Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 23

Book of Virtues and Merits

Hadith 15168–15207

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15168

Majma al-Zawaid #15168

وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: خَرَى رَجُلٌ [مِنْ بَنِي أَسَدٍ] عَلَى قَبْرِ الْحُسَيْنِ، فَأَصَابَ أَهْلَ ذَلِكَ الْبَيْتِ خَبَلٌ، وَجُنُونٌ، وَجُذَامٌ، وَبَرَصٌ، وَفَقْرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿmash reported that a man of Banī Asad defecated upon the grave of al-Ḥusayn, whereupon the people of that house were struck with disorder, madness, leprosy, vitiligo and poverty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش بیان کرتے ہیں : بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر پاخانہ کر دیا ، تو اس کے گھر کے افراد کو پاگل پن جنون جذام برص اور غربت لاحق ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15169

Majma al-Zawaid #15169

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْهُ، وَاسْتُخْلِفَ يَزِيدُ سَنَةَ سِتِّينَ، وَفِي سَنَةِ إِحْدَى وَسِتِّينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - لِعَشْرِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنَ الْمُحَرَّمِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَقُتِلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأُمُّهُ أُمُّ الْبَنِينَ: عَامِرِيَّةٌ وَجَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُمُّهُ لَيْلَى بِنْتُ مَسْعُودٍ: نَهْشَلِيَّةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْأَكْبَرُ، وَأُمُّهُ لَيْلَى: ثَقَفِيَّةٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَأُمُّهُ: الرَّبَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ: كَلْبِيَّةٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ. وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth ibn Saʿd stated that Muʿāwiyah died in Rajab with four nights elapsed thereof, Yazīd succeeded in the year sixty, and in the year sixty-one al-Ḥusayn ibn ʿAlī and his companions, may Allāh be pleased with them, were killed ten nights into Muḥarram on ʿĀshūrāʾ, along with al-ʿAbbās son of ʿAlī whose mother was Umm al-Banīn the ʿĀmiriyyah, Jaʿfar and ʿAbdullāh and ʿUthmān sons of ʿAlī, Abū Bakr son of ʿAlī whose mother was Laylā bint Masʿūd the Nahshaliyyah, ʿAlī the elder son of al-Ḥusayn whose mother was Laylā the Thaqafiyyah, ʿAbdullāh son of al-Ḥusayn whose mother was al-Rabāb bint Imriʾ al-Qays the Kalbiyyah, Abū Bakr and al-Qāsim sons of al-Ḥusayn by slave mothers, ʿAwn and Muḥammad sons of ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, Jaʿfar and Muslim sons of ʿAqīl, and Sulaymān the freedman of al-Ḥusayn. Al-Ḥusayn was killed at fifty-eight years of age, may Allāh be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : رجب کے جب چار دن باقی رہ گئے تھے ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، اور ساٹھ ہجری میں یزید خلیفہ بن گیا ۔ اکسٹھ ہجری میں امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا ۔ یہ محرم کے دس دن گزرنے کے بعد عاشورہ کے دن کی بات ہے ۔ حضرت عباس بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ۔ ان کی والدہ سیدہ ام البنین عامریہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ حضرت جعفر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، حضرت عبداللہ بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو ، حضرت عثمان بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ، حضرت ابوبکر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ سیدہ لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ رضی اللہ عنہا ہیں میں ، امام حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے علی اکبر کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ لیلیٰ ثقفیہ ہیں ، حضرت عبداللہ بن حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ رباب ہیں جو امرء القیس کی صاحبزادی ہیں ، اور بنو کلب سے تعلق رکھتی ہیں ، ابوبکر بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے ، قاسم بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے ، عون بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، محمد بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، جعفر بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، مسلم بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، امام حسین کے غلام سلیمان کو شہید کیا گیا اور امام حسین کے دودھ پیتے بچے عبداللہ کو شہید کیا گیا ، جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15170

Majma al-Zawaid #15170

وَعَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كُنَّا إِذَا ذَكَرْنَا حُسَيْنًا وَمَنْ قُتِلَ مَعَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ: قُتِلَ مَعَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ [شَابًّا]، كُلُّهُمِ ارْتَكَضَ فِي رَحِمِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَنْهُمْ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mundhir al-Thawrī reported that whenever they mentioned Ḥusayn and those killed with him, Muḥammad ibn al-Ḥanafiyyah would say seventeen youths were killed with him, all of whom had stirred in the womb of Fāṭimah, may Allāh be pleased with her and them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مندر ثوری بیان کرتے ہیں : جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ شہید ہونے والوں کا ہم ذکر کرتے تھے ، تو محمد بن حنفیہ کہتے تھے : ان کے ساتھ سترہ ایسے نوجوان شہید ہوئے تھے جو سب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے اللہ تعالی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اور ان لوگوں سے راضی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15171

Majma al-Zawaid #15171

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī ibn al-Ḥusayn stated that al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed at the age of fifty-eight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا تو ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15172

Majma al-Zawaid #15172

وَعَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ: قُتِلَ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَهْلُ بَيْتٍ يُشْبِهُونَهُمْ. قَالَ سُفْيَانُ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي هَذَا؟.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī stated that sixteen men of his household were killed with al-Ḥusayn ibn ʿAlī, and that by Allāh there was no household upon the earth that day resembling them. Sufyān added: and who doubts this.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ میں سے سولہ افراد شہید کیے گئے اور اس وقت اللہ کی قسم ! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا ، جو ان لوگوں کی مانند ہو ۔ سفیان کہتے ہیں : اس میں شک بھی کس کو ہو سکتا ہے ؟

