Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 24

Book of Virtues and Merits

Hadith 15208–15247

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15208

Majma al-Zawaid #15208

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that Allāh had commanded him to marry Fāṭimah to ʿAlī. > **"Allāh commanded me to marry Fāṭimah to ʿAlī"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ کی شادی علی سے کروا دوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15209

Majma al-Zawaid #15209

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ الشَّهَادَةَ لِلْحَدِيثِ فَلَمْ أُرْزَقْهَا: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ يَقُولُ وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ: "" إِنَّ اللَّهَ لَمَّا أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَفَعَلْتُ قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَنَى جَنَّةً مِنْ لُؤْلُؤَةِ قَصَبٍ، بَيْنَ كُلِّ قَصَبَةٍ إِلَى قَصَبَةٍ لُؤْلُؤَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُشَذَّرَةٍ بِالذَّهَبِ، وَجَعَلَ سُقُوفَهَا زَبَرْجَدًا أَخْضَرَ، وَجَعَلَ فِيهَا طَاقَاتٍ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُكَلَّلَةٍ بِالْيَوَاقِيتِ، ثُمَّ جَعَلَ عَلَيْهَا غُرَفًا: لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ دُرٍّ، وَلَبِنَةٌ مِنْ يَاقُوتٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا عُيُونًا تَنْبُعُ فِي نَوَاحِيهَا، وَحُفَّتْ بِالْأَنْهَارِ، وَجَعَلَ عَلَى الْأَنْهَارِ قِبَابًا مِنْ دُرٍّ قَدْ شُعِّبَتْ بِسَلَاسِلِ الذَّهَبِ، وَحُفَّتْ بِأَنْوَاعِ الشَّجَرِ، وَبُنِيَ فِي كُلِّ غُصْنٍ قُبَّةً، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ أَرِيكَةً مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ، غِشَاؤُهَا السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ، وَفَرَشَ أَرْضَهَا بِالزَّعْفَرَانِ، وَفَتَقَ بِالْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ حَوْرَاءَ، وَالْقُبَّةُ لَهَا مِائَةُ بَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ حَارِسَانِ وَشَجَرَتَانِ، فِي كُلِّ قُبَّةٍ مِفْرَشٌ وَكِتَابٌ، مَكْتُوبٌ حَوْلَ الْقِبَابِ آيَةُ الْكُرْسِيِّ. قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: لِمَنْ بَنَى اللَّهُ هَذِهِ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: بَنَاهَا لِفَاطِمَةَ ابْنَتَكَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، سِوَى جِنَانِهِمَا تُحْفَةٌ أَتْحَفَهُمَا، وَأَقَرَّ عَيْنَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمِسْمَعِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, declared he would narrate a ḥadīth heard from the Messenger of Allāh ﷺ for which he never found corroboration: he heard him on the expedition of Tabūk while marching with him say that when Allāh commanded him to marry Fāṭimah to ʿAlī and he did so, Jibrīl, peace be upon him, told him Allāh had built a paradise of hollow pearl, between each reed and reed a pearl of ruby inlaid with gold, its roofs green peridot, its lattices of pearl crowned with rubies, its chambers of bricks of silver, gold, pearl, ruby and peridot, its springs welling in its corners, girt by rivers over which were domes of pearl hung with chains of gold, girt by kinds of trees, in every branch a dome, in every dome a couch of white pearl covered with sundus and istabraq, its earth spread with saffron kneaded with musk and ambergris, in every dome a ḥūr, each dome with a hundred doors, upon each door two guards and two trees, in every dome a carpet and a writing, with Āyat al-Kursī inscribed around the domes. When he asked Jibrīl for whom Allāh built this paradise, he answered He built it for his daughter Fāṭimah and ʿAlī ibn Abī Ṭālib, apart from their other gardens, as a gift delighting his eyes, O Messenger of Allāh. > **"When Allāh commanded me to marry Fāṭimah to ʿAlī and I did so, Jibrīl, peace be upon him, said: Allāh has built a paradise of hollow pearl for Fāṭimah your daughter and ʿAlī ibn Abī Ṭālib, apart from their gardens — a gift by which He delights your eyes, O Messenger of Allāh"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، میں اس حدیث کی گواہی مسلسل تلاش کرتا رہا لیکن وہ مجھے نہیں ملی ، غزوہ تبوک کے موقع پر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے جب مجھے یہ حکم دیا کہ میں فاطمہ کی شادی علی سے کروا دوں تو میں نے ایسا کر دیا ، جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے جنت میں موتیوں کا ایک گھر بنایا ہے ، جس کے ایک موتی سے لے کر دوسرے موتی ایسے ہیں ، جن پر سونا لگا ہوا ہے ، اور اس گھر کی چھت سبز زبرجد سے بنی ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس میں موتیوں کے بنے ہوئے طاق بنائے ہیں جو یاقوت سے آراستہ ہیں ، اور پھر ان پر بالاخانے بنائے ہیں جن میں ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک اینٹ سونے کی ہے ، اور ایک اینٹ قیمتی پتھر کی ہے ، ایک اینٹ یاقوت کی ہے ایک اینٹ زبرجد کی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں چشمے بنائے ہیں جو اس کے اطراف میں بہتے ہیں ، اور اسے نہروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اس نے اس کی نہروں کے پاس موتیوں سے بنے ہوئے قبے بنائے ہیں ، جن میں سونے کی بنی ہوئی زنجیریں لٹک رہی ہیں ، اور انہیں مختلف قسم کے درختوں سے ڈھانپا گیا ہے ، اس میں ہر شاخ میں ایک قبہ ہے اور ہر قبے میں ایک بستر ہے ، جو سونے کا بنا ہوا ہے ، اس کا بچھونا ، سندس اور استبرق کا ہے اور اس کی زمین زعفران کی ہے جو مشک اور عنبر سے آراستہ ہے اور اس میں سے ہر ایک میں ایک حور موجود ہے ، ہر قبے کے ایک سو دروازے ہیں ، ہر دروازے پر دو پہرے دار ہیں اور دو درخت ہیں اور ہر قبے میں بچھونے ہیں اور ایک تحریر شدہ تحریر ہے ، اس کے اردگرد آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ نے یہ کس کے لئے بنایا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! اس نے آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے لئے اس کو بنایا ہے اور ان کے لیے اس باغ کے علاوہ بھی کچھ تحفے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرے گا اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ مسمعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15210

Majma al-Zawaid #15210

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنِّي، وَأَنِّي. قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "". قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ - أَوْ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ - فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنِّي قَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنِّي، وَأَنِّي. قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "". قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ؟ فَأَعْرَضَ، فَرَجَعَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: إِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ أَنْ يَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيَانِي وَأَنَا فِي سَبِيلٍ، فَقَالَا: بِنْتُ عَمِّكَ تُخْطَبُ، فَنَبَّهَانِي لِأَمْرٍ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي طَرَفًا عَلَى عَاتِقِي وَطَرَفًا آخَرَ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَمُنَاصَحَتِي، وَأَنِّي، وَأَنِّي. قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ يَا عَلِيُّ؟ "". قُلْتُ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ؟ قَالَ: "" وَمَا عِنْدَكَ؟ "". قُلْتُ: فَرَسِي وَبَدَنِي - يَعْنِي: دِرْعِي - قَالَ: "" أَمَّا فَرَسُكَ فَلَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا "". فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً، فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، ابْغِنَا بِهَا طِيبًا "". وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا، فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشَرَّطًا بِالشَّرِيطِ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَمَلَأَ الْبَيْتَ كَثِيبًا - يَعْنِي رَمْلًا - وَقَالَ: "" إِذَا أَتَتْكَ فَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ "". فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ، فَقَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَهَاهُنَا أَخِي؟ "". فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟! فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: "" ائْتِينِي بِمَاءٍ "". فَقَامَتْ إِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ فِيهِ مَاءً فَأَتَتْهُ بِهِ، فَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: "" قُومِي "". فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "". [ثُمَّ قَالَ: أَدْبِرِي، فَأَدْبَرَتْ فَنَضَحَ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ]، ثُمَّ قَالَ: "" ائْتِينِي بِمَاءٍ "". فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُهُ، فَمَلَأَتُ الْقَعْبَ مَاءً فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "". ثُمَّ قَالَ: "" ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ بِاسْمِ اللَّهِ وَالْبِرْكَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that Abū Bakr came to the Prophet ﷺ, sat before him, and cited his counsel and precedence in Islam, asking to marry Fāṭimah. The Prophet ﷺ asked what then, and upon his request fell silent — or turned away. Abū Bakr returned to ʿUmar declaring ruin, and upon explaining that he had proposed to Fāṭimah and been turned from, ʿUmar bade him wait while he sought the same. ʿUmar came likewise, sat before the Prophet ﷺ, cited the same, asked likewise, and was turned from. Returning to Abū Bakr, he concluded the Prophet awaited Allāh's command concerning her and proposed they urge ʿAlī to seek the same. ʿAlī reported they came to him upon the road telling him his cousin was sought, alerting him to the matter. He rose dragging his cloak, one end upon his shoulder and the other upon the ground, until he sat before the Messenger of Allāh ﷺ and cited his precedence and counsel. When asked what then, O ʿAlī, he asked to marry Fāṭimah. Asked what he had, he named his horse and his body-armour — meaning his coat of mail. Told his horse was indispensable but to sell his armour, he sold it for four hundred and eighty dirhams, brought it, placed it in the Prophet's lap, from which he took a handful and bade Bilāl fetch perfume therewith. He ordered her preparation: a bed laced with ribbon, a leather pillow stuffed with fibre, the house filled with sand. He warned ʿAlī to do nothing until he came. She arrived with Umm Ayman, each sitting apart, and the Prophet ﷺ asked whether his brother was there. Umm Ayman exclaimed at calling his son-in-law brother, and he bade Fāṭimah bring water. She filled a cup, he spat into it, bade her rise, sprinkled between her breasts and upon her head, and sought refuge for her and her progeny from the accursed Satan. Then, bade turn, he sprinkled between her shoulders with the same supplication. Then, understanding his wish, ʿAlī filled the cup, the Prophet ﷺ spat into it, poured upon his head and before him, sought refuge for him and his progeny likewise, and bade him enter upon his wife in Allāh's name with blessing. > **"What then, O ʿAlī. What have you. As for your horse you need it, but as for your armour sell it. O Bilāl, fetch us perfume therewith. When she comes to you do nothing until I come to you. Is my brother here. Bring me water. Rise. O Allāh, I seek refuge for her with You and her progeny from the accursed Satan. Turn. Bring me water. O Allāh, I seek refuge for him with You and his progeny from the accursed Satan. Enter upon your wife in Allāh's name with blessing"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ، میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ میری شادی فاطمہ کے ساتھ کروا دیں ۔ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے اعراض کیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے اعراض کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ یہیں رہیں ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاتا ہوں اور آپ سے وہی درخواست کرتا ہوں ، جو آپ نے کی ہے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ۔ میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ فاطمہ کے ساتھ میری شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اعراض کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بولے : نبی اکرم ﷺ اس خاتون کے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہوں گے آپ ہمارے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلئے تاکہ ہم انہیں یہ کہیں کہ وہ بھی یہی درخواست کریں جو ہم نے کی تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے ، میں راستے میں تھا ، ان دونوں نے کہا : آپ کے چچا کی بیٹی کو شادی کا پیغام دیا گیا ، پھر انہوں نے مجھے اس معاملے کے حوالے سے ترغیب دی تو میں اٹھا ، میری چادر کا ایک کنارہ میری گردن پر تھا اور دوسرا زمین پر تھا ، میں اسے کھینچتا ہوا گیا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میری خیرخواہی سے واقف ہیں ، اور یہ چیز ہے اور وہ چیز ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تو کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : آپ میری فاطمہ کے ساتھ شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے پاس گھوڑا ہے اور میری زرہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک گھوڑے کا تعلق ہے تو وہ تمہارے لئے ضروری ہے ، جہاں تک زرہ کا تعلق ہے تو اسے تم فروخت کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اسے چار سو اسّی درہم کے عوض میں فروخت کیا اور وہ رقم لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور وہ آپ کی گود میں رکھ دی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے مٹھی بھر رقم لی اور فرمایا : اے بلال ! اس کے ذریعے خوشبو لے کے آؤ ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کریں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے ایک پلنگ بنوایا اور چمڑے کا تکیہ بنوایا ، جس میں پتے بھرے ہوئے تھے ، پورے گھر میں ریت ڈالی گئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب وہ خاتون تمہارے پاس آئے تو جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم نے کوئی بات نہیں کرنی ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر ) آ گئیں اور گھر کے کونے میں بیٹھ گئیں ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں گھر کے دوسرے کونے میں تھا ۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرے پاس پانی لے کے آؤ ، وہ اٹھ کر گھر میں موجود ایک برتن کی طرف بڑھیں اور انہوں نے اس میں پانی ڈالا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس میں کلی کی ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم کھڑی ہو جاؤ ، پھر آپ نے ان کے سینے پر اور ان کے سر پر پانی چھڑکا پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : منہ پھیر لو ۔ انہوں نے منہ پھیر لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان بھی پانی چھڑکا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس اور پانی لے کر آؤ ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا ۔ انہوں نے برتن پانی سے بھرا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے تھوڑا سا پانی منہ میں لیا اور پھر اس پانی سے کلی کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے سر اور میرے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، اور پھر دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15211

