Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 22

Book of Virtues and Merits

Hadith 15128–15167

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15128

Majma al-Zawaid #15128

وَعَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجِيَّةَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: أَمَّا حَسَنٌ، فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخِوَانٍ، وَفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةُ عُصْفُورٍ. وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، فَصَاحِبُ لَهْوٍ، وَظِلٍّ، وَبَاطِلٍ، وَلَا يَغُرَنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ. وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ، فَأَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ، وَفَسَادِكُمْ فِي أَرْضِكُمْ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وَخِيَانَتِكُمْ، وَبِطَوَاعِيَّتِهِمْ إِمَامَهُمْ، وَمَعْصِيَتِكُمْ لَهُ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ، وَتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ، تَطُولُ دَوْلَتُهُمْ حَتَّى لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ، وَلَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ، وَحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ ; إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ، وَإِذَا غَابَ سَبَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنًّا، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِالْعَافِيَةِ فَاقْبَلُوا، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا ; فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Musayyab ibn Najyah reported that ʿAlī, may Allāh be pleased with him, asked whether to tell them of his own particular affair and that of his household. When they agreed, he described Ḥasan as a man of bowls and tables, a youth among youths who would avail them nothing in war worth a sparrow's snare when the rings met; ʿAbdullāh ibn Jaʿfar as a man of diversion, shade and vanity; warned them not to be deceived by the two sons of ʿAbbās; and declared that as for himself and Ḥusayn, he was from them and they from him. He feared these people would be given sway through their righteousness in their land and their corruption in theirs, their fidelity and their treachery, their obedience to their leader and their disobedience, their unity upon falsehood and their division from truth, until their dominion lengthened and they permitted every prohibition of Allāh, their injustice entered every house of clay and wool, until one of them followed them as a slave follows his master — obeying when present and reviling when absent — and the greatest among them in detachment would be the best in expectation of Allāh. If Allāh granted wellness they should accept, and if tried they should endure, for the end belongs to the God-fearing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسیب بن نجیہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں بطور خاص اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہم نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو وہ پیالوں اور خوان والا شخص ہے ، وہ مرد آدمی ہے ، لیکن وہ جنگ میں تمہارے کام نہیں آ سکتا ، جہاں تک عبداللہ بن جعفر کا تعلق ہے ، تو وہ لہو کی طرف متوجہ ہونے والا ، صائم رہنے والا ، باطل والا شخص ہے ، اور عباس کے دو بیٹے تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ، جہاں تک میرا اور حسین کا تعلق ہے تو ہم تم لوگوں سے ہیں ، اور تم ہم لوگوں سے ہو ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سرزمین پر بھلائی کو گھمائیں گے اور تمہاری سرزمین پر فساد ڈالیں گے ، یوں کہ وہ امانت ادا کریں گے اور تم خیانت کرو گے ، وہ اپنے حکمران کے فرمانبردار ہوں گے اور تم اپنے حکمران کی نافرمانی کرو گے ، وہ اپنے باطل پر اکٹھے ہوں گے اور تم اپنے حق پر اختلاف کا شکار ہو گے ، ان کی حکومت طویل ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی ہر چیز کو حلال قرار دیں گے ، ہر کچے اور پکے گھر میں ان کا ظلم داخل ہو جائے گا ، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ان کا تابع ہو جائے گا ، جس طرح کوئی غلام اپنے آقا کی مدد کرتا ہے ، جب وہ سامنے موجود ہو گا تو اس کی اطاعت کرے گا اور جب وہ سامنے موجود نہیں ہو گا تو اس کو برا کہے گا ، یہاں تک کہ اس صورتحال میں تم میں سے سب سے زیادہ لاتعلق وہ شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ اچھا گمان رکھتا ہو ، اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت نصیب کرے تو تم قبول کر لینا اور اگر تم آزمائش کا شکار ہو جاؤ ، تو تم صبر سے کام لینا ، کیونکہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15129

Majma al-Zawaid #15129

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ الْحُسَيْنُ جَالِسًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتُحِبُّهُ؟ فَقَالَ: "" وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُ وَهُوَ ثَمَرَةُ فُؤَادِي؟ "". فَقَالَ: أَمَّا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، أَلَا أُرِيكَ مِنْ مَوْضِعِ قَبْرِهِ؟ فَقَبَضَ قَبْضَةً، فَإِذَا تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that al-Ḥusayn sat in the lap of the Prophet ﷺ when Jibrīl, peace be upon him, asked whether he loved him. He answered how he should not love him when he was the fruit of his heart. Jibrīl told him his community would kill him and offered to show him the site of his grave, then seized a handful of red soil. > **"How should I not love him when he is the fruit of my heart"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس سے کیوں محبت نہ کروں ؟ جبکہ یہ میرے دل کا پھل ہے ( یعنی میرے جگر کا ٹکڑا ہے ) تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : آپ کی امت اسے قتل کر دے گی ، کیا میں آپ کو اس کی قبر کی جگہ نہ دکھاؤں ؟ پھر انہوں نے مٹھی بھر مٹی لی تو وہ سرخ رنگ کی مٹی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15130

