while ʿĀʾishah needing relief thought to relieve herself till they mended it, so she descended from the hawdaj taking the bucket unnoticed, reached a hollow place, her necklace broke and she busied herself retrieving and stringing it, the people drove their camels supposing her in the hawdaj without descending, she saw no one, followed till exhausted, judged they would miss and return seeking her, slept on the road, when Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal passed, companion of the Messenger of Allah ﷺ whom he had asked to place over the rear guard, who when people departed prayed then followed carrying whatever fell till he brought it to its owners, and when he passed he thought her a man saying O sleeper rise for the people have gone, she replied she was no man but ʿĀʾishah, he said to Allah we belong and return, couched his camel hobbling its forelegs, turned away telling her O mother rise and mount and inform him when mounted, she mounted, he loosed the hobble, drove the camel by its rein, and Ibn ʿUmar said he spoke not a word to her till he brought her to the Messenger of Allah ﷺ, whereupon ʿAbdullāh ibn Ubayy ibn Salūl swore by the Kaʿbah she had sinned with him, aided by Ḥassān ibn Thābit, Misṭaḥ ibn Uthāthah and Ḥamnah, it spread through the army and reached the Prophet ﷺ weighing in his heart till they returned to Madīnah where the hypocrite spread it and it weighed heavily upon the Messenger of Allah ﷺ, then one day Umm Misṭaḥ entered seeing ʿĀʾishah about to go out, carried the water bucket which fell from her, she cursed Misṭaḥ, ʿĀʾishah exclaimed glory of Allah at cursing a Badr Companion and her own son, Umm Misṭaḥ replied the flood had carried her unaware and informed her, fever seized her and what was in her contracted and she went no farther, perceiving coldness from the Prophet ﷺ whose cause she had not known till Umm Misṭaḥ told her, so she asked the Prophet ﷺ permission to go to her family, he permitted, she went to her father Abū Bakr رضي الله عنه who asked what was wrong, she said the Messenger of Allah ﷺ had expelled her from his house, he asked whether the Messenger expelled her and he should shelter her, swearing he would not till the Messenger commanded, which he did, then Abū Bakr swore such was never said to them in Jāhiliyyah so how after Islam honored them, and ʿĀʾishah, her mother Umm Rūmān, Abū Bakr, ʿAbd al-Raḥmān and the household wept, it reached the Prophet ﷺ who ascended the minbar, praised Allah then asked O people who would excuse him from one harming him, Saʿd ibn Muʿādh drew his sword offering to protect him, to bring the head if of Aws or to obey command if of Khazraj, Saʿd ibn ʿUbādah accused him of lying and inability, claiming he sought old Jāhiliyyah blood, each rallying O Aws and O Khazraj till they clashed with sandals and stones and slaps, Usayd ibn Ḥuḍayr rose asking why dispute when the Messenger commanded obedience despite noses, Jibrīl عليه السلام descended while he was on the minbar, Abū ʿUbaydah ascended embracing him, when lifted he signaled all the people then recited what Jibrīl brought down to if two parties of believers fight make peace till its end, the people shouted acceptance of what Allah revealed, stood reconciling and embracing, the Messenger of Allah ﷺ descended awaiting revelation concerning ʿĀʾishah, sent for ʿAlī, Usāmah and Barīrah, consulting none beyond ʿAlī and Usāmah after the death of his father Zayd concerning his household, asking ʿAlī what he said of ʿĀʾishah weighed by people's words, who said divorce was lawful for him, asking Usāmah who declared glory of Allah unlawful to utter, glory to You this is great slander, asking Barīrah O Barīrah what she said, who swore by Allah she knew only good except that she was a sleepy woman who slept till the goat ate her dough, and if anything existed Allah would inform him, then the Prophet ﷺ went to Abū Bakr's house, entered telling her O ʿĀʾishah if she had done the deed to say so that he seek Allah's forgiveness for her, she swore never to seek Allah's forgiveness for it, if she had done it may He not forgive, finding no parable for them but the father of Yūsuf, Yaʿqūb's name gone from grief, I only complain my suffering and grief to Allah and I know from Allah what you know not, and while he spoke Jibrīl عليه السلام descended with revelation, tremor seized the Prophet ﷺ, Abū Bakr told ʿĀʾishah to embrace the Messenger of Allah ﷺ, she swore never to approach, Abū Bakr embraced him, when lifted he smiled announcing O ʿĀʾishah Allah had revealed her clearance, she replied by praise of Allah not his, he recited Sūrat al-Nūr to her story, clearance and innocence, told her to rise to the house, went to the mosque commanding Abū ʿUbaydah ibn al-Jarrāḥ to gather the people, recited what Allah revealed of ʿĀʾishah's innocence, descended, sent for the hypocrite ʿAbdullāh ibn Ubayy ibn Salūl and struck him two ḥadds, sent for Ḥassān ibn Thābit, Misṭaḥ ibn Uthāthah and Ḥamnah bint Jaḥsh striking them painfully about the necks, Ibn ʿUmar explaining two ḥadds because slandering the Prophet's wives incurred double, then Abū Bakr sent for Misṭaḥ ibn Uthāthah his sister's son asking what carried him to speak of ʿĀʾishah when Ḥassān was an Anṣārī not of his folk, Ḥamnah a weak mindless woman, Ibn Ubayy a hypocrite, while he had been in his care since his father's death at four, spending and clothing him till grown never cutting till that day, swearing never to join him with dirhams nor favor with good, expelling him from his house, so the Qurʾān descended let not the possessors of bounty swear till its verse, and when do you not love Allah to forgive you Abū Bakr wept declaring since the Qurʾān descended concerning his command he would double spending, forgave him as Allah commanded, while the wife of ʿAbdullāh ibn Ubayy was a hypocrite with him, so the Qurʾān descended the evil women for the evil men meaning his wife for ʿAbdullāh, and the evil men for evil women meaning ʿAbdullāh for his wife, and the good women for the good men meaning ʿĀʾishah and the Prophet's wives, and the good men meaning the Prophet ﷺ for the good women meaning ʿĀʾishah and the Prophet's wives, such are cleared, to the end of the verses. > **"Rejoice O ʿĀʾishah, Allah has revealed your clearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ سفر کا ارادہ کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ، جس کے نام کا قرعہ نکل آتا تھا ، آپ اسے ساتھ لے جاتے تھے ، وہ خواتین ساتھ جاتی تھیں ، وہ پانی