Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 25

Book of Virtues and Merits

Hadith 15248–15287

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15248

Majma al-Zawaid #15248

وَعَنْ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي مَرَضِهَا الَّذِي تُوُفِّيَتْ فِيهِ، فَقَالَ لَهَا: "" بِالْكُرْهِ مِنِّي مَا الَّذِي أَرَى مِنْكِ يَا خَدِيجَةُ، وَقَدْ يَجْعَلُ اللَّهُ فِي الْكُرْهِ خَيْرًا كَثِيرًا، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَوَّجَنِي مَعَكِ فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى؟ "". قَالَتْ: وَقَدْ فَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَقَالَتْ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي فِيهَا: "" «كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا أَرْبَعَةٌ» "". فِي مَوَاضِعِهَا مُفَرَّقَةٌ فِي فَضْلِ آدَمَ، وَفَاطِمَةَ، وَخَدِيجَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Rawwād reported that the Messenger of Allāh ﷺ entered upon Khadījah, may Allāh be pleased with her, in the illness wherein she died, and told her how unwelcome was what he saw of her, though Allāh may place much good in the unwelcome, asking whether she knew Allāh had married him with her in Paradise to Maryam bint ʿImrān, the wife of Pharaoh, and Kulthum sister of Mūsā. When she asked whether Allāh had done so, O Messenger of Allāh, and he affirmed, she answered with good cheer and sons. > **"How unwelcome to me is what I see of you, O Khadījah, though Allāh may place much good in the unwelcome. Did you not know that Allāh has married me with you in Paradise to Maryam bint ʿImrān, the wife of Pharaoh, and Kulthum sister of Mūsā. Yes. With good cheer and sons"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورواد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی اس بیماری کے دوران تشریف لائے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے خدیجہ ! میں تمہاری جو صورت حال دیکھ رہا ہوں یہ مجھے ناپسند ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس ناپسندیدہ چیز میں بہت زیادہ بھلائی رکھ دے گا ، کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تمہارے ساتھ ، میری شادی مریم بنت عمران سے کروائی ہے ، اور فرعون کی بیوی سے کروائی ہے ، اور کلثوم سے کروائی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بہت بہت مبارک ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ بقیہ حدیث وہ ہے جس میں یہ بات مذکور ہے : ’’ مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں ، خواتین میں سے صرف چار خواتین کامل ہوئی ہیں ۔‘‘ یہ حدیث اپنے مخصوص مقام پر آئے گی ، اس کا کچھ حصہ حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے کچھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ، کچھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے متعلق باب میں ہے ۔

15249

Majma al-Zawaid #15249

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ فِرْعَوْنَ أَوْتَدَ لِزَوْجَتِهِ أَرْبَعَةَ أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوا عَنْهَا أَظَلَّتْهَا الْمَلَائِكَةُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [التحريم: 11]. فَكَشَفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that Pharaoh drove four pegs into his wife's hands and feet, and when they dispersed from her the angels shaded her. She prayed: My Lord, build for me with You a house in Paradise, save me from Pharaoh and his deed, and save me from the wrongdoing folk. Her house in Paradise was unveiled to her. > **"My Lord, build for me with You a house in Paradise, save me from Pharaoh and his deed, and save me from the wrongdoing folk"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فرعون نے اپنی بیوی کے لئے چار کیل لگوائے تھے ، دو ان کے ہاتھوں میں لگے تھے اور دو ان کے پاؤں میں لگے تھے ، جب وہ لوگ اس خاتون کو چھوڑ کر چلے گئے تو فرشتوں نے اس خاتون پر سایہ کر لیا تو اس خاتون نے کہا : ’’ میرے پروردگار تو اپنے پاس میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دیدے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دیدے ۔‘‘ تو اس خاتون کے لئے جنت میں گھر سامنے آیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15250

Majma al-Zawaid #15250

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: وَأُمُّ بَنِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَنَاتِهِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ - وَكَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: الطَّاهِرَةُ - بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَأُمُّهَا: فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، وَهُوَ الْأَصَمُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَأُمُّهَا هَالَةُ بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَأُمُّهَا: الْعَرِقَةُ، وَاسْمُهَا قِلَابَةُ بِنْتُ سَعْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ. وَحِبَّانُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ - أَخُو هَالَةَ لِأَبِيهَا وَأَمِّهَا - هُوَ الَّذِي رَمَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَرَّقَ اللَّهُ وَجْهَكَ فِي النَّارِ» "". فَأَصَابَ أَكْحَلْ سَعْدٍ - رَحِمَ اللَّهُ سَعْدًا - فَمَاتَ شَهِيدًا. وَكَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَائِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدَ بْنَ عَتِيقٍ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدًا وَهَالَةَ، فَهِنْدُ بْنُ عَتِيقِ بْنِ عَايِدٍ، وَهِنْدُ وَهَالَةُ ابْنَا أَبِي هَالَةَ مَالِكِ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ، إِخْوَةُ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ مِنْ أُمِّهِمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that the mother of the Messenger's ﷺ sons and daughters except Ibrāhīm was Khadījah bint Khuwaylid — called in the Jāhiliyyah al-Ṭāhirah — daughter of Asad ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn Quṣayy, her mother Fāṭimah bint Zāʾidah ibn Jundub al-Aṣamm ibn Ḥujr ibn ʿAbd Maʿīṣ ibn ʿĀmir ibn Luʾayy, her mother Hālah bint ʿAbd Manāf ibn al-Ḥārith ibn Munqidh ibn ʿAmr ibn Maʿīṣ ibn ʿĀmir ibn Luʾayy, her mother al-ʿAriqah named Qilābah bint Saʿd ibn Sahl ibn ʿAmr ibn Haṣīṣ ibn Kaʿb ibn Luʾayy. Ḥibbān ibn ʿAbd Manāf, brother of Hālah by father and mother, was he who shot Saʿd ibn Muʿādh, may Allāh have mercy upon him, on Trench day, crying: Take it, I am the son of al-ʿAriqah — whereupon the Messenger of Allāh ﷺ prayed that Allāh sweat his face in the Fire. He struck Saʿd's medial vein — may Allāh have mercy upon Saʿd — and he died a martyr. Khadījah bint Khuwaylid was before the Messenger of Allāh ﷺ with ʿAtīq ibn ʿĀʾidh ibn ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn Makhzūm, bearing him Hind ibn ʿAtīq. Then Abū Hālah Mālik ibn Nabbāsh ibn Zurārah ibn Waqdān ibn Ḥabīb ibn Salāmah ibn ʿAdī of Banī Asad ibn ʿAmr ibn Tamīm, ally of Banī ʿAbd al-Dār ibn Quṣayy, succeeded him, bearing him Hind and Hālah — Hind ibn ʿAtīq and Hind and Hālah sons of Abū Hālah — siblings of the Prophet's ﷺ children by Khadījah through their mother. > **"Allāh sweat your face in the Fire"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی اکرم ﷺ کے بیٹوں اور آپ کی تمام صاحبزادیوں کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں جو زمانہ جاہلیت میں طاہرہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی تھیں ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ بن جندب ہے ، جندب نامی صاحب اصم بن حجر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام ہالہ بنت مناف بن حارث بن منقذ بن عمرو بن معيص بن عامر بن لؤی ہے ، اور اس خاتون کی والدہ کا نام عرقہ ہے اس خاتون کا نام اصل میں کلابہ تھا ، وہ سعد بن سہل بن عمرو بن حصیص بن کعب بن لؤی کی صاحبزادی ہیں ، حبان بن عبد بن مناف ہالہ نامی اس خاتون کے سگے بھائی تھے یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تھا اور یہ کہا تھا اس کو سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم میں عرق آلود کرے ، وہ تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ پر لگا تھا اور اسی وجہ سے وہ شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم سے شادی کی تھی ، انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن عقیق کو جنم دیا تھا پھر اس کے بعد ان کے ساتھ ابوہالہ مالک بن نباش بن زراه بن وقدان بن حبیب بن سلامہ بن عدی نے شادی کی تھی جن کا تعلق بنو اسد بن عمرو بن تمیم سے تھا اور وہ بن عبدالدار بن قصی کے حلیف تھے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن ابوہالہ کو جنم دیا تھا وہ صاحب ہند بن عتیق بن عائذ ہیں ہند اور ہالہ یہ دونوں ابوہالہ مالک بن نباش بن زرارہ کے بیٹے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کی اولاد کے ، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بہن بھائی ہیں ۔