Majma al-Zawaid #15130

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى أَرْضِ [الْعِرَاقِ]، أَرَادَ أَنْ يَلْقَى ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ فِي أَرْضٍ لَهُ، فَأَتَاهُ لِيُوَدِّعَهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي أُرِيدُ الْعِرَاقَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا أَوْ نَبِيًّا عَبْدًا، فَقِيلَ لِي: تَوَاضَعْ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا "". وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا نَخْرُجُ. قَالَ: فَأَبَى، فَوَدَّعَهُ وَقَالَ: أَسَتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ مَقْتُولٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reported that when al-Ḥusayn ibn ʿAlī resolved to leave for the land of Iraq, he wished to meet Ibn ʿUmar and ask him, and was told he was at his land. He went to bid him farewell and told him he intended Iraq. Ibn ʿUmar bade him not do so, citing the Prophet's ﷺ choice between being a king-prophet or a servant-prophet, his being told to be humble, and his choosing to be a servant-prophet, and reminding him he was a piece of the Messenger of Allāh ﷺ. When he refused, he bade him farewell entrusting him to Allāh as one to be killed. > **"I was given choice between being a king-prophet or a servant-prophet, and it was said to me: Be humble — so I chose to be a servant-prophet. I entrust you to Allāh as one slain"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے عراق کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مل لیں اور ان سے مشورہ لے لیں ، انہیں بتایا گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو اپنی زمین پر موجود ہیں ۔ وہ ان سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا : میں عراق جانا چاہتا ہوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ ایسا نہ کریں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اس بارے میں اختیار دیا گیا کہ میں ایک بادشاہ نبی بنوں یا ایک بندہ نبی بنوں تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو میں نے اس چیز کو اختیار کیا کہ میں ایک بندہ نبی بنوں ۔‘‘ اور آپ نبی اکرم ﷺ کے جان کے ٹکڑے ہیں ، تو آپ نہ جائیں ، راوی کہتے ہیں : لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رخصت کرتے ہوئے یہ کہا : مقتول ہونے کے حوالے سے میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

15131

Majma al-Zawaid #15131

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَّكْتُ بِيَدَيَّ فِي رَأْسِكَ، فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that Ḥusayn sought his permission for departure, whereupon he answered that were it not disgraceful for him or for Ḥusayn he would have clasped his head with his hands. Ḥusayn replied to him that to be killed in such-and-such place was dearer to him than that the sanctuary of Allāh and His Messenger be violated through him, and with that his soul was consoled concerning him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے روانگی کے بارے میں اجازت مانگی تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ عمل میرے یا آپ کے لیے اعتراض کا نشانہ بننے کا باعث بن جائے گا ، تو میں نے اپنی انگلیاں آپ کے سر میں پیوست کر دینی تھیں ، تو انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے یہ کہا : اگر میں فلاں فلاں جگہ پر شہید ہو جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میری وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کے حرم کی بے حرمتی کی جائے ، راوی کہتے ہیں : تو اس طرح انہوں نے اپنے طرز عمل کی توجیہ پیش کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15132

Majma al-Zawaid #15132

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُرِّ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَعَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرِكَ هَذَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn al-Ḥurr reported that he asked al-Ḥusayn ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, whether the Messenger of Allāh ﷺ had entrusted anything to him concerning this march of his, and he answered no.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن حر بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا آپ کی اس روانگی کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے آپ کو کوئی تلقین کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15133

Majma al-Zawaid #15133

وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: «لَمَّا أُحِيطَ بِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قِيلَ: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Muṭṭalib ibn ʿAbdullāh ibn Ḥanṭab reported that when al-Ḥusayn ibn ʿAlī was surrounded, he asked the name of the land, and upon being told Karbalāʾ, he affirmed that the Prophet ﷺ spoke the truth — it is a land of karb and balāʾ. > **"It is a land of karb and balāʾ"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطلب بن عبداللہ بن حنطب بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو گھیر لیا گیا ، تو انہوں نے دریافت کیا : اس جگہ کا نام کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ کربلا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے سچ فرمایا ہے : یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

15134

Majma al-Zawaid #15134

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قَالَ لِيَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ لَهُمْ مَلِكٌ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn al-Ḥusayn reported that al-Ḥusayn ibn ʿAlī said to him a day before his killing that the Children of Isrāʾīl had a king, then narrated the ḥadīth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے مجھ سے فرمایا : بنی اسرائیل کے لئے بادشاہی تھی ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

15135

Majma al-Zawaid #15135

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِالْحُسَيْنِ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ، وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا وَانْشَمَرَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صَبَابَةُ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالْمَرْعَى الْوَبِيلِ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ؟ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللَّهِ ; فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَمًا. وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ، مَتْرُوكٌ وَلَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn al-Ḥasan reported that when ʿUmar ibn Saʿd descended upon al-Ḥusayn and he was certain they would kill him, he stood among his companions as a speaker, praised Allāh and extolled Him, then declared that what they saw had befallen, the world had changed and grown unrecognisable, its good had turned away and withdrawn until naught remained but dregs like the dregs of a vessel and mean livelihood like foul pasture. He asked whether they did not see truth unpractised and falsehood unforbidden, urging the believer to desire meeting Allāh, for he saw death as naught but happiness and life with wrongdoers as naught but disgust. Al-Ḥusayn was killed on ʿĀshūrāʾ in the year sixty-one at al-Ṭaff in Karbalāʾ, wearing a dark khazz cloak, dyed black, at the age of fifty-six.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حسن بیان کرتے ہیں : جب عمر بن سعد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پڑاؤ کیا اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ لوگ انہیں شہید کر دیں گے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ جس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو ، دنیا تبدیل ہو گئی ہے ، اور ناشناسا ہو گئی ہے اس کی بھلائی رخصت ہو گئی ہے ، اور اس نے تیزی سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ اس میں سے صرف وہ ( گدلا پن ) باقی رہ گیا ہے ، جو برتن میں تلچھٹ ہوتی ہے ، کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ نہیں سمجھتے ہو کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا ، اور باطل سے نہیں روکا جائے گا تاکہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی رغبت دلائی جائے ، میں تو موت کو سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ رہنے کو بربادی سمجھتا ہوں ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) امام حسین رضی اللہ عنہ کو عاشورہ کے دن ” طف ‘‘ کے مقام پر شہید کیا گیا ، ان کے جسم پر اون کا بنا ہوا جبہ تھا ، انہوں نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر چھپن برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی اس راوی سے مراد ابن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ، اس نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15136