پلایا کرتی تھیں ، زخمیوں کو دوا دیا کرتی تھیں ، جب نبی اکرم ﷺ غزوہ بنو مصطلق میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نام کا قرعہ نکلا ، نبی اکرم ﷺ ان دونوں خواتین کو اپنے ساتھ لے گئے ، راستے میں کسی جگہ پر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پالان ٹیڑھا ہو گیا تو لوگوں نے ان کا اونٹ بٹھایا تاکہ ان کا پالان درست کر دیں ، اسی دوران سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے جانے لگیں ، جب لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا دیے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دل میں سوچا کہ جب تک یہ لوگ اُمّ سلمہ کا پالان ٹھیک کرتے ہیں میں اتنی دیر میں قضائے حاجت کر آتی ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ہودج سے نیچے اتری ، میں نے برتن میں پانی لیا ، لوگوں کو میرے اترنے کا پتہ نہیں چلا ، میں کھلی جگہ پر چلی گئی ، اسی دوران میرا ہار گر گیا تو میں اس کو ڈھونڈنے اور اس کے موتی ڈھونڈنے میں رک گئی ، اسی دوران لوگوں نے اپنے اونٹوں کو پھر کھڑا کیا اور وہ روانہ ہو گئے ، ان کا یہ خیال تھا کہ میں ہودج میں ہی موجود ہوں گی ۔ میں اتری ہی نہیں ہو گی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ان لوگوں کے پیچھے جانے کی کوشش کی ، جب میں تھک گئی تو پھر میں نے سوچا کہ جب وہ لوگ مجھے غیر موجود پائیں گے تو میری تلاش میں واپس آ جائیں گے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : راستے میں کسی جگہ پر میں سو گئی ، حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھی تھے ، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کی ہوئی تھی کہ وہ پیچھے پیچھے آئیں گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ اجازت دی تھی ، جب لوگ روانہ ہوئے تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، پھر وہ ان کے پیچھے پیچھے گئے تاکہ اگر کسی کی کوئی چیز گری ہوئی ہو تو وہ اسے لے کے اس کے مالک تک پہنچا دے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ شاید میں کوئی مرد ہوں ، انہوں نے کہا : اے سوئے ہوئے شخص ! تم بیدار ہو جاؤ ، لوگ جا چکے ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : میں مرد نہیں ہوں ، میں عائشہ ہوں ، تو انہوں نے کہا : انا للہ وانا اليه راجعون ، انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور مجھے چھوڑ کر مڑ گئے ، پھر انہوں نے کہا : اے امی جان ! آپ اٹھ کر سوار ہو جائیں ، جب آپ سوار ہو جائیں تو آپ مجھے بتا دیجئے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سوار ہوئی ، پھر وہ آئے اور انہوں نے رسی کو کھولا پھر انہوں نے اپنے اونٹ کو کھڑا کیا اور اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ، یہاں تک کہ وہ انہیں ساتھ لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہا : اس شخص نے اس عورت کے ساتھ غلط کام کیا ہے ، رب کعبہ کی قسم اس بارے میں حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ نامی خاتون نے عبداللہ بن ابی کا ساتھ دیا اور یہ بات لشکر میں پھیل گئی ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو نبی اکرم ﷺ کو ان کی کہی ہوئی بات کی وجہ سے افسوس ہوا ، یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ آ گئے ، عبداللہ بن ابی بن سلول منافق نے یہ بات مدینہ میں پھیلا دی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ بات گراں گزری ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں ام مسطح کے ہاں گئی ، اس نے مجھے دیکھا ، میرا ارادہ قضائے حاجت کے لئے جانے کا تھا ، میں اپنے ساتھ پانی کا برتن اٹھا کے لے گئی تھی ، جس میں پانی موجود تھا ، ان سے وہ پانی گر گیا تو انہوں نے کہا : مسطح برباد ہو جائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : سبحان اللہ ! آپ اصحاب بدر سے تعلق رکھنے والے کو بربادی کا کہہ رہی ہیں جبکہ وہ آپ کا بیٹا بھی ہے ، تو ام مسطح نے کہا : اس نے آپ کے بارے میں ایک بات پھیلا دی ہے ، آپ کو پتہ ہی نہیں ہے ؟ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس خاتون نے پوری صورت حال کے بارے میں بتایا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب اس نے مجھے اس بارے میں بتایا تو مجھے بخار آ گیا اور مجھے جو کیفیت محسوس ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی اور میں قضائے حاجت کے لئے نہیں گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے مزاج میں تبدیلی دیکھ تو رہی تھی لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ کس وجہ سے ہے ؟ یہاں تک کہ ام مسطح نے مجھے بتایا تو مجھے پتہ چلا کہ نبی اکرم ﷺ کے مزاج کی تبدیلی اسی وجہ سے ہے جو ام مسطح نے مجھے بتایا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس چلی جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چلی جاؤ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا بات ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے گھر سے نکلنے کے لئے کہا ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اللہ کے رسول نے تمہیں نکال دیا ہے ، اور میں تمہیں پناہ دوں گا ، اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک پناہ نہیں دوں گا جب تک اللہ کے رسول تمہیں اجازت نہیں دے دیتے ، تو اللہ کے رسول نے انہیں اجازت دی کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رہنے دیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اللہ کی قسم ! یہ بات زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی ہمارے بارے میں نہیں کہی گئی تھی ، تو اب کیسے کہہ دی گئی ، جب ہمیں اسلام کے حوالے سے عزت بھی حاصل ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی والدہ سیده ام رومان رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ موجود گھر کے تمام افراد رونے لگے ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ منبر پر چڑھے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! کون شخص مجھے اس شخص سے بدلہ دلوائے گا جس نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ، تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور بولے : یا رسول اللہ ! میں آپ کو اس سے بدلہ دلواؤں گا ، اگر وہ اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد ہوا تو میں اس کا سر آپ کے پاس لے آؤں گا اور اگر وہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد ہو تو آپ ہمیں حکم دیں ، تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تم غلط کہہ رہے ہو ، تم اسے قتل نہیں کر سکتے ، تم یہ مطالبہ اس لئے کر رہے ہو کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے اور تمہارے درمیان جو دشمنی تھی ، یہ اس کی وجہ ہے ، تو ایک صاحب نے کہا : اے اوس قبیلے کے لوگو ! دوسرے نے کہا : اے خزرج قبیلے کے لوگو ! تو وہ لوگ جوتے اور پتھر پکڑ کے ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ، تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : کس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے ، یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ، یہ ہمیں جو حکم دیں گے اسی کے مطابق عمل ہو گا ، خواہ اس شخص کو کتنا ہی برا لگے ، اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت منبر پر موجود تھے ، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لگا لیا ، جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے سب لوگوں کو اشارہ کیا ، پھر آپ نے ان کے سامنے وہ آیت تلاوت کی جو حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کے نازل ہوئے تھے یہ حکم نازل ہوا تھا : ’’ اگر مومنین سے تعلق رکھنے والے دو گروہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں تو ان کے درمیان صلح کروا دو اور اگر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کے خلاف زیادتی کی ہو تو تم اس شخص کے ساتھ لڑائی کرو جس نے زیادتی کی ہے ۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ، تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم راضی ہو گئے ہیں ، اس چیز کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے ، تو وہ لوگ اٹھ کے ایک دوسرے کے پاس آئے ، ایک دوسرے سے گلے ملے اور آپس میں صلح کر لی ۔ پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں وحی کے منتظر تھے ، آپ نے حضرت على رضی اللہ عنہ ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اور بریرہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اپنی اہلیہ کے بارے میں ان سے مشورہ لیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی سے مشورہ نہیں لیا تھا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مشورہ اس وقت لیا تھا جب ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ لوگ اس کے بارے میں جو کہہ رہے ہیں اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ زیادتی کر رہے ہیں ، تاہم آپ کے لئے انہیں طلاق دینا حلال قرار دیا گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہمارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ ہم اس بارے میں کوئی بات چیت کریں ، اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، یہ بہت بڑا الزام ہے ، نبی اکرم ﷺ نے بریرہ سے کہا : تم کیا کہتی ہو ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے آپ کی اہلیہ کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے ، البتہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو سو جاتی ہیں اور پھر بکری آتی ہے ، گوندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے ، اگر اس طرح کی کوئی منفی صورت حال ہوئی تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس بارے میں بتا دے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ وہاں سے نکلے اور آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں تشریف لائے ، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! اگر تم نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے ، تو تم بیان کر دو تاکہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کروں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے یہ کام کیا ہوا ہوتا تو میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہ کرتی اور اللہ تعالیٰ میری مغفرت نہ کرتا ، مجھے اپنے لئے اور آپ لوگوں کے لئے صرف وہ مثال یاد آ رہی ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پریشانی کی شدت کی وجہ سے مجھے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام یاد نہیں آیا ( انہوں نے یہ کہا تھا : ) ’’ میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابھی نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ اس بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئے ، نبی اکرم ﷺ پر وحی کے نزول کی مخصوص کیفیت طاری ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لگا لو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ، اللہ کی قسم ! میں ان کے قریب نہیں جاؤں گی ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ساتھ لگا لیا ، جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں ، آپ کی تعریف نہیں کرتی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورت نور کی آیات وہاں تک تلاوت کیں جہاں تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ ، ان کے عذر اور ان کی برأت کے بارے میں حکم ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھو اور گھر جاؤ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اٹھیں ، نبی اکرم ﷺ مسجد تشریف لے گئے ، آپ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کے بارے میں نازل کی تھیں ، پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے اترے ، آپ نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو پیغام بھیجا ، اسے لایا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے دو حدیں لگائیں ، پھر آپ نے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کو بلوایا اور انہیں بھی ضربیں لگوائیں ، جو تکلیف دہ تھیں اور ان کی گردنوں میں ضرب لگوائی گئی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو حدیں اس لئے لگوائی تھیں کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کی ازواج پر الزام لگائے گا اس پر دو حدیں جاری ہوں گی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسطح بن اثاثہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ ، تم میرے خالہ زاد ہو ، تم نے عائشہ کے بارے میں جو کہا ، تو ایسا کیوں کیا ، جہاں تک حسان کا تعلق تھا ، تو وہ انصار سے تعلق رکھنے والا فرد ہے ، وہ ہماری قوم کا نہیں ہے ، جہاں تک حمنہ کا تعلق ہے ، تو وہ ضعیف عورت ہے ، جس میں عقل نہیں ہے ، جہاں تک عبداللہ بن ابی کا تعلق ہے ، تو وہ منافق ہے ، لیکن تم تو میرے عیال میں سے ہو ، میں تم پر خرچ کرتا ہوں ، جب سے تمہارا باپ مرا ہے اس کے بعد سے میں تم پر خرچ کر رہا ہوں ۔ اس وقت تمہاری عمر چار سال تھی ، میں تم پر خرچ کرتا ہوں ، تمہیں لباس فراہم کرتا ہوں ، یہاں تک کہ اب تم اتنے ہو چکے ہو کہ اب تم پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی آج تک میں تم خرچ کرتا آ رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! تم ایک ایسے شخص ہو کہ میں نے ہمیشہ درہموں کے ذریعے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے اور ہمیشہ تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آیا ہوں ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں پرے کر دیا اور انہیں اپنے گھر سے نکال دیا ، تو قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ’’ تم میں سے فضیلت اور گنجائش رکھنے والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائیں ......‘‘۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔‘‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے کہا : اب جب میرے بارے میں قرآن نازل ہو گیا ہے جو میں نے تمہیں کہا تھا ، تو اب میں تم پر دگنا خرچ کروں گا اور میں نے تمہیں معاف کیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں معاف کر دوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابی کی بیوی بھی ایک منافق عورت تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ تھی ، تو قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ’’ خبیث عورتیں ‘‘ اس سے مراد عبداللہ بن ابی کی بیوی ہے ۔ ’’ خبیث مردوں کے لئے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی کے لئے ہے ۔ ’’ اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں ۔‘‘ یعنی عبداللہ بن ابی ، اپنی بیوی کے لئے ہے ۔ ’’ اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں ‘‘ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج ۔ ’’ اور پاکیزہ مرد ۔‘‘ یعنی نبی اکرم ﷺ ’’ پاکیزہ عورتوں کے لئے ۔‘‘ یعنی نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج کے لئے ہیں ۔ ’’ وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ۔‘‘ یہ آیات کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن عبیداللہ تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15301