15251

Majma al-Zawaid #15251

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِمَكَّةَ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ، وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَتْ لِسَبْعِ سِنِينَ مَضَيْنَ مِنْ مَبْعَثِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb stated that the Messenger of Allāh ﷺ married Khadījah in Mecca, his first wife married, previously with Abū Hālah al-Tamīmī. The Messenger of Allāh ﷺ married her at twenty-one, and she died seven years after his mission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی یہ وہ پہلی خاتون ہیں جن کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے شادی کی تھی ، یہ خاتون اس سے پہلے ابوہالہ تمیمی کی اہلیہ تھیں جب نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تو ان کی عمر اکیس سال تھی اور ان کا انتقال نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے سات سال گزرنے کے بعد ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15252

Majma al-Zawaid #15252

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيِّ «أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَسَدٍ زَوَّجَ خَدِيجَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعُمَرُ هَذَا مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn Abī Bakr al-Muʾammalī reported that ʿAmr ibn Asad married Khadījah to the Messenger of Allāh ﷺ, who married her at twenty-five while Quraysh built the Kaʿbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن ابوبکر مؤملی بیان کرتے ہیں : عمرو بن اسد نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم ﷺ سے کروائی تھی جب نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر پچیس سال تھی اور قریش اس وقت خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عمر نامی یہ راوی متروک ہے ۔

15253

Majma al-Zawaid #15253

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: «نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً». وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj stated that the Messenger of Allāh ﷺ married at thirty-seven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے شادی کی تھی اس وقت آپ کی عمر سینتیس سال تھی ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15254

Majma al-Zawaid #15254

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ أَسَدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، هَذَا الْفَحْلُ لَا يُقْرَعُ أَنْفُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Muḥammad ibn Yaḥyā ibn ʿUrwah reported from his father that ʿAmr ibn Asad declared that Muḥammad ibn ʿAbdullāh proposed to Khadījah bint Khuwaylid — this stallion is not struck upon the nose.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن محمد بن یحیی بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ عمرو بن اسد نے کہا : محمد بن عبداللہ نے ، خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے اور وہ ایک ایسے نوجوان ہیں ، جن کی ناک پر نہیں مارا جا سکتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15255

Majma al-Zawaid #15255

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «كَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، ثُمَّ نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهِيَ عِنْدَهُ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآمَنَ بِهِ، وَتُوُفِّيَتْ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ زُبَالَةَ أَيْضًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihāb stated that Khadījah bint Khuwaylid was with the Messenger of Allāh ﷺ before the Qurʾān descended upon him, then the Qurʾān descended while she was with him. She was the first to affirm the Prophet ﷺ and believe in him, dying in Mecca three years before the Prophet's ﷺ departure to Madīnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے آپ کی اہلیہ تھیں پھر آپ پر قرآن نازل ہوا تو وہ آپ کی اہلیہ رہیں وہ پہلی خاتون ہیں : جس نے نبی اکرم ﷺ کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائیں نبی اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے جانے سے تین سال پہلے مکہ میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15256

Majma al-Zawaid #15256

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ، وَمِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ، وَوَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Mālik ibn al-Ḥuwayrith, may Allāh be pleased with him, reported that the first to submit among men was ʿAlī, and among women Khadījah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں : مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔

15257

Majma al-Zawaid #15257

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: خَدِيجَةُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported that Khadījah was the first to submit with the Messenger of Allāh ﷺ, along with ʿAlī ibn Abī Ṭālib.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ( یعنی آپ کے دست اقدس پر ) اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

15258

Majma al-Zawaid #15258

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ, may Allāh be pleased with him, reported that the first to submit among men was ʿAlī, and the first to submit among women was Khadījah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا اور خواتین میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15259

Majma al-Zawaid #15259

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq stated that Khadījah was the daughter of Khuwaylid ibn Asad ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn Quṣayy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں ( سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب یہ ہے : ) ’’ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15260

Majma al-Zawaid #15260

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، إِلَّا إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَإِنَّهُ مِنْ سُرِّيَّتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī stated that Khadījah bint Khuwaylid ibn Asad ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn Quṣayy was the first woman the Messenger of Allāh ﷺ married, mother of his sons and daughters male and female except Ibrāhīm, peace be upon him, who was from his concubine Māriyah the Copt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جس کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے شادی کی تھی اور یہ آپ کی تمام مذکر اور مؤنث اولاد کی والدہ ہیں ، صرف حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ ﷺ کی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیدا ہوئے تھے ۔

15261

Majma al-Zawaid #15261

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ غَيْرَهَا، وَلَمْ يَلِدْ لَهُ مِنَ الْمَهَايِرِ غَيْرُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatādah ibn Diʿāmah reported that Khadījah bint Khuwaylid died three years before the hijrah, the first to believe in the Prophet ﷺ among women and men. He married none in the Jāhiliyyah besides her, and none of the dowered wives bore him besides her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے ہو گیا تھا ، وہ خاتون ، مردوں اور عورتوں میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائیں تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے زمانہ جاہلیت میں ( یعنی اعلان نبوت سے پہلے ) ان کے علاوہ اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی اور ان کے علاوہ اور کسی ( زوجہ محترمہ ) سے نبی اکرم ﷺ کی اولاد نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ عروہ بن زبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15262

Majma al-Zawaid #15262

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «لَمْ يَتَزَوَّجْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī stated that the Messenger of Allāh ﷺ never married over Khadījah till she died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15263

Majma al-Zawaid #15263

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, reported that Khadījah, may Allah be pleased with her, died before the prayer was made obligatory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نماز کی فرضیت کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15264