15173

Majma al-Zawaid #15173

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَكَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī Shaybah stated that al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed on ʿĀshūrāʾ in the year sixty-one at the age of fifty-eight, and that he dyed with henna and katam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو عاشورہ کے دن اکسٹھ ہجری میں شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی انہوں نے مہندی اور کتم خضاب کے طور پر لگایا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15174

Majma al-Zawaid #15174

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ كَذَلِكَ، وَمَاتَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَهُوَ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Jaʿfar ibn Muḥammad reported from his father that ʿAlī was killed at fifty-eight, al-Ḥusayn likewise, and ʿAlī ibn al-Ḥusayn died likewise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد ( امام باقر رحمہ اللہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی اور جب امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی اور جب امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی ۔

15175

Majma al-Zawaid #15175

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ كَثِيرٌ، فَبَاعَ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَيْنَ كَذَا وَعَيْنَ كَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn al-Ḥusayn reported that al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed owing many debts, for which ʿAlī ibn Ḥusayn sold such-and-such spring and such-and-such spring.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا ، تو ان کے ذمہ بہت سا قرض تھا ، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں جگہ کو فروخت کر کے وہ قرض ادا کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن دراج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15176

Majma al-Zawaid #15176

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: لَمَّا أُدْخِلَ ثَقَلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَوُضِعَ رَأْسُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، بَكَى يَزِيدُ، وَقَالَ: نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا. أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ صَاحِبَكَ مَا قَتَلْتُكَ أَبَدًا. فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: لَيْسَ هَكَذَا. قَالَ يَزِيدُ: كَيْفَ يَا ابْنَ أُمِّ؟ قَالَ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} [الحديد: 22]. وَعِنْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ -: لَهَامٌ بِجَنْبِ الطَّفِّ أَدْنَى قَرَابَةً ... مِنِ ابْنِ زِيَادِ الْعَبْدِ ذِي النَّسَبِ الْوَغْلِ سُمَيَّةُ أَمْسَى نَسْلُهَا عَدَدَ الْحَصَى ... وَبِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ لَيْسَ لَهَا نَسْلُ. فَرَفَعَ يَزِيدُ يَدَهُ، فَضَرَبَ صَدْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: اسْكُتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ، ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn al-Ḥasan al-Makhzūmī reported that when the baggage of al-Ḥusayn ibn ʿAlī was brought to Yazīd ibn Muʿāwiyah and his head placed before him, Yazīd wept and recited that they split the skulls of beloved men though most undutiful and unjust, swearing that had he been his companion he would never have killed him. ʿAlī ibn al-Ḥusayn corrected him, and when Yazīd asked how, O son of my mother, he recited that no calamity befalls the earth or yourselves but is in a Book before We bring it about. With him was ʿAbd al-Raḥmān ibn Umm al-Ḥakam, who recited of skulls by al-Ṭaff nearer in kin than Ibn Ziyād the slave of base lineage, while Sumayyah's progeny numbered as pebbles and the daughter of the Messenger of Allāh had no progeny left. Yazīd raised his hand, struck the chest of ʿAbd al-Raḥmān and bade him be silent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حسن مخزومی بیان کرتے ہیں : جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے اہل خانہ کو یزید بن معاویہ کے پاس لایا گیا ، اور ان کا سر اس کے سامنے رکھا گیا ، تو یزید رو پڑا اور اس نے یہ شعر پڑھا : ’’ ہم اپنے نزدیک چند محبوب لوگوں کی وجہ سے سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔‘‘ پھر اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں آپ کے سامنے ہوتا تو میں آپ کو کبھی شہید نہ کرتا ، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا نہیں ہے ، یزید نے کہا : وہ کیسے ؟ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ’’ زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔‘‘ اس وقت وہاں عبدالرحمن بن ام حکم موجود تھے ، تو عبدالرحمن بن ام حکم نے یہ اشعار پڑھے : ’’ طف ‘‘ کے مقام پر موجود سر ، زیادہ قریب کی رشتہ داری رکھتا تھا ، ابن زیاد غلام کی بہ نسبت ، جس کا نسب ہی مشکوک ہے ، سمیہ کی اولاد ، تو کنکریوں کی تعداد میں بے شمار ہو گئی ہے ، لیکن اللہ کے رسول کی صاحبزادی کی نسل ( یعنی ) اولاد زندہ نہیں رہی ۔‘‘ یزید نے ہاتھ اٹھا کر عبدالرحمن کے سینے پر مارا اور بولا : تم خاموش رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی راوی سے مراد محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15177

Majma al-Zawaid #15177

وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْتَزُّوا رَأَسَهُ، وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةٍ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ، يَتَحَيَّوْنَ بِالرَّأْسِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ، فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ: أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا ... شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ. فَهَرَبُوا وَتَرَكُوا الرَّأْسَ، ثُمَّ رَجَعُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Qabīl reported that when al-Ḥusayn was killed and they severed his head, they halted at the first stage drinking wine and toasting the head, when an iron pen emerged from a wall and wrote in a line of blood whether a nation that killed Ḥusayn could hope for his grandfather's intercession on the Day of Reckoning. They fled leaving the head, then returned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقبیل بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو لوگوں نے ان کا سر اتار لیا ، وہ لوگ پہلے مرحلے پر بیٹھ کر نبیذ پینے لگے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے حوالے سے ذکر کرنے لگے ، تو لوہے کا ایک قلم نکل کر ان کے سامنے آیا اور اس نے خون کے ساتھ دیوار پر یہ شعر لکھا : ’’ وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہے ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا کی شفاعت کی امید رکھے گی ؟“ تو وہ لوگ بھاگ گئے اور سر کو وہاں چھوڑ دیا پھر وہ لوگ واپس آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15178