Majma al-Zawaid #15301

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَ نَفْسِي فِي قَلِيبٍ. رَوَاهُ [الْبَزَّارُ] الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when she was cast at with what she was cast at she intended to throw herself into a well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب مجھ پر وہ الزام لگا ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی گڑھے میں گرا دوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

15302

Majma al-Zawaid #15302

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا قَبَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهَا، فَقَالَتْ: أَلَا عَذَرْتَنِي؟ فَقَالَ: أَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي، وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِنْ قُلْتُ مَا لَا أَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when her clearance descended Abū Bakr kissed her head, so she asked why he had not cleared her, and he replied what sky would shade him and what earth bear him if he said what he knew not.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب ان کے عذر کا حکم نازل ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سر کو بوسہ دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بے گناہ قرار دیا ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اور کون سی زمین میرا بوجھ اٹھائے گی ؟ اگر میں وہ کہوں جس کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15303

Majma al-Zawaid #15303

وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: افْتَخَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَزَيْنَبُ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ: أَنَا الَّتِي زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا الَّتِي نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ حِينَ حَمَلَنِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، فَقَالَتْ لَهَا زَيْنَبُ: أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. قَالَتْ: قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Zaynab bint Jaḥsh رضي الله عنها reported that she, ʿĀʾishah and Zaynab boasted, Zaynab saying she was the one Allah married from heaven, ʿĀʾishah saying she was the one whose clearance descended from heaven when Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal carried her, Zaynab asking what she said when she mounted, ʿĀʾishah answering Allah suffices me and He is the best Disposer, Zaynab affirming she spoke the word of the believers. > **"Allah suffices me and He is the best Disposer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری شادی کروائی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں وہ ہوں کہ میرے بے گناہ ہونے کا حکم نازل ہوا ، جب صفوان بن معطل مجھے سوار کرا کے لائے تھے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : جب آپ سوار ہوئی تھیں تو آپ نے کیا جملہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ پڑھا تھا : میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ نے وہ جملہ پڑھا تھا ، جو اہل ایمان کا کلمہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے اور وہ متروک ہے ۔

15304

Majma al-Zawaid #15304

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: افْتَخَرَتْ عَائِشَةُ وَزَيْنَبُ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ: أَنَا الَّتِي زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا الَّتِي نَزَلَ عُذْرِي حِينَ حَمَلَنِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ، فَقَالَتْ لَهَا زَيْنَبُ: أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. قَالَتْ: قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Jaḥsh reported that ʿĀʾishah and Zaynab boasted, Zaynab saying she was the one Allah married from heaven, ʿĀʾishah saying she was the one whose clearance descended when Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal carried her, Zaynab asking what she said when she mounted, ʿĀʾishah answering Allah suffices me and He is the best Disposer, Zaynab affirming she spoke the word of the believers. > **"Allah suffices me and He is the best Disposer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جحش بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ کہا کہ میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری شادی کروائی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں وہ ہوں کہ میرے بے گناہ ہونے کا حکم نازل ہوا ، جب صفوان بن معطل نے مجھے سواری پر سوار کروایا تھا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : جب آپ سوار ہوئی تھیں تو آپ نے کیا پڑھا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے یہ پڑھا تھا ’’ میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ‘‘ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ نے اہل ایمان کا کلمہ پڑھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے اور وہ متروک ہے ۔