Majma al-Zawaid #15264

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ -: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ. فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَخَلَّفَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةً، فَقَالَ: مَا شَأْنِي؟! مَا هَذَا؟! قَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ؟ لَا لَعَمْرِي. قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَلَا تَسْتَحْيِي؟ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ؟ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ؟! فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, as Ḥammād understood it, reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioned Khadījah, whose father was reluctant to marry her to him, so she prepared food and drink and invited her father and a group of Quraysh who ate and drank until intoxicated, when Khadījah asked her father to marry her to Muḥammad ibn ʿAbdillāh, which he did, after which she perfumed him and clothed him with a robe as was customary, and when his intoxication lifted and he found himself perfumed and robed he protested that he would never marry the orphan of Abū Ṭālib, but Khadījah shamed him lest he disgrace himself before Quraysh by admitting drunkenness, until he accepted it. > **"Muḥammad ibn ʿAbdillāh seeks my hand in marriage, so marry me to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ان کے والد نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ان کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانا اور مشروب تیار کیا انہوں نے اپنے والد اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی دعوت کی ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی یہاں تک کہ وہ لوگ مدہوش ہو گئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں تو ان کے والد نے ان کی شادی نبی اکرم ﷺ سے کروا دی پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی اور حلہ پہنے کے لئے دیا وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے تھے جب ان صاحب کا نشہ ختم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ انہیں خوشبو بھی لگی ہوئی تھی اور ان کے جسم پر حلہ بھی تھا ، انہوں نے کہا : کیا معاملہ ہے یہ کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کروا دی ہے ، تو ان کے والد نے کہا : کیا میں ابوطالب کے زیر پرورش یتیم لڑکے سے شادی کراؤں گا ؟ جی نہیں ! میری زندگی کی قسم ( ایسا نہیں ہو سکتا ) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا آپ کو حیاء محسوس نہیں ہوتی ؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ قریش کے سامنے اپنے آپ کو بے وقوف قرار دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ آپ نشے کے عالم میں تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد اور امام طبرانی کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15265

Majma al-Zawaid #15265

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ «كَانَ إِذَا سَمِعَ مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ مِنْ تَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ، يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِتَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهَا: كُنْتُ مِنْ إِخْوَانِهِ، فَكُنْتُ لَهُ خِدْنًا وَإِلْفًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى أُخْتِ خَدِيجَةَ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى أَدَمٍ لَهَا، فَنَادَتْنِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا، وَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: أَمَا لِصَاحِبِكَ فِي تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ حَاجَةٌ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" بَلَى لَعَمْرِي "". فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: اغْدُ عَلَيْنَا إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا، فَغَدَوْنَا عَلَيْهِمْ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ ذَبَحُوا بَقَرَةً، وَأَلْبَسُوا أَبَا خَدِيجَةَ حُلَّةً، وَضَرَبُوا عَلَيْهِ قُبَّةً، فَكَلَّمْتُ أَخَاهَا، فَكَلَّمَ أَبَاهَا، وَأَخْبَرْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَكَانِهِ، وَأَنَّهُ سَأَلَ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ، فَزَوَّجَهُ، فَصَنَعُوا مِنَ الْبَقَرَةِ طَعَامًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ، وَنَامَ أَبُوهَا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ، وَهَذِهِ الْقُبَّةُ، وَهَذَا الطَّعَامُ؟! قَالَتْ لَهُ ابْنَتُهُ الَّتِي كَلَّمَتْ عَمَّارًا: هَذِهِ الْحُلَّةُ كَسَاكَهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُكَ، وَهَذِهِ بَقَرَةٌ أَهْدَاهَا لَكَ فَذَبَحْنَاهَا حِينَ زَوَّجْتَهُ خَدِيجَةَ، فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ، وَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْحِجْرَ، وَجَاءَتْ بَنُو هَاشِمٍ حِينَ جَاءُوا، فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ وَإِلَّا فَقَدْ زَوَّجْتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir, may Allah be pleased with him, whenever he heard people discuss the marriage of the Messenger of Allah ﷺ to Khadījah would say he knew most about it, for he was his close companion in the Jāhiliyyah, and one day he went out with the Messenger of Allah ﷺ until they passed Khadījah's sister sitting in her leather tent, who called him while the Prophet ﷺ waited and asked whether his companion desired Khadījah, which he conveyed and the Prophet ﷺ affirmed, and next morning they found a cow slaughtered, Khadījah's father robed and canopied, her brother spoke to her father about the Messenger of Allah ﷺ and his station and request, he married her to him, they ate, her father slept then awoke asking about robe, canopy and food, his daughter told him his son-in-law Muḥammad ibn ʿAbdillāh had clothed and gifted it at the wedding, he denied it and went to al-Ḥijr where Banū Hāshim came, demanding the man they claimed he had married, then declared it stood or now stood. > **"Yes, by my life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سنتے تھے تو یہ فرمایا کرتے تھے میں اس خاتون کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی شادی کے بارے میں سب سے زیاہ علم رکھتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ، میں نبی اکرم ﷺ کا قریبی ساتھی تھا ، ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا ہمارا گزر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے پاس سے ہوا جو اپنے چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھیں ، انہوں نے مجھے بلایا ، میں ان کے پاس چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ وہاں رک گئے ۔ اس خاتون نے کہا : کیا آپ کے ساتھی ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : جی ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم ، میں اس خاتون کے پاس واپس گیا اور نبی اکرم ﷺ کی کہی ہوئی بات کے بارے میں اسے بتایا تو اس خاتون نے کہا : جب کل صبح ہو تو آپ ہمارے پاس آ جائیں ، ہم اگلے دن ان لوگوں کے پاس گئے تو ہم نے ان لوگوں کو پایا کہ ان لوگوں نے ایک گائے ذبح کی ہوئی تھی اور انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کو حلہ پہنایا ہوا تھا اور وہاں ایک قبہ لگایا ہوا تھا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کی ، ان کے بھائی نے ان کے والد کے ساتھ بات چیت کی اور انہوں نے انہیں اللہ کے رسول اور ان کی حیثیت کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے یہ کہا کہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی شادی کر دیں ، تو ان لوگوں نے ان کی شادی کروا دی ، ان لوگوں نے گائے کے گوشت کا کھانا پکوایا ، ہم نے اسے کھایا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد سو گئے ، جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا : یہ حلہ کہاں سے آیا ہے ، اور یہ خیمہ کس لئے لگا ہے ، اور یہ کھانا کس وجہ سے ہے ؟ تو ان کی اس صاحبزادی نے جس نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کی تھی ، انہیں بتایا کہ یہ حلہ آپ کو محمد بن عبداللہ نے پہنایا ہے جو آپ کے داماد ہیں اور یہ گائے انہوں نے آپ کو تحفے کے طور پر دی ہے ، جب آپ نے ان کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو اس وقت ہم نے انہیں قربان کیا تھا ، تو ان صاحب نے اس بات کا انکار کیا کہ انہوں نے یہ شادی کروائی ہے ، وہ وہاں سے نکل کر حطیم کے پاس آئے ، جب بنو ہاشم آئے تو ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا وہ فرد کہاں ہے جس کے بارے میں تم لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اس کی شادی کروائی ہے ، جب ان صاحب نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا تو ان صاحب نے کہا : اگر میں ان کی شادی کروا چکا ہوں تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اب ان کی شادی کروا دیتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15266