Majma al-Zawaid #15178

وَعَنْ إِمَامٍ لِبَنِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ قَالَ: غَزَوْنَا الرُّومَ، فَنَزَلُوا فِي كَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِهِمْ، قَرَأُوا فِي حَجَرٍ مَكْتُوبٍ: أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا ... شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ. فَسَأَلْنَاهُمْ: مُنْذُ كَمْ بُنِيَتْ هَذِهِ الْكَنِيسَةُ؟ قَالُوا: قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ نَبِيُّكُمْ بِثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

An imām of Banī Sulaymān reported from his elders that they raided Byzantium and lodged in one of their churches, where they read upon an inscribed stone whether a nation that killed Ḥusayn could hope for his grandfather's intercession on the Day of Reckoning. When asked how long since the church was built, they answered three hundred years before their Prophet was sent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو سلیمان کے امام اپنے بزرگوں کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں : ہم لوگ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لے رہے تھے ۔ ان لوگوں نے ایک گرجے میں رہائش اختیار کی وہاں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا تھا : ’’ وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہو ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا سے شفاعت کی امید رکھے گی ؟‘‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ گرجا کب بنا تھا ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ تم لوگوں کے نبی کی بعثت سے تین سو سال کا پہلے کا بنا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15179

Majma al-Zawaid #15179

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allāh be pleased with her, reported that she heard the jinn lamenting al-Ḥusayn ibn ʿAlī.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے جنات کو امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15180

Majma al-Zawaid #15180

وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah, may Allāh be pleased with her, reported that she heard the jinn lamenting al-Ḥusayn ibn ʿAlī.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے جنات کو امام حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15181

Majma al-Zawaid #15181

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا اللَّيْلَةَ، وَمَا أَرَى ابْنِي إِلَّا قُبِضَ - تَعْنِي الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا: اخْرُجِي اسْأَلِي، فَأُخْبِرَتْ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، وَإِذَا جِنِّيَّةٌ تَنُوحُ: أَلَا يَا عَيْنُ فَاحْتَفِلِي بِجَهْدِ ... وَمَنْ يَبْكِي عَلَى الشُّهَدَاءِ بَعْدِي عَلَى رَهْطٍ تَقُودُهُمُ الْمَنَايَا ... إِلَى مُتَجَبِّرٍ فِي مُلْكِ عَبْدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allāh be pleased with her, reported that she had not heard the lament of the jinn since the Prophet ﷺ was taken except that night, and deemed her son — meaning al-Ḥusayn, may Allāh be pleased with him — taken. She told her maid to go and ask, and word came that he had been killed, while a jinn woman lamented bidding the eye exert itself in weeping, for who would weep for martyrs after her — over a band whom death drove to a tyrant in a slave's dominion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد میں نے کبھی جنات کا نوحہ نہیں سنا ، ایک رات ایسا ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا بیٹا انتقال کر گیا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مراد امام حسین رضی اللہ عنہ تھے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیز سے کہا : تم جاؤ اور اس بارے میں دریافت کرو ، تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، وہاں ایک جن نے نوحہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے : ’’ خبردار ! اے آنکھ تم خوب روؤ ! اور میرے بعد شہداء پر کون روئے گا ؟ ان پر جنہیں ایک غلام کی حکومت میں ، تقدیر موت کے منہ میں لے گئی ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15182

Majma al-Zawaid #15182

وَعَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْجَصَّاصُونَ قَالُوا: كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا إِلَى الْجَبَّانِ بِاللَّيْلِ عِنْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ سَمِعْنَا الْجِنَّ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ ... فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْ ... شٍ جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَأَبُو جَنَابٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Janāb al-Kalbī reported from plasterers who said that when they went out to the graveyard by night at the killing of al-Ḥusayn, they heard the jinn lamenting him, chanting that the Messenger wiped his forehead so it shone upon the cheeks, his parents from the noblest Quraysh and his grandfather the best of grandfathers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجناب کلبی بیان کرتے ہیں : مجھے لوگوں نے یہ بات بتائی ہے کہ جب ہم لوگ نکل کر رات کے وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ کی طرف گئے ، تو ہم نے جنوں کو ان پر نوحہ کرتے ہوئے سنا وہ یہ کہہ رہے تھے : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا ، تو ان کے رخساروں میں اس کی چمک موجود تھی ، ان کے والدین قریش کے بڑوں میں سے تھے ، اور ان کے نانا ، سب اجداد سے بہتر تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ابوجناب نامی راوی مدلس ہے ۔

15183

Majma al-Zawaid #15183

وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيِّ - مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ - أَنَّهُ كَانَ يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِيُّ لَكُمْ ... مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ بِعِتْرَتِي وَبِأَنْصَارِي وَذُرِّيَتِي ... مِنْهُمْ أُسَارَى وَقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ مَا كَانَ هَذَا جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ ... أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي. فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: نَقُولُ: {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الأعراف: 23]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.

EnglishUnverified translation

Aḥmad ibn Muḥammad ibn Ḥumayd al-Jahmī, of the progeny of Abū Jahm ibn Ḥudhayfah, would recite concerning the killing of al-Ḥusayn the verse of Zaynab bint ʿAqīl ibn Abī Ṭālib asking what they would say if the Prophet asked them, the last of nations, what they had done with his kin, supporters and progeny — captives and slain stained with blood — though his reward in counsel was that they succeed him evilly among his kin. Abū al-Aswad al-Duʾalī answered that they would say: Our Lord, we wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us we shall be among the losers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن محمد بن حمید جہمی جو حضرت ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ، انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور یہ بتایا : یہ اشعار سیدہ زینب بنت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے ہیں : ’’ اس وقت تم لوگ کیا کہو گے جب نبی اکرم ﷺ نے تم لوگوں سے پوچھ لیا : تم آخری امت ہو ، تو تم نے میری عترت ، میرے انصار اور میری ذریت کے ساتھ کیا کیا ؟ ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ قتل ہو کر خون میں لت پت ہو گئے ، میں نے تمہاری جو خیرخواہی کی تھی کیا اس کا یہی بدلہ ہے کہ تم میرے بعد میرے رشتہ داروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو ۔‘‘ تو ابواسود دؤیلی نے کہا : ہم یہ کہتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا ، تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

15184

Majma al-Zawaid #15184

وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ أَجْوَدَ مِنْهُ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: أَقُولُ وَزَادَنِي حَنَقًا وَغَيْظًا ... أَزَالَ اللَّهُ مُلْكَ بَنِي زِيَادِ وَأَبْعَدَهُمْ كَمَا بَعُدُوا وَخَانُوا ... كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ وَقَوْمُ عَادِ وَلَا رَجَعَتْ رَكَائِبُهُمْ إِلَيْهِمْ ... إِذَا قَفَّتْ إِلَى يَوْمِ التَّنَادِي.

EnglishUnverified translation

With another, better chain he narrated the same and added Abū al-Aswad's verse declaring in wrath that may Allāh remove the dominion of Banī Ziyād and distance them as they distanced and betrayed, as Thamūd and ʿĀd were distanced, and may their mounts never return to them when they depart toward the Day of Assembly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جو زیادہ عمدہ ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابواسود دؤیلی نے کہا : ’’ میں یہ کہتا ہوں ، جبکہ میرا غصہ اور فریاد زیادہ ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زیاد کی اولاد کی حکومت کو ختم کر دے ، اور جس طرح انہوں نے عہد شکنی کی اور خیانت کی تو انہیں یوں برباد کر دے جس طرح قوم ثمود اور قوم عاد برباد ہو گئی تھیں ، اور ان کی سواریاں ، جب وہ ٹھہر جائیں ، تو قیامت کے دن تک ان کی طرف واپس نہ آئیں ۔‘‘

15185

Majma al-Zawaid #15185

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوْسَعَ لَهُ النَّاسُ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: [أَبَا] فِرَاسُ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ: هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتُهُ ... وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ كُلِّهِمُ ... هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانُ رَاحَتِهِ ... وَرُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ... إِلَى مَكَارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرَمُ يُفْضِي حَيَاءً وَيُفْضِي مِنْ مَهَابَتِهِ ... فَلَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبِقُ ... بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَبْعَتُهُ ... طَابَتْ عَنَاصِرُهُ وَالْخِيَمُ وَالشِّيَمُ لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَايَتِهِمْ ... وَلَا يُدَانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرِمُوا أَيُّ الْعَشَائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ... لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوَّلُهُ نَعَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Sulaymān ibn al-Haytham reported that ʿAlī ibn al-Ḥusayn ibn ʿAlī would circumambulate the House, and when he wished to touch the Stone the people made way, while al-Farazdaq ibn Ghālib looked on. When a man asked Abū Firās who he was, al-Farazdaq answered in verse that this is he whose tread the plain knows, whom the House, the lawful and the sacred know — son of the best of Allāh's servants, the pious, pure, guiding banner, whom the corner of al-Ḥaṭīm nearly grasps from knowing his palm when he touches, at whose sight Quraysh declare all nobility ends, who is modest yet awe-inspiring and speaks only smiling, in whose hand is a fragrant cane of a noble high-nosed bearer, sprung from the Messenger of Allāh of blest stock and traits, whose goal no generous one attains nor any tribe approaches however noble, and what clan owes not allegiance to his forebears' primacy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا ، تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ بنا دی ۔ فرزدق نامی شاعر یہ منظر دیکھ رہا تھا کسی شخص نے کہا : اے ابوفراس ! یہ کون صاحب ہیں ؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے : ’’ یہ وہ ہیں جن کی چاپ کو بطحاء کی وادی پہچانتی ہے ، بیت اللہ ، حل اور حرم ( کے علاقے ) انہیں پہچانتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ بہتر ہستی کے صاحبزادے ہیں ، یہ پرہیزگار ہیں ، صاف ستھرے ہیں ، پاک ہیں ، نمایاں ہیں ، ممکن ہے کہ ان کے استلام کرنے کے وقت ، ان کی ہتھیلی کو پہچان کر ، حطیم کا کونہ ان کو تھام لے ، قریش نے جب ان کو دیکھا تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا : ان کی کرم نوازی پر آ کر ، کرم ختم ہو جاتا ہے ، یہ حیا کی وجہ سے نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں اور ان کی ہیبت کی وجہ سے دوسروں کی نگاہیں ( ان کے آگے ) جھکی رہتی ہیں ، تو ان کے ساتھ کلام صرف اس وقت کیا جاتا ہے ، جب یہ مسکرا دیتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں خیزران ( نامی درخت کی چھڑی ) ہے ، ان کی خوشبو بہترین ہے اور ان کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اوصاف حاصل کیے ہیں ، ان کے عناصر اور ان کی خوبو پاکیزہ ہے ، کوئی تیز رفتار ، ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ، اور کوئی بھی قوم ، خواہ وہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو ، ان کے قریب نہیں پہنچ سکتی ، کون سا خاندان ایسا ہے ، جس کی گردن میں ان کی اولیت اور ان کے احسان کا پٹہ نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15186