Majma al-Zawaid #15136

وَعَنِ الْكَلْبِيِّ قَالَ: رَمَى رَجُلٌ الْحُسَيْنَ وَهُوَ يَشْرَبُ، فَشَلَّ شِدْقَيْهِ، فَقَالَ: لَا أَرْوَاكَ اللَّهُ، فَشَرِبَ حَتَّى تَفَطَّرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Kalbī reported that a man shot al-Ḥusayn while he drank, paralysing his jaw, whereupon he prayed that Allāh never quench him, and the man drank until he burst.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو تیر مارا ، وہ اس وقت پی رہے تھے ، تو ان کی باچھیں شل ہو گئیں ، اس نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں میر نہ کرے ، انہوں نے پیا ، یہاں تک کہ ان کا منہ چر گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15137

Majma al-Zawaid #15137

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى الْكُوفَةِ سَاخِطًا لِوِلَايَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ - وَهُوَ وَالِيهِ عَلَى الْعِرَاقِ - أَنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ حُسَيْنًا قَدْ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الْأَزْمَانِ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ الْبِلَادِ، وَابْتُلِيتَ بِهِ مِنْ بَيْنِ الْعُمَّالِ، وَعِنْدَهَا تُعْتَقُ أَوْ تَعُودُ عَبْدًا كَمَا يُعْتَبَدُ الْعَبِيدُ. فَقَتَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْحُصَيْنِ بْنِ حِمَامٍ الْمُرِّيِّ: نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الضَّحَّاكَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn ʿUthmān reported that al-Ḥusayn ibn ʿAlī set out to Kūfah resenting the rule of Yazīd ibn Muʿāwiyah, whereupon Yazīd wrote to ʿUbaydullāh ibn Ziyād, his governor over Iraq, that Ḥusayn had marched to Kūfah and that his era, land and governorship above all others had been tried through him — thereby he would either be freed or return a slave as slaves are enslaved. ʿUbaydullāh ibn Ziyād killed him and sent his head to him, and when it was placed before him, Yazīd illustrated with the verse of al-Ḥuṣayn ibn Ḥimām al-Murrī that they split the skulls of beloved men though they were most undutiful and unjust.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن عثمان بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ کی طرف جانے کے لئے نکلے وہ یزید بن معاویہ کی حکومت سے اختلاف رکھتے تھے ، یزید بن معاویہ نے عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھا ، جو عراق پر اس کا مقرر کردہ گورنر تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں ۔ یہ آزمائش باقی تمام زمانوں کے مقابلے میں تمہارے زمانے میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام شہروں کے مقابلے میں تمہارے شہر میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام اہلکاروں کے مقابلے میں تمہیں اس حوالے سے آزمایا گیا ہے ، تو اس آزمائش کے نتیجے میں یا تو تم آزاد ہو جاؤ گے یا پھر پہلے کی طرح بندے بن جاؤ گے جس طرح کسی غلام کو بندہ بنایا جاتا ہے ، تو عبیداللہ بن زیاد نے امام حسین کو شہید کروا دیا ، اس نے امام حسین کا سر یزید کو بھجوایا ، جب امام حسین کا سر اس کے آگے رکھا گیا تو اس نے حصین بن حمام مری کے یہ اشعار مثال کے طور پر پڑھے : ’’ ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ضحاک نامی راوی نے اس معاملے کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15138

Majma al-Zawaid #15138

وَعَنِ ابْنِ وَائِلٍ - أَوْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَةَ - أَنَّهُ شَهِدَ مَا هُنَاكَ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَفَيَكِمُ حُسَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَبْشِرْ بِالنَّارِ. قَالَ: أَبْشِرْ بِرَبٍّ رَحِيمٍ، وَشَفِيعٍ مُطَاعٍ. قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُوَيْرَةَ - أَوْ حُوَيْزَةَ -. قَالَ: اللَّهُمَّ حُزَّهُ إِلَى النَّارِ، فَنَفَرَتْ بِهِ الدَّابَّةُ فَتَعَلَّقَتْ رِجْلُهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنْهُ إِلَّا رَجْلُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Wāʾil — or Wāʾil ibn ʿAlqamah — who witnessed what occurred there, reported that a man stood and asked whether Ḥusayn was among them. When they affirmed, he told him tidings of the Fire, and Ḥusayn answered with tidings of a Merciful Lord and an obeyed intercessor. When they asked who he was, he named himself Ibn Juwayrah — or Ḥuwayzah. Ḥusayn prayed that Allāh drive him to the Fire, whereupon his mount bolted, his foot caught in the stirrup, and by Allāh naught remained of him upon it but his foot.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن وائل ، شاید وائل بن علقمہ بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت وہاں موجود تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان حسین ہے ، لوگوں نے بتایا جی ہاں ، اس نے کہا : تم جہنم کی اطلاع حاصل کرو ، تو انہوں نے کہا : تم رحم کرنے والے پروردگار کی اطلاع حاصل کرو اور شفاعت کرنے والی ایسی ہستی کی جن کی اطاعت کی جاتی ہے ، لوگوں نے کہا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں این جویرہ ہوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن حویزہ ہوں ، انہوں نے کہا : اے اللہ ! اسے جہنم کی طرف لے جا ، تو اس کے جانور نے اسے گرا دیا ، اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے جسم میں سے صرف وہ پاؤں ہی بچا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ و اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