Majma al-Zawaid #15266

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْعَى غَنَمًا فَاسْتَعْلَى الْغَنَمُ، فَكَانَ فِي الْإِبِلِ هُوَ وَشَرِيكٌ لَهُ، فَأَكْرَيَا أُخْتَ خَدِيجَةَ، فَلَمَّا قَضَوُا السَّفَرَ بَقِيَ لَهُمْ عَلَيْهَا شَيْءٌ، فَجَعَلَ شَرِيكُهُمْ يَأْتِيهَا فَيْتَقَاضَاهُمْ، وَيَقُولُ لِمُحَمَّدٍ: انْطَلَقَ، فَيَقُولُ: "" اذْهَبْ أَنْتَ ; فَإِنِّي أَسْتَحِي "". فَقَالَتْ مَرَّةً وَأَتَاهُمْ: فَأَيْنَ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ، فَزَعَمَ أَنَّهُ يَسْتَحِي، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ حَيَاءً، وَلَا أَعَفَّ، وَلَا وَلَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ أُخْتِهَا خَدِيجَةَ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: ائْتِ أَبِي فَاخْطُبْنِي، قَالَ: "" أَبُوكِ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، وَهُوَ لَا يَفْعَلُ "". قَالَتْ: انْطَلِقْ فَالْقَهُ فَكَلِّمْهُ فَأَنَا أَكْفِيكَ، وَائْتِ عِنْدَ سُكْرِهِ، فَفَعَلَ، فَأَتَاهُ فَزَوَّجَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ، فَقِيلَ لَهُ: أَحْسَنْتَ زَوَّجْتَ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: أَوَقَدْ فَعَلْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ مُحَمَّدًا قَالَتْ: بَلَى، فَلَا تُسَفِّهَنَّ رَأْيَكَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا كَذَا، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقِيَّتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ، وَقَالَتْ: اشْتَرِ حُلَّةً وَاهْدِهَا لِي، وَكَبْشًا، وَكَذَا وَكَذَا، فَفَعَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّ شَيْخَهُ أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى الصُّوفِيَّ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ. وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: ""وَأْتِهِ غَيْرَ مُكْرَهٍ"". بَدَلَ: ""سُكْرُهُ"". وَقَالَتْ فِي الْحُلَّةِ: ""فَأَهْدِهَا إِلَيْهِ"". بَدَلَ: ""إِلَيَّ"".

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Samurah, or another Companion of the Prophet ﷺ, reported that the Prophet ﷺ grazed sheep then camels with a partner, and they were hired by Khadījah's sister, and when payment remained due his partner would go to claim it while Muḥammad declined from shyness, until the woman remarked she had never seen one more modest and chaste, and it entered Khadījah's mind, so she sent to him to propose to her father, he objected her father was wealthy and would refuse, she told him to meet him and she would manage, and to come in intoxication, which he did and the father married him, and in the morning when congratulated he denied it, went to her, she confirmed it and urged him not to disgrace his judgment praising Muḥammad, until he accepted, then she sent the Prophet ﷺ two ūqiyyahs of silver or gold to buy a robe and ram. > **"Come to my father and propose to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ یا نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پہلے بکریاں چرایا کرتے تھے ، پھر آپ نے بکریاں چرانا چھوڑ کر اونٹوں کو چرانا شروع کر دیا ، آپ ایسا کرتے تھے آپ کے ساتھ آپ کا ایک شراکت دار ہوتا تھا ، پھر ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے لئے کام کرنا شروع کیا جب ان لوگوں نے اپنا تجارتی سفر مکمل کیا تو ان لوگوں کا اس خاتون کے ذمہ کچھ معاوضہ رہ گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ کا شراکت دار ان لوگوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے تقاضا کرتا تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ سے کہا کرتا تھا کہ آ جائیں ، تو نبی اکرم ﷺ یہ کہتے تھے : تم چلے جاؤ کیونکہ مجھے شرم آتی ہے ، ایک دن جب وہ شخص ان لوگوں کے پاس تقاضا کرنے کے لئے گیا تو اس خاتون نے کہا : محمد کہاں ہیں ، تو اس شخص نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا تھا ( کہ آپ بھی چلیں ) لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے ، تو اس خاتون نے کہا : میں نے ان سے زیادہ شرم والا شخص کوئی نہیں دیکھا اور ان سے زیادہ بہتر طور پر نگرانی کرنے والا کوئی نہیں دیکھا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے دل میں یہ خیال آیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ان کے ساتھ شادی ہونی چاہیے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا اور یہ کہا کہ آپ میرے والد کے پاس آئیں اور شادی کا پیغام دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ کے والد ایک ایسے شخص ہیں جن کے پاس مال بہت زیادہ ہے ، وہ ایسا نہیں کریں گے ، تو انہوں نے کہا : آپ جائیں ان سے ملاقات کریں اور ان سے بات چیت کریں ، میں سنبھال لوں گی ، آپ ان کے پاس اس وقت جائیں جب وہ نشے کے عالم میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے ، ان صاحب نے نبی اکرم ﷺ کی شادی کروا دی ، جب صبح ہوئی اور وہ محفل میں بیٹھے تو ان سے کہا گیا آپ نے اچھا کیا جو حضرت محمد ( ﷺ ) کے ساتھ شادی کروا دی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا میں نے ایسا کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا : لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے محمد کے ساتھ شادی کروا دی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اب آپ اپنی رائے کو بے وقوفی ظاہر نہ کیجئے گا کیونکہ حضرت محمد اس اس طرح کے آدمی ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ صاحب راضی ہو گئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا اور انہیں سونے یا چاندی کے دو اوقیہ بھیجے اور یہ کہا کہ آپ اس کے ذریعے حلہ خریدیں اور اس حلے کو مجھے تحفے کے طور پر دیں اور ایک دنبہ خریدیں اور اس اس طرح کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ ہم نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد احمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو ، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ، اور حلے کے بارے میں یہ کہا ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں ۔ یعنی یہ نہیں کہا کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں ۔