Majma al-Zawaid #15186

وَعَنْ سَفِيانٍ قَالَ: قَلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ: رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ؟ قَالَ: أَسُودُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، إِلَّا شَعَرَاتٍ هَاهُنَا فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ، فَلَا أَدْرِي أَخَضَبَ وَتَرَكَ ذَلِكَ الْمَكَانَ تَشَبُّهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ لَمْ يَكُنْ شَابَ مِنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَ: وَرَأَيْتُ حَسَنًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَسَجَدَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ بَعْضِ النَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: اجْلِسْ، فَقَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sufyān reported that he asked ʿUbaydullāh ibn Abī Yazīd whether he had seen al-Ḥusayn ibn ʿAlī, and he answered black in head and beard except a few hairs at the front of his beard — uncertain whether he dyed leaving that place in imitation of the Messenger of Allāh ﷺ or naught else had greyed. He added that he had seen Ḥasan after prayer was established prostrating between the imām and some people, and when told to sit, answered that prayer had been established.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان بیان کرتے ہیں : میں نے عبیداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا ، تم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ؟ اس نے بتایا : ان کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے صرف یہاں پر داڑھی کے آگے والی طرف کچھ بال سفید تھے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اس جگہ پر خضاب لگایا تھا یا اس کے علاوہ ان کا کوئی اور بال سفید ہی نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا نماز کھڑی ہو گئی ، تو وہ امام اور کچھ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ان سے کہا گیا آپ بیٹھ جائیں تو انہوں نے کہا : نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15187

Majma al-Zawaid #15187

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَجَّ الْحُسَيْنُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn ʿAbdullāh stated that al-Ḥusayn performed twenty-five pilgrimages on foot.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : امام حسین رضی اللہ عنہ نے پیدل پچیس حج کیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

15188

Majma al-Zawaid #15188

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَمَرَّ عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَسَمِعَ حُسَيْنًا يَبْكِي، فَقَالَ: "" أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُكَاءَهُ يُؤْذِينِي»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ الطَّوِيلِ فِي الْإِخْبَارِ بِقَتْلِهِ النَّهْيَ عَنْ بُكَائِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ بَيْعَتِهِ فِي الْبَيْعَةِ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Abī Ziyād reported that the Prophet ﷺ came out of the house of ʿĀʾishah, passed by the house of Fāṭimah, and heard Ḥusayn weeping, whereupon he asked whether she did not know that his weeping hurt him. > **"Do you not know that his weeping hurts me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر آئے آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرے آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ اس سے پہلے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک طویل حدیث گزر چکی ہے ، جس میں انہیں رلانے کی ممانعت کا ذکر ہے ، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع کا ذکر ہے اور بیعت سے متعلق باب میں ، ان کی بیعت سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔

15189

Majma al-Zawaid #15189

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ فَاطِمَةَ وَمَرْيَمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise and that Fāṭimah is the chief of their women, except for what belongs to Maryam bint ʿImrān. > **"Al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise, and Fāṭimah is the sayyidah of their women, except for what belongs to Maryam bint ʿImrān"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور فاطمہ وہاں کی خواتین کی سردار ہے ، البتہ مریم بنت عمران کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15190

Majma al-Zawaid #15190

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَعْدَ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ: فَاطِمَةُ، وَخَدِيجَةُ، ثُمَّ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَآسِيَةُ "". وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the chief women of Paradise after Maryam bint ʿImrān are Fāṭimah and Khadījah, then Āsiyah bint Muzāḥim, wife of Pharaoh. > **"The sayyidahs of the women of Paradise after Maryam bint ʿImrān are Fāṭimah and Khadījah, then Āsiyah bint Muzāḥim, wife of Pharaoh"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مریم بنت عمران کے بعد اہل جنت کی خواتین کی سردار فاطمہ اور خدیجہ ہیں ، اور پھر آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ’’ آسیہ ‘‘ نقل کیا ہے ، اور معجم کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15191

Majma al-Zawaid #15191

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي، فَبَشَّرَنِي - أَوْ أَخْبَرَنِي - أَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الذُّهْلِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that an angel from heaven who had never visited him sought Allāh's permission to visit him and gave him glad tidings — or informed him — that Fāṭimah is the chief of the women of his community. > **"An angel from heaven who had never visited me sought Allāh's permission to visit me, and gave me glad tidings that Fāṭimah is the sayyidah of the women of my community"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آسمان سے ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مجھ سے ملنے کی اجازت مانگی اور اس نے مجھے خوشخبری دیتے ہوئے یہ بتایا : فاطمہ میری امت کی خواتین کی سردار ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف محمد بن مروان ذہلی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15192

Majma al-Zawaid #15192

وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ: "" أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَابْنَاكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said to Fāṭimah asking whether she would not be pleased to be the chief of the women of Paradise while her two sons are the chiefs of the youth of Paradise. > **"Are you not pleased to be the sayyidah of the women of Paradise, and your two sons the sayyids of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کی خواتین کی سردار ہو جاؤ اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15193

Majma al-Zawaid #15193

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ فَاطِمَةَ غَيْرَ أَبِيهَا. قَالَتْ: وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلْهَا فَإِنَّهَا لَا تَكْذِبُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ أَصْدَقُ مِنْ فَاطِمَةَ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, stated that she never saw one more excellent than Fāṭimah except her father. When something occurred between the two, she said: O Messenger of Allāh, ask her, for she does not lie. In the other wording she said she never saw anyone at all more truthful than Fāṭimah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے فاطمہ سے زیادہ فضیلت والا کوئی نہیں دیکھا ، صرف ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی معاملہ ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لیں وہ غلط بیانی نہیں کرتی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کبھی کوئی نہیں دیکھا “۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15194