Majma al-Zawaid #15211

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَى أَبَا بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: لَا يُزَوِّجُنِي، قَالَ: إِذَا لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَإِنَّكَ مِنْ أَكْرَمِ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَأَقْدَمِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا عَلَيْكِ فَاذْكُرِي لَهُ أَنِّي ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ ; فَلَعَلَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي. قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَتْ مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ذَكَرَ فَاطِمَةَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَذْكُرَهَا. قَالَ: "" حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ "". قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْ لَهُ الَّذِي ذَكَرْتَ. فَلَقِيَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِقْبَالًا - يَعْنِي عَلَيْكِ - فَاذْكُرِينِي لَهُ وَاذْكُرِي فَاطِمَةَ ; لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي. قَالَ: فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَفْصَةَ، فَرَأَتْ طِيبَ نَفْسٍ وَرَأَتْ مِنْهُ إِقْبَالًا، فَذَكَرَتْ لَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ: "" حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ "". فَلَقِيَ عُمَرُ حَفْصَةَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَبَتَاهُ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ ذَكَرْتُ لَهُ شَيْئًا. فَانْطَلَقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ فَاطِمَةَ؟ فَقَالَ: أَخْشَى أَنْ لَا يُزَوِّجَنِي قَالَ: فَإِنْ لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَأَنْتَ أَقْرَبُ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ؟ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مِثْلَ عَائِشَةَ وَلَا مِثْلَ حَفْصَةَ، قَالَ: فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ فَاطِمَةَ قَالَ: "" فَافْعَلْ "". قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا دِرْعِي الْحُطَمِيَّةُ. قَالَ: "" فَاجْمَعْ مَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَائْتِنِي بِهِ "". قَالَ: فَأَتَى بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَرْبَعُ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَبَضَ ثَلَاثَ قَبَضَاتٍ، فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ أَيْمُنَ، فَقَالَ: "" اجْعَلِي مِنْهَا قَبْضَةً فِي الطِّيبِ "". أَحْسَبُهُ قَالَ: "" وَالْبَاقِي فِيمَا يُصْلِحُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْمَتَاعِ "". فَلَمَّا فَرَغَتْ مِنَ الْجِهَازِ وَأَدْخَلَتْهُمْ بَيْتًا قَالَ: "" يَا عَلِيُّ، لَا تُحْدِثَنَّ إِلَى أَهْلِكَ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ "". فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَاطِمَةُ مُتَقَنِّعَةٌ، وَعَلِيٌّ قَاعِدٌ، وَأُمُّ أَيْمَنَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: "" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ائْتِنِي بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ "". فَأَتَتْهُ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ، ثُمَّ نَاوَلَهُ فَاطِمَةَ فَشَرِبَتْ، وَأَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ جَبِينَهَا وَبَيْنَ كَتِفَيْهَا وَصَدْرِهَا، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ اشْرَبْ "". ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ بِهِ جَبِينَهُ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا "". فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ أَيْمَنَ، وَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ أَهْلَكَ "".»

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, came to Abū Bakr, may Allāh have mercy upon him, asking what prevented him marrying Fāṭimah daughter of the Messenger of Allāh ﷺ. Abū Bakr answered he would not marry him, and ʿUmar protested who else he would marry when noblest and earliest in Islam. Abū Bakr went to the house of ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, bidding her mention his thought of Fāṭimah when she saw the Messenger of Allāh ﷺ in good cheer toward her, hoping Allāh would make her easy for him. When the Messenger came in such mood she mentioned that Abū Bakr had thought of Fāṭimah, and he answered to wait till the decree descended. Abū Bakr returned, and she wished she had never mentioned it. Abū Bakr told ʿUmar, who went to Ḥafṣah bidding her likewise mention him and Fāṭimah when she saw his goodwill, hoping Allāh would make her easy for him. When the Messenger met Ḥafṣah in such mood she mentioned Fāṭimah, and he answered likewise till the decree descended. ʿUmar met Ḥafṣah, who wished she had mentioned nothing. ʿUmar then went to ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, asking what prevented him from Fāṭimah. When ʿAlī feared he would not marry him, ʿUmar protested who else he would marry when nearest of Allāh's creation to him. ʿAlī went to the Messenger of Allāh ﷺ with no intercessor like ʿĀʾishah or Ḥafṣah, declared he wished to marry Fāṭimah, was bidden do so, named only his Ḥuṭamiyyah armour, was told to gather what he could and bring it, brought twelve ounces — four hundred and eighty — and was married to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her. The Prophet took three handfuls, gave them to Umm Ayman, bidding a handful for perfume and the rest, as he thought, for the woman's furnishing. When the preparation was done and they were admitted to a house, he warned ʿAlī to do nothing toward his wife until he came. The Messenger came to find Fāṭimah veiled, ʿAlī seated, and Umm Ayman in the house. He called for a cup of water, drank, spat into it, gave Fāṭimah to drink, struck her forehead, between her shoulders and her breast therefrom, then gave ʿAlī to drink and struck his forehead and between his shoulders likewise, then supplicated to remove impurity from his household and purify them. He left with Umm Ayman, committing his wife to him. > **"Until the decree descends. Do so. Gather what you can and bring it to me. Make a handful thereof into perfume. O ʿAlī, do nothing toward your wife until I come to you. O Umm Ayman, bring me a cup of water. O ʿAlī, drink. My household — remove impurity from them and purify them thoroughly. O ʿAlī, your wife"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ! کیا وجہ ہے آپ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ اس کی شادی نہیں کروائیں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر وہ آپ کے ساتھ نہیں کروائیں گے ، تو اور کس کے ساتھ کروائیں گے حالانکہ آپ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہیں اور اسلام میں سب سے زیادہ قدیم ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا : اے عائشہ ! جب تم نبی اکرم ﷺ کے مزاج کو خوش گوار دیکھو اور نبی اکرم ﷺ تمہارے پاس موجود ہوں تو ان کے سامنے یہ بات ذکر کرنا کہ میں نے فاطمہ کا ذکر کیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کا ذکر کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابھی ( اللہ کا ) فیصلہ آنے دو ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابا جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے وہ بات ذکر نہ کی ہوتی جو میں نے ذکر کی ہے ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہی تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور بولے : اے حفصہ جب نبی اکرم ﷺ تمہارے پاس آئیں ، تو تم نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کرنا اور فاطمہ کا ذکر کرنا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نازل نہیں ہوتا ، بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے ابان جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس حوالے سے کوئی چیز نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر نہ کی ہوتی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ آپ فاطمہ کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ میری شادی نہیں کروائیں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر وہ آپ کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، تو کس کے ساتھ کروائیں گے جبکہ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نبی اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریبی ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ۔ ان کا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات کرنے کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرح کوئی نہیں تھا ۔ ان کی نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس صرف میری حطمی زرہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس جو چیز بھی ہے تم اسے اکٹھا کرو اور اسے لے کر میرے پاس آؤ ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بارہ اوقیہ لیے کے آئے ، جو چار سو اسی درہم بنتے ہیں ۔ وہ اس رقم کو لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروا دی ، آپ نے اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا ، وہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دی اور فرمایا : ان میں سے ایک حصے کے ذریعے تم خوشبو لو ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ باقی کی رقم کے ذریعے عورت کے لئے جو ضروری ساز و سامان ہوتا ہے ، وہ لو ، جب وہ خاتون تمام سامان تیار کر کے فارغ ہو گئیں ، تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا دی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی بات اس وقت تک نہیں کرنی ، جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر اوڑھ کر بیٹھی ہوئی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی گھر میں موجود تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے پاس پانی کا پیالہ کے کر آؤ ! وہ ایک پیالہ لے کر آئیں ، جس میں پانی موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے کچھ پانی پیا ، پھر اس میں کلی کر دی ، پھر آپ نے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ، انہوں نے اسے پی لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی پر ، ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ، اور ان کے سینے پر چھڑکا ، پھر آپ ﷺ نے وہ پانی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا اور فرمایا : اے علی ! تم پیو ! پھر آپ نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان چھڑکا اور پھر یہ فرمایا : یہ میرے اہل بیت ہیں ، ( اے اللہ ! ) تو ان سے گندگی کو دور کر دے ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ! پھر نبی اکرم ﷺ اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا تشریف لے گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے علی ! اپنی بیوی کے پاس چلے جاؤ ۔

15212

Majma al-Zawaid #15212

وَفِي رِوَايَةٍ: «قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another version it is reported that ʿAlī, may Allāh be pleased with him, proposed to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, to the Messenger of Allāh ﷺ, then the narrator mentioned the ḥadīth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے نبی اکرم ﷺ کو شادی کا پیغام دیا ...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15213