15267

Majma al-Zawaid #15267

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ عَلِمْتُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمْتُ مَكَّةَ فِي عُمُومَةٍ لِي، فَأُرْشِدْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي زَمْزَمَ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَابِ الصَّفَا أَبْيَضُ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ، لَهُ وَفْرَةٌ جَعْدَةٌ إِلَى أَطْرَافِ أُذُنَيْهِ، أَشَمُّ، أَقْنَى الْأَنْفِ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، دَقِيقُ الْمَسْرُبَةِ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، كَأَنَّهُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، يَمْشِي عَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَمَرَدُ، حَسَنُ الْوَجْهِ، مُرَاهِقٌ أَوْ مُحْتَلِمٌ، تَقْفُوهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ سَتَرَتْ مَحَاسِنَهَا، حَتَّى قَصَدَ نَحْوَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَهُ الْغُلَامُ وَاسْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَالْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ يَطُوفُونَ مَعَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، وَقَامَ الْغُلَامُ عَنْ يَمِينِهِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا، وَرَفَعَتْ يَدَيْهَا وَكَبَّرَتْ، وَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَنَتَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ مَعَهُ، يَصْنَعَانِ مِثْلَ مَا يَصْنَعُ يَتْبَعَانِهِ. قَالَ: فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ، فَأَنْكَرْنَا، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ، أَشَيْءٌ حَدَثَ؟ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْمَرْأَةُ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا: يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالْآخَرُ: بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reported the first thing he knew of the affair of the Messenger of Allah ﷺ was when he came to Makkah with his uncles and was directed to al-ʿAbbās ibn ʿAbd al-Muṭṭalib sitting at Zamzam, when a man came from Bāb al-Ṣafā, fair tinged with redness, curly hair to his earlobes, high-bridged nose, bright teeth, dark eyes, thick beard, thin chest hair, fleshy hands and feet, in two white garments like the full moon, with a handsome beardless youth near puberty on his right and a veiled woman behind them, who headed to the Stone and touched it all three, circumambulated seven times, stood with takbīr, the youth right and woman behind, prolonged standing, bowed long, rose, prostrated with them following, which they found strange and asked Abū al-Faḍl if it was new, and he swore it was his nephew Muḥammad ibn ʿAbdillāh, the youth ʿAlī ibn Abī Ṭālib, and Khadījah bint Khuwaylid, and none on earth worshipped Allah in this religion but those three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے پہلے پتہ چلی وہ یہ ہے کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مکہ آیا تو ہماری رہنمائی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ زم زم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے ، ہم ان کے پاس موجود تھے اسی دوران صفا والے دروازے کی طرف سے ایک شخص آیا جس کا رنگ گورا تھا اس پر سرخی غالب تھی اس کے بال لمبے تھے اور گھنگھریالے تھے اور کانوں کے کونوں تک آ رہے تھے وہ اٹھی ہوئی ناک کا مالک شخص تھا اور اس کے سامنے کے دانت چمک دار تھے اس کی آنکھوں کے سفید اور سیاہ رنگ میں چمک تھی اس کی داڑھی گھنی تھی سینے پر پتلے سے بال تھے ہتھیلی اور پاؤں پُر گوشت تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چودھویں رات کا چاند ہو اس کے دائیں طرف ایک نوجوان چلتا ہوا آ رہا تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی تھی اس کا چہرہ بھی خوبصورت تھا اور وہ قریب البلوغ تھا ان کے پیچھے ایک خاتون آ رہی تھی جس نے اپنی خوبصورتی کو پردے میں رکھا ہوا تھا یہ لوگ حجر اسود کے پاس آئے انہوں نے اس کا استلام کیا پھر اس لڑکے نے استلام کیا پھر اس خاتون نے استلام کیا پھر انہوں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے وہ لڑکا اور خاتون ان صاحب کے ساتھ چکر لگا رہے تھے جب بھی وہ رکن کا استلام کرتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہتے تھے پھر جب انہوں نے رکن کا استلام کر لیا تو انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی لڑکا ان کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی خاتون ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اس نے بھی دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی یہ لوگ خاصی دیر کھڑے رہے پھر یہ رکوع میں گئے تو خاصی دیر رکوع میں رہے پھر انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور کھڑے رہے وہ سیدھے کھڑے رہے پھر وہ سجدے میں چلے گئے لڑکا اور عورت بھی ان کے ساتھ سجدے میں چلے گئے اور وہ اسی طرح کرتے رہے جس طرح وہ صاحب کرتے رہے وہ دونوں ان صاحب کی پیروی کر رہے تھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو ہم نے اُس سے پہلے مکہ میں نہیں دیکھی تھی ، تو ہمیں یہ بڑی حیران کن لگی ہم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے کہا : اے ابوالفضل اس دین کے پہلے آپ کے درمیان مکہ میں موجود ہونے کے حوالے سے ہم واقف نہیں تھے کیا یہ کوئی نئی چیز آئی ہے تو انہوں نے بتایا اللہ کی قسم ! جی ہاں ! کیا تم انہیں نہیں جانتے ؟ ہم نے جواب دیا : جی نہیں ، انہوں نے کہا : یہ ہمارا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے ، اور وہ لڑکا علی بن ابوطالب ہے ، اور وہ عورت خدیجہ بنت خویلد ہے ، اللہ کی قسم ! اس دین کے مطابق روئے زمین پر اللہ کی عبادت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے ، صرف یہی تین افراد ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ہیں ، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

15268

Majma al-Zawaid #15268

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ "". فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ drew four lines on the ground, asked whether they knew what it was, they said Allah and His Messenger knew best, and he named the best women of Paradise. > **"The best women of the people of Paradise are Khadījah bint Khuwaylid, Fāṭimah bint Muḥammad, Maryam daughter of ʿImrān, and Āsiyah daughter of Muzāḥim, wife of Pharaoh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے زمین پر چار لکیریں لگائیں ، آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ یہ کیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اہل جنت کی خواتین میں سب سے زیادہ فضیلت والی خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد ، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15269

Majma al-Zawaid #15269

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بِحَسْبِكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ أَرْبَعٌ: فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said four women of the worlds suffice. > **"Four of the women of the worlds suffice you: Fāṭimah bint Muḥammad, Khadījah bint Khuwaylid, Maryam bint ʿImrān, and Āsiyah bint Muzāḥim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تمام خواتین میں تمہارے لئے چار کافی ہیں ( یعنی یہ چار نمایاں حیثیت رکھتی ہیں ) فاطمہ بنت محمد ، خدیجہ بنت خویلد ، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15270

Majma al-Zawaid #15270

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَقَدْ فُضِّلَتْ خَدِيجَةُ عَلَى نِسَاءِ أُمَّتِي كَمَا فُضِّلَتْ مَرْيَمُ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو يَزِيدَ الْحِمْيَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said Khadījah was favored over the women of his Ummah as Maryam was favored over the women of the worlds. > **"Khadījah has been favored over the women of my Ummah as Maryam was favored over the women of the worlds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خدیجہ کو میری امت کی خواتین پر اسی طرح فضیلت دی گئی ہے جس طرح مریم کو تمام جہانوں کی خواتین پر فضیلت دی گئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویزید حمیری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15271

Majma al-Zawaid #15271

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، ثُمَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ خَدِيجَةُ، ثُمَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ named the mistresses of the women of Paradise. > **"The mistresses of the women of Paradise are Maryam daughter of ʿImrān, then Fāṭimah daughter of Muḥammad, then Khadījah, then Āsiyah, wife of Pharaoh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت کی خواتین کی سردار مریم بنت عمران ہیں پھر فاطمہ بنت محمد ہیں پھر خدیجہ بنت خویلد ہیں پھر آسیہ ہیں ، جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

15272

Majma al-Zawaid #15272

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّعَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he was commanded to give Khadījah glad tidings of a house of hollow pearl with neither noise nor toil. > **"I was commanded to give Khadījah glad tidings of a house of qaṣab, in which there is neither ṣakhab nor naṣab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دے دوں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

15273

Majma al-Zawaid #15273

«وَعَنْ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيْنَ أَمُّنَا خَدِيجَةُ؟ قَالَ: "" فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ، بَيْنَ مَرْيَمَ وَآسِيَةَ "". قَالَتْ: مِنْ هَذَا الْقَصَبُ؟ قَالَ: "" لَا. بَلْ مِنَ الْقَصَبِ الْمَنْظُومِ بِالدُّرِّ وَاللُّؤْلُؤِ وَالْيَاقُوتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُهَاجِرِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْهَا، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَا أَظُنْهُ سَمِعَ مِنْهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fāṭimah, may Allah be pleased with her, asked the Prophet ﷺ where their mother Khadījah was, and he told her of a house of qaṣab with neither idle talk nor toil between Maryam and Āsiyah, and when she asked of this reed he clarified it was strung pearl, ruby and jewels. > **"In a house of qaṣab, with neither laghw nor naṣab, between Maryam and Āsiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : ہماری والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہاں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : موتی سے بنے ہوئے کھوکھلے گھر میں ہے ، جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی وہ مریم اور آسیہ کے درمیان ہیں ۔‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اس موتی سے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ ایسے موتی سے ، جس میں قیمتی پتھر اور موتی اور یاقوت پروئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مہاجر بن میمون کے حوالے سے خاتون سے نقل کی ہے اور میں مہاجر سے واقف نہیں ہوں ، میرا خیال ہے اس نے اس خاتون سے سماع نہیں کیا ہو گا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15274