15305

Majma al-Zawaid #15305

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ حَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ شَتَمُوا عَائِشَةَ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، فَيَسْتَوْهِبُ رَبِّي الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ، فَأَسْتَأْمِرُكِ يَا عَائِشَةُ "". فَسَمِعَتْ عَائِشَةُ الْكَلَامَ فَبَكَتْ وَهِيَ فِي الْبَيْتِ، وَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، لَسُرُورُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُرُورِي، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا، وَقَالَ: "" ابْنَةُ أَبِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ طُرُقٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said when Resurrection Day comes Allah will impose the ḥadd upon those who reviled ʿĀʾishah eighty eighty before all creation, his Lord will grant him the Muhājirūn among them, then he would consult her O ʿĀʾishah, and ʿĀʾishah hearing the words wept in the house swearing by Him who sent him with truth that his joy was dearer to her than her own, so the Messenger of Allah ﷺ smiled laughing and declared her her father's daughter. > **"You are your father's daughter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے عائشہ پر الزام لگانے والوں پر حد لگاتے ہوئے اسّی اسّی کوڑے لگوائے گا ، ان میں سے جو مہاجرین ہیں ان کے حوالے سے میرا پروردگار ہبہ کرنے کا کہے گا : اے عائشہ ! تو میں تم سے مرضی معلوم کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو وہ رونے لگیں ، حالانکہ وہ گھر میں موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ! آپ کا خوش ہونا میرے نزدیک اپنی خوشی سے زیادہ پسندیدہ ہے ، تو نبی اکرم ﷺ ہنستے ہوئے مسکرا دیے اور فرمایا : یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون ابوعلقمہ فروی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

15306

Majma al-Zawaid #15306

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَا عَائِشَةُ، كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ إِلَّا أَنَّ أَبَا زَرْعٍ طَلَّقَ، وَأَنَا لَا أُطَلِّقُ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" إِلَّا أَنَّ أَبَا زَرْعٍ طَلَّقَ، وَأَنَا لَا أُطَلِّقُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُسَاحِقِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زُبَالَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ فِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ بَقِيَّةُ طُرُقِهِ فِي النِّكَاحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ told her he was to her as Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ except that Abū Zarʿ divorced and he would never divorce. > **"O ʿĀʾishah, I was to you as Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ, except that Abū Zarʿ divorced and I do not divorce."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے عائشہ ! میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں جس طرح ابوزرع ، اُم زرع کے لئے تھا ، البتہ یہ ہے کہ ابوزرع نے اسے طلاق دے دی تھی اور میں طلاق نہیں دوں گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” البتہ یہ ہے کہ ابوزرع نے طلاق دے دی تھی اور میں طلاق نہیں دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی عبدالجبار بن سعید مساحقی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی عبدالعزیز بن محمد بن زبالہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے جس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس روایت کے بقیہ طرق کتاب النکاح میں گزر چکے ہیں ۔

15307

Majma al-Zawaid #15307

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَقَدْ أُعْطِيتُ تِسْعًا مَا أُعْطِيَتْهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ: لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ، حَتَّى أُمِرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا، وَمَا تَزَوَّجَ بِكْرًا غَيْرِي، وَلَقَدْ قُبِضَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي، وَلَقَدْ قَبَرْتُهُ فِي بَيْتِي، وَلَقَدْ حَفَّتِ الْمَلَائِكَةُ بَيْتِي، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ وَهُوَ فِي أَهْلِهِ فَيَتَفَرَّقُونَ عَنْهُ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ وَإِنِّي مَعَهُ فِي لِحَافِهِ، وَإِنِّي لَابْنَةُ خَلِيفَتِهِ وَصَدِيقِهِ، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ، وَلَقَدْ خُلِّفْتُ طَيِّبَةً وَعِنْدَ طَيِّبٍ، وَلَقَدْ وُعِدْتُ مَغْفِرَةً وَرِزْقًا كَرِيمًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبِي يَعْلَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported she was given nine never given a woman except Maryam daughter of ʿImrān: Jibrīl descended with her image in his palm till the Messenger of Allah ﷺ was commanded to marry her, he married her a virgin and married no virgin besides her, he passed with his head in her lap, she buried him in her house, angels surrounded her house, revelation descended while he was among his household and they dispersed from him yet descended upon him while she was with him in his blanket, she was the daughter of his caliph and ṣiddīq, her clearance descended from heaven, she was left pure with one pure, and promised forgiveness and noble provision.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے نو چیزیں ایسی عطا کی گئیں ہیں جو کسی اور خاتون کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، البتہ سیده مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کے آئے تھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ شادی کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی ، آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو آپ کا سر میری گود میں تھا اور نبی اکرم ﷺ کی قبر میرے گھر میں بنی ہے ، میرے گھر کو فرشتوں نے ڈھانپ لیا تھا ، نبی اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو اگر آپ اس وقت اپنی بیوی کے پاس موجود ہوتے تھے تو فرشتے آپ کے پاس نہیں آتے تھے ، لیکن جب میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے لحاف میں موجود ہوتی تھی ، تو آپ پر وحی نازل ہو جاتی تھی اور میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے صدیق کی بیٹی ہوں اور میری بے گناہی کے بارے میں آسمان سے حکم بھی نازل ہوا تھا ، میں پاکیزہ ہونے کے عالم میں پیدا ہوئی اور پاکیزہ شخص کے پاس رہی اور میرے ساتھ مغفرت اور معزز رزق کا وعدہ کیا گیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، صحیح میں اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15308