15139

Majma al-Zawaid #15139

وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ حِينَ أَحَسَّ بِالْقَتْلِ: ائْتُونِي ثَوْبًا لَا يَرْغَبُ فِيهِ أَحَدٌ أَجْعَلْهُ تَحْتَ ثِيَابِي لَا أُجَرَّدُ. فَقِيلَ لَهُ: تُبَّانٌ. فَقَالَ: لَا، ذَاكَ لِبَاسُ مَنْ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الذِّلَّةُ، فَأَخَذَ ثَوْبًا فَحَرَقَهُ، فَجَعَلَهُ تَحْتَ ثِيَابِهِ، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ جَرَّدُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Laylā reported that when Ḥusayn ibn ʿAlī sensed death, he asked for a garment none would desire to place beneath his clothes lest he be stripped. When offered drawers, he refused, saying that is the dress of one humiliated, so he took a garment, tore it, and placed it beneath his clothes; yet when he was killed they stripped him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا ، تو انہوں نے فرمایا : میرے پاس ایسا کپڑا لے کے آؤ ، جس میں کسی کو دلچسپی نہ ہو ( یعنی جو غیر ضروری ہو ) تاکہ میں اسے اپنے کپڑوں کے نیچے رکھ لوں ، تاکہ مجھے برہنہ نہ کیا جائے ۔ ان سے کہا گیا ایک لنگوٹ ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ یہ تو اس شخص کا لباس ہوتا ہے ، جس پر ذلت مسلط کر دی گئی ہو ، پھر انہوں نے ایک کپڑا لیا اور اسے اپنے کپڑے کے نیچے باندھ لیا ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو لوگوں نے ان کے کپڑے اتار لئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15140

Majma al-Zawaid #15140

وَعَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ، فَقَالَ: يُقْتَلُ مِنْ وَلَدِ هَذَا الرَّجُلِ رَجُلٌ فِي عِصَابَةٍ، لَا يَجِفُّ عَرَقُ خُيُولِهِمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَمَرَّ حَسَنٌ، فَقَالُوا: هَذَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: لَا. فَمَرَّ حُسَيْنٌ، فَقَالُوا: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَمَّارًا لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār al-Duhnī reported that ʿAlī, may Allāh be pleased with him, passed Kaʿb al-Aḥbār, who declared that a man from the progeny of this man would be killed among a band whose horses' sweat would not dry before they came to Muḥammad ﷺ. When Ḥasan passed they asked whether it was he, O Abū Isḥāq, and he said no; then when Ḥusayn passed and they asked likewise, he said yes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمار دہنی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گزر کعب احبار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا : ان صاحب کی اولاد میں سے ایک شخص کو ساتھیوں سمیت قتل کیا جائے گا ، اور ان کے گھوڑوں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے وہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچ جائیں گے ، اس دوران حضرت حسن رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا : اے ابواسحاق وہ صاحب یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ گزرے ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ عمار دہنی نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

15141

Majma al-Zawaid #15141

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، فَلَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ [قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا وَذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ]. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that he saw the Prophet ﷺ in a dream at midday dishevelled and dusty, with a flask wherein was blood he collected or traced. When asked what it was, he answered it was the blood of al-Ḥusayn and his companions, which he had not ceased tracing that day. ʿAmmār added that they remembered the day and found he had been killed that very day. > **"The blood of al-Ḥusayn and his companions"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے دوپہر کے وقت نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا ، آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور غبار آلود تھے آپ کے پاس ایک شیشی تھی جس میں خون موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ تلاش کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے ، آج میں مسلسل اس کا سامنا کر رہا ہوں ۔ عمار کہتے ہیں ۔ ہم نے وہ دن یاد رکھا تو ہمیں یہ بات پتہ چلی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اسی دن شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

15142

Majma al-Zawaid #15142

وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ عَرْفَطَةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ لَنَا خَالِدٌ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[يَقُولُ]: "" إِنَّكُمْ سَتُبْتَلَوْنَ فِي أَهْلِ بَيْتِي مِنْ بَعْدِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَارَةَ، وَعُمَارَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿUmārah ibn Yaḥyā ibn Khālid ibn ʿUrfuṭah reported that they were with Khālid ibn ʿUrfuṭah on the day al-Ḥusayn ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, was killed, when Khālid told them what he had heard the Messenger of Allāh ﷺ say — that they would be tried concerning his household after him. > **"You will be tried concerning my household after me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمارہ بن یحیی بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن خالد بن عرفطہ کے پاس موجود تھے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا : یہ وہ چیز ہے جو میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ میرے بعد میرے اہل بیت کے حوالے سے آزمائش میں مبتلاء کیے جاؤ گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف عمارہ بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور عمارہ کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15143

Majma al-Zawaid #15143

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «لَمَّا أُصِيبَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَامَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَفَعَلْتُمُوهَا؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهُمَا وَصَالَحَ الْمُؤْمِنِينَ "". فَقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ: كَذَا وَكَذَا. قَالَ: ذَاكَ شَيْخٌ قَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بَزِيعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥabīb ibn Yasār reported that when al-Ḥusayn ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with him, was struck, Zayd ibn Arqam stood at the door of the mosque and exclaimed whether they had done it, testifying that he had heard the Messenger of Allāh ﷺ say that he entrusted them both and the righteous believers to Allāh. When ʿUbaydullāh ibn Ziyād was told of Zayd's words, he dismissed him as an old man gone in mind. > **"O Allāh, I entrust them both and the righteous believers to You"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن یسار بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگوں نے ایسا کیا ہے ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! میں ان دونوں کو تیرے اور نیک مومنین کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ عبیداللہ بن زیاد سے کہا گیا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ یہ بات فرمائی ہے ، تو اس نے کہا : وہ ایک بوڑھے آدمی ہیں جن کی عقل رخصت ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن بزیع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15144