Majma al-Zawaid #15194

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنِّي وَمِنْ أَبِي - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا -. فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، [فَدَخَلَ] فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا بِنْتَ فُلَانَةَ، لَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ ذِكْرِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr, may Allāh be pleased with him, reported that Abū Bakr sought permission upon the Messenger of Allāh ﷺ and heard the voice of ʿĀʾishah raised, declaring twice or thrice that she knew ʿAlī and Fāṭimah were more beloved to him than herself and her father. Abū Bakr sought permission, entered, leaned toward her and rebuked her as daughter of so-and-so never to raise her voice above the Messenger of Allāh ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے باہر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی بلند آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھیں : اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتی ہوں کہ علی اور فاطمہ آپ کے نزدیک مجھ سے اور میرے والد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ یہ بات انہوں نے دو یا تین مرتبہ کہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آئے تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور بولے : اے فلانی کی بیٹی آئندہ میں تمہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے آواز بلند کرتے ہوئے نہ سنوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15195

Majma al-Zawaid #15195

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا يَضْحَكَانِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَا، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَكَمَا، كُنْتُمَا تَضْحَكَانِ فَلَمَّا رَأَيْتُمَانِي سَكَتُّمَا؟ "". فَبَادَرَتْ فَاطِمَةُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ هَذَا: أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكِ، فَقُلْتُ: بَلْ أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، لَكِ رِقَّةُ الْوَلَدِ، وَعَلِيٌّ أَعِزُّ عَلَيَّ مِنْكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ entered upon ʿAlī and Fāṭimah while they laughed, and when they saw the Prophet ﷺ they fell silent. When he asked why they had laughed then fallen silent upon seeing him, Fāṭimah hastened and said: By my father, O Messenger of Allāh — he claims he is more beloved to the Messenger of Allāh ﷺ than I, while I claim I am more beloved to the Messenger of Allāh ﷺ than he. The Messenger of Allāh ﷺ smiled and told her she had a child's tenderness while ʿAlī was dearer to him than she. > **"What is wrong with you — you laughed, then when you saw me you fell silent. O my daughter, you have a child's tenderness, and ʿAlī is dearer to me than you"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ۔ وہ دونوں ہنس رہے تھے جب ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم لوگ پہلے ہنس رہے تھے جب تم دونوں نے مجھے دیکھا تو تم دونوں خاموش ہو گئے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بات میں پہل کی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ان کا ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ) یہ کہنا ہے کہ میں تم سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک محبوب ہوں اور میرا یہ کہنا ہے کہ بلکہ میں اللہ کے رسول کی آپ سے زیادہ محبوب ہوں ، نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے اور آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تمہارے لیے وہ محبت ہے ، جو اولاد کے لئے ہوتی ہے ، اور علی میرے نزدیک تم سے زیادہ قابل احترام ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15196

Majma al-Zawaid #15196

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ أَحَبُ إِلَيْكَ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ؟ قَالَ: "" فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا» "". قُلْتُ: فَذَكَرَهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that ʿAlī ibn Abī Ṭālib asked: O Messenger of Allāh, who is more beloved to you, I or Fāṭimah. He answered that Fāṭimah was more beloved to him than he, while he was dearer to him than she. > **"Fāṭimah is more beloved to me than you, and you are dearer to me than she"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے نزد یک زیادہ محبوب ہوں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

15197

Majma al-Zawaid #15197

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ، قَالَ لِي: "" يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، لَمْ أَرَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا، وَلَا أَبْيَضُ مِنْهَا وَرَقَةً، وَلَا أَطْيَبُ مِنْهَا ثَمَرَةً، فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا، فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي، فَلَمَّا هَبَطْتُ إِلَى الْأَرْضِ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ، فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ. يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ، وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ: كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ، وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ نَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَتْرُوكٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا، وَقَدْ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ فِي الْمِيزَانِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, reported that she would see the Messenger of Allāh ﷺ kiss Fāṭimah, and remarked that she saw him do what he had not done before. He answered her as Ḥumayrāʾ that on the night he was taken to heaven he entered Paradise and stood at a tree of Paradise the fairest, whitest-leafed and sweetest-fruited he had seen, took a fruit and ate it, and it became a sperm-drop in his loins. When he descended to earth he was with Khadījah and she conceived Fāṭimah, so whenever he longed for the fragrance of Paradise he smelled Fāṭimah. He added that Fāṭimah was not as human women are, nor suffered ailments as they do. > **"O Ḥumayrāʾ, on the night I was taken to heaven I entered Paradise and stood at a tree of Paradise — I never saw a tree in Paradise fairer, whiter in leaf, or sweeter in fruit. I took a fruit and ate it, and it became a sperm-drop in my loins. When I descended to earth I was with Khadījah and she conceived Fāṭimah, so whenever I long for the fragrance of Paradise I smell the fragrance of Fāṭimah. O Ḥumayrāʾ, Fāṭimah is not as human women are, nor suffers ailments as they suffer"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھتی تھی کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بوسہ دیا کرتے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ آپ پہلے ایسا کرتے ہوں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے حمیراء ! جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی مجھے جنت میں داخل کیا گیا ۔ میں وہاں ایک درخت کے پاس ٹھہرا ، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ سفید درخت جنت میں کوئی نہیں دیکھا ، جس کے پھل اس سے زیادہ پاکیزہ ہوں ۔ میں نے اس کا ایک پھل لیا اور اسے کھا لیا تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا ، جب میں زمین پہ آیا تو میں نے خدیجہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا ، تو وہ اس کے حوالے سے حاملہ ہو گئی ، تو جب میں جنت کی خوشبو سونگھنے کا مشتاق ہوتا ہوں ، تو میں فاطمہ کی خوشبو کو سونگھ لیتا ہوں ۔ اے حمیرا ! فاطمہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہے ، اور وہ اس طرح علت کا شکار نہیں ہوئی ، جس طرح لوگ علت کا شکار ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : یہ سچائی کے بارے میں کوشش کرتا رہتا تھا امام احمد نے اس کا انکار کیا ہے کہ جس نے اس کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے امام بخاری اور دیگر حضرات نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے بعض نے کہا ہے : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں یہ حدیث کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے ۔