Majma al-Zawaid #15308

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خِلَالٌ فِيَّ سَبْعٌ لَمْ تَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا آتَى اللَّهُ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَاللَّهِ مَا أَقُولُ هَذَا فَخْرًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبِي. فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِسَبْعِ سِنِينَ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيَّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ الْوَحْيُ يَأْتِيهِ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ. قَالَتْ: وَكُنْتُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَبِنْتَ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَلَقَدْ نَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَلَقَدْ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلَكُ فِيَّ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي، وَلَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَقَوِيَ الْمَلَكُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported seven traits in her never in any women except what Allah gave Maryam daughter of ʿImrān, swearing she said it not boasting over her companions, and when ʿAbdullāh ibn Ṣafwān asked what they were, Mother of the Believers, she said the angel descended with her image, the Messenger of Allah ﷺ married her at seven, she was conducted to him at nine, he married her a virgin none sharing her among people, revelation came to him while she and he were in one blanket, she was the most beloved people to him and daughter of the most beloved people to him, verses of the Qurʾān descended concerning her, the Ummah almost perished concerning her, she saw Jibrīl whom none of his wives saw besides her, he passed in her house attended by none but her, and the angel strengthened.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھ میں سات خصوصیات ایسی ہیں جو کسی خاتون میں نہیں ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو جو خصوصیات عطا کی ہیں ، اس کا معاملہ مختلف ہے اور اللہ کی قسم ! میں اپنی دیگر ساتھی خواتین میں سے کسی ایک کے خلاف فخر کے اظہار کے طور پر یہ بات نہیں کہہ رہی ہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے ام المومنین ! وہ خصوصیات کیا ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ’’ فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ اس وقت شادی کی جب میں سات سال کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو میں نو سال کی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی ، آپ نے اس چیز میں کسی کو شریک نہیں بنایا ( یعنی آپ نے کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ) اور میں نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کی بیٹی ہوں اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی تھیں حالانکہ قریب تھا کہ امت میری وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتی اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ہوا ہے ، اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے کسی اور نے ، میرے علاوہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو نہیں دیکھا ، نبی اکرم ﷺ کا وصال میرے گھر میں ہوا تھا اور فرشتہ قوی ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15309

Majma al-Zawaid #15309

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: "" وَلِمَ؟ "" قُلْتُ: لِأُحِبَّ مَا تُحِبَّ، قَالَ: "" عَائِشَةُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ that she asked O Messenger of Allah who is most beloved people to him, he asked why, she said to love what he loved, and he named ʿĀʾishah. > **"ʿĀʾishah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں ، جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15310

Majma al-Zawaid #15310

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: «قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ النِّسَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: عَائِشَةُ، قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: أَبُوهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Shaqīq reported he asked ʿĀʾishah which women were most beloved to the Messenger of Allah ﷺ, she said ʿĀʾishah, and which men, she said her father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب خواتین میں سے کون سب سے زیادہ محبوب تھیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : عائشہ ، میں نے دریافت کیا : مردوں میں سے کون میں تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان کے والد ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15311

Majma al-Zawaid #15311

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "". قُلْتُ: سَبَّتْنِي فَاطِمَةُ، فَدَعَا فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "" يَا فَاطِمَةُ، سَبَبْتِ عَائِشَةَ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضَ؟ "". قَالَتْ: بَلَى قَالَ: "" فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ ; فَأَحِبِّيهَا "". قَالَتْ فَاطِمَةُ: لَا أَقُولُ لِعَائِشَةَ شَيْئًا يُؤْذِيهَا أَبَدًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her while she wept, asking what made her weep, she said Fāṭimah reviled her, so he summoned Fāṭimah asking whether she had reviled ʿĀʾishah, she affirmed O Messenger of Allah, he asked whether she loved whom he loved, she affirmed, whether she hated whom he hated, she affirmed, declaring he loved ʿĀʾishah so she should love her, whereupon Fāṭimah vowed never to say to ʿĀʾishah anything harming her ever. > **"I love ʿĀʾishah, so love her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : فاطمہ نے مجھے برا بھلا کہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : اے فاطمہ ! تم نے عائشہ کو برا کہا ہے ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس سے بغض نہیں رکھتی جس سے میں بغض رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو میں عائشہ سے محبت رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے محبت رکھو ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو انہیں تکلیف دے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15312

Majma al-Zawaid #15312

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا، وَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَكَانَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ، وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ بِغَيْرِي، وَكَانَ لِي يَوْمَانِ وَلَيْلَتَانِ وَلِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مَتْنٌ ضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported she was given seven never given the Prophet's wives: she was among the most beloved people to him in person and most beloved in father, the Messenger of Allah ﷺ married her and married no virgin besides her, Jibrīl عليه السلام descended upon him with revelation while she was with him in a blanket never done with another, and she had two days and two nights while his wives had a day and night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے سات خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میں اپنی ذات کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب لوگوں میں زیادہ محبوب تھی اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ شادی کی ، آپ نے میرے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ پر وحی لے کر نازل ہوتے تھے اور میں اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لحاف میں موجود ہوتی تھی ، حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے علاوہ کسی اور زوجہ کے حوالے سے ایسا نہیں کرتے تھے اور میری باری کے دو دن اور دو راتیں ہوتی تھیں اور دیگر تمام ازواج کے لئے ایک دن اور ایک رات ہوتی تھی ........ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ضعیف متن پایا جاتا ہے ۔