Majma al-Zawaid #15144

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: وُلِدَ الْحُسَيْنُ لِخَمْسِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ، سَنَةَ أَرْبَعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَقُتِلَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، قَتَلَهُ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، وَأَجْهَزَ عَلَيْهِ خَوْلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَصْبَحِيُّ مِنْ حِمْيَرَ، وَحَزَّ رَأْسَهُ وَأَتَى بِهِ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ، فَقَالَ سِنَانٌ: أَوْقِرْ رِكَابِي فِضَّةً وَذَهَبَا ... أَنَا قَتَلْتُ الْمَلِكَ الْمُحَجَّبَا قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ أُمًّا وَأَبَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn Bakkār stated that al-Ḥusayn was born five nights into Shaʿbān in the year four of the hijrah, and was killed on Friday, the day of ʿĀshūrāʾ in Muḥarram of the year sixty-one, slain by Sinān ibn Abī Anas and finished by Khawlī ibn Yazīd al-Aṣbaḥī of Ḥimyar, who severed his head and brought it to ʿUbaydullāh ibn Ziyād, whereupon Sinān boasted in verse that his mounts be laden with silver and gold for he had killed the veiled king, the best of people in mother and father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : حضرت حسین رضی اللہ عنہ پانچ شعبان سن چار ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور وہ جمعہ کے دن عاشورہ کے دن محرم کے مہینے میں اکسٹھ ہجری میں شہید ہوئے ، سنان بن ابوانس نے انہیں قتل کیا تھا اور خولی بن یزید اصبحی جس کا تعلق حمیر سے تھا ، اس نے ان کا سر اتارا تھا اور وہ اسے لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا تھا ، تو سنان نے یہ کہا : ’’ میری سواری کو سونے اور چاندی سے لاد دو ! کیونکہ میں نے ایک صاحب حیثیت بادشاہ کو قتل کیا ہے ، میں نے ان کو قتل کیا ہے جو ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15145

Majma al-Zawaid #15145

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، وَقَالَتْ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ ; لَعَنَهُمُ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Ḥawshab reported that he heard Umm Salamah, when the tidings of al-Ḥusayn ibn ʿAlī came, curse the people of Iraq, declaring they had killed him — may Allāh kill them — deceived and humiliated him, may Allāh curse them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا جب ان کے پاس حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع آئی تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور یہ فرمایا : ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتل کر دے ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا اور انہیں پسپائی کا شکار کیا اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15146

Majma al-Zawaid #15146

وَعَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَدَخَلَ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ - قَاتِلُ الْحُسَيْنِ - فَإِذَا شَيْخٌ آدَمُ فِيهِ حِنَّاءُ، طَوِيلُ الْأَنْفِ، فِي وَجْهِهِ بَرَشٌ، فَأُوقِفَ بِحِيَالِ الْحَجَّاجِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ فَقَالَ: أَنْتَ قَتَلْتَ الْحُسَيْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَكَيْفَ صَنَعْتَ بِهِ؟ قَالَ: دَعَمْتُهُ بِالرُّمْحِ، وَهَبَرْتُهُ بِالسَّيْفِ هَبْرًا. فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: أَمَا إِنَّكُمَا لَنْ تَجْتَمِعَا فِي دَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aslam al-Minqarī reported that he visited al-Ḥajjāj when Sinān ibn Abī Anas, the killer of al-Ḥusayn, entered — an aged dark man with henna, long-nosed, freckled — and stood before al-Ḥajjāj, who asked whether he had killed al-Ḥusayn. When he affirmed and described propping him with the spear and hacking him with the sword, al-Ḥajjāj told him the two would never meet in one abode.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسلم منقری بیان کرتے ہیں : میں حجاج کے پاس آیا اسی دوران امام حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل سنان بن ابوانس بھی وہاں آیا وہ گندمی رنگت کا بوڑھا شخص تھا ، جو کچھ خمیدہ کمر تھا ، اس کی ناک لمبی تھی اور اس کے چہرے پر داغ تھے ، وہ حجاج کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا حجاج نے اس کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا تم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، حجاج نے دریافت کیا : تم نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا : میں نے ان پر نیزے کا وار کیا اور تلوار کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ، تو حجاج نے کہا : تم دونوں ( یعنی تم اور امام حسین رضی اللہ عنہ ) ایک جگہ پر ( یعنی جنت میں ) کبھی اکٹھے نہیں ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15147

Majma al-Zawaid #15147

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ: لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ - اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm al-Nakhaʿī declared that had he been among those who killed al-Ḥusayn, then been forgiven and admitted to Paradise, he would still be ashamed to pass the Prophet ﷺ lest he look upon his face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : اگر میں ان لوگوں میں شامل ہوتا جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا تھا اور پھر میری مغفرت بھی ہو جاتی اور پھر مجھے جنت میں بھی داخل کر دیا جاتا تو مجھے اس بات سے حیاء آنی تھی کہ میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے گزروں اور آپ میرا چہرہ دیکھ لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15148