Majma al-Zawaid #15274

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ أَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْفَرَائِضَ وَالْأَحْكَامَ؟ قَالَ: "" أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "". وَسُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ: هَلْ نَفَعْتُهُ؟ قَالَ: "" أَخْرَجْتُهُ مِنْ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَخَاصَّةً فِي أَحَادِيثِ جَابِرٍ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about Khadījah who died before obligations and rulings were revealed, and he said he saw her by a river of Paradise in a house of qaṣab with neither idle talk nor toil, and asked about Abū Ṭālib whether he benefited him, he said he brought him from Hell to its shallowest part. > **"I saw her upon a river of Paradise, in a house of qaṣab with neither laghw nor naṣab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا کیونکہ ان کا انتقال فرائض اور احکام کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہو گیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے اسے نہر کے کنارے جنت میں موجود کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ سے جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے انہیں کوئی نفع پہنچایا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں انہیں جہنم سے نکال کر اس کے سب سے اوپر والے حصے میں لے کے آیا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف سعید بن مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے خاص طور پر ان احادیث میں کی گئی ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔

15275

Majma al-Zawaid #15275

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: «بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ». قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah and Abū Saʿīd, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ gave Khadījah glad tidings of a house in Paradise of qaṣab with neither noise nor toil. > **"The Messenger of Allah ﷺ gave Khadījah glad tidings of a house in Paradise of qaṣab, with neither ṣakhab nor naṣab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ زہری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15276

Majma al-Zawaid #15276

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ رِئَابٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ: إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي، فَقَالَ: بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Riʾāb, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ told Khadījah that Jibrīl, peace be upon him, came to him commanding him to give her tidings. > **"Give Khadījah glad tidings of a house of qaṣab, with neither ṣakhab nor naṣab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن رئاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ کہا کہ آپ خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری سنا دیں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

15277

Majma al-Zawaid #15277

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ مَعَ خَدِيجَةَ، إِذْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ خَدِيجَةَ السَّلَامَ، وَبَشِّرْهَا فِي الْجَنَّةِ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا أَذًى فِيهِ وَلَا نَصَبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that while the Messenger of Allah ﷺ sat with Khadījah, Jibrīl came addressing Muḥammad and commanding him to convey salām and tidings of a pearl house with neither harm nor toil. > **"O Muḥammad, convey salām to Khadījah, and give her tidings in Paradise of a house of qaṣab, with neither harm nor toil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہہ دیں ، اور جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری سنا دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اس میں کوئی تکلیف اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15278

Majma al-Zawaid #15278

وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ لِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ "". يَعْنِي قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said Jibrīl told him to give Khadījah tidings of a pearl house in Paradise with neither noise nor toil. > **"Give Khadījah tidings of a house in Paradise of qaṣab, with neither ṣakhab nor naṣab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل نے مجھ سے کہا : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری دے دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اور اس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد کھوکھلا موتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف محمد بن ابوسمینہ کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔

15279

Majma al-Zawaid #15279

وَعَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تُكْثِرُ مِنْ ذِكْرِ خَدِيجَةَ، وَقَدْ أَخْلَفَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ مِنْ عَجُوزٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، وَقَدْ هَلَكَتْ فِي دَهْرٍ؟! فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ رَزَقَهَا مِنِّي مَا لَمْ يَرْزُقْ أَحَدًا مِنْكُنَّ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ عَنِّي، وَاللَّهِ لَا تَسْمَعُنِي أَذْكُرُ خَدِيجَةَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُهُ».

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ would mention Khadījah often, so she objected that Allah had replaced an old red-lipped woman long dead, whereupon the Messenger of Allah ﷺ became angrier than she had ever seen and declared Allah granted her from him what He granted none of them, so she begged pardon and swore never to mention Khadījah with dislike again. > **"Allah granted her from me what He granted none of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے ، میں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرخ ہونٹوں والی بوڑھی عورت کی جگہ آپ کو دوسری بیویاں دے دی ہیں اور اس عورت کو انتقال کیے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر گیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، میں نے آپ کو اس طرح غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے وہ چیز عطا کی جو تم میں سے کسی کو عطا نہیں کی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ مجھے معاف کر دیں ، اللہ کی قسم ! آج کے دن بعد آپ مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اس حوالے سے ذکر کرتے ہوئے نہیں سنیں گے جو آپ کو ناپسند ہو ۔‘‘

15280

Majma al-Zawaid #15280

وَفِي رِوَايَةٍ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ لَمْ يَكُنْ يَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءٍ عَلَيْهَا وَالِاسْتِغْفَارِ، قَالَ: "" وَرُزِقَتْ مِنِّي الْوَلَدَ إِذْ حُرِمْتُنَّهُ مِنِّي "". فَغَدَا عَلَيَّ بِهَا وَرَاحَ شَهْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the Messenger of Allah ﷺ whenever he mentioned Khadījah never tired of praising her and seeking forgiveness for her, declaring she was granted children from him while they were deprived. > **"She was granted children from me while you were deprived of them from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ہمیشہ ان کی تعریف کیا کرتے تھے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے : ’’ اسے مجھ سے اولاد نصیب ہوئی تھی جب کہ تم مجھ سے اولاد سے محروم رہی ہو ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اس حوالے سے ایک ماہ تک ذکر کرتے رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15281

Majma al-Zawaid #15281

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ، قَالَتْ: فَغِرْتُ يَوْمًا، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُ حَمْرَاءَ الشِّدْقَيْنِ! قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ: "" أَبْدَلَنِي اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا؟! قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ أَوْلَادَهَا وَحَرَمَنِي أَوْلَادَ النَّاسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ when he mentioned Khadījah would praise her beautifully, until one day jealousy seized her and she objected that he mentioned the red-lipped one so much when Allah had given him better, whereupon he asked whether Allah had given him better than her, for she believed when people disbelieved, affirmed him when people denied, supported him with her wealth when people withheld, and Allah granted him her children and withheld the children of others. > **"She believed in me when people disbelieved in me, affirmed me when people denied me, supported me with her wealth when people withheld from me, and Allah granted me her children and withheld the children of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ان کی اچھی طرح سے تعریف کرتے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک دن مجھے غصہ آ گیا ، میں نے کہا : آپ اس سرخ اونٹوں والی خاتون کا کتنا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بدلے میں زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ بہتر مجھے عطا کی ہیں ؟ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائی تھی جب لوگوں نے میرا انکار کیا تھا ، اس نے اس وقت میری تصدیق کی تھی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا ، اس نے اپنے مال کے ذریعے میرا اس وقت ساتھ دیا تھا جب لوگوں نے مجھے محروم رکھنا چاہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے ذریعے اولاد عطا کی اور دوسرے لوگوں کے ذریعے اولاد عطا نہیں کی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15282

Majma al-Zawaid #15282

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، «أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ خَدِيجَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ، هَذِهِ خَدِيجَةُ "". فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: أَقْرِئْهَا مِنَ اللَّهِ السَّلَامَ وَمِنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Laylā reported that Jibrīl was with the Prophet ﷺ when Khadījah came, so the Messenger of Allah ﷺ said O Jibrīl, this is Khadījah, and Jibrīl عليه السلام told him to convey to her salām from Allah and from himself. > **"Convey to her salām from Allah and from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اسی دوران سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آ گئیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ خدیجہ ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہہ دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15283