Majma al-Zawaid #15213

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتْ فَاطِمَةُ تُذْكَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَذْكُرُهَا أَحَدٌ إِلَّا صَدَّ عَنْهُ، حَتَّى يَئِسُوا مِنْهَا، فَلَقِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ عَلِيًّا، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْبِسُهَا إِلَّا عَلَيْكَ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: فَلِمَ تَرَى ذَلِكَ؟ [فَوَاللَّهِ] مَا أَنَا بِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: مَا أَنَا بِصَاحِبِ دُنْيَا يَلْتَمِسُ مَا عِنْدِي، وَقَدْ عَلِمَ مَا لِي صَفْرَاءُ وَلَا بَيْضَاءُ، وَمَا أَنَا بِالْكَافِرِ الَّذِي يَتَرَفَّقُ بِهَا عَنْ دِينِهِ! - يَعْنِي يَتَأَلَّفُهُ بِهَا - إِنِّي لَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ! فَقَالَ سَعْدٌ: إِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتُفَرِّجَنَّهَا عَنِّي ; فَإِنَّ لِي فِي ذَلِكَ فَرَجًا. قَالَ: أَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: تَقُولُ: جِئْتُ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. [قَالَ: فَانْطَلَقَ وَهُوَ ثَقِيلٌ حَصِرٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً يَا عَلِيُّ "" فَقَالَ: أَجَلْ جِئْتُكَ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَرْحَبًا "". كَلِمَةٌ ضَعِيفَةٌ. ثُمَّ رَجَعَ إِلَى سَعْدٍ، فَقَالَ لَهُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي بِهِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَيَّ أَنْ رَحَّبَ بِي كَلِمَةً ضَعِيفَةً. فَقَالَ سَعْدٌ: أَنْكَحَكَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، إِنَّهُ لَا خَلْفٌ، وَلَا كَذِبٌ عِنْدَهُ، أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّهُ غَدًا، فَلَتَقُولَنَّ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَتَى تُبْنِينِي؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذِهِ أَشُدُّ عَلَيَّ مِنَ الْأُولَى، أَوَّلًا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي؟ قَالَ: قُلْ كَمَا أَمَرْتُكَ، فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى تُبْنِينِي؟ قَالَ: "" اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". ثُمَّ دَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ ابْنَتِي ابْنَ عَمِّي، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ سُنَّةِ أُمَّتِي الطَّعَامُ عِنْدَ النِّكَاحِ، فَائِتِ الْغَنَمَ، فَخُذْ شَاةً وَأَرْبَعَةَ أَمْدَادٍ، وَاجْعَلْ لِي قَصْعَةً أَجْمَعُ عَلَيْهَا الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي "". فَانْطَلَقَ فَفَعَلَ مَا أَمَرَهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَطَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَأْسِهَا، وَقَالَ: "" أَدْخِلِ النَّاسَ عَلَيَّ زَفَّةً زَفَّةً، وَلَا يُغَادِرْنَ زَفَّةً إِلَى غَيْرِهَا "". - يَعْنِي إِذَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ فَلَا يَعُودُونَ ثَانِيَةً -. فَجَعَلَ النَّاسُ يَرِدُونَ، كُلَّمَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ وَرَدَتْ أُخْرَى، حَتَّى فَرَغَ النَّاسُ. ثُمَّ عَمَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَا فَضَلَ مِنْهَا، فَتَفَلَ فِيهِ وَبَارَكَ، وَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، احْمِلْهَا إِلَى أُمَّهَاتِكَ، وَقُلْ لَهُنَّ: كُلْنَ وَأَطْعِمْنَ مَنْ غَشِيَكُنَّ "". ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: "" إِنِّي زَوَّجْتُ بِنْتِي ابْنَ عَمِّي، وَقَدْ عَلِمْتُنَّ مَنْزِلَتَهَا مِنِّي، وَأَنَا دَافِعُهَا إِلَيْهِ فَدُونَكُنَّ "". فَقُمْنَ النِّسَاءُ فَغَلَّفْنَهَا مِنْ طِيبِهِنَّ، وَأَلْبَسْنَهَا مِنْ ثِيَابِهِنَّ، وَحَلَّيْنَهَا مِنْ حُلِيِّهِنَّ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ، فَلَمَّا رَأَيْنَهُ النِّسَاءُ ذَهَبْنَ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرٌ، وَتَخَلَّفَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَى رِسْلِكِ، مَنْ أَنْتِ؟ "". قَالَتْ: أَنَا الَّتِي أَحْرُسُ ابْنَتَكَ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ بِنَائِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ [تَكُونُ] قَرِيبَةٍ مِنْهَا، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَتْ أَمْرًا أَفْضَتْ بِذَلِكَ إِلَيْهَا. قَالَ: "" فَإِنِّي أَسَالُ إِلَهِي أَنْ يَحْرُسَكِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْكِ وَمِنْ خَلْفِكِ، وَعَنْ يَمِينِكِ وَعَنْ شِمَالِكِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "". ثُمَّ صَرَخَ بِفَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ، فَلَمَّا رَأَتْ عَلِيًّا جَالِسًا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[حَصَرَتْ] بَكَتْ، فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ بُكَاؤُهَا أَنَّ عَلِيًّا لَا مَالَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُبْكِيكِ؟ مَا أَلَوْتُكِ فِي نَفْسِي، وَقَدْ أَصَبْتُ لَكِ خَيْرَ أَهْلِي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ زَوَّجْتُكِ سَعِيدًا فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لِمَنِ الصَّالِحِينَ "". فَلَانَ مِنْهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَسْمَاءُ، ائْتِينِي بِالْمِخْضَبِ [فَامْلَئِيهِ مَاءً] "". فَأَتَتْ أَسْمَاءُ بِالْمِخْضَبِ، فَمَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ، وَمَسَحَ فِي وَجْهِهِ وَقَدَمَيْهِ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى رَأْسِهَا، وَكَفًّا بَيْنَ ثَدْيَيْهَا، ثُمَّ رَشَّ جِلْدَهُ وَجِلْدَهَا، ثُمَّ الْتَزَمَهَا، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّهَا مِنِّي وَإِنِّي مِنْهَا، اللَّهُمَّ كَمَا أَذْهَبْتَ عَنِّي الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَنِي فَطَهِّرْهُمَا "". ثُمَّ دَعَا بِمِخْضَبٍ آخَرَ، ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا، فَصَنَعَ بِهِ كَمَا صَنَعَ بِهَا، ثُمَّ دَعَا لَهُ كَمَا دَعَا لَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: "" قُومَا إِلَى بَيْتِكُمَا، جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَكُمَا [وَبَارَكَ] فِي سِرِّكُمَا، وَأَصْلَحَ بَالَكُمَا "". ثُمَّ قَامَ وَأَغْلَقَ عَلَيْهِمَا بَابَهُمَا بِيَدِهِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: فَأَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَهُمَا خَاصَّةً، لَا يُشْرِكُهُمَا فِي دُعَائِهِ أَحَدًا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجْرَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that Fāṭimah was mentioned to the Messenger of Allāh ﷺ but whomever mentioned her he turned from, until they despaired of her. Saʿd ibn Muʿādh met ʿAlī and swore he deemed the Messenger of Allāh ﷺ withheld her only for him. ʿAlī asked why he thought so, protesting he was neither a man of worldly means sought for what he had — having neither gold nor silver — nor a disbeliever softened toward his religion, but the first to submit. Saʿd adjured him to relieve him therein, for his relief lay in it, instructing him to declare he came suing to Allāh and His Messenger for Fāṭimah bint Muḥammad ﷺ. ʿAlī set out burdened and reticent, and the Prophet ﷺ asked whether he had a need, O ʿAlī. When he declared he came suing to Allāh and His Messenger for Fāṭimah bint Muḥammad, the Prophet ﷺ answered welcome — a faint word. Returning to Saʿd complaining he had only been welcomed with a faint word, Saʿd swore by Him Who sent him with truth that he had married him, for there was no breaking or lying with him, and adjured him to return morrow asking when he would house him. ʿAlī deemed this harder than the first, but as commanded asked when he would house him, and was answered that night if Allāh willed. He summoned Bilāl, declaring he had married his daughter to his cousin and loved that food at marriage be his community's practice, bidding him take a sheep and four mudds and make a bowl gathering the Emigrants and Helpers, then inform him. Bilāl did so and brought the bowl before him; the Messenger of Allāh ﷺ pierced its top, bade men enter in troops without any troop returning, and they came successively till all had done. From the remainder he spat, blessed, and bade Bilāl carry it to his mothers bidding them eat and feed visitors. Then he entered upon the women declaring he had married his daughter to his cousin whose station they knew, and committed her to them. The women perfumed, dressed and adorned her from their own. When the Prophet ﷺ entered the women left behind a curtain, save Asmāʾ bint ʿUmays, may Allāh be pleased with her, who explained she guarded his daughter, for a bride on her wedding night needs a woman near for any need. He prayed Allāh guard her before, behind, right and left from the accursed Satan. Then he called Fāṭimah, who came weeping upon seeing ʿAlī seated with the Prophet ﷺ. Fearing her tears were for his lack of wealth, he asked what made her weep, assuring he had not wronged her concerning himself but had secured the best of his family — swearing he had married her to one fortunate in this world and among the righteous in the next — and she softened. He called for a wash-basin filled with water, spat therein, wiped his face and feet, called Fāṭimah, dashed a handful upon her head and between her breasts, sprinkled their skins, embraced her and prayed that as Allāh had removed impurity from him and purified him so He purify them. With another basin he did the same with ʿAlī and supplicated likewise, then bade them rise to their house, praying Allāh gather them, bless their secret and set right their minds, closing their door with his hand. Ibn ʿAbbās added that Asmāʾ bint ʿUmays, may Allāh be pleased with her, told him she watched the Messenger of Allāh ﷺ never cease supplicating for them alone, associating none with them, till he disappeared into his chamber ﷺ. > **"As though you have a need, O ʿAlī. Welcome. When will you house me. Tonight if Allāh wills. O Bilāl, I have married my daughter to my cousin, and I love that food at marriage be my community's practice — take a sheep and four mudds, make a bowl for me gathering the Emigrants and Helpers, and when finished inform me. Admit the people to me troop by troop, and let no troop depart to another. O Bilāl, carry it to your mothers and tell them: Eat and feed whoever visits you. I have married my daughter to my cousin, and you know her station with me, and I commit her to you — so attend to her. Gently, who are you. I ask my God to guard you before you, behind you, to your right and to your left from the accursed Satan. What makes you weep — I have not wronged you concerning myself, and I have secured for you the best of my family; by Him in Whose Hand is my soul I have married you to one fortunate in this world, and in the next he is among the righteous. O Asmāʾ, bring me the wash-basin filled with water. O Allāh, she is from me and I am from her — O Allāh, as You removed impurity from me and purified me, purify them. Rise to your house — may Allāh gather you, bless your secret and set right your minds"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے لئے پیغام دیا جاتا تھا ، جس بھی شخص نے اس حوالے سے ذکر کیا نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ لوگ اس حوالے سے مایوس ہو گئے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم نبی اکرم ﷺ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اس خاتون کی شادی کرنا چاہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا آپ کی یہ رائے کس وجہ سے بنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں دو میں سے کسی بھی ایک طرح کا نہیں ہوں نہ تو میرے پاس دنیاوی ساز و سامان ہے جو ساز و سامان میرے پاس ہو ، اسے حاصل کرنے کی خواہش کی جائے ۔ نبی اکرم ﷺ یہ بات جانتے ہیں کہ میرے پاس نہ دینار ہیں نہ درہم ہیں اور نہ ہی میں وہ کافر شخص ہوں کہ جس کے دین کے حوالے سے نرمی کی جائے ، یعنی تالیف قلب کے لئے ایسا کیا جائے ، میں اسلام قبول کرنے والا پہلا فرد ہوں ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ یہ کام کریں کیونکہ میری یہ خواہش ہے کہ ایسا ہو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : میں کیا کہوں ؟ انہوں نے کہا : میں یہ کہیں کہ آپ اللہ اور اس کے رسول کے پاس فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام لے کے آیا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ان کو مشکل محسوس ہو رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : اے علی ! لگتا ہے تمہیں کوئی کام ہے ، انہوں نے عرض کی جی ہاں ، میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اللہ اور اس کے رسول کو فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام دوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خوش آمدید ! یہ ایک مبہم جملہ تھا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے مجھے جو کام کہا تھا وہ میں نے کر دیا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ نے جواب میں مجھے صرف خوش آمدید کہا ہے جو ایک مبہم جملہ ہے ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے نبی اکرم ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! نبی اکرم ﷺ تمہارے ساتھ شادی کروا دیں گے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے آج تک کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ ہی غلط بیانی کی ہے ، میں آپ کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ کل آپ نے پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس جانا ہے ، اور یہ کہنا ہے ، اے اللہ کے نبی آپ رخصتی کب کروائیں گے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، یہ والی بات میرے نزدیک پہلے والی بات سے بھی زیادہ مشکل تھی ، انہوں نے کہا : کیا میں یہ نہ کہوں کہ یا رسول اللہ میرے کام کا کیا بنا ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے وہی کہنا ہے جو میں نے آپ کو کہا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اگلے دن گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے ہاں رخصتی کب کروائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو آج رات کو ، پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے بلال ! میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد سے کر رہا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ میری امت کا طریقہ یہ ہو کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جائے ، تو تم بکریوں والے ہو ، تم بکری لو چار ، مد اناج لو اور میرے لئے ایک پیالے میں کھانا تیار کرو تاکہ میں مہاجرین اور انصار کو وہ کھانا کھلاؤں ، جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ چلے گئے ، انہوں نے وہ کام کیا جو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا ، پھر وہ اس پیالے کو لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کو رکھ دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے سرے پر ہاتھ لگایا اور پھر فرمایا : میرے پاس لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لے کر آتے رہو ، اور جب ایک گروہ ختم ہو جائے تو پھر دوسرا آ جائے ، کوئی دوسری مرتبہ نہ آئے ، تو لوگ آنے لگے ، جب ایک گروہ فارغ ہو جاتا ، تو دوسرا آ جاتا ، یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو گئے ، پھر جو کھانا بچا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کو لیا ، اس میں لعاب دہن ڈالا ، اس میں برکت کی دعا کی ، اور پھر فرمایا : اے بلال ! اسے اٹھا کر اپنی ماؤں کے پاس لے جاؤ اور ان سے یہ کہنا کہ اسے خود بھی کھاؤ اور جو تمہارے ہاں آئے اسے بھی کھلاؤ ۔ پھر نبی اکرم ﷺ اٹھے ، آپ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے آپ نے فرمایا : میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد کے ساتھ کر دی ہے ، اور تم یہ جانتی ہو کہ اس بیٹی کی میرے نزدیک کتنی حیثیت ہے ، اب میں اس کی رخصتی کروانے لگا ہوں تو تم نے بھی شامل ہونا ہے ، تو وہ خواتین اٹھیں ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خوشبو لگائی ، انہیں لباس پہنایا انہیں زیور پہنایا پھر نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لائے ، جب خواتین نے آپ کو دیکھا تو وہ چلی گئیں ، نبی اکرم ﷺ کے اور ان کے درمیان پردہ تھا ، صرف اسماء بنت عمیس رہ گئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا تم کون ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں وہ ہوں جو آپ کی صاحبزادی کی حفاظت کروں گی جب لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی عورت ہونی چاہیے جو اس کے قریب رہے تاکہ اگر اس لڑکی کو کوئی کام درپیش ہو یا کوئی چیز چاہیے ہو تو وہ چیز اسے پکڑا سکے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنے معبود سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارے آگے کی طرف سے تمہارے دائیں طرف سے تمہارے بائیں طرف سے مردود شیطان سے تمہاری بھی اسی طرح حفاظت کرے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکارا ، وہ آئیں جب انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے دیکھا تو وہ شرما گئیں اور رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ شاید اس وجہ سے رو رہی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو ، میں نے تمہارے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، میں نے تمہارے لئے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے بہتر فرد کو منتخب کیا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے تمہاری شادی اس شخص سے کی ہے جو دنیا میں سعادت مند ہے اور آخرت میں نیک لوگوں میں سے ایک ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کو تسلی دی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اسماء میرے پاس ایک برتن لے کے آؤ ، اسے پانی سے بھر دینا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ایک برتن لے کے آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں کلی کی پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ، آپ نے چلو میں پانی لے کر وہ ان کے سر پر ڈالا اور ان کے سینے پر ڈالا اور ان کی جلد پر ڈالا ، پھر انہیں نے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، پھر آپ نے یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں اس سے ہوں ، اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھ سے گندگی کو دور کیا ہے اور مجھے پاک کیا ہے ، تو ان دونوں کو بھی پاک کر دے ، پھر آپ نے پانی کا ایک اور برتن منگوایا پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا تھا ، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح دعا دی جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دعا دی تھی ، پھر آپ نے ان دونوں کو فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم دونوں کو ایک ساتھ رکھے ، تمہارے پوشیدہ معاملات میں برکت رکھے ، تمہارے کام ٹھیک کرے ، پھر نبی ﷺ اٹھے ، آپ نے ان دونوں کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کا بغور جائزہ لیتی رہیں ، نبی اکرم ﷺ اپنے حجرے میں داخل ہونے تک مسلسل بطور خاص ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے ، آپ نے اس دعا میں کسی اور کو ان دونوں کے ساتھ شریک نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

15214

Majma al-Zawaid #15214

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: عِنْدَكَ فَاطِمَةُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَسَلَّمَ عَلَيْهِ] فَقَالَ: "" مَا حَاجَةُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: "" مَرْحَبًا وَأَهْلًا "". لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا. فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى أُولَئِكَ الرَّهْطِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَنْتَظِرُونَهُ، فَقَالُوا: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لِي: "" مَرْحَبًا وَأَهْلًا "". قَالُوا: يَكْفِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَاهُمَا، أَعْطَاكَ الْأَهْلَ وَالْمَرْحَبَ. فَلَمَّا كَانَ بَعْدَمَا زَوَّجَهُ قَالَ: "" يَا عَلِيُّ، إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعَرُوسِ مِنْ وَلِيمَةٍ "". قَالَ سَعْدٌ: عِنْدِي كَبْشٌ، وَجَمَعَ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ أَصْوُعًا مِنْ ذُرَةٍ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبِنَاءِ قَالَ: "" لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَلْقَانِي "". فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ أَفْرَغَهُ عَلَيَّ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي بِنَائِهِمَا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: لَوْ خَطَبْتَ فَاطِمَةَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي شِيلَهِمَا» "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported that men of the Anṣār told ʿAlī, may Allāh be pleased with him, that Fāṭimah was available. He came to the Messenger of Allāh ﷺ, greeted him, and was asked what the son of Abū Ṭālib needed. When he mentioned Fāṭimah daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, he answered welcome and kin, adding naught. ʿAlī went out to the Anṣārī company awaiting him, and when they asked what followed, he answered he knew not save those two words. They assured him one of the two sufficed — he had been granted kin and welcome. After he married him, he told him a bride must have a feast. Saʿd offered a ram, and the Anṣār gathered ṣāʿs of grain. On the wedding night he warned him to do nothing till he met him. The Messenger of Allāh ﷺ called for water, performed ablution therefrom, poured it over him, and prayed for blessing in them and in their union. > **"What does the son of Abū Ṭālib need. Welcome and kin. O ʿAlī, a bride must have a feast. Do nothing till you meet me. O Allāh, bless them both, and bless them both in their union"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن ابوطالب کو کیا کام ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں فاطمہ بنت رسول اللہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خوش آمدید ہے ، آپ نے مزید کچھ نہیں فرمایا ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے پاس تشریف لے گئے جو ان کا انتظار کر رہے تھے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ سمجھ نہیں آئی ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے صرف یہی فرمایا کہ خوش آمدید ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول کے لئے دو الفاظ میں سے ایک ہی استعمال کر لینا آپ کے لئے کافی تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے تو آپ کے لئے دو الفاظ استعمال کیے ہیں ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! شادی کے لئے ولیمہ ضروری ہے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے پاس ایک دنبہ ہے ، پھر انصار نے ان کے لئے اناج کے کچھ صاع جمع کیے ، جب رخصتی کی رات آئی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم نے کوئی بات نہیں کرنی جب تک تم مجھ سے نہیں مل لیتے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا ، اس سے وضو کیا پھر آپ نے وہ پانی مجھ پر ڈالا ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! ان دونوں میں برکت رکھ دے اور ان دونوں کی شادی میں ان دونوں کے لئے برکت رکھ دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیں تو یہ مناسب ہو گا ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں :” اے اللہ ! ان دونوں میں اور ان دونوں کے لئے ان کے ملاپ میں برکت رکھ دے ! ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالکریم بن سلیط کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15215