Majma al-Zawaid #15148

وَعَنِ اللَّيْثِ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ: أَبَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَسْتَأْسِرَ، فَقَاتَلُوهُ فَقَتَلُوهُ، وَقَتَلُوا بَنِيهِ وَأَصْحَابَهُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مَعَهُ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: الطَّفُّ، وَانْطَلَقَ بِعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، وَسُكَيْنَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ قَدْ بَلَغَ، فَبَعَثَ بِهِمْ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَمَرَ بِسُكَيْنَةَ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ سَرِيرِهِ لِئَلَّا تَرَى رَأْسَ أَبِيهَا وَذَوِي قَرَابَتِهَا، وَعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ فِي غُلٍّ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَضَرَبَ عَلَى ثَنْيَتَيِ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا. فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} [الحديد: 22]. فَثَقُلَ عَلَى يَزِيدَ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ، وَتَلَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ يَزِيدُ: بَلْ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ، وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَغْلُولِينَ لَأَحَبَّ أَنْ يُخَلِّيَنَا مِنَ الْغُلِّ. فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلُّوهُمْ مِنَ الْغُلِّ. فَقَالَ: وَلَوْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بُعْدٍ لَأَحَبَّ أَنْ يُقَرِّبَنَا. قَالَ: صَدَقْتَ، فَقَرِّبُوهُمْ. فَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ وَسُكَيْنَةُ يَتَطَاوَلَانِ لِتَرَيَا رَأْسَ أَبِيهِمَا، وَجَعَلَ يَزِيدُ يَتَطَاوَلُ فِي مَجْلِسِهِ لِيَسْتُرَ رَأْسَ الْحُسَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَجُهِّزُوا، وَأَصْلَحَ إِلَيْهِمْ، وَأُخْرِجُوا إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Layth ibn Saʿd stated that al-Ḥusayn ibn ʿAlī refused to surrender, so they fought and killed him along with his sons and companions who fought with him at a place called al-Ṭaff. They carried ʿAlī ibn Ḥusayn, Fāṭimah bint Ḥusayn and Sukaynah bint Ḥusayn to ʿUbaydullāh ibn Ziyād — ʿAlī then a youth come of age — who sent them to Yazīd ibn Muʿāwiyah. Yazīd ordered Sukaynah placed behind his couch lest she see the head of her father and kin, with ʿAlī ibn Ḥusayn in fetters. Placing his head, he struck the front teeth of al-Ḥusayn reciting that they split the skulls of beloved men though most undutiful and unjust. ʿAlī ibn Ḥusayn recited that no calamity befalls the earth or yourselves but is in a Book before We bring it about — indeed that is easy for Allāh. Yazīd found it heavy that he illustrated with verse while ʿAlī recited a verse of Allāh's Book, and answered with what their hands earned while He pardons much. ʿAlī swore that had the Messenger of Allāh ﷺ seen them fettered he would have loved to free them, and Yazīd affirmed and freed them; then that had they stood distant before him he would have loved to draw them near, and Yazīd affirmed and drew them near. Fāṭimah and Sukaynah craned to see their father's head while Yazīd craned in his مجلس to veil it, then ordered them prepared, treated them well, and sent them to Madīnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے قیدی بننے سے انکار کر دیا تھا ، لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کر کے انہیں شہید کر دیا ، ان کے بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کو بھی شہید کر دیا ، جنہوں نے ان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا تھا ۔ یہ واقعہ اس جگہ پر پیش آیا جس کا نام طف ہے وہ لوگ علی بن حسین ( یعنی زین العابدین ) کو ساتھ لے گئے ، فاطمہ بنت حسین سکینہ بنت حسین کو لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے گئے ، علی بن حسین ( یعنی امام زین العابدین ) ان دنوں قریب البلوغ لڑکے تھے ، پھر عبیداللہ بن زیاد نے ان لوگوں کو یزید بن معاویہ کے پاس بھیجوا دیا ، اس نے سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں حکم دیا ، انہیں پیچھے کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے والد کا سر نہ دیکھ سکیں اور ان کے رشتہ داروں کے بارے میں بھی یہی حکم دیا ، حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ اس وقت بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھا گیا تو یزید نے ان کے دانتوں پر چھڑی ماری اور یہ شعر پڑھا : ’’ ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔‘‘ تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ’’ زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔‘‘ یہ بات یزید کو بہت گراں گزری کہ اس نے صورت حال پر تبصرہ کرنے کے لئے شعر پڑھا تھا اور امام زین العابدین نے اللہ کی کتاب کی آیت پڑھ دی ہے ، تو یزید نے کہا : جی نہیں بلکہ یہ اس وجہ سے ہے ، جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی کی ہے ، اور اس نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ( یعنی اس نے بھی آیت پڑھ دی ) تو امام زین العابدین نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے رسول ہمیں ایسی حالت میں دیکھتے کہ ہم بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ، تو آپ اس بات کو پسند کرتے کہ آپ ہماری بیڑیاں کھول دیں ، یزید نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے تم لوگ ان کی بیڑیاں کھول دو ، امام زین العابدین نے کہا : اگر ہم نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس طرح دور کھڑے کیے جاتے تو آپ کی یہ خواہش ہونی تھی کہ آپ ہمیں قریب کھڑا کرتے ، یزید نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے تم انہیں قریب کر دو ، پھر سیدہ فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اور سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اونچی ہو کر اپنے والد کا سر دیکھنے کی کوشش کرنے لگیں تو یزید اپنی جگہ سے اونچا ہو گیا تاکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے لئے رکاوٹ بن جائے ( اور وہ خواتین اسے نہ دیکھ پائیں ) پھر اس نے ان لوگوں کے بارے میں حکم دیا انہیں ساز و سامان فراہم کیا گیا اس نے ان لوگوں کی تیاری کروائی اور انہیں مدینہ منورہ بھجوا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15149

Majma al-Zawaid #15149

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ ابْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجَعَلَ يَنْقُرُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي عَيْنِهِ وَأَنْفِهِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: ارْفَعِ الْقَضِيبَ قَالَ، لَهُ: لِمَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ فَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allāh be pleased with him, reported that when Ibn Ziyād was brought the head of al-Ḥusayn, may Allāh be pleased with him, he began tapping with a rod in his hand upon its eye and nose, whereupon Zayd bade him lift the rod, and when asked why, answered that he had seen the mouth of the Messenger of Allāh ﷺ in its place.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے امام حسین کی آنکھوں اور ناک پر لگانا شروع کیا ، تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اپنی چھڑی اٹھا لو ، اس نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کا منہ اس جگہ پر دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

15150

Majma al-Zawaid #15150

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، جَعَلَ يَنْكُتُ بِالْقَضِيبِ ثَنَايَاهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - جَمِيلًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُسَوِّءَنَّكَ، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْثِمُ حَيْثُ يَقَعُ قَضِيبُكَ. قَالَ: فَانْقَبَضَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that when ʿUbaydullāh ibn Ziyād was brought the head of al-Ḥusayn, he began tapping its front teeth with a rod, remarking — as he thought — upon its beauty. Anas swore he would grieve him, testifying that he had seen the Messenger of Allāh ﷺ kiss where his rod fell, whereupon he withdrew.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا ، تو اس نے ان کے دانتوں پر چھڑی لگانا شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا یہ بہت خوبصورت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے عمل کو غلط قرار دوں گا کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس جگہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ، جہاں تم چھڑی لگا رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے ہاتھ کھینچ لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15151