Majma al-Zawaid #15283

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِحِرَاءٍ، فَقَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ جَاءَتْ بِحَيْسٍ فِي غَرْزَتِهَا، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاءَتْ قَالَ لَهَا: "" إِنَّ جِبْرِيلَ أَعْلَمَنِي بِكِ وَبِالْحَيْسِ الَّذِي فِي غَرْزَتِكِ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ، فَقَالَ: اللَّهُ يُقْرِئُهَا السَّلَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Kathīr reported that Jibrīl عليه السلام came to the Prophet ﷺ at Ḥirāʾ and told him Khadījah was coming with ḥays in her leather vessel, so tell her Allah conveys salām, and when she came he told her Jibrīl had informed him of her and the ḥays before she arrived and that Allah conveyed salām to her. > **"Allah conveys salām to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن کثیر بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت حرا میں موجود تھے ، انہوں نے کہا : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا حیس ( نامی کھانا ) لے کے آ رہی ہیں جو چمڑے کے برتن میں ہے ، آپ ان سے یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے ، جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا اور اس حیس ( نامی کھانے ) کے بارے میں بتایا جو تمہارے چمڑے کے برتن میں ہے ، ایسا تمہارے آنے سے پہلے ہوا اور جبرائیل نے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام کہا ہے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے اسی سے سلامتی عطا ہوتی ہے ، اور حضرت جبرائیل کو بھی سلام ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15284

Majma al-Zawaid #15284

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَطْعَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ مِنْ عِنَبِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ fed Khadījah from the grapes of Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کا انگور کھلایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15285

Majma al-Zawaid #15285

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَذَلِكَ بِمَكَّةَ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: "" مَنْ؟ "". قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا؟ قَالَ: "" فَمَنِ الْبِكْرُ؟ "". قَالَتْ: ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْكَ: عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: "" فَمَنِ الثَّيِّبُ؟ "". قَالَتْ: سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، آمَنَتْ بِكَ، وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ. قَالَ: "" فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ "". فَجَاءَتْ، فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدَتْ أُمَّ رُومَانَ أُمَّ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ. قَالَتْ: وَدِدْتُ، انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهُ آتٍ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: هَلْ تَصْلُحُ لَهُ؟ إِنَّمَا هِيَ بِنْتُ أَخِيهِ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "" ارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقُولِي لَهُ: أَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنَا أَخُوكَ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي "". فَأَتَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَجَاءَ فَأَنْكَحَهُ [وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when Khadījah died, Khawlah bint Ḥakīm ibn al-Awqaṣ, wife of ʿUthmān ibn Maẓʿūn, said at Makkah O Messenger of Allah, will you not marry, and when he asked whom she offered a virgin or a thayyib, naming the virgin as the daughter of the most beloved of Allah's creation to him, ʿĀʾishah bint Abī Bakr, and the thayyib as Sawdah bint Zamʿah who believed in him and followed him, and he told her to go mention him to them, so she entered Abū Bakr's house, found Umm Rūmān, conveyed the glad tidings that the Messenger of Allah ﷺ sent her to propose ʿĀʾishah, she welcomed it and told her to await Abū Bakr, who objected that she was his brother's daughter, and when this was conveyed the Prophet ﷺ told her to return and say he was his brother in Islam yet his daughter was lawful for him, whereupon Abū Bakr asked her to call the Messenger of Allah ﷺ who came and he married her to him. > **"You are my brother in Islam, and I am your brother, and your daughter is lawful for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خولہ بنت حکیم نے عرض کی : یہ مکہ کی بات ہے ، یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ اس خاتون نے کہا : اگر آپ چاہیں تو کنواری کے ساتھ کر لیں اور اگر آپ چاہیں ، تو ثیبہ خاتون کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے کہا : اللہ کی مخلوق میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد کی صاحبزادی عائشہ بنت ابوبکر ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ثیبہ خاتون کون ہیں ، تو خولہ نے جواب دیا : سودہ بنت زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں ، انہوں نے آپ کی پیروی بھی کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ہاں میرے حوالے سے ذکر کرو ، وہ خاتون گئیں وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں ، وہاں انہوں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو پایا ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں ، اس خاتون نے کہا : اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم پر بھلائی اور برکت کیسے داخل کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا : میری یہ خواہش ہے کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں ، وہ آنے والے ہیں ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو اس خاتون نے کہا : اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی اور برکت نصیب کی ہے ، اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ یہ تو ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ تم میرے اسلام میں بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ، لیکن تمہاری بیٹی میرے لئے درست ہو سکتی ہے ( یعنی اس کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے ) وہ خاتون حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کو میرے ہاں بلوا لو ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی شادی کروا دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