Majma al-Zawaid #15215

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: حَضَرْنَا عُرْسَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا كَانَ أَحْسَنَ مِنْهُ ; حَشَوْنَا الْفِرَاشَ - يَعْنِي اللِّيفَ - وَأَتَيْنَا بِتَمْرٍ وَزَبِيبٍ فَأَكَلْنَا، وَكَانَ فِرَاشُهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا إِهَابَ كَبْشٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that they attended the wedding of ʿAlī, may Allāh be pleased with him, and Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, and never saw a finer wedding. They stuffed the mattress — meaning fibre — brought dates and raisins and ate, and her bed on her wedding night was a ram's hide.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں شریک ہوئے تھے ، ہم نے اس سے زیادہ اچھی شادی کوئی نہیں دیکھی ، ہم نے گدے کو پتوں سے بھر دیا تھا اور ہم کھجوریں اور کشمش لے کے آئے تھے ، ہم نے وہ کھائیں تھیں اور شادی کی رات ان کا بچھونا دنبے کی کھال تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15216

Majma al-Zawaid #15216

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا رَمْلًا مَبْسُوطًا، وَوِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، وَجَرَّةً، وَكُوزًا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: [إِلَى عَلِيٍّ] "" لَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا - أَوْ قَالَ: لَا تَقْرَبَنَّ أَهْلَكَ - حَتَّى آتِيَكَ "". فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَثَمَّ أَخِي؟ "". فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ - وَهِيَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَتْ حَبَشِيَّةً، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَالِحَةً -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخُوكَ وَزَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، وَآخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَنَفْسِهِ. قَالَ: "" إِنَّ ذَلِكَ يَكُونُ يَا أُمَّ أَيْمَنَ "". قَالَتْ: فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَ عَلِيٍّ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ تَعْثُرُ فِي مِرْطِهَا مِنَ الْحَيَاءِ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ لَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: "" أَمَا إِنِّي لَمْ آلُكِ أَنْ أَنَكَحْتَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ "". ثُمَّ رَأَى سَوَادًا مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ - أَوْ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ - فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "". قَالَتْ: أَسْمَاءُ، قَالَ: "" أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" جِئْتُ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[مَعَ ابْنَتِهِ]؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ يُبْنَى بِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ تَكُونُ قَرِيبًا مِنْهَا، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَفْضَتْ ذَلِكَ إِلَيْهَا. قَالَتْ: فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ إِنَّهُ لَأَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي. ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: "" دُونَكَ أَهْلَكَ "". ثُمَّ خَرَجَ فَوَلَّى، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجَرِهِ».

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint ʿUmays, may Allāh be pleased with her, reported that when Fāṭimah was conducted to ʿAlī ibn Abī Ṭālib, they found in his house naught but spread sand, a pillow stuffed with fibre, a jar and a cup. The Messenger of Allāh ﷺ sent to ʿAlī warning him to do nothing — or not to approach his wife — until he came. The Prophet ﷺ came asking whether his brother was there. Umm Ayman — mother of Usāmah ibn Zayd, an Abyssinian, a righteous woman — exclaimed whether this brother to whom he had married his daughter. The Prophet ﷺ had made brotherhood among his Companions, and between ʿAlī and himself, and answered that it would indeed be so, O Umm Ayman. He called for a vessel of water, said what Allāh willed, wiped the breast and face of ʿAlī, then called Fāṭimah, who rose stumbling in her wrap from shyness. He sprinkled her therefrom, said what Allāh willed, then assured her he had not stinted her but married her to the most beloved of his family to him. Seeing a shape beyond the curtain — or door — he asked who it was. She answered Asmāʾ, and upon confirming Asmāʾ bint ʿUmays, asked whether she came honouring the Messenger of Allāh ﷺ with his daughter. She affirmed that a bride on her wedding night needs a woman near for any need to confide. He supplicated for her — her most trusted deed — then committed his wife to ʿAlī, left, and never ceased supplicating for them till he disappeared into his chamber. > **"Do nothing till I come to you — do not approach your wife till I come to you. Is my brother here. It will indeed be so, O Umm Ayman. Who is this. Asmāʾ bint ʿUmays. Did you come honouring the Messenger of Allāh ﷺ with his daughter. I have not stinted you but married you to the most beloved of my family to me. Your wife is yours"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کروائی گئی تو ہمیں گھر میں صرف ریت بچھانے کے لئے ملی اور ایک تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مٹکا تھا اور ایک پیالہ تھا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم نے اس وقت تک کچھ نہیں کرنا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم نے اپنی بیوی کے قریب نہیں جانا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ، انہوں نے کہا : وہ ایک حبشی خاتون تھی اور ایک نیک خاتون تھیں ، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ ان کی شادی کر دی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، آپ نے فرمایا : اے ام ایمن ! ایسا ہو جاتا ہے ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا ، پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ اٹھ کر آپ کے پاس آئیں ، وہ شرم کی وجہ سے اپنی چادر میں دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان پر بھی پانی چھڑکا اور جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر آپ نے ان سے فرمایا : میں نے تمہارے بارے میں ، اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں نے تمہاری شادی اپنے خاندان میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کے ساتھ کی ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے پردے کے پیچھے کسی کو ملاحظہ کیا تو دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اسماء ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اسماء بنت عمیس ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہاں اس لئے آئی ہو تاکہ اللہ کے رسول کی صاحبزادی کے ساتھ رہو ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور اس کی رخصتی ہوتی ہے ، تو اس کے ساتھ کوئی عورت اس کے قریب ہونی چاہیے تاکہ اسے کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ اس کو پورا کر سکے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے دعا دی ، جو میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی بیوی کو ساتھ لو ، پھر آپ تشریف لے گئے اور مسلسل ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ۔

15217

Majma al-Zawaid #15217

وَفِي رِوَايَةٍ: «عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَيْضًا قَالَتْ: كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحَتْ جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَفَتَحَتْ لَهُ الْبَابَ، فَقَالَ لَهَا: "" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي أَخِي "". فَقَالَتْ: أَخُوكَ هُوَ -[أَيْ كَلِمَةٌ يَمَانِيَّةٌ]- وَتُنْكِحُهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: "" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي "". فَسَمِعَ النِّسَاءُ صَوْتَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَشْحَشْنَ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: "" ادْعُوا لِي فَاطِمَةَ "". فَجَاءَتْ وَهِيَ عَرِقَةٌ، أَوْ حِزِقَةٌ مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ: "" اسْكُتِي ; فَقَدَ أَنَكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ» "". فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another version from Asmāʾ bint ʿUmays also, she reported that she attended the wedding of Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ. Next morning the Prophet ﷺ came, knocked at the door, and Umm Ayman rose and opened it. He bade her call his brother, and she answered in Yemeni idiom whether this brother to whom he married his daughter. He repeated his call, the women heard his voice and withdrew, and he sat apart. Then ʿAlī, may Allāh be pleased with him, came; he supplicated for him, sprinkled water upon him, then called for Fāṭimah. She came sweating — or constrained — from shyness, and he bade her be still, for he had married her to the most beloved of his household to him, then the like was mentioned. > **"O Umm Ayman, call my brother for me. O Umm Ayman, call him for me. Call Fāṭimah for me. Be still — I have married you to the most beloved of my household to me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے دروازے پر دستک دی ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا اٹھ کر آپ کے پاس گئیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے دروازہ کھولا ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، انہوں نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام ایمن ! اسے میرے پاس بلا کے لاؤ ، خواتین نے نبی اکرم ﷺ کی آواز سن لی ، وہ ایک طرف ہو گئیں ، نبی اکرم ﷺ ایک کونے میں تشریف فرما ہوئے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا پھر آپ نے ان پر پانی چھڑکا ، پھر فرمایا : میرے پاس فاطمہ کو بلا کے لاؤ ، جب وہ آئیں تو وہ شرم کی وجہ سے دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ، میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے جو میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15218

Majma al-Zawaid #15218

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «لَمَّا جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ إِلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ - قَالَ عَطَاءٌ: مَا الْخَمِيلُ؟ قَالَ: قَطِيفَةٌ - وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذْخِرٍ، وَقِرْبَةٍ. كَانَا يَتَفَرَّشَانِ الْخَمِيلَ، وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them both, reported that when the Messenger of Allāh ﷺ prepared Fāṭimah for ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, he sent with her a khamīl — ʿAṭāʾ asked what a khamīl was and was told a qaṭīfah — a leather pillow stuffed with fibre, idhkhir grass and a waterskin. They would spread the khamīl and cover with half of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی تو ان کے ہمراہ ایک خمیل بھیجا ۔ عطا کہتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : خمیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : چادر اور ایک چمڑے سے بنا ہوا تکیہ بھیجا جس کے اندر پتے اور اذخر بھرا ہوا تھا اور ایک مشکیزہ بھیجا ، انہوں نے چادر کو نیچے بچھا لیا اور اس کا نصف حصہ اپنے اوپر اوڑھ لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

15219

Majma al-Zawaid #15219

«وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوَّجَ ابْنَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَجِيئَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ». قُلْتُ: رَوَى هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أُمِّ أَيْمَنَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَا يُنَاسِبُهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Umm Ayman, may Allāh be pleased with her, reported that the Prophet ﷺ married his daughter to ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with them both, and commanded him not to enter upon his wife until he came. The Messenger of Allāh ﷺ then came and the ḥadīth was mentioned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کی اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب تک نبی اکرم ﷺ ان کے پاس نہیں آ جاتے وہ اپنی بیوی کے پاس نہ جائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کی گئی ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو ذکر کرنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15220

Majma al-Zawaid #15220

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَى قَالَتْ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهَا، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْنَاهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ، قَالَتْ: وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّهْ، اسْكُبِي لِي غُسْلًا، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ أَعْطِينِي ثِيَابِيَ الْجُدُدَ، فَأَعْطَيْتُهَا فَلَبِسَتْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ، فَفَعَلْتُ، وَاضْطَجَعَتْ، وَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ، وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ وَقَدْ تَطَهَّرْتُ، فَلَا يَكْشِفْنِي أَحَدٌ. فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا، قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salmā reported that Fāṭimah, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, fell ill with the illness in which she was taken, and she nursed her. One morning she appeared better than ever seen in that illness, while ʿAlī had left for some need. She asked her mother — meaning Umm Salmā — to pour her washing water, so she poured it and she washed as finely as ever seen. She then asked for her new clothes, put them on, asked to have her bed laid mid-house, lay down facing the qiblah with her hand beneath her cheek, and declared she was now to be taken, purified, and none should uncover her. She was taken in her place, and when ʿAlī came she informed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب اس بیماری میں مبتلا ہوئیں جس میں ان کا انتقال ہوا تھا ، تو میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی ایک دن میں نے انہیں اچھی حالت میں دیکھا ، جب سے وہ بیمار ہوئی تھیں ، میں نے انہیں اس طرح کی حالت میں نہیں دیکھا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم میرے لئے غسل کے لئے پانی تیار کرو ، میں نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی تیار کیا ، تو انہوں نے اچھی طرح غسل کیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم مجھے نئے کپڑے دو ، انہوں نے انہیں نئے کپڑے دیے ، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پہن لئے ، پھر انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے گھر کے درمیان میں میرا بستر بچھا دو ، میں نے ایسا ہی کیا ، وہ لیٹ گئیں ۔ انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھا اور پھر یہ کہا اب میرا انتقال ہونے لگا ہے ، میں نے طہارت حاصل کر لی ہے اب کوئی خاتون میرا کپڑا نہ ہٹائے ، پھر اسی جگہ پر ان کا انتقال ہوا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15221