15198

Majma al-Zawaid #15198

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: "" إِنَّ اللَّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلَا وَلَدِكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, that Allāh would not punish her nor her children. > **"Allāh will not punish you nor your children"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ، اور تمہاری اولاد کو عذاب نہیں دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15199

Majma al-Zawaid #15199

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فَاطِمَةَ حَصَّنَتْ فَرْجَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَدْخَلَهَا بِإِحْصَانِ فَرْجِهَا وَذُرِّيَّتَهَا الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَتَّابٍ، وَقِيلَ: ابْنُ غِيَاثٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Fāṭimah guarded her chastity, and that Allāh would admit her and her progeny to Paradise for her guarding it. > **"Fāṭimah guarded her chastity, and Allāh will admit her and her progeny to Paradise for her guarding her chastity"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فاطمہ نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اپنی شرمگاہ کو حفاظت کرنے کی وجہ سے اسے اور اس کی اولاد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عتاب ہے ، اور ایک روایت کے مطابق ابن غیاث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15200

Majma al-Zawaid #15200

«وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلْمَرْأَةِ؟ فَسَكَتُوا فَلَمَّا رَجَعَتْ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ: أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ؟ "" قَالَتْ: لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh be pleased with him, reported that he was with the Messenger of Allāh ﷺ when he asked what is best for a woman, and they fell silent. When he returned he asked Fāṭimah what is best for women, and she answered that men should not see them. When he mentioned that to the Prophet ﷺ, he affirmed that Fāṭimah was a piece of him, may Allāh be pleased with her. > **"What is best for a woman. Men do not see them. Fāṭimah is but a piece of me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : عورت کے لئے کیا چیز سب سے بہتر ہے ؟ لوگ خاموش رہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں واپس گھر گیا تو میں نے فاطمہ سے دریافت کیا ، خواتین کے لئے کون سی چیز سب سے زیادہ بہتر ہے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ کہ مرد انہیں نہ دیکھیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : بعد میں میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میری جان کا ٹکڑا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15201

Majma al-Zawaid #15201

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ - خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجْهَا فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا "". إِلَى هَاهُنَا يَنْتَهِي حَدِيثُ خَالِدٍ [الْحَذَّاءِ] وَفِي الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ تَحْتَ رَجُلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَاخْتَصَرَهُ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh honour him, proposed to the daughter of Abū Jahl, whereupon the Prophet ﷺ told him that if he married her he should return their daughter to them. Here ends the ḥadīth of Khālid al-Ḥadhdhāʾ, with an addition that the Prophet ﷺ swore by Allāh that the daughter of the Messenger of Allāh ﷺ and the daughter of the enemy of Allāh would never be gathered under one man. > **"If you marry her, return our daughter to us. By Allāh, the daughter of the Messenger of Allāh ﷺ and the daughter of the enemy of Allāh will never be gathered under one man"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اس عورت کے ساتھ شادی کرنی ہے تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو ۔....... خالد حذاء کی نقل کردہ روایت یہاں ختم ہو جاتی ہے ۔ اس حدیث میں یہ بات اضافی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کی صاحبزادی ، اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15202

Majma al-Zawaid #15202

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا، فَقَالَ لَهَا: "" مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint ʿUmays, may Allāh be pleased with her, reported that ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, proposed to her. When that reached Fāṭimah she came to the Prophet ﷺ and said that Asmāʾ was marrying ʿAlī, whereupon he told her she had no right to hurt Allāh and His Messenger. > **"She has no right to hurt Allāh and His Messenger"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں ، انہوں نے عرض کی : اسماء ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کرنے لگی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اس عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15203

Majma al-Zawaid #15203

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ بَعَثَ إِلَى الْمِسْوَرِ يَخْطُبُ ابْنَةً لَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَهُ يُوَافِينِي فِي وَقْتٍ ذَكَرَهُ، فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ الْمِسْوَرُ، وَقَالَ: مَا مِنْ سَبَبٍ، وَلَا نَسَبٍ، وَلَا صِهْرٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَسَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" فَاطِمَةُ شِجْنَةٌ مِنِّي ; يَبْسُطُنِي مَا يَبْسُطُهَا، وَيَقْبِضُنِي مَا يَقْبِضُهَا، وَإِنَّهُ تَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْسَابُ إِلَّا نَسَبِي وَسَبَبِي "". وَتَحْتُكَ ابْنَتَهَا، فَلَوْ زَوَّجْتُكَ قَبَضَهَا ذَلِكَ، فَذَهَبَ عَاذِرًا لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ، وَلَمْ يُجَرِّحْهَا أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah, may Allāh be pleased with him, reported that Ḥasan ibn Ḥasan sent to al-Miswar proposing his daughter. He bade the messenger arrange a meeting, and upon meeting praised Allāh and declared no kinship, lineage or marriage dearer to him than theirs, but cited the Messenger of Allāh ﷺ that Fāṭimah is a branch from him — what delights her delights him and what grieves her grieves him — and that on the Day of Resurrection all lineages would be cut except his lineage and cause. Since the daughter of Fāṭimah was under Ḥasan's care, marrying his daughter to him would grieve her, so the suitor left excusing him. > **"Fāṭimah is a branch from me; what delights her delights me, and what grieves her grieves me. On the Day of Resurrection all lineages will be cut except my lineage and my cause"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حضرت حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو انہوں نے ( قاصد سے ) کہا : تم ان سے کہہ دو کہ وہ میرے ساتھ ملاقات کا وقت طے کر لیں جب ان کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور یہ بات بیان کی کہ آپ کے نسب اور آپ کے ساتھ سسرالی رشتے کے حوالے سے جو تعلق ہو گا میرے نزدیک کوئی سبب کوئی نسب اور کوئی سسرالی رشتہ اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہے ، وہ چیز مجھے خوش کرتی ہے ، جو اسے خوش کرتی ہے ، اور وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے ، جو اسے ناگوار گزرتی ہے ، اور قیامت کے دن میرے سبب اور میرے نسب کے علاوہ تمام نسب منقطع ہو جائیں گے ۔‘‘ پھر حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اُن کی اولاد میں سے ایک صاحبزادی آپ کی اہلیہ ہیں ، اگر میں نے آپ کی شادی اپنی بیٹی سے کروا دی ، تو اس صاحبزادی کو دکھ ہو گا ، یہ عذر بیان کر کے وہ تشریف لے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ام بکر بنت مسور ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15204