15313

Majma al-Zawaid #15313

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَوْمَ مَاتَتْ عَائِشَةُ: الْيَوْمَ مَاتَ أَحَبُّ شَخْصٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَتْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مَا خَلَا أَبَاهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that on the day ʿĀʾishah died she said today the most beloved person in the world to the Messenger of Allah ﷺ died, then added seeking Allah's forgiveness except her father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جس دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آج وہ شخصیت فوت ہو گئی ہے جو نبی اکرم ﷺ کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی ، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتی ہوں البتہ ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15314

Majma al-Zawaid #15314

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ: «بَعَثَ زِيَادٌ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَالٍ وَفَضَّلَ عَائِشَةَ. فَجَعَلَ الرَّسُولُ يَعْتَذِرُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: يَعْتَذِرُ إِلَيْنَا زِيَادٌ! فَقَدْ كَانَ يُفَضِّلُهَا مَنْ كَانَ أَعْظَمُ عَلَيْنَا تَفْضِيلًا مِنْ زِيَادٍ؛ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Ḥārith ibn al-Muṣṭaliq reported that Ziyād sent wealth to the Prophet's wives preferring ʿĀʾishah, the messenger kept apologizing to Umm Salamah, who declared Ziyād apologized to them when one greater in favoring her than Ziyād had favored her, the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حارث بن مصطلق بیان کرتے ہیں : زیاد نے نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے پاس مال بھجوایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اضافی چیزیں بھیجوائیں ، قاصد نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بارے میں معذرت پیش کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : زیاد ہمارے سامنے معذرت پیش کر رہا ہے جب کہ عائشہ کو وہ ہستی زیادہ چیزیں دیا کرتی تھی جو زیاد سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15315

Majma al-Zawaid #15315

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «قُلْتُ لِعَائِشَةَ: إِنِّي أُفَكِّرُ فِي أَمْرِكِ فَأَعْجَبُ! أَجِدُكِ مِنْ أَفْقَهِ النَّاسِ فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُهَا؟ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ. وَأَجِدُكِ عَالِمَةً بِأَيَّامِ الْعَرَبِ وَأَنْسَابِهَا وَأَشْعَارِهَا فَقُلْتُ: وَمَا يَمْنَعُهَا ; وَأَبُوهَا عَلَّامَةُ قُرَيْشٍ؟ وَلَكِنْ أَعْجَبُ أَنِّي وَجَدْتُكِ عَالِمَةً بِالطِّبِّ، فَمِنْ أَيْنَ؟ فَأَخَذَتْ بِيَدِي، فَقَالَتْ: يَا عُرَيَّةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثُرَتْ أَسْقَامُهُ، فَكَانَتْ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ يَبْعَثُونَ لَهُ، فَتَعَلَّمْتُ ذَلِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ كَانَ يَقُولُ لِعَائِشَةَ ... فَظَاهِرُهُ الِانْقِطَاعُ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَهُوَ مُتَّصِلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah reported he told ʿĀʾishah he reflected upon her affair in amazement, finding her among the most learned people and saying what prevented her being the wife of the Messenger of Allah ﷺ and daughter of Abū Bakr, finding her learned in Arab days, genealogies and poetry and saying what prevented her when her father was the scholar of Quraysh, but marveling to find her learned in medicine and asking whence, so she took his hand saying O ʿUrayyah the Messenger of Allah ﷺ had many illnesses and Arab and non-Arab physicians were dispatched to him, so she learned that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں ، میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ ہے ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، یہ اللہ کے رسول کی اہلیہ ہیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ، پھر میں نے آپ کو پایا کہ آپ عربوں کی تاریخ اور ان کے نسب کی عالمہ ہیں اور ان کی شاعری کی عالمہ ہیں ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، ان کے والد قریش کے بڑے صاحب علم تھے ، لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ طب کے بارے میں بھی جانتی ہیں ، یہ علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے عریہ ! نبی اکرم ﷺ اکثر بیمار ہو جاتے تھے تو عربوں اور عجمیوں کے طبیب آیا کرتے تھے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے لئے دوا بھجواتے تھے ، تو اس سے میں نے یہ چیز سیکھی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا : میں ان بیماریوں میں نبی اکرم ﷺ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی اور کہاں سے ( علم طب کے بارے میں معلومات ) آنی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن معاویہ زبیری ہے ابوحاتم کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام احمد اور امام طبرانی کے معجم کبیر میں بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام احمد نے یہ کہا ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا ، تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سند منقطع ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ کہا ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ بات منقول ہے ، تو یہ سند متصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15316

Majma al-Zawaid #15316

وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: هَلْ كَانَتْ عَائِشَةُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَشْيَخَةَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهَا عَنِ الْفَرَائِضِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Masrūq reported when asked whether ʿĀʾishah knew the inheritance laws well, he swore by his soul he saw the elders of Muḥammad's Companions ﷺ ask her about them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے دریافت کیا گیا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو علم وراثت کا بھی پتہ تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علم وراثت کے بارے میں احکام دریافت کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں حسن ہے ۔

15317

Majma al-Zawaid #15317

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَعْلَمَ بِطِبٍّ، وَلَا بِفِقْهٍ، وَلَا بِشِعْرٍ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah reported he never saw a woman more learned in medicine, fiqh or poetry than ʿĀʾishah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو علم طب ، علم فقہ اور شاعری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم رکھتی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔

15318

Majma al-Zawaid #15318

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيهِنَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَكْثَرَ مِنْ عِلْمِهِنَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported that the Prophet ﷺ said if the knowledge of the women of this Ummah including the Prophet's wives were gathered, ʿĀʾishah's knowledge would exceed theirs. > **"If the knowledge of the women of this Ummah were gathered, including the wives of the Prophet, ʿĀʾishah's knowledge would exceed theirs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اس امت کی خواتین کے علم کو جمع کیا جائے اور ان خواتین میں نبی کی ازواج بھی شامل ہوں ، تو عائشہ کا علم ان کے علم سے زیادہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15319

Majma al-Zawaid #15319

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ خَطِيبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْصَحَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah رضي الله عنه reported swearing by Allah he never saw an orator more eloquent, fluent or sagacious than ʿĀʾishah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے کبھی کوئی ایسا خطیب نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح اور سمجھ دار ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15320

Majma al-Zawaid #15320

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ خُطْبَتُهَا فِي مَنَاقِبِ أَبِيهَا.

EnglishUnverified translation

Mūsā ibn Ṭalḥah reported he never saw anyone more eloquent than ʿĀʾishah رضي الله عنها.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ان کے والد کے مناقب سے متعلق باب میں ان کے خطبے کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ۔

15321

Majma al-Zawaid #15321

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا هِبْتُ الْكَلَامَ عِنْدَ أَحَدٍ هَيْبَتِي عِنْدَ عَائِشَةَ، وَمَا سَمِعْتُ كَلَامَهَا إِلَّا ذَكَرْتُ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ [الْكَلْبِيُّ]، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah رضي الله عنه reported he never feared speech before anyone as he feared it before ʿĀʾishah, and never heard her speech but recalled the speech of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! میں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اتنا ہیبت زدہ نہیں ہوتا ، جتنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہ کر ہیبت زدہ ہوتا ہوں ، میں نے جب بھی ان کی گفتگو سنی ، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کا کلام یاد آ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15322

Majma al-Zawaid #15322

وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: كُلُّ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَائِشَةَ، قُلْتُ لَهُ: أَمَّا أَنْتَ فَقَدَ خَالَفْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; هِيَ كَانَتْ أَحَبَّهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir al-Shaʿbī reported a man said all Mothers of the Believers were dearer to him than ʿĀʾishah, so he told him he had opposed the Messenger of Allah ﷺ, for she was the most beloved of them to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے کہا : میرے نزدیک تمام امہات المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبوب ہیں ، تو میں نے اس سے کہا : تم نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے برخلاف کیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے نزدیک تمام امہات المومنین سے زیادہ محبوب تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15323

Majma al-Zawaid #15323

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: «دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَتْ: فِي الْبَيْتِ يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ يَقُولُ: "" يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Sulaym رضي الله عنها reported she entered upon ʿĀʾishah asking where the Messenger of Allah ﷺ was, she said in the house revelation was coming to him, she waited as Allah willed, then heard the Prophet ﷺ afterwards tell her O ʿĀʾishah this is Jibrīl عليه السلام conveying salām to her. > **"O ʿĀʾishah, this is Jibrīl conveying salām to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئی ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا گھر کے اندر ہیں ، اور آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے ، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، میں وہاں ٹھہری رہی پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو بعد میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے عائشہ ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15324

Majma al-Zawaid #15324

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the excellence of ʿĀʾishah over women was as the excellence of tharīd over all food. > **"The excellence of ʿĀʾishah over women is as the excellence of tharīd over all food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد ( حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15325

Majma al-Zawaid #15325

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ عَائِشَةَ تُفَضَّلُ عَلَى النِّسَاءِ كَمَا يُفَضَّلُ الثَّرِيدُ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn Saʿd from Saʿd, if Allah wills, from the Prophet ﷺ reported that ʿĀʾishah was favored over women as tharīd was favored over all food. > **"ʿĀʾishah is favored over women as tharīd is favored over all food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شاید نبی اکرم ﷺ سے یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15326

Majma al-Zawaid #15326

وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Qurrah ibn Iyās رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the excellence of ʿĀʾishah over women was as the excellence of tharīd over all food. > **"The excellence of ʿĀʾishah over women is as the excellence of tharīd over all food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

15327

Majma al-Zawaid #15327

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ، وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ "". فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ "". فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَالَ: "" وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when she saw good mood in the Prophet ﷺ she asked O Messenger of Allah supplicate Allah for her, so he prayed O Allah forgive ʿĀʾishah her past and future, secret and open sins, and ʿĀʾishah laughed till her head fell in her lap from laughter, so the Messenger of Allah ﷺ asked whether his supplication pleased her, she asked why his supplication would not please her, and he swore by Allah it was his supplication for his Ummah in every prayer. > **"O Allah, forgive ʿĀʾishah her past and future sins, her secret and her open."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں نے نبی اکرم ﷺ کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے ، آپ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو عائشہ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے اور جو اس نے پوشیدہ طور پر کیا یا جو اعلانیہ طور پر کیا ( اس کی بھی مغفرت کر دے ) ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں ، یہاں تک کہ ہنسنے کی شدت کی وجہ سے ان کا سر ان کی گود میں آ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے ، انہوں نے جواب دیا : کیا وجہ ہے مجھے آپ کی دعا کیوں اچھی نہ لگے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف احمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