Majma al-Zawaid #15221

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ: أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - لَمَّا حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ أَمَرَتْ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَوَضَعَ لَهَا غُسْلًا، فَاغْتَسَلَتْ وَتَطَهَّرَتْ، وَدَعَتْ بِثِيَابِ أَكْفَانِهَا، فَأُتِيَتْ بِثِيَابٍ غِلَاظٍ خُشْنٍ وَلَبِسَتْهَا، وَمَسَّتْ مِنْ حَنُوطٍ، ثُمَّ أَمَرَتْ عَلِيًّا أَنْ لَا تُكْشَفَ إِذَا قُبِضَتْ، وَأَنْ تُدْرَجَ كَمَا هِيَ فِي ثِيَابِهَا، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَكَتَبَ فِي أَطْرَافِ أَكْفَانِهِ: يَشْهَدُ كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ: أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ فَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Muḥammad ibn ʿAqīl reported that when death came to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, she ordered ʿAlī, may Allāh be pleased with him, who laid her washing water. She washed, purified herself, called for her shrouds, was brought coarse rough garments which she wore, touched ḥanūṭ, then ordered ʿAlī that she not be uncovered when taken but wrapped as she was in her clothes. Asked whether he knew any who did so, he named Kathīr ibn al-ʿAbbās, upon whose shroud edges was written that Kathīr ibn al-ʿAbbās testifies there is no god but Allāh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی رکھا ، انہوں نے غسل کیا اور طہارت حاصل کی پھر انہوں نے کفن کے کپڑے منگوائے ، ان کے پاس موٹے کپڑے لائے گئے م وہ انہوں نے پہن لئے ، انہوں نے اس پر حنوط لگائی پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جب ان کا انتقال ہو جائے تو ان کا کپڑا نہ ہٹایا جائے اور انہیں اسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا ، کیا آپ کو کسی کے بارے میں علم ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو ؟ تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ، کثیر بن عباس نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر یہ لکھوایا تھا کہ کثیر بن عباس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا تو سند منقطع ہے ۔

15222

Majma al-Zawaid #15222

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقٍ قَالَ: تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ، وَكَانَ مَوْلِدُهَا وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعِ سِنِينَ وَسِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَأَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ بَعْدَ مَبْعَثِهِ، ثُمَّ هَاجَرَ فَأَقَامَ عَشْرًا، ثُمَّ عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَتُوُفِّيَتْ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ [مِنَ الْهِجْرَةِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq stated that Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, died at twenty-eight, born when Quraysh built the Kaʿbah seven years and six months before the Prophet's ﷺ mission. The Prophet ﷺ remained ten years in Mecca after his mission, then emigrated and remained ten, then Fāṭimah lived six months after him and died in the year eleven of the hijrah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اٹھائیس سال کی عمر میں ہوا تھا جب وہ پیدا ہوئیں تھیں اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے یہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے سات سال چھ ماہ پہلے کی بات ہے ، نبی اکرم ﷺ پر اپنی بعثت کے بعد دس سال مکہ میں مقیم رہے پھر آپ نے ہجرت کی اور آپ دس سال ( مدینہ منورہ میں ) مقیم رہے ، آپ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں اور ان کا انتقال گیارہ ہجری میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15223

Majma al-Zawaid #15223

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī Shaybah stated that Fāṭimah, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, died at twenty-seven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ستائیس سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15224

Majma al-Zawaid #15224

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ لِي غَيْرُ وَاحِدٍ: كَانَتْ فَاطِمَةُ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُنَّ إِلَيْهِ. وَزَعَمَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ أَنَّ رُقَيَّةَ أَصْغَرَ مِنْ فَاطِمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj reported from more than one that Fāṭimah was the youngest child of the Messenger of Allāh ﷺ and the most beloved of them to him, though al-Zubayr ibn Bakkār held Ruqayyah younger than Fāṭimah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں : ایک سے زیادہ افراد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی اولاد میں سب سے کمسن تھیں اور نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔ زبیر بن بکار کا یہ کہنا ہے : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کمسن تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15225

Majma al-Zawaid #15225

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ "" فُسْتُقَةَ "" قَالَ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُكَنَّى: أُمُّ أَبِيهَا. قَالَ: كَانَتْ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةِ. وَقِيلَ: كَانَتْ تَوْأَمَ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فِي الطَّبَرَانِيِّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī ibn al-Madīnī, called Fustuqah, stated that Fāṭimah, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, was kunyed Umm Abīhā, the youngest child of the Messenger of Allāh ﷺ by Khadījah; and it was said she was the twin of ʿAbdullāh, son of the Messenger of Allāh ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن علی مدینی فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کنیت وہی تھی جو ان کے والد کی والدہ کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ کی اولاد میں سب سے کمسن تھی ، ایک قول یہ ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعد پیدا ہوئی تھیں ۔ طبرانی کی روایت سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

15226

Majma al-Zawaid #15226

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَدَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, reported that Fāṭimah died six months after the Messenger of Allāh ﷺ, and ʿAlī ibn Abī Ṭālib buried her by night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا ۔ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15227

Majma al-Zawaid #15227

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ - قَالَ: مَكَثَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، وَمَا رُئِيَتْ ضَاحِكَةً بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَّهُمْ قَدِ امْتَرَوْا فِي طَرَفِ نَابِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Jaʿfar — meaning Muḥammad ibn ʿAlī — stated that Fāṭimah remained three months after the Prophet ﷺ and was never seen laughing after the Messenger of Allāh ﷺ save that they glimpsed the edge of her eyetooth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوجعفر یعنی امام محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد تین ماہ زندہ رہی تھیں نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد انہیں کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، البتہ لوگوں کو ان کے اطراف کے دانتوں کے بارے میں شک ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ امام باقر نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15228

Majma al-Zawaid #15228

وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَمْعِ، غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ حَتَّى تَمُرَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَتَمُرُّ وَعَلَيْهَا رَيْطَتَانِ خَضْرَاوَانِ [أَوْ حَمْرَاوَانِ]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that on the Day of Resurrection it will be called: O people of the gathering, lower your gazes until Fāṭimah bint Muḥammad ﷺ passes — and she will pass wearing two green — or red — wraps. > **"O people of the gathering, lower your gazes until Fāṭimah bint Muḥammad passes"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا ، تو یہ کہا جائے گا : اے اہل محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو جب تک فاطمہ بنت محمد نہیں گزر جاتیں ، جب فاطمہ گزریں گی تو ان کے جسم پر دو سبز رنگ کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) دو سرخ رنگ کی چادریں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بحر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15229

Majma al-Zawaid #15229

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ لِي غَيْرُ وَاحِدٍ: كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْبَرَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj reported from more than one that Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, was the eldest of his daughters.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں : ایک سے زیادہ افراد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15230

Majma al-Zawaid #15230

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ، ثُمَّ زَيْنَبُ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا وَأُمَامَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي غَاضِرَ، فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَوْهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ، وَأَيُّمَا كَافِرٌ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ» "". قَالَ الزُّبَيْرُ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ قَالَ: تُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ابْنُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ، «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that al-Qāsim was born to the Messenger of Allāh ﷺ, his eldest child, then Zaynab. Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, was with Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ ibn ʿAbd Shams and bore him ʿAlī and Umāmah. ʿAlī was nursed among Banī Ghāḍir, and the Messenger of Allāh ﷺ weaned him away while his father was then a polytheist. The Messenger of Allāh ﷺ declared that whoever shared with him in aught, he had most right to it, and whatever disbeliever shared with a Muslim in aught, the Muslim had most right to it than he. Al-Zubayr added from ʿUmar ibn Abī Bakr al-Muʾammalī that ʿAlī ibn Abī al-ʿĀṣ, son of the Prophet's ﷺ daughter, died near puberty, and that the Messenger of Allāh ﷺ had mounted him behind him upon his mount on the day of the Conquest. > **"Whoever shares with me in aught, I have most right to it, and whatever disbeliever shares with a Muslim in aught, he has most right to it than he"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی اولاد میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبدشمس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے علی اور صاحبزادی امامہ کو جنم دیا تھا ان کے صاحبزادے بنو غاضر میں دودھ پیتے بچے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کا دودھ چھڑوا لیا تھا ان صاحبزادے کے والد ( یعنی حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ) اس وقت مشرک تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی بھی چیز میں میرا شراکت دار ہو تو میں اس چیز کا زیادہ حق دار ہوؤں گا اور جو کافر کسی چیز کے بارے میں کسی مسلمان کا شراکت دار ہو تو وہ مسلمان اس کافر سے زیادہ اس چیز کا حق دار ہو گا ۔‘‘ زبیر بیان کرتے ہیں : عمر بن ابوبکر مؤملی نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت علی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کے بھی صاحبزادے ہیں وہ قریب البلوغ تھے پھر ان کا انتقال ہوا فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عمر بن ابوبکر نامی راوی متروک ہے ۔

15231

Majma al-Zawaid #15231

وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ خَرَجَتِ ابْنَتُهُ زَيْنَبُ مِنْ مَكَّةَ مَعَ كِنَانَةَ - أَوِ ابْنِ كِنَانَةَ - فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَلَمْ يَزَلْ يَطْعَنُ بَعِيرَهَا بِرُمْحِهِ حَتَّى صَرَعَهَا، وَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَتَحَمَّلَتْ، وَاشْتَجَرَ فِيهَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو أُمَيَّةَ، فَقَالَ بَنُو أُمَيَّةَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ عَمِّهِمْ أَبِي الْعَاصِ، وَكَانَتْ عِنْدَ هِنْدَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَتْ تَقُولُ [لِهَا هِنْدُ]: هَذَا فِي سَبَبِ أَبِيكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: "" أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَجِيءَ بِزَيْنَبَ؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" فَخُذْ خَاتَمِي فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ "". فَانْطَلَقَ زَيْدٌ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَلَطَّفُ فَلَقِيَ رَاعِيًا، فَقَالَ: لِمَنْ تَرْعَى؟ فَقَالَ: لِأَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْغَنَمُ؟ فَقَالَ: لِزَيْنَبَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ مَعَهُ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ شَيْئًا تُعْطِيهَا إِيَّاهُ وَلَا تَذْكُرُهُ لِأَحَدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَعْطَاهُ الْخَاتَمَ، فَعَرَفَتْهُ، فَقَالَتْ: مَنْ أَعْطَاكَ هَذَا؟ قَالَ: رَجُلٌ، قَالَتْ: فَأَيْنَ تَرَكْتَهُ؟ قَالَ: بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَسَكَتَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ خَرَجَتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ لَهَا: ارْكَبِي بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَعِيرِهِ. قَالَتْ: لَا، وَلَكِنِ ارْكَبْ أَنْتَ بَيْنَ يَدَيَّ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ وَرَاءَهُ، حَتَّى أَتَتْ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" هِيَ خَيْرُ بَنَاتِي، أُصِيبَتْ فِيَّ "". فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُرْوَةَ، فَقَالَ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ تَنْتَقِصُ حَقَّ فَاطِمَةَ؟! فَقَالَ عُرْوَةُ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَأَنِّي أَنْتَقِصُ فَاطِمَةَ حَقًّا هُوَ لَهَا، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ إِنِّي لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بَعْضَهُ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, wife of the Prophet ﷺ, reported that when the Messenger of Allāh ﷺ arrived in Mecca, his daughter Zaynab left Mecca with Kinānah — or Ibn Kinānah — and they went seeking her. Habbār ibn al-Aswad overtook her and kept prodding her camel with his spear till she was thrown and miscarried, then she was carried on. Banū Hāshim and Banū Umayyah disputed concerning her, the latter claiming most right as she was under their cousin Abū al-ʿĀṣ and with Hind bint ʿUtbah, who would say this was on her father's account. The Messenger of Allāh ﷺ told Zayd ibn Ḥārithah to set out and fetch Zaynab, giving his ring to deliver to her. Zayd kept gentle until he met a shepherd pasturing for Abū al-ʿĀṣ with sheep belonging to Zaynab bint Muḥammad ﷺ. Walking awhile with him, he asked whether to give him something to deliver to her mentioning none, and upon his assent gave him the ring. She recognised it, asked who gave it, was told a man at such-and-such place, and fell silent till night, when she went out to him. When she reached him he bade her mount before him upon his camel, but she refused save he mount before her — so he mounted and she behind him till she arrived. The Messenger of Allāh ﷺ would say she was the best of his daughters, afflicted for his sake. When that reached ʿAlī ibn Ḥusayn, he went to ʿUrwah asking what talk reached him wherein he diminished Fāṭimah's right. ʿUrwah swore he would not love all between east and west to diminish a right of Fāṭimah's, and that thereafter he would never narrate it at all. > **"Will you not set out and fetch Zaynab. Take my ring and give it to her. Ride before me upon his camel — rather ride you before me. She is the best of my daughters, afflicted for my sake"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کنانہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن کنانہ کے ہمراہ مکہ سے نکلیں وہ لوگ ان کی تلاش میں پیچھے آئے ہبار بن اسود ان صاحبزادی تک پہنچ گیا اور وہ مسلسل ان کے اونٹ کو نیزہ مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اس اونٹ کو گرا دیا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کا خون بہنے لگا پھر انہیں سواری پر سوار کیا گیا ان کے بارے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان اختلاف ہو گیا بنو امیہ کا یہ کہنا تھا کہ ہم اس خاتون کے زیادہ حق دار ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خاتون بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ خاتون ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہیں ہند نے اس خاتون سے کہا یہ سب تمہارے والد کی وجہ سے ہوا ہے نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم جا کر زینب رضی اللہ عنہا کو لے نہیں آتے ؟ انہوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ انگوٹھی لو اور یہ انگوٹھی اسے دے دینا حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے گئے ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کس کے جانور چراتے ہو اس نے جواب دیا : ابوالعاص کے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ بکریاں کس کی ہیں ، اس نے جواب دیا : زینب بنت محمد کی ، حضرت زید رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ کچھ دیر چلتے رہے پھر انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں کوئی چیز دوں تو وہ تم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دو گے تم اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس چرواہے کو وہ انگوٹھی دے دی وہ چرواہا گیا اس نے بکریاں اندر داخل کیں اور وہ انگوٹھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دی ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے وہ انگوٹھی پہچان لی تو انہوں نے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے دی ہے ، اس چرواہے نے بتایا : ایک شخص نے دی ہے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم نے اسے کہاں چھوڑا ہے ، اس نے بتایا فلاں فلاں جگہ پر ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں جب رات ہوئی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکل کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ آگے سوار ہوں تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : جی نہیں بلکہ تم آگے بیٹھو ، حضرت زید رضی اللہ عنہ سوار ہوئے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیچھے بیٹھ گئیں یہاں تک کہ وہ ( مدینہ منورہ ) آ گئیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ بیٹیوں میں سب سے بہتر ہے ، جسے میری وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس بات کی اطلاع امام زین العابدین کو ملی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور بولے وہ حدیث کیا ہے جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے کہ تم اسے بیان کرتے ہوئے اور تم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق کو کم کرنا چاہتے ہو ؟ عروہ نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان جو کچھ بھی موجود ہے وہ مجھے مل جائے اور اس کے بدلے میں ، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں سے کسی چیز میں کمی کروں ، تاہم آج کے بعد میں یہ حدیث کبھی بیان نہیں کروں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15232