Majma al-Zawaid #15151

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ رِجَالًا مِنَ السَّمَاءِ نَزَلُوا، مَعَهُمْ حِرَابٌ يَتَتَبَّعُونَ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ، فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَلَ الْمُخْتَارُ فَقَتَلَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reported that he saw in a dream as though men from heaven descended with spears pursuing the killers of al-Ḥusayn, and soon after al-Mukhtār rose and killed them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے کچھ لوگ نازل ہوئے جن کے ساتھ نیزے بھی تھے اور وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو تلاش کر رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : تھوڑے ہی دن گزرنے کے بعد مختار آ گیا ، اور اس نے ان سب قاتلوں کو قتل کروا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15152

Majma al-Zawaid #15152

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ أَوَّلَ رَأْسٍ حُمِلَ فِي الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī stated that he saw al-Ḥusayn as the first head carried in Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اسلام میں پہلا سر ہے ، جسے اٹھا کر لایا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15153

Majma al-Zawaid #15153

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِذَا رَأَسُ الْحُسَيْنِ قُدَّامَهُ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَإِذَا بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَإِذَا رَأَسُ الْمُخْتَارِ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَإِذَا رَأَسُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى تُرْسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: مَا كَانَ لِهَؤُلَاءِ عَمَلٌ إِلَّا الرُّءُوسُ. وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿUmayr reported that he entered upon ʿUbaydullāh ibn Ziyād to find the head of al-Ḥusayn before him upon a shield, then soon after entered upon al-Mukhtār to find the head of ʿUbaydullāh ibn Ziyād upon a shield, then soon after entered upon Muṣʿab ibn al-Zubayr to find the head of al-Mukhtār upon a shield, then soon after entered upon ʿAbdullāh to find the head of Muṣʿab ibn al-Zubayr upon a shield.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اس کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔ اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مختار کے پاس آیا تو عبیداللہ بن زیاد کا سر مختار کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو مختار کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں عبدالملک کے پاس آیا تو مصعب بن زبیر کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ سلوک صرف ان بڑوں کے ساتھ ہی کیا گیا تھا ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

15154

Majma al-Zawaid #15154

وَعَنْ ذُوَيْدٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ انْتُهِبَتْ جَزُورٌ مِنْ عَسْكَرِهِ، فَلَمَّا طُبِخَتْ إِذَا هِيَ دَمٌ، فَأَكْفَئُوهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thuwayd al-Juʿfī reported from his father that when al-Ḥusayn was killed, a camel from his camp was seized, and when cooked it turned to blood, so they overturned it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زوید جعفی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو میں نے ان کے لشکر کا ایک اونٹ لوٹ لیا جب اس کا گوشت پکایا گیا ، تو وہ خون بن گیا ، تو میں نے اسے پھینک دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15155

Majma al-Zawaid #15155

وَعَنْ حُمَيْدٍ الطَّحَّانِ قَالَ: كُنْتُ فِي خُزَاعَةَ، فَجَاءُوا بِشَيْءٍ مِنْ تَرِكَةِ الْحُسَيْنِ، فَقِيلَ لَهُمْ: نَنْحَرُ أَوْ نَبِيعُ فَنُقَسِّمُ. قَالَ: انْحَرُوا، فَجَلَسْتُ عَلَى جَفْنَةٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فَارَتْ نَارًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ḥumayd al-Ṭaḥḥān reported that he was among Khuzāʿah when part of the legacy of al-Ḥusayn was brought and they were asked whether to slaughter or sell and divide. When slaughter was chosen, he sat upon a bowl, and as he sat it burst into fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید ملحان بیان کرتے ہیں : میں خزاعہ قبیلے میں موجود تھا وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھوڑے گئے سامان میں سے کچھ چیزیں لے کے آئے ، ان سے کہا گیا ہمیں ان کو قربان کر دینا چاہیے یا انہیں فروخت کر کے مال تقسیم کر لینا چاہیے ، انہوں نے کہا : ان کو قربان کر دو ، میں ہنڈیا کے پاس بیٹھ گیا ، جب میں نے اسے رکھا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15156

Majma al-Zawaid #15156

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ بَعْجَةَ قَالَ: أَوَّلُ ذُلٍّ دَخَلَ عَلَى الْعَرَبِ قَتْلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَادِّعَاءَ زِيَادٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Baʿjah stated that the first humiliation to enter upon the Arabs was the killing of al-Ḥusayn ibn ʿAlī and the claiming of Ziyād.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن بعجہ بیان کرتے ہیں : عربوں میں جو سب سے پہلی ذلت داخل ہوئی وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ہے ، جس کا ارتکاب زیاد نے کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15157

Majma al-Zawaid #15157

وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ; فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللَّهُ؟ فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ ; فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Rajāʾ al-ʿUṭāridī warned against reviling ʿAlī or any of the household, recounting that a neighbour of theirs from Balhujaym jeered at the sinful al-Ḥusayn ibn ʿAlī — may Allāh kill him — whereupon Allāh cast two stars into his eyes and effaced his sight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اہورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : تم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یا ان کے اہل بیت میں سے کسی کو برا نہ کہو کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی تھا ، جو بلہجیم میں تھا اس نے کہا : کیا تم لوگوں نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی آنکھوں میں دو ستارے ( یعنی ان کی روشنی ) ماری اور اس شخص کی بینائی ختم ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15158