15286

Majma al-Zawaid #15286

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَا: «لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ، جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: "" مَنْ؟ "". قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا؟ قَالَ: "" فَمَنِ الْبِكْرُ؟ "". قَالَتْ: بِنْتُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَلَيْكَ: عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ: "" وَمَنِ الثَّيِّبُ؟ "". قَالَتْ: سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ، قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ. قَالَ: "" اذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ "". فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ. قَالَتْ: انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَائِشَةَ. قَالَ: وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ؟ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: "" ارْجِعِي، فَقُولِي لَهُ: أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي "". فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: انْتَظِرِي، وَخَرَجَ. قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ: إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ كَانَ قَدْ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ، فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ وَعْدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَقُولُ: هَذِهِ تَقُولُ إِنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَ، فَقَالَ لِخَوْلَةَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، وَعَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - يَوْمَئِذٍ بَنْتُ سِتِّ سِنِينَ. ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكِ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِي عَلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَتْهُ السِّنُّ، قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَةُ ابْنَةُ حَكِيمٍ. قَالَ: فَمَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ، فَقَالَ: كُفْؤٌ كَرِيمٌ، فَمَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: ادْعِيهَا فَدَعَتْهَا لِي فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْؤٌ كَرِيمٌ، أَتُحِبِّنِي أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ادْعِيهِ لِي، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ. فَجَاءَ أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: لَعَمْرِي إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ ابْنَةَ زَمْعَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بِالسُّنْحِ. قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بَيْتَنَا [وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ]، فَجَاءَتْ بِي أُمِّي وَأَنَا فِي أُرْجُوحَةٍ تُرَجَّحُ بِي بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَأَنْزَلَتْنِي مِنَ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ، فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ عِنْدَ الْبَابِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفَسِي، ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَجْلَسَتْنِي فِي حُجْرَةٍ، ثُمَّ قَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكَ. فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِنَا، مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ، حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ، كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، بَعْضُهُ صَرَّحَ فِيهِ بِالِاتِّصَالِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَكْثَرُهُ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Salamah and Yaḥyā ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥāṭib reported that when Khadījah died, Khawlah bint Ḥakīm, wife of ʿUthmān ibn Maẓʿūn, asked the Messenger of Allah ﷺ whether he would not marry and offered a virgin, ʿĀʾishah bint Abī Bakr, or a thayyib, Sawdah daughter of Zamʿah who believed and followed his words, and he told her to mention him to them, so she proposed ʿĀʾishah to Umm Rūmān and awaited Abū Bakr who objected she was his brother's daughter, and the Prophet ﷺ sent her back to say he was his brother in Islam yet lawful for her daughter, while Umm Rūmān explained Muṭʿim ibn ʿAdī had mentioned her for his son and Abū Bakr never broke a promise, so Abū Bakr went to Muṭʿim whose wife feared he would turn their son from religion, Muṭʿim agreed with her, Allah removed the engagement from his mind, he told Khawlah to call the Messenger of Allah ﷺ who came and he married her to him when ʿĀʾishah رضي الله عنها was six, then Khawlah went to Sawdah bint Zamʿah who welcomed it and sent her to her aged father who had missed Ḥajj, greeted him with Jāhiliyyah greeting, told him Muḥammad ibn ʿAbdillāh proposed Sawdah as a noble match, he asked his daughter who agreed and told him to call him, the Messenger of Allah ﷺ came and he married her to him, while her brother ʿAbd ibn Zamʿah returned from Ḥajj throwing dust on his head and later after Islam called himself foolish for it, and ʿĀʾishah added they came to Madīnah at Banū al-Ḥārith ibn al-Khazraj at al-Sunḥ, her mother took her from a swing between two branches with her hair parted and face wiped, led her breathless to the door then to the Prophet ﷺ sitting on a bed with Anṣār men and women, seated her saying these are your family with blessings, they left and the Prophet ﷺ consummated with her in their house with no camel or sheep slaughtered until Saʿd ibn ʿUbādah sent a bowl he sent to the Prophet ﷺ among his wives, when she was nine. > **"I am your brother and you are my brother in Islam, and your daughter is lawful for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ اور یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب یہ دونوں بیان کرتے ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ ان خاتون نے کہا : اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی کے ساتھ اور اگر چاہیں ، تو ثیبہ کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : آپ کے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب فرد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور ثیبہ خاتون کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : سیدہ سودہ بن زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور آپ جو بات کہتے ہیں اس کے حوالے سے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے سامنے میری یہ بات ذکر کرنا ، وہ خاتون سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر بھلائی اور برکت کو داخل کیا ہے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں تو وہ آ جائیں ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے حضرت ابوبکر ! اللہ تعالیٰ نے تم پر کیسی بھلائی اور برکت داخل کی ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا عائشہ کی شادی ان کے ساتھ ہو سکتی ہے ؟ یہ ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ میں اسلام میں تمہارا بھائی ہوں اور تم میرے بھائی ہو ، لیکن تمہاری بیٹی کے ساتھ میری شادی ہو سکتی ہے ۔ وہ خاتون واپس گئیں اور اس بات کا تذکرہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو انہوں نے کہا : تم انتظار کرو ، پھر وہ باہر گئے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ بھیجا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اس نے جب بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ، کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے پاس تشریف لے گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی اُم فتیان موجود تھی ، اس عورت نے کہا : اے ابوقحافہ کے صاحبزادے ! شاید آپ ہمارے لڑکے کو بے دین بنا دیں گے اور اسے اس دین میں داخل کروا دیں گے جس پر آپ گامزن ہیں ، اگر اس نے آپ کے ہاں شادی کر لی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا : کیا تمہاری بھی وہی رائے ہے جو اس عورت کا قول ہے ؟ اس نے کہا : یہ بات کہہ تو رہی ہے ( یعنی اس کی بات ٹھیک لگتی ہے ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے اٹھ کے نکلے تو ان کے دل میں مطعم بن عدی کے ساتھ وعدہ کرنے کے حوالے سے جو بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا ، وہ واپس آئے اور انہوں نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نبی اکرم ﷺ کو میرے ہاں بلا کے لے آؤ ، وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کو بلا کے لے آئی ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کروا دی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت چھ سال تھی ، پھر وہ خاتون وہاں سے نکلیں اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئیں اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیسی بھلائی اور کیسی برکت داخل کی ہے ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے کہا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میری یہ خواہش ہے کہ تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے رشتے کا ذکر کرو ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص ہیں ، انہیں بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے ، وہ اس وجہ سے حج میں بھی شرکت نہیں کر سکتے ، وہ خاتون ان صاحب کے پاس گئیں اور انہیں زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق سلام کیا ، ان صاحب نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس خاتون نے بتایا خولہ بنت حکیم ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : محمد بن عبداللہ نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے سودہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو ان صاحب نے کہا : وہ ایک معزز ہم پایہ شخص ہیں ۔ سودہ کیا کہتی ہے ؟ اس خاتون نے کہا : اسے بھی یہ بات پسند ہے ، اس صاحب نے کہا : اسے میرے پاس بلا کے لے کر آؤ ، وہ خاتون سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بلا کے لے کر آئیں تو ان صاحب نے اپنی بیٹی سے کہا : اس خاتون کا یہ کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے تمہارے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، وہ ایک معزز ہم پلہ شخص ہیں ، کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ؟ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ، تو ان صاحب نے کہا : تم انہیں میرے پاس بلا کے لاؤ ، پھر نبی اکرم ﷺ ان صاحب کے پاس تشریف لے گئے ، تو ان صاحب نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی شادی کروا دی ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد بن زمعہ حج کر کے آئے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگے ، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ کہنے لگے کہ میں ان دنوں بے وقوف تھا کہ جب میں اپنے سر میں مٹی ڈال رہا تھا ، اس بات پر کہ اللہ کے رسول نے سودہ بنت زمعہ کے ساتھ شادی کی تھی ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ مدینہ منورہ آ گئے ، ہم نے بنو حارث بن خزرج کے محلے میں ’’ سخ “ کے مقام پر رہائش اختیار کی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ہمارے گھر آئے میری والدہ مجھے لے کر آ گئیں ، میں اس وقت ایک جھولے میں جھولے لی رہی تھی جو دو شاخوں کے درمیان تھا ، میری والدہ نے مجھے جھولے سے اتارا ، میرے بال کانوں سے ذرا نیچے تک آتے تھے ، انہوں نے ان میں مانگ بنائی ، میرے چہرے پر پانی لگا کے صاف کیا ، پھر وہ مجھے ساتھ لے کے چلتی ہوئی آئیں ، یہاں تک کہ میں دروازے کے پاس ٹھہر گئی ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھولا ہوا تھا ، یہاں تک کہ میرا سانس پرسکون ہوا تو وہ مجھے لے کے اندر آئیں ، نبی اکرم ﷺ ہمارے گھر میں پلنگ پر تشریف فرما تھے ، آپ کے پاس انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور خواتین تھیں ، میری والدہ نے مجھے حجرے میں روک لیا ، پھر انہوں نے کہا : یہ تمہارے گھر والے ہیں ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ان میں برکت رکھے اور ان کے لئے تم میں برکت رکھے ، پھر مرد اور خواتین اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ میری رخصتی کروا کے ہمارے گھر آ گئے ، میری شادی پر کوئی اونٹ قربان نہیں کیا گیا اور کوئی بکری ذبح نہیں کی گئی ، یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں ایک برتن بھیجا ، جو وہ نبی اکرم ﷺ کو بھیجا کرتے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، اس وقت میری عمر سات سال تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے بعض راویوں نے اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سند کے متصل ہونے کی صراحت کی ہے ، اور زیادہ تر نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15287

Majma al-Zawaid #15287

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ بِصُورَتِي، فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَتُكَ. وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ عَلَى حَوْفٍ، فَلَمَّا تَزَوَّجَنِي أَوْقَعَ اللَّهُ عَلَيَّ الْحَيَاءَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ did not marry her until Jibrīl brought her image and declared her his wife, and he married her when she was a young girl in light dress, after which Allah cast modesty upon her. > **"This is your wife."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس میری تصویر لے کے نہیں آ گئے ، انہوں نے یہ بتایا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ شادی کی ، میں اس وقت کمسن لڑکی تھی اور کمسن لڑکیوں کا سا لباس پہنتی تھی ، جب نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ شادی کر لی تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء ڈال دی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ مدلس ہے ۔