Majma al-Zawaid #15232

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا أَنْ تَذْهَبَ إِلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا: أَنْ خُذِي لِي مِنْ أَبِيكِ أَمَانًا، فَأَطْلَعَتْ رَأْسَهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، فَقَالَتْ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَنَا زَيْنَبُ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَا عِلْمَ لِي بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُهُ الْآنَ، وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ, reported that Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, sought her husband Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ's permission when the Messenger of Allāh ﷺ emigrated to go to him, and he permitted her. She arrived to the Messenger of Allāh ﷺ, then Abū al-ʿĀṣ followed her to Madīnah and sent to her to take him aman from her father. She thrust her head from her chamber door while the Messenger of Allāh ﷺ prayed Fajr with the people and announced: O people, I am Zaynab, and I have granted Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ protection. When the Messenger of Allāh ﷺ finished prayer he declared he had known naught thereof till he heard it, and that the lowest of Muslims grants protection over them. > **"O people, I am Zaynab, and I have granted Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ protection. O people, I knew naught thereof till I heard it now — and the lowest of Muslims grants protection over the Muslims"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی ، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے تشریف لے جا چکے تھے ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ اجازت مانگی کہ وہ بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس چلی جائیں ، تو ان کے شوہر نے انہیں اجازت دے دی ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئیں پھر حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اس خاتون کے پاس آئے اور انہیں یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے والد سے میرے لئے امان حاصل کریں ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : اے لوگو ! میں زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا میں نے بھی ابھی یہ بات سنی ہے اور مسلمانوں کی طرف سے کوئی بھی شخص پناہ دے سکتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15233

Majma al-Zawaid #15233

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «كَانَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ خَتَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوْجَ ابْنَتِهِ، وَكَانَ أَبُو الْعَاصِ مِنْ رِجَالِ مَكَّةَ الْمَعْدُودِينَ مَالًا وَأَمَانَةً، وَكَانَ لِهَالَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ [وَكَانَتْ] خَدِيجَةُ خَالَتُهُ، فَسَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُزَوِّجَهُ زَيْنَبَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُخَالِفُهَا، وَكَانَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ تَعُدُّهُ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا، فَلَمَّا أَكْرَمَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنُّبُوَّةِ، وَآمَنَتْ بِهِ خَدِيجَةُ وَبَنَاتُهُ، وَصَدَّقْنَهُ وَشَهِدْنَ أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ هُوَ الْحَقُّ وَدِنَّ بِدِينِهِ، وَثَبَتَ أَبُو الْعَاصِ عَلَى شِرْكِهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ زَوَّجَ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ إِحْدَى ابْنَتَيْهِ: رُقَيَّةَ أَوْ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَلَمَّا بَادَئَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُرَيْشًا بِأَمْرِ اللَّهِ وَبَادَوْهُ، قَالَ: " إِنَّكُمْ قَدْ فَرَّغْتُمْ مُحَمَّدًا مِنْ هَمِّهِ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بَنَاتِهِ فَاشْغَلُوهُ بِهِنَّ ". فَمَشَوْا إِلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالُوا: فَارِقْ صَاحِبَتَكَ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ شِئْتَ. فَقَالَ: لَا هَاءَ اللَّهِ، إِذًا لَا أُفَارِقُ صَاحِبَتِي، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِامْرَأَتِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنِي عَلَيْهِ فِي صِهْرِهِ خَيْرًا - فِيمَا بَلَغَنِي -. فَمَشَوْا إِلَى الْفَاسِقِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَقَالُوا: طَلِّقِ امْرَأَتَكَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: إِنْ زَوَّجْتُمُونِي بِنْتَ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ [أَوْ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَارَقْتُهَا] فَزَوَّجَهُ بِنْتَ سَعِيدِ [بْنِ الْعَاصِ]. فَفَارَقَهَا، وَلَمْ يَكُنْ عَدُوُّ اللَّهِ دَخَلَ بِهَا، فَأَخْرَجَهَا اللَّهُ مِنْ يَدِهِ ; كَرَامَةً لَهَا وَهَوَانًا لَهُ، وَخَلَفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَلَيْهَا بَعْدَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَحِلُّ بِمَكَّةَ وَلَا يُحْرِمُ مَغْلُوبًا عَلَى أَمْرِهِ، وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ فَرَّقَ بَيْنَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا، فَأَقَامَتْ مَعَهُ عَلَى إِسْلَامِهَا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، حَتَّى هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهِيَ مُقِيمَةٌ مَعَهُ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا سَارَتْ قُرَيْشٌ إِلَى بَدْرٍ سَارَ مَعَهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ، فَأُصِيبَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥāq stated that among the captives on Badr day was Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ ibn ʿAbd al-ʿUzzā ibn ʿAbd Shams, son-in-law of the Messenger of Allāh ﷺ and husband of his daughter, among the counted men of Mecca in wealth and trust, bound to Hālah bint Khuwaylid, Khadījah being his maternal aunt. Khadījah had asked the Messenger of Allāh ﷺ to marry him to Zaynab, which he never opposed, before revelation, counting him as a son. When Allāh honoured His Prophet ﷺ with prophethood, Khadījah and his daughters believed, affirmed and testified his truth and followed his religion, while Abū al-ʿĀṣ remained upon polytheism. The Messenger of Allāh ﷺ had married one of his daughters — Ruqayyah or Umm Kulthūm — to ʿUtbah ibn Abī Lahab. When the Messenger of Allāh ﷺ openly confronted Quraysh with Allāh's command and they confronted him, they declared they had relieved Muḥammad of his care, so return his daughters and busy him with them. They went to Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ asking him to part his wife, wedding him to any woman he wished. He swore by Allāh he would not part his wife, nor love any Qurashī woman in her stead. The Messenger of Allāh ﷺ would praise him concerning kinship, as reached him. They went to the sinful ʿUtbah ibn Abī Lahab bidding him divorce Muḥammad's daughter, wedding him to any Qurashī woman; he agreed upon marriage to the daughter of Abān — or Saʿīd — ibn al-ʿĀṣ, so they wed him to the daughter of Saʿīd ibn al-ʿĀṣ and he parted her, the enemy of Allāh never having consummated with her, so Allāh removed her from his hand as honour to her and disgrace to him. ʿUthmān ibn ʿAffān succeeded him thereafter. The Messenger of Allāh ﷺ could neither permit nor forbid in Mecca, overpowered in his affair, and Islam had separated Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, from Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ, save the Messenger of Allāh ﷺ could not enforce separation. She remained with him upon her Islam while he remained upon polytheism until the Messenger of Allāh ﷺ emigrated to Madīnah with her resident in Mecca. When Quraysh marched to Badr, Abū al-ʿĀṣ marched with them and was struck among the captives on Badr day, held in Madīnah with the Messenger of Allāh ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے قیدیوں میں حضرت ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدشمس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو نبی اکرم ﷺ کے داماد تھے اور آپ کی صاحبزادی کے شوہر تھے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے گنے چنے افراد میں ہوتا تھا ، جو مال اور امانت کے اعتبار سے نمایاں حیثیت کے مالک تھے وہ سیدہ ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے یہ دریافت کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ان کے ساتھ کروا دیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اختلاف نہیں کیا تھا یہ نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان صاحبزادے کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھیں جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی صاحبزادیاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئیں اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تصدیق کر دی اور اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم ﷺ جو چیز لے کے آئے ہیں وہ حق ہے ، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا دین اختیار کیا تو ابوالعاص اپنے شرک پر ثابت قدم رہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا یا شاید ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عقبہ بن ابولہب کے ساتھ کی تھی جب اللہ تعالیٰ کے معاملے میں قریش اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان اختلافات ہوئے تو کسی نے کہا : تم لوگوں نے ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) کو پریشانی کے حوالے سے فارغ کیا ہوا ہے تم ان کی بیٹیوں کو واپس کر دو تاکہ وہ ان بیٹیوں میں مشغول ہو جائیں ، لوگ ابوالعاص بن ربیع کے پاس گئے اور ان سے کہا : تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرو ، ہم تمہاری شادی جس کے ساتھ تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے تو ان صاحب نے کہا : جی نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا ، میں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار نہیں کروں گا اگرچہ مجھے اپنی بیوی کے عوض میں قریش سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی عورت مل جائے ، نبی اکرم ﷺ اس حوالے سے ان کے داماد ہونے کے طور پر ان کی بھلائی کی تعریف کیا کرتے تھے ، لوگ فاسق عتبہ بن ابولہب کے پاس گئے اور یہ کہا کہ تم حضرت محمد کی صاحبزادی کو طلاق دے دو ہم تمہاری شادی قریش کی جس عورت سے تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے ، اس نے کہا : اگر تم لوگ میری شادی ابان بن سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو ۔ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ، سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو تو ٹھیک ہے ، پھر اس نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کی ، ان لوگوں نے اس کی شادی سعید بن العاص کی بیٹی سے کروا دی لیکن اللہ کا وہ دشمن اس عورت کی رخصتی نہیں کروا سکا اور اللہ تعالیٰ نے اسے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے جو عزت حاصل تھی اس سے بھی نکال دیا اور اسے رسوائی کا شکار کر دیا اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی نبی اکرم ﷺ ملکہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے ، اسلام نے نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، لیکن نبی اکرم ﷺ ابھی ان دونوں کو باقاعدہ علیحدگی نہیں کروا سکے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہی تھیں اور ان کے شوہر مشرک رہے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے شوہر کے پاس رہیں جب قریش بدر کی طرف گئے تو ان میں ابوالعاص بن ربیع بھی تھے بعد میں وہ بدر کے قیدیوں میں شامل ہوئے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آئے ۔

15234

Majma al-Zawaid #15234

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ: عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ [لَهَا] كَانَتْ خَدِيجَةُ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً، وَقَالَ: " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا مَالَهَا فَافْعَلُوا ". فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ عَلَيْهِ، وَوَعَدَهُ ذَلِكَ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ، إِذْ كَانَ فِيمَا شَرَطَ عَلَيْهِ فِي إِطْلَاقِهِ، وَلَمْ يَظْهَرْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ إِلَى مَكَّةَ وَخَلَّى سَبِيلَهُ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " كُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ، فَتَصْحَبَانِهَا، فَتَأْتِيَانِي بِهَا [فَخَرَجَا مَكَانَهُمَا وَذَلِكَ بَعْدَ بَدْرٍ بِشَهْرٍ أَوْ شِبْهِهِ] ". فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو الْعَاصِ مَكَّةَ أَمَرَهَا بِاللُّحُوقِ بِأَبِيهَا، فَخَرَجَتْ جَهْرَةً».

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥāq reported from Yaḥyā ibn ʿAbbād ibn ʿAbdullāh ibn al-Zubayr, from his father ʿAbbād, from ʿĀʾishah, wife of the Prophet ﷺ, that when the Meccans sent concerning ransom of their captives, Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, sent concerning ransom of Abū al-ʿĀṣ, sending therein a necklace of hers which Khadījah had brought her in with to Abū al-ʿĀṣ when he built with her. When the Messenger of Allāh ﷺ saw it he softened intensely and proposed that if they deemed fit they free her captive and return her wealth. They assented, freed him and returned her property. The Messenger of Allāh ﷺ had taken upon him his promise to free Zaynab's way to him, stipulated upon his release, undisclosed from him or the Messenger of Allāh ﷺ. When Abū al-ʿĀṣ left to Mecca released, the Messenger of Allāh ﷺ sent Zayd ibn Ḥārithah and an Anṣārī man bidding them halt at Baṭn Yaʾjaj till Zaynab passed, then accompany and bring her — setting out a month or so after Badr. When Abū al-ʿĀṣ reached Mecca he ordered her to join her father, and she left openly. > **"If you deem fit to free her captive and return her wealth, do so. Halt at Baṭn Yaʾjaj till Zaynab passes you, then accompany her and bring her to me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد عباد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھجوایا تو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کا فدیہ بھیجوایا انہوں نے اس فدیہ میں ایک ہار بھی بھجوایا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی رخصتی کے وقت انہیں دیا تھا جب نبی اکرم ﷺ نے وہ ہار ملاحظہ کیا تو آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو ، لوگوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! تو لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا مال واپس بھجوا دیا جو ان کا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے یہ عہد لیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم ﷺ کے پاس آنے دیں گے یہ شرط ان کو چھوڑنے کے وقت عائد کی گئی تھی لیکن یہ شرط نہ ان کی طرف سے ظاہر کی گئی نہ اللہ کے رسول کی طرف سے ظاہر کی گئی تاکہ لوگوں کو اس کا پتہ چلتا جب حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر مکہ گئے اور انہیں چھوڑ دیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں بطن یا جج کے مقام پر رہنا زینب تمہارے پاس سے گزرے گی تم دونوں اس کے ساتھ رہنا اور اسے لے کر آ جانا یہ دونوں حضرات نکل کر اس جگہ گئے یہ غزوہ بدر سے ایک ماہ بعد یا اس کے آس پاس کی بات ہے پھر حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ جب مکہ آئے تو انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے والد کے پاس چلی جائیں تو وہ کھلے عام وہاں سے نکلی تھیں ۔