Majma al-Zawaid #15158

وَعَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارًا، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَحَاجِبُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The chamberlain of ʿUbaydullāh ibn Ziyād reported that he entered the palace behind him when al-Ḥusayn was killed to find his face blazing with fire, so he gestured with his sleeve over his face asking whether he had seen, and when he affirmed, he ordered him to conceal it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن زیاد کا دربان کہتا ہے : میں محل میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے داخل ہوا جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا ، تو عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کی طرف سے آگ آئی اور اس نے اپنی آستین کے ذریعے اپنے چہرے کو اس طرح چھپانے کی کوشش کی ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم نے یہ دیکھا ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، تو اس نے مجھ سے کہا : تم نے اس بات کو چھپا کے رکھنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبیداللہ کے دربان سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15159

Majma al-Zawaid #15159

وَعَنِ الزَّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَعْلَمْتَنِي، أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. فَقَالَ: قُلْتُ: لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٍ، فَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported that ʿAbd al-Malik asked him, as one uniquely informed, what sign marked the day al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed. He answered that no pebble was lifted in Bayt al-Maqdis but fresh blood was found beneath it, whereupon ʿAbd al-Malik declared them two companions in this ḥadīth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : عبدالملک نے مجھ سے کہا تم وہ واحد شخص ہو جو مجھے بتا سکتے ہو کہ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن کی مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں نے بتایا : اس دن بیت المقدس کی جو بھی کنکری اٹھائی جائے گی اس کے نیچے سے تازہ خون نکلے گا ، تو عبدالملک نے مجھ سے کہا : میں اس بات کے حوالے سے میں اور تم ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15160

Majma al-Zawaid #15160

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī stated that no stone was lifted in Sham on the day al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed but over blood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی شام میں جو بھی پتھر اٹھایا جاتا تھا اس پر خون لگا ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15161

Majma al-Zawaid #15161

وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ قَالَتْ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَّةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى أُمِّ حَكِيمٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥakīm reported that al-Ḥusayn was killed when she was a young girl, and the sky remained for days like clotted blood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، میں ان دنوں لڑکی تھی ، تو چند دن تک آسمان سرخ رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام حکیم تک اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15162

Majma al-Zawaid #15162

وَعَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْمَرَّتِ السَّمَاءُ، قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ تَقُولُ؟ قَالَ: إِنَّ الْكَذَّابَ مُنَافِقٌ، إِنَّ السَّمَاءَ احْمَرَّتْ حِينَ قُتِلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jamīl ibn Zayd reported that when al-Ḥusayn was killed the sky turned red. When challenged, he insisted the denier was a hypocrite liar — the sky indeed reddened at his killing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جمیل بن زید بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو آسمان سرخ ہو گیا ۔ میں نے کہا : آپ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جھوٹ بولنے والا شخص منافق ہوتا ہے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت آسمان سرخ ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15163

Majma al-Zawaid #15163

وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّهَا هِيَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Qabīl reported that when al-Ḥusayn ibn ʿAlī was killed the sun eclipsed so that the stars appeared at midday until they thought it was night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقبیل بیان کرتے ہیں : جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو سورج گرہن ہو گیا یہاں تک کہ دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے ، اور ہم نے یہ گمان کیا کہ وہ یہی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15164

Majma al-Zawaid #15164

وَعَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ، مَكَثْنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى السَّمَاءِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ. وَنَظَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĪsā ibn al-Ḥārith al-Kindī reported that when al-Ḥusayn was killed, for seven days whenever they prayed ʿaṣr they looked at the sky above the walls as though saffron-dyed cloaks, and saw the stars striking one another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن حارث کندی بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو سات دن تک ہمارا یہ عالم رہا کہ جب ہم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آسمان کی طرف دیکھتے تھے ، تو یوں لگتا تھا جیسے وہ سرخ رنگ کا لحاف اوڑھے ہوئے ہے ، اور ہمیں ستارے نظر آتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15165

Majma al-Zawaid #15165

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَمْ تَكُنْ فِي السَّمَاءِ حُمْرَةٌ حَتَّى قُتِلَ الْحُسَيْنُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn stated that there had been no redness in the sky until al-Ḥusayn was killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : آسمان میں سرخی نہیں آئی ، یہاں تک کہ امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15166

Majma al-Zawaid #15166

وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ أَبِي قَالَتْ: شَهِدَ رَجُلَانِ مِنَ الْجُعْفِيِّينَ قَتْلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَطَالَ ذَكَرُهُ حَتَّى كَانَ يَلُفُّهُ. وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَسْتَقْبِلُ الرَّاوِيَةَ بِفِيهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا. قَالَ سُفْيَانُ: رَأَيْتُ وَلَدَ أَحَدِهِمَا كَانَ بِهِ خَبَلٌ، وَكَأَنَّهُ مَجْنُونٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى جَدِّهِ سُفْيَانَ ثِقَاتٌ

EnglishUnverified translation

Sufyān reported from his grandmother, Umm Abīh, that two men of Juʿf witnessed the killing of al-Ḥusayn ibn ʿAlī: one whose organ lengthened until he wound it, and another who would face the waterskin with his mouth until he drained it. Sufyān added that he saw the child of one of them afflicted and as though mad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سفیان بیان کرتے ہیں : میری دادی یعنی میرے والد کی والدہ نے یہ بات بیان کی ہے : جعفیوں میں سے دو افراد امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کے وقت موجود تھے ، ان دونوں کا انجام برا ہوا ۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ان دونوں میں سے ایک کی اولاد کو دیکھا کہ اسے پاگل پن لاحق ہو گیا تھا اور وہ پاگل ہی رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15167

Majma al-Zawaid #15167

وَبِسَنَدِهِ قَالَ: رَأَيْتُ الْوَرْسَ الَّذِي أُخِذَ مِنْ عَسْكَرِ الْحُسَيْنِ صَارَ مِثْلَ الرَّمَادِ.

EnglishUnverified translation

With the same chain he added that he saw the wars plant taken from the camp of al-Ḥusayn turned like ash.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ’’ امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے جو سامان لیا گیا تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ورس ، راکھ کی مانند تھا ۔‘‘