وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَا: «لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ، جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ - امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: "" مَنْ؟ "". قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا؟ قَالَ: "" فَمَنِ الْبِكْرُ؟ "". قَالَتْ: بِنْتُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَلَيْكَ: عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ: "" وَمَنِ الثَّيِّبُ؟ "". قَالَتْ: سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ، قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ. قَالَ: "" اذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ "". فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ. قَالَتْ: انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُ عَائِشَةَ. قَالَ: وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ؟ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ! فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: "" ارْجِعِي، فَقُولِي لَهُ: أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي "". فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: انْتَظِرِي، وَخَرَجَ. قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ: إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ كَانَ قَدْ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ، فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ وَعْدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَقُولُ: هَذِهِ تَقُولُ إِنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَ، فَقَالَ لِخَوْلَةَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، وَعَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - يَوْمَئِذٍ بَنْتُ سِتِّ سِنِينَ. ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكِ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِي عَلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَتْهُ السِّنُّ، قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَةُ ابْنَةُ حَكِيمٍ. قَالَ: فَمَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ، فَقَالَ: كُفْؤٌ كَرِيمٌ، فَمَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: ادْعِيهَا فَدَعَتْهَا لِي فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْؤٌ كَرِيمٌ، أَتُحِبِّنِي أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ادْعِيهِ لِي، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ. فَجَاءَ أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: لَعَمْرِي إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ ابْنَةَ زَمْعَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بِالسُّنْحِ. قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بَيْتَنَا [وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ]، فَجَاءَتْ بِي أُمِّي وَأَنَا فِي أُرْجُوحَةٍ تُرَجَّحُ بِي بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَأَنْزَلَتْنِي مِنَ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ، فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ عِنْدَ الْبَابِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفَسِي، ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَجْلَسَتْنِي فِي حُجْرَةٍ، ثُمَّ قَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكَ. فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِنَا، مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ، حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ، كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، بَعْضُهُ صَرَّحَ فِيهِ بِالِاتِّصَالِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَكْثَرُهُ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abū Salamah and Yaḥyā ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥāṭib reported that when Khadījah died, Khawlah bint Ḥakīm, wife of ʿUthmān ibn Maẓʿūn, asked the Messenger of Allah ﷺ whether he would not marry and offered a virgin, ʿĀʾishah bint Abī Bakr, or a thayyib, Sawdah daughter of Zamʿah who believed and followed his words, and he told her to mention him to them, so she proposed ʿĀʾishah to Umm Rūmān and awaited Abū Bakr who objected she was his brother's daughter, and the Prophet ﷺ sent her back to say he was his brother in Islam yet lawful for her daughter, while Umm Rūmān explained Muṭʿim ibn ʿAdī had mentioned her for his son and Abū Bakr never broke a promise, so Abū Bakr went to Muṭʿim whose wife feared he would turn their son from religion, Muṭʿim agreed with her, Allah removed the engagement from his mind, he told Khawlah to call the Messenger of Allah ﷺ who came and he married her to him when ʿĀʾishah رضي الله عنها was six, then Khawlah went to Sawdah bint Zamʿah who welcomed it and sent her to her aged father who had missed Ḥajj, greeted him with Jāhiliyyah greeting, told him Muḥammad ibn ʿAbdillāh proposed Sawdah as a noble match, he asked his daughter who agreed and told him to call him, the Messenger of Allah ﷺ came and he married her to him, while her brother ʿAbd ibn Zamʿah returned from Ḥajj throwing dust on his head and later after Islam called himself foolish for it, and ʿĀʾishah added they came to Madīnah at Banū al-Ḥārith ibn al-Khazraj at al-Sunḥ, her mother took her from a swing between two branches with her hair parted and face wiped, led her breathless to the door then to the Prophet ﷺ sitting on a bed with Anṣār men and women, seated her saying these are your family with blessings, they left and the Prophet ﷺ consummated with her in their house with no camel or sheep slaughtered until Saʿd ibn ʿUbādah sent a bowl he sent to the Prophet ﷺ among his wives, when she was nine. > **"I am your brother and you are my brother in Islam, and your daughter is lawful for me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوسلمہ اور یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب یہ دونوں بیان کرتے ہیں : جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ شادی نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس کے ساتھ ؟ ان خاتون نے کہا : اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی کے ساتھ اور اگر چاہیں ، تو ثیبہ کے ساتھ کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کنواری لڑکی کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : آپ کے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب فرد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور ثیبہ خاتون کون ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : سیدہ سودہ بن زمعہ جو آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور آپ جو بات کہتے ہیں اس کے حوالے سے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے سامنے میری یہ بات ذکر کرنا ، وہ خاتون سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ام رومان ! اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر بھلائی اور برکت کو داخل کیا ہے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لیں تو وہ آ جائیں ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے حضرت ابوبکر ! اللہ تعالیٰ نے تم پر کیسی بھلائی اور برکت داخل کی ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے عائشہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا عائشہ کی شادی ان کے ساتھ ہو سکتی ہے ؟ یہ ان کی بھتیجی بنتی ہے ، وہ خاتون واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے یہ کہو کہ میں اسلام میں تمہارا بھائی ہوں اور تم میرے بھائی ہو ، لیکن تمہاری بیٹی کے ساتھ میری شادی ہو سکتی ہے ۔ وہ خاتون واپس گئیں اور اس بات کا تذکرہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو انہوں نے کہا : تم انتظار کرو ، پھر وہ باہر گئے ، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ بھیجا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اس نے جب بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی وعدہ کیا ، کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے پاس تشریف لے گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی اُم فتیان موجود تھی ، اس عورت نے کہا : اے ابوقحافہ کے صاحبزادے ! شاید آپ ہمارے لڑکے کو بے دین بنا دیں گے اور اسے اس دین میں داخل کروا دیں گے جس پر آپ گامزن ہیں ، اگر اس نے آپ کے ہاں شادی کر لی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا : کیا تمہاری بھی وہی رائے ہے جو اس عورت کا قول ہے ؟ اس نے کہا : یہ بات کہہ تو رہی ہے ( یعنی اس کی بات ٹھیک لگتی ہے ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے اٹھ کے نکلے تو ان کے دل میں مطعم بن عدی کے ساتھ وعدہ کرنے کے حوالے سے جو بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا ، وہ واپس آئے اور انہوں نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نبی اکرم ﷺ کو میرے ہاں بلا کے لے آؤ ، وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کو بلا کے لے آئی ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کروا دی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت چھ سال تھی ، پھر وہ خاتون وہاں سے نکلیں اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئیں اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیسی بھلائی اور کیسی برکت داخل کی ہے ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اس خاتون نے کہا : اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے شادی کا پیغام دوں ، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میری یہ خواہش ہے کہ تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے رشتے کا ذکر کرو ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص ہیں ، انہیں بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے ، وہ اس وجہ سے حج میں بھی شرکت نہیں کر سکتے ، وہ خاتون ان صاحب کے پاس گئیں اور انہیں زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق سلام کیا ، ان صاحب نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس خاتون نے بتایا خولہ بنت حکیم ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : محمد بن عبداللہ نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں ان کی طرف سے سودہ کے لئے شادی کا پیغام دوں ، تو ان صاحب نے کہا : وہ ایک معزز ہم پایہ شخص ہیں ۔ سودہ کیا کہتی ہے ؟ اس خاتون نے کہا : اسے بھی یہ بات پسند ہے ، اس صاحب نے کہا : اسے میرے پاس بلا کے لے کر آؤ ، وہ خاتون سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بلا کے لے کر آئیں تو ان صاحب نے اپنی بیٹی سے کہا : اس خاتون کا یہ کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے تمہارے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، وہ ایک معزز ہم پلہ شخص ہیں ، کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ؟ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ، تو ان صاحب نے کہا : تم انہیں میرے پاس بلا کے لاؤ ، پھر نبی اکرم ﷺ ان صاحب کے پاس تشریف لے گئے ، تو ان صاحب نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی شادی کروا دی ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد بن زمعہ حج کر کے آئے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگے ، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ کہنے لگے کہ میں ان دنوں بے وقوف تھا کہ جب میں اپنے سر میں مٹی ڈال رہا تھا ، اس بات پر کہ اللہ کے رسول نے سودہ بنت زمعہ کے ساتھ شادی کی تھی ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ مدینہ منورہ آ گئے ، ہم نے بنو حارث بن خزرج کے محلے میں ’’ سخ “ کے مقام پر رہائش اختیار کی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ہمارے گھر آئے میری والدہ مجھے لے کر آ گئیں ، میں اس وقت ایک جھولے میں جھولے لی رہی تھی جو دو شاخوں کے درمیان تھا ، میری والدہ نے مجھے جھولے سے اتارا ، میرے بال کانوں سے ذرا نیچے تک آتے تھے ، انہوں نے ان میں مانگ بنائی ، میرے چہرے پر پانی لگا کے صاف کیا ، پھر وہ مجھے ساتھ لے کے چلتی ہوئی آئیں ، یہاں تک کہ میں دروازے کے پاس ٹھہر گئی ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھولا ہوا تھا ، یہاں تک کہ میرا سانس پرسکون ہوا تو وہ مجھے لے کے اندر آئیں ، نبی اکرم ﷺ ہمارے گھر میں پلنگ پر تشریف فرما تھے ، آپ کے پاس انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور خواتین تھیں ، میری والدہ نے مجھے حجرے میں روک لیا ، پھر انہوں نے کہا : یہ تمہارے گھر والے ہیں ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ان میں برکت رکھے اور ان کے لئے تم میں برکت رکھے ، پھر مرد اور خواتین اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ میری رخصتی کروا کے ہمارے گھر آ گئے ، میری شادی پر کوئی اونٹ قربان نہیں کیا گیا اور کوئی بکری ذبح نہیں کی گئی ، یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں ایک برتن بھیجا ، جو وہ نبی اکرم ﷺ کو بھیجا کرتے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، اس وقت میری عمر سات سال تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے بعض راویوں نے اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سند کے متصل ہونے کی صراحت کی ہے ، اور زیادہ تر نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