15235

Majma al-Zawaid #15235

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: «حُدِّثْتُ عَنْ زَيْنَبَ أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَجَهَّزُ بِمَكَّةَ لِلُّحُوقِ بِأَبِي لَقِيَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ، فَقَالَتْ: يَا بِنْتَ عَمِّي، إِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةً بِمَتَاعٍ مِمَّا يَرْفُقُ بِكِ فِي سَفَرِكِ، أَوْ مَا تَبْلُغِينَ بِهِ إِلَى أَبِيكِ [فَإِنَّ عِنْدِي فِي حَاجَتِكِ]، فَلَا تَضْطَنِّي مِنْهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ بَيْنَ النِّسَاءِ مَا [يَدْخُلُ] بَيْنَ الرِّجَالِ. قَالَتْ: وَوَاللَّهِ مَا أَرَاهَا قَالَتْ ذَلِكَ إِلَّا لِتَفْعَلَ، وَلَكِنِّي خِفْتُهَا، فَأَنْكَرْتُ أَنْ أَكُونَ أُرِيدُ ذَلِكَ، فَتَجَهَّزْتُ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ جِهَازِي قَدَّمَ إِلَيَّ حَمَوَيَّ كِنَانَةُ بْنُ الرَّبِيعِ أَخُو زَوْجِي بَعِيرًا فَرَكِبْتُهُ، وَأَخَذَ قَوْسَهُ وَكِنَانَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا نَهَارًا يَقُودُ بِهَا، وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا، وَتَحَدَّثَتْ بِذَلِكَ رِجَالُ قُرَيْشٍ، فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَدْرَكُوهَا بِذِي طُوًى، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ الزُّهْرِيُّ، فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [بِقَيْنَةِ بَنِي أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي بِإِفْرِيقِيَّةَ] فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [بِالرُّمْحِ] وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا، وَكَانَتْ حَامِلًا - فِيمَا يَزْعُمُونَ - فَلَمَّا وَقَعَتْ أَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَنَزَلَ حَمُوهَا وَنَثَرَ كِنَانَتُهُ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَدْنُو مِنِّي رَجُلٌ إِلَّا وَضَعْتُ فِيهِ سَهْمًا، فَتَكَرْكَرَ النَّاسُ عَنْهُ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فِي جُلَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ، كُفَّ عَنَّا نَبْلَكَ حَتَّى نُكَلِّمَكَ، فَكَفَّ، وَأَقْبَلَ أَبُو سُفْيَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تُصِبْ، خَرَجْتَ بِامْرَأَةٍ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ نَهَارًا، وَقَدْ عَلِمْتَ مُصِيبَتَنَا وَنَكْبَتَنَا، وَمَا دَخَلَ عَلَيْنَا مِنْ مُحَمَّدٍ، فَيَظُنُّ النَّاسُ إِذَا خَرَجَتْ إِلَيْهِ ابْنَتُهُ عَلَانِيَةً مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانِينَا أَنَّ ذَلِكَ مِنْ ذُلٍّ أَصَابَنَا عَنْ مُصِيبَتِنَا الَّتِي كَانَتْ، وَأَنَّ ذَلِكَ مِنَّا ضَعْفٌ وَوَهْنٌ، وَإِنَّهُ لَعَمْرِي مَا لَنَا فِي حَبْسِهَا عَنْ أَبِيهَا حَاجَةً، وَلَكِنْ أَرْجِعِ الْمَرْأَةَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ الصَّوْتُ وَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّا قَدْ رَدَدْنَاهَا، فَسَلِّهَا سِرًّا وَأَلْحِقْهَا بِأَبِيهَا. قَالَ: فَفَعَلَ، وَأَقَامَتْ لَيَالِيَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ النَّاسُ، خَرَجَ بِهَا لَيْلًا فَأَسْلَمَهَا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَاحِبِهِ، فَقَدِمَا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ أَبُو الْعَاصِ بِمَكَّةَ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ فَرَّقَ الْإِسْلَامُ بَيْنَهُمَا، حَتَّى إِذَا كَانَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ، وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا بِأَمْوَالٍ لَهُ، وَأَمْوَالٍ لِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَضَعُوهَا مَعَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ تِجَارَتِهِ أَقْبَلَ قَافِلًا، فَلَقِيَتْهُ سَرِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابُوا مَا مَعَهُ، وَأَعْجَزَهُمْ هَارِبًا، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ بِمَا أَصَابُوا مِنْ مَالِهِ أَقْبَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَحْتَ اللَّيْلِ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَجَارَهَا فَأَجَارَتْهُ، وَجَاءَ فِي طَلَبِ مَالِهِ. فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ - كَمَا حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ - فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، خَرَجَتْ زَيْنَبُ مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ، وَقَالَتْ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ. فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَسْمِعْتُمْ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ كَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ، إِنَّهُ لَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ "". ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ، فَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَخْلُصُ إِلَيْكِ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ» "".

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥāq reported from ʿAbdullāh ibn Abī Bakr ibn Muḥammad ibn ʿAmr ibn Ḥazm that he was told Zaynab said that while she prepared in Mecca to join her father, Hind bint ʿUtbah met her offering any baggage easing her journey or reaching her father from her store, urging no restraint, for between women enters not what enters between men. Zaynab deemed her sincere but feared her and denied intending so, prepared, and when done her brother-in-law Kinānah ibn al-Rabīʿ, her husband's brother, brought a camel which she mounted, took his bow and quiver, and led her by day in her howdah. Quraysh talked thereof and went seeking till they overtook her at Dhū Ṭuwā, foremost Habbār ibn al-Aswad and Nāfiʿ ibn ʿAbd al-Qays al-Zuhrī. Habbār frightened her with a spear in her howdah — she being pregnant, as they claimed — till she fell and miscarried. Her brother-in-law alighted, scattered his arrows, and swore none should near him but he would plant an arrow in him. The people withdrew, and Abū Sufyān came with Qurashī elders bidding him withhold his arrows for speech. He withheld, and Abū Sufyān reproached him for leading a woman openly by day amid their calamity and setback from Muḥammad, lest folk deem their letting his daughter leave openly humiliation and weakness, though they had no need to withhold her from her father. He bade him return her till clamour calmed and folk said they had returned her, then slip her secretly to her father. He did so, she stayed nights, then when folk calmed he led her by night and delivered her to Zayd ibn Ḥārithah and his companion, who brought her to the Messenger of Allāh ﷺ. Abū al-ʿĀṣ remained in Mecca, Zaynab with the Messenger of Allāh ﷺ, Islam having separated them, until shortly before the Conquest, when Abū al-ʿĀṣ left trading to Sham, trusted with wealth of his own and wealth of Qurashī men entrusted with him. Finishing trade and returning, a detachment of the Messenger of Allāh ﷺ met him, seized what was with him, and he escaped them fleeing. When the detachment brought his wealth, Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ came by night, entered upon Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, sought her refuge and she granted it, come seeking his wealth. When the Messenger of Allāh ﷺ went out to Fajr — as Yazīd ibn Rūmān narrated — he takbīred and the people takbīred, and Zaynab came from the women's row announcing she had granted Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ refuge. When the Messenger of Allāh ﷺ gave salām he faced the people asking whether they had heard. They affirmed, and he swore by Him in Whose Hand is his soul he had known naught till he heard it — the lowest grants protection over Muslims. Then he withdrew to his daughter bidding her honour his stay but never let him be alone with her, for she was not lawful to him. > **"O people, have you heard. By Him in Whose Hand is my soul, I knew naught thereof till I heard it — the lowest of Muslims grants protection over them. O my daughter, honour his stay, but let him never be alone with you, for you are not lawful to him. O people, I am Zaynab, and I have granted Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ refuge"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے یہ بات بتائی ہے کہ مجھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے : وہ فرماتی ہیں : میں مکہ میں اپنے والد سے ملنے جانے کے لئے تیاری کر رہی تھی میری ملاقات ہند بنت عتبہ سے ہوئی اس نے کہا : اے میری چچا زاد اگر تمہیں سفر میں کسی سامان کی ضرورت ہو جس کے ذریعے تم اپنے والد تک پہنچ سکو تو تم مجھ سے اس بارے میں کوئی جھجک نہ کرنا کیونکہ خواتین کے درمیان آپس میں وہ اختلافات نہیں ہوتے جو مردوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہی خیال ہے کہ اس نے جو بات کہی تھی وہ اس نے پوری کرنی تھی لیکن مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ بھی تھا تو میں نے انکار کر دیا کہ میں ایسا کرنا چاہتی ہوں پھر میں نے سامان سفر تیار کیا جب میں تیاری کر کے فارغ ہو گئی تو میرا دیور کنانہ بن ربیع جو میرے شوہر کا بھائی ہے وہ میرے پاس اونٹ لے کے آیا میں اس پر سوار ہوئی اس نے کمان اور اپنے ترکش کو لیا پھر وہ مجھے لے کر دن کے وقت نکلا وہ اس جانور کو ہانک کر لے جا رہا تھا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنے ہودج میں موجود تھیں ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ ذی طوی کے مقام پر ان تک پہنچ گئے ان میں سے ہبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزی بن قصی اور نافع بن عبدالقیس زہری پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تک پہنچ گئے سیدہ زینب بیٹھنا کے اونٹ کو ہبار نے نیزے کے ذریعے ڈرایا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہودج میں سوار تھیں وہ حاملہ تھیں لوگوں کا یہ کہنا ہے جب وہ اس سے گریں تو ان کا حمل ضائع ہو گیا ان کا دیور سواری سے نیچے اترا ، اس نے ترکش میں تیر لگایا اور بولا : اللہ کی قسم جو بھی شخص قریب آنے کی کوشش کرے گا میں اسے تیر مار دوں گا ، لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے پھر ابوسفیان قریش کے اکابرین کے ہمراہ آیا اور بولا : اے شخص اپنے تیروں کو ہم سے روک لو ، ہم پہلے تمہارے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ، اس نے ہاتھ روک لیا ، ابوسفیان آگے آیا ، وہ بھی آگے آیا ، ابوسفیان نے کہا : تم نے ٹھیک نہیں کیا ، تم اس خاتون کو لوگوں کے سامنے دن دہاڑے لے کر جا رہے ہو ، تم ہماری مصیبت اور پریشانی سے بھی واقف ہو جو حضرت محمد ( ﷺ ) کی طرف سے ہم پر داخل ہوئی ہے جب تم ان کی صاحبزادی کو کھلے عام ہمارے درمیان سے لے کر ان کے پاس جاؤ گے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہمیں جو مصیبت لاحق تھی اس کی وجہ سے اس ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اور اس سے ہماری کمزوری ظاہر ہو گی مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں اس بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس خاتون کو اس کے والد کے پاس جانے سے روکیں ، لیکن تم اس خاتون کو واپس لے جاؤ ، جب آوازیں آنا بند ہو جائیں گی ( یعنی لوگ سو جائیں گے ) اور لوگ یہ بات چیت کریں گے کہ ہم اس خاتون کو واپس لے آئے تھے تو تم پوشیدہ طور پر اس خاتون کو لے جانا اور اس کے والد تک پہنچا دینا ، تو ان صاحب نے ایسا ہی کیا ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد جب لوگ پرسکون ہو گئے تو وہ اس خاتون کو رات کے وقت لے کے نکلے اور انہوں نے اس خاتون کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھی کے سپرد کیا ، پھر وہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے اس دوران حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم رہے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس رہیں ، اسلام نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، یہاں تک کہ فتح سے کچھ پہلے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ شام کی طرف تجارت کا سامان لے کے نکلے ان کے پاس لوگوں کے کچھ اموال بھی تھے ، جس کا انہیں امین بنایا گیا تھا اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے اموال تھے جو ان لوگوں نے حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو دیے تھے ، جب حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ تجارت کر کے فارغ ہوئے اور وہ واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ کی ایک جنگی مہم سے ان کا سامنا ہوا ، ان لوگوں نے ان کے پاس موجود سامان کو لے لیا ، جب وہ مہم حاصل کیے ہوئے مال کے ساتھ مدینہ منورہ آئی تو حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی رات کے وقت مدینہ منورہ آ گئے وہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پناہ لی ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی ، وہ صاحب اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے آئے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلے جیسا کہ یزید بن رمان نے یہ بات بیان کی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی ، اسی دوران سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خواتین کی صف سے باہر نکلیں اور بولیں : اے لوگو ! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز کے بعد سلام پھیرا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے لوگو ! کیا تم نے سنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! مجھے کسی چیز کا علم نہیں تھا ، یہاں تک کہ میں نے اب یہ بات سنی ہے ، مسلمانوں میں سے کوئی بھی فرد ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی اور آپ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا لیکن وہ تمہارے قریب نہ آنے پائے ، کیونکہ تم اس کے لئے حلال نہیں ہو ۔

