Majma al-Zawaid #15128
وَعَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجِيَّةَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: أَمَّا حَسَنٌ، فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخِوَانٍ، وَفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةُ عُصْفُورٍ. وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، فَصَاحِبُ لَهْوٍ، وَظِلٍّ، وَبَاطِلٍ، وَلَا يَغُرَنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ. وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ، فَأَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ، وَفَسَادِكُمْ فِي أَرْضِكُمْ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وَخِيَانَتِكُمْ، وَبِطَوَاعِيَّتِهِمْ إِمَامَهُمْ، وَمَعْصِيَتِكُمْ لَهُ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ، وَتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ، تَطُولُ دَوْلَتُهُمْ حَتَّى لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ، وَلَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ، وَحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ ; إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ، وَإِذَا غَابَ سَبَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنًّا، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِالْعَافِيَةِ فَاقْبَلُوا، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا ; فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Musayyab ibn Najyah reported that ʿAlī, may Allāh be pleased with him, asked whether to tell them of his own particular affair and that of his household. When they agreed, he described Ḥasan as a man of bowls and tables, a youth among youths who would avail them nothing in war worth a sparrow's snare when the rings met; ʿAbdullāh ibn Jaʿfar as a man of diversion, shade and vanity; warned them not to be deceived by the two sons of ʿAbbās; and declared that as for himself and Ḥusayn, he was from them and they from him. He feared these people would be given sway through their righteousness in their land and their corruption in theirs, their fidelity and their treachery, their obedience to their leader and their disobedience, their unity upon falsehood and their division from truth, until their dominion lengthened and they permitted every prohibition of Allāh, their injustice entered every house of clay and wool, until one of them followed them as a slave follows his master — obeying when present and reviling when absent — and the greatest among them in detachment would be the best in expectation of Allāh. If Allāh granted wellness they should accept, and if tried they should endure, for the end belongs to the God-fearing.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مسیب بن نجیہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں بطور خاص اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہم نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو وہ پیالوں اور خوان والا شخص ہے ، وہ مرد آدمی ہے ، لیکن وہ جنگ میں تمہارے کام نہیں آ سکتا ، جہاں تک عبداللہ بن جعفر کا تعلق ہے ، تو وہ لہو کی طرف متوجہ ہونے والا ، صائم رہنے والا ، باطل والا شخص ہے ، اور عباس کے دو بیٹے تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ، جہاں تک میرا اور حسین کا تعلق ہے تو ہم تم لوگوں سے ہیں ، اور تم ہم لوگوں سے ہو ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سرزمین پر بھلائی کو گھمائیں گے اور تمہاری سرزمین پر فساد ڈالیں گے ، یوں کہ وہ امانت ادا کریں گے اور تم خیانت کرو گے ، وہ اپنے حکمران کے فرمانبردار ہوں گے اور تم اپنے حکمران کی نافرمانی کرو گے ، وہ اپنے باطل پر اکٹھے ہوں گے اور تم اپنے حق پر اختلاف کا شکار ہو گے ، ان کی حکومت طویل ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی ہر چیز کو حلال قرار دیں گے ، ہر کچے اور پکے گھر میں ان کا ظلم داخل ہو جائے گا ، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ان کا تابع ہو جائے گا ، جس طرح کوئی غلام اپنے آقا کی مدد کرتا ہے ، جب وہ سامنے موجود ہو گا تو اس کی اطاعت کرے گا اور جب وہ سامنے موجود نہیں ہو گا تو اس کو برا کہے گا ، یہاں تک کہ اس صورتحال میں تم میں سے سب سے زیادہ لاتعلق وہ شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ اچھا گمان رکھتا ہو ، اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت نصیب کرے تو تم قبول کر لینا اور اگر تم آزمائش کا شکار ہو جاؤ ، تو تم صبر سے کام لینا ، کیونکہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