Majma al-Zawaid #15204

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «[لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -] إِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ، وَيَرْضَى لِرِضَاكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, that Allāh is angry for her anger and pleased for her pleasure. > **"Allāh is angry for your anger and pleased for your pleasure"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضامندی کی وجہ سے راضی ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15205

Majma al-Zawaid #15205

«وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ، فَقَامَتْ بِحِذَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَابِلَهُ، فَقَالَ: "" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ "". فَدَنَتْ دَنْوَةً، ثُمَّ قَالَ: "" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ "". فَدَنَتْ دَنْوَةً، ثُمَّ قَالَ: "" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ "". فَدَنَتْ دَنْوَةً حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ عِمْرَانُ: فَرَأَيْتُ صُفْرَةً قَدْ ظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِهَا، وَذَهَبَ الدَّمُ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ تَرَائِبِهَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: "" اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ، وَقَاضِي الْحَاجَةِ، وَرَافِعَ الْوَضَعَةِ، لَا تُجِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ "". فَرَأَيْتُ صُفْرَةَ الْجُوعِ قَدْ ذَهَبَتْ عَنْ وَجْهِهَا وَظَهَرَ الدَّمُ، ثُمَّ سَأَلْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: مَا جُعْتُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا عِمْرَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, may Allāh be pleased with him, reported that he sat with the Prophet ﷺ when Fāṭimah came and stood facing him. He bade her draw near thrice until she stood before him. ʿImrān saw yellowness upon her face and blood gone. The Messenger of Allāh ﷺ spread his fingers, placed his palm between her collar-bones, raised his head and supplicated to the Satisfier of hunger, Fulfiller of need and Raiser of the lowly not to let Fāṭimah bint Muḥammad hunger. The yellowness of hunger left her face and blood returned, and when asked thereafter she swore she never hungered after that, O ʿImrān. > **"Draw near, O Fāṭimah. O Allāh, Satisfier of hunger, Fulfiller of need, Raiser of the lowly — do not let Fāṭimah bint Muḥammad hunger"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ مزید قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ اور قریب آ گئیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑی ہو گئیں ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ان کے چہرے پر زردی دیکھی ، ان کا خون کم ہو چکا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں بڑھائیں اور پھر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا ، پھر آپ نے سر اٹھا کر یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! بھوک کو ختم کرنے والے ! حاجت کو پوری کرنے والے ! پست کو بلندی عطا کرنے والے ! تو فاطمہ بنت محمد کو بھوکا نہ رکھ ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے سے بھوک کی زردی ختم ہو گئی اور خون ظاہر ہوا ، اس کے بعد میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : اے عمران ! اس کے بعد مجھے کبھی بھوک محسوس نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15206

Majma al-Zawaid #15206

عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ - قَالَ: «خَطَبَ عَلِيٌّ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "" هِيَ لَكَ يَا عَلِيُّ لَسْتُ بِدَجَّالٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَسْتُ بِدَجَّالٍ "". يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَدْ كَانَ وَعَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أُخْلِفُ الْوَعْدَ. وَحُجْرٌ لَا يُعْلَمُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُجْرًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Ḥujr ibn ʿAnbas, who had reached the Jāhiliyyah, reported that ʿAlī, may Allāh have mercy upon him, proposed Fāṭimah to the Messenger of Allāh ﷺ, who answered that she was his, O ʿAlī, for he was no deceiver — meaning he had promised him and would not break the promise. > **"She is yours, O ʿAlī; I am no dajjāl"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حجر بن عنبس رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! اس کی شادی تمہارے ساتھ ہو گی ، میں فریب کرنے والا شخص نہیں ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ، میں فریب کرنے والا شخص نہیں ہوں ، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ وعدہ کر لیا تھا اور پھر آپ نے فرمایا : میں وعدے کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ، حجر نامی راوی کے بارے میں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی روایت نقل کی ہو ۔ انہوں نے صرف یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں لیکن حجر نامی راوی نے نبی اکرم ﷺ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15207

Majma al-Zawaid #15207

وَعَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ أَيْضًا - وَكَانَ قَدْ أَكَلَ الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْجَمَلَ وَصِفِّينَ - فَقَالَ: «خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هِيَ لَكَ يَا عَلِيُّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥujr ibn ʿAnbas also — who had eaten blood in the Jāhiliyyah and witnessed al-Jamal and Ṣiffīn with ʿAlī, may Allāh be pleased with him — reported that Abū Bakr and ʿUmar, may Allāh be pleased with them both, proposed to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, whereupon the Prophet ﷺ declared she was for ʿAlī. > **"She is yours, O ʿAlī"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حجر بن عنبس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے زمانہ جاہلیت میں خون کھایا ہوا ہے ، اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شریک ہوئے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے لئے پیغام دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اس کی شادی تم سے ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