15236

Majma al-Zawaid #15236

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى السَّرِيَّةِ الَّذِينَ أَصَابُوا مَالَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ: "" إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنَّا قَدْ عَلِمْتُمْ [وَقَدْ]، أَصَبْتُمْ لَهُ مَالًا، فَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَرُدُّوا عَلَيْهِ الَّذِي لَهُ؛ فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَهُوَ فَيْءُ اللَّهِ الَّذِي أَفَاءَهُ عَلَيْكُمْ ; فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرُدُّهُ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِي الرَّجُلُ بِالشَّنَّةِ وَالْإِدَاوَةِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَأْتِي بِالشِّظَاظِ، حَتَّى إِذَا رَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ بِأَسْرِهِ لَا يَفْقِدُ مِنْهُ شَيْئًا احْتَمَلَ إِلَى مَكَّةَ، فَرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي مَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَالَهُ مِمَّنْ كَانَ أَبْضَعَ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ عِنْدِي مَالٌ لَمْ يَأْخُذْهُ؟ قَالُوا: لَا، وَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ; فَقَدْ وَجَدْنَاكَ عَفِيفًا كَرِيمًا، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَاللَّهِ مَا مَنَعَنِي مِنَ الْإِسْلَامِ عِنْدَهُ إِلَّا تُخَوُّفُ أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ أَمْوَالَكُمْ، فَأَمَّا إِذْ أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكُمْ وَفَرَغْتُ مِنْهَا أَسْلَمْتُ. وَخَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥāq reported from ʿAbdullāh ibn Abī Bakr that the Messenger of Allāh ﷺ sent to the detachment that had seized the wealth of Abū al-ʿĀṣ ibn al-Rabīʿ that this man was of them as they knew, and they had seized wealth of his — if they did good and returned his property he would love it, and if they refused it was Allāh's fayʾ granted them and they had most right. They answered they would return it, and returned his wealth wholly, even a waterskin, a flask, even a cord, till naught was missing. He carried it to Mecca, repaid every Qurashī owner entrusted with him, asked whether aught remained with him, was thanked as chaste and noble, then testified there is no god but Allāh and Muḥammad is His servant and Messenger — swearing naught had barred his Islam with him but fear they would deem he meant to devour their wealth; now Allāh had delivered it and he submitted. He left till he arrived to the Messenger of Allāh ﷺ. > **"This man is of us as you know, and you have seized wealth of his — if you do good and return his property, we love it; and if you refuse, it is Allāh's fayʾ He granted you, and you have most right to it"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم بھیجی جس نے حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا مال حاصل کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ شخص ہم میں سے ہے ، تم یہ بات جانتے ہو ، تم نے اس کا مال حاصل کیا ہے ، اگر تم اچھائی کرو اور اس کا مال اسے دے دو تو ہمیں یہ بات پسند ہو گی اور اگر تم یہ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کا یہ مال فے ہو گا جو اس نے تمہیں فے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور تم لوگ اس کے زیادہ حق دار ہو گے ، لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم اسے واپس کر دیتے ہیں ، تو لوگوں نے ان کا مال انہیں واپس کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص پرانا مشکیزہ لے کے آیا ، کوئی برتن لے کے آیا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص تو ’’ شظاظ ‘‘ ( نامی لکڑی ) بھی لے آیا یہاں تک کہ انہوں نے ان کا پورا مال انہیں واپس کر دیا ، اس میں کوئی بھی چیز کم نہیں تھی ، وہ اس سارے مال کو اٹھا کے مکہ گئے اور قریش سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا مال اسے واپس کیا ، جس نے بھی انہیں سامان دیا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : اے قریش کے گروہ ! کیا تم میں سے کسی ایک کا میرے پاس کچھ مال باقی رہ گیا ہے جو اس نے وصول نہ کیا ہو ؟ لوگوں نے کہا : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، ہم نے آپ کو پاک دامن اور معزز شخص پایا ہے ، تو حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، حضرت محمد ﷺ کے پاس اسلام قبول کرنے سے مجھے صرف اس بات نے روکے رکھا تھا کہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں تم لوگ یہ گمان نہ کرو کہ میں نے تمہارے مال کو ہتھیانے کا ارادہ کر لیا ہے ، اب جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں ادائیگی کروا دی ہے ، اور میں اس حوالے سے فارغ ہو گیا ہوں تو میں اسلام قبول کرتا ہوں ، پھر وہ وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15237

Majma al-Zawaid #15237

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: «أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَهُ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَاتَلَاهُ حَتَّى غَلَبَاهُ عَلَيْهَا، فَدَفَعَاهَا فَوَقَعَتْ عَلَى صَخْرَةٍ، فَأَسْقَطَتْ وَهُرِيقَتْ دَمًا، فَذَهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَتْهُ نِسَاءُ بَنِي هَاشِمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِنَّ، ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدَ ذَلِكَ مُهَاجِرَةً، فَلَمْ تَزَلْ وَجِعَةً حَتَّى مَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ الْوَجَعِ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا شَهِيدَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reported that a man set out with Zaynab, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, when two Qurashī men pursued, fought and overcame him, thrust her so she fell upon a rock, miscarried and bled. They took her to Abū Sufyān, the women of Banī Hāshim came, and he delivered her to them. Thereafter she emigrated, remained ailing till she died of that ailment, and they held her a martyr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لے کے آ رہا تھا ، قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد پہنچے ۔ ان دونوں نے اس شخص کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ اس شخص پر غالب آ گئے ، ان دونوں نے اس خاتون کو دھکا دیا وہ خاتون ایک پتھر پر گریں اور ان کا حمل ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگا وہ لوگ انہیں ساتھ لے کر ابوسفیان کے پاس چلے لے گئے بنو ہاشم کی خواتین ابوسفیان کے پاس آئیں تو اس نے اس خاتون کو ان خواتین کے حوالے کر دیا پھر اس کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہجرت کر کے گئیں تھیں وہ اسی تکلیف میں مسلسل مبتلاء رہیں یہاں تک کہ اسی تکلیف کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا ، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15238

Majma al-Zawaid #15238

عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ: «كَانَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُتْبَةَ طَلَاقَ رُقَيَّةَ، وَسَأَلَتْهُ رُقَيَّةُ ذَلِكَ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رُقَيَّةَ، وَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ; فَالْإِسْنَادُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah ibn Diʿāmah reported that Ruqayyah was with ʿUtbah ibn Abī Lahab, and when Allāh revealed: Perish the hands of Abū Lahab, the Prophet ﷺ asked ʿUtbah to divorce Ruqayyah, and Ruqayyah asked him likewise, so he divorced her. ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allāh be pleased with him, then married Ruqayyah, and she died with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ابولہب کے بیٹے عتبہ کے نکاح میں تھیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے عتبہ سے یہ کہا کہ وہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدے ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس سے یہ مطالبہ کیا ، تو اس نے اس خاتون کو طلاق دے دی ، پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ان کی زوجیت میں ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، تو اس کی سند حسن ہے ۔

15239

Majma al-Zawaid #15239

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: «وَكَانَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَفَارَقَهَا، فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقَيَّةَ بِمَكَّةَ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَبِهِ كَانَ يُكَنَّى، وَقَدِمَتْ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ. قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَأَجْرُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ بَعْضَهُ، وَرِجَالُهُمَا إِلَى قَائِلِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that Ruqayyah, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, was with ʿUtbah ibn Abī Lahab, who parted her. ʿUthmān ibn ʿAffān married Ruqayyah in Mecca, emigrated with her to Abyssinia, where she bore him ʿAbdullāh by whom he was kunyed. She arrived with him to Madīnah, and he stayed back from Badr over her by the Messenger's ﷺ permission, for whom the Messenger of Allāh ﷺ struck a share with the shares of Badr's men. Asked whether his reward too, he answered his reward likewise. > **"And your reward"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی عتبہ بن ابولہب کے نکاح میں تھیں اس نے اس خاتون کو طلاق دے دی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور انہی صاحبزادے کے حوالے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کنیت اختیار کرتے تھے پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئیں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے ، ایسا نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اہل بدر کے حصوں کے ہمراہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی حصہ مقرر کیا تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرا اجر ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ان دونوں روایات کے قائلین تک ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

15240

Majma al-Zawaid #15240

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تُوُفِّيَتْ رُقَيَّةُ يَوْمَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبُشْرَى بَدْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī stated that Ruqayyah died the day Zayd ibn Ḥārithah, freedman of the Messenger of Allāh ﷺ, arrived with the glad tidings of Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس دن ہوا تھا جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ غزوہ بدر کی کامیابی کی خوشخبری لے کے آئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15241

Majma al-Zawaid #15241

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تَزَوَّجَ عُثْمَانُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ شَيْئًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī stated that ʿUthmān married Umm Kulthūm, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, and she died with him, bearing him nothing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تھی اور اس خاتون نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں انتقال کیا ، اس خاتون نے کسی بچے کو جنم نہیں دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے روایت کی ہے ۔

15242

Majma al-Zawaid #15242

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: «وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي أَكَلَهُ الْأَسَدُ فَفَارَقَهَا، وَلَمَّا تُوُفِّيَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ عُثْمَانَ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ كُلْثُومٍ، فَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ شَيْئًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ لِي عَشْرٌ لَزَوَّجْتَكَهُنَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ قِصَّةُ طَلَاقِ عُتَيْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ إِيَّاهَا فِي الْمَغَازِي فِيمَا لَقِيَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ، وَبَعْضُهَا فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that Umm Kulthūm, daughter of the Messenger of Allāh ﷺ, was with ʿUtbah ibn Abī Lahab whom the lion devoured, and he parted her. When Ruqayyah died with ʿUthmān, the Messenger of Allāh ﷺ married him to Umm Kulthūm, and she died with him bearing nothing. The Messenger of Allāh ﷺ told him that had he ten he would have married them to him. > **"Had I ten I would have married them to you"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی عتبہ بن ابولہب کے نکاح میں تھیں یہ وہ شخص تھا جسے شیر نے کھا لیا تھا اس شخص نے اس خاتون کو طلاق دی تھی جب سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دی تھی ، تو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ان کی زوجیت میں ہوا ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا : ’’ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ان کی شادی ( یکے بعد دیگرے ) تمہارے ساتھ کر دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ عتیبہ بن ابولہب نے اس خاتون کو طلاق دے دی تھی یہ مغازی سے متعلق کتاب میں گزرا ہے جس میں نبی اکرم ﷺ کو مشرکین کی طرف سے جن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا ذکر ہے ، اور اس کا کچھ حصہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں بھی گزرا ہے ۔

15243

Majma al-Zawaid #15243

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ خَدِيجَةَ وَلَدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةً: عَبْدَ اللَّهِ، وَالْقَاسِمَ، وَزَيْنَبَ، وَرُقَيَّةَ، وَأُمَّ كُلْثُومٍ، وَفَاطِمَةَ، وَوَلَدَتْ لَهُ مَارِيَةُ الْقِبْطِيَّةُ إِبْرَاهِيمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that Khadījah bore the Messenger of Allāh ﷺ six: ʿAbdullāh, al-Qāsim, Zaynab, Ruqayyah, Umm Kulthūm and Fāṭimah, and Māriyah the Copt bore him Ibrāhīm.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے چھ بچوں کو جنم دیا تھا ۔ حضرت عبداللہ ، حضرت قاسم ، سیده زینب ، سیدہ رقیہ ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم ۔ سیده ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

15244

Majma al-Zawaid #15244

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: وُلِدَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ، ثُمَّ زَيْنَبُ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: الطَّيِّبُ، وَيُقَالُ لَهُ: الطَّاهِرُ، وُلِدَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ، وَمَاتَ صَغِيرًا، ثُمَّ أُمُّ كُلْثُومٍ، ثُمَّ فَاطِمَةُ، ثُمَّ رُقَيَّةُ. هَكَذَا الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ. مَاتَ الْقَاسِمُ بِمَكَّةَ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that al-Qāsim was born to the Prophet ﷺ, his eldest child, then Zaynab, then ʿAbdullāh called al-Ṭayyib and al-Ṭāhir, born after prophethood and dying small, then Umm Kulthūm, then Fāṭimah, then Ruqayyah — each the first in order. Al-Qāsim died in Mecca, then ʿAbdullāh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ہاں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں ، پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہوئی جنہیں طیب بھی کہا جاتا ہے ، اور انہیں طاہر بھی کہا جاتا ہے ، یہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے اور کمسنی میں انتقال کر گئے تھے ، پھر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں ، بچوں کی ترتیب یہی ہے ، حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کا انتقال مکہ میں ہوا تھا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15245

Majma al-Zawaid #15245

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الصَّخْرَةُ صَخْرَةُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ عَلَى نَخْلَةٍ، وَالنَّخْلَةُ عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، وَتَحْتَ النَّخْلَةِ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، يُنْظِمَانِ سُمُوطَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ مُنْكَرَاتِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the Rock of Bayt al-Maqdis stands upon a palm, the palm upon a river of Paradise's rivers, and beneath the palm Āsiyah bint Muzāḥim, wife of Pharaoh, and Maryam daughter of ʿImrān string the jewels of Paradise's people till the Day of Resurrection. > **"The Rock of Bayt al-Maqdis stands upon a palm, the palm upon a river of Paradise's rivers, and beneath the palm Āsiyah bint Muzāḥim, wife of Pharaoh, and Maryam daughter of ʿImrān string the jewels of Paradise's people till the Day of Resurrection"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ پتھر جو بیت المقدس کا پتھر ہے وہ کھجور کے درخت پر ہے ، اور وہ کھجور کا درخت جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے کنارے پر ہو گا اور کھجور کے اس درخت کے نیچے آسیہ بنت مزاحم ہوں گی ، جو فرعون کی اہلیہ ہیں اور مریم بنت عمران ہوں گی اور یہ دونوں قیامت کے دن تک اہل جنت کے ہاروں کو پروتی رہیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور یہ حدیث اس کے منکرات میں سے ایک ہے ۔

15246

Majma al-Zawaid #15246

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَائِشَةَ: "" أَشْعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَنِي فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ say to ʿĀʾishah asking whether she knew that Allāh had married him in Paradise to Maryam bint ʿImrān, Kulthum sister of Mūsā, and the wife of Pharaoh. > **"Did you know that Allāh has married me in Paradise to Maryam bint ʿImrān, Kulthum sister of Mūsā, and the wife of Pharaoh"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران سے اور حضرت موسیٰ کی بہن کلثوم سے اور فرعون کی بیوی ( سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا ) سے کروا دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن سیف سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15247

Majma al-Zawaid #15247

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ زَوَّجَنِي فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ، وَأُخْتَ مُوسَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Junādah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh had married him in Paradise to Maryam bint ʿImrān, the wife of Pharaoh, and the sister of Mūsā. > **"Allāh has married me in Paradise to Maryam bint ʿImrān, the wife of Pharaoh, and the sister of Mūsā"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران اور فرعون کی اہلیہ ( سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا سے ) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے کروا دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